یونیورسٹی کے گیٹ نمبر6 کے بالکل سامنے فوڈ سٹریٹ پر جاتی سڑک پر آج بہت زیادہ رونق تھی۔ آسمان پر کالے سیاہ بادل اُمڈتے چلے آ رہے تھے جو اس بات کی نوید دے رہے تھے کہ کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی ہے۔ ایسے میں آمنہ اپنے تینوں بچوں کے ساتھ چھوٹا سا اسٹال جلدی جلدی سمیٹنے میں مصروف تھی جس میں بسکٹ، ٹافیاں ببل گم، بال پوائنٹس، ٹشو پیپرز کے پیکٹ، کارڈ ہولڈرز اور اس قسم کی اور بھی چھوٹی موٹی چیزیں شامل تھیں۔ چٹکی اور علی بھی اس کے ساتھ بسکٹ اور ٹافیوں کے ڈبے اٹھا کر بڑے تھیلے میں رکھ رہے تھے، البتہ منا، اماں اور دونوں بہن بھائیوں کو چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ ایک نگاہ آنے جانے والوں پر بھی ڈال لیتا۔
’’آج تو کمائی ککھ نہ ہوئی۔‘‘ آمنہ بڑبڑائی۔ اس کے لیے یہ موسم کسی خوشی کا سماں نہیں باندھ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ تینوں بچوں سمیت تھیلا اٹھائے جا چکی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں اس بات سے بے پروا کہ قریب ہی ایک بیوہ اپنی غربت پر آنسو بہائے جا چکی ہے ہنوز مختلف اسٹالز پر کھڑے کھانے، پینے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ ہی دیر میں چھم چھم برستی بارش نے فوڈ سٹریٹ کے ماحول میں سماں باندھ دیا تھا۔
’’ہائے! کتنا اچھا موسم ہو گیا ہے۔ فرائز تو لے لیے اب ہوسٹل جا کے چائے کے ساتھ اڑائیں گے۔‘‘ یہ انعم تھی، بی۔ ایس فورتھ سمیسٹر کی طالبہ اور اس کے ساتھ اس کی کلاس فیلو اور بیسٹ فرینڈ شہزین بھی تھی۔ انعم کو ایسے موسم کا انتظار ہمیشہ رہتا تھا۔ دیارِ غیر میں یہ موسم اور بھی لطف دیتا تھا کہ ایسے میں آؤٹنگ کے لیے روکنے والا بھی کوئی نہ ہوتا تھا۔ ہوسٹل لائف گزارنا مشکل ضرور ہے، لیکن اس میں زندگی کا لطف بھی پنہاں ہے۔ شہزین بس اس کی بات پر مسکرا دی اور وہ دونوں جلدی جلدی چلنے لگیں تا کہ بارش تیز ہونے سے قبل ہاسٹل پہنچ سکیں۔
کچھ ہی دیر میں انعم اور شہزین اپنی باقی دو روم میٹس سمیت چائے اور آلو کی چپس سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ کل کی نسبت آج موسم گرم تھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ بے شک یہ اللہ کے رنگ ہیں اور اللہ کے رنگ سے بہتر کون سا رنگ ہے۔ وہ جب چاہے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے نوازے اور جب چاہے ان کے لیے شمس کی لالی پیدا کرے تا کہ وہ اپنے رزق کو تیار کر سکیں۔
آمنہ آج بھی صبح سویرے اسٹال لگائے بیٹھی تھی۔ چٹکی اور علی غالباً اسکول گئے ہوئے تھے اس لیے آمنہ کے ساتھ صرف منا ہی تھا۔ آمنہ آس لگائے اپنی روزی کا سامان سجا رہی تھی۔ ایسے میں فاطمہ اس کے قریب آئی اور بال پوائنٹس خریدنے لگی۔ فاطمہ جا چکی تو آمنہ کے چہرے پر اطمینان رقم تھا۔
یونی سے واپسی پر بھی فاطمہ، آمنہ اور اس کے اسٹال کو دیکھتے ہوئے گزری۔ ایسا پہلی بار نہیں تھا فاطمہ روز ہی آمنہ، اس کے بچوں اور اسٹال کو دیکھتی تھی اور یہ بھی کہ گزرنے والے بہت سے راہ گیروں میں سے کوئی بھی اس سے کچھ نہیں خریدتا تھا۔ اس کا ذکر اس نے شہزین سے بھی کیا تھا، لیکن شہزین نے کہا تھا:’’ فاطمہ یہاں سے زیادہ تر یونی کے سٹوڈنٹس گزرتے ہیں۔ اب وہ بسکٹ، ٹافیاں خریدنے سے رہے اور سٹوڈنٹس پین، پنسل وغیرہ سٹیشنری سے لینا پسند کرتے ہیں یوں راہ چلتے نہیں۔ بھلا کون خریدے گا اس طرح بس اللہ ہی برکت دے اس عورت کی روزی میں۔‘‘ فاطمہ کو شہزین کی باتوں سے کافی مایوسی ہوئی لیکن اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اتنے دنوں سے وہ جو کچھ سوچ رہی ہے اسے اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ہے۔
اگلے دن فاطمہ نے اپنے پورے ڈیپارٹمنٹ کی ایک ایک کلاس میں جا کر ایک پیغام دیا کہ یوں تو ہم سب سوشل میڈیا پر پوسٹس کرتے ہیں کہ ہمیں غریبوں کی مدد کرنی چاہیے اور چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والوں سے ضرورت کے بغیر بھی چیزیں خرید لینی چاہئیں لیکن ہم سب کو یہ سب کہنے میں اچھا لگتا ہے جب کہ ایسا کرتے ہوئے ہم شرم محسوس کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ سب کی نظریں ایک پل کے لیے جھک گئی تھیں۔ انہیں شاید اس بات کی امید نہیں تھی کہ یونی میں کوئی اس طرح کا لیکچر دے کر انہیں شرمندگی بھی دلا سکتا ہے۔ فاطمہ نے کچھ توقف کیا اور پھر بات جاری رکھی۔
’’گلی کے نکڑ پر بیٹھی ہوئی آپ نے اس بیوہ کو تو دیکھا ہی ہوگا اور اس کے اسٹال پر درج تحریر کو بھی کہ اسے اس کے’’مکان کی قسط ادا کرنے اور بچوں کی ضروریات کے لیے رقم درکار ہے۔‘‘ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس تحریر پر غور کیا، اس کی مدد کی بلکہ مدد تو دور ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے ترس کھا کر اس سے دو چار اشیاء خریدی ہوں گی۔‘‘ اس بار طالبات کے چہرے جھک گئے تھے۔ اب ساتھ کھڑی شہزین بول رہی تھی۔
’’دیکھیں ہم سب طالبات ہیں، ہم انفرادی طور پر کسی غریب کی مدد نہ بھی کر سکیں تو اجتمائی طور پر سو پچاس جمع کر کے یقینا کسی غریب کی خاطر خواہ مدد کر سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ لوگ اس بیوہ عورت سے زیادہ زیادہ چیزیں خریدیں۔ کیوں کہ وہ حلال روزی کمانا چاہتی ہے۔ نیز اگر کوئی اسطاعت رکھتا ہے تو اپنے تئیں اس کی مالی مدد بھی کرے۔ اس کے علاوہ بھی ہمیں چاہیے کہ یوں سڑکوں پر چھوٹی موٹی چیزیں بچنے والوں سے کچھ نہ کچھ خرید لیا کریں۔ اس طرح ایک طرف ان کی مدد ہو جائے گی اور دوسری طرف بھیک مانگنے والوں کو بھی نئی راہ ملے گی کہ اگر وہ کچھ بیچیں گے تو ان سے خریدا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معاشرے کو زبوں حالی سے بچانے میں آپ لوگ ہمارا ساتھ دیں گے۔‘‘ فاطمہ اور شہزین جیسے ہی چپ ہوئیں کلاس روم طلبہ و طالبات کی تالیوں سے گونجنے لگا۔
اگلے دن اس تحریک کے لیے یونی میں چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں بنائی گئیں جو کہ چندہ اکٹھا کرنے سے لے کر اپنی نگرانی میں غریب غربا کی مدد کرنے اور حلال کمائی کو فروغ دینے میں پیش پیش تھیں۔
آمنہ آج صبح سے ہی بہت مسرور تھی۔ فوڈ سٹریٹ میں آج پہلے سے زیادہ رش تھا۔ آمنہ اور اس کی طرح دوسرے اسٹالز والوں، مکئی کے بھٹے بیچنے والوں اور یہاں تک کہ فوڈ سٹریٹ میں وزن کرنے والی مشین لے کر بیٹھے بوڑھے کے چہرے پر بھی چمک اور اطمینان تھا۔ ان سب کی بھی اپنی ہی دنیا تھی اور وہ سب آج بہت خوش تھے کہ یکے بعد دیگرے کئی گاہک ان کے ذریعہ معاش کو رونق بخش آئے تھے۔ سڑک پر بیٹھے ہوئے بہت سے بھکاری ان مناظر کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ واقعی حرکت میں برکت ہے۔
فوڈ سٹریٹ سے گزرتے ہوئے آج فاطمہ کے چہرے پر اطمینان اور خوشی رقم تھی۔ اس نے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنا دیا تھا اور اس پر عمل بھی کیا گیا تھا۔ شہزین نے اس کے چہرے کی طمانیت کو محسوس کیا تھا۔ فوڈ سٹریٹ سے گزرتے ہوئے ان کے قدم ہاسٹل کی جانب بڑھ گئے۔
٭…٭…٭
Tag: Urdu fiction
-

احساس — صبغہ احمد
-

کھیل ختم — ماہ وش طالب
میں عاشق مزاج سا بندہ نجانے اب تک کتنوں کے دل سے کھیل چکا تھا اور یہ شغل جاری ہی رہتا اگر وہ پری وش میرے خوابوں سے نکل کر حقیقت میں میرے حواسوں پر نہ سوار ہوگئی ہوتی۔ محض ایک سال تک ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہے مگر مجھے اس کی ایسی عادت پڑ گئی تھی جیسے وہ میرے جنم جنم کی ساتھی ہو۔
پہلی بار اپنے جگری یار وقاص کی شادی پر میں نے اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ بھی ایک جھلک دکھا کر دوبارہ نہ نظر آئی۔ میں نے دوست سے پوچھا تو اس نے کہا کہ دور کی کوئی کزن ہوگی۔ شادی کی تصویروں میں بھی وہ نہیں تھی کہ ان میں سے دیکھ کر نشاندہی کروا دیتا۔ دو ہفتوں تک اس نازنین کے چہرے کو تصور میں دیکھتے رہنے کے بعد بالآخر حیرت انگیز طور مجھے وہ دوبارہ نظر آگئی۔ وہ اس بار بھی اکیلی تھی اور بک شاپ کی اوپری منزل پر تاریخ کی کتابیں کھنگال رہی تھی۔ میں نواز کے ساتھ گپیں ہانک رہا تھا جب یکدم اس کے سیاہ بالوں کی ناگن چٹیا میں الجھ گیا اور اس سے پہلے کہ اس کے قریب جاپاتا، وہ لفٹ کے ذریعے نیچے جاچکی تھی۔ میں نے مین مارکیٹ تک اسے تلاش کیا لیکن پر اسے ملنا تھا، نہ وہ ملی۔ اب تو میری رنگین مزاجی میں بھی ایک ہی رنگ ٹھہر سا گیا تھا، اُداسی کا رنگ۔ پڑھائی سے تو پہلے بھی خاص شغف نہ تھا مگر اب تو ٹوٹی فروٹی سی لڑکیاں بھی اپنی جانب مائل نہ کرتی تھیں۔ وہ نازک اندام حسینہ جو اپنی سادگی سے میرے سکون کا قتل کرگئی تھی، مکڑی کے جالے کی طرح اُلجھے ہوئے دنوں میں نے اسے تیسری بار کوئین میری کالج کے گیٹ کے باہر دیکھا۔ سفید وردی پر گلابی دوپٹا اوڑھے اپنے دراز قد میں وہ کوئی غنچہ ہی لگ رہی تھی۔ میں ٹریفک کی پروا کیے بغیر سحر زدہ سا اسے دیکھتا گیا پھر ستم یہ ہوا کہ اس نے بھی اپنی نظرِ التفات مجھ پر ڈالی مگر کم بخت لینڈکروزر والے کو شاید جہنم میں جانے کی جلدی تھی جو ہارن پہ ہارن دیے جارہا تھا۔ اسے راستہ دینے کے چکر میں وہ ایک بار پھر میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ خیر یہ تسلی ہو رہی کہ وہ لاہور میں ہی رہتی ہے۔ اس کے بعد میں تین دن تک اسی کالج کے قریب جاتا رہا مگر مجھے وہ نظر نہ آسکی۔
میری بے سدھ ہوتی حالت کو دیکھ کر شاید قدرت کو مجھ پر رحم آہی گیا اور بہار کی پہلی شام میں آنے والی اس فون کال نے میرے ارد گرد بھی جیسے سبزہ اگادیا۔
’’پہچانا نہیں؟‘‘ انجان نمبر سے آنے والی کال لینے کے بعد میں نے ’’کون ہے‘‘ پوچھا تو ایک سریلی سی آواز میرے کانوں میں رس گھول گئی۔
’’بھئی حد کرتے ہو۔ ویسے بڑے میرے دیوانے بنے پھرتے ہو۔‘‘ وہ نروٹھے پن سے بولی۔ میں ہکلا ہی تو گیا تھا۔
’’اب کچھ بولو بھی۔‘‘ اب کے شاید وہ حق جتانے والے انداز میں خفا ہوئی تھی۔
