Tag: Alkaram

  • ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ’’دیکھو تو ذرا اس کے کپڑے!‘‘ سمیرا نے خرد کی طرف اپنا موبائل بڑھایا۔ سکرین پر پاکستانی شوبز کا صفحہ کھلا تھا جس میں ملک کی معروف ایکٹریس شیمی کی قابلِ اعتراض تصویر کے ساتھ ایک کار حادثے میں زخمی ہوجانے کی خبر تھی۔
    ’’توبہ! حلیہ تو دیکھو ذرا۔ نجانے اس کے والدین کیا سوچتے ہوں گے جب انہیں اس کی فلموں اور حرکتوں کے بارے میں پتا چلتا ہوگا۔‘‘ خرد نے تصویر کو تعجب سے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔دونوں یونیورسٹی کینٹین کے سامنے بنے ایک بنچ پر بیٹھی تھیں۔
    ’’غیرت کہاں ہوتی ہے ان میں۔ ایک بار پیسے اور شہرت کا نشہ لگ جائیتو پھر کچھ قابلِ اعتراض نہیں لگتا۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ سمیرا نے کیپری کٹ ٹراؤزر والی ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر جھلاتے ہوئے کہا۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اف!ان کا حلیہ دیکھو ذرا۔‘‘ شگفتہ نے حلیمہ کو ٹہوکا دیتے ہوئے کینٹین کے سامنے بنے بنچ پر بیٹھی خرد اور سمیرا کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔
    ’’توبہ! ٹراؤزر میں اتنا لمبا کٹ؟ حد ہی ہو گئی۔ کیا ان کے والدین کو اپنی بیٹیوں کا لباس نظر نہیں آتا ؟ نہ جانے ان کی مائیں انہیں اتنے واہیات فیشن کیسے کرنے دیتی ہیں۔‘‘ جینز کی پینٹ کے اوپر لمبی اور کُھلی سی قمیص پہنی حلیمہ نے ناگواری سے خرد اور سمیرا کی جانب دیکھا تھا۔
    ’’ سب تربیت کی بات ہوتی ہے۔ ہم بھی تو ہیں، ہم بھی فیشن کرتی ہیں لیکن ایک حد میں رہ کر۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘شگفتہ نے کہا اور دونوں کینٹین کے اندر چلی گئیں۔بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’حلیہ دیکھو ذرا ان کا۔‘‘کوثر نے چاٹ کھاتی اسود کو ایک جانب متوجہ کیا تو اسود نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں کینٹین کے دروازے کی جانب دیکھا۔ وہاں سے شگفتہ اور حلیمہ اندر داخل ہوئی تھیں اور اب کینٹین والے سے چیزیں خرید رہی تھیں۔
    ’’توبہ! دوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا انہوں نے تو۔اتنی بے شرمی!حد ہے بھئی۔‘‘اسود کی آنکھوں اور لہجے میں ناگواری در آئی۔
    ’’آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان کے ماں باپ کو نظر نہیں آتا کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم دوپٹا تو اوڑھا دیں انہیں۔‘‘کوثر نے سر کے کونے پر ٹکے دوپٹے سے جھانکتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا۔
    ’’ خیر! ہمیں کیا۔ ابھی کلاس شروع ہونے میں تھوڑا وقت رہتا ہے۔ آؤ فوٹو کاپی شاپ سے ہو آئیں۔ میں نے کچھ نوٹس کی فوٹو کاپی کروانا تھے۔‘‘ اسود نے چاٹ کا آخری لقمہ لے کر اٹھتے ہوئے کہا تھا۔ کوثر بھی بیگ سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’یہ دیکھو ذرا، دوپٹے کا مذاق۔‘‘ فوٹو کاپی دکان سے آتی ارم نے سامنے سے آتی کوثر اور اسود کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا۔ اس کے ساتھ چلتی شمامہ نے بھی دونوں کو گھورا۔
    ’’بس دوپٹہ سر پر ڈال لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ کافی ہے۔ سارے بال نظر آ رہے ہیں، سینہ بھی دوپٹے سے صحیح طرح نہیں ڈھانپتیں۔حیرت ہے ان کی امی کو نظر نہیں آتا کیا؟ یہ لمبا سا دوپٹا فیشن کے طور پر لے لیتی ہیں، سنبھالا جاتا نہیں ہے۔‘‘شمامہ نے بھی دبے دبے لہجے میں تبصرہ کیا تھا۔دونوں لڑکیاں ان کے پاس سے گزر چکی تھیں۔
    ’’دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ بس دوپٹہ ہی لے لیا کروں۔ اتنی گرمی میں یہ عبایا اور پھر اس کے اوپر سکارف، ٹھیک ٹھاک پسینہ آ جاتا ہے لیکن پھر یہی سوچتی ہوں کہ اچھا نہیں لگتا۔ اب اتنی عادت ہو گئی ہے عبائے اور سکارف کی کہ ان کے بغیر اپنا آپ ادھورا سا لگتا ہے اور انہیں دیکھو تو اپنی طرف سے پردہ کیے بیٹھی ہیں۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ ارم نے ٹشو سے ماتھے پر آتا پسینہ پونچھا اور دونوں کلاس روم کی جانب بڑھ گئیں۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔‘‘ نورین کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ طیبہ نے چونک کر اس کی جانب اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے کی طرف دیکھا۔سامنے ارم اور شمامہ ہنستی بولتی ہوئی ایک کلاس روم میں داخل ہو رہی تھیں۔
    ’’عبایہ دیکھا تھا تم نے ان کا؟ اتنا چست اور فیشن ایبل سا۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ پردے کے لیے پہنا گیا ہے۔‘‘ نورین نے چہرے سے کھسکتے نقاب کو دوبارہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’اس طرح کے پردے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پردے کا بھی پردہ ہونا چاہیے۔‘‘ طیبہ تمسخرانہ لہجے میں ہنسی۔ اس کی بات سن کر نورین بھی ہنس پڑی۔
    ’’ہاں تو اور کیا۔ اتنے جھلمل کرتے عبائے سے کیا خاک پردے کا مقصد پورا ہو گا۔مجھے تو بس کالے رنگ کا سادہ سا عبایہ اور نقاب پسند ہے۔کسی کو بُرا لگے تو لگے، مجھے دنیا کو تھوڑی دکھانا ہے۔ افسوس تو ان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ پر ہوتا ہے، پردے کے نام پر زیادہ پُرکشش عبائے پہن لیتی ہیں اور والدین سوچتے بھی نہیں۔‘‘نورین نے کہا تھا۔
    ’’خیر! ہمیں کیا۔قیامت کے دن پتا چل جائے گا کہ اس طرح کا شوخ پردہ کرنے سے کتنا ثواب کما لیا انہوں نے۔‘‘ طیبہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اللہ!!! میرے اللہ!!! ‘‘ اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ زاروقطار رو رہی تھی۔
    ’’میرے مالک! مجھے معاف کر دے! میرے مولا! بس مجھے معاف کر دے، میں بہت زیادہ بھٹک گئی تھی۔ اس دنیا کی لذت نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ مجھے اس چمک دمک میں تُو یاد ہی نہ آیا، اس دنیا کی شہرت نے مجھے اپنے جال میں پھنسا لیا تھا۔ میرے رب! مجھے معاف کر دے۔ میں تیرے در پر سچی توبہ لے کر آئی ہوں، میں اس شوبز کی گند بھری دنیا سے توبہ کرتی ہوں۔ بس میرے مالک! میرے دل کو نور اور ہدایت سے بھر دے۔ میرے اللہ! مجھے معاف کر دے! مجھے بس ایک بار معاف کر دے۔ میں تجھ سے معافی کی، ہدایت کی طلب گار ہوں۔ اے اللہ! ‘‘ پٹیوں میں لپٹے ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپے شیمی ہچکیوں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر رہی تھی۔ بائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے نے خوشی سے دائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے کی جانب دیکھا۔شیمی کا گناہوں سے بھرا ہوا سیاہ رجسٹر یک لخت بالکل صاف ہو گیا تھا!
    اور اللہ جسے چاہے ہدایت سے نواز دے۔ ہمیں دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا کرنے سے زیادہ پُرکشش کام ان پر منفی تبصرہ کرنا ہے۔کیا واقعی ان منفی تبصروں کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت ہے؟
    ٭…٭…٭




  • اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    ماہا آج بہت خوش تھی کیوں کہ چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں اور اس بار تو عید بھی چھٹیوں میں آنی تھی۔ بڑی عید بھی آنے والی تھی اور اس بار تو وہ دو تین مہینے پہلے ہی قربانی کے لیے بکرا لانے والی تھی۔ اس کے بابا نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگلی گرمیاں شروع ہوتے ہی اسے اس کی پسند کا بکرا لے دیں گے۔ ہر سال دونوں عیدیں خوب دھوم دھام سے منائی جاتیں اور اس بار تو وہ اپنی دوستوں اور کلاس فیلوز کو بھی بلانے والی تھی۔
    آج اتوار کا دن تھا۔ اس کے بابا جانی کی آج آفس سے چھٹی تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ آج وہ اسے بکرا لے کر دینے والے ہیں، پھر مما کے ساتھ ڈھیروں شاپنگ اور من پسند کھلونے، آج تو اسے خوب مزا آنے والا تھا۔
    صبح سے ہی ماہا ادھر ادھر ہنستی مسکراتی اچھلتی کودتی پھر رہی تھی۔ کبھی بابا کو یاد دہانی کرواتی کہ آج اسے کلرز، گلیٹرز اور اسٹیکرز وغیرہ لینے ہیں تاکہ وہ اپنی دوستوں کے لیے دعوتی کارڈز بنا سکے تو کبھی مما کو بتاتی کہ اسے اپنی دوستوں کے لیے گفٹ بھی لینے ہیں۔ ایک لمبی لسٹ تھی اس کے پاس فرمائشوں کی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ چاہتی تھی کہ سب کو بڑی عید کے لیے دعوت دے۔
    اچانک ماہا کا دھیان دادی امی کی طرف گیا۔ آج اماں جی کمرے سے باہر آئیں اور نہ اس کے ساتھ باغ میں ہی گئیں۔ اس نے تو انہیں ناشتا کی ٹیبل پر بھی نہیں دیکھا۔ ویسے تو وہ ہمیشہ صبح کا ناشتا اپنے کمرے میں ہی کرتیں لیکن اتوار کو وہ بابا اور اس کے گھر پر ہونے کی وجہ سے ان سب کے ساتھ ناشتا کرتیں تو پھر آج وہ کیوں نہیں آئیں اس نے سوچا کہیں دادی امی بیمار تو نہیں۔
    مما! اماں جی نے ناشتا کر لیا؟‘‘ اس نے اُبلا ہوا انڈا کھاتے ہوئے سوال کیا۔
    ’’نہیں! ابھی نہیں کیا۔ کہہ رہی ہیں ان کا دل نہیں چاہ رہا۔‘‘ اس کی بریڈ پر مکھن لگاتے ہوئے مما نے جواب دیا۔
    ’’کیوں نہیں دل چاہ رہا؟ کہیں وہ بیمار تو نہیں؟‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اسے یاد تھا پچھلی بار جب اس کی دادی امی بیمار ہوئی تھیں تو انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا تھا۔ اسے ہسپتال بالکل اچھے نہیں لگتے تھے۔ کتنے بڑے بڑے انجیکشن اور ڈرپس لگائی تھیں ہسپتال والوں نے دادی امی کو، انہیں کتنا درد ہوا ہو گا۔ اس نے سوچ کر جھرجھری لی۔
    ’’ارے نہیں چندا !تمہاری اماں جی بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ تم فکر نہ کرو اور چلو جلدی سے ناشتا مکمل کرو پھر آپ نے شاپنگ کرنے بھی تو جانا ہے نا۔‘‘ اس کی مما نے پیار سے پچکارتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    اس نے جلدی جلدی اُبلا ہوا انڈا نگلا اور دودھ کے دو تین بڑے بڑے گھونٹ بھر کر ٹیبل سے اٹھ گئی:
    ’’کر لیا ممی بس اور نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے پتا تھا ممی نے پھر سے پکڑ کر اسے زبردستی کھانے کے لیے بٹھا لینا ہے۔
    دادی امی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوئی۔ ’’اماں جی! السلام علیکم‘‘ وہیں کھڑے کھڑے اس نے اماں جی کو جاسوسوں والے انداز میں دیکھا۔
    ’’وعلیکم السلام میری چندا! جیتی رہ میری جان۔ آ ادھر آ جا میرے پاس۔‘‘ دادی نے اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اپنی بانہیں پھیلا دیں۔
    وہ دوڑ کر اماں جی کے بیڈ پر چڑھ کر ان کی کھلی بانہوں میں چھپ گئی۔
    ’’اماں جی آپ نے ناشتا کیوں نہیں کیا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
    ’’دل نہیں چاہ رہا تھا، بعد میں کر لوں گی آپ نے کر لیا ناشتا؟‘‘انہوں نے جواباً اس سے پوچھا۔
    ’’جی کر لیا لیکن مزہ نہیں آیا آپ کے بغیر۔‘‘ اس نے کہا اور مزید تفتیش جاری رکھی۔
    ’’آپ صبح لان میں کیوں نہیں آئیں؟ وہاں گلاب کے پودے پر جو کلیاں ہیں وہ ساری آج پھول بن گئی ہیں۔ اتنے بڑے بڑے پھول کھلے ہیں اور موتیا کے کئی پھول نیچے گرے ہوئے تھے۔ میں نے سنبھال لیے، آپ میرے لیے گجرا بنا دیں گی نا۔‘‘ اس نے لاڈ دکھاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’بالکل بنا دوں گی اور آپ کی پونی میں لگا بھی دوں گی۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے کہا۔
    ماہا نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر انہیں دیکھا ۔’’ گھٹنے میں درد ہے کیا؟‘‘
    اپنی ننھی جاسوس کے سوال پر وہ مسکرائیں۔ وہ جانتی تھیں جب تک اس کو وجہ نہیں بتائیں گی وہ یوں ہی ان کے پاس بیٹھی سوال پر سوال کرتی رہے گی۔
    ’’نہیں! گھٹنے میں درد نہیں ہے۔ بس صبح صبح اخبار پڑھا تو پھر کچھ کرنے کو دل نہیں کیا۔‘‘
    ’’اچھا!‘‘ اس نے اچھا کو لمبا کیا۔ ابھی وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی تھی کہ خبروں میں دل چسپی لیتی لیکن جب دادی یا بابا خبریں سنتے تو وہ بھی چپ چاپ بیٹھی ٹی وی پر نظر آتی تصویروں سے کہانیاں بناتی رہتی۔
    اماں جی نے محسوس کیا کہ وہ باہر جانے کو بے چین ہے اس لیے اس کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔’’ چلو باہر چلتے ہیں دیکھوں احمر اور بہو کیا کر رہے ہیں اور تم وہ پھول بھی لے آئو میں مالا میں پرو دوں۔‘‘ اماں جی کی بات سن کر وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
    ’’احمر بیٹا فارغ ہو؟ ایک بات کہنی تھی تم سے۔‘‘ اماں جی کچھ بات کرنے لگی تھیں کہ اچانک خبروں پر دھیان گیا۔ ٹی وی پر مختلف مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ برما اور شام میں ہوتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا ذکر، ٹوٹے پھوٹے گرتے تباہ شدہ مکان اور سیمنٹ اور گرد سے اٹے بے بس اور معصوم بچوں کے چہرے۔ اماں جی نے عینک کے شیشے صاف کیے اور چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں بھی پونچھیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ یہ خبریں دیکھتے ہوئے رو رہی تھیں اور ساتھ ہی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔
    ’’اے اللہ! اے میرے مالک! مسلمانوں کی مدد فرما، انہیں اس ظلم سے بچا، ان کی حفاظت کے لیے درد دل رکھنے والے اپنے بندوں کی مدد بھیج دے اے اللہ!‘‘
    ماہا نے اپنی امی اورابو کو بھی دادی کی دعا پر آمین کہتے ہوئے سنا۔
    اس کے ابو کہہ رہے تھے کہ یہ تو روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہر جگہ مسلمان تکلیف اور آزمائش کا شکار ہیں۔ اس کے جواب میں ماہا کی ممی بولیں برما کے حالات تو بہت برے ہیں، روہنگیا کے مسلمانوں سے تو رہنے کی جگہ بھی چھین لی۔ دنیا میں زمین کا کوئی ٹکڑا نہیں جسے وہ لوگ اپنا ملک کہہ سکیں۔
    اس کے ابو اب اماں جی کی بات سن رہے تھے لیکن اس کا ننھا سا ذہن ان سب کی باتوں میں اُلجھا ہوا تھا۔
    وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے ہاتھ میں اخبار تھا جسے وہ پڑھ تو نہیں سکتی تھی لیکن اس میں پٹیوں میں لپٹی بچی اسے بالکل اپنے جیسی لگی اس کی طرح چھوٹی سی، بکھرے بکھرے بالوں والی۔ وہ شاید رو رہی تھی لیکن اس کے منہ پر اتنی گرد لگی تھی تو پتا کیسے چلتا۔




