حاصل — قسط نمبر ۱

”ہاں۔”
”پھر اب تم کہاں رہتی ہو؟”
”ایک ہاسٹل میں۔”
اس کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ اب اس سے اورکیاپوچھے، چند لمحے وہ خاموش رہا تھا۔
”پھرتم یہاں کیوں آئی ہو؟”
”یہاں کچھ لوگوں سے واقفیت ہے، وہ ابھی یہ نہیں جانتے کہ میں مذہب تبدیل کر چکی ہوں۔ اس لیے میری مدد کردیتے ہیں فنانشلی۔ مجھے جاب کی بھی تلاش ہے اورشاید یہاں جاب مل جائے۔”
حدید سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔”اگر ان لوگوں کو تمہارے بارے میں پتا چل گیا تو؟”
”میں نہیں جانتی پھر کیا ہوگا۔ میں لاہور سے تعلق نہیں رکھتی۔ ایک چھوٹے سے شہر سے تعلق ہے میرا۔ میری فیملی کو پتا نہیں ہے کہ میں یہاں ہوں۔”
”تم خود گھر چھوڑ کر آگئی ہو؟”
” ہاں۔” حدید ایک بار پھر خاموش ہوگیا تھا۔ دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
وہ اس شام کچھ بوجھل دل کے ساتھ واپس گھر آیا تھا۔ وہ کرسٹینا کی بے خوفی اور جرأت پر حیران تھا۔ کیا کوئی لڑکی اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔ کیا کوئی اتنا ثابت قدم ہوسکتا ہے اور یہ ثابت قدمی اسے میری کتاب نے عطا کی ہے تو کیا مجھے یہ ثابت قدمی اپنی کتاب سے نہیں مل سکتی۔ اس کا ذہن ایک عجیب کش مکش کا شکار تھا۔ ملازم نے اسے فادر جوشوا کے فون کے بارے میں بتایا تھا۔ اس نے چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا تھا اورپھر کہا تھا۔
”ان سے کہہ دو، میں گھر پر نہیں ہوں اوراب جب بھی ان کا فون آئے یہی کہنا۔”
ملازم نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا اورپھر سر ہلا کر چلا گیا تھا وہ جیسے کسی بھنور سے باہر نکل رہا تھا۔
”ہاں واقعی اگر ایک عیسائی لڑکی کو میرے دین سے اتنی تقویت مل سکتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ سکتی ہے تو مجھے کیوں نہیں۔ کرسٹینا ٹھیک کہتی ہے، میں نے اللہ کو اس طرح پکارا نہیں ہوگا۔ میراایمان کمزور ہوگا، اپنے مذہب کے بارے میں میرا علم سطحی ہے میں واقعی کبھی بھی ایک مسلم نہیں رہا۔ مجھ میں بہت سی ایسی خرابیاں ہیں جن پر آج تک میری نظر نہیں گئی۔ میں نے… میں نے…۔”
*…*…*





”آسمانوں اورزمین کی بادشاہی اسی کی ہے، وہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے۔”
اگلے دن وہ اسے ایک صفحے پر لکھا ہوا سورة حدید کا ترجمہ سنا رہی تھی۔
” اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تم جہاں کہیں ہو۔ وہ تمہارے ساتھ ہے اورجو کچھ تم کرتے ہو۔ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔”
وہ رک گئی تھی۔ اس نے حدید کو دیکھا تھا وہ اس سے نظر چرا گیا تھا۔
”اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔” اس کی آواز بے حد نرم تھی۔ ”حالانکہ اس کے پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اس پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باورہو تو وہ تم سے اس کا عہد بھی لے چکے ہیں۔”
حدید نے اس کی طرف دیکھا تھا، کرسٹینا اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔
”جس دن تم مومن مردوں اورمومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے ایمان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے۔”
حدید نے سر جھکا لیا وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی۔
”تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو بشارت ہو کہ آج تمہارے لیے بہشتیں ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔، ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں۔”
اس کی آواز بھرا گئی تھی۔وہ رک گئی تھی ۔حدید نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ اپنے لرزتے ہوئے ہونٹوں کو بھنیچتے ہوئے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں لرزش تھی، اس نے کاغذ حدید کی طرف بڑھادیا۔
”باقی تم پڑھو۔” بھیگی ہوئی آواز میں اس نے کہاتھا۔
”نہیں۔ میں تم سے سننا چاہتا ہوں۔”
وہ چند لمحے ساکت رہی تھی پھر جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے بولنے لگی تھی۔
”اس دن منافق مرد اورمنافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ۔”
حدید نے اپنے بازوؤں میں چہرہ چھپا لیا تھا۔
” اور وہاں نور تلاش کروپھر ان کے بیچ ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ جو اس کے اندر ونی جانب ہو تو اس میں تو رحمت ہے اورجو بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے۔ وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اورہمارے حق میں حوادث کے منتظر رہے اوراسلام میں شک کیا۔”
اس کی آواز اسے اندر تک کاٹ رہی تھی وہ دوبارہ کبھی کسی کو اپنا چہرہ دکھانا نہیں چاہتا تھا۔
”اورلاحاصل آرزوؤں نے تم کو دھوکا دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آن پہنچا اور خداکے بارے میں شیطان دغا بازدغا دیتا رہا تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیاجائے گا اورنہ کافروں سے ہی۔”
اس کاپورا وجود موم بن کر پگھل رہا تھا۔ وہ آہستہ آواز میں بولتی جارہی تھی۔
” اورنہ کافروں سے ہی قبول کیا جائے گا۔ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے کہ وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے اور جو لوگ خدا اوراسکے پیغمبر پر ایمان لائے۔ یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کے اعمال کا صلہ ہوگا اورجن لوگوں نے کفر کیا اورتمہاری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں۔وہ تمہارے لیے روشنی کردے گا جس میں چلو گے وہ تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔”
وہ خاموش ہوگئی تھی۔ حدید بازوؤں میں سر چھپائے بیٹھا رہا ۔ چاروں طرف ایک عجیب سا سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ ہوا سے ہلنے والے پتوں کی سرسراہٹ کے علاوہ وہاں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
بہت دیر بعد حدید نے سر اٹھایا تھا۔ کرسٹینا نے اس کے چہرے کو آنسوؤں سے تر دیکھا تھا۔
”اگر میں واپس جانا چاہوں تو؟ اگر مجھے…اگر مجھے اپنے کیے پر افسوس ہو تو؟ اگر میں … اللہ سے معافی مانگنا چاہوں تو؟ اگر… اگر میں پچھتاوے کا اظہار کروں تو… ؟ تو کیا ہوگا کرسٹینا کیا اللہ مجھے معاف کردے گا؟”
اس نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں اس سے پوچھا تھا۔
”ہاں۔ وہ تمہیں معاف کردے گا وہ تمہارے لیے روشنی کردے گا جس میں چلو گے اورتمہیں بخش دے گا اورخدا بخشنے والا مہربان ہے۔”
”تو میں، میں دوبارہ کبھی یہ گناہ نہیں کروں گا۔ میں دوبارہ کبھی یہ سب نہیں کروں گا۔ میں مرتے دن تک مسلمان ہی رہو ں گا۔ میں اب کسی چیز کے گم ہونے پر خدا سے شکوہ نہیں کروں گا۔ بس تم میرے لیے اللہ سے دعا کرنا کہ وہ مجھے معاف کردے۔”
وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا گیا تھا۔
*…*…*
”میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے باہر جانا چاہتا ہوں کچھ پراپرٹی بیچ چکا ہوں۔ باقی چند دنوں میں بیچ دوں گا۔”
اگلے دن وہ بے حد پرسکون تھا۔ ٹھہرے ہوئے لہجے میںوہ اپنے آئندہ پروگرام کے بارے میں بتا رہا تھا۔وہ سنتی جارہی تھی بات کرتے کرتے وہ اچانک رک گیا۔
”تمہارا نام کیا اب بھی کرسٹینا ہی ہے؟”
”نہیں میرا نام ثانیہ ہے۔” اس نے حدید کو بتایا تھا۔
”مگرسب یہاں مجھے کرسٹینا کے نام سے ہی جانتے ہیں۔”
”میں تم سے باہر جانے کے بعد بھی کانٹیکٹ رکھناچاہتا ہوں تم مجھے کوئی ایڈریس بتاؤ۔ کوئی فون نمبر؟” ثانیہ کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی۔
”تم دار الکلام آکر میرے بارے میں پوچھ سکتے ہو۔ رابطہ بھی کرسکتے ہو۔”
اس نے حدید کو ایک ایڈریس لکھوا دیا تھا۔ حدید نے اس کا ایڈریس نوٹ کرلیا تھا۔
”میں باہرجاکر تمہیں اپنا ایڈریس بجھوا دوں گا، کیا میں توقع رکھوں کہ تم میرے ساتھ رابطہ رکھو گی؟”
اس نے والٹ جیب میں رکھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا اس نے سر ہلا دیا۔
*…*…*
اگلے ایک ہفتہ میں اس نے اپنی باقی پراپرٹی بھی بیچ دی تھی۔ اپنے نانا کو اس نے اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی اورسیٹ کنفرم کروانے کے بعد وہ آخری بار کرسٹیناسے ملنے گیا تھا۔
”میں کل واپس جارہا ہوں۔” اس نے کرسٹینا کو بتایا تھا۔
وہ خاموش رہی تھی۔ کچھ دیرتک اس نے بھی کچھ نہیں کہا تھا۔ حدید نے اپنی جیب سے ایک چیک نکال کر اس کی طرف بڑھایا تھا وہ حیران ہوئی تھی۔
”یہ کچھ روپے ہیں، یہ بہت زیادہ نہیں ہیں، مگر اتنے ضرور ہیں کہ تمہیں کافی عرصے تک کسی سے مدد نہیں لینی پڑے گی۔ تم مسلمان ہوچکی ہو تو تمہیں مسلمان بن کر رہناچاہیے۔”
کرسٹینا نے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔”مجھے روپے کی ضرورت نہیں ہے میری جاب کا انتظام ہوچکا ہے۔ اب مجھے کوئی پرابلم نہیں ہوگی۔”
”پھر بھی میں چاہتا ہوں ۔یہ چیک تم لے لو۔ تمہیں اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔”
”حدید! مجھے ضرورت نہیں ہے، مجھے تم سے روپیہ نہیں چاہیے۔”
اس بار اس نے عجیب سے لہجے میں کہا تھا۔حدید کچھ مایوس ہوا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا تھا۔ خاموشی کا ایک اور طویل وقفہ ان کے درمیان آیا تھا۔
”کیا تم دوسال میرا انتظار کرسکتی ہو؟”
”اس نے کرسٹینا کو چونکتے دیکھا تھا۔” انتظار؟”
”تم نے کہا تھا، تم مجھ سے محبت کرتی ہو… ہم دونوں اکٹھے اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دوسال بعد میں واپس آکر تم سے شادی کرلوں گا۔ ” وہ اس سے کہہ رہا تھا۔
”تم میرے بارے میں بہت کم جانتے ہو۔”
”مجھے کچھ نہیں جاننا، میرے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔”
وہ اس کی بات پر اس کا چہرہ بہت غور سے دیکھتی رہی تھی۔
”کیا تم دوسال میرا انتظار کرسکتی ہو؟” وہ ایک پھر پوچھ رہا تھا۔
”ہاں۔”
وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا، کرسٹینا نے اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوتے دیکھی تھی۔ کچھ دیر تک وہ کچھ کہے بغیر اس کے پاس کھڑا رہا تھا پھر کرسٹینا نے اسے سیڑھیوں سے اترتے دیکھاتھا۔ آہستہ آہستہ وہ مڑ کر کر اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ کرسٹینا نے ایک گہری سانس لے کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں ڈھانپ لیا تھا۔
*…*…*
لندن میں آکر پہلا کام جو اس نے کیا تھا وہ کرسٹینا کو خط لکھنے کا تھا۔
ثانیہ!
