Author: misbah116@hotmail.com

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۲

    دانہ پانی — قسط نمبر ۲

    عشق فقیری جد لگ جائے
    پاک کرے ناپاکاں نوں
    عشق دی آتش لے جاندی اے
    عرشاں تیکر خاکاں نوں
    وہ ایک سانپ تھا، تاریک رات کی طرح سیاہ ، تارکول جیسی چمک لئے شاید چھ فٹ یا سات فٹ لمبا یا شاید اس سے بھی زیادہ، اس کی سیاہ رنگت میں بھی اس کی جلد کے نقش و نگار یوں نمایاں تھے جیسے کسی انسان کے تیکھے نقوش۔ اس کی گول چمک دار سیاہ آنکھوں میں وحشت کے علاوہ کوئی تاثر نہیں تھا اور اس کا کسی تاج کی طرح تنا ہو اپھن اس کے کنڈلی مارے ہوئے وجود پر کسی چھتری کی طرح جھک جھک کر تن رہا تھا۔
    وہ اس جنگل میں کب سے اس کا پیچھا کررہا تھا لیکن کیوں، یہ اندازہ اسے نہیں ہوا تھا پر اس کے وجود کی سرسراہٹ اس کے کانوں سے کسی سیٹی کی گونج کی طرح چپکی ہوئی تھی۔
    اس نے اسے بل کھاتے، لہراتے، برق رفتاری سے اپنے پیچھے آتے بھی دیکھا تھا اور اب جب وہ ان درختوں کے بیچوں بیچ اپنے عقب میں آنے والے اس دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رُک گئی تھی تو وہ اپنا پھن اٹھائے کنڈلی مار کر اُس کے سامنے بیٹھ گیاتھا۔
    وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ساکت تھے۔ اس سانپ کو اگر اس کی آنکھوں میں خوف دیکھنے کی خواہش تھی تو اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔ وہ خوف زدہ نہیں تھی اور پھر اس نے سانپ کے عقب میں کسی کے قدموں کی چاپ سنی تھی، سانپ برق رفتاری سے پلٹا اور اپنے عقب میں کھڑے اس مرد کو دیکھ کر پھنکارا۔
    اس مرد کی نظر موتیا پر تھی۔ وہ جیسے اس کے حسن سے مبہوت تھا۔ موتیا نے اس سانپ کو اس مرد کے پیروں کی جانب جاتے دیکھا اور تب اس نے پہلی بار خوف محسوس کیا تھا اور تب ہی اسے یہ احساس بھی ہوا تھا کہ وہ ناگن تھی۔ ”کوبرا” اس نے چلانا چاہا لیکن وہ چلانہیں پائی۔ وہ ناگن اس مرد کے پیروں کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اُس نے اپنا پھن اُٹھایا اور کاٹنے کے لئے جُھکی۔
    موتیا ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔ وہ لرز رہی تھی اور اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ وہ آنکھیں کھول کر بھی جیسے خواب ہی دیکھ رہی تھی اور اس کا حلق خشک ہورہا تھا۔ صحن میں گامو اور اللہ وسائی اس کے دائیں بائیں اپنی اپنی چارپائیوں پر رات کے اس پچھلے پہر گہری نیند سو رہے تھے۔ دور کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آئی تھی۔ پتا نہیں وہ کتا تھا یا گیدڑ، موتیا نے جیسے عجیب سی کیفیت میں آواز سنی تھی۔
    ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو گامو کے گھر میں لگے ہوئے موتیا کے پھولوں سے مہکے ہوئے تھے، انہوں نے اندھیرے میں چارپائی پر بیٹھی موتیا کو جیسے سہلایا تھا۔
    موتیا ٹانگوں پر پڑے کھیس کو ہٹاتے ہوئے زمین پر کھڑی ہوگئی تھی۔ اپنی چپل کو پاؤں سے ٹٹولتے ہوئے اس نے ایک دم چپل پہننے کا ارادہ ترک کردیا، اس کی چپلوں کی آواز سے گامو اور اللہ وسائی جاگ جاتے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ننگے پاؤں وہ صحن میں پڑے لکڑی کے اس اسٹینڈ کی طرف گئی تھی جس پر پانی کا ایک کچا مٹکا رکھا تھا اور مٹکے کے منہ کے گرد موتیا کے پھولوں کا ایک ہار لپٹا ہوا تھا جو اللہ وسائی صبح سویرے ہی پرو کر چڑھا دیتی۔ موتیانے گلاس اٹھا کر مٹکے پر پڑا ڈھکن ہٹایا اور مٹکا جھکاتے ہوئے گلاس میں پانی بھرا اور پھر غٹاغٹ پی گئی۔ پانی نے جیسے اس کی اکھڑی ہوئی سانس بحال کی تھی پر اس کی نیند اڑ گئی تھی۔
    گلاس واپس رکھ کے موتیا نے سر اٹھا کر چودھویں کے چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا جس کی روشنی نے اس کے گھر کے صحن کو عجیب سحر انگیز چاندنی سے روشن کررکھا تھا۔ اسی طرح دبے پاؤں وہ اپنی چارپائی کی طرف آکر لیٹ گئی تھی۔
    پورا آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا اور چاند ان کے جھرمٹ میں کسی بادشاہ کی طرح لگ رہا تھا۔ بالکل گول، روشن، حسین وہ چاند پر نظریں جمائے اسے دیکھتی رہی۔ مگر اس کا ذہن وہیں اٹکا ہوا تھا۔ اس خواب میں نظر آنے والے مرد پر اور اس سانپ پر جوناگن تھی۔
    ”پاگل ہے تو موتیا! خوامخواہ فکر کرنے بیٹھ جاتی ہے۔ خواب ہے خواب، نہ دنیا میں یہ مرد ہے نہ وہ سانپ۔ سوجا۔”
    اس نے ہمیشہ کی طرح زیرِ لب اس خواب کو بڑبڑاتے ہوئے جھٹلایا۔ پر آسمان پر نظر آنے والے اس خوب صورت چاند پر یک دم جیسے اسی مرد کا چہرہ ابھرنے لگا تھا۔ اُس کی آنکھیں، ناک، مسکراتے ہوئے لب، اٹھی ہوئی ٹھوڑی، لمبی گردن۔
    وہ عجیب حیرت سے چاند میں ابھرنے والی شبیہہ دیکھنے لگی۔ پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر چاند میں ابھرنے والے اس چہرے کو جیسے چھونے کی کوشش کی تھی۔ اور وہ چھوپائی تھی، موتیا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔
    اس نے آنکھیں بند کرکے دوبارہ کھولیں، چاند اب بھی وہی چہرہ بنا آسمان پر براجمان تھا اور تارے اسے اپنے جھرمٹ میں لئے ہوئے تھے۔ وہ آنکھیں کھولے آسمان پر چاند کو دیکھتی رہی، اس چکور کی طرح جسے وہ اکثر رات کو اڑتے دیکھتی تھی۔
    موتیا نے آسمان پر اس چاند کو دیکھتے ہوئے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ زیرِ لب ایک، پھر دوسرا، پھر تیسرا، چوتھا،پانچواں،چھٹااور پھر وہ ساری سورتیں جو اس کو بچپن سے حفظ تھیں اور وہ آیات جو مسجد کے مولوی صاحب نے اسے رٹوائی تھیں۔ پھر وہ سارے اسمِ الٰہی جنہیں اس نے اسمِ اعظم ڈھونڈنے کے لئے یاد کیا تھا۔ پھر وہ سارے اسمِ محمدۖجو اس نے اس لئے رٹے تھے کیونکہ اللہ کے نام کے ساتھ نبی ۖ کا نام نہ آئے یہ کیسے ممکن تھا۔
    اور یہ سب پڑھتے پڑھتے وہ نیند کی وادی میں اترنے لگی تھی مگر وہ چہرہ اب بھی وہیں تھا، اس کے دل کے آسمان پر چاند بن کے بیٹھا ہوا، پر وہ ناگن؟ وہ ناگن کیوں آگئی تھی اس کے اور اس کے چاند کے بیچ۔
    …٭…
    کھل کے بہتے پانی میں ڈوبے موتیا کے خوب صورت پاؤں کسی جوہری کی دکان کے شیشے میں سجے ہیرے جواہرات جیسے لگ رہے تھے۔
    بتول نے بڑی حسرت سے ان نازک دو دھیا پیروں کو دیکھا جن پر اس کی نظر ہمیشہ ہی اٹک جاتی تھی اور پھر اٹکی ہی رہتی تھی۔
    ”پھر کیا ہوا بتول؟”
    موتیا نے اب ہاتھ سے کھل کا پانی مٹھی میں لے کر بتول پر پھینکا تھا اور جیسے اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ وہ دونوں کنویں پر اس جگہ آکر بیٹھی ہوئی تھیں جہاں گاؤں کی عورتیں کپڑے دھونے آتی تھیں۔ چلتے ہوئے رہٹ کو کھینچتے بیل دو وقت باری باری کنویں سے کھیتوں کے لئے پانی نکالتے تھے اور جب تک وہ رہٹ چلتا رہتا، عورتیں وقفے وقفے سے وہاں آکر کپڑے دھوتی رہتیں۔
    ”کیا ہونا تھا؟” بتول نے بھی جیسے بدلہ لیتے ہوئے پانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں لے کر اس پر اچھالا تھا۔
    ”سنا تو دیا تجھے سب کچھ۔”
    وہ اب اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ بالٹی میں گیلے کپڑے او رپھر وہ ڈنڈا جو کپڑوں پر مار مار کے اس نے کھیس دھوئے تھے۔
    ”بڑا کمینہ ہوا پھر تو سعید۔” موتیا نے جیسے برا مناتے ہوئے بتول سے کہا تھا جس نے کچھ دیر پہلے اسے اپنی اور سعید کے درمیان ہونے والی ملاقات کی کہانی سنائی تھی۔ سعید بتول کے چاچے کا بیٹا تھا۔ وہ کویت میں کام کرتا تھا اور بتول اس پر مرتی تھی پر وہ ڈرپوک تھا اور ڈرپوک مرد سے پیار گلے میںپھانسی کے پھندے کی طرح ہوتا ہے۔
    ”نہیں! وہ کمینہ نہیں ہے، چاچا زیادہ کمینہ ہے۔ وہ بس ڈرپوک ہے۔ ” بتول نے جیسے موتیا کو سعید کا مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
    ”لو تو پھر پیار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”موتیا قائل نہیں ہوئی تھی۔
    ”اس نے تھوڑی پیار کیا تھا۔ وہ تو میرا دماغ خراب ہوا تھا۔ ”
    بتول نے بڑے اطمینان سے اسے بتایا۔ موتیا اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
    ”یعنی بس تو پیار کرتی ہے اتنے سالوں سے وہ نہیں کرتا؟”
    اس نے جیسے مذاق اڑانے والے انداز میں بتول سے کہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لے کر موتیا کو دیکھا۔
    ”جب پہل عورت کی طرف سے ہوئی ہو نا تو پھر ساری عمر یہی سنتی رہتی ہے عورت کہ تجھے ہوا تھا نا پیار میں تو سمجھاتا تھا تجھے، تو بس سعید پیار کرکے بھی اپنا پیار چھپاتا رہتا ہے۔”
    موتیا کے سر کے اوپر سے اس کی باتیں گزری تھیں۔
    ”تو پھر دفع کر سعید کو۔” موتیا نے جیسے کچھ خفا ہوکر کہا، بتول قہقہہ مار کر ہنسی۔
    ”پیار میں دفع کرنا ہی تو مشکل ہوتا ہے۔” وہ اب اپنی قمیص کا گیلا دامن نچوڑ رہی تھی۔
    ”میں کرتی ہوں سعید سے بات اور اسے کہتی ہوں کہ یوں لارے نہ لگائے تجھے۔ آر کر ے یا پار۔ ماں باپ کو نہیں مناسکتا تو۔۔۔”
    بتول نے موتیا کی بات بیچ میں کاٹی۔
    ”تو مجھے چھوڑدے۔ یہ حل مجھے قابلِ قبول نہیں ہے موتیا اور تو یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی۔ تو نے پیار نہیں کیا نا اس لئے۔”
    بتول اب اپنی بالٹی اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی جس میں کپڑے تھے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    ”کاشی…او کاشی…!” ابھی اسے کھیلنے میں مزہ ہی آنے لگا تھا کہ کوثر کی آواز سنائی دی۔
    ”کیا ہے امی؟” اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے منہ اوپر کر کے جواب دیا۔
    ”تیرے ابے کے آنے کا ٹیم ہوگیا ہے۔چل واپس آ۔” اس نے چھت کی ٹوٹی منڈیر سے جھانک کر تاکید کی۔وہ گھر سے چند قدم آگے کچی گلی کے بیچوں بیچ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ بیٹھا کنچے کھیل رہا تھا۔
    ”سنا نہیں! کانوں میں روئی دی ہوئی ہے کیا؟جلدی آ… منہ ہاتھ دھو کے صاف کپڑے پہن لے،ابھی تک اسکولے(سکول) والی وردی میں پھر رہا ہے۔”
    کوثر نے بھی صرف ایک بار آواز دینے پر اکتفا نہ کیا۔ آخر اس کے مسلسل واویلا پہ کاشف جھنجھلا کے اٹھا۔غصے کے اظہار کے طور پر اس نے چپل سے بے نیاز پیروں کو زور سے کیچڑ میں مار کر اور بھی غلیظ کیا۔میلے کف سے بہتی ہوئی ناک کو رگڑ کے صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور لکڑی کے رنگ اُڑے کواڑ کو دھکیل کے اپنے گھر کی تاریک متعفن ڈیوڑھی میں داخل ہوا۔ روشنی سے ایک دم اندھیرے میں آجانے سے کتنی ہی دیر وہ آنکھیں چندھی کیے کھڑا رہا۔
    ”وے کاشی…!”اوپر سے کوثر اب تک اسے آوازیں دے رہی تھی۔
    ”آگیا ہوں۔” وہ ایسے چِلّایا جیسے آکر کوئی بہت بڑا احسان کیاہو۔ اب آنکھیں گھر کی نیم تاریکی سے ذرا مانوس ہورہی تھیں۔صرف چار فٹ لمبی اور ڈیڑھ فٹ چوڑی۔اس لال اینٹوں والے فرش کی ڈیوڑھی میں سے گزر کے جانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔صرف وہی باآسانی گزرسکتے تھے جو اس سے آنے جانے کے عادی ہوں۔ورنہ اور کوئی ہو تو اس کا تو حشر ہی خراب ہوجائے۔اس قدر بدبو سے… دروازے کے بالکل ساتھ جس اونچے سے ڈربے پہ بدرنگ پردہ لٹک رہا تھا،وہ اس گھر کا واحد ”باتھ روم” تھا جہاں باتھ… یعنی غسل کرنے والا صاف تو کیا ہوتا، الٹا ناپاک ہوکر ہی نکلتا۔ذرا سی جگہ میں نلکا،نلکے کے نیچے ٹوٹی ہوئی غلیظ پلاسٹک کی بالٹی اور اس میں تیرتا تانبے کا ٹیڑھا میڑھا ڈبہ… چھت پہ ٹین کی چادر، دیواروں میں جا بہ جا اینٹیں اکھڑی ہوئیں اور ان کو بھرنے کے لیے یا بے پردگی سے بچنے کے لیے پرانے کپڑے گول مول کر کے ٹھونسے گئے تھے جو بدبو چھوڑ رہے تھے۔ ہر طرح کے کیڑے مکوڑے نالی کے راستے یہاں با آسانی پائے جاتے تھے۔ یہاں سے نکلنے والی نالی ڈیوڑھی سے ہوتی ہوئی گلی میں جاتی تھی اور یہی اس جگہ کی بدبو کا راز تھا اور جو رہی سہی کسر تھی وہ یہاں کوڑے کے ڈھیر سے پوری ہوجاتی تھی۔ کوثر گھر گھر صفائی کا کام کرتی تھی، واپسی پہ بچا کھچا کھانالے آتی، گرمیوں کے موسم میں اکثر راستے میں ہی یہ کھانا خراب ہوجاتا جو کھانے کے قابل نکلتا کھالیا جاتا، باقی اسی ڈھیر کی زینت بنتا۔پہلے سے گلے سڑے پھلوں کے مزید گلے ہوئے چھلکے، بوٹیاں، بچی ہوئی ہڈیاں…وغیرہ، وغیرہ…

