Tag: Urdu fiction

  • الف — قسط نمبر ۰۳

    الف — قسط نمبر ۰۳

    میرے پیارے اللہ!
    آپ کیسے ہیں؟
    میرا نام قلبِ مومن ہے۔ میری عمر آٹھ سال ہے اور میں اپنی ممی کے ساتھ رہتا ہوں۔
    آپ مجھے جانتے ہیں نا ؟کیوں کہ آپ نے مجھے پیدا کیا۔ لیکن میں پھر بھی آپ کو اپنی ایک تصویر بھیج رہا ہوں تاکہ میں آپ کو یاد آجائوں۔
    آپ نے اتنے بہت سارے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں حالانکہ ممی کہتی ہیں۔ ہم تو اللہ کو بھول سکتے ہیں، لیکن اللہ ہمیں کبھی نہیں بھولتا۔
    آپ کو بہت سارے لوگ خط لکھتے ہوں گے۔ میں سوچتا ہوں آپ اتنے سارے خط کیسے پڑھتے ہوں گے۔۔ پر ممی کہتی ہیں آپ اپنا ہر خط پڑھتے ہیں۔۔ وہ بھی خود۔۔۔
    مجھے یہ نہیں پتا کہ آپ کہاں رہتے ہیں لیکن ممی کہتی ہیں آپ وہاں رہتے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا۔۔آسمان پر۔۔ میں تو آسمان تک نہیں جا سکتا لیکن آپ کو خط یہاں سے بھیج رہا ہوں کیونکہ آپ تو اپنی ڈاک ہر جگہ سے لے لیتے ہیں۔۔ یہ بھی مجھے ممی نے ہی بتایا۔
    میرا خط جلدی سے پڑھ لیں اور پھر مجھے خط کا جواب ھیجیں۔ مجھے آپ سے ایک کام ہے۔۔ اور یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا۔ آپ میرے خط کا جواب بھیجیں گے تو پھر اگلے خط میں آپ کو وہ کام بتائوںگا۔
    میں نے خط پرurgent بھی لکھا ہے تاکہ آپ خط جلدی سے پڑھ لیں لیکن ممی کہتی ہیں، ہر کام صبر سے کرنا چاہیے کیونکہ صبر کرنا نیکی ہے، میں بھی صبر سے آپ کے خط کا انتظار کروں گا، تاکہ ایک نیکی بھی کرلوں کیونکہ ممی نے مجھے بتایا ہے، آپ کو نیکیاں اچھی لگتی ہیں، مجھے بھی اچھی لگتی ہیں۔
    میرے پاس ایک ڈائری ہے جس میں، میں ہر روز اپنی ہر نیکی لکھتا ہوں۔۔۔ اور اُسی ڈائری میں اپنے گناہ بھی لکھتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں۔ اس طرح کرنے سے مجھے یاد رہے گا کہ میں ہر روز اچھے کام زیادہ کرتا ہوں کہ بُرے کام۔
    میں روز رات کو اپنی ڈائری چیک کرتا ہوں اور اگر بُرے کام زیادہ کیے ہوں تو پریشان ہوتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں اگر میں توبہ کرلیا کروں تو میرے بُرے کام اور گناہ غائب ہو جائیں گے۔
    میں ہر روز ایسا ہی کرتا ہوں۔ توبہ کرکے سوتا ہوں تو صبح میری ڈائری خالی ہوتی ہے۔ ممی کہتی ہیں وہ آپ کے کہنے پر ربر سے میرے سارے گناہ مٹا دیتی ہیں۔
    Thank you for that.
    آپ بہت اچھے ہیں۔ اب آپ تھک گئے ہوں گے۔ میں بھی تھک گیا ہوں۔ آپ آرام کریں، میں بھی سونے جارہاہوں۔
    آپ کا قلبِ مومن!
    ٭…٭…٭

    دروازے کے باہر جو شخص کھڑا تھا، اُسے مومن نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر کبھی دیکھا بھی تھا تو اپنے باپ کی دکھائی ہوئی کسی تصویر میں اُس کا چہرہ اور اس کے سر داڑھی کے بال ایک جیسے سفید تھے۔ بہت ہلکی داڑھی، بہت گھنے سر کے بال اور بڑھاپے میں بھی ہیرے کی کنی جیسی چمکتی خوب صورت شہد رنگ آنکھیں جو قلبِ مومن پر جمی تھیں۔ کسی مقناطیس کی طرح۔
    ”قلبِ مومن؟” قلبِ مومن نے اُس دراز قد بوڑھے آدمی کی زبان سے اپنا نام سُنا، ایک اشتیاق بھرے لہجے میں۔۔۔ لیکن اُس نے جواب دینے کے بجائے اُس بوڑھے آدمی کے عقب میں اپنے باپ کے وجود کو کھوجنے کی کوشش کی۔
    وہاں کوئی نہیں تھا۔ صرف وہی بوڑھا شخص تھا اور اُس کا ایک بیگ۔ قلبِ مومن نے بے اختیار پلٹ کر اپنی ماں کو دیکھا۔ اُس کے چہرے پر آنکھوں میں اُسے وہی مایوسی نظر آئی جو اُس کے اپنے چہرے اور آنکھوں میں تھی۔
    ”مومن! تمہارے دادا۔۔” اُس نے ماں کو بالآخر کچھ بولتے سُنا۔
    وہ اب اُس کا ہاتھ پکڑے اُس شخص کی طرف بڑھا رہی تھی۔ مومن نے سر اُٹھا کر ماں کو دیکھا پھر سامنے کھڑے اُس شخص کو جو اب پنجوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، اُسے دیکھتے ہوئے۔
    ”میرے بابا کہاں ہیں؟” اُس نے اُس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا تھا۔
    ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔” مومن کے سوال کا جواب اُس نے مومن کو نہیں دیا۔ اُس کے عقب میں کھڑی حسنِ جہاں کودیا تھا۔
    ”وہ میرے پاس کبھی نہیں آیا۔۔” اُس نے اس بار وہ جملہ قلبِ مومن کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ قلبِ مومن کو لگا اُس کے پیچھے کھڑی حسنِ جہاں پیچھے ہٹی ہے، بے اختیار گردن موڑ کر اُس نے ماں کو دیکھا۔ وہ واقعی اب اُس کے پیچھے نہیں تھی۔ وہ دروازے کی چوکھٹ سے پشت لگائے کھڑی تھی، یوں جیسے اپنے آپ کو سہارا دے رہی ہو۔ مومن نے پلٹ کر اُس بوڑھے شخص کی آنکھوں میں بھر آنے والے پانی کو حیرت سے دیکھا۔ وہ کیوں رو رہا تھا اُسے خود سے لپٹا کر۔۔۔ کیوں۔۔۔
    اُس کے سینے سے لگے، اُس کی آنکھوں سے گرتے آنسوئوں کی نمی کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے بھی مومن کو بے تاب کرنے والا واحد خیال اور احساس ماں کا تھا۔ عبدالعلی سے ملنے والا پہلا لمس اُس نے ”محسوس” ہی نہیں کیا تھا۔
    ”ڈیڑھ سال ہونے والا ہے اُسے مجھے اور مومن کو چھوڑ کر گئے ۔۔۔آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا۔۔۔ پھر وہ کہاں گیا؟”
    اُس نے عبدالعلی کے ساتھ اندر کمرے میں آنے کے بعد حسنِ جہاں کے منہ سے یہ پہلا جملہ سُنا۔ اُس نے یہ جملہ عبدالعلی سے کہا تھا پھر اچانک اُسے مومن کا خیال آیا اور اُس نے مومن کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔
    ”مومن! تم اپنے کمرے میں جائو۔” اس نے ماں کی تحکمانہ آواز سُنی اور ایک لفظ کہے بغیر وہ وہاں سے اندر کمرے میں آگیا، مگر دروازے کی جھری کو بند کیے بغیر وہ اُس کمرے میں جھانکتا رہا۔ جہاں عبدالعلی اور حسنِ جہاں کھڑے تھے۔ وہ دونوں اس وقت اُسے ایک راز کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔ ایک معمہ۔۔۔ جسے وہ حل کرکے اپنے باپ تک پہنچنا چاہتا تھا مگر ہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے چُپ تھے۔
    ”آپ بیٹھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں کو کہتے سُنا اور عبدالعلی کو ایک کُرسی پر بیٹھتے دیکھا، وہ دیواروں پر لگی طہٰ کی بنائی ہوئی خطاطی دیکھ رہا تھا۔
    ”آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا پھر وہ کہاں گیا؟” اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو بولتے دیکھا۔ وہ آگے آئی اور عبدالعلی کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔ اُس نے عبدالعلی کے پائوں کو چھو کر روتے ہوئے کہا۔
    ”اب بس۔۔۔ جو بھی سزا ہے۔۔ کاٹ لی میں نے۔۔اُس سے کہیں، معاف کر دے مجھے۔۔”
    دروازے کی جھری سے اندر جھانکتے قلبِ مومن کا وجود پتے کی طرح لرزنے لگا۔ اُسے ماں کا کسی کے سامنے جُھکنا اچھا نہیں لگا، کسی کے سامنے بھی۔
    عبدالعلی بے اختیار اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔ انہوں نے حسنِ جہاں کے سر پر ہاتھ رکھا پھر روتی ہوئی حسنِ جہاں کو بازوئوں سے پکڑ کر اُٹھایا۔
    ”تم میرا یقین کرو بیٹا، وہ میرے پاس نہیں آیا۔۔۔ ڈیڑھ سال وہ میرے پاس رہتا اور میں اُسے تم دونوں کے بغیر رہنا دیتا۔۔۔ میں بے رحم نہیں ہوں۔۔۔ اتنا تو نہیں ہوں۔۔۔” اُس نے عبدالعلی کو عجیب بے چارگی کے عالم میں کہتے سُنا۔
    ”پھر کہاں گیا ہے وہ۔۔۔؟ میرے پاس نہیں۔۔۔ آپ کے پاس نہیں تو کہاں ہے وہ۔۔۔” حسنِ جہاں اب عجیب ہذیانی انداز میں کہہ رہی تھی۔
    قلبِ مومن نے دروازے کی جھری کو بند کردیا۔ اُس سے اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھا نہیں جارہا تھا۔ وہ اتنے دن نہیں روئی اور آج رو رہی تھی تو۔۔۔ آخری جملہ جو اُس نے عبدالعلی کو کہتے سُنا تھا وہ ایک ہی تھا۔
    ”میں اس کو ڈھونڈوں گا۔۔۔ شاید وہ قونیہ چلا گیا ہو۔۔۔ اپنے درویش ساتھیوں کے پاس۔” یہ وہ آخری جملہ تھا جو مومن نے اُن دونوں کی گفتگو کا سُنا تھا۔ وہ اُس وقت بے حد رنجیدہ تھا۔ بے حد ناراض، بہت اُداس۔۔۔۔ اور وہ کسی بھی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔ اُسے بس رونا آرہا تھا بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے حسنِ جہاں کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔ ہچکیوں کے ساتھ۔

  • الف — قسط نمبر ۰۲

    الف — قسط نمبر ۰۲

    پیارے بابا!
    میں جانتا ہوں، اس خط کے لفافے پر میرا نام دیکھ کر آپ چونکے ہوں گے پھر بہت دیر تک آپ نے اس لفافے کو کھولا نہیں ہو گا۔ میرا نام دیکھتے رہے ہوں گے اور آپ کو سب کچھ یاد آتا رہا ہو گا۔ جو میں آپ سے کہہ کر گیا تھا اور جس پر میں آپ سے نادم ہوں۔ آپ نے سوچا ہو گا، خط کھولے بغیر لفافے کو پھاڑکر پھینک دیں مگر یہ آپ سے ہو نہیں سکے گا کیوں کہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ طہٰ عبدالعلی۔ جسے آپ نے میری ماں کے جانے کے بعد چڑیا کے بچے کی طرح تن تنہا پالا اور جس کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ لفافہ پھاڑ کر پھینک دیتے تو بھی دوبارہ ٹوکری سے نکال کر کاغذ کے ٹکڑوں کو جوڑ لیتے۔ دل تو ہے نہیں یہ کہ ٹوٹ کر نہ جڑتا۔
    کیا لکھوں آپ کے نام اس خط میں؟ اپنی شرم ساری، اپنی ندامت یا اپنی بے بسی۔ بابا !آپ کو چھوڑ کر گیا تھا پر آپ سے کٹ کر رہا نہیں جا رہا۔ آپ یاد آتے رہتے ہیں، زیادہ نہیں بس ہر سانس کے ساتھ۔
    آپ کا دل دکھایا ہے پر میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیا کرتا؟ آپ کو چھوڑ کر کم از کم زندہ تو رہ رہا ہوں۔ حسنِ جہاں کو چھوڑ دیتا تو یہ بھی نہ کر پاتا۔ خط پڑھ رہے ہوں گے تو حسنِ جہاں کے نام پر آپ کے ماتھے پر بل آیا ہو گا۔ میں جانتا ہوں، آپ اب بھی اس کے لیے اپنا دل بڑا نہیں کر پائے ہوں گے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار آپ کو کسی سے نفرت کرتے دیکھا ہے اور وہ بھی اس سے جس سے محبت ہے۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا بابا! آپ نفرت نام کی کسی شے سے واقف بھی ہیں۔
    آپ تو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی کائنات سے۔ اس کائنات میں ایک حسنِ جہاں بھی ہے جسے اللہ نے دنیا میں پیدا کر کے اس کو میرے دل میں رکھ دیا ہے۔ وہ ویسی ہی ”روح” رکھتی ہے جیسی آپ اور میں، ویسا ہی دل جیسا آپ اور میں۔ پھر بابا! آپ مجھے حسنِ جہاں سے محبت کرنے کے لئے معاف کیوں نہیں کر سکتے۔
    میرے بس میں ہوتا اسے پیار نہ کرتا تو میں کبھی نہ کرتا۔ میرے بس میں ہوتا اس سے ترک تعلق کرنا تو میں کب کا کر چکا ہوتا۔ پر میرے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اسے دل سے نہیں نکال پاتا اور آپ کو دماغ سے۔ میں آج کل دل اور دماغ کی اس جنگ میں صرف ایک بے کار وجود بن کر رہ گیا ہوں۔

