Tag: children stories

  • چپ — عزہ خالد

    برتنوں کا ڈھیر دھو کر فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    کمرے اور کچن کے بیچ اتنا فاصلہ تو نہ تھا مگر پھر بھی اس کی سانس پھول گئی تھی۔
    سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر پر نظر پڑتے ہی اسے کچھ یاد آیا تھا۔ ”بارہ جون…”
    یہ جون کی بارہ تاریخ توکچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔ کوئی نہ کوئی خوش گوار یاد تو وابستہ ہو گی اس دن سے…
    کچھ نہ کچھ تو ہے اس دن… مگر کیا…؟؟
    دماغ کے کسی کونے کھدرے سے ایک یاد برآمد ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سی گڑیا… خوب صورت فراک پہنے… بالوں میں رنگ برنگی پنیں لگائے… سامنے میز پر رکھا کیک کاٹ رہی تھی…





    ”ہیپی برتھ ڈے…” کا شور… ہنستے مسکراتے چہرے… (جو جانے کہاں کھو گئے تھے…)
    اوہ… آج تو مرحومہ ہادیہ عبدالباسط کی سالگرہ ہے… جو کبھی بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ دونوں بھائی پورے گھر میں غبارے لگاتے تھے۔
    اب معلوم نہیں وقت بدل گیا تھا یا بھائی…
    کمرے میں داخل ہونے سے بستر پر بیٹھنے تک اس کی نظریں کیلنڈر سے نہ ہٹی تھیں۔
    اس کی عمر کتنی ہے…؟؟
    بہت سوچنے اور دماغ پر زور دینے کے بعد وہ حساب لگا پائی تھی۔
    آج وہ بتیس سال کی ہو گئی ہے۔
    بتیس سال…
    آج اس کے اس دنیا میں بتیس سال پورے ہو گئے ہیں۔
    عمر بتیس سال
    ہاتھ… خالی
    دل… خالی
    دامن … خالی
    جانے اس دنیا میں آنے والوں کو عمر، خوشی غم کس حساب سے تقسیم کیے جاتے …
    کسے کتنے سال جینا ہے…؟
    کس کے حصے میں کتنی خوشیاں ہیں…
    کتنے غم ہیں…
    کتنے گھنٹے مسکرانا ہے…
    کتنے گھنٹے آنسو بہانا ہے…
    کس کے لیے زندگی ”گلزار” ہے اور کس کے لیے زندگی ”بوجھ” ہے۔ کچھ زندگی کے اس سفر پر ہنستے مسکراتے بے فکری سے چلے جا رہے ہیں اور کچھ اسے بوجھ کی طرح گھسیٹے جا رہے ہیں۔
    اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔
    وہ ”ہادیہ عبدالباسط” خود کو زندوں میں شمار نہیں کرتی تھی۔
    وہ مر چکی ہے…
    زندہ لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں… خوش ہوتے ہیں…
    اسے ہنسے مسکرائے اتنا عرصہ ہو گیا کہ اسے خود بھی یاد نہیں وہ آخری مرتبہ کب ہنسی تھی؟
    زندہ انسانوں کو جب کوئی برا بھلا کہے تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں۔ پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے… پر اسے صبح سے شام کوئی کچھ بھی کہے … جتنا چاہے ذلیل کرے … اسے ذرا فرق نہیں پڑتا…
    زندہ انسان خواب دیکھتے ہیں…
    اس کا خوابوں سے کوئی لینا دینا نہیں…
    (ماضی میں رہا ہو تو یاد نہیں…)





