آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

’’نہیں کوئی ایسی بات نہیں ہے… فلو کی وجہ سے ہی گیا تھا دوبارہ… بس گپ شپ کرتے ہوئے فون ٹیبل پر رکھا اور پھر اٹھانا یاد ہی نہیں رہا۔‘‘
سالار نے اس رات فون پر امامہ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ وہ مطمئن ہوگئی۔
’’اور فلو…؟ اس کا کیا ہوا؟‘‘
’’بس چل رہا ہے۔‘‘
’’ٹیسٹوں کی رپورٹس آگئیں؟‘‘
’’ہاں سب ٹھیک ہے بس وائرل انفیکشن ہے، اس نے کچھ میڈیسنز دی ہیں، ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی… میں نے سوچا پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ کیوں دوبارہ اسپتال میں فرقان کے ساتھ بیٹھے ہو۔‘‘
وہ خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا رہا۔ فرقان نے ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اسے بھی امامہ کو کچھ بھی نہیں بتانا چاہیے تھا، لیکن اس کے لہجے میں جھلکنے والے اطمینان نے اسے عجیب طریقے سے گھائل کیا تھا… وہ اسے دھوکا دے رہا تھا۔
وہ اب اسے بچوں کے بارے میں بتارہی تھی۔ بچوں سے باری باری بات کروا رہی تھی۔ وہ پچھلے تین دن سے جبریل کو قرآن پاک نہیں پڑھا پایا تھا۔ امامہ نے اسے یاد دلایا۔
’’تم پڑھادو۔‘‘ سالار نے جواباً کہا۔
’’میں تو پچھلے تین دن سے پڑھا رہی ہوں۔ revision (دہرائی) کروا رہی ہوں۔ نیا سبق تو تم ہی دوگے۔‘‘ وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
’’کتنے پارے رہ گئے؟‘‘ سالار نے اس کی بات پر عجیب غائب دماغی سے پوچھا۔
امامہ نے نوٹس کیا۔ ’’آخری دس۔‘‘
’’جلدی ہوجائیں گے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔





’’ہاں انشاء اللہ… وہ ماشاء اللہ ذہین بھی تو بہت ہے۔ دس سال کا ہونے سے پہلے ہی قرآن پاک مکمل ہوجائے گا اس کا۔‘‘
وہ اس بار سالار کے لہجے پر غور کئے بغیر کہتی گئی۔ وہ چاہتے تھے جبریل اس سے بھی کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرلیتا کیوں کہ وہ بلا کا ذہین تھا اور اس کی زبان بے حد صاف تھی، لیکن سالار نے اسے اس عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے پر لگایا تھا جب وہ کچھ باشعور ہوکر اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ ساتھ اس فریضے کی اہمیت سے بھی واقف ہوگیا تھا۔
اسکائپ کی اسکرین پر اب باری باری اس کے بچے دکھنے لگے تھے… وہ اب لیپ ٹاپ آن کئے ہوئے بیٹھا ان کی شرارتوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک بھیانک حقیقت کے اندر بیٹھا ایک خوب صورت خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ باری باری اپنی طرف کے کمپیوٹر کے کیمرے کے سامنے منہ کر کر کے باپ کو ہیلو کہہ رہے تھے۔
’’بابا! آج میں نے ککی بنائی ہے۔‘‘ عنایہ اسے اسکرین پر ایک بڑے سائزکا بسکٹ دکھا رہی تھی۔
’’واہ یہ تو بہت یمی دکھتی ہیں۔‘‘ سالار نے اپنے اندر کے فشار کو چھپاتے ہوئے بیٹی کو داد دی۔ وہ سب کچھ وہ اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، کیوں کہ وہ سب کچھ ختم ہوجانے والا تھا۔
امامہ ان سب کو وہاں سے ہٹا کر لے گئی تھی کیوں کہ اب جبریل کو نیا سبق پڑھنا تھا۔ وہ اور اس کا نو سالہ بیٹا آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سالار سے اگلا سبق پوچھ رہا تھا۔ سالار نے اسے پچھلا سبق سنانے کے لئے کہا تھا۔ جبریل نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے آنکھیں بند کئے خوش الحان آواز میں… اس نے باپ سے صرف ذہانت ورثے میں نہیں پائی تھی، خوش الحانی بھی پائی تھی۔
نو سال کی عمر میں بھی اس کی قرأت دلوں کو چھو لینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ کسی بھی سننے والے کی آنکھوں کو نم کرسکتی تھی۔ جبریل نے کب اپنا پہلا سبق ختم کیا تھا، سالار کو اندازہ ہی نہیں ہوا، وہ کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔ جبریل نے آنکھیں کھول کر اپنے ہاتھ سینے سے ہٹا کر سامنے رکھے قرآن پاک کو دیکھا پھر اسکرین پر باپ کے نظر آنے والے چہرے کو کو جو کسی بت کی طرح بے حس و حرکت تھا۔
’’بابا!‘‘ جبریل کو ایک لمحہ کے لئے لگا شاید نیٹ کا کنکشن ختم ہوگیا تھا یا سگنلز کی وجہ سے streaming نہیں ہوپائی تھی۔
سالار چونکا اور اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اس نے جبریل کو ایک بار پھر پچھلا سبق سنانے کو کہا۔ وہ حیران ہوا تھا۔ ’’وہ تو میں نے سنادیا۔‘‘
’’میں نہیں سن سکا ایک بار پھر سناؤ۔‘‘
وہ پہلا موقع تھا جب جبریل نے باپ کے چہرے کو بے حد غور سے دیکھا تھا۔ کچھ مسئلہ تھا اس دن باپ کو… اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا، لیکن کوئی سوال کئے بغیر اس نے ایک بار پھر پچھلا سبق سنانا شروع کردیا۔ اس بار سالار پہلے کی طرح کہیں اور محو نہیں ہوا تھا۔ اس نے بیٹے کو نیا سبق پڑھا کر اور چند بار دہرانے کے بعد اسکائپ بند کردیا تھا۔
“Is baba ok?”(کیا بابا ٹھیک ہیں؟) جبریل نے اسکائپ پر سالار سے باتکرنے کے بعد ماں سے پوچھا۔
’’ہاں! وہ ٹھیک ہیں، بس فلو ہے، اس لئے کچھ طبیعت خراب ہے ان کی۔‘‘ امامہ نے اس کے سوال پر زیادہ غور کئے بغیر کہا۔
“When is he returning?” (’’وہ واپس کب لوٹ رہے ہیں؟‘‘)
جبریل نے اگلا سوال کیا۔
’’ابھی تو امریکا جارہے ہیں دو ہفتے کے لئے پاکستان سے… کہہ رہے تھے کچھ میٹنگز ہیں، پھر امریکا سے آئیں گے۔‘‘
امامہ نے سالار سے فون پر ہونے والی گفتگو اسے بتائی۔
٭…٭…٭
ورلڈ بینک کی نائب صدارت چھوڑنے سے صرف دو ہفتے پہلے جب سالار کانگو میں الوداعی ملاقاتیں اور فیئر ویل ڈنرز لینے میں مصروف تھا، وال اسٹریٹ جرنل نے ورلڈ بینک کی صدارت سے انکار کی وجہ ڈھونڈ نکالتے ہوئے سالار سکندر کو ہونے والے برین ٹیومر کی نیوز بریک کی تھی اور پھر یہ خبر صرف اس اخبار ہی نے نہیں، ڈھیروں دوسرے اخبارات نے بھی لگائی تھی۔ سالار سکندر کے برین ٹیومر کی بریکنگ نیوز میں مغرب کو دلچسپی نہیں تھی نہ ہی میڈیا کو… دلچسپی اگر تھی تو سی آئی اے کو… اس اسٹیج پر سالار کی مہلک بیماری کی خبر بریک کرنے کا مطلب اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی کمر توڑ نے کے مترادف تھا جس پر سالار کام کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ جانتے تھے سالار ورلڈ بینک سے الگ ہونے کے بعد کیا کرنے جارہا تھا اور انہیں یقین تھا، جو وہ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ ناممکنات میں سے تھا۔ اس کے باوجود حفاظتی اقدامات ضروری تھے اور سب سے بہترین دفاعی حکمت عملی وہی تھی جو انہوں نے اختیار کی تھی۔ وہ سالار سکندر کی بیماری کو مشتہر کرنے کے بعد اب اس پروجیکٹ کے ممکنہ سرمایہ کاروں کے پیچھے ہٹ جانے کا انتظار کررہے تھے۔ وہ شطرنج تھی۔ سالار اپنے مہرے سجا کر پہلی چال چلنے کی تیاری کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ ’’انہوں‘‘ نے پہلی چال چل دی تھی اور پہلی چال میں ہی بادشاہ کو شہہ مات ہونے والی تھی… یہ کم از کم ’’ان‘‘ کو یقین تھا۔
