Tag: poems

  • آؤ کھانا کھائیں

    آؤ کھانا کھائیں

    آؤ کھانا کھائیں
    نظیر فاطمہ

    آؤ بچو! کھانا کھائیں
    مل کر دسترخوان بچھائیں
    اپنے ہاتھوں کو دھولیں
    شروع میں بسم اللہ پڑھ لیں
    پلیٹ میں تھوڑا سالن لیں
    اور نوالے چھوٹے لیں
    دائیں ہاتھ سے کھائیں کھانا
    ہر لقمے کو خوب چبانا
    چپکے چپکے کھائیں سب
    برتن کو چمکائیں سب
    کھا کر، رب کا شکر کریں
    کلی کریں اور ہاتھ دھوئیں
    ٭…٭…٭

  • برسات

    برسات

    برسات
    اسماعیل میرٹھی

    وہ دیکھو اُٹھی کالی کالی گھٹا

    ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
    گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہُوئی

    ہوا میں بھی اِک سنسناہٹ ہُوئی
    گھٹا آن مِینہہ جو برسا گئی

    تو بے جان مِٹّی میں جان آگئی
    زمِیں سبزے سے لہلہانے لگی

    کِسانوں کی محنت ٹِھکانے لگی
    جڑی بُوٹِیاں، پیڑ آئے نِکل

    عجب بیل پتّے، عجب پُھول پھل
    ہر اک پیڑ کا اِک نیا ڈھنگ ہے

    ہر اِک پُھول کا اِک نیا رنگ ہے
    یہ دو دِن میں کیا ماجرا ہوگیا

    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    جہاں کل تھا میدان چٹیَل پڑا

    وہاں آج ہے گھاس کا بَن گھڑا
    ہزاروں پُھدکنے لگے جانور
    نِکل آئے گویا کہ مِٹّی کے پَر

    ٭…٭…٭

  • میں نے پالے طوطے چار

    میں نے پالے طوطے چار

    میں نے پالے طوطے چار
    ارسلان اللہ خان

    میں نے پالے طوطے چار
    جن سے کرتا ہوں میں پیار

    پانی پیتے ہیں یہ خوب
    کھانا کھاتے ہیں بسیار

    بلّی سے اور چوہے سے
    ہر دَم رہتے ہیں ہوشیار

    اِن سے گھر میں رونق ہے
    یہ ہیں گھر کے پہرے دار

    جو کچھ اِن کو سکھلادو
    اُس کی کرتے ہیں تکرار

    مُرغا جب دیتا ہے بانگ
    ہوجاتے ہیں یہ بیدار

    پنجرے کو جب کھولوں میں
    جتلاتے ہیں مُجھ سے پیار
    ٭…٭…٭

    مشکل الفاظ:
    بسیار بہت زیادہ
    جتلانا اظہار کرنا

  • دادی جان نے دال پکائی

    دادی جان نے دال پکائی

    نویں انعام یافتہ نظم
    دادی جان نے دال پکائی
    سارہ قیوم

    دادی جان نے دال پکائی
    امی، ابو، آپا، بھائی
    ناک بھوں سب نے چڑھائی
    دادی جان نے دال پکائی

    کاش بنائی ہوتی چُوری
    کُنا، بھاجی، حلوہ، پوری
    گھر میں ہوتا کوئی حلوائی
    دادی جان نے دال پکائی

    نہ کوئی زردہ نہ کوئی کھیر
    نہ فالودہ اور پنیر
    نہ کوئی پائے، نہ کوئی پائی
    دادی جان نے دال پکائی

    مزے کی ہوگئی ایسی دال
    ٹپکی سب کی اس پر رال
    اتنے میں موٹی ہمسائی
    بھاگی دوڑی اندر آئی

