آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

’’کسی غیر مسلم کا آپشن میں بھی considerنہیں کروں گا لیکن کسی ایسے غیر مسلم ایسا ضرور کروں گا جو مسلمان ہونے کی خواہش اور ارادہ رکھتا ہو۔‘‘ اس نے بھی اسی انداز میں کہا۔
’’میں اس آپشن کو بھی considerنہیں کروں گی… میں نہ آئیڈیسٹ ہوں نہ فینٹسی پر یقین رکھتی ہوں۔ میں اپنی بیٹی کو کسی مشکل صورت حال میں نہیں ڈالوں گی، ایسے کسی ممکنہ رشتے کے ذریعہ۔‘‘ امامہ نے اس کی بات کے جواب میں کہا۔
’’ہم رسک دوسروں کے لئے لے سکتے ہیں، دوسروں کو نصیحتیں بھی کرسکتے ہیں اور دوسروں کو ایسے بڑے کاموں پر اکسا بھی سکتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتے ہیں لیکن یہ سب چیزیں اپنے بچوں کے لئے ہم نہیں چاہ سکتے۔‘‘ وہ کہتی گئی۔
’’میں نے تم سے شادی کرکے ایک رسک لیا تھا امامہ… مجھے بھی بہت روکا گیا تھا… بہت سارے وہم میرے دل میں بھی ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی… دنیا میں لوگ ایسے رسک لیتے ہیں، لینے پڑتے ہیں… سالار نے جواباً اس سے جو کہا، اس نے امامہ کی زبان سے سارے لفظ چھین کر اسے جیسے گونگا کردیا تھا… وہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا لیکن اسے ایرک کے ساتھ اپنا موازنہ اور اس انداز میں اچھا نہیں لگا تھا۔
’’ایرک اور مجھ میں بہت فرق ہے… مذہب میں فرق ہوگا لیکن کلچر میں نہیں… ہم ہمسائے تھے، ایک جیسے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے… بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔‘‘
وہ اپنے دفاع میں پرجوش دلائل دیتے دیتے ایک دم اپنا جوش کھوتی چلی گئی، اسے یک دم احساس ہوا تھا کہ اپنی دفاع میں دیا جانے والا اس کا ہر جواز اس کے اور ایرک کے درمیان موجود مماثلت کو مزید ثابت کررہا تھا۔
’’میں ایرک کے آپشن پر غور نہیں کررہا… عبداللہ کے آپشن پر کررہا ہوں… تیرہ سال کی عمر میں اپنی بیٹی کی کسی سے شادی نہیں کروں گا لیکن اگر تیرہ سال کی عمرمیں بھی میری بیٹی کی وجہ سے کوئی میرے دین کی طرف راغب ہورہا ہے تو میں صرف اس لئے اسے رد نہیں کروں گا کہ یہ میری غیرت اور معاشرتی روایات پر ضرب کے برابر ہے… مجھے معاشرے کو نہیں، اللہ کو منہ دکھانا ہے۔‘‘
سالار نے جیسے ختم کرنے والے اندا ز میں بات کی تھی۔ امامہ قائل ہوئی یا نہیں، لیکن خاموش ہوگئی تھی۔ اس کی بات غلط نہیں تھی لیکن سالار کی بھی درست تھی، وہ دونوں اپنے تناظر میں… سوچ رہے تھے اور دوسرے کے نظریے کو بھی سمجھ رہے تھے۔
