ناتمام — نبیلہ ابر راجہ

پچھلے سال دادا کی وراثت تقسیم ہوئی تو اچھی خاصی زمین اللہ یار کو بھی ملی۔ جو یار دوستوں کے کہنے پر انہوں نے بیچ کر ایک کپڑے کی چلتی دکان اور ساتھ ہی ذاتی سوزوکی ہائی روف خریدی۔ اس کے علاوہ انہوں نے شہر کے مضافات میں ایک بڑے زمیندار سے ٹھیکے پر زمین بھی لی اور جھاڑ جھنکاڑ صاف کروا کر گندم کی فصل کی بوائی کرا دی۔
لیکن ان کے گھر کے حالات اب بھی جوں کے توں تھے۔وراثت کی خوشحالی کے ثمرات دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے۔ حالانکہ سکینہ نے دبی آواز میں دو تین بار اپنے مجازی خدا سے کہا بھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہے اسے ٹھیک کروا کے ساتھ کسی اور علاقے میں گھر لے لیتے ہیں۔ ہمارے لڑکے ہیں کل کو ان کی شادیاں بھی کرنی ہیں۔ بہوویں گھر آئیں گی تو رہنے کا ٹھکانہ ہونا چاہیے، لیکن اللہ یار نے بیوی کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دی۔ کپڑے کی چلتی دکان خرید کر وہ بہت خوش تھا۔ کاروبار کا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اوپر سے سادہ لوحی۔ سب نے مل ملا کر دکان کا بھٹہ بٹھا دیا۔ ایک دوست نے مشورہ دیا دکان فروخت کرو اور سیمنٹ کی ایجنسی کھول لو۔ دوست کے مشورے پر ہو بہو عمل ہوا، لیکن اس میں بھی نقصان ہوا۔ یہ سب دو سال کے عرصے میں ہوا تھا۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ سوزوکی ہائی روف بھی فروخت کرنی پڑی۔ اللہ یار کے پاس اب صرف فصل کا آسرا تھا،مگر وہ بھی چھین گیا۔ ذرا سی بات پر زمیندار کے کارندوں سے جھگڑا ہوا، تو انہوں نے پستول نکال لیے اور فصل کو درانتی تک نہ لگانے دی۔
اللہ یار پھر سے خالی ہاتھ تھا۔ سکینہ محلے بھر سے سلائی کے کپڑے لاتی اور سیتی کیونکہ اب اللہ یار کے پاس سوزوکی بھی نہیں تھی، لیکن پیٹ کی آگ بھی تو بجھانی تھی۔ یہ وقت سب گھر والوں کے لیے بہت کڑا تھا۔ اوپر سے بچوں کے اسکول کی فیس کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔
انہی دنوں سامی کی کلاس میں پڑھانے کے لیے نئے سر آئے۔ بہت جاذب نظر اور کم عمر۔ پڑھانے کا انداز بھی بہت اچھا تھا۔ سامی پڑھائی میں تیز تھی سر نوید اس پر خاص توجہ دیتے تھے۔ اس کم گو اور الگ تھلگ سی سامی میں سرنوید کو کشش محسوس ہونے لگی۔ اس دن اُردو کے پیریڈ میں سامی کی آنکھیں اور چہرہ پہلے سے بھی زیادہ اُداس لگ رہا تھا۔ جانے کیوں نوید کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس اُداسی کاسبب جاننے کی کوشش کرے۔ انہوں نے یہی سوال کلاس کے سامنے کیا، تو سامی رونے والی ہوگئی۔ پیریڈ ختم ہونے پر سر نوید نے ٹیسٹ والی کاپیاں سامی کو اسٹاف روم میں لانے کا حکم دیا۔ اس نے حکم کی تعمیل کی۔ جب وہ پوری کلاس کی کاپیاں اٹھائے اسٹاف روم میں داخل ہوئی تو وہاں سر نوید کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ سامی نے کاپیاں ٹیبل پر رکھیں اور واپسی کے لیے قدم موڑے۔ ’’ٹھہرو۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ باہر جاتی سر نوید کے حکم نے اس کے قدم روک دیے۔
’’میں نے تمہیں بہانے سے یہاں بلوایا ہے۔ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ کلاس میں تم روہانسی ہورہی تھی اس لیے میں نے زیادہ زور نہیں دیا۔ تم میری ہونہار شاگرد ہو۔ اس لیے میں ایسے ذہین شاگردوں کے مسائل میں دلچسپی لیتا ہوں۔‘‘ سر نوید نے اس کی آنکھوں میں سرگرداں شک کو دیکھ کر فوری صفائی دی۔ ’’سر ہم چاروں بہن بھائیوں کی فیس تین ماہ سے جمع نہیں ہوئی۔ اب بھی فیس ادا نہ ہوئی تو ہم سب کے نام خارج ہوجائیں گے اور میں بہت سارا پڑھنا چاہتی ہوں اپنے حالات بدلنا چاہتی ہوں۔ میرا بڑا بھائی سلیمان اور کاظم اسی اسکول کے بوائز سیکشن میں ہیں۔ سلیمان میٹرک میں ہے اس سال وہ بورڈ کا امتحان دے گا اگر فیس کا انتظام ہوا تو……‘‘ مایوس لہجے میں بولتی سامی نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ’’اب تم کلاس میں جاؤ۔ فکر مت کرو میں ہیڈ ماسٹر صاحب سے مل کر انہیں سب بتاتا ہوں۔ تمہاری پڑھائی نہیں چھوٹے گی۔‘‘ سر نوید کے دلاسے سے سامی کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔
وہ اسکول سے خوشی خوشی گھر آئی۔ اس نے ماں کو سرنوید سے ہونے والی تمام باتیں من و عن بیان کیں اور سر نوید نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔
ہیڈ ماسٹر صاحب نے ان بہن بھائیوں کا نام اسکول سے خارج نہیں کیا۔ یہی نہیں سلیمان کا بورڈ کا داخلہ بھی ہوگیا۔ سکینہ اور اللہ یار سرنوید کو دعائیں دیتے تھکتے نہیں تھے جس نے ان کے بچوں کا تعلیمی مستقبل بچالیا تھا۔ سامی کے آٹھویں جماعت کے پرچے بہت اچھے ہوئے کیونکہ سرنوید اسے بہت توجہ سے پڑھاتے تھے۔ وہ خود بھی محنت کرنے لگی تھی۔ یہی وجہ تھی اس کا آٹھویں جماعت کا رزلٹ بہت شاندار تھا۔
٭…٭…٭





اسکول بس نے توشی کو گھر کے سامنے سڑک پر اُتارا اور شور مچاتی آگے روانہ ہوگئی۔ بھاری بھرکم بیگ وہ مشکل سے اٹھا کر چل رہی تھی۔ وہ سب بہن بھائی الگ الگ اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ اسی لحاظ سے ٹائمنگ بھی مختلف تھی۔ توشی اکیلے اپنی بس میں آتی تھی۔ وہ گھسیٹ گھسیٹ کے چل رہی تھی۔ کمزوری کے مارے اس سے قدم ہی نہیں اُٹھائے جارہے تھے۔ اچانک اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ گر جائے گی، مگر گرنے سے پہلے ہی کسی نے اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔
توشی کی آنکھیں بھاری ہورہی تھیں۔
یہ نواف تھا۔ وہ اسے ساتھ لگائے لفٹ کی طرف لے جارہا تھا۔ ’’میری گڑیا نے کچھ نہیں کھایا مجھے پتا ہے۔ میں نے البیک اور کنافا لاکر رکھا ہے۔ دونوں مل کر کھائیں گے۔‘‘ نواف پیار بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔
اس نے لفٹ میں داخل ہوکر سترہویں منزل کا بٹن دبا دیا۔ لفٹ توشی کے گھر کے بجائے نواف کے اپارٹمنٹ والے فلور پر جا رُکی۔ کھانے کا سن کر توشی کو اپنے بدن میں طاقت آتی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اب بھوک سے معدے میں گرہیں پڑ رہی تھیں۔ وہ نواف کے پیچھے کھڑی تھی۔ اس نے جیب سے اپنے اپارٹمنٹ کی چابی نکالی۔
تب ہی نواف کے سامنے والے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا۔ ابو خالد اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ باہر نکلا۔ نواف نے جھٹ چابی دروازے کے لاک میں گھمائی اس کی کوشش تھی کہ وہ ابو خالد کی نظر پڑنے سے پہلے ہی اندر چلا جائے، لیکن اس کی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔
’’یابنت‘‘ ابو خالد کی حیران نظر توشی پر پڑی اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا (یابنت) اے بیٹی… تم یہاں اس وقت اس کے ساتھ کیا کررہی ہو؟‘‘ ابو خالد کا اشارہ نواف کی طرف تھا۔
ابو خالد کی بیوی بھی اس دوران توشی کی طرف آگئی۔ وہ اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ ’’اسے بھوک لگی ہے۔ یہ اسکول سے ابھی آئی ہے اس سے چلا نہیں جارہا تھا۔ میں نے سوچا کچھ کھانے کو دے دوں۔ اس لیے یہ یہاں میرے ساتھ آئی ہے۔‘‘ نواف نے مضبوط لہجے میں اپنا دفاع کیا۔ ’’اس کی ماں ہے تم اس کی فکر مت کرو اور تم آؤ میرے ساتھ۔‘‘ ابو خالد نے روکھے لہجے میں نواف کو جواب دے کر توشی کا ہاتھ پکڑا۔ ان دونوں میاں بیوی نے توشی کو نیچے اس کے فلور پر لاکر اس کے اپارٹمنٹ کی بیل بجائی۔ اس دوران ابو خالد کی بیوی مسلسل توشی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔ توشی کی ماں کی صورت پورے تین منٹ مسلسل بیل بجانے کے بعد نظر آئی۔ ابو خالد اور اس کی بیوی کے ساتھ توشی کی موجودگی یہ ظاہر کررہی تھی کہ کوئی سنگین بات ہے۔ دروازہ کھلنے کے بعد توشی تو اندر غائب ہوگئی، لیکن ابو خالد اور اس کی بیوی دو تین منٹ بعد وہاں سے رخصت ہوئے۔
توشی کی ماں کی آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھیں۔ اس دن توشی کو بھوکے پیٹ مما سے بہت مار پڑی۔ وہ سوتے سے اُٹھ کر آئی تھی۔ نیند سے جگائے جانے پر اسے ویسے ہی شدید غصہ تھا۔ اوپر سے ابو خالد اور اس کی بیوی نے ابھی ابھی جو ایک ناصح کا رول پلے کیا تھا۔ اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔ توشی سمیت چاروں بہن بھائی گھر کی چابی اسکول جاتے ہوئے ساتھ لے جاتے تھے تاکہ واپسی میں دروازہ کھول کر خود اندر آسکیں جس دن کوئی چابی ساتھ لے جانا بھول جاتا اس کی شامت اور سزا ملنی یقینی ہوتی۔ جیسے آج توشی کو ملی تھی۔ اس کی چیخیں ثبوت کے طور پر گھر میں گونج رہی تھیں۔ صرف اس کی وجہ سے آج ابو خالد اور اس کی بیوی کے سامنے جوان عورت کا تاثر ہلکا پڑا تھا۔ انہوں نے اسے نصیحت کی تھی۔ وہ نصیحت اس کے تن بدن میں آگ لگا رہی تھی۔ صرف کچھ سال پہلے ہی تو اس نے اکیلے راج کے مزے لینا شروع کیے تھے کوئی بولنے، احتجاج کرنے یا روک ٹوک کرنے والا نہیں تھا۔ توشی کا سر اس نے دیوار سے ٹکرایا تھا چوٹ شدید تھی تب ہی تو خون بھل بھل بہنا شروع ہوگیا تھا۔
آہستہ آہستہ باقی بچے بھی اسکول سے آگئے۔ انہوں نے ماں کی کارگزاری ملاحظہ کی۔ اس نے توشی کے سر پر ٹھنڈا یخ پانی گرایا تھا جس سے وہ کانپنا شروع ہوگئی۔ گھر بھر کے اے سی چل رہے تھے اور اچھی خاصی ٹھنڈک تھی۔ ان بھائیوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے چھوٹی بہن اچانک نمونیے کی وجہ سے چل بسی تھی کہیں توشی کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو، لیکن وہ ڈھیٹ تھی زندہ رہی۔
٭…٭…٭
میں نے بہت دفعہ دعا کی اللہ کے آگے رویا، گڑگڑایا کہ کاش مجھے موت آجائے۔ موت بہت دور تھی اور کربناک روز و شب بہت قریب تھے۔ انہیں تو پکارنے کی بھی حاجت نہیں تھی۔ قسمت میں لکھ دیے گئے تھے۔ بھلا ایک سات سال کا بچہ اس سے آگے سوچ بھی کیا سکتا ہے کہ اسے وقت پر کھانا ملے، کھیل کود کے لیے ڈھیر سارا ٹائم ہو اور تھک ہار کے وہ خوب مزے سے سوئے۔ میری یہ تمنائیں دل ہی میں رہیں۔
٭…٭…٭
آج وہ محمود ہاشم کی گاڑی لے کر آیا تھا جب سورج کی تمازت اور شدت بالکل دم توڑ چکی تھی۔ اسے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ’’عمارۃ الوفا‘‘ کی لابی سے وہ پرام سمیت نکل رہی تھی۔ بچہ پرام میں تھا۔ وہ گاڑی سے نکلا اور دوسری گاڑیوں کی آڑ لیتا اسے نظر میں رکھتا اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ اپارٹمنٹ بلڈنگ سے باہر آتے ہی اسے دو عورتیں مل گئیں۔ وہ اُن کے ساتھ پرام دھکیلتی آگے بڑھنے لگی۔ وہ ابھی تک اس کی نظر سے پوشیدہ تھا۔ وہ جس آس میں گیا تھا وہ پوری نہیں ہوئی۔ مغرب کی اذان سے پہلے وہ گھر واپس آگئی۔ وہ لفٹ میں داخل ہوئی تو اس نے بھی واپسی کے لیے قدم موڑے۔ آج بھی اس کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا۔
٭…٭…٭
صاف ستھرے اچھی تراش کے کپڑے پہنے جو عورت سکینہ کے ایک کمرے والے گھر میں آئی تھی اس نے اپنا تعارف سر نوید کی والدہ کے طور پر کروایا۔ سامی اور سکینہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ پہلی بار ان کے گھر اتنی معتبر اور پروقار ہستی آئی تھی۔ آہستہ آہستہ نرم آواز میں بولتی وہ کسی اور ہی دنیا کی لگ رہی تھی۔ جس محلے میں سامی رہتی تھی وہاں سرگوشی بھی کی جاتی تو دس لوگ سن لیتے۔ خاتون نے اپنی آمد کا مدعا بیان کیا، تو وہ ششدر رہ گئیں۔ بات ہی ایسی تھی۔ سرنوید کی اماں نے بہت سلیقے سے بات ان تک پہنچائی تھی۔ انہیں سامی اپنے بیٹے کے لیے پسند آگئی تھی۔ سکینہ اتنی بدحواس تھی کہ ان سے پوچھنا ہی بھول گئی کہ سامی ان کی بیٹی کو آج سے پہلے انہوں نے دیکھا ہی کہاں ہے۔ جو وہ انہیں اپنے بیٹے کے لیے پسند آگئی ہے۔ خوشی سے زیادہ حیرت غالب تھی۔ اس لیے سب سوال دل میں ہی رہے۔ سرنوید کی اماں دوبارہ آنے کا کہہ کر رخصت ہوگئیں۔ مختصر سا گھر تھا۔ کچھ بھی چھپنے والا نہیں تھا۔ سامی نے بھی سن لیا تھا۔ وہ ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔ سرنوید اتنے خوبرو پڑھے لکھے اور اچھے خاندان سے تھے۔ وہ اس عمر میں تھی جب جس سے منسوب کردیا جائے اُسے چاہے جانے کی خواہش شدید ہوتی ہے۔ گھر کی گھٹن زدہ فضا سے نکلنے کا اچھا موقع مل رہا تھا۔ یہاں تھا ہی کیا۔ فاقے تنگی و غربت نہ اچھا کھانے کو میسر تھا نہ اچھا پہننے کو۔ سال بھر میں دو سوٹ بنتے تھے۔ سر نوید کی ماں نے بہت اچھا لباس، سونے کی چوڑیاں اور ہیرے کی انگوٹھی بھی پہنی ہوئی تھی۔ اُن کا حلیہ اور پہناوا اُن کی خوشحالی کا غماز تھا۔
اُدھر سکینہ کی حالت مارے خوشی کے غیر ہورہی تھی۔ سامی کے لیے اتنے اچھے گھر سے رشتہ آنے کا انھوں نے سوچا تک نہ تھا۔ ابھی پچھلے ماہ ہی تو اس نے آٹھویں کلاس کے پرچے دیے تھے اور ادھر جھٹ رشتہ بھی آگیا۔ اچھا ہی تھا جلد اس کی شادی ہوجاتی۔ یہاں گھر میں تواللہ یار آتے جاتے بیٹی کو معاندانہ انداز میں گھورتا۔ بھائی بھی باپ سے کم نہیں تھے، سوائے سلیمان کے۔ سکینہ کا بس چلتا، تو بیٹی کو ان کی نظروں سے چھپالیتی۔ ایک تھی لیکن پھر بھی عذاب تھی اللہ یار کے لیے۔ اس کی شادی اور جہیز کی فکر اس کی جھنجلاہٹ کا باعث تھی۔
سرنوید کی امی بیٹے کے بارے میں بتارہی تھی کہ وہ عارضی طور پر شوقیہ اسکول میں پڑھا رہا ہے۔ مستقبل قریب میں اس کا ارادہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کا ہے۔ بے چاری سکینہ کو کیا خبر کہ مقابلے کا امتحان کیا ہوتا ہے۔ وہ بہت مرعوب تھی۔ نوید کی امی کا ارادہ تھا کہ ابھی وہ سامی اور نوید کا رشتہ پکا کردیں اور جب سامی میٹرک کرلے، تو پھر شادی ہوجائے۔ شادی کے بعد وہ باقی جتنی تعلیم حاصل کرنا چاہتی اس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ یہ سب باتیں نوید کی امی نے تفصیل سے بیان کی تھیں۔ سکینہ نے ابھی سے خواب سجا لیے تھے۔ اچھا تھا بیٹی اس جہنم سے نکل جاتی جو اس کا مقدر تھی۔ اللہ یار غیر مستقل مزاج، یار باش، اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرنے والا سخت گیر روایتی مرد تھا جو باہر کی ناکامیوں اور تلخیوں کا بدلہ گھر میں کمزور بیوی بچوں سے لیتا تھا۔ عجیب دہری شخصیت تھی اس کی۔ گھر کی روٹی پوری نہیں ہوتی تھی اور وہ باہر خدمت خلق میں لگا رہتا۔ محلے والے اس کی عادت سے آگاہ تھے۔ اب اللہ یار معتبر بنا کبھی پڑوسی کی بیٹی کے لیے عید کے نئے کپڑے لے کر دے رہا ہوتا اور کبھی اپنے گھر سے ضرورت کی کوئی چیز جو بھی مانگتا اُٹھا کر دے دیتا۔ اپنے گھر میں تنگی اور غربت راج کررہی تھی اور وہ اوروں کی فکر میں ہلکان رہتا۔ اس لیے سکینہ اکلوتی بیٹی کی طرف سے پریشان ہی رہتی کہ جانے اس کا مستقبل کیا ہوگا۔
آج خوشی کی ایک کرن اس گھر چمکی تھی۔
وہ دل ہی دل میں کتنی بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرچکی تھی۔ ’’دسویں پاس کرتے ہی سامی کو بیاہ دوں گی۔ بلکہ نہیں دسویں اپنے میاں کے گھر جاکر کرلے گی۔ پہلے شادی کروں گی۔ بعد میں پڑھتی رہے گی۔ ایسا نہ ہو اس رشتے کو کوئی اور لے اڑے۔ اسے پہلے ہی سامی کو اپنے گھر کا کردوں گی۔ ایسے اچھے رشتے روز روز کہاں ملتے ہیں۔ سامی کے ابا کو جب بتاؤں گی تو وہ بھی بہت خوش ہوں گے۔‘‘ سکینہ دل ہی دل میں خود سے کتنی باتیں کرچکی تھی۔ ہر سوال کا جواب اس کے پاس موجود تھا۔ بس اگر نہیں تھا، تو صرف ایک سوال کا جواب۔ جب رات کو اللہ یار نے یہی سوال پوچھا، تو وہ چپ ہوگئی۔ تیسری بار اس نے وہ سوال زبان سے نہیں ہاتھ سے کیاتھا۔
٭…٭…٭
سر نوید، سامی کے حالات جان کر دکھی ہوگئے تھے۔ اس اُداس اور خاموشی سی لڑکی سے انہیں اُنسیت محسوس ہونے لگی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بہت سارے خواب تھے وہ ڈھیر سارا پڑھنا چاہتی تھی۔ اپنی محنت سے لگن سے اپنی قسمت اور معاشی حالات بدلنا چاہتی تھی۔ نوید کا پیاں چیک کروانے کے بہانے سامی کو اسٹاف روم میں بلوا لیتا۔ اس کا نرم رویہ سامی کا سارا خوف بہالے گیا تھا۔ وہ گھر کی چھوٹی موٹی باتیں اسے بتانے لگی تھی۔
پتا نہیں سامی کی خوبصورتی ، اُداسی یا پھر اس کی معصومیت نے نوید کو اسیر کرکے اپنی ماں کو رشتے کے لیے اس کے گھر بھیجنے پر مجبور کیا تھا۔ سامی کے حالات نے اس کے دل میں خوف پیدا کردیا تھا۔ پھر اسکول میں بھی اس کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگی۔ اس لیے اس نے فوراً ہی طوفان کے آگے بند باندھنے کی سعی لا حاصل کی تھی۔ ماں سامی کے گھر سے آنے کے بعد بہت خوش تھی۔ نوید بھی خوش تھا۔ لیکن یہ خوشی عارضی اور چند روزہ تھی۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

اپنا کون — تنزیلہ احمد

Read Next

قرض — وقاص اسلم کمبوہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!