Tag: Alkaram

  • کفنی — خواجہ حسن نظامی

    کفنی — خواجہ حسن نظامی

    ”دلشاد گدگدیاں نہ کر مجھے سونے دے۔ نماز قضا ہوتی ہے، تو کیا کروں۔ آنکھ کھولنے کو جی نہیں چاہتا۔”
    بیوی: ”گدگدیاں میں نے نہیں کیں۔ یہ گلاب کا پھول تمہارے تلوؤں سے آنکھیں مل رہا ہے۔”
    ”میں اس پھول کو مسل ڈالوں گی۔ اتنی سویرے مجھے کیوں جگاتی ہے۔ میرا دل ابھی سونے کو چاہتا ہے۔ ذرا سندری کو بلا۔ بانسلی بجائے۔ ہلکے سروں میں بھیرویں سنائے۔ گل چمن کہاں ہے، چپی کرے، تو کوئی کہانی شروع کر۔”
    ”کہانی کہوں گی تو مسافر راستہ بھولیں گے۔ دن کو کہانی نہیں کہنی چاہیے۔ سندری حاضر ہے۔ گل چمن کو بلاتی ہوں، اماں جان آجائیں گی تو خفا ہوں گی کہ مہ جمال کو اب تک بے دار نہیں کیا، نماز کا وقت جاتا ہے۔”
    سندری بانسلی بجا رہی تھی کہ مہ جمال نے آنکھیں کھول دیں۔ بالوں کو سمیٹا، مسکرائی، کلمہ پڑھا، نرگس نے سلام کیا۔ جواب میں اس کے ایک چٹکی لی گئی، انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھی اور کہا:
    ”دلشاد! ہم نے نرگس کے چٹکی لی، تو یہ ہنسی نہیں۔ منہ بنالیا۔ آ تو آ۔ تیرے کان مروڑوں اور تو خوب ہنس۔”
    دلشاد اٹھ کر بھاگی، دور کھڑی ہوئی اور کہا: لیجیے میں کھلکھلا کر ہنستی ہوں، آپ سمجھ لیجیے کان مروڑ دیے۔”
    مہ جمال نے پھر انگڑائی لی اور مسکراتی ہوئی طشت چوکی پر گئی۔ وضو کیا، نماز ادا کی، صحن میں نکلی، باغ کے پاس تخت پر بیٹھی، قرآن شریف شروع کیا۔ سب لونڈیاں فرش کی درستی میں مصروف ہوئیں، ناشتے کا سامان کرنے لگیں۔
    مہ جمال تلاوت سے فارغ ہوئی تو مالن چنگیر میں چند ہری مرچیں لیے حاضر ہوئی۔ پہلے مہ جمال کی بلائیں لیں، دعائیں دیں، پھر بولی: سرکار آج حضور کے لگائے ہوئے پودوں میں یہ مرچیں لگی تھیں۔ نذر کے لیے لائی ہوں۔
    مہ جمال نے چنگیر لے لی۔ سب لونڈیوں کو پکارا اور مرچوں کی آمد سے محل میں ایک دھوم مچ گئی۔ نرگس نے کہا ”کیسی ہری ہری چکنی صورت ہے۔” دلشاد بولی”جیسے بیوی کے گال۔” سندری نے کہا ”کیسی چپ چاپ چنگیر میں لیٹی ہیں، جیسے بیوی چھپرکھٹ میں سوتی ہیں۔ گل چمن بولی”ڈالی سے ٹوٹی ہیں، گھر سے چھوٹی ہیں، اس لیے ذرا چپ چپ ہیں۔”
    مہ جمال نے کہا ”مالن کو جوڑا دو، کپڑے پہناؤ، پانچ روپے نقد بھی دینا، میرے درختوں کا پہلا پھل لائی ہے، اس کا منہ بھی میٹھا کرنا۔”
    مالن کو ریشمی جوڑا ملا۔ چاندی کے کڑے پہنائے گئے۔ لڈو کھلائے گئے۔ پانچ روپے نقد اور ایک پان کا بیڑا ملا۔ وہ دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر گئی۔ یہاں اماں جان کو لونڈی خبر دینے پہنچی کہ بیوی کے درختوں کا پہلا پھل آیا ہے۔ وہ برابر کے مکان سے آئیں۔ مغلانی ساتھ تھیں بیٹی کی بلائیں لیں۔ مہ جمال نے آداب کیا۔ اماں اور مغلانی نے مرچوں کی خوب تعریفیں کیں اور تھوڑی دیر تک مرچوں کا غلغلہ گھر میں برپا رہا۔





    مہ جمال خورشید جمال کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کے والد میرزا نیلی شاہ عالم کے بیٹے اکبر شاہ ثانی کے بھائی تھے جو مرچکے تھے۔ خواصوں سے ان کے کئی بیٹے تھے مگر بیگم سے صرف مہ جمال ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور وہ بھی بڑھاپا جانے کے بعد۔ جب میرزا نیلی مرے ہیں تو مہ جمال کی عمر پانچ سال تھی۔ اب ماشا اللہ پندرہویں سال میں ہے۔ صورت سانولی ہے، چہرہ کتابی ہے، قد میانہ ہے، آنکھیں سیاہ اور بے حد رسیلی اور مخمور ہیں۔ آواز میں قدرتی درد ہے۔ جب ہنس کے بولتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرثیہ پڑھا گیا۔ سن کر کلیجے پر چوٹ لگتی ہے۔ وہ بہت چنچل، شوخ، آرام طلب اور نازک مزاج ہے۔ لاڈ پیار میں پلی ہے۔ شہزادی ہے، بن باپ کی اکلوتی ہے اور کچھ فطرتاً ضدی اور ہٹیلی ہے۔ بدن بہت دبلا ہے۔ چلتی ہے تو غیر مصنوعی انداز سے بدن کو جھکاتی، پھولوں کی ٹہنی کی طرح اِدھر اُدھر جھکولے کھاتی ہے۔ ٹھوکر قدم قدم پر لگتی ہے۔ لونڈیاں ساتھ دوڑتی ہیں۔ بسم اللہ یا اللہ خیر کہتی جاتی ہیں۔
    پھول والوں کی سیر تھی۔ بہادر شاہ اپنے محل میں جو درگاہ حضرت خواجہ قطب صاحب کے دروازہ کے قریب بنا تھا، تشریف رکھتے تھے۔ بیگمات اندر تھیں، مگر خورشید جمال اور مہ جمال نے دوسرا مکان لیا تھا، کیوں کہ میرزا نیلی کے وقت سے ان کی اور بہادر شاہ کے ان بن تھی۔ بہادر شاہ کو انگریز لاکھ روپے دیتے تھے، اس میں سے ایک ہزار روپے مہینہ خورشید جمال کا علیحدہ بھیج دیا جاتا تھا۔ سستا سماں تھا، ہزار روپے آج کل کے لاکھ روپے کے برابر تھے اور خورشید جمال خوب عیش آرام سے زندگی بسر کرتی تھیں۔ جس شام کو پنکھا چڑھا۔ مہ جمال عصر کے وقت سے برآمدہ میں چلمن کے پاس بیٹھی تھی۔ نفیری بج رہی تھی۔ دہلی کے ہندو مسلمان زرق برق کپڑے پہنے پنکھے کے ساتھ تھے۔ دکانیں آراستہ تھیں، سقے کٹورے بجا رہے تھے۔
    مغرب کا وقت آیا تو خورشید جمال نے لونڈیوں سے کہلا بھیجا کہ پہلے آن کر نماز پڑھ لو پھر تماشا دیکھنا۔ مہ جمال اُٹھی تو چلتے وقت اس نے دیکھا اور ایک فقیر سفید کفنی پہنے، زرد چہرہ۔ ننگے سر، ننگے پاؤں، پنکھے کے پاس سے گزر کر اس کو دیکھتا ہوا چلا گیا۔ اس کی صورت اور کفنی دیکھ کر مہ جمال ڈر گئی۔ نماز میں بھی اسی کا خیال رہا۔ سیر سے فارغ ہوکر سوئی تو ہلکا ہلکا بخار تھا۔ ماں کو خبر ہوئی، اس نے کچھ پڑھ کر دم کیا۔ صندوقچہ سے ایک نقش نکال کر پیالے میں ڈالا، فقیروں کو خیرات بھجوائی۔
    دوپہر کو بخار تیز ہوگیا۔ مہ جمال چونکتی تھی اور کہتی تھی ”وہ کفنی والا آیا، وہ مجھ کو بلاتا ہے، اماں جی آنا وہ دیکھو کھڑا مسکراتا ہے۔”
    ماں نے لونڈیوں سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ایک فقیر کل شام کو کفنی پہنے جاتا تھا، بیوی نماز کے لیے اٹھیں تو چلمن کا پردہ ہٹ گیا۔ فقیر نے ان کو گھور کر دیکھا اور بیوی نے اس کو دیکھا۔ اس کے بعد وہ کہیں چلا گیا۔
    خورشید جمال نے نوکروں کو حکم دیا کہ اس حلیہ کا فقیر جہاں ملے اس کو لاؤ۔ نوکر سارے میلے میں ڈھونڈتے پھرے۔ شام کے قریب وہ ملا۔ اس کو ساتھ لے کر مکان پر لے آئے۔ خورشید جمال نے پردہ کے پاس بٹھا کر لڑکی کا حال کہا۔ وہ بولا مجھے اندر لے چلو میں دم کر دوں گا اچھی ہو جائے گی۔ خورشید جمال نے اندر پردہ کرادیا۔ فقیر کو پلنگ کے پاس کھڑا کیا۔ اس نے آنکھ بند کرکے دونوں ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھے اور کچھ دیر چپ کھڑا رہا اور پھر کہا: ”لو لڑکی اچھی ہوگئی۔”
    دیکھا تو واقعی بخار اتر گیا تھا۔ مہ جمال اٹھ بیٹھی۔ خورشید جمال اور سب لونڈیاں حیران ہوگئیں۔ فقیر کو بٹھایا۔ کچھ روپے اور کپڑے کے دو تھان نذر کیے۔ فقیر نے کہا:
    ”یہ میں نہیں لیتا، مجھے لڑکی کی صورت دکھا دو، ورنہ پھر بیمار ہو جائے گی۔”
    خورشید جمال نے پہلے تو کچھ تامل کیا، پھر خیال آیا کہ فقیر تو ماں باپ ہوتے ہیں، پردہ ہٹایا۔ مہ جمال نے فقیر کو دیکھا اور سر جھکا لیا۔ فقیر نے مہ جمال کو دیکھا اور برابر دیکھتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد ”بھلا ہو بابا” کہہ کر اٹھا اور چلا گیا۔
    یہ تیس برس کا جوان تھا، مگر بیمار معلوم ہوتا تھا۔ چہرے پر زردی بہت زیادہ تھی۔ سفید کفنی کے سوا کوئی کپڑا پاس نہ تھا۔ آنکھیں ایسی معلوم ہوتی تھیں گویا روتے روتے سوج گئی ہیں۔
    یہ شخص اس مالن کا بیٹا تھا جو مہ جمال کے باغ کی محافظ تھی۔ مہ جمال کو ایک سال پہلے اس نے باغ میں دیکھا تھا۔ اپنی غریبی اور مہ جمال کی شان کا خیال کرکے اس کو ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس تکلیف کو کسی کے سامنے بیان کرے جوکہ جمال کے دیکھنے سے خود بہ خود اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔
    چھے مہینے وہ اس خلجان میں پریشان رہا۔ اس کے بعد اس کو ایک ہندو جوگی ملا جس سے اس نے اپنا حال بیان کیا۔ جوگی نے ایک سفید کفنی دی کہ اس کو پہن لے تیرے سب کام پورے ہو جائیں گے۔ کفنی پہنتے ہی وہ مجذوب ہوگیا اور گھر بار چھوڑ کر جنگل میں نکل گیا۔ چھے مہینے تک جنگلوں میں پھرتا رہا۔ چھے ماہ بعد اب پھر وہ آبادی میں آیا تھا، جہاں اس نے پھر مہ جمال کو دیکھا، مگر اب اس کے دیکھن میں ایسی قوت پیدا ہوگئی تھی کہ مہ جمال کو اس نے نگاہ میں بیمار کردیا۔
    ١٤ ستمبر ١٨٥٧ء کو ایک رتھ نجف گڑھ کے قریب کھڑا تھا اور خاکی وردی کے فوجی سپاہی اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ یہ سب لشکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس رتھ میں خورشید جمال، مہ جمال اور دو لونڈیاں سوار تھیں، باہر چار نوکر تلواریں لیے کھڑے تھے۔ فوج والے کہتے تھے ہم اندر کی تلاشی لیں گے، اس میں کوئی باغی پوشیدہ ہے۔ بیگم کے نوکر کہتے تھے، اندر عورتیں ہیں، ہم پردہ نہ کھولنے دیں گے۔ نوبت لڑائی کو پہنچی تو نوکروں نے تلوار چلائی اور وہ سب ایسے لڑے کہ ایک بھی زندہ نہ بچا۔ فوجیوں نے رتھ کا پردہ اُلٹ دیا۔ عورتوں کو دیکھا اور زیور کا صندوقچہ ان سے چھین لیا۔ اس کے علاوہ اور جس قدر اسباب تھا وہ بھی لوٹ کر آگے بڑھ گئے۔ رتھ بان بھاگ گیا تھا۔ بیگم لونڈیوں کو لے کر نجف گڑھ کی طرف ہو لیں کہ اتنے میں چند گوجر لٹھ لیے ہوئے آئے اور ان سے زیورات اور کپڑے مانگنے لگے۔ بیگم نے کہا: ہم کو تو فوج والوں نے لوٹ لیا ہے اب ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں ہے، تم رتھ اور بیل لے لو۔ مگر گوجر نہ مانے اور انہوں نے زبردستی ان کے برقعے اتار ڈالے۔ پاجاموں کے سوا تمام کپڑے چھین لیے۔ خورشید جمال اور لونڈیوں نے ان کو برا کہنا شروع کیا۔ ایک گوجر نے خورشید جمال کے سر پر لکڑی ماری اور دوسرے نے لونڈیوں پر لکڑیوں کے وار کیے۔ مہ جمال ڈری سہمی چپ کھڑی تھی۔ اس کو کسی نے نہ چھیڑا۔ خورشید جمال کا سر پھٹ گیا اور تڑپ کر مر گئیں۔ لونڈیاں بھی دونوں چوٹ کے صدمے سے تمام ہوگئیں۔ مہ جمال اکیلی کھڑی تماشا دیکھتی تھی۔ ماں کو مرتے دیکھا تو چمٹ کر رونے لگی۔ گوجر تو مار کوٹ کر چلے گئے اور مہ جمال روتے روتے بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آیا تو اس نے دیکھا نہ اس کی ماں کی لاش ہے نہ لونڈیوں کی لاشیں ہیں، نہ وہ جنگل ہے بلکہ وہ ایک گھر کے اندر چارپائی پر لیٹی ہے۔ سامنے ایک گائے بندھی کھڑی ہے۔ چند مرغیاں صحن میں پھر رہی ہیں اور ایک میواتی چالیس پچاس برس کی عمر کا سامنے بیٹھا اپنی بیوی سے باتیں کررہا ہے۔




