زندگی گلزار ہے — عمیرہ احمد

17فروری
آج مجھے میری پوسٹنگ کے آرڈرز مل گئے ہیں مجھے یو این او میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے کام کرنا ہے۔ ایک بہت نازک اور اہم جگہ پر ایک ایسی جگہ جہاں پوسٹ ہونے کے لیے فارن آفس کے مختلف آفیسرز کے درمیان کھینچا تانی ہوتی رہتی ہے لیکن جیت ہمیشہ اسی بندے کی ہوتی ہے جس کے تعلقات سب سے زیادہ ہوں اور میرے لیے اس جگہ پوسٹ ہونا کوئی پرابلم نہیں تھا کیونکہ رشتہ داروں کا کچھ فائدہ تو ہونا ہی چاہیے اور ویسے بھی پاکستان میں میرے اتنے لمبے قیام کے پیچھے رشتہ داروں کی کرم فرمائی ہی تو ہے ورنہ مجھے اتنا لمبا قیام کیسے ملا۔ اتنا لمبا عرصہ پاکستان میں صرف اس لیے رہا کیونکہ اپنی پرسنل لائف کو سٹیل کرنا چاہتا تھا، پھر کشف بھی جاب کر رہی تھی اور وہ ایک دم فارن سروس میں نہیں آ سکتی تھی۔ بہر حال اب سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے، اس لیے اب اپنے کیریئر پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
کشف تیمور اور ایبک میرے ساتھ جا رہے ہیں اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے اور ویسے بھی کہیں بھی اپنی پوسٹنگ ہونے پر انہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھوں گا کیونکہ میں ان کا عادی ہوں اور عادی ہی رہنا چاہتا ہوں۔ ان کے بغیر رہنا اب میرے لیے ممکن نہیں ہے اور ویسے بھی ماں باپ کی سب سے زیادہ ضرورت اس عمر میں ہوتی ہے۔ ایبک تو ابھی کافی چھوٹا ہے لیکن تیمور کو ابھی میرے ساتھ کی ضرورت ہے۔ اسے میری محبت اور توجہ چاہیے اور یہ سب اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ میرے ساتھ رہے۔ میں چاہتا ہوں اب کشف جاب چھوڑ دے۔ لیکن یہ بات اس سے کہنے کی ہمت نہیں ہے، مجھے یہ ڈر ہے کہیں وہ یہ نہ سمجھے کہ میں دوبارہ پہلے جیسا ہو گیا ہوں، اس پر اپنی بالا دستی قائم کرنا چاہتا ہوں پھر مجھے یہ خوف بھی ہے کہ کہیں وہ خود کو مجھ سے کمتر فیل کرنا نہ شروع کر دے اسے کہیں ایسا نہ لگے کہ وہ میرے مقابلے میں کچھ نہیں ہے صرف بے کار اور بے مصرف ہے اور میں اسے گھر تک محدود کر دینا چاہتا ہوں حالانکہ میرے دل میں ایسی کوئی بات نہیں۔
میں صرف اس پر سے کام کا پریشر کم کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں اس کے پاس اپنے لیے بھی کچھ وقت ہو، چند ایسے لمحے جنہیں وہ اپنی مرضی سے گزار سکے ابھی تو وہ ایک مشینی زندگی گزار رہی ہے، سارا دن آفس میں گزار کر گھر آتی ہے اور پھر وہی روٹین لائف۔ دوپہر اور رات کا کھانا تیار کروانا، میرے اور تیمور اور ایبک کے دوسرے کام کرنا۔ وہ ہمارے گھر میں سب سے پہلے جاگتی اور سب سے آخر میں سوتی ہے۔ سو میں چاہتا ہوں اسے تھوڑا آرام ملے۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اس سے اپنے کام کروانے چھوڑوں۔
اس نے مجھے اپنا اتنا عادی بنا لیا ہے کہ میں اس کے علاوہ کسی دوسرے سے اپنا کام کروا ہی نہیں سکتا لیکن پھر بھی چاہتا ہوں کہ اس پر کام کا اتنا بوجھ نہ رہے لیکن میں اسے کسی بات پر بھی مجبور نہیں کروں گا۔ آخری فیصلہ اسی کا ہو گا کیونکہ میں اس عورت کا معترف ہوں۔ اب میں بار بار اس سے محبت کا اظہار نہیں کر تا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اس سے محبت نہیں رہی اس کے اور میرے درمیان اب جو رشتہ ہے، اسے لفظوں کی ضرورت نہیں ہے۔
