آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

’’جبریل! تم ان سب کا خیال رکھ لو گے؟‘‘ امامہ نے شاید کوئی دسویں بار اس سے پوچھا تھا۔
’’جی ممی! میں رکھ لوں گا۔ یو ڈونٹ وری (آپ پریشان نہ ہوں۔) اور اس نے ماں کے ساتھ پیکنگ میں مدد کرواتے ہوئے دسویں بار ماں کو ایک ہی جواب دیا۔
وہ سالار کی سرجری کے وقت اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی اور سالار کے بے حد منع کرنے کے باوجود وہ پاکستان میں بچوں کے پاس رہنے پر تیار نہیں ہوئی تھی۔
’’اس وقت تمہیں میری زیادہ ضرورت ہے۔ بچے اتنے چھوٹے نہیں ہیں کہ وہ میرے بغیر ہفتہ نہ گزار سکیں۔‘‘ اس نے سالار سے کہا تھا۔
اور اب، جب اس کی سیٹ کنفرم ہوگئی تھی تو اسے بچوں کی بھی فکر ہورہی تھی۔ وہ پہلی بار ان کو اکیلا چھوڑ کر جارہی تھی، اتنی لمبی مدت کے لئے۔
’’دادی بھی پاس ہوں گی تمہارے۔ ان کا بھی خیال رکھنا ہے تم نے۔‘‘
’’جی رکھوں گا۔‘‘
’’اور ہوم ورک کا بھی۔ ابھی تم سب لوگوں کے اسکولز نئے ہیں۔ تھوڑا ٹائم لگے گا ایڈجسٹ ہونے میں۔ چھوٹے بہن بھائی گھبرائیں تو تم سمجھانا۔‘‘
’’جی!‘‘
’’میں اور تمہارے پاپا روز بات کریں گے تم لوگوں سے۔‘‘
’’آپ واپس کب آئیں گے؟‘‘ جبریل نے اتنی دیر میں پہلی بار ماں سے پوچھا۔
’’ایک مہینے تک، شاید تھوڑا زیادہ وقت لگے گا، سرجری ہوجائے تب پتا چل سکے گا۔‘‘ اس نے متفکرانہ انداز میں سوچتے ہوئے کہا۔
’’زیادہ سے زیادہ بھی رکھیں گے تو دوسرے دن تک رکھیں گے اگر کوئی کمپلیکیشن نہ ہوئی ورنہ دوسرے دن پاپا گھر آجائیں گے۔‘‘
امامہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا۔ ’’تمہیں کیسے پتا؟‘‘
’’آئی ریڈ اباؤٹ اٹ۔ (میں نے اس کے متعلق پڑھا ہے۔)‘‘ اس نے ماں سے نظریں ملائے بغیر کہا۔
’’کیوں؟‘‘