  • معصوم سوال — ناہید حیات

    ’’دادی دیکھیں پھر میری گاڑی لے کر بھاگ رہی ہے۔ مجھے دے نہیں رہی۔‘‘ عون، ماہا کے پیچھے بھاگتا ہوا دادی کے کمرے میں داخل ہوا جو نماز پڑھنے کے بعد وظیفے میں مصروف تھیں۔
    ’’اِدھر آئو دونوں‘‘ دادی نے دونوں کو جائے نماز پر ہی اپنے دائیں بائیں بٹھایا۔ ماہا نے بھی گاڑی نیچے رکھ دی جسے عون نے جلدی سے اٹھا کر اپنی طرف رکھا اور تمیز سے دادی کے پاس بیٹھ گئے۔ دادی نے ان سے کلمہ اور نماز سنی، جو انہوں نے کچھ اٹک اٹک کے سنا دی۔ ’’چلو اب دُعا مانگو‘‘ دونوں نے اپنے ہاتھ دُعا کے انداز میں بلند کیے ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دے دے‘‘ آنکھیں بند کر کے انہوں نے طوطے کی طرح رٹی رٹائی دعا مانگی کیوں کہ آج کل گھر میں ہر کوئی ان بچوں سے یہی دعا منگوا رہا تھا۔ دادی نے جوش سے آمین کہا۔ ’’اُلو تمھارے تو پہلے ہی دو بھائی ہیں۔‘‘ پٹاخہ سی ماہا نے کہا۔
    ’’مگر دادی کہتی ہیں میں تم سب کا بڑا بھائی ہوں۔ کیوں دادی؟‘‘ عون نے چہرے پر رعب طاری کر کے کہا۔
    ’’تم میرے کزن ہو اور ہم دونوں سکس ایئر اولڈ ہیں‘‘ ماہا نے جتایا۔
    ’’میں سکس اینڈ آ ہاف ہوں‘‘ عون کو اپنا چھے مہینے کا بڑا پن بھی نہیں بھولتا تھا ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر دادی خشوع و خضوع سے دعا مانگنے لگئیں۔
    اچھے وقتوں کے بنے اس چھوٹے سے شہر کے بڑے سے گھر میں دادی اپنے تین بیٹوں ساجد، راشد اور واجد کے ساتھ رہ رہی تھیں جب کہ تین شادی شدہ بیٹیاں اپنے اپنے گھر میں خوشحال زندگی گزار رہی تھیں۔ دادا کا کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال ہوا تھا۔ ساجد اور راشد کی اکٹھی ہی شادی ہوئی تھی۔ ان کی مین بازار میں اچھی چلتی ہوئی کپڑے کی دُکان تھی جب کہ واجد ابھی غیر شادی شدہ تھا اور لاہور میں پڑھ رہا تھا۔
    اوپر تلے بچوں کی پیدائش سے گھر کا کام اور ذمہ داریاں بڑھنے کے باوجود مجموعی طور پر گھر کا ماحول خوش گوار ہی تھا جس کی وجہ دونوں بہوئوں مریم اور آسیہ کا آپس میں سگی بہنیں ہونے کے علاوہ دادی کی نرم اور صلح جو طبیعت بھی تھی۔ ساجد اور مریم کے تین بیٹے تھے بڑا عون اور اس سے دو سال چھوٹے جڑواں سعد اور فہد، جو اب چار سال کے ہو چکے تھے۔ راشد اور آسیہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ماہا، زویا اور پھر حبہ۔ حبہ کی پیدائش کے وقت کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹر نے آئندہ احتیاط کرنے کو کہا۔ چوں کہ آسیہ مرتے مرتے بچی تھی تو بیٹے کی شدید خواہش ہونے کے باوجود راشد نے کہہ دیا کہ تین بچے ہی بہت ہیں خود آسیہ نے بھی بہت دعائیں کی تھیں مگر اللہ کی مرضی کے آگے سر جُھکا لیا اور اب تو حبہ بھی ڈھائی سال کی ہو چکی تھی۔ دادی کو پوتیوں سے بے حد پیار تھا مگر جب راشد کو دیکھتیں ایک سرد آہ ان کے لبوں سے نکل جاتی۔ راشد کو بھی بیٹیوں سے بہت لگائو تھا آسیہ کا بھی خیال رکھتا مگر جب جب ساجد اپنے بیٹوں کو دکان پر لے جاتا یا مسجد میں وہ اس کے ساتھ جاتے تو وہ بڑی حسرت سے ان کو دیکھتا۔ ساجد ہمیشہ بچیوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتا اور راشد سے کہتا رہتا تھا کہ تمہیں ان کی فکر کی ضرورت نہیں۔ دادی کو بھی تسلی تھی کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق قائم رہا تو وہ یہ ذمہ داریاں مل بانٹ کر اٹھالیں گے مگر پھر بھی راشد کے دل میں کوئی کسک تھی، حسرت تھی یا خواہش جو دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اس کے رویے میں ایک کھچائو سا آگیا تھا۔ جو گھر میں سب نے ہی محسوس کیا تو آسیہ کیسے نہ کرتی اور تب ہی اس نے ایک بار اور قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ راشد نے بھی حبہ کی پیدائش پر جذبات میں آکر کہہ تو دیا تھا کہ تین بچے بہت ہیں مگر اب آسیہ کی خواہش کی مخالفت نہیں کی۔ مریم نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ جلد ہی اللہ نے امید لگائی تو دادی اور مریم نے اسے مکمل آرام دیا اور ہر طرح سے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرایا۔ جوں جوں دن قریب آرہے تھے لگتا تھا سب نے جائے نماز سنبھال لی۔ صدقہ، خیرات اور دعائیں جاری تھیں کوئی بچہ کچھ کھانے کو بھی مانگتا تو کہا جاتا پہلے دعا کرو اللہ چاچو کو بیٹا دے اور ماہا تو خود ہی پہلے دعا مانگتی: ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دینا‘‘ اور پھر اگلی بات شروع کرتی مگر جب دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی مصلحت صرف اللہ جانتا ہے، انسان تو صرف رونا پیٹنا ڈال دیتا ہے۔
    ایک عام سی صبح ماہا اور عون سو کر اٹھے تو گھر میں عجیب طرح کی خاموشی تھی روز والی بھاگ دوڑ نہیں مچی تھی۔ دادی بالکل خاموش اپنے بستر پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھیں اور مریم زوہا اور حبہ کو خاموشی سے ناشتہ کروا رہی تھی۔
    ’’امی کہاں ہیں۔‘‘ ماہا کو اُٹھتے ہی آسیہ کی غیرموجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔
    ’’وہ ہسپتال میں ہیں۔‘‘ آسیہ نے بتایا۔
    ’’تمھاری بہن پیدا ہوئی ہے۔‘‘ آسیہ نے یہ خبر جتنے غمناک انداز میں سنائی ماہا اور عون نے اتنی ہی خوشی کا اظہار کیا۔
    ’’ہمارے گھر چھوٹا بے بی آیا ہے۔‘‘ دونوں ہی یہ بھول گئے تھے کہ ’’بے بی‘‘ لڑکا ہے یا لڑکی۔ ان کے لیے یہ کافی تھا کہ اب کھیلنے کے لیے ایک کھلونا آرہا ہے۔
    ’’اچھا جلدی سے ناشتہ کر کے تیار ہوئے سکول جائو تاکہ میں ہاسپٹل جا سکوں۔‘‘ مریم نے کہا۔
    ’’ہم نے بھی بے بی دیکھنا ہے۔‘‘ ماہا نے ضد کی۔
    ’’نہیں بیٹا۔ ابھی اس کی طبیعت نہیں ٹھیک، شام کو چلے جانا۔‘‘ مریم نے بچوں کو تیار کر کے سکول بھیجا تاکہ سکون سے کام کر کے ہاسپٹل جا سکے۔
    تین دن ہاسپٹل رہ کر آسیہ ننھی سی لائبہ کو لے کر گھر آگئی۔ اپنی جان پر کھیل کر دنیا میں لانے والے وجود سے آسیہ تو زیادہ دیر غافل نہ رہ سکی مگر راشد نے تو اپنے جذبات چھپانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ ساجد اور تینوں بہنوں نے ہر طرح سے سمجھانے اور دل جوئی کرنے کی کوشش کی مگر اس کے چہرے پر جامد تاثرات رہتے۔ ڈھیر سارے دن ایسے ہی گزر گئے مگر راشد کے رویے میں فرق نہ آیا۔ دکان سے بھی وہ اکثر غائب رہتا۔ ساجد کافی عرصے سے دیکھ رہا تھا کہ اس کا اٹھنا، بیٹھنا کچھ اچھے لوگوں میں نہیں ہے۔ اس نے سمجھانے کی کافی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہ یار دوست ہی تھے جنہوں نے راشد کو گھر سے دور کیا ہوا تھا اور وہی ایسے الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے تھے کہ وہ تو مرد ہے کیا ہوا کہ ایک بیوی بیٹا نہیں دے سکی وہ دوسری لا سکتا ہے جب تک یہ باتیں گھر پہنچتیں اور گھر والے کچھ کر پاتے پتا چلا کہ راشد نے دوسری شادی کر لی ہے اپنے انہی دوستوں میں سے کسی ایک کی طلاق یافتہ بہن کے ساتھ۔ چھوٹے سے شہر میں یہ بات کب تک چھپتی اور راشد نے چُھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ آسیہ پر تو جو قیامت گزری سو گزری باقی گھر والے بھی ہکّا بکّا رہ گئے۔ سب نے ہی اس کے خوب لتے لیے مگر وہ ڈھیٹ بنا سنتا رہا۔ گھر میں عجیب ٹینشن بھرا ماحول تھا، جس میں بچے بُری طرح نظرانداز ہو رہے تھے۔ آسیہ سارا سارا دن روتی رہتی راشد گھر آتا تو دونوں کی زوروں کی لڑائی ہوتی۔ مریم پھرکی بن گھر کے کام کرتی، آسیہ کو بھی سنبھالتی اور دادی پوتیوں کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھرتیں ایسے میں ماہا اور عون دعا کرتے کہ چاچو ہی آجائیں کیوں کہ وہ ان سب سے خوب لاڈ کرتے اور باہر بھی لے جاتے مگر آج کل واجد کے ایگزامز ہو رہے تھے اس لیے وہ گھر نہیں آرہا تھا۔
    جاتی گرمیوں کی خوش گوار سی شام میں دادی باہر صحن میں چارپائی پر بیٹھی بچوں کو کوئی کہانی سنا رہی تھیں جب ساجد کے ساتھ بہت دنوں بعد راشد گھر آیا۔ زوہا اور حبہ باپ کے ساتھ لیٹ گئیں جب کہ ماہا دادی کے پاس بیٹھی رہی۔ لائبہ کمرے میں سو رہی تھی۔ آسیہ کچن سے دیکھ رہی تھی باہر نکلی اور حبہ اور زوہا کو کھینچ کر راشد سے الگ کیا۔