  • مڈل کلاس — سارہ عمر

    مڈل کلاس — سارہ عمر

    ”لے زوباریہ پکڑ یہ کارڈ سیٹھ صاحب کے گھر سے آیا ہے۔” ہانپتی کانپتی امی نے دوپٹے سے پسینا پونچھتے ہوئے اس کی طرف کارڈ بڑھایا تھا۔
    ”سیٹھ ماموں کے گھر سے؟ کیسا کارڈ ہے؟” اس نے لپک کر کارڈ جھپٹا تھا۔
    ”ہزار بار کہا ہے تجھے مت بولا کر ماموں۔ سنیں گے تو غصہ کریں گے۔ کون سا تیرا سگا ماموں لگا ہے وہ۔ انکل بولا کر انکل، ایسے رشتہ نہیں پتا لگتا نا۔” اماں نے ایک تھپڑ کمر پر جڑتے اسے کھری کھری سنائی تھیں۔
    ”کیا ہے اماں؟میں تو بولوں گی ماموں۔ایک تو ان امیروں کو اپنے رشتے داروں میں سو کیڑے نظر آتے ہیں۔” وہ کارڈ کھولتے ہوئے بولی۔
    ”تو غریبوں سے بھلا کون رشتہ رکھتا ہے؟ بس عید تہوار، شادی تک کے لئے گھر بلا لیتے ہیں احسان ہے ان کا۔” اماں ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی تھیں۔
    ”اُف اماں! اتنے بھی غریب نہیں ہیں۔ ہم مڈل کلاس ہیں مڈل کلاس۔” اس نے فخر سے اپنی کلاس بتائی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو ”منسٹر ہیں منسٹر۔”
    ”ان سے تو غریب ہیں نا۔ اچھا اب کھول بھی لے سعدیہ کی شادی کا کارڈ۔” وہ جو کارڈ کے اوپر بنے پھولوں میں گم تھی، ایک دم اُچھلی۔
    ”سعدیہ کی شادی؟ مگر کس سے۔” اس نے جلدی جلدی کارڈ کھول کر نام پڑھا تھا۔
    ”سکندر کریم شاہ، یہ کس سے ہورہی ہے اس کی شادی؟” وہ جھلا کر بولی۔
    ”تو کس سے ہونی تھی؟ اپنے جیسوں میں کررہے ہیں۔ وڈیرے ہیں، بڑی زمینوں والے ہیں۔ ڈیفنس میں بنگلہ ہے ان کا۔”
    ”مگر وہ تو…”بولتے بولتے اس نے زبان منہ میں دبالی ۔
    ”ہائے میری ہانڈی جل گئی ہوگی۔ چل سنبھال کر رکھ کارڈ، دس تاریخ ہے بھول نہ جائیو۔ ایک دن تو ڈھنگ کا کھانا کھانے کو ملے گا۔” اماں نے کچن کی طرف قدم بڑھائے تھے اور اس کا دماغ میں گھوڑے دوڑنے لگ گئے تھے۔
    ”چلو سعدیہ تمہاری محبت کا بھی یہی انجام ہوا۔ تم اپنے سیٹھ ابا کے حکم کے آگے سرنگوں ہوکر یہ زہر کا پیالہ پینے پر تیار ہو ہی گئیں۔ ایک اور محبت امیر اور غریب کی تفریق کے بھینٹ چڑھ گئی۔” اسے ماضی کے تمام واقعات یاد آنے لگے تھے۔
    ”پتا نہیں یہ محبت اتنی ارزاں کیوں ہے؟ سب سے پہلے سولی چڑھانے کو اسی کا خیال کیوں آتا ہے۔” سوال آہستہ آہستہ اس کے دماغ میں سراٹھانے لگے۔
    ٭…٭…٭




    ”زوباریہ ہوگئی تیار؟ باہر تیرے ابا ٹیکسی لے کر کھڑے ہیں وہ اور کرایہ مانگے گا، نکل بھی چک۔” اماں نے دروازے سے آواز دی۔
    ”آئی اماں! بس یہ بڑے والے جھمکے پہن لوں۔ کبھی بھی پہننے کا موقع نہیں ملتا۔” وہ جھمکا کان میں ڈال رہی تھی۔
    ”آئے ہائے اتار یہ لمبے لمبے جھمکے، چھوٹے پہن ذرا۔ پہلے ہی تیری سیما آنٹی کہتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے جھمکے پینڈو عورتیں پہنتی ہیں۔ چھوٹے ear rings ماڈرن لُک دیتے ہیں۔”اماں نے ہاتھ نچا کر ”آنٹی” اور ”ماڈرن” پر خاص زور دیا تھا۔
    ”اچھا اچھا اتار رہی ہوں۔ ایک تو ان امیروں کے چونچلے، اب تیار بھی ان کی مرضی سے ہوکر جاؤ۔ ہونہہ!” اس نے دراز کھول کر چھوٹے ear rings نکالے۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف! شکر ہے جان چھوٹی ان شادیوں کے چکر سے۔ ان امیروں کی شادیاں بھی نرالی ہی ہوتی ہیں۔ شروع ہوتی ہیں تو برسات کی طرح سات دن سے پہلے ختم ہی نہیں ہوتیں۔ یہ نہیں کہ نکاح پڑھائیں اور رخصت کریں۔ نہیں بھئی! چھے چھے ڈھولکیاں، مایوں ، مہندی، نکاح، رخصتی، ولیمہ، جوتا چھپائی، مکلاوہ ۔” اماں اس کے سر کی مالش کرتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ زبان بھی چلا رہی تھیں۔
    ”اے زوبی تجھے کیا ہوا ہے؟ اتنی چپ کیوں ہے شادی کے بعد سے۔” اماں حیران ہوئیں۔
    ”اماں! سعدیہ کی شکل دیکھی تھی؟” وہ منمنائی تھی۔
    ”دیکھی تو تھی اتنی پیاری حور لگ رہی تھی۔ پچاس ہزار کا میک اپ اور دو لاکھ کاجوڑا تھا، حور تو لگنی ہی تھی۔” اماں نے بال کس کر اس کی چٹیا بنائی۔
    ”اماں وہ خوش نہیںتھی۔” وہ آہستہ سے بولی۔
    ”چل ہٹ! اتنا پیسے والا امیر کبیر میاں ملا ہے، اندر سے تو خوش ہوگی۔ اب کیا ناچنا شروع کردے؟ ہے تو مشرقی دُلہن نا! چاہے جتنی بھی امیر ہو۔” اماں نے خوش ہوکر کہا تھا۔
    ”امیر کبیر کے ساتھ ہٹا کٹا موٹا تازہ بھی کہیں نا۔” اسے دیو جیسا دلہا زہر لگا تھا۔
    ”پاگل ہوئی ہے، کھاتا پیتا گھرانا ہے ان کے سامنے مت بولیو! آئندہ گھر نہیں بلائیں گے۔ جاجاکر چائے بنا، باتیں سنو اس کی۔” اماں نے تیل کی بوتل بند کی اور اس کی سوچوں کا در کھول دیا۔
    ”کیا برائی تھی عدیل بھائی میں؟ پڑھے لکھے، ہینڈسم سے کزن تھے سعدیہ کے، بس ایک مڈل کلاس ہی برائی تھی۔ بس یہ مڈل کلاس انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔” وہ بوتل اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ اماں کو کیا پتا اس کے دل کا روگ، وہ تو اس کی ہم راز تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”اب دکھا بھی چک زوباریہ صبح سے ٹال رہی ہے۔” رمشا نے اسے کہنی ماری تھی جو کینٹین میں سموسا کھا رہی تھی۔
    ”صبر کرلے تھوڑا سا، ایک ہی موبائل ہے۔ کمیٹی ڈال کر خریدا ہے اماں نے۔ یہاں کسی Procter کے ہتھے چڑھ گیا تو واپس بھی نہیں ملنا۔” وہ اس کے کان میں منمنائی۔
    ”چلو باہر چلیں۔” باہر ایک سنسان گوشے میں آکر ا س نے موبائل آن کرکے تصویریں نکالیں۔
    ”اللہ! زوباریہ کتنی پیاری لگ رہی ہے اپنی سعدی۔”
    ”تو تو ایسے سعدی بول رہی ہے جیسے میری نہیں تیری کزن لگتی ہو۔” وہ جل کر بولی۔
    ”اچھا نا! ملی تو ہوں نا اتنی بار تیرے ساتھ کالج میں۔ جان پہچان ہے۔ پری لگ رہی ہے، میاں تو مر ہی گیا ہوگا دیکھ کر۔”
    ”اللہ کرے مر ہی جائے۔” وہ اور جل گئی۔
    ”ہائے کیسے بول رہی ہے، اس کا سہاگ ہے اب تو۔” رمشا نے منہ میں انگلی دبائی۔
    ”پتا تو ہے تجھے عدیل بھائی کو پسند کرتی تھی۔ تین بار رشتہ بھجوایا تھا لیکن سیٹھ ماموں نے اسی ڈر سے بی اے کے دوران ہی اس کی شادی کروا دی۔ سال تو ختم ہونے والا ہے پیپر تک رک جاتے مگر نہیں۔ زبردستی کی ہے۔” وہ اسے تفصیل بتارہی تھی۔
    ”اوہ! تب ہی میں کہوں اتنے میک اپ کے بعد بھی اُداسی چہرے پر تھی۔”
    ”چل چل ابھی تو بڑی پری لگ رہی تھی۔ اب اداس پری لگنے لگ گئی۔” وہ موبائل آف کرتے ہوئے بولی۔
    ”اچھا نا! اپنا موڈ تو صحیح کر۔”
    ”رمشا ایک بات بولوں؟ مجھے اپنی کلاس بہت اچھی لگتی ہے۔”
    ”لو اس میں اچھائی والی کون سی بات ہے؟” اس نے آنکھیں پھیلائیں۔
    ”دیکھ نا رمشا! بندہ اپنی مرضی کی زندگی تو گزارے۔ اپنی پسند نا پسند کا اختیار ہو۔ یہ سب سے اچھی کلاس ہے، مڈل کلاس۔ نہ امیر نہ غریب۔ ان کے پاس کبھی کبھی پیسے آجاتے ہیں تو اپنے شو ق پورے کرتے ہیں، گھر لینا گاڑی لینا وغیرہ وغیرہ مگر کبھی بھی امیر نہیں بن سکتے۔ ان کے لیول تک نہیں جاتے اور نہ ہی اتنے غریب ہوجاتے ہیں کہ فاقوں کی نوبت آئے۔ مگر بس ہر وقت اسی حال میں ہوتے ہیں کہ یا تو مقروض ہوتے ہیں یا کھینچ تان کر اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کررہے ہوتے ہیں۔”
    ”اس میں اچھائی والی کون سی بات ہے؟”
    ”دیکھ نا! اگر سعدیہ مڈل کلاس کی ہوتی تو اس کی شادی عدیل بھائی سے ہوجاتی۔” اس نے دلیل دی۔
    ”اور اگر عدیل امیر ہوتا تو بھی تو اس کی شادی سعدیہ سے ہوجاتی۔” رمشا نے جواب دیا۔
    ”لیکن کم از کم عدیل نے کوشش تو کی نا۔ اظہار تو کیا نا! سعدیہ کی طرح خاموشی اختیار نہیں کی۔” وہ بہ ضد تھی۔
    ”مڈل کلاس میں بھی شریف لڑکیاں کھل کر پسند کااظہار نہیں کرتیں۔” رمشا بولی۔
    ”مگر مڈل کلاس…”
    ”ہر جگہ مڈل کلاس رکاوٹ نہیں ہوتی، کہیں کہیں بیچ میں نصیب بھی آجاتاہے، جو جس کا نصیب۔” رمشا کی بات پر وہ چپ ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    زوباریہ اپنے ماںباپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ابا کی گارمنٹس کی دکان تھی۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی زوباریہ کی واحد دوست رمشا ہی تھییا گھر میں اماں سے دوستی تھی۔
    وہ جس کالج میں پڑھتی تھی، وہ شہر کا سب سے اچھا گورنمنٹ کالج تھا۔ اس کا ایڈمیشن ادھر میرٹ پر ہوا تھا۔ فیس بھی کم تھی اور سارے شہر کی کریم ادھر ہی جمع ہوجاتی۔ سعدیہ نے بھی اپنا ایڈمیشن ادھر کروایا تھا۔ وہ زوباریہ سے ایک سال سینئر تھی۔ اب اس کا بی۔ اے ختم ہونے والا تھا۔ سعدیہ پڑھائی میں بہت اچھی نہیں تھی اور سیٹھ صاحب تو پرائیوٹ کالج کے حق میں تھے مگر سعدیہ کو بہت شوق تھا ادھر ایڈمیشن کااور میرٹ پر نام نہ آنے کی صورت میں انہوں نے پیسے دے کر اسپیشل سیٹ ارینج کرلی تھی۔ سیٹھ صاحب کی ٹیکسٹائل کی کئی ملیں تھیں مگر ان کے حصے میں کچھ غریب رشتے دار وراثت میں آگئے تھے جن کو وہ اکھاڑکر پھینک نہیں سکتے تھے۔ سو دور دور سے ہی سلام والا حال تھا۔ سعدیہ بھی کم گھلتی ملتی تھی مگر گھر پر ہونے والی ملاقاتوں میں ایک بار اس کے منہ سے عدیل کا ذکر نکل آیا اور وہ یہ راز زوباریہ کو بتا بیٹھی تھی۔ اس نے بھی اس راز کو راز ہی رکھا مگر سعدیہ اپنی محبت میں ناکام ہوگئی تھی جس کا غم زوباریہ کو بھی لگ گیا تھا اور وہ قصور وار صرف امارت کو ہی ٹھہرا رہی تھی۔
    ”زوباریہ تیرا اسپیچ میں اور ایمبرائیڈری میں پرائز ہے؟” رمشا نے تیزی سے آکر اس کے سامنے بریک ماری تھی اور اکھڑتی سانسوں سے بولی تھی۔
    ”ہاں ہے۔” اس نے بک سے سراٹھایا۔
    ”چل بھئی! فوٹو شوٹ کے لیے تیار ہوجا ہیرو کے ساتھ۔”
    ”کیا بکواس کررہی ہے؟ کون ہیرو؟” وہ منہ بناکر بولی۔
    ”ارے وہ رانا دلاور ہے نا نیا MNA، دیکھا ہے؟ وہ آرہا ہے annual prize distribution پر۔” وہ بہت ایکسائٹڈ تھی۔
    ”تو پرائز دینے آرہا ہے، سب لڑکیوں کو دے گا میں انوکھی ہوں کیا؟ میری طرف سے بھاڑ میں جائے۔ مجھے میرا کپ مل جائے بس۔ رانا سے ملے یا کسی اور سے مجھے مطلب نہیں۔” اُس نے بوریت سے کہا۔
    ”تجھے تو سدا سے امیروں سے چڑ ہے۔ ایسی کمال breaking news دی تھی میرا دل ہی توڑ دیا تو نے۔” رمشا نے منہ بنایا تو وہ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
    ٭…٭…٭




