شبِ آرزو کا چاند — مونا نقوی

چودھری الیاس کی حویلی سے متصل پختہ اینٹوں سے بنی چوپال تھی جس میں سارا دن گاؤں کے لوگ چودھری صاحب کے پاس آکر اپنے مسئلے مسائل بیان کرتے تھے۔ یہ نشست دن میں دو بار لگتی تھی۔ اک صبح دس بجے سے دن ڈیڑھ بجے تک اور پھر عشا کے بعد رات دس بجے تک لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔آج میں صبح سے دیکھ رہا تھا کہ چودھری صاحب کسی گہری سوچ میں گم پریشان سے تھے۔ لوگوں کی زیادہ آمدورفت کی وجہ سے اُن سے پریشانی کی وجہ پوچھ بھی نہیں پا رہاتھا۔ کل ملازمت پر واپس جانا تھا اور میں آج ہرصورت اُن سے پریشانی کا سبب دریافت کرنا چاہتا تھا۔چودھری صاحب اور اُن کے خاندان سے مجھے بچپن سے بہت اپنایت تھی اور میرے علاوہ گاؤں کے کسی مرد کو اُن کے گھر آنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ چودھری صاحب کی اِس درجہ مہربانی اور اعتماد کی کبھی مجھے سمجھ نہیں آسکی تھی، لیکن میں نے ہمیشہ سب سے عزت و احترام ہی سے بات کی کبھی اِس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی نہ جرأت کی نہ کبھی ایسا سوچ ہی سکتا ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ اِس خاندان کی ہر خوشی میں خوشی اور ہر غم میں غم دل سے محسوس کرتا تھا۔ دن میں دو بار حویلی کا چکر بھی لگایا، لیکن رانی بی بی سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ شام میں پتا چلا اُنہیں بخار ہے اور دوا لے کے سو رہی ہیں۔ رات کے ساڑھے دس بج چکے تھے ااور میں لوگوں کے اٹھ جانے کا انتظار کرنے لگا ۔بالآخر سبھی لوگ ایک ایک کرکے چلے گئے اور میں اسی شش و پنج میں تھا کہ بات کیسے شروع کروں اچانک چودھری صاحب بولے۔
’’دلاور ابھی بیٹھو تم مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ میں اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن کے قریب پڑی کرسی پر آ بیٹھا ۔
’’جی کہیے ،کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ میں نے دل میں خیر کی دعا مانگتے ہوئے کہا۔
’’تم اُس دن رانی کے ساتھ گئے تھے۔ تمہیں معلوم تو ہوگا کیا بات ہوئی وہاں۔‘‘چودھری صاحب نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میں نہیں جانتا۔ میں گاڑی میں ہی بیٹھا رہا تھا، مگر رانی بی بی جب واپس آئیں، تو بہت رو رہی تھیں۔‘‘میں نے مختصراًساری بات بتاتے ہوئے کہا۔
’’رانی سے پوچھا نہیں تھا تم نے کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔‘‘انہوں نے کھوجتی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’پوچھنا چاہتا تھا ،لیکن پوچھ نہیں پایا۔‘‘ میں نے لاچارگی سے کہا۔
’’عادل نے اُسے اُس دن بتایا تھا کہ وہ شہر میں شادی کرچکا ہے اور اُس کا ایک بیٹا بھی ہے۔‘‘دکھ اُن کے لہجے اور آنکھوں سے واضح جھلک رہا تھا۔مجھے آج اُن کے رونے کی وجہ سمجھ آئی تھی اور دل میں درد کی اک ٹیس سی اُٹھی تھی اور اُن کے مستقبل کے لیے فکرمندی اور بڑھ گئی تھی۔
’’توکیا یہ جاننے کے بعد بھی آپ رانی بی بی کی شادی عادل سے کردیں گے ۔‘‘میں نے بے چین ہوتے دل کے ساتھ فکرمندی سے پوچھا۔چودھری صاحب ہنوز گہری سوچ میں گم تھے۔