’’کیا تم وہی کوئین میری کالج والی ہو؟‘‘میرے کھوئے کھوئے سے حواس بحال ہونے لگے۔
’’ہاں!‘‘
’’میرا نمبر کیسے ملا؟‘‘ یہی سوال سب سے پہلے میرے ذہن میں آیا۔
’’ایک نمبر کے بھلکڑ ہو۔ اپنی بائیک کے پیچھے ہی تو لکھ کر ساری دنیا کی لڑکیوں کو دعوت دیتے ہو۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے منہ پر بات ماری ہو۔ میں تو کھسیا گیا۔
’’اب شرمندہ کیوں ہورہے ہو؟ زندگی کی رنگینیوں پر تو سب کا ہی حق ہوتا ہے۔‘‘ وہ مجھے ڈھیٹ کررہی تھی مگر میں اب سنبھل چکا تھا۔
’’بڑی بے باکی ہے اس میں تو۔‘‘مجھے یکدم لطف آنے لگا۔
’’ہاں! بس۔‘‘ میں نے دانستہ بات چھوڑی اور یوں اپنے سر پر خود ہی چپت لگائی جیسے وہ میرے سامنے ہو۔
’’کیابس؟‘‘
’’میں سوچ رہا تھا خوب بنے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔‘‘ میں نے بات بنائی۔
’’ہاں بالکل! چلو بعد میں بات ہوگی۔ اب رکھتی ہوں فون۔‘‘ اور اس دن کے بعد مجھے بے چینی سے اس کے اگلے فون کا انتظار تھاجو صد شکر کہ ہر گز زیادہ لمبا نہ تھا۔ اگلی شام اسی وقت پر اس نے کال کی تھی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ ہمیشہ وہی ایک مخصوص وقت پر فون کرتی تھی۔ آگے پیچھے کال کرنے سے اس نے مجھے منع کیا تھا۔ میرے استفسار پر بتایا کہ :
’’کچھ مجبوریاں ہیں جنہیں تم نہیں سمجھو گے۔‘‘
’’کیوں کیا کوئی اور بھی ہے؟‘‘ میرے لبوںسے یہ سوال پھسلا جو اسے تپا گیا۔
’’دکھادی نا اپنی اصلیت۔ تم مردوں کی گھٹیا ذہنیت بس یہیں تک سوچ سکتی ہے ۔اپنا پتا نہیں کہ ایک وقت میں کتنیوں کے دلوں سے کھیلتے ہوں اور کتنی حسیناؤں کی زلفوں کو آلودہ کرتے ہوں۔ ایک بار پھر بغلیں جھانکنے لگا۔ میرے اپنے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی کہ اس کی اس قدر بدزبانی اور صاف گوئی بھی مجھے بری نہیں لگتی تھی۔ تقریباً ہر روز ہی بات کرتے ہوئے بالواسطہ وہ مردوں کی اور بلاواسطہ میری ذات پر طنز کے تیر چلادیتی۔ مگر میں خود پر جبر کرکے سن لیتا۔ کچھ اس کے لہجے کی شیرینی مجھے اس کی طرف کھینچتی ہی جاتی تھی کیوں کہ وہ بڑے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کوئی نہ کوئی چبھتی بات کرنے کے بعد کوئی ایسا موضوع زیرِ بحث لے آتی جس کا پچھلی کی گئی تلخ بات سے کوئی تعلق نہ ہوتا اور پھر اپنی ہی باتوں کے سحر میں مجھے بھی لے ڈوبتی۔
’’تم مجھ سے ملتی کیوں نہیں؟‘‘
دو ماہ کی صرف ٹیلی فون تک محدود رہنے والی گفتگو اب مجھے بیزار کرنے لگی تھی کہ خالی خولی چٹ چیٹ میرے لیے وقت کا ضیاع تھی۔
’’میں تمہیں ملو گی بھی نہیں جانِ من!‘‘ اُف اس کا یہ طرزِ تخاطب ہی تو مجھے مار ڈالتا تھا کہ چاہ کر بھی میں اس سے الگ نہیں ہوپارہا تھا۔
’’نیلماں کوئی نشے کی گولی نہیں کہ آرام سے نگلی جاسکے۔‘‘ اس بار اس مدحوش سا لہجہ ذومعنی تھا۔
’’تو کتنا وقت چاہیے تمہیں۔‘‘ میں بھی ڈھٹائی پر اتر آیا۔
’’یہ تو وقت ہی بتائے گا۔‘‘
لائن کٹ چکی تھی۔ میں نے غصے میں سیل فون بستر پر پٹخا۔ اب مجھے کل کا انتظار تھا کہ آر یا پار۔ اگر وہ مجھ سے ملاقات کرسکتی ہے تو ٹھیک ورنہ میں اپنا راستہ الگ کروں۔ جتنا وقت میں نے اس پر ضائع کرنا تھاکرلیا۔ اتنے عرصے میں تو میں آرام سے اپنا وقت کسی اور کی صحبت میں مزید خوشگوار بنا سکتا تھا۔ خوامخواہ اس کے دیدار کی تڑپ میں اپنی مہکتی راتوں کو خزاں کی نذر کیا مگر اب اور نہیں۔ پھر اگلی شام میں نے دوبارہ اس سے ملنے کی درخواست کی۔
’’میرے پیچھے مت بھاگو۔ مجھے بس محسوس کرو۔‘‘ اس کی مدھر سی آواز مجھے خوشگوار احساس سے بھگو گئی۔
’’نیلماں! تم سمجھتی کیوں نہیں؟جتنا میں تمہیں محسوس کرتا ہوں، اتنی ہی تم کو چھونے کی طلب بڑھتی جاتیہے۔‘‘ میں نے بھی جذبات کی لہروں میں ڈوبتے ہوئے اس سے کہا تھا۔
’’ہاں! مرد جو ہوئے تم۔ اس لیے ہر چمکتی شے کے پیچھے بھاگنا اپنا فرض ہی سمجھ لیتے ہو۔‘‘ وہ پھر سے مجھے ذلیل کرنے لگی۔
’’تمہیں مسئلہ کیا ہے سامنے آنے میں۔‘‘
’’کیونکہ میں اک سراب ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کال بند کردی جبکہ میں اس کی ذومعنی باتوں میں ہمیشہ کی طرح الجھ کر رہ گیا۔ پھر مجھے اس کے عروجِ شباب اور جلیبی کی مانند الجھی ہوئی میٹھی باتوں نے بالکل اپنا اسیر کرلیاکہ اس سے بات کیے بنا اب کوئی گزارا نہیں تھا۔
ایک رات مجھے اس کے نمبر سے پیغام موصول ہوا، جس میں نیلماں سے ملاقات کا مکمل پتا درج تھا۔ مجھے تو جیسے نئی زندگی مل گئی۔ ڈیڑھ گھنٹے تک اپنی موٹر سائیکل اس سنسان سی سڑک پر دوڑانے کے بعد میں نے بالآخر وہاں کے اکلوتے ٹریفک کانسٹیبل سے مطلوبہ مقام کا پوچھا تو اس نے ایک نظر مجھے گھورا جس کی وجہ مجھے بعد میں معلوم ہوئی۔
’’ویسے یہ پتا نامکمل ہے، مگر میں چونکہ یہاں قریب ہی رہتا ہوں اس لیے اندازہ لگالیا۔ یہاں سے اگلا چوک اور وہیں سے دائیں مڑ جانا۔‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے میری رہنمائی کی اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد جب میں اس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچا تو لرز کر رہ گیا۔ وہ ایک پرانا قبرستان تھا۔ میں سوچے سمجھے بغیر اندر بڑھتا رہا جیسے کوئی نادیدہ قوت میری رہنمائی کررہی ہو۔ وہاں پر بہت سی قبریں تو اجڑی ہوئی لگتی تھی۔
مجھے گرمی میں بھی ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ چلتے چلتے میں اچانک ایک قبر کے پاس آکر رکا۔
اس قدرے خستہ حال قبر کے اوپر کتبہ نصب تھا جس پر جلی حروف میں درج تھا ’’نیلماں‘‘ تاریخ پیدائش دیکھ کر میں ٹھٹک گیا۔
صرف تاریخ پیدائش دیکھ کر نہیں بلکہ تاریخ وفات کے نہ ہونے پر بھی اور اس کتبے کے کونے پہ لگی نیلماں کی چھوٹی سی تصویر دیکھ کر بھی۔
مجھے یکدم محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے قدم جکڑ لیے ہیں۔ من من بھر کے قدم لیے کس مشکل سے میں اس جگہ سے نکلا، یہ میں ہی جانتا ہوں۔ مہینہ بھر مجھے شدید بخار چڑھا رہا۔ آنکھیں سرخ بتی کی پھیلی روشنی کی مانند لال رہتیں اور حواس اکثر خلاؤں کے سفر پر نکلے ہوتے۔
پھر اتفاق سے دوسال بعد کوئین میری کالج کے پاس سے میرا گزر ہوا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ گرمیوں کی سرگوشی کرتی ہوا اور درختوں کی سرسراہٹ مجھے جیسے ہراساں کر رہی تھی۔ میں خاموشی سے وہاں سے گزرجانا چاہتا تھا مگر نجانے کیوں اور کیسے کسی احساس کے تحت میں نے نظر اٹھا کر اطراف میں دیکھا۔
اِکا دکا لڑکیاں گراؤنڈ اور سیڑھیوں پر نظر آئی تھیں۔ پھر اچانک میری موٹر رش میں پھنس گئی۔ یونہی دوبارہ عمارت کی اوپری منزل پر نظرڈالی تو ایک نئے چہرے والی دوشیزہ مجھے ہی تک رہی تھی۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ اب دوبارہ اسے دیکھنے کی سنگین غلطی نہ کرنے کی خاطر میں سرپٹ وہاں سے دوڑا
اب یہ حال ہے کہ کسی لڑکی کا نام سن کر بھی مجھے وحشت سی ہونے لگتی ہے۔ دوست یار نت نئی ترغیبیں دیتے ہیں مگر میں غیر محسوس طریقے سے ان سے کنارہ کش ہوتا جارہا ہوں۔ دل لگی کے سارے کھیل ختم ہوچکے ہیں کہ وہ لڑکی جو سراب تھی جو خود بھٹکتی ہوئی روح تھی، اس نے حقیقتاً میری ڈولتی زندگی کی سمت بدل دی تھی۔
٭…٭…٭
-

بانجھ — میمونہ صدف
سحر کی بلوریں ضیا میں لہلہاتے کماد کے کھیتوں میں ساربانوں کی آواز بڑی دور تک پھیلتی ایسی دل دوز لے پیدا کرتی کہ دوڑ دوڑ کر چوبارے چڑھتی بیراگن مست ہو کر بھی اس ساعت ِ احترام میں باادب سی ہو جاتی ۔قیمتی زربفت جو زمانوں کی گرد کے سبب حسن کھو چکا تھا ، ہو اکے سپرد کرتی وہ جیسے اِنھی ساربانوں میں سے ہو جاتی ۔ضوخانوں کی پروا وہاں کسے تھی؟ وہ تو شب ِ دیجور بھی چوبارے چڑھی ملتی اور بوہے باریوں کے پار ٹکٹکی لگائے تکتی ملتی ۔ ایسے میں مہران ماں حقے کی نے گھما کر گڑ گڑ کرتیں پوچھنے لگتیں۔
’’تیرے بہت چکر نہیں لگنے لگے اوپر کے؟ جب دیکھو اوپر ہی پائی جاتی ہے ۔ کہیں کوئی اور چکر تو نہیںہے؟‘‘ پہلا جملہ اونچا اور بعد کا ذرا آہستہ کہا گیا لیکن دونوں ہی اُس نے سُن لئے ۔ سُن تو لیے لیکن لسی بلوتے شیرو کے لیے کشتی بھرتے اس نے اَن سنا کر دیا ۔یہ سب تو معمول کی باتیں تھیں اس کے لیے۔ اسے اس سب کی عادت ہو چلی تھی۔مہران ماں بولتی رہتیں اور وہ بنا جواب دیے گھر میں گھومتی رہتی ۔ بس ضرورتاً جواب دے دیا کرتی۔ اُسے دیکھ کر اکثر لگتا کہ وہ بہری ہو گئی ہے اور اگر بہری نہیں ہے تو گونگی تو ضرور ہی ہو گی تبھی اُس کے منہ سے لفظ نہیں پھوٹ کر دیتے۔بس چپ چاپ اپنا کام کرتی پائی جاتی جیسے کسی سے اُس کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔یوں جیسے وہ ا س گھر کا حصہ ہو کر بھی نہ ہو ۔
کبھی تو وہ دن بھر کام میں جتی رسوئی میں سِل بٹے پر مسالا جات کوٹے جاتی، برتن مانجھے جاتی ، صحن میں جم جم پونچھے لگائے جاتی، دیوار پہ اُپلے تھپ تھپ کر اُنھیں سکھائے جاتی اور پھر جلا جلا کر مٹی کا چولھا جلاتی ، رَلیاں دھو دھو کر بچھاتی، کنویں سے ڈول بھر بھر کر مٹکے ، بالٹیاں بھرتی جاتی۔
اور پھر یکدم کون سا طلسم پھونکا جاتا کہ سب کام وہیں چھوڑ چھاڑکر چوبارے کی ہو جاتی۔ پھر سب بھول جاتی… کام بھی، نام بھی۔ جند بھی، جان بھی ۔
اِدھر مہران ماں نیچے پکار پکار کر تھک جاتیں۔
’’نیناں اری او نیناں جوگیا بنی پھرتی ہے ، نیچے کیوں نہیں ٹکتی ؟ ‘‘
’’ نیچے کس کے لیے ٹکوں ماں ؟‘‘ وہ خواب کی سی کیفیت میںسوال کرتی ۔
’’ کیا رکھا ہے اوپر کی تپتی دھوپ میں ؟‘‘
’’جو نیچے کی ٹھنڈی چھاؤں میں نہیں رکھا ۔‘‘
’’ اے ہے باؤلی ہوئی ہے کیا ۔کیسی باتیں کرتی ہے؟ ‘‘
’’تو اور کیسی باتیں کروں؟ ماں مجھے گھرکی ویرانی کاٹتی ہے۔ یوں جیسے کوئی آسیب مجھے نگل جائے گا ۔‘‘ اور مہران ماں منہ پر ہاتھ رکھے ہا ہائے کرنے لگتیں ۔
’’بھرے پرے گھر میں کیسی ویرانی؟ اور اوپر کے خالی چوبارے میں کہاں کی آبادی؟‘‘ انہیں حد درجے حیرت ہوتی اس بات پر۔
