Tag: children stories

  • انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    نہ جانے اس سے پہلے کا موسم کیسا تھا۔ کسی بہار کسی خزاں کا کچھ پتہ نہیں تھا آگاہی کو صرف کچھ نقوش چھوڑے تھے۔ نقوش بھی کہیں پر صاف اور واضح تھے تو کہیں پر زمانے کے گردوغبار سے گردآلود اور دھندلا چکے تھے۔ جس سے وہاں کے موسم کے مزاج سے واقف ہونے ، صورت حا ل کا اندازہ لگانے اور اُس کو صحیح طرح سمجھنے میں اور بھی دقت پیش آرہی تھی۔ جو تھوڑے بہت صاف نقوش تھے وہ بھی حل طلب تھے۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اک ویران سٹرک پر پڑا تھا جس کی چاروں جانب حد نظر تک ویرانی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطریں تھے جس سے اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور ڈروخوف کے آثار صاف ظاہرہورہے تھے ۔ پسینہ ہاتھ سے پونچھ لیا اور چاروں جانب نظر دوڑائی مگر عقل کے پردے پر کچھ عیاں نہ ہوا کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں موسم بھی اجنبی ہو، فضاء میں اپنائیت کا مادہ ناپید ہو، ہر ڈگر ہر راستے میں انجانا پن ہو۔ اُس گمنام منظر کے پیش کردہ عکس کے باوجود بھی وہ ہمت نہ ہارا۔اٹھ کھڑا ہوا اور سامنے سنسان راستے پر چل پڑا۔ راستہ کچھ بے معنی سا معلوم ہور ہاتھا لیکن کوئی مقصد تھا، کوئی منزل تھی جو نظروں سے اوجھل تھی مگر اسے کھوجنے کی جستجو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔





    ابھی اس نے منزل کو پانے چند قدم اٹھائے ہی تھے کہ راستے کے عین بیچ و بیچ چند چھوٹے چھوٹے پتھر نظر آئے جس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن پھر بھی جان بوجھ کر دل چسپی لی۔ کچھ دیر وہ پتھروں کو دیکھتا رہا۔ فیصلہ کرنے کا اختیار اس کو اپنے اوقات سے پھلانگنے پر اُکسا رہا تھا۔ اس نے پتھروں میں سے دو کو اٹھایا جنہیں وہ اٹھانا چاہتا تھا اور باقی سڑک پر پڑے پتھروں کو لات ما ر کر سامنے سے ہٹا دیا۔ ہاتھ میں لئے دو پتھروں سے من کو بہلانے لگا۔ وہ پتھروں کو ایک ہاتھ سے اُچھال کر دوسرے میں اور دوسرے سے اچھال کر پہلے والے ہاتھ میں کیچ کر نے لگا۔ اسے پتھروں سے کھیلنے میں مزہ آرہاتھا۔ جی بھر آنے پر نظر انداز کردیا۔ پھر دونوں پتھروں کو اُس بھانت سے پکڑا جس سے یوں ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دونوں کو تول کر ایک دوسرے سے موازنہ کر رہاتھا۔ سیدھے ہاتھ والا پتھر دوسرے کی نسبت وزنی تھا جسے رکھ کر دوسرے کو پھینک دیا۔ ماحول سے اثرانداز ہونے کی وجہ سے زورزور سے ہنسنے لگااور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر بولا:
    "پاگل ہوں۔۔۔۔! پاگل ہوں میں، سنو میں پاگل ہوں میں۔”
    خودپرستی اور فطرت سے مجبور ہوکر اس پتھر کو بھی پھینکنے کا ارادہ کر لیا جس کو اس نے باقی سارے پتھروں پر فو قیت دی تھی جو اس کو بھا ری، جاذب نظر اور سفر طے کرنے کے دوران جی بہلانے کے لیے اچھا لگا تھا۔ اس نے وہ پتھر بھی پھینک دیا اور رُکے قدم پھر سے منز ل کی کھوج میں اٹھے۔
    طویل سفر کے بعد جب تھک گیا تو ایک طرف بیٹھ گیا، تھکا ہارا جسم اور کھویا دماغ دونوں ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ ادھراُدھر دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی ہو جو اسے راستہ دکھائے، کوئی ایسا جو اسے منزل تک پہنچائے۔ وہاں بیٹھے تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ اس کے ذہین میں اک خیال آیا۔ وہ اچانک زمین پر یوں بیٹھ گیا جیسے بچے کھیلنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح سے کھیلنے لگا، اسی طرح تصویریں بنانے اور مٹانے لگا، اُلٹی پلُٹی لکیریں کھینچنے لگا جس طر ح بچپن میں ہوتا ہے۔ وہاں وہ ایسے مگن ہوگیا کہ بھول ہی گیا کہ وہ مسافر ہے۔ اس انجان راہ پر جی لگانا اسے منزل کو پالینے کی آس سے محروم کرسکتا ہے۔ یہاں کے عارضی لطف اسے من کی آواز سے روشناس کرانے نہیں دے گی۔ ایسا لگنے لگا کہ وہ سب کچھ فراموش کر چکا ہے۔ راستے میں حائل مشکلات کے چنگل میں وہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ وقتی طور پر تھوڑی بہت خوشی بھی اس کے چہرے پر نمایاں ہو چکی تھی۔ جس کو وہ کل کائنات سمجھ بیٹھا تھا۔ یوں نادانوں کی طرح کھیلنا اس کے لیے وقت کے ضیاع سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ جہاں وہ خو د کو جس ماحول سے واقف کروانے کی کوشش کر رہا تھا سب اس کی نادانی اور کم فہمی تھی کیوں کہ وہ اس کے کردار کے بالکل منافی تھا مگر جب اند ر کی دستک سنائی دینے لگی اور عقل پر چمک پڑی تو کھیلتے کھیلتے اچانک اٹھ گیا اور کھیلنے پر پشیمانی ظاہر کی۔





