Tag: children stories

  • کپڑے کا سوداگر | سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)

    کپڑے کا سوداگر | سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)

    سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)
    کپڑے کا سوداگر
    نادیہ حسن

    نادیہ حسن آج سے 29سال قبل میرپور خاص (سندھ) میں پیدا ہوئیں۔ آبائی شہر سرگودھا جبکہ شادی کے بعد اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ عالمہ ہیں، اس کے علاوہ عربی اور اردو ادب
    میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ لکھنے کا آغاز 2005ء سے کیا۔ اشتیاق احمد جیسے سینئر ادیب ان کے ادبی استاد رہے۔ آج تک مختلف رسائل میں 200کے قریب کہانیاں لکھ چکی ہیں۔

    گزرے دنوں کی بات ہے، کشمیر اور پنجاب کے درمیان ایک علاقہ جسے آج سیالکوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہاں دو بھائی رہا کرتے تھے۔ ان کے والدین وفات پاچکے تھے۔
    بڑے بھائی کا نام اسلم اور چھوٹے کا یوسف تھا۔ وہ دونوں کپڑا بُنتے تھے اور کپڑوں کے تھان شہر سے آنے والے بیوپاریوں کو سستے داموں فروخت کرتے تھے۔ وہ سوداگر ان سے کم داموں کپڑا خریدتے اور شہر جاکر مہنگے داموں فروخت کرتے۔
    اسلم خدا کے دیے رزق پہ راضی رہتا اور اس کا شکر ادا کرتا کہ اس نے ہمیں ہنر عطا کیا ہے کسی کا محتاج نہیں بنایا، لیکن یوسف ہمیشہ زیادہ مال اکٹھا کرنے کی سوچتا رہتا۔ وہ چاہتا تھا کہ شہر جاکر کپڑا فروخت کرکے اور زیادہ نفع حاصل کیا جائے۔ اس نے اسلم سے اس بارے میں بات کی تووہ کہنے لگا:
    ”یوسف! ہمارے پاس شہر جانے کے لیے سواری نہیں ہے اور راستے میں جنگل بیابان ہیں۔ چور ڈاکو ہمارا کپڑا چھین لیں گے اور جان سے بھی مار دیں گے، میرا تو خیال ہے ہم جس حال میں ہیں، ٹھیک ہیں۔”
    یوسف مطمئن نہ ہوا، اس نے اگلے ہی روز شہر سے آنے والے سوداگروں سے حالات پوچھے۔ راستے میں پیش آنے والی دشواریاں اور ان سے نپٹنے کے طریقے معلوم کیے پھر گاؤں میں ایک دوست سے گدھا گاڑی لے کر کپڑوں کے تھان ریڑھی پر رکھے اور علی الصباح سفر کے لیے نکل گیا۔
    اسلم سارا دن اپنے بھائی کی خیریت کی دعائیں کرتا رہا۔ فکر اور پریشانی سے اس کا کسی کام میں دل نہ لگتا تھا۔ والدین کی وفات کے بعد اس نے یوسف کو باپ بن کر پالا تھا۔ اَب اس کا یوں میلوں دور اکیلے جانا اس کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث تھا۔ وہ رات گئے تک اس کی خیریت سے لوٹنے کی دعائیں کرتا رہا اور اسی حالت میں سو گیا۔
    صبح سویرے اٹھتے ہی یوسف کا خیال آدھمکا۔ اُداس و پریشان حالت میں اس نے فجر کی نماز ادا کی، تلاوت کی اور کپڑا بُننے بیٹھ گیا۔ اسی اداسی میں تین دن بیت گئے۔ تیسرے دن اسے ایک ماہی گیر نے بتایا کہ گاؤں میں شہر سے اناج خریدنے کچھ سوداگر آئے ہوئے ہیں۔ اسلم فوراً سوداگروں کے پاس پہنچ گیا۔
    ”السلام علیکم دوستو! کیا شہر میں ہمارے گاؤں کا کوئی لڑکا پہنچا ہے؟ جس کا نام یوسف ہے۔”اس نے سوال کیا۔
    ”یوسف؟” سوداگر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
    ”ہاں یوسف! میرا چھوٹا بھائی، کپڑا فروخت کرنے شہر گیا تھا۔” اسلم بے چینی سے پوچھنے لگا۔
    ”اچھا اچھا! وہ کپڑے کا سوداگر یوسف! ہاں وہ محنتی لڑکا شہر میں ہی ہے۔” سوداگر کی بات سنتے ہی اسلم کی جان میں جان آگئی۔ اس نے گویا تین دن بعد سکون کا سانس لیا تھا۔ وہ جلدی سے بولا:

    ”اچھا ہوسکے تو اُسے میرا سلام کہنا اور اسے کہنا جلد واپس آجائے۔”
    ”ہاں اس کے کپڑے تو فروخت ہوچکے ہیں، ایک دو دن میں لوٹ آئے گا۔” ایک سوداگر بولا۔
    اسلم گھر واپس آگیا۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور یوسف کا انتظار کرنے لگا۔ یوسف دو دن بعد واپس آیا۔ وہ شہر سے ڈھیروں روپے کما کر لایا تھا۔
    ”دیکھیں بھائی جان! جتنے پیسے ہم تین مہینے میں کماتے تھے وہ میں نے تین دن میں کما لیے۔ میں اب ہر مہینے شہر جایا کروں گا اور ڈھیروں روپے کما کر لایا کروں گا۔” یوسف چہک کر بولا۔
    ”ہاں یوسف تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن راستہ پُر خطر ہے۔” اسلم نے کہا۔
    ”ارے بھائی جان! آپ غم نہ کریں۔” یوسف نے تسلی دی۔
    اب وہ ہر مہینے شہر جاکر کپڑا فروخت کرتا۔ دونوں بھائی پہلے سے زیادہ کپڑا بُننے لگے ۔ رفتہ رفتہ انہوں اپنی گدھا گاڑی بھی خریدلی۔ ایک دن یوسف چارپائی پر لیٹا ہوا تھا کہ اسے خیال آیا:
    ”کپڑا بُننے کا سارا کام میں اور بھائی جان مل کرکرتے ہیں، لیکن شہر میں اکیلا جاتا ہوں۔ کپڑا فروخت کرنے کی ساری مشقت میں خود اُٹھاتا ہوں۔ میرا نفع بھائی جان کے نفع سے دوگنا ہونا چاہیے۔”
    یہ خیال آتے ہی اس نے کچھ حساب لگایا پھر آئندہ ہر بار شہر سے آتے ہوئے مال کے تین حصے کرنے لگا۔ ایک حصہ اپنے دوست کے پاس امانت رکھواتا اور باقی مال گھر لا کر بڑے بھائی کو دے دیتا۔ اسلم مال کو دونوں میں برابر تقسیم کردیتا۔
    بڑے بھائی اسلم نے منافع کم ہونے کی شکایت کی، تو یوسف نے شہر میں کپڑے کے نرخ گرنے کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔ اسلم سیدھا سادہ تھا، سو جلدی مان گیا۔
    کئی مہینے بیت گئے۔ یوسف کے دوست کے پاس اس کی بہت سی رقم جمع ہوچکی تھی جس کا اسلم کو علم نہیں تھا۔
    ایک دن اسلم، یوسف کے پاس ایک صندوق لے کر آیا جس کو تالا لگا ہوا تھا۔ یوسف نے یہ صندوق کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پہلے وہ حیران ہوا کہ اس میں ایسا کیا ہے جس کو بھائی نے تالا لگا رکھا ہے۔ ابھی وہ اسی سوچ و بچار میں تھا کہ اسلم نے چابی نکال کر تالا کھول دیا۔ اس کے اندر اشرفیوں کے ڈھیر تھے۔ یوسف کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اشرفیوں سے بھرا صندوق!!!
    اسی اثنا میں اسلم بولا: ”میرے پیارے بھائی یوسف! یہ اشرفیاں تمہاری امانت ہیں۔ ہم دونوں مل کر کام کرتے تھے لیکن تم میری نسبت زیادہ کام کرتے تھے۔ تم شہر جاتے تھے، محنت مشقت سے کپڑا فروخت کرتے تھے۔ اس لیے تم جتنا مال لاتے تھے، میں اس کے تین حصے کیا کرتا تھا۔ ایک حصہ تمہیں دیتا، ایک اپنے پاس رکھتا اور ایک حصہ تم سے چھپا کر تمہارے لیے رکھ دیتا۔ اب تمہاری شادی کا وقت ہے۔ تمہیں اپنے لیے گھر بنانا ہے، تو تم اِن پیسوں سے بنا لو۔ یہ لے لو، یہ تمہاری امانت ہیں۔”
    اسلم کے منہ سے یہ سب سن کر یوسف کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔ وہ جلدی سے بھائی کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگا۔ بڑے بھائی کے باقی احسانات کیا کم تھے کہ یہ اتنا بڑا احسان… اور خود اِس کی کم ظرفی… یوسف سوچنے لگا کہ میں اپنے محسن سے بدگمان ہوا۔ اس سے پیسے چھپاتا رہا۔ اسے لگا وہ اب کبھی بھی اپنے بڑے بھائی اسلم سے نظریں نہیں ملا سکے گا لیکن ساری بات کا علم ہونے کے بعد اسلم نے اپنے چھوٹے بھائی کو نا صرف معاف کردیا بلکہ دھوم دھام سے اس کی شادی بھی کی۔ آج بھی ہماری نسلیں اور ہمارے بچے اپنی نانی یا دادی سے یہ لوک کہانی سنتے ہیں تو سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انسان کو واقعی اعلیٰ ظرف ہونا چاہیے۔
    ٭…٭…٭