’’بھرا پرا گھر انسان سے ہوتاہے، سامان سے نہیں ۔ تیرا بیٹا اپنی مٹی کی فصل تو اُگا لیتا ہے لیکن اِس کھیتی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔‘‘ مہران ماں کے کچھ پلے نہ پڑتا کہ وہ کیا کہتی ہے ، کیا سوچتی ہے؟ وہ ان پڑھ ساس اس پانچویں پاس بہو کی باتیں نہ سمجھ پاتی۔بس اِتنا سمجھ جاتیں کہ بیٹا بہو سے بیگانہ سا رہتا ہے ۔یوں جیسے گھر کے کسی کونے میں مٹی کی مورت رکھ کر انسان بھول جاتا ہے تو وہ نیناں کو بھول گیا تھا۔ اُس کا زیادہ تر وقت گھر کی چار دیوار ی سے باہر ہی گزرتا تھا ۔شاید اسی لیے نیناں ایسی تھی ، ایسی تھی نہیں ایسی ہو گئی تھی ۔
پھر اُنھوں نے بیٹے کے لتے لیے ۔
’’اے شیرو کبھی اپنی دلہن کی بھی خبر لے لیا کر … کیسا کسان ہے کہ اپنی کھیتی کو بنجر چھوڑ رکھا ہے۔ دیکھ تو کیسا سوکھا آیا ہے۔ کچھ ہوش کر، آبیاری کر… شادی کو سات سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ابھی تک اس کی کھوکھ کیوں خالی ہے ؟ کس ڈاکٹرنی کو دکھا، علاج کروا اُس کا ۔ تو ایسا بے پروا کیوں ہے اپنی دلہن سے ؟‘‘
لیکن شیرو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا ۔اسے ان باتوں کی پروا نہیں تھی۔ اُسے بس جیسے مٹی کی فصل کی پروا تھی ، اپنی نسل کی نہیں۔
مہران ماں پان منہ میں رکھے ، ہونٹوں پر لاکھا جمائے، سارا دن چارپائی پہ پڑی دلہن کو گھورتی رہتیں اور جوں ہی پڑے پڑے اونگھنے لگتیں، دلہن اپنے محبوب ٹھکانے پر پہنچ جاتی ۔نجانے کون سی کشش تھی جو اسے اوپری منزل پر کھینچتی تھی۔ مہران ماں کتنی قیاس آرائیاں کر کے تھک گئی تھیں ۔
’’مان لے اِسے کچھ تو ہے۔‘‘ وہ شیرو سے اس کی شکایت کرتیں، کان بھرتیں۔
’’کیا ہے ماں؟‘‘ وہ زچ ہو چکا تھا ماں کی روز روز کی اِن باتوں سے۔یہ اُس کا ناپسندیدہ ترین موضوع تھا ۔ نہ اسے سننا پسند تھا اور نہ ہی بات کرنا پسند تھا۔
’’یہ تو تُو بتا … پہلے تو ایسی نہ تھی ۔ اب کیوں ایسے بھاگتی پھرتی ہے ۔ گم صم رہتی ہے ۔ کام کرنے پر آئے تو مہینوں کا کام منٹوں میں کرلے اور جب کام سے ہاتھ ہٹا لے تو مجال ہے کہ کر کے دے۔ پھر تو جیسے بت بن جاتی ہے۔ یوں جیسے سانس لیتی کوئی گڑیا ہو بس۔ ہلنے جلنے سے قاصر… ایسے لگتا ہے جیسے کوئی سایہ ہو گیا ہے۔کسی پیر کو دکھا ، دم درود کروا۔کیا پتا کوئی بھوت پریت عاشق ہو گیا ہو۔ ہے بھی تو رج کے سوہنی ۔‘‘ شیرو نے ناگواری سے کرتا جھاڑا اور کھیتوں کا رخ کیا۔اس نے ایک نظر بھی اس ’ رج کے سوہنی ‘ پہ نظر ڈالنا گوارا نہ کی ۔اُس کے پاس ماں کے اُن فضول سوالوں کا جواب تھا، لیکن وہ دینانہیں چاہتا تھا ۔
اُسی رات ماں کی زبان بندی کے لیے وہ چوبارے پر قفل لگا کر لمبی تا ن کر سو گیاکہ چلو اوپر جانے کا رستہ بند ہو گا، تو ماں کو باتیں بنانے کا موقع تو نہیں ملے گا۔اس کے کان ٹھنڈے رہیں گے اور ماں کا دل ، لیکن قفل تو نیناں کی زبان کو لگا تھا ۔ زبان بندی ماں کی نہیں اُس کی ہوئی تھی ۔وہ پہلے سے کہیں زیادہ خاموش ہو گئی تھی اور گم صم بھی ۔ یوں جیسے اوپر نہ جانے کا دکھ ہر سکھ پر ہاوی ہو گیا ہو۔جیسے اس کے پروانۂ زندگی کو کسی نے موت کی سزا سناڈالی ہو ۔ اب وہ کبھی زندہ نہیں ہو گی اور زندگی کبھی اس کی حسین صورت نہیں دیکھ پائے گی ۔وہ پہلے والے حالوں سے بھی گئی تھی۔
٭…٭…٭
-

یاد دہانی — الصی محبوب
’’ارم ارم میرے کپڑے استری نہیں کیے؟ تم نے میں آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں۔‘‘ عامر نے اپنی بیوی ارم کو نیند سے جگاتے ہوئے کہا۔
’’جی میری آنکھ نہیں کھلی پلیز آج آپ خود کر لیں۔‘‘ارم نے سستی سے جواب دیا۔
’’ اچھا یار کم از کم ناشتا تو کروا دو۔‘‘عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’توس کچن کے کبڈ میں اور مکھن فریج میں ہے۔ چائے آپ خود بنا لیں۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ارم نے ایک بار پھر بیمار شکل بناتے ہوئے جواب کہا۔
ارم کے جواب پر وہ حیران تھا۔ آج سے پہلے وہ کبھی ایسی لاپروا نہیں رہی۔ چاہے کتنی ہی بیمار کیوں نہ ہو پر عامر کو اپنا ہر کام وقت پر کیا ہوا ملتا۔
انہی سوچوں کے ساتھ اس نے کپڑے استری کیے اور ناشتہ کے بغیر ہی آفس چلاگیا۔
٭…٭…٭
اِرم نے اپنے سسرالیوں سے سن رکھا تھا عامر سخت مزاج اور وقت کا پابند ہے۔ اس نے بھی عامر کو آج تک شکایت کا موقع نہ دیا تھا۔ اس کا ہر کام وقت پر کرتی۔ اس لیے اب تک عامر کی سخت مزاجی کا سامنا نہ ہوا تھا۔
٭…٭…٭
عامر آفس سے واپس آیا تو دیکھا گھر کچھ اور ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ ہر چیز اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہے۔ دھول سے اٹا فرنیچر آج گھر کی صفائی نہ ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
ارم مزے سے ٹی وی پر کوئی مووی دیکھنے میں مگن تھی۔
عامر اندر آیا اور ایک نظر ٹی وی دیکھتی ارم پر ڈالتا ہوا بنا کوئی سوال کیے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ارم نے بھی ایک نظر عامر پر ڈالی اور پھر سے مووی دیکھنے میں مگن ہوگئی۔
کمرے میں بھی ہر چیز بکھری پڑی تھی۔ صبح جو چیز جہاں وہ چھوڑ کر گیا تھا وہ وہیں نظر آ رہی تھی۔
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے کمرے میں بیٹھا اسی سوچ میں گم تھا۔ آفس سے آتے ہی اس سے چائے پانی پوچھنے والی نے اب تک اسے پانی پلایا تھا اور نہ ہی اس کے لیے چائے لے کر آئی تھی جبکہ وہ جانتی تھی آفس سے واپسی پر وہ سب سے پہلے چائے پینے کا عادی ہے۔
وہ تو جیسے آج اس پر حیرتوں کے پہاڑ توڑنے کا فیصلہ کیے بیٹھی تھی۔ جیسے جیسے دن گزر رہا تھا عامر کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی۔
بعض اوقات بہت کچھ آپ کے مزاج کے خلاف ہو رہا ہو جو پہلے کبھی نہ ہوا ہو، تو اس پر آپ کو غصہ نہیں حیرت ہوتی ہے۔ ایسا ہی اس کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ اسے بھی ارم پر غصہ نہیں آیا بس پے در پے حیرت کے جھٹکے لگ رہے تھے۔ وہ ایسی تو نہ تھی اسے کیا ہوا ہے؟
بالآخر دو گھنٹے بعد اس کی برداشت جواب دے گئی۔ وہ کمرے سے نکلا پہلے کی نسبت منظر کچھ تبدیل تھا۔ اب ارم ٹی وی دیکھنے کے بجائے اپنے موبائل کے ساتھ مصروف تھی۔
’’کھانے میں کیا پکاہے لے آؤ بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اس نے ڈائننگ کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے موبائل پر مصروف ارم سے کہا۔‘‘
’’آج تو میں نے کچھ نہیں بنایا۔ آپ کو بتایا تو تھا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’آپ باہر سے کچھ لے آئیں۔‘‘ اس نے عامر کی طرف بنا دیکھے لاپروائی سے جواب دیا۔
ایک اور حیرت کا جھٹکا۔
اب اس کی حیرت کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔ دن بھر آفس میں کام کر کے تھکا ہوا بھی تھا۔
عامر غصے کے عالم میں ٹیبل سے اٹھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں سختی امڈ آئی تھی۔
’’نہیں کھانا مجھے کھانا کچھ نہیں کھانا ۔‘‘غصے سے بڑبڑاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اس بات سے انجان کہ اندر اس کا ایک سالہ بیٹا ’’عفام‘‘ نیند کے مزے لوٹ رہا ہے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ بند کیا جس سے زوردار آواز ابھری۔ اس آواز کے ابھرتے ہی نیند کے مزے لیتا عفام چونک کر جاگا اور رونے لگا۔ اس کے رونے سے وہ مزید چڑ گیا تھا۔
’’اسے لے کر جاؤ یہاں سے۔” اس نے چیختے ہوئے ارم کو آواز دی۔
وہ خود بھی عفام کے رونے کی آواز سن کر اسی طرف آ رہی تھی۔ جب اس نے اس کی غصے سے بھری آواز سنی۔ اس نے روتے ہوئے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور عامر کو بنا کچھ کہے کمرے سے باہر آگئی۔
اب وہ بچے کو کندھے سے لگائے پیار سے تھپک رہی تھی۔ وہ بھی ماں کی آغوش میں آ کر پھر نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا۔
ارم نے اسے صوفے پر لٹایا جہاں وہ کچھ دیر قبل خود براجمان تھی۔
وہ عامر کی کیفیت سے واقف تھی۔ بظاہر وہ ایسی نہیں تھی پر کبھی کبھی ہمیں عام سمجھنے والے لوگوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا پڑتا ہے۔
ارم ٹھنڈے پانی کا گلاس لیے کمرے میں داخل ہوئی۔ عامر بیڈ پر بیٹھا عجیب ہی کیفیت کا شکار تھا۔ارم کو دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔
ارم نے ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس اسے دیتے ہوئے نرمی سے کہا:
’’آپ کے کل کے سوال کا جواب یہ ہے۔ میں سارا دن یہ سب کرتی ہوں جو آج نہیں کیا۔‘‘
وہ اسے بہت ہی سادہ لفظوں میں اس کے کل کے الفاظ کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کمرے سے جا چکی تھی، جو اس نے کل ارم کی ایک چھوٹی سے بھول پر اسے کہے تھے۔
’’تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟‘‘
٭…٭…٭
-

جو ملے تھے راستے میں — سما چوہدری
’’نایاب گوہر علی! یہ نام کتنا مکمل ہے۔‘‘
’’ہے نا ؟‘‘وہ نڈھال سا دیوار سے لگا کہہ رہا تھا ۔
’’دیکھو اسد !‘‘ اپنا ہاتھ آگے کیے وہ اسد کو دکھا رہا تھا۔ وہ نام جو مٹ چکا تھا۔ اس کی بہتی آنکھوں کی رواں لہروں سے جو بنا اجازت اُس کے وجود سے لپٹی ماتم کر رہی تھی۔
’’وہ بے مول تھی، پھر بھی میں مول ادا کرنے کو تیار تھا۔ اسے خبر تو تھی میں آوؑں گا۔ پھر وہ کیوں چلی گئی؟ اسد وہ کیوں چلی گئی۔‘‘
’’گوہر! زندگی اسی کا نام ہے۔‘‘ اسد نے اس کے ہاتھ کو تھامے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
’’ہممم…زندگی !‘‘بڑا تمسخر آمیز لہجہ لیے وہ بآواز بلند ہنستا چلا گیا۔ اس کے قہقہے پورے کمرے میں گونج رہے تھے۔ جیسے خالی بند گھر میں اک ذرا سی آواز شور برپا کر دے۔ جیسے خاموش ویرانے میں ہوا کی ذراسی سرسراہٹ خاموشی کو چیرتی ہوئی اپنے ہونے کا احساس دلائے۔ جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی زور سے پتھر مار دے اور کوئی پانی کی بے چینی کا تماشا دیکھے۔
’’گوہر تمہیں نایاب کہاں ملی تھی ؟‘‘ اسد نے جاننے کی کوشش کی۔نایاب کا نام سن کر وہ بے ساختہ اپنے کمرے کی اس کھڑکی کی طرف لپکا جو آدھی کھلی تھی مگر چاند کی روشنی برابر آرہی تھی۔ اس نے پاس جاکر کھڑکی کا ایک پٹ پکڑ لیا۔
