چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

ایسی شاہ خرچی اور سخاوت کے لیے بندے کو محبت کرنی پڑتی ہے اور تم بھی سچی، بڑی گھنی میسنی ہو، ہمیشہ انکار ہی کرتی رہی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اب دیکھو! زوار آفندی کی منگیتر بن بیٹھی ہو!”
شیزا کو اس کی اور زوار کی منگنی کے قصے میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی تھی۔
”میں کچھ بھی کہہ لوں، تم نے میری کسی بات پر یقین تو کرنا نہیں ہے۔”
وہ اس کی باتوں اور تجسس بھرے انداز سے بے زار ہو گئی۔
شیزا نے اس کی اس بے زاری سے یہ نتیجہ اخ کیا کہ وہ اب مغرور ہو گئی ہے۔
”کر لیا ہے یقین بابا۔ مگر ایسے ہی تمہاری جان نہیں چھوڑیں گے ہم، فوراً تھیٹر آئو اور ہم سب کو اچھی سی ٹریٹ دو۔ ہم لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور منگنی کی انگوٹھی پہن کر آنا ہم بھی تو دیکھیں کہ کیسی انگوٹھی پہنائی ہے تمہیں زوار نے!”
شیزا نے اس کی بے توجہی کو نظر انداز کر کے مصلحت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اصرار کیا۔
”ابھی تو میرا آنا بہت مشکل ہو گا۔”
اس نے بہانہ بنانا چاہا مگر شیزا نے فوراً ٹوک دیا۔
”اب تمہارا کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ منگنی پر ہمیں نہیں بلایا، ہم نے کوئی شکوہ نہ کیا کم از کم ہمیں ٹریٹ تو دینے کے لیے آئو۔ اب تم مغرور ہو گئی ہو اب پرانے دوستوں کو کہاں لفٹ کروائو گی۔ میں بھی کہوں کہ رانیہ جیسی passionate آرٹسٹ نے تھیٹر کیسے چھوڑ دیا، ضرور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ ہو گی۔ اب پتا چلا کہ تھیٹر تم نے زوار کی وجہ سے چھوڑا ہے۔ ہاں بھئی اپنی منگیتر اور بیوی کے معاملے میں تو پاکستانی مرد بڑے پوزیسو ہوتے ہیں۔”
شیراز نے مسلسل بولتے ہوئے کہا۔ اسے اقرار کرتے ہی بنی۔
”اچھا۔ آرہی ہوں میں۔”
اس نے گہرا سانس لے کر کہا اور وال کلاک پر ٹائم دیکھتے ہوئے فون بند کر دیا۔
وہ بڑی عجلت میں تیار ہوئی۔
نیلی جینز پر نیلے رنگ کا ہی کرتا پہنا اور گلے میں اجرک کے پرنٹ جیسا دوپٹہ پہن لیا۔ دراز سے انگوٹھی نکال کر انگلی میں پہنی، جسے اس نے منگنی کے بعد بے دلی سے دراز میں رکھ دیا تھا۔ انگوٹھی بہت مہنگی اور قیمتی لگتی تھی مگر اس نے ابھی تک اس رشتے کو دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ بہت ہلکا میک اپ کر کے اس نے بال ایسے ہی کھلے چھوڑ دیے۔ اس نے سوچا کہ راستے میں کسی اے ٹی ایم پر رکے گی منگنی پر ملنے والی سلامیوں کے پیسوں کے لفافے میں سے رقم نکال کر پرس میں رکھی اور گھر سے روانہ ہو گئی۔ سارا راستہ وہ سوچتی ہوئی آئی کہ اسے جس طرح لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے ہیں۔ زوار آفندی کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ ایک بزنس ٹائیکون تھا۔
وہ تھیٹر پہنچی تو سارے کولیگز اس کے منتظر تھے۔ بظاہر تو سب لوگ خوش نظر آرہے تھے مسکرا بھی رہے تھے مگر ان کے انداز میں بے پناہ تجسس تھا۔ لوگوں کے سوالات ختم ہی نہیں ہو رہے تھے۔ کہیں رشک تھا، کہیں ایکسائٹمنٹ تھی، کہیں تجسس تھا تو کہیں چھپا ہوا حسد تھا۔
وہاں موجود ہر شخص کو اس Love Storyکو مکمل طور پر جان لینے کی جلدی تھی اور رانیہ تو اسے کوئی Love Story سمجھتی بھی نہیں تھی، اس کے نزدیک یہ صرف اتفاق تھا کہ وہ زوار کی منگیتر بن گئی تھی۔
”زوار نے مجھے دیکھا اور پسند کر لیا اور اپنی فیملی کو میرے گھر پروپوزل کے لیے بھیج دیا۔ بس اتنی سی بات ہے، کتنی بار بتائوں تم لوگوں کو۔”
وہ وضاحت دے کر تھک گئی مگر کسی نے یقین نہیں کیا۔
”اچھا خیر۔ نہیں بتانا چاہتی تو نا بتائو۔ کچھ لوگوں کی عادت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ اپنی Love Storyکو ڈسکس نہیں کرتے۔”
اس کی وضاحت کے جواب میں اس قسم کے بہت سے جملے بولے گئے۔ اسے اپنا آپ احمق محسوس ہوا۔ پھر اس کی Engament Ring پر تبصرے شروع ہو گئے۔ وہ ایک بیش قیمت انگوٹھی تھی جس کے درمیان میں ایک قیمتی پتھر چمک رہا تھا اس کے گرد کئی ہیرے لگے ہوئے تھے۔ ایک بے حد یونیک ڈیزائن کی حامل انگوٹھی کہ دیکھنے والی ہر نظر کچھ لمحوں کے لیے اس انگوٹھی پر ٹھہر جاتی۔ یہ تو کوئی بھی بتا سکتا تھا کہ وہ ڈائمنڈ رِنگ تھی۔
”کہاں سے بنوائی ہے یہ رِنگ؟”
کئی لوگوں نے ستائشی انداز میں پوچھا۔
”Piagetکی ہے۔”
اس نے وہی نام بتایا جو اس رِنگ کے ڈبے پر لکھا تھا۔
کچھ دیر کے لیے فضا میں سناٹا چھا گیا، وہاں موجود لوگ بے اختیار ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
رانیہ نے جس جیولری برانڈ کا نام بتایا تھا وہ سوئٹزرلینڈ کا تھا اور دنیا کا مہنگا ترین جیولری برانڈ تھا۔
”پھر تو اس رِنگ کی مالیت لاکھوں روپے ہو گی۔”
کہیں سے آواز آتی۔
”یا شاید کروڑوں روپے۔”
کسی نے رشک سے کہا۔
”کتنے ملین تو زوار نے ایک انگوٹھی پر ہی خرچ کر دیئے۔”
آوازوں میں رشک اور افسوس کا مِلا جُلا سا تاثر تھا۔
”زوار آفندی کے پاس دولت کی کوئی کمی تو نہیں ہے۔”
کسی نے سرد آہ بھر کر کہا۔
”دولت کے کھیل ہیں سارے۔ کیا Piaget تو کیا Graff Pink۔”
ہر کوئی اپنی اپنی رائے دے رہا تھا۔
”اور بھی تحفے آئے ہوں گے۔”
اس کی ایک Co-Star نے اندازہ لگایا۔
”ہاں۔ زوار کی ممی کافی تحائف لے کر آئی تھیں مگر میں نے ابھی تک کھولے نہیں ہیں۔”
”ہاں بھئی اب تو یہ انداز رانیہ پر جچتا ہے۔”
سب لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اب مغرور ہو گئی ہے۔
شیزا نے بھی دل میں سوچا۔
کہاں زوار آفندی اور کہاں رانیہ کا پہلا منگیتر جو پرانی سی جینز اور شرٹ پہنے اپنی کھٹارا موٹرسائیکل پر تھیٹر آیا کرتا تھا جسے ان لوگوں نے بہت کم مسکراتے دیکھا تھا۔ پتا نہیں بے چارہ کتنے مالی اور معاشی مسائل کا شکار تھا کہ مسکرانا بھول ہی بیٹھا تھا۔ شیزا کے ہونٹوں سے ایک سرد آہ نکلی۔ قسمت کی بات تھی ورنہ تو زوار کی نظر اس پر بھی ٹھہر سکتی تھی۔
وہ رانیہ کی انگوٹھی کو دیکھ کر بادل نخواستہ مسکرائی۔ سب لوگ ملی جلی آوازوں میں یہی باتیں کر رہے تھے۔
زوار آفندی، قیمتی انگوٹھی، Love Story
آج تو جیسے ان لوگوں کے پاس اور کوئی بات ہی نہیں تھی۔
رانیہ بے زار ہو گئی۔
”زوار سے منگنی کیا ہو گئی۔ رانیہ کا تو انداز ہی بدل گیا ہے۔”
کسی نے اسے چھیڑا۔

پھر بھی اس کے انداز میں کوئی تبدیلی نہ آئی، آج وہ ایک وی آئی پی تھی، سب لوگ دوستانہ انداز میں بات کرنے کے باوجود محتاط بھی تھے۔ رانیہ نے بمشکل ایک گھنٹہ وہاں گزارا پھر وہ ایک ضروری کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ آئی۔ جب وہ اپنی گاڑی کے پاس پہنچی تو اس نے زوار کو اپنی طرف آتے دیکھا۔
وہ حیران ہوئی پھر گہرا سانس لے کر وہیں رک گئی۔
تو وہ اس کی یہاں آمد سے باخبر تھا مگر کیسے؟ کیا اسے تھیٹر میں سے کسی نے بتایا تھا؟ پھر اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔
ضرور یہ اس کے گھر کے کسی فرد کی شرارت تھی۔ وہ اپنے گھر والوں کو بہت اچھی طرح جانتی تھی جاسوس تھے سارے، عجیب و غریب ایڈونچرز کے شوقین اور نِت نئے کھیل تماشے کرنے کے ماہر۔
وہ قدم قدم چلتے ہوئے عین اس کے سامنے آکر رک گیا۔ آج اس کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ تھی۔ نیلی جینز پر سفید شرٹ پہنے، وہ آج خاصے Casual حلیے میں تھا۔
”آپ؟”
وہ اسے سامنے دیکھ کر بس اتنا ہی کہہ پائی۔
”جی میں۔ کیسی ہیں آپ؟”
وہ دلکشی سے مسکرایا۔
”ٹھیک ہوں۔”
اس نے فارمل سے انداز میں کہا۔
”آئیے نہر کنارے چلتے ہیں، مجھے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں آپ سے۔”
انداز شائستہ مگر تحکم سے بھرپور تھا۔
وہ حیران ہوئی۔
”تو گھر پر ہی کر لیتے ہیں باتیں۔”
وہ متامل تھی۔
”جو بات نہر کے کنارے پر ہو سکتی ہے وہ گھر پر نہیں ہو سکتی۔”
وہ اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے نرم مگر حتمی انداز میں بولا۔
اب وہ اس کا منگیتر تھا وہ اسے انکار بھی نہیں کر سکتی تھی۔
چاروناچار اسے زوار کے ساتھ نہر کے کنارے آنا پڑا۔
نہر کا گدلا پانی سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ آسمان پر افق کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
زوار نے قریب ہی گاڑی پارک کی پھر وہ دونوں نہر کے کنارے آبیٹھے۔
رانیہ نے سرسبز درختوں کو دیکھتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
”آپ اپنی ممی اور سارہ کو لینے کینیڈا چلے گئے۔”
”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ مجھے اپنے فرائض سنبھالنے چاہئیں۔”
وہ اس سے ذرا فاصلے پر بیٹھا تھا۔
”صرف میرے کہنے پر تو وہاں نہیں گئے ہوں گے آپ۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔ وہ مسکرا دیا۔
”جیمو ماموں نے مجھے کہا تھا کہ اگر میں اپنی ممی کو لے آئوں گا تو وہ میرا پروپوزل قبول کر لیں گے۔”
اس نے صاف گوئی سے بتایا۔
وہ ٹھٹھک گئی۔
”جیمو ماموں!”
اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
بھلا جیمو ماموں کو یہ شرط رکھنے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ شاید عشنا انہیں زوار کے بارے میں سب کچھ بتا چکی تھی۔
اسے حیرت کے ساتھ غصہ بھی آیا۔
زوار بہت غور سے اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کو دیکھ رہا تھا۔
”آپ مجھ سے منگنی کر کے خوش نہیں ہیں کیا؟”
اس نے اس سے بڑا واضح سوال پوچھا تھا اس نے نظریں جھکا لیں سمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دے یہ بے حد مشکل سوال تھا۔
”آپ میرے ماضی کے بارے میں جانتے تو ہیں۔”
کچھ دیر بعد وہ مدھم آواز میں بولی۔
”میرا بھی ایک ماضی تھا۔”
اس نے اس کی جھکی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اعتراف کیا۔
”کسی زمانے میں میں اپنی کزن ماہم سے محبت کرتا تھا۔ ہم دونوں بچپن سے ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے۔ ایک کلاس میں پڑھتے تھے، ایک ساتھ بیٹھتے تھے، ہر جگہ ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ فون پر گھنٹوں باتیں کرتے رہتے میرا گھر اس کا اور اس کا گھر میرا ہوتا تھا۔ بچپن کی محبت بڑی سادہ اور بے غرض ہوتی ہے۔
دنیا داری سے ناواقف، نفع و نقصان کے حساب سے مبّرا، پھر ایسا ہوا کہ مصلحتیں محبت پر غالب آگئیں اور محبت کے سوال نامے میں سے وفا کو سوال نکل گیا۔”
انکشافات کا نیاسلسلہ تھا۔ وہ اس کے سامنے کسی اور لڑکی سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔ اسے بہت عجیب لگا۔
”پھر ہم بچھڑ گئے، وہ چلی گئی مگر اس کی محبت میرے ساتھ رہ گئی۔”
وہ سنجیدہ مگر مدھم آواز میں کہہ رہا تھا۔
نہ جانے کیوں یہ جملہ رانیہ کو اچھا نہیں لگا۔ وہ تو زوار کو پسند بھی نہیں کرتی تھی پھر کسی انجانی لڑکی سے حسد کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، مگر پھر بھی یہ سب سنتے ہوئے وہ بے چین ہوئی تھی، شاید یہ ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کا اثر تھا، یا پھر منگنی ہوتے ہی وہ ٹپیکل عورت بن گئی تھی جو اپنے منگیتر کی سابقہ محبوبہ سے بے حد نفرت کرتی ہے۔
”میں تم سے فارس کے بارے میں کبھی سوال نہیں کروں گا رانیہ۔ میں لوگوں کے ماضی میں دلچسپی نہیں رکھتا ہوں کیوں کہ میں ماضی اور حال کے فرق کو سمجھتا ہوں۔ زندگی میں سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتا۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں ماہم کو آسانی سے بھول گیا تھا۔ مجھے Move On کرنے میں برسوں لگے۔ کئی سال میں اس کی یاد کے حصار میں قید رہا اور اسی حصار میں خوش بھی تھا۔ مجھے یہ تسلی تھی کہ اس کی یاد تو میرے ساتھ ہے مگر پھر وقت کے ساتھ میں نے جانا کہ زندگی صرف یادوں کے سہارے نہیں گزرتی۔ یاد دل میں ضرور رہتی ہے مگر زندگی کی خوبصورتی دراصل ہم سفر کے ساتھ میں ہی ہوتی ہے۔”
وہ چند لمحے رکا۔ وہ آپ سے تم پر آگیا۔ اس کی اس بے تکلفی میں اپنائیت تھی۔ رانیہ پانی پر تیرتے پتوں کو دیکھتے ہوئے اس کی بات سن رہی تھی۔ اسے اس کی اور ماہم کی لَو اسٹوری میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر وہ چاہنے کے باوجود اسے ٹوک نہ سکی۔ پھر اس نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں رکا تھا۔
”پھر میں نے تمہیں دیکھا۔ ایک ملکہ کے روپ میں۔ تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ خوبصورت جھلملاتے لباس میں، سر پر تاج سجائے، موتیوں کا ہار پنے تم مجھے سچ مچ کی ملکہ لگیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ایسا خوبصورت منظر میں نے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ تم اسٹیج سے چلی بھی گئیں مگر میرے ذہن میں تمہارا وہ روپ نقش ہو گیا۔ میں تمہارے بارے میں سوچنے لگا۔ کوشش کے باوجود میں تمہیں اپنے ذہن سے نکال نہیں پایا۔
”سوچتا کہ یہ لڑکی کون ہے جو اس بری طرح میرے حواسوں پر قابض ہو گئی ہے۔ پھر میں بار بار تمہارا تھیٹر پلے دیکھنے جانے لگا۔ تمہیں دیکھتا اور وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا۔ بس تمہیں دیکھ کر ہی خوش ہو جاتا پہلے سوچتا کہ تم خوبصورت ہو شاید اسی لیے میں تمہاری طرف اٹریکٹ ہوتا ہوں مگر پھر میں نے جانا کہ یہ صرف تمہاری خوبصورتی ہی نہییں ہے، کوئی اور بات بھی ہے۔ پھر مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔ ہاں یہ محبت ہی تو تھی کہ میرے دل میں تم آئیں تو میں نے سالوں بعد ماہم کو بھلا دیا۔ آج میرا دل صرف تمہارا ہے رانیہ۔”
وہ اس کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا، پھر آخری جملے کے اختتام پر دلکشی سے مسکرایا۔
وہ آج اس سے سچ بولنا چاہتا تھا، یہ سچ تو اس نے کبھی سائیکالوجسٹ کی میز پر بیٹھ کر بھی نہیں بولے تھے۔ اس نہر کے کنارے بیٹھ کر اسے اندازہ ہوا کہ سچ صرف بہادر لوگ ہی بول سکتے ہیں۔
وہ اس اظہار محبت پر مسکرا بھی نہ سکی پھر اس نے جھکی نظریں اٹھا کر زوار کو دیکھا۔ وہ اسے ہیدیکھ رہا تھا۔
”آپ نے اپنی ممی کو معاف کرنے میں اتنی دیر کیوں کر دی؟ کیا آپ کو ان کی دوسری شادی پر اعتراض تھا؟ جبکہ شرعی طور پر وہ دوسری شادی کر سکتی تھیں۔”
اس نے سنجیدہ انداز میں پوچھا۔
اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ یہ اس کے لیے بے حد حساس موضوع تھا۔ وہ ہمیشہ اس ٹاپک پر بات کرنے سے جھجکتا آیا تھا مگر اب بات مختلف تھی معاملہ دل کا تھا، انا کا نہیں۔
”مجھے اس آدمی پر اعتراض تھا جس سے انہوں نے دوسری شادی کی تھی۔ میں اس کی اصلیت اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ ہماری فیکٹری کا ایک معمولی ورکر تھا اور ممی سے عمر میں بہت چھوٹا بھی تھا مگر ممی نے میرا اعتبار نہیں کیا۔ اس پر بھروسہ کر کے اس سے شادی کر لی میں نے انہیں بہت روکا تھا، بہت رویا بھی تھا۔ ممی مجھے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتی تھیں۔ اس وقت میری دادی حیات تھیں اور بے حد سخت گیر خاتون تھیں۔ انہوں نے ممی کو ان کا اور سارہ کا حصہ دے دیا اور صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر وہ اس گھر سے چلی گئیں تو واپس کبھی نہیں آسکیں گی۔ ہر کسی نے انہیں سمجھایا کہ وہ شخص فراڈ اور فریبی ہے۔ صرف دولت کے لیے ان سے شادی کر رہا ہے مگر اس شخص نے انہیں اس طرح اپنی باتوں میں الجھایا اور ایسے سبز باغ دکھائے کہ وہ اس کی محبت میں سب کچھ بھول گئیں۔ میں نے ان سے بہت کہا کہ کینیڈا نہ جائیں مگر وہ نہیں مانیں۔ جب وہ جا رہی تھیں تو میں ان سے ناراض تھا۔ میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اب میرے اور ان کے راستے الگ الگ ہیں، اور اب اگر وہ کبھی واپس بھی آئیں گی تو میں ان سے نہیں ملوں گا مگر وہ مجھے چھوڑ کر سارہ کے ساتھ چلی گئیں اور میں لوگوں کی باتیں اور طعنے سننے کے لیے یہاں تنہا رہ گیا۔ ماہم کے والد اسی وجہ سے ہمارے رشتے کے لیے نہیں مانے۔ انہیں اپنی عزت پیاری تھی۔ کہتے تھے جب ماں نے یہ سب کچھ کہا ہے تو بیٹا بھی ایسا ہی ہو گا۔ میں بے قصور ہوتے ہوئے بھی بے عزت ہو گیا۔ ماہم نے میرے مقابلے میں اپنے والدین کا ساتھ دیا اور پھر اس کی شادی ہو گئی۔ خسارے کے سودے کوئی نہیں کرتا اور نہ ہی بدنامی میں کوئی حصہ دار بنتا ہے۔ اپنے حصے کے دکھ، بدنامی، ذلت اور غم انسان کو خود ہی اٹھانے پڑتے ہیں۔ مجھے دکھ تھا یہ میرے اپنوں نے مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ میں لوگوں سے الگ تھلگ رہنے لگا۔ خود کو بزنس میں مصروف کر لیا۔ میرے اسٹاف نے میرا بہت ساتھ دیا۔ ہر جگہ میری رہنمائی کی ورنہ مجھ جیسے ناتجربے کار اور ٹین ایجر لڑکے کے لیے اتنا بڑا بزنس چلانا آسان نہیں تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وقت اپنے ساتھ بہت کچھ بدلتے ہوئے گزرتا ہے، سوچ، احساسات، جذبات، حتیٰ کہ انسان کی اپنی شخصیت بھی بدل جاتی ہے۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
”اگر جیمو ماموں آپ سے یہ بات نہ کرتے تو کیا آپ اب بھی اپنی ممی اور بہن کو لینے نہ جاتے؟” رانیہ نے چیلنج کرنے والے انداز میں سوال کیا۔
”جب تم نے مجھ سے سارہ اور ممی کے بارے میں بات کی اور میں نے تمہیں پروپوز کر دیا تو میں تمہارا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا، جو میری توقع کے عین مطابق تھا، پھر جب میں تمہارے گھر آیا اور جیمو ماموں سے تمہارے رشتے کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے یہ شرط رکھی کہ مجھے اپنی ممی کو تمہارے گھر لانا ہو گا۔ عشنا جیمو ماموںکو میرے بارے میں سب بتا چکی تھی۔ میں نے ان کی شرط مان لی مگر میں صرف ان کے کہنے پر ہی ممی کو لینے نہیں گیا تھا۔میں نے اس بارے میں بہت سوچا اور اپنا محاسبہ کیا مگر میں جیمو ماموں کو اس بات کا کریڈٹ ضرور دوں گا کہ جو کام بہت سے لوگ سالوں نہ کر پائے، انہوں نے وہ کام دنوں میں کر لیا۔ پہلے میں انہیں صرف ہنسنے ہنسانے والی شخصیت سمجھتا تھا مگر درحقیقت وہ بڑے دوراندیش آدمی ہیں، غضب کے نفسیات دان ہیں۔ جیمو ماموں نے مجھے کوئی بے زار کر دینے والے لیکچرز نہیں دیے، مجھے سمجھانے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا، نہ ہی مجھ سے کوئی سوال پوچھا۔ بس انہوں نے ایسی شرط رکھ دی کہ مجھے ممی کو لے کر آنے کے بارے میں سوچنا پڑا۔ تمہاری اور فارس کی منگنی سے تمہارے گھر میں کوئی بھی خوش نہیں تھا۔ میں سمجھا کہ شاید وہ مجھے پسند کرتے ہیں اسی لیے اس شرط پر میرے پروپوزل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں مگر دراصل وہ اپنی حکمت عملی سے سب کی زندگی کے مسائل دور کرنا چاہتے تھے، میں ہمیشہ لوگوں سے یہی سنتا رہا کہ میری ماں ایک بُری عورت تھی، اسے بھی معاف نہ کرنا یہ طعنے، یہ باتیں وہ زنجیریں تھیں جو مجھے ممی کی طرف جانے سے روک دیتی تھیں۔ میں سالوں کشمکش میں رہا۔ اس سوسائٹی میں اپنی ماں، بہن یا بیوی کے حوالے سے طعنے سننا کسی بھی مرد کے لیے غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق کسی بھی کلاس سے کیوں نہ ہو پھر اس طرح کے ایشوز کو لوگ بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ مرد چاہتے ہوئے بھی اعلیٰ ظرف نہیں بن پاتا۔ میں ممی کو ہمیشہ قصوروار سمجھتا رہا۔ میں برسوں اسی کشمکش میں رہا کہ ممی سے بات کروں یا نا کروں۔ یہ بات نہیں کہ میں انہیں یاد نہیں کرتا تھا، پھر میں نے جیمو ماموں سے بات کی اور کینیڈا چلا گیا، میں نے وہ فیصلہ دو دن میں کر لیا جو برسوں میں نہ کر سکا تھا۔ میں ممی اور سارہ کو لے آیا۔ کینیڈا کے اس چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں میں نے اپنی چھوٹی سی بہن کو داغدار ایپرن پہنے بڑی بوٹھیوں کی طرح کام کرتے دیکھا۔ جب وہ یہاں سے گئی تھی تو گیارہ، بارہ سال کی بچی تھی۔ ناسمجھ اور معصوم۔ پھر میں نے وہاں اور بھی بہت کچھ دیکھا۔ ممی کی سائیڈ ٹیبل پر anti depressants کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔ ممی اس عورت سے بہت مختلف تھیں جو برسوں پہلے مجھے چھوڑ کر کینیڈا چلی گئی تھی۔ اس چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں مختصر سا سامان تھا، ایک صوفہ، دو کرسیاں، چار پلیٹیں، چار مگ اور چند ضرورت کی اشیاء ممی کو اس غربت میں زندگی گزارنے کی بھلا کہاں عادت تھی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میں کتنا خودغرض تھا۔ تم ٹھیک کہتی تھی کہ میں ایک سنگ دل آدمی ہوں۔ پھر میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا اور خود کو بدل بھی لیا۔ میں نے جانا کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے بجائے اگر خود کو بدل لیں تو زندگی بہت سہل اور آسان ہو سکتی ہے۔ آج میں ایک نیا ”زوار آفندی ہوں۔”
اس کے لہجے میں سچائی تھی۔

Loading

Read Previous

”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

Read Next

چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!