Tag: افسانچہ

  • سوزِ دروں — سندس جبین

    سوزِ دروں — سندس جبین

    داستان محبت مقابلے میں شامل ”سوزِ دروں” ایک ایسی کہانی ہے جس کو لکھنے سے پہلے کئی بار میرا قلم دماغی اور ارادی طور پر ٹوٹا پھر ہمت کرکے لکھنا شروع کردیا۔ مگر ذہن میں ہر وقت ہار جیت چلتی رہی تھی۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ تو رائٹنگ کمپٹیشن ہوا تھا نہ میں نے حصّہ لیا تھا۔ مگر میں اپنے بابا کی بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور بار بار حوصلہ افزائی کی کہ ہار جیت چھوڑو اور کہانی لکھوں… اس لیے میں نے پھر واقعی ہار جیت کا خیال ذہن سے نکال کے اسے لکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے میں نے اسے مکمل بھی کر لیا۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھے بہت سے اچھے لوگوں میں سربلند کیا۔
    الف کتاب کی ساری ٹیم اور جیوری کا شکریہ جنہوں نے اس قابل سمجھا اور سو سے زیادہ رائٹرز میں سے مجھے چنا گیا۔ محبت کا جو نظریہ میں نے اپنی داستان محبت میں چنا مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کیوں کہ محبت تب ہی خوبصورت ہے جب اس کے سوزِدروں میں پاکیزگی کا ساز ہو۔

    سندس جبیں




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • در و دیوار —– سید ممتاز علی بخاری

    کہتے ہیں دیوار اور دروازے کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ دیوار نہ ہو تو پھر دروازہ بھلا کس کام کا؟ جس طرح دیوار دیدار میں رکاوٹ کا دوسرا نام ہے اسی طرح دروازہ دیدار کے لیے ایک پُل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ سنا ہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن آج تک ہمیں اُن کے کان نظر نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اُن کانوں کی شکل و صورت کیسی ہے؟ ان کا سائز کیا ہے؟ ان کی طاقت کتنی ہے؟ہماری تحریر میں جا بجا آپ کو لفظ گیٹ(Gate) نظر آئے گا ۔ دراصل معزز دروازوں کو انگریزی زبان میں گیٹ کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت کے سوا گھر نہیں ہو سکتا لیکن چُپ شاہ کے نزدیک دیواروں کے بغیر گھر نہیں ہو سکتا۔ عورتوں کو چار دیواری کا درس دینے والے اکثر حضرات اپنی راہ میں ایک دیوار بھی برداشت نہیں کر تے۔ دیوار کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وہاں سے راستہ نہیں بنا سکتا۔ صرف چور اور ڈاکو اپنی مرضی سے جہاں سے چاہتے ہیں راستہ بنا لیتے ہیں چاہے وہاں دیوار ہو یا بیمار۔ یار لوگ تو دار کو بڑا دروازہ کہتے ہیں بلکہ بل گیٹس کو بھی ”گیٹ” (دروازہ) ہی سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک بھی وہ دروازہ ہی ہے بے پناہ دولت کا۔
    خیر آج ہم نے سوچا کہ آپ حضرات کو مختلف قسم کی دیواروں اور دروازوں کی اقسام سے متعارف کروائیںتا کہ سند رہے اور بہ وقتِ ضرورت کا م آئے۔





    ١۔کالج کے دَر و دیوار
    یہ دیواریں بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں ۔ ان پر آئے دن نت نئے سیاسی گروہ اپنی تشہیرکے لیے چاکنگ کرتے ہیں پھر اُن پر پینٹ یا رنگ پھرجاتا ہے ۔ اگلے روز ایک نئی عبارت یوں جگمگا رہی ہوتی ہے جیسے اُسی کے لیے ہی یہ دیوار بنائی گئی ہو۔ بعض اوقات اوپر تلے تحریر کی گئی چاکنگ بارش وغیرہ سے دھل کر کچھ یوں بن جاتی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے والے دونوں حیران رہ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے کچھ اسی طرح کی وال چاکنگ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ 25 ستمبر کو ملک کے مشہور و معروف حکیم صاحب میں کرکٹ کا ایک نمائشی میوزیم ہے جس میں تھیڑ کے بڑے فنکار بھی شامل ہوں گے۔ قربانی کی کھالیں ہمیں دے کر ٹکٹ بک کروائیں ورنہ حکومت ذمہ دار نہ ہو گی۔ حکیم صاحب کے جسم میں کرکٹ گراؤنڈ ، کرکٹ میں تھیٹر کے فنکاروں کا کھیل، اور کرکٹ کا میوزیم بڑے عجیب و غریب انکشافات تھے لیکن سب سے انوکھا انکشاف یہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کا ایک نیا مصرف بھی سامنے آگیا تھا۔جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بارش اور بادو باراں نے نصف درجن اشتہاروں کا بھرتہ بنایا ہوا ہے۔
    عموماً کالج کے گیٹوں کو بھی زنانہ اور مردانہ کالج کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بوائز کالج کے گیٹ عموماً ویران ہوتے ہیں جب گرلز کالج کے گیٹوںپر زیرِ تعلیم طالبات کے علاوہ بے شمار لڑکے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض تو لڑکیوں کے خونی رشتہ دار ہوتے ہیں اور بعض جنونی رشتہ دار بننے کے لیے کوشاں ۔۔۔! ہم تو یونیورسٹی کے دَر و دیوار کو بھی اسی فہرست میں رکھا کرتے ہیں۔ البتہ مخلوط تعلیم دلانے والے اداروں کے گیٹ بہت پُر رونق بنے رہتے ہیں ہمیشہ۔ یوں تو قوم کے مستقبل کے یہ ضامن روز انہ وقت مقررہ پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی آتا ہے جب گرلز اور بوائز کالجوں کے گیٹ ایک سا منظر پیش کرتے ہیں اور وہ دن ہوتا ہے اتوار کا ۔ اکثر اوقات کالجز کے یہ دروازے اور دیواریں سیاسی تنظیموں کے درمیان تنازع کا باعث بنتے ہیں۔ کہیں جھنڈے لگانے یا اکھیڑنے پہ جھگڑا ، کہیں چاکنگ کرنے مٹانے کی لڑائی تو کہیں کسی سیاسی تنظیم کی ہڑتال پر گیٹ کے کھلے رہنے یا بند رہنے پر چپقلش۔۔۔۔!
    ٢۔ کوچۂ محبوب کے دَر و دیوار
    ایک مشہور قول ہے کہ محبوب کی گلی کا کُتا بھی عشاق کو محبوب ہی ہوتا ہے کیوںکہ اس کا اُن کے محبوب کی گلی سے ایک تعلق ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے محبو ب کے گھر کے دَر و دیوار تو خصوصی اہمیت کے حامل ہوئے ۔ یار لوگ تو محبوب کے گھر کی دہلیز کو اتنا متبرک سمجھتے ہیں کہ کئی ایک تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اس سمت سجدوں کی اجازت مانگتے پھرتے ہیں۔ محبوب کے آشیانے کی دیواروں کی لمس کی حس بہت ہی طاقت ور ہوتی ہے۔ اس لیے عموماً عاشق اُن سے لپٹ لپٹ کر روتے ہیں۔ اگر عشق کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہو تو پھر عاشق محبوب کے دَر و دیوار کو ایک ہینظر دیکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک دیوار اور دروازے میں فرق اتنا ہوتا ہے کہ دروازے پر سکیورٹی گارڈ یا گھر کے کسی نگران کی نظر ہوتی ہے جب کہ دیواروں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ اسی لیے وہ دروازوں کی بہ جائے دیواریں پھلانگنا آسان سمجھتے ہیں کیوںکہ یہ راستہ آسان بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی۔
    اگر آپ ہماری اردو شاعری کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ محبوب کے دروازے پر ایک نا دیدہ رکاوٹ لگی ہوتی ہے ۔اس رکاوٹ کوعبور کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اکثر جوشیلے مگر بزدل عاشق جو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں ان سے اتنا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان نادیدہ جالوں کو توڑ پائیں جو محبوب کے گھر کی دہلیز پر لگے ہوتے ہیں۔
    کچھ حضرات تو محبوبہ کے بھائیوں کو بھی دیوار سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن ان دیواروں کو پھلانگنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر عاشق یہیں سے واپس ہو لیتے ہیں ۔ ڈر کر یا مار کھا کر ۔۔۔۔۔۔!





    ٣۔ ٹھیکے والے دَر و دیوار
    یہ دروازے اور دیواریں ٹھیکے داروں نے بنائی ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض دیواریں تو آدھی بنی ہوتی ہیں اور بعض کی تعمیر تک مکمل ہو چکی ہوتی ہے لیکن یہ بنتی ہی ٹوٹنے کے لیے ہوتی ہیں۔ عموماً ٹھیکے دار حضرات پیسے تو پورے سامان (میٹریل )کے لے لیتے ہیں لیکن استعمال کرتے وقت ڈنڈی بلکہ ڈنڈا مارتے ہیں اور بقیہ سامان(میٹریل )کے پیسے اپنی جیب میں ڈال دیتے ہیں تاکہ مرنے کے بعد دوزخ میں ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کی جا سکے ۔
    اسی لیے ٹھیکے والی دیواریں ایسی ہوتی ہیں کہ ذرا کسی نے ٹیک لگائی اور یہ دھڑام سے نیچے۔ ان دیواروں پر اگر غلطی سے کوئی کوا آ کر بیٹھ جائے تو یہ اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ ہم نے ایک بار مشہور مفکر چُپ شاہ سے پوچھا کہ یہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون کی عمارتیں جہازوں کے ٹکرانے سے کیسے گریں؟ تو انہوں نے انکشافی انداز میں ہمیں بتایا کہ جہاز تو جہاز اگر کوئی اڑتا مچھر بھی ان عمارتوں سے ٹکرا جاتا تو بھی ان عمارتوں نے زمین بوس ہو جانا تھا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ دراصل یہ عمارتیں ٹھیکے پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ٹھیکے پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے اندر ایک اور کجی رہ جاتی ہیں اور وہ یہ کہ ہوا کے دباؤسے ایسی عمارتوں کی دیواریں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔
    چُپ شاہ کے نزدیک پیسا ٹاور کا ٹیڑھا ہونا اس کی ٹھیکے پر کی گئی تعمیر کی پہچان ہے۔ ہم ساری ٹیڑھی دیواروں کو ٹھیکے داروں کی غلطی نہیں قرار دے سکتے کیوںکہ کئی دیواریں اتنی نیک ہوتی ہیں کہ وہ رکوع و سجود کے لیے کعبے کی سمت جھک جاتی ہیں اور ہم لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید ٹھیکے دار نے دیوار کی تعمیر میں کوئی ڈنڈی ماری ہوئی ہے۔ کچھ یہی حال ٹھیکے پر بنائے دروازوں کا ہے۔کبھی زنگ آلود لوہے کو پینٹ(رنگ و روغن) کرکے فروخت کیا جاتا ہے تو کبھی اس پرانی لکڑی کو جسے اندر سے کیڑوں نے کھا لیا ہو ، رنگ و روغن کرکے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ ایسے دروازے اکثر موت کے ہر کارے کے ساتھ مل کر اپنے مالک سے دغا کر جاتے ہیں اور انسان کو زمین کی پستیوںسے بلند آسمان کی وسعتوں میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ان دروازوں سے توسوچ کے دروازے زیاد مضبوط ہوتے ہیں۔

    ٤۔ وی آئی پی دَر و دیوار
    یہ دَر و دیوار اپنی اہمیت کے حوالے سے سب سے منفرد اور ممتاز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر پائی جانے والی اعلیٰ مقتدر شخصیات اور اہم اداروں کے ارد گرد اسی قسم کے دروازے اور دیواریں ہوتی ہیں۔ یہ دیواریں تمام دیواروں سے اونچی ہوتی ہیں اور دروازے ہوشیار اور حسّاس۔ دیواروں نے خار دار تاروں والا لباس پہنا ہوتا ہے۔ عام دیواروں کے بر عکس ان دیواروں کے کان نہیں ہوتے البتہ آنکھیں ہوتی ہیں اور ان گنت تعداد میں جن کے اندر عقاب کی نظروں سے زیادہ پُھرتی ہوتی ہے ۔ وی آئی پی دروازے بھی دوسرے دروازوں سے کچھ الگ ہی شان رکھتے ہیں۔ وہاں بے شمار سیکیورٹی گارڈز ان کی حفاظت پرمامور ہوتے ہیں اور یہ دروازے باز بان ہوتے ہیں۔ یہ بول کر بتا سکتے ہیں کہ آنے والا انسان کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ دلہن کی خاموشی اقرار کی علامت سمجھی جاتی ہے جب کہ ان دروازوں کی خاموشی انسان کے پر امن اور سادہ ہونے کی ضامن سمجھی جاتی ہے ۔ اگر ان دروازوں میں سے کوئی ایسا ویسا آدمی گزر جائے تو یہ چیخ چیخ کر آسمان بادلوں سمیت اپنے سر پر اٹھا لیتے ہیں اور نتیجتاً پورا ماحول سنگینوں کی زد میں آ جاتا ہے اور اگر بات کچھ زیادہ شدید ہو تو پستولوں کی گھن گرج کے ساتھ گولیوں کی بوندا باندی بھی شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ دروازے عام دروازوں سے کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ ایسے در و دیوار VIPsکو عام لوگوں کی پہنچ اور رسائی سے دور رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دواؤں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے اور رکھا جاناچاہیے۔