    آپ کی بددعائیں لگ رہی ہیں مجھے۔ میں جانتا ہوں، یہ پڑھتے ہوئے آپ بے قرار ہوئے ہوں گے کیوں کہ آپ تو مجھے بددعا دے ہی نہیں سکتے نا لیکن آپ کا دل دکھایا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے، اللہ ناراض نہ ہوا ہو مجھ سے۔
    اب اللہ کا نام نہیں لکھ پاتا میں۔ لکھتا بھی ہوں تو وہ نام میری روح سے نہیں بس ہاتھوں سے لکھا جاتا ہے۔ لوگ میرے ہاتھ سے بنی خطاطی کو اب نہیں دیکھتے، دنگ ہونا تو دور کی بات ہے اور خریدنا تو اس سے بھی دور کی بات۔
    میں جانتا ہوں، آپ کہیں گے۔ دل میں حسنِ جہاں بسا کر اللہ کا نام لکھو گے تو یہی ہو گا۔ شاید شرک کر بیٹھا ہوں مگر توبہ کی توفیق بھی نہیں ہو پا رہی۔ طہٰ عبدالعلی بڑی تکلیف میں ہے آج کل۔ اللہ کو پکارتا ہوں تو وہ نہیں سنتا۔ آپ کو پکار رہاہوں کیوں کہ اللہ آپ کی ہمیشہ سنتا ہے۔ اس سے کہیں طہٰ کو معاف کر دے۔ طہٰ کے دل سے حسن جہاں مٹا دے، وہاں اپنا ٹھکانا بنائے۔ طہٰ کے ہاتھوں اور روح کو اس قابل رہنے دے کہ وہ اللہ کے نام لکھے تو لوگوں کے دلوں کو موم کر دے۔ اللہ کی کبریائی کے خوف سے۔ منور کرے اللہ کی محبت کے نور سے۔ پر یہ تب ہی ہو گا جب آپ طہٰ کو معاف کریں گے۔ بابا مجھے معاف کر دیں۔
    آپ کا نافرمان بیٹا
    طہٰ عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    قلبِ مومن نے بے یقینی کے عالم میں اپنی ماں کے ہاتھوں سے وہ لفافہ لیا۔ اس پر اس کا نام لکھا تھا بے حد خوبصورت رسم الخط میں۔
    ”اللہ تعالیٰ کی ہینڈرائٹنگ کتنی خوب صورت ہے۔”
    اس نے اس لفافے پر نظر ڈالتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے سوچا۔ پھر سر اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا جس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اس نے لفافہ لیتے ہوئے نوٹس کی تھی۔ وہ سرتاپا لرز رہی تھی۔ اپنی مسکراہٹ کو ہونٹوں میں اور آنسووؑں کو آنکھوں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا یا شنگرفی یا گلابی۔ پتا نہیں وہ کون سا رنگ تھا۔ کلر بیلٹ کے سارے رنگوں سے زبانی واقف ہونے کے باوجود مومن بوجھ نہیں سکا مگر کم از کم وہ زرد رنگت نہیں تھی۔ وہ زرد رنگت جو وہ اپنے باپ کے جانے کے بعد اپنی ماں کے چہرے پر دیکھنے کا عادی ہو گیا تھا۔
    وہ ایک خوب صورت سرخ گلاب کی طرح کھل اٹھی تھی یا شاید جی اٹھی تھی۔ وہ ماں کو مبہوت دیکھتا رہا۔
    ”تم خط نہیں پڑھوگے؟” اس کی ماں نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں، مگر اسے کھولا کس نے؟” اس نے یک دم لفافہ پلٹا اور اس کا اٹھا ہوا فلیپ دیکھا۔
    ”میں نے۔” کچھ مجرمانہ سے انداز میں اس کی ماں نے کہا۔ وہ راز جو اس کے اور اللہ کے درمیان تھا وہ اس کی ماں بھی جان گئی تھی اور یہ بات اس وقت مومن کو اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ چپ چاپ خط لیے اندر آگیا۔
    میرے پیارے قلبِ مومن!
    تمہارے سارے خط اللہ تک پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے پڑھ بھی لیے ہیں۔ وہ تمہیں خود ان سب کا جواب بھیجنا چاہتے تھے لیکن پھر انہوں نے سوچا، وہ تمہارا جواب میرے ذریعے تم تک پہنچا دیں۔ میں 15تاریخ کو آرہا ہوں۔ تمہاری سب باتوں کا جواب لے کر۔
    تمہارا دادا
    عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    جس بے قراری اور بے چینی سے اس نے لفافہ کھول کر خط پڑھنا شروع کیا تھا۔ اسی بے قراری کے ساتھ ہی اس نے خط ختم بھی کیا۔ بے حد مایوسی کے ساتھ۔
    ”تو یہ خط اللہ تعالیٰ نے لکھ کر نہیں بھیجا۔” اس نے عجیب مایوسی سے سوچا۔
    ”پردادا یہاں کیوں آرہے ہیں؟”
    اس کے ذہن میں اگلا سوال ابھرا۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ دادا کو یہ کیسے پتا چلا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو خط بھیجا تھا اور دادا کو کیوں اس کے خطوں کا جواب دینے کے لیے اللہ نے چنا۔ کیا وہ بھی اللہ کے پاس رہتے ہیں۔
    سوالات کا ایک انبار تھا جس نے اس کے ذہن کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔
    ”مومن۔” وہ اپنی ماں کی آواز پر بے اختیار پلٹا۔ وہ پتا نہیں کب اس کے پیچھے کمرے میں آگئی۔
    ”اللہ تعالیٰ نے خود خط کیوں نہیں لکھا مجھے؟” اس نے ماں کو دیکھتے ہی بے ساختہ کہا۔
    ”خود نہیں لکھتے وہ، ان کے پاس بہت سارے لوگ ہوتے ہیں کام کرنے کے لیے۔ انہوں نے کسی کو کہہ دیا ہو گا یہ کام کرنے کے لیے۔” اس کی ماں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا خط اس کے ہاتھ سے لے کر اسے بڑی احتیاط سے تہہ کر کے لفافے میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”انہوں نے دادا سے کہا ہے۔” مومن کو لگا جیسے اس کی ماں نے خط دھیان سے نہیں پڑھا تھا۔
    ”ہاں، میں جانتی ہوں۔” مدھم آواز اسے سنائی دی۔ اس کی ماں اب خط کو اس کی اسٹڈی ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس پر ایک پیپر ویٹ رکھ دی تھی۔
    ایک لمحہ مومن کو خیال آیا، وہ ماں کو بتا دے کہ اس نے خط میں اپنے باپ کو بھیجنے کا کہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے ہی وہ جھجکا اور پھر اس نے ماں سے کہہ دیا۔
    ”لیکن میں نے تو بابا کو بلایا تھا، دادا کو تو نہیں بلایا تھا۔” اس کے شکوے کا جواب اس کی ماں نے ایک پراسرار مسکراہٹ سے دیا مگر اس مسکراہٹ کے ساتھ اس کی آنکھوں میں بہت سارے قمقے سے روشن ہوئے تھے۔
    ”وہ بھی تو آرہے ہیں۔”
    وہ ساکت ہوا پھر خوشی سے بے قابو۔
    ”آپ کو کیسے پتا چلا؟” مومن بے اختیار چلایا تھا۔
    جواب میں ایک اور مسکراہٹ آئی اور پھر ایک ہنسی۔ اس نے باپ کے جانے کے بعد آج پہلی بار ماں کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا۔ سرخ ہوتے، چمکتے چہرے کے ساتھ۔ مومن کو یقین آگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ واقعی اس کے بابا کو بھیج رہے تھے اور وہ بھی اس کے دادا کے ساتھ جن سے وہ کبھی نہیں ملا۔ مگر اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے سارے خط مل گئے اور انہوں نے اس کے خط پڑھ بھی لیے۔
    اس کی ماں کمرے سے جا چکی تھی اور مومن وہیں کھڑا تھا۔ اپنے دل کی دھڑکنوں کو گنتا۔ وہ کل اسکول میں سب کو بتا سکتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جو خط لکھتا تھا، وہ اللہ کو مل گئے تھے اور اسے ان کا جواب بھی ملنے والا تھا مگر اس سے پہلے اسے ایک کام کرنا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • الف — قسط نمبر ۰۱

    الف — قسط نمبر ۰۱

    انتساب

    خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ)اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے(پڑی)روشنی ہی روشنی(ہورہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی را ہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے تو لوگوں کے(سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
    سورة النور آیت نمبر ٣٥
    ——————————————————————————————————————————————————————————-
    پیش لفظ

    بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک بچہ اللہ کے نام خط لکھتا ہے جو پوسٹ آفس والوں کو ملتے ہیں تو پوسٹ آفس والے اُس غریب اور یتیم بچے کو اللہ کی طرف سے خط اور پیسے بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ کہانی ہمیشہ مجھے یاد رہی کیونکہ اللہ سے میرے سوال اور جواب بھی آپ سب کی طرح ہمیشہ چلتے رہتے ہیں اور بہت دفعہ اللہ کو خط لکھنے کو دل چاہتا ہے۔۔۔
    یہ بتانے کے لئے کہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔۔۔۔۔ویسی محبت اور کسی سے نہیں۔۔۔تو الف اسی محبت سے میری اسی دائمی محبت کے نام۔۔۔
    عمیرہ احمد

  • میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    ’’سیدھی مانگ نکالو ، سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    میرے گھنگھریالے بالوں میں چنبیلی کے تیل کی چمپی کرتے ہوئے میری معصوم سی ماں کی معصومانہ التجا ہوتی ۔ پلنگ پر بیٹھی میری ماں مجھے اپنے دونوں پاؤں سے جکڑ کر فرش میں بٹھا لیتیں۔ نہ چوں کرنے کی اجازت ہوتی اور نہ چاں اور سیدھی سادھی، بھولی بھالی ، نادان نادیہ سی میں سر جھکائے ’’آہ، اوہ اور آؤچ‘‘ کو حلق سے باہر نکلنے نہ دیتی۔ چنبیلی کے تیل کی چبھتی ہوئی تیز خوشبو جسے میں بدبو گردانتی تھی اس پر ناک سکیڑنے پر بھی ایک چپت پڑتی اور’’چھچھوندر‘‘سننے کو ملتا اور وہ میری ناک کے اوپر کنگھے کا آخری دندانہ رکھتیں اور پیشانی کے بیچوں بیچ کنگھا گھسیٹتی پیچ در پیچ، خم در خم زلفوں میں سے کنگھے کو کھینچتے کھانچتے ، کھوپڑی پر رگڑ ڈالتی بلکہ کھرچتی ہوئی گردن کی گدی تک پہنچ کہ دم لیتیں اور ایسے حساب کتاب سے آدھی زلفوں کو دائیں اور آدھی کو بائیں جانب کر لیتیں کہ مجال ہوتا کہ ایک بھی لٹ آوارہ گردی کی مرتکب ہو۔
    ’’جانے کِس پر گئے ہیں تمہارے بال؟ ایسے جیسے الجھا اون کا گولا۔‘‘
    وہ تیل سے چپڑے بالوں کو مزید کھینچ تان کے سیدھا کر لیتیں اور نیلے، لال ربن کو چٹیا میں لپیٹتی چھپکلی کی دم کے مانند بالوں کی نوک تک کس دیتیں اور پھر اسے بل دے کر دونوں کانوں کے اوپر ایک پھول سا بنا دیتیں اور ساتھ ہی ایک پیار بھری چپت رسید کرتے ہوئے کہتیں:
    ’’اللہ سیدھا سا شہزادہ دُلہا دے۔‘‘
    اور لفظ ’’دُلہا‘‘ پر میں دوپٹے کا کونا دانتوں تلے دبا لیتی اور آنکھیں بند کیے تصورات میں خود کوطلسماتی دنیا میں پاتی اور ریپنزل سی ٹاور کی کھڑکی میں خود کو کھڑا پاتی اور شہزادہ میرے تیل سے چپڑی چٹیا تھامے نیچے کھڑا نظر آتا اور پھر اچانک میرے اسپرنگ نما گھنگھریالے بال اوپر کے جانب آجاتے اور شہزادہ اس پر مزے سے گول جھولتا اوپر میرے پاس۔ ’’ہائے‘‘ میں ہنس پڑتی، لیکن امی کو توجیسے ستھرے ،کھینچ کے سیدھے ہوئے بالوں کی چٹیا کو دیکھ کر سکوں ہوتا کیوں کہ ستھرے بال جیسے کہ ستھرے مستقبل کے ضامن ہوں۔ اگرچہ کہ آرام سے کبھی نہ چٹیا بنی میری مگر غلطی سے ایک لٹ بھی رہ جاتی اور اسپرنگ کے مانند جھولنے لگتی، تو امی مستقبل کے اندیشوں میں غوطے کھانے لگتیں۔ ان کا خیال تھا کہ:
    اس زلف کے پھندے سے نکلنا نہیں ممکن
    ہاں مانگ کوئی راہ نکالے تو نکالے
    اور ہائے رے ہائے ایسی راہ نکالی کہ بس