  • ہینگنی اور ولیدنی | تھل کی لوک کہانی

    ہینگنی اور ولیدنی | تھل کی لوک کہانی

    تھل کی لوک کہانی
    ہینگنی اور ولیدنی
    سارہ قیوم

    سارہ قیوم صاحبہ نے ایک لمبے عرصے بعد 2016ء میں دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا۔ ادب کی کئی اصناف میں قلم کے جوہر دکھائے، جن میں بچوں کی کہانیاں، نظمیں، مزاح، بڑوں کے لیے ناول، طنز و مزاح اور ڈرامے شامل ہیں۔ ایکسپریس چینل پر ان کا ایک عدد ڈرامہ بھی نشر ہوچکا ہے۔ شعبہ تدریس سے منسلک ہیں، اس لیے جدید تقاضوں کے
    مطابق بچوں کے ادب میں روایت اور جدت کے امتزاج سے بخوبی واقف ہیں۔ انگلش اور اردو دونوں زبانوں میں بے شمار کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔

    ایک اونٹ اور گیدڑ کی دوستی ہوگئی۔ گیدڑ اونٹ کو بڑا جان کر ماموں کہتا اور اس کی محبت کا دم بھرنے لگا۔ اونٹ بھی گیدڑ سے شفقت سے پیش آنے لگا۔
    ایک مرتبہ کچھ ایسا موسم بدلا کہ کئی مہینوں تک بارش نہ ہوئی۔ جب فصل باڑی نہ ہوئی تو کھانے کو کچھ نہ رہا۔ دریا کے اُس پار ایک گاؤں آباد تھا جہاں کے کھیت ہرے بھرے تھے۔ ان کھیتوں کے مالک کسان دریا سے پانی لاکر کھیتوں کو دیتے تھے لہٰذا فصلیں ہری بھری تھیں۔ اونٹ اور گیدڑ روزانہ للچائی نظروں سے ان ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھتے اور بارش کی دعائیں مانگا کرتے۔
    ایک دن گیدڑ نے اونٹ سے کہا: ”ماما جی! اب تو بھوکے رہ رہ کر پیٹ پسلیوں سے جالگا ہے۔ بارش ہونے کی کوئی امید نہیں، میری مانو تو دریا پار گاؤں میں چلتے ہیں اور کچھ پیٹ پوجا کرتے ہیں۔”
    اونٹ بولا: ”ٹھیک کہتے ہو بیٹا! گو کہ یہ اچھی بات نہیں کہ کسی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کی چیز لی جائے لیکن مجبوری ہے، یہاں رہے تو فاقوں مرجائیں گے۔”
    طے پایا کہ اونٹ چوں کہ قد میں لمبا ہے، لہٰذا وہ گیدڑ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا پار کرا دے گا۔ دونوں کسی کھیت میں گھس کر پیٹ بھریں گے اور فوراً واپس آجائیں گے۔ شام ہوتے ہی دونوں نے دریا پار کیا اور گاؤں میں داخل ہوئے۔ کسان اس وقت کھیتوں سے گھر واپس جارہے تھے۔
    اونٹ اور گیدڑ ان کی نظروں سے بچنے کے لیے درختوں کے ایک جھنڈ میں چھپ گئے۔ انہیں اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کھیتوں میں چوری کرتے پکڑے گئے تو کسان خوب پیٹیں گے۔ جونہی رات ہوئی اور کھیتوں میں سناٹا چھا گیا تو وہ دونوں خربوزوں کے ایک کھیت میں گھس گئے۔ موٹے موٹے میٹھے خربوزے دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ ندیدوں کی طرح خربوزے کھانے میں جُت گئے۔ گیدڑ کا پیٹ چھوٹا تھا، چار پانچ خربوزے کھا کر ہی بھر گیا۔ پیٹ بھرا تو اُسے شرارت سوجھی۔ اونٹ سے کہنے لگا: ”ماما جی مجھے تو ہینگنی آئی ہے۔”
    اونٹ گھبرا کر بولا: ”میری تو ابھی ڈاڑھ بھی گیلی نہیں ہوئی، تُو ہینگنی کو روک کے رکھ، میں پیٹ بھر کر کھالوں، پھر ہینگ لینا۔”