    ٥۔ تاریخی دَر و دیوار
    جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ان دَر و دیوار کی اہمیت مسلمہ ہے چاہے غیر مسلموں کے دیس ہی میں کیوں نہ ہوں۔ پہلے تذکرہ کرتے ہیں دیواروں کا تو صاحبو! دیوارِ برلن اور دیوار عراق (جو امریکا نے2003ء میں عراق پر قبضے کے بعد بنائی تھی ) بہت مشہور ہیں۔ ان دیواروں کا یہی کام ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں تفریق پیدا کر سکیں اور ان کے درمیان نفرت کے بیج بو سکیں لیکن ایک ایسی تاریخی دیوار بھی ہے، جو بنی نوع انسان کی حفاظت کے لیے تعمیر ہوئی وہ ہے دیوارِ چین۔۔۔! تا تاریوں کے حملوں سے بچنے کے لیے یہ دیوار بنانے والوں کے علم میں بھی نہیں تھا کہ لوگ چاند سے جا کر اس دیوار کو تکتے رہیں گے۔ ایک دیوار ان دنوں انڈیا بھی لائن آف کنٹرول پر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    کہتے ہیں کہ ایک تاریخی دیوار سکندر نے بھی بنائی تھی جس میں یا جوج ماجوج کو قید کر دیا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے سیاستدان کیسے اس دیوار کو پھلانگ آئے۔ باقی قوم ابھی قیامت کی منتظر ہے۔ دروازوں یعنی گیٹوں کے حوالے سے ہمیں پچھلے زمانوں میں کچھ روایات ملتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ہر شہر پناہ کا ایک بلکہ کئی گیٹ ہوتے تھے۔ لیکن آج کل کے دور میں صرف چند ہی شہروں کے دروازوں کا تذکرہ سننے کو ملتا ہے۔ جیسے لاہور میں لوہاری گیٹ ، بھاٹی گیٹ ، موچی گیٹ وغیرہ موجود ہیں۔ یہ سارے گیٹ انگریزوں سے بھی پہلے کے بنے ہوئے ہیں اور مغلیہ سلطنت کی یادگار ہیں۔
    ٦۔ عام دَر و دیوار
    اس قسم کے در و دیوار آپ کو ہر طرف نظر آئیں گے ۔ یہ دیواریں اتنی ہی کمزور ہوتی ہیں جتنے ان کے مکین غریب ہوتے ہیں ۔ یہ گھر کی حفاظت کی خاطر تعمیر کی جاتی ہیں لیکن چور حضرات ان سے مک مکا کرنے کے بعد ان کو پھلانگ کر گھر والوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں۔ پھر لوگ پولیس کو رپورٹ تک نہیں کروا سکتے ۔ اس لیے کہ چوروں نے اتنی رقم چھوڑی ہی نہیں ہوتی کہ مظلوم بے چارہ پولیس والوں کو تحفے میں دے سکے اور تحفے کے بغیر تو ہمارے ہاں پولیس والے صرف ”کمال” کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہماری پولیس اور جاپانی ایک ہی فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ صرف ایک چھوٹا سا فرق ایسا ہے جو ہماری پولیس کی عظمت کی مثال پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ کہ جاپانی حضرات تحفے لینے اور دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ہماری پولیس صرف تحفے لینے کی مشتاق ہے ۔
    کچھ اسی قسم کی دیواریں اور گیٹ سڑکوں کے بھی ہوتے ہیں۔ سڑک کی دیواریں مفرور مجرم جیسی ہوتی ہیں تبھی تو ان کو لوہے کی سلاخوں سے باندھا ہوتا ہے یا پھر سٹیل یا ایلومینیم کی تاروں سے۔۔۔! چُپ شاہ کا کہنا ہے کہ شاید دروازوں کی اہمیت یہیں تک محدود رہتی لیکن بھلا ہو امریکا کے صدر نکسن کا جس نے واٹر گیٹ سکینڈل کا حصہ بن کر گیٹوں کو ایک نئی زندگی دی۔ اسی طرح دروازے حسین حقانی اور منصور اعجاز کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے میمو گیٹ سکینڈل تخلیق کیا اور اکیسویں صدی میں بھی دروازوں کا بول بالا کیا۔

    ٭٭٭٭




  • عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔
    آمنہ۔۔۔
    آمنہ فرمان ۔۔۔
    آمنہ ۔۔۔عبداللہ
    آمنہ عبداللہ
    میں بھی یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں کر رہا ہوں ۔کسی نے دیکھ لیا تو ہنسے گا مجھ پر ۔ چلو لائن لگا دیتا ہوں اس کانام۔ کاٹ دیتا ہوں آخری لائن کو ۔
    کیا کروں چاہ کر بھی میں اس کا نام کاٹ نہیں پا رہا ۔میں بھی ناں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ ابھی تو مجھے اپنی بہن کو ڈھونڈنا ہے ، اس کے لیے اچھا سا لڑکا تلاش کرنا ہے ، اس کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں ۔ پھر اپنے بارے میں سوچوں گا ۔ابھی تو بہت سے کام باقی ہیں ۔ یہ آمنہ خواہ مخواہ چلی آئی میری زندگی میں ۔ آئندہ نہیں سوچنا اس کے بارے میں ۔
    میں نے دل میں تہیہ کیا۔
    ٭٭٭٭٭
    ”تم ۔۔۔تم ۔۔۔حیثیت کیا ہے تمہاری۔تمہاری اتنی جرات بھی کیسے ہوئی کہ تم ایسی بات کرو۔ تم ایک نوکر ۔۔۔ایک مالی ۔۔ایک دو ٹکے کے ۔۔۔تم ۔”
    وہ آنکھیں بند کرتا تو غصے کے ساتھ چلاتی ہوئی آئمہ جہانگیر اس کے سامنے آجاتی ۔ وہ آنکھیں کھولتا تو اس کو اس کی حدیں جتاتی ہوئی آئمہ جہانگیر سامنے آ کھڑی ہوتی۔
    ”چراغ دین ۔۔اسے بتاؤ کہ ایک نوکر کی حد کیا ہے ۔”
    وہ بہت مضبوط تھا ،لیکن ٹوٹ رہا تھا ۔
    بہت بار اس نے سوچا کہ وہ یہاں سے چلا جائے ، آئمہ جہانگیر کی دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔مگر جس گلاب کی اس نے آب یاری کی تھی،اسے یونہی چھوڑ کر چلے جانا دشوار ہوا ۔وہ اسے پھول دار دیکھنا چاہتا تھا ، بھلے اس کے کانٹے اسے گھائل کرتے تھے ۔
    شادی کے دن قریب آ رہے تھے ۔عورتوں جیسی چال والا ڈیزا ئنر دلہن اور دلہا کے ملبوسات ، دلہن دلہا کے ماں باپ ،دلہا کی بہن اور دلہن کی سہیلیوں کے ڈریسز کے بارے میں مشورے دینے اور ہدایات لینے چلا آتا، مردوں جیسے حُلیے والی ویڈنگ پلانراپنی ٹیم کے ساتھ گھر کا سروے کرنے چلی آتی۔ برائیڈل شاور کے لیے ہال اور مہندی کے ایونٹ کے لیے لان منتخب کیا تھا اس نے۔
    ”یہ اس طرف اسٹیج بنے گا ۔کچھ پودے کٹوانے پڑیں گے آپ کو ۔” اس نے اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا ۔ارم جہانگیر نے سر ہلا دیا تھا ۔
    اس نے تڑپ کر اس گلابی گلاب کے پودے کی طرف دیکھا جس کی ٹہنی اس نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی اور جس میں لگی ہرے رنگ کی ننھی ننھی کلیاں اشارہ دیتی تھیں کہ اب اس پہ پھولوں کی بہار آنے ہی والی ہے ۔
    ٭٭٭٭٭



    ”آپ نے مجھے میری ماں سے ملوایا ۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی۔” آمنہ فرمان اکثر کہتی تھی اور میں مُسکرا دیتا تھا ۔ میں نے بھلا کیا احسان کیا تھا ۔بس آیا کو اس کی بیٹی سے ملوایا یہ سوچ کر کہ کوئی تو بچھڑا اپنے سے ملے ۔
    جب وہ میری زیادہ احسان مند ہونے لگتی تو میں کہتا ۔
    ”تم نے احسان ہی اتارنا ہے ناں تو دعا کرو کہ میری بہن مجھے مل جائے ۔ ”
    وہ اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگتی ۔ میں بس اسے دیکھ کر رہ جاتا ۔بہت خالص تھی وہ ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی میری راہ نہ کھوٹی کر ڈالے۔
    غلط بات تھی ناں کہ میں نے حفصہ کے لیے انکار کیا تھا اور اب آمنہ کی طرف مائل ہونے لگا تھا۔ واقعی سچ کہتے ہیں دل بڑ ا ہی شہ زور ہوتا ہے ۔ دماغ پہ قابو پا لیتا ہے ۔ میں جو دل میں پکا عہد کرتا تھا کہ اب آمنہ کو نہیں سوچنا ، اس کو دیکھتے ہی ہر عہد بھول بیٹھتا ۔ دل اپنی منوا کر چھوڑتا ۔
    ہم نے تھوڑے ہی عرصے میں بہت سی باتیں شیئر کی تھیں ۔ میں اپنی بہن کی باتیں کرتا اور وہ مجھے اپنے گھاؤ دکھاتی ۔
    عجیب بات ہے کہ کسی کے پاس رشتے نہیں ہوتے،تو وہ تنہا ہوتا ہے ، کسی کے پاس بہت سے رشتے ہوتے ہیں پھر بھی وہ تنہا ہوتا ہے ۔ کوئی یتیم مسکین ہوتا ہے کیو ں کہ اس کے ماں باپ نہیں ہوتے اور کوئی ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم مسکین ہوتا ہے ۔
    میری محرومیاں کسی حد تک مٹنے لگی تھیں ۔ میں یتیم خانے میں رہا اور آمنہ اپنے گھر میں۔ میرے ماں باپ حیات نہ تھے ، اس کے ماں باپ اسی دنیا میں تھے ۔ پھر بھی میں آمنہ سے زیادہ بہتر حالات میں رہا ۔ میں اب اللہ کا شکر ادا کرنے لگا تھا ۔
    ہمارے بیچ کوئی اقرار نہ ہوا تھا ، کوئی وعدے نہ ہوئے تھے ۔ پھر بھی خود کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک ہی راہ پہ چلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ۔
    میرا ماسٹرز ہو گیا تو ایک نجی بینک میں کیشئر ہوگیا ۔ ہفتہ اور اتوار کے دن میں بیگم شاہ جہاں کے گھر بھی جاتا تھا بچوں کو ریاضی پڑھانے ، ہفتے بھر میں انہیں ریاضی میں جو بھی مسئلہ پیش آیا ہوتا ، میں انہیں سمجھاتا ۔ کبھی کبھی آمنہ بھی آتی تھی آیا سے ملنے ۔ جس دن وہ آتی ، اس دن میں بات بے بات مسکراتا اور شاید باتیں بھی زیادہ کرتا ۔ بیگم شاہ جہاں نے میری چوری پکڑ لی تھی۔ ایک ہفتے بچوں کو پڑھا کر ان میں ٹافیاں بانٹ کر میں بیگم شاہ جہاں کے پاس آبیٹھا ۔ وہ باہر لان میں بیٹھی بانو قدسیہ کی ”راہ رواں ” پڑھ رہی تھیں ۔ان سے باتیں کرتے ہوئے میری نگاہیں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں ۔
    ”آمنہ نہیں آئی آج ۔ ”
    ان کی نظریں کتاب پر تھیں اور آبزرو مجھے کر رہی تھیں ۔چالاک۔۔۔
    میں شرما گیا تھا ۔ وہ بھی ہنس دی تھیں ۔
    ”کروں پھر آیا سے بات ؟”کتاب کا ورق پلٹتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
    ”نن ۔۔نہیں ابھی نہیں ۔” میں نے فوراً انہیں منع کیا ۔
    ”کیوں ؟” انہوں نے کتاب سے نظر ہٹا کر تیکھی نظر سے مجھے دیکھا ۔
    ”ابھی مجھے اپنی بہن کو تلاش کرنا ہے ، اس کی شادی کرنی ہے ۔ پھر ۔۔۔۔”
    ”تم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو ۔ ” انہوں نے افسردہ سے لہجے میں کہا ۔ مجھے ان کی افسردگی اچھی نہیں لگی۔
    ٭٭٭٭٭