    میری امی کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد تھا میرے زلفوں کو سیدھا کرنا۔ کنگھا ہاتھ کیا لگتا کہ میں پکڑ میں آجاتی میرے بالوں سے جنگ شروع ہوجاتی۔
    ’’ہائے امی میں ایسی ہی بھلی۔‘‘اب وہ کیا سمجھتیں کہ ۔۔۔ یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر ٭ اپنی مکی لگائے جاتا ہے ۔
    بچپن گزرا اور وقت کے ساتھ میں چلی چھٹک کے دامن ان کے دستِ ناتواں سے۔
    اور میرے گیسو امی کے ہاتھوں سے پھسلے تو بالکل ہی آوارہ ہوئے۔
    ’’اری بیٹی کیا کورا سر اور کورے بال لیے گھوم رہی ہو۔ تیل ڈالو بالوں میں، بنا تیل کے صورت سے ہی ابلا سبلا لگتی ہو۔‘‘ میں اِٹھلاتی اور انہیں کا جملہ انہیں پر ٹکا دیتی۔
    ’’چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل، سبحان تیری قدرت، سبحان تیرے کھیل‘‘ اور وہ معصومیت سے کہتیں:
    ’’کیا بادام کے تیل کی مالش کردوں؟‘‘ اور میں کھلکھلاتی پھر اِدھر پھر ادھر اڑنچھو ہو جاتی۔ اب اماں بے چاری کیا جانیں روکھے ، پھولے، بکھرے بال فیشن ہیں۔
    ہماری اماں سدا کی سیدھی اور معصوم۔ شاید پرانے وقتوں کی عورتیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی لکیر کی فقیر سی لیکن نہیں! پھر کٹنی کسے کہتے تھے؟ ارے بھئی میری بلا سے۔ ہاں تو میری امی کے لیے بال بنانا انتہائی اہم کام تھا جسے وہ بڑی فرصت اور فراغت اور محبت سے سر انجام دیتی تھیں۔ سکون و اطمینان سے تیل، کنگھی، سرمہ اور آئینہ لے کے بیٹھتیں اور ساتھ گنگناہٹ جاری رہتی اور وہ بھی رخصتی کے گیت گیتوں کی اور لازماً آنسو آنکھوں کے کونے بھگو دیتے۔ کنگھی چوٹی ہی ان کے لیے بال بنانا تھا اور یہی ان کا سنگار تھا۔ سیدھی مانگ، سیدھے سمٹے بال اور سیدھی چٹیا اور آخر میں اس پر گھر کے موتیے کے پھولوں کو دھاگے میں پرو کر لڑیاں بناتیں اور چوٹی میں لپیٹ لیتیں اور ساتھ گنگناتی ’’جومیں ہوتی راجا بیلا چنبیلیا ، مہک رہتی راجا تورے بنگلے پر۔‘‘اور میں مبہوت سی بیٹھی انہیں دیکھتی رہتی اورکبھی چھیڑ بھی دیتی:
    ’’کس کے بنگلے پر نظر ہے؟‘‘ اور وہ مسکرادیتیں۔ میں اکثر سوچتی اور ایک دن پوچھ ہی بیٹھی آخر منہ پھٹ جو ٹھہری یعنی گز بھر لمبی زبان جو تھی۔
    ’’امی آپ کی تو ہمیشہ سے مانگ ستھری سیدھی رہی، سجے سنورے بال تو پھر سیدھا میاں کیوں نہ ملا؟‘‘
    بس جناب چپت تو چپت تین حرف بھی سن لیے۔
    ’’زبان چلتی ہے قینچی سی تمہاری تالو سے زبان کو لگا۔ اپنے باپ کے لیے ایسا بول؟‘‘
    پھر خود ہی ذرا روہانسی سی ہوکر بولیں:
    ’’کیا پتاکس کج رو سے بچ گئی۔‘‘
    فوراً موضوع پلٹ کر کہنے لگیں:
    ’’اپنی خیر منا یوں سر جھاڑ منہ پھاڑ نہ بنی رہا کرو۔‘‘
    لیکن میں ٹھہری چکنا گھڑا سوچا سیدھی مانگ پر ایسے غصے والے جلالی شوہر سے تو میری ٹیڑھی مانگ ہی بھلی اور زلفِ پرخم کو دل کھول کہ خوب آوارہ کیا۔ چوٹی سے ربن نکال پھینکا، دو چوٹیاں بنیں ایک، پھر چٹیا کھلی تو پونی بنی، پونی کھلی تو شانوں تک چڑھ آئی اور پھر لیڈی ڈیانا کٹ اور زندگی ہوئی ڈن ڈنا ڈن ڈن اور امی بے چاری کئی وسوسوں کے فشار میں میری لٹوریوں سے الجھتی ہی رہ گئیں۔
    ’’کیا جٹا دھاری فقیرنی بنی گھومتی ہو، تیل ڈالو، سیدھی مانگ نکالو سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    اور میں آڑے ٹیڑھے مانگ کے ساتھ لچھے دار گیسوں کو دائیں بائیں جھلاتی گنگناتی ’’لوگ کہیں موہے باوری، میرے الجھے لمبے بال۔‘‘ امی کی نظروں سے اِدھر ادھر ہوجاتی اور وہ بے چاری بڑبڑاتی رہ جاتیں۔
    ’’مل گیا نہ لچھے دار تو نہ کہنا۔ ہنہ۔ تری مرضی ہے اگر یونہی تو لے یونہی سہی بنا لو دل کھول کر مجھے نکو۔‘‘
    جانے کیوں ایسا لگنے لگا مجھے دیکھتے ہی امی کو ڈھولک کی تھاپ، گیندے کے پھول،سہرا، ابٹن، رت جگے اور گلگلے کی کڑاہی نظر آنے لگتی ہے اور مکھ پر رمال دھرے۔ ’’امی جان سلام‘‘ کہتے دُلہا میاں نظر آنے لگتے ہیں۔
    اور پھر امی نے میری ضد بازیوں کے آگے یہ بولنا بھی چھوڑ دیا اور یوں یہ خیال بھی عین غین ہوا۔
    وقت کے ساتھ ساتھ درمیان کی سیدھی مانگ کبھی دائیں جانب جھکی تو کبھی بائیں جانب کھسکی، کبھی ننھی سی مانگ ہوئی تو کبھی سرے سے ہی غائب ہوئی اور پھر ’’زگ زیگ مانگ‘‘ فیشن میں آگئی۔ میں اور فیشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ نہ اللہ نہ کرے۔
    اسکول تھا یا کالج یا پھر یونیورسٹی میری زلفوں کے بل مذاق کے نشانے پر رہتے، خوب لطیفے بنتے، ٹھٹھے لگتے۔
    ’’بالوں کا گچھا‘‘، بھیڑ کی دم، برتن دھونے کا جونا، ’’جھاڑ جھنکار‘‘ الغرض جتنے منہ اتنے نام۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے ایسے آڑے ٹیڑھے بال ہوتے تو خودکشی ہی کرلیتی۔
    اور میں نے جل کر ترکی بہ ترکی جواب دیا:
    ’’شکر ہے تمہاری بچت ہوئی۔‘‘
    میں لڑکیوں کے سانپوں سے چمک دار، چکنے سیدھے بالوں کو دیکھتی رہ جاتی، نظر پھسل پھسل جاتی اور بہ ظاہر میں خوب اترا اترا کے اپنے اسپرنگ نما بالوں سے کھیلتی اب اپنی چھاچھ کو کون کھٹی کہتا ہے بھئی لیکن بال زلفوں کے میرے سب سے کجی رکھنے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک یہ پیچ دار زلف فیشن میں آگئے۔
    ’’ہائے اللہ تم کتنی خوش قسمت ہو کہ تمہیں ’’کرل‘‘ نہیں کروانے پڑتے!‘‘
    اور میں اچانک سے اڑی اڑی طاق پر جا بیٹھی۔ اب تھوڑا سا اترانا تو بنتا تھا نا اور پھر میری سہیلیاں کالج ختم ہونے پر یادگار کے طور پر میرے بالوں کی لٹ مانگنے لگیں۔ خیر وقت آگے بڑھتا گیا۔ زلف کبھی الجھی، کبھی سلجھی، کبھی چٹیا، کبھی پونی، کبھی شانے پر لہرائی تو کبھی کمر کو چھو آئی۔ پر رہی وہی سرکش، وہی برہم وہی پیچ کہ اوپر پیچ چڑھا۔ خیال ہی رہا کہ
    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم
    ٭…٭…٭
    اور وہ وقت بھی آگیا جس کا انتظار میری ماں کو میری پیدائش کے دن سے تھا ’’ایک شہزادہ آئے گا سفید گھوڑے پہ میری شہزادی کو لینے۔‘‘
    مجھے آج تک وہ جملہ نہیں بھولتا اپنے بھائی کا جب وہ ایک تصویر لیے میرے پاس آیا۔
    ’’سچ کہوں آپی بہت سیدھے ہیں دُلہا بھائی آگے وہ کیا کہہ رہا تھا مجھے سنائی نہیں دیا بس اپنی کھوپڑی کے بیچوں بیچ کھجلی سی ہونے لگی۔ یعنی باقی زندگی اللہ میاں کی گائے کے ساتھ یعنی ’’گائے؟‘‘
    ڈھولک کی تھاپ تھی، سہاگ کے گیت تھے، سہرا تھا اور جدائی تھی اور میرا خوف۔
    ’’کہیں ایسا نہ مل جائے، کہیں ویسا نہ مل جائے۔‘‘
    میرے سیدھے میاں، میری امی کو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کے چہیتے داماد ٹھہرے۔
    درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی اور دو پاٹوں میں الگ ہوئے گیسو نہ اب شرقی رہے نہ غربی۔ ایک جوڑے میں سمٹ گیا زلف کا بل۔ اب کس کو فکر کاکلِ پرخم کی کہ اب کاکلِ گیتی سنوارنا تھا۔ وہ زلف کے بل میں یوں الجھے کہ کبھی نہ سلجھے۔
    ’’ھ‘‘ میں ملا۔ ’’الف‘‘اور زیست ہوئی ھا ھا ھا۔
    پچیس سال پرخم راستوں پر ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیے
    یہاں تک آ گئے آگے خدا کا نام ہے ساقی

    ٭…٭…٭

  • بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی تھی۔ اِس سے پہلے کہ میں آپ کو اِس تبدیلی کے بارے میں کچھ بتائوں، اِس سے پہلے صادق حسین کی سابقہ زندگی کے بارے میں بتانا ہوگا، ورنہ یہ افسانہ جھول کا شکار ہوجائے گا اور میں ایسا ہرگزنہیں چاہتا۔
    یہبتاتا چلوں کہ صادق حسین کو ریٹائر ہوئے دوسال ہوگئے ہیں۔ بیوی پانچ سال پہلے فوت ہوگئی اور دونوں بچے اپنی گوری بیویوں کے ساتھ کینیڈا مقیم ہیں اوروہ آخری بارپانچ سال پہلے آئے تھے۔ اب کبھی کبھاراُن کا فون آجاتا ہے اور صادق حسین کی زندگی دوٹیلی فونز کے درمیانی وقفے میں معلق رہتی ہے۔
    صادق حسین ریٹائر ہوئے تو پھر بھی ایک آدھ دن چھوڑ کر دفتر چلے جاتے۔ پرانے دوستوں سے ملاقات ہوجاتی اور ان کا دل بہل جاتا۔ پھر رفتہ رفتہ انہیں محسوس ہوا کہ دفترکے لوگ اب ان سے تنگ آتے جارہے ہیں، جیسے وہ دفتر جاکراُن کے کام میں مخل ہوتے ہیں تو انہوں نے دفترجانا چھوڑدیا۔ گھر کا زیادہ تر کام پرانی ملازمہ نسرین کردیتی تھی۔ صادق صاحب صبح اُٹھتے ، ناشتا کرتے، اخبار پڑھتے اور یوں ہی ٹی وی پر چینل بدلتے رہتے ایک آدھ چکر گلی کا لگا کر آجاتے اور پھر سہ پہر تک بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ۔ سہ پہر کو وہ گھر سے تھوڑی دور واقع پارک میں جاتے۔ وہ واک بہت کم کرتے تھے، بس ایک بنچ پر بیٹھ کر بچوںکو کھیلتے ہوئے اور باغ میں اُڑتے پرندوں کو دیکھتے ۔