    "چاروں طر ف ویرانی ہے خاموشی ہے خوف ہے ۔ ناجانے کہاں ہے میری منزل؟ کہاں جارہا ہوں میں؟ اور کتنا ڈھونڈوں گا اپنی اس نامعلوم منزل کو۔ کب تک گم نامی کے اس وسیع وعریض سمندر میں یوں بے بسی سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا رہوں گا جس کا ہر قطرہ اپنے اند ر گم نامی اور حیرت کا ایک الگ جہاں سمائے ہوئے ہے۔ ہر پل ہر لمحے نئے امتحانا ت سے واسطہ پڑتا ہے۔”
    ناجانے اس طرح کے اور کتنے سوالات اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اس نے لمبی آہ بھری اور پاس ہی چٹان کے ساتھ آنکھیں بند کر کے ٹیک لگا لی۔ ٹیک لگاتے ہی اس کے دماغ میں امید کی ایک کر ن چمکی، شاید اس کی آنکھوں کو ئی امید بھر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اوپر چٹان کی بلندی کو دیکھا تو اوپر چڑھنے کی تمناّپیدا ہوئی جو ازل سے ہی فطرتوں کا لا حاصل ٹکڑا رہا ہے۔ ہمیشہ سے جو خواہشوں کی مترجم بن چکی ہے۔ وہ بلا کسی تا خیر کے اوپر جانا چاہتا تھا کیوں کہ اونچائی اور وہاں کی فضا اسے اپنی جانب راغب کر رہی تھی جسے وہ ہر حال میں پانا چاہتا تھا۔ اٹھ کھڑا ہو ا اور جلدی اوپر چڑھنے لگا۔ چڑھتے وقت اس نے صحیح غلط، غرض کسی راستے کی کوئی پرواہ نہ کی اور بالآخر اوپرپہنچ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فضا میں لہرانے لگا۔
    "کوئی ہے۔ ارے کوئی ہے جو میری مد دکر ے؟” مجھے یہاں اس مشکل سے نکالے۔ "اپنے ہم ذات اور ہم اثر سے مد د اس کے کوئی خاص کام نہ آئی۔
    "کوئی میر ی آواز سن رہا ہے؟”
    وہ نظریں دوڑاتا رہا۔ چیختا رہا کوئی نہیں تھا اس کی پکار سننے والا۔ اند ر کی امید کا چراغ بجھنے کو تھا کرنیں تاریکی کا روپ دھار رہی تھی لیکن اس نے بجھنے نہیں دیا اور ایک بار پھر کوشش کی۔
    "کوئی ہے۔ کوئی تو آئے میر ی مد د کو ۔ آپ لوگ میر ی آواز کیوں نہیں سن رہے ہیں۔”
    اس بار کی ناکامی نے ساری امیدیں توڑ دی سب ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ آس کے آئینے میں دراڑیں آنے لگی جس نے کوشش کی شکل کو بھی بدنما کر دیا۔
    "میں بھی کتنا بے وقو ف ہوں۔ مد د کے لیے چیخ رہا ہوں وہ بھی ویرانے میں جہاں کسی کا نام ونشان تک نہیں۔ اگر ہوتو میر ی مدد کو کیوں کر آئنگے کہ خود ان پر بھی یہی بیتِ رہی ہوگی۔ بے کا ر رہا سب۔۔۔۔! سب بے کار۔”
    اسے یوں بے جا اپنے ہم ذات سے مد د طلب کر نے کا احساس ہونے لگا تھا جو بالکل بے معنی اور بے ثمر ثابت ہورہاتھا ۔ وہ اترنے کی نیت سے مڑنے ہی والاتھا کہ کہیں سے اسے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور ایک چھوٹا سا کمر ہ تھا جس کے سامنے اور اردگرد مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے نظر آرہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اس کا مایوس چہرہ یوں کھل اٹھا جیسے بنجر زمین پر بارش کی بوندیں آگری ہواور تپش کا زور ختم ہوچکا ہو۔




  • گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ
    عبداللہ اذفر

    کسی چراگاہ میں ایک چالاک لومڑ گھوم رہا تھا۔ وہ بہت بھوکا تھا لیکن اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ اتنے میں وہاں گُلّو آگیا۔ گُلّو ایک چھوٹا اور پیارا سا گھوڑے کا بچہ تھا۔ لومڑ نے سوچا کہ شکار تو بہت اچھا ہے لیکن میں اسے کیسے کھاؤں؟ یہ میرے ہاتھ نہیں آئے گا۔
    کچھ دیر سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اُس نے سوچا کہ گُلّو کو دھوکا دیا جائے۔ یہ سوچ کر لومڑ چلتے چلتے گُلّو کے پاس آیا اور کہنے لگا:
    ”گُلّو بھائی! اِس چراہ گاہ میں کتنے خوب صورت پھول ہیں۔ تمہیں کسی پھول کی خوش بو سونگھنی ہو تو میرے ساتھ چلو؟”
    گُلّو سمجھ گیا کہ لومڑ اُسے دھوکا دے رہا ہے۔ وہ بولا: ”لومڑ بھائی! اِس وقت مجھے پھولوں کی خوش بو اچھی نہیں لگے گی کیوں کہ میرے پاؤں میں کانٹا چُبھا ہوا ہے۔ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ مہربانی کرکے تم یہ کانٹا نکال دو۔”
    لومڑ بہت خوش ہوا۔ وہ سمجھا کہ گُلّو اُس کی باتوں میں آگیا ہے۔ وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا: ”میں تمہارے پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہوں۔ تم ابھی ٹھیک ہوجاؤ گے۔” یہ کہہ کر وہ گُلّو کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر کانٹا تلاش کرنے لگا۔
    اچانک گُلّو نے پورے زور سے دولتی لومڑ کے منہ پر دے ماری۔ دولتی لگنے سے لومڑ چکرا کر گِرا۔ اُس کے دانت ہِل گئے اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بھاگ گیا۔ جاتے جاتے وہ آئندہ ایسی حرکت کرنے سے توبہ کر چکا تھا۔

  • غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا
    احمر بخاطر

    تہران میں حامد نامی ایک بوڑھا لکڑ ہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن حامد نے جنگل میں پرُانا اور جُھکا ہوا برگد دیکھا۔ حامد نے اُس پر کلہاڑے کا ایک وار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دھواں نکلا اور ایک جن حاضر ہوگیا۔
    ”ہو ہو ہو… ہا ہا ہا… اے انسان! برگد پر میرا گھر ہے، تم اسے کیوں گِرا رہے ہو؟” جن نے غصے سے کہا تو حامد کانپتے ہوئے بولا: ”میں غریب اور بوڑھا ہوں۔ اب زیادہ محنت نہیں کرسکتا اس لیے پرانے درخت کو کاٹ رہا تھا۔” حامد کی بات سن کر جن نے کہا: ”اے بوڑھے انسان! تم فکر نہ کرو۔ میں تمہیں ایک جادوئی چکّی دیتا ہوں۔ جب تمہیں کوئی ضرورت ہوتو کہنا: ”چکّی ری چکّی چل پیس” فوراً چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوجائے گا۔ تم وہ آٹا بازار میں بیچ دینا۔” یہ کہہ کر جن نے لکڑ ہارے کو چکّی دی اور اِس بارے میں کسی کو بھی بتانے سے منع کیا۔
    حامد خوشی خوشی گھر روانہ ہوگیا۔ گھر جاتے ہی اس نے چکّی سے کہا: ”چکّی ری چکّی، چل پیس” اچانک چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوگیا۔ حامد نے آٹے کی بوریاں بھریں اور انہیں بیچنے بازار چلا گیا۔ واپسی پر اس نے کھانے کا سامان، کپڑے، جوتے اور بہت سا پھل خریدا پھر وہ روز ایسا کرنے لگا۔
    اُن کے پڑوس میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔ اُس نے حامد کو دن بہ دن امیر ہوتے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ جلد ہی مچھیرے نے اپنی چالاکی سے جادوئی چکّی کا راز جان لیا۔
    ایک دن مچھیرے نے حامد سے کہا: ”بھائی جی! ایک دن کے لیے مجھے اپنی چکّی ادھار دے دو۔” حامد نے اُسے چکّی دے دی۔ شام کو مچھیرے نے جادوئی چکّی کی بہ جائے حامد کو دوسری چکّی واپس کی۔ جب حامد کو اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا احساس ہوا تو اُس نے مچھیرے سے اپنی چکّی کے بارے میں پوچھا۔ مچھیرا صاف مُکر گیا اور کہنے لگا: ”بھائی! تم نے مجھے یہی چکی دی تھی۔”
    حامد بے چارا روتا ہوا جن کے پاس گیا اور ساری بات بتائی۔ جن نے اسے ایک جادوئی ڈنڈا تحفے میں دیا۔ اب حامد جلدی سے گھر آیا۔ اُس نے مچھیرے کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ جب وہ کھانا کھانے گھر آیا تو حامد کہنے لگا: ”بھائی مچھیرے! تم نے میری جو چکّی چھپائی ہے وہ واپس کردو۔” لیکن مچھیرا اِس بار بھی مُکر گیا۔ حامد نے جادوئی ڈنڈے کو حکم دیا: ”مار ڈنڈے مار۔” بس پھر کیا تھا! ڈنڈے نے زور زور سے مچھیرے کے سر پر ضربیں لگانا شروع کردیں۔ وہ چیخنے چلانے لگا۔ ”ہائے مر گیا… اف مر گیا… میں ابھی چکّی واپس کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر مچھیرا اپنے گھر کی طرف بھاگا اور اصلی چکّی لاکر حامد کو واپس کردی۔ اپنی جادوئی چکّی دیکھ کر لکڑ ہارا اور اس کی بیوی خوش ہوگئے۔