پچھلے چند ہفتوں میں میری زندگی میں بہت کچھ بدل گیا ہے اگلے چند ہفتوں میں مجھے کچھ اور تبدیلیوں سے گزرنا ہے۔ زندگی میں پہلی بار مجھے ان تبدیلیوں سے خوف نہیں آرہا۔ زندگی میں پہلی بار مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں زمین پر کھڑا ہوں کسی خلا میں نہیں ہوں۔ تم نے مجھے قرآن پاک پڑھنے کے لیے کہا تھا۔ آج یہاں آنے کے بعد جب میں نے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو پہلی آیت وہ تھی جس کا ترجمہ چند دن پہلے تم نے مجھے سنایا تھا۔میرے لیے واقعی میرا اللہ کافی ہے ابھی چند دن مجھے خود کو دریافت کرنے میں لگیں گے، اس کے بعد تمہیں بتاؤں گا کہ اپنے دین کو جاننا شروع کرنے کے بعد مجھے کیسا لگ رہا ہے۔
مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔
محمد حدید
یہ آخری خط نہیں تھا جو اس نے ثانیہ کو لکھا تھا، ہر ہفتے وہ اسے خط پوسٹ کردیتاچاہے پہلے خط کا جواب آیا ہوتا یا نہیں۔
*…*…*
چوکیدار نے اسے اندر آفس میں پہنچا دیا تھا برادر مالکم نے آنے والے کو غورسے دیکھتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا تھا اوربیٹھنے کے لیے کہا تھا۔
”میرا نام حدید ہے، میں ایک لڑکی کے بارے میں پتا کرنے آیاہوں اس کا نام کرسٹینا ہے اور…”
حدید نے کرسٹینا کی بتائی ہوئی ساری معلومات دہرانی شروع کی تھیں۔
”ہاں وہ تقریباً ایک سال پہلے یہاں رہتی تھیں۔مگر پھر یہاں سے چلی گئیں۔” برادر مالکم نے اس سے کہا تھا۔
”ہاں میں جانتا ہوں اورمیں اس ایڈریس پر بھی گیا تھا۔ جو انہوں نے مجھے بھجوایا تھا مگر وہ اس ہاسٹل میں نہیں ہیں۔ وہ صرف چند دن وہاں رہی تھیں وہاں سے کہیں اور چلی گئی۔ میں نے سوچا،شاید وہ یہاں واپس آگئی ہوں۔ یا اگر آپ مجھے ان کے بارے میں کچھ بتا سکیں۔”
حدید نے تفصیل سے انہیں بتایا تھا، برادر مالکم خاموش ہوگئے تھے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا ۔
”آپ کے لیے یہ بڑی شاکنگ نیوز ہوگی لیکن… یہاں سے جانے کے کچھ عرصہ کے بعد ہمیں پتا چلا تھا کہ ایک ایکسیڈنٹ میں کرسٹینا کی ڈیتھ ہوگئی۔”
حدید سکتے میں آگیا تھا۔”شاید اسی وجہ سے وہ دوبارہ آپ سے رابطہ نہیں کرسکیں۔”
”آپ کیسے کہتے ہیں کہ وہ…”
حدید اپنی بات مکمل نہیں کرپایا، برادر مالکم نے ہمدردی سے اسے دیکھا تھا۔
”ان کی ایک دوست نے بتایا تھا۔” وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر جمائے برادر مالکم کو بے یقینی کے عالم میں دیکھتا رہا۔
”آپ ان کے کیا لگتے ہیں؟”
برادر مالکم نے اس سے پوچھا تھا۔ اس کا ذہن بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ برادرم مالکم کو دیکھتا رہا۔
”کیا آپ مجھے اس کی قبر کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔” وہ یک دم جیسے بہت تھک گیا تھا۔
”نہیں، ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان کے مرنے کے کافی دنوں بعد ہمیں پتا چلا تھا۔”
”اس دوست کا پتا بتا سکتے ہیں؟” وہ کچھ بے چین ہوگیا تھا۔
