Tag: novel

  • چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

    چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

    تحریر:نوید احمد
    قسط نمبر7
    ”چنبیلی کے پھول”

    ”تم یہاں؟”
    بہت دیر بعد اُس کی آواز آئی۔
    برسوں بعد دھوکہ دے کر چلے جانے والے لوگ واپس آجائیں تو انسان اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
    ”ہاں کیسے ہو؟”
    وہ دلربائی سے مسکرائی۔ وہی حسین مسکراہٹ؟ وہی بھورے بال، سنہری آنکھیں۔۔۔۔ مگر آج اُس کے حسن میں وہ کشش نہیں تھی جو اُسے دیوانہ کردیا کرتی تھی۔ ماہم نے رشک بھرے انداز میں اُسے دیکھا۔ گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ ایک بے حد شاندار اور ہینڈسم مرد کے روپ میں اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ پہلے وہ دبلا پتلا لڑکا ہوتا تھا۔ مونچھیں بھی نہیں رکھی تھیں اُس نے اور اُس کے چہرے پر دانے بھی ہوا کرتے تھے مگر اب تو اُس پر نظر ہی نہیں ٹھہرتی تھی۔ اُس کی وجاہت میں اک سحر تھا۔ وہ اُسے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے پلکی نہیں جھپک سکی۔
    ”ٹھیک ہوں۔۔۔۔ کیسے آنا ہوا؟”
    اس نے اجنبیت بھرے خشک انداز میں کہا۔ وہ ذرا قریب آیا، جوس کا گلاس میز پر رکھا مگر بیٹھا نہیں ، اسی طرح کھڑا رہا۔
    ماہم نے اس کی بے اعتنائی کو اُس کی ناراضگی سمجھا۔ ہاں ناراض ہونے کا حق تو اُسے تھا ہی۔
    ”سنا ہے کہ تم نے منگنی کرلی ہے؟ میں امریکہ سے پاکستان آئی ہوئی تھی تو سوچا کہ تمہیں مبارک باد ہی دے دوں۔ بالآخر تم نے بھی اپنی فیملی لائف شروع کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔”
    اُس نے اسے بغور دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ انداز ایسا تھا جیسے اُن کے مابین کبھی فاصلے آئے ہی نہ ہوں۔
    ”تھینک یو۔”
    وہ روکھے پھیکے انداز میں بولا۔
    ”سنا ہے کہ ستارہ آنٹی آئی ہوئی ہیں؟ اتنے سالوں بعد کیسے لوٹ آئیں وہ؟” اُس نے کریدنے والے انداز میں پوچھا۔ اُن کے چلے جانے کی وجہ سے تو وہ اور زوار الگ ہوئے تھے۔ اب اتنے سالوں بعد وہ اتنے دھڑلے سے بھلا کیسے واپس آگئیں۔ یہ سوال کافی دنوں سے اُسے بے چین کررہا تھا۔
    ”اُن کا گھر ہے یہ۔۔۔۔ وہ یہاں کبھی بھی آسکتی ہیں۔۔۔ اور ویسے بھی وہ میری شادی کے لئے آئی ہیں۔”
    اُس نے خشک انداز میں کہا۔
    لہجہ اجنبی سا تھا۔ اُسے ماہم کی یہ باتیں عجیب لگنے کے ساتھ ساتھ غصہ دلا رہی تھیں۔
    ”مگر وہ تو تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ پھر اب تمہاری شادی پر آنے کا خیال کیسے آگیا انہیں؟”
    ماہم نے اپنا طنزیہ انداز آج بھی ترک نہیں کیا تھا۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کو وقت کے ساتھ بھی بہتر نہیں بنا پاتے۔
    زوار نے اس کی بات پر خفگی سے ابرو اچکا کر اُسے دیکھا بھلا وہ ایسے سوال جواب کرنے والی کون ہوتی تھی۔
    ”وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی تھیں، میں خود ہی اُن کے ساتھ نہیں گیا تھا۔”
    اُس نے سرد انداز میں کہا۔
    ”جانتی ہوں میں۔”
    وہ طنزیہ انداز میں ہنسی۔
    وہ اُسے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ اُس کی منگنی کی خبر سن کر دراصل اُس پر اپنا غصہ نکالنے ہی یہاں آئی تھی۔ خود تو وہ شادی کرکے امریکہ چلی گئی تھی اور تین بچوں کی ماں بھی بن بیٹھی مگر اُس کی خواہش تھی کہ زوار ساری زندگی اُس سے محبت کرتا رہے اور اُس کا جوگ لئے بیٹھا رہے۔
    زوار نے سوچا کہ اک وہ لڑکی تھی جو برستی بارش میں اُس کی ممی کی سفارش کرنے اُس کے پاس آئی تھی اور ایک یہ لڑکی تھی جو اتنے سالوں بعد بھی اُسے طعنے دینے کے لئے آئی تھی ۔ ایک لمحے کا موازنہ تھا۔
    اور ایک لمحے کے موازنے نے اُسے مطمئن کردیا۔
    ”کیا سوچ رہے ہو؟”
    پھر اُس نے ماہم کو کہتے ہوئے سنا۔
    وہ اپنے خیالوں سے چونکا۔
    ”اپنی منگیتر کے بارے میں سو چ رہا ہوں۔”
    اُس کے چہرے کے تاثرات میں نرمی آئی تھی۔
    ماہم کو یہ جواب اچھا نہیں لگا۔
    ”مجھے ممی سے قریب کرنے میں اُس کا بھی ایک کردار ہے۔ رانیہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ رشتے نبھانے والی، محبتیں بانٹنے والی، سب کا خیال رکھنے والی، میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی اچھی لڑکی کا ساتھ نصیب ہوا ہے۔”
    اس نے سنجیدہ انداز میں کہا۔
    ماہم یہ سن کر چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔ وہ اپنی منگیتر کی تعریف کررہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں رانیہ کے لئے محبت تھی۔ وہ زوار کا یہ انداز دیکھنے کے لئے تو یہاں نہیں آئی تھی۔۔۔۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور مسکرا کر بڑی لگاوٹ سے بولی۔
    ”اتنے سالوں بعد ہماری ملاقات ہورہی ہے۔ ساری باتیں کیا یونہی کھڑے کھڑے ہی کرلوگے؟ بیٹھو گے نہیں؟ کیا تمہیں یاد نہیں رہا کہ ہم دونوں کبھی بیسٹ فرینڈز ہوا کرتے تھے؟”
    زوار پر اس اپنائیت کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
    ”نہیں۔۔۔۔ مجھے بالکل یاد نہیں ہے۔”
    اُس نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔
    ماہم کو اُس کے اِس انداز پر صدمہ ہوا۔ اُس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے اُسے احساس ہوا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ وہ واقعی اُسے بھول چکا تھا۔
    ”وہ لڑکی کون ہے؟جس سے منگنی کرکے تم اپنے پرانے دوستوں کو بھلا بیٹھے ہو۔”
    اُس نے حاسدانہ انداز میں پوچھا۔
    وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
    "She is a Queen.”
    اُس نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جیسے رانیہ کا تعارف کروایا۔
    جملہ خوبصورت تھا۔ اِس جملے سے زیادہ اُس کی آواز سے چھلکتی محبت نے ماہم کو چونکا یا تھا۔ اب وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا۔ وہ بھی اتنی شدت سے ، کہ وہ اپنے ماضی کے سب اندھیرے بھول گیا تھا۔
    اُس کے جملے نے اُسے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
    زوار نے دیوار پر لگے وال کلاک پر ٹائم دیکھا۔
    ”ممی سے ملنا چاہتی ہو تو انتظار کرلو میں آفس کے لئے لیٹ ہورہا ہوں۔” اُس نے نارمل سے اجنبی لہجے میں کہا۔ اُس کی آواز میں کسی قسم کی وارفتگی یا جذباتی لگائو نہیں تھا۔ ایسا انداز جو کسی بن بلائے مہمان کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ میز پر سے اپنا جوس کا گلاس اٹھا کر باہر چلا گیا۔
    وہ بے عزتی کے احساس کے ساتھ وہیں بیٹھی رہی۔ اُس کے سارے سنگھار پھیکے پڑ گئے۔ یہ وہ زوار نہیں تھا جسے وہ برسوں پہلے جانتی تھی۔ جو اُس کے بچپن کا دوست تھا، اُس کا عاشق تھا اور اُس کی شادی پر بُری طرح رویا تھا جس کے بارے میں اُسے خوش فہمی تھی کہ وہ اُسے کبھی نہیں بھول سکتا۔
    یہ تو کوئی اجنبی آدمی تھا۔
    وہ اپنا پرس اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    رانیہ کی امی کی باتوں کا اثر تھا یا عقیل میاں کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوگیا تھا کہ جیسے ہی انہیں روشنی کے میکے آجانے اور ثاقب کی دوسری شادی کی اطلاع ملی، انہوں نے فون پر ثاقب اور اس کے گھر والوں کو خوب کھری کھری سنائیں۔ ثاقب سمیت اس کے سارے گھر والوں کو باری باری فون کیا اور سب کی خوب خبرلی۔ بات گالم گلوچ تک جا پہنچی ۔ عطیہ عقیل کو منع کرتی رہیں مگر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہوگئے تھے۔ پھر رانیہ کی امی ، جیمو ماموں اور فردوسی خالہ بھی ثاقب کے گھر گئے، اُس کے گھر والوں سے بات کی وہاں تو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔
    ثاقب جیسے ضدی، جھگڑالو اور غصے کے تیز آدمی سے لوگوں کی لعن طعن اور لعنت ملامت سننا دوبھر ہوگیا اور اس نے طیش میں آکر روشنی کو طلاق بھجوا دی۔ طلاق بھیجتے وقت اُسے برسوں کی رفاقت اور روشنی کی وفا بھی یاد نہ رہی حالانکہ وفا اِتنی آسانی سے بھولنے والی چیز نہیں ہوتی۔ وہ اپنی دوسری امیر کبیر بیوی کے ساتھ خوش تھا۔ اب اُس کی زندگی میں روشنی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
    کسی عورت کو طلاق دینا کون سا مشکل کام ہوتا ہے۔ وکیل کی فیس ہی تو بھرنی ہوتی ہے۔ کاغذ ہی تو تیار کرنے ہوتے ہیں۔
    فردوسی خالہ کے لئے اس عمر میں یہ ایک بڑ ا صدمہ تھا روشنی گم صم ہوکر رہ گئیں۔ ثاقب کی دوسری شادی پر روتی تھیں کہ شوہر کی بے وفائی کا غم تھا۔ اب روتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس کرتیں کہ ایک نامحرم اور غیر آدمی کیلئے کیسے آنسو بہائیں۔ آنسو بھی تو ہر ایک کیلئے نہیں بہائے جاسکتے۔ لوگ طعنے دیتے کہ ایسے دھوکے باز اور بے وفا آدمی کیلئے کیوں آنسو بہاتی ہو۔ رونا بھی دوبھر ہوجاتا۔
    محلے والے، خاندان والے، رشتہ دار سب ہی ان کے دُکھ میں شریک تھے۔ فردوسی خالہ ایک مقبول شخصیت تھیں۔ لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔ ان کا دُکھ بانٹنا اپنا فرض سمجھتے۔
    لوگ آتے جاتے ، ثاقب کو برا بھلا کہتے۔
    کہ شاید اس طرح روشنی کا غم ہلکا ہوجائے۔ وہ چپ چاپ سنتی رہتیں۔ وہ آج بھی نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ ثاقب کی برائیاں کریں۔
    جب دو لوگوں میں طلاق ہوجاتی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر اور ایک دوسرے کی برائیاں سن کر خوش ہوں گے ۔ مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ برسوں کی رفاقت کا لحاظ اور انسان کا ضمیر اُسے اِس حد تک گرنے سے روک دیتا ہے۔
    رانیہ کی امی نے زوار کی ممی سے کہہ دیا کہ رانیہ اور زوار کی شادی روشنی کی عدت مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگی۔ روشنی اُن کی خالہ زاد بہن اور ہر دلعزیز سہیلی تھی۔ اُن کا دل نہ مانا کہ اُن کی بہن عدت میں بیٹھی ہو اور وہ دھو م دھام سے ڈھول تاشوں کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کردیں۔ زوار کی ممی نے خندہ پیشانی سے اِس بات کو قبول کیا اور روشنی کے ساتھ گزرے اس حادثے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
    روشنی صدمے کی کیفیت میں تھیں۔
    ٫
    دن گزرتے جارہے تھے۔
    وہ سارا دن ایک کمرے میں بیٹھی رہتیں۔
    وہ پہروں خاموش رہتیں۔فردوسی خالہ اپنے آنسو چھپا کر لقمے بنا بنا کر اپنے ہاتھوں سے کھلاتیں۔
    زندگی میں دو موقعے ایسے آئے تھے جب انہیں دنیا والوں سے اپنے آنسو چھپانے پڑتے تھے۔
    ایک موقع تب تھا جب وہ ریٹائرہوئی تھیں اور دوسرا جب انہوں نے روشنی کے طلاق کے کاغذ دیکھے تھے۔ روشنی صدمے سے سوچتیں…
    برسوں کی رفاقت ، خدمت اور ریاضت کا یہ صلہ ملا! یہ انسان کا دیا ہوا صلہ تھا۔
    پھر انہیں خیال آتا کہ طلاق نامے پر ثاقب نے اپنی مرضی سے دستخط نہیں کئے ہوں گے ضرور اُس عورت نے انہیں مجبور کیا ہوگا۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے۔ بُرے تھے مگر اتنے بھی نہیں غم حیران رہ جاتا پھر یہ حیرت صدمے میں بدل جاتی…وہ کیسا گھر تھا ! جہاں کھڑکی سے جھانکنا بھی جرم تھا۔ جہاں اُن کی رائے اور خواہشات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ جہاں ان کے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ آنسو سمندر بن جاتے پھر بھی کسی کو نظر نہ آتے۔ وہ برقع اوڑھے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں شوہر کے ساتھ کبھی بحث نہ کی۔ اس نے جو بھی کہا چپ کرکے سن لیا۔ شوہر گھر آتا تو کھانے کے تھال سجا کر سامنے رکھتیں، تازہ روٹی، گرم سالن، ٹھنڈا پانی، لسی کا گلاس، دستر خوان روزانہ ہی اہتمام سے سجا ہوتا، مگر اہتمام کرنے والی کی پھر بھی کوئی قدر کوئی عزت نہ تھی۔ روز رات کو سونے سے پہلے میاں کے پائوں دباتیں کہ یہ بھی ثواب کا کام تھا۔ شوہر کو خوش رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
    ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ… احسان فراموش اور بے ضمیر… دوسروں کو روگ لگا کر خود خوشیوں کے شادیانے بجاتے ہیں۔
    بعض مردوں کی یاداشت اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے کہ کسی نے پوری جوانی دان دی اور انہیں یاد ہی نہ رہا۔
    ٭…٭…٭
    ”ہیلو کوئین!”
    وہ اپنے مخصوص انداز میں خوش دلی سے بولا۔
    اُس کی آواز میں وہی جوش وولولہ تھا جو ہمیشہ سے ہوتا۔
    رانیہ رات کے اِ س وقت ابھی بیڈ بنا کر بیٹھی ہی تھی کہ زوار کا فون آگیا۔
    ”روز رات کو فون کرنا ضروری ہے کیا؟”
    اُس نے بظاہر مسکرا کر کہا۔
    وہ اس کی روزانہ کی فون کالز کی عادی ہوتی جارہی تھی۔
    ”مجھے لگتا ہے کہ تم روز میرے فون کا انتظار کرتی ہو”
    اس نے مسکراتی آواز میں جواب دیا۔
    وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    اُس کی ہنسی میں سحر تھا جس نے زوار کے دل کو اسیر کرلیا۔
    ”یہ خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے۔”
    ”خوش فہمیاں خوش رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ Anywaysتمہاری خالہ کی ڈائیوورس کے بارے میں سن کر ہم سب کو ہی افسوس ہوا۔ میں نے منگنی پردیکھا تھا انہیں… وہ تو خاصی پردہ دار خاتون ہیں۔”
    زوار نے کہا۔
    ”ہاں پردہ دار، فرمانبردار، تابعدار، سلیقہ مند… وہ رشتے میں میری خالہ لگتی ہیں ۔ ہم تو انہیں بچپن سے ایسے ہی دیکھتے آرہے ہیں۔”
    اس نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”اوہ! پھر تو بڑی ٹریجڈی ہوئی اُن کے ساتھ۔ اُن کا ایشو کیا تھا؟”
    اس نے سنجیدہ آواز میں کہا۔
    ”اُن کے شوہر نے دوسری شادی کرلی۔ خاندان والوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے غصے میں آکر طلاق بھجوادی۔ میں نے بی اے میں Tolerance کے نام سے ایک مضمون پڑھا تھا ۔ رٹے لگانے کے باوجود مجھے وہ اُس وقت سمجھ نہیں آیا تھا کہ بھلا صرف برداشت کرنے کے وصف کی وجہ سے قوموں کی تقدیر اور معاشرے کا نظام کیسے سنور سکتا ہے! صرف برداشت کی کمی کی وجہ سے قومیں کیسے تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ مگر اب میں نے جانا کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ نہ ہو تو گھر اُجڑ جایا کرتے ہیں ۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔”
    اس نے گہرا سانس لے کر کہا۔
    ایک لمحہ میں اُسے بہت کچھ یاد آگیا۔
    فارس میں بھی تو صبر اور برداشت کی کمی تھی اور اسی وجہ سے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اُن دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔
    یک دم ہی زوار کو کوئی خیال آیا۔
    ”تمہاری خالہ نے اپنے بارے میں اب کیا سوچا ہے؟”
    اُس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
    ‘انہوں نے کیا سوچنا ہے۔ ابھی تو وہ عدت میں ہیں۔ فردوسی خالہ کی پنشن آتی ہے، پھر عقیل ماموں بھی کینیڈا سے کبھی کبھار رقم بھیجتے رہتے ہیں… گھر بھی اپنا ہے، وہیں رہیں گی۔”
    اُس نے کہا۔
    ”اُن کی شادی بھی تو ہوسکتی ہے۔”
    زوار کی بات سن کر وہ اُچھل پڑی۔
    ”اس عمر میں اب وہ کیا شادی کریں گی!”
    اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
    ”وہ اتنی بوڑھی بھی نہیں ہیں اور شادی تو کسی بھی عمر میں کی جاسکتی ہے۔”
    وہ اطمینان سے بولا۔
    رانیہ حیران ہوئی کہ بھلا زور کو روشنی کی شادی میں اتنی دلچسپی کیوں تھی۔
    ”اس بات کا فیصلہ تو فردوسی خالہ ہی کرسکتی ہیں۔ اُن کا بہت سے لوگوں کے ساتھ ملنا ملانا ہے۔ شاید روشنی باجی کے لئے کوئی اچھا اور Suitableرشتہ مل جائے۔”
    اُس نے بھی اس بات پر سوچا ۔ اچھی بات تھی کہ روشنی کو سہارا مل جاتا اور فردوسی خالہ کا غم بھی کچھ ہلکا ہوتا۔
    زوار کی اگلی بات سن کر تو وہ لمحہ بھر کے لئے ساکت رہ گئی۔
    ”اُن کی شادی جیموماموں کے ساتھ بھی تو ہو سکتی ہے۔”
    یہ تو بس زوار کے ذہن کا ہی کمال تھا جو ۔ اُس نے اِس اعتماد کے ساتھ اِ س امکان کے بارے میں سوچا ورنہ اُن سب لوگوں کے لئے تو یہ انہونی سی بات تھی۔
    ”جیمو ماموں اور روشنی باجی کی شادی؟”
    کچھ دیر بعد وہ بے یقینی بھرے انداز میں بولی۔
    ہنسی مذاق میں جیموماموں سے متعلق بہت باتیں ہوتی تھیں مگر کبھی کسی نے اِس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب لوگ جانتے تھے کہ جیموماموں اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن تھے اور انہیں دوسری شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
    ”اگر روشنی باجی یا جیمو ماموں نے انکار کردیا؟”
    اُس نے اس امکان کو بھی مدنظر رکھا۔
    وہ مسکرایا۔
    ”نہیں کریں گے… بس اُن دونوں کو ذرا طریقے سے منانا پڑے گا۔”
    اُس کے یقین بھرے انداز نے اُسے چونکانے کے ساتھ ساتھ حیران بھی کیا۔ وہ کسی ماہر نفسیات کی طرح اُسے مشورے دے رہا تھا۔
    ”ہمیں تو کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ انہیں بھی ہمسفر کی خواہش ہوگی… وہ تو بہت سالوں سے اکیلے ہیں۔ ہم نے انہیں ہمیشہ ہنستے ہنساتے ، بانسری اور ستار بجاتے، شطرنج کھیلتے اور غزلیں پڑھتے ہی دیکھا ہے… اور ہم سب بھی اُنہیں اسی طرح دیکھتے رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اُن کی زندگی میں کوئی کمی ہے۔”
    ”بعض دفعہ گھر کے بزرگ بچوں کے سامنے اپنی خواہشات کا اظہار نہیں کرپاتے… روایات، اقدار کی اجازت نہیں دیتا، تو بہت سی باتیں بچوں کو خود ہی سمجھ لینی چاہیے۔”
    وہ رسانیت سے بولا۔
    اُس کی بات بھی ٹھیک تھی۔ ایسا ہوبھی سکتا تھا۔
    ”امی نے بہت بار کوشش کی مگر جیمو ماموں دوسری شادی کے لئے نہیں مانے۔ پھر امی نے بھی انہیں کہنا چھوڑ دیا۔”
    رانیہ نے کہا۔
    ”پہلے ان کے بچے چھوٹے تھے وہ اپنے بچوں پر سوتیلی ماں کا رعب پسند نہیں کرتے ہوں گے۔ اب اُ ن کے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ سمجھدار ہیں۔ انہیں بھی اس بات کا احساس ہے کہ اُن کے والد نے اُن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ اس سوسائٹی میں سوتیلی ماں اور سوتیلے باپ کا تصور لوگوں کو terrifiedکردیتاہے۔پھر ارد گرد رہنے والے لوگ بھی اپنی باتوں سے اِس خوف کو بڑھا دیتے ہیں اور یوں یہ خوف لوگوں کے لاشعور پر حاوی ہوجاتا ہے۔ مگر اب جیمو ماموں اپنے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔”
    اُس نے رسانیت سے کہا۔
    اُس کی باتوں میں لاجک تھی۔
    رانیہ سوچ میں پڑگئی۔
    ”میں اس بارے میں امی سے بات کروں گی، اگر ایسا ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ امی جیمو ماموں کو بھی منا ہی لیں گی۔”
    اُ س نے سوچتے ہوئے کہا۔
    جیمو ماموں زندہ دل شخصیت کے مالک تھے اور روشنی خاموش طبع خاتون تھیں۔ اُن دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ مگر اس کے باوجود ، رانیہ کویقین تھا کہ وہ دونوں اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    ”اپنے گھر والوں سے بات کرکے مجھے بتانا۔”
    زوار نے نرمی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے۔”
    اس نے بے ساختہ کہا۔
    پھر جب وہ فون بند کرکے سونے کے لئے لیٹے تو اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا۔
    روشنی اور جیمو ماموں کی شادی…
    ٭…٭…٭

  • چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    6:قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول
    مدیحہ شاہد

    سارہ نے عشنا کو فون پر جو خبر سنائی تھی وہ اس کے لیے بڑی حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین تھی۔ اس نے فوراً کوٹ پہنا، لانگ شوز پہنے، مفلر لپیٹا اور تیزی سے گھر سے باہر نکلی۔ عطیہ اسے روکتی ہی رہ گئیں مگر وہ برف میں راستہ بناتی ہوئی بھاگتی ہوئی سارہ کے گھر پہنچی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔
    وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور لائونج کے دروازے کے پاس آکر جیسے اس کے قدم وہیں رک گئے وہ حیرت سے اپنی پلکیں جھپکنے لگی۔
    زوار راکنگ چیئر پر بیٹھا اطمینان سے کافی پیتے ہوئے کھڑکی کے پار گرتی برف کو دیکھ رہا تھا پھر اس نے گردن موڑ کر حیران کھڑی عشنا کو دیکھا اور دلکشی سے مسکرایا۔
    ”کیسی ہو عشنا!”
    وہ مسکراتی آواز میں بولا۔ اسے لوگوں کو حیران کر دینے کی عادت تھی۔ وہ اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اسے اندرون لاہور کے ایک پررونق گھر میں دیکھا تھا اور اب کینیڈا کے اس اپارٹمنٹ میں دیکھ رہی تھی۔ وہ واقعی عجیب و غریب شخصیت کا حامل تھا۔ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
    ”آپ یہاں کیسے آگئے؟”
    خوشگوار حیرت کے ساتھ کہتے ہوئے وہ اپنے بالوں اور کوٹ پر سے برف جھاڑتے ہوئے قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
    ”جہاز میں بیٹھ کر۔”
    اس نے برجستہ جواب دیا۔ وہ اپنی اس ہی حاضر جوابی کی وجہ سے مشہور تھا۔ سارہ کچن سے نکل کر لائونج میں آئی۔ اس کے چہرے پر اطمینان بھری خوشی کا عکس تھا۔
    ”عشنا! سرپرائز کیسا رہا؟”
    وہ خوش دلی سے بولی۔
    ”میں تو ابھی تک اتنی حیران ہوں کہ بتا نہیں سکتی۔ زوار بھائی! اگر آپ نے یہاں آنا ہی تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا!”
    عشنا ابھی تک اپنی حیرت پر قابو نہیں پا سکی تھی۔
    ”کیا تمہیں بتانا ضروری تھا؟”
    وہ اطمینان سے کافی پیتے ہوئے بولا۔ وہ لاجواب ہو گئی۔
    ”کیا آپ کو یہاں جیمو ماموں نے بھیجا ہے؟”
    اسے اچانک خیال آیا کہ یہ ضرور جیمو ماموںکا ہی کارنامہ ہو گا ورنہ لاہور سے کینیڈا کا سفر اتنا بھی آسان نہیں تھا۔
    ”نہیں۔ میں یہاں خود اپنی مرضی سے آیا ہوں۔”
    اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
    ”عشنا! Thank you so much۔ تمہارا ایڈونچر کامیاب ہو گیا۔ دیکھو بھائی ہمارے پاس آگئے۔ ”
    سارہ کی آواز میں ممنونیت تھی۔
    عشنا نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔
    ”نہیں۔ یہ میرے کہنے سے نہیں آئے۔ مجھے تو یہ کوئی اور ہی چکر لگتا ہے۔”
    وہ زوار کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی پھر اس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے سارہ کو دیکھا۔
    ”سارہ! اپنی دوست کو کافی نہیں پلائو گی؟”
    ”ہاں ضرور میں ابھی کافی بنا کر لاتی ہوں۔”
    وہ دوبارہ کچن میں چلی گئی۔
    ”میں بھی حیران تھی کہ آپ نے رانیہ باجی کو انکار کیسے کر دیا تھا۔”
    عشنا نے معنی خیز انداز میں کہا۔
    ”انکار نہیں کیا تھا۔”
    زوار کی آنکھیں یکدم چمکنے لگیں۔
    ” مگر انہوں نے مجھے خود بتایا تھا آپ نے صرف انہیں انکار ہی نہیں کیا تھا بلکہ ان کی insult بھی کی تھی۔”
    عشنا نے کہا وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ الجھ بھی گئی تھی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے۔ دراصل وہ میری بات سمجھ نہیں پائی تھی۔ کافی بے وقوف لڑکی ہے تمہاری کزن۔”
    اس کے چہرے کی مسکراہٹ کا عکس اس کی آنکھوں میں بھی چمک رہا تھا۔
    ”مگر میں نے بھی آپ سے بات کی تھی تو آپ نے مجھے کہا تھا کہ سارہ کو کوئی جواب نہ دینا۔”
    وہ اسے اس کی باتیں یاد دلا رہی تھی۔
    ”ہاں۔ کیوں کہ یہ جواب میں اسے خود دینا چاہتا تھا”
    اس نے نرمی سے جواب دیا۔
    ”آپ نے کینیڈا آنے کا پہلے سے ہی ارادہ کر لیا تھا تو پھر اتنی دیر کیوں کر دی؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”شاید یہی مناسب وقت تھا۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔ اس کی باتیں عشنا کے سر پر سے گزر گئیں۔
    ”مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ یہاں کس کے کہنے پر آئے ہیں!”
    وہ کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
    ”اپنے دل کے کہنے پر۔”
    وہ اسی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ وہ اس سے باتوں میں جیت نہیں سکتی تھی۔
    ”کیا پاکستان میں کسی کو معلوم ہے کہ آپ یہاں آئے ہیں؟”
    عشنا نے پوچھا۔
    ”اب معلوم ہو جائے گا سب کو۔”
    وہ معنی خیز انداز میں مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولا۔
    وہ لوگوں کو لاجواب کرنے میں ماہر تھا۔
    عشنا نے مسکراتے ہوئے سرجھٹکا۔
    ”زوار بھائی! آپ سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ آپ کی personality بے حدcomplicated ہے ۔ رانیہ باجی آپ کے بارے میں ٹھیک کہتی ہیں۔”
    عشنا نے بالآخر اعتراف کیا۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
    ”ہاں۔ وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ اسی لیے تو مجھے پسند نہیں کرتی۔”
    عشنا کو ہنسی آگئی۔
    ”مگر اب تو آپ بدل گئے ہیں۔ شاید وہ اب آپ کو پسند کر لیں۔”
    عشنا نے شوخی سے کہا۔ زوار کی آنکھوں میں خوشی کا عکس چمکنے لگا۔
    ”امید تو ہے۔”
    اس کی آواز دھیمی مگر خوشی سے معمور تھی۔
    ”سارہ عشنا کے لیے کافی لے کر آگئی۔ کافی کے مگ کے ساتھ ٹرے میں آلمنڈ کیک اور پیزا بھی تھا۔ یقینا یہ سارا اہتمام زوار کے آنے کی خوشی میں کیا گیا تھا۔
    ”میں اور ممی بھائی کیساتھ پاکستان جا رہے ہیں۔”
    سارہ نے میز پر ٹرے رکھتے ہوئے اسے کافی کا مگ تھماتے ہوئے کہا۔
    ”اور تمہاری ایجوکیشن؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”پاکستان جا کر ہی پڑھوں گی اب۔”
    سارہ نے اطمینان سے جواب دیا اور عشنا کے قریب بیٹھ گئی گویا وہ لوگ سب کچھ پلان کر چکے تھے۔
    ”ناصرہ آنٹی تو بہت خوش ہوں گی!”
    عشنا نے کہا پھر اس نے کیک کا پیس اٹھا لیا۔
    ”ہاں میں نے بہت سالوں بعد ممی کو اتنا خوش دیکھا ہے۔ وہ کچھ شاپنگ کرنے قریبی سٹور تک گئی ہیں۔ کل بھائی ٹکٹ بھی لے آئیں گے۔ بہت سال رہ لیا ہم نے یہاں پر۔ اب پاکستان واپس جا رہے ہیں۔ اپنے گھر میں رہیں گے۔ وہیں میرا بچپن گزرا تھا اور ہاں! بھائی کی شادی بھی ہو رہی ہے۔”
    سارہ نے مسکرا کر کہا۔
    ”اچھا؟ کس سے؟”
    عشنا بے ساختہ بولی۔
    وہ حیران ہوئی۔ اسے تو ابھی تک اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی تھی حالاں کہ ثمن سے تو اس کی روزانہ ہی بات ہوتی تھی مگر اسے ثمن نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی تھی۔
    ”ایک لڑکی سے۔”
    وہ مبہم سے انداز میں بولا۔
    ”کون ہے وہ لڑکی؟”
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔ سارہ نے معنی خیزی سے زوار کی طرف دیکھا۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا۔
    ”تمہاری کزن رانیہ!”
    سارہ بے ساختہ ہنسی اس کی ہنسی میں خوشیوں کی بھنک تھی۔ عشنا کو اس کی بات سمجھنے میں چند سیکنڈز لگے کہانی اتنی آگے تک بڑھ گئی تھی اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
    زوار کی ذہانت کے سامنے تو اسے اپنے سارے ایڈونچرز فضول ہی لگنے لگ گئے تھے۔
    پھر اس نے مسکراتے ہوئے اطمینان سے ٹیک لگا لی۔ اب اسے زوار سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔
    بہت عرصے بعد اس اپارٹمنٹ میں خوشی نے قدم رکھا تھا۔
    سارہ ہنس رہی تھی اور زوار کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ ٹھہر گئی۔
    آج برف پر سورج چمکا تھا۔
    ٭…٭…٭

    روشنی اداس اور ملول تھیں۔ برقع کے کونے سے اپنی نم آنکھیں پونچھ رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے اتنے برسوں کی ریاضت اور قربانیاں بے کار چلی گئیں اور آج وہ خالی ہاتھ اور خالی دل تھیں۔
    رانیہ کی امی اور جیمو ماموں انہیں تسلی دے رہے تھے۔
    ”تو آپ کے میاں نے بالآخر دوسری شادی کر ہی لی۔”
    جیمو ماموں نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدہ اور متفکر انداز میں کہا۔ یہ خبر ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی انہیں بے حد افسوس ہوا تھا۔
    ”کون عورت ہے وہ؟ جس نے ایک عورت کے بسے بسائے گھر پر ڈاکا ڈالا۔ ارے اسے تو کوئی بھی مل جاتا، کسی کے شوہر سے شادی کرنا

  • ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    قسط نمبر5
    چنبیلی کے پھول”

    سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا کہ رانیہ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ اچانک کیا ہوگیا ۔
    برسوں پرانی منگنی ختم ہوگئی۔ اُسے اپنے گھر والوں سے اس انتہائی قدم کی امید نہیں تھی۔ سب لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اور فارس ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود امی اور جیمو ماموں نے اُس منگنی کو توڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگایا اور منگنی توڑنے کے بعد وہ بے حد مطمئن بھی تھے جو کہ بڑی حیر ت انگیز بات تھی۔ پتا نہیں انہوں نے یہ فیصلہ کب اور کیسے کرلیا کہ اسے خبر بھی نہ ہوسکی۔ حالانکہ انہو ں نے تو ہمیشہ فارس اور بی جان کا لحاظ کیا تھا ان کی تلخ و ترش باتیں خاموشی سے برداشت کیں تھیں۔ مگر نہ جانے اب کیا ہوا تھا کہ امی اور ماموں کا مزاج بالکل ہی بدل گیا۔
    فارس اور بی جان تو واویلا مچا کر اور خوب لڑائی جھگڑا کرکے جاچکے تھے۔
    رانیہ رو رہی تھی مگر اُسے نہ تو کسی نے چپ کروایا اور نہ ہی کسی نے اُسے تسلی دی۔ بلکہ کسی نے بھی اس کے رونے دھونے کو اہمیت ہی نہیں دی۔ اُس کے گھر والے اپنے فیصلے پر قائم تھے۔ ان کے خیال میں یہی فیصلہ رانیہ کے مستقبل کے لئے بہتر تھا۔ وہ دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھی کہ اس کی تو کوئی بات ہی نہیں سن رہا تھا۔
    وہ روئے جارہی تھی۔
    ”کیوں کیا آپ لوگوں نے ایسا؟ جبکہ میں آپ لوگوں کو منع بھی کررہی تھی۔ میری مرضی کے بغیر…”
    اس کا جملہ ادھورا رہ گیا ۔ امی نے خفگی بھرے انداز میں اس کی بات کاٹ دی۔
    ”تمہاری مرضی کو اہمیت دینے کا نتیجہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ اتنا عرصہ ہم فارس کی بدتمیزیاں برداشت کرتے رہے۔ اس کی دھمکیاں سنتے رہے۔ اس کا لحاظ کرتے رہے مگر تمہیں اپنے غلط فیصلے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ نہ تمہیں اپنی بیوہ ماں کا احساس ہے نہ اپنی یتیم بہن کا اور نہ اپنے ریٹائر ماموں کا… کیسی لڑکی ہو تم؟”
    امی نے درشت لہجے میں اُسے ڈانٹا۔
    وہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”آپ لوگوں نے فارس کو کبھی دل سے قبول ہی نہیں کیا۔ کبھی اُسے اہمیت نہیں دی۔ کبھی کسی دعوت پر کسی فنکشن پر اُسے نہیں بلایا۔ آپ لوگ شروع سے ہی اُسے پسند نہیں کرتے تھے۔”
    رانیہ نے دکھے دل کے ساتھ شکوہ کیا۔
    امی نے ماتھے پر بل ڈال کر اُسے دیکھا۔
    ”کیونکہ وہ ایک لالچی اور خودغرض لڑکا ہے۔ اس کی نظر اس حویلی پر ہے۔”
    امی نے سخت لہجے میں کہا۔
    ”وہ حویلی میری خوشیوں سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے۔ اور جائیدادیں تو بک ہی جاتی ہیں۔ رشتے اہم ہوتے ہیں۔ مجھے نفرت ہے اُس حویلی سے… میرا بس چلتا تو وہ حویلی میں فارس کے نام کردیتی۔”
    امی اور ماموں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا۔ ماموں نے شکر کیا کہ حویلی کے کاغذات ان کے پاس رکھے تھے۔
    امی نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا۔
    ”اگر حویلی تم اس کے نام کردیتی تو وہ اُسے بیچ کر کھا جاتا۔ اور بعد میں دوسری شادی کرلیتا۔”
    امی نے اُسے حقیقت کا ایک بھیانک رخ دکھاتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں… وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتا میں اُسے جانتی ہوں۔”
    رانیہ نے یقین سے کہا۔
    ”تم اُسے بالکل نہیں جانتی… اور اگر اُسے موقع ملتا تو وہ ایسا ہی کرتا۔”
    ماموں نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ رانیہ کو اس بات پر بالکل یقین نہیں تھا۔
    ”بند کرو یہ رونا دھونا۔ تم بھی فارس کی طرح خود غرض ہو۔”
    امی نے اُسے بری طرح جھڑکا۔ رانیہ دم بخود رہ گئی۔ اس کے آنسو خشک ہوگئے۔ اسے اپنے لئے خودغرض لفظ سننے کی امید نہیں تھی۔ اس کی آنکھ میں حیرانی اور غم ایک ساتھ ٹھہر گئے۔
    ”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی۔”
    وہ صدمے سے بولی۔
    ”ٹھیک کہہ رہی ہوں فارس کو تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔ اُس نے صرف محبت کا ڈرامہ کیا تھا۔ اس نے تم سے یہ منگنی صرف حویلی کی وجہ سے کی تھی۔ اس نے سوچا کہ تم ایک صاحب جائیداد لڑکی ہو۔ اس وجہ سے اُس نے محبت کا جھانسہ دے کر تمہیں بے وقوف بنایا۔ ارے اس جیسے نکمے نالائق کو بھلا کون رشتہ دیتا۔ یہ تو ہماری ہی عقل پر پتھر پڑگئے تھے ورنہ یہ فیصلہ ہمیں بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔”
    امی نے ناراض آواز میں کہا۔
    وہ آنکھوں میں صدمے کی کیفیت کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔ جیمو ماموں بھی امی کا ساتھ دینے کے لئے بول پڑے۔
    ”رانیہ! تمہیں فارس سے اچھا رشتہ مل جائے گا۔ وہ کوئی دنیا کا آخری لڑکا تو ہے نہیں کہ اگر تمہاری زندگی سے چلا گیا تو تمہاری شادی ہی نہیں ہوگی۔”
    سب اُسے ہی سمجھا رہے تھے۔
    وہ بھی اپنی ضد پر قائم رہی۔ بات محبت کی تھی اور محبت کے معاملے میں لڑکیاں بڑی بے وقوف ہوتی ہیں۔
    ”میں فارس کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔”
    اس نے جذباتی انداز میں کہا۔
    امی نے پیشانی پر بل ڈالے اس کی بات سنی۔
    ”ہم فیصلہ کرچکے ہیں۔ اب ہم نے تمہاری ایک نہیں سننی۔ اب ہم وہی کریں گے جو ہمیں مناسب لگے گا۔ تم میں اتنی عقل ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔”
    امی نے قطعی اور فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    رانیہ کو دکھ تھا کہ اس کے گھر والوں کو اپنی زیادتی کا احساس ہی نہیں ہے اور سب اسی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔
    وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کسی نے اُس کا دکھ نہیں بانٹا تھا۔
    فارس اور اس کی محبت برسوں پرانی تھی۔ خاندان کا ہر شخص حیران تھا کہ آخر اُسے فارس جیسے لڑکے سے کیسے محبت ہوگئی۔ وہ بدتمیز، بداخلاق، بدمزاج تھا اور پھر نکما اور نالائق بھی۔ پڑھنے لکھنے میں اُسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہر وقت بس اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا۔
    جبکہ رانیہ پڑھی لکھی سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ آخر فارس میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ رانیہ نے اُسے اپنا دل دے دیاتھا۔
    کم عمری کی محبت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اس میں ایسی شدت، دیوانگی اور جنون ہوتا ہے کہ عقل کے فیصلے اہم نہیں رہتے۔
    فارس وہ پہلا لڑکا تھا جس نے رانیہ سے اظہار محبت کیا تھا۔ اس نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی امی کو رشتے کے لئے اس کے گھر بھیجے گا۔ اس جملے میں بڑی تاثیر تھی۔ ایک جادو تھا جس نے رانیہ کے دل کو اسیر کرلیا تھا۔ ا س جملے کی چابی سے ہر لڑکی کے دل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ محبت کے اظہار کا ہر انداز انوکھا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ ہر لڑکی کے لئے خوش رنگ تجربہ ہوتا ہے۔
    محبت کے دعوے دار اور میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے تو بڑے مل جاتے ہیں، مگر شادی کی بات کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ رانیہ کے دل میں فارس کی عزت بڑھ گئی۔ اس نے اپنی ماں کو رانیہ کا رشتہ مانگنے بھیجا، جو کہا وہ کردکھایا۔ اور یوں اس نے رانیہ کے دل کی بلندی کو چھولیا۔ عورت اس مرد کی عزت کرتی ہے جو اس سے کیا وعدہ نبھانا جانتا ہے۔
    فارس کوئی شہزادہ گلفام نہیں تھا۔ ایک عام سا لڑکا تھا مگر ہر لڑکی کے لئے اس کا محبوب ہی شہزادہ گلفام ہوتا ہے۔
    اُسے فارس کی محبت پر یقین تھا اور محبت تو ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے۔ عشق میں لوگ نفع و نقصان کا حساب نہیں رکھتے۔
    رانیہ کو برسوں پرانی منگنی ٹوٹنے کا غم تھا۔ وہ شاک کے زیر اثر تھی۔
    فارس بھی بہت غصے میں تھا۔

    اس نے رانیہ کو فون کیا تو وہ اپنے کمرے میں صدمے سے نڈھال بیٹھی تھی۔
    ”رانیہ! تمہارے گھر والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ ارے وہ تو یہ منگنی توڑنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ یہ فیصلہ تو انہوں نے پہلے ہی کرلیا تھا۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ وہ لوگ تمہاری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے۔ تمہاری شادی کی صورت میں وہ حویلی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مجھے لالچی اور خودغرض کہتے ہیں، لالچی اور خودغرض تو وہ لوگ خود ہیں۔”
    فارس کی آواز میں غصہ تھا۔ خلاف توقع وہ جیتی ہوئی بازی ہار گیا تھا۔ اُسے شکست کا احساس بھی تھا اور ذلت کا بھی۔
    رانیہ اپنی جگہ مجبور تھی۔
    ”فارس ! تم نے اتنی جلد بازی سے کیوں کام لیا؟ تم اچھی طرح جانتے تھے کہ میری فیملی حویلی کے موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ پھر بی جان کو ایسی بات کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ باتیں شادی کے بعد میں بھی تو کی جاسکتی تھیں۔”
    رانیہ نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
    فارس نے درشت انداز میں اُسے ٹوک دیا۔
    ”وہ حویلی تمہاری ہے۔ اس کی مالک تم ہو… تم وہ حویلی اپنی تحویل میں لے سکتی ہو۔ اُسے بیچ سکتی ہو، اُسے نیلام کرسکتی ہو۔ جو چاہے کرسکتی ہو۔ تمہیں اپنے اختیارات اور اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ آج تمہاری بزدلی نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ تمہارے گھر والوں نے سب کے سامنے ہمیں ذلیل کیا اور تم چپ چاپ دیکھتی رہی۔”
    وہ خفا سے انداز میں بولا۔ فارس کو رانیہ کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ رانیہ پر بھی غصہ تھا۔
    ”فارس میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تھی مگر کسی نے میری بات ہی نہیں سنی۔”
    اس نے اپنی صفائی پیش کی۔ وہ ملول اور اداس ہوگئی۔ کسی کو اس کے دکھ کا احساس ہی نہیں تھا۔ ہر بندہ اسے ہی ڈانٹ رہا تھا۔ اسی کو باتیں سنا رہا تھا۔
    ”رہنے دو یہ بے کار کی وضاحتیں۔ اب تمہیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہر حال میں میرا ساتھ دوگی۔ جو میں کہوں گا وہی کروگی۔”
    وہ ذرا سنجیدہ ہوا اور رعب سے بولا۔
    ”اب کیا کرنا ہوگا مجھے۔”
    وہ اس کی بات سمجھ نہیں سکی۔
    ”اس مسئلے کا ایک حل ہے میرے پاس۔”
    اب کی بار اُس کا لہجہ اتنا درشت نہیں تھا۔
    ”کیا؟”
    اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”ہم کورٹ میرج کرلیتے ہیں۔”
    اس نے گویا دھماکہ کیا۔
    کورٹ میرج کا نام سنتے ہی رانیہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس کے ہاتھ پائوں کانپنے لگے۔
    ”نہیں فارس، میں ایسا نہیں کرسکتی۔ اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی ہوں۔”
    وہ خوفزدہ انداز میں بولی۔
    ”تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں نہیں، صرف اپنے اور میرے بارے میں سوچنا ہے۔ ایک بار ہمارا نکاح ہوجائے پھر کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ پھر تمہارے گھر والوں کو ہماری شادی کے لئے ماننا ہی پڑے گا۔”
    وہ اسے بہکا رہا تھا۔
    وہ اس بات کے لئے کبھی راضی نہیں ہوسکتی تھی۔
    ”عجلت سے کام نہ لو فارس، مجھے تھوڑا وقت دو۔ میں امی اور جیمو ماموں سے دوبارہ بات کروں گی۔”
    اس نے خوفزدہ انداز میں کہا۔فارس نہیں مانا۔
    ”وہ نہیں مانیںگے۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی؟ کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ جب تم ساری دنیا کے سامنے تھیٹر ڈرامے کرسکتی ہو تو کورٹ میرج کرنا تمہارے لئے کون سا مشکل کام ہے!”
    اُسے فارس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔ اس نے تو کبھی رانیہ کے تھیٹر میں کام کرنے کی مخالفت نہیں کی تھی پھر آج اس نے اسے اس بات کا طعنہ کیوں دے دیا تھا۔رانیہ کو لگا جیسے وہ کسی اجنبی سے بات کررہی ہے۔
    ”فارس! تھیٹر میرا شو ق ہے۔ کورٹ میرج کرنا کسی بھی لڑکی کا شو ق نہیں ہوسکتا۔ تھیٹر میں پرفارم کرنا ایک آرٹ ہے… ایک فن ہے۔ کیا آرٹ کی فیلڈ سے وابستہ لوگ گھر سے بھاگ کر شادیاں کرتے ہیں؟”
    اس کے لہجے میں افسوس تھا۔ اسے فارس کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔ فارس کے لئے تو جیسے اس کا دکھ اور صدمہ کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا۔
    ”جب تم اپنی مرضی سے تھیٹر میں کام کرسکتی ہو تو اپنی مرضی سے جاکر شادی بھی کرسکتی ہو۔ تم کون سا گھر میں رہنے والی، ہانڈی چولہا کرنے والی چھوٹی موٹی لڑکی ہو جسے زمانے کی کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ اب تمہیں کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ کل صبح نو بجے میں تمہارے گھر کے باہر آجائوں گا۔ وہیں سے ہم کورٹ چلے جائیں گے۔ وکیل، گواہ، سب انتظامات میں کرلوں گا۔”
    وہ اسی انداز میں بولا۔
    اس کی باتیں تکلیف دہ تھیں۔
    ”نہیں، میںنہیں آسکتی فارس۔”
    اس نے انکار کردیا ۔فارس نے اس کے انکار کو اہمیت نہیں دی۔
    ”کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ لوگ کورٹ میرج کرتے ہی ہیں۔یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ مجبور ہوتی ہے لوگوں کی۔ تمہیں تھوڑی سی ہمت کرنی پڑے گی۔ ایک بار میرا اور تمہارا نکاح ہوجائے پھر میں دیکھوں گا کہ تمہارے گھر والے کیسے حویلی پر قبضہ جمائے رکھتے ہیں۔”
    وہ تلخ انداز میں بولا۔ اس کے لہجے میں رانیہ کے گھر والوں کے لئے بڑی نفرت اور حقارت تھی۔
    ”فارس… میری بات تو سنو۔”
    رانیہ کے اوسان خطا ہونے لگے۔
    اس نے تو کورٹ میرج کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
    ”کل صبح نو بجے۔”
    حکیمہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔ اس کے انداز میں کوئی لچک، کوئی گنجائش نہیں تھی۔ رانیہ کی آنکھوں سے چند آنسو بڑی خاموشی کے ساتھ نکلے۔ وہ شدید ذہنی دبائو اور ڈپریشن کا شکار ہورہی تھی۔ فارس نے غصے کے عالم میں اُسے جو طعنے دیئے تھے۔ ان کی تکلیف اتنی جلدی کم ہونے والی نہیں تھی۔ وہ تو فارس کو بہت روشن خیال شخص سمجھتی تھی اور اس کی روشن خیالی کی مثالیں دیا کرتی تھی۔ مگر آج فارس کے دیئے گئے طعنوں نے اُسے بہت دکھ دیا تھا۔
    اوپر سے وہ اس سے کورٹ میرج کرنے کا مطالبہ بھی کررہا تھا۔ وہ کسی صورت اس کی یہ بات نہیں مان سکتی تھی۔
    وہ کتنی ہی دیر اپنے کمرے میں بیٹھی روتی رہی۔ رات کو ماموں اس کے کمرے میں آئے۔
    وہ اُنہیں آتا دیکھ کر اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
    عنایا خاموشی سے میز پر چائے کے کپ اور سینڈوچ رکھ کر چلی گئی۔ ماموں کرسی پر بیٹھ گئے۔
    ”میں نے سوچا کہ آج رانیہ کے ساتھ چائے پی جائے۔”
    وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے پھر چائے کے کپ کی طرف اشارہ کیا۔
    اس نے ناچاہتے ہوئے بھی چائے کا کپ اٹھالیا۔
    بھوک، پیاس سے اس کا برا حال تھا۔
    ماموں نے اصرار کرکے اسے سینڈوچ بھی کھلایا۔
    اسے ڈھارس ملی کہ گھر والوں کے لئے وہ اتنی بھی غیر اہم نہیں تھی۔ ماموں خود چل کر اس کے کمرے میں آئے تھے۔ احترام کا تقاضا تھا کہ وہ ان کی بات سنتی اور بحث و مباحثہ نہ کرتی۔ اس گھر میں بزرگوں کی عزت و احترام کے کچھ اصول تھے۔
    ”سینڈوچ تو بہت ہی مزے دار ہیں۔ عنایا کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔”
    وہ مسکرا کر بولے۔

    وہ خاموشی سے سینڈوچ کھانے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ یہ باتیں کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ یہ تو صرف تمہید ہے۔
    پھر کچھ دیر بعد انہوں نے سنجیدگی سے اس بات کا آغاز کیا جس کے لئے وہ اس وقت یہاں آئے تھے۔
    ”رانیہ بیٹا! زندگی میں بہت سی چیزیں غیر متوقع ہوتی ہیں۔ انسان جن سے محبت کرتا ہے ان سے بچھڑ جاتا ہے۔ جو چاہتا ہے وہ حاصل نہیں کرپاتا۔مقد رکے فیصلوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپاتا۔ مگر آسمان والے کے فیصلے زمین والوں کے فیصلوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ اور اس کا احساس انسان کو وقت گزرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔”
    وہ اسے سمجھا رہے تھے۔ وہ رو رو کر تھک چکی تھی اور اب خاموشی سے چائے پی رہی تھی۔
    ”مجھے اپنی منگنی کے ٹوٹنے کا بہت دکھ ہے ماموں۔ آپ لوگوں نے میری مرضی، میری رائے کو اہمیت نہیں دی۔”
    کچھ دیر بعد اس نے اُداس آواز میں کہا۔
    ”ہم تمہارے بزرگ ہیں۔ تمہارے لئے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کریں گے۔ ہم پر اعتبار رکھو۔ فارس جیسا لالچی آدمی تمہیں کبھی خوشیاں نہیں دے سکتا۔ آج اس نے حویلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کل کوئی اور مطالبہ کرکے دوبارہ تمہیں بلیک میل کرے گا۔ جن لوگوں کو دوسروں کی چیزوں پر قبضہ کرنے کی عادت پڑجائے وہ آہستہ آہستہ دوسروں کی سب چیزیں چھین لیتے ہیں۔”
    ماموں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ رانیہ کے چہرے پر اداسی تھی۔
    ”مگر میں فارس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔”
    اس نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم مگر سنجیدہ آواز میں کہا۔ ماموں کچھ دیر سوچتے رہے۔ آج انہیں رانیہ کی بے وقوفی پر دکھ ہوا تھا۔ فارس نے اسے ہپناٹائز کرلیا تھا اور وہ اس کے اثر سے باہر نہیں آنا چاہتی تھی۔
    پھر انہوں نے چائے کا کپ آہستگی سے میز پر رکھا اور تفکر بھری سنجیدگی سے کہنے لگے۔
    ”رانیہ! کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں ضرور سوچنا جو پہلے ہی بلڈ پریشر کی مریض ہیں۔ ابھی تمہاری دونوں بہنوں عنایا اور ثمن کی شادی بھی ہونی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی غلط فیصلہ ان دونوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوجائے۔ جب تمہاری مامی کا انتقال ہوا تو ثمن اور ٹیپو بہت چھوٹے تھے۔میں نے بہت محنت سے ان کی پرورش کی۔ زندگی کے ساتھی کے بغیر اتنے سال گزار دیے۔ اپنے بچوں کے لئے قربانی دی کہ نجانے سوتیلی ماں آکر ان کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ جب تک وہ سمجھدار نہیں ہوجاتے، میرا پورا وقت اور توجہ صرف میرے بچوں کے لئے ہی ہے۔ اپنے دکھ، غم اور تنہائی کے روگ کو زندہ دلی کی آڑ میں چھپا لیا۔ پھر میں نے اپنی بہن کو بیوگی کا دکھ جھیلتے دیکھا۔ وہ دن رات تمہاری اور عنایا کی فکر میں پریشان رہتیں۔ یہی سوچتی رہتیں کہ تم دونوں کی ذمہ داری تنہا کیسے اٹھائیں گی۔ پھر ہم دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے دکھ بانٹ لئے۔ ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ لیا۔ جانے والوں کا دکھ تو ہمیشہ دل میں موجود رہتا ہے مگر تم لوگوں کے لئے ہم نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ ہم اپنے دکھ بھول چکے ہیں۔ اصل بات ہی قربانی دینے کی ہوتی ہے ۔ بیٹا جو لوگ قربانی دینا نہیں جانتے وہ کبھی محبت نہیں کرسکتے تم ایسا کوئی قدم نہ اٹھانا جس سے اس گھر کی عزت پر آنچ آئے۔”

  • چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر4)”

    چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر4)”

    قسط نمبر4
    ”چنبیلی کے پھول

    اُسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ کچھ لمحوں کے لئے اس کے حواس منجمد ہوگئے۔
    وہ اتنی بے باکی سے اُسے پرپوز کرے گا اُسے اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا جبکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اُس کی منگنی ہوچکی ہے۔
    ”آپ!“
    غصے سے اس کا چہرہ سرخ پڑگیا۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے۔اُسے احساس ہوا کہ اس نے یہاں آکر غلطی کی تھی۔ وہ اُس کے سامنے بڑے اطمینان سے بیٹھا پرسکون انداز میں اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
    ”مجھ سے قربانی مانگ رہی ہیں! آپ کیوں یہ قربانی نہیں دے سکتیں؟ توڑ دیں اپنی منگنی…… ختم کردیں۔ مجھ سے شادی کرلیں۔ میں آپ کی بات مان لوں گا۔“
    وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے اسی پرسکون اندا ز میں بولا مگر اس کی آواز برف جیسی سرد تھی۔
    رانیہ کاغصے سے بر ا حال تھا۔ رہی سہی کسر زوار کے سکون اور اطمینان نے پوری کردی۔
    آخر وہ خود کوسمجھتا کیا تھا۔ رانیہ کی آنکھوں سے غصہ چھلکنے لگا۔
    ”آپ ایک نفسیاتی مریض ہیں۔“
    اردگرد بیٹھے لوگوں کی وجہ سے وہ بلند آواز میں بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں برہمی اور چہرے پر بے پناہ خفگی تھی۔
    زوار کے چہرے کے تاثرات پرسکون ہی رہے۔ اُس کے بارے میں رانیہ کا اندازہ درست تھا۔ اس کامطلب تھا کہ وہ اُسے جاننے لگی تھی۔
    ”میں اپنے منگیتر سے بہت محبت کرتی ہوں۔ آ پ کو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔“
    رانیہ نے اُسے یہ جتانا ضروری سمجھا۔ زوار کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ”آپ کو بھی تو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ میں جواب میں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں۔“
    اُ س نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا مگر اس کی آواز سرد تھی۔
    رانیہ کو اس کا یوں جتانا اور بھی زیادہ برا لگا۔
    ”مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے اپنی کزن عشنا کی وجہ سے یہاں آکر آپ سے یہ بات کرنی پڑی مگر آپ کو کیا پتا کہ رشتوں کی محبت اور اُن کا مان کیا ہوتا ہے۔ نہ تو میں سارہ آفندی کو جانتی ہوں اور نہ ناصرہ تسکین کو…… میں نے یہ کوشش صرف انسانی ہمدردی کی وجہ سے کی۔ عشنا اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی ہے اور میں نے انسانیت کے ناطے اُس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ میں اُس کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔ اُسے مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اور پھر میں نے برسوں پردیس میں رہنے والی ماں بیٹی کے بارے میں بھی سوچا جنہوں نے اپنی زندگی کی مشکلات کا تنہا اور خاموشی سے مقابلہ کیا مگر یہاں آکر تو میں نے صرف اپنا وقت ہی ضائع کیا ہے۔آپ ایک بے حد خودغرض، ظالم اور سنگ دل آدمی ہیں۔ آئندہ نہ میں کبھی آپ سے ملنا چاہتی ہوں اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا چاہتی ہوں۔ میں تو تھیٹر بھی چھوڑ رہی ہوں۔“
    وہ بے حد خفا سے انداز میں بولی۔ اُس نے سوچا کہ آج تو اُسے دو چار سنا ہی دینی چاہیے۔
    وہ پرسکون انداز میں بیٹھا اُس کی بات سنتا رہا۔ شزا اور اس کی بہن وہاں سے جاچکی تھیں۔ ورنہ زوار اور رانیہ کے اس انداز پر ضرور چونک جاتیں۔ زوار کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا جیسے اُس نے رانیہ کی کسی بات کا برا نہیں منایا، بلکہ وہ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ وہ اُس کی بات کے جواب میں یہی سب کچھ کہے گی۔ وہ اُس کے اس ردعمل کے لئے پہلے سے ہی تیار تھا۔
    ”یہ کیسی ہمدردی ہے آپ کی؟ کہ آپ سارہ آفندی کے لئے اپنی منگی نہیں توڑ سکتیں! اور مجھ جیسے سنگ دل آدمی سے آپ کو رحم دلی کی اُمید ہے؟“
    اس نے پلکیں جھپکائے بغیر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھاری آواز میں کہا۔
    رانیہ کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔ اس نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا۔
    ”آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟“
    اُس نے زوار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ وہ اُس کے سوال پر مسکرایا۔
    ”کیونکہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔“
    اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اعتراف کیا۔ اب کی بار اس کی آواز کا بر ف جیسا تاثر پگھل گیا تھا۔
    وہ اس کے اس جملے پر سن ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی کہ اُس نے نظر جھکالی۔ زوار کی آنکھیں مقناطیسی کشش رکھتی تھیں۔
    ”مگر میں آپ سے محبت نہیں کرتی ہوں۔“
    وہ جھکی نظروں کے ساتھ بولی۔
    وہ زوار کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے کوشش کی کہ اگر زوار کو اس کے حوالے سے کوئی خوش فہمی ہے تو وہ ختم ہوجائے۔ وہ اس کی جھکی پلکوں کودیکھ کر زیر لب مسکرایا۔
    ”مگر میں نے آپ سے محبت تو نہیں مانگی۔“
    وہ مدھم مگر بھاری آواز میں بولا۔
    رانیہ نے بے ساختہ پلکیں اٹھائیں۔ اسے احساس ہوا کہ اس آدمی سے ایسی باتیں کرنا خطرناک تھا…… بہت خطرناک اس نے اس سے محبت کا تقاضا نہیں کیا مگر شادی کے لئے پروپوز کردیا۔ آخر اس بات کا کیا مطلب تھا۔
    وہ الجھ گئی۔
    ”پھر آ پ نے مجھے پروپوز کیوں کیا ہے؟“
    اس نے خفگی سے کہا۔
    وہ مدھم انداز میں مسکرایا۔
    ”جب آپ میرا پروپوزل قبول کرلیں گی پھر بتادوں گا۔“
    وہ اُس مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے گہری آواز میں بولا۔ رانیہ کو اس سے خوف سا محسوس ہوا۔ پتا نہیں ا س آدمی کے کیا ارادے تھے۔
    ”ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ مجھے آپ کے پروپوزل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“
    اس نے قطعی اور بے لچک انداز میں کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہوگئی، یوں جیسے اُسے رانیہ کے انکار سے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو۔ اُسے یوں مسکراتے دیکھ کر رانیہ نے بمشکل ضبط کیا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہوگئیں۔ وہ اس کی باتوں سے ہرٹ ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ کرزوار کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ اُسے ہرٹ نہیں کرناچاہتا تھا۔
    وہ وہاں رکی نہیں۔ وہاں سے چلی گئی۔ بارہ بارش تھی۔ وہ بے اختیار۔ اس کے پیچھے آیا۔
    کیفے کے ساتھ ہی تھیٹر ہال تھا۔ وہ بھیگی سڑک کے کنارے چلتے ہوئے اس طرف جارہی تھی۔
    زوار تیزی سے اس کے قریب آکر اس کے برابر چلنے لگا۔
    ”میرا تعاقب نہ کریں۔“

    وہ غصے سے بولی۔ وہ شاید رو رہی تھی۔ زوار کو افسوس ہوا۔
    ”بارش تیز ہے۔ آپ کواس موسم میں اکیلے نہیں جانے دے سکتا ہوں۔“
    وہ نرم مگر قطعی انداز میں بولا۔ رانیہ نے غصے کے عالم میں اس کے لہجے کی فکر مندی کو محسوس ہی نہیں کیا۔ اس نے یونہی چلتے ہوئے اپنا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھ لیا۔
    ”مجھے آپ کی مہربانیوں کی ضرورت نہیں ہے۔“
    وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی۔ اس کی آواز میں غصہ تھا۔
    ”میں تو ایک سنگ دل آدمی ہوں۔ لوگوں پر مہربانیاں نہیں کرتا ہوں۔“
    اس نے اسے جتاتے ہوئے کہا۔ رانیہ نے بے اختیار لب بھینچ لئے۔
    ”اُف …… اس آدمی کے ساتھ بحث کرنا بے وقوفی ہے۔“
    اس نے لمحہ بھر کے لئے آنکھیں بند کیں اور دل میں سوچا پھر گردن موڑ کر اپنے برابر چلتے زوار کو دیکھ کر درشت لہجے میں کہا۔
    ”آپ یہاں سے چلے جائیں۔“
    اس کی آواز میں غصہ اور ناراضگی تھی۔
    مگر وہ زوار ہی کیا جس پر کسی با ت کا اثر ہوجائے۔
    ”یہ سڑک آپ کی جاگیر تو نہیں ہے۔ آپ کے علاوہ اور لوگ بھی یہاں چل پھر سکتے ہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بات کررہا تھا۔ رانیہ نے بے بسی سے اُسے دیکھا۔
    ”نفسیاتی مریضوں کو اپنے او ردوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں ہوتی۔“
    اس نے خفگی سے کہا۔ اس نے اس کی با ت کا برا نہیں مانا۔
    ”اگر میں نفسیاتی مریض ہوں تو آپ میرا علاج کردیں۔ یقین کریں میں ٹھیک ہوجاؤں گا۔“
    وہ زیر لب مسکرایا۔
    ”اُف یہ آدمی……“
    وہ جھنجھلا گئی۔ اُسے احساس ہوا کہ اس سے کچھ کہنا سننا بے کار ہی تھا۔
    وہ تھیٹر کی پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کے پاس آگئی تھی۔ اب وہ جلد از جلد گھر جانا چاہتی تھی۔
    گاڑی کا لاک کھول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ مگر وہ گاڑی کا دروازہ نہیں بند کرسکی کیونکہ اس پر زوار نے ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
    ”میری بات سن لیں۔“
    وہ برستی بارش میں کھڑا تھا۔
    ”آپ میرے پاس یہ مقدمہ لے کر آئی ہیں۔ میں آپ کو مایوس نہیں کرنا چاہتا مگر ادھوری کہانیاں خطرناک ہوتی ہیں۔ میں آ پ کوہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر میرے پروپوزل پر غور ضرور کیجیے گا۔ یقین کریں میں اتنا بھی سنگ دل نہیں ہوں۔“
    رانیہ نے ناراضگی کے عالم میں اُس کی بات سنی پھر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ وہ اب اس کی کسی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ گہرا سانس لے کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
    رانیہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا اور فوراً ہی وہاں سے گاڑی بھگاکر لے گئی۔
    ”میں آئندہ کبھی اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
    وہ راستے بھر سوچتی آئی۔
    پھر اُس کی گاڑی کو اپنے تعاقب میں آتے دیکھا۔
    وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا اور اس برستی بارش میں اس کے گھر تک آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔ وہ اپنے گھر پہنچ گئی اور وہ اس کے گھر کے گیٹ سے واپس مڑ گیا۔
    وہ واقعی ایک عجیب آدمی تھا۔
    ٭……٭……٭
    وہ گھر آئی تو عشنا اسی کا انتظار کررہی تھی۔ مگر وہ آتے ساتھ ہی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ گیلے بال الجھے ہوئے تھے۔ عشنا اسے اس حال میں دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ اسے کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوا۔ وہ تو کبھی اس ابتر حالت میں گھر واپس ہی نہیں آئی تھی۔
    رانیہ اپنا لباس تبدیل کرکے تھکے ہوئے انداز میں اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ آج کا دن اس کے لئے بے حد برا ثابت ہوا تھا۔
    ”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے رانیہ باجی؟“
    عشنا نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں اور بجھے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔
    ”میرے سر میں درد ہے…… آج بہت تھک گئی ہوں۔“
    رانیہ نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا۔
    عشنا کو تشویش ہوئی۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سے برش اٹھایا۔
    ”میں آپ کے بال سلجھا دیتی ہوں۔دیکھیں تو سہی۔ کتنے الجھ گئے ہیں۔“
    وہ آہستگی سے رانیہ کے گیلے الجھے بالوں میں برش کرنے لگی۔ پھر اس نے وہی سوال کیا جس سے رانیہ خوفزدہ تھی۔
    ”کیا آپ نے زوار آفندی سے بات کی؟“
    رانیہ نے ایک پل کے لئے آنکھیں بند کیں۔ وہ اس لمحے کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
    ”وہ ایک پاگل اور سنگ دل آدمی ہے۔ تم اپنی دوست کی مدد کرنے کا خیال دل سے نکال دو۔ وہ ناصرہ تسکین کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔“
    رانیہ نے خفا سے انداز میں کہا۔ وہ عشنا کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرناچاہتی تھی۔ عشنا اس کے اس انداز پر بھونچکا رہ گئی۔ یہ جواب ا س کی توقع کے برعکس تھا۔
    ”مگر ہوا کیا ہے؟ کیا کہا اُس نے؟“
    عشنانے بے چینی سے پوچھا۔ رانیہ اُسے وہ سب کچھ تو نہیں بتا سکتی تھی جو زوار نے اس سے کہا تھا۔
    ”اس نے انکار کردیا؟“
    عشنا نے دل تھام کر اندازہ لگایا۔
    ”ہاں۔“
    رانیہ کو یہی مناسب ترین جواب لگا۔ عشنا کو مایوسی ہوئی۔
    ”آپ نے اسے ساری باتیں بتائی تھیں؟“
    عشنا نے بجھے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”ہاں …… بتائی تھیں۔“
    رانیہ نے کہا۔
    ”پھر…… کیا اُس نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی؟“
    عشنا نے ذرا جھجک کر پوچھا۔
    ”بہت زیادہ…… صرف یہی نہیں بلکہ اس نے میری انسلٹ بھی کی۔“
    رانیہ نے خفا انداز میں کہا۔ عشنا کو افسوس ہوا۔ اُسے زوار سے ایسے انتہائی ردعمل کی امید نہیں تھی۔
    ”I am sorry Rania Baji…… میری وجہ سے آپ کو اتنی باتیں سننی پڑیں۔“
    اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں تمہارا اس میں بھلا کیا قصور…… تم تو اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی تھی وہ ہی بدتمیز آدمی ہے…… آئندہ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
    رانیہ برہم انداز میں بولی۔
    ”اس کامطلب ہے سارہ کا اندازہ درست تھا۔“
    عشنا نے گہراسانس لے کر کہا۔
    ”ہاں ظاہر ہے۔ وہ زوار آفندی کی فطرت سے واقف ہوگی بے چاری……“
    رانیہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”اور آپ نے اُسے تاج بھی واپس کردیا؟“
    عشنا نے بجھی آواز میں پوچھا۔
    ”ہاں ……کردیا۔“
    رانیہ نے سنجیدہ انداز میں جواب دیا۔
    عشنا نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔ وہ رانیہ کے بال سلجھا چکی تھی اور اب اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی۔
    ”مجھے یقین نہیں آرہا کہ زوار آفندی نے آ پ کی بات بھی نہیں سنی۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ جب وہ آپ کے لئےgold کا تاج بنوا سکتا ہے تو آپ کی اتنی سی بات کیوں نہیں مان سکتا؟“
    عشنا نے الجھ کر کہا۔ اسے افسوس تھا کہ اس کی ساری کوششیں بے کار ہوگئی تھیں اور یہ اُس کے لئے بڑے صدمے کی بات تھی۔
    ”ایک دولت مند آدمی کے لئے سونے کا تاج بنوانا بہت آسان ہوتا ہے مگر اپنی انا اور غرور کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔“
    رانیہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
    عشنا خاموش ہوگئی۔ یہ فلسفہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
    یکدم رانیہ کا موبائل بجنے لگا۔ اُس نے پرس میں سے موبائل نکال کر دیکھا تو موبائل کی اسکرین پر زوار کالنگ لکھا ہوا آرہا تھا۔
    ”دیکھیں …… زوار کا فون آرہا ہے۔ شاید اُسے ابguiltہورہا ہوگا اور آپ سے sorry کرنا چاہتا ہوگا۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔ رانیہ کی پیشانی شکن آلو دہوگئی۔
    وہ زوار کا فون نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔
    ا س نے زوار کا فون کاٹ کر اس کا نمبر بلاک کردیا۔
    ”میں اب اس آدمی سے کبھی با ت نہیں کرنا چاہتی ہوں۔“
    اس نے قطعی انداز میں کہا
    عشنا نے اُسے روکنے کی کوشش کی۔
    ”بلاک تو نہ کریں اُسے۔“
    زوار کا فون آنے سے اُسے کچھ امید بندھ گئی تھی۔
    رانیہ کو عشنا پر غصہ آیا۔
    ”اس کا انکار سن کر بھی تمہیں اس سے ہمدردی ہورہی ہے!“
    وہ اس پر برس پڑی۔
    ”پھر وہ آپ کو فون کیوں کررہا ہے؟“
    عشنا نے الجھ کرکہا۔
    ”کیونکہ وہ ایک پاگل آدمی ہے۔ نفسیاتی مریض ہے۔“
    رانیہ نے خفگی سے کہا اور موبائل آف کرکے سائیڈٹیبل پررکھ دیا۔
    عشنا خاموش ہوگئی۔ اُسے احساس ہوا کہ اس وقت رانیہ سے زوار کے بارے میں بات کرنا بے کار ہے۔ وہ بہت غصے میں تھی مگر آخر رانیہ کو زوار پر اتنا غصہ کیوں تھا؟ ایسی کیا بات ہوگئی تھی۔ عشنا نے سوچا۔ اگر زوار نے سارہ کے معاملے میں انکار کردیا تھا تو اس میں اتنا ناراض ہونے والی کیا بات تھی۔ عشنا کو لگا کہ رانیہ اس سے کچھ چھپا رہی ہے۔ بات دراصل کچھ اور تھی۔
    رانیہ سونے کے لئے لیٹ گئی۔

  • چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر3)”

    چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر3)”

    تحریر:نوید احمد
    قسط نمبر3
    ”چنبیلی کے پھول“

    زوار نے اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی مگر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
    یہ اتفاق نہیں تھا۔
    یہ آدمی بار بار اُس کے راستے میں کیوں آجاتا تھا؟ کل تک وہ محض اُس کا فین تھا اور آج اُس کے ڈرامے کا financer بھی بن گیا، یہ اتفاق کیسے ہوسکتا تھا بھلا!
    یہ اُس کا وہم نہیں تھا کہ وہ اُس کے آس پاس رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جہاں جاتی تھی، وہاں پہنچ جاتا۔ آخر وہ اُس سے کیا چاہتا تھا، کیوں بار بار اُس سے ٹکراتا تھا۔
    اُس کی آنکھیں بے حد گہری اور چونکا دینے والی تھیں۔ وہ محسوس کرتی کہ جب بھی وہ اس کی طرف دیکھتا ہے تو اُس کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک آجاتی ہے۔ اُس کی شخصیت میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ سامنے والا اُس کی شخصیت کے رعب میں آجاتا۔ وہ اُسے جتنا اگنور کرتی وہ اُتنا ہی اُس کے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈتا۔ اب وہ اس کے تھیٹر ڈرامے کا اسپانسر بھی بن گیا تھا تو بھلا وہ اُسے کیسے نظر انداز کرسکتی تھی اور شاید وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ اس انداز میں اُس کے قریب آئے کہ وہ اُسے نظر انداز نہ کرسکے۔
    ”چلو رانیہ……“
    شزا نے اُسے یوں ساکت کھڑے دیکھ کر اُس کا بازو تھام کر کہا۔
    اُس کے قدم من من بھر کے ہوگئے۔
    وہ اس شخص سے خوفزدہ ہوگئی تھی اور یہ خوف اس کی آنکھوں میں بھی نظر آرہا تھا۔
    ڈائریکٹر نے زوار آفندی سے سب لوگوں کا تعارف کروایا۔ وہ غائب دماغی سے سب کی باتیں سنتی رہی۔
    رانیہ کے علاوہ سب لوگ بہت خوش نظر آرہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک وہی تھی سنجیدہ، گم سُم اور قدرے خوفزدہ بھی……
    اس کے بعد لنچ تھا جو زوار کی طرف سے تھا۔ وہ اُن سے ذرا فاصلے پر کھڑا آرگنائزر کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔
    وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھی ایک کونے میں ہی بیٹھی رہی۔
    شزا نے اُس کی اس غائب دماغی کو نوٹ کیا۔
    ”تم کچھ کھا نہیں رہی!“
    شزا نے اُسے یوں کونے میں الگ تھلگ بیٹھے دیکھا تو اس کے لئے پلیٹ میں سینڈوچز لے آئی۔
    ”مجھے بھوک نہیں ہے۔“
    اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”Financerکو دیکھ کر تمہاری بھو ک کیوں اڑ گئی؟“
    پتا نہیں شزا نے اُسے کیوں چھیڑا۔
    ”یہ آدمی……“
    وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہتے کہتے رُک گئی وہ یہ باتیں کسی کے ساتھ شیئر بھی نہیں کرسکتی تھی اور وہ شزا کو مشکوک بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شزا نے اُس کی ادھوری بات پر اتنا دھیان نہیں دیا۔
    ”میں تو سمجھی تھی کہ کوئی پکی عمر کا، سفید بالوں والا کوئی موٹا بھدا سا بندہ ہوگا مگر یہ تو بڑا ہی ہینڈسم آدمی ہے۔ بالکل ہیرو لگ رہا ہے۔دیکھو! سب سے مسکرا مسکرا کر باتیں کررہا ہے۔ ذرا بھی غرور نہیں ہے اس میں۔“
    شزا ذرا فاصلے پرکھڑے زوار کو دیکھ کر کہہ رہی تھی۔رانیہ نے اُس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔
    شزا نے اُس کی خاموشی کو محسوس کیا وہ مسلسل اُس کے بالوں میں چمکتے تاج کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا پتا کہ واقعی یہ اتنا امیر آدمی ہو کہ اس کے لئے سونے اور موتیوں کا تاج منگوانا کوئی بڑی بات ہی نہ ہو…… ویسے بندہ بڑے زبردستtaste کا مالک ہے۔“
    اُس نے سینڈوچ کھاتے ہوئے کہا۔
    رانیہ نے نفی میں سرہلایا۔
    ”تمہیں تو وہم ہوگیا ہے کہ یہ تاج سونے کا ہے۔ تم خود سوچو کہ ایک تھیٹر ڈرامے کے لئے یہ آدمی سونے اور موتیوں کا تاج کیوں بنوائے گا؟“
    ”یہی تو میں سوچ رہی ہوں …… مگر خیر تھیٹر پلے والے دن میری بہن آئے گی تو وہ خود ہی اس تاج کے بارے میں بتادے گی۔“
    شزا نے پرسوچ انداز میں کہا۔
    وہ تاج اتنا ہی قیمتی اور خوبصورت تھا کہ دیکھنے والوں کو چونکا دیتا۔
    ”ٹھیک ہے۔“
    رانیہ نے کہا۔ اُسے اس تاج میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ شزا کو ڈائریکٹر نے کسی کام سے بلایا تو وہ اٹھ کر چلی گئی۔
    زوار اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔ لوگ اُس سے متاثر ہورہے تھے۔ اس کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے۔
    اگر وہ شزا کو بتاتی کہ ایک بار ا س آدمی نے اُس سے آٹوگراف لیا تھا تو شزا بالکل یقین نہ کرتی بلکہ اس کی بات پر بہت ہنستی۔ رانیہ نے زوار آفندی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ اور آنکھوں میں روشنی سی تھی۔
    اب وہ اُسے نظر انداز نہیں کرسکتی تھی۔ اب اُس سے مجبورا ً اُسے بات کرنی ہی تھی۔
    وہ اب اُس کے عین سامنے کھڑا تھا۔
    ”کیسی ہیں آپ کوئین؟“
    وہ خوشدلی سے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
    اس کی بے حد گہری نظریں جیسے اُس پر ٹھہر گئی تھیں۔
    ”آپ تو بالکل کوئین آف اسکاٹ لینڈ لگ رہی ہیں۔“
    اس نے اس کی تعریف کی تھی۔
    ”تھینک یو۔“
    وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
    آخر کچھ تو اُسے کہنا ہی تھا۔
    ”سب سے الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہیں آپ؟“
    اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
    رانیہ نے بے ساختہ نظریں جھکالیں۔ زوار کی آنکھیں بے حد گہری تھیں، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنا بہت مشکل کام تھا۔
    اسے محسوس ہوتا کہ زوار صرف اس کا فین ہی نہیں ہے بلکہ کوئی اور بات بھی ہے۔
    ”بس ویسے ہی…… مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ financer بھی ہیں۔“
    اُس نے کہا۔
    اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
    ”بن گیا ہوں۔“
    وہ بے ساختہ بولا۔
    جملہ مختصر مگر واضح تھا۔
    وہ خاموش رہی۔ اب اس سے یہ پوچھنا کہ وہ فائنانسر کیوں بن گیا تھا، احمقانہ پن کی انتہا ہی ہوتی۔
    ”میں تو آپ کے گھر والوں کی دعوت کا انتظار ہی کرتا رہا۔“
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”وہ لوگ کچھ پلان تو کررہے ہیں۔ آپ کو جلد ہی بتادیں گے۔“
    اس نے مدھم آواز میں کہا۔ بھلا وہ کیوں اس کے گھر آنے کے لئے اتنا بے تاب تھا۔
    ”خوش قسمت ہیں آپ! کہ آپ کے گھر والے اتنے اچھے اور سوئیٹ ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے بہت متاثر ہوتا ہوں۔“
    وہ اس کے گھر والوں کی تعریف کررہا تھا۔ سو اُسے مسکرانا ہی تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرپارہی۔
    ”Macbeth میرا فیورٹ پلے ہے مگر یہ ایک ٹریجک ڈرامہ ہے…… ٹریجک کہانیوں کا اپنا ہی impact ہوتا ہے…… وہ اپنا اثر رکھتی ہیں اور لوگوں کو یاد رہ جاتی ہیں۔“
    وہ اسی طرح اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔
    اس کی باتوں میں فلسفہ تھا۔
    ”جی ہاں …… یہ تو ہے۔“
    رانیہ نے بس اتنا ہی کہا۔
    وہ مسلسل اُس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
    ”Love stories are always tragicایسا کیوں ہوتا ہے؟“
    وہ ذر ا سنجیدہ ہوا۔
    اب وہ اس بات کا کیا جواب دیتی۔
    ”معلوم نہیں …… میری love story تو ٹریجک نہیں ہے۔“
    اس نے ایک جملے میں اُسے بہت کچھ جتا دیا۔ اس نے سوچا عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہے۔
    وہ اُس کے جملے پر چونکا پھر سرجھٹک کر مسکرا دیا، جیسے اس نے اس کی بات کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیا۔
    ”میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میری love story ٹریجک نہ ہو۔“
    وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
    وہ کچھ بول نہ سکی۔ ایک لمحے کے لئے اُس کا دل زور سے دھڑکا وہ اپنی کس love story کی بات کررہا تھا۔آخر اس نے اُسے کیا جتایا تھا۔
    رانیہ کی چھٹی حس اُسے بار بار الارم دیتی کہ کہیں کچھ غلط تھا اور یہ اُس کا وہم نہیں تھا۔
    وہ گہری مسکراہٹ کے ساتھ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور وہ اس کی آنکھوں کا خوف بھی پڑھ چکا تھا۔ وہ کچھ دیر اُس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر اس نے خوبصورتی سے بات بدل دی۔
    ”آپ کا تاج بہت خوبصورت ہے!“
    وہ اس کی بات پر حیران ہوئی۔ یہ سب چیزیں اسی کی تو بھیجی ہوئی تھیں۔
    ”یہ تاج آپ نے ہی تو بھیجا ہے۔“
    اس نے بے ساختہ کہا۔
    نجانے وہ کیوں ہنسا۔ وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔ وہ ایک عجیب آدمی تھا۔ اس کی باتیں بھی عجیب تھیں۔
    وہ اس سے کیا پوچھتی کہ وہ کیوں ہنس رہا ہے۔ اسے اپنا آپ احمق محسوس ہوا۔
    ”اس تھیٹر پلے کو میں نے اسی تاج کی وجہ سے اسپانسر کیا ہے۔“
    اس نے مدھم مگر خوشگوار لہجے میں کہا۔ یوں جیسے بڑے راز کی بات بتائی ہو۔
    ”ایسی کیا خاص بات ہے اس میں؟“
    وہ الجھ گئی۔
    وہ پہیلیوں میں بات کرنے کا عادی تھا۔
    ”یہ تاج ایک ملکہ کے لئے بنایا گیا ہے۔“
    ا س کی آواز گہری ہوگئی۔
    ”کون ملکہ؟“
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔زوار کی آنکھوں میں روشنی سی چمکی۔
    وہ سادہ تھی یا معصوم…… یا واقعی ایک بے وقوف لڑکی تھی۔
    وہ ذرا آگے کو جھکا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا۔
    ”وہی ملکہ جس نے اس تاج کو پہنا ہوا ہے۔“
    اس کی آواز میں جذبات کی شدت تھی اور آنکھیں لو دے رہی تھیں۔
    وہ چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔
    وہ اس پر ایک گہری اور مسکراتی نظر ڈال کر واپس پلٹ گیا۔
    وہ گم سم بیٹھی اُسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
    اُسے احساس ہوا کہ وہ صرف پراسرار آدمی ہی نہیں تھا…… بلکہ خطرناک آدمی بھی تھا۔
    ٭……٭……٭

  • چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    قسط نمبر2
    ”چنبیلی کے پھول“

     

    ”کیا؟“
    عشنا نے یقینی سے سارہ کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے جواب نے اُسے ششدرہ کردیا تھا اُسے سارہ کے منہ سے ایسی کوئی بات سننے کی توقع بھی نہیں تھی۔
    سارہ کے چہرے پر گہری شام کے سائے تھے۔
    ”ہاں …… وہ میرے اسٹیپ فادر تھے۔“
    سارہ نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم آواز میں اپنا جملہ دہرایا۔
    ”اسٹیپ فادر؟ مگر تم نے تو کہا تھا کہ وہ تمہارے پاپا ہیں۔“
    سارہ اپنے دونوں ہاتھ مسلتے ہوئے خاموش ہوگئی پھر اس نے گہرا سانس لیا۔
    ”میں انہیں پاپا ہی کہتی تھی،مگر وہ ممی کے سیکنڈ ہزبینڈ تھے۔“ اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”اچھا!“
    عشنا حیران ہوئی اور سوچنے لگ گئی کہ ناصرہ تسکین نے گھر سے بھاگ کر جس امیر کبیر آدمی سے شادی کی تھی، تو وہ کون تھا بھلا……
    ”تو تمہارے اپنے فادر کہاں ہیں؟“
    عشنا نے حیرت بھری سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”بہت سال پہلے میرے باباکیdeath ہوگئی تھی۔“
    سارہ نے اداسی سے کہا۔
    ”تو پھرتمہاری ممی نے دوسری شادی کب کی تھی؟ عشنا کے لئے انکشافات کا یہ سلسلہ بے حد حیران کن اور عجیب تھا۔
    ”ممی نے دوسری شادی کچھ سال پہلے پاکستان میں ہی کی تھی، پھر ممی کی فیملی نے ان کا بائیکاٹ کردیا اور ہم لوگ کینیڈا آگئے۔ ممی سمجھی تھیں کہ یہاں آکر ہم لوگ ایک نئی زندگی شروع کریں گے مگر یہاں آکرسب کچھ بدل گیا، جیسا ممی نے سوچا ویسا کچھ نہیں ہوا۔“
    سارہ نے افسردہ انداز میں بتایا۔
    ”اگر تمہاری ممی نے تمہارے بابا کیdeath کے بعد دوسری شادی کرلی تھی تو ان کی فیملی ان سے ناراض کیوں ہوگئی؟ کیا پاکستان میں عورتیں دوسری شادی نہیں کرسکتیں؟“
    عشنا نے سنجیدگی سے کہا۔ سارہ نے سرمزید جھکا لیا۔
    ”میرے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے۔“
    سارہ نے مدھم مگر افسردہ آواز میں کہا۔
    عشنا بھی سارہ کی بات سن کر اداس ہوگئی۔
    ”کتنے rudeاور cruelہیں تمہارے خاندان والے…… دوسر ں کو معاف کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔“
    عشنا نے افسوس سے کہا۔ وہ سارہ اور اس کی ممی کا دکھ محسوس کرسکتی تھی۔
    ”Cruelتو پاپا بھی تھے…… ممی نے انہیں بہت روکا تھا…… وہ بہت روئی تھیں مگر پاپا کو ان پر رحم نہیں آیا۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، انہوں نے ممی کو دھوکہ دیا تھا۔ممی نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں۔“
    سارہ نے افسردہ آواز میں کہا۔ بہت چھوٹی سی عمر میں وہ اپنی ماں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
    ”اوہ…… مجھے تو یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا۔“
    عشنا افسردہ ہوگئی۔
    سارہ نے اداس آنکھیں اٹھاکر عشنا کی طرف دیکھا۔
    ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں کیونکہ وہاں کوئی میرا انتظار کررہا ہے۔“
    سارہ نے پراسرار لہجے میں کہا۔ اس کے انداز میں کوئی ایسی بات تھی جس نے عشنا کو چونکا دیا تھا۔
    ”کون؟“
    عشنا بری طرح ٹھٹک گئی۔
    ”ہے کوئیrelative۔“
    سارہ نے اسی پراسرار انداز میں جواب دیا۔
    ”کونrelative؟ دادا، دادی، نانا، نانی، خالہ، پھپھو؟“
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ناصرہ تسکین کی کہانی پرت در پرت کھلتی جارہی تھی اور مزید سنسنی خیز ہوتی جارہی تھی۔ ایک راز سے جڑے کئی راز تھے۔
    ”بس ہے کوئی رشتہ دار…… میں چاہتی ہوں کہ وہ ممی کو معاف کردے…… اس کے لئے مجھے پاکستان جانا ہوگا…… مگر نہ ممی خود پاکستان جانا چاہتی ہیں اور نہ ہی مجھے جانے دیتی ہیں۔“
    سارہ نے چونکا تے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”تمہیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اور فون کے ذریعے اسrelativeسے رابطہ کرو۔“
    عشنا نے پوچھتے ہوئے اُسے مشورہ دیا۔
    ”بہت کوشش کی ہم نے…… ممی انہیں فون کرتی ہیں مگر وہ ممی سے بات ہی نہیں کرتے۔ فون نہیں اٹھاتے، میسجز کا جواب نہیں دیتے…… اتنے سال گزر گئے مگر انہوں نے ممی کو معاف نہیں کیا۔ ممی تو بہت سالوں سے کوشش کررہی ہیں مگر انہیں کوئیsuccess نہیں ہوئی۔“
    سارہ نے اداسی سے جواب دیا۔
    عشنا کے ذہن میں فوراً ایک خیال آیا۔
    ”تم اس relative کا نام مجھے بتاؤ…… فون نمبر دو…… میں اُن سے contact کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں تمہارا یا ناصرہ آنٹی کا نام نہیں لوں گی…… کیا معلوم کچھ ہوجائے۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔
    سارہ نے بنچ پر پڑے بیگ کی جیب میں سے کاغذ اور پین نکالا اور کچھ لکھنے لگی۔
    ”عشنا میں تم پرtrust کرتی ہوں …… یہ میرے رشتہ دار کا نام ہے……میں ان کے پاس پاکستان جانا چاہتی ہوں، مگر یہ ہم سے بات نہیں کرتے…… تم ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو…… مگرpromis meعشنا،یہ ہم دونوں کاsecret ہے۔“
    سارہ نے کاغذ پر لکھتے ہوئے عشنا سے کہا۔
    ”Don’t worry Sara، تمہارا کام ضرور ہوجائے گا۔“
    عشنا نے کاغذ پرلکھی تحریر پڑھتے ہوئے سارہ کو تسلی دی۔
    اور اس کے بعد سارہ نے اُسے جو کچھ بتایا اُسے سن کر عشنا کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں …… اُسے اتنا شاک سارہ کے سوتیلے پاپا کے بارے میں سن کر نہیں لگا تھا جتنا سارہ کے رشتہ دار کے بارے میں جان کر لگا۔
    ٭……٭……٭

    رانیہ کے گھر میں تناؤ کی سی کیفیت تھی۔ اُسے گھر والوں کے چہروں کو دیکھ کرہی محسوس ہوگیا تھا کہ وہ سب اُس سے ناراض ہیں۔ منہ سے تو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا مگر اُن کے رویوں سے ایسا ہی لگتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ گھر والوں کو حویلی میں شفٹ ہونے والی بات بہت بری لگی تھی۔ اس کے بعد اس حوالے سے گھر میں کوئی ذکر تو نہیں ہوا تھا مگر تناؤ اور کشیدگی کی فضا برقرار رہی۔ رانیہ شرمندہ بھی تھی۔ اُس کے گھر والے فارس کو ناپسند کرتے تھے اور وہ چاہنے کے باوجود کسی کے دل میں فارس کے لئے جگہ نہ بناپائی۔
    وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتی تو گھر والے اُس سے نظریں چرا لیتے، اگر بات چیت میں مصروف ہوتے تو اُسے دیکھ کر خاموش ہوجاتے۔ رانیہ کے لئے یہ رویے تکلیف دہ تھے وہ پریشان تھی کہ کیا کرے اور کیا ناکرے۔ فارس کو بھی اُس سے گلے تھے اور اس کے گھر والے بھی اس سے ناراض تھے۔
    وہ اپنے کمرے میں اکیلی، چپ بیٹھی رہتی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اکیلی ہوگئی ہے۔ نہ کوئی اس کی بات سمجھتا ہے او رنہ کوئی اس کا ساتھ دیتا ہے۔ بذات خود اُسے چاند حویلی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں اِتنے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
    چاند حویلی دراصل رانیہ اور عنایا کے دادا کی حویلی تھی اور وہ وراثت میں رانیہ کے والد کے حصے میں آئی تھی۔ رانیہ کے دادا نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی جن کے پہلے شوہر سے ایک بیٹا بھی تھا جو فارس کے ابا تھے۔
    ساری زندگی رانیہ کے دادا، دادی نے دونوں بیٹوں میں فرق نہیں رکھا۔ رانیہ کے دادا نے اپنے سوتیلے بیٹے کو بھی وہی محبت اور شفقت دی جو اپنے بیٹے کو دی تھی مگر سوتیلے بیٹے ہونے کی وجہ سے وہ وراثت میں حصہ دار نہیں تھے اور رانیہ کے دادا نے وہ حویلی اپنی پوتیوں کے نام کردی تھی۔ اس بات کا فارس کی ماں کو گلہ تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فارس کی دادا کی خدمتیں کیں، اُن کا خیال رکھا اور جائیداد انہوں نے کل کی بچیوں کے نام کردی۔
    فارس کا بچپن اس ہی حویلی میں گزرا تھا۔ اس جگہ سے اُس کی یادیں جڑی تھیں۔ اُسے ضد ہوگئی تھی کہ وہ اسی حویلی میں رہے گا اور اسی وجہ سے ہی اس نے رانیہ سے منگنی کی تھی، ورنہ رانیہ کے ساتھ کبھی کسی نے اُس کے چہرے پر خوشی تو دیکھی نہیں تھی۔
    ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر رانیہ نے دوبارہ تھیٹر جوائن کرلیا۔ اور اب وہ لوگ نئے ڈرامے macbeth کی ریہرسل کررہے تھے اور اس ڈرامے میں وہ لیڈی macbethکا کردار ادا کررہی تھی۔
    ”لیڈی میکبیتھ“ دراصل اسکاٹ لینڈ کی ملکہ تھی، یہ کردار رانیہ کے لئے بہت چیلنجنگ تھا اور وہ اس پر بہت محنت کررہی تھی۔
    وہ خوش تھی کہ وہ ایک بار پھر ملکہ بن رہی تھی اور اس طرح اُس کا کتھارسس بھی ہوجاتا تھا۔ وہ ایک حساس لڑکی تھی اور سوچتی تھی کہ کاش اُس کے پاس بھی ملکہ جیسے اختیارات ہوتے۔ یا کم از کم وہ فارس کے دل کی ملکہ تو ہوتی۔ وہ اُس کی منگیتر ضرور تھی مگر اُس کی ملکہ نہیں تھی۔
    وہ ریہرسل سے فارغ ہوئی تو واپسی پر فارس اُسے لینے آیا اور وہ دونوں ساحل سمندر پر چلے گئے۔
    فارس ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا، رانیہ کو ہمیشہ اس کی سنجیدگی سے خوف آتا تھا۔
    ”پھر تمہاری امی اور ماموں نے کیا فیصلہ کیا؟ مجھے تو ان لوگوں نے صاف جواب دے دیا تھا…… مگر تمہاری بات پر تو ضرور غور کریں گے۔ وہ لوگ آخر کب تک اپنی من مانی کرتے رہیں گے۔“
    وہ سمندر کے کنارے گیلی ریت پر رانیہ کے ہمراہ چلتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔
    ”فیصلہ!“

    وہ ساکن سمندر کو دیکھ کر چند لمحوں کیلئے چپ سی ہوگئی۔
    ”فارس! وہ حویلی صرف میری نہیں ہے۔ عنایا کی بھی ہے اور عنایا اس بات کے لئے راضی نہیں ہے کہ میں اور تم شادی کے بعد وہاں رہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بولی۔
    ”عنایا راضی نہیں ہے یا تمہاری ماں اور ماموں راضی نہیں ہیں؟“
    وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ اُس کی آواز میں دبا دبا سا غصہ تھا اور وہ اپنا غصہ بھی چھپانا نہیں جانتا تھا۔
    ”اس ضد کو چھوڑ دو فارس۔ گھر میں اس بات کی وجہ سے بہت جھگڑا ہوا ہے۔ سب لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔“
    رانیہ نے اداسی سے کہا۔ اُسے خود پر بھی افسوس ہوا کہ وہ باوجود کوشش کے کسی کو بھی خوش نہیں رکھ پائی۔
    ”تمہاری امی اور ماموں تمہاری اور میری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں …… تم بے وقوف لڑکی ہو جو ان لوگوں کی پلاننگ کو نہیں سمجھتی ہو۔ وہ لالچی لوگ ہیں اور تمہیں اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔“
    فارس رانیہ کے گھر والوں سے کچھ زیادہ ہی بدگمان تھا۔
    رانیہ نے فوراً اُسے وضاحت دی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے فارس……دراصل تمہاری جاب……“
    فارس نے اُس کی بات کاٹ دی۔
    ”جاب تو مجھے مل ہی جائے گی…… ایک دو جگہ انٹرویو ز دیئے ہیں میں نے…… مسئلہ میری جاب کا نہیں ہے رانیہ…… مسئلہ چاند حویلی کا ہے…… تمہاری حویلی کا۔“
    فارس جھنجھلا کربولا۔
    اُسے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کا فن آتا تھا۔ اُسے ہر چیز میں دوسروں پر الزام لگانے کی عادت تھی۔
    ”وہ صرف میری حویلی نہیں ہے فارس…… تم کیوں بھول جاتے ہو؟“
    رانیہ عاجز آگئی۔
    فارس کی ضد اُسے تکلیف دینے لگی تھی۔ وہ فارس کے ساتھ خوش رہنا چاہتی تھی مگر فارس ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرلیتا۔
    ”تم کیوں بھول جاتی ہو، کہ تم اُس حویلی کی مالک ہو۔ اس حویلی کے حوالے سے فیصلہ کرسکتی ہو۔“
    وہ اُسے اُکسا رہا تھا۔
    وہ چاہتا تھا رانیہ اُس کی مرضی کا فیصلہ کرے،وہی کرلے جو وہ چاہتا ہے۔ وہ رانیہ کے منہ سے کسی بھی چیز کے لئے کبھی انکار سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔
    ”میں اکیلی مالک تو نہیں ہوں …… مجھے اپنی بہن کے مشورے کا بھی احترام کرنا ہوگا۔“
    رانیہ نے سنجیدگی سے کہا
    وہ ذرا ناراض ہوا۔

  • چنبیلی کے پھول (قسط نمبر ۱)

    چنبیلی کے پھول (قسط نمبر ۱)

    ”چنبیلی کے پھول“

    تحریر:مدیحہ شاہد

    قسط نمبر1

    اسٹیج کا منظر تھا جہاں شیکسپیئر کا ڈرامہ "Hamlet” پرفارم کیا جارہا تھا۔ جسے اردو زبان میں ٹرانسلیٹ کیا گیا تھا۔ اسٹیج کو کلاسیکل انداز میں وکٹورین سٹائل کے سیٹ سے سجایا گیا تھا۔ یقینا یہ کسی ماہر آرٹ ڈائریکٹر کا کمال تھا۔
    مختلف کالجز اور یونیورسٹیز سے لوگ یہ تھیٹر پلے دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ اس ڈرامے کو ”فنکار تھیٹر گروپ“ کے ساتھ ”ایشین لٹریچر سوسائٹی“ نے آرگنائز کیا تھا۔ ہال میں بیٹھے لوگوں میں زیادہ تعداد لٹریچر کے اسٹوڈنٹس کی تھی۔
    ہال میں زوار آفندی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ آج پہلی بار اپنے دوستوں کے اصرار پر کوئی تھیٹر ڈرامہ دیکھنے آیا تھا، وہ بھی اس لئے کیونکہ شیکسپیئر اُس کاپسندیدہ ڈرامہ نگار تھا۔
    خوبصورتی سے سجا اسٹیج رومی سلطنت کے محل کا منظر پیش کررہا تھا۔
    تخت پر ملکہ Gertrudeبڑی شان سے بیٹھی تھی۔
    وہ موتیوں سے بھری ہلکے سنہری رنگ کی میکسی میں ملبوس تھی اور لمبے بالوں پر قیمتی نگینوں سے مسزین جگمگاتا ہوا تاج پہنا ہوا تھا۔
    اُ س کی گردن میں چمکتا موتیوں کا ہار دور سے ہی نگاہوں کا خیرہ کررہا تھا۔ اُس کے چہرے پر گہرا مگر خوبصور ت میک اپ تھا۔
    اُس کے ساتھ تخت پر بادشاہ claudius براجمان تھا۔ وہ کوئی دیکھا بھالا سا اداکار تھا۔ جو رومن بادشاہ کے لباس میں ملبوس سر پرتاج پہنے بیٹھا تھا۔
    اُس کے سامنے شہزادہ ہیملٹ کھڑا تھا۔ وہ ایک جواں سال شہزادہ تھا جس کے سر پر تاج نہیں تھا مگر وہ اپنی وجاہت کے باعث نمایاں نظر آرہا تھا۔
    زوار کی دلچسپی ڈرامے سے زیادہ تخت پر بیٹھی ملکہ میں تھی، اور وہ مبہوت انداز میں پلکیں جھپکائے بغیر اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    وہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی۔
    یاشاید اس وقت ملکہ کے اِس روپ میں اِتنی حسین لگ رہی تھی کہ وہ اس پر سے نظریں نہیں ہٹا پارہا تھا۔
    وہ ملکہ کے کردار کو بڑی خوبی سے نبھارہی تھی۔ یہ صرف اُس کے حسن کا کمال ہی نہیں تھا بلکہ وہ ایک بہت اچھی اداکارہ بھی تھی۔
    باقی سب کردار جیسے پس منظر میں چلے گئے۔ وہ تو صرف ملکہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
    ایسا حسن اور ایسی تمکنت کہ وہ پہلی نظر میں ہی متاثر ہوگیا ورنہ وہ لوگوں سے اتنی جلدی متاثر ہوجانے والوں میں سے نہیں تھا۔
    پتا نہیں وہ لڑکی کون تھی!
    وہ تو اُسے پہلی بار دیکھ رہاتھا……
    سنہری رنگت، خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت بالوں والی لڑکی…… شاید وہ کوئی تھیٹر آرٹسٹ تھی یا اُسے اداکاری کا شوق تھا۔
    اسٹیج کی روشنیوں میں اُس کے چہرے کا نقش دمک رہا تھا۔
    مگر وہ جو بھی تھی زوار کو پہلی نظرمیں ہی متاثر کرچکی تھی۔ وہ اُسے دیکھتے ہوئے مسلسل اُس کے بارے میں ہی سوچے جارہا تھا۔
    یہ ایک کامیاب تھیٹر پلے تھا۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور وقفے وقفے بعد تالیوں سے گونج اُٹھتا۔
    اسٹیج پر مختلف کردار آتے رہے اور اپنا رول ادا کرتے رہے۔
    Claudius, Queen Gertrude, Hamlet, Laertes, Horatio, Ophelia, Polonius وغیرہ۔
    یہ سارے اِس ڈرامے کے کردار تھے۔
    کرداروں کے خوبصورت اور شاہی لباس، شاندار اداکاری، شیکسپیئر کے دل کو چھو جانے والے ڈائیلاگز، اسٹیج کی کلاسک سجاوٹ اور دلچسپ کہانی نے دیکھنے والوں کو مسمرائز کردیا تھا۔
    ایک کے بعد دوسرا سین آتا رہا۔ فنکاروں کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر، آرٹ ڈائریکٹر اور پورے crew نے بہت محنت کی تھی۔
    زوار ملکہ کے حسن میں ایسا گم ہوا کہ اُسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔
    ڈرامہ ختم ہوا۔ اسٹیج کے پردے گرگئے۔ ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔
    وہ بھی جیسے کسی ٹرانس سے باہر آیا۔
    رانیہ اسٹیج سے اُتری تو اُس کے گرد ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا۔
    لوگ اُس کے پاس آکر اُسے مبارکباد دے رہے تھے۔ کوئی اُس کی اداکاری کو سراہ رہا تھا، کوئی اُس کے لباس کی تعریف کررہا تھا۔ وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ لوگوں کی تعریفیں سن رہی تھی۔
    اُس کے گھر والوں کو تھیٹر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ لوگ تھیٹر پلے دیکھنے آئے ہوئے تھے اور بہت خوش تھے۔ اُس کے ساتھ کھڑے تھے۔ تصویریں بنوا رہے تھے۔ لوگوں سے باتیں کررہے تھے۔
    امی، جیموماموں، عنایا، ثمن اور ٹیپو…… یہی اُس کی فیملی تھی۔
    Bloggers اور میگزین سے منسلک لوگ بھی وہاں موجود تھے اور Reviews لکھنے کے لئے سب اداکاروں سے بات چیت کررہے تھے۔
    رانیہ آج بہت خوش تھی۔ اُسے لوگوں کی تعریفیں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔
    یوں تو اُس نے بہت سارے کردار ادا کئے تھے مگر Queen Gertrude کا کردار اُس کی زندگی کا یادگار کردار تھا۔ تخت پر بیٹھے ہوئے اُس نے خود کو ایک ملکہ ہی تصور کیا تھا۔
    اُسے احساس ہوا کہ دراصل ہر لڑکی زندگی میں ملکہ بننا چاہتی ہے اور وہ ملکہ بننے کے خواب دیکھتی ہے۔ اُسے سر پرتاج سجانے کا شوق ہوتا ہے اور وہ ایک ملکہ کی سی زندگی جینا چاہتی ہے۔ یہ ہر لڑکی کی فطری خواہش ہوتی ہے۔
    مگر وہ خوش تھی کہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی وہ ملکہ تو بنی تھی۔ اُس نے لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لئے رشک دیکھا تھا۔
    وہ ایک بہت باصلاحیت پرفارمر تھی۔ لوگ اُسے جاننے اور پہچاننے لگے تھے۔ اُسے اپنے کیرئیر کے شروع ہی میں عروج ملا تھا۔ اُس نے اپنی پرفارمنس کے ساتھ ساتھ اپنے گیٹ اپ اور سٹائل پر بھی محنت کی تھی۔
    زوار اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    وہ اُس سے کچھ فاصلے پر اُس کے سامنے شاہانہ انداز میں کھڑی تھی۔
    پیروں کو چھوتی موتیوں سے بھری انگلش اسٹائل کی میکسی اور جگمگاتے نگینوں سے سجا تاج پہنے وہ کسی سلطنت کی ملکہ لگ رہی تھی۔
    حسین…… دلکش اور دل کو چھو لینے والی……
    وہ اُس کے پاس جاکر اُس سے کوئی بات کرنا چاہتا تھا مگر ساکت کھڑا رہا۔
    اُسے آج معلوم ہوا تھا کہ لوگ کسی ملکہ کے رعب حسن کے سامنے کس طرح ہپناٹائز ہوجایا کرتے ہیں۔
    وہ بڑی شان سے اپنے اردگرد کھڑے لوگوں سے بات کررہی تھی۔
    وہ مبہوت ہوکر رُک گیا۔
    ٹھہر گیا……

    رعب حسن تھا یا کوئی اور بات، و ہ سمجھ نہیں پایا۔
    وہ اُسے دیکھتے ہوئے جیسے کسی ٹرانس میں چلا گیا۔ ایسا اُس کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
    وہ اُس کے سامنے سے چلی گئی۔ اُس نے تو زوار پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔
    وہ وہیں کھڑا رہا……
    مبہوت اور کرزدہ……
    آج زندگی میں پہلی بار اُس نے کسی ملکہ کو دیکھا تھا۔