    ٭…٭…٭

  • گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ
    باذلہ سردار

    ایران کے کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کے دو بچے تھے۔ بیٹی کا نام نور اور بیٹے کا نام عمر تھا۔ کسان نے ایک خوب صورت گائے پال رکھی تھی۔ اُس کا بچھڑا بھی بہت گول مٹول اور پیارا تھا۔
    کسان روزانہ گائے کو کھیتوں میں چرانے کے لیے لے جاتا۔ گائے بہت سا دودھ تو دیتی لیکن وہ بہت چالاک اور لڑاکا تھی۔ اپنے سینگوں سے روزانہ کسی نہ کسی کو زخمی کردیتی۔ ایک دن گائے نے اپنے مالک ہی کو ٹکر مار دی۔ سینگ لگنے سے کسان زخمی ہوگیا۔ اُس نے غصّے میں گائے کے سینگ کاٹنے کا ارادہ کرلیا۔ کسان نے سوچا کہ یہ کام وہ اگلے دن کھیتوں سے واپسی پر کرے گا۔
    دوسرے دن وہ گائے کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی چراگاہ لے گیا۔ دوپہر میں کسان نے گائے کو چرنے کے لیے کُھلا چھوڑا اور خود کسی کام میں مصروف ہوگیا۔ اُس کے دونوں بچّے گائے کے بچھڑے سے کھیلنے لگے۔ اچانک قریبی جھاڑیوں سے ایک بھیڑیا نکل آیا۔ اُسے دیکھتے ہی کسان کے بچے چیخنے لگے۔ بھیڑیے نے آتے ہی بچھڑے پر حملہ کردیا۔ گائے نے جب بچھڑے کو مصیبت میں دیکھا تو وہ فوراً بھیڑیے کی طرف لپکی اور اُس پر حملہ کردیا۔ کچھ ہی دیر میں گائے نے اپنے بڑے بڑے سینگوں کی مدد سے بھیڑیے کو زخمی کردیا۔ بھیڑیا وہاں سے دُم دبا کے بھاگ نکلا۔
    شور سُن کر کسان بھی بھاگتا ہوا وہاں آپہنچا۔ یہ ساری صورتِ حال دیکھ کر اُس نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور پھر بچھڑے کو پیار کرنے لگا۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی کہ اللہ نے کوئی شے بنا حکمت کے نہیں بنائی۔ یہ سوچ کر اس نے گائے کو تھپکی دی اور اس کے سینگ کاٹنے کا ارادہ ترک کردیا۔
    ٭…٭…٭

  • چی چی کی توبہ

    چی چی کی توبہ

    چی چی کی توبہ
    زاہدہ عروج

    شہر سے بہت دور ایک باغ تھا جس میں ایک ننھی چیونٹی رہتی تھی۔ اُس کا نام چی چی تھا۔ چی چی کی ماں اُس سے بہت پیار کرتی تھی۔ چی چی تھی تو بہت اچھی مگر اُس میں ایک برُی عادت بھی تھی۔ اُس کی ماں جو بھی کھانا لاتی وہ چی چی کے حلق سے نہ اُترتا مگر باہر پڑی گندی چیزیں وہ بڑے شوق سے کھاجاتی۔
    چیونٹی بی نے کئی بار اُسے سمجھایا کہ بیٹا! اچھے بچے گری پڑی چیز نہیں کھاتے۔ بہت سی چیزیں زہریلی بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے ہم بیمار ہو سکتے ہیں۔”
    چی چی اُس وقت تو بات مان لیتی مگر جیسے ہی کھانے کی کوئی چیز دیکھتی تو ماں کی نصیحت بھول جاتی۔ آج بھی چی چی ماں سے نظر بچا کر گھر سے نکلی۔ باغ میں پہنچی تو وہاں سفید پاؤڈر کی ایک تھیلی پڑی تھی۔ چی چی کو اُس کی خُوش بو بہت پسند آئی۔ وہ جلدی سے پاؤڈر کھانے لگی۔ ابھی اُس نے پاؤڈر چکھا ہی تھا کہ پیچھے سے چیونٹی بی کی آواز سُنائی دی جو چی چی کو سفید پاؤڈر کھاتے دیکھ چکی تھی۔ یہ پاؤڈر باغ سے کیڑے مکوڑے ختم کرنے کے لیے ڈالا گیا تھا۔
    پاؤڈر کھاتے ہی چی چی کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا اور وہ رونے لگی۔ چی چی کی ماں اُسے گھر لے آئی اور جلدی سے دوا پلائی۔ دوا پینے سے چی چی کو چند اُلٹیاں ہوئیں تو طبیعت کچھ بہتر ہوئی۔ چی چی ایک ہفتہ تک بیمار رہی اور بیماری میں اُسے اُبلے اور پھیکے کھانے کھانا پڑے۔ چی چی نے اپنی ماں سے معافی مانگی اور باہر جاکر گندی چیزیں کھانے سے توبہ کرلی کیوں کہ اُس دن اگر چیونٹی بی وقت پر نہ پہنچتی تو زیادہ پاؤڈر کھانے سے چی چی کی جان بھی جا سکتی تھی۔

