حاضری — کنیز نور علی

وہ آج بھی ویسا ہی کھانا بناتیں ہیں جیسے دس سال پہلے بنایا کرتیں تھیں، یا اس سے بھی پہلے بیس سال پہلے…… اس سے بھی پہلے، کتنا زمانہ بیت گیا پکاتے ،کھلاتے، دھوتے، مانجھتے…….. باتیں کرتے اور خاموش رہتے……… سوچتے ہوئے اور جھگڑتے ہوئے، کبھی اپنے اندر سے جھگڑا… کبھی باہر سے……..
ہانڈی بھونتے ہوئے وہ غور کر رہی تھیں کہ آج بھی سب ویسا ہی بنتا ہے، لیکن کھانے والے بدلتے گئے ہیں….. آہ!
دل سے ہوک کیوں اٹھتی ہے؟
ماضی یاد کیوں آتا ہے؟
آخر انسان کیوں ماضی سے ہی بھاگتا ہے
اور…
اسی میں پناہ بھی لیتا ہے…..
آخر میرے اندر اتنے سوال کیوں ابھرتے ہیں؟
یہ سب وہ سوچے چلی جاتیں اور کھانا تیار ہو جاتا تھا؟
“آپ تو زیادہ اچھی بریانی بناتی ہیں، پھر میری بریانی کی ایسے ہی اتنی زیادہ تعریف کر رہی تھیں”….. عائشہ نے آج ان کے ہاتھ کی بریانی چکھی تھی۔
“تم واقعی زیادہ اچھی بناتی ہو کیوں کہ وہ تم بناتی ہو۔” چائے کپ میں ڈالتے ہو ئے وہ اداسی سے مسکرائیں۔
“یہ کیا بات ہوئی؟” اب وہ دونوں لانج میں آکر بیٹھ چکی تھیں۔ چائے پی جائے گی، چند باتیں ہوں گی….. اور پھر عائشہ کو اپنے گھر کے کام، بچوں کا ہوم ورک اور شوہر کے لیے رات کا کھانا یاد آئے گا اور وہ بھاگ جائے گی۔ نورالنسا یہ سب کچھ بھگتا کر یہاں بیٹھی تھیں۔ اب اگلی نسل کی عورتیں ذمہ داریاں سنبھال چکی تھیں….
“بس! یہی بات ہے… دس سال بعد تم اور اچھی بریانی بنانے لگو گی، لیکن تمہیں اپنی پکائی ہوئی کوئی شے بھائے گی نہیں……. کیوں کہ تب اس سے زیادہ اہم چیزیں تمہاری منتظر ہوں گی۔” ان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
“کیسی باتیں کرتی ہیں آپ؟” عائشہ نے سادگی سے پوچھا۔
” بس! ایسی ہی بات ہے عورت کے کام نہ اس کے ہاتھ کی پکی بریانی آتی ہے، نہ اپنے ہاتھوں پلی اولاد… سب ہاتھ سے نکل جاتا ہے….. وقت بھی۔” وہ اپنی سوچوں میں مگن تھیں۔
’’کیا وقت واقعی ظالم ہے؟‘‘ وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھ گئیں، اور اس سے پہلے کہ وہ رُکتیں، عائشہ نے ہی ان کی بات کاٹ دی:
“بچے ٹیوشن سے آنے والے ہوں گے، میں چلتی ہوں۔ مغرب بھی ہونے والی ہے۔”
اور وہ بس سوچتی رہ گئیں………… وقت ظالم ہے یا انسان؟ جو خود اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔
“میرے بچے بھی ٹیوشن سے آیا کرتے تھے اور میں بھی بھاگی بھاگی پھرا کرتی تھی، لیکن یہ کہ مغرب بھی ہونے والی ہے، یہ خیال مجھے کیوں نہ آیا؟ اب ساری دھول بیٹھ چکی ہے، بچے دنیا کے راستوں پر نکل گئے ہیں۔ میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کوئی ایک لو تو ایسی لگانا چاہئے تھی۔ کوئی ایک شاخ جو ہر موسم میں ہری رہے، ایک رابطہ ایسا ہوتا جو ہر ربط اور تعلق پر حاوی ہوتا۔ پھر تنہائی یوں تو نہ کاٹتی، پچھتاوے یوں تو نہ گھیرتے، ان کے اندر اک بازگشت ہوئی…..
“اب ہم دونوں رہ گئے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی اور تنہا بھی۔” اپنے ہم سفر کو دیکھ دیکھ کر وہ سوچتی رہتیں…..