    وہ گونگی نہیں پر دو چار دن میں ایک آدھ جملہ ہی بولتی ہے…
    چند گنے چنے جملوں کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کرتی …
    خواہشیں… وہ کیا بلا ہیں…؟ اسے نہیں معلوم …
    خوشی، غم، خواب، خواہش، دکھ، تکلیف… یہ سب اس کے لیے ایسی زبان کے لفظ ہیں جن کی وہ حروف تہجی سے بھی واقف نہیں… تو وہ کیسے خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرے۔
    ماضی میں شاید اس زبان سے شناسائی رہی ہو… تھوڑی بہت جان پہچان رہی ہو… مگر اب… اب تو جیسے یادداشت پر گرد کی موٹی تہ جم گئی ہو…
    آج سے پہلے اسے کبھی اتنا وقت ہی نہ ملا تھا کہ فرصت سے بیٹھ کر ماضی کو یاد کر سکے… اس گرد کی موٹی تہ کو صاف کرے… زندگی کی جمع تفریق کرے… کیا کھویا… کیا پایا… ”پایا” والا خانہ خالی تھا۔
    ”کھوئے” والے خانے میں ایک لمبی فہرست تھی…
    بھائی بھابھی بچوں کے ساتھ کسی عزیز کے ہاں شادی پر گئے تھے۔
    وہ طویل سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
    ایک گڑیا تھی گھر بھر کی لاڈلی… بابا کی جان…
    بابا اس کی فرمائشیں پوری کیے جاتے… بھائی لاڈ اٹھاتے نہ تھکتے تھے… اور امی بس اس کی باتوں پر مسکرائے جائیں۔
    پھر وقت بدلا، منظر بدلا، گھر کے باہر ایمبولینس آکر رکی…
    آفس جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے…
    ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا وہ بس یاد کی صورت میں رہ گئے…
    معاشی حالات بگڑے … وقاص بھائی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی شروع کی… وقار بھائی شام کے وقت اکیڈمی میں پڑھانے لگے…
    حالات بہت اچھے تو نہ ہوئے پر گزارا اچھا ہونے لگا۔
    وہ کالج جانے لگی… راستے میں کھڑا آوارہ چھچھورے لڑکوں کا گروپ … اسے دیکھ کر گانے گاتا… جملے کستا…
    گھر آکر امی سے کہا… تو انہوں نے اسے ”چپ” رہنے کو کہا…
    ارادہ تھا کہ بھائیوں کو بتا کر ان کی طبیعت صاف کروائے گی۔ مگر امی نے سختی سے منع کر دیا۔
    ”کوئی ضرورت نہیں ہے… وہ جھگڑ پڑیں گے… بات بڑھ جائے گی… تم بس خاموش رہا کرو… گھر سے کالج اور کالج سے گھر… کسی کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں…” امی نصیحتیں سن کر وہ بس انہیں دیکھتی رہ جاتی۔
    اس آوارہ گروپ کی ہمت اس کی خاموشی سے مزید بڑھی اور وہ اسے کالج تک چھوڑ کر آنا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا تھا۔
    ادھر اس کا گریجویشن ہوا ادھر ساتھ والے محلے کی خاتون مٹھائی کا ڈبہ لیے رشتہ لے کر پہنچ گئی…
    ”میں اپنے بیٹے اکمل کا رشتہ لے کر آئی ہوں… مین روڈ پر جو ورکشاپ ہے اس میں کام کرتا ہے…”
    فضیلہ بیگم حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں جو اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ ”ہاں” ہو گی تبھی مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے کر آئی تھیں۔
    ”مجھے اکمل نے ہی بھیجا ہے آپ کو آپ کی بیٹی نے بتایا ہو گا…” انہوں نے فضیلہ بیگم کی حیرت دور کرنا چاہی تھی۔
    فضیلہ بیگم نے کچن کی کھڑکی میں کھڑی ہادیہ کودیکھا تھا جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان چھچھوروں میں سے اکمل تھا کون سا …
    ”بہن میں معافی چاہتی ہوں… آپ کے بیٹے اور میری بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں ہے… میری طرف سے انکار…” ابھی فضیلہ بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ خاتون بول پڑیں۔
    ”یہ بات تو اپنی بیٹی کو سمجھانی تھی نا… کیوں سج دھج کر باہر نکلتی تھی… میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا… میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی… اکمل کی ضد کی وجہ سے آگئی…” وہ خاتون سو باتیں سنانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ اٹھا ئے واپس چلی گئی۔
    امی کو اپنی جانب عجیب نظروں سے دیکھتا پا کر اس نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق کسی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔
    ”چھوڑو… دفع کرو…”
    ”بھائیوں کو نہ بتانا…” امی کی ہدایت پر وہ صرف حیران ہوئی تھی وہ بھلا انہیں بتاتی بھی کیا…
    امی کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ”چپ” تھا۔
    پھر منظر بدلا۔
    دونوں بھائیوں کی شادی ہو گئی… کچھ دن اچھے گزرے پھر بھابھی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔




  • چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    اسلام آبادکے خوب صورت ائیر پورٹ پر ایک سال بعد بھی ویسی ہی رونق تھی۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا، ہاں البتہ فریال اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، نا صرف حلیے سے بلکہ مزاج سے بھی وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ میچور ہوگئی تھی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھاکہ وہ دھا ڑیں مار مار کے رونا شروع کردیتی۔ دل میں درد کی لہر اٹھی تو تھی لیکن اس نے اپنی سائیکا ٹرسٹ دوست ڈاکٹر سبین مرتضیٰ کی بتائی ہوئی ترکیب پہ عمل کرتے ہوئے چند گہری سانسیں لینا شروع کیں اور پھر سے اس خوبصورت ما حول میں جینے کے لیے، خود کو تیا ر کیا۔
    وہ اتنی کم زور تو کبھی نہ تھی کہ اسے یہ وقت کاٹنا اتنا مشکل لگتا۔ امی ابو کی اچانک موت نے اسے زندگی کے رموزو اسرار تو سکھا ہی دیے تھے،لیکن شاید ابھی اس کا کندن بننے کا عمل جاری تھا۔ ”وہ کھلنڈری فری” اب پھر سے فریال سعداحمد تھی۔
    سفر پھر سے شروع تھا، اس وقت کو بھول جانے کے لیے ملازمت بے حد ضروری تھی۔ خود شناسی بھی تو بہت ہی لازم ہے ناں، کب تک شاگردی کرتی؟ استاد بھی تو بننا تھا۔ آنے والوں کے لیے مشعل راہ، زندگی شمع کی صورت تب ہی تو بنتی ہے جب شعلہ بنے اور روشنی پھیلا ئے۔
    شومئی قسمت! نوکری ملی بھی توملگجی شام کی یاد لیے،غروب آفتاب کی طرح، اس سر سبز شہر میں جہاں اس کی زندگی میںخزاں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔





    کل رات جب اس نے اپنی مسیحا دوست کو الوداع کہتے ہوئے خوش بو کا تحفہ دیتے ہوئے کہا تھا:
    ”دعا کرنا”
    سبین کہ اب دوبارہ تم سے ملوںتو تمہاری دوست پھر سے زندہ ہو۔ زندہ لو گوں کی طرح سانس لینے کا ہنر سیکھ چکی ہو،اس کا اعتبار ،اس کا اعتماد پھر سے بحا ل ہوچکا ہو”
    وہ دوست تھی ناں،اس کے دونوں ہاتھ مضبو طی سے تھامتے ہوئے کہا:
    ”تم ہمیشہ بہادر تھیں،کالج میں بھی اور یونیورسٹی میں بھی ، جب میں تم سے پہلی بار ملی تھی یا د ہے ناں ،صومی کے گھر پہ،اور فیلڈ الگ ہونے کے باوجود میری تم سے دوستی کی وجہ تمہاری چاند جیسی صورت ہی نہیں، خوب صورت دل بھی تھا، اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے ابو نہیں ہیں، تو کیا ہوا؟ میرے ابو کو اپنا (بابا سائیں سمجھ لو ناں، اور پھر تم نے یہ سچ کر دکھایا۔ ابھی بھی حسن جاوید کی بے وفائی نے تم کو افسردہ ضرور کردیا ہے، لیکن تنہا نہیں کیا۔ تمہاری خالہ نے تم کو ڈھونڈ ہی لیا ناں،والدین کی جدائی کو تم نے سہا، اس بے درد کی بے وفائی کو سارے شہر سے چھپایا۔ اب بھی اس کی شادی کی خبر کو تم نے سہا۔ ویسے بھی اس سے رشتہ ہی ٹوٹا ہے ناں، یقین کرو رب سائیں کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا،میری بھی شادی ابھی تک نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہی تھی کہ تم نے میرے پاس آنا تھا۔ویسے بھی رشتے تو سارے وقتی ہوتے ہیں، سائے کی طرح گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، خاص طورپہ آزمائش کے وقت میں۔ رشتو ں کو سمجھنا ہے تو مو سموں کو دیکھو، کبھی گرم کبھی سرد۔۔۔۔ ویسے میں تمہاری خالہ جان سے ملنے ضرور آئوں گی،ان کو تو دعوتیں کرنے کا شوق ہے ناں، اور مجھے دعوت کھا نے کا” وہ ہنس دی۔
    ”پلیز پلیز ضرور آنا۔۔۔میرا بھی دل چاہے گاکہ اسلام آباد کی سڑکوں پہ تمہارے ساتھ قدرت کے کرشمے دیکھوں۔ بہت عرصے سے ٹھنڈے کمروں،اور ڈنر ز نے مجھ سے موسموں کا حسن، ان کو انجوائے کرنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ میں بھی جی لوں گی ان دنوں” فری پھر اداس ہونے لگی۔
    ”اب تم اس انداز کو سوچو بھی ناں،یہ جاب تمہاری مرضی کی ہے،تم یقینا اسے انجوائے کروگی یارا اس نے الوداع ہوتے ہوئے بہت پیار سے اسے کہا تھا۔”
    ٭…٭…٭
    ”مولا! تو ہی کا میابی اور کامرانی عطا کرنے والا ہے۔” اس نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے پھر سے خود کو اسلام آباد کی خو ب صورت اورطویل شاہراہوںکی طرف متوجہ کرتے ہوئے دعا کی۔
    ”شکر ہے آنیا جی نے اپنے ڈرائیور خان جی کو بھیج دیا۔” اس نے تیزی سے گزرتی اس پاک سر زمین کی شادابی کو دیکھتے ہوئے قدرت کی صناعی کو سراہا، اور پھر امانت علی خان کی آواز بھی اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
    ”ابو کو بھی یہ قو می نغمہ اور یہ آوازکتنی پسند تھی۔”
    ”اے وطن پاک وطن۔۔۔پاک وطن
    اے میرے پیارے وطن”
    وہ اکثر سنتے اور اسے بھی خاص طور پہ سناتے۔
    ”اف! یہ ماضی، خواب کیوں نہیں بن جاتا؟ ہمارے اندر ہر لمحہ سانس کیوں لینے لگتا ہے؟” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سوچا۔
    گاڑی اب F.6/4 سے گزررہی تھی جہاں اس نے حسن جاوید کے ساتھ زندگی کے صرف دو سال ہی تو گزارے تھے، جو شاید اس کی زندگی پر نہ چاہتے ہوئے بھی حاوی ہوگئے تھے۔اور شاید روگ بھی بنتے جارہے تھے۔اس روڈ کی ایک شام کا ایک ایک لمحہ اسے یاد آنے لگا تھا۔
    وہ تو اس کے رنگ میں رنگ گئی تھی، اسے تو صرف اب یہ یاد تھا کہ اسے ابو کی وجہ سے فیض احمد فیض بہت پسند تھے اور حسن جاوید کو بھی، لیکن اس نے ٹینا ثانی کے بعد پہلی بار مونا احمد کو فیض کو گاتے سنا تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئی تھی۔ اس نے جانا ہی نہیں کہ یہ کیفیت اس پہ گزری لیکن واردات کہیں اور بھی ہوگئی تھی۔ واپسی میں بھی اس نے ڈھونڈ کے ،موبائل پہ پھر سے سرچ کرکے مونا احمد کو لگایا۔ وہ دونوں سارے راستے پھر اسی کو سنتے رہے، اس کی آواز اور فیض کا کلام روح کو ایسے آسودہ کررہا تھا کہ گھر آکے اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے بات بھی نہ کی،ایسی سرشاری رہی۔۔۔۔