  • سراغِ زندگی — خدیجہ شہوار

    ”آج میں بھی تمہارے ساتھ ڈوب جاؤں گا، پھر میری کبھی سحر نہ ہو گی۔” اس نے آسمان پر چمکتے آفتاب کو سرخی مائل آنکھوں سے نمکین پانی بہاتے کہا تھا ۔سورج کی کرنیں ہر چیز کا سایہ زمین پر بنا رہی تھیں۔اس کا زمین پر پڑتا سایہ اس سے کہیں بڑا محسوس ہوتا تھا۔وہ ایک بائیس سالہ نوجوان تھا جس کے سیاہ گرد آلود بال پیشانی پر بکھرے تھے۔گرد سے اٹے بال اس کے لمبے سفر کا پتا دیتے تھے۔وہ پہاڑ کی بلند چوٹی کے آخری سرے پر نڈر کھڑاتھا۔ ا س نے برا ؤن لیدر جیکٹ اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے اپنے دائیں کندھے پر ڈال رکھی تھی۔اس کا دوسرا ہاتھ اس کی اسکن جینز کی فرنٹ جیب میں تھا۔
    ”آج ہم دونوں ایک جیسے ہیں۔تمہیں بھی ڈوب جانا ہے اور میں نے بھی ڈوب جانا ہے۔” وہ بے بس کھڑا درد بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ اس کی تھکی ماندی متورم آنکھوں کی روشنی مانند پڑ چکی تھی۔چہرے پر افسردگی کا پہرہ تھا۔وہ زندگی سے بے حد اکتایا ہوا تھا۔نجانے زندگی نے اس سے کیا چھینا تھا؟ اس نے کچھ سوچتے ہوئے جینز کی فرنٹ جیب سے نکالا۔
    ”مجھے زندگی سے نفرت ہے۔ ہاں… اس دنیا کی ہر چیز سے…نفرت ہے، نفرت ہے۔ ہاں نفرت ہے۔ کیا دیا اس زندگی نے؟زندگی میں کیا رکھا ہے؟کچھ بھی تو نہیں ہے۔” اس نے حلق میں اٹکے تھوک کو با مشکل نگلتے ہوئے بلند آواز میں کہا ۔شاید وہ اپنا دکھ اپنے اردگرد موجود ہوا، روشنی ،سورج کی کرنوں اور پتھروں کو سنانا چاہتا تھا یا شاید مرنے سے پہلے دل ہلکا کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے ایک قدم کے فاصلے پر موجود کھائی کو بے جان آنکھوں سے گھورا ۔اس کی آنکھیں اس کے مرنے سے پہلی ہی مر چکی تھیں۔
    وہ پہاڑ کے آخری سرے پر کھڑا اس بات سے باخبر تھا کہ اس کا معمولی سا پاؤں بھی اگر آگے کو پھسلا تو اس کی کہانی ختم ہو جائے گی۔ موت سے ملنے کے لیے اسے صرف ایک قدم بڑھانا تھا۔ اس کے سامنے کھائی اور پیچھے سنسنان جنگل تھا۔ اس کے اردگرد دور دور تک کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ بس وہ تھا اور تندو تیز ہوا کے روح کو چھید دینے والے پر اسرار جھٹکے تھے۔ وقفے وقفے سے کھائی میں پتھر ٹوٹ کر گرنے کی دہشت زدہ آواز اس کے درد کو بجائے بڑھانے کے تسکین دے رہی تھی۔وہ بھی ان بے جان پتھروں کی طرح سناٹے بھرتی کھائی میں گر جانا چاہتا تھا اور وہ اسی لیے وہاں موجود تھا۔





    وہ وہاں کھڑا دور پہاڑوں میں بنے راستوں پر وقفے وقفے سے گزرتی ٹریفک بھی دیکھ سکتا تھا، لیکن وہ ٹریفک اُس سے اس قدر دور تھی کہ کوئی چاہ کر بھی اس کی وہاں موجودگی کا سراغ نہیں لگا سکتا تھا۔
    ”کون ہے جو میرے لیے تڑپے؟ کون ہے جو مجھے یاد کرے؟ آخرمیں کیوں جی رہا ہوں؟ مجھے موت کیوں نہیں آجاتی۔” اس نے چیختے ہوئے اپنا سر پیچھے کی طرف جھٹکا۔ وہ خود کو مارنا چاہتا تھا۔ اسے زندگی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ کچھ تو تھا جو اسے زندگی سے بے زار کر گیا تھا، لیکن کون؟ انسان؟ کوئی جذبہ؟یا اس کی اپنی ہی سوچیں؟
    ”میرا وجودمیرے لیے باعث اذیت ہے، میری سانس مجھے چھوڑ کیوں نہیں جاتی۔” اس نے آنکھوں سے بے دھڑک آنسو بہاتے اور چیختے ہوئے کہا ۔بے بسی اس کے لہجے سے بے دھڑک چھلک رہی تھی۔
    I hate this life.I hate everything.I hate myself.I hate you.I hate you.
    اس نے ایک جھٹکے سے کندھے پر رکھی جیکٹ کو تلخی سے کھینچااور اگلے ہی لمحے وہ جیکٹ ہوا کے زور سے اڑتی ہوئی کھائی میں جا گری ۔وہ خاموش نظروں سے اُسے کھائی کی خاموشی میں گم ہوتا دیکھتا رہا ۔ لمحہ بھر میں وہ جیکٹ کہیں بھی نہیں تھی۔وہ یہ وحشت زدہ منظر دیکھ تو رہا تھا مگر محسوس کرنے سے قاصر تھا۔ شایدوہ جیکٹ کی طرح خود کو بھی ہمیشہ کے لیے آزاد کروانا چاہتا تھا اور اس کے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ بھی جیکٹ کی طرح کھائی میں گم ہو جائے۔
    ”آج کے بعد زندگی مجھ سے کبھی نہیں کھیلے گی۔آج سے میں، زندگی سے یہ حق چھین رہا ہوں۔ ہاں…نہیں کھیلے گی، اب اورنہیں کھیلے گی۔” اس نے گڑ گڑاتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔اس کے گڑگڑانے کی آواز نے جنگل کی خاموشی توڑ دی۔ نجانے اس کے اندر ایسا کیا احساس تھا جو اسے بلند آواز چیخنے پر مجبور کر رہا تھا۔اس کی ہولناک چیخیں پہاڑ کی چوٹی پر پھیل جاتیں، جنگل میں دور تک گونجتیں اور پھر ہوا میں تحلیل ہو جاتیں۔
    ”مجھے وہ کیوں نہیں ملا جو میں نے مانگا۔ یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں…یہ درد میرے حصے میں ہی کیوں؟” اس نے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائے بے بسی سے کہا۔ اسے آج سورج بھی ڈرا سہما حسرتوں سے لبریز لگا تھا بالکل اپنی طرح۔
    ”زندگی میری جھولی میں وہ سب ڈ ال دیتی جو میں نے مانگا تھا، تو اِس کا کیا جاتا۔” اس نے آہ بھر تے ہوئے سوچا۔ اس نے اپنے جسم میں ایک کپکپی محسوس کی جو بے بسی سے لبالب تھی۔ وہ خود کو کسی پنجرے میں جکڑا محسوس کر رہا تھا۔اس کا تنفس تیز اور پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوتے اور پھر بہ نکلتے۔
    ”آج کے بعد زندگی کو دکھ دینے کے لیے کسی اور کی راہ تکنی ہوگی۔ میری دہلیز زندگی کے لیے بند ہونے کو ہے۔ بس اب اور نہیں۔ اس اذیت سے بچنے کا ایک ہی حل ہے۔” اس کے دماغ پر ایک زبردست بوجھ تھا۔ اسے اپنے سر پر ہتھوڑے برستے محسوس ہوئے ۔اس کی سوجھی ہوئی آنکھیں ایک بار پھر کھائی پر ٹک گئی تھیں ۔ اس نے آگے کی طرف اپنے پاؤں کھسکائے۔ توایک پتھراس کے پاؤں سے ٹکرا کر تاریک کھائی میں جا گرا۔ اس نے ٹھہری آنکھوں سے وہ پتھر گہری کھائی میں گرتا دیکھا۔اس نے یک لخت بے بسی سے اپنی آنکھیں زور سے بھینچیں۔ اس نے حلق میں کب سے اٹکی ہچکی باہر نکالی جیسے وہ اس کی آخری ہچکی ہو۔ صرف ایک جھٹکا باقی تھا جو اسے موت کو گلے لگانے کے لیے کافی تھا۔اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔وہ زندگی کو الوداع کہنے ہی والا تھاکہ…
    شکاری کتوں کے بھونکنے کی دہشت زدہ آوازوں نے جنگل کا سناٹا توڑا ۔اس نے آنکھیں کھولے بے ساختہ پلٹ کر جنگل کی طرف دیکھا ۔کتوں کی ہولناک آوازوں نے بھی اس کے رونگٹے کھڑے نہیں کیے تھے۔ وہ موت کودل سے مان چکا تھا اور جو مر چکا ہو اسے ڈر کیسا؟ وہ زندہ تھا مگر زندہ کہاں تھا؟ کتوں کے بھونکنے کی آواز دور جاتی محسوس ہوئی۔اس نے تیز تیز سانس لیتے ہوئے پھر سے کھائی کو گھورا۔کھائی کی سیاہی اندر ہی اندر مدغم ہوتی گئی اور ماضی کی ایک یاد ابھر آئی۔ ایک موہنی سی صورت فضا میں نظر آنے لگی۔اس کا دل ماضی کی یادوں میں جلنے اوردماغ ہچکولے کھانے لگا۔
    ”میرے ہوتے ہوئے تم کبھی نہیں مر سکتے۔میں تمہیں مرنے ہی نہیں دوں گی۔تم میری زندگی ہو۔” یہی کہا تھا نا تم نے…” وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں اس موہنی سی صورت کو دیکھتے ہوئے چلایا۔وہ لاشعوری دنیا کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا۔
    ”کہاں ہو اب؟ میری بربادی کیوں نہیں دیکھتی؟ مجھے مرتا دیکھو… دیکھو میں مر رہا ہوں۔ میری زندگی کے دن گنے جاچکے ۔اب تم کہاں ہو؟” وہ متواتر چلاتا رہا۔ پہاڑپر موجود دہشت زدہ خاموشی ایک بار پھر اس کی درد بھری چیخوں سے ٹوٹ گئی تھی۔
    ”مجھے مرتادیکھو…مجھے مار کر کہاں چل دی تم؟ آؤ مجھے چپ چاپ مرتا دیکھو۔ اب کہاں ہو تم…تم دیکھتی کیوں نہیں؟” اس کا وجود کسی غیر مرئی قوت نے گھیر رکھا تھا۔وہ اپنی بد حواسیوں میں گھرا چلا رہا تھا۔
    ”ایک بار تو آؤ بس ایک بار … ایک…بار… آکر میری حالت تو دیکھو۔” اس نے اپنا دایاں ہاتھ پیشانی پر زور سے مارتے ہوئے بے بسی سے سر کو پیچھے کی جانب جھٹکا ۔اس کی نظریں بار بار کھائی کی طرف جا رہی تھیں۔ جیسے اس کی اذیت کا ایک ہی حل ہو اور وہ تھا موت…
    ”تم پر میں اپنی ساری زندگی ۔۔نثار کرتی ہوں ۔ تم میری، زندگی ہو۔”
    ”تمہارے بغیرمیں…کچھ بھی نہیں۔”
    ”تم …میری …محبت ہو…میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑسکتی۔ یہی کہا تھا تم نے۔” مجھے سب یاد ہے۔ ہاںیاد ہے۔ پھرتم مجھے ۔ کیسے چھوڑ گئی؟’ ‘وہ لاشعوری طور پر سوچوں کے جہاں میں لڑکھڑاتا ہوا کبھی گرتا کبھی سنبھل جاتا۔ اس کے دماغ میں یادوں کا طوفان ہچکولے کھا رہا تھا۔نجانے کس کی یادیں تھیں جو اسے جیتے جی مار گئی تھیں۔
    ”تم میری آخری…محبت…میں مر جاؤں۔۔گی تمہارے بغیر سب جھوٹ تھا۔ جھوٹی…جھوٹی…تم جھوٹی ہو۔ تم…جھوٹی…ہاں تم نے جھوٹ بولا۔ تم جھوٹی ہو۔” وہ بلا توقف چلارہا تھا۔ پھر یک لحظہ خاموش ہو گیا۔اسے لگاوہ موہنی سی صورت اس پر ہنس رہی ہے۔ اس کے جذبوں کا مذاق اُڑا رہی ہے، اس کی قیمت لگا رہی ہے۔ اس نے الجھ کر سر جھٹک دیا اور بھیگی آنکھوں سے دوبارہ کھائی کو گھورا جو اسے اس اذیت سے چھٹکا را دلا سکتی تھی۔وہ گہری کھائی اس کی آخری امید تھی۔ اس نے آنکھیں بھینچتے ہوئے ہاتھ کی مٹھیاں دبوچیں ۔اس کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہوا۔ سانس چھوٹی اور تیز ہو گئی۔ دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔
    ٭…٭…٭




  • لیکھ — عطیہ خالد

    لیکھ — عطیہ خالد

    دھرتی کے سینے پر’کچھ جھولیاں بھر کر بھی’ الٹی پڑی ہوتی ہیں۔ لیکھ کی لکیریں’ نیت کی سیاہی سے’ بڑا انت مچاتی ہیں۔۔انت کی سیاہی سے پہلے لیکھ کی سیاہی اور سفیدی سے پرے ابھی کچھ اور رنگ بھی تھے۔مخملیں ،عنابی ،ہرے اور سنہرے…دسمبر کا پالا … اورکڑاکے کی سردی تھی۔ ایسے میں اس کی د وستی گاؤں کے چولہوں کے ادھ جلے کوئلوں کی طرح’ بڑا سکھ دیتی تھی۔ اس کی آوازیں جو کبھی جھنکار تھیں’ اب بڑا واویلا کرتی تھیں۔سونی راتوں میں ہواؤں کے سنگ سنگ ڈولتی اس کی گمشدہ آواز بڑا شور مچاتی تھی۔ کبھی پراندے کو گھما گھما کر جب وہ آنکھیں مٹکا کر باتیں کرتی، تو بڑی سوہنی لگتی تھی” سوہنی۔”
    ” بڑا سجتی ہے تو میرے ساتھ۔”مختار اس کی نظر پہلے اتارتی تھی ‘ اتراتی بعد میں تھی۔
    ”جان پر جان وار دوں اور انکار نہ کروں سچی۔” مختار نظر اتارتی’ وہ جان وار دینے کو ہوتی۔
    دونوں کے سہلاپے کو اگر کوئی مثال دی جا سکتی، تو وہ چاند اور سورج کی تھی۔دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھیں۔ ایک پل بھی دونوں کا ایک دوسری کے بنا گزارا نہیں تھا۔ تھیں بھی دونوں رج کے سوہنی ۔پورے گاؤں میں ان جیسی کوئی دوسری لڑکی نہیں تھی۔ الگ الگ ماؤں کے پیٹوں میں پل کر بھی ان کا رنگ روپ ،قد بت ،لمبے سیاہ بال ،بہت کچھ ایک جیسا تھااور ایسا تھا کہ پہلی نظر ڈالنے والا نظر ہٹانی بھول جاتا اور جو ہٹا لیتا وہ دوسری ،تیسری اور چوتھی نظر ڈالنے پر خود کو مجبور پاتا۔ مرد تو مرد عورتوں کا بھی یہی حال تھا۔آدھے گاؤں کی لڑکیاں رشک میں مبتلا تھیں تو بقایا حسد میں مری جاتی تھیں۔
    دونوں کے گھر کی درمیانی دیوار سانجھی تھی، لیکن انہیں دیوار سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ دونوں میں سگی بہنوں سے بڑھ کر پیار تھا۔ سارا دن دونوں ساتھ ساتھ گزارتیں ۔اور ساری رات جیسے ایک دوسرے کے کانوں میں سندیسے بھیجتی رہتیں۔ صبح سورج کے کواڑ کھٹکھٹاتے ہی اٹھ بیٹھتیں اور دیوار میں بنائے موکھے سے جھانک کرباتیں کرنے لگتیں۔ مائیں جو بھی کام بتاتیں جلد جلد نپٹا کر پھر موکھے کے قریب آکھڑی ہوتیں۔سارے کام ختم ہوجاتے، تو گاگریں لے کر نہر کنارے ٹیوب ویل پر ٹھنڈا پانی بھرنے چل پڑتیں۔سوہنی کے رشتے آنے شروع ہو گئے تھے ۔جب کہ مختار کا نکاح بہت کم عمری میں اپنے خالہ زاد رستم علی سے ہو گیا تھا جو اپنے خاندان کے سیلاب میں بہ جانے کے بعد انہی کے ساتھ رہتا تھا۔ بڑا خوبصورت گھبرو جوان تھا رستم اوپر سے سولہویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ مختار کو تو بڑی تسلی تھی کہ اس کا بیاہ ہو بھی جاتا، تو اس کو اسی گھر میں رہنا تھا البتہ سوہنی کے لیے وہ بڑی پریشان ہوتی کہ نجانے اس کا سنجوگ کہاں لکھا تھا۔دونوں کا دل ایک دوسری سے بچھڑنے کے خیال سے گھبراتا تھا۔
    اس دن بھی دونوں گاگریں بھرنے کے بعداس قسم کی باتیں کر رہی تھیں۔ سوہنی کے لیے کسی دور کے گاؤں کے زمینداروں کے گھر سے رشتہ آیا تھا۔اس کی اماں کو رشتہ پسند آیا تھا۔بس دوری کے خیال سے ڈانواں ڈول ہو رہی تھیں دونوں۔ واپسی کے لیے انہوں نے گاگریں اٹھائیں ہی تھیں کہ شہر سے لوٹتا ہوا پیاس سے بے حال رستم علی ان کی طرف آگیا۔





