کچھ باتیں دل کی — شاکر مکرم

میں امجد عظیم پچھلے بارہ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہا ہوں۔ سفر وہ واحد چیز تھی جس سے مجھے کوفت ہوتی تھی اور ہمیشہ سفر سے دور رہنے کی کوشش کی لیکن وہی سفر ایسا نصیب ٹہرا کہ اب اگر کسی دن سفر نہ ہو تو وہ دن ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔
پردیس کے یہ بارہ سال ایسے گزرے کہ آج جب میں گزرے سالوں پہ نظر ڈال رہا ہوں تو پل دو پل کے سوا کچھ معلوم نہیں ہو رہا ،اس وقت میرے کمرے کے تمام ساتھی کام پہ گئے ہوئے ہیں اور میں کل پاؤں پہ چوٹ لگنے کی وجہ سے ایک ہفتے کے لئے بستر پہ لیٹ چکا ہوں کوئی کام کرنے کو نہ تھا تو سوچا کہ گزری ہوئی زندگی کے احوال ان صفحوں پہ بکھیر دوں کہ کچھ نہ کرنے سے بہرحال کچھ کرنا بہتر ہے۔
زندگی کے ماہ و سال گزر رہے ہیں اور آرام و سکون دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے بارہ سالوں میں یہ پہلا ہفتہ ہے کہ دوران کام پورا ہفتہ چھٹی کر رہا ہوں ورنہ ان بارہ سالوں میں صرف پانچ چھٹیاں کیں اور وہ دن بھی اپنی حسرتوں پہ ماتم کرنے اور پریشانیوں پہ آنسو بہانے کے لئے تھے۔
جس گھر میں میری آنکھ کھلی وہاں غربت کے ڈھیر تھے پھلوں کی ریڑھی لگا کر کمانے والا ایک باپ تھا اور کھانے والے چار بچے اور ایک بیوی باقی ضرورتیں اس کے علاوہ زندگی آسائشوں سے خالی بغیر سہولتوں کے گزر رہی تھی، صبحیں اور شامیں تھیں جن کا کوئی پرسان حال کوئی دن ایسا نہ تھا کہ گھر میں کچھ پکتا نہ ہو پکتا ضرور تھا لیکن ہم جب کھانے بیٹھتے تو ماں جی ہمیں تو کھلاتی، خود نہ کھاتی اور کہتی تم لوگ کھاؤ میں کھا چکی ہوں اور ابا نماز کا کہہ کے نکلتے تو تب تک واپس نہ آتے جب تک ہم کھا کے سو نہ چکے ہوتے پھر اگر کچھ بچا ہوتا تو کھا لیتے ورنہ ایسے ہی سو جاتے۔
ابا نے بڑے شوق سے ہمیں سکول میں داخل کیا میں اور آپا ایک ہی کلاس میں تھے۔ ابا، آپا سے ہمیشہ کہتے کہ میں تمھیں اس میڈم کی طرح بناؤں گا جو مجھ سے پھل لیتی ہے، ہم پڑھائی میں بہت اچھے تھے ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتے لیکن پھر یکے بعد دیگرے کچھ واقعات اور حالات ایسے آئے جس نے زندگی کا رُخ سوچوں کا زاویہ بدل دیا۔
ہمارا گزارہ پہلے ہی بہت مشکل سے ہوتا تھا لیکن جب میں گیارہ سال کا تھا تو آپا کا ہاتھ ٹوٹ گیا اس وقت جتنا پریشان میں نے ابا کو دیکھا شاید اس سے پہلے نہ دیکھا تھا کیوں کہ جب پیسے بھی پاس نہ ہو اور پانچ لوگوں کی ذمہ داری سر پہ ہو تو پریشانیاں خود بہ خود دامن تھام لیتی ہیں علاج تو خیر آپا کا سرکاری ہسپتال میں ہو گیا تھا اگرچہ وقت زیادہ لگا لیکن تین دن ابا کے کام پہ نہ جانے کی وجہ سے جو پریشانیاں گھر میں آئیں اس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا بار بار ایک ہی سوال ذہن میں آتا تھا کہ کیا سب ایسے ہی چلے گا، ساری زندگی ایسے ہی خوف کے سائے میں گزرے گی، اگر ابا کام پہ نہیں جائیں گے تو کیا ہم بھوکے ہی رہیں گے ایسے بہت سے سوال پریشان کر رہے تھے اور وہ زندگی کا پہلا تجربہ تھا جب راتیں انہی سوچوں میں جاگتے گزرنے لگیں اور دن کو بھی یہی خیالات پریشان کرتے رہے لیکن زندگی اسی طرح چلتی رہی اور شاید ایسے ہی چلتی رہتی اگر اگلے سال ابا کو شدید بخار نہ ہوتا اور دو دن کے لئے وہ بستر پہ نہ لیٹتے، میں رات کو واش روم کے لئے اٹھا تو دیکھا کہ ابا سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے ہیں اور والدہ سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔
زندگی میں بعض لمحے بعض موڑ ایسے آجاتے ہیں جہاں فیصلے لینے پڑتے ہیں نقصان فائدے ہر چیز سے بے نیاز ہو کر، جہاں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ لمحہ میرے لئے بھی فیصلہ کرنے کا لمحہ تھا اور میں فیصلہ کر چکا تھا۔
بارہ سال کے بچے کو حالات وقت سے پہلے بڑا کر رہے تھے، صُبح جب میں نے ابا سے کہا کہ میں سکول نہیں جاؤں گا تو ان کی آنکھوں سے جھلکتی حیرانی اور پریشان چہرہ اب بھی میرے سامنے آجاتا ہے۔
بڑی حیرانگی سے انہوں نے پوچھا
’’کیوں‘‘
’’میں بھی کام کروں گا‘‘ میں نے جواب دیا





میرے الفاظ بم بن کے ان پہ گرے تھے، ایک آنسو گال پہ بہا اور گہری کھائی سے ایک آواز آئی تھی۔ ’’بیٹا میں ہوں نا‘‘
اور میں کچھ کہہ تو نہ سکا بس ان سے لپٹ کر زار وقطار رونے لگا اور جب ہچکیاں بند ہوئیں اور آنسو تھمے تو میں نے پھر کہا چلیں مجھے کام ڈھونڈ دیں ابا نے تو پہلے انکار کیا لیکن میرے اصرار کے سامنے انہوں نے گھٹنے ٹیک دئیے اور یوں گھر کا چھوٹا باہر کا چھوٹا بن گیا۔ میری محنت مزدوری سے کیا ہونا تھا ہاں اتنا ہوا کہ دسترخوان پہ بیٹھنے والے چھے ہو گئے پھر آہستہ آہستہ اور ضرورتیں بھی پوری ہونے لگیں۔
میرے استاد بہت اچھے آدمی تھے وہ خود غربت دیکھ چکے تھے لہٰذا غریب کی قدر کرتے تھے انہوں نے کبھی میرا نفس مجروح نہیں کیا میری ہر ممکن مدد کی اور آج میرا یہاں تک پہنچنا انہی کی وجہ سے ہے وہ میرے ہر کام کو سراہتے، شاباشی دیتے انعام دیتے اپنے ساتھ بٹھا کے چائے پلاتے اور بہت خاموشی اور آہستگی سے انہوں نے میرے اندر یہ بات اتار دی کہ حوصلہ افزائی ضروری ہے، کسی کے اُبھار اور آگے بڑھانے کے لئے اسے cheer up کرنا، اسے تھپکی دینا ضروری ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ آپا کو جب میں نے فرسٹ آنے پر پین گفٹ کیا تھا تو وہ کتنا خوش ہوئی تھی اور پھر ہر امتحان سے پہلے مجھ سے پوچھتی کہ اس بار پوزیشن لینے پہ کیا گفٹ ملے گا اور پھر اس گفٹ کو پانے کے لئے دن رات کی وہ محنت میں ابھی تک نہیں بھول سکا اور اس سب کے پیچھے وہ پہلی تھپکی تھی۔
پردیس آنا اپنوں کو چھوڑنا میرے لئے آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اوروں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے مجھے یہ مشکل قدم اٹھانا پڑا، جس نے ایک دن بھی گھر سے باہر نہیں گزارا تھا پردیس اس کا نصیب ٹھہرا، شروع میں تو بہت مشکل ہوئی راتوں کو چُھپ چُھپ کے روتا، گھر والوں کی تصویریں دیر تک دیکھتا ان سے باتیں کرتا فرصت کے لمحات ان کی یادوں کی نذر کرتا لیکن پھر آہستہ آہستہ زندگی نارمل ہوگئی وقت اور مصروفیت مرہم بنتے چلے گئے اور میرے بھائی اور بہنوں کی ہر کامیابی میری ہمت بڑھاتی رہی۔ زندگی کمپرومائز کرتے کرتے گزری ہے لیکن میرا یقین ہے کہ یہ مختصر زندگی اپنے جینے کے لئے نہیں بلکہ اوروں کے لئے ہے، یہ تو کیش ہی تب ہوتی ہے جب بے لوث ہو کر اوروں پہ لٹائی جائے اور یہ بھی میں اپنے استاد کی زندگی سے سمجھا میرے استاد کی آمدنی زیادہ نہیں تھی بس نارمل زندگی گزر رہی تھی لیکن میں نے ہمیشہ انہیں اوروں سے بھلائی کرتے دیکھا ان کو دیکھ کے ہی میں یہ بات سمجھا کہ دلوں میں رہنے کے لئے پیسے کی نہیں اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے دل پیسے سے نہیں اخلاق سے جیتے جاتے ہیں۔
ایک دفعہ میں نے انہیں کہا کہ آپ کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں جو ہاتھ آتا ہے اوروں پہ لٹا دیتے ہیں، ہر ایک کی مدد کرنا آپ پر فرض تو نہیں اور پھر جو آپ کے ساتھ برا کرتا ہے آپ اس سے اچھائی کیوں کرتے ہیں انتقام کیوں نہیں لیتے۔
میری باتوں پہ تو پہلے وہ حیران ہوئے پھر مسکراتے ہوئے ہلکا سا تھپڑ مجھے مارا اور پاس بٹھا کے مجھے سمجھانے لگے مجھے ان کا یہ انداز بہت پسند تھا۔
’’بیٹا تم نے کبھی ان بادلوں کو فرق کرتے دیکھا ہے پھولوں اور کانٹوں میں یا یہ چمن پہ برسے ہوں اور صحرا پہ برسنے سے انکار کیا ہو بیٹا زندگی بے لوث ہو کر گزاری جاتی ہے اچھے برُے کی تمیز کے بغیر، اگر میرا برُا چاہنے والے کے ساتھ میں بھی برُا کروں تو کیا فرق رہ گیا مجھ میں اور اس میں تمھیں پتا ہے جب مکہ میں قحط آیا تھا اور آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے درہم بھیجے تھے تو جان کے دشمن ابو سفیان نے کیا کہا تھا۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’قربان جاؤں محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم اس کی جان کے درپے ہیں اور وہ ہمیں کھانا کھلاتا ہے۔‘‘
بیٹا بس زندگی کا اصول بنا لو کہ یہ زندگی اوروں کے لئے ہے اور اسے اوروں کی مدد ان کی خیر خواہی اور ان کا دکھ درد بانٹنے میں گزار دو بیٹا یہ لوگ اللہ کا کنبہ ہیں تم ان کے ساتھ اچھا کرو وہ تمہارے ساتھ ضرور اچھا کرے گا وہ اپنے ذمے کسی کا قرض نہیں رکھتا۔‘‘
وہ سمجھاتے گئے اور ان کی باتیں میرے دل پہ نقش ہوتی گئیں اور ان کی بات ختم کرنے سے پہلے میں اپنے ساتھ وعدہ کر چکا تھا کہ زندگی اوروں کے نام کرنی ہے۔
اگر میں بارہ سال کی عمر میں مزدوری کے لئے نہ نکلتا، اچھا اسٹوڈنٹ ہونے کے باوجود سکول نہ چھوڑتا، اپنی ضروریات اور خواہشات کو قربان نہ کرتا، دیس کو چھوڑ کے پردیسی نہ بنتا تو شائد آپا آج انگلش میں گولڈ میڈلسٹ نہ ہوتی، بھائی c.s.s میں تیسری پوزیشن نہ لیتا اور شائد چھوٹی بہن آج ڈاکٹر نہ ہوتیں۔
کمپرومائز کرکے تو میں نے کچھ نہیں کھویا بلکہ بہت کچھ پایا ہے عزت، احترام، محبت سب کچھ ان لوگوں کی خوشیوں اور پرُسکون زندگی سے بڑھ کے میرے لئے تو کچھ بھی نہیں۔
ضروری تو نہیں کہ ہر خواب پورا ہو، ہر چاہت پوری ہو کچھ خوابوں کے ادھورا رہ جانے میں اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے اور اوروں کا بھی الحمدللہ وقت گزر گیا کہ یہ گزر ہی جایا کرتا ہے محرومیاں، تنہائیاں، مشکلیں سب ختم ہوئیں وقت بدل جایا کرتا ہے کبھی ایک سا نہیں رہتا کبھی پانا کبھی کھونا تو زندگی کا حصہ ہے بس صرف ایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ میں بیوی بچوں کو وہ توجہ وہ محبت وہ وقت نہ دے سکا جو دینا چاہئے تھا کبھی کبھار تو بہت احساس جرم ہوتا ہے، پیسہ ہر چیز کا بدل نہیں ہو سکتا پیسہ چیزیں تو دے دے گا لیکن محبت، توجہ، تعلق بازار میں بکنے والی چیزیں نہیں جو پیسے سے خرید لی جائیں۔
شادی کے بعد کمپنی نے ایمرجنسی میں مجھے واپس بلایا تھا اور میں گھر میں صرف ایک ماہ گزار سکا، واپسی کی رات گھر سے نکلنے سے پہلے بہت پیار سے میری بیوی نے میرے ہاتھوں کو تھاما، لب خاموش تھے نظریں جھکی ہوئیں تھی اور میرے ہاتھوں کی پشت پر اس کے آنسو گر رہے تھے آنسوئوں کی حدت جذبات کی ترجمانی کر رہی تھی میں آج تک ان سُرخ آنکھوں، ان آنسوئوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکا میں نے ان کی راحت اور آسائش کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے گرمی سردی، دن کے اجالوں رات کے اندھیروں سے بے نیاز ہو کر لیکن پھر بھی کبھی کبھی ان سے دوری بے چین کر دیتی ہے۔
میں سفر کرتے کرتے تھک گیا ہوں جیسے ہاتھ لکھتے لکھتے تھک گیا ہے میں آرام کرنا چاہتا ہوں زندگی جن لوگوں کی خوشیوں کے نام کی میں ان کی خوشیوں کو ان کے پاس رہ کے محسوس کرنا چاہتا ہوں جن محبتوں کے لئے زندگی بھر ترسا ہوں خواہش ہے کہ باقی کی زندگی انہی محبتوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں گزرے دیکھتے ہیں کہ زندگی نا پائیدار کی یہ خواہش کب پوری ہوتی ہے پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں۔




Loading

Read Previous

بڑا افسر — صبا احمد

Read Next

جنریشن گیپ — ثناء شبیر سندھو

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!