    ستم سکھلائے گا رسمِ وفا ایسے نہیں ہو تا
    صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
    جہاں دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
    یہاں پیمانِ تسلیم ورضا ایسے نہیں ہوتا
    ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوںتو ہوتا ہے
    مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
    مونا کی آواز کب فری کے دل میں اتری اور کب وہ ماہ نور ،حسن جاوید کے دل میں براجمان ہوئی ،وہ جان ہی نہ سکی۔ اس کو توآئینہ ہر بار یہ ہی پیغام دیتا کہ تم پری ہو، اور اس کے دل پہ حکومت کرنے ہی تو اس دنیا میں آئی ہو۔ کیوں کہ حسن جاوید نے ہی تو اس سے کہاتھا: تمہارا M.B.Aکا آخری سمسٹر ،جو ہماری شادی کی وجہ سے رہ گیا ہے اسے مکمل کرلو،پھر ہم اپنا بزنس جلد ہی شروع کریںگے۔”
    ٭…٭…٭
    وہ ماضی کا سفر کرتے ہوئے ”سعد ولا” کے آہنی گیٹ کے سامنے تھی۔ آنیاجی جو اس کی سگی خالہ تھیں اور اس کی اس حرکت پہ شدید ناراض بھی تھیں کہ اس نے اپنی عدت کا وقت ان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی دوست کے گھر گزارا۔ وہ اپنے بینک بیلنس پہ عیش کرنے والے حسن کو اب کوئی بھی رعایت دینے کو تیار نہ تھی۔
    ڈاکٹرنے اس کے اسلام آباد آنے سے پہلے انہیں بھی اس کی ذہنی کیفیت بتا کر راضی کرلیا تھا۔
    ”وہ تمہارا گھر ہے ، تم سکون محسوس کروگی ،ان کی گود میں سر رکھ کے تمہاری تنہائی کم ہوگی ،وہ خود بھی تو ذیادہ تر اکیلی ہی رہتی ہیں۔” اس کے کانوں میں اپنی دوست کے الفاظ گونجے۔
    مسز تنویر احمداس کی سگی خالہ جو بے حد خوب صورت اور پریکٹیکل خا تون تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھیںکہ حسن جاوید مہارت سے جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔ اس کے لیے رشتوں میں جڑے رہنے کی اہمیت ہی نہیں کیوں کہ وہ خود ایک broken family کا بچہ تھا، اب بھلا اس عمر میں وہ اپنے ساتھ ساتھ آنیا جی کو بھی ان خبروں میںکیو ں لاتی، وہ جان چکی تھی کہ اب واپسی کے سارے راستے بند تھے۔
    وہ ایک سال تک ان سے دور رہی اور اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ ان سے سب حالات شیئرکرتی۔ معصومیت کی ہی بنا پہ تو، زندگی اس کے ساتھ یہ کھیل اتنی بے دردی سے کھیل گئی تھی۔ وہ ان کو کیا بتاتی کہ وہ جس حسن جاوید کو جانتی تھیں، اس کو ڈیڈی کی جائیداد نے کچھ اور ہی رنگوں میں رنگ دیا تھا۔ ایسے رنگ جس نے اسے تمام اخلاق اور اقدار سے عاری کردیا تھا۔ بے وفائی اس کی فطرت میں ہی ہوگی ورنہ ایسے ہی تو نہیں کوئی لمحوں میں فیصلہ کرتا۔ اولاد کی کمی نے تو اسے احساس تنہائی دیا ہی تھا، لیکن جس درد نے اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ اُسے سمیٹنا بھی تو تھا۔ خود کو جوڑنا بھی تو تھا۔ توڑنے والے کو بھلا کب یہ احساس تھاکہ کچھ رشتے کانچ سے بھی ذیادہ نازک ہوتے ہیں۔
    گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی آج پہلی مرتبہ وہ خود اسے ریسیو کرنے گیٹ تک آئیں۔ اسے بے اختیار وہ شام بھی یاد آگئی جب اس نے ڈنر سے واپسی پر اپنی عادت کے مطابق کچھ تحریر کیا، اسے کیا خبرتھی کہ وہ رات ان دونوں کے درمیان جدائی کا لمحہ بھی ساتھ لائی تھی، دسمبر کی شام۔ اس روز بہت دھند تھی۔
    ”تم دونوں اس گھر میں کبھی بھی اور کسی بھی وقت آ سکتے ہو۔ آپی اب اس دنیا میں نہیں ہیںتو کیا ہوا میرا گھر تمہارے لیے میکہ ہی ہے۔ میں تو ویسے بھی دوستوں کی محفلیں سجاتی رہتی ہوں۔ ماں جیسی شفقت تو شاید نہ دے سکوں، لیکن میرا دل ہر وقت تمہارا منتظررہے گا۔ یہ بات ہمیشہ یادرکھنا۔” ان کی آواز میں نمی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