    دن گزرتے رہے ،شادی کی تیاریاں ہوتی رہیں ۔وہ ہنستی مسکراتی شاداب چہرہ لیے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز لیے اس کے پاس سے گزرتی رہی۔پھر ایک دن جانے کیا ہوا کہ اس گلاب جیسی لڑکی کی چمکتی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ، مُسکراتا مطمئن چہرہ یک دم ماتمی لگنے لگا۔اس کے رخساروں کے گلابی گلاب مرجھا گئے اور وہاں زرد گلاب اگ آئے ۔
    ”شادی رک گئی ہے ، بی بی کے سسرال والوں کو پتا چل گیا ہے ۔”ملازموں کے بیچ ہونے والی گفت گو کچھ اس کے کانوں میں بھی پڑی تو وہ دل تھام کر رہ گیا ۔اس رات بھی اس کے سجدے طویل رہے۔
    یہ دو دن بعد کی بات ہے جب آئمہ پچھلی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی۔ اس نے چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا اور اس کا جسم یوں ہچکولے کھا رہا تھا جیسے وہ رورہی ہو۔
    وہ اپنی حیثیت جانتا تھا پھر بھی خود کو روک نہ پایا اور اس کے قریب چلا آیا۔
    ”سنو۔” اس نے آہٹ پا کر سر اٹھایا تھا ۔اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ ٹھہر نہ پایا اور جانے لگا تھا جب آئمہ نے پکارا تھا ۔وہ رک گیا ۔
    ”کیا نام ہے تمہارا۔”
    اس گھر میں مالکوں کے بیچ وہ مالی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔آج وہ اس سے اس کا نام پوچھ رہی تھی۔ کچھ دیر کے لیے وہ خود بھی اپنا نام بھول گیا ،پھر یاد آنے پہ بولنا چاہا تو زبان تالو سے جڑی رہ گئی۔
    ”میں نے تمہیں تمہاری حیثیت یاد دلائی تھی ناں ،آج مجھے اپنی حیثیت پتا چل گئی ہے ۔”آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگ کر آئے اور ذرد گلابوں کو آب یار کر گئے۔
    وہ گلابی گلابوں کا کاشت کار تھا ۔ان زرد گلابوں کو دیکھ نہ پایا اور منہ موڑ لیا ۔
    ”مٹی کے اس ذرّے سے بھی زیادہ حقیر اور کم تر ہوں میں ۔” اس نے پاس پڑے گملے سے مٹی کی مٹھی بھری اور اپنے اوپر اُڑا دی۔
    ”اس ۔۔۔اس پودے سے بھی زیادہ بے حیثیت ہوں میں ۔” اس نے گملے سے پودا اکھاڑ ڈالا تھا ۔”اس کی تو جڑیں اس کے ساتھ ہیں ۔اور میری جڑیں ۔۔۔میری جڑیں ۔۔جانے کدھر ہیں۔”
    اس کو اپنا کوئی ہوش نہ تھا۔اس کو ایک ساتھ دو دو چوٹیں لگیں تھیں ۔ شادی کا ختم ہونا تو شاید برداشت ہو جاتا مگر ۔۔۔مگر اپنا بے شناخت ہونا موت تھا ۔ وہ مر رہی تھی۔ اسے اپنی شناخت چاہیے تھی۔ محبت کے بنا رہا جا سکتا ہے مگر شناخت کے بنا۔۔۔ہر گز نہیں ۔
    وہ وہاں رک نہ پایا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
    اگلے دن وہ گھر سے غائب رہا تھا ۔
    ٭٭٭٭٭



    میں بیگم شاہ جہاں سے ناراض ہو گیا تھا ، بات ہی انہوں نے ایسی کی تھی۔
    مجھے کہیں سے پتا چلا تھا کہ جس شخص نے میری بہن کو گود لیاتھا ، اس نام کا ایک شخص کراچی میں رہتا ہے ۔ میں کراچی چل پڑاتھا ۔ دنیا میں ایک نام کے کئی انسان۔ وہ بھی کوئی اور ہی نکلا تھا ۔ میں نے مایوس ہو کر واپسی کا ارادہ کیا ۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہر ا تھا ، وہاں سے بیگ اٹھا کر باہر نکلا ،ابھی راستے میں ہی تھا کہ ایک دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخم چاخ ، آہ وبکامچ گئی ۔ میں ٹیکسی سے نکل کر لوگوں کی طرف بھاگا ۔ ہر طرف بھگڈر مچی ہوئی تھی ۔ کچھ ایسے تھے جو اپنے آپ کو بھول کر زخمیوں کی طرف بھاگے تھے ۔ میں بھی ان کے ساتھ مل کر زخمیوں کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کی کوشش کرنے لگا ۔ ایمبولینسز آنے کے بعد زخمیوں کو روانہ کر کے میں بھی اسپتال پہنچا ۔ وہاں خون کی بوتل دی ۔اس دوران میں اپنے موبائل اور بیگ کی طرف سے بالکل غافل تھا ۔بعد میں معلوم چلا کہ میرا بیگ ٹیکسی میں ہی رہ گیا تھا ہاتھ میں پکڑا موبائل جانے کہاں گر گیا تھا۔ اصل میں مجھے اس وقت کسی شے کا ہوش نہ تھا ، دھیان صرف آہ و بکا کرتے زخمیوں کی طرف تھا۔
    اگلے دن میں واپسی کے لیے روانہ ہو گیا ۔ایک دن بعد لاہور پہنچا تو بینک کا ایک کولیگ جو میرے ساتھ ہی فلیٹ میں رہتا تھا ، ا س نے بتایا کہ بیگم شاہ جہاں میری طرف سے بہت پریشان ہیں ۔وہ کل فلیٹ پر آئی تھیں اور اب کل سے مسلسل اسے فون کر کے میرے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔
    ”اوہ۔” مجھے شرمند گی ہوئی ۔ مجھے انہیں کال کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دے دینی چاہیے تھی۔ بم بلاسٹ کی خبر سُن کر وہ پریشان ہوئی ہوں گی۔ اس وقت مجھے یہ سوچ کر خوشی بھی ہوئی کہ اگر میں مر جاؤں تو کوئی تو ہے جو روئے گا اور میری تدفین لاوارث ہو کر نہیں ہو گی۔
    میں منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کر کے بیگم شاہ جہاں سے ملنے آگیا ۔
    ”کہاں ، کہاں تھے تم ؟” جیسے ہی میں کمرے میں پہنچا ،بیگم شاہجہاںاپنی جگہ سے اٹھ کر تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھیں ۔
    ”کراچی۔”
    ”کیوں ؟”
    ”بتایا تو تھا کہ تلاش میں ۔۔۔۔”
    ”کس کی تلاش ۔۔۔” بیگم شاہ جہاں میری بات کاٹ کر غصے سے بولیں ۔ ”کس کی تلاش میں اتنے پاگل اتنے دیوانے ہوئے پھرتے ہو تم؟” میں نظریں نیچی کیے کھڑا رہا ۔”کس کی تلاش میں اپنا آپ بھولے بیٹھے ہو تم ۔اس کی ۔۔۔اس کی جو تمہیں پہچانے گی بھی نہیں ۔”
    میں نے تڑپ کربیگم شاہ جہاں کی طرف دیکھا ۔
    ”وہ پہچانے گی مجھے ، بھائی ہوں میں اس کا ۔۔ آپ کو یاد نہیں ، وہ میرے بغیر کچھ کھاتی نہ تھی ، میرے بغیر کھیلتی نہ تھی ، میرے بغیر ۔۔۔۔”
    ”تمہیں کیا لگتا ہے ۔ انیس سال بعد بھی وہ تمہارے بغیر کچھ کھاتی نہ ہوگی ، تمہارے بغیر کھیلتی نہ ہو گی ، تمہارے بغیر جیتی نہ ہوگی۔” پتا نہیں وہ اتنا سفاک کیوں ہو رہی تھیں۔
    ”نہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔”
    ”یہ دیوانگی چھوڑ دو عبداللہ ۔ نہیں ہو تم بھائی اس کے ۔ کان کھول کر سن لو نہیں ہو تم بھائی اس کے۔”
    ”آپ نے یہ رشتہ بنایا آپ ہی مکر رہی ہیں ۔” مجھے ان کے انداز پہ دکھ ہو رہا تھا ۔
    ”ہاں ، میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے یہ رشتہ بنایا ،وہ میری سب سے بڑی بیوقوفی تھی۔”
    ”مگر یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے ۔ دولت ہے ۔”
    ”تم سمجھتے کیوں نہیں عبداللہ۔۔۔ اس کی اپنی دنیا ہے ۔”
    ”مگر میری تو دنیا وہی ہے ۔”


  • عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے کو متوجہ کرنے کی ،کچھ کہنے کی ،کچھ بتانے یا پھر کسی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس نے کبھی ایسی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ ہر وقت نظریں جھکائے اپنے کام میں مصروف نظر آتا۔اس کے علاوہ وہ بولتا ہے ارم جہانگیر او رخانساماں بھی اس کے گواہ تھے ۔ارم جہانگیر کو اس نے نوکری کے لیے انٹرویو دیا تھا اور خانساماں اس کے ساتھ کمرہ شئر کرتا تھا ۔
    لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے ہاتھ سے لگی کوئی بھی چیز سرسبز ہو جاتی تھی اگر وہ ریت میں ،پتھر میں کوئی بیج کوئی سوکھی ٹہنی بھی لگا دے تو چند دن میں نئی کونپلیں پھوٹ اٹھتی تھیں ۔دو کنال کی اس کوٹھی کو اس نے گل و گلزار کر دیا تھا ۔دنیا بھر کے مہنگے ترین پودے جو پچھلے مالی کی غفلت کی نظر ہو کر بے دم پڑے تھے ، اس کی توجہ سے دنوں میں جھوم اٹھے۔یوں تو وہ ہر پودے، ہر درخت، ہر پھول اور ہر پتے سے ما ں جیسا سلوک کرتا تھا مگر گلاب اس کی آنکھ کا تارا تھا۔یہ وہ لاڈلا بچہ تھا جو اپنی کسی خاص خصوصیت کی وجہ سے زیادہ لاڈ پا لیتا ہے ۔
    جہانگیر عثمان کی کوٹھی کے چہار اطراف پھیلے لان میں امریکن پرائیڈ ، ریڈ پیس اور سینڈریلا جیسے عام گارڈن روزز سے لے کر دنیا کا مہنگا ترین گلاب جولیٹ روز بھی تھا اور جب سے وہ آیا تھا اس نے گلابی گلابوں کا پورا قطعہ کاشت کر ڈالا تھا ۔ اس دن وہ گلاب کے پودے کی ٹہنی ہی زمین میں لگا رہا تھا جب اسے وہ دکھائی دی تھی۔
    وہ وہی تھی۔۔۔ہاں وہی تھی ۔
    جسے ایک نظر دیکھنے کے لیے وہ دشت دشت کا سیاح ہوا ۔جس کی آواز سننے کے لیے وہ شہر شہرکا مسافر ہوا۔
    وہ اپنی جگہ بت بنا اسے دیکھتا چلا گیا ۔
    سرمئی رنگ کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ ٹراؤزر کے ساتھ واک شوز میں وہ شاید صبح کی سیر کا ارادہ رکھتی تھی۔اونچی پونی ٹیل سے بال نکل نکل کر چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ چیونگم چبا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی پونی ٹیل ہلکورے لے رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور کانوں میں ائیر فونز۔ دوسرے ہاتھ میںسفید بالوں والے ننھے سے کتے کی چین تھی جو اس سے آگے آگے بھاگ رہا تھا ۔مگر وہ یہ سب نہیں دیکھ رہا تھا ۔وہ تو ۔۔۔وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا ۔
    وہ بے نیازی کے ساتھ چلی آرہی تھی، جب ہی اس کی نظربت بنے شخص پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    صبح کی ڈیوٹی والا چوکیدار اسے دیکھ کر بھاگتا چلا آیا تھا۔
    ”سلام۔” اس نے ہاتھ ماتھے تک لے جا کر بی بی کو سلام کیا ،اس نے ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا۔” آپ آگئیں بی بی۔پڑھائی پوری ہو گئی آپ کی ؟” وہ جوش سے پوچھ رہا تھا ۔اس نے اس سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور پھر اس شخص کی طرف دیکھا جو اب بھی اسے تک رہا تھا ۔
    ”مالی ہے ۔” چوکیدار نے بی بی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر تعارف کروایا ۔
    ”ماما بھی جانے کیسے کیسے لوگ رکھ لیتی ہیں ۔۔۔ ال مینرڈ ۔۔۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
    نگاہ سے اوجھل ہو جانے کے بعد وہ جسے ہو ش میں آیا تھااور اسے سمجھ آئی کہ یہ وہ نہیں جس کو ایک نگاہ نظر دیکھنے، منہ سے ایک لفظ سننے کے لیے اس نے ایک عمر کاٹ دی۔
    یہ وہ نہیںتھی ۔یہ تو آئمہ جہانگیر تھی جہانگیر عثمان کی اکلو تی بیٹی۔
    ٭٭٭٭٭



