Author: misbah116@hotmail.com

  • فیس بکی شہزادہ — کوثر ناز

    یوں تو کوئی بھی فیس بکی محبت کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور اگر اس کی مخالفت کرنے کی بات کی جائے تو ہم بھی ارسطو اور خلیل جبران کو کہیںپیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
    جب آپ کی کوئی سکھی انباکس میں آکر محبت کا رونا روئے، اپنے دنوں کو حسین اور راتوں کو سہانی کہے، توعورتوں والی مخصوص رگ ہر لڑکی و عورت کے اندر پھڑپھڑانے لگتی ہے۔ تجسس پیٹ میں مروڑ ڈال دیتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ایک آدھ عشقیہ چاہے بے وزن شاعری سے مزین پوسٹ آپ کسی دوست کی دیکھ لیں،تو من میں کھلبلی شروع ہوجاتی ہے کہ بھئی ضرور کہیں کوئی چاند چڑھایاجارہا ہے اور اگر اسٹیٹس ہو اداس و غمگین فروری مارچ میں بھی دسمبرو جنوری کی سی شاعری کا، تو اندازہ از خود لگالیا جاتا ہے کہ بھئی یہاں چاند گرہن لگا ہوا ہے۔
    خیر سو باتوں کی چند باتیں یہ کہ فیس بکی محبت کے ہم چاہے لاکھ مخالف ہوں، لیکن سہیلی کا دل جو شہزادے میں اٹکا، توان کے غم میں شریک ہونے سے ہم بھی خود کو نہ بچا سکے۔ سہیلی کیا ”لنگوٹی یارنی” ہی کہہ لیں کہ بچپن سے ایک ساتھ کھیلے، اسکول ، کالج ساتھ پڑھے۔ ہاں البتہ اپنی اپنی ذاتیات کو چھپائے دوستی کا تعلق برقرار رکھا لیکن پھر ہماری سکھی کے سر پر حب محبت آن پڑی، تو ہم سے رجوع کرتے ہی بنی اور ہم ٹھہرے سدا کے ہم درد۔ فوراً سے پیشتر والدہ ماجدہ والے جذبات جاگے اور ان کے دل کے حال و احوال پر کبھی افسوس کرتے، تو کبھی حیران ہوتے اور آخر میں ان کی روداد سن کر ہم نے بھی فیصلہ کرہی لیا کہ اب جو بھی ہو سہیلی کو یوں تڑپنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سلسلے میں چاہے باہر کی تھوڑی سی ہوا ہمیں ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔
    ارے… کیا کہا؟ پوری کہانی تو سنیے میاں و بیوی معذرت کہنے کا مطلب ہے کہ خاتون یا جو بھی آپ ہیں کہ بات کچھ یوں ہے کہ فیس بک پر اُنہیں بھی سچی محبت مل جایا کرتی ہے جنہیں بازار میں کوئی خراب خربوزہ تک نہ دے، لیکن بندہ جب ‘ پیج’ کا ایڈمن ہو، تو اسے خصوصی توجہ اپنے آپ مل جایا کرتی ہے۔ فیس بک کی دنیا میں پیج ایڈمن یا گروپ ایڈمن کی محبوبہ کی وہی اہمیت ہوتی ہے جو حقیقی زندگی میںفوجی کی بیوی کی یعنی کہ خاص الخاص شخصیت۔
    تو بس بھئی یہاں پیج ایڈمن عرف شہزادہ نے دوست کے کومنٹ پر مسلسل ‘لو ‘ ری ایکٹ کرنا شروع کیا، تو یہاں دوست کے دل کی گھنٹی بج گئی۔ بجتے بجتے آواز مین گیٹ تک پہنچی اور شہر دل کا دروازہ ازخود کھل گیا۔ پھر وہ مکان محبت ڈھونڈ کر محترمہ کے کمرا دل میں گدی نشین ہو بیٹھے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ فیس بکی شہزادے سے سیدھی بادشاہِ دل تک کی ترقی مل گئی۔
    محبت شروع ہوئی تو پیج ایڈمن پر دل ہارے بیٹھی کئی سو حسیناؤں کی حس بیدار ہوئی تو کسی نے اسے فوراً سے پیشتر جذبہ ہم دردی کے تحت بھابی تسلیم کرلیا، تو کچھ جذباتی ہوکر پیج چھوڑ گئیں جب کہ درمیان والی کبھی بھابی کے کومنٹ کو لائک کرکے بھائی کی توجہ سمیٹتی کہ وقت پڑنے پر شہزادے کے دل کی مرہم پٹی کرسکیں اور پھر خاتون اوّل یعنی کہ بھئی پیج ایڈمن کی محبوبہ ہونے کا درجہ پاسکیں۔ کیا کہا ایسا نہیں ہوتا؟
    آپ ذرا ادبی قسم کے میاں و بیوی مطلب خواتین و حضرات ہیں۔ ورنہ تو میری بات سے مکمل اتفاق کرتے، لیکن ایک مثال تو یہاں یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ کسی ایسے حضرت کو لیجیے جسے ہم دردی بٹورنے کا شوق ہو اور پھر مرنے مرانے کی باتیں بھی کرتا ہو، تو پھر وہاں خواتین کی ہم دردیاں دیکھیں۔ ہر خاتون و دوشیزہ انہیں غمِ بیکراں کے سمندر سے نکالنے کو بے تاب نظر آئے گی ( اس بات سے بے خبر کہ حضرات سمندر عشق میں غوطے لگانے کا کئی سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔)
    خیر اس سب سے الگ ہم فیس بکی محبت کے پروان چڑھنے پر بھی کسی دوراہے کا شکار نہیں!
    محبت سہیلی کے دل میں جڑ پکڑنے لگی، تو غیر مردوں کو ایڈ کرنا تو دور سہیلی کے لیے ان کا کومنٹ لائک کرنا بھی ممنوع ٹھہرا۔ دوسرے معنوں میںآئی ایس آئی کا ایسا ایجنٹ ان کے پیچھے لگ گیا جو چوبیس گھنٹے ان کی چوکیداری کرتا رہتا۔ ساتھ ہی فیس بکی خدا کے طور پر اس کی آئی ڈی کا کرتا دھرتا بھی بن گیا۔ ہمیں علم ہوا، تو شکر کا کلمہ پڑھا کہ اپنی کوئی تصویر محترمہ کو فیس بک کے ذریعے ارسال نہیں کی تھی۔خیر ان کی محبت کی شدتیں بڑھیں، تو بات میسجز، واٹس اپ اور فون کالز سے آگے بڑھ کر ملاقات تک آپہنچی ۔ ملاقات کی سبیل ہمارے ذریعے نکل سکتی تھی سو انہیں ہمیں یاد کرتے ہی بنی۔ ہم مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق اگلے ہفتے کا پلان ترتیب دے بیٹھے اور وہ اپنے بلیچ، فیشل وغیرہ پر دن رات صرف کرنے لگیں۔ ایک روز عورتوں کے حمام خانے ( پارلر) میں بھی ہو آئیں۔
    متوقع ملاقات کے روز ہم بس میں بیٹھے شہر کے مشہور ترین پارک میں جا پہنچے اور شہزادے صاحب کے انتظار میں نگاہیں داخلی دروازے پر جما دیں۔ دل کی دھڑکنیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، چہرے پر قوس قزاح کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، مسکراہٹ تھی کہ ایک پل کے لیے ہونٹوں سے جدا ہی نہ ہورہی تھی اور ہم نقاب لگائے ان کی چوکیداری پر معمور ہوگئے کہ تب ہی ایک طرف سے ایک ہینگر ہوا کے دوش پر ہلتا ہلتا ہماری طرف آتا دکھائی دیا، تو دوست کی تمام تر حسیں بیدار ہوتے دیکھ کر ہم بھی چوکنا ہو بیٹھے۔ اتنا تو علم تھا کہ شہزادے صاحب انتہائی نازک طبیعت کے انسان ہیں، لیکن کس قسم کے ہوں گے کیا علم تھا؟ ہمیں لگا کہ یہ جو خاصا اسمارٹ سا بندہ کلف زدہ اکڑی شرٹ اور نئی نویلی پینٹ کے سہارے چلا آرہا ہے وہ آگے گزر جائے گا، لیکن جب دوست کے نزدیک آکر رکا، تو ہم نے صدمے سے سہیلی کے چہرے کا طواف کیا اور جس کے بعد اندازہ ہوگیا کہ وہ ‘ سویٹ سیلفی’ کے خالقوں سمیت ان کے پرکھوں تک کو گالیوں سے نواز رہی ہوگی کیوں کہ ان کا ردعمل بھی ہم سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ وہ حیران سی اس کلف زدہ شخص کو دیکھتی رہی جو سویٹ سیلفی کے استعمال سے دھوکے دے کر حسن کے قصیدے سن سن کے ہوا میں اڑ رہا تھا اور آج زمین پر آنے کے بعد وہ آدھا جسم ہوا میںہی چھوڑ آیا تھا۔ بہ قول شہزادے صاحب کے کہ وہ پچھلے دنوں اس قدر بیمار ہوئے کہ اب آدھے رہ گئے ہیں۔ ساتھ ہی دوائیوں نے ان کا رنگ کچھ سیاہی مائل کردیا ہے۔
    اتنے میں بھی گزارا ہوجاتا، اگر وہ گفتگو کرنے کے فن سے آشنا ہوتے۔ سہیلی کو سمجھنے میں ذرا دیر نہ لگی کہ جن پوسٹس کو پڑھ پڑھ کر وہ پھولی نہ سماتی تھیں اوردوسرے پیجز پڑھ پڑھ کر ہنستی تھی کہ ان کے محبت نامے دنیا اپنے اپنے بگڑے کام سنوارنے کے لیے استعمال کیا کرتی ہے۔ ان کے خالق ابھی تک گمنام ہی ہیں! وہ نہ جانے کیا کیا باتیں کررہا تھا، لیکن ہماری سہیلی تھی کہ اپنی ازلی شرمیلی فطرت کے باعث ان کی جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ پارہی تھی، لیکن ان کے چہرے کے زاویوں سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ گھڑی کی ٹک ٹک سے کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہے۔ وہ بھی ہماری طرح چھے فٹ کے قد سمیت مکمل ہیرو کے خواب دیکھا کرتی تھی اور شہزادہ گلفام کو دیکھ کر تمام تر خوابوں کے شرمندہ تعبیر کرنے کی تدبیر ناکام نظر آئی تو آنکھوں سے خواب از خود اڑ گئے۔
    ملنے کی جس قدر جلدی تھی۔ واپسی بھی اتنی ہی افراتفری میں ہوئی۔ محترم شہزادے نے بہت اصرار کیا کہ کسی ٹو اور تھری اسٹار کیفے سے ایک کپ کافی یاپھر کسی اچھی جگہ سے آئس کریم ہی کھا لی جائے لیکن سہیلی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ دل کے ساتھ پیٹ بھی بھرچکا ہے۔
    خواتین و حضرات واپسی کے سفر پر ہم دونوں نے ہی رنجیدہ و سنجیدہ ہوتے ہوئے ایک ایک فیصلہ کرلیا… سہیلی نے نئی سم مع نیا اکاونٹ بنانے کا فیصلہ کیا جب کہ ہم نے پھوپھی کے بیٹے کے آئے ہوئے رشتے کو قبول کرنے کا جاں گسل کام سر انجام دیا۔
    ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ تجربہ کیا کہتا ہے آپ کا؟
    ٭…٭…٭




  • محبتیں ہمارے عہد کی — ثناء شبیر سندھو

    ”یہ جو کہتے ہیں اورنگزیب ٹوپیاں بیچ کر گزارہ کرتا تھا، یہ سب کہانیاں گھڑی ہوتی ہیں۔” قمر صاحب کی آواز کانوں پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔ شزا نے اپنی جماہی کو بہ مشکل روکتے ہوئے پہلے سر کی طرف اور پھر زویا کو دیکھا۔ اس کا دھیان نوٹ بک پر کم اور ہاتھ میں پکڑے موبائل پر زیادہ تھا۔
    ”یار یہ سر کب جائیں گے؟” اُس نے اکتاہٹ سے نوٹ بک کے کونے پر لکھ کر زویا کو کہنی ماری۔
    ”کک… کیا…” زویا ہڑبڑا گئی۔
    ”کیا ہورہا ہے؟” سر نے اسی دوران اُسے پکڑ لیا تھا۔
    ”کچھ نہیں سر…” زویا نے فوراً موبائل بیگ میں پھینکا۔
    ”تو کیا بتا رہا تھا میں۔” انہوں نے اسے گھور کر پوچھا۔ شزا نے ہنسی دبائی۔
    ”سر وہ… جہانزیب کی بات ہورہی تھی…” وہ گڑ بڑائی۔ کلاس میں زبردست قہقہہ لگا تھا۔
    ”اور یہ جہانزیب کون ہے؟” قمر صاحب کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوا۔ شزا نے شرمندگی سے سر کو دیکھا اور انگلیاں مروڑنے لگی۔
    ”بیٹا… اپنے اندر کا شور کم کریں۔” انہوں نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے تحمل سے کہا۔
    ”جی سر…” وہ منمنائی۔
    ”اندر کا شور کم ہوگا، تو باہر کی چیزیں سنائی دیں گی بچہ۔” انہوں نے مزید طنز کیا۔
    ”یس سر۔”زویا نے سر ہلایا۔
    بیٹھو … اور ہاں یہ اورنگزیب تھا۔” انہوں نے بالآخر اس کی جان بخشی کی۔ وہ فوراً بیٹھ گئی اور شزا کو مسکراتے دیکھ کر غصے سے گھورا۔
    ”تم مجھے بتا نہیں سکتی تھی۔” شزا کو کہنی مارتے ہوئے اس نے دانت پیسے۔
    ”کیا…؟ مثلاً کیا کہ سر تمہیں اُٹھانے والے ہیں؟ یا تمہیں نوٹس کررہے ہیں؟” شزا نے دبی آواز میں جواب دیا۔
    ”مرو تم…” وہ سر کو وائٹ بورڈ کی جانب جاتا دیکھ کر انہیں یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی جیسے آنکھوں سے ہی سنے گی۔
    ٭…٭…٭





    ”توبہ ہے یونیورسٹی ہے کہ کوئی اسکول… یہ سر باجوہ تو نہ انہیں کسی اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہونا چاہیے تھا۔” زویا نے کلاس ختم ہونے کے بعد کاریڈور میں آکر کتابیں اور بیگ پھینکتے ہوئے غصے سے کہا۔
    ”سیریسلی یار! پوچھنے ہی بیٹھ جاتے ہیں کہ کیا پڑھایا۔” شزا نے اکتاہٹ سے کہا۔
    ”رکو ذرا statusہی اپ ڈیٹ کردیتی ہوں۔” زویا نے اپنے اسمارٹ فون پر انگلیاں چلائیں اور فیس بک کھولی۔
    ”کیا لکھو گی…؟” شزا نے اسے گھورا۔
    ”سوچنے دو… ہاں…” وہ کچھ دیر سوچ کر سیدھی ہوئی۔
    "uff…this history feeling bored with shiza Javed.”
    اس نے شزا کو ٹیگ کیا۔
    ”کہیں سر قمر ہی نہ پڑھ لیں۔” شزا کو فکر ستائی۔
    ”چل ہٹ… میری فرینڈ لسٹ میں تھوڑی ہیں وہ۔” زویا نے ناک سے مکھی اُڑائی۔
    ”لیکن…” شزا نے اسے ڈرتے ڈرتے دیکھا۔
    ”لیکن کیا…” زویا بیگ میں کچھ ڈھونڈنے لگی۔
    ”میں نے کل ہی انہیں ایڈ کیا ہے۔” شزا نے بے چارگی سے بتایا۔
    ”واٹ…” زویا چیخی۔ دماغ ٹھیک ہے تیرا، بے وقوف لڑکی پہلے نہیں پھوٹ سکتی تھی؟ ستر دفعہ بولا ہے کہ پرائیویسی سیٹنگ چیک کرو اور ٹیگ اپروو کرنے کے بعد الاؤ کیا کرو، لیکن نہیں محترمہ کو لوگوں کو بتانا ہے کہ وہ کتنی مشہور ہیں اور کتنے لوگ انہیں ٹیگ کرتے ہیں۔” زویا دانت پیستے ہوئے تیزی سے موبائل پر انگلیاں چلانے لگی۔
    ”جلدی ڈیلیٹ کرو ورنہ کل کلاس میں چھترول کریں گے۔” شزا نے اُس پر جھکتے ہوئے منمنا کر کہا۔
    ”پیچھے دفع ہو۔ وہی کررہی ہوں۔” زویا نے فیس بک کھولی۔
    ”ہائے کھل گیا شکر ہے۔ کسی نے ابھی دیکھا تو نہیں؟” شزا نے ناخن چباتے ہوئے زویا کو دیکھا۔
    ”گاڈ…” زویا کی نظریں اسکرین پر جم کر رہ گئیں۔
    ”کیا ہوا…” شزا نے گھبرا کر پوچھا۔
    ”تو دیکھ مرلے۔” زویا نے موبائل اس کے سامنے کیا جہاں باجوہ صاحب کی طرف سے لائیک کا نوٹیفکیشن جگمگا رہا تھا۔ شزا نے آنکھیں پٹپٹا کر دوبارہ دیکھا کہ شاید سکرین پر لکھا بدل جائے پھر ڈرتے ڈرتے زویا کو دیکھا جو کٹ گھنی بلی بنی تھی۔
    ”ہیلو Peeps” نور نے poutبنا کر دونوں کو گزیٹ کیا جو سر جوڑے موبائل پر نہ جانے کیا دیکھ رہی تھیں۔ اس نے بیگ سائیڈ پر رکھا اور اِن کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔
    ”کیا تکلیف ہے نور؟” شزا نے اس پر چڑھائی کی۔
    ”کیا دیکھ رہی ہو تم لوگ؟” اس نے تجسس سے پوچھا۔
    ”تمہارا دولہا۔” زویا نے دانت کچکچائے۔
    ”ہائے۔” نور نے انگلیاں مروڑ کر شرمانے کی ایکٹنگ کی۔
    ”مجھے بھی تو دکھا دو۔” اُس نے شرما کر کہا۔
    ”بکواس بند کرو اور یہ بتاؤ اتنی لیٹ کیوں آئی ہو۔ یہ صبح صبح مغلوں کا جغرافیہ پھانکنے کو ہم ہی ملتے ہیں باجوہ صاحب کو۔” زویا کا غصہ کسی طور کم نہ ہوا تھا۔
    ”یار بھائی کی کھٹکارا بائیک پھر سے خراب ہوگئی تھی۔” نور نے آنکھیں مٹکا کر بتایا۔
    ”چلو… تیرے پاس اور کوئی بہانہ نہیں ہے کیا۔”شزا نے دھپ لگائی۔
    ”لو مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی۔” نور نے برا مانتے ہوئے کہا۔
    ”اب یہ سرکس بند کرو اور اٹھو ابھی اسائنمنٹ کے پرنٹس لینے ہیں اور بائنڈنگ بھی کروانی ہے۔” زویا نے کتابیں اٹھائیں اور کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
    ”ارے ہاں مجھے تو بھول ہی گیا تھا۔” شزا نے سر پر ہاتھ مارا۔ تینوں نے اپنی چیزیں اٹھائیں اور کیفے کی اور چل دیں۔
    ٭…٭…٭
    شزا، نور اور زویا تینوں یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کررہی تھیں۔ تینوں بی اے سے ساتھ تھیں اور ایک دوسرے کی بہترین دوست بھی۔ بی اے کے بعد انہوں نے سوشیالوجی میں اکٹھے ہی ایڈمیشن لے لیا۔ تینوں سوشل میڈیا کی دلدادہ تھیں۔ خاص طور پر زویا کو تو ہر چیز فیس بک پر اپ ڈیٹ کیے بغیر چین ہی نہیں آتا تھا۔ اپنی ہر آؤٹنگ اور hangout کو پوسٹ کرنا اس کا شوق تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”امی دیکھا آپ نے۔” زویا نے چیخ ماری۔
    ”کیا ہوا اب۔” نجمہ نے استری والے کپڑوں کو پانی لگاتے ہوئے بے زاری سے اسے گھورا۔
    ”دیکھ لیں آپ اپنے بھتیجے کی حرکتیں۔” زویا نے موبائل دوسرے ہاتھ میں پکڑا۔
    ”تمہاری حرکتیں نہ دیکھوں پہلے؟ کام تم سے کچھ ہوتا نہیں ہر وقت موبائل کی ماں بنی رہتی ہو۔ کہا ہے کپڑوں کو پانی لگا دو وہ بھی محترمہ سے نہیں لگا۔” نجمہ نے اُلٹا اس کی کلاس لے لی۔
    ”افوہ امی… میرے پیچھے پڑی رہیں بس مجھے نہیں پسند یہ کام۔” اس نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے شاہانہ پن سے کہا۔
    ”تمہیں پسند کیا ہے آخر؟” نجمہ نے دانت پیسے۔
    ”میری بات تو سن لیں آپ… ذیشان بھائی آئے ہوئے ہیں دبئی سے ایک ہفتہ ہوگیا، لیکن آپ کو ملنے نہیں آئے۔” زویا نے آنکھیں مٹکا مٹکا کر بتایا اور کن انکھیوں سے ماں کا ری ایکشن دیکھنے کی کوشش کی۔
    ”تمہیں کیسے پتا؟” نجمہ کے ہاتھ پکڑا پر ڈھیلے ہوگئے۔
    ”یہ دیکھیں چیک ان کیا ہوا ہے لاہور کا۔ اپنی بہن کے ساتھ کھانے پر گئے تھے۔ اتنا نہ ہوا ہم سے بھی پوچھ لیتے۔” زویا نے ماں کو متوجہ پاکر چھلانگ ماری۔ نجمہ کے پاس آکر اسے تصویریں دکھانے لگی۔
    ”بڑا ہی بے دید ہے۔ باپ کی طرح سامنے کیسے پھپھو پھپھو کرتا ہے اور ایک شہر میں ہوتے ہوئے بھی ملنے کی توفیق نہ ہوئی۔” نجمہ خفگی سے بولیں۔
    ”اور کیا… ان کو لگتا ہے ہمیں پتا ہی نہیں چلے گا۔” زویا نے بال جھٹکے۔
    ”یہ فیس بک پر کیا سب پتا چل جاتا ہے۔” نجمہ نے معصومیت سے پوچھا۔
    ”ہاں امی آج کل تو لوگ کام بعد میں کرتے ہیں اور فیس بک پر لگاتے ہیں۔” زویا نے مزید روشنی ڈالی۔
    ”چلو بند کرو اس کو بلکہ یہ کپڑے اٹھاؤ اور آئرن اسٹینڈ پر رکھو۔” نجمہ کا دل کام سے اچاٹ ہوگیاتھا۔
    ”کیا ہوا اب آپ کو…” زویا نے آنکھیں گھمائیں۔
    ”دکھ ہورہا ہے مجھے۔ میں کون سا اس سے رقمیں مانگ لیتی ہوں یا پیسے… صرف مل کر جانے میں بھی اس کو تکلیف ہے۔ پال پوس کر میں نے بڑا کیا ہے اسے۔ ماں کو تو کبھی ٹی وی سے ہی نہ فرصت ملی۔” نجمہ کا لہجہ غمگین تھا۔
    چلیں چھوڑیں امی، ہمیں کیا۔ ہم کون سا مرے جارہے ہیں۔زور زبردستی بھی تو نہیں کرسکتے۔” زویا نے نجمہ کا کندھا تھپکتے ہوئے تسلی دی، تو نجمہ نے بھی سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭
    گرلز، گڈ نیوز…” نور بھاگتی ہوئی شزا اور زویا کے پاس آئی۔
    ”واٹ…؟” زویا نے بے زاری سے مڑ کر پوچھا۔
    ”باجوہ صاحب نہیں آئے آج۔” نور تالی بجا کر اُچھلی۔
    ”واہ… شکر ہے۔” شزا نے شکر ادا کیا۔
    ”چلو کیفے چل کر چائے پیتے ہیں۔” زویا نے بیگ اٹھایا۔
    ”توبہ میں تو سوچ سوچ کر ہی بے ہوش ہوئی جارہی تھی کہ کہیں…” شزا خوشی سے بولتی ہوئی مڑی تو سامنے ہی ہاتھ میں ڈائری اور دوسرے ہاتھ میں گلاسز پکڑے باجوہ صاحب کھڑے تھے۔
    ”س…س…سر…” شزا نے ہکلا کر کہا۔ نور اور زویا نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ زویا نے نور کو قتل کرنے کا اشارہ کیا۔
    ”سر میں ایک ہی ”س” آتا ہے۔ باجوہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”سر ہم آپ ہی کا انتظار کررہے تھے ایک اسائنمنٹ…”
    ”میرا انتظار؟ کس لیے؟ اوہ بور ہونے کے لیے؟” انہوں اپنے سوالوں کے خود ہی جواب دیے۔ تینوں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔
    ”سر وہ… ایکچوئلی ایسے ہی ہم بیٹھے تھے تو…” زویا نے بات بنانے کی کوشش کی۔
    ”سر وہ تو آپ کے پیریڈ کے بعد پوسٹ کیا تھا۔” شزا نے فوراً لب کشائی کی۔
    ”اچھا…” سر نے لمبا سا اچھا کہا۔
    ”اور وہ جو ہسٹری کی بات ہورہی تھی؟” سر نے معصومیت سے پوچھا۔
    شزا نے زویا کو دانت کچکچا کر دیکھا۔
    ”سوری سر… ہمارا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا۔” بالآخر نور نے معافی مانگنے کا سوچا۔
    ”ارے آپ کیوں سوری کررہی ہیں آپ تو اس پوسٹ پر taggedبھی نہیں تھیں۔” سر نے گویا سارے بدلے آج ہی پورے کرلیے تھے۔
    ”سوری سر…” زویا نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
    ”کلاس میں چلیں۔” وہ تینوں کو گھورتے ہوئے لیکچر ہال کی طرف بڑھ گئے۔
    ”زویا کمینی، مروا دیا تم نے۔” شزا نے زویا کے بازو میں ناخن چبھوئے۔
    ”پیچھے مرو… میں نے کہا تھا سر کو ایڈ کرکے بیٹھ جاؤ۔ پھر تم نے taggedپوسٹس بھی کھلی چھوڑی ہوئی ہیں۔” زویا نے الٹا اسے قصور وار ٹھہرایا۔
    ”اوکے lets more peeps” نور نے گہری سانس بھری۔
    ”تم…” زویا خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتی اس کی طرف بڑھی۔
    ”میں نے کیا کیا اب…” نور آگے بھاگی۔
    ”تم نے کہا سر آج نہیں آنے والے۔” زویا پھنکاری۔
    ”مجھے تو آلو، مم…میرا مطلب ہے شعیب نے بتایا تھا۔” نور نے سی آر کا نام لیا۔
    ”تم اور تمہارا Information saurced” شزا نے ناک سے مکھی اڑائی۔
    ”چلو اب… سر ہماری راہ دیکھ رہے ہوں گے۔” زویا نے چبا چبا کر غصیلے انداز میں کہا۔ اس کے انداز پر شزا اور نور کی ہنسی چھوٹ گئی۔ تینوں ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    تم ابھی تک جاگ رہی ہو۔” اس اچانک چنگھاڑ پر شزا کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا۔
    ”افوہ بجو ڈرا ہی دیا آپ نے۔” شزا نے سینے پر ہاتھ رکھا۔
    ”شزا شرم کرو صبح کے تین بج رہے ہیں۔ ہر وقت منہ اٹھا کر اس موبائل میں گھسی رہتی ہو اور کوئی کام نہیں تمہیں۔”
    شرمین نے اپنا تکیہ سیدھا کرتے ہوئے آڑھے ہاتھوں لیا۔ وہ واش روم جانے کے لیے اُٹھی تھی۔ جب اس نے شزا کو موبائل کے ساتھ مصروف دیکھا۔
    ”اچھا… سونے لگی ہوں۔” شزا نے کروٹ بدلی اور موبائل کی برائٹ نس کم کردی۔ مبادا شرمین پھر سے شروع ہو جائے۔
    ”شہزاد بھائی…” شزا نے فون لاک کرتے کرتے کہیں نام پڑھا اور اس کے نام پر کلک کرکے پروفائل کھول لیا۔
    ٭…٭…٭