  • کیوئیں جاناں میں کون — مصباح علی سیّد

    اٹخ پٹخ، جھاڑ پونچھ، چیزیں یہاں سے اٹھا وہاں رکھ، وہاں کی اٹھائی سٹور میں اور سٹور کا فالتو سامان ردی والے کو، مہینوں سے رکھیں اوپر والوں کی چیزیں واپس جارہی تھیں اورعرصے دراز بعد اوپر سے نیچے والوں کا سامان واپس آرہا تھا۔ افراتفری کا ایسا عالم تھا جیسے کوئی نیا نیا مالک مکان آئے یا پھر چھوڑ کر جارہا ہو۔ چیزیں فرش پر بکھری اور بچے دیواروں پر ٹنگے، کیلیں مختلف چیزیں لگانے کے لیے ٹھونک رہے تھے۔ عرصے بعد شام کا بھولا گھر آرہا تھا بدنظر سے بچاؤ کے تعویز اور نقش خاص طور پر پیر جی سے لگاتے تھے اور ایسی جگہ لٹکانے تھے جہاں سے وہ گزرے۔
    ’’خالا…‘‘
    فارحہ اپنی قدرتی صور پھونکتی آواز میں ہانک لگاتی آئی اور کیل ٹھونکتے احمد کی ہتھوڑی کیل کے بجائے اس کے ناخن پر، صد شکر تکلیف سے توازن نہ بگڑا ورنہ وہ خالہ سمیت زمین پر ہوتا اس نے گردن گھما کر اُسے گھورا مگر وہ اطمینان سے استفسار کررہی تھی۔
    ’’امی پوچھ رہی ہیں، ہادی ماموں کو لینے کون کون جائے گا؟‘‘
    ’’وہ تو بارہا منع کررہا ہے، خود ہی آجاؤں گا۔ مگر میں سوچ رہی ہوں‘‘
    انہوں نے کان پر دوپٹہ اڑستے گویا مطلع کیا تھا ’’احمد اور علی دونوں کو بھیج دوں۔‘‘
    ’’خالا میں بھی چلی جاؤں… علی بھائی اور …‘‘ وہ قدرے جھجک کر بولی ’’احمد کے ساتھ…، اس کی شرماتی نگاہ احمد کی پیٹھ پر گئی اپنے نام پر اُس نے بھی مڑ کر دیکھا تھا اس کی آواز گرم پانیوں میں تیرنے لگی تھی۔
    ’’ارے… تم کیا کرو گی…؟‘‘
    خالہ نے گھورا اور ایک کیل احمد کو پکڑاتے متوجہ کیا تھا ’’برابر دو کیلیں لگا، سبز تعویز لٹکانا ہے، پیر جی نے کہا تھا، سبزے کے چھاؤں ہاری کو ہرا بھرا کردے گی۔‘‘
    ’’اے اچھا چلی جانا…‘‘ قدرے محبت سے دیکھا جیسے ہی مڑنے لگی خالہ نے ہانک لگائی۔
    ’’اس سوکھے بدن پر اپنا کالا جوڑا نہ لٹکا لینا، کالا رنگ سوگ کی علامت…‘‘
    اس کی فرما رواہلتی گردن پر احمد کا دل مسوس کررہ گیا۔
    ’’ہائے! کیا غضب ڈھاتی ہے، اس سوٹ میں، سیدھی دل میں لگتی ہے… ٹھاہ‘‘
    اس کا سارا غصہ کیل اور دیوار پر نکلا تھا…
    ’’ہادی ماموں، ہادی بھیا‘‘ ہر جانب اک ہی ورد تھا۔ ہادی، ہادی، ہادی… جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا بڑی آپانے سات دانے سرخ ڈوڈی مرچ کے اس پر سے وار کے آگ میں پھینکے۔ گھر کی پالتو بلی کو بہ طورِ خاص آج باندھ کر رکھا گیا تھا منحوس رستہ ہی نہ کاٹ دے۔ خوب ڈیل ڈول والی چھوٹی آپا بھی اِدھر اُدھر ڈولتی بڑھیں لمبی سی سبز بوتل سے چوکھٹ کے دونوں اطراف تیل ڈالا بھائی کی بلائیں لیں۔
    ’’امی یہ کیا…! فارحہ کی آواز اُبھری ’’تیل ڈال دیا تاکہ ماموں آتے ہی چوکھٹ رسید ہوجائیں۔‘‘
    امی سے پہلے خالہ کا چھانپڑ پشت پر لگا ’’کم بخت، منحوس ماری، بدفعال کیوں نکال رہی ہے، میرا لاڈلا بھائی کیوں گرنے لگا…‘‘
    فرطِ جذبات سے آگے بڑھیں پہلے ہادی کو گلے لگایا پھر پچڑ پچڑ پیشانی سے گال پر بوسے دے ڈالے۔
    ساتوں بھانجے بھانجیاں صوفے پر بیٹھے ہادی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ کوئی گری پھانکتا، کوئی موبائل پر میسج ٹائپ کرتا، کوئی میسج پڑھتی اور کوئی ماموں کے ساتھ سیلفی بناتا۔ گزرے دنوں کی یادیں تازہ کررہے تھے۔ بڑی اور چھوٹی آپا دونوں بہنیں ہونے کے ساتھ دیورانی جیٹھانی بھی تھیں۔ منٹ منٹ بعد اس کے واری صدقے جائیں۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز سے نظر اتار لیں۔ حالاں کہ چیزوں سے نظر اتارنے کہ بہ جائے خود کو اس پروار دیتیں یا کم از کم دل ہی بڑا کرلیتیں تو شاید آج ہادی کی زندگی میں سکون ہی ہوتا اور اس کی اجڑی صورت دیکھ کر غمزدہ نہ ہوتیں۔ غم بھی عجیب تھا سات سمندر پار سے برسوں بعد بھائی کی صورت دیکھنے کو ملی تھی۔ بڑا بھائی اللہ نے دیا نہیں چھوٹے کو ہی بھیا کہہ کر دل کی تسکین کرتی رہیں۔ دل کی تسکین بھی عجیب چیز ہے وہاں سے ہوتی ہے جہاں خواہشات ساتھ چھوڑ جائیں اور خواہشات کب مٹھی میں آتیں ہیں۔ اتنی جلدی ہاتھ سے ریت نہیں پھسلتی جتنی جلدی خواہشات پھسل کر سامنے منہ چڑھاتیں ہیں۔ چھوٹی اور بڑی دونوں کی شدید آرزو تھی ہادی کی خندہ پیشانی پر سنہری تاروں والا سہرا لہرائے پر خدا کی پناہ مجال کیا جو کوئی ڈھنگ کی لڑکی اس کے دل میں ٹھہری ہو، نظر سے گزری ہو، یا کسی معقول پر انگشت اشارہ ہی کیا ہو کتنا پوچھا مگر روزہ نہ کُھلا اور عمر پچیس سے بھاگتی پچاس کو چھونے لگی۔
    ’’ماموں آپ نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘
    احمد نے موبائل آف کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح درمیان سے جملہ نکالا ’’ہمیں اکلوتی ممانی سے محروم رکھ کر‘‘
    ہادی پوری بات سن کر دھیما سا مسکرا دیئے۔
    سدرہ نے بھی موبائل آف کرتے ہوئے احمد کی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ’’تو اور کیا… قسمت سے ایک ہی آنی تھی، وہ بھی نہ آئی…‘‘
    ’’اے کم بخت… آہستہ بولا کر…‘‘
    بڑی آپا نے انگلی کی پورکان کے سوراخ پر رکھی اور اسے نخوت سے گھورا ’’جس دن منحوس پیدا ہوئی تھی اس دن منڈیر پر اتنا کوا بولا کہ دم دینے کو ہوگیا اور اپنی ساری نخوت بھری آواز اس مصیبت کو ہدیہ کرگیا، جواب ہمارے کانوں کے پیچھے پڑی ہے‘‘
    بڑی آپا اس کی آواز سے انتہائی عاجز تھیں۔ مسلسل اُسے گھورتے کہتی رہیں ’’لو بھلا آوازنہ ہوگئی ایف 16- ہوکیا، کان کے پردے پھاڑ ایک سے گھس دوسرے سے نکل…‘‘
    احمد ماں کے تبصرے پر دل مسوس کررہ جاتا اُسے تو اتنی سریلی لگتی تھی کیا کوئل کی کوک ہو، دل کے ہر خانے میں ڈیرہ ڈالتی سی اُس تاسفانہ ماں کو دیکھا۔
    ’’جانے امی کو اس کی آواز سے کیا مسئلہ ہے، بھلا میرے دل سے پوچھے کوئی…‘‘
    احمد کی بڑابڑاہٹ سدرہ نے سن لی اور پلکیں پٹپٹاتے رخساروں پر گلال پھیلتا ہادی ماموں نے اُس کے چہرے پر محسوس کیا تھا پھر مونچھوں تلے ہونٹ مبہم سے پھیل گئے۔
    ’’ابھی کون سا بوڑھا ہوگیا ہے، لوگ ساٹھ ساٹھ کے شادی کرتے ہیں۔‘‘
    چھوٹی آپا ابھی تک پرانے موضوع میں الجھی تھیں۔ ’’اتنے برس پردیس لگایا، کرلیتا کوئی گوری پسند۔‘‘
    دل کو چیرتی تیز لہر سے بے قرار ہوکر اُس نے چھوٹی آپا کو دیکھا تھا وہ سوئے بیلو کے تکیے تلے لوہے کی چُھری چُھپانے میں مصروف تھیں۔ غالباً اُس کی شباب کی عمر آرہی تھی۔ رات کو بار بار کروٹیں بدلتا آنکھ کُھلتی، بے چین رہتا اور آپا کا کہنا تھا اوپری چیزیں ڈراتیں ہیں، لوہے کی کوئی تیز دھار اگر پاس ہو تو چیزیں بھاگ جاتیں ہیں، ہونہ آپا اور اُن کا تضاد۔
    ’’آپا، وہاں کی گوریاں مذہب اغیار سے ہوتیں ہیں۔‘‘




  • ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

    ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

    شاہ میر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا کھانے کا بے چینی سے انتظار کررہا تھا!
    کفگیر سے اُٹھنے والا شور اور چوڑیوں کی کھنک آپس میں مدغم ہو کر فضا میں جلترنگ بجا رہے تھے۔ شاہ میرکن انکھیوں سے ایک آدھ بار لائونج سے متصل باورچی خانے کی جانب دیکھتا۔ جہاں دانیہ مشینی انداز میں ہنڈیا میں کفگیر چلا کر روٹی بیلتی، اسے جلتے توے پر ڈال کر دوپٹے کے پلو سے اپنے ماتھے کا پسینہ خشک کرتی جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی۔
    شاہ میر پیشے کے اعتبار سے ایک نفسیاتی معالج ہے۔ وہ کچھ عرصہ قبل ہی اس نئے شہر میں آکرآباد ہوا۔ شہر کے پوش علاقے میں اس کا کلینک انتہائی قلیل عرصہ میں اپنی ساکھ قائم کرچکا تھا۔ شاہ میر اپنے والدین کا اکلوتی اولاد تھی۔ شومئی قسمت کے شاہ میر کے والدین اس کے بچپن ہی میں چل بسے۔ دانیہ سے اس کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی گذرے تھے۔ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر ایک لمحہ گزارنا محال تھا۔ جب شاہ میر کلینک میں ہوتا تو ہر ایک گھنٹے بعد دانیہ مختلف حیلے بہانوں سے اسے فون کرتی اور اس کے جلد گھر آنے کی تاکید کرتی۔ شاہ میر آج کلینک سے جلد واپس آگیا تھا۔ اس نے لباس تبدیل کیا اور فریش ہونے کے بعد کھانے کی میز پر آکر بیٹھ گیا۔ دانیہ نے جلدی جلدی کھانا ٹرے میں رکھا اور اسے بڑے سلیقے سے میز پر سجا دیا۔ دانیہ ٹیبل کی دوسری جانب بیٹھ کر شاہ میر کا پہلا لقمہ لئے جانے کا انتظار کرنے لگی۔ دانیہ نے شاہ میر کی پسند و ناپسند جانچنے کا ایک انوکھا پیمانہ کھوج لیا تھا۔ ایک روز دانیہ نے شاہ میر سے کہا:
    "جب آپ ڈیڑھ روٹی سے زیادہ کھاتے ہیں تو میں سمجھ جاتی ہوں کہ آج کھانا بہت اچھا پکا ہے۔” یہ بات شاہ میر کے علم میں آجانے کے بعد اس نے کبھی ڈیڑھ روٹی سے کم کھانا نہیں کھایا۔ خواہ کھانا اس کی پسند کا بنا ہو یا نہیں۔
    دانیہ نے پانی کا گلاس شاہ میر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا: "شاہ میر آپ کا کام بھی کتنا صبر آزما ہے نا۔ دن بھر طرح طرح کے مریضوں سے ملنا اور گھنٹوں بیٹھ کر ان کے مسائل سننا۔ اف خدایا کتنا بورنگ کام ہے۔ اگر کوئی میرے قدموں میں دنیا کی ساری دولت بھی رکھ دے تو میں یہ کام نہ کروں۔ سچ کہوں شاہ میرمجھے تو کبھی کبھی آپ پر رحم آنے لگتا ہے۔ قسم سے آپ کی ہمت کو بھی داد دینا ہوگی۔ آپ کا پورا دن کلینک میں مریضوں کی عجیب و غریب باتیں سُنتے ہوئے گذرجاتا ہے اور رات میں میری بکواس۔”
    یہ کہہ کر دانیہ ہنسنے لگی شاہ میر بھی مُسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ اپنے پروفیشن پر دانیہ کا تبصرہ سننا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ دانیہ کی باتوں سے شاہ میر کی سماعت اس کی معصومیت کا لُطف کشید کر رہی تھی۔ دانیہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
    "شاہ میر آپ نے اب تک سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا ہوگا۔ کیا کبھی کوئی ایسا مریض بھی آیا کہ جسے آپ کبھی بھلا نہ سکے ہوں۔”