اب وہ جانتی ہے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں بالکل اسی طرح جس طرح مجھے یہ علم ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔





کشف میرے لیے بہت قیمتی چیز ہے۔ میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اسے مجھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ایک بات پر مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔ آج سے پانچ چھ سال پہلے میں نے ایک دفعہ اسے تھپڑ مارا تھا اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس وقت میں نے اسے طلاق دینے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا تب وہ پریگنننٹ تھی اور یہ بات ہم دونوں نہیں جانتے تھے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں اگر تب میں اسے طلاق دے دیتا اور بعد میں مجھے پتا چلتا کہ وہ میرے بچے کی ماں بننے والی تھی تو میں تو شاید پاگل ہی ہو جاتا کیونکہ میرے پاس اس کی طرف واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہتا پھر زندگی میرے لیے عذاب کی طرح ہوتی اگر میں دوسری شادی کر بھی لیتا تب بھی میرا دل کشف اور اپنے بچے کے لیے تڑپتا رہتا۔ یہ تو صرف خدا ہی تھا جس نے اس وقت میرا گھر تباہ ہونے سے بچا لیا جس نے میری زندگی میں ارام و سکون رکھا جس نے مجھے کشف جیسی بیوی اور تیمور اور ایبک جیسے بیٹے دیئے میں تو اس کی اتنی بہت ساری نعمتوں کا مستحق ہی نہیں تھا پھر بھی اس نے مجھ جیسے آدمی پر اتنی عنایات کیں۔ میں کبھی بھی ان سب چیزوں کے لیے اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا یقینا وہی سب سے زیادہ رحیم و کریم ہے، میری اس سے صرف یہی دعا ہے کہ وہ میرے گھر کو ہر مصیبت سے بچائے رکھے اور میری باقی زندگی بھی اسی طرح امن اور سکون سے گزار دے۔
…**…
27فروری
آج پاکستان میں میرا آخری دن تھا اور پورے سات گھنٹے بعد میں زارون کے ساتھ امریکہ چلی جاؤں گی اور واپسی بہت جلد نہیں ہوگی۔ اس وقت زارون سو رہا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ لمبی فلائٹ سے پہلے ضرور سوتا ہے میں اس وقت اکیلی ہوں اور پتا نہیں میرا دل کیوں چاہ رہا ہے کہ پاکستان میں گزارے ہوئے اپنے پچھلے سالوں کے بارے میں کچھ لکھوں۔ شاید ایسا اس لیے ہے کیونکہ آج میں نے اپنے پچھلے سالوں کی تمام ڈائریاں پڑھی ہیں اور پھر انہیں دوسرے ڈاکومینٹس کے ساتھ بینک لاکر میں رکھوا دیا ہے کیونکہ میں ان سب کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جا سکتی۔
تین بجے کی فلائٹ سے مجھے جانا ہے اور ابھی بہت وقت ہے یہاں سے جانے سے پہلے میں سارے اعتراف کرنا چاہتی ہوں بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ آج میں کتھارسس کے موڈ میں ہوں۔
چار دن پہلے میں زارون کے ساتھ اپنی فیملی کوخدا حافظ کہنے گجرات گئی تھی کیونکہ اب ان سے دوبارہ ملاقات بہت عرصے کے بعد ہوگی۔ وہاں میں اپنے باقی رشتہ داروں سے بھی ملی۔ مجھے ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ میری امی کو ان کی اچھائیوں ان کی نیکیوں کا کوئی صلہ نہیں ملا اور نہ ہی کبھی ملے گا لیکن آج جب میں اپنی امی اور اپنی ممانیوں کا موازنہ کرتی ہوں تو یہ بات بالکل صاف نظر آتی ہے کہ میری یہ سوچ غلط تھی۔ ایساکیا ہے جو آج میری امی کے پاس نہیں ہے؟ ان کی چاروں بیٹیاں اچھے گھروں میں بیاہی گئی ہیں اور بہت آرام سے ہیں، ان کے دونوں بیٹے اچھے عہدوں پر ہیں ان کی بہو ان کی عزت کرتی ہے ، ان سے محبت کرتی ہے انہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی لاحق نہیں یہ ٹھیک ہے کہ ان کے پاس بے تحاشا دولت نہیں ہے لیکن اچھی اور پر سکون زندگی گزارنے کے لیے کسی کے پاس جتنا روپیہ ہونا چاہیے، وہ ان کے پاس ہے اور زیادہ کی ہوس تو انہیں کبھی تھی ہی نہیں۔ کیا یہ سب ان کی نیکیوں کا صلہ نہیں ہے؟
پہلے امی کا صبر شکر، ان کی قناعت مجھے زہر لگتی تھی اور آج میں جو یہ سمجھتی تھی کہ دولت ہر مسئلے کا حل ہے۔ اب اپنی اس سوچ پر شرمندہ ہوں۔ کوئی انقلاب نہیں آیا نہ کوئی معجزہ ہوا نہ ہی ایک رات میں کایا پلٹی مگر پھر یہ کیسے ہوا کہ جن کے پاس پہلے دولت تھی وہ آج دولت کی موجودگی میں بھی خوش نہیں سکون سے محروم ہیں اور جو کبھی اچھے لباس اور اچھی خوراک کے لیے ترستے تھے آج ان کے پاس خوشی اور سکون کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ ہے جو کبھی ان کی خواہش تھا۔
فرق صرف اچھائیوں کا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کس نے زندگی کو کیسے برتا۔ اپنے سے کمتر لوگوں کی بھی کوئی عزت نفس ہوتی ہے دنیا میں دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی روپے کے بل بوتے پر آپ دوسروں کو کوڑا کرکٹ نہیں سمجھ سکتے۔ جن لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہوتا ان کی زندگیاں آسان بنانے میں کچھ کردار پیسے والے لوگوں کو بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔
میں پہلے ہر بات میں خدا کو مورد الزام ٹھہرایا کرتی تھی اور مجھے اس بات پر ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں نے خدا کو غلط سمجھا شاید ہم سب ہی خدا کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کی طاقت کا غلط اندازہ لگاتے ہیں، ہمیں خدا پر صرف اس وقت پیار آتا ہے جب وہ ہمیں مالی طور پر آسودہ کر دے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم اسے طاقتور ہی نہیں سمجھتے۔ ہم نماز کے دوران اللہ اکبر کہتے ہیں، اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور نماز ختم کرتے ہی ہم روپے کو بڑا سمجھنا شروع کر دیتے ہیں مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ خدا مجھ سے نفرت کرتا ہے۔
حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ خدا تو ہر ایک سے محبت کرتا ہے اسی لیے تو اس نے مجھے آزمائشوں میں ڈالا اور وہ اپنے انہیں بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے اگر خدا واقعی مجھ سے نفرت کرتا ہے اور وہ میرے مسائل ختم نہ کرنا چاہتا تو مجھے مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ بھی نہ دیتا۔ میں نے سی ایس ایس کو الیفائی کیا اور اس میں اچھی پوزیشن لی۔ خدا کی رضا کے بغیر یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ رزلٹ اناؤنس ہونے کے فوراً بعد مجھے اکیڈمی کال کر لیا گیا اور سب سے بہترین ڈیپارٹمنٹ میں بھیجا گیا کیا یہ سب خدا کی مرضی کے بغیر ہو سکتا تھا؟ مجھے اپنی بہنوں کی شادیوں کے لیے رشتوں کی تلاش میں ہاتھ پاؤں مارنے نہیں پڑے نہ ہی جہیز کے لمبے چوڑے مطالبے سننا پڑے۔ کیا تب خدا میرے ساتھ نہیں تھا؟ اور پھر میرے دونوں بھائیوں کو کسی سفارش کے بغیر آرمی میں لیا گیا، کیا یہ بھی خدا کی مرضی کے بغیر ہو سکتا تھا؟ پھر میں بھی جوبری طرح احساس کمتری کا شکار تھی جس کا خیال تھا کہ اگر کسی کے پاس دولت اور خوبصورتی ہے تو وہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہے اور جس کے پاس یہ چیزیں نہیں وہ دنیا میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