’’وہ وہاں …وہاں وہ… سڑک۔‘‘ اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے وہ بار بار اپنی آستین سے چہرہ صاف کر رہا تھا۔ مسلسل اپنی آنکھوں کو جھپک رہا تھا جیسے کوشش کر رہا ہو کہ منظر بالکل صاف نظر آئے۔ اس دھند کی طرح جو اگر چھا جائے تو اپنی ہی سمت کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بار بار ہم اپنا ہی شیشہ صاف کرتے ہیں منظر شناسائی کے لیے۔
گوہر بھی اپنی آنکھوں پہ پڑی دھند ہٹا رہا تھا۔
’’وہ مجھے سڑک کے اس کونے میں کھڑی ملی تھی۔ چپ سی اک پھٹی ہوئی چادر میں خود کو ڈھانپ رہی تھی۔ ننگے پاوؑں، چہرے پر بکھرے بال، زرد رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جو اِس کے زرد ہوتے چہرے سے خوب مل رہا تھا۔ وہ بار بار اپنے ہونٹوں کو صاف کر رہی تھی جن سے خون رِس رہا تھا۔ سرد ہوتی زمین پر وہ کبھی اپنے دائیں پاوؑں کو اوپر کرتی تو کبھی بائیں کو۔پھر باری باری ہاتھ سے مالش کرتی۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی مگر اس کی پائل کی چھن چھن کسی پرسوز ساز کی طرح میرے خالی وجود میں رچ رہی تھی۔ میرا دل مور بن ناچ رہا تھا ۔ میرا خود پر اختیار ہی نہ تھا۔‘‘ گوہر کی پلکوں پہ ٹھہرے ہزاروں آنسو اپنی باری کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ مانو کب وہ آنکھیں موندے اور کب ظالم برس پڑیں۔
اسد حیران تھا کہ محض چند منٹوں میں کوئی اتنا گہرا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے۔ وہ اپنے عزیز دوست کی حالت پر غمگین تھا اور اب حیرت کے سمندر میں غوطہ لگائے اس کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔
’’گوہر تم اس کے پاس نہیں گئے ؟ بات نہیں کی؟‘‘اک گہری کرب سے سجی مسکان لیے وہ برملا مخاطب ہوا۔
’’ملا تھا نا، خودبہ خود۔ میرا دل اس کی طرف لپکا اور میرا عشق میری اس عقل کے آڑے آگیا۔ میں بھی ننگے پاوؑں بھاگا تھا۔ مجھے اس کی برابری کرنی تھی۔‘‘ اسد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’مگر گوہر تمہارے پاس تو جوتے تھے۔‘‘
’’ہاں تھے مگر میں کیسے برتری لیتا، کیسے اس سے مقابلہ کرتا؟ عشق کی شان میں گستاخی ہوجاتی پھر؟ تو لوگ کہتے کیسا عاشق ہے رے تو۔ محبوب سے قدم بھی نہ ملا پایا۔ دل ملانا تو دور رہا۔‘‘وہ جذب کے عالم میں بولے جارہا تھا۔
’’جانتے ہو جیسے میں اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرا دل میرے وجود کا ساتھ چھوڑ رہا تھا۔ دھڑکن بضد تھی جیسے مجھے پکار کر کہہ رہی ہو کہ آج تباہی ہوگی۔ آج نہ چھوڑوں گی تم کو۔ کیا یاد کروگے کس جذبے کو ہوا دی ہے میں نے۔ چند قدم پیچھے کھڑے ہو کر میں نے اسے مخاطب، کیا آپ کو کچھ چاہیے؟ تو اس کی نظریں میرے قدموں سے لگے ان لفافوں پہ تھی جو شاید چلتے چلتے میرے پاؤں سے لگ چکے تھے۔ اس نے پتا ہے کیا کہا؟‘‘ اسد پوری طرح متوجہ تھا۔
’’ ہمم!‘‘
’’اس نے کہا آپ کو بھی کسی نے لوٹ لیا؟‘‘ گوہر کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
’’میں حیران ہوا جوتے بھی کوئی لونٹے کی چیز ہے ؟‘‘
’’ارے صاحب! جب روح ہی لٹ جائے، جب جسم مر جائے، جذبات کچل دیے جائیں ، وجود کی بوٹی بوٹی نوچ لی جائے، تن سے لپٹا چند گز کا کپڑا تار تار ہو جائے تو پھر پاوؑں کی جوتی ہی رہ جاتی ہے۔ میرا کل اثاثہ لمبی مسافت کی نذر ہوگیا۔‘‘وہ تلخی سے اپنے ہاتھ کو ہوا میں لہراتے ہوئے بولی تھی۔ اس کے زخمی ہونٹوں کی ذرا سی جنبش سے ادا ہونے والا وہ آخری لفظ جو مجھے سمجھ آیاکہ وہ رقاصہ تھی!
اسد جو کھڑا سن رہا تھا ایک دم زمین پر بیٹھ گیا۔
’’گوہر وہ…‘‘
’’ہاں! مجھے اس رقاصہ سے عشق ہوگیا تھا۔‘‘ اس نے بنا سوال کے جواب دیا۔ وہ سوال جو اسد کے لبوں پر مچل رہا تھا۔
’’میں کیوں چھپتا ؟کہ جس پر ایک نظر ڈالنے سے میرا سب کچھ لٹ گیا تھا، وہ ایک رقاصہ تھی۔‘‘
’’پھر کیا ہوا ؟‘‘ تجسس سے پوچھا گیا۔
’’میں نے اسے اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی کہ رات بہت ہو چکی۔ سرد ہوائیں بھی اپنے عروج پر تھیں کہا، کچھ دیر قیام کر لیں پھر جہاں آپ بولیں میں چھوڑ آؤں گا۔ میری بات کے جواب میں صرف وہ ہنستی رہی۔ میں اپنی نگاہیں نیچی کیے کھڑا رہا شاید کوئی غلط بات کہہ دی۔‘‘
اگلے ہی لمحے وہ کھانستے ہوئے بولی:
’’بڑے مہذب مرد نکلے آپ تو … کوئی مول نہیں لگایا، میرے ارد گرد گھوم کر نہیں دیکھا۔ مجھے چھو کر پرکھا نہیں، آیا کہ نازک ہوں، ملائم بدن ہو، رنگ گورا ہے اور ہونٹ گلابی ہیں کیا؟ کچھ بھی نہیں ؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’دیکھ تو لو میرا حال۔ شاید آپ کی خواہش پوری نہ کر سکوں۔‘‘ ایک زہر خند مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔
’’میرا پیشہ رقص ہے،مگر میں کوئی طوائف نہیں ہوں۔ میں نے اپنا فن ضرور بیچا ہے، تن کبھی نہیں۔ پھر بھی زندہ لاش ہوں۔ کمال دیکھو، اپنی ہی لاش اپنے کندھوں پر لادے کبھی اِس چوک کبھی اُس چوک۔ جہاں جاتی ہوں بس بولی لگتی ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں۔ ننگے پیروں کے چھالے کوئی دیکھتا ہی نہیں۔ ہاں پائل پر نظر سب کی جاتی ہے۔‘‘
گوہر اپنے آنسو صاف کررہا تھا ۔
’’جانتے ہو اسد؟پہلی بار مجھے مرد ہونا ایک گالی لگا۔ میں اپنی ہی نظر میں گر گیا۔ یہ مردوں کا معاشرہ، مجھے وحشت ہونے لگی اس لفظ سے۔ میں اس کے سامنے دو کوڑی کا نہیں رہا۔‘‘ اب کی بار شاید اسد بھی اپنی آنکھ سے آتے اس پانی کو نہ روک سکا جسے وہ کب سے ٹال رہا تھا۔
’’وہ تمہارے ساتھ آگئی تھی؟‘‘
’’ہاں! میں نے اپنے ہاتھ میں تھامی اس گرم شال کو اس کے سر پر ڈالا تھا اور پلٹ کر اسی سڑک کے کنارے چل دیا جب اس کی پائل کی آواز مجھے اپنے پیچھے آتی محسوس ہوئی تو میں نے اسے اپنے آگے چلنے کو کہا۔ وہ دیر تک مجھے دیکھتی رہی اور پھر چند قدم چلتی میرے آگے کھڑی ہوکر پوچھنے لگی:
’’مرد تو چاہتا ہے آگے ہونا، برتری حاصل کرنا عورت کو پاؤں کی جوتی بنا کر اسی کے وجود پر چلنا۔ تم کس دنیا کے ہو ؟ میرے پاس جواب ہی نہ تھے ۔ میں چپ چاپ کھڑا رہا۔ ‘‘
’’اسد وہ…‘‘ گوہر اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا جیسے بچہ کوئی من پسند چیز نہ ملنے پہ ضد میں ایک سانس چلا جائے، جس کے روتے روتے ہاتھ پاؤں برف ہو جائیں۔ آہستہ آہستہ اس کے رونے کی رفتار بڑھتی گئی۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور پھر بے ہوش ہوگیا۔
-

بت شکن ۔۔۔ ملک حفصہ
’’سنو! سنو،جان ڈالو نا مجھ میں۔ دیکھو دیکھو یہ ہاتھ نہیں ہل رہے۔ دیکھو یہ آنکھیں، میری آنکھیں۔ جھپکنی ہیں میں نے۔ سنو اٹھو، اٹھو نا۔‘‘
’’نہیں… نن نہیں۔‘‘
چیخ کی آواز سے رضیہ بیگم دوڑتی ہوئی اُس کے کمرے میں آئیں۔
’’کلمہ پڑھ میرے بچے… بیٹا کچھ نہیں ہے۔ کیا ہوا اٹھ بیٹا۔‘‘فکر مندی سے اسے ہلایا، پسینے سے تر پیشانی ہتھیلی صاف کی۔ سائیڈ ٹیبل سے پانی انڈیلتے اس کے ہاتھ کو تھاما۔ جب سے گھر آیا تھا چپ چپ تھا جیسے کوئی چیز دماغ میں چل رہی ہواور میں تھکاوٹ سمجھتی رہی۔ پتا نہیں کیا ہوا ہے۔ دل ہی دل میں سوچا اور پریشانی سے اُس کی کمر سہلانے لگی۔
یہ غالباً پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ اس طرح چیختا ہوا اٹھا تھا۔
٭…٭…٭
شان سلطان اسکول، کالج اور اب یونیورسٹی کا ذہین ترین طالب علم تھا۔ شوق آرٹسٹ بننے کا تھا، لیکن ماں باپ کی سوچ تھی کہ آرٹسٹ بس صفحات بھرتے ہیں پیسے نہیں۔ اس لیے اسے آئی ٹی میں داخلہ دلوایا۔ ذہین تھا یہاں بھی ٹاپ کیا اور اب پورے ڈیپارٹمنٹ میں شان سلطان کے چرچے ہوتے تھے۔
ذہانت اپنی جگہ وہ نہ صرف خوش شکل تھا بلکہ خوش مزاج بھی ثابت ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ اردگرد ہجوم لیے پھرتا تھا۔ آرٹسٹ کا شوق دبایا نہیں تھا، فارغ وقت میں مزید اپنے ٹیلنٹ کو تراشنے کی کوششوں میں لگا رہتا اور آج کل میں اُس کا ایک مجسمہ تیار ہونے والا تھا جس کا اس سے زیادہ اُس کے دوستوں کو انتظار تھا۔
شان سلطان کی دوستی حیدر سے ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ہوئی تھی۔ پڑھائی میں مدد لینے کے لیے اس کے پاس ویسے بھی ڈیپارٹمنٹ کے لڑکے لڑکیاں جمع رہتے۔ سیمینار میں یا پھر ڈیپارٹمنٹ کے پارک میں شان کسی کو کچھ نہ کچھ سمجھا رہا ہوتا پر حیدر سے اس کی کافی اچھی دوستی کی وجہ دونوں کا آرٹ میں شوق تھا۔ جیسے پیاسے کو پانی کی تلاش ہو ویسے ہی شان کو اپنے ہی جیسے کسی کی تلاش تھی۔
پانی اور مٹی ہر جگہ بکھری ہوئی تھی۔ آج تو باریکیوں پر کام کرنا تھا، بالوں اور چہرے پر بھی کہیں کہیں مٹی کے آثار تھے۔
گھر میں اکیلا تھا اور اسے خاموشی ہی چاہیے تھی۔
شاہکار مکمل ہونے کو تھا۔ اسے لگا وہ اسے دیکھنے لگا ہے۔
٭…٭…٭
’’یار شان میں دو دن یونیورسٹی نہیں آؤں گا، کام زیادہ ہوا تو سمجھا دینا یار۔‘‘حیدر کی کال تھی اس نے پچھلے مہینے میں بھی دو دن ایسے ہی چھٹی کی تھی۔
’’اوئے یہ دو دو دن کر کے کیا کرنے جاتا ہے تو؟‘‘ شان کو اب واقعی تجسس ہوا۔
’’کچھ نہیں نا۔‘‘حیدر کا یہ ٹالنے کا انداز تھا۔
’’نہیں بتانا پڑے گا بتا۔‘‘ شان ضد پر اڑ گیا۔ حیدر جانتا تھا اب یہ جان کے ہی دم لے گا۔
’’یار میں دو دن جماعت کے ساتھ گزارتا ہوں۔ ہمارے محلے کی مسجد میں اگر کوئی جماعت آتی ہے تو ان کی نصرت میں یا پھر دور پرے کہیں پتا لگتا ہے تو وہاں چلا جاتا ہوں۔
’’سیکھنے کو ملتا ہے یار اور دین کا جتنا جانو کم ہے۔ عمل کی بھی ہمت کرتا ہوں۔ جماعت والوں کی خدمت، دور پرے کے اللہ کے مہمان مسافر اور پھر مسجد میں ٹھہرے ہوؤں کی تو بس اسی لیے۔‘‘
’’ماشاء اللہ ماشاء اللہ۔ یہ تو اچھی بات ہے، چل کچھ سیکھے تو مجھے بھی سکھانا۔‘‘
’’ہاں ہاں ضرور، تو چاہے تو آسکتا ہے۔‘‘
’’ارے پرفیکٹ، ویسے تو میں جاتا نہیں ہوتا۔ ایسے مطلب تم جانتے ہو نا…پر صحیح ہے یہ بھی کرلیتے ہیں۔ ہوپ اٹ وڈ بی گریٹ،کب آنا ہے؟‘‘ایکسائیٹمنٹ سے بھری آواز تھی۔