    شاہ میر نے دوسری روٹی کا آخری لقمہ لیتے ہوئے سر ہلا کر ہاں کہنے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے ہاں کہنے کی دیر تھی کہ دانیہ نے شاہ میر کا بازو اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ "پلیز شاہ میر مجھے بھی اس مریض کے بارے میں کچھ بتائیے نا۔۔ پلیز۔” شاہ میر نے خالی پلیٹ ٹرے میں واپس رکھی اور ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا:” ہاں کیوں نہیں! بھلا میں تمھاری کوئی بات ٹال سکتا ہوں لیکن ایک شرط ہے ۔ پہلے ایک گرما گرم چائے ہوجائے۔۔۔”
    اتنا کہہ کر شاہ میر ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا۔ دانیہ نے جلدی جلدی برتن سمیٹتے ہوئے کہا: "بس اتنی سی بات، یہ تو بڑا سستا سوادا کیا آپ نے۔ ٹھیک ہے پھر آپ ہاتھ دھو لیجئے میں کمرے میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں۔۔” دانیہ کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی۔
    شاہ میر کمرے میں آکر ریلیکسنگ چئیر پر بیٹھا چائے کا انتظار کررہا تھا۔ چند ہی منٹوں بعد دانیہ شاہ میر کے لئے چائے اور اپنے لئے کافی بنا کر لے آئی۔ دانیہ نے چائے کا کپ شاہ میر کوتھمایا اور اپنا کافی کا مگ لئے وہیں نیچے قالین پر شاہ میر کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ شاہ میر نے دانیہ کے دمکتے چہرے کو نگاہ بھر کر دیکھا۔ دانیہ کی آنکھوں میں بے چینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ کسی بچے کی طرح شاہ میر کے قدموں میں بیٹھی کہانی سُننے کا انتظار کرنے لگی۔ شاہ میر نے چائے کا کپ اٹھایا اور پھر اپنے سامنے لگی پینٹنگ پر نظریں گاڑ دیں۔۔ شاہ میر کی آنکھوں میں وہ بیتے دن روشنی کے چھوٹے چھوٹے نقطوں کی صورت بڑھتے بڑھتے ایک جگہ مرکوز ہوکر ہیبت ناک روشنی کے گولوں میں بدل گئے۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں وہ روشنی کا گولہ اس کی پیشانی سے ٹکرا گیا۔ کرب میں ڈوبی آوز کے ساتھ جو نام فضا میں گونجا وہ تھا۔۔۔۔
    سجل۔۔۔۔
    "کون سجل؟” دانیہ کے سوال نے رنگ و نور کے آتش فشاں کے دہانے پر جیسے پتھر رکھ دیا۔۔۔۔ کہانی ندی کی طرح ڈھلوان کی جانب بہنے لگی۔۔۔۔۔ شاہ میر نے اپنی توجہ سامنے لگی پینٹنگ پر ہی مرکوز رکھی اور کہا۔
    "میری پیشنٹ”
    "تو وہ پیشنٹ ایک لڑکی تھی؟”
    "ہاں۔۔۔”
    "دانیہ وہ عام لڑکیوں سے بالکل مختلف تھی۔ خدا نے سجل کی مٹی کو پانی سے نہیں بلکہ خلد بریں میں بہتی کسی دودھ کی نہر سے گوندھا تھا۔ دن کو رات کرتے ہوئے خوب صورت بال خدوخال میں وہ پاکیزگی اور لطافت تھی کہ حوریں شرما جائیں—”
    "کیا وہ واقعی اتنی خوبصورت تھی۔ کیا مجھ سے بھی زیادہ ؟ ” دانیہ کا اپنے شوہر کے منہ سے کسی اور لڑکی کی تعریف سُن کر یہ سوال پوچھنا ایک فطری رد عمل تھا، جسے شاہ میر نے سنی ان سنی کرکے اپنی کہانی جاری رکھی:” ہاں دانیہ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔ سجل کے سہانے مکھڑے پر ہمیشہ موہنی اور دل نواز اُداس سی مسکراہٹ کھیلتی رہتی، بس یوں سمجھو کہ وہ حسن کی ایک بہتی ندی تھی۔”
    "تو جناب کا دل آگیا تھا اپنی مریضہ پر۔ اچھا ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر وہ اتنی ہی خوبصورت تھی تو آپ نے اس سے شادی کیوں نہیں کی۔”۔۔۔۔
    "سچ کہوں دانیہ پہلی بار اسے دیکھ کرتو میرا دل بھی بہت زور سے دھڑکا تھا لیکن پریوں کو شہزادے چُرا لے جاتے ہیں یا پھر دیو اُن پر اپنا حق جماتے ہیں اور مجھے تلاش تھی ایک مٹی سے بنی گڑیا کی۔ جو تمھارے مل جانے سے ختم ہوئی۔”
    "اچھا ڈاکٹر صاحب اب زیادہ باتیں نہ بنائیں۔ مجھے کچھ اور بتائیں اپنی اس خوبصورت مریضہ سجل کے بارے میں”۔۔۔
    "سجل اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بی اے کا امتحان دینے کے بعد وہ گھر میں فراغت کے دن گذار رہی تھی۔ سجل شام میں اپنا وقت مکان کی چھت پرایک کپ کافی کے ساتھ گذرا کرتی وہ کافی ایڈیکٹیڈ تھی۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ اپنے گھونسلوں کی جانب واپس پلٹتے ہوئے پرندوں کو دیکھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن پھر ایک روز شام کے گہرے سائے اس کی ساری خوشیاں نگل گئے۔ مدھم پڑتا سورج اس کے چہرے کی بشاشت اور موہنی مسکراہٹ اپنے ساتھ لے کر ڈوب گیا۔” اتنا کہہ کر شاہ میر خاموش۔ دانیہ نے کافی کے مگ سے ایک گھونٹ لیا اور شاہ میر سے تجسس بھرے انداز میں پوچھا۔۔۔۔
    "کیا ہوا تھا اس شام کو ؟” شا ہ میر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "وہ ایک سرد شام تھی۔ اس روز ہوا بھی معمول سے ذرا کچھ زیادہ ہی تیز چل رہی تھی۔ سرد ہوائیں دائروں میں گھومتی ہوئی زمین پر اٹھکھیلیاں کر رہیں تھی۔ ہر روز کی طرح سجل اپنا کافی کا کپ لے کر چھت پر آئی اور بید سے بنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ دوسری کرسی کو خود سے قریب کیا اور اپنی کمر کو تھوڑا نیچے سرکا کر اپنے پیر دوسری کرسی پر رکھ لیے۔ سجل کے لمبے سیاہ بال ہوا کے جھونکوں سے اُڑ کر اس کے چہرے پر بار بار بکھر نے لگے۔ اس نے کافی کا مگ بید کی لکڑیوں سے بنی میز پر رکھا اور بڑی نفاست سے اپنے بالوں کا جوڑا گوندھ لیا۔ آسمان پر اُڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھتے دیکھتے کب سجل کی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔ سارے پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب لوٹ چکے تھے۔ سورج کب کا اپنی روشنیاں سمیٹ کر آسمان سے غائب ہوگیا تھا۔ جب سجل نیند سے جاگی تو اپنے چاروں جانب اندھیرا دیکھ کر سٹپٹا گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا ہے۔ وہ سمجھی کہ اس کی والدہ اس کی پشت پر کھڑی ہیں لیکن جب سجل نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پا کر گھبرا گئی۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں اس کے ذہن میں کئی خیال آئے اورگئے۔ بدحواس ہو کر وہ کرسی سے اٹھی اور سیڑھی سے نیچے کی جانب دوڑ لگادی۔ سجل تیزی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا۔۔۔۔
    اس دن کے بعد وہ سارا سارا دن اپنے کمرے میں بند رہا کرتی یا پھر اپنی والدہ کی گود میں سر رکھے روتی رہتی۔ اپنی چاند سی بیٹی کو یوں گہن لگتا دیکھ کر سجل کی والدہ کا دل دُکھ سے بھر جاتا۔۔۔۔ اس کی والدہ کے دل میں سو طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
    "کیا ہوا تھا سجل کو۔۔۔؟ وہ اس طرح کیوں behave کر رہی تھی؟۔۔۔۔ "دانیہ اپنی بے چینی پر قابو نہ رکھ سکی اور جھٹ سے سوال کر ڈالا۔۔۔۔۔
    "اس شام جب سجل نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کیا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ ان دیکھا سایہ بھی اس کا تعاقب کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوگیا۔ سجل دُبک کر اپنے بستر پر لیٹ گئی اور خود کو کمبل سے ڈھانپ لیا۔ سجل نے محسوس کیا کہ پورے کمرے میں ایک پُر اسرار سی خوشبو پھیل گئی ہے۔ وہ خوفِ کی شدت سے کانپ رہی تھی۔ دسمبر کی سرد ہوائوں کے باوجود اس کا پورا بدن پسینے سے بھیگ رہا تھا۔ ڈر اور خوف سے اس کا حلق خشک ہوگیا ۔ وہ چلّا کر اپنی والدہ کو بلانا چاہتی تھی لیکن پھر اسے خیال آیا کہ گھر میں اس وقت کوئی اور موجود نہیں۔ والد دکان سے رات دس بجے کے بعد آئیں گے اور والدہ پڑوس میں کسی کی مزاج پرسی کے لئے گئی ہوئی ہیں۔ اسے اپنے اکیلے پن کا شدت سے احساس ہونے لگا۔ چند منٹوں بعد کمرے سے وہ پُراسرار خوشبو غائب ہوگئی۔ سجل کو ایسا محسوس ہوا کہ اب سے کچھ دیر پہلے جو کوئی بھی کمرے میں تھا وہ اب موجود نہیں۔ اس نے ہمت کرکے کمبل کا کونا اپنے چہرے سے ہٹایا اور کمرے میں چاروں جانب دیکھنے لگی۔ اسی لمحے ڈور بیل بجی ۔ اس نے اپنے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور سیدھا دروازے کی جانب دوڑی۔ گھر کا دروازہ کھولا تو سامنے اپنی والدہ کو کھڑا پاکر ان سے لپٹ کر زور زور سے رونے لگی۔ سجل کی والدہ اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ وہ گھبرا گئیں۔ انھوں نے دروازے پر کھڑے رہ کر ہی گھر کے اندر جھانکا اور کسی چور کے موجود نہ ہونے کی تسلی ہوجانے پر سجل کو اپنے ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوگئیں۔ سجل نے روتے روتے سارا ماجرا اپنی والدہ کو کہہ سنایا۔ رات کو جب سجل کے والد دکان سے گھر آئے تو اس کی والدہ نے پورا قصہ دسترخوان پر ہی ان کے سامنے دُہرا دیا۔ سجل کے والد کُھلے ذہن کے مالک تھے اور دقیانوسی خیالات سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انہوں نے سجل کا ماتھا چوما اور اسے سجل کا وہم قرار دیا لیکن سجل کے دل میں خوف اب بھی ڈیرہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سجل دن میں کئی بار اس پراسرار خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کرتی۔۔۔۔ وہ پُراسرار خوشبو سجل کی آنکھیں بن چکی تھیں۔۔۔۔۔۔ وہ سایہ جب سجل کے نزدیک آتا تو خوشبو اور تیز ہوجاتی۔ یہاں تک کہ اس کی گرم سانسیں بھی سجل اپنے چہرے پر محسوس کرسکتی تھی۔ سجل اس ان دیکھے سائے کو اپنے اتنا قریب پاکر خوف زدہ ہوجایا کرتی اور پاگلوں کی طرح چیختی چلاتی۔۔۔۔۔۔ ہر رات خوف کا بھیانک پرندہ سجل کے وجود کو اپنے بڑے بڑے پنجوں سے دیوانہ وار کُھرچتا اور اپنی بدصورت چونچ سے سجل کی روح تک نوچ لیتا تھا۔۔۔
    ٭٭٭٭




  • جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

    جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

    تین گھنٹے قطار میں کھڑا رہنے کے بعد میری باری آنے والی تھی مگر بڑی اماں کب سے آگے کھڑی شناختی کارڈ کا فارم وصول کرنے والی خاتون سے بحث میں مصروف تھیں ۔بڑی اماں کے یہ الفاظ میرے کانوں سے کئی بار ٹکرائے۔
    ’’بیٹا! مجھے حج پر جانا ہے۔ دن بڑے تھوڑے ہیں۔ بار بار چکر نہ لگوائو۔‘‘
    ’’تصدیق کرنے والی کا شناختی کارڈ نمبر صحیح نہیں۔ ٹھیک کرا کے لائیں تو فارم جمع ہوگا۔‘‘ بڑی اماں کو کائونٹر والی کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی اور کائونٹر والی انہیں ہٹا کر باقی لوگوں کو بھگتانا چاہتی تھی۔ اس نے بڑی اماں کو انتہائی بے زاری سے ایک طرف ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور مجھے فارم پکڑانے کا اشارہ کیا مگر بڑی اماں آگے بڑھنے کی بہ جائے تھوڑا سا کھسک کر ایک جانب کھڑی گئیں اور میں نے بازو دوسری طرف سے گھما کر فارم پکڑا دیا۔ کائونٹر والی خاتون نے فارم اور اس سے منسلک نقول دیکھ کر اصل بھی مانگیں اور تھوڑی سی نکتہ چینی کے بعد میرا فارم جمع کر لیا جس پر مجھ سے پیچھے کھڑے دو افراد نے مبارک باد دی۔ بڑی اماں وہیں ایک طرف کھڑی فارم کو تکے جا رہی تھیں۔ میں نے واپس جانے کے لئے مڑتے ہوئے انہیں دیکھا تو وہ مجھے متوجہ پا کر جھٹ سے بولیں۔
    ’’بیٹا!ایک فون کر دو گے؟‘‘
    ’’جی ماں جی۔‘‘ میں اپنی جیب سے فون نکال رہا تھا کہ اتنی دیر میں بڑی اماں نے اپنا سمارٹ فون مجھے پکڑا دیا جو کافی قیمتی معلوم دیا۔
    ’’بیٹا! میڈم ناصرہ کا نمبر ڈھونڈ کر فون ملا دو۔ ‘‘
    تین بار نمبر ملایا مگر ہر بار گھنٹی بجتی رہی، کسی نے فون اُٹھایا نہیں۔ بڑی اماں کو بتایا تو انہوں نے خودکلامی کی کہ اب فلاں سکول جانا پڑے گا۔ سکول کا نام سُن کر چونکا کیوں کہ وہ میرے راستے میں پڑتا تھا۔ میں نے بڑی اماں کو سفری خدمت کی پیشکش کی تو وہ خوشی خوشی دعائیں دیتی ساتھ چل پڑیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ مختلف سوالات کرنے لگیں اور میں بے زاری سے جواب دیتا رہا۔
    جب سکول پہنچے تو بڑی اماں مجھے تھوڑی دیر رکنے کا کہہ کر اندر چلی گئیں لیکن جلد ہی واپس آگئیں کہ میڈم ناصرہ جا چکی تھیں۔ بڑی اماں نے بتایا: ’’پاس ہی میرا گھر ہے۔ وہاں چھوڑ دو۔کل بھانجے کے ساتھ سکول آئوں گی۔‘‘
    میں نے بڑی اماں کی ناک پر ٹکے موٹے شیشوں والے چشمے میں سے ان کی آنکھوں کو دیکھا جو ملتجی تھیںاور اثبات میں سر ہلادیالیکن خود کو کوسا کہ نیکی کے چکر میں کہاں پھنس گیا۔ ایک تسلی بھی تھی کہ کچھ دیر سکون سے بیٹھوں گا۔ تھکاوٹ سے برُا حال ہے۔ گھر گیا تو بیگم کے احکامات کی بجاآوری سے فرصت نہ ملے گی۔ جب ہم سکول سے تھوڑا آگے جا کر ایک گھر کے سامنے رُکے تو میں نے ایک نظر بڑی اماں پر ڈالی اور دوسری جدید طرز تعمیر سے بنے مکان پر… کوئی میل نظر نہ آیا۔ بڑی اماں نے جس کمرے میں بٹھایا، اس کی مدت سے کسی نے جھاڑ پونچھ نہ کی تھی۔ میں نے صوفہ نما کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اس کی نشست اور پشت پر خود ہی ہاتھ پھیر کر تسلی کر لی تھی کہ دوسرے صوفے شان دار نظر آنے کے باوجود مٹی سے اٹے نظر آ رہے تھے۔ پورے کمرے میں بس ایل سی ڈی کی سکرین صاف تھی یا ایک طرف جدت سے بھرپور آڑے ترچھے شیلف پر شیشے کے فریم میں سجی تصویرچمک رہی، جس میں کئی چہرے قید تھے۔
    دیواروں پر لکڑی کا کام کیا گیا تھا جو اب تک جاذب نظر تھا گو غبار نے کچھ دھندلا دیا تھا۔ چھت کے چاروں کونے مکڑی کی بے مثال کاری گری کے نمونے پیش کر رہے تھے۔ فانوس کی چار لڑیوں کے درمیان بھی مکڑیوں نے جال کسا ہوا تھا۔ میز پر رکھے شیشے کے کناروں میں مٹی اور بھی نمایاں تھی۔ گل دان میں رکھے مصنوعی آرائشی پھولوں کا رنگ بڑی اماں کے بالوں کی طرح بدل چکا تھا۔ بڑی اماں کی عینک کے شیشوں کے پیچھے نظر آنے والے سیاہ حلقوں کی پرچھائیں نرم و ملائم سُرخ قالین پر پڑ رہی تھیں اور میں ان میں کھویا ہوا تھا کہ بڑی اماں شیشے کا جگ اور گلاس لئے آئیں۔ میں ٹھنڈے مشروب سے پیاس بجھانے لگا اور وہ یادوں کے چراغ جلانے لگیں۔
    بڑی اماں نے آغاز مرحوم شوہر کے آخری ایام کی بپتا سے کیا، جو پیسوں اور دوائوں کی فراوانی کے باوجود کسی کے انتظار میں روتے روتے کٹے تھے۔ پھر پوتوں کی شرارتوں اور پوتیوں کے لاڈ بھرے قصے سنا سنا کر ہنسنے لگیں۔ کبھی دبئی میں رہنے والے بڑے بیٹے کی کہانی چھیڑدیتیں تو کبھی جاپان میں مقیم لاڈلے کی… اس کی ختم ہوتی تو امریکا میں بسے منجھلے کی باری آجاتی۔ بھانجے کی خوب تعریف سنی کہ کہیں آنا جانا ہو، وہ گاڑی لے آتا ہے۔ گھر کا سودا سلف بھی وہی لاتا ہے۔ بڑی اماں کو بھانجی سے شکوہ تھا کہ اس نے کبھی گھر کی صفائی میں حصّہ نہیں لیا۔ اب وہ بوڑھے ہاتھوں سے کتنی گرد جھاڑ سکتی ہیں۔ بھانجی کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ کبھی کچھ پکا کر دے جائے حالاں کہ قریب ہی رہتی ہے البتہ اسی بھانجی کی اماں کا ذکر کرکے نہال ہوتی رہیں کہ جب کبھی آتی ہے، کچھ نہ کچھ کر جاتی ہے اور بہت کچھ اپنی ملازمہ سے کرا دیتی ہے۔ میں نے کہا: ’’آپ بھی ایک کام والی رکھ لیں۔‘‘ تو بڑی اماں بولیں: ’’اس عمر میں کہاں نوکروں پر نظر رکھتی پھروں گی۔ ‘‘ اور لگے ہاتھ انہوں نے دو سابق ملازموں کی کہانیاں بڑی تفصیل سے سُنا دیں جن میں سے ملازمہ کا ذکر زیادہ دلچسپ تھا۔ میں حیران تھا کہ بڑی اماں نے پوتے پوتیوں سے لے کر بہن بھائیوں کے نام تک گنوا دیئے ہیں مگر اپنی بہوئوں کے متعلق کچھ بھی نہیں کہہ رہیں، تعریف تو دور کی بات… ایک آدھ جلی کٹی ہی ہو جائے لیکن ان کی باتیں گھوم پھر کر بیٹوں کے نیک و صالح ہونے پر آجاتیں ۔ میں نے تنگ آ کر بڑی اماں سے پوچھا: ’’آپ کے فرماں بردار بچے کبھی پاکستان نہیں آتے؟‘‘
    بڑی اماں کچھ دیر کے لئے فانوس میں بنے جال میں جھولنے لگیں، پھر ہولے سے بولیں: ’’آتے تھے۔ جب سے بیوی بچوں کے ساتھ گئے ہیں، واپس نہیں لوٹے۔ اب پیسے آتے ہیں یا کبھی فون آ جاتا ہے۔ تسلی مل جاتی ہے مگر … ‘‘
    ’’تو آپ ان کے پاس چلی جائیں۔‘‘ میرے منہ سے یہ بات برملا نکل گئی جو بڑی اماں کو گولی کی طرح اندر سے چھلنی کر گئی۔ وہ دو گھنٹے سے لگا تار باتیں کئے جا رہی تھیں، اب اچانک خاموش ہو کررہ گئیں اور قالین سے چپکی پرچھائیاں دیکھنے میں ایسے کھو گئیں کہ مجھے محسوس ہوا جیسے ہم دونوں میں سے کوئی ایک وہاں موجود نہیں گو ان کے پاس کہنے کے لئے ڈھیر ساری باتیں تھیں جنہیں سنتے سنتے شام ہو سکتی تھی اور رات کا سحر توڑتا سویرا ہو سکتا تھا مگر انہیں چُپ لگ گئی تھی۔ وہ نظریں جھکائے پرچھائیوں میں روشنی ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں اور کچھ دیر بیٹھ سکتا تھا مگر اون سے بُنے قالین پربل کھاتی سیاہی جیسی خاموشی مجھے ڈسنے لگی اور میں بوجھل دل کے ساتھ کرسی سے اٹھ گیا۔
    بڑی اماں مجھے چھوڑنے دروازے تک آئیں۔ وہ کواڑ کھولے اندر اور میں باہر کھڑا تھا۔ ان کے لب مسلسل ہل رہے تھے اور میری نگاہیں متحرک تھیں۔ جب دعائوں کی گٹھڑی کافی بھاری ہو گئی تو میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ بڑی اماں پر آخری نگاہ ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ میرا دھیان کہیں اور تھا اور میں جا کہیں اور رہا تھا۔ تھوڑا آگے جا کر موڑ کاٹ ہی رہا تھا کہ ایک سائیکل سوار سامنے آگیا ۔ میں نے بروقت بریک لگائی لیکن سائیکل سوار ڈر کر توازن کھو بیٹھا اور پیچھے بیٹھی خاتون سمیت گر گیا۔ گاڑی سے نکل کر دیکھا تو اچھی قامت مگر بری صحت کا مالک نوجوان اپنی اماں کو سنبھال رہا تھا۔ چند راہ گیر بھی رک گئے تھے اور غصیلی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ۔ میں شش و پنچ کے بعد گاڑی کا دروازہ بند کر کے آگے بڑھا اور بھیڑ میں راستہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ’’کسی کو چوٹ تو نہیں لگی۔‘‘
    ’’بائو تُو کسر تے کوئی نئیں سی چھڈی۔‘‘کسی کی آواز آئی اور میرے ماتھے پرپسینے کے اٹھکھلیاں کرتے قطرے ناک سے ہوتے ہوئے ہونٹ تر کرنے لگے، جو اس وقت زیادہ ہی خشک ہو رہے تھے۔ میں معذرت کے لیے الفاظ ٹٹول رہا تھا مگر دوسری طرف سے کچھ آنکھیں اور زبانیں چھید پر چھید کئے جا رہی تھیں۔ سائیکل سوار ابھی اپنی اماں کو ایک راہ گیر سے ملی پانی کی بوتل سے پانی پلا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ جب اس کا دھیان میری طرف جائے گا تو کیا ہوگا گو میرے سامنے اس کی کیا حیثیت … لیکن موقع پر کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا کہ نوجوان پانی پلا کر جونہی پلٹا، اس نے میرا گریبان پکڑ لیا اور میں نے اس کی کلائیوں پر ہاتھ جما دیئے۔ وہ گریبان بھنبھوڑتے ہوئے ایسے الفاظ سے نوازنے لگا جولڑائی کے دوران میں استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ راہ گیروں نے ہم دونوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھے گھونسا مارتا یا میں اس کی پسلی میں مکا رسید کرتا ، بڑی اماں چیختی ہوئی آگے آئیں اور اسے کھینچ کر پیچھے لے گئیں۔
    ’’چھڈ پُت ، نہ لڑ، رہن دے ، اے گڈیاں والے تے ہندے ای انھے نیں۔‘‘
    ایک بڑی اماں سے رخصت ہوا تھا تو کسی شاعر کا مصرع بھٹکا رہا تھا ۔دوسری نے وداع کیا تو تھپڑ جُھلسا رہا تھا۔




  • سراب — زارا رضوان

    جیسے ہی میسج کی بیپ بجی اس نے فورا موبائل اٹھایا اور میسج پڑھنے لگی۔ چہرے پر مدھم مسکراہٹ بکھر گئی۔ الٹے ہاتھ سے بریڈآملیٹ کھاتے ہوئے سپیڈ سے میسج ٹائپ کرنے لگی۔ رقیہ بیگم نے تیکھی نظروں سے دیکھا۔ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات واضح تھے۔
    ’’کبھی چھوڑ بھی دیا کرو اِس منحوس کاپیچھا۔ جسے دیکھو اِسی میں گھسارہتا ہے جیسے کھانے کو پیسے دیتا ہو۔‘‘
    ’’امی جان ضروری نہیں ہر چیز کھانے کے لیے پیسے دے۔ کچھ چیزیں اِنسان کوتفریح اور سکون دینے کے لیے ہوتی ہیں۔‘‘ ساتھ ساتھ ٹائپنگ جاری تھی۔
    ’’اِس میں سکون کہاں ہے؟ سکون چاہیے تو نماز پڑھو، قرآن پڑھو ، اللہ کو یاد کرو۔‘‘رقیہ صابرنے بریڈ پر جیم لگا کر اس کی پلیٹ میں رکھا۔ وہ خاموشی سے میسج ٹائپ کرتی رہی۔
    ’’بعد میں بات ہوگی۔ آئی ایم ہیونگ بریک فاسٹ ۔‘‘ میسج سینڈ کیا پھر ٹیبل پر پڑی چیزوں کی تصاویر بنانے لگی۔ موبائل ایپ سے اچھی طرح امیج کو ایڈٹ کیا، کیپشن لگا کرپوسٹ کا بٹن دبا دیا۔وہ جانتی تھی تھوڑی ہی دیر میں لائک اور کمنٹس کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اُس نے موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
    ’’یہ لیں رکھ دیامنحوس کو، اب خوش۔‘‘ر قیہ بیگم نے اس کی طرف دیکھ کر منہ بنایا اور پھر چائے پینے لگ گئیں۔ مسکراہٹ اب تک اس کے چہرے پر رقص کر رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’حد ہے تھوڑا صبر نہیں کر سکتے ناشتہ کر رہی تھی۔‘‘ گاڑی کا ہارن سُن کر ایمن بھاگی بھاگی آئی۔ سانس پھولا ہوا تھا چہرہ دھوپ کی تمازت سے چمک رہا تھا۔
    ’’تھوڑا سا ؟ میڈم پچھلے بیس منٹ سے کھڑا ہوں۔روز مجھے آفس کے لیے لیٹ کروا دیتی ہو۔ اب بیٹھو بھی۔ ‘‘ اسے کھڑا دیکھ کر بولا تو وہ فوراً بیٹھ گئی۔
    ’’یہ تم کیا ہر وقت فیس بک میں گُھسی رہتی ہو۔ جب دیکھو موبائل ہاتھ میں رہتا ہے۔ کبھی تو جان بخش دیا کرو۔‘‘ ایمن کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کرراحیل جل ہی تو گیا۔
    ’’جان کس کی بخشوں؟ فیس بک کی یا موبائل کی؟‘‘ بات کاٹ کر ٹائپنگ کرتے ہوئے ایمن نے شوخی سے کہا۔
    ’’ہوسکے تو دونوں کی۔‘‘ راحیل نے تپ کرجواب دیا۔ اس کی شوخی راحیل کو ایک آنکھ نہ بھائی مگر ایمن نے کوئی جواب نہ دیا اور کمرے کی جانب بڑ گئی۔
    ٭…٭…٭