٭…٭…٭
اس نے انٹر نیٹ پر glioma کا لفظ گوگل پر سرچ کیا… پھر oligodendrogliomaکو … ساڑھے نو سال کی عمر میں محمد جبریل سکندر نے ان دو لفظوں کو Spelling Bee کے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے ان الفاظ کی فہرست میں شامل کیا تھا جس کی اسپیلنگ اسے یاد کرنا تھی۔ اسے ان دو الفاظ کی اسپیلنگ یاد کرتے ہوئے یہ اندازہ نہیں تھا۔ وہ اپنے باپ کو لاحق دنیا کے مہلک ترین برین ٹیومر سے واقفیت حاصل کررہا تھا۔
Spelling Bee کے مقابلے کے لئے جبریل نے صرف ان الفاظ کی اسپیلنگ یاد کی تھی۔ وہ دو الفاظ کیا تھے، وہ کھوجنے کی کوشش اس نے بت کی تھی جب اس نے انٹر نیٹ پر اپنے باپ کے نام کے ساتھ اس کی بیماری کے حوالے سے ایک خبر دیکھی تھی۔ وہ ورلڈ بینک کی ویب سائٹ تھی جو ان کے ڈیسک ٹاپ کا ہوم پیج تھا اور کئی بار سالار کے زیر استعمال آتا تھا اور ہوم پیج پر تازو ترین اسکرول ہونے والی خبروں میں سے ایک سالار سکندر کی بیماری کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل کی نیوز تھی جو صرف آدھ گھنٹہ پہلے بریک ہوئی تھی۔
ساڑھے نو سال کے اس بچے نے اس بیماری کو کھوجنا شروع کیا تھا۔ سالار ابھی گھر نہیں لوٹا تھا۔ امامہ دوسرے کمرے میں بچوں کو پڑھا رہی تھی اور جبریل انٹر نیٹ پر ساکت بیٹھا یہ پڑھ رہا تھا کہ اس کا باپ گریڈ ٹوکے oligodendroglioma کا شکار تھا۔ اس ٹیومر کا علاج نہیں ہوسکتا تھا۔ مکمل طور پر کامیاب علاج… اور اگر علاج ہو بھی جاتا تو مریض سات سے دس سال تک زندہ رہ سکتا تھا۔ اس برین ٹیومر کے مریض صحت مندرہ کر بھی اس سے زیادہ نہیں جی سکتے تھے۔
ساڑھے نو سال کا وہ بچہ اس دن چند لمحوں میں بڑا ہوگیا تھا۔ اس گھر میں سالار کے بعد وہ پہلا شخص تھا جسے سالار کی بیماری اور اس کی نوعیت اور اثرات کا علم ہوا تھا۔ جبریل کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، وہ اس ہولناک انکشاف کا کیا کرے۔ ماں کو بتادے یا نہ بتائے… یہ اس کا Dilemma (مخمصہ) نہیں تھا۔ اس کا مخمصہ اور تھا۔
’’حمین! جاؤ بھائی کو بلا کے لاؤ، وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے۔ پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگا دی اس نے۔‘‘
بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔ اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئی تھی۔
’’آج میں پڑھاتا ہوں۔‘‘
حمین نے اعلان کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پہ باندھتے ہوئے بڑے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کے لئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے تحکمانہ انداز میں فوری طور پر اسے ٹوکا۔
’’حمین! بھائی پڑھائے گا۔‘‘
حمین نے بند آنکھیں کھول لیں اور سینے پر بندھے ہاتھ بھی… اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکل جاتا، امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر باہر نکلا تھا۔ پاجامے کے اوپری حصے کو ازابندکے بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا اور اس گرہ کے دونوں سرے کسی خرگوش کے کانوں کی طرح اس کے پیٹ کے اوپر کھڑے تھے۔
’’ادھر آؤ…‘‘ امامہ نے اسے بلایا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے جھک کر نیچے بیٹھتے ہوئے اس گروہ کو کھولنے کی کوشش کی، تاکہ پاجامے کو ٹھیک کرسکے۔
حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے، پیچھے ہٹا۔ ’’ممی! نہیں۔‘‘
’’اس کی string کہاں ہے؟‘‘ امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھا۔
’’میں نے اسکول میں کسی کو دے دی ہے؟‘‘
امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ’’کیوں…؟‘‘
’’چیریٹی میں…‘‘ حمین نے جملہ مکمل کیا۔
امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔ ’’چیریٹ میں؟‘‘ وہ واقعی حیرن تھی۔ ’’صرف ایک ڈوری کو؟‘‘
’’نہیں…‘‘ مخصر جواب آیا۔
’’پھر…؟‘‘
’’ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔‘‘
’’کس بیگ کو؟‘‘ امامہ کا ہاتھ ٹھٹکا۔
’’اس بیگ کو جس میں toys (کھلونے) تھے۔‘‘ جواب اب بھی پورا آیا تھا۔
’’کس کے toys (کھلونے)؟‘‘ امامہ کے ماتھے پر بل پڑے۔
{“Well”حمین نے اب ماں، رئیسہ اور عنایہ کو باری باری… محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔
“There were many owners.” (وہ کئی لوگوں کے تھے)
امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ میں آیا تھا۔
’’ many owners کون تھے۔ کس کو دیئے؟ کیوں دیئے کس سے اجازت لی؟‘‘
اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔




Loading

Read Previous

نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

Read Next

کارآمد — عریشہ سہیل

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!