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    اپنے ماں باپ اور بہنوں کی طرح کاشف بھی اس بدبودار ماحول کا عادی تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باہر سے آنے پہ آج بھی اسے بدبو کا احساس ہوا جو تھوڑی دیر تک تو رہنا ہی تھا رفتہ رفتہ اس کا احساس کم ہوتا جاتا۔ وہ اپنے کچے صحن میں بچھی بان کی چارپائی پہ آبیٹھا۔ اس صحن میں دو ہی چارپائیوں کی گنجائش تھی۔اس صحن میں رکھی بانس کی سیڑھی اوپر جاتی تھی۔ گھر کے واحد کمرے کے اوپر کی جگہ چھت کا کام دیتی جہاں کوثر فارغ وقت میں پائی جاتی، اس وقت بھی وہ سبزی کی ٹوکری اٹھائے نیچے اتررہی تھی۔
    ”کیا پک رہا ہے۔” اس نے چھلکوں کا ڈھیر دیکھ کر پوچھا۔
    ”ٹینڈے… یہ پھلیاں تو ملکانی جی کی ہیں، چھیلنے کے واسطے لائی تھی۔نی کڑیو! تم بھی ذرا ہاتھ ہلا لیا کرو۔ میں باہر کے بھی سیاپے کروں،گھر کے بھی نمٹاؤں۔ یہ ذرا سی رہ گئی ہیں، دونوں مل کے منٹوں میں بنا لو۔”
    ”فیدہ…؟” سب سے بڑی پندرہ سالہ تنک مزاج اور تیکھے نقش والی مروفاں نے اپنے کوکے والی ناک چڑھا کر کہا۔
    ”ایک کلو پھلیاں بنانے میں بیس پچیس منٹ لگتے ہیں اور ایک کلو کی بنوائی یہ مالکن بس دوروپے دیتی ہے۔ کیا فیدہ! دو گھنٹے لگا کے دس روپے بھی نہ ہاتھ لگیں۔ پتا نہیں تو کیا کیا کام پکڑ لاتی ہے، کبھی گھٹڑ ساگ کا، کبھ بھرے چنے نکالنے واسطے۔کبھی لہسن چھیلنے واسطے تو کبھی پھلیاں۔ اتنا شوق ہے ان لوگوں کو مشکل مشکل سبزیاں کھانے کا تو آپ بنا لیا کریں۔بڑا احسان کرتی ہیں کلو کے پیچھے دو روپے دے کے۔”
    ”تیرے لیے دس روپے کوئی چیز نہیں ہوں گے۔گھر بیٹھی ہے نا اوروہ بھی ماں پیو کے گھر۔ میرے سے پوچھ، دس روپے میں آدھا کلو دودھ آجاتا ہے سارے دن کی چائے کے لیے، دس روپے میں پاؤ بھر دال آجاتی ہے۔ایک وقت پکانے کے لئے اور دس روپے میں…”
    ”ہاں ہاں ،بڑا کچھ آجاتا ہے دس روپے میں۔” مروفاں نے ہاتھ ہلا کر کہا اور صحن میں رکھے چولہے کو جلانے لگی۔
    ”دس روپے میں تین کیلے آجاتے ہیں جو آدھے آدھے کاٹ کے ہمارا سارا ٹبر کھاتا ہے۔دس روپے میں ابا کے سگریٹ کی آدھی ڈبی آجاتی ہے جو اس نے سارے دن میں لازمی پھونکنی ہوتی ہے۔ٹھیک ہے بھئی اماں! کما دس روپے۔” وہ زور زور سے سلور کی پرات میں حساب سے نکالا آٹا گوندھنے لگی۔ٹینڈے کا شوربے والا سالن وہ پہلے ہی چڑھا چکی تھی۔بہن کے دل جلے تبصروں پہ ہمیشہ کی طرح کاشف دانت نکال رہا تھا۔
    ”وے بیڑہ غرق… کیسا مٹّی میں رُل کے آرہا ہے۔دفع ہو’ جا کے منہ ہاتھ دھو۔ پیو آنے والا ہے۔” کوثر کا دھیان پھر اس کی جانب گیا۔
    ”ہاں ہاں، ہاتھ منہ دھو۔ ابا آنے والا ہے۔ اس نے آتے ہی تیرا منہ چومنا چاٹنا ہے۔”
    مروفاں نے پھر سے زہر اگلا۔ کاشف کے لب عادتاً پھیلے مگر ساتھ ہی سکڑ بھی گئے۔اس کا چہرہ اترسا گیا اور وہ ڈھیلے قدموں کے ساتھ منہ دھونے چل پڑا۔ اور یہ سچ بھی تھا کہ بالے نے تین بیٹیوں کے بعد منّتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے اکلوتے بیٹے کو کبھی بانہوں میں بھر کر پیار نہ کیا تھا کبھی اس کا ماتھا چوم کے لاڈ نہ کیا تھا۔ جب وہ بہت چھوٹا ہوگا تب شاید کبھی گود میں اٹھا کے پھرا ہو۔ کاشف کو تو ایسا کوئی واقعہ یاد نہ تھا۔ ایسا نہ تھا کہ وہ بیٹے کی جانب سے لاپروا تھا یا کبھی اس کی جانب نظر نہ اٹھا کے دیکھتا تھا۔دیکھتا تھا، گھر آتے ہی دیکھتا تھا مگر کھاجانے والی نظروں سے۔
    پوچھتا تھا مگر مارنے کے بہانے کسی کام کی خاطر۔
    اسی لیے اس کے آنے سے پہلے کوثر اسے نہلا دھلا، صاف کپڑے پہنا کر، گڈا سا بنا کے چارپائی پہ کتابیں دے کر بٹھا دیتی مگر اقبال دین عرف بالے کو کوئی نہ کوئی بہنا مل جاتا اس کی کھنچائی کرنے کا۔
    لال صابن سے رگڑ کے منہ دھونے کے بعد وہ تختی لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔
    ”مانو نے آج فیر تیری گاچی کھائی تھی۔” اس کی تختی دیکھ کے منجھلی والی رانی کو سب سے چھوٹی کی حرکت یاد آئی تو اس نے شکایت لگانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔مانو کو مٹی کھانے کی عادت تھی۔کبھی کبھی وہ کاشف کی تختی پہ پھیرنے والی ”گاچی” بھی ہضم کرجاتی۔
    ”ماں… مانو نے میری گاچی کھائی ہے۔ ابھی پرسوں ہی ڈھیلا لیا تھا۔” وہ چلّایا اور کوثر نے نزدیک رکھی جھاڑو اٹھائی اور دھڑا دھڑ مانو پہ برسانی شروع کردی۔اس نے سن رکھا تھا کہ جسے جھاڑو سے مار پڑے وہ تنکے کی طرح سوکھنا شروع ہوجاتا ہے،اس لیے ہر بار ہی مانو کی پٹائی کرنے کے لیے وہ بڑے اہتمام سے جھاڑو اٹھاتی تھی تاکہ اسی بہانے مٹی، ریت اور گارا کھا کھا کے پلنے والی موٹی کپّا اس کی گیارہ سالہ تیسرے نمبر کی لڑکی کچھ دبلی ہی ہوجائے مگر جس طرح مٹی اور گاچی اسے وٹامن اور کیلشیم کی طرح لگتے تھے،اسی طرح جھاڑو بھی شاید کسی ٹانک کا کام دیتا تھا۔ وہ اور بھی پھولتی جارہی تھی۔البتہ تیرہ سالہ کالی کلوٹی بھینگی آنکھوں والی رانی کے چہرے پہ اطمینان بھری مسکراہٹ کھیلنے لگتی تھی۔اپنی شکایت کے اس بھرپور اور تسلی بخش رد عمل پہ۔
    ”اماں! بتّی جلا دے، اندھیرا ہوگیا ہے۔” کاشف نے اس مار کٹائی کے عمل میں دخل دیا۔گرمیوں میں سات بجے تک اس گھر میں بتی نہیں جلتی تھی۔حالانکہ وہ کمرہ جو اچھی بھلی کوٹھری تھا، وہاں دن کو بھی بغیر بتی جلائے کچھ نظر نہ آتا تھا، اسی لیے یہ واحد کوٹھری کم ہی استعمال میں آتی۔سارا دن اس مختصر سے صحن میں گزرجاتا، جہاں قدرتی روشنی سے تب تک کام چلانے کی کوشش کی جاتی، جب تک رات کے اندھیرے گہرے نہ ہوجائے۔
    ”ابھی مغرب نہیں ہوئی، تیرا پیو آگیا تو میری ماں بہن ایک کردے گا کہ بجلی ضائع کررہی ہوں۔”
    ”تُو ادھر آکے تختی لکھ لے کاشی! ادھر چولہے کے بالن کی بڑی روشنی ہے۔” مروفاں نے اسے اپنے نزدیک بلایا۔
    ”ناں… میں نئیں آتا، ہانڈی پکنے کی بو بڑی زہر لگتی ہے مجھے۔” اس نے ناک پہ ہاتھ رکھا۔
    ”لے… تُو تو دوجے جی سے ہونے والی زنانیوں کی طرح نخرے دکھا رہا ہے۔”
    کوثر نے ٹھٹھا مار کے ایک بے جھجھک مذاق کیا، جس میں اس کے قہقہے کا ساتھ اس کی کم عمر کنواری بیٹیاں بڑی بے باکی سے دے رہی تھیں۔
    منہ پھلا کے بیٹھے کاشف کی نظر یونہی دروازے کی جانب چلی گئی۔ لکڑی کے کواڑ میں بے شمار درزیں اور سوراخ تھے۔جن سے باہر کی روشنی اور دھوپ چھن چھن کے راستہ بناتی باریک لکیروں کی صورت نیم تاریک ڈیوڑھی میں نظر آتی رہتی تھی۔مغرب کا وقت بس ہوا ہی چاہتا تھا، لیکن روشنی کی یہ لکیریں اب تک واضح تھیں۔جیسے ہی کاشف کی نظر دروازے پہ گئی، اچانک اسی وقت یہ لکیریں غائب ہوگئیں۔ جیسے کسی نے ان سوراخوں کا منہ بند کردیا ہو، ساری درزیں بھردی ہوں۔
    ”ابا…!” اس نے پھنکارتی ہوئی سرگوشی کی۔کوثر کے قہقہے، مروفاں کی کھی کھی، رانی کی شوخی اور مانو کی ریں ریں… سب کچھ تھم گیا۔ جیسے کسی نے جادوکی چھڑی گھما کے اس ڈیڑھ مرلے کے نیم کچے مکان کو سوئے ہوئے محل میں تبدیل کردیا ہو۔ اگلے ہی لمحے بالے کے کھنکھارنے کی آواز نے گویا پھر کسی منتر کا کام دیا، سب بُتوں میں جان پڑگئی۔کوثر نے سبزی کی ٹوکری اس چارپائی کے نیچے سرکائی جہاں کاشف اب ہل ہل کر زیرِ لب اپنا سبق دوہرا رہا تھا۔خود وہ اٹھ کے کنڈے کھولنے چلی گئی۔ مروفاں نے پیڑھی پہ پڑا دوپٹہ اٹھا کے سر پہ رکھا اور انگلیوں میں پہنے رنگ برنگے چھلے سرعت سے اتار کے چولہے کے پیچھے چھپائے اور بڑے انہماک کے ساتھ سلور کی پچکی ہوئی دیگچی میں ڈوئی ہلانے لگی۔ مانو اپنا آنسوؤں سے تر اور مٹّی سے لتھڑا چہرہ لے کر اندر چُھپ چکی تھی اور رانی ستّو کا شربت بنانے کے لیے شکر گھولنے لگی تھی۔
    ”یہ ہنسی ٹھٹھول کس خوشی میں ہورہا تھا؟” اس نے آتے ہی اپنی کھوجی آنکھیں ایک ایک کے چہرے پہ گاڑتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • عام سی عورت — مریم جہانگیر

    عام سی عورت — مریم جہانگیر

    شام کا پرندہ روشنی کو قطرہ قطرہ اپنے اندر جذب کر کے دن بھر کی تھکن اتارنا چاہتاتھا۔ اُسے خوابوں کی سر زمین پہ قدم رکھنے کی جلدی تھی۔فلک پہ ہلکی ہلکی سی شفق اپنی بے بسی کا نوحہ پیش کر رہی تھی۔
    مجھے بھی زندگی سے کوئی امید نہ رہی تھی بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ بڑی عام سی لڑکی تھی، میں نے کبھی خواب نہیں پالے۔ نہ کسی کے ملن کی دعائیں مانگیں نہ کسی کے ہجر میں آہیں بھریں۔ مجھ جیسی سینکڑوں لڑکیاں عام سی زندگی جیتی ہیں اور کبھی جیتے جیتے زندگی ہار جاتی ہیں۔ انہیں ڈپریشن جیسے امیرانہ مرض سے کبھی واسطہ نہیں پڑتا۔کبھی وہ راتوں کو چھت پہ بیٹھ کر اپنی کم مائیگی کا رونا نہیں روتیں۔ وہ زندگی کو عام سا سمجھتیں ہیں اور زندگی انہیں عام سا جان کر گزر جاتی ہے۔ جب ان کی موت کا سندیسہ آتا ہے تو اَن گنت بے چین رشتے بال کھول کر بین کرنے لگتے ہیں۔ بہت سے تعلقات اور دوستیاں تکیوں کو گیلا کر دیتی ہیں۔
    زندگی میں پتا نہیں کہ عورت کا ہونا معنی بھی رکھتا ہے یا نہیں لیکن موت بتاتی ہے کہ نجانے کتنی زند گیا ں، کتنے وجود یہ عورتیں اپنے سر پہ لئے پھر تی ہیں ۔ایک ان کے نہ ہونے سے نظامِ زندگی شکایت کرتا ہے اور باقاعدگی ماتم کرنے لگ جاتی ہے۔ مجھے ایسا ہی بننے کا شوق تھا ایک عام سی لڑکی۔۔ ایک عام سی عورت۔۔۔۔ میں نے کسی بجتی سیٹی کو سن کر نہیں سوچا کہ یہ میرے لہراتے آنچل کا نتیجہ ہے۔میں نے کبھی کسی قطار میں لگ کر بے چینی کا مظاہرہ نہیں کیا کہ کسی بھی غلط درست راستے کو اپنا کر پہلے اپنا کام نکلوا لوں۔ مجھ میں قدرتی طور پہ بہت سرد مزاجی تھی، بہت چین بہت سکون۔۔۔۔۔۔ نہ نمازوں میںلمبے لمبے سجدے کرتی اور نہ ہی منڈیر پہ بولتے کوئے کی کائیں کائیں سے کسی کے آنے کو منسوب کرتی۔۔۔ لیکن ایک لڑکی ہوں ناں ؟ کب تک اکیلی رہتی میری زندگی میں کسی کو آنا ہی تھا اور وہ آیا۔۔۔ اس کا نام فواد مرزا تھا اور میرا نام سمیعہ ناز۔۔۔۔۔ میں نے اس کو دیکھا نہ جاننے کی خواہش ظاہر کی ۔سچ تو یہ ہے کہ میرے اندر اُسے دیکھنے کی خواہش بھی نہ پیدا ہوئی تھی۔
    مجھے تلاطم سے خوف آتا ہے، مجھے ہیجان انگیز رویے پریشان کرتے ہیں۔ میں شدتوں سے بھاگنے والی بڑی عام سی ڈگر کو چننے والی اور اس پہ نپے تلے سے قدم رکھنے والی لڑکی ہوں۔ میرے اندر کبھی ایسا طوفان اٹھا ہی نہیں کہ مجھے اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا۔فواد میری زندگی میں آئے تو کچھ دنوں کے لئے مجھے لگا کہ میری ذات اور ساری راز کی باتیں بودی ثابت ہوں گی جس طرح وہ میرے ہر رمز پہ ہاتھ رکھ کر مجھ سے انوکھے رویوں اور طریقوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ ضرور میرے اندر کوئی جوار بھاٹا اٹھا ہی دیں گے لیکن یہ سارا خیال، یہ سب قیاس وقتی ثابت ہوا۔وہ مجھے روح پرور لگتے، میرے جنم جنم کے ساتھی ۔۔۔۔ میرے اندھیروں کے دوست ۔۔۔میرے لئے روشنی کا منبع ۔۔۔اس سب کے باوجود میں ان کے لئے دیوانی نہیں ہوئی۔ بہ ظاہر سب کچھ وار دیتی لیکن کہیں اندر ہی اندر یہ احساس کروٹیں لیتا کہ یہ جو ظاہر کر رہی ہوں یہ کچھ بھی نہیں اس سے کہیں زیادہ جولانی میرے اندر ہے۔ لیکن میں بس اتنا ہی اپنا آپ ظاہر کرتی جتنی مجھے ضرورت ہوتی، جتنا اشد ضروری ہوتا اس سے آگے لفظ ہونٹوں کا ساتھ چھوڑ دیتے اور آنکھیں مفہوم سمجھنے سے انکاری ہو جاتی۔پھر یوں ہوا کہ مجھے امید مل گئی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    میرے دل کو پر لگ گئے اور وہ ہر وقت سات آسمانوں کے چکر کاٹتا۔ میں اتنی خوش تھی کہ ہر کوئی حیرت سے مجھے دیکھتا۔ فواد بھی کہتے کہ تمہیں دلہناپے میں اتنا روپ نہیں آیا تھا جتنا حسن تمہیں ماں بننے کی خوشی نے بنا دیا ہے۔میں خود تسلیم کرتی کہ میرے قدم تو زمین پر لگتے ہی نہ تھے، میں اڑی اڑی پھرتی، ہوا کی دوش پہ خود کو آزاد چھوڑ دیتی۔ مجھے لگتا ہر لمحہ مجھے جھومنے پر مجبور کر رہا ہے اور میں روئے ارض پہ سب سے خوش نصیب عورت ہو جس نے اعتدال میں رہ کر اللہ کی نعمتوں کو خود پہ مہربان کر لیا ہے۔
    جھولتی مہکتی رہی اور مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میرا پاؤں سیڑھی سے پھسلا اور کب میرے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی۔ میری مدہوشی ہوش میں بدلی تو اپنا آپ اتنا گناہ گار محسوس ہوا کہ آئینہ دیکھنے سے بھی شرمندگی محسوس ہوتی۔رائی کے دانے برابر تکبر بھی جہنم میں لے جائے گا۔ کہیں یہ اعتدال میں رہنے کا غرور مجھے اس جہان میں تہی دامن نہ کر دے۔میرا دل شکنجے میں آگیا۔ میں جب ہسپتال میں داخل ہوئی تو ڈاکٹر نے زندگی کی نوید سنائی۔۔۔۔
    میری جان کا حصہ، میری جان مجھ میں زندہ تھا۔ باقی تھا میں پھر سے جی اٹھی۔مجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ توبہ سے کہیں پہلے احساسِ ندامت کی کیفیت بھی رب کی رحمتوں کی نشانی میں سے ایک ہے۔
    مجھے احتیاط کی ضرورت تھی۔ فواد نے مجھ پہ زندگی اور موت کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ان کی سرکاری اعلیٰ عہدے کی نوکری کی مہربانی سے مجھے سرکاری ہسپتال میں تمام آسائشات کے ساتھ داخل کر لیا گیا کہ جب تک میں زندگی کو موت کے منہ سے کھینچ نہیں لاتی یہیں میری دیکھ بھال ہوگی۔
    میں خوش ہوگئی کہ گھر میں کوئی اور تھا نہیں جو مجھے صحیح غلط یا احتیاط اور پرہیز سمجھاتا۔ مجھے ہسپتال کا ہر کارندہ نجاتِ دہندہ لگتا، ہر ذی روح پہ مسیحا کا گمان ہوتا۔سب اچھے لوگوں سے واسطہ پڑا۔بڑے دروازے پہ کھڑا وہ بوڑھا سا بابا، جب فواد پھول لے کر آتے تو مسکرا کر انہیں دیکھتا پھر نظر اوپر کی کھڑکی پہ ڈالتا اور ایک پیاری سی مسکراہٹ سے مجھے بھی نوازتا۔
    شاید وہ بھی کبھی ۔۔۔۔کسی کو ایسے ہی گلاب دیتا رہا ہوگا، جس کی یاد اسے مسکرانے پہ مجبور کردیتی۔ کوڑے دان کو خالی کرنے کے لئے آتی بزرگ خاتون جو بہت پیار سے مجھے دلاسہ دیتی، اپنے ہونے کا احساس دلاتی جواباً میں بھی اس کی مٹھی گرم کردیتی۔ مجھے بھی تو اپنے ہونے کا احساس دلانا تھا۔
    نرس آتی، انجکشن لگاتی، میرا معائنہ کرتی، میری آنکھوں میں سو ڈر اور ہزار وسوسے جاگ جاتے۔ میرے لرزاں لب اپنی پریشان حالی کا رونا رونے کو مچلنے لگتے۔وہ سفید کوٹ والی، زندگی آسان کرنے والی میرے دائیں ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلاتی اور تھپکتی کیوںکہ بائیں ہاتھ میں لگا کینولا اسے اس شفقت کی اجازت نہ دیتا۔ایک کرخت آواز والی مائی بھی کمرے اور راہ داری کی صفائی کرتی اور بڑبڑاتی رہتی ”غلاظتیں پھیلانے والے غلاظتیں سمیٹنے والوں کو جوتی کی نوک پہ کیوں رکھتے ہیں؟ اتنے ہی ستھرے ہیں تو اپنا گند خود کیوں نہیں اٹھاتے۔ اُجلے لباس پہن کر اپنے اندر کی کالک چھپانے والے ہماری محنت کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے۔” سب اس کی باتیں خاموشی سے سنتے وہ بولنے والوں کو موقع دینے والوں میں سے نہیں تھی۔ نرم خو قدرے پکی عمر کی ڈاکٹر بھی میرے کمرے میں آتی۔انتہائی پیشہ ورانہ مسکراہٹ نچھاور کرتی فٹا فٹ روزمرہ کا معائنہ کرتی آدھا جملہ اردو میں بولتی اور بقایا آدھے میں اپنی انگریزی کے ٹوٹے جوڑتی جیسے رلّی (سندھی چادر) بناتے ہیں جس میں ہزار ٹکڑے جڑتے ہیں لیکن پھر بھی نظر کو برے نہیں لگتے۔
    ایسے ہی اس کی آواز بھی کانوں کو مانوس سی لگتی۔شائستہ سی، نپی تلی،ٹھہری ٹھہری۔۔۔۔۔ پھر وہ ہوا کی دوش سے قدم ملاتی اگلے کمرے کی جانب بڑھ جاتی جہاں بسترِ مرض پہ پڑی کوئی عورت شدت سے منتظر ہوتی۔
    دن قریب آگئے مجھے متلی کی شکایت رہنے لگی حالاںکہ شروع میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ ہر عورت کا ماں بننے کا تجربہ دوسری عورت سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ دنیا سے نرالا کام کرنے جا رہی ہے۔
    اس انتظار میں کتنا لطف ہے؟ مجھے ہر لمحہ محسوس ہوتا کہ اب بس میرا لمس، میرے ہی لمس سے آشنا ہوجائے گا۔ فواد آتے تو مجھے کمرے سے باہر راہ داری میں ہاتھ پکڑ کر واک کرواتے۔ گردوپیش کی عورتیں حسرت سے دیکھتیں اور میں ناز سے بوجھ ان کے مضبوط ہاتھوں پہ ڈال دیتی ۔ وہ فخر سے مجھے سنبھال رہے ہوتے۔ ایک دن جونہی کمرے سے باہر نکلے، صفائی والی مائی ہاتھ روک کر میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی: ”نی کڑئیے تجھے آرام نہیں؟ اتھوں میں صفائی کیتی نال ہی تیرا دل کھٹا ہوگیا۔ ہون گندے پیر ایتھے اُوتھے مارے گی تے میرا کام ودائے گی۔”اس کی آواز میں عجب کرختگی تھی اس نے اپنی بات مجھ تک پہنچانے کے لئے گلابی پنجابی کا سہارا لیا۔
    یہی بات وہ پیار سے کہتی تو میں کچھ دیر بعد چہل قدمی کر لیتی۔چوںکہ اس نے بات غلط طریقے سے کی تھی اس لئے ردِ عمل بھی مجھ پہ واجب تھا۔ فواد کسی دوسری عورت کی طرف کم ہی متوجہ ہوتے چاہے وہ کیسی بھی ہو۔ان کے رویے سے متعلق شکایت ان کے ساتھ کام کرنے والی لڑکیاں بھی ذومعنی انداز میں مجھ سے کرتیں۔ لیکن میں کان نہ دھرتی۔ کوئی دوسرے معنی نہ ڈھونڈتی بس ہنس کر ٹال دیتی۔مجھے واک کرانے اور باقی سارے کام کرنے کے بعد رات میں فواد کو گھر جانا تھا اور مجھے وہ لذت آمیز خواب دیکھنا تھا۔
    میں نے خواب دیکھا کہ میں جھیل کے کنارے بیٹھی ہوں، جس کے ہلکورے لیتے پانی کی ٹھنڈک دور سے ہی محسوس ہو رہی ہے۔ اس کے صاف پانی پر ہتھیلی برابر بڑے بڑے سرخ گلاب تیررہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ میری نظر میری ہی گود پہ واپس آتی ہے تو ایک انتہائی پیارا بچہ میری گود میں ہے جس کی پیشانی کے بائیں جانب میری انگلی کے پپوٹے کے برابر سیاہ رنگ کا داغ ہے۔ میرا دل مامتا کے جذبات سے لبریز ہو کر اس کی پیشانی پہ بوسہ دینے کی خواہش کرتا ہے۔ میں جب اسے چومتی ہوں تو اس کے وجود سے مجھے میری اپنی خوشبو آتی ہے۔میں اُسے خود میں بھینچ لیتی ہوں مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے۔ اتنے میں فواد آتے ہیں اور مجھے شال اوڑھاتے ہیں۔ اسی اثنا میں میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو صبح کا وقت تھا اور فواد واقعی مجھے کمبل اوڑھا رہے تھے میں مسکرائی۔ انہیں خواب میں شریک کیا وہ بھی مسکرانے لگے۔ نماز پڑھی مجھے ناشتہ دے کر وہ دفتر کے لئے نکل گئے۔ دس بجے نرس آئی اور مجھے تھپک کر ایک انجکشن لگا کر چلی گئی۔
    کوئی گیارہ بجے کا وقت تھا درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔۔۔ ہائے میں مر گئی۔۔۔اللہ جی۔۔۔۔ مجھے واقعی اللہ یاد آگیا تھا۔آہ! اُف۔۔۔۔ میرا پورا جسم پسینے میں نہا گیا۔ بہ مشکل کال بیل پہ ہاتھ رکھا اور دہری ہوگئی۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔۔ وہ اللہ کتنا عظیم خالق ہے، اتنی مخلوق کی تخلیق کرتا ہے اور صرف کن کہتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔۔۔ ہم عورتیں صرف اپنی اولاد کوجنم دیتی اور اتنا درد سہتی ہیں۔مجھے کوئی بھی تکلیف ہوتی تو میں سوچتی تھی کہ اس سے زیادہ درد بھی تو ہوسکتا ہے لیکن آج درد کی جو ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں اس سے زیادہ تو اُٹھ ہی نہیں سکتیں۔ مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہیں۔پھرمیں نے ایک آخری سانس بھری۔ یہ دراصل سانس نہیں تھی بلکہ ایسی چٹکی تھی جو انسان جاگتے ہوئے یقین دہانی کے لئے لیتا ہے کہ آیا میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟
    اس آخری سانس کے ساتھ ہی کمرے میں نومولود کے رونے کی آواز گونجی میرا بچہ۔۔۔میرا بیٹا ۔۔۔میں نے پسینے سے تر بتر چہرہ اٹھا کر ایک نظر بچے پہ ڈالی اور بے سدھ ہو گئی۔ ہوش میں آنے سے پہلے مجھے امید تھی کہ جب میں آنکھیں کھولوں گی تو فواد مجھ پرجھکے ہوں گے اور میرا بیٹا میرے پہلو میں لیٹا ہو گا۔ لاشعور سے شعور میں قدم رکھتے ہوئے میں نے اطمینان سے آنکھیں کھولی اور جو امید میں نے زندگی سے لگائی تھی وہ پہلی بار ہی ٹوٹ گئی۔ فواد سامنے دیوار سے لگے کھڑے تھے ان کے چہرے پہ ازحد پریشانی رقم تھی۔ میں چونکی۔۔۔ اگر بیٹی ہوتی تب بھی فواد ایسا چہرہ بنانے والوں میں سے نہیں یہ توپھر بیٹے کی پیدائش کا موقع ہے۔ پھر ان کی حالت ایسی کیوں ؟ ابھی میں ان کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ میری ڈاکٹر آگے بڑھی ”آپ کا بچہ اب اس دنیا میں نہیں ہے” فواد اسے روکنا چاہتے تھے لیکن اس کے بتانے پر وہیں فرش پر بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ پھر اندھیرا چھا گیا ۔میں ہوش میں آئی تو چلا رہی تھی اور فواد مجھے سنبھالتے سنبھالتے بے حال ہورہے تھے ”میرا بیٹا نہیں مرسکتا۔ میں نے خواب دیکھا ہے میرے خواب سچے ہوتے ہیں میرا بیٹا نہیں مر سکتا میرا بیٹا زندہ ہے۔ اسے بھوک لگی ہے اسے میرے پاس لاؤ۔ میں کہہ رہی ہوں میرا بیٹا زندہ ہے۔”میں چیخ رہی تھی میرا حلق خشک ہو گیا تھا فواد میرے سر پہ ہاتھ رکھے مجھے سینے سے لگائے سن سے کھڑے تھے۔میرے اندر کی سیدھی سادی عورت مر گئی تھی اور ایسی وحشی عورت جاگ گئی تھی جو ایک پل میں سارا جہان خاکستر کر سکتی تھی۔”میرا بیٹا زندہ ہے مجھے دکھاؤ کہاں ہے میرا بیٹا؟” فواد نے میرے اصرار پہ نرس کو اشارہ کیا۔۔۔ وہ کمبل میں لپٹا چھوٹا سا وجود لے آئی میرے قریب آئی تو میں نے بائیں ہاتھ سے فواد کا بازو سختی سے تھاما اور دائیں ہاتھ سے بچے کے منہ سے کمبل ہٹایا۔”شکر الحمدللہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے” میں نے اطمینان سے کہا۔سامنے کھڑی نرس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔فواد نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے انہیں میری ذہنی حالت پہ شبہ ہو لیکن میں مطمئن تھی بالکل مطمئن۔ کسی میدانی علاقے کی ہوا کی طرح۔۔۔۔۔
    ”میرا بیٹا زندہ ہے۔” میں پھر بولی۔فواد نے میرا سر تھپکتے ہوئے مجھے دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ بستر سے اُتر کر میں سیدھی سادی نہیں رہی تھی بالکل بھی نہیں۔ کسی عام سی عورت کی طرح میں اپنا بیٹا اتنی آسانی سے ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی۔ فواد ہکا بکا کھڑے میری شکل دیکھ رہے تھے۔ڈاکٹر کے کمرے میں جا کر اس کا گلا دبوچ لیا ”بول کہاں ہے میرا بیٹا؟ بتا کہاں ہے میرا بیٹا ؟ میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا اس کی پیشانی کے بائیں جانب سیاہ نشان تھا اس بچے کا نہیں ہے یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔بتا۔میرا بیٹا کدھر گیا؟ ”میرے ہاتھ کا گھیرا اس کی گردن کے گرد تنگ ہورہا تھا۔ میں چلانے لگی۔ فواد مجھے اس سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میری بات سُن کر پریشان تھے۔ میں نے انہیں بھی اپنا خواب سُنایا تھا۔ اتنے میں نرس آگے آئی، وہ تو میری ساتھی تھی مجھے تھپکتی تھی، مجھے لگا میرا ساتھ دے گی۔لیکن اس نے کمال جھٹکے سے مجھے ڈاکٹر سے الگ کیا اور بستر پر دھکا دیا۔ڈاکٹر اپنی گردن مسلتی باہر چلی گئی۔ ”ماں۔۔۔۔۔” میں رو رہی تھی، واقعی ماں بننے کے بعد سب سے زیادہ یاد ماں کی ہی آتی ہے۔فواد نے مجھ سے تسلی سے ساری بات پوچھی اور غضب ناک ہو کر تین چار جگہ فون کئے۔ ہسپتال میں صحیح معنوں میں افراتفری مچ گئی۔انہوں نے ہمیں عام سا سمجھ لیا تھا! میرا بیٹا چھیننے چلے تھے!!
    میں اور فواد کمرے سے باہر نکلے اور ہسپتال کا ہر کمرہ چھان مارا۔ لیبر روم سے لے کر واش روم تک اور کینٹین سے لے کر دل کے مریضوں کی وارڈ تک۔ میں زخمی شیرنی کی طرح دھاڑتی پھر رہی تھی۔ ہر کمبل کے پاس جا کر بڑی امید سے کمبل ہٹاتی اور پھر رونے لگ جاتی لیکن اگلے کمرے تک جاتے جاتے تازہ دم ہوجاتی۔ پورے ہسپتال میں میرے متعلق چہ مہ گوئیاں ہورہی تھی۔اولاد انسان سے وہ کچھ کرواتی ہے جس کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کسی نے مجھے نہیں روکا۔میرا بیٹا کہیں نہیں تھا، کسی بھی جگہ پر موجود نہیں تھا۔ہم واپس کمرے میں آگئے اب پولیس کا انتظار تھا جسے اپنے وقت پر ہی آنا تھا۔دروازہ دھڑاک سے کھلا میں نے دیکھا تو صفائی والی مائی تھی ”،نی کڑئیے۔۔۔ ” آج اگر یہ مجھے کچھ کہتی تو میں اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتی۔ وہ میرے پاس آئی اور بند مٹھی پھیلا دی اس میں ایک چُرمرایا ہوا کاغذ تھا۔ ہاتھوں سے وہ کاغذ کانپتے کھولا تو ایک گاڑی کا نمبر لکھا تھا۔ آئی ۔ایس۔بی۔ سات ہزار پانچ سو اسی۔۔۔