    ”پیاسے کو پانی پلا دو کڑیو۔”اس نے مختار پر نظریں جمائے جمائے کہا۔ مختار تو شرما کر سوہنی کے پیچھے ہو گئی ۔سوہنی نے اپنی گاگر سے پانی رستم کی اوک میں گرانا شروع کیا۔دھوپ سے اس کا چہرہ لال سوہا ہو رہا تھا۔سر جھکائے رستم پانی پی رہا تھا اور پیاس جیسے سوہنی کی بجھ رہی تھی۔ کچھ ایسا فسوں تھا اس گھڑی میں جس نے سوہنی کے دل کی کیفیت بدل دی ۔تپتی دھوپ اس کے لیے ٹھنڈی میٹھی چھاؤں بن گئی،من میں گھنٹیاں سی بجنے لگیں تھیں۔
    رستم نے جب پانی پی کر سر اٹھانا چاہا، تو سوہنی نے شرارت سے پوری گاگر اس پر الٹا دی اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔ سوہنی کی قل قل کرتی ہنسی بھی ساتھ شامل ہوگئی ۔تینوں ہنستے ہنستے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ بوڑھے وقت نے سوہنی کی پوری کی پوری بدلی چال کو دیکھا اور افسردگی سے مسکرا دیا۔
    سوہنی کے دل میں رستم کی چاہ جاگ گئی تھی۔اس رستم کی چاہ جو کسی بھی حال میں اس کا نہیں ہوسکتاتھا۔ چاہے اس کی جان جاتی چاہے دل۔ رستم جو مختار کی امانت تھا اور سوہنی کا دل اس امانت میں کسی بھی قسم کی خیانت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ کبھی اسے خیال آبھی جاتا کہ کیا ہے اس جھلی مختار کے پاس جو سوہنی کے پاس نہیں تھا۔تو وہ اپنے کلے پیٹ ڈالتی، توبہ تلا کرتی۔ اگر مختار سچے دل سے اس پر فدا تھی تو سوہنی بھی اس سے رج کے محبت کرتی تھی ۔صورت تو دونوں کی ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔ ہاں مختار جھلی تھی۔ سوہنی کو اور مختار کو ان کی ماؤں نے ایک ساتھ گھر داری ،سلائی کڑھائی سکھانی شروع کی تھی۔سوہنی تو دنوں میں طاق ہوگئی لیکن مختار ٹھس کی ٹھس رہی۔ وہ آٹا گوندھتی تو گیلا کر دیتی، روٹیاں بناتی تو جلا دیتی، کپڑے دھونے بیٹھتی تو خود گیلی ہوجاتی پوری کی پوری اور ہنڈیا بھوننا تو اسے بالکل نہیں آیا تھا۔ سلائی کڑھائی میں بھی اس کا یہی حال تھا۔ کوئی ٹانکا سیدھا تو کیا لگتا البتہ سوئی چبھ چبھ کر انگلیاں زخمی ہو جاتیں، لیکن سارا جھل پن ایک طرف اور اس کا سونے جیسا دل ایک طرف ۔وہ اندر سے بڑی خالص تھی ۔بڑا نتھرا ستھرا قالب تھا اس کا ۔حسد ،جلن جیسی چیزوں کو تو وہ پہچانتی تک نہ تھی۔بس دل سے محبت کرتی تھی وہ سوہنی سے اس کی اماں سے ،اپنی ماں پر تو وہ ساری جان سے قربان تھی اور رستم وہ تو اس کا محبوب شوہر تھا جس کی سانسوں سے اس کی سانس کی ڈور بندھی تھی۔
    ایسی جھلی مختار کا مقدر کتنا تیز تھا۔ رستم جیسا بانکا سجیلا جوان اس کا تھا جو دو تین سال گزرتے تو بڑا افسر لگ جاتا ۔مختار کے تو مزے ہو جانے تھے ۔اب دن رات سوہنی کی ماں یہ سوچتی اور ہوکے بھرتی اور اس کی اماں کے دل میں رستم کو داماد بنانے کی چاہ کب سے تھی اس کی سوہنی کو کچھ خبر نہ تھی۔ نہ ہی اس بات کی خبر تھی کہ اس کی اماں ہر وقت رستم کا رخ سوہنی کی طرف پھیرنے کے جتنوں میں لگی رہتی تھی۔
    ہر گزرتے دن کے ساتھ سوہنی کی طلب میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن اس نے ضبط کے کڑے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ ساری بے چینیوں بے قراریوں کو تھپک تھپک کر سلا رکھا تھا، توادھر اس کی اماں کا دماغ ترکیبیں لڑانے میں لگا تھا۔
    رستم کو وہ روزانہ ہی کسی بہانے گھر بلا لیتی یا پھر سوہنی کے ہاتھ کی پکی کوئی چیز لے کر اس کے دسترخوان پر چن دیتی تھی۔ بظاہر ہنس ہنس کر مختار کے پھوہڑ پنے کے قصے رستم کو سناتی۔ وہ ایسی باتیں سن کر ایسے ہنستا جیسے کوئی بہت لاڈلے بچے ک
    ی شرارتوں پر ہنستا ہو۔اور سوہنی کی ماں نئے سرے سے سوہنی کے سلیقے اور ہنر گنوانے لگتیں۔ کبھی سوہنی کے ہاتھ کے کڑھے کرتے اسے پیش کرتی جو وہ بڑی خوشدلی سے پہن کر مختار کی طرف یوں دیکھتا جیسے پوچھتا ہو، کیوں جچ رہا ہے نا تمہارا رستم! اور سوہنی کو ایک پھیکے شکریے کے سوا کچھ نہ ملتا۔ ایک بھرپور نگاہ تک نہیں، البتہ مختار سوہنی کی جی بھر کے شکرگزار ہوتی۔ اس کی تعریفیں کرتی کہ وہ اس کے رستم کے لیے کتنی محنت کرتی تھی، لیکن نہ اماں ہمت ہارتی نہ ہی سوہنی۔ خصوصاً اب جب کہ اماں نے سوہنی کی نظروں کو رستم کا طواف کرتے دیکھ لیا تھا اور اس دن سے جیسے اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ رستم کو سوہنی کا بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
    ادھر رستم نے افسری کا امتحان پاس کیا ادھر مختار کی ماں کو دل کا دورہ پڑا۔ بس تین دن ملک الموت سے جیسے مستعارلے کر اماں نے رستم اور مختار کی شادی کی رسم ادا کی اور اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ مرتے ہوئے وہ بڑی پرسکوں تھی کہ بیٹی کو گھر بار والا کر دیا تھا۔ مختار ماں کے غم سے نڈھال پڑی تھی جب سوہنی اور اس کی اماں نے حق دوستی ادا کردیا۔ نیتوں کے بھید تو وہی جانتا ہے، مگربظاہر تو ان دونوں نے کمال کر دیا تھا۔ سوہنی تینوں وقت ان کو کھانا پہنچاتی۔ اصرار کر کر کے کھلاتی ،گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ۔سارا گھر سوہنی کے سلیقے کا اعلان کرتا جگر جگر کرتا۔ اب اماں کو گزرے مہینہ ہو گیا تھا۔




  • خود غرض — ماہ وش طالب

    وہ ایک وسیع قبرستان تھا اور قبروں کا حجم غیرمعمولی حد تک چھوٹا تھا۔ قبروں کے ارد گرد اور درمیان میں خود روجھاڑیوں نے اُسے مزید پراسرار بنا دیا تھا جیسے آدم زاد کو یہاں سے گزرے مدت بیت گئی ہو۔ قبرستان کے دائیں جانب ذرا فاصلے پر خستہ حال گرجا گھر تھا جس کے عین وسط میں استادہ دیو قامت جامن کا درخت کسی اور دیس کی کہانیاں سنا رہا تھا۔ سوکھے پتوں سے سرکتی تیز ہوا خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی اور دور کہیں وقفے وقفے سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں تھرا دینے والی تھیں۔ ایک جگہ چار پانچ قبریں جو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھیں اُن میں سے ایک نسبتاً بڑی قبر کے سرہانے ایک عورت بیٹھی گریہ و زاری کررہی تھی۔ وہ غلیظ بدبو دار عورت جسے روتے دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی۔ پھر ایک سیاہ بلی دم ہلاتی قبرستان میں داخل ہوئی اور دوسری لحد کے سرے پر جاکر بیٹھ گئی۔ بلی کی چمکتی سبز آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ منظر بدل گیا اور قبرستان کی جگہ کسی کھلے میدان نے لے لی جس کے احاطے میں بے شمار سبزیاں اور خوش رنگ پھول کھلے تھے۔ پھر اچانک اس باغیچہ نما جگہ پر کچھ بچے جن میں دو آٹھ سالہ لڑکیاں اور تین نو دس سال کے لڑکے تھے، نمودار ہوئے۔
    اونچ نیچ کا پہاڑ
    سات موتیوں کا ہار
    پانچ بچے گول دائرہ بناکر کھڑے تھے اور انہی میں سے ایک نسبتاً لمبا اوردبلا بچہ انگلی کے اشارے سے سب کو پگا رہا تھا۔ پھر منظر بدلا۔ وہی خوش شکل اور خوش لباس بچے اس چوکور سے احاطے میں مسکراتے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں طرف بھاگ رہے تھے۔ منظر نے ایک اور رنگ بدلا۔ اب وہی بچے چھپن چھپائی کھیل رہے تھے اور میدان کے وسط میں بنے ایک پختہ کمرے کے کونوں سے ظاہر ہو ہوکر ایک دوسرے کو ہا ہا کر رہے تھے۔ وہ کمرا باہر سے زنگ آلود تالے سے مقفل تھا جس کا لوہے کا دروازہ بھی اپنا اصل رنگ کھو چکا تھا۔ اچانک اسی منظر میں ایک دبلی پتلی خاتون ظاہر ہوئی۔ اس نے کالے رنگ کا چغہ پہن رکھا تھا۔ گہرے رنگ سے غلاظت ٹپکتی تھی اور گلے میں تین چارنارنجی، ہرے اور سیاہ رنگ کے منکے لٹک رہے تھے۔ چغے کا گلا اتنا گہرا تھا کہ ڈھلکتی چھاتیاں بھی نظرآتی تھیں۔ اس کے ہاتھوں میں ایک دو مومی لفافے تھے۔ جیسے ہی وہ عورت کیاریوں سے راستہ بناتی دروازے تک پہنچی، بچے سہم کر احاطے سے نکلنے لگے۔ اب وہ ڈراؤنی عورت گریبان کے ساتھ چِپکی پوٹلی سے چابی نکالنے لگی۔ کچھ لمحوں بعد جھٹکے سے دروازہ کھلا۔ اس عورت کے اندر آنے سے لے کر کمرے میں نانی کے پاس بیٹھنے تک میرے ذہن میں یہ کھٹ پٹ چلتی رہی کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ مگر کہاں ؟ یہ سوچنے کی اتنی ضرورت بھی نہ تھی اور نہ ہی وقت تھا کہ ابھی نائمہ کو سوال نامہ بھی بنا کر دینا تھا۔ ایک ہفتے بعد اس کے دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ سو اسی لیے میں شام کو اسے لے کر بیٹھ جاتی۔ کچھ دیر پہلے داخلی دروازے پر دستک ہوئی اور دروازہ میں نے ہی کھولا تھا۔