    ساری دال ہماری کھائی
    میرے اللہ تیری دہائی

  • میٹھے بول

    میٹھے بول

    میٹھے بول
    ضیاء اللہ محسن

    جب بھی بچو بولو تم
    لب اپنے جب کھولو تم

    لہجہ ایسا، من کو بھائے
    اور باتوں سے خوشبو آئے

    منہ سے نکلیں میٹھے بول
    بول بھی ایسے کہ انمول

    گالی سے پرہیز کرو
    مت آواز کو تیز کرو

    کسی کا الٹا نام نہ لو
    کسی کو تم الزام نہ دو

    تب بدلے گا یہ ماحول
    جب بولو گے میٹھے بول

    میٹھا بول تو سنّت ہے
    اسی میں اپنی جنت ہے

    سنّت کو اپناتے جاؤ
    میٹھے بول سناتے جاؤ

    میٹھے بول کا اونچا تول
    میٹھے بول بڑے انمول
    ٭…٭…٭

  • آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت
    عظمیٰ رحمان ہاشمی

    آزادی کا جشن مناتے رہنا ہے
    گیت سدا خوشیوں کے گاتے رہنا ہے

    لاکھوں جانیں دے کر جس کو پایا تھا
    اس گلشن کو خوب سجاتے رہنا ہے

    اس کی خاطر کتنے درد اٹھائے تھے
    اب خوشیوں کے پھول بچھاتے رہنا ہے

    دشمن پر ہیبت ہو جائے گی طاری
    آزادی کے گیت سناتے رہنا ہے

    دیس کی عزت اپنی جان سے پیاری ہے
    ہر پل اس کی شان بڑھاتے رہنا ہے

    آزادی کی نعمت کے شکرانے میں
    الفت کے اب دیپ جلاتے رہنا ہے

    پاک وطن کی خاطر جینا مرنا ہے
    دیس پہ امبر جان لٹاتے رہنا ہے

    ٭…٭…٭

  • بس کا دروازہ — نوید اکبر

    جون کی گرمی۔۔۔ دوزخ کی گرمی۔۔۔لاہور شہر اور اُنتالیس نمبر بس۔یہ بس ائیر پورٹ سے شیرا کوٹ تک جاتی تھی، نہ جانے کتنی خاک، کتنے تنکے راستے میں بکھراتے ہوئے۔ اس کے راستے میں کینٹ بھی آتا تھا اور امراء کا گلبرگ بھی۔ یہ روڈ کلمہ چوک سے بھی گزرتا تھا اور اقبال ٹاون کی مون مارکیٹ سے بھی۔
    بس کے اندر سے باہر کی دنیا ہوا کی طرح یوں ہو کر گزرتی تھی جیسے کسی بہتی ندی کے کنارے بنے جوہڑ میں ندی کا کچھ پانی پھنس کر تھوڑی دیر کے لیے رک جائے لیکن پھر بے چین ہو کر تھوڑی ہی دیر میں ندی کے شور میں شامل ہو کر دوبارہ ندی ہو جائے۔




