آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

اپنے آپریشن سے دو ہفتے پہلے نیویارک میں سالار سکندر اور ثمر انویسٹ منٹ فنڈ (Samar Investment Fund) کے بورڈ آف گورنرز نے پہلے گلوبل اسلامک انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کردیا تھا۔
پانچ ارب روپے کے سرمائے سے قائم کیا گیا۔
ثمر انویسٹ منٹ فنڈ (SIF) وہ پہلی اینٹ تھی اس مالیاتی نظام کی، جو سالار سکندر اور اس کے پانچ ساتھی اگلے بیس سالوں میں دنیا کی بڑی فنانشل مارکیٹوں میں سود پر مبنی نظام کے سامنے لے کر آنا چاہتے تھے… پانچ ارب روپیہ اس ابتدائی ٹارگٹ سے بہت کم رقم تھی جس کے ساتھ وہ اس فنڈ کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے… اگر سالار سکندر کی بیماری کا انکشاف میڈیا کے ذریعے اتنے زور و شور سے نہ کیا جاتا تو کے بورڈ آف گورنرز کے چھ ممبرز اس فند کا آغاز ایک ارب ڈالر کے سرمائے سے دنیا کے پچاس ممالک میں بیک وقت کرتے اور وہ ٹارگٹ مشکل ضرور تھا ناممکن نہیں تھا اور ان کے پاس پانچ سال تھے اسے حاصل کرنے اور بنیادی انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کے لئے… لیکن سالار سکندر کی بیماری نے جیسے پہلے قدم پر ہی ان کی کمر توڑ دی تھی… اس کے باوجود بورڈ آف گورنرز نہیں ٹوٹا تھا، وہ اکٹھے رہے تھے… جڑے رہے تھے… کیوں کہ ان چھ میں سے کوئی شخص بھی یہ کام ’’کاروبار‘‘ کے طور پر نہیں کررہا تھا۔ وہ ایک اندھی کھائی میں کودنے کے مجاہدانہ جذبے سے کررہے تھے…
Late 30’s میں اس پروجیکٹ سے منسلک چھ کے چھ افراد ایک دوسرے کو ذاتی طور پر اچھی طرح جانتے تھے… ایک دوسرے کی نیت بھی، ایک دوسرے کی حیثیت بھی… اور ایک دوسرے کی شہرت بھی…
سالار سکندر، عامل کلیم، موسیٰ بن رافع، ابورذر سلیم، علی اکمل اور راکن مسعود پر مشتمل SIF کا بورڈ آف گورنرز دنیا کے بہترین بورڈ آف گورنرز میں گردانا جاسکتا تھا… وہ چھ کے چھ افراد اپنی اپنی فیلڈ کا پاور ہاؤس تھے… وہ چھ مختلف شعبوں کی مہارت، صلاحیت اور تجربے کو SIFکے پلیٹ فارم پر لے آئے تھے… اور early 40’s میں ہونے کے باوجود 15 سے 20 سال کے تجربے ساکھ اور (اپنی کامیابیوں) کے ساتھ وہ دنیا کے کم عمر ترین اور قابل ترین بورڈ آف گورنرز میں سے ایک تھا۔
عامل کلیم ایک امریکن مسلم تھا جس کی ماں ملائیشین اور باپ ایک عرب تھا لیکن وہ دونوں امریکہ میں ہی پیدا اور پلے بڑھے تھے۔ عامل کلیم ایک فنانشل کنسلٹس فرم کا مالک تھا اور امریکہ کے ڈیڑھ سو سے زیادہ فنانشل اداروں کے لئے کنسلٹنسی کررہا تھا۔ وہ دنیا کے دس بہترین Investment Gurus میں تیسرے نمبر پر براجمان تھا اور فوربس کی اس لسٹ میں شامل تھا جس میں اس نے اگلے د س سالوں کے ممکنہ ارب پتی پروفیشنلز کے نام دیئے تھے۔ عامل کلیم بورڈ آف گورنرز کا سب سے زیادہ مذہبی اور باعمل مسلمان تھا… یہ اعزاز اسے بورڈ کے بقیہ پانچ ممبرز نے اجتماعی طور پر اس کی دینی معلومات اور عملی کردار کو دیکھتے ہوئے بخشا تھاجس پر عامل کلیم مطمئن تھا لیکن خوش نہیں تھا۔ سالار اسے Yale کے دنوں سے جانتا تھا۔ وہ اور عامل ان پانچ افراد کے گروپ میں تھے جن کا ہر چیز میں مقابلہ رہتا تھا۔ سالار سب سے بہترین GP کے ساتھ ٹاپ کرنے کے باوجود جن چند سبجیکٹس میں کسی سے پیچھے رہا تھا، وہ عامل کلیم ہی تھا۔




موسیٰ بن رافع مسقط اور عمان کے دو شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنے ملک میں اقتدار پر براجمان خاندان سے اختلافات کی بنیاد پر اپنے والدین کے زمانے سے امریکہ میں ہی تھا۔ اس کی پیدائش امریکہ میں ہوئی تھی اور اس کی پیدائش کے کچھ عرصہ کے بعد اس کے والدین مستقل طور پر امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔
26 سال کی عمر میں اپنے باپ کی حادثاتی موت کے بعد موسیٰ کو وہ شپنگ کمپنی ورثے میں ملی جو اس کے باپ کی ملکیت تھی اور ایک اوسط درجہ کی شپنگ کمپنی کو موسیٰ اگلے پندرہ سالوں میں ایک چوٹی کی شپنگ لائن بناچکا تھا… اس کی کمپنی اب کنٹینر عالمی شپنگ میں سے تیز رفتار اور بہترین کمپنی مانی جاتی تھی… سالار اور وہ کولمبیا میں آپس میں ملے تھے اور پھر ان کا رابطہ ہمیشہ رہا۔ سالار سکندر سٹی بینک میں کام کرنے کے دوران اس کی فیملی کے بہت سے اثاثوں کو ایک انویسٹمنٹ بینکر کے طور پر دیکھتا رہا تھا۔
ابو ذر سلیم ایک امریکن افریقی تھا اور ایک بہت بڑی فارما سیوٹیکل کمپنی کا مالک تھا… وہ افریقہ میں فارماسیوٹیکل کنگ مانا جاتا تھا، کیوں کہ امریکہ based اس کی کمپنی افریقہ کے مختلف ممالک میں فارماسیوٹیکل سپلائیز میں پہلے نمبر پر تھی… سالار کے بعد وہ بورڈ آف گورنرز کا دوسرا ممبر تھا جو افریقہ سے اتنا گہر اتعلق اور مسلسل آنے جانے کی وجہ سے بہت ساری افریقہ زبانوں میں گفتگو کرسکتا تھا… بورڈ کے گورنرز اسے ابوذر سلیم نہیں کہتے تھے… حاتم طائی کہتے تھے۔ وہ بلاشبہ اس بورڈ کا سب سے فراخ دل ممبر تھا۔ اس کی کمپنی اپنے سالانہ خالص منافع کا چوتھا حصہ افریقہ کے مختلف ممالک کے خیراتی اداروں میں صرف کررہی تھی۔ سالار اور ابوذر نہ صرف یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے رہے تھے بلکہ انہوں نے یونائیٹڈ نیشنز کی ایک انٹرن شپ بھی اکٹھے کی تھی۔
علی اکمل ایک ہندوستان نژاد امریکن تھا جو ٹیلی کمیونیکیشنز کی ایک کمپنی چلا رہاتھا۔ ٹیلی کام سیکٹر میں اس کی کمپنی امریکہ میں پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ منافع کمانے والی کمپنیز میں شمار ہوتی تھی… سب سے تیز رفتار ترقی کا تاج بھی اسی کمپنی کے سر پر تھا۔ علی اکمل خود ایک ٹیلی کام انجینئر تھا۔ وہ اور سالار ایک دوسرے سے Yale کے دنوں میں وہاں ہونے والے کچھ مباحثوں کے ذریعے متعارف ہوئے تھے اور پھر یہ تعارف دوستی میں تبدیل ہوگیا تھا۔
