من و سلویٰ — قسط نمبر ۹

”یہ فلم اگر ریلیز ہو جاتی تو آنے والے کئی سال تک لوگ اس فلم اور آپ کی ایکٹنگ کے بارے میں باتیں کرتے رہتے۔” سلطان نے گھر پہنچنے پر اس سے کہا تھا۔ وہ اس کے لیے کپڑے نکال رہا تھا۔
”ریلیز نہیں ہوئی تب بھی اگلے کئی سال لوگ اس فلم کے بارے میں بات کریں گے… زیادہ یاد گار بن گئی ہے یہ فلم۔”
وہ اپنے سیل پر کسی کو کال کر رہی تھی۔ سلطان نے بڑے غور سے اس کو دیکھا۔ وہاں طنز تھا یا تنفر وہ اندازہ نہیں کر سکا۔
”آپ نے لازوال ایکٹنگ کی تھی اس میں لوگ زیبا، شمیم آرا، صبیحہ خانم کو بھول جاتے… انڈسٹری میں اگلے 20 سال صرف پری زاد کا نام ہوتا۔” سلطان نے کہا۔
”تین انڈین فلموں کے چربہ اور چار عامیانہ گانوں پر بے ہودہ ڈانس کر کے اگر میں پاکستان فلم انڈسٹری میں نئی تاریخ بناتے بناتے رہ گئی ہوں… تو فکر مت کرو… یہ تاریخ میں اس سال کئی فلموں کے ذریعے بناؤں گی۔”
شاید کال دوسری طرف نہیں مل رہی تھی پری زاد نے فون رکھ دیا تھا۔ سلطان اس بار رہ نہیں سکا وہ لپکتے ہوئے پری زاد کے پاس آیا۔
”آپ کو خوشی ہوئی ہے کہ یہ فلم ضائع ہو گئی ؟” اس نے بالآخر وہ سوال کیا۔
”ہاں۔”
جواب اتنے بے دھڑک انداز میں آیا تھا کہ سلطان چند لمحے بول ہی نہیں سکا۔ وہ پری زاد سے کم از کم ”ہاں” کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ اور اس ”ہاں” میں اور کتنے ”ہاں” تھے سلطان کا جیسے حلق خشک ہونے لگا تھا۔
”پری جی۔۔۔۔”
سلطان نے وہ سوال کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈنے شروع کیے جس کا ایک متوقع نتیجہ اس کی پری زاد کے گھر سے ہمیشہ کی چھٹی بھی ہو سکتا تھا۔ البتہ اسے پری زاد کے ہاتھوں اس طرح پٹنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا جس طرح وہ اس سے پہلے والی ہیروئنوں کے ساتھ رہ کر بات بات پر پٹتا تھا۔
”یہ حادثہ … جو ہوا ہے… تبریز پاشا کے سٹوڈیو میں۔۔۔۔” سلطان کو شاید زندگی میں پہلی بار لفظ نہیں مل رہے تھے… چند لمحوں کے لیے اس نے سوال نہ کرنے کا بھی سوچا… لیکن اب دیر ہو گئی تھی۔ سوال سے پہلے جواب اسے مل گیا تھا۔
”اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔۔۔۔” پری زاد نے جیسے اس کا ذہن پڑھا تھا… تین دنوں سے اگر وہ اس کا چہرہ پڑھ رہا تھا تو وہ بھی یہی کام کر رہی تھی۔ سلطان اس کا کتنا بھی وفادار کیوں نہ ہوتا یہ فلم انڈسٹری پر حملہ تھا اور سلطان کی ہمدردیاں اس سے زیادہ اس فلم انڈسٹری کے ساتھ تھیں جسے وہ پوجتا تھا… اسے اگر شک بھی ہو جاتا کہ یہ پری زاد کا کام تھا تو سلطان اس درخت کو کاٹنے کی کوشش پر چپ بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا جس کی شاخوں پر اس سمیت لاکھوں لوگ بیٹھے ہوئے تھے… اور وہ واقعی بے وقوف ہوتی اگر وہ سلطان کو اس معاملے میں کسی شک و شبہے کا شکار ہونے دیتی۔