    مسٹر فیک بک کی طرف سے ایک شعر ٹیگ کیے جانے پرکتنی دیر وہ اِن لفظوں کے حصار میں کھوئی رہی۔ لائک کا بٹن دبا کر پوسٹ میں دِل والا آئی کن منتخب کیا۔
    ’’کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں جو ابھی تک اپنی تصویر نہیں دِکھائی نہ ہی اپنا نمبر دیا؟‘‘تھوڑی دیر بعد مسٹر فیک بک کامیسنجرپر میسج آیا ۔
    ’’تو تم نے کون سا اپنا نام بتایا ہے اب تک؟‘‘ فوراً جواب دیا۔
    ’’اُف! تم بھی کمال کرتی ہو۔ میری تصاویر مع میری فیملی کی تصاویر دیکھ لیں ۔ اب بھی نام کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ ‘‘
    ’’بالکل‘‘ مختصر سا جواب ملا۔
    ’’تم نے بھی تو اپنے نام پر آئی ڈی نہیں بنائی۔ سوئٹ پرنسز میں نے کبھی اعتراض کیا؟ نہیں نا۔ کیوں کہ میرے لیے تم پرنسز ہی ہو۔‘‘ سوئٹ پرنسزکا دِل دھڑکا۔
    ’’میری بات اور ہے۔ تم مجھے پرنسز کہتے ہو وہ ٹھیک ہے لیکن مجھے تمہیں مسٹر فیک بک کہہ کر مخاطب کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔ آئی مین تم خود سوچو نقلی کتاب۔‘‘
    ’’حقیقت ہے جناب! فیس بک میں سب فیک ہوتا ہے، اسٹیٹس، تصاویر، جنس، جگہ ،سب نقلی دنیا ہے حقیقت سے کوسوں دور۔‘‘
    ’’خیر اب ایسا بھی نہیں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے فریب و جھوٹ کی بہ جائے اپنا اصل پیش کیا ہے اور فیس بک چلا رہے ہیں۔‘‘ سوئٹ پرنسز نے اس کی بات سے اِختلاف کیا۔
    ’’میں نے کب اِنکار کیا اِس بات سے۔ وہ لوگ سیلیبرٹی ہیں یا شاعر، رائٹر یا سنگر وغیرہ جن کو سب جانتے ہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو فیملی فرینڈز سے فرینڈز تک چلے آرہے ہیں۔‘‘ مسٹر فیک بک کی بات پر اس نے لائک کا آئی کن بنایا۔
    ’’اچھا! چلو اِک کام کرتے ہیں۔ تم مجھے اپنی تصویر دِکھاؤ، میں تمہیں اپنا نام بتا دوں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘ مسٹر فیک بک نے ڈیل کی۔ کافی دیر تک وہ لیپ ٹاپ کو تکتا رہا لیکن میسنجرمیں کوئی میسج نہ آیا۔
    ’’یہ کیسی شرط ہے؟‘‘کافی دیر بعد اس نے جواب دیا۔
    ’’شرط؟ محبت شرط سے ماورا ہوتی ہے پرنسز۔‘‘
    ’’محبت؟ ہم اچھے دوست ہیں۔ محبت کے لیے ایک دوسرے کو جاننا ضروری ہے، مراسم ضروری ہیں۔ ایسے کیسے محبت ہو سکتی ہے؟‘‘ مسٹر فیک بک کے اِس میسج نے اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی بھر دی۔
    ’’تم مجھے جانتی ہو۔ مجھے دیکھا ہوا ہے۔ کیا جاب کرتا ہوں اس سے واقف ہو۔ مجھے دیکھو صرف تمہاری آئی ڈی کو لے کر چل رہا ہوں مگر پھر بھی محبت ہو ہی گئی جس دِن تمہارا میسج نہیں آتا دِل بے چین ہو جاتا ہے۔ صبح ، دوپہر، شام، رات تمہارے میسج کی ڈوز چاہیے ہوتی ہے۔ اپنافون، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ادھورا لگتا ہے بلکہ نہیں ادھورا تومیں خود ہو جاتا ہوں۔‘‘
    میسج دیکھ کر اس کا دِل دھڑکا۔ کافی دیر ٹٹولا تو پتا چلا ایسا تو اس کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جب تک مسٹر فیک بک کا میسج نہ آئے وہ بے چین رہتی ہے، بار بار موبائل چیک کرتی ہے۔ اپنا اِنٹرنیٹ پیکج کبھی ختم ہونے نہیں دیتی جب کہ باقی فرینڈز کے لیے اس کی سوچ ایسی نہیں ہے اور نہ ہی دِل یوں دھڑکتا ہے۔
    ’’کہاں گئی؟‘‘ کافی دیر تک جواب نہ ملنے پر میسج آیا۔
    ’’بعد میں بات کرتی ہوں۔ کھانا کھا لوں۔‘‘ جلدی سے رپلائی کیا اور کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی۔
    ’’سمجھ بیٹھاکہ تمہیں محبت ہوگئی ہے مجھ سے، ہائے میں تو غلط فہمی کا شکار ہوا۔
    میسج کی بیپ ہوئی تو منہ تک جاتا نوالہ رک گیا۔ کھانا کھاتے میسج پڑھا تو دِل کو بے سبب، بے وجہ بے قرار پایا۔اُلجھی سوچیں ، منتشر دھڑکن اور بے چین پل، کھانے میں رغبت ختم ہوچکی تھی۔
    اُس کے دل کی آنکھوں نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔
    ٭…٭…٭
    ’’ایمن۔‘‘
    ’’جی ابو۔‘‘ صابر صاحب کے پکارنے پر کمرے تک جاتے اُس کے قدم رُک گئے۔
    ’’بیٹا اگرکسی ٹیسٹ وغیرہ کی تیاری نہیں کر رہی تو ایک کپ چائے بنا دو۔ تمہاری امی کپڑے پریس کر رہی ہیں۔‘‘ قریب کی عینک اتار کراس کو بہ غور دیکھتے ہوئے بولے۔
    ’’جی ابو! ابھی لائی۔‘‘ موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔
    حرکت کافی غیراِخلاقی تھی مگرنہ چاہتے ہوئے بھی ان کو موبائل اٹھا نا پڑا۔ کال ہسٹری ، میسجز یہاں تک کانٹیکٹس چیک کیے لیکن کوئی مشکوک نمبر ملا نہ ہی ایسا میسج جس سے وہ غلط اندازہ لگا سکتے۔ موبائل واپس رکھا، قریب کی عینک سیٹ کی اوردوبارہ کتاب میں گم ہو گئے۔
    ’’یہ لیں ابو آپ کی ادرک والی چائے۔‘‘ ایمن نے چائے کا کپ تھمایا۔
    ’’جیتی رہو بیٹا۔‘‘
    ’’ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے ایمی۔‘‘ وہ جانے ہی کو تھی جب انہوں نے مخاطب کیا۔
    ’’میں سمجھی نہیں ابو۔‘‘ وہ حقیقتاً نہ سمجھ سکی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
    ’’بیٹھو بیٹا! دیکھو تمہاری امی کو شکایت ہے کہ تم موبائل بہت زیادہ استعمال کرنے لگی ہو۔ یہ اچھی بات نہیں۔ اِس سے آئی سائیٹ متاثر ہو سکتی ہے اوربھی کئی نقصانات ہیں۔‘‘ کتاب بند کی اورعینک اتار کر ٹیبل پر رکھ دی۔
    ’’ایسی تو کوئی بات نہیں ابو وہ بس کسی فرینڈ کا میسج آجائے تو الگ بات ہے ورنہ اِتنا تویوز نہیں کرتی۔‘‘
    ’’بہرحال اعتدال میں رہ کر استعمال کرو۔‘‘ عینک لگا کر دوبارہ کتاب کھول لی ساتھ ساتھ چائے پینے لگ گئے۔ ان کی خاموشی کا مطلب تھا وہ جاسکتی ہے۔
    ’’کوئی مجھیایسا نمبر نہیں ملا جو مشکوک ہو۔ کُل ستائیسنمبرز ہیں زیادہ ترفیملی ممبرز کے ہیں یا اس کی دوستوں کے۔تمہیں پورا یقین ہے کہ…‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی
    ’’ماں کی نظریں وائی فائی کے سگنل سے زیادہ تیزہوتی ہیں صابر صاحب۔ وہ سب کچھ معمول سے ہٹ کرکررہی ہے’’۔ چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔
    ’’کیا کہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ چشمہ اتار کر میز پر رکھااور سر مسلنے لگے۔
    ’’سمجھنا کیا ہے۔ پیپرزکے فورا بعد شادی کردینی چاہیے۔‘‘ انہوں نے اپنے تئیں فیصلہ کیا۔
    ’’یہ کیا بات کر رہی ہورقیہ؟ ایک شک کی بنیاد پرایسا کرنا قطعاً ٹھیک نہیں یا تو اس سے کھل کر بات کی جائے۔‘‘ وہ ایک دم کھڑے ہو کر ٹہلنے لگے۔ اپنی بیٹی پر ان کو خود سے زیادہ بھروسہ تھامگررقیہ بیگم کی بات بھی نظرانداز نہ کر سکتے تھے۔ آخر کو وہ ماں ہیں اور اولاد کو ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔
    ’’نکاح تو کر سکتے ہیں نا؟‘‘ رقیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
    ’’ہاں اِس پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ابھی تک کش مکش میں تھے۔
    ’’غور نہیں صابرصاحب عمل کرنا ہے۔ میں آج ہی بلکہ ابھی جا کرراحیل سے بات کرتی ہوں۔‘‘
    ’’جیسے آپ کی مرضی پر ایمن کی رضامندی بھی ضروری ہے رقیہ بیگم۔‘‘
    ’’آپ بے فکر رہیں۔ میں اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کروں گی۔‘‘
    ٭…٭…٭




  • عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    یہ لاہور کے جدیدپوش علاقے کا پچھلا حصہ ہے جہاں کہیں کہیں خودرو جھاڑیوں اور جنگلی گھاس کی بہتات ہے اور اسی حصے کے بیچوں بیچ قطار در قطار جھونپڑیاں ہیں۔ میلی گرد سے اٹی، پردہ اٹھائے، پردہ گرائے، بدبودار ، بدتمیزمیلے کچیلے انسان جس کے مکین ہیں۔ چار گز کے قطعے میں دس دس بیس بیس انسان، جنس کی تمیز کیے بغیر جہاں یوں ہمہ وقت طوفانِ بدتمیزی کھڑا کیے رکھتے ہیں جیسے کپڑے دھونے والی مشین اپنے پیٹ میں ہر طرح کے میل کچیل کو بھر کر گھر ر گھرر چلتی ہے۔ اس چھپر کی عورتیں سر ڈھانپے، برہنہ، نیم برہنہ سا جسم لیے پھرتی ہیں اور ان کے شیر خوار بچے ماں کی چھاتیوں سے لگے بِلکتے ہیں۔ بڑے بچے ٹانگوں سے چمٹے رہتے ہیں جن کی رال اور ناک ایک ساتھ بہتی ہے۔ یہاں کے مرد پھٹی ہوئی بنیانیں اور میلی شلواریں پہنے دیدہ دلیری اور بے شرمی سے بدن کھجاتے پھرتے ہیں۔
    اور یہ لوگ موسموں کی پروا کیے بغیر اپنے کام کیے چلے جارہے ہیں، مگر ان کے کاموں کی فہرست بھی کوئی اتنی طویل نہیں۔ بھیک اپنا حق سمجھ کر مانگنا، بچے پیدا کرنا اور عیش کرنا بس یہی کچھ انہوں نے اپنا مقدر سمجھ رکھا ہے۔ نہ انہیں کل کی فکر ستاتی ہے، نہ ماضی کا کوئی قلق انہیں ندامت میں مبتلا کرتا ہے۔ رتیں بدلتی ہیں، مگر ان کی مصروفیات کی نوعیت بدلتی ہے نہ ترتیب۔ یہاں تقریباً سب ہی ایک جیسے ہیں۔ ایک جیسا ناک نقشہ، ایک جیسی کسیلی رنگت اور مٹیالے اجڑے ہوئے بال، پھٹے اور گھسے ہوئے بدرنگ کپڑے اور قابلِ رحم چال۔ اس بستی کے باسیوں کا تہذیب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ دنیا ترقی کی کس ڈگر پر چل نکلی ہے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ وہی کام کر رہے ہیں جو ان کے ننگ دھڑنگ باپ دادا نے کیا اور ورثے کی صورت ان میں بھی جی بھر کے منتقل کردیا۔ پاکیزگی، عزت اور ایمانداری یہ کیا جانیں کہ یہ کن بلائوں کے نام ہیں بھلا۔ ان کے حال پر تو ان کے اوپر نیچے، دائیں بائیں منڈلاتی مکھیاں بھی اپنے گندم کے دانے جتنے پروں سے استہزائیہ اڑان بھرتی بھن بھن کرتی ہیں، مگر کیا یہاں بسنے والے سب ہی ایک جیسے ہوتے ہیں۔





