آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

گرینڈ حیات ہوٹل کا بال روم اس وقت نینشل اسپیلنگ بی کے 93 ویں مقابلے کے فائنلسٹ کا پہلا راؤنڈ منعقد کروانے کے لئے تیار تھا۔ حمین سکندر اپنے ٹائٹل کا دفاع کررہا تھا اور رئیسہ سالار اس مقابلے میں پہلی بار حصہ لے رہی تھی۔ وہ سالار سکندر کے گھرمیں چوتھی ٹرافی لانے کے لئے پرجوش تھی اور صرف وہی تھی جو پرجوش تھی۔ گھر کے باہر افراد فکر مند تھے اور اس پریشانی کی وجوہات دو تھیں… اگر وہ نہ جیت سکی تو…؟ اور اگر حمین سکندر جیت گیا تو…؟
رئیسہ اس وقت اسٹیج پر اپنے پہلے لفظ کے بولے جانے کے انتظار میں تھی۔
رئیسہ نے پوچھا جانے والا لفظ بے حد غور سے سنا تھا۔ وہ لفظ غیر مانوس نہیں تھا۔ وہ ان ہی الفاظ میں شامل تھا جس کی اس نے تیاری کی تھی۔ ’’Crustaceology‘‘ اس نے زیر لب اس لفظ کو دہرایا، پھر بنا آواز اس کے ہجے کئے اور پھر بالآخر اس نے اس لفظ کو ہجے کرنا شروع کیا تھا۔
’’C-r-u-s-t-a-c-o-l-o-g-y‘‘ رئیسہ نے بے یقینی کے عالم میں اس گھنٹی کو سنا تھا جو لفظ غلط ہونے پر بجی تھی۔ اس کا رنگ فق ہوا، لیکن اس سے زیادہ فائنلسٹ میں بھی شامل حمین سکندر کا، جسے اس کے بولنے کے دوران ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نے کیا غلطی کی تھی۔ ہال میں امامہ اور سالار، جبریل اور عنایہ کے ساتھ عجیب سی کیفیت میں بیٹھے تھے۔ یہ غیر متوقع نہیں تھا، وہ اس کی توقع بہت پہلے سے کررہے تھے۔
رئیسہ کا فائنل راؤنڈ تک پہنچنا بھی اس کے لئے ناقابل یقین ہی تھا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر پرفارمنس دکھائی تھی لیکن کسی بھی مرحلے پر اس کے باہر ہونے کا خدشہ دل میں لے کر بیٹھے رہنے کے باوجود اب جب ان کے خدشات حقیقت کا روپ دھار رہے تھے تو انہیں تکلیف ہورہی تھی۔ وہ ابھی مقابلے سے باہر نہیں ہوئی تھی۔ واپس آسکتی تھی، مگر وہ پہلا مکا تھا جو رئیسہ نے سیدھا منہ پر کھایا تھا اور اب اس کے اثرات سے باہر نکلنے کے لئے اسے کچھ وقت چاہیے تھا۔
حمین اس سے کچھ کرسیوں کے فاصلے پر تھا۔ ان دونوں کے درمیان کچھ اور فائنلسٹس تھے، لیکن اس کے باوجود اس نے اٹھ کر رئیسہ کی کرسی پر آکر اس کا کندھا تھپکا تھا۔ اسے چیئر اپ کرنے کی کوشش کی تھی۔
’’مجھے اسپیلنگ آتی تھی۔‘‘ رئیسہ نے بے حد مدھم اور بے حد کمزور آواز میں جیسے حمین پر واضح کیا تھا اور ایک جملے سے زیادہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ اسے پتا تھا، کسی وضاحت کا فائدہ نہیں تھا۔ وہ جب واپس آکر بیٹھی تو اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ دوسرے فائنلسٹس کے ساتھ بیٹھے اپنے ماں باپ اور بہن بھائی کو نظر اٹھا کر دیکھ سکتی۔ یہ احساس رکھنے کے باوجود کہ وہ بیک وقت اسے ہی دیکھ رہے ہوں گے۔
’’ یہ ایک کھیل ہے رئیسہ اور اسے کھیل کی اسپرٹ کی طرح لینا ہے۔‘‘ مقابلے سے ایک دن پہلے سالار نے اسے سمجھایا تھا۔
وہ جیسے ذہنی طور پر اسے ’’گرنے‘‘ کے لئے نہیں، گر کر اٹھنے کے لئے تیار کررہا تھا۔ رئیسہ نے ہمیشہ کی طرح بے حد توجہ سے باپ کی بات سنی تھی لیکن جو بھی تھا، وہ آٹھ سال کی بچی تھی، جس کے تین بہن بھائی وہ ٹرافی جیت چکے تھے۔ جسے جیتنے کے لئے وہ اب اس کو دی تھی۔ اسے توقع تھی وہ بھی ’’جیت‘‘ جائے گی۔