    سنا ہے کہ ہر گھر میں ایک ماں ہوتی ہے ، ایک باپ ہوتا ہے ، بہن بھائی ہوتے ہیں ۔اکثر گھروں میں دادا ،دادی اور نانا نانی جیسے بزرگ بھی ہوتے ہیں اور کئی گھروں میں چاچا، تایا اور ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ۔پھوپھو ،خالہ اور ماموں کا ذکر بھی سنا تھا ۔ مگر میں نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہاں کوئی ماں نہ تھی، جو گود میں لے کر لوریاں سناتی اور پیار سے تھپکتے ہوئے سلاتی۔ویسے تو میں خاصا معصوم بچہ تھا ۔خواہ مخواہ روتا نہیں، ضد نہیں کرتا تھا پھر بھی اگر کبھی نزلہ زکام یا بخار ہوتا یا پھر بھی چوٹ لگ جاتی اور تو میں روتا ،ایک کرخت چہرے والی عورت تھپڑ لگاتی اور میں لوری سنے بنا ہی سو جاتا ۔اس گھر میں کوئی باپ نہ تھا، جو کندھے پہ بٹھا تا ، ننھی ننھی فرمائشیں پوری کرتا ۔جس کی میں انگلی پکڑ کر چلتا۔ یہاں جو مرد تھا وہ لال آنکھوں سے یوں گھورتا کہ میں دس گز دور ہی کھڑا رہ جاتا ۔اس کی انگلی پکڑنا ،اس کے کندھے پہ بیٹھنا یا اس سے کوئی فرمائش کرناکسی جرات مند کا کام ہو سکتا تھا اور میں بھلا ایسا شجاع کہاں ۔
    نانا نانی، دادا دادی جیسے کردار بھی شاید کسی اور سیارے پہ ہوتے ہوں یا شاعروں اورکہانی نگاروں کا تخیل ہوں کیوںکہ میں نے نظموںاور کہانیوں میں تو ان کے بارے میں پڑھا تھا مگر اس گھر میں روئی کے گالوں جیسے بالوں والی ،کہانیاں سناتی کوئی نانی نہ تھی، کھانستا ہوا، لاٹھی ٹیک ٹیک کر چلتا ہوا کوئی دادا نہ تھا ۔مجھے ان تمام نادیدہ رشتوں سے عشق تھا ۔میں سوچتا تھا ،میں بھی کہانیاں لکھوں گا ۔ان کہانیوں میں ایک گھر ہو گا جہاں یہ سب مریخی،مشتری رشتے بستے ہوں گے ۔
    پھر یوں ہوا کہ ایک معجزہ ہوا ۔مجھے چاند، مریخ اور عطارد کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت نہ پڑی۔ میں سات سال کا تھا جب وہ میری زندگی میں آئی اور مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ کہانی کار اور شاعر کے تصورات کوئی ایسے ماورائی بھی نہیں ہوتے ۔ گھر اور گھر میں بسنے والے تمام رشتے زمینی ہی ہیں ۔
    ٭٭٭٭
    آج پھر ریحانہ پروین اپنے آپ کو بیچ کر آئی تھی۔
    ماں کی بیماری تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔دوائیں تھیں کہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی تھیں۔ جس گھر میں جھاڑو پوچا کرنے اور کپڑے دھونے جاتی تھی وہ تو مہینے کے مہینے اتنی رقم ہاتھ میں پکڑاتے، جس سے ماں کی ہفتہ بھر کی دوا ہی بہ مشکل آ پاتی۔ پیٹ بھرنے کے لیے مٹی ، بل بھرنے کے لیے اخبار کے کاغذ سے کام نہ چلتا تھا ۔اسے سب بیچنا پڑا تھا ۔پہلے اپنی انگوٹھی ،پھر چوڑی اور اس کے بعد گھر کا باقی سامان۔
    اب جب گھر میں بیچنے کو کچھ اور باقی نہ بچا تھا ایسے میں اسے ایک ہی راہ سجھائی دی کہ اپنا مول لگا لے ۔گہنے ،برتن ،پلنگ اور الماری تو بکنے کے بعد واپس نہ ملے تھے ۔خود توچند گھنٹے بعد ہاتھ میں چھوٹے گوشت ،موسمی پھل اور ماں کی دوا کی تھیلی لیے گھر لوٹ آتی تھی ناں ۔مگر جانے اس دن کیا ہوتا تھا کہ ماں پہ یخنی اثر کرتی نہ ہی دوا۔ بے بسی کی مورت بنی اس کی صورت دیکھتی رہتی۔آنکھوں سے پانی رستا رہتا ۔
    ”آنکھوں والا ڈاکٹر اتوار کو بیٹھے گا تو تیری آنکھیں بھی چیک کرواؤں گی۔”
    کہتے ہوئے آواز بھاری سی ہو جاتی اور نگاہیں فرش پہ ،دیوار پہ اور کبھی چھت پہ رینگنے لگتیں ۔
    جس رات ماں مری ،اس دن تواس کی طبیعت قدرے بہتر تھی ۔ہاں ریحانہ پروین کی اپنی طبیعت خراب تھی۔ماں کے پیر دابتے دابتے اچانک اُلٹی آ گئی تھی پھر نقاہت محسوس ہونے لگی اور رنگ پیلا پڑنے لگا ۔
    اماں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔آنکھوں سے پانی زیادہ بہنے لگا تھا ۔اس دفعہ ماں سے پکا وعدہ کیا کہ اتوار کو آنکھوں کا ڈاکٹر بیٹھے گا تو صبح جا کرہی ٹوکن لے گی مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی ۔ماں اسی رات مرگئی۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭



    آنگن میں بیٹھے بچے ایک دوسرے کو ٹہوکا دیتے ،سامنے اشارہ کرتے پھر منہ پہ ہاتھ یا کاپی رکھ کر ہنستے ۔کالی شرٹ والے لڑکے کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا تھا، وہ کھڑے ہو کر بھنگڑا ڈالنے لگا تھا ۔یہ انٹرٹینمنٹ شو شاید جاری رہتا اگر سرخ رنگ کے پھول دار لباس والی لڑکی کی لڑائی نیلے رنگ کی فراک والی لڑکی کے ساتھ نہ ہوجاتی۔
    آمنہ فرمان ہنگامے پہ ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔صورتِ حال کو سمجھنے میں اسے چند سیکنڈ لگے پھر کرسی سے اُٹھ کر دونوں بچیوں کو چھڑوایا، جو غالبً ایک دوسرے کے بال نوچنے کے عالمی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔اس نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ترتیب کے ساتھ چٹائی پہ بٹھایا ۔ دونوں جنگ جو بچیوں کو الگ الگ قطار میں بیٹھنے کا حکم دیتی ہوئی تپائی پہ پڑی کاپیاں چیک کرنے لگی۔
    ”باجی ! میری امی کہتی ہیں کہ تم ندا کے ساتھ نہ بیٹھا کرو ۔” ابھی ایک کاپی بھی چیک نہ ہوئی تھی ،جب عرضی لیے نینا سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”جاؤ ۔۔۔تم وہاں جا کر اریبہ کے پاس بیٹھ جاؤ ۔” اس نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک طرف اشارہ کر کے اس کا مسئلہ حل کیا۔
    ”باجی ! یہ دیکھیں مجھے نبیل نے کیا دیا ہے ۔”
    کالی شرٹ والے بچے کو ٹیسٹ بنا کر دینے لگی توسونیا اُٹھ کر آگئی۔ اس نے رازداری کے ساتھ ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔جسے کھولتے ہی اس کا سر گھوم گیا ۔
    ”آئی لو یو سونیا ۔”
    ”نبیل تم کل اپنی امی کو لے کر آنا ۔”
    اس نے کڑے لہجے میں نبیل کو حکم جاری کیا ۔نبیل کا تو رنگ پیلا ہونا تھا ،سو ہوا ۔اس کا اپنا حال بھی خراب ہوا ۔
    ”سونیا کی ماں کو معلوم ہوا تو وہ تو اٹھا لے گی اسے ٹیوشن سے ۔پانچ سو روپے کا نقصان ۔” حالات بچوں کی حرکتوں پہ کڑھنے کا وقت نہ دیتے تھے۔ اسے اپنی روزی کی فکر ستانے لگی تھی ۔”اور جو بچوں میں سے کسی نے گھر جا کر بتا دیا کہ مس پڑھاتے پڑھاتے سو جاتی ہیں تو ۔۔۔تو اگر کسی نے اپنا بچہ اٹھا لیا ٹیوشن سے تو۔۔۔نہیں ۔” اس کا سر نفی میں ہلا۔ اتنے بڑے بڑے نقصان وہ افورڈ نہ کر سکتی تھی۔ وہ اٹھی اور غسل خانے کے باہر لگے بیسن پر آ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔
    آٹھ بجے بچے گئے تو وہ اٹھ کر باورچی خانے میں آ گئی۔دال چاول پکانے کے دوران اس نے اسکول سے لائے ہوئے کاپیوں کے ڈھیر کو بھی چیک کرنا تھا ۔آٹے والے کنستر پر رکھے ڈائجسٹ کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے یہ کام بھی نپٹایا ۔دادی کو کھانا اور دوا دی ۔ ان کے سونے کے بعد نماز ادا کی ،صبح کے لیے کپڑے استری کیے اور اپنی کتابیں کھول لیں ۔دو دن بعد بی اے کے امتحانات شروع ہونے والے تھے ۔وہ سونا چاہتی تھی ،بھر پور نیند لینا چاہتی تھی۔صحت اور تازگی کے لیے ضروری تھا مگر وقت اجازت نہ دیتا تھا ۔
    وقت بھر پور نیند کے لیے نکلے یا نہ نکلے ،چچی کے لیے ضرور نکالنا تھا ۔وہ رافعہ کو لیے آ گئی تھیں ۔
    ”اس کو ریاضی مشکل لگتا ہے ۔ایک مشق کروا دو ۔”
    اس نے بارہا چچی سے کہا تھا کہ ٹیوشن والے ٹائم پہ رافعہ کو بھیج دیا کریں ۔ ثنا اس کی ہم جماعت تھی۔ وہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھا دیا کرے تا کہ اس کے وقت کی بچت ہو جائے۔مگر چچی کو اس کے وقت سے کیا لینا دینا ۔
    ”اتنے بچوں میں دل گھبراتا ہے رافعہ کا ۔”
    ”ٹیوشن والے نو بچوں میں دل گھبراتا ہے ،کلا س کے تیس بچوں میں تو ہارٹ فیل ہو سکتا ہے پھر اسکول بھی نہیں بھیجنا چاہیے ۔” وہ محض کڑھ کر رہ جاتی تھی، ان کے منہ پہ کہہ نہ سکتی تھی۔ ان کو کچھ کہنے کا مقصد گھر میں کئی دن کا ہنگامہ ۔ویسے چچا اور تایا کو ایک کمرے کے اس گھر میں پڑی بوڑھی ماں اور یتیموں جیسی بھتیجی کا حال احوال پوچھنے کا وقت ملے نہ ملے ،اس موقع پر ضرور مل جاتا تھا ۔ تایا سمجھانے چلے آتے ،چچا طعنہ زنی کرنے چلے آتے ۔
    امتحانات کے دنوں میں یہ بیرونی آمدورفت اور بدمزگی اس کے حق میں نہ تھی اس لیے رافعہ کو ریاضی کی مشق سمجھانے لگی۔اس کے جانے کے بعد اس نے پھر اپنی کتاب کھول لی ۔ اس کا ارادہ تھا کہ دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ڈائجسٹ سے قسط وار ناول کی قسط بھی پڑھ لے گی ۔مگر ڈائجسٹ اس کے سرہانے پڑا کا پڑا رہ گیا اور اس کی آنکھیں نیند سے بند ہوتی گئیں ۔
    نیند میں جانے سے پہلے جو آخری خیال تھا ،وہ اس شخص کا تھا جس کا نام عبداللہ تھا ۔
    آج اسے گئے ہوئے تین سو دس دن ہو گئے ۔
    ٭٭٭٭٭

  • چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی
    امایہ خان
    خود کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیاکہ دنیا کی ساری عورتیں مر چکی ہیں۔
    جانے کتنا وقت گزر چکا ہے ،کتنا اور گزرے گا۔ مجھے بار بار اپنی ماں کا خیال آرہا ہے ،جو ہمیشہ مجھے کمزوراور دبلی پتلی دیکھ کر فکرمند ہوتی تھی۔ آج مجھے دیکھے …اے کاش! وہ آج تو مجھے دیکھ لے…میرا جسم،میرے رخسار کیسے پھولے ہوئے ہیں۔
    آخری بار میری ماں نے مجھے تب دیکھا تھا، جب ابّا اپنے ایک دوست کی شادی میں ہم سب کو لے کر آئے۔میں نے گلابی رنگ کا ریشمی جوڑا پہنا اور امّی سے بہت ضد کرکے ان کے موتیوں والے چھوٹے چھوٹے جھمکے بھی مانگ لئے۔ایک تو جانے کہاں گر گیا…دوسرا ابھی تک موجود ہے پر اس کے بھی کچھ موتی علیحدہ ہو چکے ہیں۔امّی نے دینے سے پہلے کہا بھی تھا:”تم گم کر دوگی’ ‘اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔مجھے کیا پتا تھا میں خود گم ہو جائوں گی ۔
    سارا وقت میںامی، ابا اور میری چھوٹی بہن ہم سب ساتھ ساتھ رہے۔مجھے شادیوں میں لوگوں کی بھیڑ سے بہت خوف آتا تھا۔میں شروع سے بہت ڈرپوک تھی ۔ کبھی اپنی امی سے دور نہیں جاتی تھی۔کسی کی ذرا سی اونچی آوازپر سہم جاتی۔غصّے میں سب کے چہرے بہت خوف ناک ہو جاتے ہیں …بہت بدصورت۔ایسے وقت ہمیشہ میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے انہیں سختی سے بند کر لیتی تھی۔