    گیدڑ نے کہا: ”ماما جی ذرا جلدی کرو، بڑی زور کی ہینگنی آئی ہے۔ آپ کی خاطر چار پانچ منٹ کے لیے رُک سکتا ہوں، اس سے زیادہ نہیں۔”
    اونٹ جلدی جلدی خربوزے کھانے لگا لیکن اس کا پیٹ بڑا تھا، اتنی جلدی کہاں بھر سکتا تھا۔ وہ ابھی چند خربوزے ہی کھا پایا تھا کہ گیدڑ نے ہینگنا شروع کردیا۔
    ”بیٹا! میری خاطر تھوڑی دیر رک جاؤ۔” اونٹ پریشانی سے بولا۔
    ”ماما جی! اب تو ہینگنی گلے تک آپہنچی ہے، وہ مزید نہیں رک سکتا۔”
    یہ کہہ کر اس نے منہ آسمان کی طرف اٹھایا اور تیز آواز میں ہووووو کرنے لگا۔ اونٹ گھبرا کر بھاگا لیکن گیدڑ کی آواز سے کسان بیدار ہوچکا تھا۔ لمبا تڑنگا اونٹ اسے دور ہی سے نظر آگیا۔ وہ ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے لپکا۔ گیدڑ تو مزے سے کھیتوں میں چھپ گیا جبکہ اونٹ کسان کے ہتھے چڑھ گیا۔ کسان نے ڈنڈے سے اس کی خوب مرمت کی۔
    بے چارہ اونٹ رات بھر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے پڑا رہا اور چوٹوں کے درد سے کراہتا رہا۔ صبح ہوئی تو گیدڑ بھی اس سے آملا۔ وہ ساری رات کھیت میں خربوزے کھاکھا کر خوب سیر ہوچکا تھا۔
    ”چل بیٹا اب گھر چلیں۔” اونٹ نے مختصر سی بات کی مگر گیدڑ سے اس کی شرارت کے بارے میں کچھ نہ کہا۔
    گیدڑ مزے سے اونٹ پر چڑھ بیٹھا اور اونٹ دریا میں اتر گیا۔ دریا میں ایک جگہ پانی گہرا تھا۔ اونٹ سیدھا اس جگہ پر پہنچ کر رک گیا۔
    ”کیا بات ہے ماما جی، رک کیوں گئے؟” گیدڑ نے پوچھا۔
    ”کیا بتاؤں، بڑے زور کی ولیدنی آئی ہے۔” اونٹ نے کہا۔
    اب تو گیدڑ بڑا گھبرایا۔ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا: ”ماما جی! خدا کا واسطہ کچھ دیر کے لیے ولیدنی روکو۔ ہم دریا کے بیچوں بیچ کھڑے ہیں۔ آپ ولیدنی کرو گے تو ہم ڈوب جائیں گے۔”
    اونٹ نے کہا: ”میں مجبور ہوں، اتنے زور کی ولیدنی آئی ہے کہ روک نہیں سکتا۔ تم سے بہتر یہ بات کون سمجھ سکتا ہے کہ جب ہینگنی اور ولیدنی آجائیں تو روکے نہیں رکتیں۔”
    گیدڑ سمجھ گیا کہ اونٹ اصل میں اسے شرارت کی سزا دے رہا ہے۔ اس نے جوٹھان لی ہے۔ اب بِن کیے نہ ٹلے گا۔ اس نے اونٹ سے التجا کی:
    ”اچھا ماما جی! ولیدنی آئی ہے تو ضرور کرو، لیکن ایک مہربانی کردو کہ مجھے پیٹھ سے اتار کر اپنے منہ میں داب لو تاکہ میں ڈوبنے سے بچ جاؤں، جب تم ولید نے لگو تو منہ اوپر اٹھا لینا۔”
    اونٹ نے دل میں سوچا: ”شاباش بیٹا! یہی تو میں چاہتا تھا۔”
    اس نے گیدڑ کو منہ میں دبایا اور اُسے خوب غوطے دیے۔ گہرے پانی میں ڈبکیاں کھانے سے گیدڑ کو دن میں تارے نظر آگئے۔ برا حال ہوا تو لگا دہائی دینے، ”ہائے مار ڈالا، ماما جی! آپ تو کہتے تھے ولیدنی آئی ہے، یہ کیا کررہے ہو؟”
    اونٹ نے مسکرا کر کہا: ”ہاں بیٹا! ولیدنی آئی ضرور ہے مگر منہ میں۔”
    یہ کہہ کر اس نے گیدڑ کو پانچ میں پٹخ دیا۔ یوں شرارتی گیدڑ کو اس کی شرارت کی خوب سزا ملی۔
    ٭…٭…٭

  • ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)

    ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)

    ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)
    گونگلو میاں اور سات چور

    محمد احمد جواد

     

    پرانے وقتوں کی بات ہے، رام پور گاؤں میں ”گونگلو ” نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کا باپ مر چکا تھا جب کہ ماں بیٹا چھوٹے سے گھر میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس کا اصل نام حمید تھا مگر گورا چٹا اور گول مٹول ہونے کی وجہ سے گاؤں والے اسے ”گونگلو میاں” پکارتے تھے۔ وہ سیدھا سادہ نوجوان تھا۔
    گونگلو سارا دن گھر فارغ بیٹھا رہتا۔ ایک دن ماں نے اسے کہا: ”اتنے بڑے ہو گئے ہو، ہر وقت بے کار پڑے رہتے ہو، جاؤ اور کچھ کما کر لاؤ۔” ماں کی بات سن کر گونگلو میاںنے جوش سے انگڑائی لی اور دو روٹیاں رومال میں باندھ کر گھر سے نکل پڑا۔
    گونگلو میاں کی قسمت بڑی اچھی تھی۔اس کا ہر کام قدرتی طور پر آسان ہو جاتا تھا۔ سر پر روٹیاں رکھے، وہ سڑک پر جا رہا تھا کہ اسے کچھ لوگ نظر آئے۔ وہ اپنا بیل تلاش کررہے تھے۔ انہوں نے گونگلو میاں کو دیکھا تو اس کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”گونگلو میاں! ہمارا بیل گم ہو گیا ہے۔ آپ دعا کرو کہ بیل مل جائے۔”
    گونگلو میاں نے بات سن کر جواب دیا: ”اِدھر دیکھو، اُدھر دیکھو، بیل مل جائے گا۔” انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو بیل کھیتوں سے چرتا ہوا نکل رہا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئے اورخوشی میں گونگلو میاں کو انعام دیا۔ گونگلو میاں انعام لیے گھر داخل ہوئے تو ماں اسے دیکھ کر بڑی خوش ہوئی۔ گونگلو میاں کی چہار سُو مشہوری ہو گئی کہ وہ درویش ہے اور لوگوں کی گم شدہ چیزیں انہیں ڈھونڈ دیتا ہے۔
    کچھ دنوں بعد گونگلو میاں گھر سے دوبارہ نکلے۔ اس بار چلتے ہوئے اُسے ایک بوڑھا آدمی ملا۔ بوڑھے نے گونگلو میاں کو روکا اور کہا: ”گونگلو میاں! میری بیٹی کی سونے کی انگوٹھی گم ہو گئی ہے۔آپ دعا کروہمیں انگوٹھی مل جائے۔” گونگلو میاں دل میں کہنے لگے: ”میں درویش تو ہوں نہیں جو انگوٹھی ڈھونڈ نکالوں؟ چلو کچھ نہ کچھ تو کرتا ہوں۔” یہ سوچ کر گونگلو میاں نے بوڑھے آدمی سے کہا: ”بڑے میاں! لنگر پکاؤ، آپ بھی کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ، انگوٹھی مل جائے گی۔”
    بوڑھے کی بیٹی لنگر کے لیے چاول نکالنے لگی تو چاولوں میں سے انگوٹھی نکل آئی۔ بوڑھا بڑا خوش ہوا۔ اس نے گونگلو میاں کو ڈھیر سارا انعام دیا۔ گونگلو کے وارے نیارے ہوگئے۔ وہ خوشی خوشی گھر لوٹ آیا۔
    کچھ عرصے بعد بادشاہ کے محل میں چوری ہو گئی۔ شہزادی کا قیمتی ہار کوئی چور لے گیا تھا، بہت تلاش کے بعد بھی چوروں کا سراغ نہ ملا۔ آخر بادشاہ نے گونگلو میاں کو دربار میں بلابھیجا اور کہا: ”گونگلو میاں! شہزادی کا قیمتی ہار چوری ہو گیا ہے، ہار ڈھونڈ کر دو، نہیں تو سزا ملے گی۔” گھونگلو میاں نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! مَیں درویش تو ہوں نہیں جو ہار ڈھونڈ لاؤں۔ میری کرامت ایسے ہی مشہور ہو گئی ہے۔” بادشاہ نے گونگلو میاں سے کہا: ”مجھے بس گم شدہ ہار چاہیے۔” گونگلو چپ ہو گیا اور بات کو ختم کرتے ہوئے کہنے لگا:”چلو! کچھ نہ کچھ تو کرتے ہیں۔ آپ مجھے سات دنوں کی مہلت دیں۔” مہلت لے کر وہ گھر آگیا۔