’’انفارمیشن کے لئے۔‘‘ جبریل نے سادگی سے کہا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے نظریں ہٹا لیں اور اپنے ہینڈ بیگ میں سے کچھ تلاش کرنے لگی۔ ایک دم اسے محسوس ہوا جیسے جبریل اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا، اس کی نظریں مسلسل اس پر ٹکی ہوئی تھیں۔
امامہ نے ایک لحظہ سراٹھا کر اسے دیکھا، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
’’کیاہوا؟‘‘ اس نے جبریل سے پوچھا۔ اس نے جواباً امامہ کی کنپٹی کے قریب نظر آنے والے ایک سفید بال کو اپنی انگلیوں سے پکڑتے ہوئے کہا۔
’’آپ کے کافی بال سفید ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ ساکت اسے دیکھتی رہی۔ وہ اس کا سفید بال چھوتے ہوئے جیسے بے حد متفکر تھا۔
امامہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی، پلکیں جھپکائے بغیر۔ اس کی پیدائش سے پہلے کا سارا وقت امامہ کی زندگی کا بدترین وقت تھا یا کم از کم اس کی اس وقت تک کی زندگی کا بدترین وقت تھا۔
امریکہ واپس جانے کے بعد اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش میں وہ قرآن پاک بہت پڑھتی تھی۔
سالار جب بھی تلاوت کررہا ہوتا، وہ اس کے پاس آکر بیتھ جاتی۔ وہ کتاب جیسے کسی اسفنج کی طرح اس کا درد جذب کرلیتی تھی اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اکیلی نہیں تھی جو سالار کی تلاوت سن رہی ہوتی تھی اس کے اندر متحرک وہ وجود بھی اس پورے عرصہ میں ساکت رہتا تھا، یوں جیسے وہ بھی اپنے باپ کی آواز پر کان لگائے بیٹھا ہو، جیسے وہ بھی تلاوت کو پہچاننے لگا ہو۔ جو آواز اس کی ماں کے لئے راحت کا باعث بنتی تھی وہ اس کے لئے بھی سکون کا منبع تھی اور جب وہ رو رہی ہوتی تو اس کے اندر پرورش پاتا وہ وجود بھی بے حد بے چینی سے گرد میں رہتا۔ یوں جیسے وہ ماں کے آنسوؤں سے بے چین ہوتا ہو، اس کی تکلیف اور غم کو سمجھ پارہا ہو۔
وہ دس سال بعدبھی ویسا ہی تھا۔ اپنی ماں کے سیاہ بالوں میں سفید بال دیکھ کر فکر مند تھا۔
امامہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا بال چھڑا کر اس کا ہاتھ چوما۔
’’اب گرے ہیئر کے بارے میں پڑھنا مت شروع کردینا۔ ‘‘ امامہ نے نم آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا۔ وہ جھینپا، پھر مدھم آواز میں بولا۔
’’میں پہلے ہی پڑھ چکا ہوں اسٹریس، ان ہیلدی ڈائٹ، مین ریزن ہیں۔‘‘
وہ حمین نہیں جبریل تھا۔ سوالسے پہلے جواب ڈھونڈنے والا۔
وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ایک وقت وہ تھا جب اس کا کوئی نہیں رہا تھا۔ ایک وقت یہ تھا جب اس کی اولاد اس کے سفید بالوں سے بھی پریشان ہورہی تھی۔ وہ اس کی زندگی کے حاصل و محصول کا سب سے بہترین منافع بخش حصہ تھا۔
٭…٭…٭
ساڑھے تین کروڑ کا وہ چیک دیکھ کر کچھ دیر کے لئے ہل نہیں سکا تھا۔ وہ لفافہ امامہ نے کچھ دیر پہلے اسے دیا تھا اور اس وقت فون پر کسی سے بات کررہا تھا اور لفافہ کھولتے ہوئے اس نے امامہ سے پوچھا تھا۔