    ہم اسکول سے ہولیں
    بات ادب کی بولیں

    کرلی ہم نے بہت ہے مستی
    ملے گی اس سے شہرت سستی

    ہوگی ورنہ پھر رسوائی
    جو کام نہ کسی کے آئی

    چلو اب ہی محنت کرلیں
    اور قسمت کو بدل لیں

    جو وقت بچا ہم پائیں
    تو مُلک کو خوب چلائیں

    سب کو پیچھے چھوڑیں ہم
    آگے آگے دوڑیں ہم

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

  • تھکن — سمیرا غزل

    تھکن — سمیرا غزل

    انسان کتنا نادان ہے….کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی تنی ہوئی چربی رکاوٹ بنی رہتی ہے” وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہی تھی۔
    ”کیا تمہیں ریت کی پیاس کا اندازہ ہے سبین؟” اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہے! کبھی نہیں بجھتی۔” میں نے کہا۔
    ”تم نے کبھی کسی صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی پیاس بجھانے کی کوشش کی؟”
    ”نہیں!”میں نے نفی میں سر ہلایا۔
    "مگر میں نے کی ہے اور تم جانو یہ دنیا کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا اور مشکل ترین کام ہے” وہ اسی طرح خلا میں تکتے ہوئے بات کرتے جارہی تھی۔
    ”تم نے یہ کوشش کیوں کی؟” میں نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
    "تاکہ خود کو سیراب کر سکوں”
    ”ناکام کیوں ہوگئیں؟”





    "کیو ںکہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی، اپنا آپ جھلس جاتا ہے، مگر ہوس باقی رہتی ہے، یہ سب سے تھکادینے والا کام ہے۔” اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے تارے چمکنے لگے۔
    نیا واقعہ کیا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکے سر جھکا لیا اور پوچھا۔
    "رواج، وہ رواج جس کی بھوک مٹاتے مٹاتے ہم ادھ موئے ہوجاتے ہیں” اس کی زبان میں لرزش تھی۔
    ”کون سا رواج” میں نے تعجب سے پوچھا؟
    ”وہ رواج جس کی ادائی پہ نہیں ہونے پہ دکھ ہوتا ہے۔ ”کچھ بتا تو……” میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”کال ریکارڈنگ ملی ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ارے بابا کس کی؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا۔
    ”ان کی جو رواجوں کے پابند ہیں…”
    ”کون؟” میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
    وہی جنہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک کوئی حق ادا نہیں کیا۔” وہ مجھے اپنی مبہم باتوں میں الجھا رہی تھی اور میں گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
    "وہی جن کا موبائل میری بیٹی نے گیم کھیلنے کے لیے مانگا تھا اور پھر معلوم نہیں کیسے وہ ریکارڈنگ چل گئی” وہ بڑبڑائی..
    کون ن ن ن سسی ریکارڈنگ؟؟” میں حیرانی سے چلائی۔
    "وہ جو شاید ان کے پاس غلطی سے ریکارڈ ہوگئی تھی۔”
    ”کچھ بتاؤ گی بھی فائزہ؟ یا یونہی پہیلیاںبُجھاتی رہو گی؟” میں چیخ پڑی۔
    "جس میں میری نند نے دوسری نند سے میری شکایت کی اور بتایا کہ میں اتنی بری اس لیے ہوں کہ میرا میکا بھی ایسا ہے۔” وہ پھر لمبے وقفے پر چلی گئی۔
    ”افففففف تو وجہ کیا تھی یہ سب کہنے کی؟”
    "انہیں عید کی دعوت کے فوراً بعد ان کی امی یعنی میری ساس کی عدت پوری ہونے کی خوشی میں دعوت چاہیے تھی اور ان کا یہ قدیم رواج مجھے قطعاً یاد نہیں رہا”
    ”اف توبہ کیا جہالت ہے فائزہ؟” غصہ سے میری رگیں تن گئیں۔
    ”میں نے تمہیں کہا تھا نہ سبین کہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی اور جس کا پیٹ ہی صحرا بن جائے تو ان کے غم بھی پیٹ کی ہی سوچتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی پلکوں پہ صدیوں کا بوجھ اور لہجے میں گہری تھکن تھی۔