    مگروہ چہرہ میں کبھی نہیں بھول سکتی…اُف…وہ آدمی ابا جیسا تھا…اونچا لمبا…ڈاڑھی والا…پچھلی میزوں پر بیروںسے کھانا لگواتے ہو ئے اس کی نظر مجھ پر پڑی اور پھروہ عجیب انداز میں مسکرایا۔میں جلدی سے امی کی اوٹ میں ہو گئی ۔کچھ دیر بعد میں نے گردن نکال کر اس کی جانب دیکھا ،وہ تب بھی میری ہی جانب دیکھ رہا تھا…نظر ملتے ہی اس نے مجھے پچکار کر قریب آنے کا اشارہ دیا …مگر میں امی کے پاس ہی بیٹھی رہی اور میں نے اُسے نظرانداز کر دیا۔
    کھانا لگاتو امی میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھیں اور میز تک آگئیں۔سب کچھ میری پسند کا تھا ۔امی نے میری پلیٹ بھر کر مجھے پکڑائی اور میں پھر سے اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔کھانا بہت مزے دار تھا ، ہم سب کو بہت مزا آیا۔میٹھے میں کھیر اور گلاب جامن تھی ۔امّی سب کے لئے کھیر ڈال کر لائیں مگر مجھے گلاب جامن کھانی تھی ۔میں نے امّی سے کہا تو بولیں :”بعد میں ،پہلے کھیر ختم کرو”۔
    میںچپ چاپ کھیر ختم کرنے لگی ۔اتنے میں ابا نے گھڑی دیکھ کر امی کو چلنے کا اشارہ کیا کہ گیارہ بج چکے ہیںبس گھر چلتے ہیں ۔
    امّی ”جی اچھا ”کہہ کر برقع پہننے لگیں اور میں نے للچا کر اس میز کی جانب دیکھا جہاں بڑی پرات میں گلاب جامنیں رکھی تھیں۔امی چلنے کو تیا ر تھیں،ابا تو گیٹ کے پاس پہنچ بھی گئے تھے ۔امی نے میری چھوٹی بہن کا ہاتھ پکڑا اور مجھے آواز دی :”پاکیزہ …چلو گھر چلیں”۔
    میں کرسی سے اُتر کر ان کے پاس آکھڑی ہوئی۔گیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے امی ایک رشتے دار خاتون کو الوداع کہنے کے لئے رکیںاور میں تیزی سے بھاگ کر گلاب جامن لینے میز کی طرف چلی گئی۔بس دو لمحے ہی تو درکار تھے مجھے اور میں مٹھائی لے کر واپس آ جاتی ۔
    جیسے ہی میں نے پرات سے گلاب جامن اُٹھائی،اُسی آدمی نے جھٹ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔



    وہ پیار سے بولا:”اور مٹھائی کھائو گی گڑیا؟…آئو میرے ساتھ…. میں تمہیں ٹشو پیپر بھی دے دوں تاکہ تمہارے ہاتھ اور کپڑے خراب نہ ہوں ”۔
    میں نے مڑ کرامی کی طرف دیکھا وہ ابھی تک ان خاتون سے باتوں میں مصروف تھیں اور یقینامیری غیر موجودگی سے بے خبر بھی ۔میں خاموشی سے اس آدمی کے ساتھ چل دی ،گلاب جامن سے شیرا ٹپک رہا تھا اور میں اپنے کپڑے خراب ہونے سے بچانا چاہتی تھی ۔پانی کا کولر ہال کی دیوار کے ساتھ رکھا تھا ٹشو پیپر بھی وہیں تھے ،پر وہ آدمی رُکا نہیں ،مجھے لے کر وہ پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
    میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو اس نے مجھے سختی سے ڈانٹتے ہوئے گود میں اُٹھا لیا۔میں کسمسائی تو اس نے گالی دی ،اس کا چہرہ اس قدر خوف ناک ہو گیا تھاکہ میں نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں اور گلاب جامن میرے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری ،”میری مٹھائی….”میں نے زمین کی طرف اشارہ کیا اور رونے لگی۔اس وقت اس نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور بھاگنے لگا۔
    مجھے گود میں اٹھائے وہ ہال کے پچھلے حصے میں جا نکلا ،یہاں اندھیرابھی بہت تھا۔مجھے ٹھیک سے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔ایک کوٹھڑی کے سامنے رُک کر وہ اس کا دروازہ کھولنے لگا ۔اس کے تھپڑ سے میرے گال جل رہے تھے پر مجھے امی ابا کے پاس جانا تھا :”مجھے چھوڑ دو …. چھوڑو….” میں نے چیخنا چاہا۔ لیکن اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر سختی سے بند کیا اور دھکا دیتے ہوئے کوٹھڑی کے اندر داخل ہو گیا۔یہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیوں کے درمیان اس نے مجھے زور سے فرش پر پھینکا اور مڑ کر دروازے کی کنڈی چڑھا دی ۔ میں نے پھر سے رونا شروع کر دیا ”امی …مجھے امّی کے پاس جانا ہے ”میرے پاس آکر میرے منہ کو سختی سے بند کرتے ہوئے اس نے مجھے چت لٹا دیا۔
    ”چپ کر کمینی …بند کر آواز ..ورنہ گلا گھونٹ دوں گا ۔”

    مجھے سانس نہیں آرہا تھا ٹھیک سے ۔۔۔میںچیخنا چاہتی تھی ،”امی ۔۔۔ابا”۔مجھے پکارنا تھا…انہیں تو پتا بھی نہیں تھا کہ میں اس کے پاس ہوں …..یہ آدمی ….جو میرا منہ بند کر کے میرے گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا …مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ جا ئیں گی …سخت فرش پر میرا جسم رگڑ کھائے جا رہا تھا ۔ میں نے پہلے کبھی اتنا درد محسوس نہیں کیا تھا۔
    چڑیا گھر میں ایک بندر نے پاپ کارن کھلانے کی کوشش میں میرے ہاتھ پر کاٹا تب بھی نہیں ۔
    اسکول میںکھیلتے ہوئے جھولے سے نیچے گری تب بھی نہیں ……
    مجھے کبھی ایسا درد نہیں ہوا ….میری آواز حلق میں پھنس گئی اور وہ آدمی مسلسل مجھے کھا رہا تھا ….دانتوں سے….. بھنبھوڑ رہا تھا ۔
    مجھے یاد نہیں کب میری آنکھیں بند ہوئیں…. پر جب کھلیں تو دیکھا میری شلوار میرے منہ پر کس کے بندھی تھی …میرے ہاتھ بھی بندھے تھے میرے جالی کے دوپٹے سے ….
    میری آنکھ کیوں کھلی …؟



    کیوں کہ مجھے درد ہورہا تھا،اتنا زیادہ میں کیسے بتائوں ..میری امی بھی نہیں تھیں میرے پاس ۔
    وہ آدمی جانے کہاں چلا گیا …میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔پھر میرے پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی ایک شدید لہر اُٹھی اور میری آنکھیں بند ہو گئیں۔
    نہیں معلوم میں کتنی دیر بے ہوش پڑی رہی ۔
    دن نکل آیا تھا پھر بھی اس کوٹھڑی میں روشنی بہت کم تھی ۔میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو وہ آدمی قریب ہی بیٹھا بے پروا اندازسگریٹ پیتا نظر آیا، میں نظر بچا کرآہستہ آہستہ پیچھے کھسکنے لگی تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ….جیسے ڈر گیا ہومیںبھاگ نہ جاؤں ۔
    میں بھی ڈر گئی تھی ،وہ جلدی سے اُٹھا اور میری گردن دبوچ لی اور بولا:”تو سب کو بتا دے گی میں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے”۔
    یہ کہتے ہوئے وہ میرا گلا گھونٹنے لگا ۔منہ پہلے ہی سختی سے بندھا تھا ۔میری آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں….اور یونہی ….آخری سانس تک..اُس مکروہ انسان کا چہرہ …میری آنکھوں کے سامنے رہا ….نہ امی ، نہ ابا اور نہ ہی چھوٹی بہن جو مجھ سے تین سال چھوٹی تھی ، کوئی نہ تھا اس وقت …ہاں….میں چھے سال کی ہوں…بلکہ تھی۔

  • داستانِ حیات

    داستانِ حیات

    داستانِ حیات
    علی فاروق
    (داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
    اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
    والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
    10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
    چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”


    ”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
    سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
    پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
    ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
    اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
    ”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
    (بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)


    ”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
    ”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
    پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
    ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

  • تو ہی تو کا عالم

    تو ہی تو کا عالم

    پیش لفظ

    ایک محبت….!

    محبت جس نے اپنے لیے ہمیشہ عام چہروں سے لے کر ، بہت خاص چہروں کو چنا ہے۔ ہر بار محبت کا انتخاب لاجواب رہا مگر اس بار محبت نے جس کا انتخاب کیا عام سوچ و نظر میں وہ محبت کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔

    ایک ایسی ہی محبت کی داستان جو کسی مرد یا عورت کے ملن یا جدائی سے تخلیق نہیں ہوئی بلکہ یہ کہانی ہے محبت کے اُس رنگ کی جسے کسی دور میں معاشرے نے کبھی ہی قبول نہیں کیا۔

    محبت کا امرت کسی ایک رنگ ،کسی ایک نسل یا کسی ایک جنس کے لیے مخصوص نہیں ہے۔

    محبت زرخیز زمین سے پیدا ہونے کے لیے نہیں بنیبلکہ محبت کا وصف یہ ہے کہ وہ بنجر زمین کو بھی زرخیز بنا دیتی ہے۔

    کبھی کبھی محبت اس جنس کے خمیر سے بھی اٹھتی اور سانس لیتی ہے جسے خواجہ سرا سمجھ کر ہمیشہ کمتر سمجھا اور مانا گیا ہے۔

    ایک ایسی ہی کہانی کہ جب کوئی اپنی محروی کے احساس سے لڑتے لڑتے زندگی گزارتے اچانک جس نقطے پر ٹھہرا، وہ محبت کا تھا۔

    ایک عورت کی محبت کو پانے کی تمنا اور خواہش کی راہ میں اس کی محرومی اور کمی اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ محبت میں صرف جدائی ملتی تو شاید وہ برادشت کر لیتا مگر اُسے حقارت اور تحقیر ملی تو وہ اپنے حواس کھونے لگا۔ وہ جسم کے خام سے رب کی پہچان کر رہا تھا۔ اسی لیے اس سے بد گمان ہو کر اس سے دور ہوتا گیا مگر و ہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جسموں کا خام صرف دنیا کے ترازو میں وزنی ہوتا ہے۔

    ایک محبت….

    جو اٹھتی تو جسموں کے خام سے ہے ، مگر جاوداں زندگی اسے عشق کے جام سے ملتی ہے۔

    ایک محبت….

    جو صرف اپنی ذات سے، اُس کی ذات تک لے جا نے کے لیے راستے میں آئی تھی۔

    ہر محبت ایک ایسا نقطہ ہے جو دنیا اور خلا میں رابطہ قائم کردیتا ہے ۔ جب انسان اپنی محبت سے گزر کر اس نقطے کو کراس کرتا ہے، تو اُس کے سامنے میلوں دور دور تک خلا پھیلا ہوتا ہے، نظر اور دل کو چیرتا سناٹا ہوتا ہے۔

    مگر پھر بھی وہ وجود عشق کا جام پیے، مست قدموں سے چلتا ، رقص کرتا ، جگہ جگہ اپنے جنوں کی مہر ثبت کرتا، عشق کی منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔ عام نظر کے لیے وہ خلا ہے جہاں کچھ بھی نہیں سوائے خاموشی اور سناٹے کے مگر عشق کے دیوانے جانتے ہیں کہ وہاں قدم قدم پر یار کے جلوے بکھرے ہوئے ہیں۔ اسی لیے کبھی جبین خاک پر سجدہ کرتی اور کبھی پتھر کو چومتی ہے۔

    اور وہ وحدہ لا شریک ہر ذرے میں جلوہ افروز ہوتا ہے۔

    دیکھنے والی نظر اُس کا جلوہ ہر ذرے ذرے میں دیکھتی ہے۔

     جسے دنیا خلا او ر سناٹے کا جہاں یا عالم کہتی ہے۔

     وہ اس کے لیے صرف ”تُو ہی تُو کا عالم“ ہوتا ہے۔

    یہی وہ منزل ہے جس کی طلب اجسام کو نہیں ، روح کو ہوتی ہے۔

    اور روح جسم کے لباس سے پاک اور الگ ہوتی ہے ۔

    پھر چاہے وہ روح کسی مرد کی ہو یا کسی عورت کی یا پھر خواجہ سرا کی….