” وہ شادی کے بعد پاکستان سے باہر جا چکی ہے۔پہلے ان کی فیملی کو ٹریس آؤٹ کرنا پڑے گا۔ اورپھر انہیں، مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ بھی آپ کو کرسٹینا کے بارے میں کچھ بتا پائیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے بھی کسی سے اس بارے میں سنا ہو۔ بہتر یہی ہے کہ آپ ان کے لیے دعا کریں۔”
وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔” اگر کبھی آ پ کو کرسٹینا کے بارے میں کچھ پتا چلے تو مجھے اطلاع دیجئے گا۔” برادر مالکم سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے درخواست کی تھی۔ انہوں نے اسے تسلی دی تھی۔
دار الکلام سے باہر آتے ہوئے وہ بے حد افسردہ تھا سڑک کے کنارے چلتے ہوئے اسے دو سال پہلے کے سارے واقعات یاد آرہے تھے۔
” کسی بھی چیز کے ختم ہونے سے زندگی ختم نہیں ہوتی، ہر بار کسی چیز کے کھونے پر اللہ سے شکوہ کرنے کے بجائے اس کا شکر ادا کرنا کہ اس نے تم سے صرف ایک چیز لی، سب کچھ نہیں لے لیا۔”
دوسال پہلے کہے گئے اس کے الفاظ حدید کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ انگلینڈ میں گزارے جانے والے دو سال میں وہ اپنی آئندہ کی بیس سالہ زندگی کا پلان کر چکا تھا۔ ثانیہ کے ساتھ رابطہ ٹوٹنے کے باوجود وہ اس کے ذہن سے محو نہیں ہوئی تھی۔ اس کی آواز ہر لمحہ اس کی سماعتوں میں گونجتی رہتی تھی اوراب سب کچھ ایک بار پھر بکھر گیا تھا۔
سارے خواب، سارے منصوبے،ساری خواہشات ایک بار پھر ختم ہوگئی تھیں۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس بار اسے پہلے کی طرح اللہ سے شکوہ نہیں ہوا تھا۔ اسے شاک لگا تھا۔ وہ ہرٹ بھی ہوا تھا مگر دو سال پہلے والی فرسٹریشن اورڈپریشن نے اسے اپنے حصار میں نہیں لیا تھا۔
”ایک اور آزمائش میرے سامنے آئی ہے اوراس بار آزمائش میں مجھے صبر اوراستقامت سے کام لینا ہے۔ اس بار مجھے شکوہ نہیں شکر ادا کرنا ہے۔”
ہوٹل کے کمرے میں نماز پڑھنے کے بعد سامان پیک کرتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن وہ لوگ جن کی دنیا میں تمام خواہشات پوری ہوئی ہیں۔ ان لوگوں پر خدا کا انعام و کرام دیکھیں گے جن کی دنیا میں خواہشات پوری نہیں ہوئیں تو وہ دھاڑیں مار مار کر روئیں گے اورخواہش کریں گے کہ کاش دنیا میں انہیں بھی کچھ نہ ملتا۔”
اس کی سماعتوں میں ایک بار پھر ایک آواز لہرائی تھی۔
”اورمیں اسی لیے صبر کروں گا۔” اس نے زیر لب کہا تھا۔
” اور میں اللہ سے دعا کروں گا کہ تم سے ہونے والی ہر غلطی کو معاف کردے اورتمہیں ان نیکیوں کے لیے اگلی دنیا میں بہت کچھ دے جو تم نے یہاں اس دنیا میں میرے جیسے لوگوں کے ساتھ کی ہیں۔”
اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے چہرے کو ہاتھوں سے ڈھانپ لیا تھا۔

*…*…*




Loading

Read Previous

حسنہ اور حسن آرا — عمیرہ احمد

Read Next

حاصل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!