    وہ اکثر سوچتے کہ کا ش وہ بھی بچے ہوتے اور بچوں کے ساتھ کھیلتے یا پھر پرندہ ہوتے اور ایک قطار میں اُڑا کرتے، لیکن وہ تو ایک تنہا اُداس بوڑھے تھے کہ جس سے سارا دن کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تنہائی کم کرنے کا یہ حل نکالا کہ اب وہ ہرشے سے باتیں کرنے لگے۔ مثلاً گھر کی دیواروں سے، برتنوں سے، کتابوں سے ،ٹی وی سے۔ غرض یہ کہ گھر کی ہر چیز سے باتیں کرنے لگے۔
    اُن کے ڈرائنگ روم کی دیوار میں دراڑ پڑتی جارہی تھی۔ وہ روز اس دیوار سے باتیں کرتے، اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہتے:
    ’’پریشان نہیں ہونا! ٹوٹناہرگز نہیں۔ اِس دفعہ پنشن ملتے ہی میں مستری کو لائوں گا۔ تم بس خود کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔‘‘
    اگر کبھی چائے کا کپ گندا پڑا رہ جاتا تو خود ہی بڑبڑاتے:
    ’’افوہ! آج نسرین نے تمہیں دھویا نہیں۔ کتنے میلے ہوگئے ہو، آئو میں تمہیں کچن میں چھوڑ آئوں،کل نسرین کو آتے ساتھ ہی کہوں گا کہ سب سے پہلے وہ تمہیں دھوئے۔‘‘ زندگی یونہی گزر رہی تھی کہ ایک دن بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی۔
    وہ ایسی ہی ایک اُداس شام کو اُسی پرانے بنچ پر بیٹھے تھے، جب ان کے ساتھ والے بنچ پر ایک تیس پینتیس سالہ ایک اُداس سی خاتون آکر بیٹھ گئی۔ صادق حسین کو اُن آنکھوں کو دیکھ کریوں لگا جیسے وہ اُداس آنکھیں اِن کی اپنی ہوں۔جیسے وہ خود کو دیکھ رہے ہوں کیوں کہ روز انہیں ایسی آنکھیں شیشے میں دکھائی دیتی تھیں۔
    ’’معلوم نہیں یہ خاتون کون ہیں اور یہ اتنی اداس کیوں ہیں۔ مجھے ضرور اِن سے پوچھنا چاہیے، لیکن نہیں۔‘‘ اور انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔ اُس ساری رات خواب میں وہ آنکھیں اُن کے سامنے آنسو بہاتی رہیں۔ وہ بار بار پریشان ہوکرجاگ جاتے کہ آخر یہ خواب کیا ہے اور وہ خاتون کون ہیں؟ اگلے دن وہ سہ پہر سے پہلے ہی پارک پہنچ گئے اور بے چینی سے اس خاتون کا انتظار کرنے لگے۔ وہ خاتون شام سے ذرا پہلے آئیں اور ان کے ساتھ ہی بنچ پر بیٹھ گئیں۔ صادق صاحب اس دن بھی یہی سوچتے رہے کہ آخر وہ کس طرح ان سے پوچھیں کہ وہ اتنی اُداس کیوں ہیں؟ لیکن اس دن بھی وہ ہمت نہ کرپائے۔
    ایک ہفتہ یونہی گزر گیا۔ اس دوران صادق صاحب نے درودیوار سے کوئی بات نہ کی۔ وہ انہیں حیرت سے تکتے کہ بوڑھے کو معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے جواب ان سے بات تک نہیں کرتا۔ اس خاتون سے بات کرنے کی غرض سے کئی دنوں بعد انہوں نے تازہ شیو بنائی لیکن وہ اُس خاتون سے کچھ بھی نہ پوچھ سکے، مگر ہر رات خواب میں وہ اُسے دیکھتے۔ اُسے حوصلہ دیتے اور وہ خاتون صادق صاحب کو حوصلہ دیتیں۔
    صادق صاحب شعوری لحاظ سے عُمر کے بہت پختہ حصے میں تھے کہ جب زندگی انسان سے سب کچھ لے جاتی ہے اور انسان کے پاس سوائے تجربے کے کچھ نہیں رہتا۔ اُن کے پاس تجربہ تھا، شعور تھا۔ وہ جب اپنے اندر اِس تبدیلی کو دیکھتے تو اِس نتیجے پر پہنچتے کہ اُن کی اُس خاتون کے لیے انسیت ویسی ہی ہے جیسے شیشم کے اس درخت کی جو اسکول سے گھر جاتے ہوئے ان کے راستے میں آتا تھا۔تپتی دوپہر میں شیشم کے اس درخت کے نیچے انہیں عجیب سی انسیت محسوس ہوتی۔ اگرچہ اس درخت کے نیچے ان کا قیام بہت مختصر لیکن فرحت بخش ہوتا۔وہ اُس پیڑ کو گائوں تک ساتھ تو نہیں لے جاسکتے تھے ، مگر اُس تپتی دوپہر میں جو سایہ اُس پیڑ سے ملتا، وہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا تھا۔
    صادق حسین صاحب بھی اُس اداس آنکھوں والی خاتون کو گھر لے کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ اُسے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تو صرف اس کا دکھ بانٹنا چاہتے تھے، اپنی تنہائی کا ساتھی چاہتے تھے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ایک ہفتے بعد اُس خاتون نے پارک میں آنا چھوڑ دیا۔
    اِدھر صادق صاحب کا یہ حال کہ بے چارے دوپہر کو ہی بنچ پر آکر بیٹھ جاتے ، یہ سوچتے ہوئے کہ آج تو ضرور بات کروں گا، لیکن جب وہ خاتون لگاتار کئی دن تک وہاں نہ آئیں تو صادق صاحب بے حد پریشان ہوئے۔ شاید وہ خاتون پارک کا راستہ بھول گئیں تھیں۔ اب وہ خود کو دن رات کوستے کہ آخر انہوںنے اس خاتون سے اس کی پریشانی کی وجہ کیوں نہ پوچھی، شاید وہ ان کے کچھ کام آسکتے۔ وہ اپنی اِس کم ہمتی پر خود کو بہت برا بھلا کہتے۔ ایک ہفتے میں ہی ان کی شیو دوبارہ بڑھ گئی۔ درودیوار سے باتیں پھر سے معمول پر آنے لگیں۔ اب بھی وہ خاتون ان کے خواب میں آتیں اور رو رو کر کہتیں:
    ’’صادق صاحب! خدارا مجھے بچایئے، خدارا میری مدد کیجیے۔‘‘ اور صادق صاحب ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتے اور سوچتے کاش کہ وہ اُس خاتون سے اُس کے بارے پوچھ ہی لیتے۔
    یہ خاتون کو غائب ہونے کے دس دن بعد کا واقعہ ہے۔ ایک شام صادق صاحب اپنے اُسی بنچ پر بیٹھے تھے کہ انہیں دور سے وہی خاتون آتی دکھائی دی۔ صادق صاحب کو پہلے تولگا کہ شاید اب وہ دن میں بھی خواب دیکھنے لگے ہیں، لیکن وہ خاتون اِدھر ہی چلتی آرہی تھیں۔ صادق صاحب نے چشمہ اتار کر صاف کیا، پھر لگایا اور تقریباً دوڑتے ہوئے اُس کی جانب بڑھے، لیکن قریب جاکر معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور خاتون ہیں۔ اُس موقع پر انہیں اور تو کوئی بات نہ سوجھی کہا:
    ’’میں معذرت چاہتا ہوں، میری ایک عزیزہ گُم گئی ہیں۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے؟ یہی کوئی پینتیس سال عمر ہوگی۔ سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا تھا، رنگ گندمی اور آنکھیں بالکل میری آنکھوں جیسی تھیں۔‘‘خاتون قدرے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی:’’ نہیں انکل میں نے نہیں دیکھا۔‘‘
    ’’اوہ! اچھا شکریہ، میں تلاش کرتا ہوں، یہیں کہیں ہوں گی۔‘‘
    یہ پہلی بار تھا کہ انہوں نے اُس اُداس آنکھوں والی خاتون کے بارے میں کسی سے پوچھا تھا۔ اُس کے بعد یہ اُن کا معمول بن گیا۔ وہ روزانہ گیٹ نمبر ۲ سے پارک میں داخل ہوتے، لوگوں سے اُس خاتون کی نشانیاں بتا کر پوچھتے کہ شاید کسی نے انہیں کہیں دیکھا ہو۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ بوڑھااُن سے کیا سوال کرے گا، تو وہ نظریں چرا کرتیزی سے گزر جاتے ۔ کئی لوگ بوڑھے صادق حسین کی آواز سنی ان سنی کردیتے۔ پارک میں آنے والے کچھ نوجوانوں کے ہاتھ یہ شغل آ گیا۔ وہ صادق حسین صاحب کے پاس آتے اورکہتے:
    ’’انکل! کیا آپ اُس خاتون کو ڈھونڈ رہے ہیں جنہوں نے سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا ہے۔ عمر پینتیس سال ہے اور اُن کی آنکھیں بالکل آپ کی آنکھوں جیسی ہیں؟ ‘‘اور وہ امید کے دیے آنکھوں میں جلائے جھٹ سے کہتے:
    ’’ہاں ہاں! بالکل، وہ میری عزیزہ ہیں۔ کیا تم نے کہیں دیکھی ہیں؟‘‘
    ’’جی بالکل! وہ گیٹ نمبر ایک پر آپ ہی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔‘‘اور صادق حسین تیزی سے گیٹ نمبر ایک کی طرف جاتے اور پیچھے لڑکے تالیاں بجاتے اور قہقہے لگاتے۔ اگلے دن کوئی اور لڑکا یہی کہہ رہا ہوتا تھا اور صادق حسین صاحب ہر بار یقین کرلیتے۔
    صادق صاحب کی شیو اب بہت بڑھ چکی ہے۔ ڈرائنگ روم کی دیوار کی دراڑ بھی مزید پھیل گئی ہے۔ وہ دیوار حیرت سے بوڑھے کو دیکھتی ہے جو اب اُس سے بات نہیں کرتا۔ وہ اب ایک ایسی خاتون کو ڈھونڈتا ہے جو شاید کبھی تھی ہی نہیں۔

    ٭…٭…٭

  • پارٹنر — بلال شیخ

    پارٹنر — بلال شیخ

    رات کے دو بج رہے تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایاہوا تھا۔ عارف سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا، پوری دنیا سے بے خبر اور تنہا ۔ وہ ہر چیز کی امید کھو بیٹھا تھا۔ گھر میں سارے پریشان تھے۔ بیمار ماں کتنی دیر سے اس کی راہ تک رہی تھی اور دو بہنیں جن کی شادی کی فکر عارف کو ستاتی رہتی تھی، وہ بھی ہاتھ اٹھائے دعائیں کر رہی تھیں مگر عارف ہر چیز سے واقف ہو کر بھی ناواقف تھا۔
    عارف وہ بدقسمت شخص تھا جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار تھا اور مقروض بھی۔ نوکری اسے ملتی نہیں تھی اور کاروبار میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا ۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے گندے، بھوک سے بے حالمگر کھانا وہ چاہتا نہیں تھا ۔ بہنوں کی شادی نہیں ہوتی تھی اور اگر کہیں رشتہ طے ہوتا تو کسی وجہ سے وہ بھی ٹوٹ جاتا۔ ماں بیمار تھی، اس کی دوائیوں کے خرچے الگ تھے۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کا بدقسمت شخص سمجھتا تھا ۔
    اس گہری رات کی تاریکی میں کچھ لمحے پہلے اس نے ہمت کی اور تیز رفتار گاڑی کے سامنے آکر جان دینا چاہی مگر کسی اجنبی نے دھکا دے کر اس کی جان بچا لی اور عارف کو ’’پاگل‘‘ کہتا ہوا آگے نکل گیا ۔ معلوم نہیں وہ کتنا پیدل چل چکا تھا، اس کو اندازہ بھی نہ ہوا ۔ موت اس کو گلے لگانے کو تیار نہ تھی اور زندگی سے اس نے منہ پھیر لیا تھا مگر سڑک کنارے چلتے جب اس کو کوئی خیال تنگ کرتا تو اس کے آنسو نکل آتے اور وہ عینک اتار کر آنسو صاف کرنے لگ جاتا۔
    چل چل کر جب اس کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور ہمت مکمل طور پر ختم ہو چکی تو اس نے بیٹھنے کے لیے جگہ تلاش کرنا چاہی۔ وہ کہاں تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔ سڑک کنارے ایک بس سٹاپ آیا توعارف ادھر ہی بیٹھ گیا۔ یہ جگہ بیٹھنے کے لیے مناسب تھی ۔ پاس ہی ایک شخص چادر لیے لیٹا ہوا تھا۔ سٹریٹ لائٹس جل رہی تھیں۔ عارف ادھر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس نے دور دور تک نظر دوڑائی مگر اسے کوئی نظر نہ آیا تھا۔ آج سے پہلے اس پر کبھی اتنی نا امیدی نہیں چھائی تھی ۔ بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا۔