    ”تمہاری نانی ہے گھر پر؟” جب وہ بولی تو مجھے گمان ہوا یہ لہجہ پہلے بھی کہیں سن رکھا ہے۔
    اس کی بولی اس علاقے سے میل نہ کھاتی تھی۔ خیر نانی کے ”کون ہے” پکارنے پر میں نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا اور خود ساتھ والے کمرے میں چلی گئی جہاں نائمہ جنرل سائنس کے رٹے لگا رہی تھی۔ میرے بے حد اصرار بلکہ سمجھانے کے باوجود اس کوڑھ مغز نے آگے بائیو نہ رکھی تھی۔ کچھ نانا بھی زور زبردستی کے قائل نہ تھے لہٰذا میں بھی زیادہ دلائل نہ دے سکی تھی۔
    نائمہ میری چھوٹی کزن اور ماموں کی بیٹی تھی۔ ماموں کے انتقال کے بعد ممانی نے اپنی بیٹی کو چھوڑ کر دوسری شادی رچانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ لہٰذا پہلے میں اور پھر نائمہ اپنے نانا نانی کے سہارے خود ان ہی کا سہارا بن گئے تھے۔ بات کتنی عجیب تھی نا، پر تھی تو سہی کیا کریں ۔ سرد آہ خارج کرکے میں نے نائمہ کی کتاب اور کاپی گھٹنوں پر رکھ لی۔
    سردی کے باوجود آج فضا میں گھٹن گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ نہ کھل کر دھوپ لگتی تھی نہ ہی دھند نے غلاف چڑھائے ہوئے تھے۔ نانا اس وقت اپنے دوست کے یہاں گئے تھے اور نانی تخت والے کمرے میں اون سلائیاں سنبھالے نجی ٹی وی چینل پر انتہائی فضول ڈراما دیکھنے میں مصروف تھیں۔ اس گرد آلود فضا کی زد میں آنے سے خود کو بچانے کے لیے میں نے بھی فی الفور کڑک چائے کا ایک کپ تیار کیا اور کمرے کی کھڑکی سے کھلے صحن میں جھانکنے لگی۔ آج چھٹی تھی لہٰذا بہرام کوسوچنے کے لیے میرے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔ یہ الگ بات کہ مصروفیت کے انتہائی لمحات میں بھی اس کاخیال کسی نیورون کی طرح میرے ذہن میں زندہ رہتا تھا۔
    ”اب یہ بہرام کون تھا؟”
    ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد مجھے نجی ادارے سے منسلک ہوئے دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ جب ایک خوش شکل اور خوش اطوار لڑکا ہماری کمپنی میں آیا۔ مجھ سمیت میری کولیگز بھی خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوئے بنا نہ رہ سکیں کہ مجسمہ سازی جیسی فیلڈ کا رُخ زیادہ تر گاؤں دیہات کے دبو اورکسی حد تک بدذوق لڑکے ہی کرتے تھے۔ پھر میٹنگ میں ابتدائی تعارف کے دوران معلوم ہوا کہ موصوف نا صرف اس شعبے کے ڈگری ہولڈر ہیں بلکہ دو تین آن لائن اضافی کورسز بھی کر رکھے ہیں۔ اپنی ساتھیوں کے سامنے کیے گئے میرے اس تبصرے میں حسد کی ذرا سی بو تھی۔ پھر جب گاہ بہ گاہ انہیں بہرام نامی شہزادے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دیکھتی تو حلق تک کڑوا ہوجاتا کہ ایک تو خوب صورت اوپر سے اتنا ایٹی ٹیوڈ، اپنے کام سے کام رکھنے والا، محنتی اور ذمہ دار۔ بات اتنی غیر معمولی تو نہ تھی پر وہ مجھے یعنی قمروش آفاقی کو بھی نظرانداز کرتا رہا۔ یہ بات کسی صورت ہضم ہونے میں نہیں آرہی تھی کہ جسے ایک دنیا تو نہیں مگر زمانہ طالبِ علمی میں ایک دو ہم جماعت اور حالیہ نوکری کے دوران بھی اسی ریشو سے کولیگ چاہنے لگے تھے۔ اسے یہ بہرام نامی شہزادہ کیوں نہ دیکھ سکا۔ اس کا نام بھی تو اس کی شخصیت کے بالکل مترادف تھا ۔ میرے ساتھ بھی تو یہی معاملہ ہوا۔ خود کو بے پروا، بے نیاز ظاہر کرتے کرتے نہ جانے کب اور کیسے وہ میرے دل پر قابض ہوگیا۔ شاید تب، جب پہلی بار سب کی مداخلت کے باوجود اسے سپورٹ کرنے پر وہ بہ طورِ خاص میرا شکریہ ادا کرنے میرے کیبن میں آیا تھا اور مجھے کافی کی پیشکش کی تھی یا شاید تب جب نانا کی طبیعت خراب ہوجانے پر مجھے ایمرجنسی چھٹی لینی پڑی تھی تو اس نے ناصرف میری درخوست منظور کروالی بلکہ میری طرف سے اس دن کا سارا کام بھی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروا دیا۔ مگر میں اس کی منظورِ نظر کیوں کر ٹھہری؟ شاید اس کی طرف بھی ایسے ہی کچھ واقعات ذمہ دار ٹھہرے ہوں گے۔
    گو کہنے کو یہ تعلق ضرورت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا مگر شاید اس خوبصورت ناریل کے پانی کی طرح تازہ دم کردینے والے جذبے کو یوں ہی قائم ہونا تھا۔ یوں بھی گزرتے وقت کے ساتھ احساس اور اعتبار ایسے بیل بوٹے اس محبت کو مزید دلکش تو بناہی رہے تھے۔ بہرام فطرتاً تنہائی پسند تھا، اس بات کا اندازہ بھی مجھ سمیت دیگر اسٹاف کو اچھی طرح ہوگیا۔ جب وہ دو ٹوک انداز میں کولیگز کے ساتھ لنچ یا آؤٹنگ میں جانے سے انکار کردیتا۔ اسے اپنے گرد جمگھٹا بالکل پسند نہ تھا۔ یہ بات بھی سچ تھی کہ وہ میرے ساتھ چلتے۔ اس ڈیڑھ سالہ ریلشن شپ میں بھی بہ مشکل تین بار ہی ڈنر پر گیا تھا۔ اسے جو بات کرنی ہوتی، خاص یا عام، وہ سب کے سامنے میرے کیبن میں آتا تھا۔ کوئی پوچھتا تو ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کرتا کہ قمروش آفاقی اس کی زندگی میں بے حد اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ خیال ہی کتنا مغرور کردینے والا ہے نا کہ دنیا ہے اس کے پیچھے، لیکن وہ میرے پیچھے۔ چہرے پر آئی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوئے میں نے چائے کی چسکی بھری تھی۔
    ٭…٭…٭
    ہفتے بھر بعد وہ خاتون پھر نانی کے تخت پر براجمان تھی۔ گہرا رنگ، دبلا سراپا مگر بڑی بڑی آنکھیں جنہیں سرمے کی سلائیوں سے خوب بھرا گیا تھا۔ آج پھر اسے دیکھ کر ذہن میں ایک شبیہہ لہرائی مگر دھند میں لپٹی ہوئی اتنی دھندلی کہ نانی کے کہنے پر جب تک میں نے چائے بنا کر ان کے سامنے پیش کی تو وہ بھی شاید چینی کی طرح گھل کر غائب ہوچکی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے کمرے میں ٹھہرنے تک بہ جائے اس کے وہ براہِ راست مجھ سے کچھ پوچھتی، عجیب سی نظروں سے وہ میرا جائزہ لیتی رہی۔ نائمہ کا ایوننگ شفٹ کا پرچہ تھا لہٰذا وہ بھی گھر پر نہ تھی کہ اس سے کچھ کہہ سن لیتی لیکن میرے دل میں خواہش ابھری کہ میں دوبارہ کبھی اس عورت کو نہ دیکھوں۔ مگر کچھ دعائیں شاید قبولیت کے درجے پر فائز ہونے کے لیے نہیں نکلتیں یا یوں کہنا چاہیے کہ کچھ دعائیں ٹھیک نشانے پر نہیں لگتیں۔ وہ آر پار ہو کر آپ کو کسی نہ کسی صورت کم یا زیادہ فائدہ تو دے جاتی ہیں مگر نشانہ چوک جانے کا دکھ بہرحال رہتا ہے۔ مجھے دفتر سے آئے کچھ وقت ہی گزرا تھا لہٰذا تازہ دم ہونے کی غرض سے غسل خانے چلی گئی۔
    ٭…٭…٭




  • لبِ بام — باذلہ سردار

    ناجیہ صبح صبح نجویٰ کے کمرے میں آئیں۔ ایک پیار بھری نظرسے سوئی ہوئی نجویٰ کو دیکھا۔ اُس کے ماتھے پے بوسا دیا۔ وہ ہمیشہ نجویٰ کو ایسے ہی جگایا کرتی تھیں۔ ماں کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔ بے لوث بے غرض۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی انہوں نے کاسنی رنگ کے پردے کھڑکی سے سرکا دیے تھے اور نجویٰ اُٹھ کے مسکراتی ہوئی ماں کے گلے لگ گئی تھی۔
    ”نجویٰ میری جان نماز پڑھ کے نیچے آجانااکٹھے ناشتا کریں گے اور اپنے لیے نیک نصیب کی دعا ضرور کرنا۔”نجویٰ نے ا ثبات میں سر ہلادیا، ناجیہ یہ سب کہہ کے نیچے چلی گئیں۔
    نجویٰ نے اپنا دُوپٹا اُٹھایا،وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔ پھر جائے نماز پے بیٹھے ہوئے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔
    ” اے میرے پیارے ربّ تو دلوں کے حال جانتا ہے، تجھ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ میرا ظاہر،باطن سب عیاں ہے۔ میری اُمیدیں، اُمنگیں بھی تیری پاک ذات کے سامنے ہیں۔ تیری قدرت سے بڑا کچھ نہیں ہے۔ میں تیری نادان سی بندی ہوں۔ میرے تو نام کا مطلب ہی محبت کی چاہ کرنا ہے۔ مجھے اگر ایک ایسے انسان کی محبت میں مبتلا کیا ہے، تو اُس میں بھی تیری مصلحت ہو گی۔ اُسے میرا نصیب بنا دے ۔آمین ثم آمین۔”
    دعا ختم کرنے کے بعد نجویٰ نے دونوں ہاتھوں پے پھونک مار کے اپنے شفاف چہرے پے پھیرے اور حسبِ معمول اپنا سیل فون دیکھا اُس کی اسکرین پے مجتبیٰ کا میسج چمک رہا تھا۔
    Good Morning Beautiful
    وہ مُسکرائی اور میسج ٹا ئپ کیا۔
    ”تمہیں کیسے پتا کہ میں Beautiful ہوں۔ہمیشہ یہی کہتے ہو۔”
    کچھ لمحے گزرنے کے بعد میسج آیا۔





    ” میری Imaginations بہت Strong ہیں۔ میں تخیل کی نظروںسے دیکھ سکتا ہوں کہ تم کتنی خوبصورت ہو۔ جب صبح تم اٹھتی ہو اور اپنے بکھرے بال سمیٹتی ہو گی، تو جیسے رات کی تاریکی دن کی سفیدی میں گُم ہو جاتی ہے اور اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔ تمہارا چہرہ بھی زلفوں کو سمیٹنے سے اور حسین ہو جاتا ہو گا۔”
    نجویٰ مسکرائی اور میسج کیا۔
    ”مجھے ایک شعر تو بھیج دو روز کی طرح خوبصورت سا۔ ویسے تو باتیں بھی شاعرانہ کرتے ہو گماں ہوتا ہے کہ مجھے دیکھا ہے تم نے”
    دوسری طرف سے پیغام آیا۔
    کیا پتا دیکھا ہو؟ناٹی سمائلی سے میسج موبائل کی اسکرین پے چمکا تھا۔
    آج ہم نے تمام حُسن ِبہار ایک برگِ گُلاب میں دیکھا
    فُرصتِ موسم نِشاط نہ پوُچھ جیسے اِک خواب، خواب میں دیکھا
    ”خوش اب! ہے نا خوبصورت ”مجتبیٰ نے کہا۔
    نجویٰ مُسکرائی زیرِلب شعر دہرایااور میسج ٹائپ کیا۔
    ”شکریہ جناب۔”
    دوسری طرف سے میسج آیا۔
    ”My Pleasure Lady”
    ”اچھا پھر بات ہو گی مجھے کالج جانا ہے اللہ حافظ۔” نجویٰ نے مجتبیٰ کو میسج کیا اور فون رکھ کے شاور لینے چلی گئی۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی تھی پہلے شاعری کی فرمائش کرتی پھرمجتبیٰ کا شکریہ ادا کرتی۔
    نجویٰ نے شاور لیا ،اپنے بال تولیے سے خشک کیے، یونیفارم پہنا، آنکھوں میں کاجل لگایا۔ اُس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں موٹی موٹی کالی آنکھیں۔ پلکیں بہت گھنی اور لمبی تھیں وہ کبھی پلکیں جھکاتی کبھی اُٹھاتی اور آئینہ دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پے مُسکراہٹ آجاتی۔ وہ روزبہت اہتمام سے تیار ہوتی تھی حالاں کہ ابھی اٹھارہ برس کی بھی نہیں ہوئی تھی اور پڑھتی بھی گورنمنٹ کالج میں تھی۔ اکثر گورنمنٹ کالج میں لڑکیاں سادگی سے رہتی ہیں، لیکن نجویٰ بہت شوخ چنچل سی لڑکی تھی اور ہمیشہ ہلکی سی چین جس پے اُس کا نام کنندہ تھا ،نازک سی بالیاں، ایک عقیق سے جڑی ہوئی پیاری سی انگوٹھی اور گولائی میں سفید نگوں سے جڑی ہوئی سلور گھڑی پہنی ہوتی تھی۔ وہ ان سب چیزوں کے بغیر خود کو ادھورا تصور کرتی تھی اس لیے ہمیشہ پہنتی تھی۔
    اچھے سے تیار ہو کے نجویٰ گنگناتے ہوئے آہستگی سے سیڑھیاں اُترتے نیچے ڈرائنگ روم میں آئی وہاں میجر مدثر اخبار پڑھ رہے تھے۔ نجویٰ نے میجر صاحب کے گلے لگتے ہوئے بلند آواز میں سلام لیا۔
    ”السلام علیکم پاپا جان !”
    ”وعلیکم السلام! میری چندا تیار ہوگئی؟” میجر مدثر نے مسکراتے ہوئے شفقت سے پوچھا۔نجویٰ نے معصومیت سے جواب دیا۔
    ”آپ کی پڑھائی کے کیا حالات ہیں؟ تیاری کہاں تک پہنچی؟” میجر صاحب نے ناشتا کرتے ہوئے نجویٰ سے پوچھا۔”
    نجویٰ نے چہکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”First Class”
    ”That’s great”میجر صاحب نے خوشی سے جواب دیا۔
    نجویٰ میجر صاحب اور ناجیہ کی اکلوتی اولاد تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ نجویٰ آرمی جوائن کرے یا پھر ڈاکٹر بنے، لیکن نجویٰ کو ادب،شعر وشاعری اورپینٹنگز سے لگاؤ تھا۔ اس کے علاوہ اُسے باغبانی کا بھی بہت شوق تھا۔ اُس نے میجر صاحب سے کہہ کہ اپنی پسند کے پھول گھر کے باغیچے میں لگوائے تھے۔ سفید اور سُرخ پھول اُسے بہت پسند تھے۔
    میجر صاحب کو اپنی پڑھائی سے مطمئن کر کے نجویٰ نے اُن سے مخاطب ہو کے کہا:
    ”پاپا کالج کا ٹا ئم ہوگیا ہے چلیں مجھے ڈراپ کر دیں۔”
    میجر صاحب نے چائے کا کپ رکھا۔ گاڑی کی چابی اُٹھائی اور گیراج سے گاڑی باہر نکالنے کے لیے چلے گئے۔ نجویٰ نے ناجیہ بیگم کو اللہ حافظ کہا۔ ماں نے بیٹی کا ماتھا چومااور کہا۔
    ”خیر سے جاؤ میری جان اللہ کے حوالے۔”
    نجویٰ کھکھلا کے ہنس پڑی اور کہا۔
    ”ماما میں محاذ پے جنگ لڑنے تھوڑی جا رہی ہوں جو آپ اتنی فکر کر رہی ہیں۔”
    ”بیٹا تمہیں کیا پتا کہ ماں کا پیار کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کو لے کے کتنی ڈری ہوتی ہے اور پھر اولاد بھی تمہارے جیسی جسے اتنی دعاؤں کے بعد پایا ہو ۔تم تو رحمت کے ساتھ نعمت بھی ہو ہمارے لیے۔”
    ناجیہ بیگم نے آنکھوںمیں نمی چہرے پے مُسکراہٹ لاتے پیار سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    اتنے میں دونوں کو ہارن کی آواز سُنائی دی۔ نجویٰ ماں سے مل کے دوڑتی ہوئی گاڑی میں جاکے بیٹھ گئی۔
    ”چلیں پاپا۔”




