لاحاصل — قسط نمبر ۱

اس نے سر اٹھا کر اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ اگر وہ ہاتھ بڑھائے تو انہیں چھو سکتی ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی… وہ آخری سیڑھی سے چند قدم آگے بڑھ آئی۔
—–*—–
مریم پروفیسر عباس کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے پہلے کی طرح ایک کرسی پر ذالعید کو براجمان پایا۔
”آئیے مریم! میں نے آپ کو بلوایا ہے۔” پروفیسر عباس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ ایک سرسری نظر وہ ذالعید پر ڈال کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
”میں نے آپ کے ڈیزائنز دیکھے ہیں اور میں آپ کے کام سے خاصا متاثر ہوا ہوں۔ میں چاہتا ہوں، آپ میرے لیے کام کریں۔”
ذالعید نے اس کے بیٹھتے ہی کسی تمہید کے بغیر کہا، وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ وہ خاموش ہوا تو اس نے کہا۔
”میں آپ کے لیے کام نہیں کرنا چاہتی۔” وہ خاموش ہوا تو اس نے اسی سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا۔
”مریم! یہ اصل میں پچھلے دنوں بہت مصروف تھا، اس لیے آپ سے مل نہیں سکا۔ اس نے مجھ سے معذرت کی ہے۔” پروفیسر عباس نے مداخلت کی۔
”ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو، مگر اب میں بہت مصروف ہوں اور میرے پاس وقت نہیں ہے۔” وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
”مریم! میں جانتا ہوں آپ مجھ سے ناراض…” ذالعید اپنی بات مکمل نہیں کر سکا۔ مریم نے بہت سرد آواز میں اس کی بات کاٹ دی۔
”ایکسکیوزمی… میں آپ سے ناراض کیوں ہوں گی؟ آپ میرے کلاس فیلو نہیں… کالج فیلو نہیں… میں آپ کو جانتی تک نہیں آپ میرے نزدیک محض ایک اجنبی ہیں اور آپ کا خیال ہے کہ میں آپ سے ناراض ہو سکتی ہوں۔” وہ ایک جھپاکے کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔
”میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا۔ وہ اب کسی طور تمہارے لیے کام کرنے پر تیار نہیں ہوگی۔ تم اسے انا کا مسئلہ سمجھو یا پھر ضد مگر وہ اب کام نہیں کرے گی۔”
ذالعید نے بڑی گہری خاموشی کے ساتھ پروفیسر عباس کی بات سنی، وہ کچھ سوچنے لگا تھا۔
—–*—–
وہ پروفیسر عباس کے کمرے سے اس کے پیچھے ہی باہر نکلا۔
”ایکسکیوزمی مریم!” اس نے کوریڈور میں جاتی ہوئی مریم کو روک لیا۔
”میں چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان جو غلط فہمی ہو گئی ہے وہ دور ہو جائے۔” وہ بازو لپیٹے سرد نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
”میری واقعی یہ خواہش ہے کہ آپ میرے لیے کام کریں۔”
”مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی آپ کے بارے میں، میں آپ کو ویسا ہی سمجھی ہوں جیسے آپ ہیں۔”
”مریم! میں آپ کے کام کی بہت قدر کرتا ہوں۔ آپ ایک اچھی آرٹسٹ ہیں اور میں واقعی چاہتا ہوں کہ آپ کو بڑے پیمانے پر کام کرنے کا موقع ملے۔”
”مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ آپ میرے کام کی قدر کرتے ہیں یا نہیں اور میں اچھی آرٹسٹ ہوں یا بری۔ اس کے لیے بھی مجھے آپ کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے۔ ذالعید صاحب کو مریم کے کام کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر مریم کے کام کو کسی ذالعید صاحب کے لیبل کی ضرورت نہیں ہے۔” وہ یک دم مسکرایا۔
”آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ مجھے آپ کے کام کی ضرورت ہے، آپ کے کام کو اپنی پہچان کے لیے واقعی کسی کے نام کی ضرورت نہیں ہے۔” اس کی تعریف نے بھی مریم کا غصہ ٹھنڈا نہیں کیا۔





”میں صرف یہ نہیں سمجھ سکی کہ آپ نے مجھے دو دن اس طرح خوار کیوں کیا۔ آپ کو اتنے مینرز نہیں ہیں کہ خواتین سے کیسے بات کرتے ہیں۔ آپ آرٹ کی قدردانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور آپ کو اتنا پتا نہیں ہے کہ آرٹسٹ سے کس طرح ملتے ہیں۔ میں آپ کے پاس کام مانگنے نہیں گئی تھی۔ آپ آئے تھے۔ اور اس کے بعد آپ نے ایک بھکاری کی طرح مجھے ٹریٹ کیا۔ یہ وہ پروفیشنلزم ہے جس کی آپ بات کر رہے تھے؟”
ذالعید کا چہرہ ہلکا ہلکا سرخ ہونے لگا مگر وہ خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔
”مریم! مجھے پہلی بار آپ سے گفتگو کر کے یوں لگا تھا جیسے آپ نے میری بات سنی ہی نہیں یا کم از کم غور سے نہیں سنی۔ آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ آپ نے کسی پوائنٹ پر کوئی اختلاف نہیں کیا۔ حتیٰ کہ جب میں نے آپ سے یہ کہا کہ آپ مجھ سے اس پروجیکٹ کے بارے میں کچھ بھی پوچھ لیں تو آپ نے صرف پیکج کے بارے میں پوچھا۔ مجھے تھوڑا عجیب لگا۔ مجھے لگا آپ کو کام سے زیادہ معاوضے میں دلچسپی ہے۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید آپ اتنے پروفیشنل اور مخلص طریقے سے کام نہ کر سکیں۔ جس طرح میں چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا، میں آپ سے کام نہیں کراؤں گا۔ آپ کے سامنے انکار کرنا مجھے مشکل لگ رہا تھا، اس لیے میں نے ان ڈائریکٹ طریقے سے آپ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا۔ مگر میں نے آپ کے ڈیزائنز دیکھے تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔”
اس نے وضاحت کرنے کی کوشش کی مگر اس کی وضاحت نے مریم کے غصے کو کچھ اور بھڑکایا۔
”آپ میں اتنے گٹس ہونے چاہیے تھے کہ اگر آپ میرے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے تھے تو صاف صاف اسی وقت مجھے بتا دیتے۔ مجھے بالکل برا نہیں لگتا۔ آپ کا پروفیشنلزم آپ کی اپنی ذات کی حد تک ہے۔ آپ نے میرے ساتھ مس بی ہیو کیا اور اب سیدھے طریقے سے یہ کہنے کے بجائے کہ آپ کا رویہ بالکل غلط تھا۔ آپ توجیحات دے رہے ہیں کہ چونکہ آپ نے یہ محسوس کیا۔ تو پھر آپ نے سوچا… اور پھر آپ نے اس لیے یہ کیا۔ آپ اپنی غلطی چھپانے کے بجائے صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو بزنس کی فیلڈ میں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ویلیوز بھی۔” ذالعید نے یک دم دونوں ہاتھ اٹھائے۔
”ٹھیک ہے میں کوئی توجیح نہیں دیتا۔ میں مکمل طور پر غلط تھا اور آپ ٹھیک کہتی ہیں، مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔”
”آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آرٹسٹ آپ کے لیے فی سبیل اللہ کام کرے۔” اس نے اس کی بات پر غور کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔
”آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آرٹسٹ معاوضے کے بارے میں کبھی بات نہ کرے۔”
”مریم، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ میں نے آپ سے اس دن یہی کہا تھا کہ اگر میں کام اپنی مرضی کا کرواؤں گا تو معاوضہ آپ کی مرضی کا دوں گا۔” ذالعید نے نرم لہجے میں اس کی بات کاٹی۔