    بس کے دو خود کار دروازے آنے جانے والے پانی کو regulate کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، بدلتے موسموں کو نہیں۔ سردیوں میں بس کی کھڑکیاں بند رہتی ہیں۔ اندر بھیڑ کی وجہ سے موسم گرم رہتا ہے۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھل جاتی ہیں پر اندر بھیڑ کی وجہ سے سب تنور ہو جاتا ہے۔ بسیں فطری طور پر گرمی پسند ہوتی ہیں لیکن انسان۔۔۔ انسان فطری طور پر اِختلاف چاہتا ہے۔ وہ گرمیوں میں سردی چاہتا ہے اور سردیوں میں گرمی۔ وہ ہر موسم میں بہار چاہتا ہے اور بہار میں بارش۔ اندر بھی ایک طرح کی بارش ہو رہی تھی۔ جلد کے پور کھل رہے تھے اور ہر طرف پسینہ بہ رہا تھا۔ قمیصیں جسم سے چپک گئیں تھیں۔ چہرے گیلے تھے اور دہشت عروج پر تھی۔ دوپہر کے تین بجے جتنے لوگ بس کی سیٹوں پر ہوتے ہیں اُس سے دُگنے سیٹوں کے بیچ چھت سے ٹنگی لوہے کی راڈوں سے لٹک رہے ہوتے ہیں۔ کچھ کے ہاتھ تو راڈ بھی نہیں آتی۔ پھر وہ ان راڈوں سے ٹنگے بھائیوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں جیسے سانسیں جسم میں اور جسم زندگی میں پھنس جاتے ہیں۔ جسمانی نفرت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جذبوں کی طرح انسان بھی عروج و زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ بس میں موجود کچھ لوگ عروج کی طرف سفر کرنے والے ہوتے ہیں، کچھ زوال پہ آ چکے ہوتے ہیں اور کچھ عروج و زوال کے درمیان ڈائواں ڈول ہوتے ہیں۔۔۔
    فطرتاً سب مسافر اسی پانی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص ازل سے اس تلاش میں ہے۔ کسی کو یہ رزق علم سے ملتا ہے، کسی کو روحانیت سے، کسی کو محبت سے، کسی کو شہرت سے تو کسی کو پیسے سے۔ مختلف اقسام کے یہ رزق بانٹنے والے فرشتے بس میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ مستقل طور پر یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے تو کچھ مسافروں کے ساتھ چڑھتے اُترتے رہتے تھے۔ اس بس میں نوّے فیصد لوگ پیسہ ڈھونڈ رہے تھے۔ روٹی ڈھونڈ رہے تھے۔ ہر پیر کے نیچے گردش تھی اور نظریں آسمان کھوج رہی تھیں۔ روٹی ہر روح کو معلوم نا معلوم رستے کی طرف کھینچ رہی تھی اور کچھ کو کھینچتے کھینچتے اس بس میںلے آئی تھی۔ بہت سوں کو تو رزق اسی بس سے ملتا تھا۔
    ڈرائیور، کنڈیکٹر اور ٹکٹ چیکر کے علاوہ کئی ایسے دُکان دار تھے، جو اس بس میں دو گھڑی کے لیے چھابڑی لگاتے اور اگلے سٹاپ پہ اُتر جاتے۔
    صدر بازار کے پاس ایک سانولی سی جوان اوڈھ لڑکی مردوں کے حصے میں داخل ہوئی۔ ناک میں موٹی سی نتھ اور سر پر بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھے۔ سارے مرد یکایک اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بسوں میں مردوں کی توجہ کئی عورتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے لیکن اُس کے لیے توجہ اک ہتھیار تھی۔ دو سیکنڈ سانس لے کر اُس نے ترنم چھیڑا۔۔۔
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ
    یثرب کے والی
    سارے نبی تیرے در کے سوالی
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ




    بس کا موسم بدلنے لگا۔ نگاہوں میں اک آواز لہرانے لگی۔ کسی کو اپنے گناہ یاد آئے تو کسی کو محرومیاں۔ اگلے سٹاپ سے پہلے پہلے نعت ختم ہو چکی تھی اور وہ گناہ گاروں اور نیکوکاروں سے اُن کی بخششں اور ثواب کے سکّے سمیٹ کر، اُنہیں اپنے حال پہ چھوڑتے ہوئے بس سے اُتر گئی۔ اُس کے اُترتے ساتھ ہی انسانیت کے اس مختصر ٹولے پر تاجروں، حکیموں اور علم فروشوں کی عنایت ہو گئی۔ خبر نامے کے مطابق آج ملک میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی نعمتیں آ موجود ہوئیں۔ سب کچھ بکنے لگا۔
    "بہنوں اور بھائیو۔۔۔ جی میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حلال رزق عین عبادت ہے جو شخص جھوٹ بیچ کر مال بیچتا ہے وہ اللہ کا نہیں شیطان کا ساتھی ہے۔”
    بیان تو جاری ہو گیا لیکن منجن نہ بکا۔۔۔ حالاں کہ ڈبیا پہ منجن بنانے والے کی فوٹو بھی تھی۔ کتنی مشابہت تھی ان دونوں میں۔ ویسے بھی جب بنانے والے اور بیچنے والے کے نظریات ایک ہوں، جذبات ایک ہوں، مقاصد ایک ہوں تو صورتیں کیوں نہ ایک ہوں؟
    "دانت سے خون آئے تو نماز نہیں ہوتی۔” منجن نہ بکا۔
    "عزیز دوست پاس آنے سے کتراتا ہے۔” نہ جی نہ۔
    "معاشرے میںسبکی ہوتی ہے۔” کوئی چکر نہیں۔
    "محبوب سے راز و نیاز کی باتیں کم ہو جاتی ہیں۔” بک گیا۔
    ایک بوڑھے بابا جی کی عنایت ہو گئی۔ بارش کی اس پہلی بوند کے بعد بارش کے دو چارقطرے اور بھی ٹپکے لیکن پھوار نہ پڑ سکی۔ منجن فروش اگلے سٹاپ پہ اُتر گیا۔ آج صفائی ، صحت اور فارماسوٹیکل فرشتے کچھ سست سست سے تھے۔
    سفر جاری رہا اورسفر کرتے کرتے سڑک سورج کے قریب چلی گئی۔ زمین کی برف زوروں سے پگھلنے لگی۔ بس کی ساری سواریاں پگھلنے لگی۔پنجاب میں سیلاب کا موسم تھا۔ ہر طرف پانی آگیا۔۔۔ اور ہر زبان سوکھنے لگی۔
    ایک چودہ پندرہ سال کا لڑکا اس سیلاب میں دھڑا دھڑ پانی کے گلاس بیچنے لگا۔ پانی نیم گرم تھا۔ شائد یہ گرمی پانی نے تار کول کی اُس سڑک سے جذب کی تھی جس پر یہ لڑکا ننگے پیر دوڑ رہا تھا۔
    ٹھنڈی گنڈیری ، میٹھی گنڈیری۔ چند سکّوں کے عوض کچھ کڑوی زبانیں بھی میٹھی ہو گئیں۔
    بھیڑ میں پرانی قمیص اور سستی جینز پہنے شخص نے آواز لگائی۔۔۔ "چائنا آگیا، چائنا چھا گیا۔ بازار جا کر پوچھو تو اس بال پوائنٹ کی قیمت بیس روپے سے کم نہیں۔ کمپنی کی پروموشن واسطے اس وقت دو بال پوائنٹ اور ایک خالص جاپانی کاغذی پنکھے کے سیٹ کی قیمت ہے۔۔۔ دس روپے، دس روپے، دس روپے۔”
    اس نوجوان کے پیچھے سفید شلوار قمیص پہنے ایک عزت دار شہری کھڑا تھا۔ نوجوان کے چُپ ہوتے ساتھ ہی اس درمیانی عمر کے پاکستانی نے تقریر شروع کر دی جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ پاکستانی معاشرہ تنزلی اور بے راہ روی کی طرف گامزن ہے۔ دین سے دوری نے زندگی میں برکت او ر روحانیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ رزق میں تنگی آ گئی ہے۔ پریشانیوں اور مسائل میں اِضافہ ہو رہاہے لیکن اس سب سے نجات ممکن ہے۔ طریقہ پانچ وقت کی نماز، اور نماز کے بعد چند دعائیں۔ ان دعاوں کا جاننا زیادہ مشکل نہ تھا کیوں کہ اس کے کاندھے سے لٹکے بیگ میںایک انمول کتاب بیسیوں کی تعداد میں موجود تھی۔ فلاحی اغراض کی بنا پر کمپنی بسوں میںاس کتاب کا ہدیہ صرف دس روپے وصول کر رہی تھی اور تو اور اس کتاب میں بس پر چڑھنے اور بس سے اترنے کی بھی دو سنہری دعائیں درج تھیں۔ یہ کتاب بس میں ہٹ ہو گئی اور اس دن کی بیسٹ سیلر قرار پائی۔ پوری سات کاپیاں فروخت ہوئیں۔ شائد سات زندگیاں بدل گئیں۔ کئی اور زندگیوں میں بھی برکتوں اور روحانیت کے چراغ روشن ہو جاتے اگر ملک خوش حال ہوتا اور جیبوں میں بس کا کرایہ چھوڑ کر اضافی دس روپے ہوتے۔۔۔ لیکن نہیں۔ ایسی صورت میں شائد اس عزت دار شہری کی ایک بھی کتاب نہ بکتی۔ بھوک مٹ جائے تو دسترخوان پہ کون بیٹھتا ہے۔ حسرتیں ختم ہو جائیں تو دعا کون کرے؟