    کچھ ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ قریبی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے ساتھ ہی جو شخص لیٹا ہوا تھا وہ بھی حرکت کرنے لگا ۔ اس شخص نے منہ سے چادر ہٹائی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ نحیف سا بابا تھا۔ سفید داڑھی اور آنکھوں میں عجیب سی چمک رکھتا تھا۔ بابا جی نے جیب سے ٹوپی نکال کر سر پر پہنی اور اذان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ جب اذان ختم ہو ئی تو اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے اور دعا مانگنے لگ گیا۔ یہ سب ماجرا عارف بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور اندر ہی اندر اس کو عجیب سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی ۔ بابا جی کے چہرے پر انتہا کا سکون تھا جو کہ اس وقت عارف کے پاس موجود نہیں تھا۔
    بزرگ نے جب دعا مانگ لی تو عارف کو دیکھنے لگے۔ عارف نے جب باباجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کو عجیب سا سکون مل رہا تھا۔ باباجی نے عارف کو دیکھ کر کہا :
    ’’السلام علیکم میاں! خیر تو ہے اس وقت ادھر کیا کر رہے ہو؟‘‘باباجی کہتے ہوئے اپنی چادر سمیٹنے لگ گے۔
    ’’آپ بھی تو اس وقت ادھر ہیں۔‘‘ عارف نے باباجی کا سوال ان کو واپس کر دیا ۔ باباجی عارف کی بات سُن کر مُسکرا دیے۔
    ’’مگر میاں میرا ادھر ہونا اور تمہارا ادھر ہونا مختلف معنی رکھتا ہے۔‘‘ باباجی مُسکراتے ہوئے بالکل ایسے بیٹھ گئے جیسے وہ عارف سے باتیں کرنا چاہتے ہوں اور جب عارف بھی باباجی کو دیکھتا تو اس کا دل بھی بات کرنے کو کرتا تھا۔
    ’’شکل سے تو اچھے گھر کے لگتے ہو، اتنے پریشان کیوں بیٹھے ہو؟ کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ باباجی عارف کے قریب ہو گئے۔ انہوں نے عارف کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
    ’’میں خود ایک مسئلہ ہوں، میری ذات ایک مسئلہ ہے۔ شاید میں پیدا ہی مسائل کے لیے کیا گیا ہوں۔‘‘ عارف کی آنکھوں سے پھر آنسو ٹپکنے لگے۔
    ’’نہ بیٹا! پریشان کیوں ہوتے ہو؟ جس نے مسئلے بنائے ہیں ضرور اس نے مسئلوں کا حل بھی بنایا ہو گا اور اوپر والا تو اتنا رحیم ہے کہ وہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ بیٹے کسی مسئلے کا حل ناامیدی اور پریشانی ہوتا ہے؟ مجھے بتائو تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ شاید کوئی حل نکل آئے۔‘‘باباجی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو اس کا دل چاہا کہ سب کچھ کھول کر باباجی کے سامنے رکھ دے۔
    ’’میں ایک ناکام شخص ہوں باباجی! ایک بد قسمت شخص ہوں، سونے کو ہاتھ لگاتا ہوں وہ مٹی بن جاتا ہے ۔ گھر کے خرچے، ماں کی بیماری، بہنوں کے رشتے، کئی کاروبار کیے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُلٹا ادھار سر پر چڑھ گیا۔ کئی جگہوں پر نوکری کی درخواستیں دیں مگر کہیں منظور نہیں ہوئی۔ آپ بتائیں میں کیا کروں؟‘‘ عارف نے کہتے ہوئے عینک اتار دی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ باباجی ساری باتیں خاموشی سے سن رہے تھے۔
    ’’ہاں تو نوکری کرنی ہے تو اللہ کی کرو اور اگر کاروبار کرنا ہے تب بھی اللہ کے ساتھ کرو۔ ہم لوگوں کا یہی تو مسئلہ ہوتا ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہم اس سے نہیں مانگتے۔ ہم دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور بدلے میں لوگ وہی دیتے ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے۔ پریشانی، تنگی، فتنہ،دغا اور ایسی کئی بیماریاں۔ مگر جو اللہ سے مانگتا ہے بدلے میں اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ برکتوں سے، رحمتوں سے، سکون سے۔ جو کرنا ہے یا جو مانگنا ہے اللہ سے مانگو، اس کے ساتھ کرو۔‘‘ باباجی کہہ رہے تھے اور عارف سُن رہا تھا۔ اس کو سکون محسوس ہو رہا تھا۔ وہ خاموشی سے باباجی کو دیکھ رہا تھا اور اپنے اندر تبدیلی کی ایک لہر محسوس کر رہا تھا۔
    ’’مگر باباجی !شاید مجھے اللہ کے ساتھ کاروبار کرنے کا طریقہ نہیں آتا ۔‘‘ عارف نے عینک پہن لی۔ اس کے اندر تجسس پیدا ہونے لگ گیا ۔ وہ باباجی کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
    ’’دیکھو بیٹا! جب تم اللہ کے ساتھ کاروبار شروع کرو گے اور اس کے حصے کا مال اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو ناکامی کا خوف ختم ہو جائے گا اور تم کام یابی کی طرف نکل پڑو گے۔ تم اس کو اپنے کاروبار کا حصہ دار بنا لو، جس کو انگریزی میں کہتے ہے نا ’’پارٹنر‘‘ہاں پارٹنر بنالو۔ تم دیکھنا وہ تم پر کیسے رحمتوں کی بارش کرتا ہے۔ بھوکوں کی بھوک مٹائوگے وہ تمہاری بھوک مٹائے گا۔ لوگوں کے مسئلے حل کرو، تمہارا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ میری بات کو اپنے ذہن میں بٹھا لو ان شاء اللہ وہ کسی کو مایوس نہیں کرتا۔ گھر میں تمہاری ماں تمہارا انتظار کررہی ہے ۔ماں خدا کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدرکرو۔‘‘ باباجی کہتے ہوئے اٹھے اور عارف کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
    ’’چلو اٹھو! نماز کا وقت ہو رہا ہے، نماز پڑھ لو اور چڑھتے سورج کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کرو۔‘‘ باباجی کی باتیں عارف کی روح میں اتر رہی تھیں۔ اس کا جسم ایک دم ڈھیلا ہو گیا۔ باباجی مڑے اور مسجد کی طرف چل دیے، عارف ان کو جاتا دیکھ رہا تھا۔ باباجی کافی دور نکل گئے تھے، کچھ لمحے ادھر بیٹھنے کے بعد عارف اٹھا اور گھر کی طرف تیز قدموں کے ساتھ چل دیا۔
    اس بات کو دس سال گزر چکے تھے۔ عارف کی شادی ہو چکی ہے اور اس کی بہنوں کی بھی۔ جو عارف دس سال پہلے تھا آج وہ عارف نہیں رہا تھا۔ آج عارف مُلک کا ایک نام ور شخص بن چکا۔ مُلک کے کئی شہروں میں اس کے دستر خوان چلتے تھے جہاں کئی غریب لوگ مفت کھانا کھاتے اور کئی فلاحی ادارے عارف فنڈز کے نام سے چل رہے ہیں ۔ جو پارٹنرشپ عارف نے پانچ سال پہلے شروع کی تھی وہ کام یاب ہو چکی تھی۔ آج اس کے اپنے مسئلے نہ ہونے کے باوجود مسئلوں میں گھرا رہتا تھا ۔ کسی کو علاج کی ضرورت یا کسی مقروض کو پیسوں کی آج اس نے لوگوں کے مسئلوں کو اپنا مسئلہ بنا لیا تھا، اس لیے شاید اس کے سارے مسائل حل ہو گئے اور کام یابیاں اس کے قدم چوم رہی تھیں۔

    ٭…٭…٭

  • بلا عنوان — نظیر فاطمہ

    بلا عنوان — نظیر فاطمہ

    بیگم مہرین اپنے سٹنگ روم کے قالین پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے سامنے مختلف ڈیزائنرز کی exclusive rangeکے دس سوٹ رکھے ہوئے تھے۔ انھیں یہ سوٹ سلوانے کے لیے اپنے درزی کو دینے جانا تھا۔اتنے سارے خوب صورت اور سٹائلش سوٹ سامنے ہونے کے باوجود ان کا دل خوش نہیں تھا۔ اس کی وجہ مشہور برانڈ کا وہ جوڑا تھا جو پچھلے ہفتے وہ آئوٹ لیٹ پر دیکھ کر آئی تھیں ۔اس وقت کسی وجہ سے بیگم مہرین وہ جوڑا نہ خرید سکیں۔ دو دن بعد جب وہ جوڑا لینے متعلقہ آئوٹ لیٹ پر گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ تو بِک چکا ہے ۔ یہ برانڈ ڈیزائن محدود پیمانے پر بناتا تھا ۔ ایک دفعہ جو ڈیزائن ختم ہو جاتا پھر دوبارہ وہ نہیں بنایا جاتا۔
    بیگم مہرین کو وہ جوڑااتنا پسند آیا کہ وہ اپنے شہر میں اس برانڈ کے ہر آئوٹ لیٹ سے معلوم کرنے گئیں مگر وہ کہیں پر دستیاب نہیں تھا ۔ وہ جوڑا ان کے دل کو اتنا بھایاتھا کہ اس کا نہ ملنا کچھ اس طرح پھانس بن کر ان کے دل میں چبھا کہ سامنے رکھے پچاس ساٹھ ہزار کے جوڑے بھی ان کو کوئی خوشی نہیں دے پائے۔ یہ سب بھی اُنھوں نے اپنی پسند سے خریدے تھے اور ہر ایک کی قیمت پانچ سے دس ہزار کے درمیان تھی۔وہ ابھی تک اسی ایک کے غم میں مبتلا تھیں۔ حالاں کہ کل ان کے شوہر مظہر نے اس بات پر ان کی اچھی خاصی کلاس لی تھی۔
    ہوا یوں کہ مظہر صاحب دفتر سے آئے تو بیگم مہرین اُداس اور دل گرفتہ سی بیٹھی تھیں۔
    ’’ کیا ہوا؟‘‘ اُنہوں نے اپنا کوٹ ہینگر میں لٹکایا۔
    ’’ کچھ نہیں۔ آپ فریش ہو کر چینج کر لیں میں چائے لگواتی ہوں۔‘‘ وہ اُٹھ کر کچن کی جانب چلی آئیں جہاں ان کی ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات کی تیاری میں مصروف تھی۔
    ’’ثریا ! دس منٹ تک چائے باہر لان میں لگادینا۔‘‘اُنہوں نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر بائیں کندھے پر ڈالا۔
    ’’ جی بیگم صاحبہ!‘‘ثریا مؤدبانہ لہجے میں بولی۔
    موسم بہت خوش گوار تھا ۔ اسی لیے اُنہوں نے چائے لان میں پینے کو ترجیح دی تھی ۔ڈیفنس میں چار کنال پر بنا ان کا یہ خوب صورت گھر دور سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا تھا۔گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی یوں لگتا جیسے انسان کسی پرستان میں آگیا ہو۔گیٹ کے ساتھ دائیں جانب دور تک وسیع و عریض لان میں امپورٹڈ گھاس کا سبز فرش بچھا ہوا تھا جس پر رکھی ہوئی سفید لان ٹیبل اور چیئرز آنکھوں کو بہت بھلی لگتی تھیں۔ لان کے ایک طرف خوب صورت پھولوں کی باڑیں تھیں اور دوسری طرف لاتعداد گملے جن میں اُگے ہوئے رنگ بہ رنگے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ سامنے وسیع و عریض کار پورچ تھا ۔ لائونج سے اُوپر جاتی سیڑھیاں کسی حسینہ کی بل کھاتی کمر کی طرح دکھتی تھیں۔لائونج سے لے کر کچن تک پورے گھر میں ہر چیز میں نفاست اور امارت کا عکس نظر آتا تھا۔