وہ پہلا موقع تھا جب امامہ نے شکر ادا کیا تھا کہ وہ پاکستان جارہے ہیں۔ عنایہ اور ایرک ایک دوسرے سے دور ہوجاتے تو اس کے خیال میں ایرک کے سر سے عنایہ کا بھوت بھی اتر جاتا۔ سالار کے برعکس وہ اب بھی یہ ماننے پر تیار نہیں تھی کہ ایرک کی اسلام اور عنایہ میں دلچسپی ہوسکتی ہے۔ اسے یقین تھا تیرہ سال کا وہ بچہ، چوبیس پچیس سال کا ہوتے ہوئے زندگی کے بہت سارے نشیب و فراز سے گزرتا اور زندگی کی رنگینیوں سے بھی متعارف ہوتا پھر سالار سکندر کا خاندان اور اس خاندان کی ایک لڑکی عنایہ سکندر، ایرک عبداللہ کو کہاں یاد رہتی اور اتنی یاد کہ وہ اس کے لئے اپنا مذہب چھوڑ کر اس کے پیچھے آتا…؟ امامہ اس بات پر بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزار تھی کہ وہ سب کچھ ایک طرفہ تھا اگر عنایہ اس کا حصہ ہوتی تو اس کی پریشانی اس سے سوا ہوتی۔
٭…٭…٭





’’ممی! ایرک ہمارے ساتھ پاکستان جانا چاہتا ہے۔‘‘
کچن میں کام کرتی امامہ ٹھٹک گئی۔ عنایہ اس کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹارہی تھی، جب اس کے ساتھ کام کرتے کرتے اس نے اچانک امامہ سے کہا۔ امامہ نے گردن موڑ کر اس کا چہرہ بغور دیکھا تھا۔ عنایہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی، وہ ڈش واشر میں برتن رکھ رہی تھی۔
’’تمہیں پتا ہے، ایرک نے تمہارے پاپا کو خط لکھا ہے۔‘‘ امامہ نے کریدنے والے انداز میں یک دم عنایہ سے کہا۔ وہ کچھ گلاس رکھتے ہوئے چونکی اور ماں کو دیکھنے لگی، پھر اس نے کہا۔
’’اس نے پاپا سے بھی یہی بات کی ہوگی… وہ بہت اپ سیٹ ہے۔ چند دنوں سے… ہر روز مجھ سے ریکویسٹ کررہا ہے کہ یا تو اس کو بھی ساتھ لے جاؤں یا پھر خود بھی یہیں رہ جاؤں۔‘‘ اس کی بیٹی نے بے حد سادگی سے اس سے کہا تھا۔ وہ اب دوبارہ برتن رکھنے میں مصروف ہوگئی تھی۔
امامہ اپنے جس خدشے کی تصدیق کرنا چاہ رہی تھی، اس کی تصدیق نہ ہونے پر اس نے جیسے شکر کیا تھا… وہ خط کے مندرجات سے واقف نہیں تھی۔
’’مجھے ایرک پر ترس آتا ہے۔‘‘ عنایہ نے ڈش واشر بند کرتے ہوئے اس سے کہا۔ امامہ نے کچن کیبنٹ بند کرتے ہوئے ایک بار پھر اسے دیکھا، عنایہ کے چہرے پر ہمدردی تھی اور ہمدردی کے علاوہ اور کوئی تاثر نہیں تھا اور اس وقت امامہ کو اس ہمدردی سے بھی ڈر لگا تھا۔
’’کیوں ترس آتا ہے؟‘‘ امامہ نے کہا۔
’’کیوں کہ وہ بہت اکیلا ہے۔‘‘ عنایہ نے جواباً کہا۔
’’خیر ایسی کوئی بات نہیں۔ اس کی فیملی ہے… ممی، بہن ، بھائی ، دوست… پھر اکیلا کہاں ہے۔‘‘
’’لیکن ممی وہ ان سب سے اس طرح کلوز تو نہیں ہے جس طرح ہم سے ہے۔‘‘ عنایہ نے اس کا دفاع کیا۔
’’تو یہ اس کا قصور ہے، وہ گھر میں سب سے بڑا ہے، اسے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خود خیال رکھنا چاہیے۔‘‘ امامہ نے جیسے ایرک کو قصور وار ٹھہرانے کی کوشش کی۔
’’اگر جبریل اپنی فیملی کے بجائے کسی دوسرے کی فیملی کے ساتھ اس طرح اٹیچ ہوکر یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ اکیلا ہے تو تمہیں کیسا لگے گا؟‘‘ امامہ نے جیسے اسے ایک بے حد مشکل سوال حل کرنے کے لئے دے دیا تھا۔ عنایہ کچھ دیر کے لئے واقعی ہی بول نہیں پائی پھر اس نے بے حد مدھم آواز میں کہا۔
’’ممی! ہر ایک جبریل کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا۔‘‘ امامہ کو اس کا جملہ عجیب طرح سے چبھا۔ اس کی بیٹی نے شاید زندگی میں پہلی بار کسی دوسرے شخص کے بارے میں اپنی ماں کی رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے جیسے اس کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش نے امامہ کو پریشان کیا تھا۔