    ٭…٭…٭




  • صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں بیتی تھیں یا لمحے کیا معلوم ؟ لمحوں کی خبر تو وہ رکھتے ہیں جن کے پاس کھونے کو بھی بہت ہو ، پانے کو بھی بہت ۔ آپا کے پاس کیا تھا ؟ ظاہری طور پہ توکچھ نہیں ۔ جب سے آنکھ کھولی ہے، آپا کو یہیں پایا ہے اِسی کھڑکی میں۔ بس جمعرات کو بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتے دیکھا اور پھر اِسی کھڑکی میں کھڑے۔ کبھی جی کیا تو پاس پڑی کُرسی پر بیٹھ گئیں ۔ اکثر اکیڈمی سے آ کر بی آپا کے پاس بیٹھنے کی کوشش، کبھی اماں بیٹھنے نہ دیتیں تو کبھی آپا ہی زیادہ بات نہ کرتیں۔ ایک دم حسبِ عادت آپا کے پاس گئی انہیں کھڑکی سے ہٹا کر پلنگ کی طرف لے گئی اور کہنے لگی:
    ”آپا۔۔! کیا ہر وقت وہاں کھڑی رہتی ہیں؟ یہاں بیٹھئے ۔ ”
    ”آپا اپنے مخصوص انداز میں کہتیں، ‘پرے ہٹو۔ تُم کیا جانو ان احساسات کو؟”
    ”آپا آپ کیوں مُجھے ابھی تک بچہ ہی سمجھتی ہیں؟ جب میں یہاں آئی تھی نا تب تھی چار برس کی۔ اب تو پُورے اٹھارہ برس کی ہوں بلکہ دیکھنے میں آپ جتنی ہی لگتی ہوں۔”
    ”میرے جیسی نہ بن جانا۔” آپا نے جلے کٹے لہجے میں کہا۔
    ”ضوفی ۔۔ ضوفی ۔۔’ ‘ اماں نے آواز دی۔
    ”لو جی آ گئی اماں کی آواز ۔” ضوفشاں نے کہا۔