  • سوءِ بار — میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاؤں کے رشک خان کی پوتی گاؤں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟” اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔”
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭…٭…٭





    ٹھنڈی وڈاں گاؤں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاؤں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاؤں کیا آس پاس کے گاؤں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔” اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔”
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاؤں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوں سے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولۖ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ ” زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟”
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟” زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔” وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟” شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مؤدب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔”
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔”
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔”
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟” زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔” وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مؤدب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟”
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔”
    ”سب غلط ہیں کیا؟” اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔”
    ”ایک تو سچا ہے؟” نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔” ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔” زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟” سب گاؤں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ۖ کہتے ہیں ۔”
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟” بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔” وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔
    ”ہم نے بھی پڑھ رکھا ہے سب ۔ جانتے ہیں سب ۔”
    ”مگر مانتے نہیں ہیں۔” اس نے سر اٹھا کر سب کی جانب دیکھا ۔
    ”تو ہوش میں ہے ؟” زمان خان نے سر پیٹ لیا ۔
    ”میں ہی تو ہوش میں ہوں۔”
    پھر اسے واپس بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا گیا کہ وہ باغی ہوتا وہاں کی نسل کو برباد کر رہا تھا، لیکن ایسے نہیں سنگسار کر کے اور پہلا پتھر اسے زمان خان نے مارا تھا اس کا پہلا قدم اٹھانے میں مدد دینے والا ، اس کا باپ ۔ پھر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے اور شیر گل دیوانہ وار بھاگتا چلا گیا ۔کون سا پتھر کہاں لگا یہ یاد نہ رہا سوائے اس پہلے پتھر کے ۔
    ”شیر گل حق بات کہتا ہے۔” وہ تو سنگسار کر کے نکال دیا گیا تھا، لیکن یہ سوچ دوسرے ذہنوں میں پنپنے لگی تھی ۔
    ”آباء ہمیشہ درست ہوں گے یہ کہاں لکھا ہے ؟ کہاں ہوتا آیا ہے؟ تاریخ گواہ ہے ۔” وہ شیر گل کا تایا زاد رشک خان تھا ْ۔
    ” گزری قوموں جیسا کریں گے تو انہی کی طرح بندر خنزیر بنا دیے جائیں گے ۔” وہ ٹھنڈی وڈاں کے بڑے زمیندار کا پتر امیر حمزہ تھا ۔
    ”ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
    ” ہم ہی تو کر سکتے ہیں ، ہم جمے رہیں یہ ہم پہ لازم ہے ۔ اصحاب ِ کہف بھول گئے ۔چند جوان لڑکے ، نو عمر لیکن ایمان پر ڈٹ جانے والے ۔ اتنا نہ سہی ، کچھ تو ایمان دکھائیں ۔”
    چودہ لڑکوں کا وہ ٹولا شیر گل کا ہم خیال تھا ۔ چودہ گاؤں کے لیے چودہ جوان کافی تھے ۔انہیں سمجھایا گیا ، ڈرایا گیا ، لالچ دی گئی ، وعیدیں سنائی گئیں مگر وہ ڈٹے رہے، جمے رہے ۔ انھیں سنگسار نہ کیا جا سکا کہ اس میں بڑے لوگوں کے پتر شامل تھے۔ پھر کس کس کو سمجھاتے بجھاتے اور کس کس کو سنگسار کرتے ۔ ایک چنگاری تھی جو لگا دی گئی تھی۔
    بہت ماہ بعد شیر گل کسی امید کے سنگ لوٹا تھا ۔ ایک آخری بار ۔ بڑے ٹیلے پر کھڑا ہوا چلا رہا تھا ۔
    ” مان جاؤ ۔ حد سے بڑھنے والوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔” آہستہ آہستہ پورا ٹھنڈی وڈاں ٹیلے کے گرد جمع ہونے لگا ۔ شیر گل یہی دہراتا جاتا ۔
    ” تو ولی ہے یا نبی جو وعیدیں سنا تا ہے ۔ ہم اب تک بچے ہیں ، آگے بھی بچے رہیں گے ۔” بڑا زعم تھا انھیں اپنی عبادات پہ ۔ غرور اور تکبر تھا جو ٹپک رہا تھا ۔
    ”بنی اسرائیل مت بنو۔”
    ”بن بھی گئے تو کیا؟ بڑا کرم تھا اس قوم پہ ۔” اور وہ سارا عذاب بھول گئے، صرف انعام یاد رکھا۔ آزمائشیں ، پابندیاں کچھ یاد نہ رہا ۔ شیر گل پھر رکا نہیں ۔ ہمیشہ کے لئے نکل گیااور جس روز سرحد پار سے ان کا متبرک مال آنا تھا اور وہ نجانے کون کون سے منصوبے بنا رہے تھے۔ دھرتی پہ بوجھ کو بڑھا رہے تھے تو زمین سرکنے ، خون اگلنے لگی ۔ گھر کے گھر اجڑ گئے۔ گاؤں کے گاؤں الٹ گئے اور چودہ لڑکوں کا وہی ٹولا بچ گیا جو شیر گل کا ہم خیال تھا ۔
    رشک خان نے آنکھوں کو پونچھتے ہوئے پوتی کی جانب دیکھا جواس کی انگلی تھامے زمین کے اونچے نیچے رستوں پر چلتی دراڑوں کو دیکھتی دہراتی جاتی تھی ۔ زمین پہ بوجھ بڑھنے سے بھونچال آتا ہے ۔ اگلی بارنجانے بوجھ کب بڑھے گا۔
    ٭…٭…٭




  • نیل گری — افتخار چوہدری

    گہرے سرمئی بادلوں سے گرتی سفید برف نے فضا میں سحر انگیز منظر تخلیق کیا ہوا تھا اور یہ منظر پچھلے کئی دنوں سے یکسانیت کا شکار تھا جس کی وجہ سے حد نگا ہ تک پھیلی برف کی سفید چادر کئی فٹ موٹی تہ کی صورت اختیار کر چکی تھی ، مگر ابھی تک گالوں کی شکل میں گرتی برف رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ درختوں کی شاخیں تک برف کے بوجھ سے دُہری ہو چکی تھیں ، جب کہ اطراف میں موجود ہر منظر دودھ میں نہایا ہوا لگ رہا تھا ،پہاڑوں پر موجود پگڈنڈیوں سے مشابہ رستے جو گرمیوں میں حقیقی وجود رکھتے تھے ، اس وقت کسی بے نشان منزل کی طرح گم ہوچکے تھے۔ ایسے میں صفدر اُنہی گمشدہ رستوں پر محض اندازے اور احتیاط سے قدم اٹھا رہا تھا۔ اس کا ہر اٹھنے والا قدم گھٹنوں تک برف میں دھنس رہا تھا جس کی وجہ سے چلنے کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی۔ سردی سے بچنے کے لیے اس کے جسم پر آدھے درجن سے زائد گرم ترین ملبوسات کی تہیں تھیں اور سر کو گرم ٹوپی سے ڈھانپنے کے بعد ایک اونی مفلر سے پورے چہرے کو چھپایا ہوا تھا۔ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ اتنے حفاظتی اقدامات کے باوجود اسے سردی سے اپنی ہڈیوں میں گودا جمتا محسوس ہورہا تھا۔ گیارہ ہزار فٹ سے زائد بلندی پر ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی مقدار انتہائی کم تھی جس کی وجہ سے وہ گہرے سانس لینے پر مجبور تھا۔ وہ اس وقت سائبیریا کے بعد دنیا کے دوسرے سر د ترین مقام دراس کی حدود میں موجود تھا۔ وہاں اس وقت درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے تھا۔ وہاں سے کارگل کی مشہور پہاڑیاں اور خاص طور پر ٹائیگر ہل نامی پہاڑ بالکل متصل علاقہ تھا۔ اسی پہاڑ پر پاکستان اور اس کے ازلی دشمن انڈیا کے درمیان 1999ء میں گھمسان کا رن پڑا تھا۔ صفدر اس وقت پہاڑکے ٹاپ کی طرف جانے والے ایک تنگ سے راستے پر پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا۔ اس تنگ راستے کے دوسری طرف ہولناک کھائیاں صدیوں سے منہ پھاڑے کسی شکار کے انتظار میں تھیں۔ پوری احتیاط سے چلنے کے باوجود اچانک اس کے پاؤں کے نیچے سے برف کسی شیشے کی طرح تڑخی اور پھر اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھالتا اس کا توازن بگڑگیا اور وہ راستے کے دوسری طرف گہری کھائی میں گرتا چلا گیا۔ رستے کے کنارے پر شیڈ کی صورت آگے کو بڑھی ہوئی برف پر پاؤں رکھتے ہوئے اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ برف کے نیچے ٹھوس سطح کے بجائے خلا ہے۔ اندازے کی اس ایک غلطی نے اسے آزمائش میں مبتلا کر دیا تھا۔ برفیلی ڈھلانی سطح پر لڑھکنیاں کھاتا ہوا جب وہ رکا، تو اس کی آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے ستارے گردش کر رہے تھے۔ اسے اپنے حواس مجتمع کرنے میں چند منٹ لگ گئے۔ حواس پوری طرح بحال ہونے پر اس نے اطراف کا جائزہ لیا، تو خود کو ایک پیالہ نما کھائی میں پایا جس کی گہرائی بیس فٹ سے زائد ہوگی۔ اس نے واپس اوپر چڑھنے کی کوشش کی، تو اسے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ برف گرنے سے ڈھلانی نظر آنے والی کھائی کی دیوار اصل میں عمودی ہے۔ اس خوفناک حقیقت کے آشکار ہونے پر اس کادل لرزنے لگا۔ وہ بار بار اوپر چڑھنے کی کوشش میں پھسل کر واپس گر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس کا سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگا، تو نڈھال سا ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا جس جگہ وہ بیٹھا تھا اسے لگا جیسے اس کا پاؤں کسی نرم اور پلپلی چیز کے اوپر رکھا گیا ہو۔ اس نے کریدنے کے انداز میں وہاںسے برف ہٹائی تو اسے لگا جیسے وہاں کوئی انسانی جسم دباہوا ہے۔اس خیال سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے جب کہ برف ہٹانے کی رفتار دُگنی ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں اس نے ایک پندرہ ،سولہ سالہ لڑکی کی لاش دریافت کر لی۔ وہ پری چہرہ لڑکی سوئی ہوئی لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر موت کی تلخی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ لباس اور حلیے سے اس کا تعلق وہیں کے کسی قبیلے سے لگ رہا تھا ۔ نہ جانے کس بد نصیب کی بچی ہے۔ اس نے دکھی دل سے سوچا اور بے بسی سے اطراف کا جائزہ لینے لگا۔ اسے خود پر اس چوہے کا گمان ہو رہا تھا جسے پنجرے سے باہر نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی ہو۔ ابھی دن میں ہی بادلوں نے اندھیرا پھیلا رکھا ہے ،کچھ دیر بعد جب رات کے اندھیرے نے اپنے سیاہ پَر پھیلا کر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے تب، تو یہاں سے نکلنا نا ممکن ہو جائے گا اور پھر صبح تک تو اس بے رحم موسم نے میری قلفی جما کر مجھے بھی اس لڑکی کے ساتھ ہی میں دفن کر دینا ہے۔ صفدر کے ذہن میں اس بار منفی سوچ ابھری۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے دل نے ذہن میں ابھرنے والی سوچ کی پُر زور تردید کی اور وہ ایک بار پھر ہمت کر کے نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑ ا ہوا۔ اس بار اس نے رُخ بدل کر جنونی انداز میں ہاتھ چلائے تو اچانک برف میں دبی ہوئی جھاڑی کی لمبی شاخ اس کے ہاتھ آگئی جس کے سہارے وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ تشکر بھرے جذبات کے ساتھ ساتھ یقینی موت کو پچھاڑنے کا جوش بھی اس کے چہرے سے عیاں ہورہا تھا۔اس نے مڑ کر کھائی میںجھانکا، تو حسرت ویاسیت کی تصویر بنی لڑکی کی لاش پر برف روئی کے گالوں کی طرح گر رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر سفر شروع کیا ، گو کے اس کا اٹھنے والا ہر قدم گھٹنوںتک برف میں دھنس رہا تھا، مگر اسے یقین تھا کے دن ڈھلنے سے پہلے وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے گا۔
    ٭…٭…٭
    گہرے سرمئی رنگ کے چوہے نے ایک بار پھر آٹے والی ڈرمی کے پیچھے سے سر نکال کر اپنی گول مٹول آنکھوں سے اطراف کا جائزہ لیا۔ وہ کافی دیر سے وہاں چھپا ہوا تھا اور اب واپس اپنے بِل کی طرف جانے سے ہچکچا رہا تھا۔ وہ کئی بار ہمت کر کے باہر نکلا بھی تھا، مگر ہر بار چند قدم آگے بڑھنے کے بعد ہی اس کی ہمت جواب دے جاتی اوروہ کسی شکست خوردہ فوجی کی طرح پسپا ہوتا ہوا واپس ڈرمی کے پیچھے جا چُھپتا تھا۔ اب بھی وہ اسی کشمکش میں تھا کہ واپس اپنے بِل کی طرف چلا جائے یا مزید کچھ دیر یہیں چھپ کر اپنی جان کی حفاظت کرے، اس کی چھٹی حِس اسے قر ب وجوار میں موجود کسی بڑے خطرے سے آگاہ کررہی تھی۔ بالاخر اس بار اطراف کا جائزہ لینے کے بعد اس نے اپنی ہمت مجتمع کی اور ڈرمی کے پیچھے سے نکل آیا اور پوری رفتار سے دوسری دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی پیٹی کی طرف دوڑا۔ پیٹی کے نیچے اس کا بِل تھا جس تک پہنچنے کے لیے وہ اتاولا ہوا جا رہا تھا۔ ابھی وہ اپنی منزل سے چند فٹ دورتھا جب دروازے کے پیچھے گھات لگا کر بیٹھی ہوئی مانو ایک ہی جست میں اس کے اوپر آن گری۔ گھر کی پلی ہوئی مانو کے ایک ہی جاندار پنجے نے اس کی روح کو اس فانی دنیا سے عالمِ پائیدار میں منتقل کر دیا۔ اب مانو کے منہ میں محض گوشت کا ایک لوتھڑا باقی رہ گیا تھا جسے لیے وہ پیٹی کے نیچے گھس گئی اور پھر اس کے مضبوط جبڑوں کے نیچے آکر چوہے کی ہڈیا ں ٹوٹنے کی کریہہ آوازیں ابھرنے لگیں۔
    ”بھائی! امی کہہ رہی ہیں کہ اٹھ جائیں ورنہ کالج سے دیر ہو جائے گی۔” نوشی نے صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ کسلمندی سے چار پائی پر لیٹا ہوا بلی اور چوہے کے درمیان ہونے والی کشمکش میں حالات کو طاقتور کے حق میں پلٹا کھاتے ہوئے دیکھ کراس قدر گہری سوچ میں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اسے نوشی کے کمرے میں داخل ہونے کا علم ہی نہیں ہوا تھا۔
    ”کیا امی کے نام کی دھمکی دینا ضروری ہے؟ یہ بات تم خود بھی تو مجھے کہہ سکتی ہو۔ میں تمہیں منہ میں نہیں ڈال لوں گا۔ صفدر نے بیزاری سے جواب دیا۔ تو ہمیشہ سے ڈری سہمی رہنے والی نوشی کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا، جیسے بھائی نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا ہو۔ وہ جس طرح آئی تھی ویسے ہی بے آواز قدموں سے لوٹ گئی۔ صفدر ایک بھر پور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہو ا اور کچھ دیر آئینے میں خود کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد باتھ روم میں گھس گیا۔ جب وہ باتھ روم سے باہر نکلا، تب تک نوشی اس کے لیے ناشتا لا کر چارپائی پر رکھ چکی تھی۔ ”یہ کیا ابھی تو پراٹھے اور آملیٹ بننے کی خوشبو آرہی تھی، میرے لیے بھی وہی لاؤ۔” اس نے چنگیر میں موجود روکھی روٹی اور کٹوری میں رات کی بچی ہوئی دال دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہا۔ ”دیور جی! پراٹھے کھانے کا شوق ہے تو کسی کام دھندے سے لگو۔ پہلے ہی مفت کی توڑتے ہوئے نہ آنکھ شرماتی ہے اور نہ ہاتھ رکتا ہے اور رہی سہی کسر یہ فرمائشی پروگرام شروع کر کے نکالنا چاہتے ہو۔” اس سے پہلے کہ نوشی کوئی جواب دیتی، ان کی بھابی عظمیٰ نے دروازے میں نمودار ہو کر کینہ توز نظروں سے دونوں کو گھورتے ہو ئے کہا شاید وہ کہیں قریب ہی موجود تھی اور یقینا ان کی باتیں بھی سن رہی تھی۔
    ”بھابی! گھر چلانے کے لیے آپ کے والد ِمحترم خرچہ دے کر نہیں جاتے جو آپ ہمیں مفت کی توڑنے کا طعنہ دے رہی ہیں۔ بھائی اکرم اس گھر کا بڑا بیٹا ہے،ماں باپ کا بھی اس پر کوئی حق ہے کہ نہیں اور آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ابو کی ریٹائرمنٹ اور گریجوایٹی کی تمام رقم بھائی کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بطور رشوت دی گئی تھی۔ کیا آپ میںاتنا سا بھی ظرف نہیں ہے کہ میری گریجوایشن مکمل ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں اوریہ چند ماہ صبر کرلیں۔ اس کے بعد میں خود امی ابو اور بہن کی ذمہ داری سنبھال لوں گا۔” صفدر بھی کہاں چپ رہنے والا تھا۔ اس نے بھی ترنت زہر خندہ لہجے میں جواب دیا۔ جھگڑے کی فضا دیکھ کر نوشی تھر تھر کانپنے لگی۔ اسے بھائی اور بھابی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ بات لڑائی کی طرف جارہی ہے اور وہ ہمیشہ کی ڈرپوک ایسی صورت حال سے کوسوں دور بھاگتی تھی۔
    ”میرے والد کا اس بات سے کیا تعلق ہے؟ کیا یہی تعلیم حاصل کر رہے ہو کہ بزرگوں کی عزتیں اچھالو۔ اب اگر تم نے اپنے گندے منہ سے میرے ابو کا نام لیا تو میں تمہارا منہ نوچ لوں گی، گھٹیا۔” عظمیٰ نے آگے بڑھ کر صفدر کا گریبان پکڑ لیا اور ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔ اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ آس پاس کے پڑوسی بھی متوجہ ہوگئے۔ بشیراں بی بی بیٹے اور بہو کے درمیان آگئی تاکہ جھگڑے کو بڑھنے سے روک سکے۔ اس دوران ریٹائر کلرک رحمت علی کھانستا ہوا جب کہ اکرم بھی آنکھیں ملتا ہواوہاں پہنچ گئے۔
    ”صبح سویرے کیا تماشا لگا رکھا ہے؟” اکرم نے پھنکارتے ہوئے پوچھا۔ اس کا رخ صفدر کی طرف ہی تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ،رو رو کر آسمان سر پر اٹھاتی ہوئی عظمیٰ نے بات اچک لی۔
    ”اس بھوکے ننگے گھر میں، میں نے اپنی تمام خواہشات کا گلا گھونٹ دیا۔ تمہاری کم آمدن کے باوجود صبر و شکر سے اس گھر کی تمام ذمہ داریاں نبھا رہی ہوں۔ کئی دنوں سے میرا دل پراٹھا کھانے کو چاہ رہا تھا۔ آج ہمت کر کے ایک بنا ہی لیا تو وہ بھی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہو رہا۔ یہ سرکاری سانڈ کہتا ہے کہ تمہارے ابا خرچہ دے کر نہیں جاتا جو پراٹھے کھاتی ہو۔” اس نے ہچکیوں کے درمیان بات کو اپنے انداز سے آگے بڑھایا۔
    ”بھائی! یہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے تو…”
    ”بس اب تمہیں تاویلیں گھڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کے بعد اگر تم نے بلا وجہ میری بیگم سے الجھنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا اور ویسے بھی چند دنوں کی بات ہے جیسے ہی مجھے سرکاری کوارٹر ملے گا ہم شفٹ ہو جائیں گے۔” اکرم نے عظمیٰ کے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے وارننگ دی، تو اس کی بات سن کر صفدر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے ایک بار پھر کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اپنے پیچھے کسی کے گرنے کی آواز سن کر مڑا، تو نوشی فرش پر گری کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وہ اس کی طرف دوڑا جب کہ عظمیٰ طنزیہ انداز میں سب پر نظر ڈالتے ہوئے اکرم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پانی کے چھینٹوں اور آیت کریمہ کے ورد سے نوشی کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آرہا تھا۔ اس کی گلابی رنگت تیزی سے پیلاہٹ میں بدلتی چلی جا رہی تھی۔
    ”بیٹا خدا کے لیے جلدی کچھ کرو میری بیٹی ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے اسے کسی اسپتال پہنچاؤ۔” بشیراں بیگم نے بے بسی سے صفدر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو صفدر جو بہن کو ہوش میں لانے کے لیے جتن کر رہا تھا چونک کر ہاتھ جوڑتی ہوئی ماں کو دیکھنے لگا۔
    ”ہاں ماں اسے اسپتال لے چلتے ہیں۔” اس نے ماں کی تائید کی اور رکشا لینے گھر سے باہر کی طرف بھا گا۔
    بزرگی کی سرحد میں داخل ہوچکے سفید باریش ڈاکٹر کے چہرے پر سوچوں سے زیادہ تفکر نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ اس کے سامنے موجود ٹیبل پر نوشی کی مختلف رپورٹیں پڑی ہوئی تھیں جب کہ صفدر اپنے امی ابو سمیت ٹیبل کے دوسری طرف موجود کرسیوں پر براجمان تھا۔ ان سب کی نظریں ڈاکٹر پر جمی ہوئی تھیں۔
    ”پلیز ڈاکٹر صاحب کچھ ہمیں بھی بتائیں کے نوشی کو ہوا کیا ہے جو اسے اچانک دورہ پڑ جاتا ہے۔” صفدر نے گلوگیر لہجے میں التجا کی۔
    ”دیکھو بیٹا! آپ کی بہن کو ان میڈیکل رپورٹوں کے مطابق کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے مگر اس کی حا لت بتا رہی ہے کہ وہ شدید تکلیف میں ہے۔” ڈاکٹر نے ایک گہرا سانس لے کر انکشاف کیا۔
    ”اگر کوئی بیماری نہیںہے تو یہ ہر تھوڑی دیر کے بعد دورہ کیوں پڑ رہا ہے؟” صفدر نے حیرت سے پوچھا۔
    ”اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے،البتہ میرے علم میں ایک ایسا درویش صفت انسان ہے جو شایدآپ کے اس سوال کا جواب دے سکے، میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ ایک نظر مریضہ کو دیکھ لیں۔” ڈاکٹر نے ٹیبل پر موجود ٹیلی فون کا رسیور اٹھاتے ہوئے کہا اور پھر ایک نمبر ڈائل کر دیا۔
    دوسری طرف سے کال اٹنڈ ہونے پر وہ کسی چراغ شاہ سے بات کرنے میں مشغو ل ہوگیا۔
    ”شاہ صاحب آدھے گھنٹے تک آرہے ہیں۔” ڈاکٹر نے رسیور واپس کریڈل پر رکھتے ہوئے امید افزا خبر سنائی۔ پھر واقعی آدھے گھنٹے میں نورانی صورت والے چراغ شاہ صاحب آ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ سب کی معیت میں مریضہ کے کمرے میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی چراغ شاہ کی نظر بیڈ پر لیٹی مریضہ پر پڑی، تو ان کے قدم وہیں رک گئے۔ نوشی اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ نیلے کانچ کی طرح نظر آرہا تھا۔ شاہ صاحب چند ثانیے اسے غور سے دیکھتے رہے اور پھر پلٹ کر کمرے سے باہر آگئے۔
    ”شاہ جی کیا ہوا؟ آپ نے بچی کو نزدیک سے کیوں نہیں دیکھا؟” ڈاکٹر نے تجسس سے پوچھا۔
    ”کیا آپ لوگوں نے اس بچی کے لیے آنے والے کسی رشتے سے انکا رکیا ہے؟” شاہ صاحب نے ڈاکٹرکی بات کا جواب دینے کی بجائے رحمت علی سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
    ”جی! ہماری بہو عظمیٰ اپنے بھائی کے لیے اس کا رشتہ مانگ رہی تھی مگر ہم نے انکار کر دیا۔” رحمت علی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”میرے خیال میں اس بچی کو دواؤں کے بجائے دُعاوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی فرمائے، اب سوائے صبر کے کچھ نہیں ہو سکتا۔” شاہ صاحب نے دھیرے سے کہا۔
    ”پلیز سر! آپ کھل کر بتائیں تاکہ ہمارے پلے بھی کچھ پڑ سکے۔” صفدر نے بے چینی سے کہا۔
    ”بیٹا! اس بچی پر نیل گری کا عمل کیا گیا ہے۔ دراس کے پہاڑی سلسلے کے سب سے اونچے پہاڑ پر بسنے والے آریائی قبیلے کے لوگ نیل گری دیوی کی پوجا کرتے ہیں اوراس علم کا عامل صرف ان کا مذہبی پروہت ہی ہوتا ہے۔ ہاں! اگر وہ اپنے کسی خاص شاگر د کو اجازت دے تو پھر وہ بھی کچھ حد تک اس علم سے لوگوں کو پریشان کر سکتا ہے۔ البتہ شاگر د اگر کسی پر یہ عمل کر دے، تو پھر اس کا تو ڑ وہ خود بھی نہیں کر سکتا۔ میں ایک شخص کو جانتا، تو ہوں جو اس عمل کو سیکھنے کے لیے دراس جاتا رہا ہے، مگر مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اس کو سیکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اب یہ کیس سامنے آیا ہے تو مجھے اندازہ ہوا ہے کہ اس خبیث کے پاس خواتین کا جمگھٹا کیوں لگا رہتاہے۔” انہوں نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا۔
    ”شاہ صاحب! مجھ بدنصیب باپ پر رحم کریں اور کسی طرح میری بیٹی کو ٹھیک کر دیں۔” رحمت علی نے باقاعدہ ہاتھ جوڑتے ہوئے منت کی، تو شاہ صاحب نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔




  • نبھانا — نعمان اسحاق

    دور افق پر سورج ڈھل رہا تھا۔ ڈھلتے سورج کی کرنیں بادلوں پر اپنا ہر عکس بکھیررہی تھیں اور یہی مدھم کرنیں جب ڈالیوں پر کھلے گلابوں پر پڑتیں تو ان کی تازگی پر مہر لگاتیں۔ یہ مہر تو مریم کے بالوں میں اٹکے گلاب پر بھی لگتی۔ چہرے پر شگفتگی لیے مریم دو رویہ پودوں کے درمیان کھڑی دور راستے پر کچھ اس طرح سے دیکھتی جیسے کسی کی راہ تک رہی ہو اور پھر اسے وہ نظر آگیا۔
    بانکا اور سجیلا۔
    مریم کا دل کچھ ایسی لے پر دھڑکا کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ دل کو سنبھالے وہ اس کی طرف چلنے لگی۔ قدموں کی رفتار کچھ تیز ہوئی اور پھر ایسے جیسے وہ بھاگ رہی ہو۔ بھاگتے بھاگتے اس کا سفید ململ کا غرارہ ہوا کے دوش پر لہراتا۔ وہ اس کے قریب پہنچی مگر اس کے قریب پہنچ کررکنے کی بجائے وہ آگے بڑھ گئی۔
    ”مریم!” اس نے پکارا تو مریم کے پاؤں رکے، مگر مڑ کے پھر بھی نہ دیکھا۔ وہ خود چل کراس کے پاس آیا۔
    ”رکی کیوں نہیں کہاں جارہی تھی۔” وہ پوچھ رہا تھا۔ مریم مسکرادی۔ اس کا مسکراناہی جواب تھا۔
    ”یہ گلاب …” اب کی بار اس نے مریم کے بالوں میں اٹکے گلاب کو چھوا تھا۔
    ”میں فیصلہ نہیں کرپاتا کہ یہ گلاب تمہاری خوبصورتی کو مکمل کررہا ہے یا تم اس کی خوبصورتی کو بڑھارہی ہو۔” مریم کے لبوں پر تبسم کچھ یوںآن ٹھہرا جیسے ہمیشہ یہیں ڈیرہ ڈالے رہے گا۔
    تبھی مریم کی آنکھ کھلی اور اس نے خود کو نیم تاریک کمرے میں اپنی چارپائی پر لیٹا پایا۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ وہ بے قابو دل کو سنبھالتے اٹھی۔ پیروں میں چپل پھنسائی اور دبے قدموں سے باہر آئی۔
    گرمیوں کو رخصت ہوئے مہینہ بھر ہوچکا تھا، مگر سردیوں کی آمد ابھی تک دور تھی۔ بہرحال رات کے آخری پہر سردی کا لطیف سا احساس ہوتا۔ باہر برآمدے میں آکر مریم نے چند گہرے سانس لیے جیسے تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارا ہو۔ پھر قدم قدم چلتی برآمدے کے ایک کونے میں لگے نل کی طرف آئی ۔ نل کھولا اور منہ پر پانی کے چند چھینٹے ڈالے۔
    نل کے نیچے ٹوٹے پیندے والی بالٹی دھری تھی تاکہ بالٹی میں پانی جمع نہ ہو۔
    گھریلو حالات سنک اور واش بیسن کی اجازت نہ دیتے تھے اور جن چیزوں کی حالات اجازت نہ دیں تو خودبخود اُن کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور یہی حال اس گھر کے مکینوں کا تھا۔
    ”بھلا کیا ضرورت ہے سنک کی؟” منہ پر چھینٹے مارنے کے بعد وہ پانی کی دھار کو بہتا دیکھتی رہی۔ اور ایک نام اس کے لبوں سے نکلا۔
    ”بلال!”