”ابھی آپ نے کہا ہے کہ آپ کو میرا معاوضہ ڈسکس کرنا برا لگا، آپ کو لگا، میں پروفیشنل نہیں ہوں۔ کسی بزنس ایڈمنسٹریشن کے ادارے میں جائیے اور ان سے پوچھیے کہ کون سی تین بنیادی چیزیں ہیں جو کسی بھی پروجیکٹ کو کرتے ہوئے سب سے پہلے ڈسکس کرنی چاہئیں۔ ان میں سے ایک وہ معاوضہ ہی بتائیں گے۔ کتنا عرصہ ہمارے پینٹرز اپنا خون پسینہ رنگوں کی صورت میں کینوس پر بکھیرنے کے بعد انہیں کوڑیوں کے مول بیچتے رہیں گے کیونکہ آپ جیسے نام نہاد آرٹ کے دلدادہ اور قدردان یہ بات نامناسب سمجھتے ہیں کہ ایک آرٹسٹ اپنی پینٹنگ، اپنا کام مہنگا بیچنا چاہتا ہے۔
وہ تصویر بنانے سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کو اس تصویر کا کیا معاوضہ ملے گا۔ کتنی اور صدیاں ہم اپنے آرٹسٹ کو اسی طرح قدردانی اور تعریفوں کے جھوٹے انبار تھماتے رہیں گے۔ کیا تعریف اس کے چولہے کا ایندھن بن سکتی ہے؟ اس کے پیٹ کی بھوک مٹا سکتی ہے؟ اس کے بچوں کی فیسیں دے سکتی ہے مت تعریفیں کیا کریں آپ آرٹسٹ کے آرٹ کی۔ صرف اسے اس کے کام کی مناسب قیمت دے دیا کریں اور معاوضے کی اس ڈسکشن کو اب غیر پیشہ ورانہ اور مادہ پرستی سمجھنا چھوڑ دیں۔ آرٹسٹ کو بھی اتنا ہی حق ہے اپنا معاوضہ ڈسکس کرنے کا۔ جتنا کسی ڈاکٹر کو یا وکیل کو وہ آپ سے بھیک نہیں مانگ رہا ہوتا۔ وہ بھی آپ کو ایک سروس دے رہا ہوتا ہے آپ کے حسن جمال کی تسکین کر رہا ہوتا ہے۔ جہاں تک آپ کے لیے دوبارہ کام کرنے کی بات ہے، آپ چاہیں تو میرے ڈیزائن استعمال کر لیں مگر مجھے اب آپ کے لیے کام نہیں کرنا۔” وہ لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔
—–*—–
صوفیہ نے اس دن ذالعید اور مریم کو کوریڈور میں باتیں کرتے دیکھ لیا تھا اور اس نے ذالعید کو فون کر کے اس گفتگو کے بارے میں پوچھا۔ ذالعید نے اسے پوری تفصیل بتا دی۔
”میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ اس میں بہت نخرہ ہے۔ تم کیوں خوامخواہ اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔ دفع کرو اسے۔ این سی اے میں ایک سے بڑھ کر ایک آرٹسٹ ہے تم نے اتنے لوگوں سے ڈسکشن کی ہے۔ ان میں سے کسی کو ہائر کر لو۔” صوفیہ نے اس کی پوری بات سننے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔
”ہاں اب تو یہی کروں گا۔ میں پھر بھی میں سب کچھ کلیئر کرنا چاہتا تھا۔”
”تمہیں کیا ضرورت ہے کچھ بھی کلیئر کرنے کی۔ اس طرح کے لوگوں کو سر پر چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ تم نے خوامخواہ میں اس کی بکواس سنی۔”
”نہیں۔ اس نے جو کچھ کہا، وہ ٹھیک تھا مگر اس کے کہنے کا طریقہ غلط تھا۔ چھوٹی موٹی غلط فہمیوں پر اس طرح ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے تو ویسے بھی اس سے ایکسکیوز کر لیا تھا۔” مریم کے رویے کے حوالے سے ذالعید کو بھی کچھ اعتراضات تھے۔
—–*—–
وہ اس دن ذالعید کو جتنا برا بھلا کہہ سکتی تھی۔ اس نے کہا تھا۔ اس کی معذرت بھی مریم کا دل صاف نہیں کر سکی۔ اس کا خیال تھا وہ صرف اپنا مطلب نکلوانے کے لیے اس کے پاس آیا تھا۔ ورنہ وہ اتنا مہذب نہیں تھا جتنا وہ نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذالعید سے ہونے والی اس گفتگو کے چند دن بعد صوفیہ اس کے پاس ایک لفافہ لے کر آئی۔ چند رسمی سی باتیں کرنے کے بعد اس نے اپنے بیگ سے وہ لفافہ نکال کر مریم کے سامنے کر دیا۔
”یہ ان ڈیزائنز کی قیمت ہے جو تم نے ذالعید کے لیے بنائے تھے۔ ذالعید نے یہ چیک دیا ہے۔”
مریم کو ایک بار پھر اپنی توہین کا احساس ہوا۔
”مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ چیک اسے واپس کر دینا اور بتا دینا کہ اس چیک سے وہ تھوڑے سے مینرز ضرور خرید لے۔” اس نے تیز لہجے میں کہتے ہوئے اپنی تصویر پر کام جاری رکھا۔ صوفیہ کو اس کا لہجہ بہت برا لگا۔
”ذالعید کو مینرز کی ضرورت نہیں ہے مریم! تمہیں مینرز کی ضرورت ہے۔” مریم نے کینوس پر کام کرتے ہوئے اپنا ہاتھ روک لیا۔
”مجھے تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔” برش کے پچھلے سرے سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا۔
”تم Carrier کا کام کر رہی ہو صرف وہ کرو۔” وہ دوبارہ پینٹنگ بنانے لگی۔ Carrier کے لفظ نے صوفیہ کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ اس نے لفافہ کھینچ کر مریم کے منہ پر مارا۔
”تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی۔ پہلے پیسے مانگتی ہو اور اس کے بعد نخرے دکھاتی ہو۔” مریم لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ کچھ کہے بغیر اسے دیکھتی رہی وہ نہیں چاہتی تھی اب بات اور بڑھے۔ ادھر ادھر کھڑے ہوئے اسٹوڈنٹس ان کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے۔
”ہو کیا تم… تمہاری جیسی لاکھوں پڑی ہوئی ہیں یہاں… اپنا آرٹ لیے پھرتی ہیں… کون ہو تم؟ مائیکل اینجلو ہو… ریمبراں ہو… پکاسو ہو… چار لفظ تعریف کے مل جائیں تو تم جیسے لوگ آسمان پر چڑھ جاتے ہو خود کو کوئی اور چیز سمجھنے لگتے ہو۔ اسی سے پتا چلتا ہے کہ تمہارا خاندان کیا ہے۔ تم لوگ اسی طرح گند مچاتے ہو، اچھے اداروں میں آ کر۔”
وہ سرخ چہرے کے ساتھ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ مریم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں یہ خبر پوری کلاس میں پھیلنے والی تھی، اس کے دل میں ذالعید کے لیے عداوت کچھ اور بڑھ گئی۔ صوفیہ کے ذریعے یہ چیک بھیج کر وہ کیا ثابت کرنا چاہتا تھا؟ یہ کہ وہ میرا کوئی احسان نہیں لے رہا۔ یا یہ کہ وہ بہت پروفیشنل ہے۔ اس نے چیک والا لفافہ اٹھاتے ہوئے تلخی سے سوچا۔
وہ لفافہ اس نے مصطفی کو دے دیا جو اس پروجیکٹ پر مریم کے انکار کے بعد ذالعید کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
”یہ ذالعید کو دے دیں۔” اس نے کسی لمبی چوڑی تفصیل کے بغیر کہا۔
”ہم آ پ کی لائنز پر ہی مزید کام کر رہے ہیں مریم! آپ کے ڈیزائنز میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں کر رہے ہم۔”
مصطفی نے بڑی دلچسپی کے ساتھ اسے بتایا وہ کوئی تبصرہ کیے بغیر ایک مسکراہٹ کے ساتھ واپس آ گئی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد اسے اب کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ وہ اس کے ڈیزائنز پر ہی مزید کام کر رہا ہے یا نہیں۔
—–*—–
وہ صوفیہ کو شروع سے ہی پسند نہیں کرتی تھی اور کچھ یہی حال صوفیہ کا بھی تھا۔ صوفیہ ان چند لڑکیوں میں شامل تھی جن کا خیال تھا کہ مریم خود کو سب سے اعلیٰ و ارفع سمجھتی ہے۔ اسے اپنے کام اور اکیڈمک پرفارمنس پر ضرورت سے زیادہ فخر ہے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ پروفیسرز کی بے جا تعریفوں نے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ کسی حد تک شاید یہ بات ٹھیک بھی تھی کہ مریم کو اپنے کام پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اپنے کالج میں سب سے اچھا اور مختلف کام کرنے والے اسٹوڈنٹس میں سے تھی اور اس کے اپنے بیچ میں کوئی بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں یا پرفیکشن میں اس کے ہم پلہ نہیں ہے۔
اس کے ٹیچرز کا خیال تھا کہ وہ خاص طور پر پینٹنگ میں باقی سب لوگوں کو بہت پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ شاید اپنے کام کے حوالے سے یہ خود اعتمادی اس کے رویے میں بھی جھلکتی تھی اور اس نے صوفیہ جیسی لڑکیوں کے دل میں اس کے لیے خاصی بدگمانی پیدا کر دی تھی۔ اس بدگمانی کو بڑھانے میں اس کے ریز رو رہنے کا بھی بہت ہاتھ تھا۔
دوسری طرف مریم کی رائے بھی صوفیہ اور صوفیہ جیسی کچھ دوسری لڑکیوں کے بارے میں اچھی نہیں تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہ این سی اے جیسے بڑے ادارے کے میرٹ پر پورا نہیں اترتیں۔ وہاں ایڈمیشن حاصل کرنے میں کامیابی انہیں ان کے آرٹ کی وجہ سے نہیں ،بلکہ تعلقات اور پیسے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
اس نے خود این سی اے میں داخلے کے وقت میرٹ لسٹ پر ٹاپ کرنے کے باوجود صرف پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے خاصی مشکلات کا سامنا کیا تھا۔ اس کا خیال تھا این سی اے صرف ان لوگوں کو آرٹ سکھا رہا ہے جن کے پاس روپیہ اور بے تحاشا سہولتیں ہیں۔ اس کلاس کے لیے کچھ نہیں کر رہا جس کے پاس ٹیلنٹ کی بھرمار ہے، مگر وسائل نہیں اور اس کی یہ رائے بالکل ٹھیک تھی۔
خود اسے وہاں ایڈمیشن تب ہی مل سکا تھا جب اس کے سکول کی مدر سپیرئر نے اس کی درخواست پر اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے این سی اے کے بورڈ آف گورنرز کے ایک ممبر سے اس کے لیے سفارش کروائی۔ نتیجتاً اس کی فیس معاف ہو گئی مگر اس سب کے لیے اسے اور ماما جان کو خاصی دوڑ دھوپ کرنی پڑی۔
مگر کالج میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد اس نے صوفیہ جیسے بہت سے نام نہاد آرٹسٹ دیکھے۔ جو اپنے روپے کے بل پر این سی اے کا ٹھپہ لگوانے کے لیے وہاں موجود تھے۔
”برش سے کینوس پر چار اسٹروک لگا دینے والا ہر شخص آرٹسٹ نہیں ہو جاتا۔” وہ واضح طور پر کہا کرتی۔ وہ صوفیہ اور اس کے ساتھ رہنے والی کچھ دوسری لڑکیوں کو ہی نہیں بلکہ کالج میں موجود اس جیسی اور بھی بہت سی لڑکیوں کو Artistic Snob کہا کرتی تھی۔
”ان لوگوں کے رشتہ داروں، کزنز اور دوستوں کے علاوہ کون خریدتا ہے ان لوگوں کا آرٹ؟ مروت میں ہوتی ہے یہ خریداری… اس لیے قیمت زیادہ لگتی ہے۔” اس کے یہ تبصرے صوفیہ اور دوسری لڑکیوں تک بڑی آسانی سے پہنچ جاتے۔
اس کے مزاج میں ان دنوں اس لیے بھی تلخی تھی کیونکہ وہ ماما جان کے ساتھ انگلینڈ جانے کے مسئلے پر الجھ رہی تھی… اسے اپنا مستقبل بالکل بھی محفوظ نظر نہیں آ رہا تھا اور صوفیہ اور اس جیسی لڑکیاں ان دنوں اسے اور بھی زیادہ بری لگ رہی تھیں۔
صوفیہ کی ذالعید کے ساتھ رشتہ داری ہونے اور ذالعید کے اس رویے نے صوفیہ کی طرف سے اس کا دل اور کھٹّا کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ صوفیہ نے ذالعید کو کام دینے سے منع کیا ہوگا۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ اس دن ذالعید کے آفس میں صوفیہ ہی تھی۔ جس نے ذالعید کو اسے چند دن بعد بلوانے کے لیے کہا تھا۔ وہ غیر محسوس طور پر ذالعید کے ہر رویے کا تعلق صوفیہ سے جوڑ رہی تھی اور اب صوفیہ کے ہاتھوں بھیجے جانے والے اس چیک نے اس یقین کو اور پختہ کر دیا تھا۔
—–*—–
میں اس کے ڈیزائنز استعمال کر رہا ہوں اس لیے اس کو معاوضہ دینا چاہتا ہوں۔ تم میری طرف سے شکریہ کے ساتھ اسے یہ چیک دے دینا۔” ذالعید نے مریم کے لیے چیک دیتے ہوئے صوفیہ سے کہا۔
”ٹھیک ہے میں اسے یہ چیک دے دوں گی مگر بہتر تھا تم خود ہی اسے یہ دیتے۔ میں اس سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی ہوں۔”
”میں خود اسے دے دیتا مگر مجھے خدشہ ہے کہ وہ شاید مجھ سے چیک نہ لے اس لیے میں چاہتا ہوں تم اسے یہ دے دو۔” ذالعید کو واقعی یہ توقع تھی کہ وہ ایک بار پھر اس کے ساتھ بری طرح پیش آئے گی۔
مگر اگلے دن صوفیہ کی مریم کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سن کر اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ وہ اس شام صوفیہ کے ساتھ ڈنر کر رہا تھا جب اس نے اس چیک کے بارے میں پوچھا تھا۔ ”وہ اس قدر بدتمیز ہے کہ اسے ایک روپیہ بھی ملنا نہیں چاہیے۔” صوفیہ نے غصے میں کہا۔
”کیوں کیا ہوا؟”
”میں نے اسے چیک دیا تھا تو اس نے کہا کہ مجھے اس چیک کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ذالعید کو دو اور اس سے کہو اس چیک سے تھوڑے مینرز خرید لے۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔
”پھر میں نے اس سے کہا کہ مینرز کی اسے نہیں تمہیں ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو، اس نے جواب میں مجھے کیا کہا؟” وہ اس تفصیل کو انجوائے کر رہا تھا۔
”اس نے مجھ سے کہا کہ اسے میرے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں Carrier ہوں، اپنا کام کرتی رہوں۔”
ذالعید کو پانی پیتے ہوئے دم اچھو لگا۔ گلاس میز پر رکھتے ہوئے نیپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے وہ ہنسا۔
”اس نے میری انسلٹ کی اور تم ہنس رہے ہو۔”
صوفیہ کو اس کی ہنسی بری لگی۔
”میں اس کی Vocabulary پر ہنس رہا ہوں۔ واقعی اس نے ایک انتہائی غصہ دلانے والا لفظ استعمال کیا ہے… بہت خراب۔” اس نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
”پھر میں نے خاصی انسلٹ کی اس کی… اس کے منہ پر چیک مارا میں نے۔” ذالعید کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ یک دم سنجیدہ ہو گیا۔
”صوفیہ! یہ نہیں کرنا چاہیے تھا تمہیں۔”
”کیوں… وہ سب کی بے عزتی کرتی پھرے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہو… میں تمہاری طرح تو اپنی بے عزتی کروانے سے رہی۔” اس نے مریم کو کہی جانے والی ساری باتوں کی تفصیل سناتے ہوئے کہا۔
ذالعید کو اس کی باتیں سن کر شدت سے افسوس ہوا کہ اس نے وہ چیک مریم کو خود دینے کے بجائے صوفیہ کے ہاتھوں کیوں بھجوایا۔
”جو بھی ہو صوفیہ! تم نے ٹھیک نہیں کیا… بہرحال اب ساری باتیں چھوڑو۔ کھانا کھاؤ۔” اس نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ وہ اب کچھ متفکر نظر آنے لگا تھا۔
اگلے دن مصطفی کے ذریعے اسے وہ چیک واپس مل گیا اور اس کے افسوس میں کچھ اور اضافہ ہو گیا وہ جانتا تھا مریم اب اسے پہلے سے زیادہ ناپسند کرنے لگی ہوگی۔
—–*—–




Loading

Read Previous

سیاہ پٹی — عرشیہ ہاشمی

Read Next

لاحاصل — قسط نمبر ۲

One Comment

  • Abhi paruhi tb

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!