ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

ننّھا زرّافہ
نور الہدٰی افضل

کسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ ظرفی رہتا تھا۔ جنگل کے جانور اُس کی لمبی گردن کا خوب مذاق اُڑاتے ۔ ظرفی دُکھ سے سوچتا کہ کاش اُس کی گردن چھوٹی ہو سکتی۔ ایک دن وہ اسی سوچ میں اُداس بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پری اُس کے پاس سے گزری۔ پری نے ظرفی سے پوچھا:
”تم اُداس کیوں ہو؟” وہ بولا: ”سب جانور میری لمبی گردن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔”
پری نے کہا ”لو! اس میں اُداسی کی کیا بات ہے۔ اگر تم چاہو تو میں ابھی تمہاری گردن چھوٹی کر دیتی ہوں لیکن… تمہاری گردن دوبارہ لمبی نہیں ہو پائے گی۔”
”سچ پیاری پری! کیا ایسا ہوسکتا ہے؟” ظرفی خوشی سے چلّایا۔
پری نے جادو کی چھڑی گھمائی اور اُس کی گردن چھوٹی کردی۔ اگلے دن جب وہ گھر سے نکلا تو جنگل کے سب جانور بہت حیران ہوئے مگر وہ پھر سے اُس کا مذاق اڑانے لگے۔ انہیں نظرانداز کرکے ظرفی آگے چل پڑا۔
پہلے جو جانور اُس کی لمبی گردن کا مذاق اڑاتے تھے، اب وہی اُس کی چھوٹی گردن پر بھی ہنس رہے تھے۔ وہ سوچ میں گُم آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھوک ستانے لگی۔ وہ جلدی سے درخت کی طرف بڑھا تا کہ پھل کھا سکے مگر اُس کا منہ پھلوں تک نہ پہنچ سکا۔ پہلے لمبی گردن کی وجہ سے اُسے آسانی تھی۔ وہ اونچے درختوں سے مزے مزے کے پھل کھا سکتا تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ بھوک کی وجہ سے وہ رونے لگا۔ اچانک اُس کی آنکھ کھل گئی۔
”اوہ! تو یہ ایک خواب تھا!” اپنی لمبی گردن دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے عزّم کیا کہ اب وہ کبھی دوسروں کے مذاق اڑانے پر اُداس نہ ہو گا کیوں کہ اللہ نے اُسے بہت خوب صورت بنایا ہے۔
٭…٭…٭

Loading

Read Previous

کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

Read Next

پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!