    دور کسی مسجد میں مؤذن نے فجر کی اذان دینا شروع کی۔
    ”اللہ اکبر اللہ اکبر ۔” اذان کے کلمات وہ ساتھ ساتھ دہرارہی تھی اور پھر وضو کرنے لگی۔ جب وہ پاؤں دھو رہی تھی تب آنکھیں ملتی حمیرا بھی باہر آگئی۔
    ”آج تم پھر مجھ سے پہلے اٹھ گئیں۔ حالاں کہ میں جلدی سوئی تھی کہ تم سے پہلے اٹھ جاؤں مگر مجھے نہیں لگتا تم سے پہلے اٹھنے کی خواہش کبھی پوری ہوپائے گی۔” حمیرا اس سے اڑھائی سال بڑی تھی اور وہ بہنیں عمر کے ایسے دور میں ہرگز نہیں تھیں جب ایسے مقابلے کیے جائیں مگر ان دونوں میں ایسے مقابلے چلتے رہتے تھے اور جب تک مریم نے دو سنتیں پڑھیں تب تک حمیرا بھی وضو کرکے اس کے ساتھ آن کھڑی ہوئی۔
    دعا کے لیے اس نے ہاتھ اٹھائے تو خشوع و خضوع خود ہی دامن گیر ہوا اور یوں بھی آج صبح کی دعا میں عجز کا عنصر زیادہ تھا کہ آج نتیجہ جو متوقع تھا اور وہ اپنے اللہ سے پورے انکسار سے اچھے نمبروں کی دعا مانگ رہی تھی۔ دعا مانگ کر کمرے میں گئی اور ماں کو جگایا۔
    بلقیس اتنی بوڑھی ہرگز نہ تھی مگر بے قابو ہوتی ذیابیطس نے وقت سے پہلے بڑھاپے کی دہلیز پر آبٹھایا تھا۔ رات کے پہر کے پہر بے خیالی میں گزرتے اور پچھلے پہر کہیں جاکر آنکھ لگتی نتیجتاً صبح اٹھنا مشکل ہوجاتا۔ بیٹیاں اس سے پہلے اٹھتیں اور نماز سے فارغ ہوکر اسے اٹھاتیں۔
    یہ بیٹیاں بھی کیسی نعمت ہیں۔ یوں تو بیٹیوں کے لیے رحمت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، مگر بلقیس کو نعمت بھی لگتیں۔ کیسے اس کا دھیان رکھتیں۔ ان کے بغیر وہ کہاں جی پاتیں۔ نعمت سی نعمت تھی۔ نماز کے بعد بلقیس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ مریم اس کے پاس آئی اور دوزانو ہوکر ساتھ بیٹھی۔
    ”امی میرے لیے بھی دعا کیجیے گا ۔ میرا نتیجہ ہے آج ۔ اچھے نمبر آنے چاہئیں۔ ”
    ”میری پیاری بیٹی۔ ” بلقیس نے آگے بڑ ھ کے بیٹی کا ماتھا چوما۔
    ”تم تو کہتی ہو تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے، تو پھر امی سے دعاکا کس لیے کہتی ہو۔ ” پیچھے سے حمیرا کی آواز آئی۔
    ”دعا تو میری ہر قبول ہوتی ہی ہے پر کیا ہے نا کہ اپنے حق میں دوسروں سے بھی دعائیں کروانی چاہئیں۔ وہ دعائیں بھی مقبولیت کا درجہ رکھتی ہیں۔” مریم نے حمیرا کے قریب آکر جواب دیا تھا۔
    ”ہونہہ! ” حمیرا سر جھٹک کر رہ گئی ۔ یوں تو حمیرا بڑی تھی مگر باتوں سے مریم ہی سمجھ دار لگتی۔
    قرآن مجید کی تلاوت کے بعد حمیرا نے تو کڑھائی والا فریم اٹھالیا اور سوئی دھاگے کی الجھنوں میں الجھتی گئی۔ جبکہ مریم چہل قدمی کے لیے چھت پر آگئی۔
    صبح حسب معمول سہانی تھی۔ تازہ ہوا کے جھونکے اسے مزید خوبصورت بنا رہے تھے۔ دور کسی درخت پر بیٹھے پرندے اپنی بولیوں میں قدرت کی حمد و ثنا کر رہے تھے۔ یونہی ایک دیوار سے ٹیک لگائے مریم تازہ ہوا کو اپنے اند اتارتی پرندوں کی چہچہاہٹ سنتی سوچوں میں گم ہوگئی۔
    رزلٹ کا دن بھی کیسا اسراربھرا ہوتا ہے۔ دھڑکن چاہے تیز نہ بھی ہو مگرمعمول سے ہٹ کر ہوتی ہے اور ہاتھ پاؤں میں بھی ایک سنسناہٹ دوڑتی ہے ۔ اچھے پڑھے لکھے طلبہ گوکہ مطمئن ہوتے ہیں، مگر عجیب دورانیے سے وہ بھی گزرتے ہیں۔
    رزلٹ کا سوچتے سوچتے صبح کاذب کے وقت دیکھا خواب اس کی آنکھوں میں آن سمایااور ہونٹ ایک دلفریب مسکراہٹ سے چمکنے لگے۔
    ”بلال بھی نا۔ اب کیا خوابوں میں بھی آؤگے؟” چشم زدن میں وہ بلال سے مخاطب تھی اور شاید یہ مکالمہ آگے بڑھتا اگر کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز دخل نہ دیتی اور وہ تخیل برقرار رکھ پاتی۔
    سیڑھیاں چڑھ کر آنے والا حمیرا کے سوا کون ہوسکتا ہے۔
    ”کیا تمہیں یاد نہیں کہ آج ناشتا بنانے کی باری تمہاری ہے۔اب امی روٹیاں پکانے بیٹھ چکی ہیں۔” حمیرا کے ماتھے پر شکن تھے۔
    ”تو آپا میرا رزلٹ ہے آج ۔ اپنے بنائے گئے شیڈول سے خاص دن تو مجھے رعایت دے دیا کرو۔ آپا آپ ناشتا بنانے بیٹھ جاتیں تو کم ازکم امی کو تو تکلیف نہ ہوتی۔” لفظ آپا پر وہ زوردے دے کر بولی اور حمیرا جل بھن کر رہ گئی۔ اصل جھگڑا پیچھے رہ گیا اور پرانا جھگڑا (اتنا پرانا کہ مریم صدیوں پرانا کہتی) دونوں کے درمیان پھر سے آن کھڑا ہوا۔
    ”کتنی بار کہا ہے مجھے آپا مت کہا کرو۔ تم سے اتنی بڑی بھی نہیں ہوں۔ اڑھائی سال کا تو فرق ہے، مگر تمہیں تو چھوٹی بچی بننے کا شوق ہے۔” حمیرا ابھی مزید کچھ کہتی مگر مریم نے اسے ٹوک دیا۔
    ”اڑھائی سال نہیں آپا ۔ دوسال اور سات ماہ۔”
    حمیرااسے گھور کررہ گئی۔
    ”پھر سے آپا۔” وہ دانت پیستی مریم کے پاس آئی اور مریم ہنستے ہوئے پرے سرکی۔ حمیرا مزید آگے بڑھی اور مریم نے دوڑ لگادی اور یوں بھاگتے ہوئے مریم ایسے قہقہے لگاتی کہ اس میں تو شبہ ہی نہ تھا کہ آواز گلی میں نہ جارہی ہو۔
    ”مریم آج تو میں تمہاری جان لے ہی لوں گی۔”
    ”نہ آپا نہ۔” اب تو باقاعدہ پکڑن پکڑائی شروع ہوگئی تھی۔ مریم کے گلے میں جھولتا دوپٹابھی زمین پر گرگیااور اس نے دھیان ہی نہ دیا اور جانے کتنی دیر وہ یوں آگے پیچھے دوڑتیں کہ سیڑھیوں سے آواز ابھری۔
    ”مریم!” دونوں بہنوں نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔ بلقیس دیوار کا سہارا لیے پہلی سیڑھی پر کھڑی تھیں۔
    ”کتنی بار تمہیں سمجھایا ہے یوں قہقہے مت لگایا کرو۔ گلی سے گزرنے والے کیا سوچتے ہوں گے۔ یوں ہنسنے کی آواز باہر جائے لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا اور یہ لو دوپٹا بھی گلے میں نہیں۔ تمہارا کیا ہوگا مریم۔” بیٹی کو ڈپٹتے ہوئے بلقیس کے دل میں یہی آرزو جمی بیٹھی تھی کہ اللہ اس کی بیٹیوں کو ہمیشہ ایسی ہی بے فکری دکھائے کہ جب وہ چاہے دل کھول کر ہنس سکیں، مسکراسکیں، قہقہے لگاسکیں۔
    ”اور حمیرا تم تو بڑی ہو۔ تم ہی سمجھ داری کا مظاہرہ کیا کرو۔ کیا پاگلوں کی طرح پیچھے پیچھے دوڑ رہی ہو۔” حمیرا کو تو یہ بات بندوق سے نکلی گولی کی طرح لگی، مگر بجائے جسم پر لگے نشتر سے خون نکلتا اس کے منہ سے کڑوے الفاظ ہی نکلے۔
    ”بڑی’ بڑی بڑی یہ کیا ہر وقت آپ مجھے بڑی ہونے کا طعنہ دیتی ہیں۔ کیا میں اپنی مرضی سے اس کلموہی سے بڑی ہوں۔ میرے بس میں ہوتا تو…تو یہ مجھ سے اڑھائی سال چھوٹی ہے ۔ میں اس سے پورے پانچ سال چھوٹی ہوتی۔”
    ”اڑھائی سال نہیں پورے دوسال اور سات ماہ۔” مریم نے تصحیح کرنا ضروری سمجھا۔
    ”دیکھ لیں آپ اپنی دلاری کو۔” حمیرا سے وہاں رکنا محال ہوگیا۔ پاؤں پٹختے وہ سیڑھیاں اترنے لگی اور ہنسی کے فوارے ایک بار پھر مریم کے حلق سے پھوٹنے لگے۔
    ”مریم!”بلقیس نے آنکھیں دکھائیں مگر وہ مریم ہی کیاجو خاطر میں لاتی۔ ہنستے مسکراتے اس نے زمین پر پڑا اپنا دوپٹااٹھایا ، جھاڑ کر گلے میں لٹکایااور ماں کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں اترنے لگی۔ قہقہوں سے دل بھرگیااس لیے اب بلقیس سے کہہ رہی تھی۔
    ”آج نتیجہ ہے۔ آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ دیکھیں اس لیے اب قہقہے نہیں لگارہی ہنسنے پر اکتفا کررہی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے بھی ایک قہقہہ پھوٹا تھا اور بلقیس چاہ کر بھی آنکھیںنہ دکھا سکی ابمسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آن ٹھہری۔
    ٭…٭…٭
    جلال پور پیر والا۔ شہر تھا ہی کتنا بڑا۔ یہاں سے شروع اور یہیں پر ختم۔ اسیّ کی دہائی میں جب بڑے شہر بھی اتنے گنجلک اور بڑے بڑے نہ تھے۔ یہ شہر تو جیسے گاؤں کی ترقیاتی شکل تھا۔ ہا ں گورنمنٹ آف پنجاب نے ٹاؤن کمیٹی مہیا کی ہوئی تھی اور جلال پور کو ملتان تحصیل کا درجہ دینے پر غوروخوض کیا جارہا تھا، البتہ اڑوس پڑوس کے بکھرے ہوئے بے تحاشا اور ان گنت دیہات کے لیے جلال پور شہر کا درجہ رکھتا تھا۔ شناختی کارڈ دفتر، ہیلتھ سنٹر ، لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائر سیکنڈری سکول ، بازار غرض وہ شہری ضروریات کے لیے جلال پور کا ہی رخ کرتے اور ہماری مریم اسی شہر کی باسی تھی۔
    بوہڑ سے نیچے اترو تو بائیں جانب ایک تنگ گلی۔ اس تنگ گلی کے دائیں کنارے ایک بند گلی تھی۔ یہ بند گلی نسبتاً کھلی کشادہ تھی اور اسی گلی کے دائیں طرف آخری گھر سے دو گھر پہلے مرسیم کا گھر تھا اور اس بند گلی میں تمام گھر رشتہ داروں کے ہی تھے۔
    چچا ‘ ماموں’ پھوپھو اور خالائیں۔ کوئی پھو پھو ممانی بھی تھیں تو کوئی خالوچچا بھی تھا اور یوں ساری گلی رشتوں سے جڑی تھی اور مریم کو یہ رشتوں سے بھری گلی اس قدر اچھی لگتی تھی کہ اس کی پسندیدگی اور محبت کے لیے الفاظ نہ ملتے تھے۔
    اور یہ بارہ بجے کا وقت تھا۔ دس بجے اگر رزلٹ کا اعلان کیا گیا ہو تو (اخبار میں یہی بتایا تھا کہ بی اے کے امتحان کا اعلان یونیورسٹی دس بجے کرے گی) تو دو گھنٹے تک رزلٹ جلال پور تک بھی پہنچ جانا چاہیے۔ کب سے بلال رزلٹ معلوم کرنے کا کہہ کر نکلا اور لو یہ سوئی ایک پر آن ٹھہری اور بلال نہیں آیا۔ وہ مین گیٹ سے برآمدے تک آتی۔ برآمدے میں بچھی چارپائی پر بیٹھ کر کچھ دیر انگلیاں مروڑتی اور پھر سے اٹھ کر مین گیٹ تک جاتی۔ یوں برآمدے سے مین گیٹ اور مین گیٹ سے برآمدے تک اس نے کوئی بیسیوں چکر لگائے۔
    ”میری ہی غلطی تھی جو بلال سے کہا۔ پتا بھی ہے وہ ہر کام میں دیر کرنا فرض سمجھتا ہے۔” اب وہ بڑبڑارہی تھی۔
    ”تمہیں فیل ہونے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔” سوئی دھاگے میں الجھی حمیرا کہہ رہی تھی۔ یوں بھی اس کی طرف کافی ادھار باقی تھے اور وہ ہی حمیراہوگی جو حساب نہ چکائے۔
    ”شکل اچھی نہ ہو تو پھر بھی بات اچھی کرلینی چاہیے…آپا۔” سیر کو سوا سیر کرنے کے لیے اس نے لفظ آپا پر زور دیا اور حمیرا کادل چاہا کہ پاس کوئی چیز پڑی ہوتی تو مریم کو دے مارتی۔
    تبھی دروازے پر کھٹکا ہوا۔ مریم کے چلتے قدم رک گئے اور وہ دم سادھ کر اپنی جگہ ساکن ہوگئی اور پلکیں جھپکے بغیر دروازے کی طرف تکنے لگی۔ دروازہ بھیڑ کر آنے والا بلال ہی تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ اور ہاتھ میں مٹھائی کا پیلا ڈبا لیے۔ دوسرے ہاتھ میں ایک پرچی بھی دبی تھی جس پر یقینا اس کے نمبر درج ہوں گے۔
    ”پاس ہوگئی میں ۔ دکھاؤ میرے نمبر ۔” ساکن وجود میں حرکت آئی اور وہ نمبر دیکھنے کے لیے بے تاب ہوئی۔
    ”نہیں مریم! مٹھائی کے ڈبے سے غلط مطلب مت نکالو یہ تو امی نے منگوائی ہے ۔ باجی کو دیکھنے کے لیے لڑکے والے آرہے ہیں۔”
    ”غلط مطلب نہ نکالوں سے تمہارا کیا مطلب ہے۔” وہ ٹھٹکی تھی۔
    ”مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ میں تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتا، مگر بتانا بھی ضروری ہے۔ تم انگلش کے مضمون میں پاس نہیں ہوسکی، مگر دل چھوٹا مت کروسپلی میں کلیئر کرلینا۔” مریم ایک بار پھر ساکت ہوگئی۔
    ”لو میں نہ کہتی تھی ۔ تمہیں فیل ہونے کی جلدی ہے، لو آگیا نتیجہ۔”اور کچھ ہوا نہ ہوا مگر رزلٹ سن کر حمیرا کے دل کو چین آگیا۔ اس کی بھی بی اے میں سپلی تھی تو اب مریم کی بھی آنی چاہیے۔
    ”آگیا بلال ۔ لو بتاؤ میری بیٹی کا رزلٹ۔ پاس ہوگئی نا؟ بڑی ہوشیار ہے سکول کے زمانے سے ہی۔”بلقیس بھی کمرے سے باہر آگئیں۔
    ساکت ہوئی مریم کی آنکھوں میں سب سے پہلے آنسو چمکے اور پھر وہاںٹھہرنا دوبھر ہوا۔ وہ کمرے کی طرف دوڑی۔ لو جی سپلی اب تو خودکشی ہی کرلینی چاہیے۔ اس نے دہاڑیں مار مار روناشروع کردیا۔
    باقی تینوں نفوس بھی اس کے پیچھے کمرے میں چلے آئے۔ دھندلی ہوتی آنکھوں سے مریم نے ان پیاروں کو دیکھا۔ اس کی خودکشی کے بعد وہ کس قدر اکیلے رہ جائیں گیااور رو رو کر اپنی بینائی ختم کرلیں گے۔
    ہائے اللہ ، تیری آزمائشیں۔ اپنے کمزور بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لاد۔ خیالات کے گھوڑے سرپٹ دوڑتے گئے۔
    بلقیس کچھ کہہ رہی تھیں، مگر مریم کے پلے نہ پڑرہا تھا۔ بھلا کیا کہہ رہی تھیں۔ پھر انہوں نے مٹھائی کا ڈبا آگے کیا۔ پیلے ڈبے سے سیاہ جامن اٹھایا اور مریم کے منہ کی طرف بڑھایا۔
    ”بس کر میری دلاری۔ یہ بلال تو ہے ہی سدا کا جھوٹا۔ تو نے اسے کہا ہی کیوںیہ رزلٹ معلوم کرآئے۔ تم پاس ہو۔ وہ بھی اے گریڈ سے۔” مریم نے تحیر سے بلال کو دیکھا جو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔ مریم نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھاکہ بلقیس نے پورا جامن اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔
    ”مبارک ہو مریم۔” حمیرا نے آگے بڑھ کر خود ہی برفی کا ٹکڑا اٹھایا اور کھانے لگی۔ چاہے وہ غمگین سہی مگر اب مٹھائی سے تو منہ نہیں موڑ سکتی تھی۔ ویسے مریم کی سپلی آنی چاہیے تھی، لیکن خیر جہاں اتنے دکھ سہے یہ بھی سہی۔
    بلقیس اب مریم کا ماتھا چوم رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی۔ بلال ہنسے جاتا تھا اور مریم اس کا دل چاہ رہا تھا کہ بلال کو قتل ہی کردے۔ اس شخص کو ویسے بھی زندہ نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ شخص شادی کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔ خوامخواہ اس سے دل لگایا۔
    اس سمے کون جانتا تھا کہ وقت نے آگے کیسی کروٹ لینی ہے ۔ باوجود اس کے کہ ہر کوئی یہ جانتا تھا کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔
    ٭…٭…٭




  • میزانِ بریّہ — راؤ سمیرا ایاز

    زمین کی کوکھ میں سب جب دکھ پنپ جائیں تو ہر فصل کے بیچ میں سیاہی مائل رنگوں کا بسیرا ہوتا ہے جو پھر نسل در نسل زمین کی کوکھ سے فصلوں کی کوکھ تک میں جا اترتا ہے۔
    وہ بھی ایسے ہی اک فصل کا بیچ تھی…
    حاکمیت کے عنصر کی مٹی کے غو سے بیچ پاتا وہ سانس لیتا وجود یوں زندہ تھا کہ چلتے ہوئے زمین پہ رکھتے جوتوں کی آواز تو کیا سانس کی ”آہ” تک بھی ہوا میں جذب ہوجاتی تھی۔
    سرخ پٹوں والی اس کھڑکی کے سامنے بیٹھے وجود پر کسی مٹی کے پتلے کا ساگمان ہوتا ہے…
    جس میں ”اذن” کا تصور اک خیال ہی ثابت ہوتا اگر جو روشنی کی نگاہ حیرت کا منبع بن کر نہ تکتی اسے…جو جھکے سر کے ساتھ سفید کورے کاغذ پر اپنی پوری ہمت و طاقت کے ساتھ نبرد آزما تھا… ہمت و طاقت … جو اک خواب و خیال سے بھی کہیں بڑھ کر تھی … کوئی سیات…
    کورے کاغذ پر بکھرتے وہ الفاظ …اک انجانی دنیا کو بیان کرتے تھے… ایسی دنیا، جس کی زمین بھی سرخ تھی اور آسمان بھی احمریں… اور یہ احمری رنگ بھی بوجھ تھا جیسے … مگر ہر بوجھ کا سہار بھی ہوتا ہے دنیا میں… اس کا بھی تھا… ایک رازداں… ایک نگہباں…
    جہاں کسی کی نظر نہ جاسکی تھی۔
    ترچھی ہوئی روشنی نے رُک بدلا تو پتلے نے جنبش کی تھی۔
    وہ اٹھا اور کمرے کی دہلیز کو پار کر گیا ۔ مگر سیڑھیاں اترنے سے بھی پہلے اک آواز اس کے قدموں کو روکنے کا جواز بن گئی۔
    ”میں نے سنا ہے کہ کل تم باغ کے عقبی حصے کی طرف گئیں تھیں۔”
    خالی گھر کے اندر گونجتا وہ اک آسیب زدہ آواز تھی۔
    تھرتھرائی پلکوں نے اس بے حد لمبے بیک والے صوفے کی نشست پر بیٹھے وجود کو دیکھا۔
    ”میں نے وہاں مانو کو جاتے دیکھا تھا اسی لئے …” نرم آواز میں خشکی کی تہہ تھی براؤن لب بھینچے تھے۔
    ”مانو۔” لمحے بھر جھکی سرد آنکھیں دوبارہ اٹھیں۔
    ”وہ ایک جانور ہے… اور جانوروں کی پیروی انسانوں کے لائق نہیں ہے نادان لڑکی، دوبارہ ایسا عذر اور ایسا بے وقوف قدم میں برداشت نہیں کرسکتی۔”
    سرد آنکھیں …لکڑی کا سا سخت وجود… اور پتھرکے قدم…
    وہ وہیں کھڑی رہ گئی… اس نے وہاں بے انت پھیلی خاموشی اور کہر ماحول کی یاسیت کو دیکھا… جسے بیان کرنے کی سعی لاحاصل تھی۔
    مگر اس نے اس لاحاصل کا ایک ”معبد” دریافت کررکھا تھا۔
    ہاں… وہی … اک رازداں… ایک نگہباں…!
    ایک ایسا ”روزن” جسے دریافت کرنے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب ہم اپنوں کو ہی اپنا یقین دلانے میں بے حد دوجہ ناکام ہوجاتے ہیں۔
    قدم بہ قدم چلتے وہ اس بے انت پھیلے سخت دیواروں کے ہجوم سے باہر نکلی تو سر پہ ٹھہری ان نیلی گہری آنکھوں نے اسے دیکھ کر ایک دفعہ جھپکی لی اور پانی کا دھارا نکل گیا۔ وہ بے بسی سے ۔ رستی اُن آنکھوں کا قہر دیکھتی رہی جو پانی کی صورت زمین پہ بہہ رہا تھا۔
    اور وہ … اس کا ”روزن” … پانی اس کا رستہ روکے ہوئے تھا۔
    تبھی ایک نرم سی چمک میں ڈوبی ان گہری سرمئی آنکھوں نے اسے دیکھا تو بے ساختہ ہی اس کی مٹھی سے کاغذ پھسلا… اور اس نے وہ کاغذ اپنے اس روزون کی طرف بڑھتے دیکھا۔
    کسی کی ذات کا آخری سہارا … آخری پناہ گاہ…
    ٭…٭…٭





    اس کی سانس پھولی ہوئی تھی… دونوں ہاتھ سر پر رکھے۔
    ”زندیگ بھی عذات ہوگئی ہے میرے لئے۔” غم غم و غصہ زیادہ تھا چہرے پر یا غصہ و خفگی فیصلہ کرنا ذرا مشکل تھا۔
    ”میں چاہوں بھی تو خود کو ”ان” پر ثابت نہیں کرسکتا… کہ یہ ایک ناکام راہ ثابت ہوگی ہر لحاظ سے۔”
    ”ہوں بڑے آئے… بڑے بڑے فیصلے کرنے والے، ہوگیا ناں نقصان ، آگیا ناں سات دکانوں سے مال واپس…یہ مانگ بڑھے گی ہماری،یہ کوالٹی دنیا پر ثابت ہوگی…ہاں…”
    بڑے چچا کا آخری کا ہنکارا ذلت آمیز تھا۔
    اس کے ماتھے کی رگ پھڑکی۔
    ”میں گھاٹے کا سودا ہر گز برداشت نہیں کروں گا… کل ہی محترم جناب کے اکاؤنٹ سے رقم آجانی چاہیے… میرے نقصان کی بھرپائی مجھے ہر صورت چاہیے۔”
    اس نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔
    اصل فساد کی جڑ… زمینوں سے آتا وہ پیسہ تھا جو بہت ایماندار سے اس کے اکاؤنٹ میں آتا… جسے وہ سوچ سوچ کر اور بہت مناسب طریقے سے خرچ کرتا تھا …مگر بڑ ے چچا…وہاب انصاری۔
    ”ایک اکلوتے وارث کی حیثیت ہم سے زیادہ نہیں ہوسکتی، خون و جگر سے سینچا زمینوں کو ہمارے باپ دادا نے اور باقی کسر پوری کی ہم نے… مگر نکال باہر کیا۔
    ہمیں ہر چیزسے کہ ہم دوستوں کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں زندگی میں… مگر حق، حق ہوتا ہے کبھی سیاہ نہیں پڑتا…ہم پائی پائی کا حساب بھی رکھ سکتے ہیں اور منہ میں رکھے نوالے بھی گن سکتے تھے، نہیں چھوڑا ہم نے سب کچھ اس دو ٹکے لڑکے پر… زندہ ہیںہم چاہے کوئی کچھ بھی بولے۔”
    چھوٹے چچا کی طنزیہ دبنگ آواز نے اسے اٹھنے پر مجبور کردیا…کہ وہ بات کو کہاں سے کہاں لے جارہے تھے۔
    ”اس دو ٹکے کے لڑکے نے آپ کی اسپیئر پارٹس کی دکان کو دکانوں میں بدل ڈالا چچا جی…” سنجیدہ سی نرم مگر دو ٹوک آواز نے اس کو مضبوط کیا تھا…
    ہاں… زندگی میں اب بھی اس کے لئے جگہ تھی کوئی تھا جو اس کے لئے کھڑ اہوسکتا تھا۔
    ضبط کی بکھری طنا بیں سمٹی تھیں۔
    ”تم خامو ش رہو نیہا ، یہ بڑوں کی باتیں ہیں۔” بڑی چچی کی خفگی پر وہ آگے بڑھ آئی۔
    ”نہیں امی… بات اصول کی بھی ہے اور بہت صاف بھی… تایا ابا و تائی امی کے جانے کے بعد وہ اس گھر کا فرد نہیں ہے کیا…!” اس نے جمعہ حاضرین کو دیکھا۔
    ”آپ مانیں، نہ مانیں مگر داداجان نے اپنے لاڈلے اکلوتے پوتے کو سرپرست رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آگے کے حالات کیا ہوتے، وہ حق کا کام کرتا ہے۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں پیسہ آتا ہے تو وہ آ پ کو بھی ملتا ہے، اگر زمینوں پر سے پرانٹ آتا ہے تو وہ بھی آ پ کو ملتا ہے… اب اگر زمین پہ فصل کم ہونے لگی ہے تو نقصان بھی تو سب کو پورا کرنا ہے۔ اس میں کوئی دوغلی بات نہیں ہے۔”
    کندھے اچکاتے ، اس نے سب کو ٹھنڈا کیا تھا۔ اور برف کا کرنے کے لئے…
    ”اور ابو رہی بات مارکیٹ میں نام خراب ہونے کی تو یہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوا ہے کہ آپ نے زیادہ پرافٹ کے لئے ناقص میٹریل استعمال کرنے کی خود ہدایت دی تھی اپنے اسسٹنٹ سلمان کو…”
    نیہا کا ایک ایک لفظ مضبو ط بھی تھا اور سچا بھی…
    اور جو اسے ہلکا کر گیا تھا۔
    بے شک زمین پر گری ریت کو ہوا بکھیر سکتی ہے۔
    مگر مٹھی میں بھری جانے والی ریت بھی وزن بھی رکھتی ہے۔
    بے انمو ل تو کچھ بھی نہیں…
    ٭…٭…٭
    چاند نکلتے وقت ہو یا سورج کے غروب ہونے کا… ان دونوں میں فطرت سے زیادہ قدرت کے حکم کا اثر ہے… لیکن انسان کے اعمال میں تو خداوند کریم کے حکم کی بدولت خود اس کا ہاتھ ہے… پھر اسے کیوں محروم رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ”فطرت” کے برخلاف جملے…
    زمین کے لب خشک تھے کہیں اک قطرہ بے رنگ پانی کا نہ تھا ۔ لگتا نہیں تھا کہ ا س نے کبھی پانی پیابھی تھا… یاوہ سیراب بھی ہوئی تھی۔
    فقط ایک دن میں ہی وہ اپنی ظاہری حالت میں آگئی تھی جو قدرت کی طرف سے اس کی فطرت میں ودیعت کردی گئی تھی…یہ تھا اس کا رنگ …
    سوکھے کتھے جیسا…
    اور خود اس کی فطرت میں جو سرخ خون اس کے اندر دوڑتا تھا ابھرتا لاوہ تھا۔ شدت سے بھرا ہوا… چھلکنے کو بے تاب… اس سرخ خون سے بنا وہ چہرہ یوں تھا جیسے سفید گنبد کسی پر شکوہ عمارت کا ”خاموش، چپ چاپ… آنکھیں، ناک، کان، ہونٹ، زبان ، دل و دماغ ہر چیز بس اک ابروئے جنبش کی منظر۔
    لبوں سے نکلتے لفظوں کی محتاج…
    ”خود کو اس موسم میں کمرے تک ہی محدود رکھنا، خاص ٹھنڈبرھ جاتی ہے۔ سرما کی بارش میں، میں نہیں دیکھوں، سنوں تمہیں کہیں کھڑکی سے لٹکتے یا یا باہر برآمدے و لان میں گھومتے۔” سرجھک گیا۔
    حکم عدولی کی گنجائش ناپید تھی… اس میں کہ اس بڑے سے گھر میں فقط وہ دو ہی سانس لیتے وجود تھے… باقی جو تھے وہ شاید دیکھے، سنے، بولنے کی حس سے محروم تھے فقط کام کے پجاری… کام ختم … بات ختم۔
    سادہ پلین سے آسمانی رنگ میں ملبوس وہ دھیرے دھیرے خاموشی سے گردن ہلاتیرہی…ادب کا تقاضہ خاصا اہم تھا اس وقت ”باقی میں ذرا قاسم خان کے ساتھ جارہی ہوں… واپسی میں تمہاری لسٹ، جسے میں نے دوبارہ ترتیب دیا ہے… لیتی آؤں گی…”
    ”اب”… خاموشی کا تقاضہ ادب سے بھی زیادہ مقدم تھا۔ وہ گردن ہلانا بھی چھوڑدیا۔
    جاتے قدموں کی آواز پر دروازے کے مودب کھلنے کی آوازپر، پھر گاڑی کے باہر نکل جانے کی آواز پر…
    سراٹھا…نگاہ اٹھی۔
    اف … سنہری سکوں کا پانی… جو گالوں پر پھیلتا تھوڑی تک جاتا تھا… کچھ کہنا تھا شاید…
    ساکن درو دیوار نے سمجھنا چاہامگر وہ پلٹ گئی… وہی سیڑھیوں کو جاتا اوپر کا راستہ وہی کمرہ… وہی کھڑکی اور وہی کورا کاغذ۔
    مگر اب وہاں وہ روشنی کی لکیرنہیں جھانکتی تھی… نہ جانے آج اسے اتنی جلدی کیوں تھی جانے کی…!!
    ”تم جانتے ہو کہ مجھے کی کے بھی بارے میں سخٹ و غلط سننا پسند نہیں ہے۔” سرخ اسٹابری کو منہ میں رکھتی وہ اسے دیکھنے لگی جس کی نگاہ کی مسکراتی روشنی اس کے وجود کو تابناک کررہی تھی۔
    ”اور تم تمہیں تو میں نے ایک خاص جگہ دی ہے اپنی زندگی میں تو پھر کیسے سنتی تمہارے بارے میں کچھ۔” اک گہری سانس لیتے روید نے مسکراتی نگاہ کو لبوں تک لاتے سرجھٹکا۔
    ”جانتا ہوں سب کچھ نیہا مگر پھر بھی وہ ہمارے بڑے ہیں اور خاص کر تمہارے ماں ، باپ… چھوٹے چچا ، چچی کی خیر ہے مگر تمہیں بڑے چچا سے نہیں الجھنا چاہیے، چاہے وہ تمہیں اکلوتی ہونے کا بہت زیادہ مارجن کیوں نہ دیں۔”
    ”ہر رشتہ بعد میں رویہ،پہلے انسانیت ، سچائی اور سیدھی بات … پھر کچھ اور روید… یہ مت سمجھو کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں تو ہی ایسا کررہی ہوں۔”
    ”اچھا میں سمجھا کہ شاید۔” اس کی سنجیدہ پر شوخ بات پر نیہا نے اسے گھورا ۔
    ”تم۔”
    ”مذاق تھا یار… کیا میں تمہیں جانتا نہیں۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اس شفاف لڑکی کو خود اپنا دل دکھانا چاہ رہا تھا اپنی آنکھوں کے ذریعے، جو اس کی محبت میں بھی ویسا ہی صاف و شفاف تھا۔
    ”اور محبت مسکرا دے تو مار ہی دیتی ہے۔” روید نے نیہا انصاری کی مسکراہٹ پر محسوس کیا تو کہا۔
    ”نیہا یونہی مسکراتی شفاف پانی کے باؤل سے اسٹابری نکال نکال کر کھاتی رہی ۔
    ”اور تمہارے بزنس کرنے کے خواب کی تکمیل نے تو روید انصاری کی نیندیں اڑا دی ہیں محترمہ… رکھ تو خیال کرلو، پہلے ہی تھرڈ پرسن سمجھا جاتا ہوں…”
    ”کیا ہوا۔” کوئی جواب، رد ِ عمل پاکر روید نے اسے دیکھا۔
    ”نہیں کچھ خاص نہیں۔”
    ”تو پھر خاموش کیوں ہوگئی ہو۔”
    ”تمہیں یونہی محسوس ہوا۔ میں اب چلتی ہوں ماما۔
    وہ اٹھی اور ساتھ ہی بچی ہوئی چند اسٹرابریز اس کے ہاتھ پر رکھتی خالی باؤ ل اٹھانے لگی تھی کہ روید نے اسے روک دیا…
    مضبوط ہاتھ کے دباؤ پر وہ نظر نہ چراسکی۔
    ”کیا بات ہے نیہا۔ مجھے نہیں بتاؤگی جو تمہارا سب سے ”قریبی” رشتہ ہے…” اسے بالکل ساتھ بٹھاتے ہوئے دوستانہ انداز میں کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بے جان سی لگی اسے ۔
    ”مجھے میرا لون ”پاس” نہیں ہوا روید۔”
    ”اوہ لیکن کیوں… لون کے پاس ہونے کی ایک ریکوائرمنٹ پراپرٹی کسی جائیداد وغیرہ کامالک ہونا بھی ہوتا … یا پھر کیش وغیرہ… میرے پاس اس حد تک ریکوائرمنٹ نہیں ہے۔”
    ”تو اس میں کیا مسئلہ ہے۔” وہ خاموش ہوئی تو اس کے اعصاب بھی ڈھیلے پڑے اور وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
    ”مسئلہ نہیں ہے یہ…”
    ”بالکل نہیں۔” مطمئن ہونے کے انداز میں کہتے اس کے منہ کی طرف اسٹرابری بڑھائی لیکن وہ یونہی اسے دیکھتی رہی… سب کچھ تو جانتا تھا وہ… ماما، پاپا کی مخالفت… چچا، چچی کا استہزائیہ انداز…تو پھر … وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی… جہاں ایک وہ تھی اور خود اس کی اپنی ذات کے ہونے کا غرور… ”اوہ…”
    اس کی آنکھوں میں خفگی اُتری۔
    ”ایسا نہیں ہوسکتا روید… جو تم چاہ رہے ہو۔” قطعی انداز میں کہتے وہ وہاں سے اٹھی… اور اس کا جالینے والا محبوب انداز…
    روید انصاری کو اجازت نہیں تھی کہ وہ فدا ہوتا مگر سرشارہونا بنتا تھا۔
    ”چاہنے کو تو سب ہوسکتا ہے کہ بات تو صرف ”چاہنے” کی ہے۔
    اس کے برابر سے اٹھتا وہ پرسکون تھا اور وہ بے چین…
    ”یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔”
    ”یہ ٹھیک ہی ہوگا، اس سے کہیں زیادہ جب میں اور تم یوں ساتھ نہ ہوں گے۔”
    اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اپنی بات کہہ کر اسے چپ کرا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    تپتی دھوپ میں شیخ حسام الدین گھر میں داخل ہوئے تو بُری طرح پسینے میں شرابور تھے ۔ ذرا دم لینے کے لیے پنکھے کے نیچے بیٹھے ہی تھے کے ان کی بیگم زبیدہ خالہ نے اُن کے آگے بجلی کا بل کردیا۔
    ”ہائیں اتنا بل۔” وہ بل دیکھ کر اچھل پڑے۔
    ”ارے میں کتنا کہتا ہوں کے احتیاط سے بجلی استعمال کیا کرو ، لیکن تم لوگ…”
    ”ارے موئی بجلی ہوتی ہی کب ہے جو احتیاط کریں، ہر دوگھنٹے بعد ایک گھڑی بھر کے لیے آتی ہے کیا احتیاط کریں اور کون سے تم نے گھر میں اے سی لگوا رکھے ہیں، اب کیا بچے پنکھے کے نیچے بھی نہ بیٹھیں۔” جواب میں خالہ نے بھی جب شیخ صاحب پر چڑھائی کردی تو وہ کچھ پیچھے ہٹے۔
    ”تم تو ہر بات کا اُلٹا ہی جواب دینا ، میرا یہ مطلب تھوڑی تھا، میں کہہ رہا تھا کے…”
    ”کیا مطلب نہیں تھا، دیکھ لو ہم اتنی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے ہیں اور یہ بل آتا ہے اور دوسروں کو دیکھو سب کے گھروں میں اے سی چل رہے ہیں لیکن بس تمہیں ہی ایمانداری کا بھوت سوار ہے۔ ” خالہ نے شیخ صاحب کی بات کاٹ کر کہا۔
    ”تم پھر شروع ہوگئیں، ہزاربار کہہ چکا ہوں کے اگر دوسرے غلط کا م کررہے ہیں تو لازمی نہیں میں بھی اپنی آخرت خراب کروں ، ارے کیا ان ایئر کنڈیشنوں سے پہلے لوگ سکون سے نہیں سوتے تھے؟”
    ”لو موئی پھر چلی گئی لائٹ ، منحوس ابھی تو تین گھنٹے بعد آئی تھی۔ ارے کیڑے پڑیں ان بجلی والوں کو…”
    قبل اس کے ، کہ ان کی بحث ایک جنگ کا روپ اختیار کرتی اچانک لائٹ چلی گئی اور خالہ کی مغلظات کا رخ شیخ صاحب سے مڑکر بجلی والوں کی جانب ہوگیا۔
    وہ بل تو جسے تیسے شیخ صاحب نے جمع کروادیا گو کے اس کی بدولت اس ماہ ان کا ہاتھ خاصا تنگ رہا لیکن پھر انہوں نے حتی الامکان کوشش کی کے گھرمیں کہیں بھی کوئی فالتو بجلی استعمال نہ ہو جس پر ان کی کئی بار خالہ سے تو تومیں میں بھی ہوئی مگر معاملہ کچھ عجیب اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ہر دو تین ماہ بعدتوقع سے کئی گنا زیادہ بل آنے لگاجسے دیکھ کر شیخ صاحب کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا۔ اس دن نماز سے واپس آتے ہوئے شیخ صاحب نے اپنے پڑوسی عرفان صاحب سے دریافت کیا کے ان کا بل کتنا آتا ہے تو وہ اطمینان سے بولے:
    ” بس ہزار بارہ سو ۔”
    ”ہائیں عرفان صاحب آپ کے گھر میں تو دو دو اے سی چلا رہے ہیں پھر بھی؟” شیخ صاحب نے آنکھیں پھاڑ کے سوال کیا۔
    ”ارے بھائی اب آپ سے کیا پردہ ۔ ایک لائن مین ہے اصغر اس سے سیٹنگ کی ہوئی ہے پھر ساری لائن کی سیٹنگ اس نے خود ہی کی ہے مگر ١یک ہزار روپے لیتا ہے مہینے کے پھر جتنا مرضی اے سی چلاؤ۔ پڑوسیوں کے حقوق تو ویسے بھی ہم پر فرض ہیں، میں ایسا کرتا ہوں کے آپ کی بھی بات کروادیتا ہوں۔”
    ”لاحول وللہ عرفان صاحب ، یہ تو آپ ہمیں حرام کام کا مشورہ دے رہے ہیں یاد رکھیے حرام کی بجلی میں کیا ہوا ہر کام بھی حرام ہوتا ہے ۔” شیخ صاحب نے غصے سے کہا۔
    ”ارئے آپ کس صدی میں جی رہے ہیں شیخ صاحب ، یہ تو آج کل ضروری ہوگیاہے، نہیں کروگے تو ویسے بھی زیادہ بل کی چٹنی لگادیں گے یہ لوگ اور جو ایک بار ان کے جال میں پھنس گیا سمجھو گیا۔”
    عرفان صاحب نے کسی جہاندیدہ کے مانند شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”بہت بہت شکریہ آپ کے مشورے کا، میں خودہی نمٹ لوں گااس مسئلے سے۔”
    شیخ صاحب نے ساری عمر اپنی سرکاری نوکری اتنی ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ کی تھی کے آج بھی سب لوگ سوائے خالہ کے، ان کی راست گوئی کی مثال دیا کرتے تھے وہ بھلا اپنے نئے پڑوسی عرفان صاحب کی بات کیوںکر برداشت کرتے اسی لیے بھڑک گئے۔
    ”کمال ہے میں تو آپ کی مدد کررہا تھا، خیر شوق سے خود ہی بھگتیے، نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ ” عرفان صاحب نے ناگواری سے جواب دیا اور شیخ صاحب نے بڑبڑاتے ہوئے گھر کی راہ لی۔
    آئے روز کے زائد بلوں کے خلاف شیخ صاحب تلملاتے ہوئے اگلے روز ہی واپڈا کے مقامی دفتر جاپہنچے اور دفتر کے ایک کمرے میں گھس کر وہاں بیٹھے ملازمین سے احتجاجی لہجے میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سبب دریافت کرنے لگے لیکن ان پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا بلکہ ساری روداد سننے کے بعدایک کلرک نے اپنی پرانی سی ٹیبل کے سائیڈ میں پڑے گندے سے ڈسٹ بن میں میم پوری تھوکی اور ہتھیلی سے منہ صاف کرکے شیخ صاحب کو بولا:
    ”ارے ا نکل یہاں نئے میٹر کی درخواستیں جمع ہوتی ہیں آپ برابروالے کمرے میں جائیں۔”
    دوسرے کمرے میں صرف شیخ صاحب ہی نہیں بلکہ ہردوسرا بندہ اپنے زائد بل کے جھوٹے سچے دکھڑے رو رہا تھااور وہاں موجود عملہ روزانہ کے اس عمل سے اکتا کر نہایت بے حسی سے ان کی دکھ بھری داستانیں ایک کان سے سن کردوسرے سے اڑا کر انہیں ہی مورود الزام ٹھہرا رہاتھا کہ حضرات بجلی بھی تو آپ نے ہی استعمال کی ہے ، نا کے ہم نے۔ اگر سننے والامخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ثابت قدمی سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر نوحہ کناں رہتا تو وہ اسے حکام بالا کے نام پر درخواست دائر کرنے کا مشورہ دیتا تاکہ کارروائی کی جاسکے۔