    کیا واقعی…
    نہیں تو! کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے بھی حالات اور وقت آپ کو بے بسی کی زندگی گزاردینے پر مجبور کر دیتے ہیں جو آپ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ حالات کی سختی آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ آپ ویسے بن جاتے ہیں اور اپنے وہاں ہونے پر بظاہر مطمئن بھی نظر آتے ہیں۔
    سو اسی بستی سے ذرا پرے ایک اور خیمہ لگا ہے۔ یہ جھونپڑی نسبتاً صاف اور کشادہ ہے۔ یہاں پر رہنے والے افراد کی تعداد کم ہے اور ان کے طور طریقے کسی حد تک مختلف ہیں مگر جس طرح کچرے کے ڈھیر کو اٹھا کر سونے کی طشتری میں سجا دینے سے بھی وہ کچرا ہی رہتا ہے۔ اسی طرح سے یہ جھونپڑی بھی بہر صورت رہے گی تو جھونپڑی ہی۔
    اس کی شخصیت میں بولتی آنکھوں اور سنجیدہ چہرے کا عجب امتزاج ہے۔ بھاری جثے اور خوبصورت قد کاٹھ کی مالک وہ بولتی کم اور سوچتی زیادہ ہے۔ اللہ جانے اتنی سی عمر میں کون سی فکریں ہیں جو ہمہ وقت اسے گھیرے رہتی ہیں۔ کبھی جو کریدنا بھی چاہو تو آہستگی سے دامن چھڑالیتی ہے، پھر پہاڑبن جاتی ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتی، مگر جب موڈ میں ہوتی ہے تو اس سے زیادہ زندہ دل بھی کوئی نہیں ملتا کہ سکھیوں کی سنگت میں سب کچھ بھول کر وہ بستی میں آوارہ گردی کرنے لگتی ہے یا فٹ پاتھ پر دائرہ بنا کر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے دو پل کے لیے ہی سہی، مگر وہ بے فکری ہوجاتی ہے۔
    وہ دیکھنے والی آنکھ کے لیے غروبِ آفتاب کا منظر ہی تو ہے۔ نرم گرم سی، پل میں اداس کرتی ہوئی اور پل میں امید دلاتی ہوئی اور رجو کو اس کا یونہی رہنا پسند ہے۔ وہ جو اُس کی ماں ہے جو خود غلطی سے پانچ جماعتیں پاس تھی۔ اس نے کب سوچا تھا کہ وہ بھی کبھی یونہی ان کے بیچ آجائے گی۔ انہی کی برادری کا حصہ کہلائے گی، مگر یہ بری قسمت بھی کسی جونک سے کم نہیں جو چمٹ جائے تو چھٹکارا پانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ خیر رجو کی ایک بیٹی اور پانچ بیٹے ہیں۔ شوہر برائے نام ہے اس سے اب کوئی جسمانی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے نہ معاشی۔ نشے کی لت نے اس کی مردانگی کو سب سے پہلے ٹھکانے لگایا تھا۔
    ’’اور مورل سپورٹ…‘‘
    ’’ہاہاہا یہ کیا پوچھ لیا؟‘‘
    ’’شش !! جن باتوں کا پتا نہ ہو،انہیں زیادہ نہیں کریدتے۔ خیر تسلی کے لیے بتائے دیتی ہوں کہ رجو خود تو کسی حد تک شائستہ ہے، مگر یہاں کے مرد… کوئی سن لے تو کہے کہ یہ چلتی زبانیں ان کی اپنی نہیں۔ وہ گلی کوچوں میں بنے کچے پکے مکانوں سے اٹھ کر آئی تھی۔ اس کا دیہاتی باپ اسے بھکارن بنانا چاہتا تھا اور ماں اپنے گھر والی، مگر شوہر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ نہ وہ ٹھیک سے مانگ سکی نہ اپنے گھر والی بن سکی۔ (گھر ہوتا تو گھر والی کہلاتی نا۔) اس کا یہ جھونپڑا تو بنجارا تھا جہاں موسم اجازت دیتا وہیں چل پڑتا۔ ویسے بھی یہ لوگ موسموں کے مارے ہوتے ہیں، وقت کے نہیں۔ ان کے لیے سارے وقت ایک طرح کے ہوتے ہیں تسبیح کے دانوں کی مانند، انگلی کی پوروں سے ایک ایک کرکے پھسلتے جاتے ہیں، مگر درحقیقت موسم میں تغیر ہی ان کی رہائش گاہ اور مانگنے کی جگہ متعین کرتے رہنے کا باعث بنتا ہے اور اسے مانگنے کا سلیقہ ساری زندگی نہ آیا۔ سلیقہ تو خیر شوہر کو بھی نہ تھا کہ اسے سیدھا چوری کی عادت تھی، مگر بیوی کو ڈنڈے کے زور پر کسی نہ کسی طرح کمائی کا ذریعہ بنا لیا پہلے وہ اپنے تڑپتے ، ترستے بہن بھائیوں اور باپ کی دھمکیوں کی وجہ سے مجبور ہوتی رہی۔ پھر شوہر نے بھی اس کو خوب ہی ہتھیار بنایا۔ حالانکہ رجو کی اپنی ماں نے کتنے اچھے خواب دیکھ رکھے تھے اس کے لیے۔ مگر یہ مائیں بھی تو حد کرتی ہیں۔ اپنی ممتا سے فائدہ اٹھاتی ہیں، ایسی ایسی خواہشیں اولاد کے لیے پال لیتی ہیں کہ ان کے پورا ہونے کے لیے ایک نسل کو قربانی دینی پڑ جاتی ہے اور یہاں… وہ قربان شدہ نسل رجو تھی۔
    ’’اے نسرین ! کہاں مر گئی؟ یہ تیری پوستی ہمیں لے ڈوبے گی۔ کسی کام کی نہیں تو۔ نہ تیری ماں ہی مجھے آج تک کوئی فیض دے سکی۔ ابا تو بھی ایک ہی بات بار بار کرتا تھکتا نہیں۔ یہ دونوں بے غیرت عورتیں ہیں۔ اپنی عزت کے علاوہ انہیں کبھی کسی کی پروا نہ رہی۔ اپنے خاص دیہاتی لہجے میں پنجابی بولتا جیرا باپ کو ڈپٹتا درپردہ انہیں ذلیل کررہا تھا اور یہ باتیں نسرین کے لیے نئی ہر گز نہ تھیں۔ ماں کے پیٹ سے ہی ایسی باتیں اس کی نازک سماعت پر پڑتی رہی تھیں۔ وہ سماعت جو اب نازک بھی نہ رہی تھی بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی کہ اب ہر بات کان کے پردے سے ٹکراتی ہوئی جب دل پر پڑتی تو اسے ذرا کم ہی رُلاتی تھیں۔
    اس کی زندگی اپنی پہلی سانس پر ہی سِسکی تھی اور اب تک سِسک رہی تھی۔ نہ اس کے لیے پھولوں میں کوئی خوشبو تھی۔نہ چوڑیوں کی کھنک اس کی نازک کلائیوں کے لیے تھی اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ایک پکھی واس تھی۔ مسئلہ اس ذرا سی آگاہی کا تھا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملی تھی۔ نہ وہ کھل کر اپنے ماحول میں جیتی تھی نہ اسے باہر کی لپک جھپک متاثر کرتی۔ اس کے لیے شعور عذاب ہی تو تھا۔ وہ بھکارن تھی۔ سفید میلی چادر سر پر ٹکائے، گرد سے اٹی ٹوٹی پلاسٹک کی چپل پہنے، ہاتھ میں کھلا سا برتن پکڑے جب وہ بڑے بڑے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتیتو خود کو بونوں سے چھوٹا محسوس کرتی۔
    وہ اپنے مخصوص انداز اور لہجے میں مانگتی۔ ہر بار نئے بہانے اور وجہ اس کے پاس موجود ہوتے حالانکہ اس کے باپ اور بھائیوں کی تین وقت کی روٹی بڑے آرام سے پوری ہوتی تھی کہ وہ چھے مرد خود کو اندھا بناکے، لنگڑا کے یتیم ظاہر کرکے اپنے زورِ بازو سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے تھے اور کبھی کبھی جب اس جاب سے بھی جی اکتا جاتا، تو جیب تراشی اور ہاتھ کی صفائی کام آتی۔
    مگر رجو کا آدمی خود کما کر اپنی بیوی کو عیش کرانے والوں میں سے ہر گز نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ گھر کا ہر فرد مصروف رہے اور یوں بھی گھر میں پیسہ آتا کسے برا لگتا ہے۔ سو رجو سمیت وہ یعنی نسرین بھی مصروف تھی اتنی کہ نیند میں بھی مانگتی رہتی۔ کبھی کسی کا در کھٹکھٹارہی ہوتی تو کبھی کہیں سے جھڑکیاں سن رہی ہوتی۔
    نامساعد حالات میں جب اسے سڑکوں پر نکل کر مانگنا پڑتا، تو یہ اس کے لیے حقیقتاً آزمائش کا وقت ہوتا۔ جب کسی گاڑی کا شیشہ بجاتی، کسی بڑی دکان یا شوروم کے ہجوم میں مانگنے گھستی تو لوگوں کی خود پر گڑی ہوئی چبھتی نظریں محسوس کرکے خود میں سمٹ کر رہ جاتی حالانکہ اس کی جگہ کوئی اور پکھی واسنی ہوتی تو خوب ان نظروں کا مفہوم سمجھتی اور جی بھر کر فائدہ بھی اٹھاتی، مگر یہاں مصیبت ہی یہ تھی کہ اس شعور سے بے بہرہ انسانوں کی بستی میں وہ ایک مافوق الفطرت پیدا ہوگئی تھی جو بس یہی سوچتی جاتی تھی کہ یہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے مردوں کی سوچ اس قدر چھوٹی کیسے ہوسکتی ہے؟ انہیں تو کسی شے (زر اور زن) کی کمی نہیں۔ پھر بھی یہ سارے اس قدر ندیدے کیوں ہیں ؟ مگر کملی اگر چار جماعتیں پڑھی ہوتی یا ماں جتنا تجربہ حاصل ہوتا، تو آپ ہی جان لیتی کہ مرد کسی بھی نسل کا ہو اور کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو، نہتی عورت ذات کو دیکھ کر اس کا ندیدہ پن امنڈ کر سامنے آجاتا اور رال ٹپکنے لگتی ہے اور پھر وہ جتنا گھبراتی۔ لوگ اسے اتنا ستاتے اس کے فربہی مائل جسم، دودھیا رنگت اور گہری آنکھوں پر فقرے کستے ۔
    پھر بیچ میں ساتھ والی جھونپڑی کی چھیما کے کہنے پر اس نے پلاسٹک اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا، مگر اس کام میں بھی کمائی کم اور رسوائی زیادہ تھی۔ گودام کا مالک چاہتا تھا کہ ہر روز مخصوص مقدار میں وہ اسے پلاسٹک لا کردے۔ خواہ اس کے لیے اسے ناک کے بل رینگنا پڑتا اور خواہ پلاسٹک کی جگہ وہ اسے کمیاب دھاتوں کی تھیلیاں تھمادیتی ، مگر اس کے ذمہ چونکہ صرف پلاسٹک اکٹھا کرنا تھا سو چنی آنکھوں اور گرد سے اٹی بھوری ڈاڑھی والا گودام کا لڑکا بڑی چالاکی سے چپ چاپ دھاتیں بھی ہتھیا لیتا اور اس کی ساری محنت نہایت ہلکے داموں خرید لیتا۔ خود چھیما تو من موجی تھی، دل کرتا تو ہفتہ بھر پلاسٹک اکٹھا کرکے دہاڑی بناتی، ورنہ مہینہ گزرجاتا اور اپنی کوئی خبر نہ دیتی۔ وہ نسرین سے تجربے اور عمر میں کافی بڑی تھی۔ سو راشد (گودام کا مالک ) کی غلط سلط باتوں کا دوبدو جواب دیتی۔ وہ ڈھیٹ بنا حِظ اٹھاتا رہتا۔ ان کے ساتھ والی دو اور لڑکیاں بھی کوڑا چھانتی تھیں مگر ان کا کام دھات (خالی ٹِن، پلیٹس ، سپیئر پارٹس وغیرہ ) ہی اکٹھے کرنا تھا اور اس کے عوض ناصرف وہ انہیں اچھی رقم دے کر خوش کرتا تھا بلکہ ان کے پاس بھی اس کی خوشی کا سارا سامان موجود ہوتا تھا، لیکن وہ بھی اُن جیسی ہوتی تو اسے بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔




  • وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    آئیے! میں آپ کو اس پری پیکر سے متعارف کرواتا ہوں۔ میری اجلی صبح کا آغاز اس نازنین کے دیدار سے ہوتا ہے۔ سورج کی مندی آنکھوں اور پرندوں کی انگڑائیوں کے دوران منہ اندھیرے وہ سفید یونیفارم میں ملبوس دو بچیوں کو ساتھ لیے گھر سے نمودار ہوتی ہے اور تب تک پکی روش پہ کھڑی رہتی ہے جب تک بچیاں پہلے سے ان کے انتظار میں کھڑے تانگے میں سوار ہو کر نظروں سے اوجھل نہیںہوجاتیں۔
    بچیوں کو رخصت کرنے کے بعد گھر میں واپس داخل ہونے سے پہلے وہ گردوپیش پہ ایک تفصیلی نظر ڈالتی ہے اور اپنے کندھوں پہ شال کی مانند لپیٹا دوپٹا درست کرتی اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے میں وہ یونیفارم میں ملبوس ایک اور چھوٹی بچی کو لیے گھر سے وارد ہو گی اور اندر چلے جانے کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے اپنا چہرہ نہیںں دکھائے گی۔
    بہت قلیل عرصے میں ہی وہ مجھے بہت پیاری، اپنی اپنی اور دل کے نزدیک لگنے لگی ہے۔ مجھے اس کا انتظار رہنے لگا ہے کہ کب دھوپ ڈھلے، کب جھولے پہ چھاؤں آئے اور وہ اپنا موبائل اور ہینڈز فری سنبھالے اینڑرنس کا ڈور کھولے خوشی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتی لان میں نصب لکڑی کے بڑے سے جھولے پہ آبیٹھے۔
    ٭…٭…٭