آٹھ سال کی عمر میں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہار اور جیت ہوتی کیوں ہے… وہ جبریل، عنایہ اور حمین نہیں تھی کہ غیر معمولی ذہانت رکھتی اور غیر معمولی انداز میں صورت حال کا تجزیہ کرلیتی، وہ عام بچوں کی طرح تھی اور اسے لگتا تھا اگر دوسرے آسمان سے تارے توڑ کر لاسکتے ہیں، تو وہ بھی لاسکتی ہے۔ اسے ’’اپنا‘‘ اور ’’دوسروں‘‘ کا فرق سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
حمین سکندر اب اسٹیج پر اپنے پہلے لفظ کے لئے کھڑا تھا اور اس کا استقبال تالیوں کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ اگر پچھلے سال کا ڈارلنگ آف داکراؤڈ تھا تو اس سال بھی وہ ہاٹ فیورٹ کے طور پر مقابلے میں کھڑا تھا۔ پچھلے سارے راؤنڈز میں اس نے مشکل ترین الفاظ کو حلوے کی طرح بوجھا تھا اور اس سے ایسی ہی توقع اس راؤنڈ میں بھی کی جارہی تھی۔ وہ پچھلے سال کا چیمپئن تھا۔ اپنے ٹائٹل کا دفاع کررہا تھا اور فائنلٹس کی نظروں میں اس کے لئے احترام نہیں مرعوبیت تھی۔
’’vignette‘‘ اس کا لفظ بولا جارہا تھا۔ وہ حمین سکندر کے لئے ایک اور ’’حلوہ‘‘ تھا۔ وہ اس سے زیادہ مشکل اور لمبے الفاظ کے ہجے کرچکا تھا۔ رئیسہ نے بھی زیر لب کئی دوسرے فائنلٹس کی طرح وہ لفظ ہجوں کی طرح درست طور پر ادا کیا۔





’’v-i-g-n-e-t-t-e‘‘ رئیسہ نے اسٹیج پر کھڑے حمین کو رکتے دیکھا۔ اس کا خیال تھا وہ آخری حرف بول رہے تھے۔ سب جیسے اسے سوچنے کے لئے ٹائم دے رہے تھے۔ حمین نے ایک لمحہ رکنے کے بعد اس لفظ کو ان اسپیلنگ کے ساتھ اسی طرح ادا کیا۔ بیل بجی… ہال میں پہلے سکتہ ہوا، پھر سرگوشیاں ابھریں۔ پھر پروناؤنسر نے صحیح اسپیلنگ ادا کئے۔ حمین نے سرجھکا کر جیسے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اپنی کرسی کی طرف چلنا شروع کردیا۔
وہ اس مقابلے کا پہلا اپ سیٹ تھا۔ پچھلے سال کا چیمپئن اپنے پہلے ہی لفظ کے ہجے کرنے میں ناکام رہا تھا۔
ہال میں بیٹھے سالار، امامہ، جبریل اور عنایہ بیک وقت اطمینان اور پریشانی کی ایک عجیب کیفیت سے گزرے تھے۔ وہ ایک ہی راؤنڈ میں رئیسہ کی ناکامی دیکھ کر حمین کی کامیابی پر تالیاں نہیں بجانا چاہتے تھے اور انہیں یہ بجانی بھی نہیں پڑی تھیں، لیکن حمین سے لفظ نہ بوجھنا غیر متوقع تھا۔ غیر متوقع سے زیادہ یہ صورت حال ان کے لئے غیر یقینی تھی، لیکن انہیں یہ انداز نہیں تھا۔ اس دن انہیں وہاں بیٹھے مقابلے کے آخر تک اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رئیسہ اگلے دو لفظ بھی نہیں بوجھ سکی تھی اور حمین سکندر بھی… وہ دونوں فائنل مقابلے کے ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلے سے آؤٹ ہوگئے تھے۔
رئیسہ کی یہ پرفارمنس غیر متوقع نہیں تھی، لیکن حمین سکندر کی ایسی پرفارمنس اس رات ایک بریکنگ نیوز تھی… پچھلے سال کا چیمپئن مقابلے سے آؤٹ ہوگیا تھا حمین سکندر کے چہرے کا اطمینان ویسے کا ویسا تھا، یوں جیسے اسے فرق ہی نہیں پڑا ہو۔ رئیسہ کے پیچھے پیچھے وہ بھی، مقابلے سے باہر ہونے کے بعد، اپنے ماں باپ کے پاس آکر بیٹھ گئے تھے۔