’’ہرگز نہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ حقیقت جان لینے کے بعد رانی کو عادل سے بیاہ دوں۔‘‘چودھری صاحب نے سوچ میں ڈوبے ہوئے تلخ لہجے میں کہا۔
’’تو کیا پھر… رانی بی بی بھی تمام عمر…‘‘ چودھری صاحب کی قدیم روایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے خوف کی اک لہر میرے پورے بدن میں پھیل گئی۔ میں نے لرزتی آواز میں پوچھا، مگر اپنی بات مکمل نہیں کر پایا۔تو کیا رانی بھی اُن وحشتوں بھری زندگی کا حصہ بننے جا رہی تھی جس کا شکار اُس کی پھوپھی ہوئی تھی۔میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ چودھری صاحب تڑپ کے بولے۔
’’نہیں ہرگز نہیں۔ میں اپنی بیٹی کا ویسا انجام نہیں دیکھنا چاہتا جو اِن رسم و رواج اور روایات کی وجہ سے اِس خاندان کی باقی لڑکیوں کا ہوا۔میں اُس کا گھر بسا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں دلاور۔‘‘انہوں نے اپنی خاندانی روایات کی نفی کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے چودھری صاحب ۔آج آپ کا اک اچھا قدم آپ کی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی بہتر ثابت ہوگا اور رانی بی بی کے لیے دیکھیے گا آپ کو ایک سے بڑھ کرایک اچھا رشتہ مل جائے گا۔‘‘ یہ سن کر میرے دل میں اُٹھتے واہموں کے طوفان اچانک تھم گئے تھے اور دل سے اُن کی اچھی قسمت کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں۔
’’لیکن مجھے رانی کے لیے تم سے بہتر کوئی نہیں لگتا دلاور ۔‘‘ مجھے اپنے کانوں سنے پر یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ مجھے محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
’’میں رانی بی بی کے لیے…‘‘ میں نے بے یقینی سے پوچھا۔
’’تمہیں کوئی اعتراض ہے؟‘‘ انہوں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں بالکل بھی اعتراض نہیں،یہ تو میری خوش قسمتی ہے۔‘‘ میں نے اپنی خوشی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’رانی کے حصے کی جتنی جائیداد ہے وہ نکاح پر میں تمہارے نام لگا دوں گا۔‘‘چودھری صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے میرا مان توڑ دیا ہے چودھری صاحب۔ آپ اپنی حیثیت کے کسی آدمی سے شادی کر دیجیے رانی بی بی کی ،میری حیثیت پر یہ بہت بڑا طمانچہ تھا آپ کا۔‘‘ میں خودداری سے کہتا ہوا جانے کی اجازت طلب کرنے لگا۔
‘‘آزما رہا تھا تمہیں پگلے ۔میں جانتا ہوں میرا دلاور لالچی نہیں ہے، لیکن بیٹی کے حصے کی جائیداد اُسے جہیز میں دوں گا چاہے تم مانو یا نا مانو۔‘‘انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
’’مجھے اپنے قوتِ بازو پر بھروسا ہے لیکن یہ آپ کا اور رانی بی بی کا معاملہ ہے ۔‘‘ انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر دعا دی اور اپنے اس فیصلے کو اِس خاندان کی بہتری کا ذریعہ سمجھتے ہوئے مطمئن سے نظر آنے لگے اور میں قسمت کے اِس خوبصورت کھیل پر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی تھا۔
٭…٭…٭
چودھویں رات کے چاند کی مانند رانی کا سنہرا اور دلکش روپ میرے گھر میں اتر اتھا۔ وہ نصیبوں والی رات طلوع ہوئی تھی جس کی امید بھی کبھی میرے دل نے نہیں لگائی تھی ۔بعض دفعہ خدا آپ کو آپ کی اوقات سے بڑھ کر نواز دیتا ہے اور آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ نہ جانے یہ کس نیکی کا انعام ہے۔آج کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے میں بھی دوچار ہوچکا ہوں۔رانی کا خوب صورت وجود سرخ عروسی جوڑے میں اور بھی نکھرا ہوا لگ رہا ہے۔ وہ کس قدر حسین ہے یہ آج اُسے نظر بھر کر دیکھنے پر جانا تھا۔
’’دل میں برسوں سے آپ کو پا لینے کا ارمان بسا ہوا تھا، لیکن کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دل کا یہ ارمان یوں معجزے کی صورت پورا ہو جائے گا۔‘‘میں نے رانی کا دودھیا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا، تو اُس کی حیران نظریں میری جانب اُٹھیں۔
’’تم کب سے میری چاہت دل میں دبائے رہے دلاور اور اپنے کسی بھی عمل سے کبھی مجھے محسوس بھی نہیں ہونے دیا۔‘‘رانی کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ چمک بھی در آئی تھی۔
’’میرے تو ہر عمل سے ظاہر تھا، مگر آپ ہی نہیں دیکھ پائیں ۔دیکھتیں بھی کیسے آپ کسی اور کے نکاح میں تھیں اور میں بھی دل کی بات کہنے سے ہمیشہ گریزاں رہا، مگر اب بیتے دنوں کو جانے دو آج سے اپنی زندگی کی خوبصورت کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔‘‘میں نے شرارت سے اُس کی گال کو چھو کر کہا، تو وہ لجا کے خود میں ہی سمٹ گئی۔
’’جب دلاور کی شادی کا پتا چلا، تو اپنی خاندانی روایات کا سوچتے ہوئے خوف زدہ تھی اور پھوپھی ثریا کا انجام ہمیشہ دل دہلائے رکھتا تھا۔ میں نے فیصلہ تو کر لیا تھا، مگر اپنا انجام کسی صورت ایسا نہیں چاہتی تھی، لیکن پھر اپنا فیصلہ خدا پر چھوڑ کے مطمئن ہوگئی تھی۔ بھروسا تھا خدا پر کہ وہ میرے لیے بہتر فیصلہ کرے گا اور تم اُسی بھروسے کا انعام ہو دلاور۔ تم میری شبِ آرزو کا چاند بن کے میرے دل کے آسمان پر طلوع ہوئے ہو اور مجھے امید ہے عمر کے آخری حصے تک اِس چاند کی روشنی ماند نہیں ہوگی۔بات کرتے ہوئے جذبات سے مغلوب ہوکر رانی کی آنکھوں میں ستارے آنسوؤں کی صورت جھلملانے لگے تھے۔
’’میری خواہش بھی یہی تھی کہ آپ ہی میری زندگی میں اُس چاند کے مانند طلوع ہو جس کی روشنی کبھی ماند نہ پڑے اور زندگی رنگو ں اور خوشیوں سے سجی ہوئی گزرے۔اُس کے آنسوؤں کو اپنے پوروں میں جذب کرتے ہوئے میں نے اُسے اپنے اور بھی قریب کر لیا تھا۔ہم دونوںہی خدا کے شکر گزار تھے۔ہماری کوئی تو نیکی پروردگار کو بھائی تھی جس کا انعام ہمارا نام اک ساتھ جڑ جانا تھا ۔اُس شب دل اِس سچائی پر صدقِ دل سے ایمان لے آیا تھا کہ جب قسمت کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا جائے تو کسی انعام کی صورت وہ آپ کو وہ بھی عطا کر دیتا ہے جس کا ملنا ناممکن لگتا ہے۔بے شک اُس کی ذات دلوں کے راز جاننے والی ہے اور انسان کو بہتر نہیں بلکہ بہترین عطا کرتی ہے بس انسان ہی جلد باز اور ناشکرا ہے۔وہ دونوں دل سے رب کے شکر گزار تھے جس نے اُن کے صبر کے اجر میں محبت کی خوب صورت ڈور سے اُن کے دلوں کو ہمیشہ کے لیے باندھ دیا تھا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

اگر ہو مہربان تم — عطیہ خالد

Read Next

گھٹن — اعتزاز سلیم وصلی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!