”میں تبریز پاشا سے نفرت کرتی ہوں… صرف تبریز پاشا نہیں اس انڈسٹری کا ہر ڈائریکٹر ہر پروڈیوسر … ان میں سے جوبھی گرے گا میں اسے تماشائی بن کر ہی دیکھوں گی… اس کا سوگ منانے یا ماتم کرنے نہیں بیٹھوں گی۔ پاشا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسی کے قابل تھا۔ ” پری زاد نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
سلطان نے اطمینان کا سانس لیا ۔ نفرت کوئی قابل اعتراض چیز نہیں تھی اس انڈسٹری میں ہر ایک دوسرے سے نفرت ہی کرتا تھا۔ یہ ایک قدر مشترک تھی انڈسٹری کے ہر فرد میں لیکن اس کے باوجود ہر ایک دوسرے کے ساتھ کام بھی کرتا تھا اور بقائے باہمی پر بھی یقین رکھتا تھا۔ سلطان کو اس بات پر کوئی پریشانی نہیں تھی کہ وہ تبریز پاشا کی موت پر رنجیدہ کیوں نہیں ہے۔ تبریز پاشا کی موت پر دل سے کوئی بھی رنجیدہ نہیں تھا… سلطان کو صرف پریشانی یہ تھی کہ وہ اس فلم کے ضائع ہونے اور پاشا پروڈکشنز کے بند ہو جانے پر اس طرح صدمہ زدہ کیوں نہیں ہے جس طرح اسے ہونا چاہیے… پری زاد نے بات کلیئر کر دی تھی اور کسی حد تک اس کے خدشات بھی دور کر دیے تھے… سلطان کو یہ اندازہ نہیں تھا… یہ صرف آغاز تھا۔




تبریز پاشا کی موت کے پانچویں ہی دن انور حبیب نے پری زاد کو فون کر کے اس سے اس فلم کے بارے میں پوچھا تھا جو وہ پاشا پروڈکشنز کے بینر کے نیچے بنانے کا ارادہ رکھتی تھی اور جو اب کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی تھی۔ تبریز پاشا کے منظر عام سے ہٹ جانے کے بعد اور پاشا پروڈکشنز کے وقتی طور پر بند ہو جانے کے بعد جو چند بڑے ڈائریکٹر بڑی بڑی اڑانیں بھرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ان میں انور حبیب بھی شامل تھا۔ جو اب پری زاد کے ساتھ وہی فلم بنانا چاہتا تھا جو پہلے اسے ایک رسک لگ رہی تھی۔ پری زاد نے بے حد خوش دلی کے ساتھ اس کی آفر قبول کر لی تھی۔ انور حبیب کی کال سے پہلے ہی وہ اس کی کال کا انتظار کر رہی تھی وہ جانتی تھی کہ انور حبیب اب اس فلم کے سلسلے میں اس سے رابطہ کرے گا… تبریز پاشا کی موت کے ٹھیک 30 دن بعد پری زاد اور انور حبیب نے ایک پریس کانفرنس میں ا پنے اس مشترکہ پروجیکٹ کا اعلان کیا جسے وہ دونوں تبریز پاشا کو Dedicate کر رہے تھے… اور اس پریس کانفرنس کے چند گھنٹوں کے بعد پری زاد کو سفیر خان کی کال ملی تھی جو اس کے انور حبیب کے ساتھ کیے جانے والے اس پروجیکٹ پر بُری طرح چراغ پا ہو رہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ سب سے پہلے پری زاد نے اسی کے ساتھ یہ فلم بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس لیے اسے ابھی بھی اس پروجیکٹ کے سلسلے میں انور حبیب پر ترجیح ملنی چاہیے تھی۔ پری زاد نے بڑے اطمینان سے اسے بتایا کہ انور حبیب نے اس سے پہلے اس سے رابطہ کیا تھا سفیر خان اگلا ایک گھنٹہ پری زاد کو انور حبیب کے بارے میں ان تمام خطرات سے آگاہ کرتا رہا جن سے وہ سفیر خان کے خیال میں واقف نہیں تھی۔ پری زاد بے حد متانت سے اس کی باتیں سنتی رہی پھر اس نے اپنی کسی مصروفیت کا بہانہ بنا کر فون رکھ دیا تھا۔ وہ جانتی تھی اس فلم میں انور حبیب کی شمولیت سفیر خان اور انور حبیب کے درمیان پچھلے کئی سالوں سے چلی آنے والی دوستی کا اختتام تھا۔ وہ جب تک اکٹھے تھے کوئی عورت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھی… اور پری زاد نے انہیں اکٹھا نہیں رہنے دیا تھا وہ انہیں آپس میں توڑ کر ختم کر سکتی تھی اور وہ کر رہی تھی تبریز پاشا کی ”بہارروں کے سنگ” کی بجائے انہیں تاریخوں میں کرم علی کی فلم سینماز میں ریلیز ہو گئی تھی اور فلم نے بڑا بزنس کیا تھا… اس کے باوجود کہ اس فلم میں پری زاد کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا سٹار نہیں تھا… اور اس چیز نے جہاں پری زاد کی مارکیٹ ویلیو بڑھائی تھی وہاں بہت سے دوسرے ایکٹرز اور ایکٹریسز کے اندیشوں میں اضافہ کر دیا تھا… وہ انڈسٹری کی پہلی ہیروئن تھی جسے کامیابی کے لیے کسی ”جوڑی” کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں پڑ رہی تھی وہ جس ہیرو کے ساتھ کام کرتی وہ فلم ہٹ ہو جاتی۔
پری زاد نام کا جو سورج طلوع ہوا تھا اس نے بڑے بڑے ستاروں کو گہنا کر رکھ دیا تھا۔
٭٭٭
زری اور جمال کے درمیان صلح کرم سے زری کے شادی کے تین دن بعد ہی ہو گئی تھی جب زری شادی کے بعد رہنے کے لیے اپنے میکے آئی تھی اور یہاں آنے کے بعد جو پہلا کام اس نے کیا تھا وہ جمال سے معافی کا تھا۔ یہ کام اس کی توقعات سے بھی زیادہ آسان ثابت ہوا تھا۔ جمال عام حالات میں اس سے ناراض ہوتا تو اسے اسے منانے میں کئی کئی دن لگ جاتے لیکن وہ تب تھا جب وہ چوکیدار حمید کے گھر پر محلے کے کپڑے سینے والی زری ہوتی تھی… اب وہ کینیڈا میں بسنے والے ایک کروڑ پتی آدمی کی بیوی تھی اور اس کے جسم پر موجود لباس اور زیورات جیسے میلوں دور سے دوسروں کو اس کی اطلاع دیتے تھے۔ اس کے جسم پر موجود ایک ایک شے پکار پکار کر جیسے اعلان کرنے لگی تھی کہ اس کی کلاس تبدیل ہو چکی ہے… اور اس تبدیلی کے باوجود اگر وہ جمال سے معافی مانگ رہی تھی اور اس کے ساتھ پرانے مراسم بحال کرنا چاہ رہی تھی تو جمال کے لیے انکار کیسے ممکن تھا… وہ چند گلے شکوؤں کے بعد بہت آسانی سے مان گیا تھا۔ وہ ہر بار اپنے گھر جانے پر کرم کو گھر بٹھا کر اپنی دوستوں سے ملنے کے بہانے کہیں نہ کہیں جمال سے ضرور ملتی… اور صرف اتنا نہیں تھا وہ کھلے دل سے جمال کو وہ پیسہ بھی دے رہی تھی جو کرم اسے دیتا تھا… زری کی زندگی میں صرف جمال ہی وہ شخص تھا جس کے ساتھ اس کا کوئی حساب کتاب نہیں تھا… اور جس کو وہ آنکھیں بند کیے کچھ بھی دے دیتی اسے کوئی ملال نہ ہوتا… وہ کرم کے پاکستان میں قیام کے دوران بھی اس سے ملتی رہی اور اس کے پاکستان سے چلے جانے کے بعد بھی اور یہ میل جول تمام اخلاقی حدود قیود کو پار کر گیا تھا… یہ زری کا پلان تھا کہ وہ چند سال کرم کے ساتھ رہ کر اتنا روپیہ اکٹھا کر لے گی کہ جمال کو کینیڈا بلا لے اور پھر وہ کرم سے طلاق لے کر اس سے شادی کر لے گی… اور دونوں کینیڈا میں ہی رہیں گے اور کوئی کام کر لیں گے… اس نے وہ سارا حساب کتاب جمال کو بھی بتایا تھا جو شادی کی رات اس نے کرم سے اپنی پہلی گفتگو میں کیا تھا… جمال کی جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو وہ زری پر لعنت بھیجتا اور اپنی راہ لیتا یا پھر اسے مجبور کرتا کہ وہ کرم سے فوری طلاق لے… حق مہر اور زیورات کی شکل جو کچھ اسے مل چکا تھا وہ پہلے ہی ان دونوں کے لیے بہت کافی تھا… مگر یہ کینیڈا جانے کا خواب تھا جو زری نے جمال کو دکھا دیا تھا… اور جمال کے لیے اب یہ بہت مشکل تھا کہ وہ اتنی آسانی سے اس خواب کو ذہن سے نکال دیتا۔
زری کینیڈا جانے کے بعد صرف اپنے والدین کو ہی نہیں جمال کو بھی بڑی بڑی رقوم بھیجتی رہی… اور اس نے دو مرتبہ جمال کو کینیڈا آنے کے لیے کسی ایجنٹ سے جعلی دستاویزات بنوانے کے لیے بھاری رقوم بھجوائیں… دونوں دفعہ جمال نے اس پیسے کو اپنے اللّے تللّوں میں ضائع کیا اور زری سے یہ جھوٹ بول دیا کہ اس کے ساتھ فراڈ ہو گیا تھا… دونوں کے درمیان اس مسئلے پر معمولی تلخی بھی ہوئی زری کو اس کی بات پر شک بھی تھا اس کے باوجود وہ اس کی بات پر یقین کرنے پر مجبور تھی… کرم کے پاس کینیڈا کی شہرت تھی اور زری اگر زیادہ پڑھی لکھی یا قانونی معاملات سے واقف ہوتی تو یہ جان جاتی کہ وہ اگر صرف کچھ عرصہ خاموشی سے وہاں پیپر ورک مکمل ہونے تک گزارلے… تو کسی ایجنٹ کی مدد کے بغیر وہ کرم سے طلاق لے کر جمال سے شادی کرنے کے بعد اسے خود بھی بلانے کی کوشش کر سکتی تھی اور شاید وہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان قانونی معاملات سے واقف ہو بھی جاتی اگر اس کے دوران ہی کرم اسے پاکستان نہ بھجواتا اور اسے یہ احساس نہ ہونے لگتا کہ جمال کو اب کینیڈا آکر اس سے شادی کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی تھی… زری کی عدم موجودگی میں اس کے فراہم کیے جانے والے پیسے کو وہ بے حد بے دردی سے خرچ کر رہا تھا اور اس نے زری کے علاوہ بھی بہت سی دوسری دلچسپیاں ڈھونڈ لی تھیں… زری سے اگرچہ اس نے یہ سب کچھ چھپانے کی کوشش کی تھی… لیکن وہ زری تھی اس سے کچھ چھپا رہنا ناممکن تھا… جمال نے اس کے سامنے وضاحتوں اور جھوٹوں کا ایک پہاڑ کھڑا کر دیا تھا اس کے