Tag: Alkaram

  • تھالی کا بینگن — کرشن چندر

    تھالی کا بینگن — کرشن چندر

    تو جناب جب میرم پور میں بھی میرا دھندا کسی طرح سے نہ چلا فاقے پر فاقے ہونے لگے اور جیب میں آخری اٹھنی رہ گئی تو میں اپنی بیوی سے پوچھا ’’گھر میں تھوڑا سا آٹا بھی نہیں ہے کیا؟‘‘
    وہ نیک بخت بولی ’’چار چپاتی کا ہوگا۔‘‘
    میں نے جیب سے آخری اٹھنی نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا: ’’جابازار سے بینگن لے آ آج چپاتی کے ساتھ بینگن کی بھاجی کھالیں گے۔‘‘ وہ نیک بخت بہت فکر مند ہوکر بولی ’’اس وقت تو کھالیں گے، شام کے کھانے کا کیا ہوگیا؟‘‘
    ’’تو فکر نہ کر وہ اوپر والا دے گا۔‘‘ میں نے کہا۔ پھر میری نظر شیشے کے اس بکس پر پڑی جس میں چھوٹا سا تاج محل رکھا ہوا تھا۔ یہ تاج محل میں نے اپنی بیوی کے لیے نئی نئی شادی کے دنوں میں آگرہ میں خریدا تھا اور تاج محل کو دیکھ کر ہی خریدا تھا۔ محبت بھی کیا چیز ہے اس بیس روپے کے تحفے کو پاکر میری بیوی کا چاند سا مکھڑا گلابی ہوگیا تھا۔
    اس وقت جب میں نے اس شیشے کے تاج محل کو دیکھ کر کہا: ’’کچھ نہ ہوا تو اس کھلونے کو بیچ دیں گے۔‘‘ تو جناب اس کا چہرہ ایسا پیلا پڑ گیا ہے جیسے کسی نے یکایک اس کے چہرے کا سارا خون کھینچ لیا، وہ غصے، خوف، مجبوری اور ناامیدی کے ملے جلے جذبات سے لرزتی ہوئی آواز میں بولی: ’’نہیں میں اسے بیچنے نہ دوں گی یہ تو…… یہ تو میرے سہاگ کی نشانی ہے۔‘‘
    میں نے اس کے غصے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے بہت نرمی سے کہا ’’اچھا نہیں بیچیں گے اسے، کچھ اور بیچ دیں گے ہوسکتا ہے وہ اوپر والا کوئی سبیل پیدا کردے تو اس وقت جاکر بینگن تولے آبھوک سے مرا جارہا ہوں۔‘‘
    وہ بازار سے بینگن لے کر آئی رسوئی میں بیٹھ کر اور سامنے لکڑی کے چھوٹے سے پڑے پر رکھ کر اس نے پہلا بینگن کاٹا ہی تھا کہ اسے اندر سے دیکھ کر ٹھٹک گئی ’’ارے!‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’کیا ہے؟‘‘ میں رسوئی کے اندر گیا اس نے مجھے کٹا ہوا بینگن دیکھایا ’’دیکھو تو اس اندر کیا لکھا ہے؟‘‘
    میں نے غور سے بینگن کو دیکھا۔ بینگن کے اندر بینگن کے بیچ کچھ اس طرح ایک دوسرے سے جڑ گئے تھے کہ لفظ اللہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
    ’’ہے بھگوان‘‘





    میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’یہ تو مسلمانوں کا اللہ ہے۔‘‘
    محلہ پور بیاں جہاں میں رہتا تھا Mixed محلہ ہے یعنی آدھی آبادی ہندوؤں کی ہے آدھی مسلمانوں کی لوگ جوق درجوق اس بینگن کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ ہندوؤں اور کرسٹانوں کو تو اس بینگن پر یقین نہ آیا لیکن حاجی میاں اچھن اس پر ایمان لے آئے۔ پہلے نذر و نیاز انہوں نے ہی دی۔ میں نے اس کٹے ہوئے بینگن کو اس شیشے کے بکس میں رکھ دیا جس میں تاج محل رکھا تھا۔ تھوڑی دیر میں ایک مسلمان نے اس کے نیچے ہرا کپڑا بچھا دیا اور منن میاں تمباکو والے نے قرآن خوانی شروع کردی۔ پھر تو کیا تھا شہر کے سارے مسلمانوں میں اس بینگن کا چرچا شروع ہوگیا۔ جناب سمتی پورہ سے میمن پورہ تک اور بیجواڑے سے کمانی گڑھ تک اور ادھر ٹیلا میاں کے چوک سے لے کر محلہ کوٹھیاراں تک سے لوگ ہمارے بینگن کو دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ لوگ باگ بولے ایک کافر کے گھر میں ایمان نے اپنا جلوہ دکھایا۔ نذر نیاز بڑھتی گئی۔ پہلے پندرہ دنوں میں سات ہزار سے اوپر وصول ہوگئے جس میں سے تین سو روپے سائیں کرم شاہ کو دیئے جو چرس کا دم لگا کر ہر وقت اس بینگن کی نگرانی کرتا تھا۔
    پندرہ بیس دن کے بعد جب لوگوں کا جوشِ ایمان ٹھنڈا پڑتا دکھائی دیا تو ایک رات جب سائیں چرس کا دم لگا کر بے سُدھ پڑا تھا میں نے آہستہ سے اپنی بیوی کو جگایا اور کٹے ہوئے بینگن کے اوپر سے شیشے کا بکس ہٹا کر کہا دیکھو کیا دکھائی دیتا ہے وہ بولی: ’’اللہ‘‘ میں نے کٹے ہوئے بینگن کا رُخ ذرا سا سرکایا اور پوچھا اب کیا دکھائی دیتا ہے۔
    ’’اوم۔‘‘ ’’ارے یہ تو اوم ہے۔‘‘ میری بیوی نے انگلی ٹھوڑی پر رکھ لی سارے چہرے پر استعجاب تھا۔
    راتوں رات میں نے پنڈت رام دیال کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے بلا کر کٹے ہوئے بینگن کا بدلا ہوا رُخ دکھایا۔ پنڈت دیال نے چیخ کر کہا: ’’ارے یہ تو اوم ہے۔ اتنے دنوں تک مسلمان ہمیں دھوکا دیتے رہے۔‘‘
    اس کی چیخ سُن کرسائیں کرم شاہ جاگ گیا۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا۔ یہ کیا ہورہا ہے۔ وہ پھٹی پھٹی سُرخ آنکھوں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ پنڈت رام دیال نے اسے لات مار کرکہا: ’’نکل بے ہمارا دھرم بھر شٹ کرتا ہے اوم کو اللہ بتاتا ہے۔‘‘
    بس پھر کیا تھا سارے شہر میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ کٹے ہوئے بینگن کے اندر دراصل ’’اوم‘‘ کا نام کھدا ہوا ہے۔ پنڈت رام دیال نے چارج لے لیا۔ رات دن آرتی ہونے لگی۔ بھجن گائے جانے لگے چڑھاوا چڑھنے لگا۔۔ میں نے رام دیال کا حصہ بھی رکھ دیا تھا کہ جو محنت کرکے اسے بھی اس کا پھل ملنا چاہیے، لیکن بینگن پر ملکیت میری ہی رہی۔ اب شہر کے بڑے بڑے مست جوگی اور سدھا مہاتما اور سوامی اس بینگن کو دیکھنے کے لیے آنے لگے جہاں اللہ نے اوم بن کر اس کٹے ہوئے بینگن میں گویا مسلمانوں کو شکست دی تھی اور پانی پت کی تینوں لڑائیوں کا بدلہ چکا دیا تھا۔ شہر میں جابجا لیکچر ہورہے تھے۔ ہندودھرم کی فضیلت پر دھواں دھار بھاشن دیئے جارہے تھے۔ شہر میں تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ ہندو کہتے تھے۔ یہ اوم ہے مسلمان کہتے تھے یہ اللہ ہے۔
    اوم!
    اللہ!
    ہری اوم تت ست۔ اللہ اکبر۔ اگلے پچیس دنوں میں کوئی پندرہ ہزار کا چڑھاوا چڑھا اور سونے کی انگوٹھیاں اور ایک سونے کا کنگن بھی ہاتھ آیا۔ لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کا خمار پھر ڈھلنے لگا۔ تو جناب میں نے سوچا اب کوئی اور ترکیب لڑانی چاہیے۔ سوچ سوچ کر جب ایک رات پنڈت رام دیال بھنگ کے نشے میں دھت فرش پر لیٹے ہوئے تھے میں نے اپنی بیوی کو جگا کر کہا: ’’نیک بخت دیکھو اس شیشے کے بکس کے اندر کٹے ہوئے بینگن کے اندر تمہیں کیا دکھائی دیتا ہے؟‘‘
    ’’ہے صاف اوم ہے۔‘‘
    میں نے اوم کا زاویہ ذرا سا اور سرکا دیا اور پوچھا۔ ’’اب کیا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ وہ دیکھ کر گھبرا کر منہ میں انگلیاں ڈال کر بولی: ’’ہے رام یہ تو کراس + ہے کرسٹانوں کی صلیب ہے۔‘‘
    ’’شش۔‘‘ میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ’’بس کسی سے کچھ نہ کہنا صبح تک چپ رہنا ہوگا۔ کل اتوار ہے کل صبح میں پادری ڈیورنیڈ سے ملوں گا۔‘‘
    کٹے ہوئے بینگن میں مسیحی صلیب + کو دیکھنے کے لیے پادری ڈیورینڈ اپنے ساتھ گیا وہ عیسائیوں کو لے کر آئے اور بینگن کی صلیب دیکھ کر اپنے سینے پر کراس بنانے لگے اور عیسائیوں کے بھجن گانے لگے اور سر پر جالی اور رومالی اوڑھے خوب صورت فراک پہنے سول پنڈویلوں والی عورتیں اس معجزے کو دیکھ کر نہال ہوتی گئیں۔
    شہر میں تناؤ اور بھی بڑھ گیا۔ ہندو کہتے تھے اس بینگن پر اوم ہے، مسلمان کہتے تھے اللہ ہے، عیسائی کہتے تھے صلیب ہے، بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے جانے لگے۔ اِکادُکا چھرے بازی کی وارداتیں ہونے لگیں سمتی پورہ میں دو ہندو مار ڈالے گئے اور مستری محلے میں تین مسلمان۔ ایک عیسائی شہر کے بڑے چوک میں ہلاک کردیا گیا۔ شہر میں دفعہ 134 نافذ کردی گئی۔
    جس دن میری گرفتاری عمل میں آنے والی تھی۔ اس سے پہلے دن کی رات میں نے بینگن کوموری میں پھینک دیا گھر کا سارا سامان باندھ لیا اور بیوی سے کہا: ’’کسی دوسرے شہر میں چل کر دوسرا دھندا کریں گے۔‘‘
    تو جناب تب سے میں بمبئی میں ہوں۔ میرم پور کے ان دو مہینوں میں جو رقم میں نے کمائی تھی۔ اس سے ایک ٹیکسی خریدلی ہے۔ اب چار سال سے اس ٹیکسی کو چلاتا ہوں اور ایماں داری کی روزی کھاتا ہوں۔ اتنا کہہ کر میں نے ٹیکسی بار کی میز سے اپنا گلاس اٹھایا اور آخری گھونٹ لے کر اسے خالی کردیا۔
    یکایک میری نگاہ میز کی اس طرح پر گئی جہاں میرے گلاس کے شیشے میں پیندے نے ایک گیلا نشان بنایا تھا۔ میں نے اپنے دوسرے ساتھی ٹیکسی ڈرائیور محمد بھائی سے کہا۔
    ’’محمد بھائی دیکھو تو اس گلاس کے پیندے کے نیچے کیا نشان بن گیا ہے اوم ہے کہ اللہ ہے؟‘‘
    محمد بھائی نے غور سے نشان کو دیکھا مجھے دیکھا پھر میری پیٹھ پر زور سے ہاتھ مار کر کہا۔ ’’ابے سالے یہ بمبئی ہے یہاں نہ اللہ ہے نہ اوم اور نہ صلیب…… جو کچھ ہے روپیہ ہے بس روپیہ۔ ’’اتنا کہہ کر محمد بھائی نے میز پر ہاتھ پھیر کر پانی کی نشان کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔




  • بنتِ حوّا — عزہ خالد

    بنتِ حوّا — عزہ خالد

    ’’آج تو میں اس کی جان لے لوں گا… دیکھتا ہوں کون روکتا ہے مجھے…‘‘
    اظہر قہر برساتی نظروں سے گھورتا ہوا سویراکی طرف بڑھا تھا۔
    سویرا اس اچانک افتاد پر گھبرا کر اماں کی اوٹ میں چلی گئی تھی۔
    اماں نے اظہر کے غصّے کی وجہ جاننی چاہی تھی وہ ابھی گھر آیا تھا اور آتے ہی سویرا کو پکارا: ’’کیا ہوگیا…؟‘‘
    ’’یہ کالج کے بہانے گاڑیوں میں گھومتی پھرتی ہے یوں اپنی عزت کا تماشا نہیں بننے دوں گا…‘‘
    ’’یہ کیا کہہ رہا ہے تُو…؟؟‘‘
    ’’پوچھ لیجئے اس لاڈلی سے… آج کس یار کے ساتھ آئی ہے کالج سے…‘‘
    اظہر کے پاس تعلیم کے نام پر آٹھ نو جماعتیں تھیں، جو اسے نہ بولنے کا ڈھنگ سکھا سکیں نہ تمیز…
    اماں نے مُڑ کر پیچھے کھڑی سویرا کو دیکھا سویرا کا دل چاہا ایسے بے ہودہ الزام پر ڈوب مرے…
    ’’اماں میں اپنی دوست نازش کی گاڑی میں آئی تھی…
    ’’آج… وین… نہیں تھی…‘‘ تھوک نگلتے ہوئے اس نے مشکوک نظروں کا سامنا کیا۔
    ’’وہ لڑکا کون تھا… جو گاڑی چلا رہا تھا…؟‘‘
    اظہر نے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔
    ’’وہ نازش کا… بھائی تھا…‘‘ ڈرتے ہوئے اس نے بتایا۔
    ’’دیکھ رہی ہیں… آزادی کا نتیجہ…‘‘ اظہر نے غصے سے ماں کو دیکھا۔ ’’دوستوں کے بھائیوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومتی پھرتی ہے…
    ’’میں… میں منع کردوں گی… سمجھا دوں گی کہ آئندہ کسی کے ساتھ نہ آئے… تو غصہ نہ کر…‘‘
    اماں نے بیٹے کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
    ’’سمجھا دینا اسے… آئندہ اگر ایسی کوئی بات سُنی میں نے…
    تو کتابوں کو آگ لگا دوں گا… اور ٹانگیں توڑ دوں گا اس کی۔‘‘
    ’’ہاں… سمجھاتی ہوں… تو جا… جاکر کھانا کھالے… شکیلہ اظہر کو کھانا دے دے…‘‘ اماں نے بہو کو آواز دیتے ہوئے کہا۔
    ’’جی اماں…‘‘ شکیلہ کی آواز کچن سے آئی تھی وہ خود بھلے کچن میں تھی مگر اس کے کان صحن میں ہونے والی گفتگو سن رہے تھے اماں کا لیکچر شروع ہوچکا تھا۔ خاندان کی عزت، بھائیوں کی عزت… کسی غیر مرد کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھنا… یہ لیکچر گھنٹے دو گھنٹے چلنا تھا۔
    سویرا خاموشی سے سر جھکائے سُن رہی تھی، ایسے لیکچر وہ پہلے بھی کئی مرتبہ سن چکی تھی اس لیے اسے حرف حرف یاد تھا۔
    ساری پابندیاں صرف لڑکیوں کے لیے ہوتی ہیں۔