دونوں نے ان دونوں کو تھپکا تھا۔ تسلی دی تھی۔ یہ ہی کام جبریل اور عنایہ نے بھی کیا تھا۔
’’بہت اچھے!‘‘ انہوں نے اپنے چھوٹے بہن بھائی کا حوصلہ بندھایا تھا۔
ان دونوں نے خود پہلے سال کے بعد دوبارہ ’’اسپیلنگ بی‘‘ کے مقابلے میں حصہ لے کر اپنا ٹائٹل ڈیفنڈ نہیں کیا تھا۔ اس لئے آج ٹائٹل کھو دینے کی حمین کی کیفیت سے نہ گزرنے کے باوجود وہ اسے تسلی دے رہے تھے۔ رئیسہ یک دم ہی جیسے بیک گراؤنڈ میں چلی گئی تھی۔ وہ خاموشی سے یہ سب کچھ بیٹھی دیکھتی رہی تھی۔
ان لوگوں نے اس سال کے نئے چیمپئن کوبھی دیکھا تھا اور ان انعامات کے ڈھیر کو بھی جو اس سال اس پر نچھاور کئے جارہے تھے اور پچھلے سال وہ حمین سکندر گھر لایا تھا۔ رئیسہ کا غم جیسے کچھ اور بڑھا تھا۔ وہ سالار سکندر کے خاندان کا نام روشن نہیں کرسکی تھی جیسے اس کے بڑے بہن بھائی کرتے تھے… وہ ان جیسی نہیں تھی… وہ پہلا موقع تھا جب رئیسہ کو احساس کمتری ہوا تھا اور شدید قسم کا … آٹھ سال کی عمرمیں بھی وہ یہ جانتی تھی کہ وہ لے پالک تھی۔ سالار سکندر کے ایک دوست اور اس کی بیوی کے ایک حادثے میں مارے جانے کے بعد سالار اور امامہ نے اسے گود لیا تھا۔ یہ وہ بیک گراؤنڈ تھا جو رئیسہ سالار کو دیا گیا تھا اور اس چیز نے اسے کبھی پریشان نہیں کیا تھا، نہ ان سوالوں پر اس نے غور کیا تھا۔ وہ ایک ایسے ملک اور معاشرے میں پرورش پارہی تھی جہاں اس کے اسکول میں ہر تیسرا، چوتھا بچہ اڈاپٹڈ ہوتا تھا یا سنگل پیرنٹ کی اولاد ہوتا تھا۔ معاشرہ اسے کمپلیکس میں مبتلا نہیں کرسکا تھا اور گھر میں غیریت کا احساس اسے کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔
مگر وہ پہلا موقع تھا جب رئیسہ نے اپنے آپ کو ان سب سے کمتر سمجھا تھا۔ وہ سب اس سے بہتر شکل و صورت کے تھے۔ اس سے بہترین ذہنی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ کسی بھی طرح ان کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی تھی لیکن وہ ان کی طرح دنیا کے ساتھ بھی مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔
ان کے گھر میں لانے والی ٹرافیز، میڈلز، سرٹیفکیٹ اور نیک نامی میں اس کا بہت تھوڑا حصہ تھا۔ یہ اسے پہلے بھی محسوس ہوتا تھا، لیکن آج وہ پہلی بار اس پر رنجیدہ ہوئی تھی اور اس رنجیدگی میں اس نے حمین سکندر کی ناکامی کے بارے میں غور نہیں کیا تھا۔ نہ ہی اس نے گاڑی میں ہونے والی گفتگو پر غور کیا تھا جو واپس گھر جاتے ہوئے ہورہی تھی۔
’’تم ادا س ہو؟‘‘ یہ حمین کی سرگوشی تھی جو اس نے گاڑی میں سب کی ہونے والی گفتگو کے درمیان رئیسہ کے کان میں کی تھی۔
’’نہیں۔‘‘ رئیسہ نے اسی انداز میں جواب دیا۔
’’مجھے پتا ہے تم اداس ہو۔‘‘ حمین نے ایک اور سرگوشی کی۔ رئیسہ کو پتا تھا وہ اس کے جھوٹ کو سچ نہیں مانے گا۔
’’تم نیکسٹ ائیر جیت سکتی ہو۔‘‘ اس نے جیسے رئیسہ کو ایک آس دلائی۔
’’مجھے پتا ہے… لیکن اگلا سال بہت دور ہے۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔
حمین نے اس کی کمر میں گدگدی کرنے کی کوشش کی۔ وہ سکڑ کر پیچھے ہٹی۔ اسے ہنسی نہیں آئی تھی اور وہ ہنسنا چاہتی بھی نہیں تھی۔