“ایک یہ شخص ہے اور اس گھر کا خالی پن… بس یہی میری زندگی ہے….. اور…… اور بچوں کے فون ہیں….. جو آتے رہتے ہیں۔”
ساری عمر کا حاصل یہ خاموشی تھی جو کسی سمجھوتے کی مانند ان دونوں کے درمیان در آئی تھی۔ انہیں کبھی بہت پرُسکون لگتی، بہت بھاتی یہ خاموشی، کہ کائنات کا ساز بھی تو یہی ہے اور کوئی لمحہ ایسا آتا کہ انہیں یہی خاموشی کانٹے کی طرح چبھتی…… کھٹکتی….. اور زخمی کر ڈالتی…
“کوئی بھی ایسی بات نہیں جو ہم آپس میں کر سکیں؟ بس میرے اندر ہی یہ جوار بھاٹا ہے….. یہ تو بہت پرُسکون…. اپنے انداز سے جی رہا ہے……… یہ کیسا انسان ہے جس کے ساتھ میں نے ساری زندگی بتا دی؟ لیکن کبھی ہمیں چین نا ملا……… ساری زندگی اک آپا دھاپی، اک رولا سا تھا۔”
اور اب؟ اب کیا ہوا ہے؟ سارے رولے، لڑائی جھگڑے، آپس میں ہی بھڑتے ہوئے اس گھر کی دہلیز پار کر گئے تھے۔ باہر نکل گئے، گھر جھگڑوں سے خالی ہو گیا، اور رشتوں سے بھی۔ لوگوں سے بھی۔ لوگوں کی سانسوں کے دم سے ہی تو گرماگرمی ہے۔ تیری میری اور یہ وہ ہے۔ وہ سب چلے گئے۔ جو بڑے تھے وہ عمر پوری کر کے اگلے جہان سدھار گئے…. جو چھوٹے ہیں وہ پردیس کے لیے نکل گئے۔
در اصل زندگی کے گزرنے کا ادراک ہر روح کو دکھی کر دیتا ہے۔ بیٹیاں بیاہ دی جاتی ہیں اور ماں سے دور اپنے بکھیڑوں میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
بیٹے محنت کا پھاوڑا لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور دن رات مشقت کرتے ہیں۔
ماں گھر بیٹھی یاد کرتی رہتی ہے…. بیٹی بیاہ دی تو پرائی ہوئی، بیٹا کمائی میں لگا تو وہ بھی پرایا ہی سمجھو۔ اب ان کاموں کے بغیر چارا بھی تو کوئی نہیں۔ بھلا بیٹیاں گھر میں رکھی جا سکتی ہیں؟ مچھلی جل کے بغیر رہی ہے کبھی؟ اور بیٹے…….. کمانے نہیں جائیں گے تو گہنے کہاں سے آئیں گے؟ بہو کیسے بیاہ کر لائی جائے گی……… عورت کے گہنے مرد کو مشقت تک لے جاتے ہیں، اور مرد کی مشقت عورت کو گھر گرہستی تک کھینچ لاتی ہے۔
یوں زندگی گزر جاتی ہے یادیں، خسارے پچھتاوے، اداسی آخری عمر کے ساتھی ہیں……….
نور النسا بھی اب اس عمر میں ماضی کے سفر پر نکلا کرتیں اور ان کو سمجھ ہی نہ آتی تھی کہ وہ کیا کریں؟ نمازیں پوری کرتیں وظیفے پڑہتیں….. پھر؟ پھر وہی تنہائیاں، وہی یادیں۔
انہیں وہ وقت یاد آتا جب ان کاموں کے لیے ان کے پاس فرصت نہیں تھی۔ ہک ہا!
خدا بھی تب یاد آیا جب بندوں نے جان چھڑا لی۔ “تنہائی سے گھبرا کر میں مصلے پر آبیٹھی
“واہ نور النسا! کیا سودا کیا ہے تم نے بھی، تم جیسی بیبیوں کو ساری عمر گھاٹا ہی ملتا ہے۔ تم بندوں میں گھری خالق کو بھول جاتی ہو اور پھر شکوے کرتی ہو۔”
نور النسا کا اندر اب بہت بولتا تھا۔ انھیں حیرانی ہوتی کہ اب یہ کون سا وقت ہے بولنے کا؟ ساری عمر اسے دبائے رکھا، باہر کے شور میں اس کی سنی ہی نہیں، اب اور کوئی بچا نہیں تو اسی سے یاری گانٹھ لی ہے میں نے…
بیٹیوں کے فون آتے، بیٹے صبح شام بات کرتے۔ اب تو فاصلے ہی سمٹ گئے ہیں۔ دور بیٹھے بچوں کو وہ سامنے سکرین پر دیکھ لیتیں۔ دن رات وہ اپنی حاضری لگواتے تھے۔ ماں سے دور ہیں تو کیا ہوا، رابطہ دوری کو گھٹا دیتا ہے۔
