Author: misbah116@hotmail.com

  • سمیٹ لو برکتیں — مریم مرتضیٰ

    ’’ کل پہلا روزہ ہے نا امی‘‘ رات کو کھانے کی میز پر اس نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں‘‘ امی نے تائید کی۔
    ’’ اس میںاتنا خوش ہونے والی کیا بات ہے ؟‘‘ وسیم نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا۔
    ’’روزہ خوشی کا ہی تو نام ہے وسیم…کتنا پیارا پیارا سماں ہوتا ہے۔‘‘
    ’’خاک سماں ہوتا ہے دن بھر پیاسے پھرتے رہو یہ آپ کو مبارک ہو۔ میری اپنی مرضی کہ میں روزہ رکھوں یا نہ رکھوں …‘‘ وہ بے رخی سے بولا۔
    ’’ تم اس بار بھی روزے نہیں رکھو گے کیا؟‘‘ اس نے چونک کروسیم سے پوچھا۔
    ’’ ہاں …تو اور کیا اتنی گرمی میں کون بھوکا پیاسا رہے؟‘‘ وہ طنزیہ ہنس دیا۔
    ’’ روزے میں صبر اللہ پاک دیں گے تم ایک بار ہمت تو کر کے دیکھو۔‘‘ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
    ’’چھوڑو سارہ …کیوں اُلجھ رہی ہو… تم کھانا کھاؤ بس…‘‘ امی نے کہا۔
    ’’امی آپ اسے سمجھا لیں۔‘‘ وسیم نے بے رخی سے کہا
    ’’امی سب آپ کی غلطی ہے ،آپ نے اسے ہمیشہ لاڈ دیا ،گرمی لگ جائے گی روزہ نہ رکھنا اب اس کی عادت بن گئی۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
    ’’ ہاں ہاں ہر جگہ میں ہی غلط ہوں ، سارا دن محنت مزدوری کرتا ہے اتنی گرمی میں کیسے رکھے روزے…خود تو تم کالج سے آکر سوئی رہتی ہو اور خبر نہیں ہوتی۔‘‘ امی نے اسے ڈانٹا تھا، وسیم فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا اور سارہ اب نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
    ’’ امی دکان پر بیٹھنے سے کون سی لو لگ جاتی ہے اسے۔‘‘
    ’’ اچھا اب بس کر‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
    ’’ یا اللہ تو ہی انہیں کچھ بتا ناں۔‘‘ اس نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’تمہیں شرم ہے کچھ سارہ۔‘‘ امی نے غصیلے انداز میں آواز بلند کی۔
    ’’ کس بات کی شرم امی؟‘‘





    ’’ یوں اللہ سے بات کرنا شروع ہو جاتے ہیںکیا؟‘‘ امی نے غصے سے کہا۔
    ’’کیوں، کیا ہوا امی؟میں نے اللہ ہی سے کہا ہے وہ میرے پاس ہے ہر وقت ،میں جب چاہوں اس سے کہہ سکتی ہوں ۔‘‘ اس نے شائستگی سے مُسکرا کر کہا۔
    ’’ ایسے ہی نہیں شروع ہو جاتے۔اچھا نہیں ہوتا دوبارہ نہ کہنا۔تمہیں میں نے کئی بار سنا ہے یوں۔ یہ سب ٹھیک نہیں ۔‘‘
    ’’ اچھا! تو پھر کیسے بات کروں اللہ سے امی۔‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
    ’’ کچھ آداب ہوتے ہیں کچھ سلیقے ہیں دعا مانگنے کے۔‘‘ امی نے کہا۔
    ’’ امی! دعا مانگنے کے سلیقے ہوں گے، مگر بات کرنے کے نہیں۔اس سے بات کرنے کے لیے مصلے مسجد یا کسی درگاہ کا ہونا ضروری نہیں ، وہ تو ہر جگہ موجودہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔امی اس کی بات سن کر استغفار کرنے لگی تھیں۔
    ’’اللہ معاف کرے اس قدر بد تمیزی‘‘ وسیم نے امی کی بات پر اقرار کرتے ہوئے کہا۔
    ’’ تو تمیز وہ ہے جو تم دکھاتے ہو ، اپنی پیاس کی خاطر اس کا حکم جھٹلا دیتے ہو،نافرمانی کرتے ہو۔ امی کو مجھ میں ہی غلطیاں ملتی ہیںوہ جو اپنے لیے جہنم خرید رہا ہے وہ آپ کونظر نہیں آتا۔مجھے بٹھا دیں دکان پر میں تو کوئی روزہ نہ چھوڑوں۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں بول کرکمرے میں چلی گئی۔
    ’’ دیکھا امی کس قدر تیز بولنے لگی ہے۔‘‘
    ’’ اچھا چھوڑو تم کھانا کھاؤ ویسے روزہ رکھ کر دیکھ لو ہو سکتا ہے دن اچھا ہی گزر جائے۔‘‘ امی نے پیار سے کہا۔
    ’’ امی آپ بھی اس کی باتوں میں آگئی ہیں۔‘‘ وہ چڑ کر نوالہ منہ سے پھینکتے ہوئے بولا۔
    ’’روزے فرض ہیں بیٹے۔‘‘
    ’’ جانتا ہوں امی…مگر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اٹھ کر چلا گیا۔
    ٭…٭…٭
    رمضان شروع ہو چکا تھا،اس نے عشا کی نماز کے ساتھ تراویح پڑھ کر سکون حاصل کیا اور پھر قرآن کھول کر تلاوت میں مشغول ہوگئی۔رات کس قدر پُرسکون اور پُررونق تھی یہ دیکھنے والے ہی کو نظر آرہا تھا۔رحمت برس رہی تھی، مگر ہر کسی کو توفیق کہاں کہ وہ اس کی رحمتوں کو سمیٹ لے۔وہ رات بھر اللہ پاک کی عبادت کرتی رہی ۔ امی تراویح پڑھنے کے بعد سو چکی تھیں جب کہ وسیم رات بھر فلم دیکھنے میں وقت برباد کرتا رہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ سحری بنا کر میز پر لگا چکی تھی ۔امی کوبلانے کے لیے وہ کمرے کی طرف بڑھی تو اس کی نظر وسیم پر پڑی جو اپنے کمرے میں اوندھا لیٹا خراٹے لے رہا تھا۔
    ’’ کہتے ہیں رمضان میں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں، مگرجب انسان خود شیطان بن جائے تو اسے جکڑا نہیں جاتا اس سے یونہی توفیق چھین لی جاتی ہے۔‘‘ وہ کھڑی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی
    امی کمرے سے باہر نکل آئیں تھیں۔ وہ متوجہ ہوئی۔
    ’’ امی آئیں سحری کرلیں ناں…‘‘ اس نے کہا۔
    ’’ آ رہی ہوں تم چلو۔‘‘
    ’’ امی وسیم کو جگا دوں۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔
    ’’ تم ایک ہی بات پر کیوں ڈٹ جاتی ہو، صبح صبح مجھ سے کچھ سن نہ لینا۔چلو…‘‘ امی نے سخت لہجے میں کہا اور کھانے کی میز کی جانب بڑھیں وہ بھی پیچھے پیچھے آگئی۔
    ’’ سال میں ایک مہینا روزے آتے ہیںاور وہ بھی نہیں رکھتا ،اللہ ہی اسے تو فیق دے۔‘‘ امی کے سامنے کھانا تناول کرتے ہوئے وہ بول رہی تھی
    ’’ ایک مہینا تو ہے، مگر شدید گرمی بھی تو دیکھو ناں۔‘‘
    ’’ امی ! جو اللہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ناں انہیں گرمی نہیں لگتی اور جو اللہ کی چاہت ٹھکرا کراپنی چاہت کے پیچھے بھاگتے ہیں ناں …وہ تڑپتے ہی رہتے ہیں ۔‘‘ اس نے بڑے تفکر سے کہا۔
    ’’ اچھا بس کرو سحری کرنے دو۔ کیا وہ بھی نہیں کرنے دو گی۔‘‘امی کی بات پر وہ چپ چاپ اُداس بیٹھ گئی۔
    ’’ سحری کرو۔کیا نہیںکرنی۔‘‘ امی نے اس کو یوں بیٹھے دیکھ کر کہا۔
    ’’ کرنے کو جی تو نہیں چاہ رہا، مگر کروں گی ضرور کیوں کہ میرے نبیﷺ کی سنت ہے۔‘‘ اس نے نوالہ توڑا۔
    ’’ صبح کالج جانا ہے کیا؟‘‘ امی نے پوچھا۔
    ’’ جی۔‘‘
    ’’ آج پہلا روزہ ہے جانے کتنی گرمی پڑے۔‘‘
    ’’ اللہ صبر دے گا امی…گرمی کو چھوڑیں یہ سوچیں رحمت کا عشرہ ہے ،پہلے عشرے کی دعا ہے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما، تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ ‘‘ اللہ پاک ہماری دعا قبول کرے۔
    ٭…٭…٭
    وہ کالج جانے کے لیے تیار تھی۔ امی وسیم کے میز پر ناشتا لگا چکی تھیں ۔ وہ لڑ کھڑاتا ہواکمرے سے نکلا، تو اسی وقت سارہ بھی کندھے پر بیگ لٹکائے نکل آئی۔
    ’’ جا رہی ہو کالج؟‘‘ وسیم نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔
    ’’ ہاں۔‘‘ اس نے روکھے لہجے میں جواب دیا۔
    ’’ موڈ کیوں بنا ہوا ہے تمہارا؟ کیا صبح ہی صبح روزہ لگنا شروع ہو گیا۔‘‘ وسیم نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
    ’’ روزہ لگتا نہیں ہوتا وسیم۔۔‘‘
    ’’ تو کیا چبھتا ہے؟‘‘ اُس نے پھر تمسخر اُڑایا۔
    ’’ روزے سے کچھ نہیں ہوتا یہ صرف تمہارے دماغ کا فتور ہے ۔‘‘
    ’’ اچھا اچھا جاؤ ۔ دما غ نہ کھاؤ۔‘‘ وسیم نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
    ’’جا رہی ہوں۔‘‘ وہ پاؤں پٹختی چلی گئی۔
    ٭…٭…٭




  • تعلیم کے گہنے ہم نے پہنے — عائشہ تنویر

    تعلیم کے گہنے ہم نے پہنے — عائشہ تنویر

    تعلیم کی اہمیت پر ابا جی کے بہت لیکچر سنے، اماں کی صلواتیں بھی سنیں مگر اپنی ازلی ڈھٹائی کی بہ دولت ہم نے مانا اور نہ ہی پڑھا ۔اماں اٹھتے بیٹھتے یہی بولتیں۔
    ارے علم تو زیور ہوتا ہے، انسان کی شخصیت نکھار دیتا ہے۔
    ابتدا میں تو ہم نے بہت نظراندازکیا مگر پھر ان کی مسلسل تکرار سے تنگ آکر ایک دن انہیں تسلی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ اکلوتی اولاد ہونے کی بہ دولت ان کے جہیز، بری کے تمام زیور کے واحد وارث ہم بہ ذاتِ خود ہیں۔ شکر ہے اللہ کا کہ ہم اتنے لالچی نہیں کہ مزید زیور کی حرص میں پڑیں۔ سادگی بہترین دولت ہے۔ ابھی ہمارا بیان جاری تھا کہ اماں کا دو ہتڑ ہماری کمر سلگا گیا۔ تڑپ کر ہم دو گز پیچھے ہٹے لیکن اپنی بات سے پیچھے ہر گز نہ ہٹے اور اپنے چاند چہرے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے یہ مصرع پڑھا۔
    ؎ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی
    اللہ جانے کہ یہ مصرع ہم نے کہاں سے سن لیا تھا لیکن اس نے تیر بہ ہدف کام دیا اور اماں اب کی بار ہمیں مارنے کے بجائے سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ اس دن کے بعد اماں نے ہار مان لی اور ہمیں دوبارہ کبھی پڑھنے کو نہیں کہا۔
    علم سے محرومی کا احساس ہمیں پہلی بار تب معلوم ہوا جب ہماری کزنیں دھڑادھڑ کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنے لگیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، نت نئے ڈیزائن کے کپڑے، فلمیں اور ڈرامے سب کچھ چار انچ کے ڈبے میں موجود تھا۔ خیر ایسے ویسے تو ہم بھی نہیں تھے، فوراً ایک زنگر کے بدلے فیس بک کا اکاؤنٹ بنوایا اور دانش وروں کی دنیا میں قدم رکھا۔ موبائل ویسے تو خیر ہم استعمال کر ہی لیتے تھے لیکن کبھی کہیں اٹک جاتے تو کسی سے مدد لینا بھی عذاب، آخر ہزار ذاتی چیزیں ہوتی ہیں اس میں ۔
    آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کردار کے کچے ہیں اور نیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں لیکن ہماری سہیلیوں سے کی گئی باتیں ہی ہماری پڑھی لکھی کزنیں پڑھ لیتیں جس میں انہیں کلموہی اور پھپھے کٹنی جیسے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا، تو وہ آیندہ کیا خاک کام آتیں۔
    تعلیم سے محرومی کا دوسرا جھٹکا ہمیں تب لگا جب ہماری چاند بلکہ سپر چاند سی صورت چھوڑ کر ڈاکٹر کا رشتہ اپنی اس کزن کی طرف چلا گیا کیوں کہ لڑکے والوں کو پڑھی لکھی لڑکی چاہیے تھی۔ ڈاکٹر کو تو ہم یوں بھی گھاس نہ ڈالتے، ایک تو ان میں سے دوائیوں کی بد بو آتی رہتی اور پھر گھر میں ہی کلینک کھول کر چوبیس گھنٹے سر پر رہتے۔ تیسرا بڑا نقصان یہ کہ بیوی بیماری کا بہانہ کر کے آرام بھی نہیں کر سکتی۔
    یہ سب دلاسے اپنی جگہ لیکن اپنا نظر انداز ہوجانا بھی برداشت نہیں ہورہا تھا۔ اس پر کزن کے دل جلاتے جملے، اس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آج کل تو اسکول والے بھی پڑھے لکھے والدین کے بچے لیتے ہیں۔ سو اچھا رشتہ تو دور کی بات تمہیں اپنے بچوں کے لیے اچھا اسکول بھی نہیں ملنا۔ رشتے کی فکر ہمیں یوں نہیں تھی کہ بھاری جہیز خود مقناطیس کی طرح لڑکے والوں کو کھینچتا ہے لیکن اپنی غیر موجود اولاد کے مستقبل کی فکر نے ہماری نیندیں اُڑا دیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں ڈر تھا کہ ہماری اولاد بھی ہمارے جیسی ہی ہو گی۔ رج کے حسین، ذہین بھی اور ذرا پڑھائی سے بچنے والی بھی۔ اب سرکاری اسکول تو ایسے بچوں کو برداشت کرنے سے رہے۔ مہنگی مہنگی فیسیں ڈکارنے والے پرائیویٹ اسکول ہی ہم جیسوں کو برداشت کر سکتے ہیں۔ تو ہم نے سوچا کہ شکل سے تو ہم ویسے بھی بہت پڑھے لکھے ہی لگتے ہیں۔ "Inglish” میں بھی میرا کی طرح مہارت تھی۔ بس اسلم انکل کے مشورے کے مطابق ایک ڈگری ہونی چاہیے کہ ڈگری، ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔ مسئلے کا حل ملنا تھا کہ جان میں جان آئی۔ محلے کے ایک لڑکے کو پیسے دیے کہ ہمیں بی-اے کی ڈگری لا دے۔ بی-اے اور پھر بیاہ سے یوں بھی لڑکیاں کم عمر اور معصوم ہی لگتی ہیں ساری عمر لیکن وہ کم عقل ایم-اے کی ڈگری بھی اٹھا لایا اور بولا کہ باجی ڈیل میں سستی مل رہی تھی۔ اب جب وہ لے ہی آیا تو ہم نے بھی احسان کر کے رکھ لی۔
    اگلا رشتہ آیا تو ہم نے تعلیم ایم اے بتائی۔ لڑکے کی بھابھی خوش ہو کر سیدھی ہوئی۔
    ’’ارے واہ! کہاں سے کیا ہے؟‘‘
    ’’جی گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج سے۔‘‘ ہم نے فوراً جواب دیا تو اس نے آنکھیں پھاڑ کر ہمیں دیکھا۔ اماں اتنی زور سے کھانسیں کہ سب انہیں ہی دیکھنے لگے۔
    ’’مذاق کی بہت عادت ہے اسے۔‘‘ انہوں نے لب زبردستی شرقاً غرباً پھیلا کر دانت پیسے اور سب ہنس پڑے۔ اب اگلا سوال ہوا۔
    ’’کس مضمون میں کیا ہے ماسٹرز؟‘‘ ہم گڑبڑا گئے کہ ابھی تک ڈگری کھول کر بھی نہ دیکھی تھی۔ نہ ہی وہ کم بخت بتا کر گیا تھا کہ ہم نے کیا پڑھا ہے۔ حواس بحال رکھتے ہوئے ہم نے اپنی طرف سے بہت آسان جواب دیا۔
    ’’جی اردو میں۔‘‘ ہم نے اس مضمون کا انتخاب اس لیے کیا تا کہ مزید آگے کے سوالات کے جواب بآسانی دیے جائیں۔
    ’’تھیسز لکھا تھا ؟ کس موضوع پر؟‘‘ مزید دل چسپی سے اگلا سوال آیا اور ہمارا صبر کا پیمانہ ختم ہوگیا۔ ’’ہم نے پڑھانے نہیں آنا آپ کو۔‘‘ بل کھا کر ہم کھڑے ہوئے اور اس سے پہلے کے پاؤں پٹخ کر باہر جاتے لڑکے کی ماں نے خوشی سے بے حال ہوتے ہمیں گلے لگایا اور رشتہ پکا کردیا کیوں کہ بڑی بہو کی تعلیم ان کے گلے کا پھندہ بن چکی تھی۔ جب وہ حلیم کی فرمائش کرتیں تو وہ حلیم پکانے کے بجائے انہیں پکانے بیٹھ جاتیں۔
    ’’اماں اصل لفظ حلیم نہیں دلیم ہے۔‘‘
    ہنڈیا کبھی اچھے سے نہ بھونتی کہ غذائیت ضائع ہو جائے گی۔ اب کی بار انہیں ہماری جیسی چاند چہرہ، معصوم خانہ دار بہو ہی چاہیے تھی جس نے یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کرتے اپنی چاند جیسی رنگت نہ گنوائی ہو اور جو ڈرامے کے ٹائم پر نیوز چینل لگا کر نہ بیٹھ جاتی ہو۔
    اور اب اگلے ماہ ہماری شادی ہے۔ اب ہم انتہائی فخر سے اپنی ایم اے کی ڈگری کے ساتھ خود کو میٹرک فیل بتاتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ اماں بھی غصہ نہیں کرتیں۔