  • سوزِ دروں — سندس جبین

    سوزِ دروں — سندس جبین

    داستان محبت مقابلے میں شامل ”سوزِ دروں” ایک ایسی کہانی ہے جس کو لکھنے سے پہلے کئی بار میرا قلم دماغی اور ارادی طور پر ٹوٹا پھر ہمت کرکے لکھنا شروع کردیا۔ مگر ذہن میں ہر وقت ہار جیت چلتی رہی تھی۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ تو رائٹنگ کمپٹیشن ہوا تھا نہ میں نے حصّہ لیا تھا۔ مگر میں اپنے بابا کی بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور بار بار حوصلہ افزائی کی کہ ہار جیت چھوڑو اور کہانی لکھوں… اس لیے میں نے پھر واقعی ہار جیت کا خیال ذہن سے نکال کے اسے لکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے میں نے اسے مکمل بھی کر لیا۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھے بہت سے اچھے لوگوں میں سربلند کیا۔
    الف کتاب کی ساری ٹیم اور جیوری کا شکریہ جنہوں نے اس قابل سمجھا اور سو سے زیادہ رائٹرز میں سے مجھے چنا گیا۔ محبت کا جو نظریہ میں نے اپنی داستان محبت میں چنا مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کیوں کہ محبت تب ہی خوبصورت ہے جب اس کے سوزِدروں میں پاکیزگی کا ساز ہو۔

    سندس جبیں




  • اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی — اسیرِ حجاز

    میں نے جیب سے اپنا نیا آئی فون نکالا، ملیحہ کا میسج تھا "Very cute look… Jan!!!” اوپر دیکھا تو دوسری منزل پر کھڑی وہ بڑے پُر جوش انداز سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔اُس نے سکن ٹائٹ ٹرائوزر اور بغیر بازوئوں والی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔
    "You are all set to kill me… Mili” میں نے جواب دیا اور ساتھ ہی اشارہ کیا کہ وقفے میں ملتے ہیں۔ مجھے ان رنگین تتلیوں میں ہمیشہ ہی بہت کشش محسوس ہوتی تھی، جو میری طرف خود ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ رومانس، ڈیٹنگ سب کچھ میری زندگی کا لازمی حصہ تھے… کچھ میری وجاہت اور کچھ شاہانہ اخراجات، مہنگے ترین مالز سے ان کے لئے تحائف اور اچھے ہوٹلز میں کھانا… ان لڑکیوں کو اس سب کے علاوہ کسی چیز سے مطلب بھی کیا۔ اچانک میری نظر سامنے لگے ٹائم ٹیبل پر پڑی…
    Islamic studies: 9-11am
    ”اوہ نو!” میں نے افسوس سے سر پر ہاتھ مارا۔ پوری انجینئرنگ میں سب سے بور سبجیکٹ۔ پتا نہیں ان HEC والوں کی عقل کہاں چلی جاتی ہے؟ ہمیشہ کی طرح مجھے سلیبس طے کرنے والوں پہ غصہ آ رہا تھا، جو ایک غیر تکنیکی مضمون کو اتنی پروفیشنل پڑھائی کا حصہ بنانے پر تلے رہتے ہیں۔ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں، نماز روزے کا پتا ہے، پھربھی نہ جانے کیوں ہمیں وہی چیزیں بار بار رٹتے رہنیپر مجبور کرتے ہیں۔ اوپر سے ڈاکٹر ذوالقرنین! قسم سے ان ڈاکٹر صاحب کو تو ایمان داری کا ایسا رو گ لگا ہے کہ بس!!! مجال ہے جو کبھی ایک لیکچر بھی کینسل کر دیں۔ دو گھنٹے تک پھر ان کا لیکچر!!!!





