ناتمام — نبیلہ ابر راجہ

دوسرے دن دوپہر کو مہمان آگئے۔ تیس بتیس سال کی پکے رنگ کی ایک عورت اور اس کے ساتھ بالترتیب پانچ اور سات سال کے دو بچے تھے۔ اس کے شوہر کو ابا ساتھ والی مسجد کے مولوی کے پاس لے گئے۔ مسجد اور مولوی صاحب کا حجرہ گھر کے بالکل ساتھ تھا۔ مولوی صاحب کے پاس دو کمرے تھے اور ان کی ابا کے ساتھ گہری دوستی تھی۔ جب بھی مرد مہمان آتے ابا انہیں مولوی صاحب کے ہاں ٹھہراتے۔ اس طرح جگہ کی تنگی کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔ مولوی صاحب کے بیوی بچے گاؤں میں رہ رہے تھے اور خود وہ یہاں شہر میں مسجد کے امام مقرر ہوگئے تھے۔ ابا کے ساتھ پہلے دن ہی سے ان کی دوستی تھی۔ جب بھی ان کے یہاں کوئی چیز اچھی پکتی مولوی صاحب کے حجرے میں لازمی پہنچائی جاتی۔ اس کے صلے میں انہوں نے ابا یعنی اللہ یار کے تینوں بیٹوں کو بغیر کسی ہدیہ کے قرآن پڑھایا۔ سامی بارہ سال کی ہوئی تو مسجد سے ملحق مدرسے میں ابا اسے بھیجنے کے حق میں نہیں تھے۔ اس لیے مولوی صاحب سامی کو گھر ہی میں آکر قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ قرآن پڑھانے کے ساتھ ساتھ وہ اسے اور بھی باتیں بتاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرع میں کوئی شرم نہیں ہے۔ اماں مختصر سے صحن میں اپنے کام کرتی رہتیں اور اندر کمرے میں مولوی صاحب اپنی تعلیم دینے میں مصروف ہوتے۔
اس دوران وہ بہت پیار سے کبھی سامی کو پوری کمر پر ہاتھ پھیرتے، تو کبھی ان کی انگلیاں سامی کے جسم کے دیگر حصوں پر سرسراتیں۔ اکثر وہ سامی کے گالوں پر پیار بھی کرلیتے۔ وہ زور سے چیخنا چاہتی، تو اگلے ہی ثانیے مولوی صاحب پینترا بدل لیتے۔ ’’تمہیں میں اپنی دھی سمجھتا ہوں۔ اس لیے پیار کرتا ہوں۔ میرے اپنے بچے گاؤں میں ہیں۔ بہت یاد آتی ہے ان کی۔‘‘ ان کی آنکھوں میں اچانک نمی در آتی اور سرخ و سفید چہرہ اور بھی سرخ ہوجاتا۔ ایسے میں سامی ایک لمحے کے لیے اپنی سوچ پر لعنت بھیجتی کہ وہ کتنی گندی سوچ کی مالک ہے۔ وہ اللہ سے معافی مانگتی۔ دل میں احساسِ جرم کا شکار رہتی، لیکن اگلے چند دنوں میں مولوی صاحب پھر کوئی ایسی حرکت کر جاتے جس سے اس کی نفرت کئی گنا بڑھ جاتی۔
چوہے بلی کا یہ کھیل پورے ایک سال سے جاری تھا۔ اس ایک سال کے دوران انہوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی کہ کسی طرح اللہ یار سامی کو مدرسے میں بھیجنے پر راضی ہوجائے، لیکن وہ کسی طرح بھی اس حق میں نہیں تھے۔ اس لیے مولوی صاحب گھر آکر پڑھانے پر مجبور تھے۔ سامی تھی تو بارہ سال کی لیکن قد اچھا خاصا نکال لیا تھا۔ جسم دبلا پتلا لیکن نین نقش سُبک تھے۔ اوپر سے اس کی معصومیت مولوی صاحب کو پوری طرح شکاری بننے پر مجبور کرتی۔ انہیں سو فی صد یقین تھا کہ وہ حد سے بڑھ بھی گئے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی کیوں کہ وہ اللہ یار کے پورے گھر کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہوگئے تھے۔ وہ موقع کی تلاش میں تھے لیکن وہ مل ہی نہیں رہا تھا۔ سامی کی اماں باہر صحن میں پہرے دار بن کر براجمان ہوتی۔ کبھی تینوں بھائی بھی گھر ہوتے تو انہیں محتاط ہونا پڑتا کیوں کہ تب وہ سامی کو قرآن سے ہٹ کر مزید ’’دینی باتیں اور مسائل‘‘ بھی نہیں سمجھا سکتے تھے۔
سامی ان سے پڑھنا نہیں چاہتی تھی، لیکن اس میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ برملا احتجاج کرتی، اس لیے خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتی۔ ویسے بھی بارہ سال کی لڑکی میں کتنی عقل اور سوجھ بوجھ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذہن سے کام لے کر درست فیصلے پر پہنچ سکے۔ اگر وہ گھر میں ابا اور بھائیوں کے سامنے ایک جملہ ہی بول دیتی کہ مجھے ان مولوی صاحب سے نہیں پڑھنا، تو گھر میں قیامت آجاتی۔ اس سے باقاعدہ پوچھ گچھ ہوتی پھر اس کی تہ تک پہنچا جاتا اور جانے پھر آگے کیا ہوتا، اسی ڈر سے وہ خاموش ہوجاتی۔ وہ اتنی کم زور اور بے بس تھی کہ اماں سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔ وہ سارا دن اپنے کاموں میں مصروف رہتی اور اگر ابا تاخیر سے گھر آتے، تو اس صورت میں وہ ریڈیو نکال کر گانے سنتیں۔ اب تو ٹی وی بھی گھر آگیا تھا۔ اماں مزید مصروف ہوگئی تھیں۔
اور پھر اسے اماں نے اتنا اعتبار دیا ہی کہاں تھا جووہ انہیں اپنے دل کی چھوٹی سے چھوٹی بات بتاتی جیسے اس کی سہیلی فرح اپنی ماں کو بتاتی تھی۔ اماں اپنے کاموں اور خود میں مگن رہتی تھیں۔ ویسے بھی اللہ یار کی سختیوں اور مزاج نے انہیں روکھا اور تلخ بنادیا تھا۔ دو سال پہلے اللہ یار ایک حادثے میں شدید زخمی ہوکر پورے ایک سال کے لیے بے کار ہوکر بستر پر پڑ گئے تھے تب گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ساتھ اماں کے سونے کے جھمکے ، ماتھے کا ٹیکا، جھومر اور ایک ہار بھی بک گیا۔ گھر کے حالات بے حد خراب ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے تنگی ترشی کے ساتھ ہی گزارہ تو ہو رہا تھا، مگر اب ویسا کچھ نہیں تھا۔ خیر ایک سال بعد اللہ یار صحت یاب ہوکر کام پر لگ گئے تھے۔ وہ معاوضے پر ایک جاننے والی کی سوزوکی چلاتے تھے۔ چھٹی والے دن بھی اچھاخاصا کام ہوتا تھا۔ سو زندگی کی گاڑی بھی چل پڑی تھی۔ یہ سب بھی گوارا تھا لیکن آئے روز اللہ یار کسی نہ کسی مہمان کو ٹھہرانے لے آتے۔ مہمان مرد ہوتا، تو مولوی صاحب کے حجرے میں ٹھہرایا جاتا۔ اس کا ناشتا اور تینوں وقت کا تیار ہوکر گھر سے جاتا۔ عورت اور بچے ہوتے تو گھر میں رکتے۔ سکینہ خدمت گزاریاں کرکر کے ادھ موئی ہوجاتی، لیکن اللہ یار کی ڈکشنری میں گھروالوں کے لیے رحم ، مروت اور ہم دردی کے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ سکینہ تو جیسے پیدا ہی اِن کاموں کے لیے ہوئی تھی۔
پہلے شوہر اور پھر بچوں کی خدمت اور پھر آئے دن مہمانوں کی خاطر مدارات نے اسے کو لہو کا بیل بنادیا تھا۔ یہ بیل اب تھکتا جارہا تھا۔ وہ سونے کو ترستی تھی۔ اس کے پاس سامی کے دکھ درد اور اس کے خوف اور خدشات معلوم کرنے کا وقت ہی کہاں تھا۔ اسے سونے کے لیے جو چند گھنٹے ملتے وہی غنیمت تھے۔
٭…٭…٭





سات سال کی عمر میں میرا بچپن اڑان بھر کر رخصت ہوگیا یا زبردستی چھین لیا گیا میں نہیں جانتا، لیکن میں نے اپنا بچپن صرف سات سال جیا۔ میرے باقی دوستوں کا بچپن پندرہ پندرہ سال کی عمر تک بھی رہا اور کچھ کا تو سترہ اور بیس سال تک رہا۔ یعنی وہ اس عمر تک بچپن والی مخصوص بھول بھلیوں میں کھوئے رہے، لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ کوئی تصور کرسکتا ہے جب سات سال کی عمر میں میرا بچپن چھینا گیا، تو میرے کیا احساسات تھے؟ کوئی بھی نہیں بتاسکتا کہ ایک سات سال کا بچہ کیا سوچ سکتا ہے، کیا محسوس کرسکتا ہے لیکن میں بتا سکتا ہوں۔ میری دنیا کھیل کود ، کہانیوں کی کتابوں اور کارٹونز کے ساتھ ویڈیو گیم تک محدود تھی۔
اس عورت کا بس چلتا، تو میرا بچپن سات سال کی عمر سے پہلے ہی رخصت کردیتی لیکن اس کی مجبوری تھی کیوں کہ ہم دادا کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی موجودگی میں وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی لیکن اب وہ پورے گھر کی مالک تھی۔ مطلق العنان حکمران، کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تھا کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرتی ہے۔ اوپر بیٹھا مالک بھی خاموش تھا۔
٭…٭…٭
اللہ یار مہمانوں کے لیے مرغی، چاول اور سویاں بنانے کے لیے دودھ لائے تھے۔ سلاد، کھیرے، ٹماٹر، پیاز، کشمش اور ناریل اس کے علاوہ تھے۔ مہمانوں کے لیے ان کی سخاوت اور دریادلی قابلِ دید تھی۔
سامی نے ماں کے ساتھ مل کر سلاد بنایا۔ میٹھے میں سوّیاں بناکر سب سے پہلے انہیں ڈھک کر الگ چھپا دیا تھا۔ ان چاروں بہن بھائیوں سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی تھی اس لیے اس احتیاط کی ضرورت پیش آئی تھی۔
سامی کے ساتھ ساتھ تینوں بھائی بھی بہت خوش تھے۔ کیوں کہ کئی ماہبعد گھر میں گوشت پک رہا تھا۔ اللہ یار ثابت مرغی لائے تھے جسے سکینہ نے خود ہی صاف کرکے پر، اوپری کھال اور پنجوں سمیت الگ کی تھی۔ پنجے الگ سے آگ پر پکائے جانے تھے۔ سکینہ کے درمیان والے بیٹے کو پنجے بہت پسند تھے۔ سکینہ نے دونوں پنجے دونوں بیٹوں میں تقسیم کیے جب کہ سلیمان کو مرغی کی گردن کا لالچ دیا۔ وہ جلدی مان جاتا تھا، باقیوں کی طرح شور نہیں کرتا تھانا ہی کھانے کی چیزوں پر ندیدوں کی طرح جھپٹتا تھا۔ وہ بہت حساس اور خاموش طبع تھا۔ سامی کو یہ بھائی بہت پسند تھا۔ باقی دونوں کے برعکس وہ نرم دل اور سادہ لوح تھا۔ اونچی آواز میں چیختا چلاتا بھی نہیں تھا۔ اس لیے جب اماں نے مرغی کی گردن کا لالچ دیا، تو اس نے فوراً سر جھکا کر رضا مندی ظاہر کردی۔ سامی لڑکی تھی اس لیے اس کا کسی چیز میں حصہ نہیں تھا۔
اماں نے لکڑیوں کی آگ پر کھانا بنایا۔ گوشت میں ڈیڑھ کلو کے قریب آلو ڈال کر شوربا بنایا۔ اس کے بعد مٹر والے چاول پکائے پھر سب سے آخر میں روٹیاں بنائی تھیں۔
سلیمان مہمان اور ابا کے لیے کھانے کی ٹرے مولوی صاحب کے حجرے میں لے گیا۔ بعدازاں گھر میں دستر خوان لگا۔
کمرے میں ایک طرف گتے کا بڑا سا کارٹن پڑا تھا۔ صبح اُٹھ کر سب بستر اس کارٹن میں رکھے جاتے تھے۔ سکینہ نے گتے کے کارٹن سے جستی پیٹی والا کام لے رکھا تھا۔ بستر، تکیے اور چادروں کے ساتھ ساتھ اس نے اور بھی بہت سی چیزیں اس میں رکھی ہوئی تھیں۔ پلاسٹک کا دستر خوان کارٹن میں سے ہی برآمد ہوا۔ پھر سامی نے مہمان عورت اور اس کے بچوں کے لیے کمرے میں کھانا لگایا۔ سکینہ بھی بیٹھ گئی۔ باہر تینوں بھائیوں اور سامی نے کھانا کھایا۔ اس نے کھانا ڈالتے ہوئے چاولوں کی کھرچن بھی نکال کر اپنی پلیٹ میں ڈال لی تھی۔ ایک بوٹی اور دو دو آلو چاروں کی پلیٹ میں تھے۔ سامی نے نوالہ توڑنے کے لیے روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ درمیان والا بھائی بولا:
’’مجھے اپنی بوٹی دے دو سامی۔ بول دے گی تین روپے میں؟‘‘ درمیان والا بھائی لالچ بھری نگاہوں سے سامی کی پلیٹ میں پڑی بوٹی کو دیکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ سامی کوئی جواب دیتی ، سلیمان درمیان میں کود پڑا۔
’’تین روپے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟‘‘ وہ مشکوک نگاہوں سے کاظم کو دیکھ رہا تھا جب کہ سب سے چھوٹا رافی ان سے بے نیاز پوری رغبت سے سرجھکائے کھانا کھا رہا تھا۔
’’رب نواز چاچا نے دیے ہیں۔ آج میں نے پوری چھے سائیکلوں کو پنکچر لگائے ہیں، تو اس نے مجھے خوش ہوکر پورے پانچ روپے دیے۔ ایسا کرو دو روپے جو بچ رہے ہیں وہ لے کر اپنی بوٹی مجھے دے دو۔‘‘ کاظم نے سلیمان کی شک بھری نظروں سے گھبرا کر فوری صفائی دی اور ساتھ ہی آفر بھی کردی۔
کاظم اسکول سے آنے کے بعد چاچا رب نواز کی دکان پر چلا جاتا۔ وہ سائیکلوں کی مرمت کا کام کرتے تھے۔ کاظم ہوشیار لڑکا تھا اس لیے رب نواز نے اپنے معاون کے طور پر اسے ساتھ رکھ لیا تھا۔ دو روپے اسے روز کی دہاڑی ملتی تھی۔ نہ جانے آج کیسے خوش ہوکر اس نے کاظم کو پانچ روپے دیے تھے۔ دو روپے سلیمان کے لیے اہمیت رکھتے تھے کیوں کہ وہ بھی اسکول سے آنے کے بعد جوتوں کے کارخانے پر کام کرتا۔ تین سے رات نو بجے تک کام کرنے کا اسے روز کا ایک روپیہ ملتا تھا۔ پورے ہفتے کے سات روپے بنتے تھے۔ اس میں سے چار روپے اماں کو دیتا اور تین روپے اپنے پاس رکھتا تھا۔ سلیمان کو بیس روپے جمع کرنے تھے کیوں کہ اسے باجا خریدنا تھا۔ اس لیے کاظم کی آفر اس نے جھٹ سے قبول کرلی۔ سامی اور اس نے اپنی اپنی بوٹی بہ خوشی کاظم کی پلیٹ میں ڈال دی اور خود شوربے اور آلو سے روٹی کھائی۔
اس میں بھی دونوں بہن بھائی بہت خوش تھے۔ سامی نے تو اکٹھے تین روپے صرف عید پر ہی دیکھے تھے اس لیے اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اس نے ابھی سے ان تمام چیزوں کی فہرست بنالی تھی جو اسے ان پیسوں سے خریدنی تھیں۔ اسی خوشی اور سرمستی میں اس نے کھانے کے برتن بھی ترنگ میں دھوئے۔
آج جمعرات تھی۔ رات خبر نامے کے بعد ٹی وی پر اُردو فیچر فلم لگنا تھی۔ ابا گھر میں ہوتے، تو شاذونادر ہی فلم دیکھنے دیتے لیکن آج وہ مہمان کے ساتھ مولوی صاحب کے حجرے میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔
آنے والی مہمان عورت کافی شوقین معلوم ہورہی تھی۔ سامی نے ٹی وی لگایا، تو اس نے والیوم بڑھانے پر اصرار کیا۔ سامی نے ڈرتے ڈرتے آواز کھول دی۔ ابا کی موجودگی میں ٹی وی کی آواز آہستہ رکھی جاتی تھی کسی پروگرام کی سمجھ ہی نہیں آتی تھی لیکن آج پورا کمرا کیا پورا گھر اونچی آواز سے گونج رہا تھا۔
اماں نے گتے کے کارٹن سے بستر نکال کر زمین پر بچھائے۔ عورت اور اس کے دو بچوں کی وجہ سے کمرے میں جگہ اور بھی تنگ ہوگئی تھی۔ اس لیے سلیمان کا بستر باہر کھلے صحن میں بان کی چارپائی پر لگایا گیا جس پر وہ بے حد خوش تھا۔ سونے کی ایسی عیاشی قسمت ہی سے میسر آتی تھی۔
اوائل نومبر کی رات اور ٹھیک ٹھاک سردی تھی۔ سب بستر میں دبکے وحید مراد اور زیبا کی فلم ’’ارمان‘‘ دیکھ رہے تھے۔ درمیان میں گانا آتا، تو وہ عورت باآوازِ بلند گلوکار کے ساتھ گنگناتی۔
سکینہ کو وحید مراد ویسے بھی بہت پسند تھا۔ زیبا کے ساتھ شرارتی انداز میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کتنا اچھا لگ رہا تھا۔
میرے خیالوں پہ چھائی ہے اِک صورت متوالی سی
نازک سی شرمیلی سی معصوم سی بھولی بھالی سے
وحید مراد اپنے مخصوص انداز میں ڈانس کرتے ہوئے گا رہا تھا۔ سکینہ، مہمان عورت، سامی اور کاظم سمیت دونوں بچے بھی پوری محویت سے فلم دیکھ رہے تھے۔
درمیان میں وقفہ آیا، تو اشتہارات نشر ہونے لگے۔
فیشن کی دنیا میں چھایا
سب کے دلوں کو ہے بھایا
بونینزا… بونینزا…بونینزا
سلیمان باہر چارپائی پر لیٹا کھلے دروازے سے فلم دیکھ رہا تھا۔ اس کی چارپائی عین دروازے کے سامنے بچھی تھی جہاں ٹی وی اسکرین اس کی نگاہوں کے سامنے تھی۔
دوسرا اشتہار شروع ہوچکا تھا۔
ابو آگئے
کہاں ہے میرا برش بنا کا
کہاں ہے میری کریم بنا کا
جب تک نہ ہوں گے دونوں بناکا
میں بھی یوں ہی روٹھی رہوں گی
سلیمان پوری محویت سے اشتہار میں کھویا ہواتھا۔ جہاں ایک خوب صورت سے گھر میں گاڑی آکر رکتی ہے اور بچی بھاگتی ہوئی آتی ہے۔ گاڑی سے ایک شخص اترتا ہے جو اس بچی کا باپ ہے۔
’’میں بھی بڑا ہوکر ایسا ہی گھر بناؤں گا اور بالکل ایسی ہی گاڑی لوں گا۔ میرے کپڑے بھی ایسے ہی ہوں گے ۔‘‘ اشتہار دیکھتے ہوئے سلیمان خود سے دل ہی دل میں عہد کر رہا تھا۔
ٹی وی پر اب ایک اور اشتہار آرہا تھا۔ سلیمان کے لبوں پر معصوم سی مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں مستقبل کے ڈھیر سارے خواب۔فلم ختم ہونے سے پہلے ہی وہ سوچکا تھا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

اپنا کون — تنزیلہ احمد

Read Next

قرض — وقاص اسلم کمبوہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!