    ٭…٭…٭




  • امّی — شاکر مکرم

    ’’آپ سے کوئی ملنے آیا ہے‘‘ آنے والے نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
    ’’کہاں؟ ویٹنگ روم میں ہے ؟‘‘ اس نے سر اُٹھا کر پوچھا۔
    ’’ہاں!‘‘
    ’’اچھا میں آتی ہوں۔‘‘ تو آج اسے میری یاد آ ہی گئی۔ مصلیٰ لپیٹتے ہوئے وہ کھڑی ہوئی، چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ ابھری اور آنکھوں میں امید و محبت کے دیے جلنے لگے۔
    وہ سوچ رہی تھی، کہ کتنے عرصے بعد وہ آیا تھا لیکن پھر دل نے کہا اب ایسی باتوں کا کیا فائدہ؟ دیر سے آیا ہے لیکن آیا تو سہی، اب کیا گلے شکوے کرنے اور کیا دل برا کرنا، لیکن چوکھٹ پار کرتے ہی اس کی ساری مسکراہٹ غائب ہوگئی آس، امید جواب تک اسے جوڑے ہوئے تھی، ٹوٹ گئی۔
    ’’السلام علیکم‘‘ اس کے کانوں میں آواز آئی لیکن یہ آواز وہ نہیں تھی، جس کی وہ منتظر تھی، اور نہ ہی یہ چہرہ وہ شناسا چہرہ تھا جسے دیکھنے وہ ویٹنگ روم کی طرف چلی تھی۔ آنکھوں میں جلتے محبتوں کے دیے بجھ گئے۔
    ’’اپ کیسی ہیں‘‘
    ’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا، پھر پوچھا:
    ’’آپ کون؟‘‘ وہ اب سنبھل گئی تھی۔
    ’’میرا نام ارقم عباس ہے، ماؤں کے عالمی دن کے لئے آپ کا انٹرویو کرنا تھا انتظامیہ نے آپ کو بتایا ہو گا۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا۔
    ’’جی ہاں! نعیم صاحب نے بتایا تھاانہوں نے کچھ بے پروائی سے کہا۔
    ’’جی میں اسی سلسلے میں آیا تھا دراصل اس دفعہ ہمارا ماہنامہ ماؤں کے عالمی دن پہ ماں کے عنوان سے خاص نمبر۔‘‘
    ’’نام بہت پیارا ہے تمہارا۔‘‘
    انہوں نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ لی۔
    ’’جی!‘‘ پہلے تو وہ حیران ہوا پھر بے ساختہ بولا:
    ’’میں خود بھی پیارا ہوں۔‘‘
    ’’اور باتیں بھی اچھی کر لیتے ہو‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولیں۔
    ’’شکریہ‘‘ اس نے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا۔
    ’’کیا پوچھنا ہے؟‘‘ وہ بولی۔
    ’’آپ یہاں کب سے؟‘‘





    ’’دوسال، آٹھ ماہ اور بائیس دنوں سے‘‘ انہوں نے بے تاثر لہجے میں کہا
    ’’آنے کادن کون سا تھا ؟‘‘ اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ’’منگل۔‘‘
    ’’ٹائم؟‘‘
    ’’نوبج کر انتالیس منٹ‘‘
    ’’چھوڑنے کون کون آیا تھا؟‘‘
    ’’بیٹا، بہو اور پوتا‘‘
    ’’دن کیسے گزرتا ہے یہاں؟‘‘
    ’’کچھ یادوں میں، کچھ مصلے پہ ،کچھ واک میں۔‘‘
    وہ اتنے مختصر جوابات سے گھبرا گیا تھا۔ اگر یہ مائی اتنے ہی مختصر جواب دیتی رہی تو انٹرویو تو دو منٹ میں ہی ختم ہو جائے گا، وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا۔
    ’’گھر والوں کی یاد آتی ہے؟‘‘
    اس سوال پر پہلے تو اس نے لڑکے کو گھور کے دیکھا پھرہنستے ہوئے کہنے لگی:
    ’’ہاں! چوں کہ بہت سا وقت ساتھ گزرا ہے اس لئے کبھی کبھی یاد آجاتی ہے۔‘‘
    ’’کیا چیز آپ زیادہ مس کرتی ہیں ؟‘‘
    ’’آلو پراٹھے‘‘ اس نے یک دم کہا۔
    ’’کیا؟‘‘ وہ حیرت سے بول پڑا۔
    ’’ہاں! بہو رانی بہت اچھے پراٹھے بناتی تھی، کبھی کبھار کھانے کو بہت دل چاہتا ہے لیکن اب یہاں ہر چیز تو نہیں مل سکتی نا۔‘‘ اس کے لہجے سے افسردگی صاف ظاہر تھی۔
    ’’عجیب عورت ہے پتا نہیں نعیم صاحب نے کس کے پاس بھیج دیا ہے لگتا ہے کسی اور کا انٹرویو بھی کرنا پڑے گا‘‘ اس نے سوچا۔
    ’’آنے سے پہلے بیٹے نے کیسے بتایا کہ وہ اپ کو یہاں شفٹ کرے گا؟‘‘ اس نے چاروناچار اس سے پوچھا۔
    ’’یہاں چھوڑنے کا تو میں نے کہا تھا اسے، ورنہ وہ کہاں لانے والا تھا۔‘‘ انہوں نے صاف جھوٹ بولا۔
    اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری‘‘ ’’روایتی ماں‘‘، زیرِ لب بولا پھر ان کے قریب ہو کے سرگوشی کی:
    ’’یہ مائیں جھوٹ کیوں بولتی ہیں؟‘‘
    انہوں نے بھی اسی انداز میں ابرو اٹھائے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی:
    ’’تم انٹرویو کرنے آئے ہو یا مجھے رلانے ؟ سوری بیٹا میں ایموشنلی بلیک میل نہیں ہوا کرتی۔‘‘ انہوں نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا۔
    ایک خفیف سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ بکھری۔ اب اسے سامنے بیٹھی ہوئی عورت کی شخصیت میں دل چسپی پیدا ہونے لگی۔
    سوال پر سوال ہوتے رہے۔ کسی old people’s home میں ملنے والی یہ پہلی ایسی خاتون تھیں جس کا ہر جواب ارقم عباس کے تجسس میں اضافہ کرتا جا رہا تھا۔
    ’’آپ کا بیٹا اکلوتا تھا تو کوئی ایسا واقعہ یا لمحہ جو آپ کو یاد رہ گیا ہو، بھلائے نہ بھولتا ہو؟‘‘
    ’’کوئی ایسا لمحہ نہیں‘‘ لہجہ پھر سے بے تاثر ہوچکا تھا۔
    ’’جی۔‘‘ حیرت اس کے لہجے سے جھلک رہی تھی۔
    او ہو! بات تو پوری سن لیا کرو۔ ’’انہوں نے اسے ٹوکا تو اس نے شرم سے سر جھکاتے ہوئے کہا: ’’جی بولئے۔‘‘
    ’’کوئی ایسا لمحہ نہیں جو میں بھولی ہوں، سب کچھ یاد ہے مجھے حرف حرف، لفظ لفظ اور یہاں آنے کے بعد تو میرے پاس بہت وقت تھا ماضی کریدنے کے لئے تو میں نے پچھلے سال انہی یادوں کی نذر کئے ہیں، ایک ایک بات یاد کرکے میں نے اسے سینے سے لگایا ہے کیوں کہ جب اپنے پاس نہ ہو تو کم از کم ان کی یادیں تو پاس ہونی چاہئیں۔‘‘ ان کے لہجے میں اب درد اتر آیا تھا۔




  • اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

    اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

    ’میں ناہید سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
    ارسلان کی بات سن کر سارے گھر والوں کو سانپ سونگھ گیا۔
    ’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے سمجھانے سے اس کا فیصلہ تبدیل ہوجائے گا؟؟‘‘ ارسلان کی ماں نے بیٹے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے نہیں معلوم پر ایک دفعہ کوشش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے نا؟‘‘ ارسلان نے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے بیٹا! تم اس سے بات کرکے دیکھ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ میرے لئے اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی اگر وہ تمہاری بات مان لے۔‘‘ ناہید کی ماں نے اپنے بھانجے کو دیکھ کر کہا۔ وہ خود دِل سے چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا گھر دوبارہ سے بس جائے۔ وہ خود ناہید کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں لیکن ناہید تھی کہ دوبارہ شادی کے لیے مان ہی نہیں رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    آج اس کے بیٹے کا آفس میں پہلا دن تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اسے لگا اس کا فیصلہ صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ آج وہ دنیا اور اپنے مرحوم شوہر کے آگے سرخرو ہوگئی ہے۔ کاشف نے کراچی کی ایک مشہور یونیورسٹی سے M.B.A کیا تھا اور اِک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھا۔ ہر ماں کی طرح انہیں بھی چاند سی بہو لانے کی خواہش تھی، وہ اپنے بھانجی کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں۔ پر کاشف نے مائرہ کو پسند کیا تھا جو اُس کی کلاس میٹ تھی۔ ان کا دل دکھی ہوا مگر مائرہ اور اس کے گھر والوں سے ملنے کے بعد وہ مطمئن سی ہوگئیں۔ اسی لئے وہ جلدی شادی کرنا چاہ رہی تھیں اور بالاآخر وہ دن آگیا جب اپنے بیٹے کاشف کے سر پر سہرا دیکھ کر ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ سب لوگ اسے ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ناہید اپنے بچوں کو کتنے اچھے طریقے سے پال کر بڑا کیا کہ آج ایک کی شادی ہورہی تھی جب کہ دوسرا بیٹا حارث M.B.B.S مکمل کرکے امریکا میں سپیشلائیزیشن کررہا تھا۔
    ٭…٭…٭




    ’’ناہید تم اس رشتے سے انکاری کیوں ہو؟؟‘‘ ارسلان آج ناہید سے بات کرکے خود اُس کو راضی کرنا چاہتا تھا۔
    ’’آپ آخر مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ارسلان؟ میں بیوہ ہوں، دو بچوں کا ساتھ ہے آپ چاہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل سکتی ہے آپ کو، پھر میرا انتخاب کیوں؟ ‘‘ ناہید نے اپنے خالہ زاد ارسلان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ’’جب ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مجھ سے شادی پر راضی ہوسکتی ہے تو تم کیوں نہیں؟‘‘
    ارسلان نے ناہید کو دیکھتے ہوئے رسانیت سے کہا۔
    ’’اس لئے کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچوں کے ذہن پہ میرے نئے رشتے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی جنم لے۔‘‘ ناہید نے اپنے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ وہ ماں تھی، اُسے اپنی ذات، اپنی خوشیوں سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر تھی۔ وہ انہیں کسی قسم کی وسوسوں میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اس کے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات آئے کہ اب ان کی ماں پہ کسی اور کا حق ہوجائے گا۔ دونوں بچے اب بڑے ہورہے تھے۔ کاشف آٹھ سال کا اور حارث چھے سال کا ہونے کو تھا۔ دونوں اب اس بات کو تسلیم کرچکے تھے کہ ان کا باپ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور اب ان کی ماں ہی ان کے لیے سب کچھ ہے، وہی ان کی ماں ہے اور وہی ان کا باپ۔
    ایسے میں ناہید اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ تصور نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اب ان کی ماں بھی ان کی اپنی نہیں رہی۔ ناہید خود کو اب صرف ایک عورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ماں کی طرح سوچ رہی تھی۔
    ’’کیا تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے ناہید؟؟ تمہیں نہیں لگتا کہ زندگی ہمیں ایک اور موقع دے رہی ہے۔ برسوں پہلے ہمارا ساتھ جو نہ ہوسکا شاید قدرت کو وہ اب منظور ہو۔‘‘ ارسلان نے ناہید کو سارے وہ جھٹکنے کا کہا۔
    ’’آپ پہ اعتبار ہے، لیکن اعتبار ٹوٹتے دیر نہیں لگتی ارسلان، خاص طور پر تب جب ایک مرد کی ایک دوسرے مرد کی اولاد پالنے کو ملے، میں نہیں چاہتی کل کو جب آپ کی اپنی اولاد ہو اور اس سے آپ کی محبت دیکھ کر میرے بچے کسی احساس کم تری یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں، میں ہی ان کا واحد سہارا ہوں اور کل کو وہ جب بڑے ہوں گے تو میرا سہارا بنیں گے۔‘‘ ناہید نے دو ٹوک انداز میں ارسلان کو ناامید کردیا۔
    ’’بچے سہارے بن سکتے ہیں ناہید لیکن ساتھی نہیں، آج سے دس سال پہلے جب اماں نے بتایا تھا کہ انہوں نے خالہ سے تمہیں میرے لیے مانگ لیا ہے، اس دن سے سمجھو تم میرے لیے خاص ہوگئی تھیں، کب احساسات بدلے پتا ہی نہیں چلا، کب تم خالہ زاد سے زیادہ ہوگئیں احساس ہی نہ ہوا، لیکن پھر ابا کے اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کو دکان چھوڑ کے گھر بیٹھنا پڑا، ایسے میں صبح یونیورسٹی شام میں دکان پہ بیٹھنا بہت مشکل تھا وہ وقت ہمارے لئے، زندگی میں جیسے جمود سا طاری ہوگیا تھا رزلٹ کے بعد بھی نوکری نہ ملنے پہ نہ صرف پریشانی نے ہمارے گھر پہ قبضہ کرلیا تھا بلکہ خالہ خالو بھی مجھ سے تمہارا رشتہ جوڑنے پہ پچھتا رہے تھے، ایسے حالات میں طارق کا دبئی جاکے قسمت آزمانے کا مشورہ مجھے سب سے بہترین لگا اور دکان کرائے پہ چڑھا کے میں دبئی چلا گیا، سوچا تھا دو تین سالوں میں واپس آجاؤں گا لیکن کاش! زندگی ویسی آسان ہوتی جیسی ہم سوچتے ہیں لیکن کہاں کسی کو سب ملتا ہے؟ کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔
    تین بہنوں کی شادی کرانی تھی، گھر کے اخراجات، ابا کی دوائیاں، اوپر سے اماں کا حکم تھا کہ جب تک اتنا جمع نہ ہوجائے کہ بہنوں کی شادی ہوسکے تب تک واپس نہ آنا اور سب کے لیے سب کرتے کرتے کب خالہ خالو نے میرا انتظار کرنا چھوڑا اور کب تمہیں اختر کے ساتھ رخصت کیا پتا ہی نہ چلا، نہ ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ میں تم سے کوئی رابطہ کرپاتا، لیکن اس سارے معاملے میں خالہ خالو کا کوئی قصور نہ تھا، آخر ان کو بھی تمہارے بعد دو بیٹیاں اور رخصت کرنی تھیں، یہ ہماری قسمتوں کا فیصلہ تھا جس کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔ میں جو شروع کے ہر سال واپس پاکستان آنے کا سوچتا تھا تمہاری شادی کا سن کے پھر واپس آنے کا دل ہی نہیں کیا اور وہیں کا ہوکر رہ گیا، اس تمام عرصے میں اماں نے بہنوں کی شادیاں کرا دیں، گھر کی مرمت ہوگئی، ابا کا بائے پاس ہوگیا سب کچھ ہوگیا لیکن اک چیز کھو گئی تھی اور وہ تھی مری زندگی… میں دبئی میں زندگی جی نہیں رہا تھا گزار رہا تھا، وہ ارسلان جو دبئی گیا تھا اک نوجوان تھا اور اب جو تمہارے سامنے ارسلان کھڑا ہے وہ کب ان چھے سالوں میں نوجوان سے تیس برس کا مرد بن گیا پتا ہی نہیں چلا۔ ارسلان ماضی میں گم سا ہوگیا تھا۔ ان چھے سالوں کی مشقت اور تھکن اس کے چہرے پہ آگئی تھی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۵ (تبارک الذی) آخری قسط