    پورے سمسٹر میں آج میں دوسری بار ان کی کلاس میں جا رہا تھا۔ میرے پورے تعلیمی کیرئیر میں یہ شاید واحد مضمون تھا جسے میں نے ہمیشہ "one eyed study” کے ذریعے پاس کیا تھا۔ آج تو پیچھے والی ساری نشستیں پُرہونے پر مجبوراً مجھے ڈاکٹر صاحب کے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔
    ”مر گئے۔ آج تو بچنے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ کیسے گزریں گے یہ دو گھنٹے؟؟؟” میں نے بے بسی سے سوچا۔ ڈاکٹر صاحب نے بورڈ پر لکھنا بند کر دیا تھا۔ تختۂ سفید پہ تاریخ کے ساتھ آج کے لیکچر کا عنوان بھی خوشخط لکھا ہو اتھا…
    ”ہر ذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے۔”
    ”موت ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا۔ لوگ خدا کو ماننے سے منکر ہو سکتے ہیں، رسولوں کی حقانیت کو اپنے بے بنیاد نظریات کے مقابل غلط سمجھ سکتے ہیں، آسمانی کتابوں، مر کر جی اٹھنے اور جنت و جہنم کو تو جھٹلا سکتے ہیں مگر موت… یہ ایسی ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والا، چاہے تعصب کی کتنی ہی گہری عینک لگا لے، موت کو نہیں جھٹلا سکتا” ڈاکٹر صاحب کی نرم مگر مضبوط آواز گونج رہی تھی۔
    ”ان مولوی لوگوں کو بھی بس موت، جنت اور جہنم کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا، مغرب ترقی کی انتہائوں کو چھو رہا ہے، ہماری زندگی ان کی ایجادات کی مرہونِ منت ہیں اور یہ ہیں کہ بس اسی ”پتھر کے دور” میں جی رہے ہیں”… میں نے ناگواری سے سوچا!
    ”اسی بات کو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ اگر تم میرے وجود سے انکاری ہو اور انسان ہی کو ہر طرح کی طاقتوں کا سرچشمہ سمجھتے ہو، تو جس وقت ہم تم میں سے کسی ایک کی جان نکالتے ہیں تو تم اس کو واپس کیوں نہیں ڈال لیتے؟؟ اور سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود انسان اس قابل ہو ہی نہیں سکا کہ وہ اس دعویٰ کو جھٹلا سکے۔”
    میں اپنی زندگی اور کامیابیوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے، یہ صدارتی ایوارڈ، بورڈ ٹاپر… یہ تو ابھی شروعات ہیں… میں سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور میری منزل ”ناسا” ہے…
    ”(لوگو) تمہیں (مال و خواہشات کی) بہت سی طلب نے غفلت میں ڈال دیا ، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔”
    موت کو بھول جانا بہت بڑی حماقت ہے، ہم لوگ پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتے ہیں، پر اس میں صرف ایک چیز کبھی فٹ نہیں کرتے اور وہ ہے موت۔ دنیا کی چاہت میں انسانوں کے دل گناہوں سے زنگ آلود ہو جاتے ہیں، نصیحت اثر نہیں کرتی، الفاظ بے فائدہ ثابت ہو جاتے ہیں۔
    ”پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی سخت”
    اور اس سختی سے نجات کا سب سے کارگر طریقہ ہے موت کی یاد۔ جب انسان کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر اس نے اس جہان فانی کو چھوڑ جانا ہے اور دنیاوی مال و متاع یہاں ہی رہ جانا ہے تو وہ بہت سی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مارا مارا نہیں پھرتا… یہی وجہ تھی کہ نبی ۖ خود بھی موت کا تذکرہ کثرت سے فرمایا کرتے اور صحابہ کوبھی اس کی تلقین فرماتے۔”
    اگر ہر وقت موت کا ہی سوچتے رہے تو پھر تو گئے کام سے۔ دنیا کا نظام ہی ختم ہو جائے گا اگر ہر کوئی یہ سوچ ہر وقت ساتھ لیے پھرے تو … اور یاروں دوستوں کے ساتھ کی جانے والی تفریح!!! ہنہ، موت جب آئے گی تو دیکھ لیں گے۔”