    شیخ صاحب نے بھی جب اپنا مؤقف پیش کیا تو ایک خداترس بندے نے ان کی درویش صورت دیکھتے ہوئے ان پر یہ حقیقت آشکار کی کے جناب آپ کے بل پر تو ڈیڈکشن لگی ہوئی ہیں۔
    ”لیکن بھائی کس بات کی ڈیڈکشن ؟”
    ”ممکن ہے عملے نے آپ کے میٹر میں کوئی گڑبڑ دیکھی ہو یا کوئی اور ناجائز چیز ، اب تو آپ کو یہ جرمانہ بھرنا پڑئے گا ۔”
    ”کیا بات کررہے ہو میاں، ہم نے ساری عمر ایمانداری سے بجلی کا بل ادا کیا ہے ہم یہ حرام کام کیوں کرنے لگے۔” شیخ صاحب سے غصے سے جواب دیا۔
    ” چاچا یا تو آپ یہ اماؤنٹ جمع کرادیں یا آپ صاحب کے نام درخواست جمع کرادیں تاکہ کارروائی ہو۔ ٹیم خود ہی آپ کے گھر آکر چیک کرلے گی کے کوئی بات تو نہیں ہے ۔ ” اس نے شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا اور دوسرے صارفین بلکہ متاثرین کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    حیران و پریشان شیخ صاحب وہاں سے سیدھے اپنے پرانے دوست عزیز صاحب کے پاس پہنچے اور ڈیڈکشن کی اصطلاح کے متعلق اپنی الجھن کا ماجرا بیان کیا۔
    ”کیا بتاؤں حسام بھائی برا حال ہے ہر طرف لوٹ مچی ہے۔ لوگ بھی ڈھڑلے کے ساتھ بجلی چوری کر رہے ہیں۔ بہت سی جگہوں پر یوں ہورہا ہے جو لوگ ہر ماہ لائن مینوں کو پیسے دیتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں اور جو نہیں دیتے اُن کے بلوں میں اسی طرح ڈیڈکشن لگاکرخسارہ پورا کیا جاتا ہے۔”
    ان کے دوست نے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”توکیا یہ بات اعلیٰ افسران کو معلوم نہیں۔” شیخ صاحب نے تعجب سے پوچھا۔
    ” ارے بھائی تم تو ہمیشہ کے بدھو ہی رہوگے سب ملی بھگت ہوتی ہے بھائی میرے ، جب اوپر سے بہت سختی ہوتی ہے چھاپے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں چوریاں بھی پکڑی جاتی ہیں ، لیکن چند دنوں بعدمعاملہ ٹھنڈا ہونے پر پھروہی دھندے شروع ہوجاتے ہیں۔ ”
    ان کے دوست شیخ صاحب کے بھولے پن پر مسکرا کر بولے۔
    ”ارے پھر بھی کوئی اس ظلم کے خلاف آواز تو اٹھانے والا ہونا چاہیے نا، تم تو مجھے جانتے ہی ہو۔ دیکھومیں کیسے ان لوگوں کے خلاف شکایات درج کرواتا ہوں۔” شیخ صاحب نے ایک عزم سے کہا اورعزیز صاحب دل میں ہمدردی کے جذبات لیے اپنے سادہ لوح دوست کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوئے ۔
    اس کے بعد شیخ صاحب کے واپڈا آفس کے چکر لگنے شروع ہوگئے۔ چوں کہ نوکری سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے اس لیے اب گھرمیں فارغ بیٹھنے پر طبیعت بھی مائل نہیں تھی تو پوری توانائی سے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف مستقل مزاجی سے ڈٹ گئے۔ کبھی کسی افسر کے انتظار میں بیٹھے ہوتے کبھی کسی کے سامنے اپنا کیس پیش کررہے ہوتے لیکن زیادہ تر افسروں کے پاس ٹائم نہیں ہوتااور جو ٹائم دیتا وہ کسی ماتحت کے حوالے کردیتا ۔ سب درخواست منگواتے اور رکھ لیتے ہاں چند لوگ اتنی مہربانی ضرور کرتے کے بل کی قسط کرواکر شیخ صاحب کو تھما دیتے کہ جناب پہلے اسے جمع کروادیجیے پھر کام ہوتا رہے گا۔ یہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں تھا اور شیخ صاحب کا بل ان کے بس سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ اکثر تو یوں بھی ہوا کے شیخ صاحب جب دفتر پہنچے تو عوام کی ایک بڑی تعداد کو وہاں لوڈ شیڈنگ کے باعث احتجاج کرتے پایا۔ ایک بار تو گھر واپسی پر بھی راستے میں، ان کے ساتھ والے محلے کے لوگوں کی جانب سے ٹرانسفارمر میں خرابی کے سبب دو دن سے لائٹ نہ ہونے کے باعث ہنگامہ آرائی کی جارہی تھی اور مشتعل مظاہرین نے حکام کی عدم دلچسپی اور مطلوبہ فنی سہولت نہ ہونے کے باعث سڑک پر جلاؤ گھیراؤ کرکے راستہ بند کیا ہوا تھا۔ شیخ صاحب کافی دیر بے بسی کے عالم میں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد ایک لمبے متبادل راستے کو طے کرکے گھر پہنچے۔
    کافی عرصہ محکمہ پانی وبجلی کے دفاتر کے چکر لگانے کے بعد شیخ صاحب کے علم میں کئی چیزوںکا گراں قدر اضافہ ہوا کے ایک تو متعلقہ عملہ اپنے مقررہ وقت پر کبھی نہیں پہنچتا سوائے چند ایک کے جو واقعی اپنے فرائض منصبی نہایت ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کررہے تھے ۔ دوسرا وہاں صرف وہ ہی نہیں ان جیسے نہ جانے کتنے زائد بلوں کے ستائے مو جود تھے لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو واقعی بجلی کی چوری میں ملوث بھی تھے جیسے ان کے گھر کام کرنے والا مستری اور پلمبر بھی، مستری کے گھر بھی دو دو اے سی چل رہے تھے لیکن وہ بضد تھا کے وہ تو ڈائریکٹ چل رہے ہیں میٹر کا بل تو غلط آیا ہے نہ، اور شیخ صاحب لاحول پڑھ کر خاموش ہوجاتے۔ کچھ ایسے ہوتے کے سارا مہینہ غیر ذمہ داری سے بجلی استعمال کرتے اور بل آنے پر اپنا دکھڑا رونے پہنچ جاتے۔ کسی کے گھر پر کرائے داروں کے چلے جانے کے بعد بھی ہر ماہ بل آرہا ہوتا ، کوئی بے چارہ خالی گھر میں بل آنے کا دکھڑا رو رہا ہوتا۔ کچھ کے میٹر ہی بند پڑے تھے اور انہوں نے ڈائریکٹ کھمبوں پر سے تار جوڑے ہوئے تھے۔ شیخ صاحب کو ایسے ایسے ، اپنے شعبوں میں طاق ہر فن مولا حضرات سے بھی سلام دعا کا شرف حاصل ہوا جو بجلی کے میٹر کی ریڈنگ پیچھے کرنے کے خفیہ گر جانتے تھے اور معقول معاوضہ پر اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔
    چند ایک نے تو شیخ صاحب کو اشارہ بھی دیا کے صاحب کسی کو کچھ دے دلا کر معاملے کودرست کروادیجیے تاکے اس جھنجھٹ سے جان چھوٹے لیکن شیخ صاحب نے رشوت دینے کے خیال ہی سے انکار کردیا۔
    ایک من چلا تو ایسا بھی ملا جو شیخ صاحب کو اپنا تجربہ سنانے لگا۔ ” میرے گھر بھی جب دیکھو ڈیٹیک شن ( ڈیڈکشن ) ٹھوک جاتے تھے میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا، میں دہاڑی دار آدمی اپنا گھر چلاؤں یا ان ڈیٹیک شن کی پھٹیکوں کو بھروں، میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا۔ لے گئے میرا میٹر اتار کے میں نے کہالے جاؤ بیٹا، اگلے دن ہی ڈائریکٹ تار ڈلوالیااب کیا لے جائیں گے زیادہ سے زیادہ تار لے جائیں گے نہ، میں پھر لاکے لگالوں گا، کیسا؟”
    وہ اپنی بپتا سنانے کے بعد مسکراتے ہوئے شیخ صاحب کو تعریف طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا اور شیخ صاحب اپنے دل کی بات کو دل ہی میں دبائے اک شان بے نیازی سے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر عزیز صاحب کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے چلے گئے۔ عزیز صاحب نے شیخ صاحب کی پریشانی دیکھتے ہوئے اپنے ایک جان پہچان والے سینئر کلرک سے شیخ صا حب کا رابطہ کروایا۔ شیخ صاحب ان کے سامنے بھی حاضر ہوئے اور اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ صاحب خاصے صاف گو واقع ہوئے تھے ہنستے ہوئے بولے:
    ”جناب ٥٠ ، ٤٠ ہزار کی ڈیڈکشن لگنا اب معمول کی بات ہوگئی ہے ۔ آپ آہستہ آہستہ قسطیں جمع کرواکر بل تو ادا کرتے رہیے اور درخواست جمع کروادیجیے، آہستہ آہستہ خود ہی ختم ہوجائیں گی۔”
    لیکن درخواست جمع کرائے تو کافی عرصہ ہوگیا کچھ ہوتا ہی نہیں، سب ہمیں ہی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔” شیخ صاحب نے بے چارگی سے جواب دیا۔
    ” بات یہ ہے شیخ صاحب کے آج کل سب ہی چوربن گئے ہیں کیا حکومت کیا عوام جس کو جہاں موقع مل رہا ہے لوٹ رہا ہے۔ اب کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا نہ’ آپ کو ایک بات بتاؤں خود میرے گھر کے میٹر پر بھی ڈیڈکشن لگی ہوئی ہے، ہاہاہاہا۔ ‘ ‘ انہوں نے بے تکلفی سے شیخ صاحب کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن جناب کوئی حل تو بتائیے نا، ایسا ہوتا رہا تو میں جلد ہی لاکھوں روپے کا مقروض ہوجاؤں گا کہیںنیب میں کیس نہ چلا جائے ۔”
    ”ارے گھبرائیے نہیں ، نیب والے کوئی بدمعاش تھوڑی ہیں۔ خیر آپ چاہیں تو دوچیزیں کرسکتے ہیں یا تو کسی سے سیٹنگ کروالیجیے، کچھ دے دیاکیجیے پھر بھلے اے سی بھی لگالیں گھرمیںاور اگر واقعی آپ نے کبھی بجلی چوری نہیں کی تو وفاقی محتسب کے نام درخواست دائر کرادیجیے ۔” انہوں نے معنی خیز مسکراہٹ سے شیخ صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    اور شیخ صاحب بھی کہاں ہمت ہارنے والے تھے انہوں نے بھی وفاقی محتسب کے دفتر کیس داخل کروادیا۔ کارروائی شروع ہوئی اور کچھ عرصے میں ثابت ہوگیا کے شیخ صاحب کے گھر پر لگائی گئی تمام ڈیڈکشنز غلط ہیں۔ وفاقی محتسب کی طرف سے شیخ صاحب کے لیے واپڈا کے حکام کو احکامات جاری کردیے گئے کے صارف پر لگائے گئے تمام جرمانے فوری ختم کیے جائیں ۔
    اتنی خواری کے بعد فتح کے آثار دیکھ کر شیخ صاحب نے فخر سے اس لیٹر کی کاپی تمام جاننے والوں کو دکھائی خاص طور پر اپنے پڑوسی عرفان صاحب کو ، لیکن وہ یہ سب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔
    اپنی فتح کے نشے میں چور شیخ صاحب انتظار کرتے رہے کے اب کے مہینے اُن کے بل سے سارے جرمانے رفع ہوجائیں گے لیکن دلی دور است۔ ایک طرف لوڈ شیڈنگ تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔
    اکثر ساری ساری رات بجلی غائب ہوتی تو کبھی کوئی گرڈ اسٹیشنوں میں خرابی ہوجاتی اوروولٹیج اتنے کم ہوتے کے شیخ صاحب سارے گھر کی اہم چیزوں کوبند کروادیتے۔ حالاں کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سال کے اختتام تک لوڈ شیڈنگ مکمل ختم ہوجائے گی لیکن سال ختم ہوگیا انتظار ختم نہ ہو ا یہاں تک کے بجلی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے وعدوں پر عوام سے ووٹ بٹورنے والے خود مال بٹور کر اپنی مدت پوری کرکے چلے گئے لیکن لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی۔ گرمیوں میں منسٹر صاحب یہ توجیح پیش کرتے رہے کے خشک سالی کی وجہ سے دریاؤں میں پانی نہیں ہے اس لیے زائد لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور سردیوں میں گویا ہوتے کہ سردی کی وجہ سے دریاؤں کا پانی جم گیا ہے اس لیے پانی کی کمی بھی لوڈشیڈنگ کا سبب ہے ۔ اس پر سونے پر سہاگہ کبھی ابر رحمت برس جائے تو عوام کو اس زحمت سے دوچار کیا جاتا کے دو بوندوں کے برستے ہی عاشقانہ مزاج شاعری کرنے والے لوگ بھی بارش کے بعد توبہ کرتے نظر آتے، بادلوں کے گرجتے ہی لائٹ بند ہوجاتی حتیٰ کہ بادل برس کر بھی چلے جاتے اور آسمان پر تارے جگمگانے لگتے لیکن لائٹ عید کا چاند ہوجاتی اور پھر ان تاروں کی روشنی میں ہی رات کالی ہوتی۔ زندگی بنا بجلی کے جیسے تیسے گزر ہی جاتی ہے لیکن بنا پانی کے یہ زندگانی کتنی کٹھن ہوتی ہے اس کا اندازہ شیخ صاحب کو اس دن ہوا جب اچانک ہونے والی برسات کے سبب لائٹ غائب ہوئی سو ہوئی لیکن پانی کی موٹر نہ چلنے کے سبب ٹینکی میں پانی ختم ہوگیا۔ اس پر ستم یہ کے شیخ صاحب کا پیٹ سخت خراب اور گھر میں پانی کی ایک بوند موجود نہیں جس سے حوائج ضروریہ کا انتظام کیا جائے۔ وہ دبے لفظوں خالہ کی کفایت شعاری نہ کرنے کی عادت کو جواز بناکر تنقید کرنے لگے کے اگر باورچی خانے میں رکھے ڈرم میں آڑے وقت کے لیے کچھ پانی بچا کر رکھ لیا ہوتا تو ابھی یوں رسوا نہ ہونا پڑ رہا ہوتا۔ اس وقت شیخ صاحب کو اپنی ہی مثال سے اس بات کی اہمیت کا اور اندازہ ہوگیا کے ملک کے لیے ڈیم بننا کتنا ضروری ہے ۔ ادھر ان کے بیٹے کی پھرتی کام آئی جو محلے کے کسی سخی انسان کے گھر سے چند پانی کی بالٹیاں بھر لایا لیکن جب شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی کے انہیں پانی کی بالٹیاں عطیہ کرنے والامحسن کوئی اور نہیں ان کا پڑوسی عرفان صاحب ہی ہے تو پہلے پہل ان کا اس پانی کے استعمال کے لیے دل ہی آمادہ نہیں ہوالیکن پھر یہ سوچ کر خود کو آمادہ کرلیا کے یہ پانی باوقت مجبوری بیت الخلا میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    اصل میں جب سے شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تھی کے ان کے پڑوسی عرفان صاحب بجلی کے اتنے بڑے چور ہیں تب سے وہ ان کے دل سے ہی اتر سے گئے تھے اسی لیے ١٢ ربیع الاوّل کے موقع پر جہاں سارا محلہ عرفان صاحب کے گھر کی شاندار لائٹنگ دیکھ کر سبحان اللہ کہہ رہا تھا وہیں شیخ صاحب بار بار عرفان صاحب کے گھر کی جانب نظر کرکے لاحول ولا کی تسبیح کا ورد کرتے رہے تھے۔
    اس سب کے باوجود شیخ صاحب اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر تھے کے اگر بجلی کی پیداوار میں اتنی ہی کمی آگئی ہے تو یہ کمبخت بجلی کے بل کی افزائش میں کمی واقع کیوں نہیں ہورہی ۔ جائز بجلی کے استعمال کے نرخ بھی اس ناجائز حد تک بڑھا دیے گئے ہیں کے ایک غریب آدمی کے لیے ممکن نہ رہا ہے کے یا تو وہ بجلی کا بل ادا کردے یا اپنے بال بچوں کو پال پوس لے ۔ اسی دوران رمضان کا مقدس مہینہ بھی آگیا تو شیخ صاحب کے لیے ممکن نہ رہا کے اس عمر میں روزے کی حالت میں اپنے بل کے لیے خواری کرتے پھریں۔ انہوں نے بل کے معاملے کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کر کے گویا احترام رمضان میں دشمن کے خلاف جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن ماہ رمضان میں بھی جب روزے دار بجلی والوں کے عتاب کا شکار ہوئے تو ہر قسم کے حالات میں صبر و شکر اور قناعت کا دامن نہ چھوڑنے والے شیخ صاحب بھی بلبلااٹھے اور صرف اسی وقت شکر ادا کرتے دکھائی دیتے جب لائٹ جاکر واپس آجاتی۔ جب کے خالہ لائٹ بند ہوتے ہی بجلی والوں کو بددعائیں دینا شروع کردیتیں تو شیخ صاحب اور جھلا جاتے۔
    ”ارے نیک بخت کیوں اپنی زبان خراب کرتی ہو ، اگر ایسے بددعائیں دینے سے بجلی والوں کا کچھ ہوتا تو آج کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا۔”
    ”ارے میں تو دوں گی بد دعائیں ، موؤں نے زندگی جو اجیرن بنادی ہے اور ایک تم ہو ، زمانے بھر کے ایماندار۔ ” خالہ بھی شیخ صاحب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیتیں۔
    ”پھر شروع ہوگئی تمہاری وہی بیکار کی رٹ کیا میں لوڈ شیڈنگ کروارہا ہوں ۔ ” شیخ صاحب غصے سے کہتے۔
    ”بس تم غصے میں ہی آجانا بات کو سمجھنا نہیں۔ میرا مطلب ہے دیکھ لو بجلی ہوتی نہیں ہے اور اللہ مارے کتنا بل بھیجے جاتے ہیں جیسے یہاں خزانے دفن ہوں۔ اب تو تم بھی ریٹائر ہوگئے ہو ، خیر سے دونوں بچے بھی ابھی کمانے جوگے نہیں ہوئے ، کہاں سے پورے کریں گے اخراجات؟ ”
    آنے والے وقت کی ذمہ داری کا سن کر ایک لمحے کے لیے شیخ صاحب خاموش ہوجاتے اور خالہ شیخ صاحب پراپنی باتوں کا اثر ہوتے دیکھ آخری وار کرتیں۔
    ”اب دیکھو گھر میں اے سی لگ جائے گا تو کچھ پل سکون سے گزر جائیں گے بغیر بجلی کے روزہ رکھنا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اکثر تو سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑتی ہے۔ ”
    ”ہاں یہ تو ہے لیکن نیک بخت اچھی نیت کا اجر اللہ ضرور دیتا ہے۔ آج ہی مولوی صاحب فرما رہے تھے کے لوڈ شیڈنگ میں رکھے ہوئے روزوں کا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ ”
    یہ سننے کے بعد خالہ چند لمحوں کے لیے بنا کچھ بولے شیخ صاحب کو گھورتی رہتیں اور پھر پہلے سے کہیں قوت کے ساتھ بجلی والوں کو کوسنے دینے شروع کردیتیں۔
    ہاں عید آئی تو عوام کو کم سے کم تینوں دنوں کے لیے بناکسی بندش کے بجلی کی عیاشی دے دی گئی ۔ سب سکون میں رہے لیکن عید ختم ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا چاند یوں نظر آیا کے پچھلے تینوں دنوں کی کسر برابر ہوگئی ۔ چند دن بعد ہی بجلی کے بل بھی آگئے اور یہ دیکھ کر شیخ صاحب سجدہ شکر بجالائے کے ان کے بل سے تما م ڈیڈکشن ختم کردی گئی تھیں گویا انہیں ان کی کڑی تپسیہ کا پھل مل گیا۔
    ایک دن خالہ نے دیکھا شیخ صاحب کچھ بے چین سے دکھائی پڑتے ہیں فوراً بھانپ گئیں کہ ہو نہ ہوکوئی پریشانی ہے۔ انہوں نے پاس آکر مزاج پرسی کرتے ہوئے سبب دریافت کیا۔
    ” ہاں بیگم جانے آج کیا ہوگیا ہے صبح سے لائٹ ہی نہیں گئی خدا خیر کرے۔ ”
    یہ سننا تھا کے خالہ غصے سے لال پیلی ہوگئیں اور ان کا عرصے سے شیخ صاحب کی دماغی حالت پرہونے والا شک یقین میں بدلنے لگا۔
    ” ارے کیا سٹھیا گئے ہو ، لائٹ نہیں گئی تو شکر ادا کرو خدا کا، کیوں منہ لٹکا کر منحوس باتیں کررہے ہو ؟”
    ” ارے کم عقل عورت کتنی بھاری قیمت بھی تو دینی پڑتی ہے اس عیاشی کی ، چند گھنٹے لائٹ نہیں جاتی توپھر بعد میں پورا پورا دن فنی خرابی کے نام پر لائٹ بند کرکے اپنا اگلا پچھلا سارا حساب سود سمیت وصول کرلیتے ہیں یہ لوگ۔ ”
    ” تم اگلی بار جاؤگے نہ واپڈا کے دفتر، تو بڑے افسر سے یہ بھی شکایت کردینا کے بھیا کسی کے گھر کی لائٹ جائے یا نہ جائے ، میرے گھر کی لائٹ سب سے پہلے بند کردیا کرو ، نوازش ہوگی۔”
    خالہ نے بھی تنک کے وہ جواب دیا کہ شیخ صاحب کو خاموش ہوتے ہی بن پڑی۔
    اس کے کوئی پانچ ماہ کے بعد کے بات ہے شیخ صاحب کا بیٹا چپ چاپ گھر میں داخل ہوا اور ان کے آگے بجلی کا بل کردیا ۔ انہوں نے جب بل دیکھا تو ایک بار پھر سر پکڑ کر بیٹھ گئے کیوں کہ اس ماہ ان کے بل میں نئی ڈیڈکشن لگی ہوئی تھی۔ بیٹے نے بل دکھانے کے بعد ان کے ہاتھ سے بل واپس لیا اورگھر سے باہر کی جانب جانے لگا۔
    ”ارے کہاں جارہے ہو ، اس وقت سب جاچکے ہوں گے واپڈا آفس سے ، میں کل پھر جاؤں گا۔”
    ” ابا میں واپڈا آفس نہیں جارہا ذرا پڑوس میں عرفا ن صاحب سے مل کر آرہا ہوں ۔ ” بیٹے نے جاتے ہوئے آواز لگائی۔
    ” اچھا۔” شیخ صاحب نے تھکے لہجے میں جواب دیا پھر اچانک انہیں کچھ یاد آگیا اور وہ بیٹے کے پیچھے ڈانٹتے ہوئے لپکے ۔
    ” ارے عرفان کے پاس کیوں جارہے ہو تم ، کوئی ضرورت نہیں اس کے پاس جانے کی میں خود دیکھ لوں گا ان سب کو ، وفاقی محتسب کی عدالت میں پھر سے گھسیٹ لوں گا ان کو، اب کے باقاعدہ اپنا وکیل کرکے کیس کردوں گا ان سب پر دیکھنا جج صاحب کیا کرتے ہیں ان کا… ”

    ٭…٭…٭




  • سنی کا خوف — نورالسعد

    سنی کا خوف — نورالسعد

    ”اوئے کہاں پھینک دی؟” وکٹ کیپر حیرت اورکچھ غصے سے چلایا تھا۔
    گیند کو چھکا مار ا گیا تھا اور اب وہ ہوا میں جارہی تھی۔ بس مشکل یہ تھی کہ اس جگہ سے بہت دور گر رہی تھی جہاں وہ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ شاید وہ پارک کا آخری کوناتھا جہاں گیند ایک درخت پر گرتی دکھائی دی۔ ایک دوسرے کو دھکا دیتے فیلڈنگ ٹیم کے دو لڑکے گیند لینے پہنچے۔وہ واقعی اس وسیع و عریض سفاری پارک کا آخری کونا تھا۔ کچھ تلاش و بسیار کے بعد انہیں ایک برگد کے نیچے گیند پڑی مل گئی۔
    ”چل اب میں باؤلنگ کراؤں گا۔ دیکھ میری اسپن کیسی ہے۔” گیند اٹھانے والے لڑکے نے اپنے ساتھی کو ایک سیمپل بال کر وائی۔ اس کی پشت درخت کی طرف تھی۔
    ”یہ اسپن ہے؟” ساتھی لڑکے نے ایک قہقہہ مارا اور پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگا۔
    ”اس سے اچھی اسپن تو شعیب اختر کی بال کر…” اس کا جملہ ادھورہ ہی رہ گیا کیوں کہ اس کے دوست کے عقب ایک چیز بلند ہو رہی تھی۔ باؤلر نے بے اختیار مڑ کر دیکھا۔ درخت سے اوپر ایک بڑا سا سیاہ سایہ بلند ہو اتھا۔ دونوں لڑکوں کی گھگی بندھ گئی ۔ ایک لمحہ وہ سایہ ساکت رہا ۔چمکتے سورج کے سامنے آتی ایک دیو قامت چمگادڑ کی طرح ۔پھر اس نے ایک بھیانک چبھتی ہوئی آواز کے ساتھ ان کی طرف غوطہ لگایا۔
    دونوں لڑکے بے اختیار پلٹے اور سر پر پیر رکھ کر بھاگے۔ بھاگنے سے پہلے جو آخری منظر انہوں نے دیکھا وہ ایک چڑیل نما عورت کا چہرہ تھا۔ بس چہرہ …جس کا لمبوترا منہ کھلا ہوا اور آنکھوں کی جگہ سرخ شعلے سے دہک رہے تھے۔سر سے نیچے صرف ایک پھڑپھڑاتی چادر سی تھی جس کے اندر کوئی وجود نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭





    سات سال…پورے سات سال لگے تھے سنی کو اس شاک سے نکلنے میں۔ وہ جلد بحال ہو بھی جاتا اگر اس کی امی اسے گھر میں قید نہ کر لیتیں۔ ماں باپ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی اولاد ہونے کے کچھ نقصانات بھی تو ہوتے ہیں نا؟ بہرحال، آج کا دن مختلف تھا۔ آج وہ چھپ چھپا کر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا۔آخر کب تک وہ بھائی کے مذاق کا نشانہ بنتا رہتا؟امی اجازت نہیں دیتی تو اس لیے کہ وہ اسے ابھی تک ڈرپوک اور شرمیلا سمجھتی تھی۔ جب کہ وہ اب ایک ٹین ایجر تھا۔
    ”آج میں پارک میں اکیلا گھوموں گا اور واپس جا کر امی کو بتاؤں گا۔ پھر انہیں یقین آجا ئے گا کہ سنی اب خوف زدہ نہیں ہوتا۔”
    کئی ہفتوں کی پلاننگ کے بعد آج اس نے عمل کرنے کے لیے صبح صادق کا وقت چنا تھا۔فجر کی اذان سے کچھ پہلے کا وقت۔ اس وقت اندھیرے میں ڈوبا پارک سنسان پڑا تھا۔ کہیں کہیں لیمپ جل رہے تھے۔ یہ شہر کا سب سے بڑا پارک تھا۔ اندھیرا، تازہ تازہ ہوا، سارا پارک اسی کا تھا۔ سنی جیسے آج ہی زندہ ہوا تھا۔وہ دھیمے دھیمے گنگناتا جاگنگ ٹریک پر چلنے لگا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہوا کا ایک جھونکا آتا اورپیڑ پودے سائیں سائیں کرنے لگتے۔ وہ خوش تھا اتنا خوش کہ ہر دوسرا قدم اچھل کر لیتا اور جانے کون کون سے آدھے ادھورے گانے جوڑ جوڑ کر گاتا جاتا۔
    اسی سرمستی کے عالم میں فجر بھی ہو گئی۔ وہیں پارک کے ایک کونے میں اس نے نماز ادا کی۔ پچھلے ایک سال سے اس کی امی اسے ہر نماز میں سورئہ جن کا کچھ حصہ تلاوت کرنے کو کہتی تھیں۔ آج بھی اس نے یہی سورہ پڑھی۔جب نیلا نیلا سا سویرا ہونے لگا تو وہ پارک کی بنچ پر بیٹھ کر اردگرد کے مناظر اپنے اندر اتار نے لگا۔یکا یک دائیں طرف ایک منظرپراس کی نظرپڑی۔ ایک دبلا، لمبا سا وجود، تاڑ سا لمبا، اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی چال میں عجیب سی مستی تھی۔ جیسے کسی دھن پر سر دھنتا چلا آرہا ہو۔ نیم اندھیرے میں درختوں سے گھری روش پر وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسی طرف چلا آرہا تھا۔ نہیں…وہ چلی آرہی تھی۔
    وہ آرہا تھا یا آرہی تھی، اس سے قطعِ نظر، سنی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ بیٹھا رہوں؟ بھاگ جاؤں؟ قوتِ فیصلہ اس سے چھینی جا چکی تھی۔ اور وہ پھر نہ بیٹھا،نہ بھاگا اور وہ اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ اس نے وہی کیا جو اس کی فطرت میں تھا۔ وہ غائب ہو گیا۔
    ٭…٭…٭
    مرجان جو سامنے سے چلتی آرہی تھی، وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی۔ یہ کیا ہوا تھا؟ ایک لمحہ پہلے ایک موٹا سا لڑکا بنچ پر بیٹھا ادھر اھر دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی مرجان پر اس کی نظر پڑی ، اس کا رنگ سفید پڑ گیا ۔ وہ شدید خوف زدہ نظر آنے لگا ۔مرجان کانوں میں ہیڈ فون لگائے واک کرتی آرہی تھی اور غیر ارادی طور سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اسے نوٹس بھی نہ کرتی اگر وہ وہاں بیٹھے بیٹھے غائب نہ ہو جاتا۔ ایسے ہی ، ٹھک کر کے۔ ابھی تھا، ابھی غائب۔
    ٹھیک ہے اس کا دھیان کہیں اور تھا مگر وہ چھوٹے سے قد کا موٹا سا لڑکا واقعی وہاں تھا۔ کچھ تو گڑبڑ تھی اور یہ مرجان کے لیے بڑی بے عزتی کی بات تھی کہ اس کے آس پاس ہوئی کسی گڑبڑ میں اس کا حصہ نہ ہو۔ سو وہ کچھ سوچ کر پارک کے چوکیداروں کے پاس چلی آئی جو اپنے کیبن میں گھسے چائے پی رہے تھے۔ جینز اور جیکٹ پہنے ایک لڑکی کو آتا دیکھ کر وہ دونوں چونک کر کھڑے ہو گئے۔
    ”جی باجی؟” ان میں سے ایک نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
    ”مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ آپ لوگ کب سے اس پارک میں چوکیدار ہیں؟” وہ سیدھا مدعا پر آیا کرتی تھی۔
    ”میں آٹھ سال سے ہوں اور یہ دس سال سے۔” چوکیدار نے اپنے ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔ ”مگر ہوا کیا ہے باجی؟”
    ”ہمم!” مرجان نے اوپر سے نیچے تک سینئر چوکیدار کو گھورا پھر بولی۔
    ”آپ بتا سکتے ہیں کہ کیا اس پارک میں کچھ انہونے واقعات ہوئے ہیں؟” بڑے عام سے مگر باوثوق انداز میں اس نے پوچھا۔
    ”آپ کو کیسے؟ امارامطلب نئیں تو…” چوکیدار گڑبڑا گیا۔
    ”مجھے کیسے پتا چلا؟ یہی پوچھنا چاہتے تھے نا آپ؟” مرجان نے ایک شاطر مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”مجھے صرف چند باتیں پتا ہیں، سب نہیں، اس لیے مجھے تفصیل سے بتائیں۔”
    ”میڈم پارک کا انتظامیہ نے ام کو منع کیاہے۔ اگر اسی طرح لوگ باتیں سنتارہاتو یہاں کون آئے گا؟” چوکیدار منمنایا۔ مرجان نے ایک گہری سانس لی۔
    ”دیکھیں! میں ایک صحافی ہوں۔ یہ سب میں ذاتی مقاصد کے لیے پوچھ رہی ہوں۔ اگر آپ نے نہیں بتایا تو میں اس پارک پر فیچر چھپوا دوں گی ،آپ دونوں کے شکریے کے ساتھ۔” اس نے جیب سے ایک ببل نکال کر منہ میں ڈالی اور معصومیت سے بولی۔
    ”پھرآپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔”
    دونوں چوکیدار گھبرا گئے۔ جونیئرنے سینئر کو اشارہ کیا اور سینئر تھوک نگلتے ہوئے بول پڑا:
    ”سات سال پہلے…مگر تم وعدہ کرو باجی کہ تم کسی کو امارانہیں بتائے گا۔” اس نے تصدیق ضروری سمجھی۔
    ”ہر گز نہیں! یہ میرا وعدہ ہے۔” مرجان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”چھوٹا موٹا تو یہاں چلتا رہتا ہے، مگرسات سال پہلے ایک بڑا واقعہ ہوا تھا۔ اس دن کچھ بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ بیٹنگ کرنے والے نے ایک زور دار شاٹ ماری کہ گیند دور جا کر گرا۔ وہ جو باجی بالکل کونے والا جھنڈ ہے نا درختوں کا؟ اس پر۔خیر چوڑو، تم کو یاں سے نظر کیسے آئے گا۔ پھر دو بچہ لوگ گیند واپس لینے گیا اور پھر ان کو دکھی….” چوکیدار کو بھی اب اس سنسنی خیز قصہ گوئی میں مزہ آرہا تھا۔
    ”ایک جن…!”
    ”جن؟” مرجان چونک گئی۔
    ”ان کو کیسے پتا کہ وہ جن ہے؟” اس کا لہجہ شک سے لبریز تھا۔
    ”او باجی تھی نا جن! بلکہ شاید جننی تھا کوئی!”
    ”جن تھی یا جننی تھا؟” مرجان خوف کے بجائے مذکر مؤنث میں الجھ گئی۔
    ”وہ بچہ بعد میں بولا تھا کہ کوئی لیڈیز ٹائپ تھا۔” جونئیر چوکیدار مدد کو آیا۔
    ”ام اس وقت پرینچ پرائز (فرینچ فرائز)والے کے پاس کام کرتا تھا۔ اس کا چہرہ کالا سیاہ تھا اور آنکھیں لال لال انگارہ! بلکہ صرف شکل ہی تھا، جسم کوئی نہیں تھا اس کا۔”
    مرجان کے چہرے پر یقینا بے یقینی آئی ہو گی تبھی دوسرے چوکیدارنے جلدی سے گردن ہلائی۔
    ”ہاں ہاں ایسا ہی تھا وہ باجی!”
    ”تم دونوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؟”
    ”آہ! نہیں آنکھوں سے تو نہیں دیکھا۔” وہ گڑبڑایا۔
    ”مگر دونوں لڑکوں نے ایسا بتایا تھا۔ وہ دونوں بہت خوفزدہ تھی۔ پھر وہ بے ہوش ہو گئی۔ ”
    اتنے میں ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا اپنی ٹوپی سیدھی کرتا ہوا ان کے پاس گھس آیا۔
    ”اوئے محمد خانا! تم کو بولا تھا دوسری طرف جانے کو تم پھر آگیا۔” سینئر چوکیدارنے لڑکے کو گُھرکا۔ پھر مرجان سے مخاطب ہوا۔
    ”یہ امارا بھانجی ہے۔ امارے سر پڑ گئی ہے۔ کتابیں متابیں پڑھتا رہتا ہے۔ کام مام نئیںہوتا اس سے۔”
    وہ پٹھان لڑکا خفا سا ہوتا ہوا دوسری طرف چلا گیا۔
    ”ماڑاوہ تو بتاؤ جو اس نے حملہ بھی کیا تھا اور تم نے اس کا آواز بھی سنا تھا۔” سینئر نے جونیئر کو ٹہوکا دیا۔
    ”اوہ ہاں! ام بھول گیا تھا۔” اس نے دانت نکالے۔
    ”جب یہ سارا کچھ ہو رہا تھا ناتوام وئیں قریب تھا۔ ام کو ایسی آواز آئی۔ ایسی منحوس آواز آئی جیسے لگا امارا دل بند ہو جائے گا۔ وہ آواز اسی چیز کا تھا۔”
    ”ہمم!” مرجان نے پر سوچ انداز میں ببل پھلائی۔ پھر ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولی۔ ”بس؟” دونوں کے اثبات میں سر ہلانے پر اس نے ببل کا بلبلہ پھوڑا۔
    ”چھٹیاں کینسل مرجان۔” وہ زیرِ لب بڑبڑائی۔
    ٭…٭…٭




  • کنکر — عمیرہ احمد

    جنید دم سادھے گال پر ہاتھ رکھے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا، جو ہوا تھا اس کی اسے توقع نہیں تھی، پر جواب ہورہا تھا وہ ا س کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، اس کا باپ بچوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بس ایک ہی جملہ دوہرائے جارہا تھا۔
    ”فرح کو کبھی مت مارنا، کبھی مت مارنا۔”
    پھر اس کا باپ اچانک اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
    ”اب تک وہی بلا سر پر سوار ہے، اب بھی صرف اسی کا خیال آتا ہے۔”
    اس نے اچانک اپنی ماں کی بڑبڑاہٹ سنی، ایک عجیب پنڈورا باکس تھا جو اس کے سامنے آگیا تھا، نہ وہ ماں کی بڑبڑاہٹ سمجھ پایا تھا نہ باپ کی کیفیت۔
    دونوں ردِ عمل اس کیلئے حیران کن تھے اور شاید صرف اس کیلئے ہی نہیں وہاں موجود ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر اسی کیفیت میں تھا، بیشتر اس کے کہ وہ اپنی ماں سے کچھ پوچھتا وہ کمرے سے نکل گئیں اب ڈرائنگ روم میں وہ ، فرح اور اس کی دونوں بہنیں رہ گئی تھیں، چاروں ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھ گئے اور پھر بڑی بے دلی سے انہوں نے ناشتہ شروع کیا تھا مگر کوئی بھی ناشتہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔
    فرح مسلسل کچھ دنوں سے ضد کررہی تھی کہ جنید اس کے ساتھ بھور بن چلے، اس کی کچھ کزنز سیرو تفریح کیلئے اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ وہاں جارہی تھیں اور وہ بھی چاہتی تھی کہ جنید بھی اس کے ساتھ چلے لیکن جنید نہ تو خود بھور بن جانا چاہتا تھا اور نہ ہی اُسے بھیجنا چاہ رہا تھا اور روز روز کی اس بحث و تکرار نے اس وقت ایک سنگین شکل اختیار کر گئی جب آج ناشتے کی میز پر فرح نے اچانک ہی پھر وہی بحث شروع کردی۔
    ”پھر تم نے کیا طے کیا ہے؟”
    فرح کے سوال نے جہاں جنید کو حیران کیا تھا، وہاں باقی لوگوں کی توجہ بھی ان پر مرکوز ہوگئی تھی، جنید نے ناگواری سے اُسے دیکھا تھا، اُسے توقع نہیں تھی کہ فرح ایک ذاتی معاملے کو اس طرح سب کے سامنے لانے کی کوشش کرے گی۔
    ”جو طے کیا تھا وہ تمہیں ایک بار نہیں بار بار بتا چکا ہوں اور اب پھر وہ دوہرانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔”
    حیدر نے بیٹے کے اس اکھڑے ہوئے جواب پر فرح اور جنید دونوں کو غور سے دیکھا تھا۔
    ”میں تمہیں صاف صاف بتارہی ہوں کہ میں بھور بن ضرور جاؤں گی اور تمہیں بھی ساتھ لے کر جاؤں گی۔”
    ”میرے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو میں دیکھوں گا تم کیسے جاتی ہو۔”
    ”تم مجھے روکنے والے کون ہوتے ہو، کیا میرے باپ ہو؟”
    زریں، فرح کے جملے پر تلملاگئی تھیں۔
    ”فرح شوہر سے کیا ایسے بات کرتے ہیں؟”





    ”میں نے آپ سے مشورہ نہیں مانگا کہ مجھے کس سے کس طرح بات کرنی چاہیے اور کیسے نہیں، یہ میرا اور جنید کا معاملہ ہے اس لیے آپ بیچ میں نہ بولیں۔”
    بہت روکھے انداز میں اس نے ساس کو جواب دیا تھا، حیدر خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
    ”فرح تم اپنا منہ بند کرلو تو بہتر ہوگا کیونکہ اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کروں گا، میں تم پر ہاتھ اٹھانا نہیں چاہتا اور تم مجھے اس پر مجبور کررہی ہو۔” جنید کی آواز بہت بلند تھی، حیدر بے اختیار اس کا نام پکار اٹھا۔
    ”جنید۔” ان کے لہجے میں تنبیہ تھی مگر جنید اس باپ کی طرف بالکل متوجہ نہیں تھا۔
    ”میں کیوں اپنا منہ بند کروں، جو سچ ہے وہ صاف صاف کہوں گی میں تم سے ڈرتی نہیں ہوں۔”
    سرخ چہر ے کے ساتھ جنید اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
    ”تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔”
    ”تمہیں تمیز ہے؟” فرح بھی اسی کے انداز میں کھڑی ہوکر بولی تھی، بے اختیار جنید کا ہاتھ اٹھا تھا مگر حیدر کے زور دار تھپڑ نے اس کے ہاتھ کو گرا دیا تھا۔
    اتنی دیر سے غیر جانبدار رہنے والے باپ نے اچانک اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز دیا تھا۔
    ”تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرو۔ تمہیں یہ خیال بھی کیسے آیا۔”
    وہ سکتے کے عالم میں باپ کو چلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا، پھر اچانک حیدر نے ڈائننگ ٹیبل پر سر رکھ کر رونا شروع کردیا تھا اور اچانک وہ اسی انداز میں تقریباً بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”آج میں جو کررہی ہوں وہ سب کو برا لگ رہا ہے، تمہیں، لوگوں کو، ہر ایک کو، لیکن یاد رکھنا ایک وقت ایسا آئے گا جب تم خود اس سب کو روکو گے، جو تم نے کیا، تم دیکھ لینا۔”
    ”ہاں آج تمہاری آخری پیش گوئی بھی پوری ہوگئی۔” کمرہ لاک کئے سر ہاتھوں میں تھامے وہ پھوٹ کر رو رہا تھا۔
    ”تم کیا سوچتی ہو میں تمہارے بغیر مرجاؤں گا، تمہاری جدائی کا ماتم کرتا پھروں گا یا روؤں گا۔”
    اٹھائیس سال پہلے اس نے کسی سے کہا تھا۔
    ”اب نہیں روؤگے، کبھی نہ کبھی تو روؤگے۔” ایک آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
    ”سارہ… اب تو، اب تو مجھے۔۔” وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”سارہ تم ایسا کرو ذرا گھوم پھر کر گھردیکھو ہم بس تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔ آج عالیہ وغیرہ بھی گھر میں نہیں ورنہ وہی تمہیں کمپنی دیتیں۔” چچی ندیمہ کی بہن نگہت نے اس سے کہا تھا۔
    اس دن وہ چچی ندیمہ کی طرف آئی تھی، اس وقت وہ اپنی بڑی بہن کے گھر جانے کیلئے تیار ہورہی تھیں اور انہوں نے اصرار کرکے سارہ کو بھی ساتھ لے لیا لیکن نگہت کے گھر پہنچتے ہی ندیمہ کا ارادہ نگہت کے ہمسایوں کے گھر جانے کا ہوگیا تھا، جنہوں نے اپنے لان میں نئی آبشار بنوائی تھی اور چچی ندیمہ کو اس قسم کی چیزوں میں پہلے ہی بہت دلچسپی تھی۔
    ”اب میں آپ کے ساتھ مزید کسی اگلے گھر نہیں جاؤں گی، آپ خود ہی ہو آئیں۔” سارہ نے ندیمہ چچی کے کہنے سے پہلے ہی انکار کردیا تھا، پھر ندیمہ کی بہن نگہت نے اسے گھر دیکھنے کیلئے کہا تھا اور خود وہ دونوں نگہت کے ہمسایوں کے گھر چلی گئی تھیں، نگہت چند ماہ پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئی تھیں اور یہاں آنے کے بعد وہ پہلی بار ان کے یہاں آئی تھی لیکن اس سے پہلے بھی وہ صرف چند بار ہی ان کے گھر آئی تھی اور وہ بھی صرف دو ایک گھنٹے کیلئے۔
    کچھ دیر تک کولڈ ڈرنک کے سپ لیتے ہوئے وہ غیر دلچسپی سے ڈرائنگ روم کا جائزہ لیتی رہی اور پھر گلاس رکھ کر وہ ڈرائنگ روم سے باہر آگئی، لاؤنج میں ملازمہ ویکیوم کلینر سے کارپٹ صاف کررہی تھی، اسے باہر آتے دیکھ کر مسکرائی تھی۔
    ”میں ذرا گھر دیکھ رہی ہوں۔” اس نے جیسے اپنے باہر آنے کی وضاحت کی تھی۔
    ”ہاں جی ضرور دیکھیں۔ یہ ادھر والا دروازہ راہداری کا ہے، سارے بیڈ روم اُدھر ہی ہیں اور راہداری کے آخر میں دروازہ لان میں کھلتا ہے۔”
    اس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا تھا، وہ سرہلاتے ہوئے راہداری کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگئی تھی، باری باری کمروں کے دروازے کھول کر اس نے ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی اور اندازہ لگالیا تھا کہ کمرہ کس کا ہوسکتا ہے پھر وہ واپس لاؤنج میں آگئی۔
    ”یہ سامنے کچن ہے اور وہ اسٹڈی روم ہے۔”
    اسے آتے دیکھ کر ملازمہ نے ایک بار پھر رہنمائی کی تھی، اس نے ان ہی سرسری نظروں کے ساتھ کچن اور اسٹڈ ی روم کو کھول کر دیکھا تھا۔
    ”اوپر بھی کمرے ہیں؟” اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا۔
    ”ہاں جی اوپر بھی کمرے ہیں، آپ ہو آئیں وہاں سے۔” وہ اس کی بات پر سرہلاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ سیڑھیوں کے خاتمے پر وہ پھر ایک راہداری کے سامنے کھڑی تھی، پہلے کی طرح اس نے پھر دروازے کھول کر کمروں میں جھانکنا شروع کردیا، کچھ کمرے لاکڈ تھے۔ ایک کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہ ٹھٹھک گئی، دروازے کے بالکل سامنے والی دیوار کے ساتھ قد آدم سائز کے اسٹیریو رکھے تھے، وہ بڑی دلچسپی کے ساتھ اس نیم تاریک کمرے میں آئی تھی، کھڑکی کے پردے کھینچ کر اس نے اسٹیریو کو آن کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ اپنی اس کوشش میں چند لمحوں میں ہی کامیاب ہوگئی تھی۔ کمرہ اچانک ایلوس پر سلے کی آواز سے گونج اٹھا تھا، اس نے فورا والیم کم کیا تھا۔
    کمرے میں بلند ہونے والے میوزک نے اوندھے لیٹے حیدر کو بیدار کردیا تھا، آنکھیں کھول کر سیدھا ہوتے ہوئے اس نے کچھ دیر تک اس شور کو سمجھنے کی کوشش کی اور پھر وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا، اس نے اسٹیریو پر جھکی ہوئی لڑکی کو سائیڈ سے دیکھا، ایک نظر ڈالتے ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اس کی بہنوں میں سے نہیں تھی، یقینا بہنوں کی فرینڈز میں سے ہوگی لیکن اس طرح منہ اٹھا کر کمرے میں جو داخل ہوگئی تھی، وہ کس قسم کی دوست ہوسکتی ہے، ناگواری کا ایک احساس اس کے اندر پیدا ہوا تھا۔
    ”آپ کون ہیں اور یہاں کررہی ہیں؟” اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے بلند آواز میں پوچھاتھا، سارہ اس کی آواز پر چونک گئی تھی۔ اس نے پہلی بار کمرے کا جائزہ لیا تھا اور دائیں طرف دیکھتے ہی ایک لمحے کے لئے اس کا سانس رک گیا تھا۔ بلیک جینز میں ملبوس ایک لڑکا سفید شرٹ پہنتے ہوئے اسے بڑی برہمی سے دیکھ رہا تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے یا کیا کرے، جو کمرہ اس کی توقع کے مطابق خالی ہونا چاہیے تھا اب یکدم وہاں پر ایک شخص برآمد ہوگیا تھا اور وہ بھی ایک مرد، وہ ہونقوں کی طرح حیدر کو دیکھتی رہی، شرٹ پہن کر بٹن بند کرتے ہوئے وہ اس کے قریب آگیا تھا، اس جھٹکے سے اس نے اسٹیریو کو بند کیا اور پھر اسی اکھڑے ہوئے انداز میں کہا ۔
    ”میں نے آپ سے کچھ پوچھا تھا؟”
    ”مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہاں کوئی ہے۔” سارہ نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاکر بالآخر کہا۔
    ”اوہ ویری ویل، اس کا مطلب ہے کہ یہاں کوئی نہیں ہے تو آپ کو منہ اٹھا کر یہاں آنا چاہیے اور پھر بغیر اجازت چیزوں کو استعمال کرنا شروع کردینا چاہیے، آپ Guest ہو تو آپ کو آرام سے وہیں بیٹھنا چاہیے جہاں آپ کو بٹھایا جائے یہ نہیں کہ منہ اٹھا کر کمروں میں پھرنا شروع کردیں۔” کسی لحاظ اور مروت کے بغیر بڑے کڑوے لہجے میں اس نے سارہ سے کہا تھا۔
    ”سوری۔” کسی وضاحت کے بغیر ایک لفظ کہہ کر وہ دروازے کی جانب بڑھ گئی اور وہ جو کسی لمبی چوڑی وضاحت کا منتظر تھا کچھ حیران ہوا تھا۔
    ”ویسے آپ ہیں کون؟” دروازے کے قریب پہنچ کر وہ اس کی آواز پر واپس مڑی تھی۔
    ”ایک Guestہوں۔” بڑے پرسکون انداز میں یہ جملہ ادا کرکے وہ دروازہ کھول کر باہر آگئی۔ پھر تیزی سے سیڑھیاں اتر کر وہ نیچے آگئی اور واپس ڈرائنگ روم میں جانے کے بجائے باہر پورچ میں نکل آئی، وہ اس کے پیچھے ہی لاؤنج میں آیا تھا، اب آپس کا غصہ بڑی حد تک ختم ہوگیا تھا۔
    ”یہ جو ابھی نیچے آئی تھیں یہ کون ہیں؟” اس نے لاؤنج میں آتے ہی ملازمہ سے پوچھا تھاجو ابھی تک کارپیٹ کو صاف کرنے میں مصروف تھی۔
    ”پتا نہیں جی، یہ باجی ندیمہ کے ساتھ آئی ہیں، شاید ان کی بھتیجی ہیں۔”
    ”خالہ ندیمہ آئی ہیں؟”
    ”ہاں جی۔”
    ”تو کہاں ہیں وہ؟”
    ”وہ تو جی بیگم صاحبہ کے ساتھ اصغر صاحب کے گھر گئی ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں آجائیں گی۔
    ”اور تم نے انہیں گھر میں گھومنے پر لگادیا۔” اس نے ملازمہ کو جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
    ”نہیں جی، میں نے تو انہیں پھرنے کیلئے نہیں کہا۔ وہ تو بیگم صاحبہ کہہ کر گئی ہیں، انہوں نے تو مجھے بھی کہا تھا کہ میں ان کو گھر دکھادوں مگر میں کام میں مصروف تھی اس لئے وہ خود ہی گھر دیکھنے لگیں۔” وہ ملازمہ کی بات پر کچھ شرمندہ ہوا تھا۔
    ”اب کہاں ہیں وہ ، ڈرائنگ روم میں۔”
    ”نہیں وہ تو باہر نکل گئی ہیں۔” ملازمہ کے جواب پر وہ ہونٹ بھینچے لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا، سارہ پورچ میں ٹہل رہی تھی اسے دیکھ کر رک گئی۔
    ”میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ گھر سے ہی باہر نکل جائیں۔” اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
    ”نہیںمیں اپنی مرضی سے یہاں آئی ہوں، ویسے بھی چچی آنے ہی والی ہیں۔”
    ”آپ اندر آجائیں۔”
    ”نہیں تھینک یو، میں یہاں ٹھیک ہوں۔” ا س نے حیدر کی آفر بڑے اطمینان سے رد کردی۔ وہ کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا پھر واپس چلا گیا اور وہ دوبارہ وہاں ٹہلنے لگی۔ شرمندگی اُسے کافی اٹھانی پڑی تھی، اور یہ شرمندگی کا احساس ہی تھا جو اسے باہر لے آیا تھا، کچھ دیر میں چچی آگئیں اور پھر وہ ان کے ساتھ گھر آگئی۔
    حیدر نے سارہ کو پہلے صرف ایک بار دیکھا تھا اور تب وہ کافی چھوٹی تھی سو اُس کے لئے اس کا چہرہ نیا ہی تھا، یہی حال سارہ کا تھا وہ حیدر کی بہنوں کو تو اچھی طرح جانتی تھی لیکن حیدر سے اس کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی، البتہ ندیمہ چچی سے وہ حیدر کے بارے میں بہت کچھ سنتی رہتی تھی چونکہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اس لئے لاڈ لہ تو ہونا ہی تھا اور وہ نا صرف لاڈلہ تھا بلکہ خوبصورت اور شوخ بھی تھا، گریجویشن کرنے کے بعد اس نے باپ کے بزنس کو سنبھال لیا تھا لیکن اس کے باوجود اس میں سنجیدگی نام کی کوئی شے نہیں تھی، وہ ہر ایک سے چھیڑ چھاڑ کرتا ، ہر ایک پر جملے کستا لیکن چونکہ اس کا مذاق کبھی شائستگی کی حد سے باہر نہیں ہوتا تھا اس لیے کسی کو وہ کبھی برا نہیں لگا لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ اس کو کبھی غصہ ہی نہ آیا ہو، وہ غصہ کا بھی اتنا ہی تیز تھا۔ جب غصہ آنا ہوتا تو پھر بس چند لمحے لگتے تھے اوراس کا غصہ تھا بھی طوفانی قسم کا جو چیز اس کے سامنے آتی وہ اٹھا کر پٹخ دیتا، مگر یہ کیفیت بہت دیر تک نہیں رہتی تھی جب غصہ ختم ہوتا تو وہ پھر پہلے کی طرح ہوجاتا۔