  • غضنفر کریم — ارم سرفراز

    غضنفر کریم — ارم سرفراز

    امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں صبح کے نو بجے تھے جب دروازے کی گھنٹی ُْبجی۔ طاہرہ افتخار تینوں بچوں کو اسکول ڈراپ کرنے اورحسن کو ناشتا دینے کے بعد اب فریزر کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی کہ اس دن کیا پکایا جائے۔ گھنٹی کی آواز پر دونوں چونکے۔
    ”کسی نے آنا تھا کیا اِس وقت؟ ”حسن نے طاہرہ کی طرف دیکھا ۔
    ”نہیں۔” طاہرہ نے جلدی سے فریزر بند کیا اور دروازے کی طرف گئی ۔ گھنٹی اس وقت تک دوسری مرتبہ بج چکی تھی۔ طاہرہ نے peephole سے جھانکا اور بری طرح چونکی۔ وہ تیزی سے کچن کی طرف گئی ۔
    ”باہر پولیس کھڑی ہے ، حسن ۔” اس کی آواز میں پریشانی تھی ۔
    ”کیا؟ ” حسن اچھلا اور اسی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔
    ”گڈ مارننگ ۔ ” اس کے دروازہ کھولنے پر باہر کھڑے مرد اور عورت پولیس آفیسرز نے مسکرا کر اسے greetکیا ۔
    ”میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں آفیسرز؟ ” حسن نے بھی مسکرا کران سے ہاتھ ملایا گو کہ اندر سے اس کا دل ڈوبا جا رہا تھا۔ اس طرح اچانک پولیس کا دروازے پر آنا کوئی خوش آئند بات نہ تھی۔ طاہرہ بھی دھڑکتے دل سے دروازے کی اوٹ سے سن رہی تھی ۔
    ”میرا نام Detective وارنر ہے اور یہ میری پارٹنر Detective فرے ہیں۔” مرد افسر نے اپنا تعارف کروایا اور دونوں نے حسب ضابطہ اپنے بیج نکال کر حسن کو دکھائے۔
    ”ہم یہاں کے لوکل پولیس سٹیشن سے آئے ہیں اور آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں۔”
    ”کیا آپ کا نام حسن افتخار ہے؟” ڈی ٹیکٹو فرے نے اپنے ہاتھ میں موجود کچھ کاغذوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔
    ”جی ہاں۔” حسن نے سر ہلایا۔ اس کے دماغ میں تیزی سے وہ سب تدابیر اور اصلاحات دوڑ رہی تھیں جن کے اوپر عمل کرنے کی تاکید مسلمانوں کو دروازے پر اچانک اس طرح پولیس کے آنے پر کی گئی تھی ۔ امریکاکی موجودہ فضا میں مسلمانوں کو چوکس رہنے اور اچانک نمودار ہونے والی پولیس سے صحیح طریقے سے بات چیت کرنے کی خاص ہدایات تھیں ۔
    ”کیا کوئی پرابلم ہے ڈی ٹیکٹو ؟” حسن نے محتاط لہجے میں سوال کیا ۔




    ”کیا آپ لوگوں سے گفتگو مجھے اپنے لائر کی موجودگی میں کرنی چاہیے؟” دونوں ڈی ٹیکٹو اس بات پر مسکرائے۔
    ”اپنے لائر کو بلانا یا نہ بلانا آپ کا اپنا فیصلہ اور قانونی حق ہے، مسٹر افتخار ، لیکن میرے خیال میں یہ ضروری نہیں ہے۔ ”ڈی ٹیکٹو وارنر کا لہجہ دوستانہ تھا۔
    ”ہم صرف روٹین کے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ لوگ کسی ڈائریکٹ انویسٹی گیشن کا حصّہ نہیں ہیں۔” یہ سن کر حسن اور طاہرہ کی سانس کچھ بحال ہوئی۔
    ”کیا ہمیں اندر آنے کی اجازت ہے؟” ڈی ٹیکٹو فرے نے پوچھا۔
    ”جی ہاں، ضرور۔” حسن افتخار نے انہیں خوش دلی سے اندر آنے کی اجازت دی۔ دونوں ڈی ٹیکٹو اندر داخل ہو گئے۔ حسن نے طاہرہ کا بھی ان سے تعارف کروایا ۔ حسن افتخار اور طاہرہ افتخار کا صاف ستھرا ور خوبصورتی سے آراستہ گھر مہمانوں پر ہمیشہ ایک خوشگوار تاثر چھوڑتا تھا۔ لیونگ روم میں آنے تک گھر کے ہر طرف دوڑتی دونوں ڈی ٹیکٹو کی نظریں بظاہر سرسری تھیں، لیکن اس سرسری پن میں بھی پیشہ ورانہ گہرائی اور زیرک پن تھا ۔ دونوں ڈی ٹیکٹو نے نوٹ کیا کہ گھر کے مکینوں کو اپنے ملک سے کافی لگاؤ تھا ۔ دیواروں پر لگی پینٹنگز میں بھی پاکستان کے دیہاتی مناظر کی عکاسی کی گئی تھی ۔ پاکستانی آرائشی اشیا کے علاوہ چنیوٹ کے کوفی ٹیبلز اور ہاتھ کے بنے ایریا رگز بھی مکینوں کی خوش ذوقی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
    ”ہم لوگ اصل میں آپ کے محلے میں کسی پاکستانی نژاد آدمی کی تلاش میں ہیں۔ ”ڈی ٹیکٹو وارنر نے بیٹھنے کے بعد اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔
    ”اسی لیے ہم اس محلے میں موجود پاکستانی فیملیز سے بات کر رہے ہیں ۔ شاید آپ ہماری کچھ مدد کر سکیں ۔ اس آدمی کا نام غضنفر کریم ہے ۔ کیا آپ یا آپ کی بیگم اس نام کے آدمی کو جانتے ہیں؟”
    دونوں ڈی ٹیکٹو کا انداز رسمی سا تھا، لیکن ان کی تیز اور مستعد نظریں حسن اور طاہرہ کی ہر جنبش پر تھیں۔
    ”غضنفر کریم ؟” حسن افتخار نے حیرت سے دونوں ڈی ٹیکٹو کی طرف دیکھا۔
    ”میں نے تو یہ نام بھی پہلے نہیں سنا۔”
    ”ذرا سوچ کر بتائیے؟” ڈی ٹیکٹو فرے نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔
    ”کیا یہ نام واقعی آپ کے لیے نیا ہے؟”
    ”جی ہاں ۔ ” حسن افتخار نے سر ہلایا۔
    ”یہ نام واقعی ہمارے لیے نیا ہے۔ ہم اس علاقے میں پچھلے دس سال سے رہ رہے ہیں اور یہاں موجود ساری پاکستانی فیملیز کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔”
    ”ہو سکتا ہے آپ کی وائف نے اس آدمی کے بارے میں سنا ہو؟” ڈی ٹیکٹو وارنر نے پوچھا۔ تینوں کی نظریں طاہرہ افتخار کی طرف اٹھیں ۔
    ”جی نہیں۔ ” طاہرہ افتخار نے نفی میں سر ہلایا۔
    ”میں اس نام کے کسی آدمی کو نہیں جانتی۔” اس کالہجہ پراعتماد لیکن چہرہ ہر رنگ سے عاری اور لٹھے کے مانند سفید تھا۔ ڈی ٹیکٹو فرے نے اپنے دل میں ہمدردی محسوس کی۔ ان دونوں کی آمد سے حسن افتخار سے زیادہ طاہرہ افتخار خوفزدہ لگ رہی تھی۔ طاہرہ کے جواب پر دونوں ڈی ٹیکٹو کے درمیان نظروں کا خاموش تبادلہ ہوا ۔ ڈی ٹیکٹو وارنر نے گہری سانس لی ۔
    ”دیکھیے مسٹر افتخار ، ہمیں امید ہے کہ آپ ہم سے غلط بیانی سے کام نہیں لے رہے۔ ”ڈی ٹیکٹو کی آواز میں ہلکی سی سختی در آئی تھی۔
    ”کیونکہ جوابات میں ہلکی سی بھی غلط بیانی آپ کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا قصوروار ٹھہراتی ہے۔”
    ”ڈی ٹیکٹو، میں آپ لوگوں سے جھوٹ نہیں بول رہا۔ ” حسن افتخار اب سخت پریشان ہو رہا تھا ۔ بیٹھے بٹھائے مصیبت گلے پڑ رہی تھی۔ موجودہ دور پولیس والوں کو دور سے سلام کرنے کا تھا ، نہ کہ ان کی نظروں میں آنے کا۔
    ”میں نے یہ نام اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنا۔ ویسے یہ آدمی ہے کون؟ کیا کیا ہے اس نے ؟ کیا یہ خطرناک ہے ؟”اس کی آواز میں دبا دبا غصہ اور جھنجلاہٹ دونوں ڈی ٹیکٹوز کے تیز کانوں سے چھپا نہیں تھا۔صاف ظاہر تھا کہ مسٹر حسن افتخار کے مزاج کا نقطہ کھولاؤ بے انتہا کم تھا۔
    ”غضنفر کریم کو روایتی تعریف میں خطرناک نہیں کہہ سکتے ۔ ”ڈی ٹیکٹو وارنر نے وضاحت کی۔




  • لفاظی — نعمان اسحاق

    کھٹکے کی آواز سے داروغہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کھٹکے کو اپنے وسوسے سے تعبیر کرتا، اپنی گھاس پھونس اور گارے کے لیپ سے تیار شدہ جھونپڑ کی کچی کھڑکی سے اس نے ایک ہیولے کو مینار کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا۔
    مینارِ خاموشی… یہ کوئی عام مینار نہ تھا۔ آبادی کے لوگوں کی زندگی کا آخری پڑائو۔جب روح اور جسم کا تعلق منقطع ہو جاتا، روح پرواز کر جاتی اور فضا میں بے رنگ سی تحلیل ہوجاتی۔جسم کو آگ کے سپرد نہ کیا جاتا کہ آگ جسم کو راکھ کر دے گی اور یہ راکھ فضا کو آلو دہ کرے گی۔مٹی کے سپرد نہ کیا جاتاکہ مٹی کو بھی صاف رکھنا ہے۔پانی کے حوالے بھی نہ کیا جاتاکہ پانی زندگی ہے۔بے روح جسم کا پانی میں کیا کام۔
    چنانچہ مردہ اجسام کو اس پیالہ نما کھوکھلی عمارت میں لایا جاتا۔سیڑھیا ں جو عمارت کی اور جاتیں۔ اور گول پیالہ جس میں نعشوں کو ترتیب سے رکھا جاتا۔ مردہ جسم پڑے ہوتے اور گدھوں کی چاندی ہو جاتی۔وہ سیر ہو کر کھاتے رہتے۔ اور جب گوشت نہ رہتا اور صرف استخوانی ڈھانچہ بچ جاتاتو اس ڈھانچے کو پیالے کے وسط میں موجود کنویں میں دھکیل دیا جاتا، کہ فانی انسان کا یہی انجام ہے۔
    یوں تو مشہور تھا کہ مینار ِ خاموشی پر سفید روحوں کا قبضہ ہے۔ سفید جبہ پہنے روحیں رات کے پچھلے پہر اور کبھی کبھار خاموش دوپہروں کو مینار پر اترتی ہیںاور ان خاموش مردوں سے ہم کلام ہوتی ہیں۔ مگر داروغہ جانتا تھا کہ یہ سب بے پرکی ہے۔شہر والوں نے کہانیاں گھڑ لی ہیں۔ ایسا کچھ نہیں۔ سفید روحوں کا وجود ہے اور نہ کبھی ان کی مینارِ خاموشی پر آمد ہوئی ہے۔
    ہیولا سیڑھیاں چڑھتا مینار کی بلندی تک جا پہنچا۔صبح دم کسی ذی روح کا یوں مینار پر آنا چہ معنی ندارد۔
    ہاتھ میں بانس سنبھالے وہ جھونپڑی سے باہر نکلا او رمینار کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
    سیڑھیاں چڑھتا وہ مینار کے اند ر داخل ہوا۔اور وہ جو توقع کر رہا تھا کہ کوئی دیوانہ سفلی عمل کے لیے مینار میں آیا ہو گا، ایسا کچھ نہ تھا بلکہ ایک نو جوان ادھ کھائے مردہ اجسا م کے درمیان لیٹا تھا۔سانسوں کی زیروبم اس کے زندہ ہونے کی اطلاع دیتی۔
    داروغہ ہڈیوں اور کھوپڑیوں کا خیال کرتا نوجوان کے پاس چلا آیا۔
    نوجوان بانکا سجیلا تھا۔ اپنے شہر کا باسی تھا۔داروغہ کو نقوش جانے پہچانے لگے۔ مگر کس گھر کا چشم و چراغ تھا ، اسے یاد نہ آیا۔
    ”اے جوان! یہاں کیا کرتے ہو؟” داروغہ نے قدرے سخت لہجے میں پو چھا۔
    نوجوان جو آنکھیں موندے لیٹا تھا ، نے دھیمے سے آنکھیں کھولیں۔داروغہ کو دیکھااور دیکھتا ہی رہا۔
    ”کیا تم سفید روح ہو؟ مردوں کی ہمراز سہیلی۔” نوجوان نے پوچھا۔
    ” نہیں پاگل لڑکے! میں مینار کا داروغہ ہوں اور تم یہاں کیا کرتے ہو؟” داروغہ کا لہجہ پہلے سے زیادہ کھردرا تھا۔
    ” داروغہ جائو ، آرام کرو۔ مردوں کے ساتھ باتیں نہیں کی جاتیں۔” لڑکے کی آواز بوجھل تھی۔ مگر وہ نشے کے زیرِ اثر نہ لگتا۔وہ اب دوبارہ سے آنکھیں موندے لیٹا تھا۔ اور خود کو مردہ قرار دے رہا تھا۔
    داروغہ بانس کی پچھلی نوک لڑکے کی ران میں چبھونے لگا۔
    ”دیوانے لڑکے اٹھو! مْردے خود سے نہیں آتے۔ کندھوں پر لاد کر لائے جاتے ہیں۔وہ بے بس ہوتے ہیں۔باتیں نہیں کرتے۔”
    ”شہر کے لوگ مجھے کندھے پر نہیں لادتے مگرمیں بے بس ہوں۔ میں زندہ نہیں مردوں میں سے ہوں ۔مجھے یہاں لیٹے رہنے دو۔بھور سمے گدھ آئیں گے ، میرا گوشت کھائیں گے اور اپنا پیٹ بھریں گے۔” لڑکے کی آوازمیں نمی گھلنے لگی۔ داروغہ کا دل نرم پڑنے لگا۔
    ” تمہیں کیا غم ہے کہ اس جوانی میں تم زندگی سے منہ موڑ کر موت کی باتیں کرتے ہو؟مرغ اور بٹیر بھون کر کھانے کی بجائے خود کو گدھوں کا شکم بھرنے کے لیے پیش کرتے ہو۔کیا غم ہے جوان؟”جوان چپ چاپ لیٹا رہا۔داروغہ کو اس کے چہرے پر پیلاہٹ بکھرتی محسوس ہوتی۔
    ” زندگی کا سب سے بڑا غم، محبت کا غم!”داروغہ نے لڑکے کو کہتے سنا۔
    ” مجھے اپنا غم بتائو۔ ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے کام آئوں۔مگر یہاں نہیں ، میرے جھونپڑ میں آئو۔اس مینا ر میں ہر کسی نے آنا ہے مگر اپنے مقرر کردہ وقت پر۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا وقت دور ہے۔اُٹھو شاباش! میرے پیچھے پیچھے آئو۔”
    ”زیبا لڑکی نہیں حور ہے ۔میں اس سے محبت کرتا ہوں۔یہ محبت بھی کیا چیزہے ۔حاصل اور محصول کے کلیے کے بغیر محبت مکمل نہیں اور نا مکمل محبت زندگی سے اچاٹ کر دیتی ہے ۔”وہ لڑکا کہے جاتا۔
    ”پہلے اپنے بارے میں بتاؤ۔”داروغہ نے لڑکے کو ٹوکا۔
    ”میں عبدل ہوں ۔لکڑہارے کا بیٹا ۔”جوان نے اپنا تعارف کرایا ۔شہر بھر میں صرف تین تو لکڑہارے تھے۔لڑکے نے بتایا تو جھٹ سے داروغہ کے ذہن میں ایک لکڑ ہارے سے اس کی مشابہت آگئی ۔یقینا وہ اس ناٹے قد کے لکڑہارے کا بیٹا تھا جسے ایک روز ایک رحم دل پری سنہری کلہاڑا دے گئی تھی۔
    ”کیا تم نقرہ کے بیٹے ہو ؟وہ سنہری کلہاڑے والا لکڑہارا۔”داروغہ نے پوچھا ۔عبدل اثبات میںسرہلانے لگا۔
    ”ہاں! میں اسی دیانتدار لکڑہارے کا بیٹا ہوں جس کا کلہاڑا دریا میں گر گیا تھا اور ایک پری نے اسے سونے اور چاندی کے کلہاڑے دکھائے تھے مگر میرے ایماندار باپ نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ اس کے نہیں ۔پری نے انعام میں وہ چاندی اور سونے کے کلہاڑے میرے باپ کو دیے اور میرا باپ ان کلہاڑوں کو آج بھی محض سجاوٹ کے لیے دیوار پر ٹانگے رکھتا ہے ۔اگر بازار میں اس کے دام لگواتا تو شاید ہمارے حالا ت اتنے برے نہ ہوتے ۔اور نہ زیبا کا باپ ہماری غربت کی وجہ سے مجھے اپنی بیٹی دینے سے انکار کرتا۔”
    ”کیا تمہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں ؟”داروغہ نے پوچھا ۔
    ”میسر ہے ۔”
    ”تو پھر اپنے حالات کو برا مت کہو جوان ۔قدرت کے خزانے میں سے اس مٹی کی مورت کا حصہ محض دو وقت کی روٹی ہے اور بالآخر اس مورت نے مینارِخاموشی کی اونچائیوں میں گدھ کی خوراک ہی بننا ہے۔”
    ”تو پھر آپ نے مجھے اس مینار میں کیوں نہیں لیٹے رہنے دیا ۔کیوں مجھے یہاں لائے ۔”عبدل کا لہجہ تیز ہونے لگا۔ قبل اس کے کہ داروغہ کوئی منطقی جواب دیتا، عبدل کہنے لگا ۔
    ”زمانہ بدل گیا ہے ۔لوگ اب محض دو وقت کی روٹی پر اکتفا نہیںکرتے ۔وہ سونا چاندی کی خواہش کرتے ہیں ۔یہ گھاس تنکوں کے جھونپڑ ۔”کہتے ہوئے عبدل پاؤں کے انگوٹھے سے فرش کو رگیدنے لگا۔
    ”فرش مت اکھاڑو۔”داروغہ نے جلدی سے اسے ٹوکا۔