    ”ایک دفعہ نبی ۖ صحابہ کی مجلس میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ کھلکھلا کے ہنس رہے تھے اور ہنسی کی وجہ سے ان کے دانت کھل رہے تھے۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ اگر تم موت کو کثرت سے یاد کرو تو جو حالت میں دیکھ رہا ہوں وہ پیدا نہ ہو۔ قبر پر کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب وہ یہ آواز نہ دیتی ہو کہ میں تنہائی کا گھر ہوں، بیگانگی اور کیڑوں کا مسکن ہوں۔ جب کوئی صالح میت اس میں رکھی جاتی ہے تو وہ اسے کہتی ہے کہ تیرا آنا مبارک ہو، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے، تجھ ہی سے مجھ کو زیادہ الفت تھی آج جب تو میرے حوالے ہوا ہے تو میرے حسن سلوک کو بھی دیکھ لے گا۔ اس کے بعد وہ حدِ نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور ایک دروازہ جنت کا کھل جاتا ہے۔ اور جب کوئی بدکردار اس میں رکھا جاتا ہے تو کہتی ہے کہ تیرا آنا نامبارک ، برا کیا جو تو آیا، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے تجھ سے ہی مجھے سب سے زیادہ نفرت تھی۔ اس کے بعد وہ اس کو اتنا دباتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دو سرے میں گھس جاتی ہیں اور جہنم کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ جہاں سے جہنم کا دھواں اور بدبو اس کو آتی رہتی ہے۔”
    ”آج آنے کی غلطی ہو گئی ہے تو اب اس کی سزا اس طرح ملے گی!!!” میں نے انتہائی بے زاری سے سوچا۔
    ”صحابہ ہر وقت موت کو پیشِ نظر رکھتے تھے، اور اسی وجہ سے ان کے دل دنیا سے اچاٹ رہتے تھے۔ اس حالت میں ان کو ذرہ بھر بھی تغیر محسوس ہوتا تو فوراً سے پیشتر خود کو ملامت کرتے۔ ایک دفعہ ایک محفل میں جب نبی ۖ نے قبر کے حشر کا ذکر فرمایا تو صحابہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجلس کے بعد جب حنظلہ گھر آئے اور بیوی بچوں کے ساتھہنسی مذاق میں مشغول ہوئے تو فوراً یہ خیال آیا کہ آپ ۖ کی خدمت میں تو آنسو اور یہاں یہ حال؟ خود کو منافق سمجھتے ہوئے حاضر خدمت ہوئے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ہر وقت میری مجلس والی کیفیت رہے تو فرشتے سرِ بازار تم سے مصافحہ کرنے لگ جائیں، لیکن ایسا تو کبھی کبھی ہوتا ہے۔”
    مجھے کسی کی موت نے کبھی نہیں رلایا تھا، حتیٰ کہ اپنی سگی ماں کی وفات پر بھی ایک آنسو تک نہیں نکلا تھا میرا، احساس تک نہیں ہوا تھا کہ کیا ہو چکا ہے… میرے سب جاننے والے میرے حوصلے کی داد دیا کرتے تھے۔ مجھے سب سے بڑی ڈرامہ باز وہ عورتیں لگتی ہیں جو مردے کے سرہانے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں… اس پر میں ہمیشہ ایک ہی لفظ بولا کرتا تھا… "Overacting”۔
    ”حضرت عبداللہ ایک حدیث اس طرح سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر اور فرماتے تھے کہ اگر صبح مل جائے تو شام کی امید مت رکھو اور شام کو پالو تو صبح کی امید نہ رکھو۔”
    ”پھر تو بندہ مصلے سے سر ہی نہ اٹھائے، اس میں دنیا داری تو کہیں نہیں بچتی”… میں نے سوچا۔