    گونگلو اگلے روز جنگل میں نکل گیا۔ وہاں جا کر اس نے آواز لگائی: ”ایک تو آگیا، باقی رہ گئے چھے وہ بھی آجائیں گے۔” وہ اپنی مہلت ختم ہونے کے دن گننے لگا۔ گونگلو میاں کو علم نہ ہوا کہ قریب چور کھڑا اس کی باتیں سن رہا ہے۔ چور سمجھاشاید گونگلو اس کی بات کررہا ہے۔ وہ اپنے ساتھی چوروں کو بتانے کے لیے بھاگم بھاگ ان کے پاس پہنچا اور پریشان صورت بناکرکہنے لگا: ”گونگلو میاں کو پتا چل گیا ہے کہ محل سے چوری ہم نے کی ہے۔ اب ہماری خیر نہیں ہے۔” باقی چوراسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ اگلے روز اس بات کی تصدیق کے لیے دوسرا چور پہلے چور کے ساتھ گیا۔دونوں وہاں پہنچے تو حسبِ معمول گونگلو میاں کی اُونچی اُونچی آواز سنائی دے رہی تھی۔
    ”پہلے کے ساتھ آج دوسرا بھی چلا آیا، باقی رہ گئے چھے۔ وہ بھی جلد ہی آ رہے ہیں۔” گونگلو نے کہا تو چوروں کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ بھاگم بھاگ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچے اور انہیں ساری حقیقت بتائی۔ باقی چورو ں نے بھی ایک ایک کر کے یہی عمل دہرایا۔ روز جتنے چور آتے، گونگلو ان کی تعداد بول کر کہتا۔ اتنے آگئے اورباقی اتنے رہ گئے۔ وہ بھی جلد ہی آجائیں گے۔ آخر ساتویں روز چوروں کا سردار خود معاملہ دیکھنے وہاں آیا۔ باقی چور بھی اس کے ہمراہ تھے۔
    وہاں پہنچ کرسارے چور درخت کی اوٹ میں چھپ گئے اور کان لگا کر سننے لگے۔ گونگلو میاں اپنی مستی میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے تھے۔جیسے ہی سردار وہا ں آیا، گونگلو بلند آواز سے بولا: ”لوجی! آج ساتوں کے ساتوں آ گئے۔ اب جو ہو گا وہ کل دربارہی میں دیکھا جائے گا۔” گونگلو اپنی سزا کے بارے میں کہہ رہا تھا۔ اس کی مہلت کے ساتوں دن گزر گئے تھے اور اس نے ابھی تک چورنہیں ڈھونڈے تھے۔ درختوں کی اوٹ میں چھپے چوروں نے اندازہ لگایا گویا گونگلو میاں نے انہیں ڈھونڈ لیا ہے۔ اب وہ پکڑے گئے ہیں۔ یہ سوچ کر سارے چور پریشان ہوگئے۔
    انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اب کیا کریں۔ طے پایا کہ گونگلو میاں کو کچھ دے دلا کرباشاہ کی سزا سے بچا جائے۔ جان ہے تو جہان ہے۔مشورہ کر کے سارے بھاگم بھاگ گونگلو میاں کے پاس آئے۔ ڈر اورخوف کے مارے چور اُس کے پاؤں میں گر پڑے اور چوری تسلیم کرتے ہوئے بولے: ”گونگلو میاں! چوری ہم نے ہی کی ہے ۔ ہم آپ کو چور ی کا ہار اور ساتھ ڈھیر سارا مال دیتے ہیں۔آپ بس ہمیں بادشاہ سے بچا لیں۔” چوروں نے ہار اور دوسرا سامان گونگلو میاں کے حوالے کیا اور خودکہیں بھاگ نکلے۔
    اگلے روز ہار مل جانے پر بادشاہ بڑا خوش ہوا۔اس نے گونگلو میاں کو ڈھیر سارا انعام دیا اور اسے اپنا مصاحبِ خاص بنا لیا۔
    ٭…٭…٭