    ٭…٭

  • بکری اور بھیڑیا

    بکری اور بھیڑیا

    بکری اور بھیڑیا

    عائشہ علوی

    یہ کہانی ہے چینی بکری اور ایک مغرور بھیڑیے کی۔ چینی بکری کے تین پیارے سے بچے تھے۔ سونی، مونی اور ٹونی۔ ایک دن بکری اپنے بچوں کے لیے کھانا ڈھونڈنے نکلی۔ پیچھے سے بھیڑیا آیا اور بکری کے تینوں بچوں کو کھا گیا۔
    گھر واپس آتے ہی چینی بکری نے بچوں کو آواز دی۔ ”سونی، مونی، ٹونی” پر جواب نہ آیا۔ وہ پریشان ہوگئی۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے بھیڑیے کے پیروں کے نشان ملے۔ وہ سب کچھ سمجھ گئی۔ بھیڑیا اس کے تینوں بچوں کو کھا گیا تھا۔
    وہ پھلانگتی ہوئی اس پہاڑ پر جاپہنچی جس کے غار میں بھیڑیا رہتا تھا۔ وہ غار کی چھت پر زور زور سے کُھر مارنے لگی۔ غار کے اندر سے بھیڑیا چلّایا۔ ” کون ہے اوپر جو یہ حرکت کررہا ہے؟”
    ”میں ہوں چینی بکری۔ کیا تم مجھے بتا سکتے ہوکہ میرے سونی مونی اور ٹونی کون کھاگیا ہے؟”
    ”میں نے تمہارے سونی، مونی اور ٹونی کو ہڑپ کر لیا ہے۔” بھیڑیا غرور سے بولا۔
    ”تم بہت ظالم ہو! کل میرے اور تمہارے درمیان لڑائی ہوگی۔” بکری بولی۔
    ”ہاہاہا! ٹھیک ہے میں تمہیں دیکھ لوں گا۔” بھیڑیا قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔
    بکری لوہار کے پاس پہنچ گئی۔ ”ظالم بھیڑیا میرے ننھے بچوں کو کھاگیا ہے۔ تم میری کچھ مدد کرو اور میرے سینگ تیز کردو۔ میں نے بھیڑیے سے لڑنا ہے۔ دیکھو میں تمہارے لیے اُجرت کے طور پر دودھ کا کٹورا لائی ہوں۔”
    لوہار نے بکری کے سینگوں کو تیز کردیا۔ اُس کے سینگ تلوار کی طرح تیز ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بھیڑیا بھی کنکر اور گارے سے بھرا ہوا ایک پتیلا لوہار کو دیتے ہوئے بولا:
    ”میں اس پتیلے میں تمہارے لیے کھانا لایا ہوں۔ تم میرے دانت تیز کردو۔”
    پتیلے میں کنکر اور گارا دیکھ کر لوہار بھیڑیے کی مکاری سمجھ گیا۔ بھیڑیے نے دانت تیز کرنے کے لیے جو منہ کھولا تو لوہار نے بڑی چالاکی کے ساتھ اس کے دانت اکھاڑ دیے اور وہ یہی سمجھتا رہا کہ اس کے دانت تیز ہورہے ہیں۔
    لوہار بولا: ”تمہارے دانت تیز ہوچکے ہیں۔ اب تم بے فکر ہوکر جائو۔”
    اگلے روز دوپہر کا وقت ہوا تو بھیڑیا اور بکری لڑائی کے لیے آمنے سامنے تیار تھے۔
    ”تم حملہ کرو’۔’ بھیڑے نے چِلّا کر کہا۔
    ”نہیں تم پہلے وار کرو۔” بکری بھی غصے میں بولی۔
    پھر بھیڑیے نے بکری پر منہ کھول کر حملہ کردیا مگر بکری کو کوئی نقصان نہ پہنچا کیونکہ بھیڑیے کے تو دانت ہی نہیں تھے۔ اب بکری کی باری تھی۔ اس نے بھیڑیے پر حملہ کرکے اس کو مار ڈالا اور اس کے پیٹ سے سونی، مونی اور ٹونی کو باہر نکال لیا۔ بکری اپنے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش تھی۔
    تب سے اب تک چینی بکری اور اُس کے بچے آرام و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔
    ٭…٭…٭

  • بگلے کی ٹانگ – انشاء علی

    بگلے کی ٹانگ – انشاء علی

    بگلے کی ٹانگ
    انشاء علی

    ایک دفعہ ایک نواب صاحب شکار کے لیے گئے۔ ان کا خانساماں جمال بھی ساتھ تھا۔
    نواب صاحب نے بہت سارے بگلے شکار کیے اور اپنے خانساماں جمال کو پکانے کے لیے دے دیئے۔ جمال بہت چالاک تھا۔ اس نے تمام بگلوں کو آگ پر بُھون لیا۔ اس کی عمدہ خوش بو سے جمال کا جی للچایا تو اُس نے ہر بُھنے ہوئے بگلے کی ایک ایک ٹانگ خود کھالی۔
    جب نواب صاحب نے یہ دیکھا تو انہیں بہت غصہ آیا۔ انہوں نے جمال سے پوچھا تو وہ بولا: ”جناب! میں نے کچھ نہیں کھایا۔ بگلوں کی تو ٹانگ ایک ہی ہوتی ہے۔”
    نواب صاحب اس بات پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے جمال سے کہا کہ ”ہم صبح جھیل پر چلیں گے۔ وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔”
    اگلے دن دونوں جھیل پر گئے تو وہاں تمام بگلے ایک ٹانگ پر کھڑے تھے۔
    جمال بول اٹھا: ”دیکھیں صاحب! میں نہ کہتا تھا کہ بگلوں کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے۔”
    نواب صاحب پہلے تو حیران ہوئے مگر پھر انہیں ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے تالی بجائی اور تمام بگلوں نے اپنی اوپر اٹھائی ہوئی ٹانگ زمین پر رکھ دی۔
    یہ دیکھ کر نواب صاحب نے غصے سے جمال کو گُھورا تو وہ چِلّا اٹھا: ”یہ زیادتی ہے صاحب! کل جب آپ بگلوں کی دعوت اڑانے لگے تھے تب تو آپ نے تالی نہیں بجائی تھی۔ ورنہ تب بھی بگلے اپنی دوسری ٹانگ نکال لیتے۔” چالاک خانساماں کا یہ جواب سن کر نواب صاحب کی ہنسی چھوٹ گئی اور انہوں نے اُسے معاف کردیا۔

    ٭…٭…٭

  • لوک داستان (سنی سنائی) | مَن سراج

    لوک داستان (سنی سنائی) | مَن سراج

    لوک داستان (سنی سنائی)
    مَن سراج
    منیر احمد راشد

    ایوارڈ یافتہ رائٹر، ٹرینر، ایڈیٹر اور کمانڈر فور جیسے جاسوسی ناول کے مصنف جناب منیر احمد راشد خانیوال میں پیدا ہوئے۔ زمانۂ طالب علمی میں کراچی چلے گئے۔ زندگی کا طویل عرصہ اسی شہر میں گزرا۔ کئی کتابیں لکھیں، کہانیاں، بچوں کی نظمیں اور ناول اس کے علاوہ ہیں۔
    آنکھ مچولی کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل ہے۔ بعدازاں نصابی کتب کا ادارہ بنایا۔ اپنے وسیع تجربے اور علمی کارناموں سے نئی نسل کے ذہنوں کی آبیاری کرتے رہے۔ اسی دوران عالمی اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ آج کل IBER میں بطور سی ای او ذمہ داریاں بااحسن نبھا رہے ہیں۔ الف نگر کے لیے ”من سراج” جیسی خوب صورت تحریر ان کی خصوصی شفقت ہے۔

    مَن سراج یعنی دل کا چراغ… روشن دل یا دل کا روشن کرنے والا

    وہ ایسا ہی تھا، بالکل اپنے نام کی طرح۔ مَن سراج کو دیکھنے سے بس ایک ہی جذبہ دل میں اُبھرتا تھا… محبت کا جذبہ۔
    اُس دن بھی ایسا ہی ہوا کہ بادشاہ اپنے لائولشکر کے ساتھ شکار گاہ میں موجود تھا۔ بہت سے ہرن اُس کے شوقِ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ وہ مزید کی تلاش میں گھنے جنگل کے اندر تک آگیا۔ اس کی عقابی نظریں درختوں کے پار اُس چھوٹے سبزہ زار پر جمی تھیں جہاں پانی کا تالاب دکھائی دے رہا تھا۔
    بادشاہ کو یقین تھا کہ ہرن یہاں ضرور آئیں گے۔ زندگی کی بقا کے لیے پانی ضروری ہے، مگر آج اُس تالاب کا پانی بعض زندگیوں کی فنا کا پیغام لانے والا تھا لیکن ہمیشہ ویسا تو نہیں ہوتا جیسا ظاہر میں نظر آتا ہے۔ اُس دن بھی ایسا ہی ہوا۔ بادشاہ اور اُس کے ساتھی تالاب پر نظریں جمائے ہوئے تھے کہ انہیں درختوں کی اوٹ سے ایک ہر نوٹا (ہرن کا بچہ) گھاس کے میدان میں نظر آیا۔
    آس پاس کے ماحول سے بے پروا، آنے والے خطروں سے بے خبر۔ ایک مستانی چال چلتا ہوا وہ تالاب پر آیا۔ پانی پیا، سر اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا، دور درختوں کے پیچھے اُسے کچھ ہلچل محسوس ہوئی۔ وہ خراماں خراماں درختوں کی طرف چل نکلا۔ بادشاہ اُس کی بے باکی اور معصومیت سے متاثر ہوا۔ اُس نے حکم دیا کہ ہر نوٹے پر تیر نہ چلایا جائے۔ ہرنوٹا قریب آیا تو اُس کے مزید جوہر کھلے۔ بڑی بڑی غزالی آنکھیں جن میں معصومیت کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی اور محبت بھی۔ نوخیز بدن، بادشاہ کو اُس پر پیار آگیا۔ گھوڑے سے اترا اور درختوں سے باہر نکل کر پیار سے ہرنوٹے کو پکارنے لگا۔ پہلے وہ ذرا سا جھجکا، پھر قریب آگیا۔
    بادشاہ نے اسے گود میں اُٹھا لیا۔ پیار کرنے والے ہی پیار کو پہچانتے ہیں۔ بادشاہ نے محبت سے سر سہلایا تو ہرنوٹا رام ہوگیا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ نے اعلان کردیا کہ یہ اُس کا پالتو ہرن ہے اور اِس کا نام ”من سراج” ہوگا۔ جلد ہی من سراج بادشاہ کا چہیتا بن گیا۔ بادشاہ ہی کیا وہ تو ملکہ کی بھی آنکھ کا تارہ تھا۔ بادشاہ جب بھی شکار پر جاتا تو ملکہ کے ساتھ ساتھ ہر نوٹا بھی اُس کے ساتھ میں ہوتا۔ من سراج بھی رفتہ رفتہ بادشاہ کے ساتھ مانوس ہوگیا۔
    بادشاہ شکار پر جاتا تو من سراج اُس کے لیے شکار گھیر کر بادشاہ کے نشانے پر لے آتا۔ یوں بادشاہ تلاش کی زحمت سے بچتا اور انتظار کی کوفت سے بھی۔ ہر شکار کے بعد وہ بادشاہ کی محبت میں اور گھیرا چلا جاتا۔ دن یونہی گزرتے گئے۔ من سراج جوان ہوگیا۔ اُس کا حسن اور نکھر آیا تھا۔ بے فکری کا کھانا، آرام سے رہنا۔ اُس کی صحت بہت اچھی تھی۔ چال کا مستانہ پن اور آنکھوں کا خمار اور زیادہ ہوگیا تھا۔ بادشاہ کا پیار اُس کی زندگی کا سرمایہ تھا۔ زندگی عیش میں گزر رہی تھی۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔
    ایک دن بادشاہ نے کئی میل فاصلہ طے کرکے اپنی مخصوص شکارگاہ کا رخ کیا۔ جہاں سے اسے من سراج بھی ملا تھا۔ من سراج بہت دن سے اِدھر نہیں آیا تھا۔ اب جو واپس آیا، وطن کی مٹی کو چھوا، تو بچپن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، دوست یار سب یاد آنے لگے اور سب سے بڑھ کر پیکو۔
    پیکو اُس کی بچپن کی دوست تھی۔ ساتھ کھیلنا، ساتھ کھانا، جنگل ہو یا سبزہ زار، تنہا ہو یا ہرنوں کی ڈار، وہ ساتھ ساتھ رہتے۔ من سراج کو پیکو کے ساتھ گھومنا اچھا لگتا تھا۔ اس وقت تو وہ بچہ تھا۔ یہ بات نہیں سمجھتا تھا، لیکن اب اسے معلوم ہوچکا تھا کہ وہ پیکو سے اس کی دوستی ہی نہیں بلکہ دلی تعلق بھی تھا۔ پیکو بھی اُس کے ساتھ خوب کھیلتی تھی۔ وہ اسے پیار سے کُو کُو کہہ کر بلاتی تھی۔

    پیکو کی یاد آتے ہی من سراج میں کُو کُو جاگ اُٹھا۔ وہ چوکڑیاں بھرتا جنگل میں گم ہوگیا۔ اُسے معلوم تھا کہ پیکو کہاں ملے گی۔ وہ تالاب کے دوسری طرف لمبی اونچی گھاس کے میدان میں پہنچا اور بلند آواز سے پکارا۔
    ”پیکو… پیکو۔” اُس کی آواز فضائوں کا سینہ چیرتی پیکو کے کانوں تک پہنچ گئی۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ فضا ”کُوکُو… کُو کُو کی آواز سے گونج اٹھی پھر ایک خوب صورت ہرنی درختوں کی اوٹ سے نکلی اور اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ مدت کے بعد ملے تھے مگر ایک دوسرے کو پہچاننے میں دقّت نہیں ہوئی۔ من سراج بہت خوش تھا، پیکو بھی مسرور تھی۔ دونوں بچھڑے دنوں کی یادوں میں کھو گئے۔
    من سراج کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ اُس نے بادشاہ سے ملنے سے لے کر آج تک کے سارے قصّے سنائے۔ بادشاہ کی محبت، ملکہ کی شفقت، درباریوں کی عقیدت اور درباری جانوروں میں اُس کی عظمت، کیا کیا نہیں تھا سنانے کو۔ پھر اُس نے بادشاہ کے لیے اپنی محبت کا تذکرہ کیا۔ اُس کے لیے دی گئی قربانیوں کے قصّے سنائے۔ اُس کے لیے گھیرے گئے شکاروں کی کہانیاں بیان کیں۔ پیکو سنتی رہی، جیسے جیسے قصّے آگے بڑھتے رہے پیکو کی دل چسپی اسی طرح اکتاہٹ میں بدلتی گئی۔ کچھ دیر بعد من سراج کو بھی اس کا احساس ہوا وہ جلدی سے بولا:
    ”پیکو! تم خوش نہیں ہوئی میری کامیابیوں سے؟”
    ”کوُ کُو! اِس میں کامیابی کہاں ہے؟” اُس نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”تم تو یاد رکھنا اور اپنائیت دینا ہی بھول گئے۔” پیکو خاموش ہوگئی، من سراج اُسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد پیکو دوبارہ بولی:
    ”تم انسانوں میں رہ کر اُنہی کی طرح سوچنے لگے ہو، مطلب پرست کوکو! بادشاہ تمہیں دو وقت کا کھانا دے کر اُسے محبت کہتا ہے اور پھر تمہیں تمہارے ہی بہن بھائیوں اور ہم نسلوں کو شکار کرتا ہے۔ تم خوش ہو کہ بادشاہ کی محبت کا حق ادا کررہے ہو اور وہ خوش ہے کہ ایک ہرن کو پال کر بیسیوں ہرنوں کی کھال آسانی سے کھینچ لیتا ہے۔” وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی پھر بولی:
    ”کُوکُو! تم تو لالچ کے جھانسے میں آگئے، یہ محبت نہیں، غلامی ہے۔ ذرا سوچو! تمہاری وجہ سے کتنے کُوکُو اپنی پیکوئوں سے بچھڑ گئے، کتنی پیکوئیں میری طرح اپنے کُو کُو کے انتظار میں جدائی کا عذاب جھیل رہی ہوں گی، لیکن نہیں تمہیں کیا پتا جدائی کا عذاب کیا ہوتا ہے؟ تم تو اپنے بادشاہ کے محل میں راج کررہے ہو۔ تمہیں کیا پتا تو جنگل کی رات کتنی بھیانک ہوتی ہے۔”
    اس سے پہلے کہ پیکو کچھ اور کہتی، کہیں سے ایک سنسناتا ہوا تیر آیا اور پیکو کے جسم میں آرپار ہوگیا۔ ایک درد ناک چیخ اُس کے حلق سے نکلی اور وہ تڑپتے ہوئے وہیں ڈھیر ہوگئی۔ من سراج کو کچھ کہنے سننے کا موقع ہی نہ ملا، اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔ اچانک بادشاہ کے شکاری آئے اور پیکو کی لاش اُٹھا کر لے گئے۔ من سراج آنکھوں میں آنسو لیے بوجھل قدموں سے اُن کے ساتھ تھا۔ شکار گاہ میں آکر بھی اُس کی حالت نہ بدلی۔ اس کی آنکھوں میں پیکو کا لاشا اور کانوں میں اُس کی آخری چیخ کی گونج سمائی ہوئی تھی: ”کُوکُو! یہ محبت نہیں، غلامی ہے۔” وہ پیکو کی باتیں یاد کرنے لگا۔
    اب اُسے کچھ بھی دکھائی یا سنائی نہیں دیتا تھا۔ نہ بادشاہ کی محبت بھری چمکار نہ اُس کا پیار، نہ ملکہ کی شفقت اور نہ اس کے ہاتھ کا لمس، من سراج کا من مرگیا تھا۔ لوگوںنے خیال کیا کہ شاید جنگل میں اُس نے کوئی زہریلی چیز کھا لی، اس لیے بیمار ہے، مگر اُس نے غم کھایا تھا اور اب آہستہ آہستہ غم اُسے کھا رہا تھا۔ بادشاہ نے بہت علاج کرایا، مگر من سراج سنبھل نہ پایا اور چند روز بعد اپنی پیکو کے پاس چلا گیا۔
    بادشاہ بہت دکھی ہوا۔ اُس نے جہانگیر پورہ کی اسی شکار گاہ میں تالاب کے پاس اپنی محبت کے اظہار کے طور پر ایک مینار تعمیر کرایا۔ ”ہرن مینار۔” محبت کی طرح ایک لازوال یادگار۔
    سینکڑوں برس بیت جانے کے باوجود ہرن مینار آج بھی سر اُٹھائے کھڑا ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ یہاں آتے ہیں۔ ہرن اور بادشاہ کی محبت بھری اِس داستان کو یاد کرتے ہیں، مگر کم ہی لوگ اصل کہانی جانتے ہیں۔
    لوگ کہتے ہیں کہ جن کے دل محبت کے نور سے سیراب ہوں انہیں آج بھی ”ہرن مینار” کے اردگرد پھیلے درختوںکے جھنڈ میں ہرنوں کی ایک جوڑی کے سائے سر سراتے نظر آتے ہیں۔
    دل کے کانوں سے سنیں تو پیکو… کُو کُو… پیکو… کُو کُو کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، مگر افسوس کہ اکثر لوگ یہاں صرف پکنک منانے آتے ہیں۔ خالی دلوں کو ہرن مینار، عشق کا شاہکار نہیں محض ایک مینار نظر آتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    یہ سترہویں صدی عیسوی کا ذکر ہے۔ ہندوستان پر مغل بادشاہ جہانگیر کی حکومت تھی۔ باپ شہنشاہ اکبر نے پیار سے اُس کا نام شیخو رکھا تھا۔ شیخو کو شکار کا بے حد شوق تھا۔ اُس نے لاہور سے چالیس میل کے فاصلے پر گھنے جنگلات اور سرسبز گھاس سے لدے میدانوں کے بیچوں بیچ ایک شکار گاہ بنائی تھی جہاں وہ اکثر شکار کے لیے آیا کرتا تھا۔ یہاں ایک تالاب اور ایک تین منزلہ استراحت گاہ بھی تھی جہاں وہ آرام کرتا۔ بعد میں اُس نے اِس شکارگاہ کے قریب ایک شہر آباد کیا جس کا نام جہانگیر پورہ تھا۔ آج کل لوگ اُسے شیخوپورہ کے نام سے جانتے ہیں۔ ہرن مینار شیخوپورہ کی تاریخی تفریح گاہ ہے۔ یہ مینار اُسی ہرن کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا جو جہانگیر کا پالتو تھا۔
    ٭…٭…٭

  • لوہ پور کا شہزادہ

    لوہ پور کا شہزادہ

    لوہ پور کا شہزادہ

    حافظ محمد دانش عارفین حیرت

    لوہ پور کے قیام کے بعد یہ شہر کئی صدیاں ہندوؤں کے زیر تحت رہا، پھر کئی سو سال بعدشہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔بعد ازاں یہ شہر خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔1290ء میں خلجی خاندان نے اس پر قبضہ کیا۔1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔ 1526ء میں ظہیر الدین بابر مغل حکمران نے ابراہیم لودھی کو شکست دی اور یوں سلطنت مغلیہ وجود میں آئی۔مغلوں نے اپنے دور میں یہاں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں، کئی باغات لگوائے۔اکبر بادشاہ نے شاہی قلعہ کو از سر نو تعمیر کیا۔ شاہ جہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا ۔1646ء میں شہزادی جہاں آراء نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا،جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔1673ء میں اورنگزیب عالم گیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔ 1857ء میں آخری مغل بادشاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ البتہ لاہور کو ہر دور میں خاص اہمیت حاصل رہی۔

    صدیوں قبل شری رام چندر نامی ہندئووں کے ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ ہندئووں کے نزدیک شری رام چندر کا بہت بڑا مقام ہے۔ وہ بادشاہ دشرتھ کے بیٹے تھے۔ شری رام خود تو بادشاہ نہ تھے، لیکن ان کی حیثیت بادشاہ سے کم بھی نہ تھی۔ ان کا چھوٹا بھائی بھرت بادشاہ اپنے بھائی رام چندر کی بہت عزت کرتا تھا۔ بھرت ریاست اُودھ کا حکمران تھا۔ اس کی سلطنت خاصی وسیع تھی۔ اردگرد کے مہاراجے ان سے جلتے اور اس کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کیا کرتے۔ جنگجو دریائے راوی کے کنارے سے آتے تھے۔ اس زمانے میں راوی بہت بڑا دریا تھا۔
    بھرت اِن حملوں کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ اُس نے اپنے بڑے بھائی شری رام چندر سے اس کا ذکر کیا۔ شری رام چندر بھی ان حملوں سے بہت نالاں تھے۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک کانام لوہ، دوسرے کا نام قوہ تھا۔ دونوں شہزادے نہایت ہونہار تھے۔ ان حملوں کا جواب دینے کے لیے شری رام چندر کی نظر اپنے بیٹوں کی طرف گئی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: ”تم دونوں جانتے ہو کہ ہماری ریاست پر اردگرد کے علاقوں سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ان حملوں سے ہماری رعایا کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ تم دونوں بہادر ہو، رعایا کی حفاظت کرنا تمہارا بھی فرض ہے۔ کیا تم دشمنوں کے حملے سے بچاؤ کے لیے کوئی تدبیر دے سکتے ہو؟”
    ”اباجان!” آپ بھرت چاچا سے کہہ کر اس علاقے میں سپاہی متعین کروا دیں۔ ہمارے سپاہی وہاں ہوں گے تو دشمنوں کو حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیں گے۔”
    شہزادوں نے ادب سے کہا۔
    ”سپاہی پہلے ہی سے وہاں موجود ہیں مگر اس کے باوجود حملہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا خیال ہے کہ تم دونوں مل کر وہاں جاؤ اور دشمنوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دو۔ اگر راجہ یا شاہی خاندان کا کوئی فرد فوج کے ہمراہ ہو تو سپاہی ہمت نہیں ہارتے بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ تم دونوں کی اس حوالے سے کیا رائے ہے؟” شری رام چند نے بیٹوں سے پوچھا۔

    ”ہم اس کے لیے تیار ہیں۔” دونوں شہزادوں نے شاہی آداب کے مطابق جھک کر جواب دیا۔
    ”اچھی بات ہے۔ جاؤ اور جلدی اس سفر کی تیاری کرو۔” شری رام نے کہا۔
    ”جی ابا حضور!” دونوں شہزادوں نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
    شری رام چندر نے چھوٹے بھائی بھرت کو تمام بات کہہ سنائی۔ بادشاہ بھرت یہ سن کر خوش اور مطمئن ہوگیا۔ دونوں شہزادوں یعنی قوہ اور لوہ کے درمیان طے پایا کہ لوہ دریائے راوی کے کنارے فوج کے پاس ہوگا جب کہ قوہ کچھ فاصلے پر فوج ایک دستہ لیے رکے گا۔ جیسے ہی کوئی حملہ ہو گا ،تو لوہ فوری طور پر حملے کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ پیچھے قوہ تک بھی پیغام پہنچا دے گا کہ شہر پر دشمنوں نے حملہ کردیا ہے۔ قوہ جلدی سے کمک لوہ تک روانہ کرے گا۔
    تازہ دم کمک پہنچتے دیکھ کر دشمن گھبرا کر بھاگ جائے گا۔ اس طرح اُن کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کچھ عرصہ تو دونوں بھائی ایسے ہی شہر کی حفاظت کرتے رہے لیکن کب تک اس طرح کھلے آسمان تلے رہتے۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیااور اپنے والد کو پیغام بھیجا: ”ہم یہاں پر شہر آباد کرنا چاہتے ہیں، آپ کی اجازت چاہیے۔”
    ان کے والد نے خوشی سے اجازت دے دی بلکہ چاچا بھرت بادشاہ نے شہر بسانے کے لیے تما م خرچ قومی خزانے سے ادا کیا۔ چناں چہ قوہ نے ایک چھوٹا سا شہر بسایا جسے آج قصور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِدھر لوہ نے دریائے راوی کے کنارے مزدور بلائے اور شہر کی تعمیر شروع کروا دی۔ شہر کے گرد ایک بڑی سی دیوار کھڑی کی گئی۔ اس دیوار میں ایک خفیہ راستہ اور بارہ دروازے بنائے گئے۔
    یہ دروازے شہر میں داخل ہونے اور دشمنوں سے بچاؤ کا کام دیتے تھے۔ جب بھی کوئی حملہ ہوتا شہر کے دروازے بند کر لیے جاتے اور تیر انداز شہر کی دیوار پر سے دشمنوں پر تیر برساتے۔ یہ دروازے مختلف شہروں کی طرف کھلتے تھے۔ اس نسبت سے ہی ان دروازوں کے نام رکھے گئے۔ ہندو مہاراجاؤں کے ہاں ایک خاص مقام شاہی خاندان کی رہائش کے لیے بنایا جاتا تھا۔
    اس علاقے میں عام لوگوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے شہر کے اندر لوہ نے شاہی خاندان کے لیے ایک قلعہ تعمیر کروایا اور اپنی رعایا کی حفاظت کرنے لگا۔ یوں شہر کی بنیاد رکھنے سے شری رام چندر اور بھرت کو شہر پر ہونے والے حملوں سے نجات مل گئی اور رعایا عیش و آرام سے زندگی بسر کرنے لگی۔
    یہ شہر چوں کہ لوہ نے بسایا تھا، اس لیے اُسے ” لوہ پور” کہا جانے لگا۔ یہاں سب سے پہلے حکومت بھی لوہ نے کی۔ اسی شہر کی نسبت سے اُسے لوہ پور کا شہزادہ کہا جانے لگا۔ بعد میں یہاں حکومت کرنے والے راجپوت اس شہر کو ”لوہ کوٹ” کے نام سے پکارنے لگے۔ دنیا کے مشہور سیاح ”الادریسی ” نے اسے ”لہاور” کا نام دیا۔ مختلف وقتوں میں مختلف ناموں سے پکارے جانے کے بعد آخر یہ لاہور بن گیا۔
    ٭…٭…٭

  • کوّا اور لالی | سنی سنائی لوک کہانی

    کوّا اور لالی | سنی سنائی لوک کہانی

    سنی سنائی لوک کہانی
    کوّا اور لالی
    قیصر مشتاق

    قیصر مشتاق فروری 1991ء کو اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔ تاہم بچپن سے ہی خاندان کے ساتھ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ دورانِ تعلیم ادبی سفر کا آغاز کیا۔ مگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی اس طرف خاص توجہ دی۔ افسانے اور کہانیاں لکھنا ان کا شوق ہے۔ الف کتاب اور الف نگر میں مستقل لکھ رہے ہیں، مختلف مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن بھی لے چکے ہیں۔
    دسمبر کا مہینہ شروع ہوا تو سردی مزید بڑھ گئی۔ ہر صبح اور ہر شام دھند میں ہی لپٹی نظر آتی، اسکولز میں سردیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو بچوں میں تو جیسے خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اب کچھ دنوں تک وہ مزے سے لحافوں میں دُبک کر دادی جان سے ڈھیروں کہانیاں سن سکتے تھے۔
    ایک شام چاروں بچے دادی جان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ دادی انگیٹھی کے پاس ہی بیٹھی آگ سینک رہی تھیں۔ کہانی کی فرمائش کی تو دادی جان ہولے سے مسکرائیں اور سب کو پاس ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ احمد، شانی، علی اور عائشہ دادی کے ارد گرد بیٹھ گئے۔
    اتنی دیر میں چھوٹی چچی ایک تھالی میں ڈھیر ساری مونگ پھلی اور گڑ لے آئیں۔ بچے مزید خوش ہو گئے اور انہوں نے مونگ پھلی سے مٹھیاں بھر لیں۔
    ”دیکھو بچو! مونگ پھلی کے چھلکے نیچے مت پھینکنا۔ ایک جگہ اکٹھے رکھنا۔” چچی کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا اور دادی کی طرف متوجہ ہوگئے۔
    ”آج میں آپ سب کو لالی اور کوّے کی کہانی سناتی ہوں۔” دادی جان نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
    ”دادی! یہ لالی بھی ایک پرندہ ہے نا؟” شانی نے پوچھا۔
    ”ہاں بیٹا! لالی کھیتوں اور کنوؤں میں رہتی ہے۔ یہ ایشیا کا ایک عام پرندہ ہے۔” دادی نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بتایا۔
    ”جی جی! میں نے دیکھی ہے لالی۔ اس کے نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے انڈے ہوتے ہیں نا؟” علی نے پرُ جوش انداز میں بتایا۔
    ”جی بالکل علی بیٹا! اب کہانی سنیں؟” چچی نے کہا تو وہ خاموش ہوگئے۔
    ”اچھا تو بچو! یہ کہانی ہے ایک گائوں کی جہاں ایک لالی اور کوّا رہتے تھے۔ اُن میں بڑی دوستی تھی۔ دونوں سارے کام مل جل کر کرتے لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ پانی کی تلاش میں انہیں دور جانا پڑتا تھا۔ لالی بہت مخلص اور خیال کرنے والی جب کہ کوّا کہیں نہ کہیں کاہلی دکھا جاتا تھا۔
    ایک دن سمجھ دار لالی نے کوے سے کہا: ”دوست! کیوں نہ ہم کنواں کھود کر پانی نکالیں اور فصل اگائیں؟”
    کوّے کو لالی کی بات اچھی لگی اور پھر دونوں نے کنواں کھودنا شروع کر دیا۔ لالی نہایت ایمان داری اور تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی جب کہ کوا تھوڑی ہی دیر میں سست پڑ گیا۔ وہ بڑی کاہلی اور بے دلی سے کھدائی کر رہا تھا۔ اچانک کوے کی چونچ ٹوٹ گئی اور وہ رک گیا۔
    ”کیا ہوا دوست؟” لالی نے فکرمندی سے پوچھا۔

    ”میری تو چونچ ہی ٹوٹ گئی، اب میں کنواں نہیں کھود سکتا۔ تم ایسا کرو کنواں کھودو، میں اپنی چونچ بنوا کر ابھی آیا۔” کوّے نے کہا تو لالی نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
    کوّا پُھر سے اڑ کر چلا گیا۔ لالی اپنے کام میں لگی رہی، کئی دن تک جب کوّا نہ آیا تو لالی نے اکیلے ہی سارا کام مکمل کرلیا۔ جب اس نے کنواں کھود لیا تو کوّے کو آواز دی:
    ”کاں وے کاں کھوہ کھٹیا پیا۔” (اے کوّے! میں نے کنواں کھود لیا)
    دادی نے مخصوص انداز میں گنگنایا تو سارے بچے خوب مسکرائے۔
    ”بچو! کہیں دور سے کوّے کی آواز آئی: چُنج گھڑیندا لاٹھی لیندا آیا، لالی آیا” (اپنی چونچ بنوا کر اور کنویں کی پلی لے کر میں جلد ہی آیا لالی)
    لالی نے اس کا انتظار کیا۔ جب کوّا نہ آیا تو اس نے چند دوستوں کی مدد سے کنویں سے پانی نکلوایا اور کوّے کو پھر سے آواز دی:
    ”کاں وے کاں پانی نکلیا پیا۔” (اے کوّے! کنویں سے پانی نکل آیا) دادی کے مخصوص انداز پر بچے پھر سے کھلکھلا کے ہنس پڑے۔ دادی نے کہانی جاری رکھی، بچو! اُدھر سے کوّے نے آواز دی:
    ”تیں فصل بواتے پانی لا، میں آیا لالی آیا۔” (اے لالی! تم فصل بو کر پانی لگاؤ، میں آتا ہوں)
    سن کر لالی نے انتظار کرنا چھوڑ دیا اور سوچا کیوں نہ میں خود ہی فصل کے لیے کیاریاں تیار کر لوں۔ اس نے کیاریاں بنا لیں اور ایک بار پھر کوّے کو آواز دی، لیکن کوے کی طرف سے پھر سے وہی جواب آیا۔
    اب لالی نے کیاریوں میں بیج بویا اور انہیں پانی دے دیا۔ وہ ہر بار کوّے کو آواز دیتی اور مدد کا کہتی لیکن کوّا وہی جواب دیتا کہ تم فصل تیار کرو میں بس جلدی سے آیا۔ دادی جان ذرا دم لینے کے لیے رک گئیں۔
    ”کوّا کتنا نکما تھا چچی!” عائشہ جو کہ چچی سے چپکی بیٹھی تھی اچانک بولی تو چچی نے ہاں میں سر ہلایا۔
    ”ہاں عائشہ! اُسے چاہیے تھا کہ لالی کی مدد کرتا۔” دادی جان نے کہانی دوبارہ شروع کی۔ ”بچو! کچھ وقت گزرا تو گندم کے پودوں پر خوشے نکل آئے۔ لالی بے چاری ہر وقت فصل کی رکھوالی کرتی رہتی۔ اس نے کئی بار اپنے دوست کو آواز دی لیکن وہ نہ آیا۔ دیکھتے دیکھتے خوشے پک گئے تو لالی نے پھر آواز لگائی۔
    ”کاں وے کاں کنک پک جے گئی۔” (اے کوے! گندم پک چکی ہے)
    لیکن ایک بار پھر کوا نہ آیا۔ لالی نے فصل کاٹی اور جب اناج کا ڈھیر لگ گیا تو اس نے ایک بار پھر کوے کو پکارا۔ اس بار کوا ایک طرف سے اڑتا ہوا آگیا اور لالی کی تیار کردہ فصل کو دیکھ کے اس کے دل میں لالچ آگیا۔
    لالی نے کہا: ”بے شک تم نے میری مدد نہیں کی، لیکن تم میرے دوست ہو کیوں نہ ہم گندم آپس میں بانٹ لیں۔”
    ”ٹھیک ہے پیاری لالی! تم نے اتنی محنت کی، اب یہ کام میں کرتا ہوں۔” کوّے نے چالاکی سے کہا۔
    یوں کوے نے گندم کے دانے بانٹنا شروع کیے۔ اُس کی نیت خراب تھی۔ چناں چہ نہایت چالاکی سے اس نے گندم کا ڈھیر اپنی طرف کِھسکا لیا جب کہ بھوسا لالی کو دے دیا۔ لالی نے یہ دیکھا تو اُسے کو شدید غصہ آیا۔ وہ ناراض ہوکر بولی:
    ”میں نے کنواں کھودا، پانی نکالا، زمین تیار کی، بیج بویا، فصل کی رکھوالی کی، فصل کاٹی اور اب تم نے میرے حصے میں صرف بھوسا رکھ دیا، تم غلط کر رہے ہو اور آج کے بعد تم میرے دوست نہیں ہو۔ چلے جائو یہاں سے۔” لالی نے کہا لیکن ڈھیٹ کوے پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے لالی کی بات سنی اَن سنی کر دی۔
    اچانک زور سے بادل گرجا اور بارش شروع ہوگئی۔ بس پھر کیا تھا، لالی جلدی سے اُڑی اور بھوسے کے ڈھیر میں جا چھپی۔ کوا بوکھلا یا ہوا گندم کے دانوں کے ڈھیر میں سر چھپانے کی کوشش کرتا رہا، آخر وہ ڈھیر میں گھس کر بیٹھ گیا۔ بارش کی وجہ سے ڈھیر سرکتا رہا۔ کوّا اس کے نیچے دب چکا تھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ نکل سکے لیکن بارش کے زور اور پانی سے گندم اور بھی وزنی ہو چکی تھی۔
    وہ اس کے نیچے دبا رہا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ دم گھٹنے سے مر گیا۔ بارش رکی تو لالی باہر آئی۔ اس نے سارا منظر دیکھا تو اسے کوے پر بہت دُکھ ہوا جس نے کاہلی، چالاکی اور دھوکے سے کام لے کر برا انجام پایا تھا۔
    ”دادی پھر کیا ہوا؟” شانی نے اونگھتے ہوئے پوچھا جب کہ باقی سب مونگ پھلی ختم کیے بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔
    ”میرے بچے! پھر لالی نے ساری گندم محفوظ کی اور مزے سے رہنے لگی۔ اب اس کے پاس اپنا کنواں بھی تھا اور اناج بھی۔” دادی نے کہا۔
    ”لالی کتنی محنتی تھی نا۔” عائشہ نے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں! محنت میں عظمت ہے اور کبھی ضائع نہیں جاتی۔” چچی نے کہا۔
    ”اچھا بچو! شاباش، اب سو جاؤ۔” دادی نے کہا تو سب سونے کے لیے چلے گئے۔
    ٭…٭…٭