    کیوں کہ وہ خاندان کی عزت ہوتی ہیں اور انہی سے خاندان کی عزت ہوتی ہے۔
    مرد ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہے۔
    وہ اس وقت ڈائری لیے چھت پر بیٹھی تھی۔
    چھت کے چاروں طرف سات فٹ دیوار تھی اور اس دیوار کے بننے میں اظہر کا ہی مشورہ تھا۔
    جب کبھی نیچے دم گُھٹتا تو وہ چھت پر آجاتی دیوار کے پار دیکھنا تو تقریباً ناممکن تھا۔
    وہ آسمان پر آزادی سے اُڑتے پرندوں کو ہی دیکھ کر خوش ہوجاتی تھی۔
    وہ خوش ہوتی یا اداس… فوراً کچھ لکھنے کو دل مچلنے لگتا…
    اس کی ڈائری میں پہلے بھی کئی نظمیں لکھی ہوئی تھیں جو اس کی اپنی تھیں وہ اس ڈائری کو بہت سنبھال کر رکھتی تھی…
    کاش…
    کاش میں ایک پرندہ ہوتی…
    آسمان پر پرندوں کے غول کو آزادی سے گھومتے دیکھ کر اس نے اپنی حسرتوں کو لفظوں میں کی شکل دیتے ہوئے ڈائری میں اتارا۔
    ’’میں ان فضاؤں میں آزادی سے سانس لینا چاہتی ہوں…
    ان بند دیواروں میں میرا دم گھٹتا ہے…
    سورج روز طلوع ہوتا ہے…
    پر جانے کون میرے حصے کی روشنی لے جاتا ہے…
    میں سویرا ہوں…
    ایسا سویرا… جو روشنی کو ترستا ہے…
    مجھے اندھیرے میں رکھ کر…
    سویرے کا نام دے دینا…
    ایک مذاق ہو جیسے…
    ’’سویرا… سویرا…‘‘ نیچے سے اماں کی تیز آواز پر اس نے جھنجھلائے ہوئے ڈائری بند کی۔
    ’’جی اماں‘‘ کہتی ہوئی سیڑھیاں اتری۔
    ’’کہاں تھی…؟‘‘
    ’’اوپر چھت پر…‘‘
    ’’کیوں…؟‘‘
    اس کیوں کا کیا جواب دیتی بس خاموش رہی تھی۔
    اس گھر میں کوئی رات رات بھر گھر نہ آئے تو ’’کہاں تھے…؟‘‘
    یہ کبھی نہیں پوچھا جاتا… اور اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر نظر رکھی جاتی ہے سو سوال کیے جاتے ہیں۔
    وہ نیچے آکر بھول گئی تھی کہ وہ جلدی میں اپنی عزیز ترین دوست اپنی ڈائری اوپر چھوڑ آئی تھی۔
    اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
    وہ ڈائری اظہر کے ہاتھ لگ گئی تھی گھر میں قیامت آگئی۔
    ’’یہ دیکھیں لاڈلی کے کارنامے… عشقیہ شعر لکھے ہوئے ہیں اس میں… کالج جاکر کتنی بے حیا ہوگئی ہے…‘‘
    اظہر کے ہاتھ میں اپنی ڈائری دیکھ کر سویرا کی جان نکل گئی تھی۔
    اس کا رنگ ایسے فق ہوگیا تھا جیسا کوئی بڑا گناہ سر زد ہوگیا ہو…
    اظہر بلند آواز میں ڈائری میں لکھی نظمیں، غزلیں اور چھوٹے بڑے پیرا گراف پڑھ رہا تھا۔
    بھابھی حیرت سے آنکھیں پھاڑے سُن رہی تھیں، اماں اسے گھور رہی تھیں اور وہ شرمندگی سے سرجھکائے کھڑی تھی۔
    ’’شاعری بھی کرتی ہے یہ… سُن رہی ہیں کیسی کیسی بکواس لکھی ہوئی ہے اس نے… اب تو میری بات مان لیں… یہ دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے… کسی دِن کوئی چاند چڑھا دے گی… اتنی آزادی اچھی نہیں ہوتی…‘‘
    ’’آزادی… یہ آزادی ہے…؟ ایک پنچھی کے پیر باندھ کر اسے چھوڑ دیا جائے… وہ بس حسرت سے باہر کی دنیا دیکھے… اسے تو آزادی نہیں کہا جاسکتا…
    اور ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے رہتے تھے کہ کب کون سی بات پر پکڑ ہوجائے… حالاں کہ وہ بہت محتاط رہتی تھی کالج میں ایک دو سے زیادہ دوستیں بھی نہیں بنائی تھیں مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو ہی جاتی تھی…
    اور پھر اس دن کے بعد سے وہ کالج نہیں گئی۔
    پنچھی کو اٹھا کر پنجرے میں قید کردیا تھا۔
    ایک طرح سے ٹھیک ہی ہوا تھا باہر کی دنیا میں لوگوں کے ہنستے مُسکراتے چہرے دیکھ کر وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی تھی۔
    ’’اماں… اماں…‘‘ اظہر آج بہت خوش تھا
    اس کا خوش گوار موڈ دیکھ کر اماں کو حیرت ہوئی تھی…
    اس کے ہاتھ میں شاپر دیکھ کر وہ چونکیں۔ وہ شاپر ان کی طرف بڑھا رہا تھا۔
    ’’اس میں کیا ہے؟‘‘
    ’’وہ جو مین روڈ پر بڑی والی بیکری ہے نا… اس سے برفی لے کر آیا ہوں…‘‘
    اماں نے شاپر تھامتے ہوئے بڑے غور سے اسے دیکھا۔
    اس کا غصّہ اس کی بدتمیزی پورے خاندان میں مشہور تھی…
    اور کہاں یہ خوش مزاجی…؟
    ’’کس خوشی میں لایا ہے…؟‘‘
    ’’آج تیرے بیٹے نے بڑی محنت کی ہے… یہ میری محنت کی پہلی کمائی تھی تو سوچا سب کا منہ میٹھا کروا دیا جائے…‘‘




  • ادھوری زندگانی ہے — لعل خان (دوسرا اور آخری حصّہ)

    ادھوری زندگانی ہے — لعل خان (دوسرا اور آخری حصّہ)

    تیرہ جون بروز جمعہ (2013ء)
    صبح چھے بجے کا وقت تھاجب میرے کانوں میں مرتضیٰ کی کرخت آواز گونجی ۔
    ’’اُٹھ جا باؤ…چھوٹو کے ساتھ لگ کے کرسیاں ٹیبل باہر نکال۔‘‘
    میں نے نیم غنودگی میں سر اٹھا کر سامنے کھڑے مرتضیٰ کو دیکھا ،وہ اپنی توند کھجاتے ہوئے مجھے پاؤں کی ٹھوکر سے جگا رہا تھا۔
    ’’جی چاچا۔ ‘‘
    میں نے لمبی سی جماہی لی اور اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ چھوٹو اکیلا بنچ گھسیٹتے ہوئے باہر نکال رہا تھا۔ مرتضیٰ مجھے گہری نیند سے اٹھانے کے بعد اب منہ ہاتھ دھونے نلکے کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اُٹھ کر بستر کے نام پر زمین پر بچھی ایک میلی کچیلی چادر کے اندر تکیہ لپیٹا اور چھوٹو کے کپڑوں کے ساتھ پڑے اپنے بیگ کے اوپر رکھ دیا۔ پہلی بار زمین پر سویا تھا۔ کمر بری طرح دکھ رہی تھی۔ دو تین زور دار انگڑائیاں لے کر میں نے اپنے جسم کی تمام ہڈیوں کا جائزہ لیا۔ میرا دماغ اس وقت بالکل خالی تھا۔ منہ ہاتھ دھونے کے بعد میں نے چھوٹو کے ساتھ مل کر اس کٹیا کو ہوٹل کی شکل دی۔ سات بجے تک اِکا دُکا لوگ آنا شروع ہو جاتے تھے۔ آج جمعہ تھا مرتضیٰ کا حلیہ دیکھ کر لگ رہا تھا اسے دوسری نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ سے بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔
    ’’چاچا میں آج حمام پر جاؤں گا ۔مجھے کپڑے بدل کر جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے ۔‘‘
    ’’میں بھی جاؤں گا۔‘‘
    چھوٹو میری بات سن کر جلدی سے بولا تھا۔
    ’’کوئی ضرورت نہیں تو نماز یاد تو کر لے پہلے ۔ اچھا بتا ‘جمعہ کی نماز کی کتنی رکعتیں ہوتی ہیں ؟‘‘
    مرتضیٰ اجڈ لوگوں کی طرح آنکھیں نکال کر سوال کر رہا تھا۔
    چھوٹو اٹک کر میری طرف دیکھنے لگا۔





    ’’تو اس میں اس کا کیا قصور ہے چاچا۔ اسے کوئی یاد کرواتا تو کرتا ۔ چلو آج میرے ساتھ جائے گا‘ تو کم از کم رکعتیں سیکھ ہی لے گا۔
    میں نے چھوٹو کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا مگر مرتضیٰ کی اگلی بات نے میری مسکراہٹ پل بھر میں غائب کر دی ۔
    ’’یہ تین دن پہلے ہو آیا ہے حمام سے ۔پتا بھی ہے کتنا خرچہ ہوتا ہے ایک بار حمام جانے سے ؟تم چلے جاؤ اکیلے ۔ مسجد جاتے وقت اسے ساتھ لے جانا۔‘‘
    میں نے دانت پر دانت جما لیے تھے ۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ یہ حد سے زیادہ کمینہ ہے یا کنجوس ؟
    ’’جمعہ کے دن نہانا ثواب ہوتا ہے چاچا اور نہا کے جمعہ کی نماز خوش قسمت لوگ ادا کرتے ہیں۔یہ میرے ساتھ جا رہا ہے ۔اس کا آج کا خرچ تم میرے کھاتے میں لکھ دینا۔‘‘
    میں نے طنزاً کہا تھا ‘مگر وہ شرمندہ ہونے والوں میں سے نہیں تھا۔
    ’’ٹھیک ہے باؤ ۔تیرے خرچے پر روز جائے حمام ۔ مجھے کیا تکلیف ہونی ہے۔ اب جلدی کرو واپس آکے کام بھی دیکھنا ہے ۔‘‘
    ’’حمام کس طرف ہے چاچا؟‘‘
    ’’چھوٹو کو پتا ہے ۔لے جائے گاتجھے ۔‘‘
    اس نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا۔
    میں نے چھوٹو کو اشارہ کیا ۔ اس نے اپنا اور میرا ایک ایک صاف جوڑا لیا اور چھپر سے باہر نکل کر آیا ۔
    ’’بھا جی پارک سے تھوڑا آگے چوک ہے ۔ وہاں سے دائیں طرف مُڑکر ہم حمام والی گلی میں داخل ہو جائیں گے۔
    میں نے اثبات میں سرہلایا اور چھوٹو کے ساتھ ہو لیا ۔ ہوٹل سے بیس پچیس قدم آگے نکلتے ہی ہم دائیں طرف بنی ہوئی کوٹھیوں کے سامنے سے گزر رہے تھے ۔ میرے نظروں کے سامنے کریم پیلس کا وہی بورڈ گھوم گیا جسے میں نے پارک کے بالکل سامنے چمکتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس خیال کے آتے ہی مجھے گزشتہ شام کا وہ واقعہ بھی یاد آ گیا۔میں نے بے اختیار نظریں اُٹھا کر دور ہی سے اس کونے کو دیکھا جہاں وہ اس رات کھڑی نظر آتی رہی تھی۔ وہاں اب بھی کوئی کھڑا تھا ۔دور سے بس سایہ سا لگتا تھا ،مگر مجھے قوی یقین ہو چلا تھا کہ یہ وہی ہو گی۔ میرے اور چھوٹو کے قدم دھیرے دھیرے پارک کے قریب آتے جا رہے تھے اور اس کے ساتھ ہی وسیع و عریض کریم پیلس بھی واضح ہوتا جا رہا تھا۔ چند قد م اور چلنے کے بعد میرا یقین اور بھی پختہ ہو چکا تھا۔ چھت کے چاروں طرف تقریباً چار فٹ اونچا لوہے کا بڑا ہی پیارا سا جنگلا لگا ہوا تھا جو کوٹھی کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کرتا تھا اور وہ پری چہرہ مہران اسٹریٹ والی سائیڈ پر کونے سے لگ کر کھڑی اسی طرف دیکھ رہی تھی جدھر سے میں اور چھوٹو آ رہے تھے ۔
    ’’اوکے …تو پھر ملتے ہیں رات کو اسی بنچ پر ۔‘‘
    اس کا کہا ہوا یہ جملہ اس وقت میرے کانوں میں گونجا جب میں کریم پیلس کے مین گیٹ اور مرتضیٰ کے چھپر ہوٹل کے درمیان پہنچ چکا تھا۔
    میرے قدم رک گئے۔ چھوٹو نے چار قدم آگے بڑھ جانے کے بعد مجھے اٹکا ہوا محسوس کیا تھا۔
    ’’کیا ہوا بھا جی ؟ آپ رک کیوں گئے؟‘‘
    اس نے پیچھے مڑ کر مجھ سے پوچھا۔
    ’’چھوٹو کوئی اور حمام نہیں ہے ۔اپنے ہوٹل کے قریب مین روڈ کے آس پاس ؟‘‘
    چھوٹو نے حیرت سے مجھے دیکھا تھا۔
    ’’بھا جی ہوٹل کے پچھواڑے بس مین روڈ ہی ہے ۔ روڈ کے پارگاڑیاں ٹھیک کرنے والے اور پنکچر لگانے والوں کی دکانیں ہیں۔ ان سے آگے مہران چورنگی ہے۔ وہاں جا کر بھی حمام ملنے والا نہیں ہے۔ ہمارے قریب مہران ٹاؤن ہی ہے‘ یہیں پر جانا پڑے گا‘مگر بھا جی مسئلہ کیا ہے ۔۔۔اتنا دور تو نہیں ہے۔؟‘‘
    میں اسے نہیں بتا سکتا تھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ میرا دماغ تیزی سے کا م کر رہا تھا۔ کل شام کے واقعے کے بعد میں اندر ہی اندر اس سے خائف ہو گیا تھا۔کچھ ہمارے درمیان طبقاتی فرق جو بلاشبہ زمین اور آسمان کے فرق جتنا تھا اور کچھ اس کی نا سمجھ میں آنے والی حرکتیں اور باتیں تھیں ۔ میں اجنبی شہر میں آتے ہی خود کو الجھاؤ میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔اس کا اپنے باپ کی جگہ معافی مانگ لینا اپنی جگہ اور وہ اس کا بڑا پن تھا جسے میں نے تسلیم بھی کیا تھا‘مگر کل شام کی باتیں سننے کے بعد مجھے وہ نارمل بالکل بھی نہیں لگی تھی اور مجھے اس وقت بھی یہی خدشہ تھا کہ مجھے پہچانتے ہی وہ آوازیں لگانا شروع نہ کر دے ۔
    ’’آ جاؤ بھا جی …یہ تو ہے سامنے چوک ۔‘‘
    چھوٹو نے مجھے ساکت کھڑے دیکھ کر کہا تھا ۔ میں چار و ناچار اس کے ساتھ آگے بڑھنے لگا تھا۔
    کریم پیلس کا وہ گیٹ قریب آتا جا رہا تھا اور ساتھ ہی وہ بھی واضح ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے ایک بار ترچھی نظروں سے اسے دیکھا تھا ،وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔ صبح کے سات بجے راستے پر پیدل اور سائیکل والوں کے ساتھ ساتھ کوئی کوئی موٹر بائیک والا بھی گزر رہا تھا۔ میں نے چند فٹ کے فاصلے پر لگے ہوئے کریم پیلس کے بورڈ کو دیکھا اور پھر چھت کی طرف ۔
    اب وہ وہاں نہیں تھی۔ بہ ظاہر یہ نارمل تھا‘ مگر مجھے عجیب سی بے چینی لاحق ہونے لگی تھی ۔
    ’’چھوٹو جلدی چلو ۔واپس بھی جانا ہے ۔‘‘
    میں نے تیز تیز قدم اُٹھانے شروع کر دیے تھے اور پیچھے رہ جانے والے چھوٹو کو بھی تیز چلنے کا کہہ رہا تھا۔ میں ایسا کیوں کر رہا تھا ؟یہ نہیں جانتا تھا‘ مگر میری چھٹی حس بار بار الارم بجا رہی تھی۔ میں کریم پیلس کراس کرتے ہوئے دس قدم بھی نہیں چل پایا تھا جب گیٹ کھلنے کی آواز سنائی دی ۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر چھوٹو کو جلدی کرنے کو کہا تھا۔
    ’’مگر چھوٹو تو کریم پیلس کے عین سامنے ہی رک چکا تھا ۔اس نے اسے روک لیا تھا۔
    چھوٹو کو دیکھنے کے لیے میں پیچھے مڑا ‘ تو وہ اس کا ہاتھ تھامے ہولے ہولے چلتے ہوئے میری ہی طرف آ رہی تھی ۔
    میں نے اس کی لال سرخ آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو دیکھ لیے تھے ۔
    دوپٹے سے بے نیاز قمیص شلوار میں ملبوس سراپا اس کی دل کشی کا آئینہ دار تھا ۔کھلے ہوئے بے ترتیب بال اور ننگے پاؤں بتاتے تھے کہ وہ بہت عجلت میں بھاگتی ہوئی آئی ہے۔ ڈبڈباتی سرخ آنکھیں اور ان آنکھوں میں درج شکایت اس کے ضبط کی کڑی مسافت سے گزرنے کا پتا دے رہیں تھیں اور اس کا ملیح چہرہ جو اس وقت سُتا ہوا دکھائی دے رہا تھا ‘اس کے رت جگے کا حال بتا رہا تھا۔
    میں حیران اور پریشان اسے قریب سے قریب تر آتا دیکھ رہا تھا۔
    وہ میرے قریب بہت ہی قریب آگئی۔ چھوٹو اپنا ہاتھ چھڑوا کر اب حیرت سے بت بنا ہم دونوں کے بیچ کھڑا ہماری شکلیں دیکھ رہا تھا۔
    ’’میری آنکھیں دیکھ رہے ہو؟‘‘
    گھمبیر لہجہ…آنکھوں کے تاثر سے بالکل الگ ،مجھے اپنی زبان تالو سے چپکی ہوئی محسوس ہوئی۔
    ’’یہ آنکھیں دیکھ سکتی ہیں‘یہ میں نے پرسوں رات جانا۔ بینائی پا کر بھی نابینا لوگوں جیسی زندگی گزار رہی تھی میں۔لوگ آنکھوں پر پہرے بٹھاتے ہیں ۔ میری آنکھیں میرے دل کا پہرہ دیتی تھیں۔ دل محسوس کرتا تھا ‘ آنکھیں اندھی ہو جاتی تھیں ۔ دل بجھ جاتا تھا،بے بس ہو جاتا تھا… میں نابینا تھی۔تب بھی جاگتی تھی۔ اذیت ہو تی تھی۔ آج رات پہلی بار بینائی کے احساس کے ساتھ جاگی ہوں۔ اذیت ہوئی… ہاں مجھے اذیت ہوئی‘ میٹھی سی اذیت۔ میٹھی اذیت کیا ہوتی ہے جانتے ہو ؟‘‘
    اس نے اک پل کا توقف کیا اور منہ بند کر کے لمبی سانس کھینچی تھی ۔آنکھیں بھی بند کر لیں۔ کاش میں بھی کر سکتا۔ میں نہیں کر سکا تھا۔ اس نے لمبی سانس چھوڑی۔ میں نے اس کے تنفس کو پوری طرح اپنے چہرے کے اوپر محسوس کیا تھا۔ اس کی آنکھیں کچھ لمحوں تک بند رہیں اور میری بے اختیار ۔
    پھر اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ ڈبڈباتی ہوئی سرخ آنکھیں ۔ دو موٹے موٹے آنسو پلکوں کی باڑھ توڑ کر اس کے گالوں پر لکیر کھینچتے ہوئے ٹھوڑی کے نیچے غائب ہو گئے تھے ۔
    میں منجمد تھا‘ برف بن چکا تھا۔ جون کے مہینے میں صبح کے سات بجے کراچی کا موسم اتنا ٹھنڈا نہیں ہوتا ،مگر ان چند گھڑیوں نے میرے تمام عضلات کو سن کر دیا تھا ۔
    ’’آنسو کمزور بنا دیتے ہیں نا۔لہجوں کو ‘رویوں کو ‘مگر میرے آنسو مجھے کمزور نہیں بناتے اور بھی مضبوط کر دیتے ہیں ۔ میرے آنسو مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔یہ کہتے ہیں تم ہمیں ہمیشہ تنہائی میں کیوں بلاتی ہو ؟ لو…آج تمہارے سامنے بلا لیا۔شکایت دور کر دی ان کی۔ اب یہ مجھ سے پوچھیں گے ۔تمہارے سامنے ہی کیوں ؟میں کہوں گی تم وہ ہو جس نے مجھے بینائی کا احساس بخشا اور میٹھی اذیت سے روشناس کروایا ۔ تمہارا شکریہ اجنبی ۔میں اس میٹھی اذیت کو مرتے دم تک سنبھال کے رکھوں گی۔چاہے تم اسے بانٹنے آؤ یا نہ آؤ۔‘‘
    میں نے اپنے باپ کی موت پر چند عورتوں کو ماں کے ساتھ مل کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کے آنسو سچ تھے یا جھوٹ ،میں نہیں جانتا تھا۔ اپنی ماں کے آنسو بھی کئی بار دیکھے تھے میں نے۔ صرف دکھ کا احساس دلوا سکتے تھے ،ان میں کتنی سچائی ہو گی ‘کتنی گہرائی ہو گی۔ میں نے کبھی جاننا ہی نہیں چاہا تھا ۔میں آنسوؤں کی زبان سے انجان تھا۔ میرے نزدیک آنسو دکھ کی علامت تھے ۔ نہیں …میں غلط تھا،آنسو تو خوشی کی علامت بھی کہلاتے ہیں اور آج جانا تھا۔ کچھ آنسو آپ کے اپنوں کے نہیں ہوتے ۔آپ کے بھی نہیں ہوتے ‘کسی اجنبی کے ہوتے ہیں۔جیسے اس انجان لڑکی کے تھے جس کے نام تک سے آشنائی حاصل نہ تھی مجھے اور جیسے وہ انجان تھی مجھ سے ۔پر یہ آنسو مجھے بتا رہے تھے یہ لڑکی سو فیصد سچ کہہ رہی ہے جسے تم دل ہی دل میں سنکی سمجھتے ہو ۔ہمیں آج تک تمہارے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا۔یہ اپنی بات میرے دل تک پہنچا رہے تھے ‘مجھے قائل کر رہے تھے اور آج اس پل ایک انوکھا احساس جاگ رہا تھا ۔کوئی ہے جس کے آنسو میرے علاوہ کوئی نہیں دیکھ سکتا۔یہ سوچ احساس بن کر میرے پورے جسم میں پھیل رہی تھی۔میں اس پل کے رک جانے کی دعا کر رہا تھا ۔پر یہ پل کہاں رکتے ہیں؟ پھسلتے جاتے ہیں‘مٹھی میں دبی ہوئی خشک ریت کی طرح۔ یہ پل بھی پھسل چکا تھا اور اگلے پل میں حقیقت اپنا پھن پھیلائے میرے سامنے کھڑی تھی۔میں‘پرویز گل اور میرے سامنے آنسو بہا کر مجھے اس دنیا میں سب سے الگ رتبہ دینے والی انجان لڑکی جو میرے طفیل اپنی بینائی لوٹنے کا جشن آنسوؤں سے منا رہی تھی ۔ ایک ہی دنیا میں رہ کر بھی الگ الگ دنیا بسانے پر مجبور تھے۔میری دنیا میرے کچے گھر میں تن تنہا بیٹھی میری ماں سے شروع ہو کر مرتضیٰ کے جھونپڑے پر ختم ہو جاتی تھی اور وہ میرے سامنے پہاڑ کی طرح استادہ خوبصورت محل میں رہنے والی خوبصورت شہزادی تھی۔شہزادیوں اور غریب لکڑہاروں کی بے شمار کہانیاں میں نے ماں سے سن رکھی تھیں‘ مگر یہ کہانی نہیں حقیقت تھی ۔
    وہ مجھے دیکھتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی ۔
    ’’میں ہر پل اس اذیت کی حفاظت کروں گی جو تم مجھے تحفے میں دے کر جا رہے ہو۔‘‘
    وہ مڑ کر کریم پیلس کے اندر چلی گئی اور میں خالی خالی نظروں سے کریم پیلس کے گیٹ کو دیکھنے لگا۔
    کچھ پل اور گزر گے۔
    تب مجھے چھوٹو کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی سنائی دی جو میرے پاس کھڑا میرا ہاتھ ہلاہلا کر مجھے بلا رہا تھا۔
    ’’میں نے چھوٹو کی طرف دیکھا،پتا نہیں کیا دیکھ لیا ہو گا ان آنکھوں میں اس نے بدک کر پیچھے ہٹ گیا۔
    ’’بھا جی کیا ہوا وہ لڑکی کون تھی ؟ اور آپ رو کیوں رہے ہو ۔‘‘
    ’’کیا؟ میں رو رہا ہوں ؟‘‘
    میں نے سوچتے ہوئے بے اختیار اپنا دایاں ہاتھ اپنی گال پر رکھا ۔بھیگا ہوا گال ۔
    ’’میں کیوں رو رہا ہوں؟‘‘
    میں حیرت زدہ تھا۔ اپنے خاموش آنسوؤں پرجو بنا بتائے بلاوجہ ہی آگئے تھے ۔
    آنسو بلاوجہ بھی آسکتے ہیں ؟کیسے آسکتے ہیں ؟ آج تک تو نہیں آئے ۔باپ کے مرنے پر آئے تھے ،ماں کو گھر میں چھوڑ کر شہر جاتے ہوئے آئے تھے اور تھپڑ کھا کر ذلیل ہوتے ہوئے آئے تھے۔ پر آج ‘آج کیوں ؟ ابھی اس وقت کیوں ؟
    ایک بوڑھے نے سائیکل میرے پاس آکر روکی اور پوچھنے لگا۔
    ’’کیا ہوا بیٹے ؟ کیوں رو رہے ہو ؟‘‘
    میں نے چونک کر بوڑھے بابا کی طرف دیکھا اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔
    ’’پتا نہیں بابا۔‘‘
    ’’رو لو بیٹا‘رونے سے بوجھ ہلکا ہوتا ہے ‘مگر یہاں بیچ راستے میں نہیں گھر جا کے رو۔اپنے پیاروں کے پاس جا کر رو لو۔‘‘
    بابا سائیکل چلاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
    ’’گھر …پیارے … دونوں سے محروم تھا میں آج کے دن ۔کبھی کبھی محرومیاں ستاتی ہیں ،اپنی پوری طاقت سے ۔ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کس قدر محروم ہیں ،کس قدر بے بس اور لاچار ہیں۔
    میں شکستہ قدموں سے چپ چاپ چھوٹو کے پیچھے چلتا رہا تھا۔کب پہنچا،کب واپس آیا ،کب کام شروع کیا اور کب نماز جمعہ کا وقت ہوا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔
    جب مرتضیٰ نے کہا تھا ’’اذانیں شروع ہو گئی ہیں باؤ۔ چل پڑھ لے جمعہ کی نماز اور چھوٹو کو بھی لے جا ۔‘‘
    وہ اپنے تئیں احسان کر رہا تھا۔میں نے اسے حیران و پریشان کر دیا۔
    ’’آج جمعہ ہے ؟‘‘
    ’’کیا کہا ۔۔۔؟ اے باؤ پاگل واگل ہو گیا کیا ؟آج صبح تو گیا تھا ‘تو چھوٹو کے ساتھ جمعے کی نماز کی تیاری کرنے اور اب بھول بھی گیا؟‘‘
    میں اسے جواب دیے بغیر جمعہ کی نماز کے لیے چل پڑا تھا۔
    ’’اس طرف نہیں بھا جی۔ ‘‘
    مجھے اپنے پیچھے چھوٹو کی آواز سنائی دی جو مجھے کریم پیلس کی طرف جانے والے راستے سے منع کر رہا تھا۔
    میں ایک بار پھر اس کے پیچھے ہو لیا ۔
    ’’مسجد تو اس طرف بھی تھی اور نزدیک بھی پڑتی تھی ‘لیکن میں نے سوچا ہم آج اس طرف کوئی مسجد ڈھونڈتے ہیں۔‘‘
    چھوٹو نے ہوٹل کے پچھواڑے گزرنے والی مہران اسٹریٹ کی طرف جاتے ہوئے کہا تھا۔
    میں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔
    ہم دیر تک چلتے رہے ۔ مہران اسٹریٹ آگے جا کر مہران چوک پر ختم ہو گئی۔چوک کی چاروں طرف دیکھتے ہوئے چھوٹو کو ایک مسجد نظر آگئی اور میں اسے لے کر مسجد پہنچ گیا۔
    نماز ادا کرتے ہوئے بار بار ڈبڈباتی آنکھوں والا چہرہ میرے سامنے آ جاتا۔ میں نے دل سے نماز ادا کرنی چاہی تھی‘ مگر آج اس سے ملنے کے بعد میں کوئی بھی کام دل سے کر نہیں پایا تھا۔نماز کے بعد میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور جھٹ سے میرے ہاتھ کے پیالے میں پھر اسی کا چہرہ اُبھر آیا۔
    ’’یا اللہ… ‘‘
    میں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ کو پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ایسا ہوتا ہے ‘ جب ہم خود کو بالکل بے بس سمجھتے ہیں اور خود پر اختیار کھونے لگ جاتے ہیں۔ تب وہی ایک ہستی نظر آتی ہے جو ہمارے حال پر رحم کر سکتی ہے‘۔مگر میری پکار میں صداقت کی کمی تھی یا نیت میں کھوٹ تھا۔ میری دعا کو شرف قبولیت عطا نہ ہوئی ،مسجد سے باہر آ کر بھی میرا من بار بارایک ہی چہرے میں ڈوب کر اُبھر رہا تھا۔ آنکھوں نے اس منظر کو ایسا نقش کیا تھا کہ اب کوئی اور نظارہ ان کے لیے قابل قبول نہ تھا ،میں اندر ہی اندر جلنے لگا تھا۔
    ’’یہ کیسی اذیت ہے ؟‘‘
    واپس آتے ہوئے میں نے سوچا تھا۔
    ’’اذیت ‘کیا کہہ رہی تھی وہ ۔ میٹھی اذیت جو میں نے اسے تحفے میں دی تھی اور اس نے آج مجھے کیا دے دیا تھا۔ یہ کیسا احساس تھا؟کیا یہی وہ میٹھی اذیت ہے ؟ کیا یہی مجھے لوٹانے آئی تھی وہ ؟‘‘
    چھپر ہوٹل کی طرف مڑتے ہوئے ایک گاڑی نے ہارن دے کر مجھ سے راستہ مانگا۔
    ’’میں نے ایک سائیڈ پر ہو کر مڑتے ہوئے غائب دماغی سے گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھا۔
    اور ایک زوردار جھٹکے سے ہوش میں آ گیا۔
    مجھے تھپڑ مارنے والا اس کا باپ کینہ پرور نظروں سے مجھے گھورنے کے بعد کچھ بڑبڑا رہا تھا‘گالیاں دے رہا تھا۔
    اور پھر ناک کی سیدھ میں دیکھتے ہوئے آگے بڑھ چکا تھا۔
    ایک اور سوچ ‘ایک اور سوال میرے سامنے کھڑا تھا۔
    ’’کیا وہ اس شخص سے بھی اپنے آنسو چھپا کے رکھتی ہے ؟‘‘
    ٭…٭…٭




  • انشاء اللہ — سحرش مصطفیٰ

    انشاء اللہ — سحرش مصطفیٰ

    میں نے ایک آخری مرتبہ قد آدم آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ میں بالکل تیار تھا۔جینز بلیک ٹی شرٹ اور اس کے ساتھ فینسی بلیک لیدر جیکٹ ۔ یہ کنسرٹ ممبئی کی ایک یوتھ آرگنائیزیشن کی طرف سے ارینج کیا گیا تھا۔ اسٹیج پر ایک نیا ابھرتا ہوا مقامی گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا رہا تھا۔ اس وقت بیک اسٹیج پر میرے آخری لمحات تھے۔ میری اینٹری قدرے لیٹ تھی۔ میں بڑا ستارہ تھا، چاند جتنا بڑا۔ میرے لئے لوگوں کو انتظار کرایا جاتا تھا تاکہ ان کا جوش و خروش عروج پر پہنچ جائے۔یہ ایک بہت ہی پرُانا اور روایتی سا حربہ تھا، جو ہر بار کام دکھاتا اور کیا خوب دکھاتا تھا۔ اچانک اسٹیج پر آنے والی آواز بند ہوگئی میں نے چونک کر اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھا، ابھی میری اینٹری میں دس منٹ باقی تھے اور پھر ایک عجیب و غریب شور اُبھرا۔ چیخ و پکار، شورو غل اور قدموں کے شور میں میں نے شو کے فنانسر اور ڈائریکٹر کو اپنے فیلڈ مینیجر کے ساتھ ڈریسنگ روم میں داخل ہوتے دیکھا۔ ان کے ساتھ دو سیکیورٹی اہلکار بھی تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میرا مینیجر گھبرایا ہوا تیزی سے میری جانب بڑھا۔
    ’’باہر ہنگامہ شروع ہوگیا ہے، ممبئی کی ایک سیاسی جماعت کے کچھ لوگ آپ کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں اور انہوں نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ان کے ساتھ شو میں موجود بہت سے تماشائی بھی شریک ہوگئے ہیں، لیکن آپ فکر نہ کریں شو کے مینیجر نے پولس کی مدد لے لی ہے۔وہ ہمیں باحفاظت ائیرپورٹ تک پہنچا دیں گے۔‘‘ اب وہ مجھے تسلی دے رہا تھا۔آج رات ویسے بھی میری اسلام آباد کی فلائٹ تھی۔ ہنگامے کی وجہ کیا تھی؟ میرا پاکستانی ہونا؟ میں نے بہت سارے آرٹسٹس کے ساتھ ایسا ہوتا سنا تھا لیکن میرے ساتھ یہ سب پہلی بار ہوا۔ میں بہت پریشان تھا اور میں نے بیٹھے بیٹھے اپنے مالی نقصان کا اندازہ لگایا۔ آج کے شو کا تو نہیں ہاں البتہ مجھے مستقبلِ میں کچھ نقصان ضرور ہوگا۔
    پندرہ منٹ بعد چند سیکیورٹی اہلکار مجھے حفاظتی تحویل میں لے کر باہر نکالنے لگے۔ باہر بہت سارے صحافی جمع تھے، جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے اگنور کیا۔ ڈریسنگ روم سے راہ داری، راہ داری سے پچھلا گیٹ اور گیٹ سے گاڑی۔ اچانک نہ جانے کہاں سے وہ سامنے آگیا۔
    ہنگامہ آرائی کرنے کُرتے پاجامے میں ملبوس اور اورنج پٹی ماتھے پر باندھے ایک کارکن نے مجھے دیکھا اور زمین پر تھوکا۔ گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے میں جیسے سکتے میں آگیا۔ میں نے کہاں ایسی ذلت دیکھی تھی۔ میں تو ایک سٹار تھا، سرحدوں اور مجبوریوں سے اوپر اپنے فن کے ذریعے بلندی پر پہنچنے والا سٹار جسے اس دشمن سر زمین پر بھی ہمیشہ پیار ملا۔
    اس نے مجھے دیکھ کر زمین پر نہیں تھوکا تھا بلکہ اب اس کا ہدف پاکستان تھا۔ وہ مسلسل پاکستان کو گالیاں دے رہا تھا اور ساتھ ہی مجھے اور میرے ملک کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کر رہا تھا۔ اس کا وہ چہرہ میں کبھی نہیں بھلا سکا اور وہ اُس کا اصلی چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں کتنی نفرت تھی۔ ایک مستقل رہنے والی نفرت جس نے میرے ذہن کو جھنجوڑ دیا۔ مالی نقصان اور اگلے آنے والے شوز سب کچھ بہت پیچھے رہ گیا، بس ذلت باقی رہ گئی۔ مجھے گاڑی میں بٹھا کر ائیرپورٹ پہنچا دیا گیا۔ میری فلائیٹ چار بجے کی تھی تب تک مجھے یہاں رہنا تھا۔ میں سکتے میں تھا اور میرا مینیجر مجھے تسلی دے رہا تھا مگر میں تو مرچکا تھا۔ بہت سی آوازیں میرے کانوں میں گونجیں آنکھوں سے پٹیاں اُتریں۔ کوئی میرے اندر سے اٹھ کر باہر آگیا تھا اور مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ اب بتا میں نے صحیح کہا یا غلط؟ میں نے بے اختیار انتظار حسین سے آنکھیں چرائی تھیں۔
    ’’اعتبار بھی آہی جائے گا چلو تو سہی۔ ’’راستہ کوئی مل ہی جائے گا چلو تو سہی چلوتو سہی‘‘ میں آنکھیں بند کرکے جذب سے گارہا تھا۔ مکمل خاموشی تھی، گانے کا آخری شعر تھا میں نے آنکھیں کھولیں پھر میری سماعتوں نے وہی سنا تھا، جو ہمیشہ سنتی آئی ہیں تالیوں کی زوردار گونج۔ یہ میری اسکول فئیر ویل کا فنکشن تھا۔ میرا خون بڑھ گیا تھا۔ میری آواز میں جادو تھا ۔ میں خوشی خوشی گھر آیا تھا اور دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک آواز نے میرے قدم جکڑ لئے تھے۔ ’’انتظار حسین کہاں ہو تم صُبح سے میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔‘‘ یہ میرے بوڑھے دادا کی آواز تھی میں مریل قدموں سے ’’جی دادا جی آیا۔‘‘ کہتا ان کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ اب روزانہ کی طرح مجھے انتظار نامہ سننا تھا۔ میں تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ دادا کے اور بھی پوتے پوتیاں تھیں لیکن انہیں مجھ سے خاص محبت تھی اور وجہ میری ان کے چھوٹے بھا ئی انتظار حسین سے مشابہت تھی۔ کہنے والے کہتے تھے کہ نہ صرف شکل بلکہ میری آواز بھی ان جیسی تھی مگر یہ مشابہت میرے لئے روز کا عذاب بن گئی۔
    داداجی عجیب سے تھے۔ ان کی ساری حسّیات اور باتیں صرف ایک ہی نام کے گرد گھومتیں اور وہ نام تھا انتظار حسین۔ میری ذاتی رائے میں داداجی کی دماغی سوئی انتظار حسین پر آکر رُک چکی تھی۔ اپنے سب سے چھوٹے، لائق، خوبصورت اور نوجوان بھائی کی اندوہناک موت کا صدمہ جڑپکڑ کر ان کے اندر جم چکا تھا۔ دادا جی کو سمجھ کیوں نہیں آتا ہے کہ میں انتظار حسین نہیں ہوں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا زندگی کو آگے بڑھنا چاہیئے۔ کبھی کبھی میں چڑ جاتا۔ میرا نام انتظار حسین رکھا گیا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ امی کی فرمائش پر اریب کا اضافہ کر دیا گیا۔ دوستوں کے حلقے میں میں اریب حسین کی پہچان رکھتا تھا۔ خاندان کے بزرگ کہتے تھے کہ میر ا قد کاٹھ، ظاہری شخصیت اور خاص طور پر پروقار گونج دار آواز بالکل انتظار حسین کی کاربن کاپی تھی۔ دادا جی نے صرف میرا نام ہی انتظار حسین نہیں رکھا تھا بلکہ میرے اندر پرانے انتظار حسین کو فکس کردیا تھا۔ یہ میرے ذاتی خیالات تھے۔ وہ رو ز مجھے بٹھاکر انتظار حسین کی فصاحت و بلاغت اور ذہانت کے قصّے دُہراتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ہمہ تن گوش ہونا پڑ تا کیوں کہ یہ پاپا کا حُکم تھا اور میں ان کی ہر بات مانتا تھا سو چار و ناچار مجھے روزانہ کی بنیا د پر دادا کی زبانی نصف صدی کے اس قصّے کا روز نامہ سننا پڑتا تھا کبھی کبھار تو مجھے لگتا تھا کہ جیسے انتظار حسین کی روح تک میرے اندر حلول کر چکی ہے۔ انتظار حسین دو ٹوک بات کرتا تھا۔ وہ دور اندیش تھا۔ اس کے پاس دلائل کی کمی نہیں تھی اور ناجانے ایسے اور کتنے قصّے کہانیاں تھے مگر روز روز ایک ہی نام سننے سے انسان کیسی ذہنی اذیت سے گزرتا ہے آپ اندازہ نہیں لگاسکتے۔
    میں اب فلائٹ میں بیٹھ چکا تھا۔ یہ فلائٹ جو پاکستان جارہی تھی، ’’پاکستان…!‘‘ میں نے زیر لب دُہرایا ایک مرتبہ پھر میرے ذہن میں ان گندی گالیوں کی گونج اُبھری اور ایک مرتبہ دوبارہ میں نے کوئی سایہ اپنے ساتھ محسوس کیا، انتظار حسین کا سایہ۔
    ’’وہ کہتا تھا کہ بھائی جان دنیا کی کوئی دولت، عزت اور عزتِ نفس کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ یہ انتظار حسین کا نظریہ تھا وہی انتظار حسین جس نے آزادی کی جدو جہد کی تھی۔بے حد مدلل اور جامع انداز سے وہ جیسے اس کھیل کے ماسٹر مائینڈز میں سے ایک تھا۔ صرف جذباتی باتیں نہیں تھیں اسے قیامِ پاکستان کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق لوگوں کے ابہام دور کرنے میں کمال حاصل تھا۔ وہ اس وقت بی اے کے طالب علم تھے، جب مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی بے چینی بڑھ چکی تھی۔ تب انتظار حسین جیسے لوگ تھے، جو اس راہ کو ہموار کرنے کے لئے ایک جنگ لڑرہے تھے مگر نظریاتی جنگ ختم نہ ہونے والی تھی۔ ان کی آواز جو آزادی کی جدوجہد میں خاص طور پر نعرہ کے لیے مشہور تھی۔ ’’بن کے رہے گا پاکستان، اِن شا ء اللہ‘‘ یہ وہ نعرہ تھا، جو ان کی پہچان تھا یاپھر شاید وہ اس کی پہچان تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ بہت ہی ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کا لڑکا ہے۔ وہ تو میں ہی جانتا تھا کہ کتنا جذباتی تھا، پاکستان کے معاملے میں۔ اپنی پرُ زور اور پرُ اثر آواز میں جب ہر جلسے کے بعد وہ نعرہ لگاتا تھا ’’بن کے رہے گا پاکستان اِن شاء اللہ‘‘ تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے داداجی کی بوڑھی آنکھوں میں یوں جذبات ابھر آتے، گویا انتطار حسین سامنے ہی کھڑے تھے اور میں دل ہی دل میں خوب ہنستا تھا۔ اُف یہ جذباتی لوگ اور مجھے افسوس ہوتا انتظار حسین پر جس نے اپنی جوانی کے دن ایسے ملک کے لئے قربان کردیئے جہاں جگہ جگہ گندگی ڈھیر تھے، آئے دن رستے پر چلتے ہوئے انسان اپنی جان کھو دے۔ لو بھلا اس طرح ملک کے لئے بھی کوئی اپنی زندگی قربان کرتا ہے۔




  • ادھوری زندگانی ہے —- لعل خان (پہلا حصّہ)

    ادھوری زندگانی ہے —- لعل خان (پہلا حصّہ)

    تین جنوری بروز منگل (2013ء)
    شام کے سائے لمبے ہو کر اب گھر کی کچی دیواروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔سورج اپنی آب و تاب کھو کر بچی کھچی روشنی کو دیواروں کی منڈیر سے بس کھینچنے ہی والا تھا۔میں نے صحن کے بیچوں بیچ لکڑی کی چارپائی پر دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے ابا جی کی طرف دیکھا ،وہ آسمان کی جانب دیکھ رہے تھے۔ شاید موازنہ کر رہے تھے اپنا اور آسمان کا۔ آسمان چھیاسٹھ برس پہلے بھی اسی طرح تھا،تاحدِ نظر پھیلا ہوا… رات کے آنگن میں ستاروں سے سجی ہوئی دلہن کی طرح اور بنا سہارے کے کھڑا ہوا مگر ان چھیاسٹھ برسوں نے ابا جی سے بہت کچھ چھین لیا تھا۔ بچپن ،جوانی اور اب صحت بھی۔ وہ بیمار بیمار سے رہنے لگے تھے۔
    دن مٹی سے بنے ہوئے کچے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں لٹکے میلے کچیلے تین پروں والے پنکھے کو گھورتے ہوئے گزار دیتے تھے اور رات ستاروں کی گنتی میں… مگر ان کی یہ گنتی ہر رات ادھوری رہ جاتی تھی۔ ستاروں کی چمک ماند پڑتے پڑتے مر جاتی اور سورج تازہ دم ہو کر لوٹ آتا تھا۔ تب ابا اپنی چارپائی اٹھا کر پھر سے کمرے میں گھس جاتے۔ میں نے نظروں کا رخ بدلا تو سامنے لکڑی کے بیرونی دروازے کے دائیں طرف جلتے ہوئے تندور میں تندہی سے روٹیاں پکاتی اماں نظر آئیں۔ اماں کا چہرہ بھی تندور کی تپش سے سرخ ہو رہا تھا۔ وہ کندھے پر مفلر کی طرح ڈالے گئے دوپٹے نما کپڑے سے بار بار چہرہ صاف کرتی اور پھر سے تندور پر جھک جاتیں۔
    ’’کاش! میری کوئی بہن ہوتی۔‘‘ بے اختیار ہی دل نے اک اور کاش کو جگہ دے دی ۔
    میں اماں اور ابا کی اکلوتی اولاد تھا جسے دونوں نے بہت لاڈ پیار سے بڑا کیا تھا۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے میرے ماں باپ نے میری چھوٹی سی خواہش کو بھی اپنی جان گروی رکھ کر پورا کیا تھا۔ ابا بتاتے ہیں ان کی شادی کے آٹھ سال بعد جب میں پیدا ہوا تو انہوں نے اپنی ساری زمین بیچ کر یہ مٹی کا گھر بنایا تھا تا کہ ان کے شہزادے کو اس جھونپڑے میں نہ رہنا پڑے جس میں ابا میری ماں کو بیاہ کر لائے تھے۔ وہ جھونپڑا ابا کی زمین میں ہی بنا ہوا تھا اور وہاں کھیتی باڑی کرکے وہ اپنا اور اماں کا پیٹ پالتے تھے۔ زمین بک جانے کے بعد ان کے شہزادے کو گھر تو مل گیا مگر اس کے بعد ابا کو نت نئے لوگوں کے آگے مزدوری کر کے اپنا گھر چلانا پڑا لیکن وہ یہ سب بہت خوشی خوشی برداشت کر رہے تھے۔ میری آمد نے ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے صحرا میں مجھے ایک نوخیز پودا سمجھتے تھے جس نے ایک دن سایہ دار درخت بن کر انہیں اپنی چھاؤں میں پناہ دینی تھی۔





    اماں بتاتی ہیں جب میرا نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو دونوں میں خوب لے دے ہوئی۔ اماں نے میرے لیے اپنے مرحوم بھائی پرویز کا نام سوچا ہوا تھا اور ابا مجھے گلزار کہہ کر بلانا چاہتے تھے۔ یوں کئی دن تک یہ جھگڑا چلتارہا اور آخر کار دونوں نے تیسرا رستہ نکالا اور میرا نام پرویز گل رکھ دیا گیا۔
    ابتدائی پانچ سال تک ابا کی دہاڑی سے گھر بھی چل جاتا اور میرے نخرے بھی آرام سے برداشت ہو جایا کرتے تھے مگر جب مجھے اسکول میں داخل کروانے کا وقت آیا تو ابا اور اماں دونوں ایک بار پھر متفکر ہو گئے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کروں تاکہ جوان ہو کر ابا کی طرح دہاڑی کرنے کی بجائے کوئی بڑا افسر بنوں گا اور میری جوانی اور اُن کا بڑھاپا سدھر جائے، مگر اب جب میں پانچ سال کا ہو کر ا ن سے پوچھ رہا تھا کہ میں کب اسکول جاؤں گا، تو دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے تھے۔
    تب پہلی بار اماں نے ابا کا ساتھ دینے کے لیے کمر کس لی اور محلے کے وہ تمام گھر جہاں جھاڑو پونچھے اور برتن دھونے کے لیے نوکرانیوں کی ضرورت پڑتی تھی وہاں پہنچ گئیں اور آخر کار ایک گھر میں انہیں نوکری مل ہی گئی۔یوں اب گھر کا خرچہ ابا کے ذمے ہو گیا اور میری پڑھائی کا خرچ اماں کے ذمے۔ اماں روز مجھے ناشتا کروانے کے بعد گاؤں کے واحد پرائمری اسکول میں چھوڑنے کے بعد اپنے کام پر چلی جاتی اور جب چھٹی کا وقت ہوتا تو ابا مجھے لینے آجایا کرتے۔ یوں زندگی کی گاڑی اپنی ڈگر پر چل پڑی۔ میرے آنے کے بعد ہماری فیملی مکمل ہو گئی تھی۔ ابا، اماں اور میں ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب میں نے میٹرک میں اپنی کلاس میں دوسری پوزیشن لی تھی۔ اس دن ابا نے ایک بار پھر اپنی ساری جمع پونجی لگا کر پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی ۔
    میٹریکولیٹ ہونے تک مجھے اس بات کا اچھی طرح ادراک ہو چکا تھا کہ میں ایک لوئر مڈل کلاس فیملی کا لڑکا ہوں۔ میرے ابا دہاڑی کرتے اور اماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔میں اب اپ سیٹ رہنے لگا تھا۔ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ میں مزے سے رہوں اور میرے ماں باپ محنت مزدوری کرکے میرا پیٹ بھرتے رہیں۔ اسی لیے میں نے سوچ رکھا تھا کہ میٹرک پاس کرتے ہی کوئی کام ڈھونڈنا شروع کر دوں گا۔ جب میں نے ابا اور اماں سے بات کی تو دونوں کا غصہ آسمان چھونے لگا۔ وہ مجھے کسی بھی صورت پڑھائی چھوڑ کر کام پر لگنے نہیں دینا چاہتے تھے ۔ابا نے اس دن پہلی بار مجھے شدید غصے میں انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوئے کہا:
    ’’کان کھول کر سن لو گل! پڑھائی چھوڑ کر کام کا خیال دوبارہ دل میں کبھی مت لانا۔میں نے تمہارے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ تب ہی پورے ہوں گے جب تم تعلیم مکمل کر کے افسر بن جاؤ گے۔ میں ابھی بوڑھا نہیں ہوا تم سے زیادہ طاقت ور ہوں۔ میں تمہاری پڑھائی کا خرچ برداشت کر لوں گا۔‘‘ ابا کی بات ختم ہوتے ہی اماں بھی مجھ پر برس پڑی تھیں۔
    ’’تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم دونوں کے ہوتے ہوئے تم پڑھائی چھوڑ کر کام پر کرو گے۔ تمہیں ابھی اور پڑھنا ہے جیسے وہ خالد صاحب کا بیٹا پڑھ رہا ہے شہر جا کر… تم بھی شہر جا کر پڑھو گے اور تب تک نہیں لوٹو گے جب تک بڑے افسر نہ بن جاؤ۔‘‘
    یہ سنتے ہی ابا نے اماں کو ڈپٹ دیا تھا۔
    ’’تم بھی کما ل کرتی ہو نیک بخت! کیوں نہ لوٹے ،ہزار بار لوٹے، اس کا گھر ہے یہ مگر صرف چھٹیاں گزارنے کے لیے، دہاڑیاں کرنے کے لیے نہیں۔‘‘
    میںخاموشی سے سر جھکائے اپنے ماں باپ کی باتیں سن رہا تھا جن کے غصے میں بھی میرے لیے پیار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔
    مجھے ا ن کی سادہ لوحی پر رشک بھی آتا تھا۔ یہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ڈھیر سارا پڑھنے سے لوگ بڑے افسربن جاتے ہیں مگر میں جانتا تھا صرف ڈھیر ساری پڑھائی افسر بننے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
    وہ مجھے ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل نہیں بنا سکتے تھے۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ مجھے ایم بی بی ایس یا ایل ایل بی کروا پاتے، مگر میں ان کی امیدوں کو توڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں شہر جا کر پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کروں گا تا کہ میں ان پر بوجھ نہ بنوں۔ مگر اللہ کی زمین میں صرف وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ہم انسان صرف منصوبے بنا سکتے ہیں۔ بہ قول اشفاق احمد… ’’انسان اتنا غافل منصوبہ ساز ہے جو اپنی موت کو اپنے منصوبے میں شامل ہی نہیں کرتا۔‘‘ میرے منصوبوں کے راستے میں موت تو حائل نہ ہو سکی، مگر ابا کی اچانک بیماری نے ان کے تمام خواب چکناچور کر دیے جو انہوں نے میرے لیے دیکھے تھے۔
    میرے شہر جانے کے ڈیڑھ سال بعد ہی ابا کو ایسی بیماری لگی کہ وہ چارپائی کے ہو کر رہ گئے۔ اماں اکیلی ابا کو سنبھال نہیں سکتی تھیں، چارو ناچار مجھے انٹر ادھورا چھوڑ کر گھر واپس آنا پڑا۔ گھر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اب مجھے ابا کی بیماری سے بھی لڑنا تھا جو مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ابا نے بولنا تقریباً چھوڑ ہی دیا تھا۔ وہ اپنی شکست کے احساس کے ساتھ روز بہ روز زندگی سے مایوس ہوتے جا رہے تھے۔ میں نے ابا کی جگہ دہاڑی لگانا شروع کر دی۔ اماں ابھی تک محلے کے کچھ گھروں میں جھاڑ پونچھ کر کے تھوڑا بہت کما رہی تھی مگر ہم ماں بیٹے کی کمائی گھر کو چلانے اور ابا کو چارپائی سے اٹھانے کے لیے ناکافی تھی۔ میں شہر جا کر اچھی نوکری ڈھونڈنا چاہتا تھا مگر ابا کی حالت نے میرے پاؤں میں زنجیر ڈالی ہوئی تھی۔ مجھے دہاڑی پر کام کرتے تین سال ہو چلے تھے لیکن ابا کی حالت نہ سدھر سکی اور اب اماں بھی کام کے لائق نہ رہی تھیں۔ میں نے خود ہی ان سے کہہ کر کام چھڑوا دیا تھا۔ ابا کو شاید اب علاج کی ضرورت نہ رہی تھی اور مزدوری کرنے سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو ہی جاتا تھا۔ میں نے خود کو وقت اور حالات کے سپرد کر دیا۔ میں سمجھ چکا تھا کہ میرا امتحان میری غریبی لے رہی ہے۔ مجھے اب بس اس وقت کا انتظار تھا جب ابا نے چارپائی چھوڑنی اور شاید قبر میں سونا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • خلا — ایم اے ایقان

    خلا — ایم اے ایقان

    وہ ملنگ چلا جارہا تھا بغیر کوئی صدا لگائے۔ کشکول ہاتھ کی بہ جائے گردن میں لٹک رہا تھا جیسے کوئی طوق پہن رکھا ہو۔ بکھرے ہوئے لمبے گرد سے اٹے بال شانوں تک آرہے تھے۔ بڑھی ہوئی ڈاڑھی، مونچھیں، لمبی سی قمیص، کئی جگہوں سے ٹانکے لگی چپلیں اور ہاتھ میں لکڑی کا عصا جو دیگر عام ملنگوں کا حلیہ ہوتا ہے۔ عُمر میں جوانی کی منزل سے گزر کر اُدھیڑ عمری کے راستے میں پڑاؤ ڈالے دِکھتا تھا۔ عام ملنگوں سے انفرادیت کی بات یہ تھی کہ وہ گردو پیش سے بے نیاز چُپ چاپ چلا جارہا تھا۔ وہاں ’’اللہ کے نام پر دے دو بابا‘‘ والی کوئی صدا نہ تھی اور یہ بے نیازی تو اُس کی ادا میں شامل تھی ورنہ درحقیقت ہر چیز اُس کے دل و دماغ میں اُترتی جارہی تھی۔ غور سے دیکھا جاتا تو آنکھوں میں یاسیت تھی۔ صاف ستھری سڑک تھی۔ دونوں اطراف بنگلے بنے ہوئے تھے جن کے سامنے قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سکون آمیز سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ان بڑے لوگوں کے مہنگے علاقوں میں ایسی ہی خاموشی اور سکون ہوتا ہے وہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے زندگی میں ٹھہراؤ سا آگیا ہو۔ ان کی زندگیوں میں کتنا سکون ہے ہوتا ہے؟ کون جانتا ہے۔ وہ دو آنکھیں جو ملنگ کو دیکھ رہی تھیں اُن میں اُداس اور اضطراب ہلکورے لے رہا تھا۔ وہ ایک عالیشان بنگلے کے ادھ کُھلے دروازے میں کھڑی لڑکی تھی۔ خوبصورت، دلکش سراپے کی حامل، قیمتی لباس میں ملبوس، آنکھوں میں اُداسی لیے۔ تپتی دوپہر میں اُس گلی کے سو نے پن کی طرح اُس کے دل میں بھی سُونا پن تھا۔ وہ غور سے ملنگ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس ملنگ کی زندگی کتنی پرُ سکون ہے۔ اسے کسی چیز کی پروا نہیں۔ یہ اپنے حال میں مست اور راضی ہے۔ اس کی زندگی اسے ڈگر سے شروع ہوئی اور اسی ڈگر پر ختم ہوجائے گی۔ اُس کے ذہن میں کئی سوالات اُبھر رہے تھے۔ کیا یہ واقعی اپنے حال میں خوش ہے؟ کیا اس کے دل میں کبھی کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا ہوگا اور کوئی خواہش جنم نہ لی ہوگی؟ اس کو دل کی بے کلی نے کبھی بے چین نہیں کیا ہوگا؟ کیا کبھی اس کا دل اُچاٹ نہیں ہوتا اس زندگی سے؟ اُس کی بے چینی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اُس کی بے چینی گاہ بہ گاہ اُس کو پریشان کرتی۔ شاید یہ اُس کی فطرت کا حصہ تھی۔ فطرت یا عادت؟ ایک اور سوال اُس کے ذہن میں اُمڈ آیا تھا۔ اُس نے کہیں پڑھ رکھا تھا کہ عادت ہر بار انجام دینے کے بعد مزید پُختہ ہوجاتی ہے اور ایک مرحلے پر آکر یہ عادت فطرتِ ثاینہ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ’’فطرت میں سب کی جبلتیں ہی ہوتی ہیں اور جبلتیں یکساں ہوتی ہیں۔ شاید یہ عادت ہے جو میری فطرت ثاینہ بن چُکی ہے‘‘ اپنے تئیں اُس نے فطرت و عادت کے جھگڑے کا مقفیہ کرلیا تھا۔ ایک عرصے سے اُسے شدت سے اس بے چینی کا احساس ہورہا تھا۔ اُس نے کئی بار اپنے دل سے اس بے چینی کی وجہ جاننے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت بھی وہ اس ادھیڑ بُن میں مصروف تھی۔ امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھنے کے باعث کبھی دولت کی کمی نہیں رہی تھی۔ زندگی کی تمام ضروریات اور آسائشات دسترس میں تھیں۔ امیر باپ کے گھر سے شادی کرکے شوہر کے گھر آئی تو وہاں بھی دولت و قسمت کی دیوی مہربان رہی۔ دولت، بنگلہ، گاڑی سب کچھ دسترس میں تھا۔ سب سے بڑھ کر محبت کرنے والا شوہر جس کے دل اور گھر پر وہ بلاشرکت غیرے مالک تھی۔ اس کے باوجود یہ بے چینی، سمجھ سے بالاتر تھی۔ ’’آخر کون سا خلا ہے میرے وجود میں۔‘‘ اپنے اندر کی اس جنگ سے وہ عاجز آچکی تھی۔ رُوح کا کرب اُس کی سانسوں کو چھلنی کررہا تھا۔ اُس کا شوہر بھی اُس کے رویّے کو محسوس کرنے لگا تھا۔ اُس نے کئی دفعہ اُس سے جاننے کی کوشش بھی کی تھی اور سے سمجھایا بھی تھا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا تو وہ شوہر کو کیا بتاتی۔ آخر دل کا سکون کس چیز سے مشروط ہے۔ دنیا کی کوئی سائنس آج تک خواہشات کے پورا ہونے کے معیار کو جانچ نہ سکی۔ کبھی کبھی اُسے اس دنیا کی ہر چیز سے اُکتاہٹ ہونے لگتی۔ اُسے لگتا کہ اُس کی رُوح بدن کا قفس توڑ کر باہر نکل آئے گی۔ کئی بار اُس کے کچھ جاننے والوں نے کہا کہ اُسے کسی ماہر نفسیات کی ضرورت ہے۔ وہ سوچتی، ’’ماہر نفسیات؟‘‘۔ اس نے خود نفسیات و فلسفہ کی اتنی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں کہ اُس کے ذہن میں ان کا ایک ملغوبہ سا بن گیا تھا اور ملغوبہ میں سالم کیا چیز ملتی؟۔ شعور و لاشعور کے تجزیے میں اب اُس کو اپنا شعور کہیں کھویا ہوا محسوس ہوتا اور لاشعور کا تو پیدا کردہ یہ سارا عذاب تھا۔ کبھی اُلجھی ہوئی ڈوریں اتنی اُلجھی ہوئی نہیں ہوتیں۔ جتنی اُلجھی نظر آتی ہیں۔ اُن کا سلجھا نا آسان ہوتا ہے بس ذرا باریک بینی اور تحمل سے سرا ڈھونڈو۔ سلیقے اور ترتیب سے سُلجھانا شروع کرو ڈور سلجھتی چلی جاتی ہے لیکن نظریں دھوکا کھا جاتی ہیں۔ نظروں سے پہلے احساس دھوکا کھاتا ہے اور اُس اُلجھی ہوئی ڈور کو اُلجھن سے جلدی جلدی سلجھایا جاتا ہے۔ ڈور نہیں سلجھتی سلجھانے والا مزید اُلجھ جاتا ہے۔ وہ بھی الجھ گئی تھی لاینحل مضمون میں۔ کسی شے کی کوئی سمت مقرر ہیں تھی۔ احساسات و خیالات بے سمت پنچھی تھے جس جانب چاہتے اُڑتے جہاں چاہتے بسیرا کرتے۔ اُس وقت ملنگ کو دیکھتے دیکھتے اچانک اُس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔ شاید کوئی تصویر تھی جو کیمرے کے فریم میں آگئی تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ میں نے کبھی خود کو صرف ایک ناظر کی منظر سے نہیں دیکھا۔ میں ہمیشہ یوں اُلجھی رہی کہ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنا محسوس کرکے اپنی نظر سے دیکھا۔ مجھے اپنے آپ کو ایک ناظر کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ وہ کھڑے کھڑے اپنے اندر جھانکنے لگی۔ وہ اپنے اندر کا نظارہ اس طرح کررہی تھی کہ جیسے کسی دوسرے شخص کو دیکھا جائے یا فلم میں کوئی فلم دیکھے۔ جہاں ناظر اور منظر ایک نہیں ہوتے بلکہ دونوں کا وجود الگ الگ ہوتا ہے۔ ایک تماشا ہوتا ہے اور ایک تماشائی۔ گزرے وقت کی جب فلم چلنی شروع ہوئی تو پہلا منظر بچپن کا تھا۔ وہاں اُسے مالی لحاظ سے ایک خوش حال گھرانہ نظر آیا۔ اُس کے والد صبح اپنے ذاتی دفتر جاتے اور شام کو گھر لوٹ آتے۔ اُس کی ماں کم سِنی میں ہی فوت ہوگئی۔ وہ ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ اُس کے باپ نے دوسری شادی کرلی لیکن ماں کی وفات کے بعد دوسرے ماں کے آنے سے اُسے خاص فرق نہیں پڑا تھا۔ اُس کے وہی روز و شب رہے۔ سوتیلی ماں اور اُس کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہا تھا۔ سوتیلی ماں نے اُس سے کبھی محبت جتائی اور نہ اُس پر ظُلم کیا اور نہ ہی کبھی اُس کے امور میں مداخلت کی۔ اُس کا باپ شام کو گھر آتا تو کبھی اُس کا سامنا اپنے باپ سے ہوتا اور کبھی نہیں اور پھر کاروباری مصروفیت کے بعد اُس کا زیادہ تر وقت اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گزرتا۔ لیکن اُس کے باپ نے کبھی اُس کی ضروریات میں کمی نہیں کی تھی۔ اچھے اسکول میں تعلیم پائی۔ خدمت کے لیے گھر میں نوکر چاکر تھے۔ ایک گورننس تھی جو اُس کے لیے مختص تھی۔ کمی رہی تو صرف باپ کی توجہ و شفقت اور ماں کی ممتا کی۔ وہ سارا وقت خود اپنے ساتھ یا پھر اپنی کتابوں کے ساتھ گزارتی۔ وقت بھی نجانے کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ وہ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر آگئی اور اب وہ شادی کے بعد کسی کی توجہ کا مرکز بھی بن گئی تھی۔ شادی کے وقت اُس کے باپ نے اُسے بہت سا جہیز دیا تھا اور ہوش و حواس سنبھالنے کے بعد پہلی بار گلے بھی لگایا تھا۔ جس نے اپنی ساری زندگی۔ زندگی کو کامیاب اور پر آسائش بنانے اور پھر اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گزار دی تھی اور بھول گیا تھا کہ اُس کی ایک بیٹی بھی اُس کی توجہ کی مستحق ہے۔ شاید اُس کی نگاہ میں دولت و آسائشات محبت کا نعم البدل تھی۔ یوں صرف توجہ کی کمی کے علاوہ بچپن کی کوئی بڑی یاد نہیں تھی اُس کے ذہن میں۔ ’’شاید یہی خلا ہے میری زندگی میں۔ اُس نے سوچا۔ ’’یہ سب میرا ماضی ہے۔ موجودہ وقت میرا حال ہے۔ مجھے اپنے اندر کے اس طوفان پر قابو رکھنا ہوگا کہیں یہ میرے موجودہ وقت اور صحبت کو بھی ساتھ بہانہ لے جائے۔‘‘ جس لمحے اُس لڑکی نے اپنے اندر کی عدالت ختم کی اُسی لمحے وہ ملنگ اپنے دل پر جبر کر رہا تھا لیکن اُس کا مقدمہ ذرا مختلف تھا۔ وہ اپنے دل کو ان اونچے اور خوبصورت مکانوں کو دیکھ کر بہکنے سے روک رہا تھا۔ حسرتِ نا تمام اُس کی آنکھوں سے چھلکنے لگی تھی۔ وہ وہیں کنارے پر ایک درخت کے نیچے سستا کر دوبارہ اُٹھ رہا تھا۔ اُٹھ کر اُس نے ایک انگڑائی لی اور ڈنڈا اُٹھا کر چلنے کی تیاری کرنے لگا۔ لڑکی کی توجہ پھر اُس طرف ہوئی تو جانے اُس کے جی میں کیا آئی کہ جلدی سے اندر گئی اور جب باہر آئی تو اُس کے ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا اور دوسری مٹھی میں ایک نوٹ بند تھا۔ اُس نے ملنگ کو آواز دی ملنگ جو آگے جاچکا تھا پلٹ کر دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتا ہوا آیا۔ لڑکی نے پہلے پانی کا گلاس پیش کیا۔ ملنگ نے ایک نظر اُس کو دیکھا اور گلاس تھام لیا۔ وہ جب پانی پی چکا اور گلاس واپس کیا تو لڑکی نے دوسرا ہاتھ آگے بڑھایا تو اُس کے ہاتھ میں پانچ سو ایک کڑک نوٹ گویا چمک رہا تھا۔ ملنگ کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی پھر اُس کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ اُبھری۔ نوٹ لے کر وہ اپنے رستے پر چل دیا۔ لڑکی بھی دروازہ بند کرکے گھر کے اندر چلی گئی لیکن ملنگ کے دل میں برسوں سے بُجھی پڑی آگ کی راکھ سُلگنا شروع ہوچکی تھی۔ وہ نوٹ دیکھتا، چلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب وہ اس نوٹ کو خرچ نہیں کرے گا اور اپنے پاس سنبھال کررکھے گا۔
    ٭…٭…٭