’’کل صبح فجر کے بعد۔‘‘ حیدر باقاعدہ طور پر اس کے نہ صرف اعتراض نہ کرنے پر بلکہ ساتھ چلنے پر حیران تھا۔ موڈ ہوتے ہوئے بھی اس کا یہ رویہ اُس کے لیے خوشی کا باعث تھا۔
٭…٭…٭
’’آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا۔‘‘
بیک گراؤنڈ میوزک لگا کر آج آنکھیں بنانی تھیں۔ اپنی طرح، گہری اور بولتی آنکھیں۔
وہ جانتا تھا آج جو آنکھیں وہ بنانے لگا ہے، اگر اس میں وہ کامیاب ہوگیا تو یہ اُس کا پہلا ہی مجسمہ بہترین شاہکار ہوگا۔
ہاتھوں پر مٹی تھی اور بال بکھرے ہوئے۔
اسے آج آنکھوں پر محنت کرنی تھی۔ چہرے کے خدوخال میں آنکھیں ہی تھیں جو اسے ہمیشہ سے بھاتی تھیں اپنی بھی اور دوسروں کی بھی۔
ایسی آنکھیں جو دنیا سے لمحے کے لیے بیگانا کردیں۔
ایسی آنکھیں جو خاموش رہنا نہ جانتی ہوں۔
ایسی آنکھیں جن پر موجود پہرے دار پلکیں، دریا میں موج مستی سے گھومتے شفاف ٹھنڈے پانی کی طرح بل کھاتی ہوں۔
جیسے شاہی لبادہ اوڑھے کوئی سپاہی کسی بہت خوبصورت و قیمتی خزانے کی رکھوالی کے لیے کھڑا کیا گیا ہو۔
ایسی آنکھیں جن میں سحر ہو۔ سانس روک لینے اور روح کھینچ لینے کا سحر۔ ایسی آنکھیں جو ساحر کی آنکھیں ہونے کا اعزاز رکھتی ہوں۔
٭…٭…٭
’’شان بھائی مولوی صاحب کہہ رہے تھے آج عصر کی اذان آپ دیجیے۔‘‘ چھوٹے سے بچے نے آکر شان کو کہا۔ وہ وہاں مائیک کی آواز ٹھیک کر رہا تھا جو کافی دیر سے خراب تھی۔ منٹوں میں شان نے سیٹنگ کی اور ٹھیک کردیا۔
مولوی صاحب دور بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ خدا کی شان ہے اور یہ بھی خدا کا شان ہے۔ مسکراتے ہوئے سوچا اور بچے کو کہہ دیا۔
’’ہیں لیکن میں؟ میں نے تو کبھی اذان نہیں دی۔‘‘
شان ہکلایا۔
’’پر سنی تو ہے نا۔‘‘ دور سے مسکراتے مولوی صاحب قریب آئے۔
’’جی۔‘‘ آنکھیں بند کیے اذان دیتا شان الگ ہی دنیا میں تھا۔
٭…٭…٭
وہاں ساری طرف گارا اور مٹی بکھری ہوئی تھی، وہ کچھ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔
باریکیوں کو غور سے دیکھتا اور ٹھیک کرتا، جیسے تنقیدی جائزہ لے رہا ہو۔
کمرے میں آج کوئی بیک گراؤنڈ میوزک نہ تھا۔ اسے آج مکمل کر کے جانا تھا، پر وہ مکمل نہ کر سکا۔
٭…٭…٭
-

ہم زاد — سحرش رانی
وہ تاریک راہداری سے گزرتے ہوئے خوف زدہ ہورہا تھا۔ سامنے چھوٹا سا ہال نما کمرہ تھا۔ وہاں اور بھی بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔ وہ بھی خاموشی سے جاکر بیٹھ گیا۔ اس کا دل دھونکنی کی طرح بج رہا تھا۔ اس کی باری آئی تو وہ آہستہ سے اٹھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو عجیب سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ سامنے ایک معتبر بزرگ سر جھکائے ہاتھ میں تسبیح لیے پرسکون بیٹھے تھے۔ وہ ان کے سامنے جاکر بیٹھ گیا۔
’’کیا کرنے آئے ہو بچے؟‘‘ انہوں نے مدہم آواز میں سوال کیا۔
’’وہ میں… میں…‘‘ اسے اپنی آواز حلق میں اٹکتی محسوس ہوئی۔
’’تیری کون سی خواہشات ہیں جو پوری نہیں ہوتیں؟‘‘ انہوں نے بغیر دیکھے اس سے سوال کیا۔
’’وہ… اصل میں… مَیں‘‘ وہ کھل کے بولنا چاہتا تھا مگر گلا خشک ہوچکا تھا۔
’’نام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے گفتگو کا رخ موڑ دیا ’’عزیز… عزیز…‘‘ اسے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے جواب دیا۔
’’کیا کرتے ہو؟‘‘
’’جی، پڑھتا ہوں میڑک میں…‘‘
’’یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟‘‘ انہوں نے نرم لہجے میں دریافت کیا۔
میرے تین بڑے بھائی اور ایک بڑی بہن ہے۔ کچھ پڑھ چکے ہیں اور کچھ پڑھ رہے ہیں، اور سب بہت لائق فائق، پوزیشن ہولڈرز ہیں مگر مجھ سے پڑھا نہیں جاتا ہے۔ تو اس لیے مجھے…‘‘ وہ لمحہ بھرکورکا تھا۔
’’تو تمہیں تعویز چاہیے؟‘‘ بابا نے دریافت کیا۔
’’نہیں!‘‘ اس نے مستحکم لہجے میں جواب دیا۔
’’پھر؟‘‘
’’مجھے میرا ہمزاد قید کرنا ہے۔‘‘ بابا ہلکا سا مسکرا دیے۔
’’بچے جانتا ہے کہ ہمزاد کیا ہوتا ہے؟‘‘ ساری گفتگو میں انہوں نے پہلی دفعہ سر اٹھا کر عزیز کو دیکھا تھا۔ معصومیت اور کشمکش اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
’’جی! جسے قید کرلینے سے ہم اپنے سارے کام اس سے کروا سکتے ہیں۔‘‘ اس نے اپنے تئیں مدلل جواب دیا۔
’’اچھا! تو تم اپنا کیا کام کرواؤ گے ہمزاد سے؟‘‘ انہوں نے تسبیح کا دانہ گرایا۔
’’میرا سارا کورس وہ رٹے گا، امتحان میں دوں گا لیکن اصل میں سب کچھ وہ لکھے گا۔اس طرح مجھے پڑھنا نہیں پڑے گا اور اس طرح میں سکول اور گھر میں ہونے والی بے عزتی سے بچ جاؤں گا۔
’’لیکن یہ غلط ہے‘‘
’’تو کیا ساری عمر میں اپنی بے عزتی کرواتا ہوں؟ کتنا ٹارچر کرتے ہیں میرے گھر والے مجھے کہ بہن بھائیوں کو دیکھو اور خود کو دیکھو۔ بہت مشکل سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ بس اب آپ مجھے ہمزاد قید کرنے کا طریقہ بتا دیں بابا۔‘‘
’’لیکن بچے… انہوں نے مصلحت کی آخری کوشش کی۔
’’کچھ نہیں بابا! میں آپ کی نہیں سنو گا۔ بس مجھے طریقہ بتادیں ورنہ میں آپ کے آستانے سے کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہیں بیٹھا رہوں گا۔‘‘
٭…٭…٭
وہ ہاتھ میں مڑا ہوا کاغذ لیے اپنے کمرے سے نکلا۔ امی ابو کے بیڈروم کی طرف دیکھا تو وہاں سکوت تھا۔ سارے گھر میں خاموشی تھی۔ رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے۔
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ جاڑے میں بھی اس کے ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے نمودار ہورہے تھے۔
آخری زینہ عبور کرکہ وہ چھت پر آچکا تھا۔ اس نے سرد آہ بھری اور چاروں طرف نظر دوڑائی۔
اس نے اپنی جیب سے ایک چاک نکالا اور چھت کے ایک قدرے چھپے حصّے میں ایک حصار کھینچا اور اس حصار کے اندر بیٹھ گیا۔
اس نے وہ تہشدہ کاغذ بڑی احتیاط سے کھولا اور زیرِلب اس کاغذ کو دیکھ کر کچھ پڑھنے لگا۔ کچھ دیر تو اس پر خوف طاری رہا اور بابا کی پراسرار باتیں دماغ پر حاوی ہیں مگر کہیں کوئی آثار نہ پاکر وہ قدرے پرسکون ہوگیا۔
’’کہاں بابا کی باتیں کہ تمہیں جنات ڈرائیں گے، مُردے نظر آئیں گے مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔
منتر کوئی خاص لمبا چوڑا نہیں تھا۔ اس لیے اسے زیادہ مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ وہ اچھا خاصا بور ہورہا تھا۔ رات ڈیڑھ بجے سے تین بجے تک کا چلّہ ختم ہوا اور وہ مطمئن ہوکر خاموشی سے سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا اپنے کمرے میں آیا۔ وہ خوش تھا کہ وہ پہلے زینے پر کامیاب رہا۔
٭…٭…٭
وہ حصار میں بیٹھا تھا۔ لب تیزی سے حرکت کررہے تھے اور ہاتھ بھی سرعت سے موبائل پر حرکت کررہے تھے۔ وہ کوئی گیم کھیل رہا تھا۔ جو وہ بہت عرصے سے جیتنے کی کوشش میں تھا مگر ہمیشہ ناکام رہا تھا۔
رات کے تین بج چکے تھے۔ اس نے کوفت سے موبائل بند کیااور اٹھ کھڑا ہوا۔ آج کی رات بھی آرام سے گزر گئی۔
وہ نیچے کمرے میں آچکا تھا۔ اس نے پھر سے گیم کھیلنا شروع کی۔
ننھی ننھی کرنیں کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھیں، اس نے وال کلاک پر نظر ڈالی تو صبح کے ساتھ بج رہے تھے۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکی اور چپل پہن کر واش روم کی طرف بڑھا۔
آج دسواں دن تھا۔ اس کا چلہ ہنوز جاری تھا۔ وہ گیم کا پہلا راؤنڈ جیت چکا تھا۔
سینتیس دنوں میں وہ گیم کے سارے راؤنڈز جیت چکا تھا۔ اس گیم کو جیتنے کے لیے اس نے بہت کوشش کی تھی مگر کبھی کامیابی نہیں ملی تھی لیکن ان سینتیس دنوں میں وہ گیم جیت چکا تھا اور اس کا چلہ بھی جاری تھا۔ اس کا سارا ڈر اور خوف اڑن چھو ہوگیا۔ اس نے سنا تھا کہ چلے کے دوران اپنا ہمزاد ڈراتا ہے اور لوگ اس سے ڈر کر چلّہ چھوڑ دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔
چالیسویں رات… اس کی کامیابی کی آخری سیڑھیتھی۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس نے حصار کھینچا اور جھٹ پٹ اس میں بیٹھ گیا۔ اس کے لب ہولے ہولے کانپ رہے تھے۔ آخری رات تھی۔ دل میں ڈر اور خوف کا دھاوا بیٹھ گیا تھا۔ ایک ڈر تھا، اپنے ہمزاد سے لڑنے کا۔ اسے پالینے کا۔ گیم چوں کہ وہ چیت چکا تھا اس لیے اب وہ بغیر کسی دوسری مصروفیت کے ورد کرنے میں مگن تھا۔ وقت تھا کہ رینگ رہا تھا اور گزر کر نہیں دے رہا تھا۔
اللہ اللہ کرکے تین بجے… وصل کی طویل گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اس نے جھٹکے سے آنکھیں بند کرلیں۔ لب ٹھہر سے گئے۔ چار سو خاموشی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھول لیں۔ وہ یقین اور بے یقینی میں مبتلا تھا۔
وہ منتظر تھا کہ آنکھیں کھولنے پر سامنے ہمزاد کو پائے گا۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو سناٹا بدستور قائم تھا۔ کسی دوسرے ذی روح کا وجود نہیں تھا۔
وہ ایک شاک کی کیفیت میں دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اسے شدید حیرت ہوئی کہ اتنے دنوں کی محنت ضائع ہوگئی۔ وہ ایک غم کے عالم میں وہیں بیٹھا رہ گیا۔
نفرت اور غصّے کے ملے جلے تاثر کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا نیچے اپنے کمرے میں آگیا۔
٭…٭…٭
وہ نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔ دھڑا دھڑ لوگ سائیں بابا کے کمرے میں جارہے تھے۔ وہ اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔
’’عزیز حسن!‘‘ کسی نے اس کا نام پکارا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اندر چلا گیا۔ وہ لب بھینچے سائیں بابا کے سامنے بیٹھا زمین کو گھود رہا تھا۔ وہ چالیس دن بعد ان کے سامنے حاضر ہوا تھا… تہی دامن۔
’’کہاں گم ہو بچے؟‘‘ طویل تر ہوتی خاموشی ختم کرنے کے لیے انہوں نے ہی پہل کی۔ ’’آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟‘‘ وہ بڑے آرام سے اتنی بڑی بات کہہ گیا تھا، حالاں کہ وہ سائیں بابا کے مرتبے اور عزت سے بے بہرہ نہ تھا۔