    ’’میرے بچپن میں، میری زندگی میں جتنا بڑا رول آپ لوگوں کی فیملی کا تھا، پچھلے پانچ سالوں میں اتنا ہی بڑا رول اس شخص کا ہے۔‘‘
    عبداللہ نے عنایہ کو بتایا تھا۔ چند ہفتوں بعد ہونے والی اپنی منگنی سے پہلے یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔ عنایہ ایک سیمینار میں شرکت کے لئے کیلی فورنیا آئی تھی اور عبداللہ نے اسے ڈنر پر بلایا تھا۔ وہ اسے ڈاکٹر احسن سعد سے ملوانا چاہتا تھا جو اسی کے اسپتال میں کام کرتے تھے اور وہ ہمیشہ سے ان سے متاثر تھا۔ عنایہ نے کئی بار اس سے پچھلے سالوں میں اس شخص کے حوالے سے سنا تھا جس سے وہ اب تھوڑی دیر میں ملنے والی تھی۔
    ’’مسلمان ہونا آسان تھا میرے لئے… جبریل کے بعد یہ دوسرا شخص ہے جسے میں رول ماڈل سمجھتا ہوں کہ وہ دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔‘‘
    عبداللہ بڑے جوش انداز میں عنایہ کو بتارہا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے سن رہی تھی۔ عبداللہ جذباتی نہیں تھا، بے حد سوچ سمجھ کر بولنے والوں میں سے تھا اور کسی کی بے جا تعریف کرنے والوں میں سے بھی نہیں تھا۔
    ’’کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگئے ہو تم ان سے۔‘‘ عنایہ کہے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔
    ’’تم جیلس تو نہیں ہورہی؟‘‘ اس نے عنایہ کو چھیڑا
    ’’ہوئی تو نہیں لیکن ہوجاؤں گی۔‘‘ اس نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے یقین ہے تم ان سے ملوگی تو تم بھی میری ہی طرح متاثر ہوجاؤگی ان سے…‘‘ عبداللہ نے کہا۔ ’’میں اپنے نکاح میں ایک گواہ انہیں بناؤں گا۔‘‘
    عنایہ اس بار قہقہہ مار کر ہنسی تھی۔ ’’عبداللہ، تم اس قدر انسپائرڈ ہو ان سے؟ مجھے تھوڑا بہت اندازہ تو تھا لیکن اس حد تک نہیں… مجھے اب اور اشتیاق ہورہا ہے ان سے ملنے کا۔‘‘ عنایہ نے اس سے کہا۔ ’’یقینا اچھے شوہر بھی ہوں گے اگر تم نکاح میں بھی انہیں گواہ بنانا چاہتی ہوتو۔‘‘ عبداللہ کو مزید تجسس ہوا تھا۔
    ’’بس اس ایک معاملے میں خوش قسمت نہیں رہے وہ۔‘‘ عبداللہ یک دم سنجیدہ ہوگیا۔ ’’اچھی بیوی ایک نعمت ہوتی ہے اور بری ایک آزمائش… اور انہیں دوبار اس آزمائش سے گزرنا پڑا۔ ان کی نرمی اور اچھائی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ان کی بیویوں نے۔‘‘ عبداللہ کہہ رہاتھا۔
    Ohhh! that’s sad. عنایہ نے کریدے بغیر افسوس کااظہار کیا۔
    ’’تمہیں پتا ہے تم سے شادی کے لئے بھی میں نے ان سے بہت دعا کروائی تھی اور دیکھ لو، ان کی دعا میں کتنا اثر ہے ورنہ تمہارے پیرنٹس آسانی سے ماننے والے تو نہیں تھے۔‘‘ عبداللہ اب بڑے فخر یہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ’’میرے پیرنٹس کسی کی دعاؤں کے بجائے تمہارے کردار اور اخلاص سے متاثر ہوئے ہیں عبداللہ۔‘‘ عنایہ نے اسے جتایا۔
    اسے اپنی بے یقینی کا وہ عالم ابھی بھی یاد تھا جب چند مہینے پہلے عبداللہ سے پاکستان میں ملنے کے بعد امامہ نے اسے فون کیا تھا اور اسے بتایا تھاکہ انہوں نے اس کا رشتہ امریکہ میں مقیم ایک ہارٹ سرجن کے ساتھ طے کردیا ہے، وہ کچھ دیر کے لئے بھونچکارہ گئی تھی۔ اس سے پہلے جو بھی پروپوزلز اس کے لئے زیر غور آتے تھے، عنایہ سے مشورہ کیا جاتا تھا اور پھر اسے ملوایا جاتا تھا۔ یہ پہلا پروپوزل تھا جس کے بارے میں اسے اس وقت اطلاع دی جارہی تھی جب رشتہ طے کردیا گیا تھا۔ عجیب صدمے کی حالت میں اس نے امامہ سے کہا تھا۔
    ’’مگر ممی! آپ کو مجھے پہلے ملوانا چاہیے تھا اس سے… اس کے بارے میں مجھ سے کچھ پوچھا تک نہیں آپ نے۔‘‘
    ’’تمہارے بابا نے بات طے کی ہے۔‘‘ امامہ نے جواباً کہا۔عنایہ خاموش ہوگئی۔ عجیب دھچکا لگا تھا اسے۔
    ’’تم نہیں کرنا چاہتیں؟‘‘ امامہ نے اس سے پوچھا۔
    ’’نہیں، میں نے ایسا تو نہیں کہا، پہلے بھی آپ لوگوں ہی کو کرنا تھا تو ٹھیک ہے۔‘‘
    عنایہ نے کچھ بجھے دل کے ساتھ کہا تھا۔ اسے عبداللہ یاد آیا تھا اور بالکل اسی لمحے امامہ نے اس سے کہا۔
    ’’عبداللہ نام ہے اس کا۔‘‘ نام سن کر بھی لحظہ بھر کے لئے بھی اسے خیال نہیں آیا تھا کہ وہ ایرک عبداللہ کی بات کررہی تھی۔ امامہ اس قدر کٹر مخالف تھی ایرک عبداللہ سے شادی کی کہ عنایہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جس عبداللہ کا اتنے دوستانہ انداز میں ذکر کررہی تھی، وہ وہی تھا۔
    ’’اوکے ۔‘‘ عنایہ نے بمشکل کہا۔




    ’’تم سے ملنا بھی چاہتا ہے۔ وہ نیویارک آیا ہوا ہے، میں نے اسے تمہارا ایڈریس دیا تھا۔‘‘ امامہ کہہ رہی تھی۔
    عنایہ نے بے ساختہ کہا۔ ’’ممی پلیز، اب اس طرح میرے سرپرمت تھوپیں اسے کہ آج مجھے رشتہ طے ہونے کی خبر دے رہی ہیں اور آج ہی مجھے اس سے ملنے کا بھی کہہ رہی ہیں۔ ویسے بھی اب رشتہ طے ہوگیا ہے، ملنے نہ ملنے سے کیا فائدہ ہوگا۔‘‘ ا س نے جیسے اپنے اندر کا غصہ نکالا تھا۔
    ’’اس کی فیملی بھی شاید ساتھ ہو… اس کی ممی سے بات ہوئی ہے میری… اگلے ٹرپ پر میں بھی ملوں گی اس کی فیملی سے… منگنی کافارمل فنکشن تو چند مہینوں بعد ہوگا۔‘‘ امامہ نے اس طرح بات جاری رکھی تھی جیسے اس نے عنایہ کی خفگی کومحسوس ہی نہیں کیا تھا۔
    عنایہ صدمہ کی کیفیت میں اگلے ایک گھنٹے تک وہیں بیٹھی رہی تھی اور ایک گھنٹے کے بعد اس کے دروازے پر بیل بجنے پر اس نے جس شخص کو دیکھا تھا، اسے لگا تھا سردیوں کے موسم میں ہر طرف بہار آگئی ہے۔ گلاب کا ایک اور اد ھ پھول ٹہنی سمیت اسے پکڑاتے ہوئے دروازے پر ہی اس نے عنایہ سے پھاوڑا مانگا تھا تاکہ اس کے دروازے کے باہر پڑی برف ہٹاسکے۔ وہ کئی سالوں بعد مل رہے تھے اور عنایہ کو وہی ایرک یاد تھا جو اکثر ان کے گھر میں لگے پھول توڑ توڑ کر اس کو اور امامہ کو لاکردیا تھا اور جس کا پسندیدہ مشغلہ سردیوں میں اپنے اور ان کے گھر کے باہر سے برف ہٹانا تھا۔
    ’’وہ یہاں ہے۔‘‘ عبداللہ کی آواز سے خیالوں سے باہر لے آئی تھی۔ وہ ریسٹورنٹ کے دروازے پر نمودار ہونے والے کسی شخص کو دیکھتے ہوئے کھڑا ہوا تھا۔ عنایہ نے گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ احسن سعد سے اس کی پہلی ملاقات تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا اس سے ہونے والا یہ سامنا اس کی زندگی میں کتنا بڑ ابھونچال لانے والا تھا۔
    ٭…٭…٭
    سکندر عثمان ان سب کی زندگی سے بے حد خاموشی سے چلے گئے تھے۔ وہ حمین کی وہاں آمد کے دوسرے دن نیند سے نہیں جاگے تھے۔ اس وقت اس گھرمیں صرف امامہ اور حمین ہی تھے، طیبہ امریکہ میں تھیں۔
    اس رات حمین، سکندر عثمان کے پاس بہت دیر تک بیٹھا رہا تھا، ہمیشہ کی طرح۔ وہ جب بھی یہاں آتا تھا ، امامہ اور ان کے لئے ہی آتا تھا۔ سکندر عثمان سے وہ سالار کے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ انسیت رکھتا تھا اور ایسا ہی انس سکندر عثمان بھی اسے رکھتے تھے۔ الزائمر کی اس انتہائی اسٹیج پر بھی حمین کے سامنے آنے پر ان کی آنکھیں چمکتی تھیں یا کم از کم دوسروں کو لگتی تھیں۔ کچھ بھی بول نہ سکنے کے باوجود اسے دیکھتے رہتے تھے اور وہ دادا کا ہاتھ پکڑے ان کے پا س بیٹھا رہتا تھا۔ ان سے خود ہی بات چیت کی کوشش کرتا رہتا۔ خود سوال کرتا، خود جواب دیتا، جیسے بچپن میں کرتا تھااور ویسی ہی باتیں جو بچپن میں ہوئی تھیں اور تب سکندر عثمان ان کے جواب دیا کرتے تھے۔
    ’’دادا! بتائیں شترمرغ کی کتنی ٹانگیںہوتی ہیں؟‘‘ وہ ان کے ساتھ واک کرتے کرتے یک دم ان سے پوچھتا۔ سکندر عثمان الجھتے، شتر مرغ کی تصویر ذہن میں لانے کی کوشش کرتے ، پھر ہار مانتے۔
    ’’مرغ کی دو ہوں گی تو شتر مرغ کی بھی دو ہوں گی دادا… یہ تو سوچے بغیر بتادینے والا جواب تھا۔‘‘ سکندر عثمان اس کی بات پر سرہلانے لگتے۔
    سکندر عثمان کی یادداشت کے دیئے، حمین سکندر نے اپنے سامنے ایک ایک کرکے بجھتے دیکھے تھے اور ایک بچے کے طور پر الزائمر کو نہ سمجھنے کے باوجود اس نے اپنے دادا کے ساتھ مل کر ان دیوں کی روشنی کوبچانے کی بے پناہ کوشش کی تھی۔
    وہ کسی بھی چیز کا نام بھول جانے پر انہیں تسلی دے دیا کرتا تھاکہ یہ نارمل بات تھی… اور بھولنا تو اچھا ہوتا ہے، اسی لئے وہ بھی بہت ساری چیزیں بھولتا ہے۔ وہ بچے کی لاجک تھی اور بڑے کے سامنے لنگڑی تھی مگر سکندر عثمان کو اس عمر میں اس بیماری سے لڑتے ہوئے ویسی ہی لاجک چاہیے تھی جو انہیں یہ یقین دلا دیتی کہ وہ ٹھیک تھے، سب کچھ ’’نارمل‘‘ تھا۔
    حمین ان کی بیماری کے بڑھتے جانے پر آہستہ آہستہ کرکے ان کے کمرے کی ہر چیز پر اس چیز کا نام کاغذ کی چٹوں پر لکھ کر چسپاں کردیا کرتا تھا تاکہ دادا کچھ نہ بھولیں، وہ جس چیز کو دیکھیں، اس کا نام یاد کرنے کے لئے انہیں تردد نہ کرنا پڑے۔ وہ چٹیں سینکڑوں کی تعداد میں تھیں اور اس کمرے میں آنے والے شخص کو ایک بار، سکندر عثمان کے ساتھ اس بیماری سے لڑنے والے اس دوسرے شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتیں اور حمین نے اس بیماری کے سامنے پہلی بار اس دن مانی تھی جس دن سکندر عثمان اس کا نام بھول گئے تھے ۔ وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھتا رہا تھا۔ وہ آخر اس کا نام کیسے بھول گئے تھے؟ اس وجود کا جو چوبیس میں سے بارہ گھنٹے ان کے اردگرد منڈلاتا رہتا تھا۔ اس کے سامنے کھڑے سکندر عثمان اس کا نام یاد کرتے، اٹکتے، الجھتے، ہکلاتے، گڑگڑاتے رہے اور حمین ان کی جدوجہد اور بے بسی دیکھتا رہا۔
    پھر وہ بڑی خاموشی سے سینٹر ٹیبل کے پاس گھنٹے ٹیک کر بیٹھا۔ وہاں پڑی ایک اسٹک آن چٹ اس نے اٹھائی، اس پر اپنا نام لکھا اور پھر اپنے ماتھے پر اسے چسپاں کرتے ہوئے وہ سکندر عثمان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ اس وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھااور شاید زندگی میں پہلی بار، لیکن وہ نہیں رویا تھا، اس نے جیسے سکندر عثمان کے سامنے اس بات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بات الزائمر سے جنگ کرتے اس شخص کے لئے مذاق نہیں تھی۔ وہ اس کے نام کے اسپیلنگ کرتے ہوئے ہنس پڑے تھے اور پھر ہنستے ہنستے وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی مٹھیاں بھنچتے، رونے لگے تھے اور ان سے قد اور عمر میں چھوٹے حمین نے اپنی عمر سے بڑے اس بوڑھے شخص کو تھپکتے ہوئے تسلی دی تھی جو اپنی ’’نااہلی‘‘ اور ’’مجبوری‘‘ پر نادم تھا اور جو اپنے چہیتے ترین رشتے کا نام یاد رکھنے سے بھی قاصر تھا۔ ان کی بیماری نے حمین سکندر کو وقت سے پہلے میچور کردیا تھا۔ جبریل نے سالار سکندر کی بیماری کو جھیلا تھا، حمین نے سکندر عثمان کی۔ وہ اسے اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے اسے اپنی چیزیں دینا شروع ہوگئے تھے۔
    ’’دادا! آپ کو یہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ حمین جیسے سمجھ جاتا تھا کہ وہ بار ٹرڈیل… کس شے کے لئے تھی۔
    ’’میرے پاس دنیا میں جتنا وقت ہے، آپ کے لئے ہے۔‘‘
    وہ جیسے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتا۔ وہ پھر بھی اسے کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کرتے، حمین ان کے بہت سارے رازوں سے واقف تھا۔ ان بہت ساری جگہوں سے بھی جہاں وہ اپنی قیمتی چیزیں چھپاتے تھے۔ اس پر ان کے اعتبار کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر چیز چھپاتے ہوئے صرف حمین سکندر کو بتاتے تھے صرف اس لئے کیوں کہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ وہ کہیں اس جگہ کو بھی بھول نہ جائیں جہاں وہ سب کچھ چھپارہے تھے اور ایسا ہی ہوتا تھا، ان کے بھولنے پر حمین انہیںوہ چیز نکال کردیتا تھا۔ وہ کمرہ جیسے ان دونوں دادا اور پوتے کے لئے چھین چھپائی والی جگہ بن گیا تھا۔
    ’’ایک دن تم بہت بڑے آدمی بنوگے۔‘‘سکندر عثمان اس سے اکثر کہا کرتے تھے۔ ’’اپنے بابا سے بھی بڑے آدمی۔‘‘
    وہ ان کی بات غور وفکر کے بغیر سنتا لیکن بیچ میں انہیں ٹوک کر پوچھتا۔
    ’’خالی بڑا آدمی بنوں گا یا rich ؟ بابا تو rich نہیں ہیں۔‘‘ اسے جیسے فکر لاحق ہوئی سکندر عثمان ہنس پڑے۔
    ’’بہت امیر ہوجاؤگے… بہت زیادہ۔‘‘
    ’’ پھر ٹھیک ہے۔‘‘ اسے جیسے اطمینان ہوتا۔ ’’لیکن آپ کو کیسے پتا؟‘‘ اسے یک دم خیال آیا۔
    ’’کیوں کہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘ سکندرعثمان بڑھاپے کی اس لاٹھی کو دیکھتے جو ان کے سب سے عزیز بیٹے کا ان کے لئے تحفہ تھا۔
    ’’اوکے۔‘‘ حمین کے ذہن میں مزید سوالات آئے تھے لیکن وہ دادا سے اب بحث نہیں کرتا تھا۔
    ’’میں تم پر دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں۔‘‘ وہ اکثر اس سے کہا کرتے تھے اور وہ بڑی سنجیدگی سے ان سے کہتا۔
    ’’اور آپ واحد انسان ہیںجو یہ کام کرتے ہیں۔‘‘ اور عثمان جواباً کسی بچے کی طرح ہنسنے لگتے تھے۔
    ’’جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا تو یہ رنگ تم امامہ کو دے دینا۔ ‘‘ اعتماد کے ایسے ہی یک لمحے میں انہوں نے حمین کو وہ انگوٹھی دکھائی تھی، جسے وہ کئی سال اپنی ماں کی انگلی میں دیکھتا رہا تھا۔
    ’’یہ تو ممی کی رنگ ہے۔‘‘ حمین جیسے چلایا تھا۔
    ’’ہاں تمہاری ممی کی ہے… سالار نے شادی پر گفٹ کی تھی اسے… پھر وہ اسے بیچ کر سالار کے سارے پراجیکٹ میں کچھ انویسٹمنٹ کرنا چاہتی تھی، تو میں نے اسے لے کر اسے وہ رقم دے دی۔ میں اسے واپس کردوں گا تو وہ نہیں لے گی اور میں نہیں چاہتا، وہ اور سالار اسے بیچ کر میرا قرض واپس دینے کی کوشش کریں۔‘‘
    سکندر عثمان بتاتے گئے تھے۔ انہوں نے اسے ایک تھیلی میں ڈال کر اپنی وارڈ روب کے ایک چور خانے میں حمین کے سامنے رکھا تھا۔ وہ چور خانہ حمین نے بھی پہلی بار ہی دیکھا تھا۔
    ’’آپ اسے لاکر میں کیوں نہیں رکھوا دیتے؟‘‘ اس نے سکندر عثمان کو مشورہ دیا تھا۔ وہ مسکرادیئے تھے۔
    ’’میرے مرنے کے بعد لاکر سے جو کچھ بھی نکلے گا، وہ ساری اولاد کی مشترکہ ملکیت ہوگا۔ کوئی یہ امامہ کونہیں دے گا۔‘‘ سکندر نے کہا۔
    ’’لیکن آپ Will میں لکھ سکتے ہیں۔‘‘ سکندر اس کی بات پر ہنس پڑے تھے۔
    ’’میری اولاد بہت اچھی ہے لیکن میں زندگی میں ان سے بہت ساری باتیں نہیں منواسکتا تومرنے کے بعد کیسے منوا سکوں گا، جب تمہاری اولادہوگی تو تمہیں سمجھ آجائے گی میری باتوں کی۔‘‘ انہوں نے جیسے بڑے پیار کے ساتھ اس سے کہا تھا۔
    سکندرعثمان کی موت کے ایک ہفتے کے بعد اس گھر میں ان کی اولاد ترکے کی تقسیم کے لئے اکٹھی ہوئی تھی اور حمین سکندر کی سمجھ میں وہ بات آگئی تھی… سکندر عثمان اپنی زندگی میں ہی سب کچھ تقسیم کرچکے تھے۔ انہوں نے اپنے پاس صرف چند چیزیں رکھی تھیں جن میں وہ گھر بھی تھا، لیکن ان چند چیزوں کی ملکیت پر بھی سب میں کچھ اختلاف ہوگئے تھے اور یہ اختلاف بڑھ جاتے اگر سالار سکندر اور اس کا خاندان سکندر عثمان کے رہ جانے والے اثاثوں پر اپنے حصے کے حوالے سے کلیم کرتا۔ وہ ان کے خاندان کا مشترکہ فیصلہ تھا۔
    سکندر عثمان کے بچنے والے اثاثوں میں سے سالار سکندر اور اس کے خاندان نے کچھ نہیں لیاتھا۔ البتہ سکندر عثمان کا وہ گھر حمین سکندرنے خرید نے کی آفر کی تھی کیونکہ طیبہ پہلے بھی زیادہ تر اپنے بیٹوں کے پاس بیرون ملک رہتی تھیں اور اب مستقل طور پر ان کے پاس رہنا چاہتی تھیں اور ان کے وہاں سے شفٹ ہوجانے کے فیصلے کے بعد اس گھر کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فیصلے کے دوران کسی نے امامہ کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ سالار سکندر اور اس کے اپنے بچوں کے علاوہ جنہیں یہ احساس ہورہا تھا کہ سکندر عثمان کے چلے جانے کے بعد اس گھر کے رہنے سے ایک شخص ایک بار پھر دربدر ہونے والا تھا۔ حمین نے اس گھر کو صرف امامہ کے لئے خریدا تھا اور ان یادوں کے لئے جو ان سب کی اس گھر سے وابستہ تھیں اور اس نے جس قیمت پر اسے خریدا تھا، وہ مارکیٹ سے دوگنی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’ممی! مجھے آپ کو ایک امانت دینی ہے۔ ‘‘ حمین رات کو سالار اور امامہ کے کمرے میں آیا تھا۔ وہ صبح واپس جارہا تھا۔ باری باری … سب ہی واپس جارہے تھے۔ سالار اور وہ دونوں کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئے تھے، جب وہ دستک دے کر ان کے کمرے میں آیا تھا۔
    ’’امانت؟‘‘ وہ کچھ حیران ہوئی تھی۔ حمین نے ایک تھیلی اس کے ہاتھ پر رکھی اور اس کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کچھ حیران ہوتے ہوئے پہلے حمین پھر سالار کو دیکھا جو فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
    ’’آپ خود دیکھ لیں۔‘‘ حمین نے اسے کہا، امامہ نے تھیلی میں ہاتھ ڈال کر اندر موجود چیز نکالی اور ساکت رہ گئی۔
    فون پر بات کرتا سالار بھی اسی طرح ٹھٹکا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ دونوں اس انگوٹھی کو سیکنڈز میں نہ پہچان جاتے جو ان کی زندگی کی بہترین اور قیمتی ترین یادوں میں سے ایک تھی۔
    ’’یہ تمہیں کہاں سے ملی؟‘‘ امامہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا تھا۔ سالار نے فون منقطع کردیا تھا۔
    ’’دادا نے بچپن میں میرے سامنے وارڈروب میں ایک دراز میں رکھتے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ اگر وہ اسے بھول جائیں تو ان کے مرنے کے بعد میں اسے وہاں سے نکال کر آپ کو دے دوں؟‘‘ حمین کہہ رہا تھا۔
    ’’وہ آپ کو یہ واپس دے دینا چاہتے تھے لیکن انہیں خدشہ تھا کہ آپ اسے نہیں لیں گی اور ایسا نہ ہو آپ اور بابا ان کا قرض ادا کرنے کے لئے اسے بیچ دیں۔‘‘
    آنسو سیلاب کی طرح امامہ کی آنکھوں سے نکل اس کے چہرے کو بھگوتے چلے گئے۔ سکندر عثمان ہمیشہ اس کا بہت شکریہ ادا کرتے رہتے تھے لیکن اس تشکر کو انہوں نے جس طرح اپنے جانے کے بعد اسے پہنچایا تھا، اس نے امامہ کو بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ایک شفیق سسر تھے۔
    ’’تم نے پہلے کبھی بھی اس رنگ کے بارے میں ذکر نہیں کیا۔‘‘ سالار نے اپنے سامنے بیٹھے اپنے اس بیٹے کو دیکھا جو آج بھی ویسا ہی عجیب اور گہرا تھا جیسا بچپن میں تھا۔
    ’’میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی کسی کو اس انگوٹھی کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ یہ ایک امانت تھی، میں خیانت نہیں کرسکتا تھا۔‘‘ اس نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ باپ سے کہا اور پھر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ ہموار قدموں سے چلتا ہواوہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ وہ دونوں تب تک اسے دیکھتے رہے جب تک وہ غائب نہیں ہوگیا۔
    ’’میں یہ انگوٹھی حمین کی بیوی کو دوں گی۔ اس پر اگر کسی کا حق ہے تو وہ حمین کا ہے۔‘‘ اس کے جانے کے بعد امامہ نے مدھم آواز میں سالار سے کہا تھا۔ وہ انگوٹھی ابھی بھی اس کی ہتھیلی پر تھی جسے وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ دیکھ رہی تھی، کئی سالوں کے بعد، کئی سال پہلے کی ساری یادیں ایک بار پھر زندہ ہوگئی تھیں۔
    سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اس نے امامہ کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی لی اور بڑی نرمی سے اس کی انگلی میں پہنادی۔ اس کی مخروطی انگلی میں آج بھی بے حد آسانی سے پوری آگئی تھی۔
    ’’تمہارا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا میں امامہ۔‘‘ اس نے امامہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ’’تم نے پاپا کی جتنی خدمت کی ہے، وہ میں نہیں کرسکتا تھا نہ ہی میں نے کی ہے۔‘‘
    ’’سالار!‘‘ امامہ نے اسے ٹوکا تھا۔ ’’تم مجھے شرمندہ کررہے ہو۔‘‘
    ’’مجھے اگر زندگی میں دوبارہ شریک حیات کا انتخاب کرنے کا موقع ملے تو میں آنکھیں بند کرکے تمہیں چنوں گا۔‘‘
    وہ نم آنکھوں کے ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
    اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس نے ہاتھ کی پشت پر سجی اس انگوٹھی کو دوبارہ دیکھا۔ سولہ سال کی جدائی تھی جو اس نے اس گھر میں سالار سے الگ رہ کر جھیلی تھی۔ وہ تب چند سال یہاں گزارنے آئی تھی اور تب وہ جیسے تلوار کی ایک دھار پر ننگے پاؤں چل رہی تھی۔ وہ سکندر عثمان کا خیال رکھتے ہوئے دن رات سالار کے لئے خوف زدہ رہتی تھی اور اس نے سالار کو یہ نہیں بتایا تھا مگر اس نے یہ دعا کی تھی تب کہ اگر سکندر عثمان کی خدمت کے عوض اسے اللہ نے کوئی صلہ دینا تھا تو وہ سالار سکندر کی زندگی اور صحت یابی کی شکل میں دے دے اور آج سولہ سال بعد اسے لگتا تھا شاید ایسا ہی ہوا تھا۔ اس کی زندگی کا وہ سولہ سال بالآخر ایک بار پھر سے سالار اور اپنے بچوں کے ساتھ مستقل طور پر امریکہ جاکر رہ سکتی تھی۔ بے شک وہ اپنے رب کی کسی بھی نعمت کا شکریہ ادا کرسکتی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • جناح کا وارث — ریحانہ اعجاز