’’اس میں کیا ہے؟‘‘ سوال کا جواب ملنے سے پہلے اس کے نام کاٹا گیا وہ چیک اس کے ہاتھ میں آگیا تھا۔ سالار نے سراٹھا کر امامہ کو دیکھا۔ وہ چائے کے دو کپ سینٹر ٹیبل پر رکھتے صوفے پر بیٹھی ، ان سے اٹھتی بھاپ کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ کہے بغیروہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’میں چاہتی ہوں تم یہ رقم لے لو۔ اپنے پاس رکھو یا SIFمیں انویسٹ کردو۔‘‘ سالار کے پاس بیٹھنے پر اس نے چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’تم نے وہ انگوٹھی بیچ دی؟‘‘ سالار نے بے ساختہ پوچھا۔ وہ ایک لمحہ کے لئے بول نہیں سکی، پھر مدھم آواز میں سرجھکا کر بولی۔
’’میری تھی، بیچ سکتی تھی۔‘‘
’’بیچنے کے لئے تمہیں نہیں دی تھی۔‘‘ وہ خفا تھا یا شاید رنجیدہ۔ ’’تم چیزوں کی قدر نہیں کرتیں۔‘‘ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔
چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے امامہ نے سرہلایا۔
’’ٹھیک کہتے ہو۔ میں چیزوں کی قدر نہیں کرتی۔ انسانوں کی کرتی ہوں۔‘‘
’’انسانوں کی بھی نہیں کرتیں۔‘‘ سالار خفا تھا۔
’’صرف تمہاری نہیں کی شاید اس لئے سزا ملی۔‘‘ نمی آنکھوں میں آئی تھی۔ آواز کے ساتھ ہاتھ بھی کپکپایا۔ خاموشی آئی، رکی، ٹوٹی۔
’’تم بے وقوف ہو۔‘‘ وہ اب خفا نہیں تھا۔ اس نے وہ چیک لفافے میں ڈال کر اسی طرح میز پر رکھ دیا تھا۔
’’تھی۔‘‘ امامہ نے کہا۔
’’اب بھی ہو۔‘‘ سالار نے اصرار کیا۔
’’عقل مندی کا کرنا کیا ہے میں نے اب؟‘‘ اس نے جواباً پوچھا۔
’’یہ رقم اب اپنے پاس رکھو۔ بہت سی چیزوں کے لئے ضرورت پڑے گی تمہیں۔‘‘ اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے کہا تھا۔
’’میرے پاس ہے کافی رقم۔ اکاؤنٹ خالی تو نہیں ہے۔ بس میں چاہتی تھی، میں SIF میں کنٹری بیوٹ کروں۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی۔
’’زیور بیچ کر کنٹری بیوٹ نہیں کروانا چاہتا میں تم سے۔ تم صرف دعا کرو اس کے لئے۔‘‘
’’زیور سے صرف پیسہ مل سکتا ہے۔‘‘ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ بات پوری پہنچائی تھی۔ سالار نے چائے کا مگ اٹھا لیا تھا۔ ’’میں ویسے بھی زیور نہیں پہنتی۔ سالوں سے لاکر میں پڑا ہے۔ سوچ رہی تھی وہ بھی…‘‘
سالار نے اس کی بات مکمل ہونے نہیں دی ، بے حد سختی سے اس سے کہا۔ ’’تم اس زیور کو کچھ نہیں کروگی۔ وہ بچوں کے لئے رکھا رہنے دو۔ میں کچھ نہیں لوں گا اب تم سے۔‘‘ وہ خاموش ہوگئی۔ چائے کے دو گھونٹ لینے کے بعد سالار نے مگ رکھ دیا اور اس کی طرف مڑ کر جیسے کچھ بے بسی سے کہا۔
’’کیوں کررہی ہو یہ سب کچھ؟‘‘
کچھ کہے بغیر اس کے بازو پر ماتھا ٹکاتے ہوئے اس نے ہاتھ اس کے گرد لپیٹ لئے۔ وہ پہلا موقع تھا جب سالار کو احساس ہوا کہ اس کے آپریشن کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی تھی وہ اس سے زیادہ حواس باختہ ہورہی تھی۔ حواس باختہ شاید ایک بہت چھوٹا لفظ تھا امامہ کی پریشانی، اضطراب، اندیشوں اور واہموں کو بیان کرنے کے لئے وہ بھی پریشان تھا لیکن امامہ کی حواس باختگی نے جیسے اسے اپنی پریشانی بھلا دی تھی۔
’’تم میرے ساتھ مت جاؤ امامہ! یہیں رہو، بچوں کے پاس۔‘‘ سالار نے ایک بار پھر اس سے کہا۔ وہ اس کے ساتھ سرجری کے لئے امریکہ جانا چاہتی تھی اور سالار کی خواہش تھی، وہ نہ جائے۔ اس کی ضد کے آگے اس نے ہتھیار تو ڈال دیئے تھے لیکن اب اسے اس طرح پریشان دیکھ کر اسے خیال آرہا تھا کہ اسے وہاں اس کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے، وہ وہاں کسی بری اور غیر متوقع صورت حال کا سامنا کیسے کرے گی۔