راکن مسعود ایک پاکستانی امریکن تھا اور ایک مینجمنٹ کمپنی چلارہا تھا۔ گلف کے شاہی خاندانوں کا ایک بڑا حصہ راکن کے clientel میں شامل تھا اور اب اس clientel میں یورپ کے بہت سے نامی گرامی خاندان اور ہال ووڈ کی بہت سی امیر شخصیات بھی شامل تھیں۔ راکن کو سالار پاکستان سے ہی جانتا تھا۔ اگرچہ وہ شروع سے دوست نہیں تھے لیکن ان کے خاندانوں کے آپس میں قریبی تعلقات تھے… اس کی طرح راکن بھی فنانس میں ڈاکٹریٹ تھا اور سود سے پاک نظام کا سب سے زیادہ پُرعزم اور قولیٰ و عملی سپورٹر بھی۔
چھ افراد پر مشتمل وہ گروپ پانچ ارب روپے کا وہ سرمایہ صرف اپنی ساکھ کی بنیاد پر راکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا تھا… اور انہیں یقین تھا وہ اگر سترہ ملکوں میں پانچ ارب روپے کے اس سرمائے کو سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے منافع بخش بناسکے تو اگلے تین سالوں میں 50 ملک اور ایک ارب ڈالر کا ٹارگٹ ، ناممکنات میں سے نہیں تھا۔
SIF کے پہلے فیز میں ان پروجیکٹ کی تعداد محدود تھی جن پر انہیں کام کرنا تھا مگر دوسرے اور تیسرے فیز میں وہ اپنے مالیاتی منصوبوں کو نہ صرف ان سترہ ممالک میں بلکہ اگلے دس سال میں ستر ممالک میں لے جانا چاہتے تھے جہاں وہ ایک کم آمدنی والے شخص کو بھی مالیاتی سروسز فراہم کرسکیں۔
SIF چند بے حد بنیادی اور آسان اصولوں پر قائم کیا گیا تھا… وہ اپنے فنڈ کا بڑا حصہ ان نئے انویسٹمنٹ نظریات پر لگانا چاہتے تھے، جو افراد اور چھوٹے اداروں کی طرف سے پیش کئے جاتے اور جن میں SIF کو اگلے کسی بڑے منصوبے کے بہتر امکانات نظر آتے ہیں… لیکن SIF ایک Lender کے طور پر آنے کے بجائے ایک پارٹنر کے طور پر ایسے ہر منصوبے پر کام کرتا… ایک خاص مدت تک… نفع اور نقصان میں برابر ی کی شراکت میں… اور اس مدت کا تعین اس آئیڈیا پر لگنے والے سرمائے کی مالیت پر منحصر تھا۔
کھوجو، پرکھو، سکھاؤ، استعمال کرو، منافع کماؤ۔ نقصان کے لئے تیار ہو…
ہیومن ریسورس پر انویسٹمنٹ کے لئے یہ SIF کی فلاسفی تھی۔
SIF پچھلے پانچ سالوں میں پہلے ہی اپنے لئے بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لئے بنیادی ہوم ورک کرچکا تھا… بیک اپ سپورٹ کے لئے کچھ ایسی انویسٹمنٹ بھی کرچکا تھا جو سود سے منسلک نہیں تھی۔ چھ افراد کا وہ گروپ اپنی اپنی فیلڈ کی مہارت اس کمپنی میں لاکر بیٹحے تھے اور وہ اس مہارت کو سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لئے استعمال بھی کررہے تھے لیکن نفع اور نقصان کی شراکت کے اصول پر کھڑے اس نظام پر کون صرف ان کی مہارت پر اعتماد کرتے ہوئے آتا، یہ بڑا چیلنج تھا… لیکن اس سے بھی بڑا چیلنج تھا کہ وہ اپنے پاس آنے والے پچھلے پانچ ارب کے سرمائے کو ان اسٹیک ہولڈر کے لئے منافع بخش بناسکتے جنہوں نے ان کی ساکھ اور مہارت پر اعتبار کیا تھا۔
وہ ایک بڑے کام کی طرف ایک بے حد چھوٹا قدم تھا… اتنا چھوٹا قدم کہ بڑے مالیاتی اداروں نے اس کو سنجیدگی سے لیا بھی نہیں تھا… فنانشل میڈیا نے اس پر پروگرامز کئے تھے، خبریں لگائی تھیں۔ دلچسپی دکھائی تھی لیکن کسی نے بھی اسے آئندہ آنے والے سالوں کے لئے اپنے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھا تھا۔
دنیا میں کوئی بینک، ادارہ ، فند ایسا نہیں تھا جو مکمل طور پر سود سے پاک سسٹم پرکھڑا ہوپاتا اور کھڑا تھا بھی تو وہ مالیاتی نظام کے ہاتھیوں کے سامنے چیونٹیوں کی حیثیت میں کھڑا تھا… SIF کیا کرسکتا تھا…؟ اور کیا بدل سکتا تھا…؟ ایک کامیاب مالیاتی ادارہ ہوسکتا تھا… ایک قابل عمل مالیاتی نظام کے طور پر دنیا میں موجود نظام کو ٹکر دینے کے لئے اس کو فنانشل viability دکھانی تھی جو ابھی کسی کو نظر نہیں آئی تھی… صرف ان چھ دماغوں کے علاوہ جو اس کے پیچھے تھے۔
SIF کے قیام کا اعلان اپنے کندھوں پر لدے ایک بہت بھاری بوجھ کو ہٹادینے جیسا تھا۔ کم از کم سالار کو ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔ اسے اتنی پذیرائی نہیں ملی تھی جتنی اس صورت میں ملتی۔ وہ اسے اس سے زیادہ بڑے لیول پر لانچ کرتے لیکن ایسا بھی نہیں تھا جو انہیں مایوس کردیتا۔ وہ دنیا کی بڑی بڑی فنانشل مارکیٹوں میں جہان بہترین مالیاتی ادارے پہلے ہی موجود تھے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے داخل ہوئے تھے اور انہیں پتا تھا، مقابلہ آسان نہیں تھا۔
امریکہ میں ایک ہفتے کے دوران اس نے SIF کے درجنوں سیمینارز اور میٹنگز اٹینڈ کی تھیں اور کچھ یہی حال بورڈ آف گورنرز کے دوسرے ممبرز کا تھا۔ ایک ہفتے کے بعد اسے پاکستان جاکر اپنے بچوں سے ملنا تھا اور پھر واپس آکر دوبارہ امریکہ میں سرجری کروانی تھی۔ اس کا شیڈول ، اپوائنٹ منٹس سے بھرا ہوا تھا۔
ایک ہفتہ کے اختتام تک وہ SIF کے ان سرمایہ کاروں میں سے کچھ کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے تھے جو سالار کی بیماری کی خبر کے بعد پیچھے ہٹ گئے تھے ۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔
بارش کا وہ پہلا قطرہ جس کا انہیں انتظار تھا۔
سالار SIF کے قیام کے لئے سرمایہ کار اور سرمایہ تولانے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن وہ ذاتی طور پر خود اس میں بورڈ آف گورنرز کے دوسرے ممبرز کی طرح کوئی بڑی انویسٹمنٹ نہیں کرسکا تھا۔ کچھ اثاثے جو اس کے پاس تھے، انہیں بیچ کر بھی اس کا حصہ کروڑ سے نہیں بڑھ سکا تھا۔ وہ اسٹیج پر اپنی فیملی کے کسی فرد سے قرض لینا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ وہ کسی ناگہانی صورت حال میں امامہ اور اپنے بچوں کے لئے اگر لمبے چوڑے اثاثے نہیں چھوڑ سکتا تھا تو کوئی واجبات بھی چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