    ٭٭٭٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۱

    دانہ پانی — قسط نمبر ۱

    انتساب

    دانہ پانی کے نام
    جس کی تلاش کچھ کو پارس کرتی ہے کچھ کو پتھر

    =====================================

    پیش لفظ

    کبھی کبھی کہانی کاغذ پر شہد کی طرح بہتی ہے۔ ایک تار بناتے ہوئے، پھیل کر سمٹتے ہوئے، سمٹ کر پھیلتے ہوئے۔اپنی مٹھاس سے دل کو شکر کردیتی ہے۔
    دانہ پانی بھی کچھ ایسے ہی لمحوں میں لکھی ہوئی کہانی ہے، جب حرف کاغذ پر اُتر کر پہلے لفظ،پھر کہانی بُننے لگتے ہیں۔ کچھ کہانیاں دماغ کو کھپادیتی ہیں، کچھ دل کو چرخہ بنادیتی ہیں۔ تار تار کاتتے کاتتے ایک ایسا جہاں ایسے کرداروں کے ساتھ آکر آباد ہوجاتا ہے جوکبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ دانہ پانی بھی ایسے ہی جہاں کے ایسے ہی کرداروں کی کہانی ہے۔
    تکبّر سے دیا گیا دانہ اور عاجزی سے پلائے ہوئے پانی کے بیچ کوئی رشتہ کیسے جُڑ سکتاہے؟ جُڑ بھی جائے تو توڑ نہیں چڑھتا، توڑ چڑ ھ بھی جائے تو ہوک اور آہ میں ختم ہوجاتا ہے۔ قصّہ کہانی بن جاتا ہے… دانہ پانی بھی قصّہ کہانی بن گئے اور میں داستان گو۔
    تو چلیں آج سناتی ہوں کہانی دانے کی، جس کو تکبّر تھا کہ وہ لوگوں کی بھوک مٹاتا ہے، وہ نہ ملتا تو دُنیا مرجاتی… اور پانی کی جو کہتا ہے وہ نہ ہوتا تو دانہ سوکھا ہی بنجر مرجاتا، نہ اُگتا، نہ لہلہاتا، نہ کسی کے گھر کا گیہوںبنتا۔
    دانہ جھگڑالو تھا، خوب باتیں سُناتا، خوب لڑتا، طنز، طعنے، تہمت سب کہہ دیتا۔ ہر دوسرے کی بات پر پھٹ پڑتا۔
    پانی صلح جُو تھا۔ سب سُن لیتا۔ گہرا تھا، سب پی جاتا۔
    پر ایک دن پانی کو غصّہ آگیا تھا دانے کے تکبّر پر… بس ایک دن ہی غصّہ آیا تھا اور ایسا غصّہ کہ سب قصّہ کہانی بن گئے… دانہ بھی اور پانی بھی…موتیا بھی اور مراد بھی۔
    عمیرہ احمد

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

    الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

    جانِ جہاں!
    یہ خط تمہیں حسنِ جہاں نہیں لکھ رہی۔ قلبِ مومن کی ماں لکھ رہی ہے۔ آج میں نے قلبِ مومن کے وہ خط پڑھے جو اُس نے اللہ کے نام لکھے ہیں۔۔۔ تمہیں یاد ہے وہ لیٹر باکس جو میں نے اُسے بنا کر دیا تھا۔ وہ اُسے جنگل میں رکھ آیا ہے اور اُس میں روز خط ڈالتا ہے۔ جو خط آج میں نے پڑھا ہے۔ وہ اُس کا 30 واں خط ہے۔ اُس نے اللہ سے تمہیں واپس بھیجنے کا کہا ہے۔
    تمہارے اور میرے جھگڑے میں قلبِ مومن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ بوجھ جو تمہارے جانے کے بعد میرے سینے پر آپڑا تھا۔ وہ یہ خط پڑھ کر اور بڑھ گیا ہے۔
    میں تمہاری مجرم ہوں طہٰ اور میں تمہارے بیٹے کی بھی مجرم ہوں۔ مجھے وہ تصویریں نہیں بیچنی چاہیے تھیں اور بیچتی تو بھی تم سے پوچھ کر ۔
    تم اُس دن سفید گلاب لائے تھے میرے لیے اور قلبِ مومن کے لیے بہت ساری چیزیں تمہارے جانے کے بعد پتہ چلا تھا مجھے، اور یہ بھی یقین ہے تم کو کام مل گیا ہوگا۔ بہت پچھتائی تھی میں تمہارے جانے کے بعد۔ سوچا تھا تمہارے پیچھے عبدالعلی صاحب کے گھر جاؤں اور تمہیں منالوں۔
    میں جانتی تھی مجھے چھوڑ کر واپس اُن ہی کے پاس گئے ہوگے لیکن پھر تمہارے لفظ میرے پیروں کی زنجیر بن گئے۔ اُن کی بازگشت ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔
    میں نے سوچا مجھے تمہارے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔ اگر میں تمہارے اور اللہ کے درمیان آئی ہوں تو مجھے نہیں آنا چاہیے۔ اگر میری وجہ سے تم خطاطی کرنے کے قابل نہیں رہے تو مجھے تمہارے ہاتھوں کی یہ بیڑی اُتار دینی چاہیے۔
    پر آج قلبِ مومن کے اس لیٹر باکس نے میری انا کے ہر بُت کو توڑ دیا۔ میں اپنے لیے خود غرض ہوسکتی ہوں بیٹے کے لیے نہیں ۔
    یہ خط مومن کے خطوں کے ساتھ عبدالعلی صاحب کے پتے پر بھیج رہی ہوں۔ جانتی ہوں تم وہاں ہو تو تمہیں مل جائیں گے اور جب تمہیں مل جائیں اور تم اُنہیں پڑھو تو آجانا تمہارا بیٹا تم سے بہت پیار کرتا ہے۔ مجھ سے کہیں زیادہ۔۔۔ تمہارے لیے وہ اللہ کو خط لکھنے بیٹھ گیا۔ مجھے یقین ہے میرے لیے وہ کبھی اللہ کو خط نہیں لکھے گا۔ اُسے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔ مجھے بھی اور کیا کہوں تم سے طہٰ۔۔۔
    بس اس بار بھی آنا تو سفید گلاب لے کر آنا۔
    تمہاری حسنِ جہاں
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    مومنہ سلطان سے اتنا قریبی رشتہ نکل آئے گا یہ کبھی قلبِ مومن نے سوچا بھی نہیں تھا مگر یہ اب وہ سوچنا چاہتا بھی نہیں تھا۔ صرف وہی نہیں تھا جس نے سلطان کو پہچان لیا تھا۔ سلطان بھی اُسے اُن ہی نظروں سے دیکھ رہا تھا جن میں شناخت تھی۔
    ”ارے مجھے تو تعارف ہی نہیں کروانا پڑا تم دونوں کا۔۔۔ تم دونوں نے پہلے ہی ایک دوسرے کو پہچان لیا ہے شاید۔” ثریا بالکل اُسی وقت ہیڈ فون لئے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی اور قلبِ مومن اور سلطان کو کھڑے دیکھ کر اُس نے جیسے خود ہی سوچ لیا تھا کہ وہ متعارف ہوچکے تھے۔
    ”آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں۔” سلطان لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا تھا اور اُس نے بے حد نروس انداز میں قلب،مومن سے کہا تھا۔ قلبِ مومن نے گردن موڑ کر مومنہ کو دیکھا تھا۔ وہ خاموش کھڑی تھی۔ اُس کے چہرے پر کوئی ندامت ، کوئی شرمندگی نہیں تھی جو وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس کی غلطی بے شک نہیں تھی ۔ سلطان کا جرم تو تھا۔ قلبِ مومن کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے چیخے چلائے بھاگ جائے یا سلطان کا گریبان پکڑلے۔
    ”ثریا یہ حسنِ جہاں کے بیٹے ہیں ۔۔۔ قلبِ مومن۔” سلطان ثریا کو اُس سے متعارف کروا رہا تھا اور ثریا کے ہاتھ سے ہیڈ فون گر پڑا تھا۔
    ”ہماری حسنِ جہاں کے۔۔۔؟” اُس نے عجیب بے یقینی سے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔ پھر لپک کر مومن کے پاس آئی اور اُس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
    ”وہ آنکھیں، وہی ناک ۔۔۔ وہی پیشانی ۔۔۔ میں کیوں نہیں پہچانی۔۔۔ رہ گئی ثریا۔۔۔بس رہ گئی ثریا۔”وہ قلبِ مومن کا چہرہ دیکھتے ہوئے بے اختیار ہوئی پھر اپنے آپ کو کوسنے لگی۔
    مومن پلٹ کر کچھ بھی کہے بغیر صوفہ پر بیٹھ گیا تھا۔ یہ closureکا وقت تھا یا شاید show downکا۔
    سلطان بھی آگے بڑھ کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ ثریا رُکے بغیر چائے لینے بھاگی تھی یوں جیسے پہلی بار اُسے احساس ہوا تھا اُس کے گھر پر کوئی بہت اہم مہمان آگیا تھا۔
    ”مومنہ نے بتایا تھا مجھے۔۔۔تمہاری کہانی میں میرے کردار کے بارے میں۔” سلطان نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بات کرنا شروع کی تھی۔
    ”میں تمہاری کہانی کا ولن نہیں ہوں مومن۔ حسنِ جہاں اور طہٰ میری وجہ سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے۔” مومن نے بے حد خفگی سے اُس کی بات کاٹی تھی۔
    ”مجھے اُن چیزوں کے بارے میں جھوٹی وضاحتیں نہ دیں جو میں جانتا ہوں۔”
    ”کیا جانتے ہو تم؟” سلطان بھی برہم ہوا تھا۔
    ”میراباپ تم سے نفرت کرتا تھا۔” مومن نے آپ سے تم کا فاصلہ پل بھر میں طے کرلیا تھا۔ سلطان اُس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”میں بھی نفرت کرتا ہوں تمہارے باپ سے اور تم سے بھی۔۔۔ تو کیا ہوا۔۔۔؟ کیا یہ مجھے مجرم بناتاہے؟” سلطان نے جواباً اُتنے ہی کاٹ دار انداز میں کہا تھا۔
    ”میری بیٹی اُس فلم آڈیشن کے بعد تم سے نفرت کرتی تھی کیا یہ تمہیں مجرم اور گناہ گار بناتا ہے؟” مومن کو اُس کے جملے اب تپانے لگے تھے۔ وہ صرف حسنِ جہاں اور طہٰ کی بات کرتا وہ اُس کی اور مومنہ کی بات کیوں کرنے لگا تھا۔
    ”تمہیں اپنے گھر پر حسنِ جہاں کے ساتھ دیکھا تھا میں نے اور اُس کے بعد ہمارے گھر میں تباہی آئی تھی۔ تم پھر بھی چاہتے ہو میں تمہارا جھوٹ سن کر تمہیں ولن نہ سمجھوں۔” مومن نے بے حد تندوتیز لہجے میں اُس سے کہا تھا۔ وہ چند لمحوں کے لئے جیسے یہ بھول گیا تھا کہ وہ کہاں بیٹھا تھا اور کیا کرنے آیا تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہاتھا اُس کا اُس کی فلم پر کیا اثر پڑسکتا تھا۔
    ”تم کیا جانتے ہو مومن۔۔۔ تم کچھ بھی نہیں جانتے۔۔۔ یہ میں نہیں تھا جس کی وجہ سے حسنِ جہاں اور طہٰ الگ ہوئے تھے۔۔۔ یہ تم تھے جو اُس گھر کی تباہی کی وجہ بنا۔”
    سلطان نے دو بدو اُس سے کہا تھا اور مومنہ نے باپ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”ابا۔” سلطان نے اُسے بولنے نہیں دیا تھا۔
    ”بتانے دو مجھے مومنہ۔۔۔ یہ اب بچہ نہیں ہے اور نہ ہی میں حسنِ جہاں کہ ہر چیز اس لئے اس سے چھپاتا رہوں کہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔”
    ”میرے ماں باپ مجھ سے شدید محبت کرتے تھے۔ میرے لئے کیوں علیحدہ ہوتے وہ۔۔۔ یہ تم تھے سلطان۔۔۔ تمہارے خط اور تمہارا میری ماں کے ساتھ افیئر جو۔۔۔”
    سلطان نے بے حد طیش کے عالم میں اُس سے کہا تھا۔
    ”ایک بھی لفظ اور مت کہنا میرے اور اپنی ماں کے بارے میں۔۔۔ میرا اور اُس کا رشتہ تم جیسوں کو سمجھ میں نہیں آسکتا۔ تمہارے باپ کو میرے اور اُس کے رشتے پر شک نہیں تھا۔ خطوں پر اعتراض تھا حسنِ جہاں کے کردار پر شک وہ نہیں کرتا تھا تم کررہے ہو۔
    خوف تھا اُس کو تو یہ تھا کہ میں خط لکھتا رہوں گا تو وہ کبھی نہ کبھی سب کچھ چھوڑ کر واپس پاکستان چلی جائے گی دوبارہ شوبز کی دنیا میں۔ خوف اُسے یہ نہیں تھا کہ وہ میرے ساتھ بھاگ جائے گی۔” مومن یک دم بے حد غضب ناک اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اُنگلی اُٹھا کر اُس نے سلطان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے کہانیاں مت سناؤ اپنی اور حسنِ جہاں کی عظمت کی۔۔۔ کیوں آئے تھے تم ہمارے گھر۔۔۔ کیوں۔۔۔؟”
    ”تم اللہ کو خط لکھ لکھ کر چیزیں مانگا کرتے تھے نا۔۔۔ تمہاری ماں سے برداشت نہیں ہوا وہ۔ مجھے بلوایا تھا اُس نے کہ میں تمہارے باپ کی بنائی ہوئی اُس کی تصویریں یہاں پاکستان لاکر بیچ دوں اور پیسے اُسے بھیج دوں کیونکہ ترکی میں اُن تصویروں کو کوئی نہیں خریدتا اور طہٰ سے وہ سب کچھ چھپانا چاہتی تھی۔ وہ بے روزگار تھا اُن دنوں مگر اُسے کبھی وہ تصویریں بیچنے نہ دیتا۔۔۔ تمہارے لئے اُس نے طہٰ کی محبت کے شاہکار بیچے تھے ۔۔۔ کیونکہ ماں تھی وہ تمہاری۔۔۔بھول گئی تھی کہ محبوب اور شوہر کیا کرسکتا ہے اُس کے ساتھ۔”
    سلطان بولتا چلا گیا تھا۔ قلبِ مومن ہونٹ بھینچے صرف سن رہا تھا۔ وہ اُ س میں سے کسی بھی بات کا یقین نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی کررہا تھا۔ وہ آگے بڑھا تھا۔ اُس نے سلطان کا گریبان پکڑا تھا۔ مومنہ لپکتی ہوئی آئی تھی اور اُس نے سلطان کا گریبان اُ س کے ہاتھوں سے چھڑانے کی کوشش کی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۱۱