  • جنریشن گیپ — ثناء شبیر سندھو

    جنریشن گیپ — ثناء شبیر سندھو

    ’’فارگاڈسیک مام۔۔۔ مجھے ٹھیک سے ریڈی تو ہونے دیں۔۔ آپ کے لیکچر کے لیے میں الگ سے ٹائم نکال لوں گی جانے سے پہلے۔۔‘‘ بلش آن لگاتی ماہم پلٹ کر غصے سے بولی۔
    ’’بیٹا میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔ صرف یہی تو کہا ہے کہ اتنے میک اپ کی آخر ضرورت کیا ہے۔۔۔ سالگرہ کی تقریب ہی تو ہے کون سا شادی میں جارہی ہو۔۔۔؟‘‘ نسیم نے منت بھرے انداز میں کہا۔۔۔
    ’’گاڈ۔۔‘‘ ماہم نے برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخا۔
    ’’آپ کا پرابلم کیا ہے۔۔؟ یہ رات کا فنکشن ہے اور مجھے اس کے مطابق تیار ہونا ہے۔ مجھے وہاں ماسی نہیں لگنا۔‘‘ اُس نے پلٹ کر فرصت سے جواب دیا۔
    ’’میں سمجھتی ہوں لیکن۔۔ ارے یہ۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتیں اُن کی نظر اُس کی ٹانگوں پر پڑی۔
    ’’ماہم یہ پاجامہ زیادہ ٹائٹ نہیں ہوگیا؟ بیٹا آپ کی شرٹ بھی کافی اونچی ہے۔۔۔ پلیز کچھ بہتر پہن لو۔۔۔ کچھ اور ۔۔۔۔‘‘
    ’’مما۔۔۔‘‘ ماہم کی پکار کسی شیخ سے کم نہ تھی۔
    ’’آپ کو ہوتا کیا جارہا ہے۔۔۔؟ اتنا میک اپ مت کرو۔ شرٹ اونچی ہے۔ فٹنگ زیادہ ہے۔۔ آپ کی روک ٹوک کی عادت کچھ زیادہ نہیں ہوگئی؟۔ ماہم نے اُکتا کر جواب دیا۔
    ’’لیکن۔۔۔
    ’’واٹ لیکن۔۔۔؟ آپ کو پتا بھی ہے آج کل کیا فیشن چل رہا ہے۔۔۔؟ باہر کیا ہورہا ہے فارمل وئیر میں کیا چل رہا ہے اینڈ ان فارمل میں کیا۔۔۔؟
    ’’مام یہ 2016ء ہے۔۔۔ 1970ء نہیں۔۔۔ میرا ایک سوشل سرکل ہے۔۔ ایک کلاس ہے۔۔۔ میں آپ کے مطابق ڈریسنگ کرکے اپنا مذاق نہیں بنوا سکتی۔۔۔‘‘ ماہم نے بدتمیزی سے جو اب دیا۔ ’’ماہم۔۔۔ اتنا سیخ پا ہونے والی کون سی بات کردی میں نے۔۔؟ میں تمہاری ماں ہوں۔۔ تمہارا براتو نہیں چاہوں گی نا۔۔۔؟ نہ ہی مجھے یہ اچھا لگے گا کہ تم کسی فنکشن میں بری لگو۔۔ لیکن بیٹا سادگی کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔‘‘ نسیم کا لہجہ نجانے کیوں آزردہ ہوگیا۔۔
    ’’مما۔۔ مجھے پتا ہے کہ آپ میرے لیے اتنی فکر مند کیوں ہورہی ہیں مگر میں ایسا کچھ نہیں کررہی۔ جو دوسرے کرتے ہیں، بس وہی کرتی ہوں۔ آپ جا کر دیکھیں باہر آج کل کیسے تیار ہوکر آتی ہیں لڑکیاں۔ سب ایسا ہی لباس پہنتی ہیں، تو میں کیوں نہ پہنوں‘‘؟ اس دفعہ ماہم کا لہجہ قدرے نرم تھا۔ اُس نے ماں کو کندھوں سے پکڑ کر سمجھایا۔
    ’’ماما، میں گریجویشن کرچکی ہوں اور میری اپنی بھی کوئی پہچان اور رائے ہے۔ یہ روک ٹوک اور پابندیاں مجھے بالکل اچھی نہیں لگتیں۔۔۔ مجھے میری لائف انجوائے کرنے دیں اینڈ ڈونٹ وری۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کررہی جو آپ کی پریشانی کا سبب بنے۔۔۔‘‘ اُس نے نسیم کو بیڈ پر بٹھا کر مزید سمجھایا۔۔۔ اسی اثنا میں باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔
    ’’اوہ مائی گاڈ لگتا ہے کہ سام مجھے لینے آگیا ہے۔‘‘ وہ فوراً اُٹھی۔۔ آئینے کے سامنے خود پر تنقیدی اور تفصیلی نظر ڈالی۔۔ ہئیر برش سے اپنے بال ٹھیک کیے اور اپنا نازک سا کلچ اُٹھا کر دروازے کی جانب بھاگی۔ ’’اینڈ مام۔۔ پلیز۔۔ مجھے بار بار کال کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ میں جلد واپس آجاؤں گی۔۔ سام مجھے چھوڑ دے گا۔ میرے لیے جاگنے کی ضرورت نہیں۔۔ آپ بار بار کال کرتی ہیں تو میں بہت شرمندہ ہوجاتی ہوں فرینڈز کے سامنے۔۔ آپ کو تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوگا۔‘‘ ماہم بالآخراب جاچکی تھی۔۔ ’’میرا فون کرنا اسے شرمندگی لگتا ہے؟ کیوں؟‘‘ نسیم نے اپنا سر تھام لیا۔
    انہوں نے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا۔۔ بال اُڑے سے تھے، چہرے پر جھریاں ان کی عمرعیاں کرنے لگی تھیں۔۔ نیلے رنگ کے سوٹ کے ساتھ اُنہوں نے کسی اور رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔۔ وہ اتنی بوڑھی تھیں نہیں جتنی پچھلے کچھ عرصے سے خود کو محسوس کرنے لگی تھیں۔
    اچانک ہی کچھ ہوا تھا۔
    کچھ دن پہلے کی بات تھی جب وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر لان کا جائزہ لے رہی تھیں کہ ماہم کو کسی لڑکے نے ڈراپ کیا۔ ماہم نے گاڑی سے اُتر کے باقاعدہ اُس سے ہاتھ ملایا اور پھر اتراتی ہوئی لاؤنج کی طرف بڑھنے لگی۔ انہیں یاد آیا کہ یہ پوچھنے پر کہ وہ لڑکا کون تھا؟ ماہم نے کیسا طوفان اُٹھایا تھا کہ وہ روایتی اور پرانی ماؤں کی طرح اُس سے سوال جواب کررہی ہیں۔۔ اُس پر شک کررہی ہیں۔۔۔ اُس کی حدود اور آزادی پر انگلی اٹھا رہی ہیں۔
    ’’حدود۔۔۔ آزادی۔۔۔‘‘ نسیم طنزیہ ہنسیں۔ ان کی آنکھوں میں ماضی کی پرچھائیاں سر اُٹھانے لگیں۔ ’’اوہوامی۔۔۔ کیا ہوگیا ہے اگر عمر نے مجھے فون کر لیا تو۔۔ وہ میرا کو لیگ ہے۔۔ ہم ساتھ کام کرتے ہیں۔ اُسے کچھ پوچھنا تھا مجھ سے تو اُس نے فون کرلیا اور لڑکے لڑکی کا صرف ایک ہی رشتہ نہیں ہوتا۔۔ تھوڑا سا دماغ کھولیں اپنا۔۔‘‘ وہ سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی ماں سے کہہ رہی تھی۔
    ’’بس بس۔۔ مجھے سکھانے کی ضرورت نہیں۔۔ اُس کو منع کر دو کہ آئندہ ہمارے گھر فون نہ کرے۔۔
    دفتر کا کام دفتر تک ہی رہے تو اچھا ہے۔۔ تمہاری ضد تھی کہ تمہیں دفتر میں کام کرنا ہے ورنہ ہم نے کون سا تمہاری کمائیاں کھانی ہیں۔۔‘‘ ماں نے اُسے اچھا خاصا لتاڑ کررکھ دیا تھا۔
    ’’آپ بات کو سمجھتی نہیں ہیں اماں۔۔ اس میں کمائیوں والی کون سی بات ہے۔ میں نے بی اے بی ایڈ گھر بیٹھنے کے لیے نہیں کیا تھا۔‘‘ وہ دھپ کرکے کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ’’پتر میری اور تیری سمجھ میں بہت فرق ہے۔۔ میں تیری طرح چیزوں کو نہیں سمجھ سکتی۔۔ جو ان بیٹیوں کی ماں ہوں۔۔‘‘ وہ سلائی مشین پر بیٹھ چکی تھیں۔ مشین پر دھاگا چڑھانے کے لیے انہوں نے نلکیوں والا ڈبہ کھولا۔
    ’’جوان بیٹیوں کی ماں ہونا کوئی ایسا گناہ نہیں کہ جس کے بوجھ تلے دب کر آپ خود بھی گھٹ گھٹ کر جئیں اور بیٹیوں کی آزادی بھی چھین لیں۔۔‘‘ اُس نے غصے سے بال جھٹکے۔۔ جو اُس نے تازہ تازہ کٹوائے تھے۔
    ’’آ۔۔ زا۔۔دی‘‘ اُس کے ماں نے ہونق بن کر اُسے دیکھا۔
    ’’ماں۔۔۔‘‘ نسیم کے لبوں سے ایک آہ نکلی تھی۔
    ’’اچھا اماں میں جارہی ہوں اب، مہوش کے کتنے ہی فون آچکے ہیں۔۔ میری سب سے اچھی سہیلی ہے اور آج اُس کی مہندی پر میں ہی لیٹ ہوں۔۔‘‘ وہ تیار ہوکر باہر نکلنے کو تھی کہ برآمدے میں رکھے تخت پر بیٹھی اپنی ماں کو سلائی مشین کے ساتھ مصروف دیکھا۔
    ’’ٹھیک ہے‘‘ اُس کی ماں نے لمحے بھر کو سر اُٹھایا۔
    ’’اے بات سُن۔‘‘ وہ ٹھٹکی۔۔۔
    ’’اب کیا ہے اماں۔۔‘‘ وہ تپ کر پلٹی۔
    ’’یہ اتنی تیز رنگ کی لپ اسٹک کیوں تھوپ لی چہرے پر۔۔۔ تجھے کتنی دفعہ منع کیا ہے۔۔۔ کہ۔۔‘‘
    ’’اماں بس کردو۔۔ شادی ہے۔۔ مہندی پر جارہی ہوں اگر وہی پرانے زمانوں کی ایک تبت سنو اور ہلکی سی یہ لپ اسٹک لگا لی تو کون سی قیامت آگئی۔۔ جارہی ہوں میں۔۔‘‘ وہ بات کاٹ کر چیخ کر بولی۔
    ’’تو اور تجھے کسی بیوٹی پارلر جانا تھا منہ سجانے۔۔۔ ستر دفعہ سمجھایا ہے کہ کنواری لڑکیوں کو لپ اسٹک لگانا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ اماں نے ماتھا پیٹ لیا۔
    ’’ہونہہ۔۔ بھیج ہی نہ دیتیں پارلر۔۔ ویسے اماں مشین کی سوئی میں دھاگا تو ڈالا نہیں جاتا آپ سے اور اتنی دور سے میری لپ اسٹک خوب نظر آئی۔۔‘‘ نسیم چمک کر بولی۔۔
    ’’اماں اپنی اولاد کے قدم دیکھ کر بتا دیتی ہے کہ کسی کام کے لیے اُٹھ رہے ہیں۔۔ تیری لپ اسٹک تو چھوٹی بات ہے۔۔‘‘ اماں طنزیہ ہنسی تھی۔
    ’’ہونہہ۔۔ آپ اور آپ کی فلاسفیاں۔۔ میری سمجھ سے تو باہر ہیں۔۔۔‘‘ وہ پراندہ ہلاتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ آج اُس نے اور اُس کی سب سہیلیوں نے رنگ برنگے پراندے باندھے تھے۔
    ’’سمجھ جائے گی بیٹا۔۔۔ جب ماں بنے گی، سب سمجھیں آجائیں گی۔۔‘‘ دروازہ پار کرتے کرتے اُس کے کانوں نے اماں کی بڑُ بڑُاہٹ سنی۔
    فون کی چنگھاڑتی بیل نے نسیم کو واپس حال میں لاپٹخا تھا۔
    ’’آپ نے کتنا صحیح کہا تھا اماں۔۔ آج میں بھی جوان بیٹی کی ماں ہوں۔۔ جس نے آپ کی روک ٹوک سے عاجز آکر دل میں ہمیشہ یہی عزم کیا کہ اپنی اولاد کو آزادی دوں گی۔۔ کوئی روک ٹوک نہیں کروں گی۔۔ وہ جو پہننا چاہیں۔ پہنیں۔۔ جیسا رواج ہو ویسا ہی لباس پہنیں گے۔ جہاں جانا چاہیں جائیں۔۔ اُن پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔۔ کیوں کہ جو خواہشیں مجھے اپنے دل میں دبانی پڑیں وہ میرے بچوں کو نہ دبانی پڑیں اور وہ اپنی زندگی اصل میں جئیں۔۔ پھر آج مجھے کیا ہورہا ہے۔۔ میں کیوں اپنی اماں کا ہی پر تو بنتی جارہی ہوں۔۔
    کیا میں نے ماہم کو آزادی دے کر غلط کیا۔۔۔؟
    کیا مجھے شروع سے ہی اُس پر روک ٹوک کرنی چاہئے تھی۔۔۔؟
    کیا ہمیشہ اُس کی مان کر اُس کی زندگی میں اُس کو پورا اختیار دینا میری غلطی ٹھہری۔۔؟
    یا پھر یہ ہر دور کی ماں کا المیہ ہے۔۔۔؟ وہ زمانے کی دوڑ میں بھاگتی بھاگتی ہانپ جاتی ہے اور زمانے کا ساتھ نہیں دے پاتی۔۔ تھک ٹوٹ کر بیٹھ جاتی ہے اور پھر اُس کے بچے اُس کو بتاتے ہیں۔۔ کہ وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔۔۔ کیا کہتے ہیں اسے۔۔ ارے ہاں۔۔
    ’’جنریشن گیپ‘‘ بی اے، بی ایڈ نسیم کو ذہن پر زور دے کر یاد کرنا پڑا۔۔ یہ وہ دو لفظ تھے جن کا مطلب وہ اپنی ماں کو دن رات سمجھاتی تھی اور آج۔۔۔ نسیم نے اپنی آنکھیں مسلیں اور آگے بڑھ کر تیز آواز میں چیختے فون کا ریسیور اُٹھا لیا۔




  • کچھ باتیں دل کی — شاکر مکرم

    میں امجد عظیم پچھلے بارہ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہا ہوں۔ سفر وہ واحد چیز تھی جس سے مجھے کوفت ہوتی تھی اور ہمیشہ سفر سے دور رہنے کی کوشش کی لیکن وہی سفر ایسا نصیب ٹہرا کہ اب اگر کسی دن سفر نہ ہو تو وہ دن ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔
    پردیس کے یہ بارہ سال ایسے گزرے کہ آج جب میں گزرے سالوں پہ نظر ڈال رہا ہوں تو پل دو پل کے سوا کچھ معلوم نہیں ہو رہا ،اس وقت میرے کمرے کے تمام ساتھی کام پہ گئے ہوئے ہیں اور میں کل پاؤں پہ چوٹ لگنے کی وجہ سے ایک ہفتے کے لئے بستر پہ لیٹ چکا ہوں کوئی کام کرنے کو نہ تھا تو سوچا کہ گزری ہوئی زندگی کے احوال ان صفحوں پہ بکھیر دوں کہ کچھ نہ کرنے سے بہرحال کچھ کرنا بہتر ہے۔
    زندگی کے ماہ و سال گزر رہے ہیں اور آرام و سکون دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے بارہ سالوں میں یہ پہلا ہفتہ ہے کہ دوران کام پورا ہفتہ چھٹی کر رہا ہوں ورنہ ان بارہ سالوں میں صرف پانچ چھٹیاں کیں اور وہ دن بھی اپنی حسرتوں پہ ماتم کرنے اور پریشانیوں پہ آنسو بہانے کے لئے تھے۔
    جس گھر میں میری آنکھ کھلی وہاں غربت کے ڈھیر تھے پھلوں کی ریڑھی لگا کر کمانے والا ایک باپ تھا اور کھانے والے چار بچے اور ایک بیوی باقی ضرورتیں اس کے علاوہ زندگی آسائشوں سے خالی بغیر سہولتوں کے گزر رہی تھی، صبحیں اور شامیں تھیں جن کا کوئی پرسان حال کوئی دن ایسا نہ تھا کہ گھر میں کچھ پکتا نہ ہو پکتا ضرور تھا لیکن ہم جب کھانے بیٹھتے تو ماں جی ہمیں تو کھلاتی، خود نہ کھاتی اور کہتی تم لوگ کھاؤ میں کھا چکی ہوں اور ابا نماز کا کہہ کے نکلتے تو تب تک واپس نہ آتے جب تک ہم کھا کے سو نہ چکے ہوتے پھر اگر کچھ بچا ہوتا تو کھا لیتے ورنہ ایسے ہی سو جاتے۔
    ابا نے بڑے شوق سے ہمیں سکول میں داخل کیا میں اور آپا ایک ہی کلاس میں تھے۔ ابا، آپا سے ہمیشہ کہتے کہ میں تمھیں اس میڈم کی طرح بناؤں گا جو مجھ سے پھل لیتی ہے، ہم پڑھائی میں بہت اچھے تھے ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتے لیکن پھر یکے بعد دیگرے کچھ واقعات اور حالات ایسے آئے جس نے زندگی کا رُخ سوچوں کا زاویہ بدل دیا۔
    ہمارا گزارہ پہلے ہی بہت مشکل سے ہوتا تھا لیکن جب میں گیارہ سال کا تھا تو آپا کا ہاتھ ٹوٹ گیا اس وقت جتنا پریشان میں نے ابا کو دیکھا شاید اس سے پہلے نہ دیکھا تھا کیوں کہ جب پیسے بھی پاس نہ ہو اور پانچ لوگوں کی ذمہ داری سر پہ ہو تو پریشانیاں خود بہ خود دامن تھام لیتی ہیں علاج تو خیر آپا کا سرکاری ہسپتال میں ہو گیا تھا اگرچہ وقت زیادہ لگا لیکن تین دن ابا کے کام پہ نہ جانے کی وجہ سے جو پریشانیاں گھر میں آئیں اس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا بار بار ایک ہی سوال ذہن میں آتا تھا کہ کیا سب ایسے ہی چلے گا، ساری زندگی ایسے ہی خوف کے سائے میں گزرے گی، اگر ابا کام پہ نہیں جائیں گے تو کیا ہم بھوکے ہی رہیں گے ایسے بہت سے سوال پریشان کر رہے تھے اور وہ زندگی کا پہلا تجربہ تھا جب راتیں انہی سوچوں میں جاگتے گزرنے لگیں اور دن کو بھی یہی خیالات پریشان کرتے رہے لیکن زندگی اسی طرح چلتی رہی اور شاید ایسے ہی چلتی رہتی اگر اگلے سال ابا کو شدید بخار نہ ہوتا اور دو دن کے لئے وہ بستر پہ نہ لیٹتے، میں رات کو واش روم کے لئے اٹھا تو دیکھا کہ ابا سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے ہیں اور والدہ سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔
    زندگی میں بعض لمحے بعض موڑ ایسے آجاتے ہیں جہاں فیصلے لینے پڑتے ہیں نقصان فائدے ہر چیز سے بے نیاز ہو کر، جہاں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ لمحہ میرے لئے بھی فیصلہ کرنے کا لمحہ تھا اور میں فیصلہ کر چکا تھا۔
    بارہ سال کے بچے کو حالات وقت سے پہلے بڑا کر رہے تھے، صُبح جب میں نے ابا سے کہا کہ میں سکول نہیں جاؤں گا تو ان کی آنکھوں سے جھلکتی حیرانی اور پریشان چہرہ اب بھی میرے سامنے آجاتا ہے۔
    بڑی حیرانگی سے انہوں نے پوچھا
    ’’کیوں‘‘
    ’’میں بھی کام کروں گا‘‘ میں نے جواب دیا