    مرکزی خیال

    اس نے کُن کہا، تو مٹی سے جسم کا خمیر اٹھا۔

    وہ کُن کہے گا، تو مٹی کو اس کی امانت لوٹا دی جائے گی۔

    مٹی ، مٹی میں مل جائے گی۔

    اس لیے کہ جسم خام ہے۔

    جسم کے لبادے میں روح ایک مقرر وقت کے لیے پھونکی گئی ہے۔

    حکم آئے گا اور روح ا پنے اصل کی طرف لوٹ جائے گی۔

    اس لیے کہ روح خالص ہے۔

    اور اللہ ہر خالص چیز کو پسند کرتا ہے، محبوب رکھتا ہے۔

    ”بے شک اللہ جسموں سے نہیں ، روح سے محبت کرتا ہے۔“

    ٭….٭….٭

    گہری رات کے آخری پہر اماوس کی تاریکی کو چیرتی ، درد کی انتہاﺅں سے گزرتی اور اذیت کے آخری لمحوں میں جب اسے لگا کہ وہ ہمت ہار دے گی۔ اسی وقت اس کے کانوں میں بچے کے رونے کی آواز گونجی ۔اس کے وجود نے ایک اور وجود کو رب کے حکم سے جنم دیا تھا۔ ماں بننے کا احساس اور رتبہ اس کے اندر کھوئی ہوئی توانائی واپس لانے لگا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا مگر اس کے آگے گہری دھند چھائی تھی۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ بہ مشکل بچے کے ہلتے ہاتھ پاﺅں دیکھ سکی اور پھر پرسکون ہو کے گہری نیند سو گئی ۔ وہ دل ہی دل میں مطمئن تھی کہ جب سو کر اٹھے گی تو بچہ اس کے پہلو میں ہوگا۔ نہ جانے کتنی دیر بعد اسے ہوش آیا ۔ اس کے آس پاس خاموشی تھی ۔ اس نے بے چین ہو کر اپنے پہلو پر نظر ڈالی اور اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔وہ خالی تھا۔

    اس نے کہنی کے بل اٹھنے کی کوشش کی مگر کمزوری کی وجہ سے کراہ کر رہ گئی ۔ اسی وقت اماں رحیمہ نے کمرے میں قدم رکھا اور اسے جاگتے دیکھ کر فوراً اس کی طرف بڑھی ۔

    ”بی بی سائیں ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟“ اماں رحیمہ نے فکرمندی سے اس کے زرد چہرے اور کانپتے ہونٹوں کو دیکھا۔

    ”اماں رحیمہ، میرا بچہ کہاں ہے؟“ اس نے بے تابی سے پوچھا۔ اماں رحیمہ کا چہرہ ایک دم ہی زرد ہوگیا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کی نم پیشانی سے پسینا صاف کیا اور دھیرے سے بولی۔

    ”بی بی سائیں! آپ کے ہاں مردہ بچے نے جنم لیا تھا۔ اب تک تو اس کی تدفین بھی ہوچکی ہوگی۔ آپ آرام سے لیٹ جائیں ، اللہ بہت جلد آپ کی دوبارہ گود ہری کرے گا۔میں آپ کے لیے گرم دودھ لاتی ہوں۔“

    ”نہیں…. یہ نہیں ہو سکتا۔“ اس کے چہرے کا رنگ یک دم ہی مزید زرد پڑ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

    ” اماں رحیمہ، آپ جھوٹ بول رہی ہیں ۔ میرا بچہ مردہ پیدا نہیں ہوا تھا ۔ میں نے خود اس کے رونے کی آواز سنی اور غنودگی میں جانے سے پہلے اس کے ہاتھ پاﺅں بھی ہلتے دیکھے تھے۔آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ مردہ پیدا ہوا تھا؟ یہ جھوٹ کیوں اور کس لیے؟ کہاں ہے میرا بچہ؟ بولیں، نہیںتو میں کسی حد سے بھی گزر جاﺅں گی۔“ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔ اماں رحیمہ نے ایک نظر اس کے غصے سے لال ہوتے چہرے پر ڈالی۔ کمزوری کی وجہ سے اس کی سانس بھی پھول گئی تھی۔

    ”بی بی سائیں! میں اس حویلی کی پرانی ملازمہ ہوں۔ میری ہر سانس بھی آپ لوگوں پر قربان ہے۔ مجھے جو حکم ملا میں نے اسے پورا کیا ہے ۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔آپ آرام کریں۔“

    ”کس نے حکم دیا ہے تمہیں؟“ اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔ اماں رحیمہ ایک دم ہی چپ کر گئیں اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتیں۔ کمرے میں کوئی داخل ہوا اور ایک ایک قدم مضبوطی سے جماتا، اس کے سرہانے پہنچ کر بولا۔

    ” میں نے حکم دیا ہے نور بانو!کیا تمہیں ہمارے عمل پر بھی شک ہے؟“ اس کی سُرخ آنکھوں اور گھنی مونچھوں تلے پھڑپھڑاتے لب ، اس کے اندورنی انتشار اور تکلیف کو ظاہر کر رہے تھے ۔ اماں رحیمہ خان زادہ شمشیر کو دیکھ کر مو ¿دب انداز میں سر جھکاتی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔جب کہ نور بانو پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے محبوب شوہر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ آنے والے اس بچے کا انتظار ان دونوں ہی کو بہت بے صبری سے تھا اور کیوں نہ ہوتا ۔ آنے والا بچہ ان کی نسل در نسل چلی آرہی گدی کا وارث بننا تھا ۔ پھر اب کیسے….؟

    ” میری محبت کو آپ پر کبھی شک نہیں ہو سکتا مگر ایک ماں کا بے چین دل یہ جاننے کے لیے تڑپ رہا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ میرے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر زمانے کی نظروں سے چھپایا جا رہا ہے ۔اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کا خاندان زمانہ جاہلیت کے لوگوں جیسا ہرگز نہیں ہے کہ جو بیٹیوں کی پیدائش پر انھیں ، شرمندگی اور نفرت سے زندہ دفنا دیں۔پھر ایسا کیا ہے جو میری نظروں سے پو شیدہ ہے ؟“ نور بانو نے بے قراری سے پوچھا۔ خان زادہ شمشیر نے اپنی نم آنکھوں کو سختی سے بند کیا اور کچھ لمحوں کے بعد کھولا، تو نور بانو ان کی آنکھوں میں دیکھتی ، ایک دم ہی خوف زدہ ہوگئی۔

    ” نور بانو! آپ کی تسلی کے لیے صرف اتنا بتا دوں کہ میں چاہتے ہوئے بھی زمانہ جاہلیت کی رسم کو نہیں نبھا سکا کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو مٹی کا حصہ بنا دوں مگر میرے میں اتنا حوصلہ اور برداشت بھی نہیں ہے کہ میں اپنے ساتھ کیے قدرت کے اس سنگین مذاق کو تمغے کی طرح اپنے سینے پر سجا کر، اپنی خاندانی گدی کا مذاق بنا لوں۔“

    ”گدی کا وارث نہ سہی مگر بیٹی بھی ہوتی تو وہ میرے دل کے قریب ہوتی مگر نہ جانے قدرت کو ہمارا امتحان لینا مقصود تھا جو ہمیں ”تیسری جنس “(خواجہ سرا ) سے آزمایا گیا ہے۔“ خان زادہ نے کہا، تو نوربانوکی چیخ نکل گئی اور وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔

    ”او میرے خدایا۔“نوربانو دکھ کی شدت سے رونے لگی۔

    ” نور بانو !اس بات کو یہاں ہی دفن سمجھو اور بھول جاﺅ کہ ہماری زندگی میں کبھی ایسا کوئی طوفان آیا تھا۔یہ ہم خان زادوں کی عزت اور شان کے خلاف ہے ۔“

    اس نے سختی سے بات ختم کی، روتی بلکتی نور بانو پر ایک نظر ڈالی اور تیزی سے پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ پیچھے نور بانو ایسے بین کر رہی تھی جیسے سچ میں اس نے مردہ بچے کو جنم دیا ہو۔

    شاید مردہ بچہ پیدا ہوتا، تو اُسے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اس وقت ہو رہی تھی ۔اسے قدرت کے اس سنگین مذاق اور اپنی خالی گود کا دکھ چیر رہا تھا ۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کے یہ بہتے آنسو کس کے لیے ہیں ۔ رب کی آزمائش میں پورے نہ اترنے کے لیے یا اپنی ممتا کی کمزوری پر جو ایسے بچے کو اپنانے سے ڈر کر کہیں دور جا چھپی تھی ۔

    ٭….٭….٭



    اس نے بار میں آکر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھتے ہوئے ،وہسکی لانے کا آرڈر دیا ۔ اسے دیکھ کر جولین باقی گاہکوں کو چھوڑتی فوراً اس کی طرف بڑھی۔جولین کے سنہری بالوں کی کئی لٹیں بہت نفاست اور خوبصورتی سے کندھے اور چہر ے کے اطراف میں بکھری ہوئیں تھیں۔اس کا متناسب سراپا اور دلکش ادائیں وہاں موجود بہت سے گاہکوں کواپنی طرف متوجہ کر لیتی تھیں مگر جولین اپنی خوبصورتی کو بہت سوچ سمجھ کر کیش کرواتی تھی ۔

    ”ہیلو!“ جولین نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے دل کش انداز سے کہا ۔ اپنے موبائل پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ایڈم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ جولین کا خوشبو میں بسا سراپا دیکھ کر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی۔ اسے خوب صورت چہرے اور اچھی خوشبو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔

    ” آج رات ایک پارٹی میں چلو گی میرے ساتھ ؟“ ایڈم نے گلاس میں جام بھرتے ہوئے مصروف سے انداز میں پوچھا ۔جولین کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ ایڈم کے ساتھ رات گزارنے کا مطلب، ایک لگثرری لائف اسٹائل کو بہت قریب سے دیکھنا اور محسوس کر نا تھا اور اس کے علاوہ ایڈم اپنی دولت خرچ کرنے کے معاملے میں بادشاہ تھا ۔ دونوں ہاتھوں اور بند آنکھوں سے پیسہ اڑانے والا۔ بدلے میں اسے صرف جولین کا ساتھ اور وقت چاہیے ہوتا جس میں زیادہ تر وہ جولین کی مر ضی ا ور پسند ہی سے اسے شاپنگ کرواتا اور پھر اچھے سے ڈنر کے بعد کبھی لیٹ نائٹ اچھی سی مووی دیکھتے یا پھر اسے ایسی ہی کسی پارٹی میں اپنے ساتھ لے جاتا جو صبح تک چلتی تھی اور صبح ہوتے ہی جولین اس خوب صورت خواب سے جاگ کر واپس اپنی درماندہ اور پس ماندہ زندگی میں لوٹ آتی۔ ایڈم کے ساتھ ایک دن گزارنا ، اس کے مہینے بھر کی کمائی کے برابر ہوتا تھا ۔ جولین نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا ۔ ایڈم نے مُسکرا کر اس کی طرف دیکھاجو خوشی سے جھومتی، مُسکراتی واپس پلٹ گئی تھی ۔

    ”کچھ دیر بعد ایڈم کی نئے ماڈل کی چمکتی گاڑی میں وہ بہت اترا کر بیٹھ رہی تھی کہ آج رات کی ملکہ صرف وہ تھی۔“

    ٭….٭….٭

    ”کٹ!“ شہرام نے بے زاری سے کہا تو آڈیشن دیتی لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اسے اپنی خوبصورتی اور اداﺅں پر پورا پورا یقین تھا مگر اس وقت شہرام کے چہرے کے بگڑے زاویوں نے اس کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی تھی ،جب کہ دوسری طرف شہرام ، اپنے اسسٹنٹ پر برس رہا تھا ۔

    ” مبشر میں نے کہا تھا کہ مجھے قدرتی حسن اور معصومیت سے بھرا چہرہ چاہیے۔ اس طرح کے بناوٹی حسن اور اداﺅں کی ضرورت ہوتی تو اتنے مہینوں سے میں خوار نہ ہو رہا ہوتا۔پتا نہیں تم لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی۔“

    شہرام نے بے زار لہجے میں کہا ۔ مبشر نے کن انکھیوں سے اپنے ساتھ کھڑے ، کولیگ احمد کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی گہری سانس لیتے ہوئے کندھے اُچکاتا رہ گیا۔ جیسے اس کی سمجھ میں بھی یہ سب نہ آرہا ہو۔

    ” سر! پچھلے چھے مہینوں سے ہم تقریباً پورے ملک میں خوب صورت اور نئے چہروں کا آڈیشن لے چکے ہیںمگر کوئی لڑکی ، آپ کے معیار کے مطابق نہیں مل رہی ۔اس طرح تو یہ پروجیکٹ کبھی مکمل نہیں ہوگا جس کے لیے آپ کب سے تیاریاں کر رہے ہیں۔“

    مبشر نے باقی لوگوں کو بیک اپ کا شارہ کرتے ، شہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔جو سر جھکا کر کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ وہ اس کی بات پر چونکا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔

    ” اگر مجھے میری پسند کے مطابق چہرہ نہیں ملے گا، تو یہ فلم بھی کبھی مکمل نہیں ہو گی ۔ میں اپنے معیار پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔“ شہرام نے سنجیدگی سے کہا اور کار کی چابیاں اٹھاکر تیز تیز قدم اٹھاتا، آڈیٹوریم سے باہر نکل گیا ۔