’’کیوں میرا اتنا ٹائم ضائع کیا؟ کہاں ہے وہ ہمزاد؟ آپ نے کہا تھا کہ چالیس دن بعد میں ہمزاد قید کر لوں گا لیکن مجھے تو نہیں ملا وہ۔‘‘ اس نے شدید غصّے کے عالم میں مٹھیاں بھینچ لیں۔
’’تو نے چلا کاٹا تھا؟‘‘ وہ بے نیازی سے پوچھ رہے تھے۔
’’جی… جی ہاں… پورے چالیس دن!‘‘ اس نے بے تابی سے جواب دیا۔
’’اور کیا کیا؟‘‘
’’اور؟… اور … ہاں وہ ایک گیم کھیلتا رہا تھا… اور میں نے وہ ون کر لی۔‘‘ اس کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائے۔
’’بہت محنت کی ہے تم نے گیم جیتنے میں؟‘‘ انہوں نے مشفقانہ انداز میں پوچھا۔
’’جی! بہت محنت کی تھی۔‘‘
’’اتنی محنت پڑھائی میں کی ہوتی تو ہمزاد قید کرنا نہ پڑتا۔ ابھی وقت ہے بچے! گیم جیت لی، میدان بھی جیت لو گے۔‘‘ انہوں نے نہایت نرم لہجے میں کہا تھا۔ وہ بت بنا بس انہیں دیکھے جا رہا تھا۔ دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔ کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہاں بیٹھا رہے، اٹھ جائے، کیا کہے۔
’’جاؤ بچے! پختہ ایمان اور ارادے کے ساتھ۔‘‘ انہوں نے اس کے کندھے کو تھپکا اور وہ خاموشی سے سلام کہتا کمرے سے نکل گیا۔
دہلیز پر جوتے پہنتے ہوئے وہ اپنے جذبات کو سمجھنے سے عاری تھا۔ نیم غصہ، اپنے بچپنے اور پاگل پن پر اسے ہنسی بھی آرہی تھی اور وہ شرمندہ بھی ہورہا تھا۔
وہ قدرے سنسان سڑک پر آہستہ آہستہ جارہا تھا۔ وہ خود سے عہد کر چکا تھا۔ اور وہ عہد ایک جذبے اور مسکراہٹ کی صورت اس کے چہرے سے عیاں تھا۔
٭…٭…٭
-

اب اور نہیں — ایمان عائشہ
ان دنوں زندگی کی ٹرین بھی کیسے چھکا چھک کرتی گزرتی جارہی تھی۔ عمر رفتہ کے ڈبے بھی تیزی سے آنکھوں کے آگے سے گم ہوتے چلے جارہے تھے۔ میری عمر کی ڈور میں یکے بعد دیگرے گزرتے سالوں کی ان گنت گرہیں لگتی جارہی تھیں۔
ارے لڑکی ذات ہوتے ہوئے کیسے کہتی اور کیوں کر کہہ سکتی تھی میں؟ ان ہی دنوں میرے لیے انجینئر کا رشتہ آیا، کیا عمر تھی میری؟صرف اٹھارہ سال۔
’’ارے جاؤ کیا ہم اتنی سی عمر میں اپنی بیٹی کو اتنے بڑے کنبے میں جھونک دیں۔‘‘ پاپا نے ان دنوں ممی کے مجبور کرنے پر ہاتھ جھٹک کے گویا اس رشتہ سے صاف انکار ہی تو کردیا تھا ، پھر تو جیسے بیری کے درخت پر پتھروں والی بات کے مصداق یکے بعد دیگرے رشتوں کی لائن ہی لگتی چلی گئی تھی۔
’’وہ لڑکا تو ایک دم چھڑا چھانٹ ہے۔ خاندان کا پتا نہیں، نہ کوئی آگے ہے نہ پیچھے، ارے ! ہم تو یہاں نہ دیں گے اپنی بیٹی۔‘‘ یوں ان ہی دنوں ایک اچھے رشتے پر پاپا کی طرف سے معاملہ ختم کردیا گیا۔
ابھی کچھ مہینے ہی آگے سرکے ہوں گے کہ پھر کسی اور ہی رشتے کے بارے میں گھر میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔
’’اے شکل تو دیکھو لڑکا آدھا تو گنجا ہے۔ ہماری بیٹی کے آگے کہاں جچے گا ، حالانکہ کاروبار تو اچھا خاصا ہے ۔‘‘
اور پھر بات وہیں ختم۔
’’ان نو دولتیوں کے لچھن تو دیکھو ان کی عورتیں سونے میں نہا گئیں، پر پہننے اوڑھنے کے ڈھنگ نہیں آئے، ہونہہ ! ایسے لوگوں سے تو اللہ بچائے ۔‘‘
یوں ان ہی دنوں پاپا کی طرف سے دبئی پلٹ رشتے سے بھی انکار کردیا گیا ۔ زندگی کے پہیے نے تو چلنا تھا وہ کہاں رکتا ہے یوں ہی عمر کا تیسواں سال شروع ہوگیا جب میری زندگی میں وہ آیا۔
وہ بہار بن کر آیا یا خزاں بن کر، کچھ خبر نہیں، لیکن اس کے آنے سے مجھ پر یہ دو موسم آج بھی طاری ہیں۔
بیک وقت بہار اور خزاں کے یہ دو موسم جیسے مجھ پر مرتے دم تک طاری ہی رہیں گے۔ میں ان موسموں کے حصار سے کبھی خود کو نہیں نکال سکی۔
یہ بات بھی ان دنوں کی ہے جب خاندان میں منعقد ایک شادی کی رسم میں انہوں نے مجھے اپنی نظروں کے حصار میں قید کرلیا ، اس کی خبر تو مجھے جب ہوئی جب میرے لیے ان کا رشتہ آیا۔
ان ہی دنوں ڈرائنگ روم میں لہراتے پردے کی اوٹ سے جب ڈرتے ڈرتے چھپ کر میں نے ممی پاپا کی باتیں سنیں، تو پاپا ممی سے کہہ رہے تھے :
’’یہ لڑکا فرمان مجھے بالکل پسند نہیں، مرتا مر جاؤں گا پر یہاں رشتہ نہیں کروں گا۔‘‘
ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے میرا دل مٹھی میں لے کر بھینچ دیا گیا ہو۔ اب نہیں تو کب اور کب؟ کب ہاں کریں گے۔
میں نے پردے کی اوٹ میں کھڑے کھڑے کرب سے آنکھیں میچتے ہوئے سوچا۔
اب تو سہیلیوں کے سوالات بھی تیر کی طرح دل میں پیوست ہوجاتے تھے۔ جب وہ انتہائی حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھتی اور پوچھتیں۔
’’کیا واقعی تمہاری اب تک شادی نہیں ہوپائی؟ ‘‘
یہ بات بھی تو ان ہی بے مقصد سے دنوں کی ہے، جب موبائل پر اجنبی نمبر سے کال آئی۔
’’ہیلو میں فرمان ہوں۔ پلیز فون بند مت کیجیے گا، بہت ضروری بات کرنی ہے۔ اتنی ضروری ہے کہ اگر نہ کی تو شاید میں مر ہی جاؤں۔‘‘
کال اٹینڈ کرنے کے بعد کسی کی بھاری آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ وہ فرمان نامہ تھا یا شدتوں کی ایک داستان ، کے دل کی کشتی اسی سمت بہنے لگی ، من باغی ہوتا چلا گیا۔ ایک دن ممی سے بھی ڈرتے ڈرتے فرمان سے جڑے رشتے کا ذکر کر ہی ڈالا کہ عمر کا بھی تو اب اکتیسواں سال شروع ہوچکا تھا اور پاپا کا وہی رویہ …
’’تمہیں یہ قدم ضرور اٹھانا ہوگا۔‘‘ ایک دن فرمان نے جیسے بم ہی تو پھوڑ دیا تھا۔
’’کیا! کورٹ میرج؟‘‘
’’نہیں نہیں میں بہت شریف خاندان سے ہوں۔‘‘ میں نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’میں بھی شریف خاندان سے ہوں، لیکن ہمیں یہ قدم لازمی اٹھانا ہوگا۔‘‘فرمان کی طرف سے زور دیا جاتا۔
رفتہ رفتہ عشق کا زہر رگ و پے میں سرایت کرتا جارہا تھا۔ اس کے تریاق کے لیے آخر ایک دن فرمان اور میں، ممی کو رازدان بناکر کورٹ کی طرف چل پڑے۔ ممی جوکہ پہلے ہی پاپا کے رویے سے خائف سی رہتی تھیں۔ ایک بڑے طوفان کی آمد کے خدشات سے یکدم سہم سی گئیں۔
میری عمر کا پینتیسواں سال۔
ان کی بیٹی بھاگ گئی۔ بیٹی بھاگ گئی؟ سنا تم نے اشرف صاحب کی بیٹی بھاگ گئی۔‘‘
’’ہاہ ہاہ۔‘‘
’’ارے ان شریفوں کا حال تو دیکھو اندر سے پھپھوند لگی ہوتی ہے ان میں، کیڑے پڑے ہوتے ہیں کیڑے۔‘‘ اشرف صاحب مسجد میں صف میں کھڑے ہوتے تو پیچھے سے کسی نمازی کی کریہہ آواز سنائی دیتی۔
ان دنوں پاپا کو تو جیسے چپ سی لگ گئی تھی۔ گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہوگیا تھا جہاں جاتے تمسخر شدہ نگاہیں طنز بھرے لہجے، آخر پاپا بہت جلد اس دنیا سے چلے گئے۔
’’میں نے غم بھی تو اتنا شدید دیا تھا نا۔ پھر کیسے جی سکتے تھے وہ۔‘‘
آج میری پانچ بیٹیاں ہیں۔ آج بھی میں گھر سے بھاگی ہوئی عورت کہلائی جاتی ہوں، کبھی کبھی میری بڑی بیٹی بولتی ہے :
’’ماما میں نے ایک جگہ پڑھا تھا گھر سے بھاگی ہوئی عورت کا سر ڈھانپنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اس نے کئی سوراخوں والی چادر اوڑھ رکھی ہو۔‘‘
ایسے میں میرا ہاتھ بے اختیار اپنے سر پر جمی چادر کو دوبارہ ٹھیک کرنے کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ اس سے تو بہتر تھا میں کنواری بیٹھی رہ جاتی جہاں پینتیس کی ہوگئی تھی، وہاں چالیس کی بھی ہوجاتی۔ اکثر آنسو بہاتے ہوئے میں سوچا کرتی ہوں۔ جیسے جیسے عمر گزرتی جارہی ہے مکافات عمل کی اندیشے مجھے رات دن ڈستے رہتے ہیں کہ کل جو میرے والدین نے میری شکل میں ذلت دیکھی کہیں آج مجھے بیٹیوں کی شکل میں بھگتنی نہ پڑجائے۔
میری بڑی بیٹی خیر سے اٹھارہ کی ہوگئی ہے۔ اچھا رشتہ آتے ہی ہاتھ پیلے کردوں گی پھر اس سے چھوٹی بیٹیاں بھی بانس کی طرح قد نکال رہی ہیں۔
’’نہیں نہیں ! بس اب اور نہیں میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی جو کبھی میرے ساتھ ہوا۔‘‘
-

مجرم — ماہتاب خان
چودھری افضل اپنے چھوٹے بھائی چودھری انور اور اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ڈیرے پر بیٹھا تھا۔ جب نذیرا ایک کتے کو لیے اس کے قریب آیا۔ اسی وقت ایک بوڑھا شخص جو پھٹے پرانے لباس میں ہاتھ جوڑے چودھری افضل کے قریب آیا۔
’’تو تو پیچھے مر۔‘‘ اس نے غصے سے اسے دیکھا۔
’’ہاں تو بتا وہ اس کا کیا مانگ رہے ہیں؟‘‘ چودھری افضل نے نذیرے سے پوچھا۔
’’دو لاکھ مانگ رہا ہے چودھری صاحب، مگر میرا خیال ہے ڈیڑھ میں سودا ہو جائے گا۔‘‘ نذیرے نے کہا۔
’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔‘‘ وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا۔
’’سن نذیرے اس کی تیاری تیری ذمہ داری ہو گی۔ اس بار ہماری ہار نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
’’خوراک آپ کی، محنت میری پھر کیسے ہارے گا؟ نسل دار کتا ہے چودھری صاحب۔‘‘ نذیرے نے عاجزی سے کہا۔
’’کیا خیال ہے نکے؟‘‘ اس نے چھوٹے بھائی انور کی طرف دیکھا۔
’’لگتا تو ٹھیک ہے بھائی! میرا خیال ہے یہ آپ کو پسند آ گیا ہے۔ ایسا کر نذیرے اگر وہ ڈیڑھ میں نہ مانے تو کچھ اوپر دے دینا، مگر سودا آج ہی کر لینا۔‘‘ نذیرے نے سر ہلایا۔ بوڑھا جو پاس ہی کھڑا تھا دوبارہ چودھری افضل کے قریب آیا۔
’’اس کا کیا مسئلہ ہے؟‘‘افضل نے کڑے تیوروں سے ایک ملازم سے پوچھا۔
’’اس کی بیٹی بیمار ہے سرکار کچھ پیسے لینے آیا ہے۔‘‘ملازم نے کہا۔
’’منشی بابا جان کے ساتھ شہر گیا ہوا ہے۔ بغیر کھاتے میں اندراج کیے کیسے دے دیں اسے پیسے؟‘‘
’’چل بھئی پیچھے ہٹ آج تجھے پیسے نہیں مل سکتے۔ سنا نہیں منشی شہر گیا ہوا ہے۔‘‘ ملازم نے بوڑھے کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور پیچھے دھکیل دیا۔
’’نکے ایک تو یہ کمی ہمیں سا نئیں لینے دیتے جہاں بھی دیکھو منہ اٹھائے اور جھولی پھیلائے چلے آتے ہیں۔‘‘ افضل نے ناگواری سے کہا۔
’’آپ کے مزارعے ہیں چودھری صاحب! آپ کے پاس نہیں آئیں تو اورکہاں جائیں؟‘‘ بوڑھا رندھی ہوئی آواز میں بولا۔
’’جا جا یہاں سے، جان چھوڑ ہماری۔ جگو لے کر جا اسے ۔‘‘ انور نے ایک ملازم کو اشارہ کیا۔ جگو اس کے قریب گیا اور کہا:
’’سنا نہیں چودھری صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ کملے بڑے لوگوں کے بڑے خرچے ہوتے ہیں۔ منشی آ جائے گا تو مل جائیں گے پیسے ۔ آ میرے ساتھ۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا۔