    میرے الفاظ بم بن کے ان پہ گرے تھے، ایک آنسو گال پہ بہا اور گہری کھائی سے ایک آواز آئی تھی۔ ’’بیٹا میں ہوں نا‘‘
    اور میں کچھ کہہ تو نہ سکا بس ان سے لپٹ کر زار وقطار رونے لگا اور جب ہچکیاں بند ہوئیں اور آنسو تھمے تو میں نے پھر کہا چلیں مجھے کام ڈھونڈ دیں ابا نے تو پہلے انکار کیا لیکن میرے اصرار کے سامنے انہوں نے گھٹنے ٹیک دئیے اور یوں گھر کا چھوٹا باہر کا چھوٹا بن گیا۔ میری محنت مزدوری سے کیا ہونا تھا ہاں اتنا ہوا کہ دسترخوان پہ بیٹھنے والے چھے ہو گئے پھر آہستہ آہستہ اور ضرورتیں بھی پوری ہونے لگیں۔
    میرے استاد بہت اچھے آدمی تھے وہ خود غربت دیکھ چکے تھے لہٰذا غریب کی قدر کرتے تھے انہوں نے کبھی میرا نفس مجروح نہیں کیا میری ہر ممکن مدد کی اور آج میرا یہاں تک پہنچنا انہی کی وجہ سے ہے وہ میرے ہر کام کو سراہتے، شاباشی دیتے انعام دیتے اپنے ساتھ بٹھا کے چائے پلاتے اور بہت خاموشی اور آہستگی سے انہوں نے میرے اندر یہ بات اتار دی کہ حوصلہ افزائی ضروری ہے، کسی کے اُبھار اور آگے بڑھانے کے لئے اسے cheer up کرنا، اسے تھپکی دینا ضروری ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ آپا کو جب میں نے فرسٹ آنے پر پین گفٹ کیا تھا تو وہ کتنا خوش ہوئی تھی اور پھر ہر امتحان سے پہلے مجھ سے پوچھتی کہ اس بار پوزیشن لینے پہ کیا گفٹ ملے گا اور پھر اس گفٹ کو پانے کے لئے دن رات کی وہ محنت میں ابھی تک نہیں بھول سکا اور اس سب کے پیچھے وہ پہلی تھپکی تھی۔
    پردیس آنا اپنوں کو چھوڑنا میرے لئے آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اوروں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے مجھے یہ مشکل قدم اٹھانا پڑا، جس نے ایک دن بھی گھر سے باہر نہیں گزارا تھا پردیس اس کا نصیب ٹھہرا، شروع میں تو بہت مشکل ہوئی راتوں کو چُھپ چُھپ کے روتا، گھر والوں کی تصویریں دیر تک دیکھتا ان سے باتیں کرتا فرصت کے لمحات ان کی یادوں کی نذر کرتا لیکن پھر آہستہ آہستہ زندگی نارمل ہوگئی وقت اور مصروفیت مرہم بنتے چلے گئے اور میرے بھائی اور بہنوں کی ہر کامیابی میری ہمت بڑھاتی رہی۔ زندگی کمپرومائز کرتے کرتے گزری ہے لیکن میرا یقین ہے کہ یہ مختصر زندگی اپنے جینے کے لئے نہیں بلکہ اوروں کے لئے ہے، یہ تو کیش ہی تب ہوتی ہے جب بے لوث ہو کر اوروں پہ لٹائی جائے اور یہ بھی میں اپنے استاد کی زندگی سے سمجھا میرے استاد کی آمدنی زیادہ نہیں تھی بس نارمل زندگی گزر رہی تھی لیکن میں نے ہمیشہ انہیں اوروں سے بھلائی کرتے دیکھا ان کو دیکھ کے ہی میں یہ بات سمجھا کہ دلوں میں رہنے کے لئے پیسے کی نہیں اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے دل پیسے سے نہیں اخلاق سے جیتے جاتے ہیں۔
    ایک دفعہ میں نے انہیں کہا کہ آپ کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں جو ہاتھ آتا ہے اوروں پہ لٹا دیتے ہیں، ہر ایک کی مدد کرنا آپ پر فرض تو نہیں اور پھر جو آپ کے ساتھ برا کرتا ہے آپ اس سے اچھائی کیوں کرتے ہیں انتقام کیوں نہیں لیتے۔
    میری باتوں پہ تو پہلے وہ حیران ہوئے پھر مسکراتے ہوئے ہلکا سا تھپڑ مجھے مارا اور پاس بٹھا کے مجھے سمجھانے لگے مجھے ان کا یہ انداز بہت پسند تھا۔
    ’’بیٹا تم نے کبھی ان بادلوں کو فرق کرتے دیکھا ہے پھولوں اور کانٹوں میں یا یہ چمن پہ برسے ہوں اور صحرا پہ برسنے سے انکار کیا ہو بیٹا زندگی بے لوث ہو کر گزاری جاتی ہے اچھے برُے کی تمیز کے بغیر، اگر میرا برُا چاہنے والے کے ساتھ میں بھی برُا کروں تو کیا فرق رہ گیا مجھ میں اور اس میں تمھیں پتا ہے جب مکہ میں قحط آیا تھا اور آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے درہم بھیجے تھے تو جان کے دشمن ابو سفیان نے کیا کہا تھا۔‘‘
    ’’کیا؟‘‘
    ’’قربان جاؤں محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم اس کی جان کے درپے ہیں اور وہ ہمیں کھانا کھلاتا ہے۔‘‘
    بیٹا بس زندگی کا اصول بنا لو کہ یہ زندگی اوروں کے لئے ہے اور اسے اوروں کی مدد ان کی خیر خواہی اور ان کا دکھ درد بانٹنے میں گزار دو بیٹا یہ لوگ اللہ کا کنبہ ہیں تم ان کے ساتھ اچھا کرو وہ تمہارے ساتھ ضرور اچھا کرے گا وہ اپنے ذمے کسی کا قرض نہیں رکھتا۔‘‘
    وہ سمجھاتے گئے اور ان کی باتیں میرے دل پہ نقش ہوتی گئیں اور ان کی بات ختم کرنے سے پہلے میں اپنے ساتھ وعدہ کر چکا تھا کہ زندگی اوروں کے نام کرنی ہے۔
    اگر میں بارہ سال کی عمر میں مزدوری کے لئے نہ نکلتا، اچھا اسٹوڈنٹ ہونے کے باوجود سکول نہ چھوڑتا، اپنی ضروریات اور خواہشات کو قربان نہ کرتا، دیس کو چھوڑ کے پردیسی نہ بنتا تو شائد آپا آج انگلش میں گولڈ میڈلسٹ نہ ہوتی، بھائی c.s.s میں تیسری پوزیشن نہ لیتا اور شائد چھوٹی بہن آج ڈاکٹر نہ ہوتیں۔
    کمپرومائز کرکے تو میں نے کچھ نہیں کھویا بلکہ بہت کچھ پایا ہے عزت، احترام، محبت سب کچھ ان لوگوں کی خوشیوں اور پرُسکون زندگی سے بڑھ کے میرے لئے تو کچھ بھی نہیں۔
    ضروری تو نہیں کہ ہر خواب پورا ہو، ہر چاہت پوری ہو کچھ خوابوں کے ادھورا رہ جانے میں اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے اور اوروں کا بھی الحمدللہ وقت گزر گیا کہ یہ گزر ہی جایا کرتا ہے محرومیاں، تنہائیاں، مشکلیں سب ختم ہوئیں وقت بدل جایا کرتا ہے کبھی ایک سا نہیں رہتا کبھی پانا کبھی کھونا تو زندگی کا حصہ ہے بس صرف ایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ میں بیوی بچوں کو وہ توجہ وہ محبت وہ وقت نہ دے سکا جو دینا چاہئے تھا کبھی کبھار تو بہت احساس جرم ہوتا ہے، پیسہ ہر چیز کا بدل نہیں ہو سکتا پیسہ چیزیں تو دے دے گا لیکن محبت، توجہ، تعلق بازار میں بکنے والی چیزیں نہیں جو پیسے سے خرید لی جائیں۔
    شادی کے بعد کمپنی نے ایمرجنسی میں مجھے واپس بلایا تھا اور میں گھر میں صرف ایک ماہ گزار سکا، واپسی کی رات گھر سے نکلنے سے پہلے بہت پیار سے میری بیوی نے میرے ہاتھوں کو تھاما، لب خاموش تھے نظریں جھکی ہوئیں تھی اور میرے ہاتھوں کی پشت پر اس کے آنسو گر رہے تھے آنسوئوں کی حدت جذبات کی ترجمانی کر رہی تھی میں آج تک ان سُرخ آنکھوں، ان آنسوئوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکا میں نے ان کی راحت اور آسائش کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے گرمی سردی، دن کے اجالوں رات کے اندھیروں سے بے نیاز ہو کر لیکن پھر بھی کبھی کبھی ان سے دوری بے چین کر دیتی ہے۔
    میں سفر کرتے کرتے تھک گیا ہوں جیسے ہاتھ لکھتے لکھتے تھک گیا ہے میں آرام کرنا چاہتا ہوں زندگی جن لوگوں کی خوشیوں کے نام کی میں ان کی خوشیوں کو ان کے پاس رہ کے محسوس کرنا چاہتا ہوں جن محبتوں کے لئے زندگی بھر ترسا ہوں خواہش ہے کہ باقی کی زندگی انہی محبتوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں گزرے دیکھتے ہیں کہ زندگی نا پائیدار کی یہ خواہش کب پوری ہوتی ہے پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں۔




  • بڑا افسر — صبا احمد

    لوگوں کی نظریں خود پر ٹکتی دیکھ کر اسے ایک عجیب سی کوفت کا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں کی نظروں میں اس کے لیے کبھی حقارت ہوتی تو کبھی شرارت، کبھی دکھ ہوتا تو کبھی حیرت، کبھی ہمدردی ہوتی تو کبھی رحم دلی۔۔۔۔۔۔ مگر اسے کسی سے کچھ نہیں چاہیے تھا وہ زندگی جینا چاہتا تھا۔۔۔۔ زندگی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر نا جانے کیوں لوگ اسے زندگی پر بوجھ بنانے کو تلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہی سوچوں میں گھِرا وہ مطلوبہ بس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے آس پاس کئی چھوٹے چھوٹے بچے گھوم رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
    گندے میل سے بھرے کپڑے۔ پیلے زرد دانت۔ چہرے پر سیاہ دھبے۔ نا جانے ان کے اس حلیے کا ذمے دار کون تھا؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں باپ۔۔۔۔۔۔ حالات یا کام چوری۔ کم عمر لڑکیاں بھی دوپٹے سے بے نیاز گھوم رہی تھیں۔۔۔۔۔ جو بھیک مانگتے ہوئے اس حد تک گر جاتی تھیں کے مانگنے والے کی جان پر بن آتی۔۔۔ ناجانے یہ کیسی ٹریننگ تھی ان کی۔۔۔ بچیوں میں جسم فروشی کے خیال کی پہلی کڑی یہیں سے ملتی ہے۔
    سب خیالات کو ذہن سے جھٹک کر وہ مطلوبہ بس میں سوار ہو گیا تھا۔
    ” السلامُ علیکم! میرے پیارے بہنوں اور بھائیوں!۔۔۔۔۔۔ خوش بو تو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔۔۔ چاہے وہ بوڑھا ہو یا جوان۔۔۔۔۔۔۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خوشبو کو پسند تو کرتے ہیں مگر ان کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے خرید نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔ تو ایسے سب بھائیوں اور بہنوں کے لیے میں خوشبو لایا ہوں جن کی جیب ان کو خوشبو خریدنے سے روکتی ہے۔۔۔۔۔ تو جی صرف اور صرف کمپنی کی مشہوری کے لیے یہ خوشبو صرف اور صرف پچاس روپے میں آپ کا خواب پورا کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی بھائی بہن میرے بس سے اترنے سے پہلے پہلے مجھے آواز دے کر اس کو خرید سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بس پر سوار ہوتے ہی کاروباری انداز میں ہانک لگائی۔ بہت سے لوگ اچانک اس کی جانب متوجہ ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
    کوئی ہمدردی کرنے کے لیے تو کوئی شرارت کرنے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد اسے آوازیں آنی شروع ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
    ” دو عدد مجھے بھی دیں بیٹا” بس کے کونے سے ایک بوڑھی عورت کی آواز آئی۔۔۔۔
    "جی ماں جی ضرور۔” وہ کہتے ہوئے گاہک کی طرف لپکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی تو بھیک مانگ سکتا تھا۔۔۔۔ جب ہٹے کٹے لوگ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں تو وہ کیوں نہیں۔۔۔۔۔ وہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک دفعہ پھر کونے سے آواز آئی تھی "اوئے چھوٹے ادھر بھی آ ذرا”
    وہ کمال اعتماد سے چل کر ان کی طرف گیا تھا۔۔۔۔۔جیسے اسے کوئی دیکھ ہی نا رہا ہو۔۔۔۔۔ "جی صاحب آپ کو کتنے چاہیے؟؟؟” اس نے سرد لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں موجود شرارت وہ پڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    "یہ ذرا پانچ سو کے کھلے پیسے تو دینا۔” لہجے میں اشتیاق نمایاں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو پل میں سمجھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تحمل سے اپنے بازوئوں کو اپنی جیب کی طرف حرکت دی کہنیوں کی مدد سے پیسے جیب سے نکالے اور منہ میں ڈال کر ان کوکہنیوں سے گننے لگا۔۔۔۔۔۔
    دبے دبے قہقہے بس میں گونجے۔۔۔۔۔ جیسے سرکس میں کوئی انہونی چیز دِکھائی جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ وہ خاموشی سے ان تماش بینوں کی طرف دیکھنے لگا، جو اس کی بے بسی پر ہنس رہے تھے۔۔۔ ان کا ہنسنا اسے ماضی کی یادوں میں لے گیا تھا۔ جب اس کے ہاتھ سلامت تھے۔ کتنی ضد کی تھی اس نے بائیک کی۔۔۔۔۔کالج جانا بھی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔ کہہ دیا ماں کو دوست میرا مذاق اڑاتے ہیں، جب میں ٹوٹی ہوئی سائیکل پر کالج جاتا ہوں ۔۔۔۔ وہ بچاری اپنے بیٹے کے بگڑے تیور دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔ لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے والی اس کی خواہش کیسے پوری کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ شوہر کی موت کا دکھ الگ اسے گھن کی طرح چاٹ رہا تھا ۔۔۔اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے جوڑا سامان چپکے سے بیچ کر اس کو سیکنڈ ہینڈ بائک خرید دی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماں کے ارمان بیچ کر ان سے بے خبر بہت خوش تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ خوبصورت خیالوں میں کھویا ہوا وہ بائیک پر سوار ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر بائیک پر سوار ہو کر وہ کالج نہ جا سکا بلکہ وہاں چال گیا جہاں اسے نہیں جانا تھا۔۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ نے اس کی نئی نویلی بائیک کے پرخچے فضا میں بکھیر دئے تھے۔۔۔۔۔ ہوش سے بے گانہ ہونے سے پہلے اسے ایسا لگا جیسے کوئی بڑی سی گاڑی اس کو مسل کر آگے بڑھ گئی ہو۔۔۔۔۔۔ ہوش آیا تو اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھ دیکھ کر وہ چیخ چیخ کر روتا رہا تھا۔۔ ماں تو اپنی پوری دنیا لٹ جانے کے بعد پاگلوں سی حالت میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹے کو پڑھا کر بڑا افسر بنانا تھا۔۔۔۔۔ مگر وہ بھی اسی زندگی کی طرف آگیا۔۔۔۔
    جو اس کے باپ کا مقدر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ماضی میں ناجانے کتنی دیر کھویا رہتا۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک ایک شفیق سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیٹا ذرا ادھر آئیں”بس کی سب سے آخری سیٹ پر بیٹھی ایک عورت نے بہت پیار سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔۔۔۔
    وہ اپنی تھوڑی دیر پہلے ہونے والی تذلیل کو بھول کر آخری سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔
    "لیجئے بیٹا یہ رکھ لیں” اس عورت نے اپنی مٹھی میں دبا ہوا نیلا نوٹ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔
    "نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بھیک نہیں چاہیے اللہ تعالی نے ہاتھوں سے محروم کردیا تو کیا ہوا؟ ابھی پائوں سلامت ہیں، زبان سلامت ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور تو اور یہ بھی تو سلامت ہیں” اس نے اپنی کہنیوں تک کٹے ہوئے بازو کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ عورت حیرت سے اس کی ہمت اور خودداری دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جو معذور ہونے کے باوجود بھیک لینے پر آمادہ نہ تھا۔۔۔ ’’ایسے لوگوں سے چیز ضرور خریدنی چاہیے چاہے وہ کام کی ہو یا نا ہو۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عزتِ نفس بیچنا گوارا نہیں کرتے اور رزق حلال کماتے ہیں۔ نیم پاگل سی عورت بس پر سوار ہوئی اور آتے ہی اس نے ہانک لگانی شروع کی۔
    "میں بیوہ عورت! بیٹیاں جوان ہیں ایک ہی بیٹا ہے جس کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ معذور ہوگیا۔۔۔ اللہ کے واسطے کوئی مجھ غریب کو صدقہ خیرات دے اللہ تم سب کو حادثوں سے بچائے۔۔۔۔ تمہارے بچوں کو افسر بنائے۔۔۔۔۔۔۔” وہ اس عورت کے قریب آیا اور کہنیوں سے پیسے نکال کر اس عورت کے ہاتھ میں تھما کر بس سے اتر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس عورت کی آواز دور تک اس کا پیچھا کرتی رہی تھی۔۔۔ تمہارے بچوں کو افسر بنائے۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑا افسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔





  • کرتا — دلشاد نسیم

    چھوٹے سے لال اینٹوں کے بنے صحن کے ایک طرف کمرہ تھا اور اْس کے بالکل سامنے چولہا رکھا تھا۔ جسے باورچی خانہ کا نام دے دیا گیا تھااور اسی کے ساتھ دیوارپر لگی پیتل کی ٹوٹی ۔۔جس سے سرکاری پانی قطرہ قطرہ یوں بہتا رہتا جیسے کوئی بِرہن ہجر کی ماری بن بات رو پڑے۔۔ زمین میں عین اس جگہ سوراخ ہو چکا تھا معلوم ہوتازمین کی سختی بھی اِس مسلسل عذاب سے گھبرا چکی ہے ، تو پھر کچے دھویں میں روٹیاں پکاتی تاجی کا جی کیوں نہ گھبراتا۔۔
    تاجی کا آٹھ سالہ بیٹا معین جس کو غربت نے پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہ دیا بہ مشکل پانچ ایک سال کا نظر آتا۔ صحن کی پیلی ،کمزور یرقان زدہ روشنی میں سکول کا کام کر رہاتھا، نذیر اپنے اطراف روز کی طرح بہت سے میلے، پرانے، گوٹے کناری والے مَسلے کپڑے لیے بیٹھا ،خوش ہو رہا تھا۔۔ تاجی کو ہمیشہ حیرت ہوتی نذیر اتنا خوش کیسے رہتا ہے اور وہ کیوں نہیں رہ سکتی یکدم روٹیاں سینکتی تاجی کے کان میں نذیر کی آواز آئی، کھردری بلغمی آواز جس کو سن کے ایک بار تاجی غیر ارادی طور پے اپنا گلا ضرور صاف کرتی مگر اس نے نذیر سے کبھی نہ کہاکہ اْس کی آواز تاجی کی ملائم سماعت پر خراشیں ڈالتی ہے اْسے نذیر سے محبت ہوتی تو اْسے کوئی صلاح دیتی ۔۔ نذیر بہت خوش تھا۔ ’’لے بھئی دیکھ ہم غریب مہنگائی کو روتے ہیں اور بابو لوگ نئے نکور کپڑے کچے پکے برتنوں کے لئے آرام سے بیچ دیتے ہیں ۔۔یہ دیکھ کیسا پیس ہے۔۔؟‘‘
    تاجی کو بات ہضم نہیں ہوئی اپنے دھیان میں روٹیاں دسترخوان میں لپیٹتے لپیٹتے بولی: ’’امیروں کو کیا پڑی ہے کچے برتن خریدنے کی وہ بھی پھیری والے سے وہ تو اپنی کام والیوں کو دے دیتے ہوں گے پرانے دھرانے کپڑے۔۔ وہی بیچ باچ دیتی ہوں۔۔۔۔۔‘‘
    بات کرتے کرتے تاجی نے سر اْٹھایا اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا تھا وہ معین کے لئے پرانے کپڑوں میں سے کچھ رکھ لیتا کئی تاجی کو بھی دان مل جاتا مگر تاجی دیکھ کے بات کرنا بھول گئی وہ جسے پیس کہہ رہا تھا،۔۔ نذیر ہاتھ اْونچا کیے جو دِکھا رہا تھا ایک کُرتا تھا۔ پیلی روشنی کرتے کی سفیدی نگل چکی تھی۔۔۔ یا پھر کُرتا ہجر کے دکھ سے زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
    نذیر نے بلغمی قہقہہ لگایا اور کرتا تاجی کی طرف بڑھا دیا۔۔ کہنے لگا ’’ مجھے پہلے ہی پتا تھا تُو دیکھے گی تو دیکھتی رہ جائے گی ہاتھ میں پکڑ کے دیکھ بزاری کڑائی (کڑھائی) نیئں لگتی۔۔ لگتا ہے کسی نے بڑی جان ماری ہے ۔۔ ‘‘ پھر بے پروا سی ہنسی ہنس کے بولا: ’’ہمیں اس سے کیا۔‘‘
    اُسے نذیر زندگی میں پہلی بار خوش قسمت لگا جس کو اس سے کچھ نہیں تھا کہ کس نے اس کُرتے کے لئے جان ماری ہے۔۔ اُس نے کُرتا گول مول کر کے اپنی لکڑی کی ٹانگ کے نیچے دبایا۔۔ ’’تُو کھانا لگا بڑی سخت بھوک لگی ہے چل معین بند کر اپنا بستہ تْو شام کو اپنا کام کیوں نئیں کر لیتااب کھانے کے ٹیم پہ تجھے سکول کا کام یاد آجاتا ہے۔۔ تاجی!‘‘ اْس نے تاجی کو دیکھا مگر محسوس کئے بغیر بولا: ’’کھانا لگا جلدی سے۔۔ معین میرے ہاتھ دُھلا دے۔۔‘‘
    تاجی کا سکتہ ٹوٹا وہ ایک پلیٹ میں سالن اور چنگیر میں روٹیاں لے کر خود کو گھسیٹتی ہوئی اْٹھی باپ بیٹے کے سامنے کھانا رکھ کے پلٹنے لگی کہ نذیرنے اْس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔اْسے جب تاجی پہ بہت پیار آتا وہ یہی کہتا: ’’جب تک تُو نیئں آئے گی میں کھانا نیئں کھاؤں گا۔ ‘‘
    ’’میں پانی لے آؤں۔۔‘‘ تاجی نے مری مری آواز میں کہا۔۔
    نذیر نے ہاتھ چھوڑ دیا اور ہنس کر بولا: ’’کل اسے بیچ کر جتنے پیسے ملیں گے سب تیرے ہاتھ پہ رکھ دوں گا کل تو نے مرغا پکانا ہے۔۔‘‘ پھر ہنستے ہوئے کہتا ہے۔۔ ’’اتنی دال کھلائی ہے تو نے اُس کو چُگنے کے لیے مرغا بہت ضروری ہے۔۔‘‘ وہ تاجی کا جواب لئے بغیر ہی ہنستا چلا گیا تاجی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اْس کے مْنہ پہ ہاتھ رکھ دے۔۔ نذیر سے آنے والے دن میں ملنے والی دھاڑی کی خوشی چُھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔۔
    کُھلے آنگن میں گرمیوں کا چاند بادلوں سے کھیل رہا تھا کبھی روشنی بہت تیز اور کبھی مدہم ہو جاتی پیتل کی ٹوٹی کی ٹپ ٹپ سکوت کو توڑدیتی تو کبھی اُس کی اپنی لا متناہی سوچیں۔۔۔ نذیر جاگ رہا تھا ورنہ اْس کے خراٹے اْس کی چھوٹی سی دنیامیں زلزلہ لانے کو کافی تھے۔۔ نذیر نے دیکھا تاجی کی چمک دار آنکھوں کی نمی چاند کی روشنی میں ستارے بنا رہی تھی نذیر کو ہمیشہ گُمان رہا کہ خاموشی تاجی کی عادت ہے وہ ہے ہی روکھی پھیکی اُس نے کبھی یہ نہ سوچا۔۔ دو وقت کی روٹی، ایک بچہ اور کچا پکا مکان زندگی نہیں ہوتا۔۔ زندگی جینے کے لئے کچھ اور بھی چاہیے لیکن نذیر ایسے لطیف احساس سے بہت دور تھا۔ ’’تاجی۔۔‘‘ نذیر نے بلایا تاجی نے کچھ کہے بغیر اس کی طرف کروٹ لی دونوں کی چارپائیوں کے بیچ بہ مشکل تین بالشت کا فاصلہ ہو گا لیکن یہ تین بالشت کا فاصلہ تاجی کو تین جنموں کا لگتا۔۔
    ’’کیا تو بھی وہی سوچ رہی ہے جو میں سوچ رہا ہوں؟‘‘
    ’’تم کیا سوچ رہے ہو ؟ ‘‘اْس نے اْلٹا سوال کیا ۔۔