    الف — قسط نمبر ۱۱

    پیارے بابا جان
    السلام و علیکم
    میںجانتی ہوں یہ خط دیکھ کر آپ حیران ہوجائیں گے لیکن شاید آپ کی خوشی آپ کی حیرت سے زیادہ ہوگی۔
    آپ کو خط لکھنے کا خیال روز آتا تھا۔ اُس دن سے جب سے میں قلبِ مومن کو لے کر ترکی سے پاکستان آگئی تھی۔ روز میرا دل چاہتا تھا میں آپ سے آپ کا حال پوچھوں۔ میں جاننے کی کوشش کروں کہ آپ کے دن رات کیسے گزر رہے ہیں؟ کیا وہ بھی ویسے ہی ویران ہیں جیسے میرے ؟ کیا آپ کا غم بھی ابھی تک ویسا ہی ہے جیسا میرا؟ کیا درد اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا؟
    آپ سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی بہت کچھ کہنا اور بتانا چاہتی تھی پر کبھی وقت آڑے آ گیا کبھی انا اور کبھی میری شرمندگی۔
    اور اب زندگی نے بالآخر مجھے مجبور کردیا کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں اور آپ سے مددمانگوں۔ وہ کام جو کبھی کرنے سے پہلے میں مرجانا چاہتی تھی۔ آپ سے ناراضگی اور آپ پر غصہ بہت سال رہا تھا مجھے۔
    آپ نے میرے اور طہٰ کے درمیان آنے کی کوشش کی تھی۔ ہمیں جُدا رکھنے کی خواہش تھی آپ کی۔ اور وہ سب کچھ جو آپ نے میرے بارے میں کیا تھا وہ سُننے کے بعد اگر میں آپ سے نفرت کرتی تھی تو میری جگہ کوئی بھی ہوتا یہی کرتا۔
    پر آج سوچتی ہوں۔ آپ غلط نہیں تھے۔ غلط میں اور طہٰ بھی نہیں تھے۔ یہ سب کچھ ایسے ہی لکھا تھا جیسے ہوا۔ طہٰ میری زندگی میں نہ آتا تو میں اس سفر سے آشنانہ ہوتی جو میں نے کیا اور اس سفر پر مجھے کوئی ندامت کوئی رنج کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
    میں خطاطوں کے قبیلے کے جانشین کی محبت میں گرفتار ہوئی تھی۔ پارسائی کی خواہش تھی۔ اللہ کے قریب ہوجانے کا یقین تھا۔ پر اس سفر کے دوران پتہ چلا کہ کسی پارسا اور نیک کا ساتھ پارسائی اور نیکی کی طرف مائل کرسکتا ہے نیک اور مومن بنا نہیں سکتا۔ اللہ سے اپنی قربت کسی دوسرے کو عطا نہیں کرسکتا۔ میری بھول تھی میں اس راستے کو اتنا آسان سمجھ بیٹھی تھی۔ اب اتنے سالوں بعد سمجھ آیا ہے اللہ سے قریب ہونے کے لئے ہر آزمائش خود جھیلنی پڑتی ہے۔
    میں زوال کی گرفت میں ہوں اور بے حد خوش ہوں۔ واپس آکر دوبارہ عروج مل جاتا تو پچھلے سارے سال ضائع ہی سمجھتی میں۔ اب یہ زوال مجھے سمجھا رہا ہے کہ یہ راستہ میرا نہیں ہے نہ میرے لئے اب رہا ہے۔ میں طے کرچکی ہوں وہ پہلی منزل جس کے بعد آگے کہیں اجر ہوتا ہے۔
    اللہ نے راستہ بدل دیا ہے میرا کیونکہ دل بدل دیا ہے اُس نے میرا۔ وہ اب موم کا بن گیا ہے۔ پتھر کا نہیں رہا۔ غرض ختم ہوگئی ہے اُس میں سے۔۔۔غرور چلا گیا ہے اُس میں سے۔ میں بھی نہیں رہی اُس میں۔۔۔ اور کبھی کبھار لگتا ہی نہیں یہ میرا ہی دل ہے۔۔۔ حسنِ جہاں کا دل۔
    آپ کے لئے کئی سال سخت کئے رکھا تھا اس دل کو۔۔۔ اب طہٰ کے غم نے نرم کردیا ہے۔ معاف کردیا میں نے آپ کو بابا جان۔ اُسی دن کردیا تھا جب طہٰ کی موت کا پتہ چلا تھا۔ کوئی خسارے کی فصل میں کھڑا ہوکر اور خسارہ کیا بوتا۔
    میرا قلبِ مومن آپ کے پاس ہے۔ اُس کا دل میرے لئے پتھر ہے۔ میں اپنے پاس رکھے رکھتی تو پتھر سے کوئلہ ہوجاتا پر موم نہ ہوتا۔ میں نے ماں ہوتے ہوئے بھی اُسے آپ کے پاس بھیج دیا تھا۔ آپ کے قبیلے کا ایک جانشین میری وجہ سے راستے سے بھٹکا۔ میں رہ جانے والے آپ کی نسل کے اس واحد چشم و چراغ کے بھٹکے جانے کا گناہ اپنے سر نہیں لے سکتی تھی۔
    آپ کو خط لکھ رہی ہوں کیونکہ میں نکلنا چاہتی ہوں ۔ اس سب سے جس میں میں اپنی نادانی کے ہاتھوں دوبارہ آپھنسی ہوں۔ آپ کے اور مومن کے پاس آکر رہنا چاہتی ہوں۔ وہاں زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔
    آپ کے لئے ممکن ہو تو حسنِ جہاں کے لئے کچھ کیجئے گا۔ نہ بھی کرسکیں تو مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں۔ میرا قلبِ مومن میرا مستقبل آپ کے پاس محفوظ ہے۔ میرے لئے اتنا کافی ہے بابا جان۔
    مومن کے لئے بہت سا پیار
    آپ کی بیٹی
    حسنِ جہاں
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قلبِ ِ مومن ٹینا اور داؤد کے ساتھ بیٹھے ہوئے آفس میں کام کررہے تھے۔ جب عباس دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔ وہ اُن کی پچھلی فلم کا ہیرو تھاا ور الف کو شروع میں سائن کرکے پھر کانٹریکٹ ختم کرچکا تھا لیکن مومنہ سلطان کے فلم سائن کرتے ہی وہ اُڑجانے والے سارے موسمی پرندے اگلی بہار کے نظارے کے لئے واپس آنا شروع ہوگئے تھے۔
    وہ بڑی گرم جوشی سے سیدھا مومن کے پاس آکر اُس سے گلے ملا تھا پھر اُس نے مصافحہ کرکے ہاتھ اپنے سینے پر یوں رکھے جیسے اُس کے لئے قلبِ مومن سے مصافحہ کرنا اور گلے لگنا بھی سعادت کی بات تھی۔
    ”آپ کو پتہ ہے مومن بھائی۔۔۔ آپ کے کام کافین ہوں میں۔۔۔ آپ کے ساتھ پراجیکٹس کرنے کے لئے دس پراجیکٹس چھوڑ کر آسکتا ہوں میں۔” اُس نے اس انداز میں کہا تھا جیسے اُس نے الف سے علیحدگی اختیار کی ہی نہ تھی اور اس فلم کے بارے میں پہلی بار ہی پتہ چلا تھا اُسے۔
    ٹینا اور داؤد نے معنی خیز نظروں کا تبادلہ کیا تھا اور قلبِ مومن نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
    ”آپ نے مومنہ سلطان کے ساتھ مجھے اس فلم میں کاسٹ کرکے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کردی ہے۔” اُس نے کرسی کھینچ ک ربیٹھتے ہوئے بھی اپنی بات جاری رکھی۔
    ”سکرپٹ ڈسکس کرتے ہیں۔” مومن نے اُس کی کسی لفّاظی کا جواب نہیں دیا تھا۔ اُس نے بس سکرپٹ کھول لیا تھا۔ عباس کچھ گڑبڑایا تھا۔ مومن جال میں نہیں آیا تھا۔
    ”رول چھوٹا ہے اور ایک بچے کے باپ کا ہے۔۔۔ کوئی اعتراض؟” اُس نے بے حد واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا۔
    ”مومنہ سلطان کے Oppositeہے؟” عباس نے جھٹ پوچھا تھا۔
    ”ہاں۔” مومن کا جواب مختصر تھا۔
    ”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” اُس نے فوراً کہا۔
    ”اور پھر مومن بھائی آپ کی فلم ہے مجھے پتہ ہے آپ کچھ نہ کچھ کر واہی لیں گے مجھ سے۔ آپ پر اندھا اعتماد ہے مجھے۔”
    مومن نے اُس کی خوشامد کا نیاسلسلہ بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے داؤد سے کہا۔
    ”کانٹریکٹ کروالو دوبارہ۔۔۔”
    ٭…٭…٭
    وہ رات کے وقت گھر کے لاؤنج میں تھکا ہارا داخل ہوا تھا۔ شکور چند دنوں کے لئے چھٹی پر گیا ہوا تھا اور گھر کی خاموشی پہلے سے زیادہ گہری تھی۔
    لاؤنج میں وہ دیوار خالی تھی جس پر وہ خطاطی اتنے سالوں سے لگی ہوئی تھی۔ مومن نے اُس کی جگہ کچھ بھی نہیں لگایاتھا۔
    LCDآن کرکے وہ کچن کی فریج سے پانی کی بوتل نکال کر لے آیا تھا۔ اُسے پیتے ہوئے وہ چینلز سرفنگ کرنے لگا۔ ایک چینل پر اُس کی فلم کے حوالے سے خبر چل رہی تھی۔
    "The Academy Award winning actress MOMINA SULTAN signs her new film in Pakistan leaving Hector’s upcoming merit Urban Saga.”
    قلبِ مومن نے چینل بدل دیا۔ وہ اب جس چینل پر گیا تھا وہاں پریس کانفرنس کی کوریج کے ساتھ خبر چل رہی تھی۔
    ”مومنہ سلطان نے بالاآخر اپنی اگلی فلم کا اعلان کردیا اور اس بار وہ لوکل سکرین پر جلوہ گر ہوں گی۔ قلبِ مومن کی اگلی فلم ”الف” میں۔۔۔ یاد رہے کہ یہ فلم پچھلے سال اناؤنس ہوئی تھی مگر پھر تعّطل کا شکار ہوگئی۔ اب مومنہ سلطان کے اس فلم کا حصہ بننے پر قلبِ مومن کی قسمت کا ستارہ ایک بار پھر چمکا ہے اور اس بار بین الاقوامی طور پر ۔”قلبِ مومن نے وہ چینل بھی بدلتے ہوئے TV بند کردیا تھا۔ وہ اوب بوتل سے پانی غٹاغٹ پی رہا تھا۔ یوں جیسے مومنہ سلطان کے نام کی یہ تکرار اُسے پریشان کرنے لگی تھی۔ اُس کااحسان مند ہونے کے باوجود۔
    فون اُٹھا کر اُس نے یک دم مومنہ کو کال کرنی شروع کردی تھی۔ دوسری طرف سے کسی نے کال ریسیو نہیں کی۔ قلبِ مومن کو اُس وقت احساس ہوا کہ وہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ لیکن کال کا ریسیو نہ ہوناو پھر بھی اُس کی انا کو مجروح کرگیا تھا۔
    ”میں تو بھول گیا تھا۔۔۔ آسکرا یوارڈ یافتہ اداکارہ ہے وہ۔۔۔ پہلی کال پر ڈائریکٹر کی کال کیسے لے گی وہ۔۔۔ وہ بھی قلبِ مومن جیسے ڈائریکٹر کی۔” اُس نے بڑبڑاتے ہوئے خود ہی فون بند کرتے ہوئے اُسے دور پھینک دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    میک اپ آرٹسٹ نے اُس کے چہرے پر Puffingسے آخری ٹچ دیتے ہوئے مومنہ سے کہا۔
    ”اب دیکھیں اپنے آپ کو۔” وہ کہتے ہوئے سامنے سے ہٹ گئی تھی۔ مومنہ نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا اور پہلی نظر میں اُسے لگا وہ حسنِ جہاں ہی تھی۔
    ”مومن بھائی نے جو lookدینے کو دی تھی بالکل ویسی ہی lookدی ہے میں نے آپ کو۔” وہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے ہوئے میک اپ آرٹسٹ کی با ت پر چونکی تھی۔
    ”کون سی Look۔۔۔ تمہیں کوئی تصویریں دی تھیں اُس نے؟” اُس نے میک اپ آرٹسٹ کو کُریدا تھا۔
    ”ہاں۔۔۔ یہ دیکھیں یہ میرے فون میں ہیں تصویریں۔” میک اپ آرٹسٹ نے فوراً سے پہلے اپنے فون جیسے اُس کے سامنے کردیا تھا۔
    وہ حسنِ جہاں کی تصویریں تھیں اور مومنہ کو حیرت تھی حسنِ جہاں کو نہ جاننے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اُس نے میک اپ آرٹسٹ کو وہ تصویریں کیسے دے دی تھیں کیا اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مومنہ وہ تصوریں دیکھ سکتی تھی۔
    ”سبیکا۔۔۔ مومنہ کی Lookہوگئی تو پھر ہمیں۔۔۔” وہ ڈریسنگ روم کا دروازہ بجا کر روانی میں اندر آیا تھا اور آئینہ میں مومنہ کا عکس دیکھ کر فریز ہوگیا تھا۔ وہ جیسے اپنی بات بھی پوری نہیں کرسکا تھا۔ اُسے حسنِ جہاں یاد آئی تھی ۔ وہ اس وقت بالکل اُسی روپ میں تھی جس میں مومن حسنِ جہاں کو پاکستان آنے کے بعد دیکھا کرتا تھا۔
    ”مومن بھائی ٹھیک ہے نا گیٹ اپ۔۔۔ یہی lookچاہ رہے تھے نا آپ۔” میک اپ آرٹسٹ نے اُس کی محویت توڑی تھی۔ اُس نے ہڑبڑا کر جیسے نظریں اُس کے چہرے سے ہٹالی تھیں۔ وہ چلتا ہوا اب مومنہ سلطان کے پاس آگیا تھا۔ سامنے ڈریسنگ کاؤنٹر پر پڑے سفید گلابوں میں سے اُس نے کچھ اُٹھا کر مومنہ کے بالوں کے جوڑے میں لگاتے ہوئے میک اپ آرٹسٹ سے کہا تھا۔
    ” یہ بھی لگانے ہیں۔”
    ”اوہ۔۔۔ اوہ ۔۔۔یہ میں کیسے بھول گئی۔۔۔ ہاں یہ بھی لگاتی ہوں۔” میک اپ آرٹسٹ نے جواباً وہ پھول اُس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا تھا جو اُس نے مومنہ کے جوڑے پر رکھ کر اُسے وہ جگہ بتائی تھی جہاں وہ پھول لگتے تھے۔ مومنہ خاموشی سے آئینے میں اُس کے اور میک اپ آرٹسٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کسی تبصرے کے بغیر سنتی رہی تھی۔
    ”اب دیکھیں۔” میک اپ آرٹسٹ نے چند لمحوں میں وہ پھول اُس کے جوڑے میں لگا کر دوبارہ مومن سے رائے لی تھی۔
    اس بار مومن مومنہ کی کرسی کے پیچھے کھڑا اُسے آئینے میں دیکھ رہا تھا۔ جوڑے میں سجے اُن سفید گلابوں کے ساتھ اور مومنہ آئینے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہی تھی۔ یوں جیسے اُس کی رائے سننا چاہتی ہو۔ اُس نے صرف ایک لمحہ کے لئے آئینے میں مومنہ کو دیکھا تھا۔ پھر وہ نظریں چرا کر برق رفتاری سے وہاں سے نکل گیا تھا۔
    ”کاسٹیومز دیکھنے ہیں مجھے۔۔۔ ڈیزائنر آیا ہوا ہے۔” وہ عجیب سے لہجے میں کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    رات کو کنول اپنے کمرے میں بیٹھی ایک چینل پر اپنے سابقہ شوہر کا انٹرویو دیکھ رہی تھی۔۔عابد منہ بناتے ہوئے رپورٹر کو انٹرویو دے رہا تھا۔
    ” جی بہت بُری عورت تھی وہ۔میں نے بڑی کوشش کی کہ گھر بسا رہے،بیٹے کے واسطے دیے جی،مگر وہ تو جیسے بس شہر جا کر ٹی وی پر کام کرنے کی ٹھان چکی تھی۔”
    وہ تاسف بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے جھوٹ بول رہا تھا۔”بچے کا بھی نہ سوچا اس نے،میں نے اس کی گود میں بچہ ڈال دیا کہ دیکھ اس بچے کا واسطہ تجھے، نہ جا، لیکن اس کے سر پر تو بھوت سوار تھا۔بچے کو بھی میری ماں کی گود میں پھینک کر چلی گئی۔”
    ”آپ کے پاس لوٹ کر نہیں آئی کبھی بچے کے لیے؟”رپورٹر نے پوچھا۔
    ”نہ جی، آتی تو میں بچے کی خاطر ہی اسے معاف کردیتا،لیکن وہ تو بس ٹھان چکی تھی عزت سے نہیں رہنا۔”عابد صاف جھوٹ بولتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    ”بیٹے تم بتاؤ تمہیں اپنی ماں یاد آتی ہے؟”رپورٹر نے بچے سے پوچھا۔
    ”نہیں، میری ماں میرے پاس ہے۔”بچے نے جواب دیا اور عابد کے پیچھے چُھپ گیا۔ عابد کیمرے کی طرف دیکھ کر بولا۔”جی میری بہن نے اس کو ماں بن کر پالا ہے۔یہ اسے ہی اپنی ماں سمجھتا ہے۔وہ بہت محبت کرتی ہے اس سے،جان دیتی ہے اس پر۔ایک وہ تھی،چھوڑ کر چلی گئی میرے بیٹے کو۔”عابد یہ کہہ کرجھوٹ موٹ کے آنسو بہانے لگا۔
    ”اب اگر وہ آنا چاہے تو آپ اُسے قبول کرلیں گے؟”رپورٹر نے پوچھا۔
    ”نہ جی،ایسی بے غیرت عورت کو کون رکھے،میرا بچہ بھی نہیں چاہے گا اُسے ماں کہنا۔”عابد نے نفرت سے جواب دیا ۔یہ سب سن کر کنول پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    ٭…٭…٭
    کنول کا باپ بیساکھیوں کے ساتھ گلی میں نکلا ہی تھا کہ اتنے میں پہلے سے موجودایک ٹی وی چینل کی ٹیم اس کو باہر نکلتے دیکھ کر پاس آگئی اور ساتھ ہی کیمرہ مین نے اپنا کیمرہ کھول لیا۔
    ”السلام علیکم جی آپ کنول بلوچ کے باپ ہیں؟”رپورٹر نے مائیک امام بخش کے مُنہ میں گھسیڑتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی جی جی… مگر… ”امام بخش اس نئی افتاد سے بے خبر تھا،اس سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی۔
    ”ہم نگار نیوز سے ہیں اور آپ سے کنول بلوچ کے بارے میں چند سوالات کرنا چاہتے ہیں۔” رپورٹر نے کہا۔
    ”لیکن جی میں کچھ نہیں کہنا چاہتا،مینوں معافی دیو۔”امام بخش نے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا۔
    ”بابا جی ! بزرگو، بس دو چار سوال ہیں۔”رپورٹر نے اصرا ر کیا۔
    ”مجھے ایک بھی جواب نہیں دینا، بھائی جاؤ اپنا کام کرو۔”امام بخش نے یہ کہا اور لڑکھڑاتا ہوا واپس مُڑا اور گھر میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    سب گھر والے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور کسی نہ کسی بات پر فوزیہ کا ذکر نکل ہی آتا۔اس میں سب سے بڑھ چڑھ کراسما تھی جو حسب معمول فوزیہ کے متعلق ڈھکے چھپے انداز میں اُلٹی سیدھی باتیں کر رہی تھی۔
    ”ایسے کاموں کا نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے،اب بھگتو سب۔”اسما نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
    ”تو تو چپ کر۔ ویسے ہی اتنی پریشانی ہے، تیری ٹرٹر ہی بند نہیںہوتی۔”ماں نے اسے ڈانٹا۔
    ”دنیا کی ٹر ٹر کیسے بند کروائے گی تو؟باہر تو نکل دنیا نے باتیں کرکرکے زندگی حرام کردینی ہے۔” اسما نے بہت روکھے انداز میں کہا۔
    ”کروا لوں گی بند،پہلے اپنے گھر والے تو چُپ ہوں۔جب گھر والے لحاظ نہ کریں تو باہر والوں کو کیا کہوں ۔”ماں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔
    ”دیکھ اماں یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے،تو نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو شہ دی ہے۔” اسما نے انگلی اُٹھا کر الزام لگایا۔
    ماں اس الزام پر بدک سی گئی اورسینہ تان کراسما کے آگے کھڑی ہوگئی”او کیا شہ دی ہے بتا ذرا؟”
    ”جب کسی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو دیوار کی طرح آگے آکر کھڑی ہوگئی، رحیم کو تجھ سے یہی شکایت ہے۔وہ تو بھرا بیٹھا ہے جانے پر،میں نے روکا ہے اُسے۔”اسما ساس سے لڑنے لگی۔
    ”مت کر یہ مہربانی،دفع ہو جا یہاں سے ہمیں ضرورت نہیں ہے تیری اور تیرے میاں کی۔”ماں نے بھی ہاتھ ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”یہ تو وقت بتائے گا کہ جن بیٹیوں پر تو اتنا مان کرتی ہے وہ آگے کیا کیا گل کھلاتی ہیں۔”اسما نے بھی تنک کر کہا۔
    امام بخش ان دونوں کی بحث سے تنگ آچکا تھا۔اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ان دونوں کو منع کیا۔”او بدبختو!مت لڑو ،چپ ہو جاؤ۔باہر کھڑے ہیںٹی وی والے، بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔تمہاری یہ باتیں ان کے کانوں میں بھی پڑیں گی ،بس کرو۔”اسما نے یہ سناتوناک چڑھاتی ہوئی اندر کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    کیمرہ مین کنول کے گھر کی بیرونی فوٹیج بنا رہا تھا اور ساتھ ہی رپورٹر رپورٹنگ کررہا تھا۔
    ”یہ دیکھئے ناظرین شہر میں اتنے زبردست محل جیسے گھر میں رہنے والی کنول بلوچ کے والدین کیسے گھر میں رہ رہے ہیں۔یہ ہے فوزیہ بتول یا کنول بلوچ کا گھر،لیکن اُن کے والد نے کوئی بھی بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ اس بات پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتے کہ فوزیہ بتول نے جو کچھ کیا وہ صحیح تھا یا غلط لیکن سچ چھپ نہیں سکتا۔وہ ایک نہ ایک دن سامنے آکر رہتا ہے۔آئیے یہاں آس پاس رہنے والوں سے کنول کے بارے میں پوچھتے ہیں۔”
    ”بھائی ذرا رُکیں اور بتائیں کنول بلوچ بلکہ فوزیہ بتول کے بارے میں۔کیا آپ جانتے ہیں اُسے؟”رپورٹر نے ایک راہ گیر کو روک کر کہا۔
    راہ گیر کیمرہ میں آنے پر ہی بہت خوش تھا ۔وہ شدید جذباتی ہو کر بولا۔”جی بالکل جانتا ہوں اس کے بارے میں،پوچھیں کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ۔”وہ سب کچھ بتانے کو بے تاب تھااور اس نے بتا بھی دیا۔فوزیہ کے بارے میں،اس کے گھر والوں اور ماں باپ کے بارے میں۔
    ٭…٭…٭
    کنول ٹی وی پریہ لائیو فوٹیج دیکھ رہی تھی۔اس نے پریشان ہوکر باپ کو فون کیا،باپ نے فون اٹھایا۔ کنول نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
    ”اباکیاچینل والے اس وقت گھر کے باہر ہیں؟”
    ”تجھے کیا بے غیرت؟تو نے جو ہمارا جنازہ نکالنا تھا نکال دیا۔اب تو خوش ہو جا۔”باپ نے غصے سے کہا۔
    ”ابا میں نے یہ سب…”کنول روہانسی ہو گئی ۔امام بخش نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
    ”مت کہہ کچھ بھی،نہیں سننا اب تیرا کوئی اور جھوٹ۔تو نے تو ہمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔”
    ”ابامجھے معاف کردے!میں مجبور تھی۔”کنول نے روتے ہوئے کہا۔
    ”یہ کیسی مجبوری تھی فوزیہ کہ تو نے میرا اور اپنے بھائی کا نام ڈبو دیا۔ساری عمر تجھے حلال کمائی کھلائی اور تو نے یہ کیا کیا؟کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا۔”امام بخش نے بہت دکھی لہجے میں کہا۔
    ”نہ ابا ایسا نہ کہہ۔ میں آتی ہوں ساری بات بتاتی ہوں تجھے۔”کنول نے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔
    امام بخش اس کی بات کاٹتے ہوئے فوراً چِلایا۔”تو واپس مت آ۔ مر جا کہیں،ڈوب مر چلو بھر پانی میں۔”
    ”نہ ابا ایسا مت کہہ،بد دعا نہ دے۔”کنول سسکنے لگی۔
    ”تو دعا کے قابل نہیں فوزیہ اور اب تو فون نہ کرنا مر گیا تیرا ابا۔”یہ کہہ کر امام بخش نے فون رکھ فیا۔کنول فون کی طرف دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
    ٭…٭…٭
    شہریار اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔حلیمہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کنول کے بارے میں پوچھا۔
    ” شہریار کیوں اُداس ہو؟”
    ”نہیں ماما اُداس تو نہیں۔”شہریار اداسی سے مسکرایا۔
    ”ماں ہوں تمہاری،میں یہ بتا سکتی ہوں کہ اس وقت تم کیا سوچ رہے ہو۔”حلیمہ نے بہت پیار سے کہا۔
    ”اچھا بتائیں میں کیا سوچ رہا ہوں؟”شہریار نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”تم کنول کے بارے میں سوچ رہے ہو۔”حلیمہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے مان سے کہا۔
    ”جب سب معلوم ہے تو پوچھ کیوں رہی ہیں۔”شہریار نے حیرانی سے ماں کو دیکھا۔
    ”میں تمہارے منہ سے اُس کا نام سننا چاہتی ہوں۔”حلیمہ نے محبت آمیز لہجے میں کہا۔
    ”میں اپنی زبان پر قابو کرسکتا ہوں ماما،لیکن اُسے اپنی سوچوں سے کیسے نکالوں۔”شہریار زچ ہوگیا تھا۔
    ”ضرورت بھی کیا ہے؟”حلیمہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”ضرورت ہے ماما، اس نے میرا اعتماد توڑا،مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا؟”شہریار نے بہت دکھی لہجے میں کہا۔
    ”پتا نہیں کیا مجبوری تھی؟”حلیمہ نے شہریار کے دُکھ کو کم کرتے ہوئے کہا۔
    ” کوئی مجبوری نہیں ماما،میں نے اس پر اعتبار کرکے غلط کیا شاید۔”شہریار نے اداسی سے کہا۔
    ”محبت کرتے ہو اس سے؟”حلیمہ شہریار کے پاس آگئی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
    ”ماما یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟”شہریار نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
    ”یاد رکھو سچی محبت کبھی بدگمان نہیں ہوتی۔”حلیمہ نے کہا۔
    ”جانتا ہوں،محبت کی ایک روح ہے اور جب دل میں بدگمانی جگہ لے لے تو وہ روح جسم سے نکل جاتی ہے۔”شہریار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”تم اُس سے پوچھو تو سہی ایسی کیا بات تھی جو اُسے یہ جھوٹ بولنا پڑا۔”حلیمہ نے اصرار کیا۔
    ”اُسے مجھے خود فون کرنا چاہیے تھا،میں کیوں کروں؟”شہریار نے سر جھٹکا۔
    ”اگر وہ بھی یہی سوچ رہی ہو تو؟”حلیمہ نے اسے ایک اور رخ دکھایا۔
    ”دیکھیں ماما غلطی اس سے ہوئی ہے،اب وہ فون کرے گی۔”شہریار نے قطعیت سے کہا۔
    ”جسے تم غلطی کہہ رہے ہو ہوسکتا ہے وہ کوئی مجبوری ہو۔”حلیمہ بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی۔
    ”ماما آپ بندے کو قائل کرنے کا ہنر جاتی ہیں۔”شہریار نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
    ”یہ سب تمہارے باپ سے سیکھا ہے ۔سچی محبت قائل کرنے کا ہنر جانتی ہے شہریار ۔ پوچھو اس سے کہ کیا بات تھی جو اس نے اتنی بڑی بات تم سے چھپائی۔”حلیمہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔
    ”جی ماما!”شہریار نے سر ہلاتے ہوئے کہااورساتھ ہی ماں کو دیکھتے ہوئے مُسکرایا۔
    ٭…٭…٭
    مُناگھر جا رہا تھا کہ گلی کی نکڑ پرامام مسجد نے اسے روک لیا اورفوزیہ کے متعلق پوچھنے لگے۔
    ”سنو لڑکے!رکو۔”امام صاحب نے کڑک لہجے میں کہا۔
    ”السلام علیکم مولانا صاحب ۔”مُنا نہایت ادب سے بولا۔
    ”وعلیکم السلام!تم اس لڑکی کنول بلوچ کے بھائی ہو؟”امام صاحب نے سخت لہجے میں پوچھا۔
    ”جی۔” مُنے نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا۔
    ”تمہیں معلوم تھا کہ تمہاری بہن شہر میں یہ سب کررہی ہے؟”امام صاحب نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
    ”وہ مولانا صاحب میں…”مُنا گڑبڑا گیا، اس سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
    ” حرام کا پیسا زیادہ عرصے جیب میں نہیں رہتا،سمجھا دینا بہن کو۔بڑی بدنامی ہورہی ہے ہمارے علاقے کی۔ٹی وی پر نام چل رہا ہے،بلکہ ہمارے علاقے کا نام دنیا بھر میں اچھل رہا ہے۔کل مسجد میں سب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو زیادہ عرصے یہاں نہیں رکھا جاسکتا،دوسروں کی بہو بیٹیاں بھی بدنام ہوں گی۔”امام صاحب وعظ کرنے لگے،اردگرد لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔
    ”لیکن ہماری بہن کی سزا ہمیں…”مُنا نے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی کوشش کی ،لیکن امام صاحب نے بات مکمل نہ ہونے دی۔
    ”دیکھو یہ پورے علاقے کا فیصلہ ہے،تو تم جتنی جلدی ہو اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلویہاں سے۔” امام صاحب گرجے۔
    ”مگر مولانا صاحب… ”مُناپھر ہکلایا۔
    ”اگر مگر کچھ نہیں،یہ نہ ہو کہ چند بدمعاشوں کو کہہ کر تمہارا سامان باہر پھنکوانا پڑے۔”امام صاحب نے پھر غصے سے کہا۔
    ”جی مولانا صاحب جو حکم تہاڈا۔”یہ کہہ کر وہ سر جھکا کر وہاں سے چلا آیا۔
    ٭…٭…٭
    مُناغصے سے بھرا گھر میں داخل ہوااور غصے سے راستے میں پڑی جھاڑو کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے چلایا۔
    ”اماں !اماں کہاں ہے تو؟”
    ”کیا ہوا کیوں شور مچایا ہوا ہے؟”ماں اندر سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آئی۔
    ” شور تو باہر مچا ہوا ہے باجی کے کارناموں کاتو نکل تو پتا چلے۔باجی کی وجہ سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔” مُنا شدید نفرت سے فوزیہ کا ذکرکرتے بولا۔
    ”کس نے کیا کہہ دیا؟”ماں نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”مسجد والے امام صاحب ملے تھے کہہ رہے تھے نکلو یہاں سے یہ شریفوں کا محلہ ہے۔ہم جیسوں کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں،دوسری بہو بیٹیاں بھی بگڑ جائیں گی۔”مُنے نے ناراضی سے کہا۔
    ”یہ کہا انہوں نے؟”ماں بیٹی کی حرکتوں سے سخت شرمندہ تھی۔
    ”اور کیا اماں،اتنا شرمندہ ہوا میں کہ بس۔تیری بات ہوئی باجی سے؟”مُنے نے ماں سے پوچھا۔
    ”ہاں تیرے باپ کے پاس آیا تھافون لیکن تیرے باپ نے بہت غصہ کیا اس پر اور ابھی بھی غصے میں ہے۔”ماں نے دکھی لہجے میں جواب دیا۔
    ” غصہ تو ہونا چاہیے اماں۔بات ہی ایسی ہے۔”مُنا نفرت سے بولا۔
    ”ہاں تو ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن سوچ وہ پورے گھر کا خرچہ چلا رہی ہے،اب کیسے پورا ہوگا۔تو بھی کسی قابل نہیں۔”ماں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو مُنا خلا میں گھورنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ یہ بتائیں کہ اتنا شور صرف کنول بلوچ کے خلاف کیوں ہورہا ہے؟ آپ کا ہی فیس بک پیج کیوں بند ہوا؟”کنول ایک ٹی وی شو میں بیٹھی تھی جب اینکرنے اس سے یہ سوال پوچھا۔
    ”سچی بات تو یہ ہے کہ لوگ مجھ سے جیلس ہیں، مگر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”کنو ل نے کندھے اچکا کر بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”پبلک ڈومین میں آکر غلط قسم کی بات کریں گی تو وہاں تو لوگ جواب بھی دیں گے۔”اینکر نے کہا۔
    ” تو پھرمیں بھی اسی طرح جواب دوں گی۔”کنول کی بے پروائی ابھی بھی قائم تھی۔
    ”اچھا یہ بتائیں کبھی آپ کو اپنا بیٹا یا فیملی یاد نہیں آتی؟”اینکر نے بات کا رُخ بدل دیا۔
    ”کیوں نہیں آتی، بہت یاد آتی ہے،لیکن… ”کنول نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا۔
    ”لیکن کیا؟”اینکر نے فوراً سوال کیا۔
    ”میں بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں یہ سب۔”کنول کے لہجے میں اداسی تھی۔
    کیا ملا یہ سب کر کے؟”اینکر نے پوچھا۔
    ”شہرت،پیسا،دولت۔”کنول نے تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    ”اور اس سب میں کیا کھویا؟”اینکر نے سوال کیا۔
    ”فیملی، بچہ،بہت کچھ۔”کنول نے اداسی سے جواب دیا۔
    ”آپ سمجھتی ہیں آپ نے یہ سب کھو دیا؟”اینکر نے اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہاں!دیکھیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔اس وقت لاکھوں لوگ میرے پیج کو لائیک کرتے ہیں۔”کنول نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”لیکن ایک عورت کے لیے اس کی فیملی یا بچہ زیادہ اہم نہیں ہونا چاہیے تھا؟”اینکر نے طنز کا وار کیا۔
    ”بالکل ہونا چاہیے تھا لیکن جیسے مرد میری زندگی میں تھے اس کے بعد تو میں یہی سب کرتی۔میرا شوہر جو آج آکر میڈیا پر اپنی وفاکی داستانیں سنا رہا ہے۔مارتا تھا مجھے،جھوٹ بولتا تھا،بے وفائی کررہا تھا۔ میرے بھائی جنہیں میں پال رہی تھی،کبھی کسی نے مجھے نہیں کہا کہ میں کام نہ کروں،بلکہ پوچھا بھی نہیں کہ میں پیسا کہاں سے لا رہی ہوں۔”کنول نے ناراضی سے جواب دیا۔
    ”اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ بگڑ جائے اور غلط کام کرنے لگے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کیا۔” اینکر نے پھر طنز کیا۔
    ”او مائی گاڈ!” کنول نے مصنوعی حیرانی کا مظاہر ہ کیا،پھر اینکر سے ہی سوال کر ڈالا۔” چلیں میں آپ سے ایک سوال کرتی ہوں کہ اگر میری جگہ آپ کی بیٹی یہ کام کرتی تو آپ کیا کرتے؟”
    ”ویری سمپل، سب سے پہلے میں اپنی بیٹی کی کرافٹنگ کروں گا۔اسے بتاؤں گا کہ کیا صحیح ہے کیا غلط اگر اس کے بعد بھی وہ غلط راستے پر چلے گی تو یہ اس کی اپنی چوائس ہے۔” اینکر نے مزے سے کندھے اچکا کر جواب دیا پھر اگلا سوال کیا۔
    ”چلیں چھوڑیں یہ بتائیں آپ کا فیس بک پیج بند کردیا ہے،اب آپ کیا کریں گی۔”
    ”میں گھر میں بیٹھنے والی نہیں ہوں،میں کسی اور طرح سے سامنے آؤں گی۔اتنی آسانی سے ہار نہیں مانوں گی۔” کنول نے دلیری سے جواب دیا۔
    ”آپ آخری پیغام کیا دیں گی عوام کے لیے؟”اینکر نے پوچھا۔
    ”سب لوگ سمجھتے ہیں کہ میں عوام سے لڑائی لڑ رہی ہوں،ایسا نہیں ہے۔بس ریکویسٹ ہے کہ ایک بار تو میرے لیے اچھا بولو۔دیکھو میں کیا کرتی ہوں، میرے خلاف کیوں ہو؟اک معصوم لڑکی کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے؟میں نے کیا کیا ہے؟ اللہ کے واسطے مجھے معاف کردیں؟”کنول ہاتھ جوڑتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    پانچ سال بعد
    ٭…٭…٭
    آج شہر کی ایک بڑی پارٹی میں جانا تھا اس لیے کنول دل لگا کر تیار ہوئی۔لپ اسٹک کے آخری ٹچ پر اس نے اوپر والے ہونٹ سے نیچے والے ہونٹ کو ٹچ کیا اور شیشے میں دیکھا۔”اف کنول بلوچ! آج تو بہت سے قتل ہوں گے تمہاری نظروںسے اور اگر نہ کر سکیں تو لعنت ہو تمہاری نظروں پر۔” یہ کہہ کر وہ ہولے سے ہنسی اور بڑبڑائی۔”ویسے کنول بلوچ تم بہت بے حیا ہو،تمہاری وجہ سے شریف گھرانوں کے بچے خراب ہورہے ہیں، بلکہ تم دین دار لوگوں کو بھی خراب کر رہی ہو، بے حیا۔”
    یہ کہہ کر وہ بہت زور سے ہنسی اور شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے بولی۔”بس کر دو بے حیا! اور کتنی بے حیائی پھیلاؤ گی۔”اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور ملازمہ نے بتایا کہ ایم این اے (MNA) تارڑ صاحب کا ڈرائیور اُسے لینے آچکا ہے۔
    ”دو منٹ میں آرہی ہوں۔”یہ کہہ کر اس نے آخری بار خود پر اسپرے کیا اور باہر نکل آئی۔
    وہ پارٹی میں پہنچی تو پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ایم این اے نے اس کا تعارف بہت سے بڑے بڑے نام ور لوگوں سے کروایا۔وہ اُس کے لیے ایک اچھی رات کہی جا سکتی تھی کیوں کہ شہر کے بڑے نیک نام لوگوں کی آنکھوں میں اس نے اپنے لیے پسندیدگی کی جھلک دیکھی۔اکثر نے اسے اپنا کارڈ دیا جو بڑی نزاکت سے کنول نے اپنے کلچ میں رکھ لیا۔پارٹی کے اختتام پر تارڑ صاحب نے اسے گھر ڈراپ کیا۔ان کے ارادے تو کچھ اور ہی تھے جن پر کنول نے سر درد کا بہانہ بنا کر لگامیں ڈالیں۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کنول ویلنٹائن ڈے پر فیس بک ویڈیو اپ لوڈ کر رہی تھی ۔اس کے کمرے میں غبارے، پھول ،ٹیڈی بئیراورچاکلیٹس بکھری ہوئی تھیں۔وہ موبائل ہاتھ میں لیے اپنے کمرے کی ویڈیو دکھا رہی تھی۔ساتھ ساتھ وہ فیس بک پر موجود اپنے چاہنے والوں سے بات بھی کر رہی تھی۔
    ”ہر کسی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ویلنٹائن ضرورہوتا ہے، میری زندگی میں بھی ہے۔دیکھیں آج کتنی ساری چیزیں بھیجی ہیں اس نے ۔”
    کنول نے دوبارہ موبائل کے ذریعے ایک ایک چیز کو فوکس کیا۔”یہ چاکلیٹس … یہ پرفیوم… غبارے… یہ ریڈ روزز، میں آج دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی ہوں۔دوستو بہت بے رنگ ہوتی ہے وہ زندگی جس زندگی میں کوئی محبت نہ ہو۔ آپ کتنے تنہا ہوتے ہیں۔”
    ایک دم لیٹے سے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگی۔
    ”اگر چاہتے ہیں آپ کی زندگی میں رنگ بھر جائیں تو اپنا soulmate ڈھونڈیں وہ کہیں نہ کہیں ضرورہوگا ۔جائیں ڈھونڈیں ،مجھے تو میرا مل چکا ہے اور آج کا پورا دن میں نے اس کے ساتھ گزارا،بہت مزہ آیا۔ اب بہت تھک چکی ہوں،سب سے اجازت چاہتی ہوں،گڈ نائیٹ۔”
    یہ کہہ کر اس نے موبائل آف کر دیا ۔چہرے پر سو چ کے رنگ تھے،پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے اور وہ سسکنے لگی۔کتنا مشکل ہوتا ہے چہرے پر مسکراہٹ کا ماسک لگائے ”سب اچھا ہے” کا ڈرامہ کرنا،بہت مشکل اور وہ کتنی بڑی ڈرامہ باز تھی وہ جانتی تھی۔ ۔کبھی کبھی جھوٹ بولنا کتنا مشکل ہوتا ہے،سچ بولنے سے زیادہ تکلیف دہ مگر بولنا پڑتا ہے اور وہ بول رہی تھی۔
    اب وہ اپنے کمرے میں لیٹی ایک ایک کرکے غبارے پھاڑ رہی تھی۔ساتھ ساتھ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کوایک ہاتھ سے صاف کررہی تھی۔
    ”لوگوں کو تو انٹرٹینمنٹ مل گئی،انہیں انجوائے کرنے کے لیے ڈرامہ دے دیا مگر مجھے کیا ملا؟لوگ مجھے کتناخوش قسمت سمجھ رہے ہوں گے کہ میرا ویلنٹائن مجھے کتنا خوش رکھتا ہے۔میری ویڈیوپر اتنی لائیکس آتی ہیں،کتنے مرد مرتے ہیں مجھ پرلیکن میں کسی پر نہیں مرتی،کسی کو نہیں چاہتی۔مرد اعتبار کے لائق ہی نہیں،اگر ہو بھی تو میرے پاس ایسی فضولیات کے لیے ٹائم ہی نہیں۔ہاہاہاکنول بلوچ…نہیں فوزیہ عظیم تو صرف ایک جوکر ہے جس کا کام لوگوں کو اینٹرٹین کرنا ہے۔”
    اب وہ بولتے بولتے کبھی ہنس رہی تھی کبھی رو رہی تھی ۔
    ”ہا ہا ہا!اپنا تماشا خود بنا کر دکھانا دنیا کا سب سے تکلیف دہ کام ہے اور میں یہ سب کررہی ہوں۔” اسی وقت اس کے فون کی بیل بج اٹھی وہ چونکی اور آنسو پونچھے ہوئے اس نے فون کال ریسیو کی۔ فون کال مُنے کی تھی۔
    ”کیسا ہے مُنا خیریت ہے سب؟”کنول نے پوچھا۔
    ”باجی تو کیسی ہے؟”مُنا نے قدرے روکھے انداز میں پوچھا۔
    ”میں تو ٹھیک ہوں تو بتا گھر پر تو سب خیریت ہے؟ابا اماں بھائی؟”کنول نے پریشانی اوربے تابی سے پوچھا۔
    ”ہاں باجی! سب ٹھیک ہے،بس بہت دنوں سے تجھ سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔”
    ”ہاں بول۔”کنول نے بے پروائی سے کہا۔
    ”تو نے پیسے نہیں بھیجے۔”مناتھوڑا ناراضی سے بولا۔
    ”کیسے پیسے؟پچھلے مہینے تو تو نے لیے تھے پچاس ہزار۔”کنول نے حیرانی سے کہا۔
    ”تو نے پچاس ہزار اور دینے تھے۔دیکھ دکان میں اور مال ڈلوانا ہے،دکان خالی ہے اورابھی منافع نہیں مل رہا۔”منا کے لہجے میں درشتی تھی۔
    ”کیا مطلب تجھے ہر مہینے پیسے چاہئیں ؟”کنول کے لہجے میں استعجاب تھا۔
    ”دیکھ باجی دینے ہیں تو دے،ورنہ باتیں مت بنا۔”منا نے بہت روکھے انداز میں جواب دیا۔
    کنول اس کے روئیے پر جیسے ٹھٹک سی گئی۔”اچھا تو ناراض تو مت ہو۔”
    ”ناراض ہونے کی تو بات ہے ،دے کر جتاتی ہے۔سبزی کی دکان تو نہیں ڈالی، موبائل کی دکان ڈالی ہے۔پیسہ تو لگے گا،جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہوگا۔”منا اب غصے سے بول رہا تھا۔
    ”اچھاتو فکر مت کر،بھیجتی ہوں کل ہی۔”کنول نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
    منا نے یہ سنا تو اوکے کہہ کر فون بند کردیا۔کنول جو مزید بات کرنا چاہ رہی تھی رک گئی۔”مُنے سُن… مُنے!” وہ خالی فون کان سے لگا کر رہ گئی۔وہ بہت دکھی تھی اور سوچ رہی تھی ۔
    ”اب تیرا میرا رشتہ صرف پیسے کا ہے۔ہمارے درمیان اب صرف پیسے کی بات ہوگی۔” ہولے سے تھکی تھکی سانس لیتے ہوئے بولی۔”اس میں تیرا قصور نہیں، میرا اب سب سے رشتہ ہی پیسے کا رہ گیا ہے۔”
    ٭…٭…٭
    منا اپنے دوستوں سے لیے ادھار کی وجہ سے بہت پریشان تھا اسی لیے جوا کھیل کر ادھار چکانے کی کوشش میں مصروف تھا۔دوست اسے چھیڑ رہے تھے کہ وہ ان سے جیت نہیں سکتا اس لیے فضول کوششیں چھوڑ دے۔منا نے ان کی نہیں بات نہیں مانی اور اپنے پاس موجود بچی کھچی رقم داؤ پر لگا دی اور ہار گیا۔اس کے ایک دوست نے طنزیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا اور ساری رقم سمیٹ لی۔منا پریشانی کے عالم میں اُٹھ کر گھر کی طرف چل دیا۔
    ٭…٭…٭
    رات کووہ اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھی تھی اور ویلنٹائن ڈ ے کی ویڈیو پر آنے والے میسج چیک کررہی تھی۔اسی کے ساتھ اس کے موبائل پر بھی ٹکا ٹک میسج کی بپ بجنے لگی جسے اس نے نظر انداز کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد فون ہی بج اُٹھا۔اُس نے فون اُٹھا کر دیکھا جہاں ایم این اے تارڑکا نام جگمگا رہا تھا۔ وہ عجیب سے طنزیہ انداز میں مُسکرائی اور فون اٹھالیا۔
    ”ہائے تارڑ صاحب کیسے ہیں؟”
    ”السلام علیکم !اللہ کا شکر ہے،آپ سنائیں۔”تارڑصاحب کا انداز خوش آمدانہ تھا۔
    ”وعلیکم السلام۔”کنول نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔
    ”ہم تو منتظر رہے آپ کے فون کے،اب تو آپ مشکل سے ہی ملتی ہیں۔”تارڑ صاحب نے کہا۔
    ”بس مصروفیت ہی اتنی تھی۔”کنول نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی کسی نہ کسی مصروفیت کا حصہ بنالیں۔”تارڑ صاحب نے ایک دفعہ پھر خوشامد کی۔
    ”توبہ کریں کیوں شرمندہ کرتے ہیں،ہمارا سارا وقت آپ کا ہے۔”کنول نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”پھر ملاقات کا شرف تو بخشیں۔”تارڑ صاحب نے کہا۔
    ”جی ضرور تارڑ صاحب!اپنے گناہ بخشوانے تو آپ کے پاس آنا ہی پڑے گا،لیکن ابھی میں ذرا تھک گئی ہوں۔رات کا ڈیڑھ بج رہا ہے۔”کنول نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اوہ اچھا!چلیں آپ آرام کریں۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہوگی۔”تارڑ صاحب کو بھی جیسے اچانک ہی وقت کا خیال آگیا تھا۔
    ”جی ضرور۔”کنول نے بے زاری سے کہا اورموبائل آف کیا اور مسکراتے ہوئے بیڈ کی ایک جانب اچھال دیا۔
    پھروہ لیپ ٹاپ پردوبارہ اپنی ویڈیو پر لائیکس چیک کرنے لگی۔ اس نے شہریار کا پروفائل چیک کیاجس پر شہریار کی تصویر لگی ہوئی تھی۔کنول نے اس کی ساری نئی پوسٹس پڑھیں اور پروفائل بند کردی۔لیپ ٹاپ بند کرنے سے پہلے اس نے ڈیسک ٹاپ پر لگی اپنے بیٹے کی تصویر کو بہت غور سے دیکھا جو اب تقریباً 8سال کا ہوچکا تھا۔
    ”تم میرے پاس ہومگر صرف تصویر میں۔تم سے کوئی بات نہیں کرسکتی، مل نہیں سکتی،تمہیں چھو نہیں سکتی۔چھوٹے سے تھے تو نہلاتی تھی ،کپڑے بدلتی تھی،کھانا کھلاتی تھی،خوب سارا پیار بھی کرتی تھی مگر اب تم بہت دور ہو۔تمہیں تو میں یاد بھی نہیں ہوں گی۔”
    اس نے لیپ ٹاپ بند کردیااور بستر پر لیٹ گئی۔اس کی آنکھ سے نکل کرایک آنسو کان کے کٹورے میں گیا۔ایک کے بعد دوسرا اور پھر جیسے ایک دھار سی بندھ گئی اوروہ کب بیٹے کو سوچتے سوچتے نیند کی مہربان وادیوں میں اتری ،اسے نہیں معلوم ہوا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش نے رحیم کو بجلی کا بل پکڑایا۔رحیم بل پر نظر ڈال کر بولا۔”اتنا زیادہ!یہ تو مجھے کیوں دے رہا ہے ابا؟”
    ”اور کسے دوں؟”امام بخش نے کہا۔”تواور تیرے بچے استعمال نہیں کرتے بجلی؟”
    ”لے صرف میں اور میرے بچے استعمال کرتے ہیں۔باقی تو سب بجلی بند کرکے بیٹھتے ہو۔”رحیم نے اسی انداز میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”لیکن میں کہاں سے دوں؟”امام بخش نے بے چارگی سے کہا۔
    ”مُنا بھی تو دکان چلا رہا ہے اس سے کہہ۔”رحیم نے روکھے انداز میں کہا۔
    ”تجھے پتا ہے کہ اس کی دکان ابھی چل نہیں رہی۔”امام بخش نے منے کی حمایت کی۔
    ”ہاں جب پتے کھیلے گا تو دکان کیسے چلے گی۔”رحیم طنزیہ انداز میں بڑبڑایا۔
    ”کیا کہہ رہا ہے تو زور سے کہہ۔”امام بخش کو اس کی بڑبڑاہٹ سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
    ”او کچھ نہیں ابا جانے دے،تو چھوڑ سب۔یہ بتا اس مسئلے کا حل کیا ہوسکتا ہے؟”رحیم بے پروائی سے بہت روکھے انداز میں بولا۔
    ”کیا ہوسکتا ہے؟”باپ نے الٹا اسی سے سوال کیا۔
    ” فوزیہ آئے اسے دے یہ وہی بھرے۔”رحیم نے بل باپ کے آگے پھینکتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں فوزیہ کیوں دے گی؟تو سنبھال اخراجات گھر کے۔ اس نے بہت کرلیا۔”امام بخش غصے سے بلبلایا۔
    ”اس کے پاس پیساہے اور وہ کرسکتی ہے تو کرنے دے اُسے،تجھے کیا تکلیف ہے۔”رحیم نے بدتمیزی سے کہا۔
    ”بے غیرت تو اپنے آپ کو مرد کہتا ہے۔اس گھر کا خرچہ سنبھال ،تو بھی تو کماتا ہے۔”امام بخش کو بیٹے کی باتوں پر غصہ آرہا تھا۔
    ”دیکھ ابا کہہ دیا میں نے میں کچھ نہیں کرسکتا اس بل کا،اور تو یہ بے غیرت کہنا چھوڑ دے میرے بیوی بچوں کے سامنے۔مجھے گالی مت دیا کر۔”رحیم نے امام بخش کو انگلی دکھا کر وارننگ دی۔
    ” تو غلط بات کرے گا تو دوں گا گالی۔”امام بخش نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو رحیم آگے بڑھ کر باپ کے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا۔
    ”سن لے اب دے گا تو میں نہیں سنوں گا۔”
    ” کیا کرے گا تو بول؟مارے گا اپنے باپ کو؟”امام بخش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
    رحیم باپ کا غصہ دیکھ کرتھوڑا ٹھنڈا ہوگیا۔”ابا مجھے غصہ مت دلا۔”
    ”او بے غیرت دفع ہو جا یہاں سے۔”امام بخش نے پھر غصے سے کہا۔
    ” لیکن تو بھی سمجھ کر بولا کر اب میرے بچے بڑے ہورہے ہیں۔تو ان کے سامنے بھی بے غیرت کا طعنہ دیتا ہے۔”رحیم نے ناراضی سے کہا۔
    ”تجھے اتنا ہی خیال ہے اپنی عزت کا تو نکل جا یہاں سے۔”امام بخش زور سے چیخا۔
    ”ہاں ہاں چلا جاؤں گا۔”رحیم نے تیزی سے جواب دیا۔
    اتنے میں مُنی بھی وہاں آگئی ۔اس نے آگے بڑھ کر بھائی سے کہا۔”بھائی تو ابا سے ایسے بات نہ کر۔میں باجی کو بتاؤں گی۔”
    ”اب تو بھی بولے گی کمینی۔”رحیم نے یہ کہا اور اسے ایک زور دار تھپڑ مارا۔وہ دو جاکر گری اور رونے لگی۔
    امام بخش دونوں بہن بھائیوں کی لڑائی میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔مُنی نے اسی وقت فوزیہ کو فون کیا اور سب کچھ بتا دیا۔
    ٭…٭…٭
    اگلی صبح فوزیہ مُنی کی ایک کال پراپنے گھر میں موجود بھائی کو ڈانٹ رہی تھی۔
    ” تیری ہمت کیسے ہوئی ابا سے لڑنے کی اور مُنی کو تھپڑ بھی مارا تو نے۔”وہ اونچی آواز میں بھائی پر چلائی۔
    رحیم نے گھوم کر مُنی کی طرف دیکھا اور غصے سے بولا۔
    ”اچھا تو تجھے ساری خبریں دے دیں اس چڑیل نے۔”
    ”دیکھ بھائی سدھر جا، اب میں اور تماشا میں برداشت نہیں کروں گی۔ہر وقت کی چخ چخ ہر وقت کی لڑائی، اگر رہنا ہے تو ڈھنگ سے رہ ورنہ کر لے اپنا کوئی اور انتظام۔ دکان اس لیے نہیں کروائی تھی کہ تو لڑائی جھگڑا کرتا رہے۔اگر اماں ابا کو کوئی سکھ نہیں دے سکتا تو تکلیف بھی نہ دے۔”فوزیہ نے رحیم کے خوب ہی لتے لیے۔
    ”ہاں ہاں کرلوں گا۔ تو بھی ہر بات میں احسان جتاتی رہتی ہے۔”رحیم کو بھی فوزیہ کی باتیں سن کر غصہ آ گیا تھا۔
    ”احسان کی کیا بات ہے۔کتنے سال ہوگئے تجھے دکان چلاتے ایک دھیلا تو ماں کو نہیں دیتا، اگر ابا نے تجھے بجلی کا بل جمع کروانے کا کہا تو کروا دے لڑ کیوں رہا ہے؟”فوزیہ نے تنک کر پوچھا۔
    ”میں کیوں کرواؤں یہاں سب استعمال کرتے ہیں بجلی۔”رحیم نے غصے سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے تو پھر تو اپنا الگ انتظام کر۔”فوزیہ نے انتہائی روکھے انداز میں کہا۔
    رحیم یہ بات سن کر بیٹھے سے ایک دم کھڑا ہو گیا۔”ہاں ہاں کر لوں گا ورنہ تو ہمیشہ مجھے یہی طعنہ دیتی رہے گی کہ میں نے تیرے ساتھ اتنا کیا۔”
    ”مجھے طعنے دینے کا کوئی شوق نہیں،مگر ابا سے بدتمیزی برداشت نہیں کروں گی۔”فوزیہ نے پرسکون لہجے میں کہا۔
    ”تو تو ابا کو بھی سمجھا نا کہ وہ بھی ذرا ذرا سی بات پر گالی دیتا ہے۔”رحیم نے ہاتھ اُٹھا کراما م بخش کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں نے ایسا کیا کہہ دیا، بجلی کا بل دیا تھا بس۔”امام بخش نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
    ”تجھے پتا تھا کہ بجلی کا بل فوزیہ نے دینا ہے تو تو نے ضرور مجھے دے کر آگ لگانی تھی، اور یہ چڑیل بھی تیری حمایت میں بولی اس لیے میں نے اس کو پیٹا۔”رحیم نے غصے سے کہا۔
    ”دیکھ بھائی اگر اس گھر میں رہنا ہے تواب تو نہ ابا سے بدتمیزی کرے گا اور نہ ہی… ”
    رحیم نے فوزیہ کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی ۔”او تو رہنے دے اپنے مشورے اپنے پاس۔ چھوڑ دوں گا یہ گھر روز کی ذلالت مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوتی۔ رکھ تو ابا کو، اماں کو اپنے پاس، میں نے ٹھیکا نہیں لے رکھا۔”یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ سب ہکا بکا اس کی پشت دیکھتے رہے۔کتنا بے دید ہوگیا تھا وہ۔ اسے ذرا پروا نہ تھی کہ باپ اور ماں دونوں کو اس کی کتنی ضرورت ہے اس وقت،لیکن شاید وہ اپنی اسی ضرورت سے خائف تھا اور سب کوچھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔اس بات کا سب سے زیادہ دکھ باپ کو ہوا۔ وہ فوزیہ کی طرف دکھی نظروں سے دیکھ کر بولا۔
    ”فوزیہ سب دیکھ کربہت دُکھ ہوتا ہے،یہ دونوں بے غیرت ہیں۔ہم سب تیری ذمہ داری بن گئے ہیں۔” امام بخش نے تاسف سے کہا۔
    ”ابا تو پریشان مت ہو،سب ٹھیک ہو جائے گا۔”فوزیہ نے امام بخش کا ہاتھ تھام لیا۔
    ”پریشانی نہیں صدمہ ہوتا ہے،تو اتنی محنت کررہی ہے، ان کو ذرا احساس نہیں۔”امام بخش دکھی لہجے میں بولا۔
    ”ابا تو بالکل پریشان نہ ہو میں کما رہی ہوں نا تو کیوں فکر کرتا ہے۔”فوزیہ ے مسکرا کر باپ کی ہمت بندھائی۔
    ”میری ٹانگ کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں بھی کچھ نہ کچھ کرلیتا۔” امام بخش نے اپنی ٹانگ کی طرف اشارہ کیا اور پھر بولا۔”ایسی اولاد سے تو کوئی توقع رکھنا ہی فضول ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟”
    ”ارے ابا تو چھوڑ ساری فکریں،بھائی جاتا ہے تو جائے۔مُنا ہے نا اس کو الگ دکان اسی لیے کروا کر دی ہے کہ وہ گھر کو سنبھال لے۔”فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”اس نے کیا سنبھالنا ہے،وہ تو خود سنبھل جائے بڑی بات ہے۔اس نے نشہ شروع کردیا ہے،پتے وتے بھی کھیلتا ہے۔”امام بخش کو منے کے ذکر پر غصہ آگیا تھا۔
    فوزیہ کی حیرانی سے آنکھیں پھٹ گئیں۔”ابا تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔”
    ”میں نے اور تیری ماں نے تجھے اس لیے نہیں بتایا کہ تو پریشان ہوگی۔”امام بخش شرمندگی سے بولا۔
    ” نہ ابا تو نے بہت غلط کیا،وہ بھٹک رہا تھا تو ہم کو ہی سنبھالنا تھا اسے۔”فوزیہ نے بہت تاسف سے سر ہلایا۔
    ”تو نے ان دونوں کو پیسے کی لت لگا کر غلط کیا۔میں نے اور تیری ماں نے بہت سمجھایا لیکن وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔”امام بخش نے بے بسی سے کہا۔
    ” ابا تو ٹھہر میں خود اس سے بات کرتی ہوں۔”فوزیہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو امام بخش نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑکر روک لیا۔
    ”ارے نہیں تو کہے گی تو وہ کہے گا کہ ابا نے شکایت کی ہے میری،پھروہ بھی مجھ سے لڑے گا۔”
    ” تو نہ ڈر میں کرتی ہوں اس سے بات۔”فوزیہ نے امام بخش کو سمجھایا اور منے کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۱۰

    الف — قسط نمبر ۱۰

    میرے پیارے اللہ
    السلام و علیکم
    آپ کیسے ہیں؟ میں بھی ٹھیک ہوں۔ آپ کو میں یاد ہوں نا؟ میں قلبِ مومن ہوں۔ آپ کو خط لکھتا تھا۔ پھر خط لکھنا بند کردیا۔ لیکن آپ کو بھولا نہیں ہوں میں۔ بس آپ سے ناراض تھا۔ اُس کے لئے سوری۔ مجھے ناراض نہیں ہونا چاہیے تھا پر میں آپ سے ناراض ہوجاتا ہوں کبھی کبھی۔ اب توبہ کررہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے آپ میری توبہ فوراً قبول کرلیں گے۔ یہ مجھے دادا نے بتایا ہے۔ پہلے مجھے ساری باتیں ممی بتاتی تھیں۔ اب دادا بتاتے ہیں۔
    میں واپس ترکی آگیا ہوں۔ آپ کا شکریہ آپ کو خط لکھا کرتا تھا میں کہ میں نے دادا کے پاس جانا ہے۔ آپ نے میری دُعا قبول کرلی۔ لیکن اب میں یہاں بہت اُداس ہوں۔ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔ دادا پیار کرتے ہیں میں سکول جاتا ہوں۔ خطّاطی سیکھ رہا ہوں۔ میرا اچھا سا کمرہ ہے۔ نئے دوست ہیں ۔ بہت سارے کھلونے ہیں ۔لیکن اللہ میاں میں بہت اُداس ہوں کیونکہ یہاں ممی نہیں ہیں۔
    وہ مجھے بہت یاد آتی ہیں۔ حالانکہ میں اُن سے جھگڑا کرکے آیا ہوں۔ خفا بھی ہوں۔ پھر بھی وہ مجھے بہت یاد آتی ہیں۔
    میں جانتا ہوں وہ اب مجھ سے پیار نہیں کرتیں۔ اُن کی زندگی میں اب بس ڈانس ہے۔۔۔اور وہ آدمی سلطان بھی جس سے مجھے بہت نفرت ہے۔
    میں آج بھی ممی سے پیار کرتا ہوں۔ اُن کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ لیکن پاکستان میں نہیں یہاں ترکی میں۔
    یہاں بابا کی قبرہے۔ میں اور دادا ہر ہفتے قبر پر جاتے ہیں۔ دُعا مانگتے ہیں۔ میں وہاں بہت پیار ے پھول رکھ کر آتا ہوں۔ ممی کو سفید گلاب اچھے لگتے ہیں اور بابا کو Redگلاب میں بابا کی قبر پر سفید اور Redدونوں گلاب لے کر جاتا ہوں۔۔۔ ایک ایک۔۔۔
    ممی یہاں آجائیں تو پھر میں دادا اور ممی تینوں بابا کی قبر پر جایا کریں گے۔
    مجھے لگتا ہے بابا ممی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں مجھے کیوں ایسا لگتا ہے۔
    میرے پیارے اللہ کیا آپ ممی کو میرے پاس ہمیشہ کے لئے ترکی بھیج سکتے ہیں؟ میں اور دادا اُن کے ساتھ بہت خوشی سے رہیں گے۔آپ کو پتہ ہے میں ساری چیزیں آپ سے مانگتا ہوں کسی اور سے نہیں ۔ یہ مجھے ممی نے سکھایاتھا۔
    آپ اگر میری ممی کو میرے پاس بھیج دیں تو میں آپ کو ایک بہت پیارا Birds flowersاور butterfliesوالاکارڈ بناکر بھیجوں گا اور اُس کے اوپر خطاطی میں آپ کا نام بھی لکھوں گا جو میں نے دادا سے سیکھا ہے۔۔۔ بہت پیارا سا نام لکھوں گا آپ کا۔۔۔ اچھے سے رنگوں میں۔
    اور ہاں اب میں نے آپ کے نام کا الف بھی سیدھا لکھنا سیکھ لیا ہے۔
    دادا کہتے ہیں میں ممی کو خط لکھ کر اپنے پا س بلاؤں لیکن مجھے پتہ ہے وہ میرے کہنے سے نہیں آئیں گی مگر آپ کے کہنے پر آجائیں گی۔ اس لئے میں آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔
    میں آپ سے ڈھیر سارا پیار کرتا ہوں۔ اور زیادہ کروں گا۔ بس آپ ممی کو یہاں بھیجدیں۔
    اپنا خیال رکھیں۔
    آپ کا قلبِ مومن
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    لاؤنج میں داخل ہوتے ہی جس پہلی چیز نے مومنہ کی نظروں کو اپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ دیوار پر لگی اھدنا الصراط المستقیم والی پینٹنگ تھی۔ عبدالعلی کا نام دیکھے بغیر بھی وہ یہ اندازہ کرسکتی تھی کہ اُس کو بنانے والا عام آرٹسٹ نہیں تھا۔ وہ آنکھوں کو نہیں جیسے دل کو مٹھی میں لینے والا آرٹ تھا۔
    ”آپ بیٹھیں میں صاحب کو بلا کر لاتا ہوں۔”
    شکور نے بے حد مودبانہ انداز میں اُس سے کہا۔ اُس کا چہرہ مومنہ سلطان کو اپنے گھر پر دیکھ کر خوشی سے چمکنے لگا تھا۔ اتنے مہینوں بعد اُس کے صاحب کے گھر پر کوئی ”بڑا سٹار” آیا تھا اور وہ بھی وہ جو اس وقت 24گھنٹے کسی نہ کسی حوالے سے TVکی خبروں کاحصہ بنی ہوئی تھی۔
    مومنہ شکور کے جانے کے بعد اُس کیلی گرافی کی طرف جیسے کھینچی چلی گئی تھی۔ اُس پینٹنگ کے سامنے کھڑے اُس کے سحر میں گرفتار اُس نے آرٹسٹ کا نام ڈھونڈنا شروع کیا اور بالکل نیچے ایک کونے میں عبدالعلی کے مخصوص انداز میں کئے گئے دستخط دیکھ کر وہ ساکت ہوگئی تھی۔ وہ اُن کے نام اور کام سے واقف تھی۔ بے حد مخصوص انداز میں کئے جانے والے اُن کے دستخط سے بھی وہ انٹرنیٹ کی وجہ سے متعارف تھی اور وہ یہ یقین نہیں کرپارہی تھی کہ وہاں قلبِ مومن کے گھر پر عبدالعلی کی خطاطی دیکھنے والی تھی۔
    ”عبدالعلی صاحب کی خطاطی اور قلبِ مومن۔۔۔ کیا تعلق ہے ان دونوں کا۔۔۔ یا پھر وہ بھی صرف ایک مداح ہے اُن کے کام کا۔۔۔میری طرح۔”اُس نے پینٹنگ کے سامنے کھڑے کھڑے سوچا تھا۔
    ”السلام علیکم ۔” وہ یک دم اُس کی آواز پر پلٹی تھی۔
    وہ کس وقت اندر آیا تھا،مومنہ کو اندازہ نہیں ہوا۔ کچھ دیر کے لئے مومنہ کو جیسے اُس کے سلام کا جواب دینا بھی یاد نہیں رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
    ”وعلیکم السلام۔” مومنہ کو بالا آخر خیال آیا۔
    ”میں شاید کچھ جلدی آگئی۔” اُس نے قلبِ مومن سے نظریں ہٹاتے ہوئے اپنی کلائی میں بند ھی گھڑی پر نظر ڈالی تھی۔
    ”صرف سات منٹ۔۔۔ پاکستان میں بہت جلدی ہے ۔ ۔۔پلیز بیٹھیں۔” مومن نے مسکراتے ہوئے اُس سے کہا تھا۔ گفتگو کسی موضوع کے بغیر شروع ہوگئی تھی۔ مومن کا خیال تھا اُنہیں موضوع ڈھونڈنے اور بات شروع کرنے میں دقت ہوگی۔ وہ نروس تھا اور زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کے سامنے نروس ہورہا تھا۔ یہ مومنہ سلطان کا auraتھا ۔ اُس کی کامیابی کا اثر۔
    ”داؤد لیٹ تھا ورنہ اُسے ساتھ لے کر آتی تو پندرہ منٹ لیٹ ہوتی۔” مومنہ نے بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ اُس نے اپنا ہینڈ بیگ صوفہ کے سامنے پڑی میز پر رکھ دیا تھا۔
    ”میں آدھ گھنٹہ سے آپ کے انتظار میں تھا اس لئے مجھے فرق نہیں پڑا۔۔۔ کافی۔۔۔؟ چائے؟” اُس نے کہتے ہوئے موضوع بدلا۔
    ”پانی۔”مومنہ نے جواباً کہا تھا اور تب ہی اُس نے شکور کو بھی دیکھ لیا تھا جسے وہ مومن کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ نہیں پائی تھی۔
    ”کافی اور پانی۔”
    قلبِ مومن نے شکور سے کہا تھا اور وہ سرہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔ مومن نے اُس کے جانے کے بعد میز پر پڑا ایک لائٹر اور سگریٹ جھک کر اُٹھایا تھا اور خود بھی صوفہ پر اُس کے بالمقابل بیٹھ گیا تھا۔
    ”مجھے تمباکو سے الرجی ہے۔” اس سے پہلے کہ وہ لائٹر کو آن کرتا مومنہ نے اُس سے کہا تھا۔
    قلبِ مومن نے چونک کر اُسے دیکھا۔ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لہرائی تھی۔
    ”یہ سگریٹ پینے کے لئے نہیں ہے۔ میں جب نروس ہوتا ہوں تو صرف لائٹر جلاتا رہتا ہوں۔” اُس نے کہتے ہوئے لائٹر رگڑا تھا۔ شعلہ سا نمودار ہوا اور لہراتا رہا۔ مومنہ کی نظر اُس کے انگوٹھے اور اُنگلیوں کے درمیان دبے ہوئے لائٹر اور اُس سے نکلتے ہوئے شعلہ پر لحظہ بھر کے لئے جمی رہی پھر اُس نے نظریں ہٹالیں۔
    ”آپ نے پوچھا نہیں میں کیوں نروس ہوں؟” مومن کو اُس کی خاموشی اور بے اعتنائی کھلی۔
    ”مجھے دلچسپی نہیں ہے یہ جاننے میں۔” جواب بے حد ٹھنڈا تھا اور لہجہ سرد مہری لئے۔
    مومن جیسے اپنے سوال پر پچھتایا تھا۔ وہ دونوں دوست نہیں تھے اُن کے تعلق کی تاریخ قابل رشک نہیں تھی۔
    کچھ دیر کے لئے لاؤنج میں خاموشی چھائی رہی تھی۔ قلبِ مومن اُس سے دوبارہ کچھ کہنے کے لئے جیسے الفاظ ڈھونڈنے لگا تھا۔
    ”میں آپ سے ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں۔” اُس نے یک دم کسی تمہید کے بغیر کہا۔
    ”ہم فلم کی بات کریں۔۔۔یہ کس کی کہانی ہے؟” مومنہ نے اُس کی بات کاٹ دی تھی یوں جیسے اُسے توقع تھی کہ وہ اُس سے معذرت کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ جیسے اُس کی معذرت سننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ قلبِ مومن کو جھٹکا لگا تھا۔ وہ اُس کے پروجیکٹ میں کام کرنے کے لئے تیار ہوگئی تھی لیکن اُس کی معذرت سننے پر تیار نہیں تھی۔
    ”کیا مطلب؟” وہ اُس سوال پر اُلجھا تھا جو مومنہ نے اُس سے کہا تھا۔
    ”یہ حسنِ جہاں کی کہانی ہے؟” اُس نے یک دم مومنہ کو کہتے سنا۔
    قلبِ مومن کے پیروں کے نیچے سے زمین جیسے لحظہ بھر کے لئے کھسکی تھی۔ آخری جملہ جو وہ مومنہ سے توقع کرسکتا تھا۔ وہ یہی تھا۔ وہ اُس کہانی میں حسنِ جہاں کو کیسے پہچانی تھی اور وہ حسنِ جہاں کو جانتی کیسے تھی۔ وہ کہانی انٹرنیٹ پر پڑی حسنِ جہاں کی سوانح عمری سے میل نہیں کھاتی تھی پھر مومنہ سلطان نے آدھا سکرپٹ پڑھنے پر اُس کردار اور اُس کہانی کو کیسے پہچانا تھا۔ قلبِ مومن کا دماغ اس وقت جیسے بھنور بنا ہوا تھا۔
    ”وہ کون ہے؟” مومنہ سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے قلبِ مومن نے دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا تھا اور ایک لمحہ کے لئے اُس کے سوال نے جیسے مومنہ کو حیران کیا تھا۔
    ”ماضی کی ایک مشہور فلم ایکٹریس اور ڈانسر۔” مومنہ نے بالا آخر کہا۔
    ”میں اُسے نہیں جانتا۔ اس کہانی کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔” مومن نے دو ٹوک انداز میں اُس سے کہا۔
    ”مومن بھائی آپ کا پانی۔۔۔ مومنہ جی آپ کی کافی۔” شکور نے زندگی میں پہلی بار غلط وقت پر صحیح اینٹری کی تھی اور قلبِ مومن کو صحیح وقت پر صحیح چیز دی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ کافی مومن نے اپنے لئے منگوائی تھی مگر وہ اُسے مومنہ سلطان کے سامنے رکھ کر پانی اُس کے پاس لے آیا تھا اور مومن نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر گلاس اُٹھا کر اُسے ایک ہی سانس میں خالی کیا تھا۔ وہ اگر مومنہ کو خود نہ بھی اپنے نروس ہونے کے بارے میں بتا چکا ہوتا تب بھی مومنہ کو اُسے دیکھتے ہوئے یہ بوجھ لینا مشکل نہ ہوتا۔
    کافی کے کپ سے اُٹھتے بھاپ کو دیکھتے ہوئے اُس نے حیرانی سے سوچا تھا ۔ قلبِ مومن اُس سے کیا اور کیوں چھپانے کی کوشش کررہا تھا یا پھر وہ کہانی واقعی حسنِ جہاں کی نہیں تھی اور وہ صرف اتفاقی مماثلت تھی۔ خود کو دی جانے والی دوسری توجیہہ اُسے خود ہی بھودی لگی تھی۔ وہ سلطان سے بات نہ کرچکی ہوتی تو اُس مماثلت کو اتفاقی ہی سمجھ لیتی۔ پر اُس کے پاس ”گواہ” تھا۔ اُس آدھے سکرپٹ کے انٹرول کا۔
    ”مجھے لگا یہ کسی کی زندگی کی کہانی ہے۔” اُس نے مومن سے بحث کئے بغیر کہنا شروع کیا تھا۔ وہ اُس پر نظریں جمائے بیٹھا ہوا تھا۔
    ”بے حد خوبصورت کہانی ہے ۔ عالیہ اور عالیان کی۔۔۔ اور زین کی۔۔۔ اور پھر عبداللہ کا کریکٹر ۔۔۔ آدھا سکرپٹ تھا۔۔۔ باقی آدھا کب مل سکتا ہے؟”
    ”آپ حسنِ جہاں کو کیسے جانتی ہیں؟” قلبِ مومن نے یک دم اُسے ٹوکا تھا۔
    وہ پلکیں جھپکائے بغیر اُسے دیکھتی رہی۔
    ”کون حسنِ جہاں؟” بے حد ہموار لہجے میں اُس نے قلبِ مومن سے پوچھا تھا۔
    ”جس کی بات کررہی تھیں آپ؟” قلبِ مومن کو اُس کی بے نیازی بُری لگی تھی۔
    ”میں اُنہیں نہیں جانتی۔” اُس کے جواب نے قلبِ مومن کو زچ کیا تھا۔
    اُس نے جھوٹ بولا تھا اور وہ اُس کے جھوٹ کا جواب جھوٹ سے ہی دے رہی تھی اور قلبِ مومن کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ اُسے یہ کہہ پاتا کہ وہ جھوٹ بول رہی تھی۔
    ”مومن بھائی کوئی خالق علی صاحب آئے ہیں۔” شکور نے ایک بار پھر اینٹری دی تھی۔
    ”Gosh۔۔۔ میں نے تو اُنہیں بھی آج ہی کا ٹائم دیا ہوا تھا۔” مومن بڑبڑاتے ہوئے گڑبڑایا تھا۔ خالق علی کو اُس نے آج بلایا ہوا تھا ۔ یہ اُسے یاد ہی نہیں رہا تھا۔
    ”آپ کو بُرا نہ لگے تو میں اُن سے مل لوں۔ صرف چند منٹوں میں فارغ کردیتا ہوں میں اُنہیں۔” اُس نے بڑی شائستگی سے مومنہ سے پوچھا تھا۔ مومنہ نے سرہلادیا۔
    ”لے آؤ اُنہیں۔” وہ شکور سے کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کر لاؤنج کے دوسرے حصے میں چلا گیا تھا۔ مومنہ نے اُسے اور شکور کو جاتے دیکھا اُس کی جگہ کوئی اور ایکٹریس ہوتی تو اس بے توجہی پر ہنگامہ کھڑا کردیتی کہ اُس کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے ساتھ میٹنگ شروع کردی گئی مگر قلبِ مومن کے لئے دل میں ہر طرح کے شک و شبہات رکھنے کے باوجود مومنہ کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ اُسے کمتر اور کم حیثیت ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ مگر یہ خیال قلبِ مومن کو آیا تھا کہ وہ یقینا یہ سمجھے گی کہ وہ اُسے یہ احساس دلانے کی کوشش کررہا تھا۔ لاؤنج کے دوسرے حصے میں خالق علی کا انتظار کرتے ہوئے بھی قلبِ مومن کا ذہن مومنہ سلطان میں اُلجھا ہوا تھا۔
    وہ اُدھیڑ عمر دراز قد بے حد متمول نظر آنے والا شخص تھا جسے لے کر شکور لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔
    ”خالق علی۔” ایک بے حد گرم جوش مسکراہٹ کے ساتھ اُس نے قلبِ مومن کے سامنے آتے ہی جیسے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنا تعارف کروایا تھا۔ قلبِ مومن نے جواباً اپنا نام لیتے ہوئے اُس سے مصافحہ کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ جسے خالق علی نے بے حد گرم جوشی کے ساتھ تھاما تھا۔
    ”میں کچھ جلدی میں ہوں قلبِ مومن صاحب مجھے اپنی فلائٹ پکڑنی ہے۔ اس لئے آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔” خالق نے اُس سے ملنے کے بعد صوفہ پر بیٹھتے ہوئے قلبِ مومن سے خود ہی گفتگو کا آغاز کیا تھا۔
    ”میرے لئے آپ سے ملاقات اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔ آپ کے دادا عبدالعلی صاحب ہمیشہ بڑی محبت سے آپ کا ذکرکرتے تھے اور میں ہر بار آپ سے ملنے کا سوچتے ہوئے بھی مل نہیں پایا اور اب دیکھیں کن حالات میں آپ سے ملاقات ہورہی ہے۔”
    لاؤنج کے دوسرے حصے میں بیٹھی مومنہ سلطان دم سادھے خالق علی کی آواز سن رہی تھی جو لاؤنج کے اُس حصہ میں بھی آ رہی تھی جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ جس عبدالعلی کا ذکر کررہا تھا وہ اُس خطاط عبدالعلی کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا۔
    اُسے اھدنا الصراط المستقیم کی اُس Paintingکے سامنے بیٹھے اُسے دیکھتے ہوئے اب یہ شبہ تو نہیں رہاتھا ۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ سکرپٹ لکھنے والے کا حسنِ جہاں سے کیا تعلق تھا۔ مگر اس تعلق میں کہیں عبدالعلی بھی ایک زینہ تھے یہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ عبدالعلی اور اُن کے آبا و اجداد سے واقف تھی ۔ مگر وہ عبدالعلی کی اگلی نسل میں قلبِ مومن کو دیکھ کر شاک میں آگئی تھی۔
    ”عبدالعلی صاحب نے اپنی وفات سے چند ہفتے پہلے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ آپ کے پاس خطاطی کے سات شاہکار ہیں جو آپ بیچنا چاہتے ہیں اور میں اُسی سلسلے میں حاضر ہوا ہوں۔ آپ کو یہ بات میں نے messageکے ذریعے بھی بتائی تھی۔ ” خالق علی کچھ ابتدائی تعزیتی کلمات کے بعد اب لمبی چوڑی تمہید کے بغیر اصل مدعا پر آگیا تھا۔
    ”ہاں دادا نے مجھے بھی آپ کا نمبر دیا تھا اُن ہی Paintingsکے لئے کہ میں جب اُنہیں بیچنا چاہوں تو آپ لینا چاہیں گے۔” قلبِ مومن نے جواباً کہا۔
    ”لینا چاہیں گے؟ میں سر کے بل اُنہیں لینے کے لئے آپ کے در پر موجود ہوں جناب۔۔۔ عبدالعلی کے ان شاہکاروں کے لئے جوتے گھساسکتا ہوں آپ کے گھر آ آ کے۔’ ‘ خالق علی نے اُس کا جملہ بیچ میں سے ہی اُچکا تھا۔
    ”شکور وہ سٹور والی پینٹنگز لاکر انہیں دکھا دو۔” قلبِ مومن نے خالق علی کی بات کے جواب میں کوئی بھی تبصرہ کئے بغیر اندر آتے ہوئے شکور سے کہا جو خالق علی کے لئے مشروبات لے کر آیا تھا۔ شکور نے عجیب سی نظروں سے قلبِ مومن کو دیکھا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۹