    سارا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا ۔ مسٹر اور مسز احسن کے چہرے بھی خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔ آج علینہ کی دسویں سالگرہ تھی۔ علینہ ان کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔
    اللہ نے انہیں یکے بعد دیگرے تین بیٹے دے کر واپس لے لیے تھے۔ مسٹر اور مسز احسن قدرت کی اس ستم ظریفی پر شکوہ کناں تھے ،لیکن اللہ نے علینہ کی صورت انہیں خوشی عطا کی۔ جب علینہ نے دنیا میں سانس لیا، تو دونوں میاں بیوی بہت خوف زدہ تھے۔ انہوں نے علینہ کو حقیقتاً ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔ اُسے چھینک بھی آ جاتی تو وہ پریشان ہو جاتے۔ اسی طرح علینہ نے مکمل صحت کے ساتھ زندگی کی دس بہاریں دیکھ لیں۔
    علینہ لاڈ پیار میں پلی۔ اکلوتی بیٹی ہونے کے باوجودنہایت شُستہ اور سلجھے مزاج کی لڑکی تھی۔ ماں باپ کا لاڈ پیار اور پیسے کی بہتات نے بھی اسے بگڑنے نہیں دیا تھا ۔ آج دسویں سالگرہ پر مسٹر احسن نے علینہ کو ایک پیارا سا ٹیبلٹ گفٹ کیا جسے پا کر وہ بے حد خوش تھی ۔وہ ٹیبلٹ پر گیمز کھیلتی اور کارٹونز دیکھتی۔ احسن صاحب بھی فارغ اوقات میں علینہ کو ٹیبلٹ ، کمپیوٹراور جدید ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال اور فوائد سے آگاہ کرتے رہتے۔ علینہ اپنی پڑھائی سے بھی غفلت نہیں برتتی تھی۔ اسی طرح خوشیوں کے ہنڈولوں میں جھولتے ہوئے علینہ نے اسکول کے بعد کالج کو بھی خیر باد کہتے ہوئے یونیورسٹی کی دنیا میں قدم رکھا جس کے ماحول کو دیکھ کر علینہ حیران تھی کہ یہاں لڑکے لڑکیاں پڑھنے آتے ہیں یا محض ٹائم پاس کرنے؟ نت نئے فیشن اور شغل میلے سے ہٹ کر پڑھائی سے کسی کو کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ بس ڈگری یافتہ ہونا ہی ان کے لیے کافی تھا ۔ سارا دن ٹولیوں کی صورت گپیں مارتے یا موبائلز پر مصروف رہتے۔ علینہ نے اپنے پہلے گفٹ کے طور پر ملنے والے ٹیبلٹ سے لے کر اب تک بہت سے مختلف اور مہنگے موبائلز استعمال کیے تھے، لیکن کبھی ان کا غلط استعمال نہیں کیا تھا۔
    ایک دن یونیورسٹی سے واپسی پر اس کی گاڑی کے سامنے اچانک ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا آگیا۔ بروقت بریک لگانے سے بڑا حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ علینہ فوراً گاڑی سے اتری اور لڑکے کے پاس آگئی جو اپنے کپڑے جھاڑ رہا تھا ، پاس ہی اس کا موبائل گرا ہوا تھا۔ علینہ نے موبائل اٹھا کر لڑکے کو دینا چاہا تو ہاتھ لگتے ہی اس کی اسکرین روشن ہو گئی اور اس میں موجود تصویر پر نظر پڑتے ہی علینہ شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ لڑکے کی طرف دیکھا، تو وہ بھی شرمسار سا کھڑا تھا۔علینہ نے موبائل اس کے ہاتھ میں دیا تو وہ شرمندگی سے بولا:
    ’’سوری!‘‘ علینہ نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو وہ عجلت سے بولا :
    سوری سِسٹر! میرے دوست نے یہ تصویر واٹس ایپ کی تھی، اسی کو ڈیلیٹ کر رہا تھا جب اچانک آپ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ وہ چہرے مہرے سے اچھے گھر کا شریف لڑکا نظر آ رہا تھا۔ چند لمحے توقف کر بعد علینہ نے پوچھا :
    ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
    ’’میرا نام عظام ہے۔‘‘
    ’’کیا کرتے ہو؟‘‘
    ’میں نے میٹرک کے پیپرز دیے ہیں، آج کل فری ہوں۔‘‘عظام اب قدرے پرسکون اندازمیں بات کررہا تھا۔




    ’’آؤ بیٹھو! کہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘ علینہ نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’نہیں نہیں! میں دوست کی طرف جا رہا تھا۔ آپ کا شکریہ، میں چلا جاؤں گا ۔ ‘‘
    ’’کوئی بات نہیں آجاؤ۔‘‘ عظام جھجکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ’’چلیںٹھیک ہے آپ مجھے میرے گھر پر اتار دیں۔‘‘
    علینہ نے اس سے ایڈریس پوچھا جو اس کے گھر کے بالکل پاس تھا۔
    ’’تم کتنے بہن بھائی ہو؟‘‘
    میرے والد امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں ، اکثر ملک سے باہر ہوتے ہیں ، بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے اوربڑا بھائی پڑھنے کے لیے امریکا گیا ہوا ہے۔ مما کا سوشل سرکل کافی بڑا ہے تو وہ بھی مصروف رہتی ہیں۔ میں میٹرک کے پیپر دے کر فری ہوں اور اب رزلٹ کا انتظار ہے۔ بائیک خراب ہو گئی تھی اس لیے پیدل دوست کی طرف جا رہا تھا کہ آپ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو آپی کہہ سکتا ہوں؟‘‘عظام نے اپنا تفصیلی تعارف کروانے کے بعد پوچھا۔
    ’’بالکل! کہہ سکتے ہو۔ اگر میرا کوئی چھوٹا بھائی ہوتا، تو یقینا تمہارے جیسا ہی ہوتا۔‘‘ علینہ نے خوش دلی سے کہا۔ اتنے میں اس کا گھر بھی آگیا۔
    ’’آؤ! پہلے میں تمہیں اپنی مما سے ملواؤں، پھر گھر جانا۔ آج سے میری تمہاری دوستی پکی۔‘‘ علینہ نے عظام کو اپنی مما سے ملوایا۔ وہ بھی عظام سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ عظام جانے لگا تو علینہ نے کہا:
    ’’دو دن بعد میری یونیورسٹی سے چھٹی ہے۔ تم اپنے دوست کو لے کر میرے پاس آنا جس نے تمہیں واٹس ایپ کیا تھا۔‘‘ عظام شرمندگی سے سر جھکا تے ہوئے بولا :
    ’’جانے دیں آپی! آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔‘‘
    ’’عظام میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے ۔مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ تم اچھے لڑکے ہو ، مجھے آپی کہا ہے تو اپنے دوست کو ضرور لے کر آنا۔‘‘ علینہ نے نرمی سے کہا۔
    عظام وعدہ کرکے وہاں سے رخصت ہو گیا۔ علینہ ہر بات اپنی ماں سے شیئر کرنے کی عادی تھی۔ جب اس نے یہ بات مما سے شیئر کی تو مسز احسن ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے گویا ہوئیں ۔
    ’’بیٹا آج کل کی نوجوان نسل یہ ہی کچھ کر رہی ہے۔ تباہی اور بربادی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔‘‘
    ’’مما! اگر ہم کسی ایک کو بھی راہِ راست پر لے آئیں تو یہ بھی نیکی ہو گی نا؟‘‘
    ’’بالکل بیٹا! نیکی ہو گی، لیکن تم کن چکروں میں پڑ رہی ہو؟ اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔‘‘
    ’’مما آپ بالکل بے فکر رہیں۔ میری پہلی ترجیح پڑھائی ہی ہے، لیکن میں کچھ سوچ رہی ہوں، اگر آپ میرا ساتھ دیں تو آپ کو بتاؤں۔ مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔‘‘
    مسز احسن نے سوالیہ نگاہوں سے علینہ کو دیکھا۔
    ’’ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہونا چاہیے اور میں نے آج سے بلکہ ابھی سے سوچ لیا ہے کہ عظام جیسے اگر دو چار نوجوانوں کو بھی راہِ راست پر لے آئی تو مجھے لگے گا میرا دنیا میں آنے کا مقصد پورا ہو گیا۔‘‘ مسز احسن نے تعجب سے علینہ کو دیکھا اور کہا:
    ’’میں کچھ سمجھی نہیں؟‘‘
    ’’دیکھیں مما! میں جب سے یونیورسٹی گئی ہوں تب سے شدید الجھن کا شکار ہوں کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں یونیورسٹی کو صرف سیرو تفریح کی جگہ سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں اور سارا دن ہنسی مذاق یا موبائلز پر مصروف رہتے ہیں۔ سنجیدگی سے پڑھنے اور آگے بڑھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ آپ اجازت دیں تو میں ایک کمرے کوایک انسٹی ٹیوٹ کی شکل دے کر عظام جیسے تازہ تازہ اسکول سے فارغ ہونے والے لڑکوں کو مثبت راہ پر چلنے کا درس دوں؟ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد جیسے پاپا نے مجھے سمجھائے ہیں، میں ان کو سمجھاؤں۔ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کروں جس سے ہمارا ملک ترقی کرے۔ جب نوجوان نسل وقت کا صحیح استعمال سمجھ لے گی، تو یقینا ملک کی ترقی میں بھی نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔‘‘
    یہ سُن کر مسز احسن ہنس پڑیں۔
    ’’بیٹا! یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔ ان کے ماں باپ انہیں نہیں روک سکتے تو آپ نے کیا کر لینا ہے؟‘‘
    ’’مما پلیز! یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں پاپا سے بھی مدد لوں گی اور مجھے یقین ہے پاپا مجھے کبھی منع نہیں کریں گے۔‘‘ علینہ نے منت بھرے انداز میں کہا:
    مسز احسن نے پیار سے بیٹی کے جوش اور خوشی سے تمتماتے چہرے کو دیکھا اور بے ساختہ اس کا ماتھا چوم کر بولیں۔
    ’’جیسے میری بیٹی کی خوشی ، اللہ تمہیں کام یاب کرے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    یہ ہفتے کا دن تھا۔ عظام اپنے دوست صارم کے ساتھ علینہ کے گھر آیا۔ علینہ بہت خوش تھی۔ وہ دونوں کو اپنے ساتھ اس کمرے میں لے گئی جسے اس کے پاپا نے دو دن کے اندر اندر اس کی خواہش کے مطابق کمپیوٹر سسٹم ، میز اور کرسیوں سے ایک نئی شکل دی تھی۔ عظام نے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا:
    ’’آپی! آپ بچوں کو پڑھاتی ہیں؟‘‘علینہ ہنستی ہوئی بولی:
    ’’پڑھاتی نہیں ہوں ، لیکن اب پڑھاؤں گی، اپنے پیارے سے بھائی عظام اور اس کے دوستوں کو۔‘‘
    ’’آپی میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘ عظام حیرانی سے بولا۔
    ’’تم لوگ بیٹھو! سب سمجھ میں آ جائے گا۔ اس کے بعد اس نے صارم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ وہ کم و بیش عظام جیسا ہی تھا اور میٹرک کے رزلٹ کا انتظار کررہا تھا۔یہ فارغ وقت وہ صرف بائیک پر ریس لگاتے یا موبائل استعمال کرتے گزار رہا تھا۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۴ (تبارک الذی)

    جبرل نیند سے فون کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔ اسے پہلا خیال ہاسپٹل کا آیا تھا لیکن اس کے پاس آنے والی وہ کال ہاسپٹل سے نہیں آئی تھی۔ اس پر نسا کا نام چمک رہا تھا۔ وہ غیر متوقع تھی۔ ایک ہفتے پہلے اسفند کی تدفین کے دوران اس کی ملاقات نسا سے ایک لمبے عرصے کے بعد ہوئی تھی اور اس کے بعد اس طرح رات کے اس وقت آنے والی کال…
    کال ریسیو کرتے ہوئے دوسری طرف سے اس نے جبریل سے معذرت کی تھی کہ وہ رات کے اس وقت اسے ڈسٹرب کررہی تھی اور پھر بے حد اضطراب کے عالم میں اس نے جبریل سے کہا تھا۔
    ’’تم عائشہ کے لئے کچھ کرسکتے ہو؟‘‘
    جبریل کچھ حیران ہوا۔ ’’عائشہ کے لئے، کیا؟‘‘
    ’’وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔‘‘
    ’’What?‘‘ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ ’’کیوں؟‘‘
    ’’قتل کے کیس میں۔‘‘ وہ دوسری طرف سے کہہ رہی تھی۔
    جبریل سکتہ میں رہ گیا۔ ’’کس کا قتل؟‘‘ وہ اب رونے لگی تھی۔
    ’’اسفد کا۔‘‘ جبریل کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭




    لاک اپ میں بیٹھ کر اس رات عائشہ عابدین نے اپنی گزری زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کی زندگی میں اتنا بہت کچھ ہوچکا تھا کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہورہی تھی، یوں جیسے وہ اٹھائیس سال کی زندگی نہیں تھی آٹھ سو سال کی زندگی تھی۔ کوئی بھی واقعہ اس ترتیب سے یاد نہیں آرہا تھا جس ترتیب سے وہ اس کی زندگی میں ہوا تھا اور وہ یاد کرنا چاہتی تھی۔
    لاک اپ کے بستر پر چت لیٹے، چھت کو گھورتے، اس نے یہ سوچنے کی کوشش کی تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے بدترین واقعہ کون سا تھا۔ سب سے تکلیف دہ تجربہ اور دور…
    باپ کے بغیر زندگی گزارنا؟
    احسن سعد سے شادی؟
    اس کے ساتھ اس کے گھر میں گزارا ہوا وقت؟
    ایک معذور بیٹے کی پیدائش؟
    احسن سعد سے طلاق؟
    اسفد کی موت؟ یا پھر اپنے ہی بیٹے کے قتل کے الزام میں دن دیہاڑے اسپتال سے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونا؟ اور ان سب واقعات کے بیچوں بیچ کئی اور ایسے تکلیف دہ واقعات جو اس کے ذہن کی دیوار پر اپنی جھلک دکھاتے ہوئے جیسے اس فہرست میں شامل ہونے کے لئے بے قرار تھے۔
    وہ طے نہیں کرسکی۔ ہر تجربہ، ہر حادثہ اپنی جگہ تکلیف دہ تھا… اپنی طرز کا ہولناک… وہ ان کے بارے میں سوچتے ہوئے جیسے زندگی کے وہ دن جینے لگی تھی اور اگلے واقعہ کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہوئے اسے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کہ پچھلا واقعہ زیادہ تکلیف دہ تھا یا پھر وہ، جو اسے اب یاد آیا تھا۔
    کبھی کبھی عائشہ عابدین کو لگتا تھا وہ ڈھیٹ ہے… تکلیف اور ذلت سہہ سہہ کر وہ اب شرمندہ ہونا اور درد سے متاثر ہونا چھوڑ چکی تھی۔ زندگی وہ اتنی ذلت اور تکلیف سہ چکی تھی کہ شرم اور شرمندگی کے لفظ جیسے اس کی زندگی سے خارج ہوگئے تھے… وہ اتنی ڈھیٹ ہوچکی تھی کہ مرنا بھی بھول گئی تھی۔ اسے کسی تکلیف سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دل تھا تو وہ اتنے ٹکڑے ہوچکا تھا کہ اب اور ٹوٹنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ ذہن تھا تو اس پر جالے ہی جالے تھے… عزتِ نفس، ذلت، عزت جیسے لفظوں کو چھپا دینے والے جالے… یہ سوچنا اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا، ا س نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا… اس سوال کا جواب ویسے بھی اسے احسن سعد نے رٹوا دیا تھا۔
    ’’لکھو اس کاغذ پر کہ تم گناہ گار ہو… اللہ سے معافی مانگو… پھر مجھ سے معافی مانگو… پھر میرے گھر والوں سے معافی مانگو…بے حیا عورت!‘‘
    پتا نہیں یہ آواز اس کے کانوں میں گونجنا بند کیوں نہیں ہوتی تھی… دن میں… رات میں… سینکڑوں بار ان جملوں کی باز گشت اسے اس کے اس سوال کا جواب دیتی رہتی تھی کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا۔
    وہ ایک گناہ گار عورت تھی… یہ جملہ اس نے اتنی بار اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھ کر احسن سعد کو دیا تھا کہ اب اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ جملہ حقیقت تھا۔ اس کا گناہ کیا تھا؟ یہ اسے یاد نہیں آتا تھا، مگر اسے پھر بھی یقین تھا کہ جو بھی گناہ اس نے کبھی زندگی میں کیا ہوگا، بہت بڑا ہی کیا ہوگا۔ اتنا بڑا کہ اللہ تعالیٰ اسے یوں بار بار ’’سزا‘‘ دے رہا تھا۔ سزا کا لفظ بھی اس نے احسن سعد اور اس کے گھر میں ہی سنا اور سیکھا تھا… جہاں گناہ اور سزا کے لفظ کسی ورد کی طرح دہرائے جاتے تھے۔ ورنہ عائشہ عابدین نے تو احسن سعد کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے اللہ کو خود پر صرف ’’مہربان‘‘ دیکھا تھا۔
    ’’بے حیا عورت…!‘‘ وہ گالی اس کے لئے تھی۔ کسی مجسمے کی طرح، کھڑی کی کھڑی، یوں جیسے اس نے کوئی سانپ یا اژدھا دیکھ لیا ہو… وہ ناز و نعم میں پلی تھی۔ گالی تو ایک طرف اس نے کبھی اپنے نانا، نانی یا ماں سے اپنے لئے کوئی سخت لفظ بھی نہیں سنا تھا… ایسا لفظ جس میں عائشہ کے لئے توہین یا تضیحک ہوتی اور اب اس نے اپنے شوہر سے اپنے لئے جو لفظ سنا تھا اس میں تو الزام اور تہمت تھی۔
    وہ ’’بے حیا‘‘ تھی… عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو بہلایا تھا، سو تاویلیں دے کر کہ یہ گالی اس کے لئے کیسے ہوسکتی ہے… یا شاید اس نے غلط سنا تھا یا پھر ان الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھ رہی تھی۔ وہ اس کیفیت پر ایک کتاب لکھ سکتی تھی، ان توجیہات، ان وضاحتوں پر جو پہلی گالی سننے کے بعد اگلے کئی دن عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو دی تھیں۔ اپنی عزتِ نفس کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے اینٹی بایوٹکس کے ایک کورس کی طرح لیکن یہ سب صرف پہلی گالی کی دفعہ ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ عائشہ عابدین نے ساری توجیہات اور وضاحتوں کو دفن کردیا تھا… وہ اب گالیاں کھاتی تھی اور بے حد خاموشی سے کھاتی تھی اور بہت بری بری… اور اسے یقین تھا وہ ان گالیوں کی مستحق تھی کیونکہ احسن سعد اس سے یہ کہتا تھا… پھر وہ مار کھانا بھی اسی سہولت سے سیکھ گئی تھی… اپنی عزتِ نفس کو ایک اور دلاسادیتے ہوئے۔
    پانچ افراد کا وہ گھرانہ اسے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا تھا وہ اسی قابل تھی۔
    وہ مومنین کے ایک ایسے گروہ میں پھنس گئی تھی جو زبان کے پتھروں سے اسے بھی مومن بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ ’’گناہ گار‘‘ تھی۔
    احسن سعد کی زندگی میں کیسے آیا تھا اور کیوں آگیا تھا…
    ایک وقت تھا جب اسے لگتا تھا کہ وہ اس کی خوش قسمتی بن کر اس کی زندگی میں آیا ہے اور پھر ایک وہ وقت آیا جب اسے وہ ایک ڈراؤنا خواب لگنے لگا تھا، جس کے ختم ہونے کا انتظار وہ شدو مد سے کرتی تھی اور اب اسے لگتا تھا کہ وہ، وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے کردہ ناکردہ گناہوں پر اس دنیا میں ہی دے دیا ہے۔
    وہ ہاؤس جاب کررہی تھی جب احسن سعد کا پروپوزل اس کے لئے آیا تھا۔ عائشہ کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اس کے لئے درجنوں پروپوزلز پہلے بھی آچکے تھے اور اس کے نانا نانی کے ہاتھوں رد بھی ہوچکے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ پروپوزل بھی کسی غو رکے بغیر رد کردیا جائے گا کیوں کہ اس کے نانا، نانی اس کی تعلیم مکمل ہوئے بغیر اسے کسی قسم کے رشتے میں باندھنے پر تیار نہیں تھے، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا تھا… احسن سعد کے والدین کی میٹھی زبان عائشہ عابدین کی فیملی پر اثر کرگئی تھی اور اس پر بھی۔
    ’’ہمیں صرف ایک نیک اور اچھی بچی چاہیے اپنے بیٹے کے لئے… باقی سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور آپ کی بیٹی کی اتنی تعریفیں سنی ہیں ہم لوگوں نے کہ بس ہم آپ کے ہاں جھولی پھیلا کر آئے بغیر رہ نہ سکے۔‘‘ احسن کے باپ نے اس کے نانا سے کہا تھا اور عائشہ عابدین کو تب پتا چلا تھا کہ اس کی ایک نند اس کے ساتھ میڈیکل کالج میں پڑھتی تھی۔ ان دونوں کا آپس میں بہت رسمی سا تعارف تھا، مگر اسے حیرت ہوئی تھی کہ اس رسمی تعارف پر بھی اس کی اتنی تعریفیں وہ لڑکی اپنی فیملی میں کرسکتی تھی جو کالج میں بالکل خاموش اور لئے دیئے رہتی تھی۔
    عائشہ عابدین کے لئے کسی کی زبان سے اپنی تعریفیں سننا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ وہ کالج کی سب سے نمایاں اسٹوڈنٹس میں سے ایک تھی اور وہ ہر شعبے میں نمایاں تھی۔ اکیڈمک قابلیت میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیون میں اور پھر اپنی پرسنالٹی کی وجہ سے بھی… وہ اپنے بیچ کی نہ صرف حسین بلکہ بے حد اسٹائلش لڑکیوں میں گنی جاتی تھی… بے حد باعمل مسلمان ہوتے ہوئے بھی اور مکمل طور پر حجاب لئے ہوئے بھی… حجاب عائشہ عابدین پر سجتا بھی تھا۔ یہ اس کی کشش کو بڑھانے والی چیز تھی اور اس کے بارے میں لڑکے اور لڑکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی اور اب اس لڑکی کے لئے احسن سعد کا پرپوزل آیا تھا جس کی فیملی کو اس کے نانا نانی نے پہلی ملاقات میں ہی اوکے کردیا تھا۔
    پتا نہیں کون ’’سادہ ‘‘ تھا… ا س کے نانا، نانی جنہیں احسن کے ماں باپ بہت شریف اور سادہ لگے تھے یا پھروہ خود کہ ماں باپ کی دین داری کا پاس کیا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے شادی سے پہلے احسن سعد اور عائشہ کی ایک ملاقات کروانا ضروری سمجھا تھا۔ احسن سعد
    اس وقت امریکا میں ریزیڈنسی کررہا تھا اور چھٹیوں میں پاکستان آیا ہوا تھا۔
    احسن سعد سے پہلی ملاقات میں عائشہ کو ایک لمبے عرصے کے بعد جبریل یاد آیا تھا اور اسے وہ جبریل کی طرح کیوں لگا تھا؟ عائشہ کو اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
    وہ مناسب شکل و صورت کا تھا، تعلیمی قابلیت میں بے حد اچھا اور بات چیت میں بے حد محتاط… اس کا پسندیدہ موضوع صرف ایک تھا۔ مذہب، جس پر وہ گھنٹوں بات کرسکتا تھا اور اس کے اور عائشہ عابدین کے درمیان رابطے کی کڑی یہی تھا۔
    پہلی ہی ملاقات میں وہ دونوں مذہب پر بات کرنے لگے تھے اور عائشہ عابدین اس سے مرعوب ہوئی تھی۔ وہ حافظ قرآن تھا اور وہ اسے بتارہا تھا کہ زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی نہیں رہی، وہ عام لڑکوں کی طرح کسی الٹی سیدھی حرکتوں میں نہیں پڑا۔ وہ مذہب کے بارے میں جامع معلومات رکھتا تھا اور وہ معلومات عائشہ کی معلومات سے بہت زیادہ تھیں، لیکن وہ ایک سادہ زندگی گزارنا چاہتا تھا اور عائشہ بھی یہی چاہتی تھی۔
    ایک عملی مسلمان گھرانے کے خواب دیکھتے ہوئے وہ احسن سعد سے متاثر ہوئی تھی اور اس کا خیال تھا وہ اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں سے بے حد میچور اور مختلف ہے۔ وہ اگر کبھی شادی کرنے کا سوچتی تھی تو ایسے ہی آدمی سے شادی کرنے کا سوچتی تھی۔ احسن سعد پہلی ملاقات میں اسے متاثر کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس کی فیملی اس کے گھر والوں سے پہلے ہی متاثر تھی۔
    شادی بہت جلدی ہوئی تھی اور بے حد سادگی سے… یہ احسن سعد کے والدین کا مطالبہ تھا۔ عائشہ اور اس کے نانا نانی اس پر بے حد خوش تھے۔ عائشہ ایسی ہی شادی چاہتی تھی اور یہ اسے اپنی خوش قسمتی لگی تھی کہ اسے ایسی سوچ رکھنے والا سسرال مل گیا تھا۔ احسن سعد کی فیملی کی طرف سے جہیز کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے سختی سے عائشہ کے نانا، نانی کو ان روایتی تکلفات سے منع کیا تھا، مگر یہ عائشہ کی فیملی کے لئے، اس لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ عائشہ کے لئے اس کے نانا نانی بہت کچھ خرید تے رہتے تھے اور جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی، وہاں جہیز سے زیادہ مالیت کے تحائف دلہن کے خاندان کی طرف سے موصول ہوجاتے تھے اور عائشہ شادی کی تقریب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بہت سادگی سے کی جانے والی تقریب بھی شہرکے ایک بہترین ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی۔ احسن سعد اور اس کے خاندان کو عائشہ اور اس کی فیملی کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کی مالیت بے شک لاکھوں میں تھی، مگر اس کے برعکس احسن سعد کی فیملی کی جانب سے شادی پر دیئے جانے والے عائشہ کے ملبوسات اور زیورات احسن سعد کے خاندانی رکھ رکھاؤ اور مالی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ وہ بس مناسب تھے۔
    عائشہ کی فیملی کا دل برا ہوا تھا، لیکن عائشہ نے انہیں سمجھایا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ’’سادگی‘‘ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اگر انہوں زیورات اور شادی کے ملبوسات پر بھی بہت زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا تو بھی یہ ناخوش ہونے والی بات نہیں تھی۔ کم از کم اس کا دل ان چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے کھٹا نہیں ہوا تھا۔




  • ورثہ — ارم سرفراز

    مریم نے آفس کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ صبح کی تیز بارش، اب ہلکی سی پھوار کی شکل دھار چکی تھی۔ امریکا کے شہر سیاٹل میں سارا سال بارش کا نہ ہونا عجیب بات ہوتی تھی ، اس کا ہونا نہیں ۔ مریم کا گھر آفس سے تھوڑی ہی دور تھا اور وہ اکثر پیدل ہی آ جاتی تھی ۔ اس نے پرس اٹھایا، چھتری کھولی اور باہر نکل آئی ۔ بہار کی آمد تھی اور درختوں کی ویران شاخیں، نئے پتوں سے بھرنے لگی تھیں ۔ مستقل بارش نے پتوں اور پھولوں کی رنگینی کو مزید تازہ کر دیا تھا اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
    مریم کے گھر کا راستہ چھوٹے سے شاپنگ ایریا سے گزرتا تھا جس میں موجود دکان دار اب اسے پہچانتے تھے اور اکثر سامنا ہونے پر خوش دلی سے ’’ہیلو‘‘ بھی کرتے تھے۔ اپنے اونچے قد، چمکیلے گہرے بھورے بال اور کالی آنکھوں کے ساتھ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی خاصی دلکش تھی ۔ امریکا میں ہی پلنے بڑھنے کی بہ دولت اس کے طور طریقے بھی وہاں کے گورے باشندوں کی طرح ہی تھے ۔ان لوگوں کو بھی اس میں الگ صرف اس کا نام اور اس کی مشرقی نین نقش نظر آتے تھے یا پھر اس کا مسلمان ہونا جس کا ذکر ایک انتہائی نازک موضوع ہونے کی بنا پر وہ اپنی گفت گو میں شاذ و نادر ہی لاتے تھے۔ مذہب کے معاملے میں مریم نے امریکیوں کو دو طرح کا پایا تھا ۔ یا تو انتہائی منہ پھٹ اور بد لحاظ یا پھر انتہائی تمیزدار اور ، شعوری یا لاشعوری طور پر دامن بچاتے ہوئے ۔ اس کا پالا دونوں سے ہی پڑتا تھا اور دونوں میں دوسری قسم ہی ہر لحاظ سے غنیمت تھی ۔
    مریم کا شوہر علی بھی وہیں کا پیدائشی مسلمان تھا۔ ان کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ ایک ہی کلچر میں پلنے بڑھنے کی بدولت ان میں کافی ذہنی مطابقت تھی۔ بحث اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اتنی ہی تھیں جتنی کسی بھی شادی شدہ گھر میں ہوتی تھیں ۔ لیکن ہر بحث اور لڑائی خوش اسلوبی سے نمٹ جاتی تھی ۔ شاید اس کی وجہ مریم کا اس بات پر یقین تھا کہ شادی کی کام یابی کا انحصار کم توقعات اور زیادہ ہم آہنگی کے اصول پر ہوتا ہے۔ وہ فطرتاً ہی صلح جو تھی اور یہ وہ خاصیت تھی جو وہاں پلی بڑھی پاکستانی عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان کے دو بچے رائنا اور عمر ان کی فیملی کو مکمل کرتے تھے۔
    ادھر ادھر کی سوچوں میں بھٹکتا ہوا اس کا ذہن اپنے اور علی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث پر جا کر اٹک گیا جس کا حل اس کی صلح جوئی بھی نہیں نکال پا رہی تھی ۔ مسئلہ علی کا اس کی اس adoption agency میں نوکری کا تھا جس میں وہ پچھلے چار سال سے کام کر رہی تھی ۔ اول تو وہ یہ پارٹ ٹائم نوکری اور وہ بھی ہفتے میں تین دن پیسے کے لیے نہیں بلکہ وقت کے ایک مثبت مصرف کی خاطر کر رہی تھی ۔ اس کے باوجود بھی علی کی ناپسندیدگی اسے کچھ بھا نہیں رہی تھی ۔ علی کو اس کے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، صرف اس جگہ پر تھا جہاں وہ نوکری کر رہی تھی ۔ مریم بار بار اس نوکری کی سہولتیں گنواتی کہ وہ گھر سے قریب ہے، پارٹ ٹائم ہے اور اسے ایک حقیقی خدمت ِخلق کا موقع دیتی ہے۔ گو کہ علی کی اس خاص نوکری سے ناگواری کے پس ِپہلو سے وہ آگاہ تھی لیکن اس کے نزدیک اس وجہ سے علی کی اس نوکری کے لیے حمایت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ناگواری میں ۔
    اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی سی پھوار بھی مکمل طور پر رک چکی تھی ۔ لال اینٹوں ، چوڑی فرنچ کھڑکیوں، اور وسیع فرنٹ لان والا اس کا گھر سٹریٹ پر دوسرے گھروں سے ملتا جلتا تھا ۔ اینٹوں کی سرخی پر چڑھتی ہری بیلوں اور جگہ جگہ موجود سفید اور پیلے پھولوں نے گھر کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔ ڈرائیو وے میں علی کی گاڑی کھڑی تھی۔ ایک انجینئرنگ فرم میں پارٹنر ہونے کی وجہ سے اسے اکثر جلدی گھر آ جانے اور گھر سے کام کرنے کی آسائش تھی ۔
    مریم کچن کی دروازے سے اندر آئی تو وہ کچن کے اندر کھڑا فون پر کسی دوست سے بات کر رہا تھا ۔
    ’’ہاں ہاں! صنم کو بھی ضرور ساتھ لانا ۔ویسے بھی بیویوں کے بغیر کہیں جاؤ تو انہیں شک کی شدید تکلیف ہو جاتی ہے۔” علی نے مریم کو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اپنے دوست کو یہ آخری ہدایت غالباً اسے ہی چھیڑنے کے لیے دی گئی تھی۔ علی کے جوابی قہقہہ سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف سے اس بات کا جواب بھی کچھ اُلٹا ہی آیا تھا۔
    ’’ہاں! مریم بھی ابھی ابھی آئی ہے ۔ ٹھیک ہے، پھر ایک گھنٹے میں ملتے ہیں۔‘‘علی نے فون بند کیا اور اس کی طرف مڑا ۔ لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی مریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔




    ’’ٹھہرو! مجھے بوجھنے دو یہ کون ہے۔‘‘ اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
    ’’رضوان تھا اور ایک گھنٹے میں صنم کے ساتھ آ رہا ہے؟‘‘علی زور سے ہنس پڑا ۔
    ’’یہ تو تم سب سن ہی چکی تھی۔تمہارا کیا کمال ہو؟اتم لوگ تو ویسے ہی ہم لوگوں کے ہر فون پر کان لگا کر بیٹھی ہوتی ہو۔‘‘ اس نے اسے چھیڑا ۔
    ’’جیسے تم لوگ نہیں بیٹھے ہوتے۔‘‘مریم نے بھی فٹ سے جملہ داغا۔
    ’’ہاں بھئی ! میں ہر وقت بھول جاتا ہوں کہ کچھ عورتیں خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہوتی ہیں۔ ان سے آپ کوئی بحث نہیں جیت سکتے ۔‘‘مریم اس کی چاپلوسی پر مسکرا دی ۔
    ’’کم خوب صورت تو آپ بھی نہیں لیکن چھوڑو یہ سب باتیں ۔ یہ بتاؤ کہ یہ لوگ اچانک کیوں آرہے ہیں؟‘‘ وہ اور علی باتیں کرتے کرتے اپنے کشادہ فیملی روم میں آ چکے تھے۔
    ’’رضوان نے جو نئی جاب کی آفر قبول کی ہے، اسی کے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہا ہے وہ۔‘‘ علی نے اپنی پسندیدہ آرام کرسی پر جگہ سنبھال لی تھی اور اب ٹی وی ریموٹ کے لیے نظریں دوڑا رہا تھا ۔
    ’’تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو؟‘‘
    ’’نہیں تھکی! ہوئی تو نہیں ہوں۔‘‘ وہ بھی اسی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔‘‘
    ’’تم نے آج امی جی کو کال کی تھی؟‘‘ اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔
    ’’میں نے تو کال نہیں کی۔میرے خیال سے امی جی اور ابو دونوں اس وقت اتنا مزا کر رہے ہوں گے اور وہ تو میرا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔‘‘ وہ اپنی ہی بات پر ہنسا ، مریم بھی مُسکرا دی۔
    ان دنوں ان کے دونوں بچے، بارہ سالہ عمر اور چودہ سالہ رائنا اپنی سپرنگ بریک کی ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے نانا نانی، شازیہ اور نذیر عبید کے پاس لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ یہ ان دونوں کی چھٹیوں کا معمول تھا اور دونوں پارٹیاں نہ صرف ان ملاقاتوں کی شدت سے منتظر رہتیں۔ بلکہ ان کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کے نت نئے طریقے بھی سوچ کر رکھتی تھیں۔ دو دن پہلے ہونے والی گفت گو میں بھی مریم کو اپنے اندازوں کے مطابق ہی معلومات ملی تھیں ۔ نانا اور نواسہ گھر کے پاس والی جھیل میں جی بھر کر مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے جب کہ رائنا اپنی نانی کے ساتھ مال میں شاپنگ اور نئی موویز دیکھنے میں مشغول تھی ۔
    ’’ان لوگوں کے لیے کوئی خاص چیز بنانی ہے کیا؟‘‘ مریم کا اشارہ رضوان اور صنم کی طرف تھا ۔
    ’’نہیں! وہ لوگ کھانے پر کہیں انوائٹڈ ہیں اس لیے کھانا نہیں کھائیں گے ۔‘‘
    ’’ٹھیک ہے! میں چائے اور سموسے بنا دوں گی۔‘‘ علی نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ اس نے اپنا من پسند سپورٹس چینل لگا لیا تھا ۔
    ’’تمہاری آفس کی پارٹی کیسی رہی؟‘‘ علی کو اچانک خیال آیا ۔ البتہ آنکھیں اس کی ابھی بھی ٹی وی پر ہی لگی ہوئی تھیں۔
    مریم کے آفس میں اس کی ایک کولیگ جاب چھوڑ جا رہی تھی اور اس کے لیے آفس والوں نے فیئرویل پارٹی کا انتظام کیا تھا۔
    ’’اچھی تھی پارٹی! الیسن کو اچھی فل ٹائم جاب مل گئی ہے ۔ خوش ہے وہ۔‘‘ لیکن مریم کا عام سا تبصرہ اس کے اپنے ہی گلے پڑ گیا۔ علی کو اچانک ان دونوں کی آپس کی وہ بحث یاد آ گئی جس کے حل کا کوئی سرا ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ مریم اس بار اپنے مؤقف پر خاموشی سے ہی سہی، لیکن ڈٹی ہوئی تھی۔
    ’’تمہیں بھی اتنی ہی اچھی فل ٹائم جاب مل سکتی ہے،۔‘‘ علی نے اسے پھر سے یاد دلایا۔
    ’’بلکہ جاب آفر بھی آئی پڑی ہے لیکن تم ہو کہ ضد کیے جا رہی ہو۔‘‘ علی کے لہجے میں ہلکی سی ناگواری جھلک رہی تھی۔
    ’’اپنی سائیکولوجی کی اتنی اچھی ڈگری کو ضائع کر رہی ہوتم۔‘‘
    علی کی دوست کی بیوی قریبی اسکول ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن میں اچھی پوزیشن پر تھی اور اسے وہیں پر اسکول سائیکولوجسٹ کے طور پر پچھلے ایک ماہ سے مستقل بلا رہی تھی ۔ مریم کو اکثر شک ہوتا تھا کہ جاب کی یہ آفر بھی کہیں علی کے دباؤ کی وجہ سے ہی نہ ہو ۔مریم کا اس وقت بحث کا موڈ تو نہیں تھا لیکن علی کو جواب دینا بھی ضروری تھا ۔
    ’’علی میری جاب سے متعلق تمہارے احساسات کا مجھے اندازہ ہے لیکن مجھے وہاں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے سبھا سے بات شروع کی۔
    ’’تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ میں یہ جاب پیسوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے تحت کرتی ہوں۔‘‘
    ’’اسکول سائیالوجسٹ کی جاب بھی ایک انسانی ہم دردی ہو گی۔‘‘ علی نے اس کی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی ۔
    ’’لیکن یہ پارٹ ٹائم ہے اور گھر سے نزدیک بھی۔‘‘
    ’’اسکول بھی یہاں سے صرف تین میل دور ہے۔‘‘ اس نے اس کے اس نقطے کو بھی چیلنج کیا۔ مریم نے اس بار بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
    ’’کیا ہم اس ٹاپک پر پھر کبھی بات کر سکتے ہیں؟ ابھی ہمارے پاس مہمان بھی آنے والے ہیں۔‘‘
    ’’میں اس ٹاپک پر بار بار بات کرنا ہی نہیں چاہتا مریم۔ میں تو اسے ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اب علی کی آواز میں ایک برہمی نمایاں تھی ۔ ٹی وی کا والیوم بھی اس نے بند کر دیا تھا۔
    ’’لیکن تم ہو کہ بات کو ختم ہونے ہی نہیں دے رہیں۔‘‘
    علی کے اچانک بجنے والے فون نے مریم کو جواب دینے سے بچا لیا تھا ۔ ویسے بھی مریم کے پاس اسے دینے کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ مریم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔
    ’’وعلیکم السلام امی جی، کیسی ہیں آپ؟‘‘ علی نے خوش دلی سے اپنی ساس کو سلام کیا تھا ۔ یہ علی کی قابلِ تعریف صفت تھی کہ وہ ایک آدمی کا غصہ کسی دوسرے پر نہیں نکالتا تھا۔ اس وقت بھی اس کے لہجے میں چند ہی لمحوں پہلے مریم سے ہونے والی گفت گو کے تناؤ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔
    ’’بچے آپ کو بہت زیادہ تنگ تو نہیں کر رہے ؟ اور عمر اپنی کتابوں کی ریڈنگ کر رہا ہے؟‘‘ وہ اب انہیں بچوں کے متعلق ہدایت دے رہا تھا۔
    ’’رائنا کو انٹرنیٹ پر زیادہ ٹائم مت بیٹھے رہنے دیا کریں۔‘‘
    ’’جی جی!ہم بھی خیریت سے ہیں۔ بچے آئیں تو ان کی بھی ہم سے بات کروا دیں۔‘‘ بچے غالباً گھر پر نہیں تھے۔ کچھ منٹ اور بات کرنے کے بعد علی نے فون اسے تھما دیا ۔ مریم فون لے کر کچن میں آ گئی ۔ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مہمانوں کے لیے سنیکس کی تیاری بھی کر رہی تھی ۔
    "مریم تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟” شازیہ عبید نے اچانک ہی پوچھا۔ ان کی آواز میں تشویش تھی۔
    ’’علی بھی کچھ ٹینس لگ رہا تھا۔‘‘ مریم نے گہرا سانس لیا۔ مائیں اولاد کے مزاج کی سفاکی کی حد تک رسائی رکھتی ہیں اور شازیہ سے تو باتیں چھپانا نا ممکن تھا ۔ علی کے لہجے کی خوش گواریت کے باوجود انہیں کچھ غلط لگ رہا تھا۔
    ’’نہیں امی جی! ہم دونوں ٹھیک ہیں۔‘‘ مریم نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی۔ ایک بحث سے جان بچا کر وہ اب دوسری میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    ’’جاب سے آیا ہے تو اسی لیے تھکا ہوا ہے ۔ شاید اسی لیے آپ کو لگ رہا ہوگا۔‘‘
    ’’تم دونوں کی پھر کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی؟ اب کس بات پر ہوئی ہے؟‘‘ شازیہ نے جیسے اس کی کوئی بات سنی ہی نہیں اور فوراً ہی وجہ کی جڑ تک پہنچنے کی مہم شروع کر دی ۔ مریم نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔ اس کی اپنی ماں کیچھٹی حس اور اندازوں پر فولادی اعتماد تھا ۔ ان سے مزید چوہے بلی کا کھیل کھیلنا فضول ہی ہوتا ۔
    ’’وہی جاب والی بات اور کیا۔‘ ‘مریم نے بتایا۔
    ’’کہہ رہا ہے ریزائن کر دو ۔ اپنی ہی ضد پر اڑا ہوا ہے۔‘‘ مریم کی آواز میں بے زارگی تھی ۔ شازیہ نے گہرا سانس لیا ۔
    ’’تم بھی تو اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہو۔‘‘ انہوں نے کسی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اسے گھرکا۔
    ’’اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
    ’’امی جی میں لمبی بات نہیں کر سکتی ۔ علی کا دوست آنے والا ہے۔‘‘ مریم نے انہیں فی الحال ٹالا۔
    ’’مریم تم یہ جاب چھوڑ دو ۔‘‘ شازیہ نے اسے سمجھایا۔
    ’’صرف ایک نوکری ہی تو ہے ۔ اس کے پیچھے اپنے گھر کا سکون کیوں برباد کرتی ہو؟‘‘ ہر عقل مند ماں کی طرح انہوں نے بھی اسے عقل دینے کی کوشش کی ۔
    ’’میں آپ سے پھر بات کروں گی امی جی۔‘‘ مریم نے بات ٹالنے کی غرض سے کہا۔
    ’’مریم اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ شازیہ نے اچانک کہا، مریم ایک لمحے کو منجمد ہو گئی۔ خدا حافظ کہتے کہتے شازیہ انتہائی خار دار رستے پر جا نکلی تھیں۔
    ’’تم اب اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔‘‘ مریم جواب دینے کے قابل نہیں رہی تھی ۔ اس کے جاب نہ چھوڑنے کا سرا انھوں نے پہلی بار اس سالوں پرانی بات سے جوڑا تھا جسے بھولنے کی لاکھ کوشش اسے مزید اس کی یاد دلائے جاتی تھی ۔ شاید انہیں ہمیشہ سے ہی علم تھا لیکن لاعلمی کا ڈھونگ رچا کر وہ صرف اس کا بھرم رکھ رہی تھیں ۔ لیکن جو بھی تھا ، اس بات کی تردید بہرحال بے معنی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے امی جی۔‘‘ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
    ’’لیکن ان لاوارث بچوں کو اچھے گھروں اور خاندانوں میں بھیجتے ہوئے میرے دل کو ایک عجیب سا اطمینان ہوتا ہے۔‘‘
    ’’وہ بھی ایک اچھے ، مضبوط گھر اور ذمہ دار لوگوں کے ہاتھوں میں گئی ہے۔‘‘ مریم گویا گونگی ہی ہو گئی ۔ شازیہ کو بات کی نبض پکڑنا خوب آتا تھا لیکن یہ ان کی آواز کا وثوق تھا جس نے اسے ششدر کر دیا تھا ۔
    ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ مریم کی آواز محض ایک سرگوشی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ مریم سمجھ نہیں پائی کہ وہ ان کا یقین تھا کہ محض ان کا وجدان جو ان کے لہجے کو اس قدر اعتماد بخش رہا تھا ۔ ان کی بات ابھی جاری تھی۔
    ’’اپنی اس نوکری کو ایک مرہم کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دو کیوں کہ تمہاری یہ بے کار سی تدبیر علی کے لیے تکلیف بن رہی ہے۔” مریم نے خاموشی سے فون بند کر دیا ۔اس کی زبان مزید اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔
    وہ کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ لان کی تازہ ہریالی پر شام کے سائے اتر رہے تھے لیکن اس وقت رات کا گہرا ہوتا اندھیرا اسے سکون دے رہا تھا ۔ اسے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ماں کی یہ دو ٹوک گفت گو اس کے گھٹنے ٹیکنے کا سبب بن جائے گی ۔
    ٭…٭…٭
    امریکا کے شہر نیو آرلینز سے وہ ایک بے حد ضروری فون کال کا منتظر تھا ۔ یہ کچھ دنوں کا نہیں بلکہ کئی مہینوں کا بے چین انتظار تھا جو اب اختتام پر تھا ۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل میں موجود بے نام اندیشوں اور اضطراب میں اضافہ کر رہا تھا ۔ اس کا ذہن مستقل اپنے فیصلے کے ممکنہ نفع اور نقصانات کو ہر زاویے سے جانچنے میں مصروف تھا لیکن اپنے دل کی گہرایوں میں اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ کسی بھی تجزیے اور سوچ و بچار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کا سوال تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک چیز کے علاوہ کسی دوسری چیز کے انتخاب کا اختیار بھی پاس ہو ۔ یہاں تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق کچھ بھی اور کرنے کا اختیار تھا ہی نہیں ۔
    متوقع فون کال اگلی صبح بلاخر آ ہی گئی ۔ اس کال کے فوراً بعد اس نے امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں مقیم اپنے دوست کو فون کیا ۔ دونوں نے نیو آرلینز کی فلائٹس بک کروا لیں ۔ ان دونوں نے اسی دن چار بجے کے قریب آگے پیچھے ہی نیو آرلینز انٹرنشنل ائیرپورٹ پر پہنچنا تھا ۔انہیں امید تھی کہ اس ٹائم تک بچہ اس ایڈاپشن ایجنسی تک پہنچ چکا ہوتا جہاں انھیں جانا تھا ۔ صبح صبح اپنے پاس آنے والے فون پر وہ یہ پوچھنا ہی بھول گیا تھا کہ بچہ لڑکی تھی یا لڑکا لیکن اس بات سے اسے کوئی فرق پڑتا بھی نہیں ا تھا۔
    دونوں دوست دوپہر ڈھلنے پر مقررہ وقت پر نیو آرلینز ائیرپورٹ، پھر ائیرپورٹ سے گاڑی رینٹ کر کے پانچ میل دور اس ایڈاپشن ایجنسی پہنچے جو اس ہسپتال سے منسلک تھی جہاں بچے کی پیدائش کچھ گھنٹے پہلے ہی ہوئی تھی ۔ ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہے اسے ٹیکسٹ آ گیا تھا کہ وہ ایک بچی ہے ۔ اس کا دل ایک لمحے کو لرزا اور ساتھ ہی اس کے حوصلے کو بے پناہ تقویت پہنچی کہ اس نے بلا شبہ ایک بہترین فیصلہ کیا تھا ۔ اس کا دوست ایسے کسی اندیشوں کا شکار نہیں تھا ۔ وہ صرف خوش تھا ، بے حد مسرور ۔
    ’’تم مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتے ہو۔‘‘ اس نے اسے پچھلی کئی بار دی جانے والے تسلی ایک بار پھر دہرائی ۔
    ’’میں اس بچی کی پرورش بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح کروں گا۔‘‘ اس کے دوست کو بچے کا لڑکا یا لڑکی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔ جواب میں اس نے کچھ نہیں کہا، صرف خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ۔
    ’’لیکن ایک بات مجھے بتاؤ۔‘‘ اس کے دوست کے ذہن میں اچانک خیال آیا۔
    ’’وہاں اور بھی نوزائیدہ بچے ہوں گے ۔ تم اسی بچی کو کیسے پہچان پاؤ گے؟ میرا مطلب ہے کم از کم مجھے تو تمام نوزائدہ بچے ایک ہی جیسے دکھتے ہیں۔‘‘
    وہ اپنے دوست کی سادہ لوحی پر محض مُسکرا کر رہ گیا ۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ کوئی اپنے خون کو بھلا کس طرح نہ پہنچانتا؟
    ایڈاپشن ایجنسی والوں کے پاس اس وقت پانچ نوزائیدہ بچے، نامعلوم اور بے نام طریقے سے گود لیے جانے کے لیے موجود تھے۔نرسری کے شفاف شیشے کی دیوار سے اندر دیکھتے ہوئے اس نے فقط ایک نظر میں ہی اسے پہچان لیا تھا۔ اس نے سنا تو تھا لیکن اب اسے یقین ہو گیا کہ خون واقعی خون کو کھینچتا ہے ۔ یہ تو محبت کی لازوال اور انمول ترین مثال ہوتی ہے ۔
    اس کی نشان دہی پر اندر موجود نرس نے بچی کو نرم سفید دلائی میں لپیٹا اور باہر لا کر اس کے ہاتھوں میں تھما دیا ۔ اس کے دل کو ایک جھٹکا سا لگا اور آنکھوں کے سامنے نمی کی دھند آ گئی ۔ سو بچوں میں بھی وہ اپنے خون کو پہچان لیتا، یہ تو صرف پانچ تھے ۔ اس نے ہلکے سے بچی کے پھولے ہوئے گلابی گال کو چھوا ۔ بچی نے اپنی خوب صورت ، گہری بھوری آنکھیں کھول دیں اور انتہائی خاموشی اور سنجیدگی سے اپنے اوپر جھکے دونوں لوگوں کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔ ایک چہرے پر دکھ کی گہری پرچھائی تھی اور ایک پر خوشی کی۔
    بچی کو گود میں لیے اس کو پھر اپنے فیصلے کے درست ہونے کا یقین ہوا ۔ اگر وہ اس وقت یہ قدم نہیں اٹھاتا تو وہ بلا شبہ اپنی باقی زندگی ایک ایسی سولی پر ٹنگے ہوئے کاٹتا، جہاں ملال کا خنجر اسے جیتے جی دن میں کئی دفعہ مارتا اور بے غیرتی کا شدید احساس اس کی سانسیں روکے رکھتا۔ اب وہ بے شک اس کے اپنے گھر میں نہیں جا رہی تھی لیکن کم از کم اسے اتنی تسلی تو تھی کہ وہ قابل اعتبار ، ذمہ دار اور مشفق ہاتھوں میں تھی ۔ اس کا دوست بچی کے لیے ضرورت کی سب چیزیں لے کر آیا تھا ۔ نئے کپڑوں اور موزوں سے لے کر کار سیٹ تک ۔ ساری کاغذی کارروائیاں مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگ گئے ۔ چوں کہ اس نے پورا process پہلے سے شروع کر رکھا تھا اسی لیے ساری معلومات خفیہ تھیں جس کے مطابق بچی کے اصل لواحقین اور گود لینے والے ایک دوسرے کے لیے نامعلوم رہتے۔
    وہ اسی طرح کا کام چاہتا تھا ۔ نامعلوم افراد کی بچی گود لینے کا مقصد ہی یہی تھا ۔ جب تک اس کا دوست ساری کاغذی مکمل کرتا رہا، بچی اس کی گود میں ہی سوئی رہی ۔ اسے لگا جیسے وہ اس کا لمس پہچان گئی تھی ۔ وہ اس کے خوب صورت اور معصوم چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔ وہ بے شک ایک سنگین غلطی کا نتیجہ تھی لیکن وہ بلا شبہ بے قصور بھی تھی ۔ وہ دونوں بچی کے ساتھ وہاں سے نکلے اور سیدھا ائیرپورٹ گیے جہاں سے اس کے دوست نے فورا ہی بچی کے ساتھ واپسی کی فلائٹ لے لی تھی ۔ وہ اس وقت تک وہیں کھڑا رہا جب تک اس کے دوست کا جہاز ٹیک آف نہیں کر گیا ۔ پھر اس نے بکنگ کاؤنٹر پر جا کر اپنی بھی واپسی کی بکنگ کروا لی ۔ اس کے دل اور دماغ میں اس وقت احساسات کی طغیانی سی تھی جن میں سب سے زور آور احساس، ایک عظیم جدوجہد میں سر خروئی کا تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۳ (تبارک الذی)