خدا نے میرے اس خیال کو بھی غلط ثابت کیا۔ میں خوبصورت نہیں تھی پھر بھی زارون نے مجھے پسند کیا۔ میرے پاس دولت بھی نہیں تھی پھر بھی میں اتنے بڑے خاندان کی بہوہوں سو ثابت ہوا کہ میری ہر سوچ، ہر خیال غلط تھا اور شاید احمقانہ بھی۔ خوبصورتی اور دولت خدا دیتا ہے سو اسے ان چیزوں کی کیا پروا جو اسی کی دین ہیں پر یہ سب میں پہلے نہیں جان پائی۔ شاید میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ خدا چاہتا تو مجھے ان سب غلط نظریات کی سزا دیتا جو میں خدا کے بارے میں رکھتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ یہ اس کا رحم اور کرم ہی تھا کہ اس نے سچ مچ مجھ سے منہ نہیں موڑا وہ مجھ سے بے پروا نہیں ہوا۔ اس نے میری نادانیوں کو معاف کردیا۔
میں نے سخت محنت کی اور اس نے مجھے اس کا اجر دیا۔ شاید محنت کے بغیر وہ مجھے کبھی کچھ نہ دیتا۔ یہ بیسویں صدی ہے۔ اس میں ہاتھ پاؤں مارے بغیر کچھ نہیں ملتا کیونکہ اب خدا پلیٹ میں کوئی چیز رکھ کر ہمیں پیش نہیں کرے گا۔ اس نے ہمارے مقدر میں جو لکھا ہے وہ ہمیں اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک ہم اسے پانے کے لیے محنت نہ کریں۔
اگر آج اپنے ماضی پر نظریں دوڑاؤں تو مجھے اپنے آپ پر رشک آتا ہے کیونکہ میں نے اپنی شخصیت خود بنائی ہے، میں سیلف میڈ ہوں، میرے راستے میں کسی نے آسانی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن بہت سارے کمپلیکسز ، ڈھیروں مخالفتوں اور ہزاروں خامیوں کے باوجود ایک چیز جو میں نے کبھی ترک نہیں کی وہ محنت تھی اور شاید ایک لڑکی ہوتے ہوئے جتنی محنت میں نے کی، کوئی دوسرانہ کرتا۔ میری فیملی کچھ نہیں تھی اور اس کچھ نہیں سے میں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔ میں نے وہ سب پانے کے لیے جدوجہد کی جو ہم کھو چکے تھے اور پھر آہستہ آہستہ سب پا لیا بلکہ شاید اس سے زیادہ ہی پایا جتنا ہم نے کھویا تھا۔
ان دنوں میرے دل میں بس ایک ہی خیال رہتا تھا کہ مجھے کچھ بننا ہے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی فیملی کے لیے۔ اپنی تحقیر مجھے اس وقت اتنی بری نہیں لگتی تھی جتنا اپنی فیملی کا نظر انداز کیا جانا برا لگتا تھا۔ اپنے رشتہ داروں کے طنزیہ جملے ان کے طعنے ان کی نظریں ہر چیز نے مجھے آگے بڑھنے کے لیے اکسایا۔ جو لوگ میرے ساتھ خراب سلوک کرتے تھے وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ آگے بڑھنے میں مجھے کس قدر مدد دے رہے ہیں شاید ان کے اس سلوک کے بغیر میں کبھی اس مقام پر نہیں پہنچ پاتی جس پر آج میں ہوں۔
ان دنوں زندگی اس لیے مشکل نہیں لگتی تھی کہ گرمیوں میں پیدل کالج آتے جاتے پیروں میں چھالے پڑ جاتے تھے، اچھا کھانے، اچھا پہننے کے لیے روپے نہیں ہوتے تھے، نہ ہی آج زندگی اس لیے آسان لگتی ہے کہ کہیں جانے کے لیے ایک نہیں تین تین گاڑیاں ہیں اور کوئی ایسی چیز نہیں جو میری دسترس سے باہر ہو، تب زندگی شاید اس لیے بوجھ لگتی تھی کیونکہ مجھے اپنے وجود سے نفرت تھی۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں بے کارہوں میں کچھ نہیں کر سکتی مجھ میں ظاہری اور باطنی کوئی خوبی نہیں۔ میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ دوسرے لوگوں کی طرح خدا نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے اگر ان دنوں مجھے اس بات کا یقین ہوتا کہ خدا میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا تو شاید مجھے اپنی ذات سے محبت ہوتی اور میں ساری تکلیفیں آسانی سے بغیر شکوہ شکایت کئے برداشت کرلیتی اگر آج مجھے اپنے وجود سے محبت ہے تو صرف اس لیے کیونکہ اب مجھے خدا کے ساتھ پر یقین ہے۔
میں سوچتی ہوں اگر اس وقت میں تعلیم چھوڑ دیتی اور یہ توقع رکھتی کہ خدا سب کچھ ٹھیک کر دے گا تو کیا ہوتا؟ سب کچھ اسی طرح رہتا اور زندگی ویسے ہی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ختم ہو جاتی۔ اگر میں محنت نہ کرتی تو میں اور میری فیملی آج بھی وہیں کھڑی ہوتی میں اور میری بہنیں آج بھی ایک ایک چیز کے لیے ترستے لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور خدا نے مجھے میری اچھائیوں کا بدلہ دیا۔
ہاں مجھ میں اچھائیاں تھیں۔ تب میں یہ تسلیم نہیں کرتی تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ خدا نے مجھے جو آسائشیں دی ہیں۔وہ میرے ایثار اورقربانیوں کا صلہ ہیں۔ یہ کیوں کہوں کہ میں نے کوئی اچھا کام کیا ہی نہیں، میں نے تو اپنے بساط سے بڑھ کر ایثار کیا تھا۔ اپنے مفاد کے لیے تو کبھی کچھ سوچا ہی نہیں، سی ایس پی آفیسر بننے کے بعد بھی مجھ میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہیں آئی نہ ہی میں نے اپنے آپ پر غرور کیا اور شاید یہ سب باتیں ہی خدا کو پسند آگئیں۔
آج لوگ مجھے خوش قسمت سمجھتے ہیں۔میرے رشتہ دار یہ دعا کرتے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کی قسمت بھی میرے جیسی ہو۔ان کا خیال یہ ہے کہ مجھے تو سب کچھ بس ایسے ہی مل گیا ہے ان میں سے کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی ہوگی کہ یہ سب کچھ پانے کے لیے میں نے کیا کھویا، کیا کچھ قربان کیا اور کیا کچھ قربان کر رہی ہوں، تب کہیں جا کر ایک گھر بنا پائی ہوں۔ پردے کے پیچھے کی حقیقت جاننے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔ خدا کسی کو کوئی چیز ہمیشہ کے لیے نہیں دیتا جب وہ کسی کو کوئی نعمت دیتا ہے تو صرف آزمائش کے لیے وہ چاہتا ہے کہ ہم اس چیز کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کے لیے جدوجہد کریں۔
وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس نعمت کا اہل ثابت کریں اور ہم اکثر اپنے آپ کو اس نعمت کا اہل ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ جب زارون مجھے ملا تھا تو شروع میں مجھ سے کچھ حماقتیں سرزد ہوئی تھیں لیکن پھر آہستہ آہستہ میں محتاط ہو گئی کیونکہ میں جانتی تھی ایک دفعہ میں نے اسے کھو دیا تو پھر دوبارہ میں کچھ نہیں پا سکوں گی۔
میں نے زارون کی ہر بات برداشت کی۔ وہ بہت اچھا تھا لیکن مرد تھا جس کے اپنے احساسات تھے اور جو انہیں ہرٹ ہوتا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک ایسا مرد جسے کوئی مجبوری لاحق نہیں تھی کہ وہ ضرور میرے ساتھ ہی زندگی بسر کرے۔ سو اپنے گھر کو برقرار رکھنے کے لیے میں نے اپنے جذبات قربان کئے۔ بہت سی باتیں ناپسندیدہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنائیں کیونکہ وہ زارون کو پسند تھیں۔ اپنے بہت سے پسندیدہ کام صرف اس لیے چھوڑ دیئے کیونکہ وہ زارون کو ناپسند تھے۔
میں نے زارون پر کبھی کوئی تجربہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی فیملی کا رویہ شروع میں میرے ساتھ بہت خراب تھا اور اس کی ماما ابھی تک مجھے ناپسند کرتی ہیں۔ بہت دفعہ انہوں نے میرے بارے میں دوسروں کے سامنے ریمارکس دیئے اور میں جو کسی کی کوئی بات برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ یہ سب صرف اس لیے برداشت کر گئی کیونکہ وہ زارون کی ماں تھیں اگر میں ان سے الجھتی تو زارون مجھے ناپسند کرتا بہر حال وہ اس کی ماں تھیں جسے بدلا نہیں جا سکتا اور میں صرف بیوی جسے وہ جب چاہے بدل سکتا تھا اور میری یہ خاموشی بے کار نہیں گئی۔
اگر اب اس کی ماما دوسروں کے سامنے پہلے کی طرح میرے بارے میں ریمارکس نہیں دیتیں تو صرف اس لیے کیونکہ زارون میرے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا اور وہ بہت سختی سے انہیں ایسی باتوں سے روک دیتا ہے اور میرے لیے یہ کافی ہے۔ اگر میں زارون کے گھر والوں کے ساتھ جھگڑتی، اس سے بد تمیزی کرتی یا اس کی مرضی کے خلاف ہر کام کرتی تو وہ لازمی طور پر مجھے طلاق دے چکا ہوتا اور اگر ایسا ہوتا تو کیا پھر بھی میں خدا سے شکوہ کر سکتی تھی کہ اس نے مجھ سے انصاف نہیں کیا اور مجھے دوبارہ اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ یقینا نہیں۔
یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ میں اپنی مرضی سے ہر غلط کام کرنے کے بعد بھی یہ توقع رکھتی کہ خدا میری مدد کرتا رہے۔
جب زارون سے میری شادی ہوئی تھی تو میں اس کے لیے ایک راز کی طرح تھی۔ اس نے میری ظاہری شخصیت سے محبت کی تھی جو بظاہر بڑی مضبوط، طاقتور اور پرکشش تھی اگر وہ یہ جان جاتا کہ یہ تو صرف ایک ماسک ہے جو میں نے خود پر چڑھایا ہوا ہے ورنہ تو میں بھی دوسری عورتیں کی طرح ہوں تو مجھ میں اس کی دلچسپی ختم ہو جاتی۔ یہ بات میں بہت جلد سمجھ گئی کہ یہ زندگی تھی کوئی افسانہ نہیں جس میں ہیرو ، ہیروئن کے مسائل اس کی پریشانیاں جان کر اس سے مزید محبت کرتا اور اس کی ساری محرومیوں کو اپنے پیار سے ختم کر دیتا۔ میں جانتی تھی کہ زارون کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی اسے ضرورت ہے کہ وہ میری نفسیات کو جاننے کی کوشش کرتا۔ میرے ماضی کے مسائل کو جانتا اور وہ سب جان کر بھی مجھ سے محبت کرتا رہتا۔
سو میں نے کبھی اپنے ماضی کو اس کے سامنے رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنا کوئی ذاتی مسئلہ اس سے ڈسکس نہیں کیا۔ میں نے کبھی جذبات کی رو میں بہہ کر اسے یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کتنی جدوجہد کرنا پڑی یا یہ کہ مجھے کیسے مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے اسے زندگی کا ساتھی ضرور سمجھا لیکن اپنی سابقہ زندگی کو اپنے دل کے اندر ہی محفوظ رکھا کیونکہ میں اس کی نظروں میں بے وقعت ہونا نہیں چاہتی تھی۔
اور اس بات نے مجھے ہمیشہ فائدہ پہنچایا۔ میں نے اپنی نفسیات اس کو سمجھانے کے بجائے اس کی سائیکالوجی سمجھنے کی کوشش کی۔ اسے ایک گھر کی ضرورت تھی۔ وہ اپنے سے وابستہ لوگوں کی پوری توجہ چاہتا تھا کیونکہ وہ اس سے محروم رہا تھا اور میں نے اس کی یہ ضرورت پوری کی۔ اسے اس حد تک گھر اوربچوں میں انوالو کیا کہ اس کے لیے اب ان کے بغیر رہنا ممکن نہیں۔
پہلے میرا خیال تھا کہ زارون میں کوئی اچھائی نہیں پھر بھی اس کے پاس سب کچھ ہے لیکن کیا واقعی اس میں کوئی خوبی نہیں تھی؟ اپنی ساری بشری کمزوریوں کے باوجود بعض معاملات میں اس کی اپروچ بڑی صاف اور واضح تھی۔ اس نے کبھی مجھے اپنی فیملی کی مالی مدد کرنے سے نہیں روکا، اس نے کبھی اس بات کو طنز کے طور پر استعمال کیا اور نہ ہی اس بناء پر اس نے میری فیملی کے احترام میں کوئی کمی کی۔
اس نے کبھی مجھے جاب چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا۔ سماجی حیثیت میں اپنے سے کمتر ہونے کے باوجود اس نے مجھ سے شادی کی اور اس معاملے میں اس نے اپنے گھر والوں کی مخالفت کی بھی پروا نہیں کی۔ اس نے کبھی کسی سے میرے فیملی بیک گراؤنڈ کو چھپانے کی کوشش نہیں کی اور جب بھی کسی نے میری فیملی کے سوشل اسٹیٹس کے بارے میں جاننا چاہا تو اس نے ان کے بارے میں کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی اور اس نے مجھے بہت دفعہ کہا۔
”کشف ! جب کالج میں ہمارا جھگڑا ہوا تھا تو تم نے کہا تھا شرم اس بات پر نہیں آنی چاہیے اگر آپ کے پاس روپیہ نہیں، آپ غریب ہیں، شرم تو اس بات پر آنی چاہیے اگر آپ قاتل ہیں چور ہیں یا ایسی کوئی دوسری برائی آپ کے اندر موجود ہے۔ تمہاری وہ بات میرے دل پر نقش ہو گئی تھی۔واقعی غربت یا کم روپیہ شرمندگی کی بات نہیں۔”
آیا یہ ساری خصوصیات کسی عام مرد میں ہو سکتی ہیں۔ یقینا نہیں۔ وہ ایک عام مرد ہے بھی نہیں۔ اگر خدا نے اسے شروع سے آسائشوں میں رکھا تھا تو شاید یہ اس کے لیے انعام یوں تھا کیونکہ اسے بعد میں میرے جیسی ایک عورت کو اعتماد اورعزت دینی تھی۔ ایک عورت کا خدا پر یقین مضبوط کرنا تھا۔ سو ان سب باتوں کے لیے خدا نے اسے پہلے ہی نواز دیا اور اب میں یہ کیسے چاہ سکتی ہوں کہ اسے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
اس کی ذات سے میں اور میرے دونوں بیٹے وابستہ ہیں۔ اسے پہنچنے والی کسی تکلیف سے سب سے زیادہ ہم متاثر ہوں گے۔ وہ ایک انعام ہے جو اتنی صعوبتوں کے بعد خدا نے مجھے دیا ہے ا ب میں اسے کیسے کھو سکتی ہوں۔ خدا نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ جن لوگوں کی آسائشوں سے ہم حسد کرنے لگتے ہیں کہ ان میں تو کوئی خوبی ہی نہیں یہ تو کسی چیز کے مستحق ہی نہیں پھر انہیں خدا نے اتنا سب کچھ کیوں دے رکھا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ سب نعمتیں انہیں کسی دوسرے کی دعاؤں کے عوض ملی ہوں۔ پتا نہیں وہ کسی کی کتنی ریاضتوں کا صلہ ہوں۔ جیسے کہ زارون میرے لیے ہے۔
ماضی میں اگر میں خدا سے اتنے شکوے شکایتیں کرتی رہتی تھی تو اس کی ایک وجہ لوگوں کا رویہ بھی تھا۔ لوگ جان بوجھ کر ہمیں اس طرح ٹریٹ کرتے تھے کہ ہمیں ہماری حیثیت کا اندازہ ہوتا رہے۔لوگوں کے رویے کی وجہ سے ہی میں خدا سے بددل ہو گئی تھی۔ کاش لوگ کبھی یہ جان پاتے کہ ان کے رویوں کی وجہ سے کوئی خدا سے برگشتہ ہونے لگتا ہے۔
آج میرے پاس بھی کسی چیز کی کمی نہیں لیکن اپنا گھر دولت عہدہ بچے یا شوہر دیکھ کر میں آپے سے باہر نہیں ہوتی، بہت متوازن ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتی ان چیزوں کے بل بوتے پر میں کسی کی دل آزادی کا باعث بنوں۔ کوئی میری آسائشیں دیکھ کر اپنے وجود سے نفرت کرے کسی کو میرا رویہ خود کشی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دے۔ نہیں مجھے اس سب سے خوف آتا ہے میں وہ سب نہیں کرنا چاہتی جو کل تک میرے ساتھ ہوتا رہا۔ اسی لیے خود کو بڑا نارمل رکھا ہے۔
میں جب بھی گجرات جاتی ہوں تو کسی فنکشن میں کسی کے روپے کی بناء پر اسے غیر معمولی توجہ نہیں دیتی، ہر ایک کو ایک جیسے ٹریٹ کرتی ہوں قطع کہ اس کی مالی حیثیت کیا ہے۔ میں قیمتی لباس افورڈ کر سکتی ہوں لیکن سادہ لباس پہنتی ہوں۔ میرے پاس روپیہ ہے یہ سب جانتے ہیں پھر کیا ضروری ہے کہ میں شو آف کروں دوسروں کو احساس کمتری میں مبتلا کروں۔
پھر یہ چیزیں مجھے خوش بھی نہیں کرتیں۔ خدا کا شکر ہے جس نے مجھے بہت ساری خوبیوں سے نوازا اور اچھا اور بہتر انسان بنایا۔ اس نے میرے ظاہر کے بجائے میرے باطن کو خوبصورت بنایا تھا لیکن یہ میں اب جان پائی ہوں۔ کاش میں پہلے بھی اپنی ان خوبیوں کو جان پاتی اور ان پر شرم محسوس نہ کرتی مگر ٹھیک ہے ہر کام وقت گزرنے کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔
میری زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میں نہیں جانتی ہر آنے والا دن میرے لیے کیا لائے گا۔ مجھے یہ یقین نہیں ہے کہ اب میری زندگی میں ہمیشہ خوشیاں ہی رہیں گی۔ مجھے یہ زعم بھی نہیں ہے کہ زارون ہمیشہ میرا ہی رہے گا یا میرے بیٹے بھی زندگی میں بہت کامیاب رہیں گے۔ یقین اگر کسی بات پر ہے تو صرف اس بات پر کہ اب میں کسی مصیبت پر پہلے کی طرح خدا کو مورد الزام نہیں ٹھہراؤں گی۔ میں نے صبر اور برداشت سیکھ لی ہے۔ اب میں خدا کے ایک فرمانبردار اور صابر بندے کی طرح اس کی ہر رضا پر راضی رہوں گی کیونکہ ہر خوشی کے بعد غم اور غم کے بعد خوشی آتی ہے۔ خدا سے میرا تعلق اب بہت مضبوط ہو چکا ہے اور اب میں پہلے کی طرح اپنے مستقبل سے خوفزدہ نہیں ہوں لیکن پھر بھی ہر معاملے میں سمجھداری سے کام لیتی رہوں گی تا کہ ہر مصیبت سے بچی رہوں۔
اپنے سروس کے سال پورے ہونے کے بعد میں جاب چھوڑ دوں گی تا کہ اپنے بیٹوں کو پوری توجہ دے سکوں تا کہ ان کی شخصیت میں کوئی خامی ، کوئی کمی نہ رہے۔
جب میں پہلے دن کالج گئی تھی تو زارون سے میری بحث ہوئی تھی، میں نے اس سے کہا تھا ایک ووٹ کی جیت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور اپنے اس پوائنٹ کو ثابت کرنے کے لیے پتا نہیں کیا کیا دلیلیں دی تھیں پر آج اپنی ڈائری میں اس دن کا حال پڑھ کر میں سوچ رہی تھی کہ تب میں غلط تھی۔
جیت تو جیت ہی ہوتی ہے چاہے وہ ایک ووٹ کی ہو یا ایک لاکھ ووٹوں کی۔ زندگی بھی تو ایک ووٹ کی جیت ہے۔ واضح اکثریت سے اس میں بھی کوئی فتح یاب نہیں ہوتا بس یہ ہوتا ہے کہ کسی کو چند خوشیاں زیادہ مل جاتی ہیں اور کسی کو چند غم۔ ایبک کے رونے کی آواز آ رہی ہے، زارون اٹھ گیا ہو گا اور یقینا مجھے تلاش کر رہا ہو گا اس لیے آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے ویسے بھی بہت لمبی فلائٹ ہے کچھ دیر مجھے بھی سو جانا چاہیے۔

…**…




Loading

Read Previous

دوسرا دوزخ

Read Next

عورت، مرد اور میں — عمیرہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!