باوجود زری کے لیے اس پہاڑ کے دوسری طرف دیکھنا مشکل نہیں تھا… اسے شدید صدمہ تو پہنچا تھا لیکن جمال اس کی کمزوری تھا اس کی بے وفائی کے باوجود وہ اسے نہیں چھوڑ سکتی تھی اور جمال یہ بات اچھی طرح جان چکا تھا… زری کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ جلد از جلد جمال کو کینیڈا بلوانے اور اس سے شادی کی کوشش کرے… اور یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ یہ موقع کینیڈا واپس جانے کے فوراً بعد ہی آگیا تھا۔ کرم سے اس آمنے سامنے نے یقینا کچھ دیر کے لیے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی… لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اگر کوئی صحیح معنوں میں اس کی مدد کرنے کے قابل تھا تو وہ بھی کرم ہی تھا… جو کسی دوسری لڑکی کے لیے بے حیائی کی انتہا ہوتی وہ زری کے نزدیک صرف ایک معمولی نیکی تھی جسے کرنے کا وہ کرم سے مطالبہ کر رہی تھی۔
وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے رو رہی تھی۔ اور کرم اسے صرف بے یقینی سے دیکھ رہا تھا… کیا اس سے زیادہ ناقابل یقین چیز اس کی زندگی میں ہو سکتی تھی؟… یقینا ہو سکتی تھی… صرف کرم علی ہی تو ایسا تھا جس کے لیے ایسی ہر آزمائش لکھ دی گئی تھی۔
”میرے سامنے ہاتھ مت جوڑو زری!” کرم نے اس کے ہاتھ اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے کہا تھا… اس نے واقعی زندگی میں کسی کو اپنے سامنے ہاتھ جوڑے نہیں دیکھا تھا اور اب زری جوڑ رہی تھی تو اسے تکلیف ہو رہی تھی۔
”میں بہت مجبور ہو گئی تھی واقعی کرم… آپ اللہ کے لیے مجھے معاف کر دیں۔ میری مدد کریں۔”
اس نے اب ہاتھ ہٹا لیے تھے لیکن رونا نہیں چھوڑا تھا۔ کرم بے حد خاموشی سے اس کے بہتے آنسوؤں کو دیکھتا رہا… اسے اس وقت زری پر کوئی غصہ نہیں آرہا تھا… چند گھنٹے پہلے والا اشتعال ختم ہو چکا تھا… وہ اس سے محبت نہیں کرتی تھی اور نہیں کر سکتی تھی… بات صرف اتنی سی تھی۔ وہ پیسے سے کسی عورت کا وقت خرید سکتا تھا، جسم خرید سکتا تھا۔ اس کے لہجے کی مصنوعی مٹھاس اور آنکھوں میں جھوٹی محبت خرید سکتا تھا لیکن وہ کسی کا دل نہیں خرید سکتا تھا۔ دل وہیں جاتا ہے جہاں اس نے جانا ہوتا ہے… جمال نکما تھا آواہ تھا خالی ہاتھ اور خالی جیب تھا مگر زری اس پر مرتی تھی… اور کرم علی اسے کیا سمجھا سکتا تھا… شاید سمجھانے کی کوشش کرتا اگر زری نے کسی حدود و قیود کا لحاظ رکھا ہوتا… صرف یہ ایک چیز تھی جو کرم سے برداشت نہیں ہوئی تھی صرف یہی ایک چیز تھی جس پر کرم کو شدید ہتک کا احساس ہوا تھا۔ وہ ایک غیر مرد کے ساتھ پاکستان میں چند ہفتے بے حد آرام سے گزار آئی تھی اور وہ یہ چاہتی تھی کہ کرم اب اسی مرد کے ساتھ شادی کرنے میں اس کی مدد بھی کرے… کرم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے… زری کو برا بھلا کہے یا اپنے اوپر ہنسے۔
وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گیا سب سے آسان کام اس وقت اسے صرف یہی لگا تھا۔ عورت سے ایک بار پھر اس کا اعتماد بری طرح اٹھا تھا… اس بار صرف اعتبار نہیں اس بار دل اٹھ گیا تھا اس کا… اس رات اسے وہ سارے مرد یاد آتے رہے جو پاکستان میں بیٹھی ہوئی اپنی بیویوں، بہنوں اور ماؤں سے نفرت کرتے تھے اس کے باوجود ان سے رشتہ قائم رکھنے پر مجبور تھے۔ ان کے ہاتھوں Exploit ہونے پر بھی مجبور تھے۔
اسے پچھلے کئی سالوں میں اپنی ماں اور بہنوں کے بارے میں کسی قسم کی کوئی خوش فہمی نہیں رہ گئی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں اس کا یہ خیال یا خوش فہمی تھی کہ کم از کم بیوی کے طور پر اس کی زندگی کا حصہ بننے والی عورت اس سے وہ سلوک نہیں کرے گی جو اس جیسے دوسرے مردوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے… وہ یہاں بھی بد قسمت نکلا تھا۔
کئی سال پہلے نیویارک کی اس تیسری منزل کے اپارٹمنٹ کے ساتھیوں کی وہ ساری باتیں اس کے لیے جیسے حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی تھیں۔ وہ صابر قیوم، مجاہد، تنویر یا شوکت زمان کی طرح زری کو گالیاں نہیں دے سکا تھا… اسے برا بھلا نہیں کہہ سکا… اسے زری سے نفرت بھی نہیں ہوئی تھی… لیکن ہاں رنج… رنج تھا کہ جا ہی نہیں رہا تھا۔ آخر کسی عورت کا دل کیسے جیتا جاتا ہے؟… کیسے جیتا جا سکتا ہے؟… دل ہوتا بھی ہے عورت کے پاس…؟ وہ وہاں بیٹھا پتا نہیں کیا کیا سوچ رہا تھا… اور ہر سوچ کی لہر کو ایک ہی چہرہ ڈسٹرب کر رہا تھا… زینی کا چہرہ… وہ پچھلے ایک سال سے ہر بار اس کا خیال آنے پر اپنے دل کو صرف ایک بات کہہ کر اس کے تصور کو جھٹلاتا رہا تھا… وہ بے کردار ہے… اور میری بیوی باکردار ہے… اس میں ہر خامی سہی لیکن وہ پاکباز ہے… اور اب جیسے زینی اس کو منہ چڑانے لگی تھی وہ ایکٹریس تھی رسوائے زمانہ تھی وہ سب کچھ کرنے پر مجبور تھی جو وہ کر رہی تھی… لیکن زری اس کے پاس کیا جواز کیا مجبوری تھی؟… دوگنی عمر، کم صورتی اور برص… یا پھر صرف ہوس… جو اس میں تھی زینی میں نہیں تھی… فریب… جو اس میں تھا زینی میں نہیں تھا… جھوٹ… جو اس میں تھا زینی میں نہیں تھا… وہ بری طرح جھنجلایا آخر اس وقت وہ کیوں زینی کے ساتھ اس کا موازنہ کرنے بیٹھ گیا تھا… کیوں بار بار اس کے بارے میں…؟ وہ اب جیسے خود پر پہرے بٹھانے لگا تھا… سوال صرف اب زری کا تھا… صرف زری کا… وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے… اس کا مطالبہ مان لے؟… یا اسے واپس پاکستان بھجوا دے…؟




Loading

Read Previous

من و سلویٰ — قسط نمبر ۸

Read Next

من و سلویٰ — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!