افضل جو کتے کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے قریب ہی زمین پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔
’’دیکھ نذیرے! اس کی تیاری بہت اچھی ہونی چاہے۔ سمجھ گیا نہ تو۔‘‘
’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر چودھری صاحب!‘‘ نذیر نے کہا۔
’’چل اب لے جا اسے۔‘‘ نذیرے نے زنجیر کھینچی اور اسے لے کر چلا گیا۔ افضل دور تک اسے جاتے دیکھتا رہا۔
دو تین دن گزرے تھے جب بڑے چودھری صاحب اس سہ پہر حویلی پہنچے۔ ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ تقریباً ساٹھ سالہ چودھری غفور نے جو سفید براق شلوار قمیص اور بڑی سی اونچے شملے والی پگڑی باندھے زمین پر اس طرح قدم رکھا کہ اِن کا کرو فر ہی نرالا تھا۔ پچاس سالہ دبلا پتلا، لیکن پھرتیلا منشی بھی لپک کر پچھلی سیٹ سے اترا اور ان کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔
’’زمین کے کاغذات والا بیگ سنبھال لیا منشی؟‘‘چودھری غفور نے کہا۔
’’جی چودھری صاحب! یہ رہا بیگ۔‘‘ اس نے ہاتھ میں تھا ما بریف کیس دکھاتے ہوئے کہا ۔
وہ جیسے ہی مہمان خانے میں داخل ہوئے۔ دونوں بیٹے لپک کر ان کے قریب آ گئے۔
’’اسلام و علیکم بابا جان!‘‘ افضل ان سے بغلگیر ہوتا ہوا بولا۔
و علیکم السلام! سب خیریت ہے نا؟‘‘چودھری غفور ان دونوں سے مل کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔
’’یہاں سب خیریت ہے۔ ہم تو آپ کی طرف سے فکر مند تھے۔ ایک ہفتہ ہو گیا آپ کو شہر گئے کچھ خیر خبر ہی نہیں تھی۔‘‘ افضل نے کہا۔
’’دو دن سے آپ کا فون بھی نہیں مل رہا تھا۔‘‘ انور نے کہا۔
’’تم دونوں کے لیے ہی تو شہر گیا تھا۔ کچہری کے معاملات آسان نہیں ہوتے۔ میں نے تمام جاگیر اور زمینیں تقسیم کر دی ہیں۔‘‘ پھر کچھ دیر ٹھہر کر انہوں نے کہا۔
’’تم لوگ اپنی مرضی سے اپنی بہن کا حصہ اسے دے دیتے تو اچھا تھا۔‘‘
’’بابا جان یہ ہماری روایت کے خلاف ہے۔ عورتوں کو جائیداد میں سے حصہ نہیں دیا جاتا پھر آپ نے بھی تو…‘‘
’’بس! گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ وہی بوڑھا اندر داخل ہوا اور چودھری غفور کی جانب بڑھا۔
’’اوئے، تو پھر آ گیا۔ سا تو لینے دے بابا جان کو۔ جگو، شیرا کہاں مر گئے سارے ۔ نکالو اسے یہاں سے۔ کس نے اسے اندر آنے دیا؟‘‘ افضل پھرتی سے اٹھ کر بوڑھے کے قریب گیا۔
’’میری بات تو سنو چودھری! مجھے بڑے چودھری صاحب سے بات کرنے دو۔‘‘ وہ گھگیا تا ہوا بولا۔
’’سنتے ہیں، ابھی سنتے ہیں۔ کہہ دیا نا کچھ کرتے ہیں۔ اُدھر بیٹھو جا کر۔‘‘ اس نے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ بوڑھا مایوسی سے سر جھکائے دیوار کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
’’چمٹ ہی جاتے ہیں جان کو ۔‘‘ وہ بڑ بڑاتا ہوا بڑے چودھری صاحب کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔ اسی وقت اچانک حویلی کے اندر سے چیخنے چلانے کی بلند آوازیں آنے لگیں۔
’’اللہ خیر کرے۔‘‘ چودھری غفور مضطرب انداز میں کھڑے ہو گئے۔ وہاں موجود سب افراد ہکا بکا تھے۔ حویلی کے اندر سے ایک ملازمہ دوڑتی ہوئی آئی۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی اور الفاظ صحیح طور سے اس کے منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔ وہ پورے وجود سے کانپ رہی تھی۔
’’بڑے چودھری صاحب! وہاں حویلی میں میراں بی بی…‘‘
’’کیا ہوا میراں کو؟‘‘ وہ تیزی سے اندر بھاگے۔ ان کے پیچھے افضل اور انور بھی متوحش انداز میں لپکے۔ جوں جوں وہ حویلی کی سمت بڑھ رہے تھے۔ چیخ و پکار اور آہ و بکا کی صدائیں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ جیسے ہی صحن میں پہنچے وہاں ایک جانب حویلی کی عورتوں اور ملازمین کا جمگھٹا نظر آیا۔ وہ تیزی سے وہاں پہنچے، تو دیکھا کہ ان کی بیٹی میراں زمین پر پڑی تھی اس طرح کہ اس کے آس پاس خون کا چھوٹا سا تالاب بن گیا تھا۔
’’کیا ہوا میری میراں کو؟‘‘ وہ تیورا کر وہیں گرنے والے تھے کہ افضل نے انہیں سنبھال لیا۔ انور میراں کے قریب بیٹھ گیا اور اسے ہلایا جلایا اس کی نبض چیک کی، مگر وہاں زندگی کی کوئی رمق نہیں تھی۔ میراں مر چکی تھی۔
’’میراں گئی بھائی، میراں مر گئی۔ سارے جھگڑے ختم ہو گئے۔‘‘ میراں کی لاش کے پاس بیٹھی ایک ادھیڑ عمرعورت چودھری غفور کی طرف دیکھ کر چلائی تھی۔ وہ سارا معاملہ سمجھ گیا۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ میراں اس کی واحد بیٹی تھی۔
’’اس نے چھت سے کود کر جان دے دی۔ سارے جھگڑے مک گئے۔ ہائے میری بچی تو نے یہ کیا کیا؟‘‘ بوڑھی عورت دوبارہ بین کرنے لگی۔ وہ زا ر و قطار رو رہی تھی۔ دیگر عورتیں بھی آہ و بکا کر رہی تھیں۔ افضل اور انور کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ دونوں سکتے کے عالم میں تھے۔ پھر افضل نے چونک کر بوڑھی عورت سے کہا۔
’’ایسی بات نہ کر پھوپھی ، وہ غلطی سے گری ہو گی۔‘‘
’’وہ غلطی سے نہیں گری۔‘‘ چودھری غفور نے گمبھیر مگر دھیمے لہجے میں آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
ذرا سی دیر میں پوری حویلی آہوں اور سسکیوں میں ڈوب گئی اور آن کی آن میں یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی کہ چودھری غفور کی بیٹی اور چودھری افضل اور انور کی اکلوتی بہن حویلی کی چھت سے گر کر مر گئی۔ رات گئے تک اسے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر میراں کا شوہر اس کی ساس اور اس کا ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی موجود تھا۔ اس کی جوان سال موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ رات کا وہ نہ جانے کون سا پہر تھا جب چودھری غفور گاؤں کے اس واحد تھانے میں آیا تھا۔ ایک حوالدار وہاں موجود تھا جو زمین پر چادر بچھائے سو رہا تھا۔ چودھری جھکا اور اسے جگانے کے لیے اس کا کندھا ہلایا۔
’’کون …کون ہے رات کے اس پہر ؟‘‘وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔
’’میں ہوں چودھری غفور ۔‘‘
’’اوہ! چودھری صاحب آپ؟‘‘ وہ پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’آئیے آئیے سرکار۔‘‘ حوالدار نے انہیں کرسی پیش کی۔
’’بیٹھیے، سب خیر تو ہے نا؟‘‘
-
اچانک — عائشہ احمد
میری زندگی میں ’’اچانک‘‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔جو بھی ہوتا ہے اچانک ہی ہوتا ہے۔ میں نے ایم اے بھی اچانک کیا حالاں کہ میرا ارادہ ڈاکٹر بننے کا تھا، لیکن جس دن انٹری ٹیسٹ تھا۔ اسی دن اچانک بیمار ہو گیا اور یوں میں ڈاکٹر بننے سے رہ گیا۔ ورنہ اب تک اپنا پرائیویٹ کلینک بنا کر خلقِ خدا کی خدمت کر رہا ہوتا وہ بھی لاکھوں کما کر…نوکری بھی اچانک مل گئی اور لاہور بھی اچانک آنا پڑا۔ کبھی کبھی میں اپنی اماں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا میں دنیا میں بھی اچانک آیا تھا جس پر وہ ہمیشہ کی طرح اچانک مجھے اپنی پشاوری چپل گھما کر مارتیں۔
٭…٭…٭
میں شام کو گھر آیا تو اچانک صبا کا فون آگیااور مجھے ریستوران میں بلالیا۔ حالاں کہ آج دوپہر ہی ہم نے اکٹھے لنچ کیا تھا۔ جب وہ مجھے اس طرح بلاتی تو مجھے یقین ہوجاتا کہ کوئی اہم مسئلہ ہے۔
ہم لڑکوں کا سب سے بڑا مسئلہ کسی لڑکی کے ساتھ ملنے کے وقت یہ ہوتا ہے کہ کون سا سوٹ پہن کر جائیں۔ کالج تو میں جینز سے گزارا کر لیتا ہوں لیکن اس طرح اگر رات کو صبا سے ملنے جاؤں تو خاص تیار ہو کر جاتا ہوں۔مسئلہ میرے ساتھ بھی یہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ میرے پاس کل پانچ سوٹ ہیں اور میں ہر سوٹ کو کوئی پانچ سے چھے بار پہن کر صبا سے ملنے جا چکا ہوں اور وہ مجھے ہر بار شرم دلاتی ہے کہ اب ایک نیا سوٹ خرید لو لیکن میں ہر بار بے شرم بن کر اسے ایک ہی جواب دیتا۔
’’ڈارلنگ اگر میں نئے سوٹ پہننے لگ گیا تو ہماری شادی کیسے ہو گی؟اور وہ میری اس بات پر ہمیشہ کی طرح شرمانے کی مصنوعی ایکٹنگ کرتی جس میں وہ ہمیشہ ناکا م رہتی۔میں نے جلدی سے اپنا نیلے رنگ کا سوٹ پہنا اور بال بنانے لگا۔میرے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔صبا فون کر رہی تھی۔
’’ایک تو لڑکیوں کو بھی ہر کام کی جلدی ہوتی ہے۔‘‘ میں نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
’’کہاں ہو تم؟میں کب سے تمہارا انتظا ر کر رہی ہوں۔‘‘ اس کی غصے سے بھری آواز سنائی دی۔
’’تم لڑکیوں کو ہر کام کی جلدی ہوتی ہے،محبت کی جلدی،شادی کی جلدی اور پھر…‘‘اس نے میری بات کاٹ دی تھی۔
’’اور پھر…بولو آگے۔‘‘ وہ تیز لہجے میں بولی۔
’’پھر کچھ بھی نہیں،تم فون رکھو اور میں آیا۔‘‘ اور جلدی سے بائیک پر بیٹھ کر صبا کی طرف روانہ ہوگیا۔
’’بائیک کی سپیڈ میں نے بڑھا دی تھی۔ اس لیے کہ سڑکوں پر ٹریفک کافی کم تھی۔ ویسے بھی رات کا وقت تھا،میں جلد سے جلد صبا کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔ میں جانتا تھا وہ ریستوران میں میرا انتظارکر رہی ہو گی۔چر چر چر چر…میری بائیک کے پہیے چرچرائے اور بائیک ایک جھٹکے سے رک گئی۔ وہ لڑکی میری بائیک سے ٹکرا کر دور جا گری تھی۔ وہ اچانک ہی میری بائیک کے سامنے آگئی تھی۔ میں جلدی سے اس کے پاس پہنچا ۔ اس کے سر سے خون بہ رہا تھا۔ میں نے اس کی نبض چیک کی اور اﷲ کا شکر ادا کیا کہ وہ زندہ ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ بھاگ جاؤں لیکن پھر میرے اندر کی انسانیت جا گ اٹھی اور میں اسے اسپتا ل لے آیا۔ اس کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ وہ بیڈ پر لیٹی چھت کو تکے جا رہی تھی۔ میرے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور پھر چھت کو دیکھنے لگی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتا وہ بول پڑی۔
’’کیوں بچایا آپ نے مجھے؟‘‘اس کے لہجے میں دنیا جہاں کا دکھ سمٹا تھا۔