    ” کیا ہو ا؟ کیا شہرام سر کو میرا کام پسند نہیں آیا؟“

    اسی لڑکی نے پاس آ کر فکرمندی سے پوچھا ۔ اسے بہت امید تھی کہ اسے شہرام کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل جائے گا اور اگر ایسا ہوجاتا، تو اس کی زندگی بدل جاتی ۔ اس کے لیے شہرت اور ترقی کے دروازے کھل جاتے کیوں کہ شہرام کی بنائی فلمیں اپنے موضوع اور ہدایت کاری کے اعتبار سے عالمی سطح پر بھی ایک واضح مقام رکھتی تھیں۔ پاکستان میں ہونے والے ایوارڈ فنکشن میں زیادہ تر ایوارڈز ، شہرام کی ہدایت کاری میں بننے والے مختلف پروجیکٹ جیسے ٹی وی ڈرامے ، ڈاکومنٹری فلم اور فیچر فلموں ہی کو ملتے تھے۔ملک سے باہر بھی اس کی مارکیٹ بہت اچھی تھی مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ شہرام اپنے کام کے بارے میں بہت جنونی اور ایمان دار تھا ۔ وہ اپنے اسکرپٹ سے لے کر کاسٹنگ تک ہر چیز پر کئی کئی بار غور کرتا اور اپنے معیار سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرتا تھا ۔اس کا پروڈکشن ہاﺅس ڈریم انٹرٹینمنٹ کے نام سے چلتا تھا جس میں اس کا پارٹنر پہلے کوئی اور تھا مگر پھر اس کے اچانک چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے شہرام اس ادارے کو اکیلا ہی چلا رہا تھا ۔اس کے پارٹنر کا قصہ بھی دل چسپ تھا جس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی تھیں۔ کچھ کہتے تھے کہ اس پروڈکشن ہاﺅس کی بڑھتی مقبولیت اور نام نے ان دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا دی تھی ۔اس لیے شہرام نے چالاکی سے اپنے پارٹنر کو راستے سے ہٹا دیا اور پھر اس کی گمشدگی کا شور مچا دیا۔ کچھ کے مطابق ان دونوں کے درمیان اصل جھگڑا اور پھوٹ ایک خوبصورت اور طرح دار ہیروئن کی وجہ سے پڑی تھی ۔کچھ یہ بھی کہتے تھے کہ شہرام کا پارٹنر اپنی رضا اور خوشی سے سب کچھ چھوڑ کر گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ غرض اس سے متعلق بہت سی کہانیاں گردش میں رہیں مگر شہرام نے کسی بھی بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ وہ خاموشی سے اپنے کام پر توجہ دیتا ، کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا اور یہ بات ہی اس کے مخالفوں کے لیے تکلیف دہ تھی کہ شہرام ایک چٹان کی طرح اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور کسی چیز سے ڈرتا یا جھکتا نہیں۔

    وہ جانتا تھا کہ دنیا کی زبان اور باتوں کو روکنے اور ان پر کڑھنے کے بجائے ، اپنا سفر جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے کیوں کہ پھر ایک وقت آتا ہے کہ یہ دنیا ہی آپ کی کامیابی اور ترقی دیکھ کر آپ کی پیچھے بھاگتی ہے اور گزرتے وقت نے اس بات کو سچ ثابت کیا تھا ۔ کئی سال پہلے کی ان سب باتوں کو بھلا کر یا نظرانداز کر کے لوگ آج بھی اس کے ساتھ کام کرنے کو منتیں، سفارشیں کرتے اور دعائیں مانگتے تھے مگر روز بہ روز اس کے سخت ہوتے اصولوں اور معیار کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی خواہش ادھوری ہی رہ جاتی۔

    ”شہرام صاحب کو جس چہرے کی تلاش ہے ۔ وہ آپ کا نہیں ہے محترمہ۔ اسی لیے وہ اٹھ کر چلے گئے ہیں۔“

     مبشر نے ایک نظراس کے خفت سے سُرخ ہوتے چہرے پر ڈالی ۔

    ”ہونہہ! میں تو خود ایسے مشکوک کردار والے شخص کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں کروں گی جس کے ماضی سے بہت سی کہانیاںجڑی ہوئیں ہیں ۔“ اس نے غصے سے تپتے ہوئے کہا ۔

    مبشر اور احمدجو وہاں سے جانے والے تھے ۔ ایک دم رکے اور پلٹ کر اس کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ ماڈل ڈر کر پیچھے ہٹی تب ہی مبشر نے اپنا سر خم کیا اور ایک ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا ۔

    ” ہم اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے محترمہ !“

     مبشرنے سر اٹھا کر مُسکراتے ہوئے علی کی طرف دیکھا جس کے ہونٹوں پر بھی ہلکی سی مُسکراہٹ تھی ۔

    وہ دونوں وہاں سے چلے گئے اور وہ ماڈل منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی رہ گئی۔

    ٭….٭….٭

    نور بانو نے محبت بھری نظروں سے اپنے جگر گوشے بارہ سالہ احمد کی طرف دیکھا جو ابھی ابھی مدرسے سے واپس آیا تھا ۔ آتے ہی ٹھنڈے پانی کا گلاس رحیمہ بی بی نے اس کے سُرخ ہونٹوں سے لگایا۔ گرمی کی شدت سے اس کا خوب صورت چہرہ تمتمارہا تھا ۔

    ” میں صدقے ! احمد بابا آپ یہاں بیٹھ جائیں ۔ گرمی نے حشر برا کر دیا ہے آپ کا۔“

    رحیمہ بی بی کی پوری کوشش تھی کہ احمد کے تپتے جسم کو ٹھنڈک اور سکون پہنچا سکے ۔احمد قریب ہی ایک مدرسے میں قرآن کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ۔

    ”امی جان!“ احمد نے دونوں بازو پھیلائے اور ماں کی گود میں چھپ گیا۔ نور بانو نے محبت سے اس کی روشن پیشانی چومی۔ اس کے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتی وہ ممتا کے دریا میں بہتی بہتی کہیں بہت دور نکل گئی ۔

    ” کیا کوئی اسے بھی اسی نرمی اور محبت سے سینے سے لگاتا ، اپنی گود میں چھپاتا ہو گا؟ کیا اس کے تپتے ، سلگتے جسم کو سمیٹ کر کوئی اسی طرح اپنی محبت اور شفقت کی ٹھنڈی چھاﺅں تلے سلاتا ہو گا؟“

    نوربانو کا حرکت کرتا ہاتھ بے ساختہ رُک سا گیا۔ کسی کے ننھے ہاتھ اور پاﺅں کی حرکت اس کے دل کو کچلنے لگی ۔ اس کی ممتا سیراب ہو کر بھی نہ جانے کیوںپیاسی تھی؟احمد جیسا ذہین اور لائق بیٹا اور مریم اور آمنہ جیسی دو پیاری پیاری بیٹیاں ہونے کے باوجود بھی، اس کے ذہن کے پردے پر ایک دھندلا سا تصور اکثر لہراتا رہتا تھا ۔ اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔سوائے اس کے ننھے ہاتھوں اور پاﺅں کے اور ہاں ایک اور چیز بھی جو اس کے ذہن پر نقش رہ گئی تھی ۔ اس کے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی کے نیچے بنا چاند کی شکل جیسا ایک نشان!اکثر اس کی پیاسی ممتا اس نشان کو چومنے کے لیے کئی بار بے قرار ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں پھیلا نم ، آنکھ کے پانی سے ملنے کے باوجود بھی اکثر محسوس ہوتا تھا ۔

    نہ جانے کیسی تڑپ اور جلن تھی جو ا حمد، مریم، آمنہ جیسے بچوں پر اپنی محبت، اپنی ممتا لٹانے کے باوجود بھی سیراب نہیں ہوتی تھی۔ نہ جانے کیسی بے چینی تھی جو دعاﺅں اور طویل سجدوں ، صدقہ خیرات ، سے بھی کم نہیں ہوتی تھی ۔

    نور بانو کا دل اکثر ایک خواہش پر مچل کر رہ جاتا کہ کیا خان زادہ شمشیر بھی ایسی ہی آگ یا جلن کا شکار ہیں؟ کیا یہ سب صرف ممتا ہی کا نصیب بنا ہے یا اس آگ میں کچھ حصہ باپ کا بھی ہے؟ مگر یہ پوچھنے اور جاننے کی ہمت وہ آج تک نہیں کر پائی تھی ۔ کچھ باتوں اور چیزوں پر پڑے پردے ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے اپنی ذات پر پڑے ہوں !گمنام سے ، چپ چاپ مگر اپنے ہونے کے یقین کے ساتھ بہت بھاری اورجان لیوا سے۔ ایسے ہی بہت سے سوالوں اور جوابوں کی ایک عدالت کو دل میں سجائے ، وہ لمحوں، سے دنوں ، دنوں سے ہفتوں اور پھر مہینوں سے سالوں کے درمیان چکراتی ،عمر کی کئی منزلیں طے کر گئی۔خان زادہ احمد نے اپنی خاندانی گدی سنبھال لی۔ اس دن اس کے باپ کا سر فخر سے اونچا اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ رب نے اسے دنیا کے سامنے سرخرو کردیا مگر وہ خو د اپنے رب کے سامنے شرمندہ اور نادم سا سر جھکائے کھڑا تھا۔

    حیرت تو اس بات کی تھی کہ وہ مہربان ذات اس کے گناہ اور عیب سے واقف ہونے کے باوجود اسے ، اس کی مرضی اور منشا کے مطابق نوازے جا رہی تھی ۔اس نے دنیا طلب کی اسے دنیا ہی ملی۔ مریم اور آمنہ کی شادیاں ، روایتی رسم و رواج کے مطابق ، خاندان کے بہترین گھرانوں میں ہوئیں۔ اب خان زادہ احمد کے سہرے کے پھول کھلنے تھے جس کے لیے نوربانو کی نازک اندام اور خوبصورت بھتیجی عائشہ کو چنا گیا ۔ نور بانو ، پوری چاہ اور لگن سے تیاریوں میں مشغول تھی۔ مریم اور آمنہ بھی ماں کے ساتھ شامل تھیں ۔ سب کچھ کتنا مکمل اور خوبصورت تھا ۔ کسی خواب کی طرح….

    خواب در خواب جینا ہماری چاہ اور اوّلین خواہش ہوتی ہے ۔ ایک خواب کے بعد دوسرے خواب کی چاہ اور طلب ،نفس کے گھوڑے دوڑائے ِ سر پٹ اور اندھا دھند بھاگنے پر مجبور کرتی ہے۔دیکھا جائے تو سارا کھیل ہی اس چاہ اور طلب کا ہے جو خوابوں کے سر سبز میدانوں میں اڑنے اور بسیرا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    کیا اپنی چاہ اور خواہش کو، اپنے رب کی چاہ اور خواہش پر قربان کرنا، ہی تقویٰ اور پاکیزگی کی معراج نہیں ہے؟

    کیا انسان ہوتے ہوئے ، حسب ونسب ، جاہ وجلال کی تمنا رکھنا غلط ہے؟

    کیا رب کے حکم سے زمین پر پیدا ہونے والاکوئی بھی جاندار وجود ، اُس ذات کی حکمت اور دانائی سے بے نیاز ہو سکتا ہے؟

    اگر ایمان یہ کہتا ہے کہ نہیں کیوں کہ وہ ذات غلطیوں اور خطاﺅں سے پاک ہے ، تو و ہ ایمان کامل ہے ۔

    اور اگر عقیدہ متزلزل ہو کر” اگرمگرشاید“ جیسی بیساکھیوں پر چلتا ہے، تو وہ عقیدہ ہی باطل کہلائے گا۔

    ”پھر اگر انسان اس رب کے فیصلے کو غلط قرار دے کر ، اپنی مرضی چلائے تو اسے ضد کہیں گے یا نافرمانی یا اس ذات کی ناشکری ۔“

    جو بھی کہیں گے ۔

    مگر پھر آزمائش انسان اپنے لیے خود لکھتا اور چنتا ہے۔

     مگر کیا آزمائش بھی کوئی چنتا ہے ؟

    ہاں….!