  • سنی سنائی لوک کہانی | بوتل والا جن

    سنی سنائی لوک کہانی | بوتل والا جن

    سنی سنائی لوک کہانی
    بوتل والا جن
    علی اکمل تصور

    قصور سے تعلق رکھنے والے جناب علی اکمل تصور کی پہلی کہانی 1990ء میں شائع ہوئی۔ ایک بہترین کہانی کار کے طور پر انہوں نے بچوں کا ادب میں اپنا لوہا منوایا۔ 1993ء میں دعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے بہترین ادیب کا ایوارڈ حاصل کیا۔ ملک بھر کے بڑے رسائل میں ان کی کہانیاں نئی نسل کی ادبی و اخلاقی تربیت کر رہی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی تحریر ہے۔
    تقریباً دو سو سال پہلے کی بات ہے۔ کسی گاؤں میں ایک ہندو چرواہا رام داس رہتا تھا۔وہ بکریاں پال کر گزر بسر کرتا۔ بے چارا تنگ دستی کا مارا ہر وقت سوچوں میں ڈوبا رہتا۔ اس دن بھی وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ اس کے آگے آگے بکریاں اٹکھیلیاں کرتے چل رہی تھیں۔ اِن کی منزل گاؤں سے دور ایک گھنا جنگل تھا۔ جہاں بکریوں کو کھانے کے لیے چارا مل جاتا تھا۔ رام داس کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ اپنی بیوی کا علاج کروانے کے لیے اس نے ساہوکار سے قرض لیا پھر ساہوکار نے اُسے سود کے ذریعے اپنے شکنجے میں کس لیا تھا۔ اب وہ رام داس سے اُس کی بکریوں کا ریوڑ چھیننا چاہتا تھا۔
    ”میں بنیے کے قرض سے نجات کیسے حاصل کروں؟” وہ یہی بات سوچ رہا تھا کہ جنگل آگیا۔ سورج سر پر پہنچ چکا تھا۔ وہ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔ اس کی بکریاں اِدھر اُدھر گھوم پھر کر گھاس کھا رہی تھیں۔ اچانک رام داس نے سورج کی روشنی میں چمکتی ہوئی ایک چیز دیکھی۔
    ”یہ کیا ہوسکتا ہے؟” تجسس کے ساتھ وہ اس کی طرف لپکا۔ یہ جادوئی بوتل تھی جس میں جن قید تھا۔ خوشی سے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
    ”اگر اس میں سے جن نکل آئے تو وارے نیارے ہوجائیں۔” اُس کے دل میں امید جاگی۔ اس نے جیسے ہی بوتل کا ڈھکن کھولا، اچانک اس سے دھواں نکلنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھویں نے ایک بھیانک شکل والے جن کی صورت اختیار کرلی۔ خوشی سے رام داس ناچنے لگا۔
    ”تو کیا میں نے اپنے بچپن میں جنوںوالی جو کہانیاں سنی تھیں وہ سب سچی تھیں؟” رام داس سوچنے لگا۔ اب وہ منتظر تھا کہ جن کب اس کی خواہشات پوری کرتا ہے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جن تو اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
    ”اے نادان آدمی! میری بات سن۔” جن کڑکتے لہجے میں بولا۔ اس کی آواز ایسی خوف ناک تھی کہ رام داس کی گھگیبندھ گئی۔ اس کے باوجود وہ ہمت کرکے بولا: ”تمیز سے بات کر، میں تیرا مالک ہوں۔”
    ”مالک… ہاہاہا۔ احمق آدمی میں بوتل کا قیدی ہوں۔ تم نے اپنی شامت کو خود آواز دی ہے، مجھے بھوک لگی ہے، میں کیا کروں؟ کس کو کھاؤں؟ ہاں میں تمہیں کھاؤں گا۔ آدم بُو… آدم بُو۔”جن چلّایا۔
    اُس کی باتیں سن کر رام داس کو چکر آگیا۔ ”یہ اچھی بات نہیں ہے، میں نے تمہیں قید سے آزاد کیا ہے۔ تمہارے ساتھ نیکی کی ہے اور تم میرے ساتھ زیادتی کرنا چاہتے ہو؟” رام داس نے کہا۔
    ”نیکی کیا ہے؟ زیادتی کیا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ مجھے بھوک لگی ہے اور اب میں تمہیں کھا کر اپنی بھوک مٹاؤں گا۔” جن بولا۔
    ”کیا تم نیکی اور بدی کا فلسفہ نہیں جانتے؟ چلو میرے ساتھ، پہلے ہم کسی منصف سے فیصلہ لیتے ہیں کہ نیکی کا بدلہ بدی سے نہیں دیا جاتا۔” رام داس نے کہا۔ ”ٹھیک ہے لیکن اگر فیصلہ میرے حق میں ہوگیا، تو میں تمہیں کھا جاؤں گا۔” جن کی بات سن کر رام داس نے سکھ کا سانس لیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ فیصلہ اُس کے حق میں ہوگا اور یوں اُس کی جان بچ جائے گی۔ رام داس کو اپنی جان کے لالے پڑے تھے وہ بکریوں کا کیا کرتا۔ اس نے اپنی بکریاں جنگل میں چھوڑیں اور ایک جانب چل پڑا۔ جن اُس کے سر پر ہوا میں پرواز کررہا تھا۔ چلتے چلتے سامنے ایک بلند پہاڑ آگیا۔ پہاڑ دیکھ کر رام داس رُک گیا۔ اب اس نے بلند آواز میں پہاڑ کو آواز دی: ”اے پہاڑ! ہمارے درمیان نیکی اور بدی کا فیصلہ کر دو۔”

    پہاڑ نے فوراً ہی جواب دیا۔”نیکی اور بدی کا فیصلہ؟ آخر بات کیا ہے؟”
    رام داس بولا: ”یہ ظالم جن بوتل میں قید تھا۔ میں نے اِسے آزادی دلائی اور اب یہ مجھے ہی کھانا چاہتا ہے۔ کیا نیکی اور بدی برابر ہوسکتے ہیں؟” رام داس کی بات سن کر پہاڑ نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولا: ”تمہیں کیا بتاؤں دوست! میں تو خود بہت دکھی ہوں۔ قدرت نے مجھے طاقت دی اور میں نے اس زمین کو سنبھال رکھا ہے، مگر یہ انسان میری جڑیں کھود رہے ہیں، سرنگیں بنا رہے ہیں۔ وہ میرے پتھروں سے اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں ، مجھ میں کوئلے اور ہیرے تلاش کررہے ہیں۔ اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو جلدی ہی میں زمین بوس ہوجاؤں گا، میں بہت دکھی ہوں۔ میں منصف بن کر تمہارا فیصلہ نہیں کرسکتا، جاؤ کوئی اور منصف ڈھونڈ لو۔” پہاڑ کی بات سن کر رام داس بوجھل دل کے ساتھ آگے روانہ ہوا۔ تھوڑی دور جاکر اُسے ایک درخت نظر آیا۔ یہ بوڑھا درخت تھا۔
    ”اے درخت! ہمارے درمیان نیکی اور بدی کا فیصلہ کر دو۔”اُس نے التجا کی۔
    ”نیکی اور بدی کا فیصلہ؟ ہوا کیا ہے؟” درخت نے پوچھا۔
    ”یہ جن بوتل میں قید تھا۔ میں نے اِسے آزادی دلائی اور اب یہ مجھے ہی کھانا چاہتا ہے، کیا نیکی اور بدی برابر ہو سکتے ہیں؟” رام داس کی بات سن کر درخت نے سرد آہ بھری۔
    ”میں تمہیں کیا بتاؤں دوست! میں تو خود بہت دکھی ہوں، قدرت نے مجھے بہت خاص بنایا ہے۔ میں پھل دیتا ہوں اور سایہ بھی، مگر اس کے باوجود انسان میرے در پے ہے۔ یہ پھل لینے کے لیے مجھے پتھر مارتے ہیں۔ کلہاڑی سے میری شاخیں کاٹتے ہیں۔ مجھے بہت درد ہوتا ہے۔ اب تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کسی روز انسان آرے سے مجھے کاٹ پھنکیں گے۔ میں بہت دکھی ہوں۔ میں منصف بن کر تمہارا فیصلہ نہیں کرسکتا، جاؤ کوئی اور منصف ڈھونڈ لو۔” درخت کی باتیں سن کر رام داس گھبرا گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اُتر آئے۔
    ”تم خود کو مظلوم سمجھتے ہو؟ دراصل اس زمین پر سب سے بڑے ظالم تم لوگ خود ہی ہو۔” جن خوش ہوکر قہقہے لگا رہا تھا۔
    ”امید ابھی باقی ہے ظالم جن! چلو میرے ساتھ۔” رام داس چل پڑا۔ اب اُس کی منزل مومن خان کے کھیت تھے۔ مومن خان ایک کاشت کار تھا۔ جب رام داس، مومن خان کے کھیتوں میں پہنچا، تو دیکھا۔ مومن خان بیلوں کی مدد سے کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔
    ”مومن خان!” رام داس نے اُسے آواز دی۔ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر رام داس کے پاس چلا آیا۔