    ’’اب بتائیے بیگم صاحبہ!آپ کو کیا ٹینشن ہے؟‘‘ مظہر صاحب نے لان چیئر پر آرام دہ انداز میں بیٹھ کر چائے کا کپ پکڑ لیا۔
    مہرین بیگم منہ بسور کر خاموش رہیں۔ مظہر صاحب نے ان کی طرف غور سے دیکھا ۔ انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان کی بیٹیاں او لیول اور اے لیول کی اسٹوڈنٹس ہیں۔ وہ آج بھی اتنی ہی سمارٹ اور خوب صورت تھیں جتنی شادی کے وقت تھیں۔ بلکہ اب ان کی خوب صورتی میں مزید کشش اور ایک وقار سا پیدا ہو گیا تھا جو مظہر صاحب کو یک ٹک انہیں دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔
    ’’بتائیے نا!‘‘ مظہر صاحب سے ان کی اُداسی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ’’ مظہر ! مجھے میرا پسندیدہ جوڑا کہیں سے نہیں مل رہا۔‘‘ مہرین نے منہ بنا کر کہا۔
    ’’چھوڑو مہرین! کوئی دوسرا سوٹ لے لو۔ ‘‘ مظہر صاحب نے بے پروائی سے کہا۔
    ’’لیے ہیں پورے دس سوٹ، مگر وہ سوٹ نہیں ملا تو لگ رہا ہے میرے پاس پہننے کو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
    بسا اوقات ان کے اس شوق سے مظہر صاحب چڑ جاتے تھے ۔ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی اور نہ ہی مظہر صاحب نے کبھی ان کی شاپنگ وغیرہ کے حوالے سے ٹوکا تھا ۔ ان کو نت نئے لباس سلوانے کا شوق تھا ۔ وہ ان کا یہ شوق خوشی خوشی پورا کرتے مگر جب مہرین کسی برانڈ کے کسی خاص ڈیزائن کے پیچھے پاگلوں کی طرح پڑ جاتیں تو وہ چڑ جاتے۔ کوئی مشہور برانڈ ایسا نہیں تھا جس کے کپڑے ان کے پاس نہ ہوں مگر ان کا یہ شوق جیسے ان کا نشہ بننے لگا تھا ۔ اب بھی دس سوٹ خریدنے کے باوجود ان کی تسلی نہ ہو سکنے کے بارے میں سن کر مظہر صاحب کا سارا موڈ غارت ہو گیا ۔
    ’’چھوڑ وبھی مہرین ! کیا ہے؟‘‘ مظہر صاحب نے خود پر کنٹرول کر کے کہا۔
    ’’ کیسے چھوڑ دوں؟میری راتوں کی نیند اُڑی ہوئی ہے اور آپ… ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ مجھے یہ سوٹ کہیں سے’’ بلیک‘‘ میں مل جائے بھلے سے قیمت ڈبل ہو ۔‘‘ مہرین نے مظہر کو دیکھا۔
    ’’مہرین پلیز! خود کو کنٹرول کرو۔ تمہارا یہ شوق تمہارا جنون بنتا جارہا ہے ۔ جب کوئی چیز انسان کا جنون بن جائے تو پھر وہ انسان کو اپنے بس میں کر کے اسے خیرو شر کی تمیز بھلا دیتا ہے۔ تم بھی کہیں اپنے اس جنون کے ہاتھوں کوئی نقصان نہ اُٹھا لینا۔‘‘ مظہر صاحب نے اپنے لہجے کو حتی الامکان پر سکون رکھنے کی کوشش کی تھی مگر پھر بھی اس سے ہلکی سی ناراضی جھلک گئی۔ مہرین کو ان کا انداز بُرا لگا ۔
    ’’ مظہر ! بس کیا کریں۔ کبھی کبھی آپ جاہل مردوں کی طرح باتیں کرنے لگتے ہیں جن سے اپنی بیوی کی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔‘‘اُنھوں نے زور سے کپ میز پر پٹخا اور ٹک ٹک کرتی اندر چلی گئیں۔مظہر صاحب سر جھٹک کر چائے پینے لگے۔
    اگلے روز مہرین بیگم نے سارے کپڑے دو تین بڑے شاپنگ بیگز میں ڈال کر پکڑے اور اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں۔
    ’’ ثریا! میں ذرا ٹیلر تک جارہی ہوں ۔ صاحب آئیں تو انہیں چائے سرو کر دینا۔‘‘ وہ جلدی جلدی ہدایات دے کر پلٹ گئیں۔
    ماسٹر صاحب! یہ دس سوٹ ہیں ۔ ناپ وغیرہ بالکل ٹھیک رکھیے گا ۔ ہر سوٹ کے ساتھ ڈیزائن والا پوسٹر ہے اسی کے مطابق بنائیے گا۔‘‘ مہرین بیگم نے کپڑوں والے بیگز کائونٹر پر رکھ کر ٹیلر کو ہدایات دیں۔
    ’’ٹھیک ہے میڈم۔‘‘ ٹیلر نے کپڑے اُٹھا کر ریک میں رکھے۔
    ’’ اچھا اللہ حافظ۔‘‘مہرین دکان کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔ٹیلر نے کسی دوسری گاہک کے کپڑے کٹنگ کے لیے نکال کر کٹنگ کائونٹر پر رکھے۔ کچھ یاد آنے پرمہرین بیگم دکان کے دروازے سے واپس پلٹیں ۔
    ’’ماسٹر صاحب! وہ بلیو والا سوٹ…‘‘ کائونٹر کے قریب آکر اُنہوں نے ٹیلر کو مخاطب کیا مگر ان کی آدھی بات منہ میں ہی رہ گئی۔ ٹیلر ہاتھ میں وہی ڈیزائنر سوٹ پکڑے کھڑا تھا جس کی تلاش میں وہ بھٹک رہی تھیں۔
    ’’ یہ کس کا سوٹ ہے؟‘‘ اُنھوں نے سوٹ کی طرف اشارہ کیا۔وہ بہت عرصے سے یہاں سے کپڑے سلوا رہی تھیں۔ مالک سے لے کر دکان کا گارڈ تک اسے اچھی طرح جانتے تھے اور بہت عزت سے پیش آتے تھے۔
    ’’ پچھلے ہفتے ایک خاتون دے کر گئی ہے۔پہلی دفعہ آئی ہے ۔ ابھی یہی سوٹ دیا ہے کہ پہلے ٹرائی کرے گی پھر اور کپڑے سلنے دے گی۔‘‘ ٹیلر نے تفصیل سے جواب دیا۔ مہرین بیگم کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا ۔ انہیں اپنی منزل بہت قریب نظر آرہی تھی۔
    ’’ماسٹر صاحب ! آپ میرا ایک کام کریں گے ؟‘‘ مہرین نے ٹیلر سے خوشامدانہ انداز میں کہا۔
    ’’ بتائیے میڈم۔‘‘
    ’’آپ …آپ یہ سوٹ میرے ناپ پر سی دیں۔‘‘مہرین کی بات پر ٹیلر نے انھیں یوں دیکھا جیسے ان کا دماغ چل گیا ہو۔
    ’’ کیا مطلب؟‘‘
    ’’مجھے یہ سوٹ بہت پسند ہے ۔ ہر جگہ ڈھونڈا مگر کہیں نہیں ملا۔‘‘ وہ لجاجت سے بولیں۔
    ’’مگر میں ان بی بی کو کیا جواب دوں گا؟‘‘وہ ہچکچایا۔
    ’’ دیکھو کپڑے خراب بھی تو ہو جاتے ہیں نا…تم انہیں کہہ دینا کہ غلطی سے کسی اور کے ناپ پر سل گئے ۔‘‘ اُنھوں نے راہ دکھائی۔
    ’’ مگر میں ان کا نقصان کیسے پورا کروں گا ؟ میں اس دکان پر دہاڑی پر کام کرتا ہوں ۔ میں اس قیمتی سوٹ کی قیمت کہاں سے بھروں گا؟‘‘ ٹیلر نے انھیں ڈھکے چھپے انداز میں انکار کیا۔
    ’’ آپ گھبرائیے نہیں ماسٹر صاحب! اس سوٹ کی قیمت سات ہزار روپے ہے ۔ یہ لیجیے اس کی قیمت جو آپ اُس خاتون کو واپس کریں گے اور یہ پانچ ہزار روپے آپ اپنی محنت کے رکھ لیں۔‘‘ مہرین بیگم نے بیگ کھول کر بارہ ہزار روپے کائونٹر پر رکھ دیے۔ٹیلر نے چور نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی بھی ان دونوں کی طرف متوجہ نہیں تھا۔اُس نے وہ روپے اٹھا کر گویا مہرین بیگم کا کام کرنے کی حامی بھر لی۔مہرین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ’’شکریہ ماسٹر صاحب!‘‘
    ’’وہ تو ٹھیک ہے میڈم! مگر آپ ایک سوٹ کے لیے اتنے پیسے…‘‘ وہ آدھی بات کہہ کر خاموش ہو گیا۔
    ’’آپ آم کھائیں ماسٹر صاحب ! پیڑ نہ گنیں۔ آپ نے سنا نہیں کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔‘‘مہرین کا لہجہ بہت ہی خوش گوار ہو گیا تھاجیسے سوٹ کی صورت میں ہفت ِ اقلیم کی دولت ان کے ہاتھ لگ گئی ہو۔ٹیلر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور مہرین بیگم مطمئن سی دکان سے باہر نکل گئیں۔
    ٭…٭…٭

  • جنریٹر — یاسر شاہ

    جنریٹر — یاسر شاہ

    وہ کوئی عام ایجاد نہیں تھی۔
    منٹوں میں جہنم کو جنت میں تبدیل کرنے والا ایک جادوئی آلہ تھا۔
    ایک ہی بٹن دبانے سے انسان دوزخ کی آگ سے نجات پا کر ساتویں آسمان کے پرسکون بادلوں میں پہنچ جاتا تھا۔
    کیسی ٹھنڈی ہوا تھی۔۔۔۔
    ایسی ہوا جو گرمی سے چکرائے سر کو فوراََ آرام پہنچا دے۔ ایسی ہوا جو بدن کو چھوتے ہی سارے دن کی تھکن کو غائب کر دیتی تھی۔ محنت اور مشقت میں بہایا ہوا پسینہ جو جسم پر بدبودار کیچڑ بن کر چپک جاتا تھا وہ ایسے خشک ہوتا، کہ چِپ چِپ کرتے کپڑے تو دور کی بات ،پورا بدن روئی کی طرح ملائم محسوس ہونے لگتا۔
    یہ ہوا نہیں یہ تو ایک نعمت تھی۔ جس کو میسر ہوجائے اس کو جینے کا مزہ آجائے۔
    بس ایسی ہی ٹھنڈی ہوا میں چند گھنٹوں کے لئے آرام کرنا چاہتا تھا۔ اس ہی ٹھنڈی ہوا میں کچھ دیرسونے کی خواہش تھی۔
    مجھے اپنے کیے پر نہ کوئی رنج ہے اور نہ ہی کوئی ندامت ۔۔
    بس اب جائو۔۔مجھے کچھ اور گھنٹوں کے لئے اس نرم بستر پر اور ٹھنڈی ہوا میں کچھ دیر اور سونے دو۔
    بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
    ٭٭٭٭

