الف — قسط نمبر ۰۱

انتساب

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ)اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے(پڑی)روشنی ہی روشنی(ہورہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی را ہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے تو لوگوں کے(سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
سورة النور آیت نمبر ٣٥
——————————————————————————————————————————————————————————-
پیش لفظ

بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک بچہ اللہ کے نام خط لکھتا ہے جو پوسٹ آفس والوں کو ملتے ہیں تو پوسٹ آفس والے اُس غریب اور یتیم بچے کو اللہ کی طرف سے خط اور پیسے بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ کہانی ہمیشہ مجھے یاد رہی کیونکہ اللہ سے میرے سوال اور جواب بھی آپ سب کی طرح ہمیشہ چلتے رہتے ہیں اور بہت دفعہ اللہ کو خط لکھنے کو دل چاہتا ہے۔۔۔
یہ بتانے کے لئے کہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔۔۔۔۔ویسی محبت اور کسی سے نہیں۔۔۔تو الف اسی محبت سے میری اسی دائمی محبت کے نام۔۔۔
عمیرہ احمد

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

Read Next

الف — قسط نمبر ۰۲

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!