’’میں بھی تو ہارا ہوں۔‘‘ حمین کو اس کے موڈکا اندازہ ہوگیا تھا۔
’’تم جیتے بھی تو تھے نا۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔ چند لمحوں کے لئے حمین سے جیسے کوئی جواب نہیں بن پڑا، پھر اس نے کہا۔
’’وہ تو یونہی تکا لگ گیا تھا۔‘‘ اس نے جیسے اپنا ہی مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
رئیسہ جواب دینے کے بجائے گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ یہ جیسے اعلان تھا کہ وہ اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنا چاہتی۔
٭…٭…٭
’’رئیسہ بہت اپ سیٹ ہے۔‘‘ اس رات سالار نے امامہ سے سونے سے پہلے کہا تھا۔
’’میں جانتی ہوں اور میں اسی لئے نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس مقابلے میں حصہ لیت جن میں وہ تینوں ٹرافیز جیت چکے تھے، لیکن تم نے منع نہیں کیا اسے۔‘‘ امامہ نے جواباً اس سے کہا۔
’’میں کیسے اسے منع کرتا؟ یہ کہتا کہ تم نہیں جیت سکتیں، اس لئے مت حصہ لو اور پھر وہ فائنل راؤنڈ تک پہنچی۔ بہت اچھا کھیلی ہے۔ یہ زیادہ اہم چیز ہے۔‘‘ سالار نے اپنے ہاتھ سے گھڑی اتارتے ہوئے بیڈ سائڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
’’وہ بہت سمجھدار ہے، ایک دو دن تک ٹھیک ہوجائے گی، جب میں اسے سمجھاؤں گی کہ حمین بھی تو ہارا ہے۔ لیکن اسے پروا تک نہیں… اسے اپنے سے زیادہ فکر رئیسہ کی تھی۔‘‘ امامہ نے کہا۔ وہ ایک کتاب کے چند آخری رہ جانے والے صفحے پلٹ رہی تھی۔
’’اسے فکر کیوں ہوگی؟ وہ تو اپنی مرضی سے ہارا ہے۔‘‘ سالار نے بے حد اطمینان سے کہا۔
صفحے پلٹتی امامہ ٹھٹک گئی۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
سالار نے گرن موڑ کر اسے دیکھا اور مسکرایا۔ ’’تمہیں اندازہ نہیں ہوا؟‘‘
’’کس بات کا؟ کہ وہ جان بوجھ کر ہارا ہے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ امامہ نے خود سوال پوچھا خود جواب دیا، پھر خود جواب کی تردید کی۔
’’تم پوچھ لینا اس سے کہ ایسا ہوسکتا ہے یا نہیں۔‘‘ سالار نے بحث کئے بغیر اس سے کہا۔ وہ اب سونے کے لئے لیٹ گیا تھا۔ امامہ ہکا بکا اس کا چہرہ دیکھتی رہی، پھر جیسے اس نے جھلا کر کہا۔
’’تم باپ بیٹا عجیب ہو۔ بلکہ عجیب ایک مہذب لفظ ہے۔‘‘
’’تم جبریل کو مائنس کیوں کر جاتی ہو ہر بار؟‘‘ سالار نے اسے چھیڑا۔
’’شکر ہے وہ حمین اور تمہاری طرح نہیں ہے۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا، حمین… وہ کیوں اس طرح کرے گا۔‘‘ وہ اب بھی الجھی ہوئی تھی۔
’’پوچھ لینا اس سے کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہے۔ اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔ یہ کوئی فلاسفی کا سوال تو نہیں ہے کہ جواب نہیں مل سکتا۔‘‘ سالار نے اب بھی اطمینان سے ہی کہا تھا۔
’’جب تم نے یہ راز کھول دیا ہے تو یہ بھی بتادو کہ کیوں کیا ہے اس نے یہ سب…؟‘‘ امامہ کریدے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔
’’رئیسہ کے لئے۔‘‘ سالار نے جواباً اس سے کہا تھا۔
’’اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘‘ اس نے آنکھیں بند کرکے کروٹ لی اور سائڈ ٹیبل لیمپ آف کردیا۔