    الف — قسط نمبر ۰۹

    میرے اُستاد محترم!
    اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ سے مل کر آیا ہوں اور ابھی تک سحرزدہ پھر رہا ہوں۔ پیرس فیشن ویک میں شرکت کے لیے پیرس آیا ہوا ہوں اور ہر شام شانزے لیزے پر دُنیا کی چکاچوند میں سے گزرتے ہوئے آپ کو یاد کرتا ہوں۔
    خوب صورت عورتوں کے ہجوم میں مہنگے ترین برانڈز کی یلغار میں دُنیا کی اس بھیڑ میں سکون صرف اس تخلیق میں ہے جو آپ کرتے ہیں، وہاں ترکی کے اس چھوٹے سے گھر کی خاموشی اور سکون شانزے لیزے کی اس چکاچوند پر بھاری پڑتی ہے۔
    آپ کے پاس اس گھر میں بیٹھ کر مجھے نہ پیرس یاد آتا تھا، نہ میلان مگر یہاں اس دنیا میں گھومتے ہوئے آپ کی باتیں اور آپ کی خطاطی میرے ساتھ گھومتی ہے، میرا سایہ بن کر۔ نہ میں کان بند کر سکتا ہوں نہ آنکھیں کر بھی لوں تو کیا فرق پڑے گا، آپ تو کہیں دل اور دماغ کا حصہ بن گئے ہیں۔ یا شاید روح کا۔
    بڑا غلط کیا آپ نے اسے بیدار کر کے۔ اب یہ اس ہجوم کے بیچ میں رہنا نہیں چاہتی جہاں میں رہتا ہوں، مجھ سے اپنے جیسوں کی محبت مانگتی ہے۔ وہ میں اسے کہاں سے لا کر دوں عبدالعلی صاحب؟ میں تو آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو جانتا ہی نہیں جس کے پاس یہ خوش ہو جائے اور اسے خوش کرنے کی تلاش میں نکلوں گا تو دنیا چھوڑنی پڑے گی، وہ میں چھوڑ نہیں سکتا کیوں کہ اس ”دنیا” کو پانے کے لیے میں نے بہت محنت کی ہے۔ اس دنیا کو پاکر کھو دینے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے۔ آپ تو مومن ہیں، آپ نے کبھی ”دنیا” کی تمنا کی ہی نہیں۔ وہ بار بار چل کر آپ کے پاس آئی بھی تو آپ نے اپنی روح کے دروازے بند رکھے۔ مگر آپ کسی ایسے کو جانتے ہیں جو دنیا کو پاکر اسے خود کھودے؟ کوئی ایسا ملے تو مجھے ضرور ملوائیں اُس سے۔ ابراہیم کی مشکل شاید وہ ہی آسان کر دے۔
    اس بار آپ کو دیکھ کر دل بڑا بوجھل ہوا، شاید اس لیے بھی زیادہ یاد آرہے ہیں آپ۔ آپ کو غم زدہ اور رنجیدہ دیکھ کر مجھے اپنے ماں باپ یاد آتے رہے۔
    میں نے پہلی بار جانا، میرے یورپ آجانے اور پیچھے سارے رابطے ختم کر دینے کے بعد وہ کیسے تڑپتے ہوں گے۔ طہٰ تو مر گیا، مگر میں نے تو زندہ ہوتے ہوئے بھی انہیں ترسا دیا۔ پتا نہیں کیا ہوا تھا عبدالعلی صاحب کہ یورپ آکر پیچھے رہ گئے رشتوں کو بھول ہی گیا تھا میں۔ گاؤں، گھر، ماں، باپ، بہن، بھائی، سب۔ آزاد پرندہ بن کر جینا چاہتا تھا میں، پر یہ یاد ہی نہیں رہا تھا مجھے کہ آزاد پرندہ اُڑتا آسمان میں ہے مگر گھونسلہ وہ بھی درخت پر ہی بناتا ہے جس کی جڑیں مٹی میں ہوتی ہیں۔
    آپ کے طہٰ کے لیے غم کو دیکھ کر مجھے اپنے ماں باپ نہیں بھول رہے۔ آپ ظالم نہیں تھے پر میں ظالم تھا۔ ظالم کو اپنے ظلم کا احساس ہو پر تب تک مظلوم ہی نہ رہے تو پھر ظالم کیا کرے؟ میرے ماں باپ سالوں پہلے دنیا سے چلے گئے اور مجھے احساسِ زیاں آج ہو رہا ہے۔ اب اگر توبہ بھی کروں تو کس منہ سے کروں؟
    میرا دل چاہتا ہے، میں آپ سے آپ کا غم بانٹ لوں۔ کاش غم کوئی چیز ہوتا جو میں آپ سے لے کر کہیں دور پھینک آتا۔
    میں نہیں جانتا، آپ کا پچھتاوا کیا ہے جس کا بار بار ذکر کر کے آپ چُپ ہو جاتے تھے مگر میں یہ بھی نہیں جانتا، طہٰ آپ کے پاس کیوں واپس نہیں آیا مگر میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اس نے جو کیا کیوں کیا ہو گا۔ پیار بہت کچھ بھلا دیتا ہے۔۔۔ رب سب سے پہلے۔۔۔ ماں باپ اس کے بعد۔۔۔ دنیا سب سے آخر میں۔۔۔ میں گزرا ہوں اس راستے سے۔ ۔۔اس کے سب نشیب جانتا ہوں اور فراز تو اس راستے میں کہیں ہے ہی نہیں اس کا کیا ذکر کروں۔
    طہٰ کی بدقسمتی بس اتنی کہ اس کی قسمت میں شوبزنس کی عورت لکھی تھی۔ میں پاکستان کے شوبزنس کو نہیں جانتا۔ اٹلی اور یورپ کے شوبزنس کو جانتا ہوں۔ شوبزنس کی عورت میں حیا نہیں رہتی۔ یہ اس پیشے کی مجبوری ہے پر وفا کیوں نہیں ہوتی؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتیں۔ طہٰ نیک روح تھا، بھٹک گیا۔ شوبزنس بڑی ظالم دنیا ہے اور اس دنیا سے جڑنے والے بھی۔ یہ سراب بن کر نظروں کو بہکاتا ہے اور تب تک بہکاتا ہی رہتا ہے جب تک انسان اندھا نہ ہو جائے۔
    آپ کی بہو ایک بُری عورت تھی، اس لیے آپ کے لیے آزمائش بن کر آئی لیکن عبدالعلی صاحب یہ آزمائش آپ کی زندگی میں نہ آتی تو آپ کا مرتبہ کیسے بڑھتا۔ نیکوں کے راستے میں آزمائشیں آتی ہیں اور بُروں کے راستے میں مخمل۔ یہ آپ ہی نے کہا تھا نا مجھے؟
    اُستاد محترم! آپ کی باتیں آپ ہی کو لکھتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہو رہا ہوں۔ پر کیا کروں، آپ کو دلاسا دینا چاہتا ہوں اور اس کے لیے میرے پاس لفظوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
    اگر میں کچھ کر سکتا ہوں آپ کے لیے تو مجھے حکم دیجئے۔ سید ابراہیم اُڑتا ہوا آئے گا۔ آپ کا بیٹا نہیں بن سکتا مگر آپ کا فرماں بردار ضرور ہو سکتا ہوں۔
    ایک گمراہ
    سید ابراہیم
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہ میز بہت سارے کاغذات سے بھری ہوئی تھی اور ان کاغذات میں کیا کیا تھا، کوئی پہلی نظر میں جان بھی نہیں سکتا تھا۔قلبِ مومن نے اس میز پر ہمیشہ کھانا دیکھا تھا یا قہوہ یا پھر اخبار مگر اب ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز دوبارہ اس میز پر نہیں آنے والی تھی۔
    وہ کتنے دن سے وہاں اس گھر میں تعزیت کے لیے آنے والوں سے مل رہا تھا۔ وہ گنتی بھول گیا تھا۔ وہ کتنے دن سے وہاں آنے والی ڈاک بغیر کھولے اس میز پر ڈھیر کرتا جا رہا تھا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا۔ وہ غم میں نہیں تھا وہ حیرت میں بھی نہیں تھا۔ وہ صرف یہ بوجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور کسی سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔
    اس نے آخری بار انہیں آئی سی یو میں دیکھا تھا اور اس کے وہاں پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ اس ہاسپٹل میں ان کو ان آخری چند گھنٹوں میں ملنے کے لیے آنے والا واحد شخص نہیں تھا۔ وہ ہاسپٹل اس کے آنے سے پہلے عبدالعلی کے ان شاگردوں سے بھرا ہوا تھا جو ان کے ہاسپٹل میں ہونے کا سن کر پتا نہیں کہاں کہاں سے آئے تھے اور قلبِ مومن کا عبدالعلی سے رشتہ جان کر اس سے تعزیت کرنے لگے تھے۔
    قلبِ مومن کا خیال تھا، اسے اب عبدالعلی کی تدفین کے انتظامات کرنے پڑیں گے۔ اسے یہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ اسٹیٹ کی طرف سے ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں اور اس سب میں قلبِ مومن کی جیسے کوئی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ وہ بیک گراؤنڈ میں چلا گیا تھا۔ ایک خاموش تماشائی کے طور پر۔۔۔ یا شاید اچنبھے میں آجانے والے تماشائی کے طور پر۔
    انہیں اپنی زندگی میں قلبِ مومن کی ضرورت شاید رہی ہو۔ موت کے بعد نہیں رہی تھی۔ وہ مجمع جو انہیں دنیا سے رخصت کرنے کے لیے آیا تھا وہ کہاں کہاں سے آرہا تھا اور کیوں آرہا تھا۔ قلبِ مومن ششدر تھا۔ وہ جانتا تھا۔ عبدالعلی نامور خطاط تھے مگر وہ ناموری کتنی تھی۔ قلبِ مومن نے اتنے سالوں میں یہ کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی اور اب جب وہ ان کا مقام دیکھ رہا تھا تو وہ ششدر تھا۔
    آدھی رات کو وہ اس میز پر پڑے ان لفافوں کو باری باری کھولنے لگا تھا۔ وہ مختلف ممالک کے کلچر منسٹریز کی طرف سے آئے ہوئے تعزیتی پیغامات تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے آرٹ میوزیمز اور گیلریز سے آئے ہوئے تعزیتی خطوط۔ عبدالعلی کا کام کہاں کہاں نہیں رکھا ہوا تھا اور وہ ان کا اکلوتا پوتا اس سب سے بے خبر تھا۔
    اس گھر میں رات کے اس پہر عجیب سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں اگر کچھ تھا تو کاغذ کی آوازیں یا آتش دان میں چٹختی لکڑیوں کی آواز۔
    قلبِ مومن نے ہاتھ میں پکڑا وہ سرکاری خط میز پر رکھ دیا جس میں حکومت جاپان نے عبدالعلی کے لیے بعد از مرگ ایک سول ایوارڈ دینے کی اطلاع دی تھی۔ اس خط میں اس سے پہلے دیے جانے والے ایک اور ایوارڈ کا ذکر بھی تھا اور اس گھر میں قلبِ مومن نے کبھی کہیں ان ایوارڈز میں سے کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ اس گھر کی دیواروں پر مکمل اور نامکمل خطاطی کے نمونوں کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں۔ قلبِ مومن کے اپارٹمنٹ کے برعکس جو اس نے ہر اس ”ثبوت” سے سجا رکھی تھیں جو دنیا نے اسے اس کی نام وری کے لیے دیے تھے۔ اشتہار کی طرح۔
    اور اس ہی اپارٹمنٹ میں کھڑے ہو کر وہ عبدالعلی سے پوچھتا رہا تھا کہ انہیں ان کے کام نے اتنے سالوں میں کیا دیا اور عبدالعلی بغیر گنوائے چپ کھڑے اس کی باتیں سنتے رہے تھے اور اب ان کے جانے کے بعد ان کے سامان میں قلبِ مومن وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ جو دنیا نے انہیں دیا تھا۔
    وہ کتنے دن اور کتنی راتوں سے نہیں سویا تھا، وہ جیسے گنتی بھول گیا تھا۔ اسے عبدالعلی کے بارے میں سوچنے کا بھی موقع نہیں ملا تھا۔ رونے کا بھی نہیں۔ پچھتانے کا بھی نہیں اور اب اتنے دنوں کے بعد رات کے اس پہر میں وہ جیسے یہی سارے کام کر رہا تھا۔
    ”تو دادا! یہ تھے آپ۔۔۔ اور میں قلبِ مومن کبھی آپ کو جان ہی نہیں پایا۔۔۔ یا آپ نے جاننے دیا ہی نہیں۔”
    ایک کے بعد ایک لفافہ کھولتے، ان تعزیتی پیغامات پر نظر ڈالتے قلبِ مومن نے سن ذہن کے ساتھ سوچا تھا۔
    ”مجھے ساری دنیا جانتی ہے۔۔۔ آپ کو کون جانتا ہے۔۔۔آپ نے زندگی کے اتنے سال جس کام کو دیے اس نے آپ کو کیا دیا؟ اور مجھے دیکھیں۔۔۔ مجھے کون نہیں جانتا۔” اس نے دادا سے کہا تھا۔
    Lourve میوزیم میں اُس ہفتہ کو The Last Master of Mohaqqiq کے نام کیا گیا تھا۔ قلبِ مومن نے ہاتھ میں پکڑے اس اطلاع نامہ کو بھی بے حد خاموشی کے ساتھ کاغذوں کے اسی ڈھیر پر رکھ دیا جنہیں کھولتے کھولتے اس کے ہاتھ تھکنے لگے تھے۔
    Lourve سے برٹش میوزیم، برٹش میوزیم سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی۔ عبدالعلی کا کام ہر جگہ موجود تھا اور اب ان کے کام کی تصاویر اخبارات کے اس ڈھیر میں مختلف ہیڈنگز کے ساتھ تھیں جو اس گھر میں سالوں سے آتا اور اتنے دنوں میں جمع ہوتے ہوئے ردی کے ایک ڈھیر کی شکل اختیار کر گیا تھا اور اس ردی کے ڈھیر کو قلبِ مومن اب کھنگال رہا تھا۔ اس شخص کے بارے میں جاننے کے لیے جس کو اس نے ساری عمر جاننے کی کوشش نہیں کی تھی۔
    وہ اسے ترکی کے بہترین بورڈنگ اسکول میں پڑھانا کیسے افورڈ کر پائے تھے۔ اسے امریکہ کی اس مہنگی ترین یونیورسٹی میں کیسے پڑھاتے رہے تھے۔ قلبِ مومن کو آج اندازہ ہوا تھا۔ عبدالعلی کے لیے ”دنیا” جمع کرنا اتنا آسان تھا۔ چٹکی بجاتے جتنا۔ اور وہ پھر بھی اس کی طرح اس پینٹ ہاؤس میں نہیں رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی اسی لکڑی کے چھوٹے سے گھر میں گزار دی تھی۔ وہ سارے ایوارڈز جو انہیں دنیا بھر کی حکومتوں اور آرٹ ایسوسی ایشنز کی طرف سے ملتے رہے تھے، وہ اسی گھر میں پڑے چند بکسوں میں بند تھے۔ دھول مٹی اور جالوں میں اٹے ہوئے۔ یوں جیسے لینے والے نے اپنے اُن اعزازات کو کبھی کھول کر دیکھا تک بھی نہ ہو۔ وہ گھر زندگی میں پہلی بار قلبِ مومن کے لیے بھول بھلیاں بن گیا تھا۔ وہاں پڑی ہر چیز عقل کو خیرہ کرنے والی اور اس گھر کا جانے والا مالک اس کو سارے جواب دیتے ہوئے گونگا کر گیا تھا۔
    وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ دیواروں پر لگی کیلی گرافیز کو اس نے پہلی بار بغور دیکھنا شروع کیا۔
    ”اور میں قلبِ مومن ”عزت” اور شہرت میں کبھی تمیز ہی نہیں کر سکا۔ نام اور ناموری کا فرق ہی نہیں پہچان سکا۔ کامیابی کا مفہوم ہی نہیں سمجھ پایا۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});