مگر اس فنڈ کی انویسٹمنٹ کے ایک دن بعد سکندر عثمان نے اسے امریکہ فون کیا تھا۔
’’میں پانچ کروڑ کی انویسٹمنٹ کرنا چاہتا ہوں SIFمیں۔‘‘ انہوں نے ابتدائی گپ شپ کے بعد اس ے کہا۔
’’آپ اتنی بڑی رقم کہاں سے لائیں گے؟‘‘ وہ چونکا۔
’’باپ کو غریب سمجھتے ہو تم؟‘‘ وہ خفا ہوئے۔ سالار ہنس پڑا۔
’’اپنے سے زیادہ نہیں۔‘‘
’’تم سے مقابلہ نہیں ہے میرا۔‘‘ سکندر عثمان نے بے نیازی سے کہا۔ ’’تمہیں میرے برابرآنے کے لئے دس بیس سال لگیں گے۔‘‘
’’شاید نہ لگیں۔‘‘
’’چلو! دیکھیں گے۔ ابھی تو مجھے بتاؤ۔ یہاں پاکستان میں لوکل آفس اور کیا طریقہ کار ہے۔‘‘ انہوں نے بات بدلی تھی۔
’’آپ نے اب کیا بیچا ہے؟‘‘ سالار نے انہیں بات بدلنے نہیں دی، براہ راست سوال کیا۔
’’فیکٹری۔‘‘ وہ سکتے میں رہ گیا۔
’’اس عمر میں میں نہیں سنبھال سکتا تھا اب۔ کامران سے بات کی، وہ اور اس کا ایک دوست لینے پر تیار ہوگئے۔ مجھے ویسے بھی فیکٹری میں سے سب کا حصہ دینا تھا۔‘‘ وہ اس طرح اطمینان سے بات کررہے تھے جیسے یہ ایک معمولی بات تھی۔
’’آپ کام کرتے تھے پاپا! آپ نے چلتا ہوا بزنس کیوں ختم کردیا۔ کیا کریں گے اب، آپ؟‘‘ وہ بے حد ناخوش ہوا تھا۔
’’کرلوں گا کچھ نہ کچھ۔ یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے اور نہیں بھی کروں گا تو بھی کیا ہے۔ تم باپ کی ذمہ داری نہیں اٹھاسکتے کیا۔ باپ ساری عمر اٹھاتا رہا ہے۔ ‘‘ وہ اسے ڈانٹ رہے تھے۔
’’آپ نے میرے لئے کیا ہے یہ سب؟‘‘ سالار رنجیدہ تھا۔
’’ہاں!‘‘ اس بار سکندر عثمان نے بات کو گھمائے پھرائے بغیر کہا۔
’’پاپا! مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا آپ کو۔ مشورہ کرنا چاہیے تھا۔
’’تم زندگی میں کون سا کام میرے مشورے سے کرتے ہو۔ ہمیشہ صرف اطلاع دیتے ہو۔‘‘ وہ بات کو ہنسی میں اڑانے کی کوشش کررہے تھے۔
وہ محظوظ نہیں ہوا۔ اس کا دل عجیب طرح سے بوجھل ہوا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ سکندر عثمان نے جیسے اس کی خاموشی کو کریدا۔
’’آپ مجھ پر اتنے احسان کیوں کرتے ہیں؟ کب تک کرتے رہیں گے؟‘‘ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔
’’جب تک میں زندہ ہوں۔‘‘ سکندر عثمان کی زندگی کی بات نہیں کرسکے تھے۔
’’آپ مجھ سے زیادہ جئیں گے۔‘‘
’’وقت کا کس کو پتا ہوتا ہے؟‘‘ سکندر عثمان کا لہجہ پہلی بارسالار کو عجیب لگا تھا۔ وہ زیادہ غور نہیں کرسکا۔ سکندر عثمان نے بات بدل دی تھی۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

Read Next

کارآمد — عریشہ سہیل

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!