’’ایرک چھوٹا بچہ نہیں ہے عنایہ!‘‘ امامہ نے کچھ تیز آواز میں اس سے کہا۔ ’’وہ تیرہ سال کا ہے…‘‘ اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
عنایہ نے حیران ہوکر ماں کا چہرہ دیکھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس جملے کا مطلب کیا ہے۔ واحد چیز جو عنایہ اخذ کرپائی تھی وہ یہ تھی کہ اس کی ماں کو اس وقت ایرک کا تذکرہ اور اس کی زبان سے… اچھا نہیں لگا تھا لیکن یہ بھی حیران کن بات تھی کیوں کہ ایرک کا ذکر ان کے گھر میں اکثر ہوتا تھا۔
’’ممی کیا میں ایرک کا خط پڑھ سکتی ہوں؟‘‘ غیر متوقع طور پر عنایہ نے فرمائش کی تھی، جبکہ امامہ سمجھ رہی تھی وہ پچھتارہی تھی۔
’’حمین نے پڑھا ہوگا وہ خط۔ ایرک اسے ایک خط پڑھا رہا تھا… میرا خیال ہے یہ وہی خط ہوگا۔‘‘
عنایہ نے کچن سے نکلتے ہوئے اس کے اوپر جیسے بجلی گرائی تھی…
’’حمین نے؟‘‘ امامہ کو یقین نہیں آیا۔
’’ہاں… میں نے ایرک اور اسے ساتھ بیٹھے کوئی کاغذ پڑھتے دیکھا تھا… میرا خیال ہے یہ خط ہی ہوگا کیوں کہ ایرک ہر کام ا س سے پوچھ کر کررہا ہے آج کل…But I am not sure۔‘‘ عنایہ نے اپنے ہی انداز کے بارے میں خود ہی بے یقینی کا ظہار کیا۔
’’ہر شیطانی کام کے پیچھے حمین ہی کیوں نکلتا ہے آخر؟‘‘ امامہ نے دانت پسیجتے ہوئے سوچا تھا، وہ اس وقت یہ بھی بھول گئی تھی کہ اسے کچن میں کیا کام کرنا تھا… اسے اب یقین تھا کہ ایرک کو اس خط کا مشورہ دینے والا حمین ہی ہوسکتا تھا۔
٭…٭…٭
اور امامہ کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا۔ وہ خط ایرک نے لکھا تھا اور حمین نے اسے ایڈٹ کیا تھا۔ اس نے اس خط کے ڈرافٹ میں کچھ جذباتی جملوں کا اضافہ کیا تھا اور کچھ حد سے زیادہ جذباتی جملوں کو حذف کیا تھا۔
ایرک اس کے پاس ایک خط کا ڈرافٹ لایا تھا… یہ بتائے بغیر کہ وہ خط وہ سالار سکندر کے نام لکھنا چاہتا تھا، اس نے حمین سے مدد کی درخواست کی تھی وہ ایک مسلم گرل فرینڈ کو پروپوز کرنا چاہتا تھا اور اس کے باپ کو خط لکھنا چاہتا تھا۔ حمین نے جواباً اسے مبارک باد دی تھی۔ ایرک نے اس سے کہا تھا کہ کیوں کہ وہ مسلم کلچر کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا، اس لئے اسے اس کی مدد درکار تھی، اور حمین نے وہ مدد فراہم کی تھی۔
محمد حمین سکندر نے مسلمانوں کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے خط کو دوبارہ لکھا تھا اور ایرک نے نہ صرف اس کاشکریہ ادا کیا تھا بلکہ جب سالار سکندر نے اسے ملاقات کی دعوت دی تو اسے نے حمین کو اس بارے میں بھی مطلع کیا تھا۔ حمین کی ایکسائٹمنٹ کی کوئی حد نہیں تھی… اس کا دل تو یہ چاہ رہا تھا کہ ایرک کا یہ راز سب سے کہہ دے لیکن اس نے ایرک سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس راز کو کسی سے نہیں کہے گا۔ عنایہ نے ایک آدھ دن اس گٹھ جوڑ کے بارے میں اسے کریدنے کی کوشش کی تو بھی اس نے صرف یہ کہا تھا کہ وہ ایک ضروری خط لکھنے میں ایرک کی مدد کررہا تھا، لیکن خط کس کے نام تھا اور اس میں کیا لکھا جارہا تھا ، عنایہ کے کریدنے پر بھی حمین نے یہ راز نہیں اگلا تھا۔