    ”حضرت عثمان قبر کے ذکر پر اتنا روتے تھے کہ بعض دفعہ داڑھی تر ہو جاتی۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جو اس میں سرخرو ہوا وہ آگے بھی بچ جائے گا۔ حضرت عمر جن کی فراست کا ہر کوئی معترف تھا اور ہے، انہوں نے اپنی مہر ایک عبارت پر درج کروا رکھی تھی۔
    ”نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے”
    یہ الفاظ اچانک ہی میرے دل میں جا پیوست ہوئے اور میرے ذہن پر دستک دینے لگے… مجھے کچھ اور سجھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔ اس ایک عبارت کے الفاظ نے مجھے کیا کر دیا تھا؟ میں سمجھنے سے قاصر تھا… میں تو بڑے بڑے علماء کی باتوں کو چٹکیوں میں اُڑا دیا کرتا تھا… اس ایک فقرے میں کیا جادو تھا… میری ساری حسیات یک دم میرا ساتھ چھوڑ گئی تھیں… میں، جسے اپنی قوتِ ارادی پر ناز تھا مجھ سے فیصلے کی ساری قوت لے لی گئی تھی… جس کو اپنی دماغ پہ غرور تھا… اس کا ذہن کام کرنا چھوڑ گیا تھا… میں تو انتہا درجے کا پریکٹیکل آدمی تھا… پھر بھی نہ جانے کون سی طاقت تھی جو مجھے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پہ مجبور کر رہی تھی؟؟؟ مجھے اپنے سامنے مرنے والے سارے لوگ ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جنہیں میں غیر سنجیدگی سے لیا کرتا تھا۔ وہ جنازے جن میں مجھے میرے گھر والے زبردستی بھیج دیا کرتے تھے، وہ ساری میتیں میرے ذہن میں دستک دینے لگیں۔ سفید کپڑوں میں ملبوس وہ چہرے ایک سلائیڈ شو میں چلنے لگے اور ہر کسی کے منہ سے بس ایک سوال نکل کر آرہا تھا کہ کیا تم نے کبھی اس دنیا کو نہیں چھوڑنا، کیا تم ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو؟ ابھی کل ہی دوست کی والدہ کے جنازے کے لئے گیا تھا، چوںکہ میرا ارادہ خانہ پری کا تھا اس لئے راستے میں سب دوستوں کے ساتھ ویسے ہی فحش گفت گو، کار میں انگلش دھنیں اور آنکھوں سے بد نظری… مجھے کھانا پسند نہیں آیا تھا، میں نے اپنے دوست کی خوب مٹی پلید کی، کہ اس موقع پر تو اچھا انتظام کر لیتے… اس کے بعد ہم چاروں دوست وہاں سے نکلے اور سیدھے ایک اچھے ہوٹل گئے۔ رات ہو چکی تھی اس لئے ”شیشے” کا پروگرام بنایا اور شہر کے مشہور ”حقہ بار” پہنچ گئے…
    پتا ہے کبھی کبھی آپ کی آنکھیں برس رہی ہوتی ہیں پر آپ کو پتا نہیں چلتا۔ کھلی آنکھوں سے کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا، آوازیں آپ کی سماعت سے ٹکراتی ہیں پر آپ انہیں سمجھ نہیں پا رہے ہوتے، سب کو جانتے ہوئے بھی کسی کو پہچان نہیں پاتے… کچھ ہو گیا تھا میرے دل کو… لگتا تھا کہ پتھر بھی آخر ٹوٹ رہا تھا۔
    ”اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔”
    دل میں ایک کسک سی جاگ اُٹھی تھی، شاید آگہی کی یا اپنے ماضی پہ ماتم کی!!! میں فرق کرنے سے قاصر تھا۔
    ”میرے بچے! کیا ہوا؟؟” ڈاکٹر صاحب کی مدھم سی آواز سنائی دی، اُن کے پُر نور چہرے پر میری نظر ٹھہر نہ پائی… میرے آنسو گرتے جا رہے تھے اور جسم پسینے سے شرابور… میں نے ٹوٹتی آواز سے کہا:
    ”سر!!! اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی”




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے