ہم — کوثر ناز

محبت کسی تتلی کے مانند اس کے دل سے اڑ گئی تھی یا شایدکسی غبارے سے ہوا کی طرح نکل گئی تھی۔ وہ شخص جو کبھی میرے لیے تپتی دوپہر میں سڑک پر کھڑا میرے کالج سے واپسی کا منتظر ہوا کرتا تھا، جو میرے وصل کی خواہش میں مرا جاتا تھا اس کے لیے میں اس قدر ارزاں ہوگئی ہوں کہ اس سے کسی شے کو طلب کرتے ہوئے یا اپنی ضرورت اسے بتاتے ہوئے بھی مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اسے اب میری جدائی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ مجھ سے دور رہ کر خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔
مجھے اپنے بھائی کے گھر آئے آج پندرہ دن گزر چکے ہیں، لیکن اس نے پلٹ کر ایک بار خبر تک نہیں لی۔ نہ جانے کیوں اس کی محبت پانی کا بلبلا ثابت ہوئی۔ یہاں آتے ہوئے جہاں مجھے یہ امید بھی تھی کہ لاکھ بے زاریاں سہی، لیکن وہ مجھے روک لے گا۔ میری دھمکیوں کا اس پر اثر ہوگا، تو وہیں یہ خوف بھی من میں سر اٹھا رہا تھا کہ کہیں وہ نہ لوٹا تو؟ عمر کے اس حصے میں آکر جدائی میرا نصیب بن گئی تو؟ اور کہیں وہ اسی جدائی میں سکون پانے لگا تو؟ میں اپنی ذات کو لے کر کہاں جاؤں گی؟ بھائی کو کیا کہوں گی کہ محبت کی شادی کا انجام اس عمر میں آکر کیوں ظاہر ہوا جب میری ہستی آدھی بکھر گئی ہے۔ جب عمر کی منازل میرے چہرے کی جھریوں پر لکھی جاچکی ہیں لیکن میں پھر بھی آگئی ۔اس ڈر کو ساتھ لیے کہ کہیں مجھے خود ہی نہ لوٹنا پڑے کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو وہ میری ذات اور نسوانی انا کوپیروں تلے روند دے گا جیسے وہ شادی کے دو سال بعد سے میری محبت کو روندتا آیا ہے۔
ہاں! اس کی محبت، رانجھا کی سی محبت، شادی کے دو سال بعدہی اس سمیت چاہ یوسف میں گر کر گم ہوگئی تھی۔ وہ سب بھول گیا اس کی محبت بھی، میری ذات بھی اور اتنا عاجز آگیا کہ اگر میں کوئی بات شادی سے پہلے کی یاد دلواتی تو وہ کروٹ بدل کر سو جاتا یا سونے دو کہہ کر کر بازو آنکھوں پر رکھ لیتا اور میں، شرمندگی میں تو کبھی پچھتاوا لیے اس کی پیٹھ کو تکے جاتی۔ اگر کوئی مرد محسوس کرنے والا ہو، تو اس کے ڈوب مرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کی ہم سفر، اسے اپنے لیے چننے پر پچھتاوا محسوس کرنے لگی ہے۔ لازمی نہیں محسوس صرف تب ہو جب اقرار زبانی ہو جو خاموشی وآنکھوں کی بیانی محسوس کرتے اور سنتے ہیں، انہیں ہی محبوب کہتے ہیں اور میں تو چپ اس لیے بھی تھی کہیں میرے زبان کھولنے پر وہ مجھے میکے کا راستہ نہ دکھا دیں کیوں کہ ان سے کوئی بعید نہیں جو مجھے کسی زمانے میںاپسرا کا خطاب دیا کرتے تھے۔ وہ اب مجھے بدہیئت کہنے پر اتر آئے تھے۔ شادی، وہ رشتہ جہاں جوڑے کے درمیان کئی بار نفرت تو کئی بار محبت ہوتی ہے، لیکن وہ اب مجھے مسلسل بے زاری دکھا رہا تھا۔ میرے ذوق و شوق وہی ہیں، میں شاعری کا ذوق اب بھی رکھتی ہوں کہ اس کے لیے میری محبت کہیں نہ کہیں اب بھی دفن ہے۔میں نے اپنی ذات اس کے لیے گنوا دی، مگروہ سب دفنا چکا ہے۔ اسے اب نہ تو شاعری سے شغف ہے، نہ اسے مجھ سے پہلے سی محبت ہے۔ اتنا ہی نہیں، وہ میری محبت بھری باتوں سے، جنہیں سنتے سنتے وہ کبھی نیند کے آغوش میں چلے جانا چاہتا تھا، اب اسے میری وہی باتیں سننا بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کسی پرانے ریڈیو کو سن کر سماعت کو اذیت دینا۔ اس کے لیے میں ایک ایسا علاقہ تھی جسے فتح کرنے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد آگے بڑھنا ضروری ہوگیا تھا، مگر میں وہی تھی، دل و جان سے مشرقی لڑکی جو اس کے لیے اب بدہیئت ہوچکی تھی۔ میں جان نثار کرنے والی ہی رہی اور وہ راہ بدل گیا۔ وہ بھول گیا محبت اور یہ بھی کہ محبوبہ گر بیوی بھی بن جائے یا عمر کی کتنی بھی منازل طے کرلے وہ توجہ اور محبت اوّل روز والی ہی چاہتی ہے کہ اگر اس کی ذات اجڑی ہے، تو تمہیں اور تمہارے گھرانے کو آباد کرنے کو۔




وہ کہتا ہے مجھے اس کی توجہ پانے کی ایک مہلک بیماری لگ چکی ہے۔ جس کے لیے میں کبھی غصہ کرتی ہوں تو کبھی شادی سے پہلے کی باتیں یاد دلواتی ہوں تو کبھی طنز کرتی ہوں، لیکن وہ دونوں ہاتھ اٹھائے ہر الزام سے بری الذمہ نظر انداز کرتا پایا جاتا کہ وہ میری بیماری پر دستِ شفا مزاجی خدا کی حیثیت سے بھی نہیں رکھ سکتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں میں اس کا ہاتھ تھام نہ لوں اور وہ اس گستاخی کے نتیجے میں کہیں سزا کا حق دار نہ ٹھہرا دیا جائے۔
میں نے اس کی نسل بڑھانے کی سعی میں اسے تین ہونہار اولادیں دیں جو اپنے اپنے کیرئیر بنانے میں مصروفِ عمل ہیں، مگر وہ میری قدر بھول گیا۔ اسے اس بات سے چڑ تھی کہ میں اس کی محبوبہ کیوں تھی؟ وہ اس عمر میں مجھ سے رویہ بدلنے کی امید کررہا تھا۔ میں اپنا رویہ کیسے بدل لیتی؟ مجھے تو اوّل روز کے مانند اس سے ویسی ہی محبت تھی، شدید اور خواہش تھی کہ کہیں نہ کہیں وہ مجھے وہی خصوصی توجہ دے جو میرا حق ہے ۔ وہ ہمیشہ مجھے یہ باور کروادیا کرتا کہ ہر شے کا اپنا اپنا ایک وقت ہوتا ہے اور وقت گزر جائے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے اور ماضی میں رہنے والوں کا حال ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اسے شاید اس بات سے بھی چڑ تھی کہ میں نے عمر کی منازل کیوںطے کیں، لیکن میرے پاس ایسا کوئی کلیہ نہیں تھا کہ میں اپنی بڑھتی عمر کو روک لیتی۔ اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ میں نے کبھی اس کی بڑھتی عمر کی جانب اس کی توجہ نہیں دلوائی۔ اس بات کا کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ بھی اب نوجوان نہیں ہیں، چالیس کے ہندسے کو کب سے عبور کرچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھیں اند ر اور بال آدھے رہ گئے ہیں، لیکن انہیں یہ احساس نہیں ہواکہ مجھے بچوں کی تعلیم وتربیت اور گھر کو جوڑنے نے ایسا کردیا ہے ۔وہ بچے بھی ہم دونوں ہی کے ہیں، وہ گھر بھی ہمارا ہی ہے۔ وہ شوخ مزاج شاید نظروں کے پہلی بار کے تصادم کا سا لطف ، پہلی بارش میں بھیگنے کی سی سرشاری، ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر سرمئی کہر میں پہلی بار اترنے کا سا تجربہ اور شادی کے پہلے چند ماہ کے دوران وصل و سرور سے لبریز دن اور راتیں چاہتا تھا اور تبھی جواباً میں اس کی توجہ پا سکتی تھی، مگر وقت بدلتا ہے تو رشتوں کے درمیان محبتوں کے طریقے ضرور بدل جاتے ہیں، مگر محبتیں ہوا نہیں ہوجاتیں۔
وہ کہتا تھا کہ ایک مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر جس کے سر پر ٹارگٹ سوار ہوں، وہ مجھ سے محبت میں نبھا اس عمر تک آتے آتے کیسے کرے، لیکن وہ سمجھتا ہی نہ تھا کہ کبھی کبھی محبتیں جان بوجھ کر بھی بانٹنی پڑتی ہیں کہ اگر جواباً گرم جوشی ملے تو انسان میں محبت کی کاشت پھر سے شروع ہوجاتی ہے۔ رشتوں کی ٹوٹتی سانسیں ایسے بھی بحال کی جاسکتی ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ سب پیچھے رہ گیا۔ سارا محبت کا نشہ ہرن ہوگیا اور ہاتھ میں ذلت و رسوائی کے سوا میں اور کچھ نہیں دیکھ رہی۔ اے خدا تعالیٰ! میری ذات کو بکھرنے سے بچا لے۔ میرا مان میرے اپنوں کے سامنے سلامت رکھناـ۔ بستر پر پڑی چھت کو ایک ٹک گھورتی وہ ماضی سے حال کا سفر طے کرآئی تھی اور اب آنکھوں سے بہتا گرم سیال صاف کرتی وہ خدا کے حضور دعا گوتھی۔ تب ہی بھائی نے آکر دروازے پر دستک دی، تو اس کی محویت ٹوٹی اور اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ بھائی نے جو خبر دی،اسے سن کر شدید مسرت و حیرانی سے دوچار ہوئی اور واپس مڑکر جلدی سے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ حلیہ درست کرتے ہوئے اس نے جلدی سے سامنے پڑی سرخی سے لبوںکو ذرا سا سرخ کیا اور دھڑکتے دل کی آواز سنی جو محبت کے گیت گارہا تھا مگر وہ ڈر گئی کہ اسے یہ سب پسند نہیں۔ لیکن دل تو آخر بچہ تھا، خوشی سے شاد تھا۔ وہ آخری نظر آئینے میں نظر آتے اپنے سراپے پر ڈالتے ہوئے ہتھیلی پر آیا پسینا صاف کرتے ہوئے اسی جانب چل دی جہاں سے بھائی آئے تھے۔
٭…٭…٭
ٹھنڈی چلتی تیز ہوائیں اور پرفسوں شام، اس پر ریل گاڑی کے ماحول کی مخصوص مگر مدھم سی خاموشی جو کم مسافر ہونے کے باعث تھی۔ کچھ باہر برستی ہلکی بوندوںکا اثر تھا کہ ہر شخص قدرت کے عنایت کیے گئے اس حسین موسم سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ ایسے میںسحر عالم اپنے ہم سفردبیر عالم مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر ، بلا کے کرخت اور خود سے بے زار انسان کو اپنا ہاتھ تھامے بیٹھے دیکھے تو حیرت توہوتی ہے۔ ایسے میں سحر عالم کو اس کی خاموشی بھلی نہیں لگ رہی تھی۔ آج ایک عرصے بعد اس کی آنکھوں میں وہ دیپ روشن تھے جو شادی کے اوئل دنوں میں ہوا کرتے تھے۔ وہ جب اس کے سامنے گئی تو اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ:
سحر چلو، جلدی سے جاکر اپنا سامان پیک کرو، اگلی ریل سے گھر کے لیے نکلنا ہے ۔‘‘ سحر عالم بے خودی میں ہونقوں کی طرح اسے دیکھے گئی تھی۔ اس کے دوبارہ کہنے پر سحر عالم شاک سے باہر نکلی اور جاکراپنا سامان اٹھا لائی اور اب ریل میں اس کے سامنے نشست پر بیٹھی اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر سحر کو کل کی وہ نظم یاد آئی گئی تھی جو اس کی بھتیجی نے اسے سنائی تھی اور اس نے لفظ بہ لفظ باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے اسے کہہ سنائی۔
کچھ کہنا چاہتی ہے
مگر کہہ نہیں سکتی
کھل کر نہیں برستی
تمہاری طرح
بارش کسی الجھن میں ہے
دبیر عالم نے اسے بہ غور دیکھا اور عقیدت سے بھرپور نگاہ سحر عالم کے چہرے پر ڈالی کہ، سحر عالم وہ عورت تھی جس کے ساتھ میں نے خواب دیکھے تھے جس کے وصل کی چاہ لیے میں کئی مہینوں تک ہر رات اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا تھا۔
میں اس سے بے زار کیسے ہوگیا؟ یہ تو آج بھی مجھے اسی شدت سے چاہتی ہے۔
’’تم نے سچ میں میری آنکھیں کھول دیں میرے اجنبی محسن! تم نے مجھے سوچنے کا نیا زاویہ دیا ہے، بہت شکریہ ‘ آسودگی سے مسکراتے ہوئے دبیر عالم نے اس اجنبی کو سوچا جو لاہور جاتے ہوئے اس کا ہم سفر تھا اور اپنی بیوی کم محبوبہ کے لیے شاعری کررہا تھا۔ اس کی یاد سے اس اجنبی کی آنکھوں میں نمی تھی اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کی عمر بھی مجھ سے قطعی کم نہ تھی، مگر محبت تاحال قائم تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ محبت کی اصل جگہ دل ہے، اس کے سوا اس کا کوئی اور ٹھکانہ ہوہی نہیں سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ محبت صنوبر کے کسی بلند پیڑ کے مخروطی پتے پر لرزاں ، برستی ہوئی بارش کا کوئی قطرہ نہیں ہے کہ ایک ہوا کے جھونکے سے بے نام اتھاہ گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجائے، نہ ہی کیلنڈر کا صفحہ ہے جو مہینہ ختم ہوتے ہی پلٹ دیا جائے۔ یہ تو خدا کا پرتو ہے۔ محبت آگے ، اطراف ، نیچے، اوپر اور پیچھے ایک ہی ہیئت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسے ہمیشہ اور ہرجگہ رہنا ہے۔ اس نے اپنی کہانی بتائی۔ اس کے لفظوں میں اتنی تاثیر تھی کہ میں خود کو تمہارے معاملے میں بے اختیار سا پانے لگا۔ اس اجنبی کے دل میں اپنی بیوی کے لیے اتنی تعظیم تھی کہ وہ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا گیا۔ میں محبت کو پراڈکٹ اور وہ منافع سمجھتا تھا جو ہمیشہ حاصل کرنا چاہتا تھا اور بدقسمتی سے میں کھوتا جارہا تھا ۔
محبت پالینے سے پہلے
کبھی نہاں ، کبھی فغاں ہے
پالینے کے بعد
مسلسل امتحان ہے
’’پڑھنے کے بعد میں سمجھ گیا بلکہ اس کی محبت کے انداز و اطوار، اس کے پرخلوص لفظوں نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ محبت میں جو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتا، وہ زندگی میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مجھے اندازہ ہوگیا سحر عالم کہ میں ہی غلط تھا۔ پرانی باتیں یاد کرنے سے تو رشتے جوان ہوتے ہیں، انہی کے ذکر سے تو ہم اپنی بے رنگ زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کی پھر سے کوشش کرسکتے ہیں کہ ہم کیا تھے۔ سحر عالم میرا تم سے وعدہ ہے۔ اب سے ہر دم تم میری محبت کی گھنی چھاؤں میں رہو گی۔ اسی لیے میں اسٹیشن پر اترا کہ تمہیں ابھی ساتھ لے چلوں کیوں کہ تمہارے ہونے سے میرا گھر مکمل ہوتا ہے۔‘‘ وہ سوچتے سوچتے جانے کب بولنے لگے تھے۔ سحر عالم دم بہ خود سکتے کی سی کیفیت میں انہیں سنے جارہی تھی اورا ب ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، تشکر لیے۔ وہ دل ہی دل میں اپنے اجنبی محسن کا شکریہ ادا کرنے لگی اور ساتھ ہی خدا کے حضور گویا ہوئی :
’’اے خدا! تیرے احسانات کا بدلہ اگر میں تاحیات سجدے میں رہ کر بھی گزار دوں تو ممکن نہیں۔ تونے مجھے رسوائی سے بچا کر میرے دامن میں خوشیاں بھر دیں۔ شکر ہے میرے مالک، کرم ہے تیرا۔‘ سحر عالم نے مسکرا کر دبیر عالم کو دیکھا جو اب ان کی پلکوں سے آنسو چن رہے تھے۔

٭…٭…٭




Loading

Read Previous

رشتے والی — قرۃ العین مقصود

Read Next

آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!