’’مجھے پتا ہے ایرک نے وہ خط کس کے لئے لکھوایا تھا۔‘‘ عنایہ، امامہ کے پاس سے ہوکر سیدھا حمین کے پاس پہنچی تھی۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں کمپیوٹر پر کوئی گیم کھیلنے میں مصروف تھا اور عنایہ کے اس تبصرے پر اس نے بے اختیار دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’مجھے پہلے ہی پتا تھا وہ کوئی راز نہیں رکھ سکتا۔ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ کسی کو نہ بتاؤں خاص طور پر تمہیں… اور اب تمہیں بتادیا اس نے۔‘‘ حمین خفا تھا، اس کا اندازہ یہی تھا کہ یہ راز ایرک نے خود ہی فاش کیا ہوگا۔
’’ایرک نے مجھے نہیں بتایا… مجھے تو ممی نے بتایا ہے۔‘‘ اس بار حمین گیم کھیلنا بھول گیا تھا۔ اس کے ہیرو نے اس کے سامنے اونچی چٹان سے چھلانگ لگائی اور وہ اسے سمندر میں گرنے سے نہیں بچا پایا… کچھ ویسا ہی حال اس نے اپنا بھی اس وقت محسوس کیا تھا… ایک دن پہلے ہی اس کے اور ممی کے تعلقات میں پاکستان جانے کے فیصلے نے پھر سے گرم جوشی پیدا کی تھی اور اب یہ انکشاف…
’’ممی نے کیا بتایا ہے؟‘‘ حمین کے منہ سے ایسے آواز نکلی جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھا ہو۔
’’ممی نے بتایا کہ ایرک نے پاپا کو کوئی خط لکھا ہے اور مجھے فوراً خیال آیا کہ جو خط تم پڑھ رہے تھے، وہ وہی ہوسکتا ہے۔‘‘
عنایہ روانی میں بتارہی تھی اور حمین کے دماغ میں دھماکے ہورہے تھے… کاٹو تو بدن میں لہو نہ ہونا کی مثال اس وقت اس پر صادق آرہی تھی۔ ایسی کون سی مسلم گرل فرینڈ بن گئی یک دم ایرک کی، جس کے باپ کو خط لکھوانے کے لئے اس کی ضرورت پڑتی جبکہ چوبیس گھنٹے وہ اگر کسی کے گھر بھی آتا تھا تو وہ بھی خود ان ہی کا گھر تھا پھر اس کی عقل میں یہ بات کیوں نہیں آئی یا جوش میں اتنا ہی اندھا ہوگیا تھا کہ اس نے یہ سوچ لیا کہ ایرک کبھی عنایہ کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں سوچ سکتا… حمین اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا… اور ملامت بڑا چھوٹا لفظ تھا ان الفاظ کے لئے جو وہ اس وقت اپنے اور ایرک کے لئے استعمال کررہا تھا۔
’’تم بول کیوں نہیں رہے؟‘‘ عنایہ کو اس کی خاموشی کھٹکی تھی۔
’’میں نے سوچا ہے، میں اب کم بولوں اور زیادہ سوچوں۔ حمین نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اس وقت وہ خبر پہنچائی جس پر اسے یقین نہیں آیا۔
’’خواب دیکھتے رہو۔‘‘ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو چڑانے والے انداز میں کہا۔
’’ممی نے تمہیں بتایا اس خط میں کیا ہے؟‘‘ حمین اس وقت گلے گلے تک اس دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔
’’نہیں، لیکن میں نے انہیں بتایا کہ یہ خط حمین کی مدد سے لکھا گیا ہوگا، میں اس سے پوچھ لوں گی… اس خط میں کیا لکھا تھا ایرک نے پاپا کو؟‘‘
عنایہ اب اس سے پوچھ رہی تھی۔ حمین بے اختیار کراہا تھا… وہ مصیبت کو دعوت نہیں دیتا تھا… مصیبت خود آکر اس کے گلے کا ہار بن جاتی تھی۔
٭…٭…٭
ایرک کو سالار نے خود دروازے پر ریسیو کیا تھا وہ ویک اینڈ تھا اور اس وقت ان کے بچے سائیکلنگ کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ گھر پر صرف امامہ اور سالار تھے۔
’’یہ آپ کے لئے!‘‘ ایرک نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے چند پھول جو گلدستے کی شکل میں بندھے ہوئے تھے اس کی طرف بڑھادیئے۔
سالار نے ایک نظر ان پھولوں پر ڈالی، اسے یقین تھا اس میں سے کچھ پھول۔ اسی کے لان سے لئے گئے تھے لیکن اس نے اسے نظر انداز کیا تھا۔
’’اس کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ اس نے اندر لاتے ہوئے شکریہ کے بعد کہا۔ ایرک فارمل میٹنگ کے لئے آیا تھا اور آج پہلی بار سالار نے اسے فارمل انداز میں دیکھا تھا۔
’’بیٹھو! سالار نے اسے وہیں لاؤنج میں ہی بیٹھنے کے لئے کہا۔ ایرک بیٹھ گیا۔ سالار اس کے بالمقابل بیٹھا اور اس کے بعد اس نے ٹیبل پر پڑا ایک لفافہ کھولا۔ ایرک نے پہلی بار غور کیا، وہ اسی کا خط تھا اور سالار اب اس خط کو دوبارہ کھول کے دیکھ رہا تھا۔ ایرک بے اختیار نروس ہوا تھا۔ خط لکھ بھیجنا اور بات تھی اور اسی خط کو، اس بندے کے ہاتھ میں دیکھنا جس کے نام وہ لکھا گیا تھا، دوسری۔
سالار نے ایک ڈیڑھ منٹ لیا پھر اس خط کو ختم کرتے ہوئے ایرک کو دیکھا۔ ایرک نے نظریں ہٹالیں۔
’’کیا عنایہ کو پتا ہے تمہاری اس خواہش کے بارے میں ؟‘‘ سالار نے بے حد براہ راست سوال کیا تھا۔
’’میں نے مسز سالار سے وعدہ کیا تھا کہ میں عنایہ سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کروں گا، اس لئے میں نے آپ کو خط لکھا۔‘‘ ایرک نے جواباً کہا، سالار نے سرہلایا اور پھر کہا۔
’’اور یہ واحد وجہ ہے جس کی وجہ سے میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے۔ تمہارا خط پھاڑ کر نہیں پھینکا… تم وعدہ کرکے نبھاسکتے ہو، یہ بہت اچھی کوالٹی ہے۔‘‘
سالار سنجیدہ تھا اور اس نے بے دھڑک انداز میں ایرک کی تعریف کی تھی، لیکن اس کے لہجے اور چہرے کی سنجیدگی نے ایرک کو خائف کیا تھا۔
’’تو تم عنایہ سے شادی کرنا چاہتے ہو؟‘‘ سالار نے اس خط کو اب واپس میز پر رکھ دیا تھا اور اس کی نظریں ایرک پر جمی ہوئی تھی۔ ایرک نے سرہلایا۔
’’تم نے یہ بھی لکھا ہے کہ تم مذہب بدلنے پر تیار ہو، کیوں کہ تم جانتے ہو کہ کسی غیر مسلم لڑکے سے کسی مسلم لڑکی کی شادی نہیں ہوسکتی۔‘‘ سالار نے مزید کہا۔ ایرک نے پھر سرہلایا۔




Loading

Read Previous

ہم — کوثر ناز

Read Next

آبِ حیات — قسط نمبر ۱۳ (تبارک الذی)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!