    ’’میں سوچ رہا ہوں آج کل پہلے جیسے حالات نیئں رہے بڑی شو شا آگئی ہے لوگوں میں، کوئی پرانی چیزوں کو خریدتا ہی نہیں ۔۔ پھر بھی تیرا کیا خیال ہے کتنے میں بک جائے گا کُرتا۔۔۔ ؟‘‘
    ’’تمہیں کتنے میں ملا؟۔۔‘‘ سوال کرتے کرتے اْس نے اپنی دل کی دھڑکن کو اپنے کانوں میں سنا۔۔
    ’’شیدا بتا رہا تھا چار کچی مٹی کی پیالیاں دی تھیں اس نے ۔۔۔‘‘
    تاجی نے مارے دکھ کے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں لے کر برُی طرح کچلا۔۔۔ ’’بس ۔۔ چار کچی مٹی کی پیالیاں؟ یہ قیمت لگی اُس کُر۔۔۔۔ تے کی۔۔‘‘ اْس نے اپنی آہوںکو خود محسوس کیا تاجی کی آنکھ سے پھر ایک تارہ ٹوٹا اور کان کی کٹوری میں غائب ہو گیا ۔۔۔
    میں بھی یہی سوچ رہا تھا جانے اْس کا اچھا مول لگتا ہے کہ نہیں سو روپے معین کی فیس جاتی ہے تم بتا رہی تھی سکول سے خط آیا ہے کہ فیس نہ دی تو وہ معین کو سکول سے نکال دیں گے اگر مرغا آگیا تو فیس۔۔۔ فیس کہیں رہ نہ جائے۔۔۔ سو ڈیڑھ سو سے زیادہ کا تو نہیں بک سکے گا۔۔۔‘‘
    تاجی نے دل کی دیواروں کو توڑتے طوفان کو بڑی مشکل سے روکا ۔۔’’اور اگر کل نہ بک سکا تو۔۔؟‘‘
    نذیر پھیکی ہنسی ہنس کے بولا ۔۔۔۔’’ مجھے پہلے ہی شک تھاتیری نیت ضرور خراب ہو جائے گی۔۔۔‘‘ تاجی نے اَن سنی کر کے پوچھا۔۔ ’’شیدے نے کہاں سے لیا۔۔۔ کُرتا‘‘ ۔۔ کرتا اُس نے زیرِلب ہی کہا۔۔ جیسے آہ بھری ہو۔
    نذیر نے خود کو گھسیٹا اور کروٹ بدلی: ’’مجھے کیا پتا کہاں سے لیا تھا۔۔۔ مجھے سونے دے۔۔۔‘‘
    اْسے نذیر کے سونے کا ہی تو انتظار تھا فضا میں ٹوٹی کے ٹپکتے قطروں کی جگہ اب نذیر کے خرّاٹوں نے لے لی تھی اُس نے سر اُٹھا کے اپنے ادھورے شوہر کو دیکھا اْسے خود پرترس آگیا ۔۔ معین کا ہاتھ پرے کیا اس کی شرٹ اوپر تک آئی ہوئی تھی اْسے معین کے کمر سے لگے پیٹ سے خوف محسو س ہوتا تھا۔۔ یہ وہ سکون تو نہیں تھا جس کا خواب ماں نے تاجی کی آنکھ میں رکھا تھا وہ تو خواب سے پہلے تعبیر کا غم ڈھو رہی تھی۔۔ تاجی نے معین کی شرٹ نیچے کی اور خود بے آواز اْٹھ کر کمرے میں چلی گئی کپکپاتے ہاتھوں سے کھٹکا دبا یا اندھیرے کمرے میں مردہ سی روشنی پھیل گئی تاجی نے بے تابی ے کپڑوں کی گٹھڑی کو کھولا اور کپڑوں میں ہاتھ ڈال کر کُرتے کی اپنائیت کو محسوس کیا۔۔ بے تابی مگر احتیاط کے ساتھ اُس نے ہاتھ کھینچا۔۔۔ کُرتا اُس کے ہاتھ میں تھا اْس نے پلکیں جھپکیں جانے کرْتا میلا تھا یا اْس کی آنکھوں میں بسی آنسوؤں کی دھند نے اسے ملگجا کر دیا تھا ۔۔ تاجی نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔ مگرآنسو اب کہاں رُکنے والے تھے۔۔ اُس نے کرتے پر یوں ہاتھ پھیرا جیسے کرتا اُس کے ہاتھ میں نہ ہومنوں نے پہن رکھا ہو اور تاجی اس سے شکوہ کر رہی ہو۔۔ ’’رے منوں تُو نے میرا پیار کچی مٹی کی چار پیالیوں کے عوض بیچ دیا ۔۔ تُو تو کہتا ہے تھا تُو مر جائے گاپر ساری عمر اِسے سینے سے لگا کے رکھے گا۔۔‘‘
    تاجی نے گٹھڑی دوبارہ باندھ دی اور کرتا تہ کر تے کرتے کئی بار اس کا ضبط ٹوٹا اْس نے کئی بار اْسے وارفتگی سے چوما، آنکھوں سے لگایا اور کمرے کی کھڑکی کے پیچھے پردے میں رکھتے رکھتے بھول گئی کہ نذیر جب صُبح اُسے گٹھڑی میں نہیں پائے گا تو ۔۔۔ تو کیا ہو گا۔
    اُس رات بھی چاند ایسے ہی چمک رہا تھا جب منوں نے اس سے کہا تھا۔۔ ’’تیرا پیار۔۔پیار تھوڑی ہے میرے لئے احسان ہے ۔جو احسان بھولے، کافر ہو کے مرتاہے۔‘‘
    تاجی کے سارے منظر ہی دھندلے ہو گئے۔ ہائے منوںمیرا پیا ربھول جاتا احسان تو نہ بھولتا۔
    اس رات نے تو جیسے پیروں میں لوہے کی زنجیریں پہن لی ہوں۔سرک ہی نہ رہی تھی۔ جیسے میّت کا گھر۔ساری رات بین کرتے گزر گئی۔اذانوں کے وقت ذرا سی جھپکی لگی کہ نذیر نے آواز دی ۔
    ’’چل اْٹھ اذانیں ہو رہی ہیں،نماز نہیں پڑھنی کیا ؟‘‘
    اسے یوں لگا جیسے نذیر نے کہا ہو، میّت نہیں دفنانی کیا۔ وہ رات کی جاگی وحشت سے نذیر کو دیکھے گئی۔
    ’ایسے کیا دیکھ رہی ہے ؟‘۔نذیر نے اِسے محبت جانا۔
    تاجی نے پلاسٹک کی چپل پیروں میں اــڑسی اور بنا کچھ کہے اٹھ کر چلی گئی۔
    معین نے سکو ل جانا تھا اور نذیر نے کام پہ ۔۔ آندھی ہو یا طوفان شیدا اپنے وقت پہ آجاتا تھا مگر پتا نہیں کیوں اُس دن وقت گذر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ شیدا آیا معین اور نذیر دونوں کو لے کے چلا گیا۔ تاجی نے دروازہ بند کر کے بھاگ کے کرتا نکا لا اور جلدی جلدی دھونے لگی۔ اسے اتنی محبت سے ایک بار پہلے بھی وہ دھو چکی تھی جب اس نے کاڑھ لیا تھا، سلائی سے پہلے۔ منوں سے چُھپ کر گرمیوں کی کتنی تپتی دوپہر یں اس نے کمرے میں بند ہو کے گزاریں۔۔ تب کہیں جاکر مکمل ہوا تھا۔ کُرتا تار پر ڈال کر اس نے جلدی جلدی ہانڈی چڑھائی۔ بار بار اس کی نظر ہوا کی شہہ پہ ہلتے کُرتے پہ جاتی اسے یوں لگتا منوں سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک بار تو اس نے منو کا ہاتھ بھی جھٹکا۔ ’مجھے کھانا پکانے دے شیداروٹی لینے آتا ہی ہوگا۔ کہہ کر جب اس نے سر اُٹھایا، وہاں کوئی نہیں تھا تار پر بے وفائی کھڑی تھی۔
    تاجی کو یاد آرہا تھا چھت پر سیمنٹ کی دیوار سے ٹیک لگائے لگائے اس نے کتنے نخرے سے پوچھا تھا۔’یہ تو بتاکتنا پیار کرتا ہے مجھ سے؟‘۔منوں سوچ میں پڑ گیا۔
    تاجی کا دل بُجھ سا گیا۔اس نے کتنے دنوں کی گرمی کھا کر اس کے لئے سفید لون کا کرتا کاڑھا تھا اور اس کو دینے آئی تھی۔
    منو کو یوں سوچ میں گُم دیکھا تو کرْتا دوپٹے کی آڑ میں چُھپا لیا اور اٹھنے لگی۔’’۔رہن دے پیارہوگا تو بتائے گا نا۔‘‘ وہ اُٹھ گئی۔۔ اٹھتے اٹھتے تاجی کی چوٹی منوں کے ہاتھ میں آگئی اس نے ہاتھوں پہ دو بل دے کہ اسے اور قریب کر لیا۔ ’میں تو یہ سوچ رہا تھا کاش میں اگلے چار سو سال تک تجھے اس طرح بیٹھ کر دیکھتا رہوں۔۔‘‘ اس کالہجہ مخمور ہونے لگا۔ تاجی کا دل زور سے دھڑکا۔ بے ساختہ اس کا سر منوں کے کاندھے پہ ٹک گیا۔ شور مچاتی دھڑکنوں کے سازپر سرگوشی میں بولی: ’چار سو ایک سال کیوں نہیں؟‘ منوں نے اس کے کان میں کہا ’’ہو سکتا ہے میں اتنا نہ جی سکوں۔‘‘
    تاجی ایک جھٹکے سے منو ںسے علیحدہ ہوئی ۔۔ ’’ شکل اچھی نہ ہو تو بات ڈھنگ کی کر لیا کرو۔۔‘‘ پھر اترا کے بولی: ’’اچھا خیر۔۔ چار سو سال ہی ٹھیک ہے‘۔یہ دیکھ۔۔‘‘، اس نے خوش ہو کر دوپٹے کی آڑ سے کر تا نکالا۔ ’تیرے لئے کاڑھاہے۔ سیا بھی خود ہے میں نے ۔‘‘
    منو ںنے کرتا آنکھوں سے لگا لیا۔ ’’میرے لئے؟‘‘۔ ناقابلِ یقین حیرت سے پوچھنے لگا تو تاجی مغرور سی ہو گئی۔ ’’ہاں تیرے لئے ۔۔بتایا تو ہے میں نے خود بنایا ہے۔‘‘
    منو ںنے کرتے پر ہاتھ پھیرا ’’اتنا خوب صورت، ایک ایک ٹانکے میں اپنا پیار پرو کے دے دیا تْونے تو ‘‘ اس نے کُرتا چوم لیا۔تاجی نے سخاوت سے کہا ’’تجھے اچھا لگا تو ایک اور بنا دوںگی‘‘۔ منوں گھبرا کر بولا ’’نہیں نہیں۔‘‘ اس نے تاجی کے ہاتھ سید ھے کئے جہاں سوئیوں نے چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیئے تھے ۔’’میں تجھے اور تکلیف نہیںدے سکتا‘‘۔ تاجی ہنس دی۔’’بہت پاگل ہے تو اس میں تکلیف کی کیا بات ہے۔ سو روپے کا کپڑا آیا بتیس روپے کا دھاگا اور دس روپے کی چھپائی، کل ملا کر کتنے ہوئے۔؟‘‘ ہنس دیتی ہے۔ ’’تو اسے تکلیف سمجھتا ہے۔‘‘ اس نے تکلیف پر زور دے کر کہا۔ ’’اتنا تو سستا بنا ہے۔‘‘
    منوں نے تاجی کی آنکھوں کو چوم لیا: ’’تیری آنکھوں کا نور ہے یہ سوچتا ہوں کیسے چکا پاؤں گا اس کی قیمت۔ اتنی محبت۔ اتنی چاہت۔‘‘تاجی منو ںکے ماتھے کی لٹ پیچھے کر کے وارفتگی سے بولی: ’’جب تو اسے پہنے گا تواس کی قیمت آپ ہی چکتا ہو جائے گی۔‘‘ پھر مِنت سے کہا: ’’پہن کر دکھا ناں۔‘‘
    منوں مُسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’میں اسے تیرے بیاہ والے دن پہنوں گا۔‘‘ اْس نے تاجی کو چھیڑا۔۔
    تاجی یاد کرتے کرتے کیسے دنیا سے بے خبر لگ رہی تھی۔۔ کئی سالوں بعد وہ آپ ہی آپ ہنس رہی تھی دروازہ بج رہا تھا۔ تاجی ہوش کی دنیا میں واپس آگئی ہنڈیا کے جلنے کی بو سارے گھر میں پھیل چکی تھی۔تاجی نے جلدی سے ہنڈیا اُتاری اور دروازہ کھولا۔
    شیدا کھانا لینے کے لئے کھڑا تھا۔شیدے نے بھی جلنے کی بو محسوس کی۔’’پرجائی سالن لگ گیا لگتا ہے۔‘‘
    ’’ہاں‘‘ اس نے مختصراََ کہااورہمت کر کے کرتے کے مالکوں کا پتا پوچھا۔
    شیدا ہنس دیا۔ ’’استاد کہہ رہا تھا عورتوں کو تو کوئی اچھی شے دکھانی ہی نہیں چاہئے۔‘‘
    ’’خفا تو نہیں تھا۔‘‘ تاجی کا دل پھر زور سے دھڑکا۔شیدے نے بد رنگ مگر صاف دستر خوان کی گرہ لگائی اوراسے دیکھ کر روانی سے بولا: ’’پرجائی تجھ پہ خفا ہوتے کبھی دیکھا نہیں استاد کو۔‘‘ شیدا جاتے جاتے مڑا۔ ’’ویسے تم نے کیا کرنا ہے؟ گھر بہت دور ہے سواری کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا وہاں۔‘‘ تاجی نے سر ہلایا۔ ’’تیری مرضی ہے میرا کام تھا صلاح دینا۔‘‘
    تاجی نے دروازہ بند کیا او ر رو پڑی۔ اس منحوس صلاح ہی نے تو مارا تھا مجھے۔
    تاجی نے اپنا صاف ستھرا دوپٹہ جستی ٹرنک سے نکالااور کرتا تہ کر کے اس میں یوں لپیٹا جیسے اس کا دوپٹہ دوپٹہ نہ ہو جزدان ہو اور کرتاکرتا نہ ہو کوئی صحیفہ ہو۔یکدم اْس پہ بے بسی کی کیفیت چھا گئی جیسے کوئی مرض الموت میں مبتلا اْس کے سامنے ہو اور اُس کی سارے دعائیں کہیں زمین آسمانوں کے درمیان رہ گئی ہوں۔۔ منوں تو نے کیوں بیچا میرا پیار۔اتنا سستا۔ اس کا سانس بند ہو رہا تھا۔ ایسی بھاری سل سینے پہ دھری تھی کہ جیسے اب جان نکلی کہ تب۔
    بے بسی نے ایڑھیاں رگڑنے کی سی حا لت کر دی تھی۔تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا منوں جب تم نے مجھے اماں کی آرزو سنائی تھی۔میں تو اماں کو منع کر چکی تھی کہ مجھے کسی کے ساتھ بیاہ نہیں کرنا پر تیرے سامنے۔۔