    میرے چہار سو سب کچھ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اجاڑ، ویران، بیابان جنگل آہستہ آہستہ زندگی، رنگوں اور پھول بوٹوں سے آباد ہوا ہے۔ ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کو میں نے یہاں آ کے بستا اور پھر جاتا دیکھا ہے۔
    کچھ جگہوں کی قسمت میں مستقل مکین نہیں ہوتے۔ اس بنگلے کا ظاہری رنگ و روغن اور تزئین و آرائش بہت بار بدلا ہے۔ جو یہاں رہنے آتا ہے اپنی مرضی کے رنگ بھر دیتا ہے مگر اس کی ہیئت آج بھی ویسی کی ویسی ہے جیسے میرے سامنے تعمیر کی گئی تھی۔
    وہ حسین دن میرے حافظے میں اچھے سے محفوظ ہے۔ جب وہ بہار کے پہلے جھونکے کی مانند خوش باش سی گاڑی سے اتری تھی اور ہر سو شگوفے چٹخنے لگے تھے۔ اسے دیکھتے ہی میری آنکھوں میں شناسائی کی چمک لہرائی کہ کوئی سال بھر پہلے بھی وہ چند دنوں کی مہمان بن کے آئی تھی اور جب گھر میں داخل ہونے سے پہلے دلچسپی سے ایک بھرپور نگاہ اس نے ہم سب پہ ڈالی تو شناسائی اس کی روشن آنکھوں سے بھی بخوبی چھلکی تھی۔
    سچ پوچھیے تو میں نے ایک صدی کی طویل مدت میں کیا کیا نہیں دیکھا ہے مگر خدا کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ میں نے اس کے جیسی اللہ پاک کی خوبصورت تخلیق پہلے نہیں دیکھی یا شاید پہلے کوئی مجھے اتنی منفرد لگی ہی نہیں۔
    ٭…٭…٭
    ادھر ڈھلتی دھوپ آہستہ آہستہ جھولے سے سرکنا شروع ہوتی ہے، ادھر وہ ہاتھوں میں گولڈن کلر کا موبائل، سفید ہینڈز فری اور کالے کور کی ڈائری تھامے سیدھی گارڈن میں نصب جھولے پہ کھنچی چلی آتی ہے۔
    جھولا جھولتے ہوئے اس کے لمبے کالے کھلے بال ہوا کے دوش پہ بے تحاشا سرگوشیاں کرتے جھولا آگے آتا تو اس کی ریشمی زلفیں کالی ناگن کی طرح سفید گالوں سے لپٹ لپٹ جاتیں۔
    میں جان گیا ہوں کہ اس کا پسندیدہ وقت وہ ہوتا ہے جو وہ اکیلی اپنی ذات کے ساتھ جھولے پہ بِتاتی ہے۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی، بس چپ چاپ جھولا جھولتی ہے۔ جب اس کی سیدھی نگاہ مجھ پہ ٹھہرتی ہے تو وہ میرے لیے دن کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے اور پورے دن میں اسی خوش قسمت گھڑی کا مجھے شدت سے انتظار رہتا ہے کہ بہرکیف اتنی توجہ سے تو آج تک ہمیں کسی نے نوازا ہی نہیں جتنی وہ دیتی ہے۔
    اپنی پرتجسس آنکھوں سے وہ ہر سو دیکھتے ہوئے حصار باندھتی جاتی ہے۔
    میں نے محسوس کیا ہے کہ لان کے بیچوں بیچ پوری شان و شوکت سے کھڑے درویش درخت پہ اڑتے طوطے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بچوں کی سی چمک اور خوشی جھلکتی ہے۔
    مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کانوں میں ہینڈز فری لگائے کچھ نا کچھ سنتے اور دھیمے سروں میں گنگناتے ہوئے بھی وہ کیسے اپنے گردوپیش سے اتنی باخبر رہتی ہے۔ درویش درخت سے گرتے بے جان خزاں رسیدہ پتے، آزادی سے اڑتے طوطے، شاخوں سے جھولتی عقاب کے سائز کی چمگاڈریں، دور درخت پہ کوکتی کوئل، گارڈن اور گردوپیش کا ہر پھول بوٹا وہ اتنے دھیان اور لگاوٹ سے دیکھتی ہے جیسے اس کے سوا اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں۔
    گلاب اور موتیے کے پھولوں پہ اس کی پرشوق نگاہیں پلٹ پلٹ کر آتی ہیں۔ خوبصورتی اور رنگینی کسے نہیں بھاتی۔ اب تو آپ سمجھ لیں کہ وہ مجھے اتنا کیوں بھاتی ہے۔’’وہ سر تا پا زندگی اور رنگین ہے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    ویک اینڈ پہ بچوں کی اسکول کی چھٹی ہونے کے باعث لان میں بہت رونق ہوتی ہے اور اس کی وجہ بلاشبہ وہی ہے۔ جب تک وہ گھر کے اندر ہوتی ہے، کوئی بچہ باہر نہیں دکھتا اور ادھر وہ لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولے پہ آ کے بیٹھتی ہے اور کچھ ہی دیر میں ایک ایک کر کے بچیاں اینٹرینس کا دروازہ کھول کر باہر جھانکتی ہیں اور سیدھی اس کے پاس جھولے پہ بھاگی چلی آتی ہیں۔ وہ بیچ میں اور دو بچیاں اس کے دائیں بائیں بیٹھ کر جھولا جھولتے ہوئے نجانے کون کون سے قصے زیرِ بحث لاتی ہیں۔
    ان کی باتوں اور قہقہوں میں بچیوں کی ضد کرنے اور جھگڑنے کی آوازیں تب شامل ہو جاتی ہیں جب اندر سے بھاگ کے باہر آئی ہوئی تیسری بچی بھی جھولے پہ بیٹھنے کی ضد کرتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ بخوشی ہتھیار ڈال کے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اپنی جگہ تیسری بچی کو دے دیتی ہے مگر آہ! یہ کیسی بات ہے کہ تھوڑی دیر میں ایک ایک کر کے اس کے پیچھے تینوں بچیاں بھاگتی چلی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ کوئی نا کوئی گیم کھیلنے میں مگن ہو جاتی ہیں اور خالی جھولا میری طرح انہیں دلجمعی سے تکتا رہتا ہے۔ اسے دیکھ کے میں نے جانا ہے کہ کچھ لوگوں کو واقعی انسانوں کو جوڑے رکھنے کا ہنر آتا ہے۔
    وسیع و عریض گارڈن میں وہ بچیوں کے ساتھ بھاگتی دوڑتی رہتی ہے۔ بیڈمنٹن کی کئی باریاں کھیلتی اور جیتتی بھی ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اسے بچپن کے بعد سے بھولی سائیکلنگ بھی آگئی ہے۔ جس دن اسے سائیکل بیلنس کرنی اور چلانی آئی، اس دن اس کے چہرے پہ بچوں کی سی خوشی تھی جیسے اس نے کوئی معرکہ سرانجام دیا ہو۔
    انسان بھی کتنی دلچسپ مخلوق ہے۔ ہر وقت کسی نا کسی جستجو میں جتا رہتا ہے۔ کچھ سیکھنے کی جستجو، کچھ پانے کی، حاصل کرنے کی یا کسی کو تسخیر کرنے کی جستجو اور جب جستجو پوری ہو جاتی ہے تو خوشی سے نہال ہو جاتا ہے اور یوں اتراتا ہے جیسے اس نے دنیا فتح کرلی۔
    اب اسے ایک اور ایکٹیویٹی مل گئی ہے۔ وہ بچوں کے ساتھ آزادانہ سائیکل ریس لگاتی ہے۔ کبھی پکی روش پہ تو کبھی گھوڑوں کے اصطبل کے اطراف۔ ان کی آوازوں اور چیخوں سے کتنی رونق لگی رہتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • وادان — خدیجہ شہوار

    وادان — خدیجہ شہوار

    ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘وہ درخت کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ ایک دم سے چونک کر اٹھ بیٹھا۔گھبرا کر چاروں سمت نظریں دوڑا ئیں ۔
    ’’آواز کہاں سے آئی؟کون بولا؟‘‘وہ سمجھ نا پایا۔
    ’’کون ہے؟میرے سامنے آئے۔‘‘ اس نے بے ساختہ پکارا۔
    ’’میں ہوں ،’’وادان ‘‘ ایک درخت جس کی ٹھنڈی گھنی چھاؤں میں تم بیٹھے ہو۔ ‘‘ ساٹھ سالہ قد آور بوڑھا درخت بولا ۔اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے درخت کی طرف دیکھا ۔
    ’’اوہو!تو تم بول رہے ہو۔‘‘ اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے درخت کو دیکھا۔
    ’’ہاں!اورتم کون ہو؟‘‘بوڑھے درخت نے پوچھا۔
    ’’میں انسان ہوں۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔وہ بوڑھادرخت بے ساختہ مسکرایا۔
    ’’وہ ،جودنیا کی ہر چیز پہ قابض ہے؟دنیا پہ راج کرتا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جاتا ہے جس مٹی سے بنا ہے؟‘‘وہ بوڑھے درخت کی بات پے ہلکی سی ہنسی ہنسا اور چمکتی آنکھوں سے درخت کا اوپر سے نیچے تک پورا جائزہ لیا جیسے درخت کی بات نے اسے متاثر کیاہو۔
    ’’ہاں! تم انسان کا مطلب خوب سمجھتے ہو۔تم مجھ سے دوستی کرو گے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ’’ہاں !میں دوستی کروں گا۔کیونکہ تم میرے لیے انجان نہیں ہو۔‘‘درخت نے جواباً کہا۔
    ’’تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ اس نے بوڑھے قد آور درخت سے استفسا ر کیا۔





    ’’یہی کہ تم اکثر یہاں سے گنگناتے ہوئے گزرتے ہو۔کبھی کبھار میری ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر آرام کرتے ہو۔کبھی کبھار میرے سائے میں بیٹھ کر کتاب بھی پڑھتے ہو۔اور تمہا را گھر سامنے نظر آتے کچے پکے مکانوں میں ہے۔ ‘‘ وہ درخت کے منہ سے اپنا تعارف سن کر چونکا اور بے اختیار ہنس دیا۔
    ’’تم بہت دلچسپ باتیں کرتے ہو۔تمہارے ساتھ میری خوب نبھے گی۔ویسے تمہیں کیا کرنا پسند ہے؟‘‘ اس نے درخت کے مضبوط چوڑے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’میں سارا دن سورج کی کرنوں سے باتیں کرتا ہوں۔بادلوں کواٹکھیلیاں کرتا دیکھتا ہوں ۔ پرندوں کو بیٹھنے کے لیے اپنے بازو فراہم کرتا ہوں ۔ آتے جاتے انسانوں کو چھاؤں دیتا ہوں۔دنیا میں سبز رنگ پھیلا کردل و دماغ کو ٹھنڈک کا احساس دیتا ہوں۔انسانوں کے لیے آکسیجن پیدا کرتا ہوں۔ ‘‘ درخت نے اعتماد سے کہا۔وہ درخت کی دلچسپی سے باتیں سنتے ہوئے مزہ لے رہا تھا۔
    ’’تم انسانوں سے زیادہ گہرے ہو۔تم وہ سب دیکھتے ہو جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔‘‘اس نے درخت کو سراہا۔
    ’’یہ جو چھوٹے بڑے درخت تم میرے ارد گرد دیکھ رہے ہو ۔یہ میری برداری ہے۔میرے نو بھائی ،چھ بہنیں،چچازاد کزن،خالہ زاد کزن سبھی یہاں موجود ہیں۔جب وقت ملے تو ان سے بھی گپ شپ لگا لیتا ہوں۔میں ان سب سے بے حد پیار کرتا ہوں۔یہ میرے لیے بہت خاص ہیں۔اور وہ دیکھو چھوٹے چھوٹے ننھے پودے جو آج کل میں زمین کا سر پھاڑ کر باہر آئے ہیں میرے پوتے پوتیاں ہیں۔یہ بہت شرارتی ہیں۔لیکن میں انہیں کبھی نہیں ڈانٹتا۔ ‘ ‘ درخت نے پودوں کی طرف اشارہ کیا۔اس نے آنکھیں سکیڑے حیرانی سے سبھی چھوٹے بڑے پودوں کو دیکھا۔
    ’’جب آندھی یا طوفان آتے ہیں پھر تم کیا کرتے ہو؟ یہ ننھے پودے تو مرجھا جاتے ہوں گے نا؟‘‘ اس نے درخت سے استفسار کیا۔
    ’’ میں اور میری طرح دوسرے درخت سینا تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طوفان ہم سے ڈر جاتا ہے اور کچھ کہے بغیر گزر جاتا ہے لیکن یہ ننھے پودے اس وقت خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیتے ہیں۔طوفان ان کی عزت کرتے ہوئے انہیں ایسے ہی قائم رہنے دیتا ہے اور گزر جاتا ہے۔‘‘بو ڑھے درخت نے بھاری بھرکم آواز میں بولتے ہوئے بتایا۔
    ’’ مجھے تمہاری فیملی کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ تمہاری فیملی کافی بڑی ہے۔‘‘ اس نے بوڑھے درخت کی برادری پر سرسری نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔بوڑھا درخت مسکرا یا۔
    ’’ہاں ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘لمبے توانا بوڑھے وادان نے جواباً کہا۔
    اسی لمحے اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا اور اس نے وادان سے جانے کی اجازت لی اورچلا گیا۔کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔وادان روز اس کا انتظار کرتا۔کبھی انتظار میں راہ تکتا تو کبھی چاند کی چاندنی میں چند منٹ سو کر نیند پوری کر لیتا۔کبھی پوتے پوتیوں سے گپ شپ لگا لیتا اورکبھی بادلوں کا حال احوال پوچھ لیتا۔اور اسی طرح ایک دن وہ پھر وہاں سے گزرا اور وادان کا حال چال پوچھنے آ گیا۔بوڑھا درخت اسے دیکھ کر بہت خوش تھا۔وہ اب اکثر وادان کو ملنے آتا۔ ڈھیروں باتیں کرتا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرتا۔کچھ اس کی سنتا کچھ اپنی سناتا۔ان دونوں کو آپس میں گپ شپ لگانے میں مزہ آنے لگا تھا۔
    ’’مجھے وقت نہیں ملا ورنہ میں تمہیں پہلے ملنے آجاتا۔کہو کیسے ہو۔؟‘‘ اس نے وادان کو مخاطب کیا۔
    ’ ’ تمہارے سامنے ہوں۔ ‘‘ وادان نے جواباً کہا ۔وہ آگے بڑھا اور وادان کی ٹھنڈی چھاؤں میں موٹے چوڑے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔و ہ اس قد آور درخت کے نیچے پہلے بھی بیٹھا کرتا تھا لیکن جب سے ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی اسے بوڑھے درخت کے سائے میں بیٹھنے میں سرور آنے لگا تھا۔اسی لمحے ایک ننھی چڑیا وادان کی آسمان کو چھوتی شاخوں پے آن بیٹھی۔
    ’’وادان! یہ کون ہے جو تمہارے سائے میں بیٹھا ہے؟‘‘ چڑیا کچھ خوفزدہ تھی۔وادان چڑیاکے سوال پر بے ساختہ ہنسا۔
    ’’میرا دوست ہے۔‘‘ وادان نے جواب دیا۔ وہ بھی چڑیا کو چہچہاتا دیکھ کر متوجہ ہوا اورٹیک چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’یہ انسان ہے۔اس سے بچو۔‘‘ چڑیا نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔وادان کی مسکراہٹ برقرارتھی۔
    ’’نہیںنہیں!ننھی چڑیایہ میرا دوست ہے۔اور مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ وادان نے چڑیا کو تسلی دی۔ چڑیا مایوس کن آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر پنکھ پھیلا کر دور فضا میں کہیں غائب ہو گئی۔وادان اسے آسمان میں غائب ہوتا دیکھتا رہا۔
    ’’یہ ننھی چڑیا کیا کہہ رہی تھی تم سے؟‘‘ اس نے تجسس میں پوچھا ۔
    ’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وادان نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔
    ’’جانتے ہو،میرا دل چاہتا ہے میں ایک پرندہ ہوتا ۔میں بھی جگہ جگہ اٹکھیلیاں کرتا ۔جب دل چاہتا گھونسلے میں آرام کرتا۔جب بھوک لگتی تو دانہ چگنے چلا جاتا۔ میں بھی درختوں کی لمبی لمبی شاخوں پے بیٹھ کر پوری دنیا کا نظارہ کرتا ۔ میری زندگی کتنی ہلکی پھلکی ہوتی ۔میری زند گی بھی پرندے کی طرح مشقت سے خالی ہوتی تو کیا ہی مزہ آتا ۔‘‘ اس نے حسرت لیے کہا۔وادان اس کی خواہش سن کر ہنس دیا۔
    ’’تم انسان بن کر خوش نہیں ہو؟‘‘ وادان نے پوچھا۔