    اوول آفس سے ملحقہ ایک چھوٹے سے کمرے میں پروٹوکول آفیسر کی رہنمائی میں داخل ہوتے ہوئے سالار سکندر کے انداز میں اس جگہ سے واقفیت کا عنصر بے حد نمایاں تھا۔ وہ بڑے مانوس انداز میں چلتے ہوئے وہاں آیا تھا اور اس کے بعد ہونے والے تمام Rituals سے بھی واقف تھا۔ وہ یہاں کئی بار آچکا تھا، کئی وفود کا حصہ بن کر… لیکن یہ پہلاموقع تھا جب وہ وہاں تنہا بلایا گیا تھا۔
    اسے بٹھانے کے بعد وہ آفیسر اندرونی دروازے سے غائب ہوگیا تھا۔ وہ پندرہ منٹ کی ایک ملاقات تھی، جس کے اہم نکات وہ اس وقت ذہن میں دہرا رہا تھا۔ وہ امریکہ کے کئی صدور سے مل چکا تھا، لیکن وہ صدر جس سے وہ اس وقت ملنے آیا تھا، خاص تھا۔ کئی حوالوں سے…
    وال کلاک پر ابھی 9:55ہوئے تھے۔
    صدر کے اندر آنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ اس سے پہلے 9:56 پہ ایک ویٹر اس کو پانی پیش کرکے گیا تھا۔ اس نے گلاس اٹھا کر رکھ دیا تھا۔ 9:57 پہ ایک اور اٹینڈنٹ اسے کافی سرو کرنے آیا تھا۔ اس نے منع کردیا۔ 9:59 پہ اوول آفس کا دروازہ کھلا اور صدر کی آمد کا اعلان ہوا۔ سالار اٹھ کھڑا ہوا۔
    اوول آفس کے دروازے سے اس کمرے میں آنے والا صدر، امریکہ کی تاریخ کا کمزور ترین صدرتھا۔ وہ 2030ء کا امریکہ تھا۔ بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ایک کمزور ملک … جس کی کچھ ریاستوں میں اس وقت خانہ جنگی جاری تھی۔کچھ میں نسلی فسادات… اور ان سب میں امریکہ کا وہ پہلا صدر تھا جس کی کابینہ تھنک ٹینکس میں مسلمانوں اور یہودیوں کی تعداد اب برابر ہوچکی تھی۔ اس کی پالیسیز کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ بھی اندرونی خلفشار کا شکار تھی لیکن یہ وہ مسائل نہیں تھے جن کی وجہ سے امریکہ کا صدر اس سے ملاقات کررہا تھا۔
    امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی بینکنگ بحران کے دوران اپنی بین الاقوامی پوزیشن اور ساکھ کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش کررہا تھا اور SIF سربراہ سے وہ ملاقات ان ہی کوششوں کا ایک حصہ تھی۔ ان آئینی ترامیم کے بعد جو امریکہ کو اپنے ملک کی حیثیت کو مکمل طور پر ڈوبنے سے بچانے کے لئے کرنی پڑی تھیں۔
    اپنی تاریخ کے اس سے بڑے مالیاتی بحران میں جب امریکہ کی اسٹاک ایکسچینج کریش کرگئی تھی، اس کے بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہورہے تھے۔ ڈالر کی ویلیو کو کسی ایک جگہ روکنا مشکل ہوگیا تھا اور مسلسل گرتی ہوئی اپنی کرنسی کو استحکام دینے کے لئے امریکہ کو تین مہینے کے دوران تین بار اس کی ویلیو خود کم کرنی پڑی تھی۔ صرف ایک ادارہ تھا جو اس مالیاتی بحران کو جھیل گیا تھا۔ لڑکھڑانے کے باوجود وہ امریکہ کے بڑے مالیاتی اداروں کی طرح زمین بوس نہیں ہوا تھا، نہ ہی اس نے ڈاؤن سائزنگ کی تھی، نہ بیل آؤٹ پیکجز مانگے تھے۔ اور وہ SIF تھا۔ پندرہ سال میں وہ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے طور پر اپنی شان دار ساکھ اور نام بناچکا تھا اور امریکہ اور بہت سے دوسرے چھوٹے ملکوں میں وہ بہت سے چھوٹے بڑے اداروں کو ضم کرکے اپنی چھتری تلے لاچکا تھا اور وہ چھتری مغربی مالیاتی اداروں کی شدید مخاصمت اور مغربی حکومتوں کے سخت ترین امتیازی قوانین کے باوجود پھیلتی چلی گئی تھی۔




    پندرہ سالوں میں SIFنے اپنی بقا اور ترقی کے لئے بہت ساری جنگیں لڑی تھیں اور ان میں سے ہر جنگ چومکھی تھی لیکن SIFاور اس سے منسلک افراد ڈٹے رہے تھے اور پندرہ سال کی اس مختصر مدت میں مالیاتی دنیا کا ایک بڑا مگرمچھ اب SIF بھی تھا جو اپنی بقا کے لئے لڑی جانے والی ان تمام جنگوں کے بعد اب بے حد مضبوط ہوچکا تھا۔
    یورپ اور ایشیا اس کی بڑی مارکیٹیں تھیں لیکن یہ افریقہ تھا جس پر SIF مکمل طور پر قابض تھا۔ وہ افریقہ جس میں کوئی گورا 2030ء میں SIF کے بغیر کوئی مالیاتی ٹرانزیکشن کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ افریقہ SIF کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ سالار سکندر کے ہاتھ میں تھا، جسے افریقہ اور اس کے لیڈر ز نام اور چہرے سے پہچانتے تھے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں صرف سالار کا ادارہ، وہ واحد ادارہ تھا جو افریقہ کے کئی ممالک میں بدترین خانہ جنگی کے دوران بھی کام کرتا رہا تھا اور اس سے منسلک وہاں کام کرنے والے سب افریقی تھے اور SIF کے مشن اسٹیٹمنٹ پر یقین رکھنے والے… جو یہ جانتے تھے جو کچھ SIF ان کے لئے کررہا تھا اور کرسکتا تھا، وہ دنیا کا کوئی اور مالیاتی ادارہ نہیں کرسکتا تھا۔
    SIF افریقہ میں ابتدائی دور میں کئی بار نقصان اٹھانے کے باوجود وہاں سے نکلا نہیں تھا، وہ وہیں جما اور ڈٹا رہا تھا اور اس کی وہاں بقا کی بنیادی وجہ سود سے پاک وہ مالیاتی نظام تھا جو وہاں کی مقامی صنعتوں اور صنعت کاروں کو نہ صرف سود سے پاک قرضے دے رہا تھا، بلکہ انہیں اپنے وسائل سے اس انڈسٹری کو کھڑا کرنے میں انسانی وسائل بھی فراہم کررہا تھا۔
    پچھلے پندرہ سالوں میں SIF کی افریقہ میں ترقی کی شرح ایک اسٹیج پر اتنی بڑھ گئی تھی کہ بہت سے دوسرے مالیاتی اداروں کو افریقہ میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے SIF کا سہارا لینا پڑا تھا۔
    سالار سکندر سیاہ فاموں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور اس کی یہ پہچان بین الاقوامی تھی۔ افریقہ کے مالیاتی نظام کی کنجی SIF کے پاس تھی اور سالار سکندر کے اس دن وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ امریکہ ورلڈ بینک کو دیئے جانے والے فنڈز میں اپنا حصہ ادا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا اور ورلڈ بینک کو فنڈز کی فراہمی میں ناکام رہنے کے بعد اس سے سرکاری طور پر علیحدگی اختیارکررہاتھا۔ ورلڈ بینک اس سے پہلے ہی ایک مالیاتی ادارے کے طور پر بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ یہ صرف امریکہ نہیں تھا جو مالیاتی بحران کا شکار تھا۔ دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک بھی اسی کساد بازاری کا شکار تھے اور اس افراتفری میں ہر ایک کو صرف اپنے ملک کی معیشت کی پروا تھی۔ اقوام متحدہ سے منسلک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی اقتصادیات پر قابض رہنا اب نہ صرف ناممکن ہوگیا تھا، بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آئے ہوئے مالیاتی بحران کے بعد اب یہ بے کار بھی ہوگیا تھا۔
    ورلڈ بینک اب وہ سفید ہاتھی تھا جس سے وہ ساری استعماری قوتیںجان چھڑانا چاہتی تھیں اور کئی جان چھڑا چکی تھیں۔ اقوام متحدہ کا وہ چارٹر جو اپنے ممبران کو ورلڈ بینک کے ادارے کو فنڈ ز فراہم کرنے کا پابند کرتا تھا۔ اب ممبران کے عدم تعاون اور عدم دلچسپی کے باعث کاغذ کے ایک پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اقوام متحدہ اب وہ ادارہ نہیں رہا تھا جو بین الاقوامی برادری میں سیکڑوں سالوں سے چلے آنے والے ایک ہی مالیاتی نظام میں پروئے رہنے پر مجبور کرسکتا۔
    دنیا بدل چکی تھی اور گھڑی کی سوئیوں کی رفتار کے ساتھ مزید بلدتی جارہی تھی اوراس رفتار کو روکنے کی ایک آخری کوشش کے لئے امریکہ کے صدر نے SIF کے سربراہ کو وہاں بلایا تھا۔
    ایوان ہاکنز نے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے اس پرانے حریف کو ایک خیر مقدمی مسکراہٹ دینے کی کوشش کی جو اس کے استقبال کے لئے مؤدبانہ اور بے حد باوقار انداز میں کھڑا تھا۔ سیاست میں آنے سے پہلے ایوان ایک بڑے مالیاتی ادارے کا سربراہ رہ چکا تھا۔ سالار سکندر کے ساتھ اس کی سالوں پرانی واقفیت بھی تھی اور رقابت بھی۔ SIF نے امریکہ میں اپنی تاریخ کا پہلا بڑا نضمام اس کے ادارے کو کھا کر کیا تھا۔ اور اس انضمام کے بعد ایوان کو اس کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ وہ آج امریکہ کا صدر تھا، لیکن وہ ناکامی اور بدنامی آج بھی اس کے ریکارڈ میں ایک داغ کے طور پر موجود تھی۔ یہ ایوان کی بدقسمتی تھی کہ اتنے سالوں کے بعد وہ اسی پرانے حریف کی مدد لینے پر ایک بار پھر مجبور ہوا تھا۔ وہ اس کے دورِ صدارت میں اسے دھول چٹانے آن پہنچا تھا۔ یہ اس کے احساسات تھے۔ سالار کے نہیں۔ وہ وہاں کسی اور ایجنڈے کے ساتھ آیا تھا۔ اس کا ذہن کہیں اور پھنسا ہوا تھا۔
    ’’سالار سکندر…‘‘ چہرے پر ایک گرم پر جوش مسکراہٹ کا نقاب چڑھائے، ایوان نے سالار کا استقبال تیز رفتاری سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے یوں کیا تھا جیسے وہ حریف نہیں رہے تھے، بہترین دوست تھے، جو وائٹ ہاؤس میں نہیں کسی گالف کورس پر مل رہے تھے۔ سالار نے اس کی خیر مقدمی مسکراہٹ کا جواب اتنی ہی خوش دلی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دیا تھا۔ دونوں کے درمیان رسمی کلمات کا تبادلہ ہوا۔ موسم کے بارے میں ایک آدھ بات ہوئی، جو اچھا تھا اور ا س کے بعد دونوں اپنی اپنی نشست سنبھال کر بیٹھ گئے تھے۔ وہ ون آن ون ملاقات تھی۔ کمرے کے دروازے اب بند ہوچکے تھے اور وہاں ان دونوں کا اسٹاف نہیں تھا اور اس ون آن ون ملاقات کے بعد ان دونوں کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس تھی جس کے لئے اس کمرے سے کچھ فاصلے پر ایک اور کمرے میں بیٹھے دنیا بھرکے صحافی بے تابی سے منتظر تھے۔
    اس ملاقات سے پہلے ان دونوں کی ٹیم کے افراد کئی بار آپس میں مل چکے تھے۔ ایک فریم ورک وہ ڈسکس بھی کرچکے تھے اور تیار بھی… اب اس ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر وہ دونوں وہ اعلان کرتے جس کی بھنک میڈیا کو پہلے ہی مل چکی تھی۔
    امریکہ اب ورلڈ بینک کے ذریعے نہیں SIF کے ذریعے دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں گھسنا چاہتا تھا۔ خاص طور پر افریقہ میں اور اس کے لئے وہ ورلڈ بینک سے باضابطہ علیحدگی اختیارکررہا تھا مگر اس کے سامنے مسئلہ صرف ایک تھا۔ امریکہ کا ایجنڈا SIF کے ایجنڈے سے مختلف تھا اور اس ملاقات میں سالار سکندر کو غیر رسمی انداز میں… آخری بار ان امریکی مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کروائی تھی۔ امریکہ SIF کی ٹیم کے بہت سارے مطالبات مان کر اس فریم ورک پر تیار ہوا تھا۔ یہ وہ امریکہ نہیں رہا تھا جو بندوق کی نوک پر کسی سے کچھ بھی کرواسکتا تھا۔ یہ انتشار کا شکار ایک کھوکھلا ہوتا ہوا ملک تھا جو بات سنتا تھا۔ مطالبات مانتا تھا اور اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ جاتا تھا یا پھر آخری حربے کے طور پر اپنے مفادات کی خاطر وہ کرتا تھا جو اس بار بھی اس میٹنگ کے اچھے یا برے نتیجے کے ساتھ پہلے سے مشروط تھا۔
    میٹنگ کا نتیجہ ویسا ہی نکلا تھا جیسی ایوان کو توقع تھی۔ سالار سکندر کو SIF کے ایجنڈے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا۔ نہ ہی امریکی حکومت کے ایجنڈے کے حوالے سے… وہ امریکی حکومت کی مدد کرنے پر تیار تھا۔ اس فریم ورک کے تحت جو اس کی ٹیم نے تیار کیا تھا، لیکن SIF کو امریکہ کا ترجمان بنانے پر تیار نہیں تھا۔ اس نے ایوان کی تجویز کا شکریہ کے ساتھ رد کردیا تھا۔ دو مگرمچھوں کے درمیان دشمنی ہوسکتی تھی، دوستی نہیں مگر دشمنی کے ساتھ بھی وہ ایک ہی پانی میں رہ سکتے تھے۔ بڑے محتاط اور پرُامن طریقے سے، اپنی اپنی حدود میں، اور اس نے ایوان کو بھی یہی مشورہ دیا تھا جس سے ایوان نے اتفاق کیا تھا۔ سالار سکندر سے انہیں جیسے جواب کی توقع تھی انہیں ویسا ہی جواب ملا تھا۔
    SIF کو اب ایک نئے سربراہ کی ضرورت تھی جو زیادہ لچک دار رویے کا حامل ہوتا اور زیادہ سمجھدار بھی… سالار سکندر میں ان دونوں چیزوں کی اب کچھ کمی ہوگئی تھی۔ یہ ایوان کا اندازہ تھا۔
    سی آئی اے کو SIF کے نئے سربراہ کے بارے میں تجاویز دینے سے پہلے SIF کے پرانے سربراہ کو ہٹانے کے لئے احکامات دے دیئے گئے تھے اور یہ اس میٹنگ کے بعد ہوا تھا۔
    اس سے پہلے ایوان نے سالار سکندر کے ساتھ اس پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی، جس میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر ملک میں ہونے والے مالیاتی بحران سے نپٹنے کے لئے نہ صرف SIF کی مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ SIF کے ساتھ طے پانے والے اس فریم ورک کا بھی اعلان کیا تھا، جس کی منظوری صدر نے بے حد دباؤ کے باوجود دے دی تھی۔
    ایوان ہاکنز کو اس اعلان کے وقت ویسی ہی تضحیک محسوس ہورہی تھی جتنی اس نے اس وقت محسوس کی تھی، جب اس کے مالیاتی ادارے کا انضمام SIF کے ساتھ ہوا تھا اور جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے فارغ ہوگیا تھا۔ اسے یقین تھا تاریخ اس بار اپنے آپ کو کچھ مختلف طریقے سے دہرانے والی تھی۔ اس دفعہ اسکرین سے غائب ہونے والا اس کا پرانا حریف تھا، وہ نہیں۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