    ”ہر کمزور ایمان والا اور دنیا کی چاہ میں رب کے صادر کیے فیصلوں کو رد کرنے والا، اپنے لیے آزمائش کی وہ آگ چنتا ہے جو صرف جلاتی ہی نہیں ، بھسم بھی کر دیتی ہے۔“

    رب کے پیارے بندوں پر آئی آزمائش انھیں دہکا کر کندن بنا دیتی ہے ، نایا ب کر دیتی ہے۔

    کہ پھر کوئی چیز انھیں فنا نہیں کر پاتی ۔

     وہ خود ہی اپنی ذات میں فنا ہو کر اپنے رب کی رضا پا لیتے ہیں۔

     مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا۔

    میری خاک جگنو بنا کر اڑا۔

    ٭….٭….٭

    ” کافی دنوں سے تمہارا پرنس چارمنگ نظر نہیں آرہا؟“

    شفٹ ختم ہوتے ہی دونوں نے اپنا ویٹریس کا مخصوص لباس تبدیل کیا اور اپنے اپنے بیگ کندھے پر ڈال کر وہاں سے باہر نکلیں ، تو کرسٹی نے چپ چپ سی جولین سے پوچھا۔ وہ بے زاری سے کندھے اچکا کر رہ گئی، جیسے خود بھی اس سوال کا جواب سو چ سوچ کر تھک گئی ہو۔

    ”ویسے تم لوگوں کا رشتہ کافی گہرا بن چکا ہوگا۔ تمہیں ضرور اسے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ تم سے شادی کر لے ۔ پسند تو تمہیں کرتا ہی ہے اسی لیے تو تم پر اس کی خاص نظرِ کرم ہے۔ویسے اگر ایسا ہو جائے تو تمہاری تو قسمت ہی سنور جائے گی۔ دولت سے لے کر اچھی شکل صورت سب کچھ تو ہے اس کے پاس اور….!“

    کرسٹی اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی ۔ جب ساتھ چلتی جولین نے اسے ٹوکا۔

    ”اُف اوہو تم بھی کتنی دور تک سوچتی ہو۔ وہ لاکھ مجھ پر مہربان سہی مگر پھر بھی مجھ سے ملنے میں ایک فاصلہ رکھتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں ، اپنے گھر ہونے والی پارٹیز میں مجھے بہ خوشی لے کر جاتا ہے، میری کمر میں ہاتھ ڈال کر، رومانٹک میوزک پر جھومتا ہے ، میری خوبصورتی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے ، میری من پسند شاپنگ ، ڈنر ، سب کرواتا ہے مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ صرف میرے وقت اور خوب صورتی کی قیمت ادا کرتا ہے۔ جیسے میں بازار میں بکنے والی کوئی چیز ہوں۔ جس سے وہ جب دل چاہے ، کھیل سکتا ہے ، اپنا دل بہلا سکتا ہے۔مگر اس سے زیادہ اہمیت اور عزت دینے کو وہ تیار نہیں ہے۔“

    جولین کی خوب صورت ، نیلی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی ۔ کرسٹی نے ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

    ” کیا تم اس سے محبت کرتی ہو؟“ کرسٹی نے پوچھا، تو جولین اس کی طرف دیکھتی رہ گئی ۔

    ”پتا نہیں ! شاید محبت اور ضرورت میںبہت فرق ہے کرسٹی۔ محبت تو مجھے آج بھی جوڈی سے ہے ۔ اس کی بے وفائی اور دھوکا دہی کے باوجود بھی۔ ایڈم میری ضرورت تو ہو سکتا ہے مگر محبت نہیں۔ ایڈم کی بے تحاشا دولت مجھے اپنی غربت سے باہر نکلنے کا ایک راستہ نظر آتا ہے مگر….“ جولین گہری سانس لے کر رہ گئی ۔کرسٹی ساتھ چلتے چلتے تھوڑی اور اس کے قریب ہوئی اور راز داری سے پوچھنے لگی ۔

    ” کیا تم اب بھی جوڈی سے….“ جولین کے لبوں پر خوب صورت سی ہنسی پھیل گئی ۔

    ” ہاں پچھلے ویک اینڈ ہم نے ایک دوسرے کی قربت ہی میں گزارا تھا ۔اس کے فلیٹ پر اور تم جانتی ہو وہ کہہ رہا تھا کہ بہت جلد وہ مجھ سے شادی کر لے گا مگر میں سوچ رہی ہوں کہ اگر شادی کے بعد بھی اس کی یہی حرکتیں رہیں تو؟ پھر اس سے شادی کر کے بھی مجھے غربت بھری زندگی ہی گزارنی پڑے گی مگر یہ بھی ہے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی اور….“

    جولین ایسے بول رہی تھی جیسے اس کی اندر ادھم مچاتی ، شور کرتی سوچوں کو باہر کا راستہ مل گیا ہو۔ اس کی ایک بات ختم ہونے سے پہلے ہی دوسری شروع ہو جاتی ۔ کرسٹی گہری سانس لے کر رہ گئی ۔ اب جولین کو چپ کروانا تقریباً ناممکن تھا ۔اس لیے اس نے خاموش ہونا ہی بہتر سمجھا اور جولین کے ساتھ فٹ پاتھ پر چلتی ، کن انکھیوں سے آس پاس سے گزرتے ، ہشاش بشاش لوگوں کو دیکھنے لگی کہ خوش چہرے ہوں یا منظر دونوں ہی نظروں کو بہت بھلے لگتے ہیں۔

    ٭….٭….٭

    شہرام کی عمر تیس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔ وہ ایک بہت ہی ویل آف فیملی سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کے دو بڑے بھائی اور ایک بہن امریکا میں کئی سالوں سے مقیم ،اپنی اپنی شادی شدہ زندگی ہنسی خوشی گزار رہے تھے ۔ شہرام ان سب میں چھوٹا اور من موجی تھا ۔ والدین کئی سال پہلے وفات پا چکے تھے ۔ شہرام کی تعلیم اور جوانی کا زیادہ تر حصہ امریکا ہی میں گزرا تھا ۔ اس کے دونوں بھائی بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہاں ہی اپنی اپنی مرضی اور پسند سے شادی کرکے خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔ شہرام کے والدین کی بہت خواہش تھی کہ ان کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے ہی زندگی گزاریں ۔

    شہرام کے والد یوسف خان کے آباءواجداد میں سے زیادہ تر آرمی سے وابستہ رہے تھے۔ اپنی فیملی میں تین بھائیوں میں سے یوسف ہی واحد فرد تھے جو آرمی میں نہیں جا سکے جس کا افسوس ان کے والد کو مرتے دم تک رہا ۔ یوسف کے والد جہانگیر نے ۵۶۹۱ ءاور ۱۷۹۱ ءکی جنگیں بہت بہادری اور شجاعتسے لڑیں تھیں ۔ ۱۷۹۱ءکی جنگ میں انہیں دشمنوں کی قید میں بھی رہنا پڑا ۔اسی چیز نے ان کے اندر وطن سے محبت اور جنوں کو بہت بڑھا دیا تھا ۔اپنے تینوں بیٹوں کو فوجی وردی میں اور وطن کی خاطر جان نثار کرتے دیکھنا ان کی شدید خواہش تھی ۔ ان کی یہ خواہش بڑے دونوں بیٹوں نے کارگل اور سیاچن کے محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پوری بھی کی تھی ۔ اپنے جوان بیٹوں کی شہادت نے انہیں بڑھاپے میں بھی جوان رکھا تھا ۔ وہ فخر سے اپنے بیٹوں کا ذکر کرتے ۔ان کی ماں بہ ظاہر مضبوط مگر اندر ہی اندر بیٹوں کی جدائی کا غم دل سے لگائے بہت جلد بیمار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملیں مگر جاتے جاتے وہ اپنی واحد خوشی، اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلتے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گئیں ۔ بڑے دونوں بیٹوں کو شہادت کی اتنی جلدی تھی کہ اُن کے سہرے کے پھولوں کے بجائے ، قبر کے پھول کھلے تھے ۔

    یوسف خان کی بیوی شہلا بہت اچھی اور محبت کرنے والی خاتون تھی ۔اسی لیے بہت جلد ساس سسر کے دل کے قریب پہنچ گئی ۔ یوسف کی ماں کی اچانک وفات نے اسے بھی بہت دھچکا پہنچایا تھا مگر پھر آنگن میں کھلنے والے ننھے ننھے پھولوں نے اپنی خوشبو اور مہکار سے سب کے دلوں کو پھر سے آبا د کر دیا۔ جہانگیر نے اپنے تینوں پوتوں کے لیے یہی سوچا ہوا تھا کہ وہ فوج میں جائیں گے ۔ وہ اکثر بہت دکھبھری نگاہوں سے یوسف کی طرف دیکھتے اور سر جھٹک کر آسمان کی طرف دیکھ کر آہ بھرتے ۔

    ” کیا تھا مولا اگر اسے بھی شہادت کا رتبہ ملتا۔ اس کے سینے پر بھی آرمی کا میڈل چمکتا مگر اس کی بدقسمتی۔“

    یوسف اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے بزنس کو دن رات ترقی دیتا کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا کہ لوگ اس پر رشک کرتے تھے ۔ اپنے بیٹوں کو اس کی فرماں برداری اور محنت کی مثالیں دیتے تھے ۔ وہ اپنے باپ کی نظروں میں کھوٹے سکے کی طرح تھا۔ساری دنیا کو اس پر فخر تھا ،سوائے اس کے باپ کے۔



    ہاں اگر آج وہ فوج میں ہوتا، تو اس کے باپ کا سرفخر سے بلند ہوتا۔شہلا اکثر یوسف کی حالت دیکھ کر ہنس پڑتی تھی جو باپ کے منہ سے تعریف سننے کے لیے کسی بچے کی طرح ضد کرتا اور منتظر رہتا تھامگر کبھی کبھی اسے بہت دکھ بھی ہوتا کہ اس کا محبوب شوہر کتنی چھوٹی سی خواہش دل میں رکھے ، زندگی گزار رہا ہے کہ اسے اپنی کوئی کامیابی، کامیابی نہیں لگتی ۔ وہ اکثر شہلا سے کہتا تھا کہ

    ” کاش گزرا وقت واپس لوٹ آئے اور وہ اپنے باپ کی خواہش پوری کرسکے۔“

    اب یوسف کو اپنی نوجوانی کی اس ضد اور بحث پر بہت غصہ آتا تھا جو وہ اپنے والدین سے فوج میں نہ جانے کی وجہ سے کرتا تھا۔شاید اپنے باپ کی سختی اور ہدایتوں سے چڑ کر اس نے فوج میں نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ کسی طرح اپنے باپ کی دلی خواہش پوری کرسکے۔اسے امید کی ایک کرن ، اپنے بچوں کی صورت میں نظر آتی تھی جو کام وہ خود نہیں کر سکا، اپنے بچوں سے لینا چاہتا تھا مگر اپنی وفات سے کچھ دن پہلے یوسف کے والد جہانگیر نے بہت محبت سے اس کا ماتھا چوما اور کتنی ہی دیر اس کے چہرے کو اپنی نم آنکھوں سے دیکھتے رہے۔

    ”تم جانتے ہو یوسف دنیا میںکچھ رشتے اپنی جان اور زندگی سے بڑھ کر پیارے اور عزیز ہوتے ہیں۔میرا ایسا ہی رشتہ میری مٹی ، میرے وطن سے بن کر میرے خون کی ہر بوند کے ساتھ دوڑتا، گردش کرتا رہا۔ شاید تمہیں ایسا لگتا ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہو۔ اپنے وجود سے سینچے پودوں سے محبت فطری چیز ہے یوسف۔ ہم چاہ کر بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ بس تمہارے معاملے میں فرق یہ ہوا کہ فوقیت میں میری ، مٹی کی محبت ،تم سے جیت گئی!“

    ” مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے باباجان۔“ یوسف نے اُن کے ہاتھ چوم لیے ۔

    ” جیتے رہو میرے بچے!مگر میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ زندگی میں کچھ بھی کرو، کتنی بھی کامیابی حاصل کر لو ، اپنی مٹی ، اپنے وطن سے رشتہ بنائے رکھنا اور یہ بات اپنے بچوں کو بھی سکھانا۔ “

    یوسف نے اپنے باپ سے وعدہ کیا کہ وہ اس رشتے کو ہمیشہ بنائے رکھے گا اور اپنی آخری سانس تک اس وعدے پر قائم بھی رہامگر اس کی طرح اس کے بچے بھی آزاد فضاﺅں کے پنچھی بن کر، پردیس میں جا بسے۔یوسف نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ وہ سب پاکستان میں سیٹ ہو جائیں مگر ان کے لیے زیادہ کشش اور ترقی کے بہترین مواقع پردیس ہی میں تھے ۔

    قسمت سے اکلوتی بیٹی کی شادی بھی امریکا میں مقیم اس کے قریبی دوست کے بیٹے سے ہوئی۔ شہرام سب سے چھوٹا تھا ۔ یوسف کے بہت قریب بھی ۔اور سب کی امیدوں اور خواہشوں کا واحد مرکز بھی۔مگر گریجویشن کے بعد شہرام نے بھی باہر جانے کی ضد کی تو یوسف کو اس کی ماننی پڑی ۔ شہرام نے اپنے شوق اور دلچسپی سے ایم بی اے کر کے ، فلم اور ہدایتکاری کے کئی کورس کیے اور بہت سے لوگوں کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر کام بھی کیا۔پھر اس نے سنجیدگی سے اس شعبے میں قدم رکھا۔ پہلے مختلف ڈاکومنٹری فلمیں بنائیں پھر فلم میکینگ کی طرف آگیا۔

    اس دوران یوسف اسے اکثر پاکستان واپس آنے کو کہتا رہتا۔ شہرام کہتا:

    ” پاپاجان! مجھے ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ تب ہی آپ کا نام روشن کروں گا۔“

    ” مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہو گی کہ تم میرے نام سے زیادہ ، اپنے ملک کا نام روشن کرو۔“

    یوسف اسے دوٹوک کہتا، تو شہرام ہنس پڑتا اور پھر شرارتاً اپنے باپ سے کہتا۔

    ” ویسے پاپاجان کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ آپ کوہم سب سے زیادہ محبت ، اپنے ملک سے ہے۔“

    یوسف بہت اطمینان بھرے اور فخریہ لہجے میں کہتے ۔

  • پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر



    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند



  • گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر



    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
    دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

    راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
    جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

    ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
    اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

    وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
    تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

    غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
    میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

    یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
    شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

    کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
    تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

    شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
    گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

    ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
    تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح