ناتمام — نبیلہ ابر راجہ

مہمانوں کو آئے تین دن گزر چکے تھے۔ وہ بہن بھائی اب چڑنے لگے تھے۔ ایک تو ان کے بستروں پر قبضہ ہوگیا تھا دوسرے دونوں بچے بہت شو ر کرتے تھے۔ صبح اماں نے ناشتے میں عورت اور اس کے دونوں بچوں کے لیے پراٹھوں کے ساتھ انڈوں کا آملیٹ بنایا۔ کاظم کی آنکھوں میں انڈے پراٹھے دیکھ کر ندیدہ پن اُمڈ آیا۔ اس نے جن حسرت بھر ی نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھا، ان نگاہوں نے سکینہ کے دل کو چیر کر رکھ دیا تھا۔
اللہ یار نے مہمانوں کے ناشتے کے واسطے ڈیڑھ درجن انڈے منگا کردیے تھے۔ سکینہ کو سختی سے ہدایت تھی کہ یہ صرف اور صرف مہمانوں کے لیے ہیں۔ اسی لیے اس نے انڈے پلاسٹک کے جگ میں چھپا کر اوپر کمرے میں بنی کارنس پر رکھے دیے۔
سامی ناشتے کی ٹرے اٹھا کر اندر کمرے میں بیٹھی عورت اور اس کے بچوں کے آگے رکھ آئی تھی۔ تب چپکے سے چولھے کے پاس سے اٹھ کر سکینہ کارنس کی طرف آئی اور سب کی نظر بچا کر جگ میں سے ایک انڈا نکالا۔
سامی عورت کو ناشتا دے کر سلیمان کے ساتھ اسکول چلی گئی تھی۔ کاظم کو بخار کے ساتھ کھانسی تھی اس لیے چھٹی کی تھی۔ سکینہ کے دل میں ممتا امڈ رہی تھی۔ اس نے توے پر انڈا پکایا اور پلیٹ میں نکالا ہی تھا کہ اس عورت کا سات سالہ بیٹا پلیٹ اٹھا کر سکینہ کے پاس آیا…
مجھے اور انڈا کھاناہے۔‘‘
’’نکالو انہیں گھر سے۔‘‘ ساتویں کلاس میں زیر تعلیم کاظم چلا اُٹھا۔
’’کیا کہہ رہے ہو؟ تمہارے ابا نے سنا، تو جان سے ماردیں گے۔‘‘ سکینہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے چپ کرانے کی ناکام کوشش کی۔
’’نہیں چپ کروں گا اور تم نکلو ہمارے گھر سے بچوں سمیت۔‘‘
کاظم بدتمیزی کے عالم میں عورت سے مخاطب ہوا اور اس کے بچوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ سکینہ کاظم کو مسلسل چپ کرانے کی کوشش کررہی تھی، لیکن کاظم آج پھٹ پڑا تھا۔ عورت حیران پریشان کونے میں کھڑی تھی۔ ’’آخر ابا کے پاس مہمانوں کے لیے پیسے کہاں سے آتے ہیں۔ ہمارے لیے تو ان کے پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں ہوتی۔ مہمانوں کے لیے انڈے پراٹھے بنتے ہیں اور ہم گھر والے سوکھی روٹی چائے میں ڈبو کر کھاتے ہیں۔ کیا ہمارادل نہیں کرتا پیٹ بھر کر کھانے کو۔ دیکھنا میں خوب محنت کروں گا اور سارے اچھے اچھے کھانے کھاؤں گا۔‘‘ آخر میں کاظم سسک اُٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر سکینہ کا دل کٹ گیا، لیکن وہ ڈر بھی رہی تھی اگر اللہ یار کو خبر ہوجاتی تو جانے کاظم کا کیا حشر ہوتا۔
اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ اللہ یار نے باہر گلی میں کھڑے ہوکر اپنے سپوت کاظم کا ایک ایک لفظ سن لیا تھا۔
آنے والے تین دن بعد جو ہوا ۔ اس نے پورے گھر کو لرزا دیا۔
٭…٭…٭





مہمان عورت بچوں اور شوہر سمیت ان کے گھر سے جارہی تھی۔ بغیر کسی ہنگامے کے۔ اللہ یار خود اپنی سوزوکی میں انہیں چھوڑ کر آئے۔
مہمانوں کو جانے وہ کہاں چھوڑ کر آئے، لیکن واپسی پر ان کا رُخ کاظم کی طرف تھا۔ ابا کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ فرط دہشت سے سفید پڑگیا۔ ابا نے بجلی کے تار سے باندھ کر پلاسٹک کے پائپ سے اسے اس وقت تک مارا جب تک وہ بے ہوش نہیں ہوگیا۔ اس کے بعد سلیمان اور رافی کی شامت آئی۔ سامی گتے کے کارٹن کے پیچھے چھپ گئی تھی۔ اس کا تو بول ہی خطا ہوگیا تھا۔
’’میں اس گھر کا سربراہ ہوں جو چاہے کروں گا۔ جسے چاہوں گا اس گھر میں لاؤں گا اور جو دل چاہے کھلاؤں گا اور تو کیسی عورت ہے کم عقل بدذات یہ اولاد کی پرورش کی ہے تونے۔‘‘
اللہ یار نے سکینہ کو بھی دھنک کر رکھ دیا۔ وہ ڈری سہمی ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ اللہ یار نے اکلوتی کارنس پر موجود استعمال کے کچھ برتن اتارے، پھر گتے کے کارٹن کی طرف آیا اور تین بستر نکالے۔ اس نے پورے کمرے سے کوئی نہ کوئی چیز اٹھائی پھر یہ سب ایک گٹھڑی میں باندھ کر بکتا ہوا گھر سے چلا گیا۔
٭…٭…٭
صبح سے شام ہونے کو آئی تھی۔ کاظم اور سلیمان دونوں گھر سے غائب تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ اللہ یار بھی نہیں لوٹا تھا۔ شام بھی ڈھل گئی۔ انجانے خدشات سے سکینہ کا دل ڈوبا جارہا تھا۔ بغیر بتائے دونوں بھائی کبھی بھی اتنی دیر گھر سے باہر نہیں رہے تھے۔ کاظم مار کھانے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہوش میں آگیا تھا۔ اس کے پورے بدن پر نیل تھے۔ سکینہ ماں تھی اس کا یہ حال دیکھ کر رو رو کر بے حال ہورہی تھی۔ کاظم نے اسے اپنے قریب ہی نہیں آنے دیا۔
’’کیوں کی تھی اباسے شادی۔ بھاگ چلو یہاں سے ۔ ابا کو چھوڑ دو۔ چلو ماموں کے پاس چلتے ہیں۔‘‘ سلیمان نے آنسو پونچھتیہوئے ماں کو مشورہ دیا، تو وہ بے بسی سے دونوں بیٹوں کو دیکھتی رہ گئی۔ وہ انہیں کیسے بتاتی کہ نانی ، نانا کی وفات کے بعد ماموں بس نام کے ماموں رہ گئے ہیں۔ کوئی اسے بچوں سمیت خوش آمدید نہیں کہے گا۔ وہ اللہ یار نامی دو زخ میں جلنے اور عذاب کاٹنے پر مجبور تھی، لیکن بچے آخر بچے تھے۔ انہیں سمجھا نہیں سکتی تھی۔ وہ اکلوتے کمرے میں بکھری چیزیں اکٹھی کررہی تھی جب وہ دونوں بھائی ایک ساتھ گھر سے نکلے۔
اب رات کا اندھیرا پھیلنا شروع ہوگیا۔ اللہ یار اور بچے ابھی تک گھر نہیں لوٹے تھے۔
دونوں کی جیب میں کل ملا کر سات روپے تھے۔ گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنا کر دونوں صدر ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ ٹرین کافی لیٹ تھی۔ ٹکٹ کا انہیں کچھ پتا نہیں تھا بس چپ کرکے بنچ پر ایک طرف سکڑ کے بیٹھ گئے۔
گھر سے نکلنے کے بعد وہ سب سے پہلے قبرستان والی جھاڑیوں میں جا چھپے تھے۔ کاظم کہہ رہا تھا۔
’’میں کنویں میں چھلانگ لگا کر مرجاؤں گا، تو ظالم ابا سے جان چھوٹ جائے گی۔‘‘ سلیمان کسی طرح بھی جان دینے کے حق میں نہیں تھا۔ پھر دونوں میں طے ہوا کہ بھاگ کر کراچی یا لاہور جائیں گے وہاں کام کریں گے پھر کوئی گھر کرائے پر لے کر اماں، سامی اور چھوٹے بھائی کو بھی ابا کی قید سے چھڑا کر لے جائیں گے۔ یہ فقط بچگانہ سوچ تھی۔ آنے والے وقت اور نتائج کی انہیں کوئی خبر نہیں تھی۔
لیکن ضروری نہیں انسان جو سوچے وہ پورا بھی ہو۔ محلے کے مولوی صاحب اپنے کسی رشتہ دار کو لینے ریلوے اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ اتفاقاً ان کی نظر دونوں بھائیوں پر پڑگئی۔ وہ فوراً سے بھی بیشتر پوری کہانی سمجھ گئے۔
٭…٭…٭
عشا کی اذان ہوئے آدھا گھنٹا گزر چکا تھا۔ ممتا کی ماری سکینہ نے کھونٹی پر لٹکا اپنا کالا برقع اتارا ہی تھا کہ دروازہ بڑی زور سے دھڑ دھڑایا۔ اس کا دل ڈوب کے ابھرا۔ وہ بچوں کو تلاش کرنے کے ارادے سے خود باہر جانے والی تھی چاہے انجام کچھ بھی ہوتا۔
سامی باہر صحن میں ہی تھی۔ اس نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ سلیمان اور کاظم شرمسار مولوی صاحب کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔
’’اماں اماں۔‘‘سامی نے خوشی سے لرزتی بلند آواز میں اماں کو پکارا جو تیزی سے برقعے کے بٹن بند کررہی تھی۔
’’بھائی گھر آگئے ہیں۔‘‘ سامی کے منہ سے اگلے جملے کا نکلنا تھا کہ سکینہ جھٹ باہر نکلی۔ کاظم اور سلیمان دونوں اندر آچکے تھے۔ مولوی صاحب دروازے پر کھڑے تھے۔
’’بہن جی میں دونوں کو سمجھا بجھا کے لے آیا ہوں۔ آپ انہیں کچھ مت کہنا۔ میں سوزوکی اڈے پر جارہا ہوں۔ اللہ یار ملے، تو سیدھا وہیں سے اپنے ساتھ لے آؤں گا۔ آپ پریشان مت ہوں۔ میں سمجھاؤں گا اُسے۔‘‘ مولوی صاحب دروازے پر کھڑے کھڑے کہہ رہے تھے۔ عقیدت اور شکر گزاری کے مارے سکینہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کی طرح اُمنڈے چلے آرہے تھے۔ ’’مولوی صاحب میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔ میں ان دونوں کے واسطے بہت پریشان تھی۔‘‘ سکینہ دروازے کی اوٹ میں تھی۔ سلیمان کو ایسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے مولوی صاحب کو اندر بلالیا۔ وہ صحن میں پڑی بان کی کھردری چارپائی پر بیٹھ گئے۔ سکینہ اندر کمرے میں چلی گئی برقع ہنوز اس نے اوڑھا ہوا تھا۔ ’’یہ دونوں ریلوے اسٹیشن پر بھاگ رہے تھے کراچی کی طرف۔ یہ تو قسمت اچھی تھی آپ کی بہن جی جو میں وہاں پہنچ گیا۔ مولوی صاحب کی محتاط نگاہ پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔ اندر کمرے میں موجود سکینہ نے دہل کر اپنے دل پر ہاتھ رکھالیا۔ مولوی صاحب مزید آدھا گھنٹا وہاں بیٹھے ان کی موجودگی ہی میں اللہ یار بھی آگیا۔ مولوی صاحب نے وہیں سب کے سامنے اسے سمجھایا۔ بیوی بچوں کے حقوق کے بارے میں اللہ کی پکڑ سے ڈرایا۔ قرآن و حدیث کے پر اثر حوالے دیے۔ اللہ یار نے خاموشی سے سب سنا اور سرہلاتے رہے۔ ’’بچوں پر اتنی سختی مناسب نہیں ہے۔ یہ باغی ہوجائیں گے۔ گھر سے بھاگ کر غلط ہاتھوں میں پڑ جائیں گے۔ تمہارے بازو ہیں یہ اور کوئی اپنے بازو ایسے بھی کاٹتا ہے بھلا اللہ یار۔ رب سے ڈرو۔‘‘
آخر میں مولوی صاحب ذرا غصے سے بولے۔ اللہ یار بھیگی بلی بنے ہوئے تھے، سامی نے شاید پہلی بار ابا کو کسی کے سامنے ایسے سرجھکادیکھا تھا۔
’’آیندہ ایسے نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘ اللہ یار شرمسار لہجے میں بولے، تو سامی سمیت اماں بھی حیران ہوگئی۔ اللہ یار کی تو جو ن ہی بدلی ہوئی تھی۔ کہاں وہ چیختا چلاتا گالیاں بکتا غضب ناک بپھرا سانڈ اور کہاں یہ من من کرتا مسکین سا مرد۔
اس دن سامی کو اندازہ ہوا کہ مولوی صاحب بہت طاقتور انسان ہیں۔ اُدھر سکینہ بھی دل ہی دل میں ان کی کراماتی گفتگو کی قائل ہوگئی تھی۔
مولوی صاحب نے چند منٹ میں ہی سب بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس رات مولوی صاحب کے جانے کے بعد حقیقی معنوں میں ابا بہت شرمسار نظر آرہے تھے۔
٭…٭…٭
اگلے دن مولوی صاحب کی زبانی سکینہ اور سامی کو اطلاع ملی کہ ابا نے اپنے گھر آنے والی مہمان عورت اور اس کے شوہر کو کرائے کا گھر دلوایا ہے اور کرایہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ہے بلکہ مہینے بھر کا راشن بھی ڈلوایا ہے اور گھر سے وہ جو بستر برتن اور استعمال کی چھوٹی موٹی اشیا کی گٹھڑی باندھ کر لے گئے تھے وہ بھی انہی کے گھر پہنچائی گئی ہیں۔
یہ جان کر سکینہ کو ایک اور دھچکا لگا لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ دل مسوس کر رہ گئی۔
٭…٭…٭
پچھلے پورے ایک گھنٹے سے وہ گاڑی بند کیے فلور نمبر سولہ کی بالکونی کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی گاڑی ایک جان پہچان والے عطار کی دکان کے سامنے کھڑی تھی۔ عطار کے ساتھ صہ لیہ (فارمیسی) تھی۔ اس نے گاڑی وہاں پارک کرنے کا رسک نہیں لیا تھا۔ عطار کے ساتھ مطعم بخاری تھا جہاں سے لوگ پارسل لے کر مسلسل آجارہے تھے۔ باہر کا درجہ حرارت پچاس درجہ سینٹی گریڈ تھا جبکہ گاڑی میں اے سی چل رہا تھا اور گرمی کا نام و نشان تک نہ تھا۔
فلور نمبر سولہ کی بالکونی سنسان تھی۔ مزید آدھا گھنٹا اس نے اور انتظار کیا اور مایوس ہوکر گاڑی واپسی موڑلی۔ سامنے چند سو میٹر آگے پٹرول پمپ اور اس کے پہلو میں بروسٹ المدینہ تھا۔ اس نے ساتھ بنی پرائیویٹ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور سیدھا کاؤنٹر کی طرف آگیا۔ جہاں فلپائنی لڑکا ہلکی سی مسکراہٹ لیے کسٹمرز سے آرڈر لے رہا تھا۔ اس نے بھی آرڈر دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ ویڈ ملباری نو عمر لڑکا تھا اس نے پانی کی یخ بوتل اس کے سامنے رکھی۔
اگلے دس منٹ میں چکن بروسٹ اس کے سامنے تھا۔ چکن کا ٹکڑا دانتوں سے توڑتے ہوئے اس کے دماغ میں ایک خیال نے ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ ’’وہ بہت چالاک عورت ہے اس نے میری گاڑی کسی طرح دیکھ لی ہوگی۔ اس لیے گھر سے باہر نہیں نکلی۔ ’’یہ خیال اب یقین میں بدل چکا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ کل وہ اپنی گاڑی کے بجائے محمود ہاشم کی گاڑی لے جائے گا۔ محمود ہاشم مصری تھا اور اس کا شرکہ (کمپنی) اس کے آفس کے برابر میں ہی تھا۔ دونوں میں اچھی دوستی تھی۔ وہ اس کی گاڑی آرام سے لاسکتا تھا۔ صرف اسی صورت میں وہ اس چالاک عورت کی نگاہ سے بچ سکتا تھا۔ کام مشکل تھا پر اسے ہر صورت ثبوت حاصل کرنے تھے۔
ثبوت کے بغیر وہ اسے سزا بھی تو نہیں دے سکتا تھا۔
٭…٭…٭
اس نے بہت آہستگی سے کوئی آواز پیدا کیے بغیر قدم کمرے سے باہر نکالے۔ کوری ڈور سے گزر کر وہ ٹی وی لاؤنج میں آئی۔ جہاں اس کے دو چھوٹے بھائی سو رہے تھے۔ باقی پورا گھر بھائیں بھائیں کررہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا ان تین نفوس کے علاوہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ توشی نے ہاتھ پر بندھی ڈیجیٹل رسٹ واچ پر وقت دیکھا شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔ اس کے سینے سے آسودہ سانس برآمد ہوئی۔ اس وقت مما گھر نہیں ہوتی تھی۔ اب وہ پوری آزادی سے پورے گھر میں گھوم رہی تھی۔ اسے بھوک کا احساس ہورہا تھا۔ ڈبل ڈور فریج اوپر سے نیچے تک اشیائے خورونوش سے بھرا پڑا تھا۔ عجیب گندی سی بدبو پورے فریج میں پھیلی ہوئی تھی۔ سبزیوں اور پھلوں کے انبار کے انبار خراب ہورہے تھے۔ جام، جیلی، چیز اور اچار سب کے ڈھکن کھلے پڑے تھے۔ اس نے مشروبِ خاص کی بوتل کی تلاش میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارے۔ وہ بھی کھلی پڑی تھی۔ ترکش لبن کا آدھا جار فریج میں اُلٹا پڑا تھا جس سے مواد ٹپک رہا تھا۔ توشی کو بے اختیار اُبکائی سی آگئی۔ اس نے ایک سیب فریش روم سے اٹھایا اور فریج کا دروازہ غصے سے بند کردیا۔
کھانے کے لیے کوئی بھی ڈھنگ کی چیز نہیں تھی۔ سامنے شیلف پر بیس ریال کے دو نوٹ پڑے تھے۔ توشی نے جھپٹ کر وہ مٹھی میں دبائے اور دوبارہ مشترکہ بیڈروم کی طرف آئی۔ دروازے کے پیچھے لٹکتا عبایہ اُتار کر پہنا۔ بارہ سال کی عمر ہی میں اس کا قد عام لڑکیوں کے مقابلے میں کافی اُونچا تھا۔ جسم بھی بھرا بھرا اور گال بھی خوب پھولے پھولے تھے۔ چہرے پر معصومیت اور بھولپن لیکن جسم پورے کا پورا بالغ لڑکیوں جیسا تھا۔ گھر کے داخلی دروازے کی چابی اُٹھا کر وہ اپنے اپارٹمنٹ کو لاک کرکے باہر نکلی۔ لفٹ بھی فوراً آگئی۔ اس نے اندر داخل ہوکر گراؤنڈ فلور کا بٹن دبا دیا۔
وہ اپنے خیالوں میں مگن تھی جب لفٹ ساتویں منزل پر رکی۔ دروازہ کھلا اور نواف اندر آیا۔ توشی کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ ’’کیف حالُک (کیا حال ہے؟)‘‘ وہ بے تکلفی سے بولا۔ ’’ٹھیک ہوں۔‘‘ توشی نے مختصر جواب دیا۔
نواف مسلسل اسے گھورے جارہا تھا۔ ’’تم روتی رہی ہو؟ ماں سے پھر مار پڑی ہے؟‘‘ وہ ہمدردی سے بولا۔ توشی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ’’تمہیں بھوک بھی لگی ہوگی آؤ میرے گھر۔ میں دھیات اور حلاوہ (میٹھی چیزیں) لایا ہوں۔
نواف کا اپارٹمنٹ سترہویں منزل پر تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی۔ لفٹ رک گئی۔ نواف سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ چوتھی منزل سے داؤد کی امی لفٹ میں داخل ہوئی۔ نواف کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں واضح طور پر ناپسندیدگی کی لہر اُبھری تھی۔ پھر نواف نے توشی کو مخاطب نہیں کیا۔ گراؤنڈ فلور پر لفٹ رکی تو تینوں باہر نکلے۔ نواف تو تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا جبکہ داؤد کی امی توشی کے ساتھ آہستہ آہستہ چلنے لگی۔
’’بیٹا آیندہ لفٹ میں کسی آدمی کے ساتھ اکیلی سوار مت ہونا اور اس نواف کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں۔‘‘ وہ اسے پیار بھرے انداز میں نصیحت کررہی تھی۔
’’کیوں؟‘‘ اس نے پھر سوال کیا۔ ’’نواف انکل تو مجھے اپنے گھر چلنے کا بول رہے تھے کہہ رہے تھے میں تمہیں مزے مزے کی چیزیں کھلاؤں گا۔‘‘
’’وہ گندہ آدمی ہے اس کے گھر مت جانا بچوں کو غائب کردیتا ہے۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر آگے چلی گئی۔ جبکہ توشی ہاتھ میں دبائے ریال لیے دکان میں داخل ہوگئی۔
وہاں سے اس نے گمریاں، جوس اور کروسان لیا اور گھر کے سامنے بنے باغیچے میں آگئی۔ وہاں بیٹھ کر اس نے سکون سے سب کچھ کھایا۔ پیٹ میں کچھ گیا، تو سوچنے کی طاقت بھی بحال ہوگئی۔ اب وہ نواف کے بارے میں تجسس کا شکار تھی کہ وہ کیسے بچوں کو غائب کرتا ہے۔
٭…٭…٭
سامی ویسے تو گرلز اسکول میں زیر تعلیم تھی، لیکن وہاں خاتون ٹیچرز کے ساتھ ساتھ مرد بھی پڑھاتے تھے۔ پہلی سے ساتویں کلاس تک طالبات کو صرف خاتون اساتذہ پڑھاتی تھیں، مگر آٹھویں سے دسویں جماعت تک مرد اساتذہ بھی ان کے ساتھ پڑھاتے تھے۔
سامی اب آٹھویں کلاس میں آگئی تھی اور پہلے کی نسبت خاصی سمجھ دار بھی ہوچکی تھی۔ سلیمان اس سے دو سال سینئر تھا۔ وہ اب دسویں جماعت کے بورڈ کے پیپرز دینے والا تھااور اب پہلے سے زیادہ کم گو ہوگیاتھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ شام سے رات تک دستانے بنانے والی ایک چھوٹی سی فیکٹری میں بھی کام کرتا تھا۔ تنخواہ اسے کوئی اتنی خاص نہیں ملتی تھی مگر اپنے چھوٹے موٹے اخراجات وہ اسی سے پورے کرتا تھا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

اپنا کون — تنزیلہ احمد

Read Next

قرض — وقاص اسلم کمبوہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!