    میرے اندازے کے مطابق مجھے کوئی ڈیڑھ بجے نیند آئی ہوگی۔
    یہ میں یقین سے اس لئے کہہ سکتا ہوں کیوںکہ پتا نہیں کس منحوس کی بد دعا لگی جو رات ایک یا ڈیڑھ بجے سے پہلے نیند آتی ہی نہیں۔ آنکھوں میں نیند بھری ہوتی اور بدن بھی تھکن سے ٹوٹتا مگر نہ جانے کیوں؟۔۔جیسے ہی ــ’’کوارٹر‘‘ میں آکر چارپائی پر لیٹا ہوں، یہ کم بخت نیند فوراََ بھاگ جاتی ہے۔
    پوری رات کروٹیں بدل بدل کر خدا سے دعا کرتا رہتا ہوںکہ نیند آجائے۔ تھوڑی دیر کے لئے ہی آنکھ لگ جائے۔ کچھ نہیں تو ایک دو گھنٹے کی نیند ہی میسر ہوجائے بس اس کے بعد تو آگے تھکاوٹ ہی تھکاوٹ۔ صبح سویرے ، دن چڑھتے ہی اس تنور یعنی اپنے کوارٹر سے نکل کرصاحب جی اور بیگم صاحب کا ناشتہ بنانا ہوتا ہے اور یوں گرمی سے جلتے جسم اور نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ میں ایک اور دن گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔
    ہمیشہ کی طرح آج رات بھی ٹھیک دو بجے مجھے بدتمیزی سے جگایا گیا۔’’انٹر کام‘‘ کی وہ منحوس ’’بیل‘‘ کانوں میں ایسے گونج رہی تھی جیسے کوئی صور پھونکا جا رہا ہو۔ اپنا سر کھجاتے اُٹھا تو فوراََ اندازہ ہوگیا کہ یہ جو آدھے گھنٹے کی نیند ملی غنیمت ہے۔ آگے کی رات اب بہت اذیت سے گزرے گی۔
    پسینہ پونچھتے ہوئے میں نے انٹرکام اُٹھایا اور فرماںبرداری سے کہا: ’’جی صاحب جی‘‘
    آگے سے وہ چلائے۔ ’’صاحب جی کا چاچا ۔۔کیا گھوڑے بیچ کر سوتے ہو تم جو تمہیں احساس نہیں کہ پچھلے بیس منٹ سے بتی گئی ہوئی ہے۔ گرمی سے براحال ہو رہا ہے ہمارا۔ جنریٹر خود آن ہوگا کیا؟‘‘
    ’’معاف کیجئے گا صاحب جی ۔۔۔پتا ہی نہیں چلا۔۔‘‘
    ’’ہاں پتا ہی نہیں چلا۔۔ہم جب پسینوں میں بھیگ بھیگ کر بیمار ہوجائیں گے تب احساس ہو گا تمہیں۔۔کیا ہم انسان نہیں۔۔ ؟ یا ہم گرمی میں پڑے پڑے مر جائیں؟ جائو فوراََ جا کر ’’جنریٹر‘‘ چلائو تاکہ ہمارا اے سی چل سکے۔ تم جانتے ہو صبح میری لاہور کی فلائٹ ہے۔ اگر میری نیند پوری نہیں ہوئی تو تمہارا وہ حشر کروں گا تم یاد رکھو گے۔‘‘
    میں نے اپنے صاحب جی سے مزید معافیاں مانگیں اور پھر اپنی ٹوٹی چپلوں میں پائوں ڈال کر ’’جنریٹر‘‘ چلانے گیا۔ صاحب کی ڈانٹ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ غصے کے ساتھ اپنی قسمت پر ہنسی بھی آرہی تھی۔ صاحب فرمارہے ہیں ’’ہم انسان نہیں‘‘۔۔؟ پھر کہتے ہیں ’’میرا وہ حشر کریں گے کہ میں یاد رکھوںگا۔‘‘ اگر وہ انسان نہیںتو میں کیا۔۔؟ وہ تو پھر اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں آرام سے سوتے ہیں۔ بیس منٹ میں کون سا ان کا کمرہ اُبلنے لگا ہو گا، جو ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ اور میں۔۔؟ ایک ٹوٹے ہوئے ’’پیڈسٹل فین‘‘ کا رخ اپنی طرف کر کے پوری رات خاموشی سے گزار دیتا ہوں اور آج تک اپنی انسانیت پر کبھی شک نہیں کیا۔ آئے بڑے میرا برا حشر کرنے والے! اس گرمی میں تو رات مجھے گزارنی پڑتی ہے۔ اس سے زیادہ اور برا حشر کیا ہوسکتا ہے؟
    ویسے یہ جنریٹر چلانا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اس کو چلانے کے لئے بڑی جان چاہئے اور کوئی دو تین بار کشتی لڑوں تب جا کر یہ ’’جنریٹر‘‘ چلنے کا نام لیتا ہے۔ جب ایک بار ’’آن‘‘ ہو کر گرجتا ہے تو اس بات سے ہی خوشی ملتی ہے کہ اب صاحب جی اور بیگم صاحبہ چین سے سو سکیں گے۔
    میں نے چہرہ اوپر کیا اور اے سی کی طرف دیکھا۔ واہ بھئی واہ۔۔جنریٹر بھی کتنی انوکھی ایجاد ہے، جو صرف امیروں کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ ہم جیسے غریب اسے باہر سے چلا ضرور سکتے ہیں مگر کمرے میں جا کر اس کی بدولت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈی ہوا سے ہمیشہ محروم ہی رہ جاتے ہیں۔کبھی کبھار کھانا یا چائے پیش کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ کبھی خدا نے وفات کے بعد جنت کی کھڑکیاں ہمارے لئے بھی اگر کھولیں تو ضرور جنت میں بھی ہر جگہ ــ’’جنریٹر‘‘ اور اُن کی بدولت ’’اے سی‘‘ ہی لگے ہوں گے۔ جہاں چکراتے دماغ اور جلتے ہوئے جسم کو ہمیشہ ٹھنڈی ہوا کا سکون مل سکے گا۔
    اوپر دیوارپر لگے اے سی سے دو چار پانی کے قطرے ٹپک کر میرے ہاتھ پر گرے۔ میں نے وہی قطرے اپنے منہ پر مل لئے۔ اس اے سی سے ٹپکتا ہوا پانی بھی کتنا مزے دا ر ہوتا ہے۔ چلو اگر اندر کی ٹھنڈی ہوا نہیں تو ان دو چار قطروں سے ہی سکون حاصل کرتے ہیں۔کچھ قطرے منہ پر ملے اور کچھ تو پی بھی لئے۔ واپس آکر میں نے اپنا معذور سا پنکھا چلایا اور دوبارہ آنکھ لگانے کی کوشش کی۔
    ٭٭٭٭
    ڈھائی بجے کمبخت انٹر کام پھر بجنا شروع ہوا۔ اس بار صاحب کے لئے ایک موٹی سی گالی نکلی۔
    ’’ارے خبیث آدمی کیا کھا کر سوئے ہو جو تمہیں کسی چیز کا ہوش نہیں ‘‘صاحب جی پھر ’’انٹر کام‘‘ پر غرائے۔
    آنکھیں ملتے ہوئے میں نے پہلے تو معافی مانگی پھر پوچھا ’’کیا ہوا صاحب جی۔۔؟؟‘‘
    ’’اوپر سے پوچھ رہے ہو کیا ہوا؟ ہوش نہیں تمہیں۔۔؟ پچھلے دس منٹ سے جنریٹر ٹرپ ہو چکا ہے اور اے سی بند ہے۔ جا کر دیکھو۔‘‘
    ’’جی میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔‘‘
    ’’پٹرول کتنا ہے اُس میں ۔۔؟؟کم تو نہیں ہوگیا۔؟ کتنی مرتبہ کہا ہے کہ ہر رات جنریٹر کا پٹرول دیکھ کر سویا کرو‘‘۔
    ’’صاحب جی میں نے دیکھا تھا۔ پٹرول ختم نہیں ہوا ہوگا۔‘‘
    ’’تو پھر لوڈپڑ رہا ہوگا۔ تم نے تو اپنا پنکھا تو نہیں چلایا ہوا؟‘‘
    میں نے فوراََ جھوٹ بولا ’’نہیں سر ۔۔میں نے نہیں چلایا‘‘
    ’’بکواس کرتے ہو۔سب جانتا ہوں تم لوگوںکی چالاکیاں۔۔یہ جنریٹر ہم نے اس لئے لگوایا ہے کہ رات کو صر ف ایک کمرے کا اے سی چل سکے۔ تمہیں اگر زیادہ گرمی لگتی ہے تو باہر صحن میں جا کر سو جایا کرو۔ کسی اور کمرے کی لائٹ نہیں جلنی چاہئے ورنہ ’جنریٹر‘ پر لوڈ پڑے گا۔ اب جائو فوراََ دیکھو کیا ہوا ہے؟‘‘
    ’’جی سر۔۔‘‘
    پھر میں نے وہی کیا جس کا حکم مجھے دیا گیا۔ آنکھیں ملتے ہوئے نیند کی مد ہوشی میں جا کر ’’جنریٹر‘ ‘سے دوبارہ کشتی کی۔ جب وہ چل پڑا تو اس بار اپنا پنکھا چلائے بغیر گرمی اور پسینے میں ہی چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
    ٭٭٭٭
    خدا کی شان میں گستاخی کبھی نہیں کرنی چاہئے مگر یا اللہ! یہ مچھر بھی کیا شے ہے؟ ایسی تخلیق کا مقصد ہی کیا جو آدمی کو صرف نقصان ہی پہنچاتی ہے۔ ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے علاوہ مچھروں نے اس دنیا کو دیا بھی کیا ہے؟ان کے وجود کا تو صرف ایک ہی مقصد ہے۔۔غریبوں کی راتیں کالی کرنا۔
    پنکھے کے بغیر یہ مچھر انسان کو ایسے کھا تے ہیں جیسے کہ کوئی پرانا دشمن حملہ کر رہا ہو۔ جگہ جگہ کاٹ کاٹ کر اس نے جسم چھلنی کر دیا ۔ باقی جو کسر بچی تھی میں نے خود کو کھجا کھجا زخمی کر لیا۔
    اگر مشکل سے کھجلی کو بھول کر ایک دو منٹ کے لئے آنکھ لگ بھی جائے تو پھر یہی مچھر کان میں بھنبھنا نا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر مارنے کی کوشش کروتو اپنا تھپڑ خود ہی اپنے منہ ہی پر پڑتا ہے۔ ’’واہ بھئی واہ!‘‘ ہم بے قصور اپنے آپ کو ہی مار رہے ہیں۔
    سمجھ نہیں آتاکہ اپنی بدقسمتی پر قہقہے لگائوں یا آنسو بہائوں۔۔
    ان مچھروں سے تنگ آکر میں تین بجے باہر صحن میں جاکر لیٹ گیا۔ اگر مچھروں نے کاٹنا ہی ہے تو اس گرم کمرے میں رہنے کا کیا فائدہ۔ باہرصحن میں ہی جا کر اپنے ہتھیار ڈال دوں۔ کم از کم کوئی بھولی بھٹکی ہوا کا جھونکا تو مل جائے شاید۔
    ٭٭٭٭

  • دو مسافر —- احمد سعدی (مترجم:شوکت عثمان)

    دو مسافر —- احمد سعدی (مترجم:شوکت عثمان)

    گرمی کی دوپہر ڈھلنے لگی تھی اور ارہر کے کھیت میں پڑتے ہوئے سائے آہستہ آہستہ لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ اسی ڈھلتی دوپہر میں کشٹیا ضلع بورڈ کی سڑک پر ایک مسافر کہیں جا رہا تھا۔ اس نے گیروے رنگ کا تہ بند اور صدری پہن رکھی تھی۔ لمبوترے چہرے پر گھنی سفید ڈاڑھی اور ہاتھ میں اک تارا تھا۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا، اس کی نگاہیں راستے پر نہیںبلکہ دور کہیں کھوئی ہوئی تھیں۔ گرمی کی تیز دھوپ میں ہر چیز جھلس کر رہ گئی تھی۔ اس جھلسے ہوئے رنگ کا حسن بیراگی کے دل کے رنگ سے مشابہ تھا شاید اسی لیے وہ اسے دیکھتا ہوا راستہ طے کر رہا تھا۔ گاہ بہ گاہ ان جانے میں اس کی انگلی اک تارے کی تار سے ٹکرا جاتی اور اس کی ٹنگ ٹنگ کی آواز دھوپ سے تپتی فضا میں ہلکی سی چیخ سن کر گونج اٹھتی مگر یہ گویا اس کی لاعلمی میں ہورہا تھا کیوں کہ مسافر کا دل تو اس وقت اک تارے کی موسیقی سے کہیں دور بھٹک رہا تھا، کسی دوسری دنیا کی سیر کررہا تھا۔ راستے میں سایہ دار درخت بھی تھے لیکن وہ ان درختوں کے سائے میں رکے بغیر چلا جا رہا تھا۔ وہاں سے تقریباً تین میل کی دوری پر ایک گاؤں تھا شاید وہی اُس کی منزل تھی۔
    پہلے مسافر کے پیچھے پیچھے ایک اور مسافر بھی اسی راستے پر چل رہا تھا۔ اس کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ لگتا تھا، وہ آگے جاتے مسافر کے قریب پہنچنا چاہتا ہے۔ پہلے مسافر کو آواز دے کر روکا جا سکتا تھا، مگر دوسرا مسافر شاید آواز دینا نہیں چاہتا تھا۔ دوسرے مسافر کا چہرہ روکھا سوکھا سا تھا اور اس کی مونچھ اور اس کے دونوں بازوؤں کے بال سیاہ تھے۔ چہرہ چوڑا اور آنکھیں گول تھیں۔ اسے دیکھنے سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ حکم دینے کا عادی رہا ہو، حکم کی تعمیل کا نہیں۔ راستے کی تکان دور کرنے کے لیے ہم سفر سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہوتی شاید اسی لیے وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر تھکن کے آثار ابھر آئے تھے پھر بھی اس کی رفتار میں کمی نہیں آئی، وہ تیز تیز چلتا رہا۔ ذرا قریب پہنچ کر دوسرے مسافر نے پہلے کو آواز دی:
    ’’بھائی صاحب!‘‘

    پہلے نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دوسرے مسافر کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر استقبالیہ مسکراہٹ پھیل گئی:
    ’’کیا آپ نے مجھے آواز دی ہے؟‘‘
    ’’جی ہاں۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’السلام علیکم۔‘‘
    ’’وعلیکم السلام۔‘‘
    پہلے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
    دوسرے مسافر نے پوچھا۔
    ’’وہ جو سامنے آبادی نظر آرہی ہے، وہیں جانا ہے مجھے۔‘‘
    ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔‘‘
    دوسرے مسافر نے کہا۔
    ’’میں بھی وہی جا رہا ہوں۔‘‘
    ’’چلیے پھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
    پہلے مسافر نے خوشی کا اظہار کیا۔
    راہ میں ہم سفر مل جائے تو راستے کی طوالت کا خوف دل سے نکل جاتا ہے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ دونوں دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگے۔ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے، مگر ڈاڑھی والے مسافر کی نگاہیں دور خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔ مونچھوں والے مسافر کی نگاہیں بار بار اپنے ہم سفر کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ گرمی کے دنوں میں دورافق پر بہت تیز روشنی دکھائی دیتی ہے۔ افق کا یہ حال ہمیشہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مسافر بار بار اپنے ہم سفر کی طرف دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی نگاہوں کی جستجو کیا ہے اور وہ دور افق پر نظر جمائے کیا دیکھ رہا ہے۔ دوسرے مسافر نے کئی بار دور افق کی طرف دیکھا، پھر پہلے مسافر کی نگاہوں کے تعاقب میں اپنی نظریں پھیر لیں۔
    پہلا مسافر خاموشی سے آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔
    دوسرے مسافر کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگی۔ آپس میں باتیں ہی نہ ہوں تو ہم سفری کیسی؟ اس نے خاموشی توڑنے کے لیے بلند آواز میں پہلے مسافر سے پوچھا:
    ’’بھائی صاحب! آپ گانا گاتے ہیں کیا؟‘‘
    پہلا مسافر محویت سے چونک اٹھا: ’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا بھائی صاحب؟‘‘
    ’’جی ہاں۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    پہلا مسافر دوسرے مسافر سے مخاطب ہو کر بولا: ’’کہیے؟‘‘
    ’’آپ گانا گاتے ہیں کیا؟‘‘
    اس نے دوبارہ پوچھا۔
    ’’جی ہاں۔ گانا گاتا ہوں۔‘‘
    ’’تو پھر کوئی گانا سنائیے نا؟‘‘
    دوسرا مسافر بولا۔
    ’’اگر آپ کو زحمت نہ ہو۔‘‘
    ’’زحمت کی کیا بات ہے؟‘‘
    پہلے مسافر نے کہا۔
    ’’سننا چاہتے ہیں تو سنیے۔‘‘
    گیروے لباس والے نے اک تارا سنبھال لیا اور گانے لگا۔
    میں نے دل کے دریا میں ایک عجیب تماشا دیکھا۔
    جسم کے اندر ایک گھر ہے۔
    اس گھر میں چور گھس آیا ہے۔
    چھے آدمیوں نے مل کر نقب لگائی ہے۔
    جسم کے اندر ایک باغ ہے۔
    اس میں مختلف اقسام کے پھول کھلے ہیں۔
    پھولوں کی خوشبو سے ساری خلقت دیوانی ہو گئی ہے۔
    لیکن لالن کا دل دیوانہ نہیں ہوا۔
    نغمے اور موسیقی کے آب شار سے سنسنان میدان نے ہونٹوں میں پانی بھر کر اپنی پیاس بجھالی۔ دھوپ کی حدت پرے ہٹ گئی اور سروں کے اندر ساری دنیا ملفوف ہو گئی۔ گانا کب ختم ہوا، محسوس ہی نہیں ہوا۔
    دوسرے مسافر نے اس سکوت میں اپنی آواز کا پتھر پھینکا۔
    ’’واہ واہ، آپ تو بہت اچھا گاتے ہیں۔‘‘
    ’’جی!‘‘
    پہلے مسافر نے مختصر جواب دیا۔
    ’’آپ کا نغمہ بھی خوب تھا۔‘‘
    دوسرے نے تعریفی انداز میں کہا۔
    ’’جی! بس یہی کچھ مجھے آتا ہے۔‘‘
    ’’نہیں، نہیں۔ سچ مچ آپ کی آواز میں بلاکالوچ اور درد ہے۔‘‘
    دوسرا مسافر بولا۔ ’’میں نے ایسا نغمہ پہلے کبھی نہیں سنا!‘‘
    ’’کبھی نہیں سنا؟‘‘
    پہلے مسافر نے حیرت سے پوچھا۔
    ’’جی نہیں۔‘‘ دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’بہت خوب۔‘‘ پہلا مسافر مسکرایا۔
    دونوں کے درمیان مزید گفتگو نہیں ہوئی۔ وہ دونوں پھر تیزقدم بڑھانے لگے تاکہ جلد از جلد منزل پر پہنچ سکیں۔
    میدانی علاقہ ختم ہو گیا اور دونوں آبادی کے قریب پہنچ گئے۔ چاروں طرف درختوں کی قطاریں تھیں اور درختوں کے درمیان مکانات کھڑے تھے۔ پختہ عمارتیں اور ٹین کے گھر دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ لوگ گھروں سے نکل کر اپنے اپنے کام پر جا رہے تھے۔ یہ دونوں آگے بڑھتے گئے مگر کسی نے ان دونوں کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔
    ’’چلو، اتنی دیر بعد کچھ آدمی تو نظر آئے۔‘‘
    پہلا مسافر بڑبڑایا۔
    دونوں ایک دوراہے پر جا کر رک گئے۔ راستے کے دونوں طرف دور تک زمین خالی تھی۔ اس کے بعد متمول لوگوں کے مکانات اور تالاب تھے۔ ایک جگہ ایک ساتھ کئی عمارتیں تھیں اور پھلوں سے لدے ہوئے درختوں کا ایک بڑا سا باغ تھا۔
    اس طرف نگاہ پڑتے ہی دوسرے مسافر نے اپنے بیراگی ہم سفر کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:
    ’’جلدی ادھر آئیے، وہ دیکھیے، وہ میرا گھر دکھائی دے رہا ہے، وہ میرا باغ ہے اور اس کے چاروں طرف جتنی زمینیں پھیلی ہوئی ہیں، وہ سب میری کاشت کی زمینیں ہیں۔ اس طرف آئیے۔ وہ جو ناریل کے پیڑوں کی لمبی قطار دکھائی دے رہی ہے نا، آپ ان پیڑوں کے ایک ناریل کا پانی پی لیں تو سات دن تک پیاس بجھ جائے۔‘‘
    پہلے مسافر کو کوئی جواب دینے کا موقع نہیں ملا۔ اس کا ہاتھ دوسرے مسافر کی مٹھی میں تھا اور وہ اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا۔ دونوں ایک پختہ کنارے والے تالاب کے پاس جا کر رک گئے۔ تالاب کنارے ناریل کے سینکڑوں پیڑ تھے۔
    دوسرے مسافر نے کہا:
    ’’آپ اس پیڑ کے سائے میں بیٹھ جائیے۔ میں ناریل توڑنے کا انتظام کرتا ہوں۔ یہ سب کچھ میرا ہے۔
    یہ تالاب، یہ باغ باغیچہ، یہ پختہ عمارت اور وہ جو حد نظر تک پھیلی ہوئی کاشت کی زمینیں ہیں، وہ سب میری ہیں اور یہ گاؤں بھی میری ہی زمین پر آباد ہے اور وہ جو…‘‘
    دوسرے مسافر کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بڑی بڑی مونچھوں والا ایک فربہ اندام شخص آکر ان دونوں کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ وہ تالاب کنارے دو موٹے موٹے پیڑوں کے پیچھے کھڑا دوسرے مسافر کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے ان دونوں کو سر سے پاؤں تک گھور کر دیکھا پھر دوسرے مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے بولا:
    ’’آپ کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
    ’’میں کہہ رہا تھا کہ یہ باغ، یہ تالاب، یہ عمارت سبھی کچھ میرا ہے۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’آپ کا اسم شریف؟‘‘
    اس آدمی نے پوچھا۔
    ’’سبحان جواردار۔‘‘