  • ابھی تو مات باقی ہے — عمیرہ احمد

    رابیل نے چلتے چلتے اچانک عثمان کو بڑ بڑاتے سنا۔ اس نے کچھ حیرانی سے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ ہونٹ بھینچے ہوئے زیر لب کچھ کہہ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر پڑی ہوئی شکنوں نے اسے کچھ اور حیران کیا۔
    ”کیا بات ہے؟ کیا ہو گیا ہے؟” اس نے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔
    ”جن مردوں کو اپنی نظروں پر قابو نہیں ہوتا انہیں اندھا کر دینا چاہیے۔” وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے غرایا تھا۔
    رابیل نے کندھے اچکاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔ عثمان کے ایسے ریماکس اس کے لیے نئے نہیں تھے۔ اس کی شادی کو آٹھ سال ہونے والے تھے اور ان آٹھ سالوں میں عثمان کئی دفعہ اسی طرح بھڑکتا رہا تھا۔
    ایک ہلکی سی مسکراہٹ رابیل کے چہرے پر نمودار ہوئی۔
    ”بھئی ، یہاں ایسا کون ہے جسے تم اندھا کر دینا چاہتے ہو؟” اس نے ایک نظر سامنے دوڑاتے ہوئے پوچھا۔
    ”یار ! یہ کارڈیا لوجی ڈیپارٹمنٹ کے داخلی دروازے پر جو آدمی کھڑا ہے یہ تب سے تمہیں گھور رہا ہے، جب ہم وہاں کھڑے میجر شفقت سے باتیں کر رہے تھے۔ مجال ہے ایک لمحہ کے لیے بھی اس نے نظر ہٹائی ہو۔ اسے پتا بھی چل گیا ہے کہ میں اس کی اس سرگرمی سے واقف ہو چکا ہوں مگر تم اس کی ڈھٹائی دیکھو کہ یہ پھر بھی کوئی پروا کئے بغیر اسی طرح تم پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اپنی عمر دیکھنی چاہیے اس کمینے کو۔ تم اس کی بیٹی کے برابر ہوگی اور یہ پھر بھی۔”
    وہ کسی پر نظریں جمائے بولتے ہوئے چلتا جا رہا تھا۔ رابیل نے متلاشی نظروں سے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف دیکھا تھا۔ وہ دونوں اب اس شخص کے کافی قریب آ گئے تھے۔ ایک لمحہ کے لیے وہ جیسے منجمد ہو گئی تھی۔ اس شخص نے رابیل کو اپنی طرف دیکھتے پا کر فوراً ہی نظریں ہٹا لی تھیں۔ رابیل کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔ اس آدمی کے چہرے سے نظریں ہٹا کر وہ تیز قدموں کے ساتھ عثمان کے ساتھ چلتے ہوئے سی ایم ایچ کے گیٹ سے باہر آ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی، وہ شخص اب بھی اسے گھور رہا ہو گا۔ اب بھی اس کی نظریں اس کے وجود پر مرکوز ہوں گی اور شاید تب تک رہیں گی جب تک کہ وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتی۔
    بعض چہروں کو پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی چاہے ان سے ہمارا کوئی رشتہ ہو یا نہ ہو۔ چاہے انہیں ہم آٹھ منٹ بعد دیکھیں یا آٹھ سال بعد۔ چاہے انہیں ہم نے محبت سے دیکھا ہو یا نفرت سے مگر ایک بار دیکھنے کے بعد وہ چہرے دماغ میں فیڈ ہو جاتے ہیں۔ پھر دوبارہ کبھی ذہن سے اوجھل نہیں ہوتے۔ آٹھ سال پہلے اس نے بھی اس شخص کو تین بار دیکھا تھا۔ صرف تین بار اور آج پہلی ہی نظر میں تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں وہ اسے پہچان گئی تھی اور پھر آٹھ سال پہلے اسے وہ چھ ماہ یاد آنے لگے تھے جو اسے آسمان سے زمین پر لے آئے تھے۔ جب اس نے اپنی ہستی کو برزخ میں محسوس کیا تھا جب اپنے وجود کو پاتال میں دیکھا تھا اور پھر اس برزخ کی آگ کو بجھانے اور اس پاتال سے نکلنے میں اسے بہت وقت لگا تھا۔
    ”تمہیں کیا ہوا ہے؟” اس کے چہرے پر کوئی ایسی کیفیت ضرور ابھری تھی۔ جس نے عثمان کو چونکا دیا تھا جو گیٹ سے باہر نکلتے ہی نارمل ہو گیا تھا شاید یہ سوچ کر کہ وہ اب اس آدمی کی نظروں سے اوجھل ہو چکی ہے۔
    ”کچھ نہیں۔ مجھے کیا ہونا ہے۔ بس اس بچے کے کیس کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔”
    اس نے فوراً ہی خود کو سنبھال لیا۔ عثمان خاموش رہا۔ وہ دونوں جیپ کے پاس پہنچ گئے تھے۔ ڈرائیور نے اس کے لیے جیپ کا دروازہ کھول دیا۔ وہ اندر بیٹھ گئی۔ عثمان فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ اسامہ لپکتا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔
    ”ما ما ! اب پہلے آئش کریم کھانے جائیں گے۔”
    اس نے اس کی گود میں آتے ہی فرمائش کی تھی۔ ”ہاں آئس کریم کھانے چلیں گے، مگر پہلے آئزہ کو سکول سے لے لیں پھر۔ ٹھیک ہے نا؟” اس نے اسامہ کا گال چومتے ہوئے کہا تھا۔
    ”ٹھیک ہے مگر پھر میں دو کون کھاؤں گا۔” اس نے اپنی ایک اور شرط پیش کر دی تھی۔
    ”بس دو؟” رابیل دماغ سے اس چہرے کو جھٹکنے میں مصروف تھی۔
    ”ہاں بس دو مگر اگر آئزہ دو کھائے گی تو پھر میں تھری کھاؤںگا۔” ایک اور دو کے بعد اس کی اردو کی گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اب وہ رابیل کو انگلیاں دکھا کر تھری کہہ رہا تھا۔
    ”اور اگر میں آئزہ کوایک فیملی پیک لے دوں تو؟” عثمان اپنے چار سالہ بیٹے کو چھیڑ رہا تھا۔
    ”اور اگر میں۔” عثمان اور اسامہ کے درمیان اب باقاعدہ بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس نے خاموشی سے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔ ایک بار پھر وہی چہرہ اس کے سامنے آ گیا تھا۔
    …***…





    ”میں سیریس ہوں؟ کم آن یا ر! میں تو سیریس نہیں ہوں۔ یہ بیماری اسی طرف سے ہے۔ اوئے تو سمجھتا کیوں نہیں ہے۔ میرے جیسے بندے کے پاس اتنی ہمت کہاں۔” وہ یونیفارم تبدیل کئے بغیر اوندھے منہ بیڈ پر لیٹے تکیے پر بازو ٹکائے فون پر گفتگو میں مصروف تھا۔
    ”اچھا اچھا۔ تجھے بھی جانتا ہوں میں بڑا سورما ہے ناتو۔ تیس مار خاں سامنے آنا پھر ایسی باتیں کرنا، تیرا منہ نہ توڑ دیا تو پھر کہنا۔” وہ اب کچھ جھنجھلا رہا تھا۔ دروازے پر ہونے والی دستک نے اس کے انہماک کو توڑا تھا۔
    ”جسٹ اے منٹ خبیث۔” اس نے فون پر اظفر سے کہا تھا اور پھر ماؤتھ پیس پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ”یس کم ان۔” اس نے بلند آواز سے کہا تھا۔
    ”سر ! آپ کے کپڑے پریس کر لایا ہوں اور چائے یہیں پئیں گے یا باہر لان میں؟” روم سروس والا دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔ ہینگر میں لٹکے ہوئے کپڑوں کو کرسی کی پشت پر لٹکاتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔ حسن نے ایک نظر رسٹ واچ پر ڈالی اورپھر اسی طرح ماؤتھ پیس پر ہاتھ رکھے ہوئے کہا۔
    ”نہیں اسے اب رہنے ہی دو۔ مجھے باہر جانا ہے۔”
    ”میجر یاور علی آپ کا پوچھ رہے تھے۔” وہ ماؤتھ پیس سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے چونکا تھا۔
    ”وہ کب آئے تھے؟”
    ”دوپہر کو آئے تھے ، یہیں میس میں ہی ٹھہرے ہیں۔”
    ”اس وقت کمرے میں ہی ہیں؟”
    ”نہیں ، وہ تو اسی وقت باہر چلے گئے تھے لیکن کہہ رہے تھے کہ آپ آئیں تو آپ کو بتا دوں۔”
    ”اچھا وہ آئیں تو ان سے کہہ دینا کہ مجھے کسی ضروری کام سے جانا تھا۔ میں رات کو ان سے ملوں گا۔ اب تم جاؤ۔” اس نے اسے ہدایات دیں اور پھر ماؤتھ پیس سے ہاتھ اٹھا کر باتوں میں مصروف ہو گیا۔
    ”اچھا میں تو بس تھوڑی دیر میں نکلنے والا ہوں، بس چھ بجنے ہی والے ہیں۔ مجھے زرقا کو بھی پک کرنا ہے۔ تم کب کلب پہنچو گے؟” وہ ا ظفر سے اس کا شیڈول پوچھ رہا تھا۔
    ”نہیں کلب سے ہوتے ہوئے گیریژن سینما چلے جائیں گے۔”
    ”نہیں یار ! وہاں تو ضرور جانا ہے۔”
    ”بس سمجھا کرو یار۔”
    ”زیادہ دیر نہیں رکیں گے۔”
    ”ہاں ، زرقا بھی فلم دیکھنے چلے گی۔ یار! اس سے پہلے ہی پروگرام طے کیا ہوا تھا۔ تمہارا مسئلہ بھی حل کر دوں گا۔ تم کلب تو چلو۔ ایک کے بجائے دس لڑکیاں ساتھ چلیں گی۔ تم بات کر کے تو دیکھنا۔ اچھا تم نہ کرنا۔ میں کروں گا۔ تم بس یہ مسئلہ مجھ پر چھوڑ دو۔ میں آٹھ بجے تک کلب انتظار کروں گا تمہارا۔ وہاں نہ آئے تو دوبارہ شکل مت دکھانا مجھے۔” اس نے اظفر کو دھمکاتے ہوئے فون بند کر دیا تھا۔
    سیٹی پر ایک انگلش نمبر کی دھن بجاتے ہوئے وہ کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھس گیا۔
    لاہور میں پوسٹڈ ہوئے اسے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا اور یہاں آتے ہی اس کی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ جنرل بابر کریم کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ اس سے بڑے ایک بھائی اور ایک بہن تھے دونوں شادی شدہ تھے۔ اس کا بڑا بھائی اور بہنوئی دونوں فوج میں تھے اور یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا تھا۔ اس کے چچا اور تایا کے علاوہ ان کی اولادیں بھی کسی نہ کسی حوالے سے آرمی سے وابستہ تھیں اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا آ رہا تھا۔
    حسن دانیال کا خاندان ان خاندانوں میں سے نہیں تھا جو آرمی کا کھاتے ہیں۔ وہ ان خاندانوں میں سے تھے جو آرمی کو کھاتے ہیں۔ اس کے خاندان کے لوگ فوج اور بیوروکریسی میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے اور پھرباہمی گٹھ جوڑ سے وہ اپنے عہدوں سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے۔ حسن کا دادا انگریزوں کی فوج میں کرنل کے عہدے تک پہنچا تھا تو اس کی بنیادی وجہ کوئی پروفیشنل مہارت نہیں تھی۔ بلکہ اس کے دادا کی انگریز بیوی تھی جو لیسٹر کے کسی ارسٹو کریٹ کی بگڑی ہوئی بیٹی تھی۔ اسے حسن کے دادا سے طوفانی قسم کا عشق ہوا تھا اور اس عشق کا نتیجہ شادی کی صورت میں نکلا تھا۔ اس شادی نے حسن کے دادا کو زمین سے آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ از ابیلا اس قدر خوبصورت تھی کہ اس پر پہلی نظر ہمیشہ دیکھنے والے کے لیے کافی سنگین ہوتی تھی اور ازابیلا نے اپنے شوہر کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی خوبصورتی کا بڑے اچھے طریقے سے استعمال کیا تھا اور اس استعمال پر حسن کے دادا کو کبھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ ان کے نزدیک زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان کی آئندہ آنے والی نسلیں ایک کرنل کی نسل کہلائیں گی۔ انگریزوں نے انہیں صرف عہدہ ہی نہیں دیا تھا بلکہ جاگیر سے بھی نوازا تھا اور اس جاگیر نے ان پر دو آتشہ کا کام کیا تھا۔ ان کے یہی تعلقات بعد میں ان کے بیٹوں کے کام آئے تھے۔ ان کے دو بیٹوں نے آرمی جوائن کی تھی اور دونوں جنرل کے عہدے پر پہنچے تھے۔ باقی دونوں بیٹوں میں سے ایک میڈیکل کور میں گیا تھا اور پھر وہاں سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر لندن چلا گیا اور سب سے چھوٹا والا بیٹا بھی لاء کرنے کے بعد باہر ہی سیٹل ہو گیا تھا۔ بابر کریم تیسرے نمبر پر تھے اور انہوں نے ماں باپ سے تمام گر سیکھے تھے جو ان کے خاندان کے شجرہ نسب کو اور مضبوط کرتے۔ ان کے باپ نے ان کی شادی بھی ایک جنرل کی بیٹی سے کی تھی اور اس رشتے نے ان کے سوشل اسٹیٹس کو اور بڑھا دیا تھا اور یہ سلسلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوا تھا بابر کریم نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی بھی ایک ایسے ہی خاندان میں کی تھی جو ان ہی کی طرح کئی نسلوں سے آرمی سے وابستہ تھا اور اپنی بیٹی کی شادی بھی انہوں نے اپنے سب سے بڑے بھائی کے بیٹے سے کی تھی۔
    حسن دانیال ان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اور سب سے لاڈلی اولاد بھی اور اس بات کا اس نے بچپن سے ہی فائدہ اٹھایا تھا۔ اس میں بھی اپنے خاندان کی تمام خوبیوں اور خامیوں کا عکس نظر آتا تھا۔ باپ اور بڑے بھائی کی طرح وہ شوقیہ ڈرنک بھی کرتا تھا اور ان باقی تمام مشاغل سے بھی لطف اندوز ہوتا تھا۔ جن سے اس کے خاندان کے تمام لوگ لطف اندوز ہوے تھے۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے مردوں کی طرح رنگین مزاج تھا۔ جانتا تھا کہ اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون حلال کی کمائی کے اجزاء نہیں رکھتا کیونکہ وہ رزق حلال کی پیداوار نہیں تھا۔
    بابر کریم جس جس عہدے اور پوسٹنگ پر بھی رہے تھے۔ انہوں نے اس سے پورا فائدہ اٹھایا۔ فوج کے زیر استعمال پیٹرول پمپوں میں پیٹرول کی سپلائی میں ہیرا پھیری سے لے کر کینٹ کے علاقے میں زمینوں اور پلاٹوں کی خاص لوگوں کو الاٹمنٹ کرنے تک وہ ہر قسم کے اسکینڈل میں ملوث رہے تھے۔ مگر ان کے خلاف ہونے والی ہر انکوائری کے بعد نہ صرف انہیں ایک عدد اچھی پوسٹنگ سے نوازا جاتا رہا تھا۔ بلکہ انہیں پروموشن بھی دی جاتی رہی تھی۔ ان تمام حربوں سے حسن دانیال بھی واقف تھا اور جانتا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے اور اپنے باپ دادا کی طرح ساکھ بنانے کے لیے یہ سب بے حد ضروری ہوتا ہے۔
    ساڑھے چھ بجے زرقا کو اس کے گھر سے پک کرنے کے بعد وہ سروسز کلب پہنچ گیا تھا۔ زرقا سے اس کی پرانی واقفیت تھی۔ اس کے والد فارن آفس میں ہوتے تھے اور حسن کے والد سے ان کی اچھی خاصی سلام دعا تھی۔ وہ اپنے والدین کے ہمراہ کئی بار راولپنڈی اس کے گھر بھی آچکی تھی۔ لاہور میں پوسٹنگ ہوتے ہی اسی نے سب سے پہلے اس سے رابطہ قائم کیا تھا۔ خوبصورت لڑکیاں اس کی کمزوری تھیں۔ خوبصورت ، تعلیم یافتہ، بہت ماڈ۔ حسن کی طرح وہ بھی بہت سوشل تھی۔ اس کی طرح سموکنگ اور ڈرنک بھی کرتی تھی اور حسن کی طرح وہ بھی اپنے بوائے فرینڈز بدلتی رہتی تھی۔
    ”تو بہر حال تم آ ہی گئے ہو۔” وہ اور زرقا ڈرنکس لے کر اپنی ٹیبل پر واپس آئے ہی تھے جب اظفر بھی کرسی کھینچ کر آن موجود ہوا تھا۔
    ”تم جس طرح دھمکاتے ہو، کیا اس کے بعد یہ ممکن ہے کہ بندہ گھر بیٹھا رہے۔ ہیلو مائے نیم از اظفر۔ کیا میں آپ کا نام معلوم کر سکتا ہوں؟”
    حسن نے کچھ تیکھی نظروں سے اسے دیکھا تھا اور پھر دونوں کا تعارف کروایا۔
    ”آپ سے مل کرخوشی ہوئی۔” زرقا نے بڑے سٹائلش انداز میں اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔same here(مجھے بھی) حسن سے اکثر آپ کا ذکر سنا ہے۔ دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی۔” اظفر نے شوخ انداز میں کہا۔
    زرقا کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ واضح طور پر اس نے اظفر کے جملے کو انجوائے کیا تھا۔
    ” Should I take it as a compliment?” (میں اسے اپنی تعریف سمجھوں) اس نے جواباً اظفر سے کہا تھا ”آف کورس” ایک ہلکے سے قہقہے کے ساتھ اظفر نے کہا تھا۔
    ”تم کیا لو گے؟” حسن نے فوراً مداخلت کی تھی۔
    ”وہی جو تم لے رہے ہو شیمپئن۔” اس نے ایک ہلکی سی سیٹی بجا کر کہا تھا۔
    ”تم جم خانہ میں نہیں بیٹھے ہو۔ جانتے ہو، یہاں کیا مل سکتا ہے۔ بیئر، برانڈی یا وہسکی مگر تم برانڈی مت لینا۔تم سوڈا استعمال کرو گے نہیں اور ہمیں ابھی سینما بھی جانا ہے۔ میں نہیں چاہتا مجھے تمہیں اٹھا کر گھر لے جانا پڑے۔” زرقا نے حسن کی بات پرایک ہلکا سا قہقہہ لگایا تھا۔
    ”ایسا بھی ہوتا ہے؟” اس نے اظفر کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
    ”اس کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔” اظفر نے حسن کی بات پر اس کے بازو پر ایک ہلکا سا گھونسہ مارا تھا اور پھر بار کی طرف چلا گیا تھا۔ حسن زرقا سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔ اظفر چند منٹوں بعد گلاس ہاتھ میں تھامے واپس لوٹ آیا تھا۔
    ”حسن ! باہر کیوں نہ چلیں۔ یہاں بیٹھنے سے بوریت ہو رہی ہے۔” اس نے آتے ہی اظفر سے کہا تھا۔
    ”کیا خیال ہے ، باہر چلا جائے؟” حسن نے زرقا سے پوچھا۔ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
    "As you wish.”
    ”ٹھیک ہے چلو لان میں بیٹھتے ہیں۔”
    حسن نے اپنا گلاس خالی کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”تم دونوں چلو میں ایک پیگ اور لے کر آتا ہوں۔”