  • جنگی وردی کا قیدی — نجیب محفوظ — مترجم محمود رحیم

    جنگی وردی کا قیدی — نجیب محفوظ — مترجم محمود رحیم

    ڈگا ڈگ کے اسٹیشن پر جب گاڑیوں کی آمد کا وقت قریب ہوتا تو سگریٹ فروش گاہشا وہاں ہمیشہ سب سے پہلے آپہنچتا۔ وہ ٹھیک سمجھا کہ اسٹیشن اس کی سب سے بڑی منافع بخش مارکیٹ ہے۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی تجربہ کار آنکھوں سے گاہکوں کو تلاش کرتا ہوا نہایت چستی سے پلیٹ فارم پر چلتا۔
    گاہشا سے اس کے کام کے متعلق اگر پوچھا جاتا تو اچھی خاصی لعنت بھیجتا کیونکہ بہت سے اور لوگوں کی طرح وہ بھی اپنی زندگی سے بیزار اور اپنے بخت سے ناخوش تھا۔ اگر وہ انتخاب کی آزادی رکھتا تو شاید کسی رئیس کا ڈرائیور ہونے کو ترجیح دیتا تاکہ قیمتی لباس پہن سکتا، اعلیٰ طعام کھاسکتا اور گرمی اور سردی کے موسم میں عالی شان مقامات پر اس کا مصاحب ہوتا۔
    پیٹ کی خاطر تگ و دو کے مقابلے میں اس نے ایک ایسے کام کو ترجیح دی جو اس کی کایا پلٹ دیتا اور اسے خوش رکھتا، تاہم اس کام کو ترجیح دینے اور اس قدر چاہنے میں اس کے اپنے خاص اسباب تھے جن کا آغاز اس دن ہوا جب اس نے ایک مقامی معمر آدمی کے ڈرائیور الغور کو معمر کی ملازمہ بنادیہ کے راستے میں کھڑے ہوکر نہایت جرأت اور خود اعتمادی کے ساتھ اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ایک بار جب جوش مسرت میں الغور مضطر بانہ اپنے دونوں ہاتھ چلا رہا تھا، تو گاہشا نے ایک دفعہ اس سے یہ بھی سنا کہ اس نے بنادیہ کو کہا ہے کہ وہ جلد ہی اس کے لیے انگوٹھی لے کر لوٹے گا۔ اس کے بعد گاہشا نے دیکھا کہ وہ لڑکی الغور کی طرف دیکھ کر بہ تکلف مسکرائی اور اپنے چہرے سے حجاب کا کونا ہٹایا جیسے کہ اسے درست کر رہی ہو حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس نے تیل میں لپڑے اپنے کالے سیاہ بالوں کی نمائش کی تھی۔ جب گاہشا نے یہ سب کچھ دیکھا تو اس کے دل میں ایک آگ سی لگ گئی۔
    اس نے محسوس کیا کہ رشک اسے اندر ہی اندر بیدردی سے کھائے جارہا ہے۔ اس کی سیاہ آنکھیں اس کے تمام درد و کرب کا باعث بن گئیں۔ وہ اس کے پیچھے چند قدم چلتا۔ کبھی کبھار اسے گلی میں جاتے دیکھ کر اس کے رستے میں ہولیتا۔ آخرکار جب اس نے تنگ رستے پر اسے جالیا تو وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو کہ الغور نے اسے انگوٹھی دینے کے بارے میں کہا تھا، مگر وہ منہ بناتے ہوئے ایک طرف کو ہوگئی۔
    ”اگر تم اپنے پاؤں کے لیے کوئی کھڑاؤں خرید لیتے تو یہ بات زیادہ معقول ہوئی۔”
    وہ حقارت سے بولی۔
    گاہشا اپنے لمبے لمبے پاؤں غور سے دیکھتا جو ایسے لگتے جیسے بالکل اونٹ کے ہوں۔ اس نے اپنی میلی کچیلی عبا اور سرکی گرد آلود ٹوپی کو گھورا۔
    ”تو اسی سبب سے میں اتنا ذلیل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا مقدر ایسا ہے۔”
    وہ اپنے آپ کو کوسنے لگا۔





    اس نے الغور کی ملازمت پر رشک کیا جو اسے بہت پسند تھی، تاہم امیدیں اسے اپنا کام جاری رکھنے سے روک نہ سکیں اور اس نے پکی دھن سے پھر اپنا دھندا شروع کردیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی تمنائیں خوابوں ہی میں پوری ہوسکتی تھیں۔
    اس دوپہر وہ اپنا خوانچہ اٹھائے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگیا اور گاڑی کی آمد کا انتظار کرنے لگ۔ اس نے افق کی سمت نگاہ کی اور گاڑی کو دھوئیں کے ایک بادل کی طرح دور سے آتے دیکھا۔ گاڑی قریب سے قریب تر آتی گئی اور اس کے مختلف حصے زیادہ صاف دکھائی دینے لگے۔ شور بلند سے بلند تر ہوتا گیا اور بالاآخر گاڑی اسٹیشن پر آکر مکمل طور پر رک گئی۔ گاہشا جلدی جلدی پرہجوم ڈبوں کی جانب لپکا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازوں پر مسلح گارڈ تھے اور اجنبی سے چہرے بے بسی اور حیرانی کے ساتھ کھڑکیوں میں سے جھانک رہے تھے جب لوگوں نے گاڑی کے متعلق استفسار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ اطالوی جنگی قیدی ہیں جو بے شمار تعداد میں دشمن کے ہاتھ لگے ہیں اور اس وقت جنگی کیمپوں میں منتقل کیے جارہے ہیں۔
    گاہشا وہاں حیرت زدہ کھڑا مٹی سے اٹے ہوئے چہروں کا جائزہ لینے لگا۔ وہ دل گرفتہ ہونے لگا۔ جب اسے احساس ہوا کہ یہ لوگ جن کے زرد چہروں سے مایوسی اور مفلسی جھلکتی ہے، سگریٹ نوشی کی اپنی شدید خواہش اس سے پوری نہ کرپائیں گے۔ کھا جانے والی آنکھوں سے خوانچے کو دیکھتے ہوئے اس نے انہیں تاڑ لیا اور پھر غصے اور حقارت آمیز ہنسی سے ان پر نگاہ ڈالی۔ وہ پلٹ کر اپنی راہ لینے ہی والا تھا، جب اس نے یورپی لہجے کی عربی زبان میں کسی کو اپنے اوپر چلاتے ہوئے سنا۔ اس نے آدمی کو مشکوک نگاہ سے دیکھا اور پھر اپنی شہادت کی انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ رگڑتے ہوئے جتایا کہ اسے پیسوں کی بھی ضرورت ہے۔ سپاہی اس کا مطلب سمجھ گیا اور ہاں کے سے انداز میں اپنا سر ہلایا۔ گاہشا محتاط طریقے سے آگے بڑھا اور سپاہی کی دسترس سے دور خاصے فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔
    ”یہ رہے میرے پیسے!”
    سپاہی نے نہایت خاموشی سے اپنی جیکٹ اتاری اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
    گاہشا حیران ہوا اور پیلے بٹنوں والی خاکی جیکٹ و تمنا کے ملے جلے جذبات سے دیکھنے لگا۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا مگر وہ بھی کوئی بھولا یا بیوقوف نہ تھا۔ اس نے اپنے جذبات کو خاصا چھپایا جو اسے اطالوی کی حرص کا شکار بناسکتے تھے۔ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس نے سگریٹوں کا ایک ڈبہ نکالا اور جیکٹ لینے کے سے انداز میں اپنا بازو دراز کیا جس پر سپاہی ناخوش ہوا۔
    ”جیکٹ کے عوض بس ایک ڈبہ؟ مجھے دس ڈبے دو۔”
    سپاہی نے ناراض ہوتے ہوئے شور مچایا۔
    اس پر گاہشا چونکا اور ذرا پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی تمنا قدرے مرجھا گئی۔ وہ دوبارہ پلٹنے ہی والا تھا کہ سپاہی بلند آواز سے کہنے لگا:
    ”مجھے معقول تعداد میں ڈبے دو، نو یا دس۔”
    نوجوان گاہشانے ڈھٹائی سے سرہلا دیا۔
    ”چلو سات سہی۔”
    سپاہی کی آواز آئی۔
    گاہشا نے دوبارہ اپنا سر ہلایا اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ چلے جانے کا ارادہ کررہا ہے۔ سپاہی بولا کہ:
    ”میں چھے میں راضی ہوں۔”
    پھر وہ پانچ پر آگیا۔ گاہشا ہاتھ کے اشارے سے اسے مایوسی کا عندیہ دیتے ہوئے ایک نشست کی طرف آیا اور وہاں بیٹھ گیا۔
    ”ادھر آؤ، چلو چار ہی منظور ہیں مجھے!”
    دیوانہ سپاہی چلایا۔ گاہشا نے کوئی توجہ نہ دی اور صرف دکھانے کے لیے کہ وہ اس صورت حال سے کس قدر غیر متعلق ہے، اس نے ایک سگریٹ سلگایا اور نہایت سکون سے دھواں چھوڑنے لگا۔ سپاہی شدید غصے میں آگیا اور مکمل طور پر بے قابو ہو گیا۔ ایسے لگتا تھا جیسے سگریٹ کا حصول اس کے جینے کا واحد مقصد تھا۔ وہ اپنا مطالبہ پہلے تین اور پھر دو ڈبوں تک لے آیا۔
    گاہشا اپنی نشست پر جما رہا۔ اس کے جذبے اس کے اندر تپ رہے تھے اور جیکٹ کی تمنا اسے چرکے لگا رہی تھی۔ اس وقت بھی اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا۔ جب سپاہی دو ڈبوں پر آیا تو گاہشا نے غیرارادی طور پر خفیف سی جنبش کی جسے سپاہی بھی بھانپ گیا۔
    ”آؤ بھی!”
    سپاہی نے اس کی طرف اپنی جیکٹ اچھالتے ہوئے کہا۔ گاہشانے دیکھا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اٹھے، ٹرین تک جائے، جیکٹ پکڑے اور دو ڈبے سپاہی کو تھما دے۔ اس نے بے پایاں مسرت و اطمینان سے جیکٹ پر نگاہ ڈالی۔ اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ظاہر ہوئی۔ اس نے اپنا خوانچہ ایک جگہ پر رکھا، جیکٹ پہنی اور بٹن بند کیے۔ جیکٹ اس کے بدن پر بہت بڑی تھی مگر اس نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔ وہ اپنے آپ پر بہت فخر اور خوشی محسوس کررہا تھا۔
    اس نے اپنا خوانچہ اٹھایا اور فاخرانہ مسرت سے پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ چل پڑا۔ وہ چشم تصور سے، حجاب اوڑھے ہوئے بنا دیہ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔
    ”کاش وہ اس وقت مجھے دیکھ سکتی۔”
    وہ زیر لب بولا۔
    ”ہاں حقیقتاً اب وہ مجھ سے گریز نہیں کرے گی یا حقارت سے منہ نہیں پھیرے گی۔ اب الغور بھی مجھ میں کوئی ایسی کمی نہ پاسکے گا جس کی بنا پر وہ شیخی بگھار سکے۔”
    معاً اس کو یاد آیا کہ الغور صرف جیکٹ نہیں بلکہ مکمل سوٹ پہنتا ہے۔ اس نے لمحہ سوچا کہ اب وہ ایک پتلون کیسے حاصل کرسکتا ہے؟ اور پھر جنگی قیدیوں کے سروں کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا جو کھڑکیوں میں سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ تمنا ایک بار پھر اس کے دل میں مچل اٹھی اور پرسکون ہوتے ہوتے اس نے جو شیلا ہونا شروع کردیا۔ وہ گاڑی کی سمت دوڑ پڑا۔
    ”سگریٹ، سگریٹ… ایک پتلون کے بدلے میں ایک ڈبہ!”
    وہ سرعت سے پکارنے لگا۔ اس نے مکرر اور سہ مکرر آواز لگائی۔
    اسے خدشہ ہوا کہ سپاہی اس کا مطلب نہیں سمجھ پائے۔ لہٰذا اس نے پہنی ہوئی جیکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سگریٹوں کا ایک ڈبہ دکھایا جس نے مطلوبہ تاثر پیدا کیا۔ ایک سپاہی نے لمحہ بھر بھی ترددنہ کیا اور اپنی جیکٹ اتارنی شروع کردی۔ گاہشا اس کی جانب تیزی سے لپکا اور اسے رکنے کو کہا۔ اس نے اس کی پتلون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اس پر سپاہی نے اپنے کندھے مچکائے گویا اسے اپنی پتلون کی کوئی خاص پروا نہ تھی۔ سو اس نے اپنی پتلون اتار دی اور لین دین مکمل ہوگیا۔ گاہشا نے اس کے قریب کھڑے کھڑے نہایت سرخوشی کے عالم میں پتلون پکڑی۔ وہ اپنی سیٹ پر واپس گیا اور پتلون پہننے لگا۔ ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں فارغ ہوکر وہ مکمل اطالوی سپاہی بن گیا۔
    ”کیا اب بھی کوئی کمی ہے؟”
    اسے استعجاب ہوا۔
    بدقسمتی سے قیدیوں نے اپنے سر ترکی ٹوپیوں سے نہیں ڈھکے ہوئے تھے، مگر ان کے پیروں میں جوتے ضرور تھے۔ اسے جوتے بھی درکار تھے تاکہ وہ الغور کی برابری کرسکے جو اس کی زندگی اجاڑ رہا تھا۔ اس نے اپنا خوانچہ پھر اٹھایا اور جلدی جلدی ٹرین کی طرف چل دیا۔
    ”سگریٹ… جوتوں کے جوڑے کے عوض ایک ڈبہ!”
    وہ زور زور سے چلانے لگا۔ اس نے اپنی بات سمجھانے کے لیے اسی طرح کے اشارے کیے جس طرح کے وہ پہلے کر چکا تھا۔ مگر قبل اس کے کہ اسے نیا خیردار ملتا، گاڑی کی روانگی کی سیٹی بج گئی۔ اس پر گارڈ کے کام میں ایک برق رفتاری سی پیدا ہوگئی۔ اسٹیشن کے کچھ حصے اندھیرے میں ڈوبنے لگے اور رات کے پرندے ہوا میں پھڑ پھڑانے لگے۔
    گاہشا اپنی آنکھوں میں اداسی اور غصہ لیے دل برداشتہ کھڑا تھا۔ جونہی گاڑی کو حرکت ہوئی، اگلی بوگی میں بیٹھے ایک گارڈ نے اسے دیکھ لیا جو بڑے غضب میں دکھائی دے رہا تھا اور اس سے پہلے انگریزی اور پھر اطالوی میں برس پڑا۔
    ”اوقیدی کے بچے! فوراً گاڑی کے اندر آ!”
    وہ گارڈ چلایا۔
    گاہشا کچھ نہ سمجھا جو وہ کہہ رہا تھا اور اسے ایسے لگا جیسے وہ شخص اپنی بھڑاس نکال رہا تھا، سو اس نے گارڈ کی نقل اتارنی شروع کردی اور اس کا منہ چڑانے لگا۔ اسے اطمینان تھا کہ گارڈ اتنی دور ہے کہ اسے پکڑ نہیں سکتا۔ گاڑی جب دور ہونے لگی تو گارڈ اس پر پھر چلایا:
    ”گاڑی میں سوار ہوجاؤ… میں تمہیں تنبیہ کرتا ہوں کہ فوراً گاڑی میں آجاؤ!”
    گارڈ چیخا۔
    گاہشا نے حقارت سے اپنے ہونٹ بھینچے اور گارڈ کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ وہ رخصت ہونے والا تھا کہ گارڈ نے دھمکی کے سے انداز میں اپنی مٹھی بند کی اور پھر رائفل کا رخ نوجوان کی طرف کرکے گولی داغ دی۔ بہرا کردینے والا ایک فائر گونجا اور اس کے پیچھے درد کی ایک چیخ۔ گاہشا جہاں کھڑا تھا، وہیں اس کا وجود مصلوب ہوگیا۔ خوانچہ اس کے ہاتھ سے گر پڑا، سگریٹوں اور ماچسوں کے ڈبے پلیٹ فارم پر بکھر گئے۔
    گاہشا منہ کے بل لڑھک گیا کہ وہ اب ایک بے جان لاشہ تھا۔
    ٭…٭…٭