  • ڈھال — نازیہ خان

    ڈھال — نازیہ خان

    ثنا بڑی بے چینی سے اپنے شوہر واصف کا انتظار کرتے ہوئے کمرے میں چکر لگا رہی تھی۔ بالآخر اُس نے گاڑی کے ہارن کی آواز سُنی اور کھڑکی کی طرف بھاگی۔
    ’’شکر ہے۔‘‘ وہ بے دھڑک بولی۔
    واصف گھر داخل ہوتے ہی اپنے کمرے کی طرف مُڑا۔
    ’’کیا ہوا واصف؟‘‘ باپ نے بیٹے کی بے چینی دیکھتے پوچھا۔
    ’’آآآ…کچھ نہیں پاپا… بس وہ ایک فائل رہ گئی تھی۔‘‘ اُس نے جھوٹ بولتے ہوئے بات سنبھالی۔
    ’’آرام سے بیٹا… تمہارے کمرے میں ہوگی۔‘‘ماں نے بھی چائے کا کپ رکھتے ہوئے دلاسا دیا۔
    وہ بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں پہنچا۔
    ’’کیا ہوگیا ہے ثنا؟ ایسی کون سی قیامت آگئی ہے کہ تم کالز پر کالز کرتی جارہی تھی۔‘‘ اُس نے غصے سے سرگوشی کی۔
    ’’واصف آپ کو اندازہ بھی ہے، اس گھر میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ گھورتے ہوئے بولی۔
    ’’ارے ہوا کیا ہے؟ تم سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتی؟‘‘
    ’’ماما پاپا شاہ میر کی بات مان کر اس کی شادی اُس دو ٹکے کی لڑکی ماہرہ کے ساتھ کروانے پر راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ غصے سے چلّائی۔
    ’’کیا؟ لیکن مجھ سے تو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘‘ وہ حیرانگی سے بولا۔
    ’’میں آپ کو بتا رہی ہوں واصف، آپ کے بھائی شاہ میر کی شادی صرف میری بہن ماہ نور سے ہوگی ورنہ…‘‘
    ’’ورنہ کیا؟‘‘ واصف نے اُس کی بات کاٹی۔
    ’’واصف آپ سمجھ نہیں رہے، اگر شاہ میر کی شادی ماہ نور سے ہوگی، تو آپ ساری زندگی اس کاروبار کے اکیلے مالک بن کر زندگی گزاریں گے، لیکن اگر کوئی باہر کی لڑکی گھر آگئی تو یہ راج دو دنوں میں ختم ہو سکتا ہے۔‘‘
    ’’لیکن ہم شاہ میر کے ساتھ زبردستی بھی تو نہیں کرسکتے۔‘‘واصف نے کہا۔

    ’’وہ ماما اور پاپا کا بہت پیارا ہے۔ اگر وہ لوگ نہیں مانیں گے، تو وہ ماہرہ سے کسی صورت شادی نہیں کرے گا۔‘‘ اُس نے واصف کے کان بھرے۔
    ’’تو تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ اُس نے حیرانگی سے پوچھا۔
    ’’میں چاہتی ہوں کہ آپ ماما اور پاپا کو کسی بھی طرح اس رشتے کے حق میں نہ جانے دیں۔ اُس کا گھرانہ غریب ہے، تو آپ سٹیٹس کو اپنا ہتھیار بنا سکتے ہیں۔‘‘ اُس نے آہستہ سے مشورہ دیا۔
    ’’میں بات کرتا ہوں ماما سے۔‘‘ وہ تیزی سے مُڑا۔
    ٭…٭…٭
    اُس نے بڑے ادب سے چائے پیتے ہوئے ماں باپ کو جوائن کیا۔
    ’’تمہاری فائل مل گئی بیٹا؟‘‘ ماں نے سوال کیا۔
    ’’جی ماں، وہ کمرے میں ہی تھی۔‘‘
    ’’شکر ہے۔‘‘ ماں نے تسلی سے جواب دیا اور بیٹے کو دیکھ کر مُسکرائی۔
    ’’سنو واصف… شاہ میر شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ماں نے آہستہ سے بات شروع کی۔
    ’’یہ تو اچھی بات ہے۔ دیر کس بات کی ہے کردیں اُس کی شادی۔‘‘ ماں نے واصف کی بات سُن کر اچانک اُس کے پاپا کی طرف دیکھا۔
    ’’مگر بیٹا وہ اپنی کلاس فیلو سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
    ’’ہاں تو ٹھیک ہے اگر ان لوگوں کا سٹیٹس ہمارے ساتھ میچ کرتا ہے، تو کردیں وہاں شادی۔‘‘ اُس نے تسلی سے جواب دیا۔
    ’’یہی تو مسئلہ ہے واصف… وہ لڑکی ایک غریب پرائمری اسکول ٹیچر کی بیٹی ہے۔‘‘ باپ نے غصے کا اظہار کیا۔
    ’’کیا؟‘‘ واصف نے حیرانگی اور غصے سے چائے کا کپ میز پر رکھا۔
    ’’شاہ میر پاگل ہوچکا ہے؟ ہم بھلا شاہ میر کی شادی وہاں کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ اُس نے ماں کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ’’مگر بیٹا وہ ضد کررہا ہے کہ وہ صرف اُسی سے شادی کرے گا۔‘‘
    ’’ماں پلیز… آپ اُسے سمجھائیں، شاہ میر کا اور اُس لڑکی کا کوئی جوڑ نہیں۔‘‘ وہ غصے سے کھڑا ہوگیا۔
    ’’میں کیا کروں؟ اُس کی مانوں یا تم لوگوں کی؟‘‘ ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ’’آپ اُس کی شادی ماہ نور سے کیوں نہیں کروا دیتیں؟‘‘ اُس نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کان میں بات ڈالی اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
    ’’بات تو واصف کی بھی ٹھیک ہے۔‘‘ باپ نے مشورہ دیا۔
    ماں غصے سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
    ٭…٭…٭
    شاہ میر یونی ورسٹی سے آتے ہی ماں کے کمرے میں سلام کرنے گیا۔
    ماں نے اُسے پیار سے دیکھا اور مُسکرائی، وہ سلام کرنے کے بعد واپس مڑا۔
    ’’رُکو شاہ میر… بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’جی ماما۔‘‘ اُس نے مڑ کر دیکھا۔
    ’’بیٹا ماہرہ تمہارے لائق نہیں، اُس کا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں۔ تم اُس سے شادی کی ضد چھوڑ دو۔‘‘ ماں نے نظریں چراتے ہوئے بیٹے کو ساری بات سمجھائی۔
    ’’لیکن ماما، وہ لڑکی پڑھی لکھی ہے، اچھی ہے، مجھے اِس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ اُس نے بات سمجھانے کی کوشش کی۔
    ’’نہیں شاہ میر، بس اب میں دوبارہ تمہارے منہ سے یہ بات نہ سنوں۔ شادی کرنے سے صرف دو لوگ نہیں جڑتے بلکہ دو خاندان جڑتے ہیں۔‘‘
    ’’مگر میں شادی صرف ماہرہ سے کروں گا۔‘‘ وہ جوش سے بولا۔
    ’’تم ماہ نور سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘
    ’’ماہ نور جیسی آوارہ لڑکیوں میں مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔‘‘ وہ چلّایا۔
    ’’بکواس بند کرو۔ وہ ثنا کی بہن ہے اور ثنا بھی تو اتنی اچھی اور فرماں بردار لڑکی ہے۔‘‘
    ’’میں آپ کو آخری دفعہ بتا رہا ہوں، میں صرف اور صرف ماہرہ سے شادی کروں گا۔‘‘ اُس نے گھورتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور کمرے سے چلا گیا۔
    ’’وہ میری کوئی بات سننے کو راضی نہیں ہے۔‘‘ ماں نے اُداسی سے واصف اور اُس کے باپ کو بتایا۔
    وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔
    ’’بیٹے کی خوشی سے بڑھ کر آخر کیا ہوتا ہے ماں باپ کے لیے۔‘‘ ماں نے غصے سے اپنے میاں کو دیکھا۔
    واصف غصے سے ماں باپ کو گھورتے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔
    ٭…٭…٭
    شاہ میر کی ضد کو مانتے ہوئے ماں باپ نے اُس کا نکاح ماہرہ سے کروا دیا۔
    ماہرہ نے پہلے دن ہی جانچ لیا کہ شاہ میر کے گھر والے اس رشتے پر خاص راضی نہ تھے، اُن سب کے لہجے، الفاظ کا ساتھ نہ دے رہے تھے۔ شادی کی پہلی رات ہی جب وہ کمرے میں داخل ہوا، تو ماہرہ نے اُس سے پوچھا۔
    ’’شاہ میر کیا تمہارے گھر والے اس شادی پر راضی نہیں تھے؟‘‘
    ’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ماہرہ۔‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔
    ’’کیا تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ تمہارے گھر والے اس رشتے پر راضی ہیں۔‘‘ اُس نے آنسو بھری نگاہوں سے اُسے دیکھا۔
    ’’سب ٹھیک ہو جائے گا ماہرہ! ماما پاپا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ وہ کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گے۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں سب ٹھیک کردوں گا۔‘‘
    ’’شاہ میر تم پر تمہارے والدین کا حق سب سے پہلے ہے۔ اگر وہ راضی نہیں تھے، تو تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ اُس نے مایوسی سے کہا۔
    ’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ماہرہ، میں ماما، پاپا کو منالوں گا۔ تمہارے علاوہ میں اپنی زندگی میں کسی اور کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔‘‘ اُس نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ماہرہ نے بھی شاہ میر پر بھروسا کرتے ہوئے اُسے معاف کردیا۔
    ٭…٭…٭