’’میں نے کہا ں بچایا ہے آپ کو؟ وہ تو آپ کی قسمت اچھی تھی۔‘‘ میں نے معصومیت سے کہا، تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’ہو سکتا ہے لیکن اب میں جاؤں گی کہاں؟ مرنے کے بعد تو مجھے اندازہ تھا کہ قبر میںجگہ مل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آپ نے وہ سہارا بھی چھین لیا۔‘‘ وہ فلسفیانہ انداز میں بولی لیکن میری موٹی عقل میں اس کی ایک بات بھی نہ آئی۔
’’پتا نہیں یہ لڑکیاں ایسی باتیں کیسے کر لیتی ہیں؟‘‘میں نے دل میں سوچا۔
’’کوئی تو ہوگاآپ کا؟میرا مطلب ہے ،ماں ،باپ،بہن بھائی۔‘‘ میں نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلادیا، لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی۔
’’نہیں … میرا اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔میں اس بھری دنیا میں بالکل تنہا ہوں۔‘‘ اس نے کسی ڈرامے کی ہیروئن کی طرح ڈائیلاگ مارا۔
’’تو پھر آپ کہاں جائیں گی؟‘‘میں نے اس سے پوچھا۔
’’آپ مجھے سے شادی کرلیں۔‘‘ اس نے کہا تو مجھے لگا کہ کسی نے میرے سر پہ سو کلو وزنی بم پھوڑ دیا ہے۔
’’کیا…؟‘‘میں ایسے اُچھلا جیسے توے پر پاپ کارن اُچھلتے ہیں۔
’’م م م م مم مم۔ میں؟‘‘میں تھوک نگلتے ہوئے بولا۔
’’کیوں تم کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘وہ ایک دم آپ سے تم پر آگئی۔میں منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔ روگ پیار دے دلاں نوں جناں لائے۔ تے کلے کلے رون رات نوں۔ میرے موبائل کی بیل بج اٹھی۔میں نے جیب سے موبائل نکالا تو اسکرین پر صبا کا نمبر جگمگارہا تھا۔
’’میں آرہا ہوں۔‘‘ میں نے اسے کہا اور جلدی سے فون بند کر دیا ۔مجھے پتا تھا اگر اس نے لڑکی کی آواز سن لی تو قیامت آجائے گی۔
’’میں چلتا ہوں۔‘‘میں نے اس سے کہا اور کھڑا ہو گیا۔
’’میں دوسری بیوی بن جاؤں گی۔‘‘وہ بولی تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
’’لیکن میں…!‘‘اس نے میری بات اچک لی تھی۔
’’دیکھیں اب آپ کو مجھ سے شادی کرنا ہوگی۔ورنہ…؟‘‘اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
’’ورنہ کیا کریں گی آپ؟‘‘ میں نے کانپتے دل کے ساتھ کہا، حقیقت میں، میں بہت ڈرپوک ہوں،خواب میں چھپکلی سے ڈر جاتا ہوں، لیکن حقیقت میں دیکھوں تو وہاں سے بھاگ جاتا ہوں۔
’’ورنہ میں سارے اسپتال میں شور مچا دوں گی کہ تم مجھے اغوا کر کے لے جارہے تھے لیکن راستے میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘ وہ مکاری سے بولی اور میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ میرے بارے میں جان چکی تھی کہ میں سیدھا سادہ انسان ہوں۔
’’صبا مجھے جان سے مار دے گی۔‘‘میں نے رو دینے والے لہجے میں کہا۔
’’پولیس تمہیں پھانسی کے تختے پر لٹکا دے گی۔‘‘اس نے مسکرا کر کہا، تو میرے پیروں سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
٭…٭…٭میرا نام ابراہیم ہے اور میری پیدائش گاؤں کی ہے۔اماں ،ابا گاؤں میں رہتے ہیں۔ ایک بہن ہے جس کی شادی ہو چکی ہے۔ زمینوں سے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے۔ اباجی نے مجھے منع کیا ہو ا ہے کہ میں ان کو پیسے نہ بھیجوں،بلکہ اپنا گھر بناؤں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے جگہ خرید کر دو سالوں میں رہنے کے قابل ایک مکان بنا لیا ہے ۔میں نے انگلش میں ایم اے کیا ہے اور اسی بنیاد پر مجھے ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرر کی جاب ملی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے ہی کالج کے کئی طالب علموں کو ٹیوشن بھی پڑھا رہا ہوں جس سے زندگی آسودہ گزر رہی ہے۔ صبا میرے ساتھ کالج میں ہی پڑھاتی ہے۔ بس وہیں سے ہیلو ہائے ہوئی اور پھر بات پسندیدگی تک پہنچ گئی۔وہ میری منگیتر ہے اور جلد ہی ہماری شادی ہونے والی ہے، لیکن اس بات کا اماں اور ابا کو نہیں پتا اور نہ ہی میں انہیں بتانا چاہتا ہوں۔ اس لیے کہ ابا جی اپنی اکلوتی بھتیجی پینو عرف پروین کی شادی میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں اور میں انہیں مسلسل ٹال رہا ہوں،اس لیے میں جلد سے جلد صبا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
لیکن پھر بیچ میں سنیعہ آگئی۔بقول اس کے کہ اس کی ماں کا انتقال ہوچکا ہے اوراس کے باپ نے دوسری شادی کر لی ہے۔وہ اکلوتی اولاد ہے اپنے والدین کی۔ اس کی سوتیلی ماں اس پر ظلم کرتی ہے اس لیے وہ گھر سے بھاگ آئی اور خود کشی کاسوچا۔
’’تمہیں میری ہی بائیک ملی تھی خود کشی کے لیے۔‘‘میں غصے سے بولا تو وہ ڈر گئی۔
’’اس میں میرا کیا قصور؟ میں تو کسی گاڑی کے نیچے آنا چاہتی تھی لیکن اچانک تم آگئے۔‘‘وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔
’’اچانک! یہ لفظ مجھے برباد کر کے چھوڑے گا۔‘‘ میں چیخ کر بولا۔صبا کو میں نے طبیعت خرابی کا کہہ دیا۔ وہ آنا چاہ رہی تھی لیکن میں اسے ٹال گیا۔سنیعہ میرے ساتھ میرے گھر میں موجود تھی۔میں دعا کر رہا تھا کہ کہیں وہ آہی نہ جائے۔ورنہ ہنگامہ کھڑا ہوجاتا۔
اسی دوران باہر کا دروازہ کھلا اور فرقان اند داخل ہوا۔فرقان میرا دوست ہے،بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ میرا راز دار بھی ہے اور مجھے یقین تھا کہ وہی مجھے اس مصیبت سے نکالے گا۔‘‘ اس نے ایک نظر میری طرف اور پھر سنیعہ کی طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں کئی طرح کے سوال جنم لے رہے تھے۔
’’یہ سنیعہ ہے!‘‘ میں نے اسے بتایا تو اس کی نظروں میں شک کے بادل ہلکورے لے رہے تھے۔میں اسے کھینچ کر ایک طرف لے گیا اور اسے ساری کہانی سنائی۔
’’صبا کو پتا چلے گا تو وہ تجھے جان سے مار دے گی۔‘‘ وہ غصے سے بولا۔
’’اگر میں نے اس سے شادی نہیں کی، تو پولیس مجھے جان سے مار دے گی۔‘‘ میں نے اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
’’تو کر لے اس سے شادی۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا اور یوں میری ا س سے شادی ہوگئی۔
اور اس نے مجھے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی بے دخل کر دیا۔
’’پہلے منہ دکھائی دو پھر اندر آنے دوں گی۔‘‘ وہ شوخی سے بولی۔ وہ دروازہ روک کر کھڑی تھی،میں نے اند ر جانے کی ناکا م کوشش کی لیکن وہ مجھ سے زیادہ تیز نکلی۔دھکا دے کر پیچھے کردیا۔
’’یہ میرا کمرا ہے اس لیے مجھے اندر آنے کا حق ہے۔‘‘میں نے جھنجھلا کر کہا تو وہ مسکرا دی ۔
’’اوں ہوں…غلط ،اب اس کمرے پر میرا بھی حق ہے،بیوی ہوں تمہاری،جب منہ دکھائی دو گے تب آنے دوں گی۔‘‘ وہ میری حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے بولی۔
’’دیکھو! ابھی دکانیں ساری بند ہوں گی ،صبح لا دوں گا۔‘‘ میں نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
’’تو پھر اس کمرے میں صبح ہی داخل ہونا۔‘‘ اور اس نے دروازہ بند کر دیا اور میں صرف اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔باقی کمروں کی صفائی ہونے والی تھی۔اس لیے کہ میرے پاس بہت کم لوگ آتے تھے۔اماں ،ابا بھی بہت کم آتے اس لیے وہ کمرے استعمال میں نہیں تھے۔ مجبوراً مجھے ڈرائنگ روم میں صوفے پر سونا پڑا۔
’’بڑے بے آبرو ہوکر اپنے کمرے سے ہم نکلے۔‘‘ میں نے خود کو کوسا۔
’’کیا شادی ایسی ہوتی ہے؟‘‘ میں نے دل میں سوچا اور پھر کئی بار دانتوں سے انگلی کو کاٹ کر دیکھا کہ شاید یہ خواب ہو لیکن یہ حقیقت تھی جسے میں جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ اس لیے چادر تان کر صوفے پر لیٹ گیا۔چادر میں نے دوسرے کمرے کی بیڈ کی اتاری تھی ،دن بھر کی تھکن نے چور کر دیا تھا اس لیے لیٹتے ہی نیند آگئی۔
اگلے دن میں کالج چلا گیا۔سنیعہ نے مجھے روکنے کی کوشش کی تھی،لیکن میں نے اسے جھڑک دیا تھا۔
’’ایک تو زبردستی میری زندگی میں آئی ہو اور اوپر سے مجھ پر حکم چلاتی ہو۔‘‘ میں نے غصے سے کہا، تو وہ چپ ہو گئی۔ میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ میرا رعب و دبدبہ اس پر پڑ گیا ہے،میں کالج پہنچا تو صبا میری منتظر تھی۔اسے دیکھ کر میری سانسیں رک گئیں تھیں۔
’’کہاں تھے کل سے تم؟‘‘ وہ شکی لہجے میں بولی۔
’’بتایا تو تھا تمہیں کہ ایک دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ وہاں مصروف تھا۔‘‘ میں نے بات بنائی۔ وہ مسلسل شکی نگاہوں سے میرے چہرے کا ایکسرے کر رہی تھی اور میرا دل تھر تھر کانپ رہا تھا، لیکن میں نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
’’ایک بجے میں تمہارا انتظار کروں گی، لنچ اکٹھے کریں گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔
’’یہ لڑکیاں بہت شکی ہوتی ہیں۔‘‘ پیچھے کھڑا کینٹین بوائے بولا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو اس نے میری اور صبا کی گفتگو سن لی تھی۔میں نے اسے گھوری ڈالی۔ وہ کسی کو چائے دے کر آیا تھا ا س لیے کہ اس کے ہاتھ میں خالی ٹرے تھی۔
’’وہ بلاوجہ شک نہیں کرتیں،مرد نہ موقع دے تو وہ شک نہ کریں۔‘‘میں نے غصے سے اسے کہا اور آگے کی طرف بڑھ گیا۔
٭…٭…٭
سنیعہ میری توقع سے بھی زیادہ چالاک نکلی،اس نے آتے ہی گھر سنبھال لیا تھا۔میں گھر پہنچا تو وہ گیٹ پر کھڑی میرا انتظار کر رہی تھی۔اس نے شرمانے کی اداکاری کی۔
’’تمہیں کس نے کہا کہ گیٹ پر میرا انتظار کرو؟‘‘میں نے غصے سے کہا۔
’’ہر اچھی بیوی کا فرض ہوتا ہے کہ شوہر جب گھر آئے تو وہ مسکرا کر اس کا استقبال کرے۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے مسکرائی۔
’’تم زبردستی میری زندگی میں آئی ہو،سمجھ آئی۔‘‘ اور غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا،جاتے ہی بستر پر گر گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں آئی۔
’’منہ ہاتھ دھو لو،میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی،مجھے لگا وہ میری بے بسی پر مسکرا رہی ہو۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے اور جاؤ یہاں سے۔‘‘میں نے غصے سے کہا، تو وہ ٹھیک ہے کہہ کر چلی گئی اور میں صرف دانت پیس کر رہ گیا تھا۔
٭…٭…٭