آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

’’امامہ! تم بچوں کے ساتھ پاکستان میں شفٹ ہوجاؤ۔‘‘ اس رات اس نے بالآخر انتظار کئے بغیر وہ حل امامہ کے سامنے پیش کردیا تھا۔ امامہ کو اس کی بات سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’میں چاہتا ہوں تم حمین، عنایہ اور رئیسہ کے ساتھ پاکستان آجاؤ… میرے پیرنٹس کو میری ضرورت ہے، میں ان کے پاس نہیں ٹھہر سکتا، لیکن میں انہیں اس حالت میں اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ تم نے دیکھا ہے پاپا کو…‘‘ وہ بے حد رنجیدہ تھا۔
’’ہم انہیں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، وہاں امریکہ میں…‘‘ امامہ نے جیسے ایک تجویز پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔
’’وہ یہ گھر نہیں چھوڑیں گے اور میں اس عمر میں انہیں اور اپ سیٹ کرنا نہیں چاہتا۔ تم لوگ یہاں شفٹ ہوجاؤ… میں آتا جاتا رہوں گا۔ جبریل ویسے بھی یونیورسٹی میں ہے، اسے گھر کی ضرورت نہیں ہے اور میں تو امریکہ میں بھی سفر ہی کرتا رہتا ہوں زیادہ… مجھے وہاں فیملی ہونے نہ ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ اس سے نظریں ملائے بغیر کہہ رہا تھا۔
امامہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی، وہ سب کچھ اس طرح آسان بناکر پیش کررہا تھا جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ دو منٹوں کا کام تھا جو کیا جاسکتا تھا۔
’’تمہارے اپنے پیرنٹس بھی ہیں یہاں…وہ بھی بہت بوڑھے ہیں… تم یہاں رہوگی تو ان سب کی دیکھ بھال کرسکوگی۔‘‘ وہ اس سے کہہ رہا تھا۔ امامہ نے کچھ خفگی سے اس سے کہا۔
’’تم یہ سب میرے پیرنٹس کے لئے نہیں کررہے سالار… اس لئے ان کا حوالہ نہ دو۔‘‘
’’تم ان کے پاس رہنا نہیں چاہتیں کیا؟‘‘ سالار نے جیسے ایموشنلی بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ ’’تم ان کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتیں کیا؟ انہیں اس عمر میں دیکھ بھال کی ضرور ت ہوگی۔ کوئی چوبیس گھنٹے ساتھ نہ رہے، چند گھنٹے ہی رہے، لیکن حال چال پوچھنے والاہو۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔ اپنے والدین کی بات کرنے سے زیادہ اس کے والدین کی بات کررہا تھا۔
امامہ کوبرا لگا۔ اسے اس جذباتی بلیک میلنگ کی ضرورت نہیں تھی۔
’’سالار! اتنے سالوں میں کبھی پہلے تم نے میرے پیرنٹس کی دیکھ بھال کو ایشو بناکر مجھے پاکستان میں رکھنے کی بات نہیں کی۔ آج تم ان کو ایشو نہ بناؤ۔‘‘ وہ کہے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔
’’ہاں نہیں کی تھی، کیوں کہ آج سے پہلے میں نے کبھی اپنے پیرنٹس کا یہ حال بھی نہیں دیکھا تھا۔‘‘ اس نے جواباً کہا، وہ قائل نہیں ہوئی ۔
’’مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے اسی انداز میں کہا تھا۔
’’تم ان کے پاس رہنا نہیں چاہتیں؟ یہاں گھر پر…‘‘ سالار نے دوٹوک انداز میں اس سے پوچھا۔
’’میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتیں ہوں۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔ سالار نے اس سے نظریں چرالیں۔
’’ان سب کو تمہاری ضرورت ہے امامہ…‘‘
’’اورتم؟ تمہیں میری ضرورت نہیں ہے؟‘‘ امامہ نے گلہ کیا تھا۔
’’ان سب کے پاس زندگی کے زیادہ سال نہیں ہیں۔ میں یہ بوجھ اپنے ضمیر پر نہیں لینا چاہتا کہ میں نے زندگی کے آخری سالوں میں اپنے ماں باپ کی پروانہیں کی۔‘‘ وہ اس سے کہہ نہیں سکی، وہ اس کے ساتھ بھی تو اس لئے چپکی رہنا چاہتی تھی، اسے بھی تو اس کی زندگی کا پتا نہیں تھا۔





ڈاکٹرز نے کہا تھا پانچ سات سال… زیادہ سے زیادہ دس سال… اور وہ اسے، اس سے بھی پہلے سے الگ کررہا تھا۔ وہ یہ ساری باتیں زبان پر نہیں لاسکتی تھی، کیوں کہ وہ یہ ساری باتیں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ زندگی کے کسی بھیانک خواب کے بارے میں…مستقبل کے برے دنوں کے بارے میں… وہ فی الحال صرف حال کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی جو سامنے تھا۔ جو آج تھا وہ اسی میں جینا چاہتی تھی۔
’’تمہیں میری ضرورت ہے سالار… اکیلے تم کیسے رہوگے؟‘‘ وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
’’میں رہ لوں گا امامہ… تم جانتی ہو، میں کام میں مصروف ہوں تو مجھے سب کچھ بھول جاتا ہے۔‘‘ یہ سچ تھا، لیکن اس کو نہیں کہنا چاہیے تھا۔ امامہ ہرٹ ہوئی تھی۔
وہ کچھ بول نہیں سکی، اس کی آنکھیں آنسوؤں سے پل میں بھر گئی تھی۔ سالار اس کے برابر صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس نے امامہ سے نظریں چرانے کی کوشش کی تھی، نہیں چراسکا۔
’’زندگی میں انسان صرف اپنی ضرورتوں کے بارے میں سوچتا ہے تو خود غرض ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے امامہ کو وضاحت ایک فلاسفی میں لپیٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ امامہ قائل نہیں ہوئی۔
’’مجھے پتا ہے تمہیں ضرورت نہیں ہے۔ نہ میری، نہ بچوں کی…تمہارے لئے کام کافی ہے… کام تمہاری فیملی ہے، تمہاری تفریح بھی… لیکن میری زندگی میں تمہارے اور بچوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے… میرا کام اور تفریح صرف تم لوگ ہو۔‘‘ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں گلہ بھی کیا۔ اس کی بے حسی بھی جتائی، اپنی مجبوری بھی سنائی۔
’’تم یہ نہیں سوچتے کہ تم بھی انڈرٹریٹمنٹ ہو، تمہیں بھی کسی خیال رکھنے والے کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ جیسے اسے یاد دلارہی تھی، بیماری کا نام لئے بغیر کہ اسے بھی کسی تیمار دار کی ضرورت تھی۔
’’پرانی بات ہوگئی امامہ… میں ٹھیک ہوں، پانچ سال سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں۔ کچھ نہیں ہوتا مجھے…‘‘ اس نے جیسے امامہ کے خدشات دیوار پر پڑھ کر بھی پھونک سے انہیں اڑایا تھا۔
’’میں پاپا کو اس حال میں یہاں اس طرح نہیں چھوڑ سکتا، نوکر وں کے اوپر… میں حمین کو ان کے پاس رکھنا چاہتا ہوں لیکن میں حمین کو اکیلا یہاں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لئے تمہاری ضرورت ہے اس گھر کو… تم اسے ریکویسٹ سمجھو۔ خود غرضی یا پھر اصرار… لیکن میں چاہتا ہوں تم پاکستان آجاؤ۔ یہاں اس گھر میں…‘‘ اس نے سالار کی آواز اور آنکھوں میں رنجیدگی دیکھی تھی۔
’’میرے لئے تمہارے بغیر رہنا بے حد مشکل ہے… میں عادی ہوگیا ہوں تمہارا، بچوں کا… گھر کے آرام کا… لیکن میرے باپ کے بے حد احسانات ہیں ہم پر… صرف مجھ پر ہی نہیں، ہم دونوں پر… میں اپنے آرام کو ان کے آرام کے لئے چھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔ یہ فرض ہے مجھ پر…‘‘ وہ جو کچھ اس سے کہہ رہا تھا وہ مشورہ اور رائے نہیں تھی، نہ ہی درخواست… وہ فیصلہ تھا، جو وہ کرچکا تھا اور اب صرف اسے سنا رہا تھا۔
وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی، وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا، لیکن غلط وقت پر کہہ رہا تھا۔ وہ اس سے قربانی مانگ رہا تھا، لیکن بہت بڑی مانگ رہا تھا۔ وہ کچھ بھی کہے بغیر اس کے پاس سے اٹھ کر گئی تھی۔ وہ فرشتہ نہیں تھی، لیکن یہ بات سالار کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
٭…٭…٭
دو ہفتوں کے بعد امریکہ واپس جاتے ہوئے سالار نے سکندر عثمان کو اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا تھا۔ وہ خوش نہیں ہوئے تھے۔
’’نہیں، بے وقوفی کی بات ہے یہ… امامہ اور بچوں کو یہاں شفٹ کرنا۔‘‘ انہوں نے فوری طور پر کہا تھا۔ ’’ان کی اسٹڈیز کا حرج ہوگا اور یہاں لاکیوں رہے ہو انہیں، تک کیا بنتی ہے؟‘‘ سالار نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ ان کے لئے کررہا تھا یہ سب…
’’بس پاپا… وہاں مشکل ہورہا ہے سب کچھ مینج کرنا… مالی طور پر…‘‘ اس نے باپ سے جھوٹ بولا، وہ انہیں زیر احسان کرنا نہیں چاہتا تھا۔
’’بہت زیادہ ہوتے جارہے ہیں وہاں اخراجات… سیونگ بالکل نہیں ہورہی… یہاں کچھ عرصہ رہیں گے، تو تھوڑی بہت بچت کرلیں گے ہم۔‘‘ اس نے بے حد روانی سے سکندر عثمان سے کہا۔
’’لیکن تم تو کہہ رہے تھے SIF بہت کامیاب ہے۔ تمہارا پیکیج بہت اچھا ہے۔‘‘ وہ کچھ متوحش ہوئے۔
’’ہاں… وہ تو بہت اچھا جارہا ہے… اس کے حوالے سے مسائل نہیں ہیں مجھے… لیکن بس… سیونگ نہیں ہو پارہی، پھر بچیاں بڑی ہورہی ہیں، میں چاہ رہا ہوں، کچھ سال پاکستان میں رہیں، اپنی ویلیوز کا پتا ہو، پھر لے جاؤں انہیں۔‘‘ اس نے اپنے بہانے کو کچھ اضافہ سہارے دیئے۔
سکندر عثمان! ابھی بھی پوری طرح قائل نہیں ہوئے تھے۔
’’تم اکیلے کیسے رہو گے سالار… تمہارا بھی علاج ہورہا ہے۔ بیوی بچوں کے بغیر وہاں کون خیال رکھے گا تمہارا…‘‘ وہ اپنی تشویش کااظہار کررہے تھے۔ ’’میں سوچ رہا ہوں میرے پاس جو اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہے وہ تمہیں دے دوں، تاکہ تمہیں اگر کوئی فنانشل مسئلہ ہے تو…‘‘ سالار نے ان کی بات کاٹ دی۔
’’بس پاپا اب نہیں…‘‘ اس نے باپ کاہاتھ پکڑ لیا۔ ’’اب اور کچھ نہیں … کتنا کریں گے آپ میرے لئے؟ مجھے بھی کچھ کرنے دیں… احسان نہیں کرسکتا تو حق ہی ادا کرنے دیں مجھے…‘‘ اس نے عجیب بے بسی سے باپ سے کہا۔
’’مجھے تمہاری فکر رہے گی۔‘‘
سالار نے ایک بار پھر ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’مجھے بھی آپ کی فکر رہتی ہے پاپا…‘‘
’’اسی لئے رکھنا چاہتے ہو ان سب کو یہاں ؟‘‘ سکندر عثمان جیسے بوجھ گئے تھے۔
’’آپ جو چاہے سمجھ لیں۔‘‘
’’میں اور طیبہ بالکل ٹھیک ہیں۔ پرانے ملازم ہیں ہمارے پاس، وفادار… سب ٹھیک ہے، تم میری وجہ سے یہ مت کرو۔‘‘ وہ اب بھی تیار نہیں تھے۔
اولاد پر انہوں نے ہمیشہ احسان کیا تھا۔ احسان لینے کی عادت ہی نہیں تھی انہیں اور وہ بھی عمر کے اس حصے میں… بے حد خواہش ہونے کے باوجود… مجبور ہوجانے کے باوجود… سکندر عثمان اولاد کو اپنی وجہ سے تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔
’’میں ویسے بھی سوچتا ہوں، فیکٹری جایا کروں کبھی کبھار… کام مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے ، اس لئے… زیادہ بھولنے لگا ہوں میں…‘‘ وہ اپنے الزائمر کی شکل بدل رہے تھے۔
’’تمہارے بچوں اور بیوی کو تمہارے پاس رہنا چاہیے سالار… تم زبردستی انہیں یہاں مت رکھو۔ میرے اور طیبہ کے لئے بس…‘‘ انہوں نے جیسے سالار کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’زبردستی نہیں رکھ رہا، پاپا ان کی مرضی سے ہی رکھ رہا ہوں۔ وہ یہاں آکر ہمیشہ خوش ہوتے رہے ہیں، اب بھی خوش ہوں گے۔‘‘ اس نے باپ کو تسلی دی تھی، اسے انداز نہیں تھا، باپ کا تجزیہ کتنا درست ہونے والا تھا۔
٭…٭…٭
’’میں پاکستان نہیں جاؤں گا۔‘‘ پاکستان شفٹ ہونے کی سب سے زیادہ مخالفت حمین سکندر کی طرف سے آئی تھی اور یہ مخالفت صرف سالار کے لئے ہی نہیں امامہ کے لئے بھی خلاف توقع تھی۔ وہ پاکستان جانے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ دادا کے ساتھ اس کی بنتی بھی بہت تھی اور وہ دادی کا لاڈلا بھی تھا۔ پاکستان میں اسے بڑی اٹریکشنز دکھتی تھیں اور اب یک بیک مستقل طور پر پاکستان جاکر رہنے پر سب سے زیادہ اعتراضات اسی نے کئے تھے۔
’’بیٹا دادا اور دادی بوڑھے ہوگئے ہیں۔ تم نے دیکھا وہ بیمار بھی تھے۔ انہیں کیئر کی ضرورت ہے۔‘‘ امامہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
’’ان کے پاس سرونٹ ہیں، وہ ان کا اچھی طرح خیال رکھ سکتے ہیں۔‘‘ بالکل قائل ہوئے بغیر بولا۔
’’سرونٹ ان کی اچھی کیئر نہیں کرسکتے۔‘‘ امامہ نے جواباً کہا۔
’’آپ انہیں اولڈ ہوم بھیج دیں۔‘‘ وہ اس معاشرے کا بچہ تھا، اسی معاشرے کا بے رحم، لیکن عملی حل بتا رہا تھا۔
’’کل کو ہم بھی بوڑھے ہوجائیں گے، تو تم ہمیں بھی اولڈ ہوم میں بھیج دو گے۔‘‘ امامہ نے کچھ ناخوش ہوتے ہوئے اس سے کہا۔
’’آپ انہیں یہاں لے آئیں۔‘‘ حمین نے ماں کی خفگی کو محسوس کیا۔
’’وہ یہاں نہیں آنا چاہتے، وہ اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتے۔‘‘ امامہ نے اس سے کہا۔
’’پھر ہم بھی اپنا گھر کیوں چھوڑیں؟ میں اپنا اسکول کیوں چھوڑوں؟‘‘ وہ دنیا کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک تھا۔ غلط بات نہیں کہہ رہا تھا۔ منطقی بات کررہا تھا۔ دماغ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہی ہوتا ہے۔ وہ عقل سے سوچتا ہے، دل سے نہیں۔
’’یہ ہمارا گھر نہیں ہے حمین… کرائے کا ہے، ہم صرف یہاں رہ رہے ہیں اور جب ہم پاکستان چلے جائیں گے تو بابا اور جبریل اس گھرکو چھوڑدیں گے، کیوں کہ انہیں اتنے بڑے گھر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جبریل ویسے بھی یونیورسٹی میں ہے… تمہارے پاپا نیویارک شفٹ ہونا چاہتے ہیں۔‘‘ امامہ اسے کہتی چلی گئی تھی۔
’’جبریل پاکستان نہیں جائے گا؟‘‘ حمین نے پوچھا۔
’’نہیں تمہارے بابا اسے اس لئے پاکستان بھیجنا نہیں چاہتے، کیوں کہ وہ یونیورسٹی میں ہے، اس کی اسٹڈیز متاثر ہوں گی۔‘‘ امامہ نے اسے سمجھایا۔
’’میری بھی تو ہوں گی، مجھے بھی ہر سال MIT جانا ہے۔ میں کیسے جاوؑں گا۔‘‘ وہ خفاہوا تھا اور بے چین بھی، اسے اپنا سمر پروگرام خطرے میں پڑتا دکھا تھا۔
’’تم ابھی اسکول میں ہو… جبریل یونیورسٹی میں ہے…اور پاکستان میں بہت اچھے اسکولز ہیں۔ تم کور کرلوگے سب کچھ… جبریل نہیں کرسکے گا، اسے آگے میڈیسن پڑھنی ہے۔‘‘ امامہ اسے وضاحت دینے کی کوشش کررہی تھی، جو حمین کے دماغ میں نہیں بیٹھ رہی تھی۔
’’یہ فیئر نہیں ہے ممی!‘‘ حمین نے دوٹوک انداز میں کہا۔ ’’اگر جبریل پاکستان نہیں جائے گا تو میں بھی نہیں جاؤں گا۔ مجھے MIT جانا ہے۔‘‘ وہ واضح طورپر بغاوت کررہا تھا۔
’’ٹھیک ہے، تم مت جاؤ۔ میں، عنایہ اور رئیسہ جاتے ہیں، تم یہاں رہنا اپنے بابا کے پاس…‘‘ امامہ نے ایک دم اس سے بحث کرنی بند کردی تھی۔ وہ کچھ مزید بے چین ہوا۔
’’یہ تمہارے بابا کا حکم ہے اور ہم سب اس کو مانیں گے… تم نافرمانی کرنا چاہتے ہو تو تمہاری مرضی، میں تمہیں مجبور نہیں کروں گی۔‘‘ امامہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔ دنیا کے وہ دو بہترین دماغ ایک دوسرے کے مقابل آگئے تھے۔
’’تم پاکستان نہیں جانا چاہتے حمین؟‘‘ اس رات سالار نے حمین کو بٹھا کر پوچھا تھا۔ امامہ نے اسے رات کے کھانے سے کچھ دیر پہلے اس کے انکار کے بارے میں بتایا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ حمین نے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں کر دیکھتے ہوئے کہا۔’’اور کوئی بھی نہیں جانا چاہتا۔‘‘ اس نے مزید بتایا۔
’’میں کسی اور کی نہیں، صرف تمہاری بات کررہا ہوں۔‘‘ سالار نے اسے ٹوک دیا۔
حمین سرجھکائے چند لمحے خاموش بیٹھا رہا پھر اس نے سراٹھا کر باپ کو دیکھا اور نفی میں سرہلادیا۔
’’وجہ؟‘‘ سالار نے اسی اندازمیں کہا۔
’’بہت ساری ہیں۔‘‘ اس نے بے حد مستحکم انداز میں باپ کو جواب دیا۔




Loading

Read Previous

ہم — کوثر ناز

Read Next

آبِ حیات — قسط نمبر ۱۳ (تبارک الذی)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!