ابھی بھی سب سے چھوٹی بیٹی نائلہ کا فون آیا تھا، وہ امریکا ہوتی ہے۔ پہلے اپنے وقت کے حساب سے فون کیا کرتی تھی تو ماں سے خوب ڈانٹ کھاتی۔ اب ان کے حساب سے کرتی ہے۔
“میں نے سوچا حاضری لگوا لوں، آج سب سے پہلے میں نے ہی فون کیا ہے ناں؟” وہ ہنس رہی تھی۔ یہاں صبح کے دس بجے تھے، وہاں اس وقت تو رات ہوگی…”
نور النسا کے اندر سے ایک آہ نکلی… حاضری! ان کا دل ڈوب کر ابھرا….
وہ دنیاوی لحاظ سے کامیاب گردانی جاتی تھیں۔ ساری اولاد ہی ٹھکانے لگ گئی۔ تسبیح پھرولتی وہ کھو جاتیں۔
“میں کیسی کیسی پریشانیاں لیے پھرتی تھی؟ بیٹیوں کی شادیاں، بیٹوں کی نوکریاں سارا کچھ ہی تو سدھر گیا۔ ایک یہی کام ہے جو…… جو…… میرے کرنے میں نہ آیا …میری تو حاضری ہی پوری نہیں ہے” ان کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ جاتی۔
“کیوں ایسا گھاٹے کا سودا کیا میں نے؟”
وہ خود اپنی ندامت پر حیران ہوتیں کہ ایسا خیال کہاں سے آلپکا انہیں۔ یوں ہی اچانک….. لیکن اچانک تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جب سے عائشہ سامنے والے گھر میں آئی تھی، نئے کرائے دار…… انہیں بھی ایک سہارا مل گیا۔ آنا جانا ہونے لگا؟ عائشہ جب بھی آتی، اس کی باتوں کے اندر ہی کہیں ٹوٹے جڑے ہوتے
“بچوں کے پیپرز ہو رہے ہیں… بہت بزی ہوں….. عصرہونے والی ہے”……. کبھی کہتی:
“اچانک مہمان آگئے تھے ظہر پڑھ رہی تھی میں۔” میں ظہر پڑھ رہی تھی کہ اچانک مہمان آگئے۔
کبھی اسے بیٹھے بیٹھائے یاد آجاتا:
“عشا ادا کرنے کے بعد میں کپڑے استری کر رہی تھی کہ امی کا فون آگیا۔” اس کی ساری گفتگو کے دوران ان ٹوٹوں میں وہ الجھ جاتیں۔ عائشہ تو اپنی ساری گفتگو سمیت اپنے گھر لوٹ جاتی لیکن اس کی فجر، ظہر، عصر ان کے ارد گرد کہیں بازگشت کرنے لگتیں۔
“عائشہ جیسی ہی میں تھی، اور مجھ جیسی ہی عائشہ ہے۔ وہی گھریلو عورت وہی روایتی ذمہ داریاں…. پھر کچھ تو فرق ہے نا….. میں ساری عمر اک بھاگم بھاگ میں ہی رہی۔ کام کام کام!
’’یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی باقی ہے …..
اتنا کر لیا ہے….. یہ ہو جائے گا……….. تو وہ کرنا ہے‘‘ کام آگے آگے تھے اور میں ان کے پیچھے ……..
عائشہ بھی ایسی ہی ہے۔ میری اپنی بیٹیاں بھی دن رات انہی بکھیڑوں میں الجھی رہتی ہوں گی، بہویں بھی۔ لیکن یہ میری روٹین میں عائشہ کی طرح فجر ظہر عصر کیوں نہ تھیں؟ کاش! کبھی زندگی کی رنگا رنگی میں میں خالق کو نہ بھولی ہوتی۔ بچے گھر، شوہر، سسرال، ذمہ داریاں، رشتہ داریاں، محلے داریاں، دوستیاں…….. یہی رونا رہا ساری عمر…… کاش! اے کاش! اس سب میں میں نے اپنی حاضری تو یقینی بنائی ہوتی۔ بس اک حاضری….. ایک سجدہ جو نہ چھوٹا ہوتا۔ تو آج مجھے یہ ایسا جان لیوا پچھتاوا نہ ہوتا…….. سارے دھندے نپٹاتی رہی، بس اک مصلی بچھانا ہی دوبھر رہا میرے لیے۔ کیسا سودا کیا میں نے؟” وہ دن رات اسی سوچ میں گھلتی جاتیں۔

٭…٭…٭




Loading

Read Previous

آبِ حیات — قسط نمبر ۵ (بیت العنکبوت)

Read Next

بے غیرت — دلشاد نسیم

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!