    امامہ کے لئے کیرولین کی فون کال ایک سرپرائز تھی۔ اس نے بڑے خوشگوار انداز میں اس سے بات چیت کرتے ہوئے امامہ کو اس اجازت کے بارے میں بتایا تھا جو اس نے ایرک کو دی تھی اور امامہ حیران رہ گئی تھی۔ اسے ایرک اور جبریل کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی گفتگو کا علم نہ تھا۔
    ’’ممی! مجھے یقین تھا وہ نہ اپنی ممی سے بات کرے گا نہ ہی وہ اسے اجازت دیں گی۔‘‘ جبریل نے ماں کے استفسار پر اسے بتایا تھا۔
    امامہ نے اسے کیرولین کی کال کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے بتایا تھا۔
    ’’لیکن اب اس کی ممی نے مجھے کال کرکے کہا ہے کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تو اب کیا کریں؟‘‘ امامہ نے کہا۔
    ’’کیا کرنا ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑا تھا۔ ’’قرآن پاک سکھاؤں گا اسے اب۔‘‘ جبریل نے ماں سے کہا تھا۔
    اسے اپنے جواب پر امامہ کے چہرے پر خوشی نظر نہیں آئی۔
    ’’آپ کو پریشانی کس بات کی ہے۔ پہلے یہ تھی کہ اس کی فیملی کو اعتراض نہ ہو لیکن اب تو اس کی فیملی نے اجازت دے دی ہے پھر اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
    جبریل نے جیسے ماں کو کریدنے کی کوشش کی تھی۔ امامہ اس سے کہہ نہیں سکی کہ اسے سارا مسئلہ عنایہ کی وجہ سے ہورہا تھا۔ قرآن پاک سیکھنے کی یہ خواہش اگر ایرک کی اس خواہش کے بغیر سامنے آتی تب وہ کچھ اور طرح کے تامل اور جھجک کا شکار ہوتی لیکن خوشی خوشی ایرک کو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پاک سیکھنے دیتی۔
    ’’مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے… جوبھی ہوتا ہے، اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے اور ہم کچھ بھی بدلنے پر قادر نہیں ہیں۔ ٹھیک ہے ایرک تم سے قرآن پاک سیکھنا چاہتا ہے تو تم سکھاؤ اسے۔‘‘ امامہ نے بالآخر جیسے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
    ٭…٭…٭





    گیارہ سال کی عمر میں قرآن پاک سے ایرک کا وہ پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔ اس سے پہلے وہ صرف اس کتاب کا نام جانتا تھا۔ جنرل نالج کے حصے کے طور پر…
    وہ سالار اور امامہ کے گھر جاکر مسلمانوں کے قریب ہوا تھا اور جبریل کی تلاوت سن سن کر وہ قرآن پاک سے متاثر ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ زبان اور وہ تلاوت اسے جیسے کسیfantasy میں لے جاتی تھی۔ وہ لفظ ’’ہیبت‘‘ سے آشنا نہیں تھا… ہوتا تو شاید یہی استعمال کرتا اس کے لئے… جبریل کی آواز دلوں کو پگھلا دینے والی ہوتی تھی، وہ خوش الحان نہیں تھا۔ وہ بلا کا خوش الحان تھا اور گیارہ سال کا وہ بچہ اس زبان اور اس کے مفہوم سے واقف ہوئے بغیر بھی صرف اس کی آواز کے سحر میں گرفتار تھا۔
    جس دن اس نے جبریل سے قرآنی قاعدہ کا پہلا سبق لیا تھا، اس رات اس نے آن لائن قرآن پاک کا پورا انگلش ترجمہ پڑھ لیاتھا۔ وہ کتابیں پڑھنے کا شوقین اور عادی تھا اور قرآن پاک کو اس نے ایک کتاب ہی کی طرح پڑھا تھا۔ بہت ساری چیزوں کو سمجھتے ہوئے… بہت ساری چیزوں کو نہ سمجھتے ہوئے۔ بہت ساری باتوں سے متاثر ہوتے ہوئے… بہت سارے احکامات سے الجھتے ہوئے… بہت سارے جملوں کو ذہن نشین کرتے ہوئے… بہت سارے واقعات کو اپنی کتاب بائبل سے منسلک کرتے ہوئے…
    اس نے بائبل بہت اچھی طرح پڑھی تھی اور اس نے قرآن پاک کو بھی اسی لگن سے پڑھا تھا۔ اس کی ماں کی یہ رائے ٹھیک تھی کہ ایرک کو جب ایک چیز کا شوق ہوجاتا تھا تو پھر وہ شوق نہیں جنون بن جاتا تھا، لیکن اس کی ماں کا یہ خیال بالکل غلط تھا کہ وہ ایک دو ہفتوں کے بعد خود ہی اپنے اس شوق سے بے زار ہو جانے والا تھا کیوں کہ وہ متلون مزاج تھا۔
    جبریل کو حیرت نہیں ہوئی تھی جب دن ایرک نے اسے قرآنی قاعدہ کا سبق بالکل ٹھیک ٹھیک سنایا تھا۔ وہ بے حد ذہین تھا اور وہ اتنے سالوں سے اس سے واقف ہونے کے بعد… یہ تو جانتا تھا کہ ایرک کوئی بھی چیز آسانی سے بھلاتا نہیں تھا، لیکن وہ یہ جان کر کچھ دیر خاموش ضرور ہوگیا تھا کہ ایرک نے ایک رات میں بیٹھ کر قرآن پاک کا پورا ترجمہ پڑھ لیا تھا۔
    ’’اس کا فائدہ کیا ہوا؟‘‘ جبریل نے اس سے پوچھا تھا۔
    ’’کس چیز کا…؟ قرآن پاک پڑھنے کا؟‘‘ ایرک نے اس کے سوال کی وضاحت چاہی۔
    ’’ہاں!‘‘ جبریل نے جواب دیا۔
    ایرک کو کوئی جواب نہیں سوجھا، اس کا خیال تھا جبریل اس سے متاثر ہوگا۔ وہ متاثر نہیںہوا تھا، الٹا اس سے سوال کررہا تھا۔
    ’’فائدہ تو نہیں سوچا میں نے، میں نے تو بس تجسس میں پڑھا ہے قرآن پاک۔‘‘ ایرک نے کندھے اچکا کر پوچھا۔
    ’’تو اب تمہاری کیا رائے ہے قرآن پاک کے بارے میں…؟ اب بھی سیکھنا چاہتے ہو؟‘‘ جبریل نے اس سے پوچھا۔
    ’’ہاں… اب اور بھی زیادہ۔‘‘ ایرک نے کہا۔ ’’مجھے یہ بے حد انٹرسٹنگ لگی ہے۔‘‘
    جبریل اس کی بات پر مسکرایا تھا۔ وہ ایسے بات کررہا تھا جیسے انسائیکلوپیڈیا کے بارے میں بات کررہا ہو یا کسی دلچسپ کتاب کے بارے میں جو وہ مکمل پڑھے بغیر نہیں رہ سکا ہو۔
    ’’مقدس کتابوں کو صرف پڑھ لینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔‘‘ جبریل نے اس سے کہا تھا۔ ’’اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘
    ایرک اس کو بغور دیکھتے ہوئے اس کی بات سن رہا تھا۔
    ’’یہ میں جانتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا، یہ وہی بات تھی جو وہ اپنے ماں باپ سے بھی بہت بار سن چکا تھا۔
    اس دن جبریل نے اسے دوسرا سبق قرآنی قاعدہ کا نہیں دیا تھا۔ اس نے اسے دوسرا سبق اسے ایک ’’اچھا انسان‘‘ بننے کے حوالے سے دیا تھا۔
    ’’کوئی بھی ایسی چیز جس کا تعلق اللہ سے ہے اور جو ہم سیکھتے ہیں تو پھر اس دن ہمارے اندر دوسروں کے لئے کچھ زیادہ بہتری آنی چاہیے تاکہ یہ نظر آئے کہ ہم کوئی ’’خاص چیز‘‘ سیکھ رہے ہیں۔‘‘
    جبریل نے اسے سمجھایا تھا۔ وہ تبلیغ کرنا نہیں چاہتا تھا اور یہ مشکل کام بھی تھا کہ اپنے مذہب کا ڈنکا بجائے بغیر کسی کو یہ سمجھا سکے کہ اسلام آخری مذہب کیوں تھا… کامل ترین کیوں تھا۔
    ’’وہ سارے سبجیکٹ جو ہم اسکول میں پڑھتے ہیں اور جو ہم وہاں سیکھتے ہیں، وہ ہماری پرسنالٹی پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ صرف تب ہمارے کام آتے ہیں جب ہمیں ایگزام دینا ہو… جاب کرنی ہو… یا بزنس کرنا ہو… کتابیں ہمیں باعلم بناتی ہیں… باعمل نہیں… باعمل ہمیں صرف وہ کتاب بناسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف باعمل کرنے کے لئے اتاری ہے۔‘‘
    ایرک اس کی بات بڑی توجہ سے سن رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے اس سے پہلے کوئی چیز سمجھا کرتا تھا۔
    ’’بابا نے مجھ سے کہا تھا اگر ہم اچھے انسان نہ بن سکیں اور اپنے خاندان اور معاشرے کے لئے تکلیف کا باعث ہوں تو عبادت کرنے اور مذہب کے بارے میں پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ مذہب اور مذہبی کتابیں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک مقصد کے لئے اتاری ہیں کہ ہم اچھے انسان بن کر رہیں… ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔ خاص طور پر ان کا جو ہماری ذمہ داری ہیں… جیسے تمہارے چھوٹے بہن، بھائی اور تمہاری ممی تمہاری ذمہ داری ہیں… تمہارا اپنا جسم اور ذہن تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔‘‘
    جبریل بڑی ذہانت سے گفتگو کو اس موضوع کی طرف موڑ رہا تھا جس پر وہ ایرک سے بات کرنا چاہتا تھا اور ایرک یہ بات سمجھ رہا تھا۔ وہ چھوٹا تھا، بے وقوف نہیں تھا۔ وہ کہیں اور بیٹھا ہوتا تو کبھی اس موضوع پر کسی کو بات کرنے کی اجازت نہ دیتا۔ وہ ان ایشوز کے حوالے سے اتنا ہی حساس تھا، لیکن وہ اس گھر میں آکر کسی سے بھی کچھ بھی سن لیتا تھا۔
    ’’تو اب تم نے دیکھنا ہے کہ جس دن تم آقرن پاک پڑھ کر جاتے ہو… اس دن تمہارے اندر کیا تبدیلی آتی ہے… اس دن تم اپنی فیملی کے لئے اور دوسروں کے لئے کیا اچھا کام کرتے ہو۔‘‘ جبریل نے جیسے اسے چیلنج دیا تھا۔
    ’’میں کوشش کروں گا۔‘‘ ایرک نے وہ چیلنج قبول کرلیا تھا۔ پھر اس نے جیسے اس کی مدد مانگی۔ ’’تو آج میں گھر میں جا کر کیا کروں؟‘‘
    ’’تم آج ایک ایسا کام مت کرنا جس سے تمہیں پتا ہو کہ تمہاری ممی اپ سیٹ ہوتی ہیں۔‘‘
    جبریل نے اس سے کہا تھا۔ ایرک کچھ خجل سا ہوگیا۔ اسے اندازہ نہیں تھا جبریل اتنے بے دھڑک انداز میں اس کے بارے میں ایسی بات کہے گا۔
    ’’تم مجھے عبداللہ کہا کرو۔‘‘ ایرک نے جان بوجھ کر بات کا موضوع بدلنے کے لئے اسے ٹوکا۔
    ’’عبداللہ تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے… سب سے Kind سب سے زیادہ خیال رکھنے والا اور احساس کرنے والا… کسی کو تکلیف نہ دینے والا، میں تمہیں عبداللہ تب کہنا شروع کروں گا۔ جب تم سب سے پہلے اپنی ممی کو تکلیف دینا بند کردوگے۔‘‘
    جبریل نے اس کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔ ایرک جیسے کچھ اور خجل ہوا۔ ایک لمحے کے لئے اسے لگا جیسے جبریل اس سے جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ اس کی ممی کے کہنے پر کہہ رہا تھا، لیکن وہ اس سے بحث میں نہیں الجھا تھا اس نے خاموشی سے اس کی بات سن لی تھی۔
    اس دن ایرک گھر جاکر پہلی بار رالف سے خوش دلی سے ملا تھا… کیرولین اور وہ دونوں سٹنگ ایریا میں بیٹھے فٹ بال میچ دیکھ رہے ہیں۔ رالف اور کیرولین کو ایک لمحے کے لئے لگا، شاید ایرک سے غلطی ہوئی تھی یا پھر انہیں وہم ہورہا تھا۔ اس نے پہلی بار رالف سے خوش مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا اور کیرولین اس بات پر شروع شروع میں اسے ڈھیروں بار ڈانٹ اور سمجھا چکی تھی۔ زچ ہوچکی تھی اور پھر اس نے ایرک کو کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ایرک اور رالف کے درمیان کبھی کوئی تکرار نہیں ہوئی تھی، لیکن رالف یہ جانتا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا اور اس نے بھی ایرک کے ساتھ فصلے کم کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
    اس کا خیال تھا، ان دونوں کے درمیان فاصلہ رہنا ہی بہتر تھا تاکہ لحاظ ختم نہ ہو، لیکن وہ ذاتی حیثیت میں ایک اچھا سلجھا ہوا آدمی تھا اور وہ ایرک کے حوالے سے کیرولین کی پریشانی کو بھی سمجھتا تھا۔
    ایرک رکے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔ رالف اور کیرولین نے ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھا۔
    ’’اس کو کیا ہوا؟‘‘ رالف نے کچھ خوش گوار حیرت کے ساتھ کہا تھا۔
    ’’پتا نہیں۔‘‘ کیرولین نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
    وہ پہلی تبدیلی نہیں تھی جو ایرک میں آئی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ مزید تبدیل ہوتا گیا تھا۔ ویسا ہی جیسا وہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ قرآن پاک کا سبق ہفتے میں دو دن کے بجائے وہ اب ہر روز لینے جایا کرتا تھا… اگر کبھی جبریل یہ کام نہ کرسکتا تو حمین یا امامہ اسے سبق پڑھا دیتے، لیکن ایرک کو یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں تھا کہ جیسے جبریل اسے پڑھاتا تھا، ویسے اور کوئی نہیں پڑھا سکتا تھا۔ اس کی آواز میں تاثیر تھی، ایرک اس سے پہلے بھی متاثر تھا، لیکن اس سے قرآن پاک پڑھنے کے دوران وہ اس سے مزید قریب ہوگیا تھا۔
    اس گھر میں ایرک کی جڑیں اب زیادہ گہری اور مضبوط ہوگئی تھیں۔ امامہ کی تمام تر احتیاط کے باوجود…
    ٭…٭…٭
    جبریل لوگوں کو نہ سمجھ میں آنے والے انداز میں متاثر کرتا تھا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس کا ٹھہراؤ اس کی عمر کے عام بچوں کے برعکس تھا۔ سالار کی بیماری نے امامہ کے ساتھ ساتھ دس سال کی عمر میں اسے بھی بدل دیا تھا۔ وہ ضرورت سے زیادہ حساس اور اپنی فیملی کے بارے میں زیادہ ذمہ دار ہوگیا تھا یوں جیسے وہ اسی کی ذمہ داری تھی اور سالار اور امامہ یقینا خوش قسمت تھے کہ ان کی سب سے بڑی اولاد میں ایسا احساس ذمہ داری تھا۔
    اس نے امریکا میں سالار کی سرجری اور اس کے بعد وہاں امامہ کے بھی وہیں قیام کے دوران اپنے تینوں چھوٹے بہن، بھائیوں کی پروا کسی باپ ہی کی طرح کی تھی۔
    سکندر عثمان اور طیبہ، سالار کے بچوں کی تربیت سے پہلے بھی متاثر تھے، لیکن ان کی غیر موجودگی میں جبریل نے جس طرح ان کے گھر پر اپنے بہن بھائیوں کا خیال رکھا تھا، وہ ان کو مزید متاثر کرگیا تھا۔ امامہ نے اپنے بچوں سے کہا تھا کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے، ہم یہاں مہمان ہیں اور مہمان کبھی میزبان کو شکایت کا موقع نہیں دیتے اور ان چاروں نے ایسا ہی کیا تھا۔ طیبہ اور سکندر کو کبھی ان چاروں بچوں کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا نہ ہی انہیں ان کے حوالے سے کسی اضافہ ذمہ داری کا احساس ہوا تھا۔
    وہ تینوں اپنا ہر کام خود ہی کرلینے کی کوشش کرتے تھے اور رئیسہ کی ذمہ داری ان تینوں نے آپس میں بانٹی ہوئی تھی کیوں کہ ان چاروں میں سب سے چھوٹی اور کسی حد تک اپنے کاموں کے لئے، وہی دوسروں پر انحصار کرتی تھی۔
    اپنے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اس طرح اپنے سر لینے نے جبریل کو بہت بدلا تھا۔ ایک دس سالہ بچہ کئی مہینے اپنا کھیل کود، اپنی سرگرمیاں بھلا بیٹھا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب جبریل ذہنی طور پر بھی بدلتا چلا گیا تھا۔
    تیرہ سال کی عمر میں ہائی اسکول سے ڈس ٹنکشن کے ساتھ پاس کرکے یونیورسٹی جانے والا وہ اپنے اسکول کا پہلا اسٹوڈنٹ تھا اور وہ یونیورسٹی صرف ڈس ٹنکشن کے ساتھ نہیں پہنچا تھا، وہ وہاں بل گیٹس فاؤنڈیشن کی ایک اسکالر شپ پر پہنچا تھا۔ وہ، وہ پہلی سیڑھی تھی جو میڈیسن کی طرف جاتے ہوئے اس نے چڑھی تھی سالار سکندر کے خاندان کا پہلا پرندہ یونیورسٹی پہنچ چکا تھا۔
    ٭…٭…٭