  • دیوانی — عطیہ خالد

    دیوانی — عطیہ خالد

    ”معطر دیوانی ہو گئی۔” بات صرف گھر سے نہیں نکلی تھی بلکہ کوٹھے چڑھ گئی تھی۔بہ ظاہر افسوس اور ہمدردی کے رنگ میں دُہرا یا جانے والا جملہ ‘معطر دیوانی ہو گئی، کسی قدر لذید اور چٹخارے دار تھا۔یہ تو کوئی ان ہمسایوں اور رشتہ داروں سے پوچھتا جن کا اٹھتے بیٹھتے آج کل یہ ‘جملہ’دہرانا کام تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”معطر صادق ولد صادق احمد آپ کو اپنا نکاح ہمراہ حزیم شاہد ولد شاہد احمد ایک لاکھ روپیہ مہر معجل سکہ رائج الوقت قبول ہے۔”
    ”قبول ہے، قبول ہے،قبول ہے۔”
    دن رات کی بے شمار ساعتوں میں لاتعداد مرتبہ اس خوبصورت قبولیت کا اقرار ہوتا ہے۔بس ایک دھن ،ایک سمت،صرف ایک خیال،ایک لگن… یہ عشق ہے۔سربستہ راز عشق۔
    کہنیوں تک سرخ و سبز چوڑیاں پہنے،بیلے اور موتیے کے گجرے سجائے، مہندی رچائے،سرخ لہنگا،سنہری اوڑھنی،زیورات اور حیاکے بار سے جھکی ہوئی معطر۔
    ٭…٭…٭
    ”ہمارا رب ایک ہے،ہماراخالق،ہمارا رازق ،ہمارا مالک،ہمارا حقیقی رشتہ اسی سے ہے۔ ہماری روحوں کا پیوند اسی سے ہے۔”
    ”باقی سب فانی۔دوام بس اس کی ذات کو ہے۔”قاعدے کا پہلا نقطہ پڑھاتے ہوئے دادی نے پہلا سبق دیا تھا معطر کو۔گھور سیاہ آنکھوں کوپھیلائے حیرانی سے معطر نے یہ سبق سنا اور دل و دماغ میں بٹھا لیا۔ دادی اٹھتے بیٹھتے یہ بات معطر کے کانوں میں ڈالتی تھیں۔وہ جانتی تھیں کہ کچی عمر کا نقش بڑا پائیدار ہوتا ہے۔حرف بہ حرف کندہ ہو جاتا ہے اس عمر میں۔ معطر دو بھائیوں سے بڑ ی تھی۔ دادی کی لاڈلی۔ صادق حسین کپڑوں کی مل میں سپر وائزر تھے۔بیوی اور ماں دونوں جی بھر کے سگھڑ تھیں۔ گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی۔
    معطر اسکول جانے لگی تھی۔ نیلی قمیص سفید شلوار میں بالوں کی کس کس کر دو چوٹیاں بنائے اپنی بڑی بڑی حیران آنکھوں سے دنیا کو دیکھتی،اپنے ہم عمر بچوں سے با لکل مختلف نظر آتی تھی۔ یوں جیسے اس کے ننھے سے وجود میں کوئی بوڑھا وجود قید ہو۔اسے دوسری بچیوں کی طرح کھلونوں،گڑیوں سے کھیلنے سے بالکل رغبت نہ تھی۔اس کو تو بس اپنی دادی کی صحبت میں مزہ آتا تھا۔دادی کی کہی ہوئی باتوں کو دل ہی دل میں دہراتی معطر نے ان کے پیچھے پیچھے گھومتے ہوئے بہت جلد وہ سارے کام سیکھ لیے تھے جو وہ کرتی تھیں۔
    ٭…٭…٭




    حنا و عطر کی خوشبوؤں میں بس رہا ہے اس کا صندلیں وجود،سیاہ آنکھوں پر گھنی پلکوں کی باڑھ لرز رہی ہے،سرخ یاقوت سے لب کپکپا رہے ہیں۔کسی نے گھونگٹ آگے تک کھینچ دیا۔
    ”معطر صادق بنت صادق احمد آپ کو اپنا نکاح حزیم شاہد ولد شاہد احمد سے قبول ہے؟”
    خوب صورت سعید ساعت ہے۔ نہ جانے کیوں یہ لوگ دیر کر رہے ہیں ۔ہلکی ہلکی آوازیں ماحول سے مختلف کیوں ہیں؟ سب کچھ طے ہے۔ایجاب و قبول بھی ہو چکا۔ کب ابا اس کا ہاتھ حزیم کے ہاتھ میںتھمائیں گے۔ وہ بھی کتنا بے قرار ہو گا دل ہی دل میں۔ مسکراہٹ جدا نہیں ہوتی معطر کے لبوں سے۔
    ”اے دیوانی!کب سے آوازیں دے رہی ہوں ۔چھت پر سے اتارکر لے آکپڑے۔تیرے ابا آنے والے ہیں۔”
    ”معطر ہے میرا نا م دادی دیوانی نہیں ۔لا رہی ہوں کپڑے۔”
    ”اے ہاں مجھے کیوں بھولے گا تیرا نام۔میں نے ہی تو رکھا تھا۔” ان کی آواز لرز گئی۔ گہری سانس بھر کر آنگن میں چلی آئیں۔جہاں صادق احمد آکر بیٹھ چکے تھے۔
    ٭…٭…٭
    آنگن میں بچھی چارپائیوں پر پنکھے کے آگے پہلی چارپائی پر معطر سورہی تھی۔ وہ سوتے میں بھی مسکرا رہی تھی۔
    سب کے سو جانے کی تسلی کر کے دادی بولیں۔ ”صادق احمد معطر کی بے چینی دیکھی نہیں جاتی۔”
    ”جی اماں!” وہ ٹھنڈی سانس کھینچ کر چپ ہو رہے تھے۔
    ”تم کچھ کرو اس کے لیے۔ کیا ساری عمر اس ناہنجار کے نام پر بٹھائے رکھو گے۔ ایک بار شادی ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ابھی بھی خرابی کہاں ہے۔بس!”ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
    ”اماں آپ معطر کی فکر چھوڑ کیوں نہیں دیتیں۔آپ ہی کی فکروں نے یہ دن دکھایا ہے۔” فاطمہ سوئی نہیں تھی۔
    ”تم خاموش رہو فاطمہ۔” صادق احمد نے انہیں ٹوک دیا۔
    ”کیوں خاموش رہوں۔غلط کہتی ہوں؟”نہ اماں پوتے کی محبت میں اندھی ہو کر میری بچی کے کانوں میں بچپن سے یہ بات ڈالتیں نہ یوں میری بچی دیوانی ہوتی۔”غم و غصے سے فاطمہ کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
    دادی کا قصور اتنا تھا کہ دادی نے ”ایک اللہ ہمارا حقیقی دوست” کا سبق پڑھانے کے ساتھ ساتھ معطر کو سمجھا دیا تھا کہ اس دنیا میں اس کا نا خدا حزیم شاہد ہے جو کہ معطر کے تایا کا بیٹا تھا۔دو ہی بھائی تھے صادق احمد اور شاہد احمد۔صادق احمد چھوٹے تھے ان کے تین بچے تھے۔فراز،ارسلان اور معطر۔ بڑے شاہد احمد کا ایک ہی بیٹا تھا ”حزیم احمد” معطر کی پیدائش پر تایا اور دادی دونوں نے کہہ دیا تھا کہ معطر ‘حزیم’ کی دولہن بنے گی۔ معطر نے جہاں دادی کی دیگر باتوں کو دل و دماغ میں بٹھایا وہاں حزیم کی دولہن بننے کی بات بھی اپنے دل کے نہاں خانوں میں گاڑلی تھی۔
    حزیم نے ایم بی اے مکمل کر نے کے بعد آسڑیلیا جانے کا فیصلہ کیا تو دونوں گھروں نے معطر اور اس کے نکاح کا پرو گرام بنالیا۔سب سے بڑھ کر دادی کی خواہش تھی کہ حزیم نکاح کے بعد آسٹریلیا جائے۔چند دنوں میں نکاح کی تیاری کر لی گئی اور وہ سعید اور روپہلی سی ساعت سات اکتوبر کی شام معطر کے آنگن میں اتر آئی۔
    ایجاب و قبول کے بعد حزیم نے دادی کو بلا کر کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ نکاح کے ساتھ رخصتی بھی کر دی جائے۔ بات کوئی ایسی نا جائز نہ تھی مگر پریشان کن ضرور تھی۔ معطر کے والدین نے اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی ہوئی تھی۔ لیکن حزیم نے رخصتی پر بے حد اصرار کیا تو صادق احمد کو غصہ آگیا۔ انہوں نے انکا ر کر دیا۔ بات دونوں کے والدین سے نکل کر دیگر مدعو رشتہ داروں میں پھیل گئی۔ بیشتر نے یہی مشورہ دیا کہ ساتھ ہی رخصتی کر دی جائے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر صادق احمد تیار نہ ہوئے۔ بات نے سنگین صورت اختیار کرلی۔ صادق احمد نے اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور جہاں انا ڈیرے ڈال لے وہاں سے خوشی اور امید اٹھ جاتی ہے۔معطر کی امی فاطمہ نے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے صادق احمد کو بہت سمجھایا کہ نکاح ہو چکا ہے اب رخصتی کر دینی چاہیے۔ اب معطر حزیم کی بیوی ہے وہ اس کو ساتھ لے جانے کا اختیار رکھتا ہے۔ رخصتی کی الگ تقریب ایک معاشرتی تقریب ضرور ہے لیکن شرعی لحاظ سے اصل چیز نکاح ہی ہے۔لیکن صادق احمد کی ‘نہ’ ‘ہاں’ میں نہیں بدلی۔ مدعو مہمانوں نے بھی سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن صادق احمدنے اپنی ضد نہ چھوڑی تو دوسری طرف حزیم بھی اڑا رہا کہ وہ رخصتی آج کروائے گا یا کبھی نہیں۔
    روپہلی شام نے تاریک اوڑھنی اوڑھ لی۔ رنگ،خوشبو،گیت سب خاموش ہو گئے۔دو مردوں کی ناعاقبت اندیش ضد سے ایک معصوم لڑکی کی زندگی کے سارے رنگ اڑ گئے۔ حزیم اور اس کے گھر والے بد دل ہو کر لوٹ گئے۔ حیران حیران معطر نے دادی کے کہنے پر زیور اتار دیے، کپڑ ے بدل لیے مگر اس کا ذہن اس حادثے کو قبول نہ کر سکا۔نہ وہ روئی ،نہ چلائی ،نہ کوئی شکوہ کیا نہ شکایت کی۔بس اس کی روح اس ساعت میں قید ہو گئی۔ وہ اپنی دنیا میں مگن ہو گئی جس میں اس کا دولہا،اس کا حزیم اس کے ساتھ تھا۔
    دادی کہتیں، معطر آٹا گوندھ دو۔وہ آٹا گوندھتی مسکرائے جاتی۔دادی پراٹھے بنانے کو کہتیں وہ گرم خستہ پراٹھے اتارتی چلی جاتی،یہاں تک کہ ان کو کہنا پڑتا۔ ”بس کردو معطر سب نے ناشتا کر لیااب یہ پراٹھا تم لے لو۔”
    وہ اپنا پراٹھا لے کر بیٹھتی تو جیسے سامنے موجود وجود سے زیر لب باتیں کیے جاتی۔ اماں کی آواز واپس کھینچ لاتی تو دوسرے کام میں منہمک ہو جاتی۔
    معطر کی سب سنگی،ساتھی بیاہی گئیں۔بچوں والیاں ہو گئیں۔ دونوں چھوٹے بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں۔ دولہنیں گھر آگئیں لیکن معطر کو کوئی فرق نہ پڑا۔ بڑے فراز کے گھر پلوٹھی کا بیٹا ہوا، تو جیسے معطر کے ہاتھ کھلونا آگیا۔ دن رات اسے اٹھائے، زیر لب باتیں کیے جاتی۔ بچے کی ماں کو دھڑ کا لگا رہتا دیوانی کہیں گرانہ دے،کہیں کچھ کر نہ بیٹھے مگر وہ بڑی سمجھ داری سے اسے سنبھالتی۔دھیرے دھیرے خود کلامی بڑھ رہی تھی۔گلی محلے والے، گھر والے ،رشتہ دار اور دور دراز رہنے والے سبھی رشتہ داروں کو خبر ہو گئی کہ معطر دیوانی ہو گئی ہے۔اپنے آپ سے باتیں کرتی ہے۔ہمارے معاشرے میں تو ایسی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے ۔لوگوں کے ہاتھ بات کا نیا موضوع تھا۔
    ٭…٭…٭