’’بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ ان کو اکیلا چھوڑ کر تم میرے ساتھ کیسے رہوگی۔ وہ پریشان ہوجائیں گے۔‘‘ وہ اسے اب ایک نیا عذر دے رہا تھا۔
’’نہیں ہوں گے… میں نے انہیں سمجھا دیا ہے۔‘‘ وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
’’وہاں فرقان ہوگا میرے ساتھ… پاپا ہوں گے، تمہیں یہاں رہنا چاہیے، بچوں کے پاس۔‘‘ سالار نے دوبارہ اصرار کیا۔
’’تمہیں میری ضرورت نہیں ہے؟‘‘ وہ خفا ہوئی۔
’’ہمیشہ۔‘‘ سالار نے اس کا سر ہونٹوں سے چھوا…
’’ہمیشہ…؟‘‘ اس کے کندھے سے لگے زندگی میں پہلی بار امامہ نے اس لفظ کے بارے میں سوچا تھا… جو جھوٹا تھا۔
’’اس بیگ میں میں نے سب چیزیں رکھ دی ہیں۔‘‘
سالار نے یک دم بات بدلی، یوں جیسے وہ اسے اور اپنے آپ کو ایک اور خندق سے بچانا چاہتا ہو۔ وہ اب کمرے میں کچھ فاصلے پر پڑے ایک بریف کیس کی طرف اشارہ کررہا تھا۔
’’ساتھ لے جانے کے لئے؟‘‘ امامہ سمجھے بغیر اسی طرح اس کے ساتھ لگے لگے کہا۔
’’نہیں اپنی ساری چیزیں… چابیاں، پیپرز، بینک کے پیپرز ہر ایسی ڈاکومنٹ جو بچوں سے متعلقہ ہے۔اکاؤنٹ میں جو پیسے ہیں، چیک بک کو سائن کرکے رکھ دیا ہے… اور اپنی ایک will (وصیت) بھی…‘‘
وہ بڑے تحمل سے اسے بتارہا تھا۔ وہ گم صم سنتی رہی ۔
’’سرجری میں خدانخواستہ کوئی کمپلیکیشن ہوجائے تو… حفاظتی تدبیر ہے۔‘‘
’’سالار!‘‘ اس نے جیسے اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔
’’تمہارے نام ایک خط بھی ہے اس میں۔‘‘
’’میں نہیں پڑھوں گی۔‘‘ اس کے گلے میں آنسوؤں کا پھندا لگا۔
’’چلو! پھر تمہیں ویسے ہی سنادوں جو لکھا ہے؟‘‘ وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ اس نے پھر اسے ٹوک دیا۔
’’تم کتاب پڑھنا نہیں چاہتیں… خط پڑھنا نہیں چاہتیں… مجھے سننا نہیں چاہتیں، پھر تم کیا چاہتی ہو۔‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
’’میں نے کتاب پڑھ لی ہے۔‘‘ اس نے بالآخر اعتراف کیا۔
وہ چونکا نہیں تھا۔ ’’میں جانتا ہوں۔‘‘
وہ بھی نہیں چونکی تھی۔
’’کوئی اپنی اولاد کے لئے ایسا تعارف چھوڑ کے جاتا ہے۔‘‘ اس نے جیسے شکایت کی تھی۔
’’سچ نہ لکھتا؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
’’جس بات کو اللہ نے معاف کردیا اسے بھول جانا چاہیے۔‘‘
’’پتا نہیں، معاف کیا بھی ہے یا نہیں۔ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔‘‘
’’اللہ نے پردہ تو ڈال دیا ہے ناں۔‘‘ اس نے اپنی بات پر اصرار کیا تھا۔ ’’میں نہیں چاہتی میری اولاد یہ پڑھے کہ ان کے پاس نے زندگی میں غلطیاں کی ہیں۔ ایسی غلطیان جو ان کی نظروں میں تمہاری عزت اور احترام ختم کردے۔‘‘ و ہ اس سے کہہ رہی تھی۔
’’جھوٹ بولتا اور لکھتا کہ میں پارسا پیدا ہوا تھا اور فرشتوں جیسی زندگی گزارتا رہا۔‘‘
’’نہیں! بس انسان جیسی گزاری…‘‘
وہ بے اختیار ہنسا۔’’شیطان لگ رہا ہوں کیا اس کتاب میں؟‘‘




Loading

Read Previous

نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

Read Next

کارآمد — عریشہ سہیل

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!