وہ اندھیرے میں اس کی پشت کو گھور کر رہ گئی تھی۔
وہ غلط نہیں کہتی تھی، وہ دونوں باپ بیٹا ہی عجیب تھے، بلکہ عجیب ایک مہذب لفظ تھا ان کے لئے…
٭…٭…٭
’’رئیسہ تم سو کیوں نہیں رہیں؟‘‘ عنایہ نے اسے ایک کتاب کھولے اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے دیکھ کر پوچھا تھا۔
’’میں وہ الفاظ دیکھنا چاہتی ہوں اور یاد کرنا چاہتی ہوں جو مجھے نہیں آتے۔‘‘ اس نے مڑے بغیر، عنایہ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔ عنایہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
انہیں ابھی گھر واپس آئے ایک گھنٹہ ہی ہوا ہوگا اور وہ ایک بار پھر سے کتاب لے کر بیٹھ گئی تھی۔ وہ عنایہ کے کمرے میں ہی سوتی تھی اور جبریل کے گھر سے جانے کے بعد اسٹڈیز میں ہیلپ کی بنیادی ذمہ داری اب عنایہ پر ہی آگئی تھی۔
’’تم نے پہلے ہی بہت محنت کی ہے رئیسہ! یہ صرف تمہاری بدقسمتی تھی۔‘‘ عنایہ کو اندازہ نہیں ہوا، وہ اسے تسلی دینے کے لئے جن الفاظ کا انتخاب کررہی تھی وہ بڑے غلط تھے۔ وہ الفاظ رئیسہ کے دماغ میں جیسے کھب گئے تھے۔
’’اب سوجاؤ۔ There’s always a next time‘‘ عنایہ نے کسی بڑے کی طرح اس کی پشت کو تھپکا تھا۔
’’میں نہیں سو سکتی۔‘‘ مدھم آواز میں رئیسہ نے جیسے عنایہ سے کہا۔ وہ ابھی تک ویسے ہی بیٹھی تھی، عنایہ کی طرف پشت کئے۔ کتاب اسٹڈی ٹیبل پر کھول کر ٹکائے، جہاں ایک صفحے پر وہ لفظ چمک رہا تھا جس کے ہجے نہ کرسکنے کی وجہ سے وہ مقابلے سے آؤٹ ہوئی تھی۔
عنایہ کو یوں لگا جیسے رئیسہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ اسے لگا اسے غلط فہمی ہوئی ہے، لیکن وہ غلط فہمی نہیں تھی۔ رئیسہ نے کتاب بند کرکے ٹیبل پر رکھی اور وہاں سے اٹھ کر وہ بستر پر آئی اور اوندھے منہ لیٹ کر اس نے بلک بلک کر رونا شروع کردیا۔
’’رئیسہ… رئیسہ… پلیز…!‘‘ عنایہ خود بھی روہانسی ہوگئی تھی۔ رئیسہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے والی بچی نہیں تھی اور وہ مقابلے میں ہارنے کے بعد اسٹیج سے ہٹنے پر بھی دوسروں کی طرح نہیں روئی تھی۔ پھر اب اس وقت… اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ رئیسہ اپنے بدقسمت ہونے پر رو رہی تھی۔
’’تم کیا کررہے ہو اس وقت؟‘‘ امامہ لاؤنج میں ہونے والی کھڑکھڑاہٹوں کو سن کر رات کے اس وقت باہر نکل آئی تھی۔ وہ اس وقت تہجدکے لئے اٹھی تھی۔
جبریل اس ویک اینڈ پر گھر آیا ہوا تھا اور کئی بار وہ بھی رات کے اس پہر پڑھنے کے لئے جاگتا اور پھر کچھ نہ کچھ کھانے کے لئے کچن جاتا مگر اس بار اس کا سامنا حمین سے ہوا تھا۔ وہ کچن کاؤنٹر کے سامنے پڑے ایک اسٹول پر بیٹھا سلیپنگ سوٹ میں ملبوس، آئس کریم کا ایک لیٹر والا کین کھولے اسی میں سے آئس کریم کھا رہا تھا۔
امامہ کو سوال کرنے کے ساتھ ہی جواب مل گیا تھا اور اس نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بے حد خفگی کے عالم میں کاؤنٹر کے سامنے آتے ہوئے اس سے کہا۔




Loading

Read Previous

ہم — کوثر ناز

Read Next

آبِ حیات — قسط نمبر ۱۳ (تبارک الذی)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!