    ”آبیٹا! پہنچتے ہی گُھس گئی بدروح کے پاس۔ روٹیاں ڈال لے، نعمان ، نوید اور وارث آنے والے ہوں گے۔ بس دس بارہ ہی ڈالنی ہیں۔”
    حاجرہ اور سمیرا کو بھی بھوک لگ گئی ہو گی اور بہو بیگم کی بھی دو ڈال دیجئیو۔” اماں نے آواز لگائی۔
    ‘آئی اماں۔ ‘ ضوفشاں نے کہا۔
    ضوفشاں کمرے سے باہر نکلی۔’ ‘بس دو منٹ میں ڈال دوں گی۔”
    ”ہاں میری شیر بیٹی۔” اماں نے کہا۔
    ”اماں بچوں کے لئے بھی ڈالنی ہیں روٹیاں؟” ضوفشاں نے باورچی خانے سے آواز لگائی۔
    ‘نہیں روٹیاں بنا کر ان کے لئے چاول اُبال لینا۔”
    ”حاجرہ کی بیٹی ٹھیک نہیں۔ پھر وہ کھائے گی تو نوید کے بچے بھی مانگیں گے ۔ بھئی میں تو برابری کرتی سب کے ساتھ تو سب بچوں کے لئے چاول ہی اُبال دو۔” اماں نے کچھ خود کلامی کی تو کچھ ضوفشاں کو اعلان کیا۔
    ”اچھا اماں۔’ ‘ ضوفشاں نے جواب دیا۔
    نوید کھانا کھانے لگا تو بولا: ”بھئی سلاد آج پھر کسی نے نہیں کاٹا ۔ سلاد کے بغیر کہاں کھانا اندر جاتا ہے۔”
    ”چاول اُبالنے لگ گئی تھی بھائی۔ ابھی کاٹ دیتی ہوں۔” ضوفشاں نے کہا۔
    ”جیب میں ٹکا ایک نہیں اور نخرے دیکھو۔’ ‘ حاجرہ بڑبڑائی۔
    ”دو دو میرے میاں کو طعنے ، بے روزگار ہے ناں ۔ تبھی اپنی پسند کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔” صائمہ بھابھی نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”سلاد کاٹ دو ضوفی ۔” اماں نے آواز دی۔
    ”ابھی لائی اماں۔” ضوفی نے جواباً کہا۔
    ”تو بھابھی اُٹھ کے کاٹ لے نا۔ یہاں کیوں ہر کوئی مُفت کی روٹیاں توڑنے میں لگا ہے۔” حاجرہ نے اپنی بیٹی کے منہ میں چاول ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اماں سلاد نہیں ہے۔” ضوفی نے باورچی خانے سے آواز دی۔
    ”یہی زبان ہے جس نے تُمہیں گھر بٹھایا ہے۔’ ‘ بھابھی نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”جو بھی ہے ، جیسی بھی ہوں ، مُفت کا نہیں کھا رہی ۔ محنت کرتی ہوں اور خود کماتی ہوں ۔ کسی پہ بوجھ نہیں ہوں۔ تُم تو گھر بسا کے چار بچوں میاں سمیت سب پہ بوجھ ہو۔” حاجرہ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ضوفشاں آئو تُم بھی کھائو ۔’ ‘ سمیرا نے آواز دیتے ہوئے کہا ۔
    ”میں بس آپا کو کھانا دے آئوں پھر کھاتی ہوں۔”
    ”اماں! نحوست کب تک کھڑکی کے سرہانے کھڑی رہے گی؟ مفت کی عادت پڑ گئی ہے ۔ اچھی بھلی نوکری کو لات مار دی۔” نوید نے کہا۔
    ”ہاں ہاں! کمائو بھائی جو نظر آ رہا تھا ۔ نیت کے کھوٹے لوگ۔” صائمہ بھابھی نے کہا ۔
    جب بھی وہ نیت کے کھوٹے لوگ کہتی، نائلہ ان کی طرف حیرانی سے دیکھتی پھر بھابھی چِڑ کے کہتیں:
    ”اے ہے ۔۔ تو کیا گھور رہی ہے مجھے ۔ کام کر جو کر رہی ہے ۔ ”
    اماں خاموشی سے سُنتی رہتیں۔ایک دِن حاجرہ نے طیش میں آ کر کہہ ہی دیا:
    ”اس وقت تو بڑا نئی نویلی دُلہن کے آنچل میں منہ چھپائے اماں اور بہنوں کو چھوڑ گئے تھے ۔ یہ وہی ہے جس کے آسرے پر چھوڑ گئے تھے۔”
    بھابھی طیش میں آتی اور چلاتی:
    ”ہائے ہائے بد زبان ، اسی زبان نے تو گھر بٹھایا ہے تجھے۔۔ورنہ۔ آج تیرا بھی گھر بس رہا ہوتا۔”
    ”تُم نہ ان کے منہ لگو صائمہ ، یہ ہے ہی بد لحاظ ، بد تمیز ، نہ چھوٹے کی تمیز نہ بڑے کی ۔” نوید کہتا۔
    اماں بین کرنے لگتیں۔
    ”میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔گھر والا اچھا نکلا نہ اولاد ۔ جوانی میں ہی مجھے بیوہ کر کے اس کنواری رانی کے ساتھ نکل گیا۔”
    سمیرا باتوں میں ہمیشہ ہی ایک نیا چٹکلا چھوڑتی۔
    ”اماں سُنا ہے ابا اس رانی کے ساتھ فیصل آباد میں ہیں آج کل۔ ابا کی کوئی اولاد نہیں رانی سے۔ یہ بھی سُننے میں آیا ہے کہ وہ کہتی ہے میری سوتن نے کالا جادو کرایا ہے۔”
    ”پچھلی بار تو نے بتایا تھا کہ ابا کی بیٹی جوان ہے اور بیٹا، یہ اپنے ٹنکو جیسا ہے ۔ آج کہہ رہی ہے رانی بانجھ ہے ۔” حاجرہ کہتی ۔
    ”یہ لو۔۔ کھاتی ماں کا ہے ، اوڑھتی پہنتی ماں کا ہے۔ اتنی فکر ہے ابا کی تو جائو، ساتھ ہی چلے جائو۔” اماں چلاتی رہ جاتیں۔
    ضوفشاں کھانے کے برتن اُٹھاتی ، کچن سمیٹتی ۔ نوید ، وارث اور نعمان پھر سے آوارہ گردی کے لئے نکل جاتے ۔ بس ایک یہی کام تھا جو وہ دِل لگا کر اور پابندی سے کیا کرتے تھے ۔ ضوفی اپنے کام سے فارغ ہو کر آپا کے کمرے میں چلی جاتی مگر آپا بتیاں بُجھا کر سو جایا کرتی تھی ، وہ جانتی تھی کہ وہ سوتی نہیں ہے ۔ وہ تو بس آنکھیں موندتی ہے ، دِن میں وہی آنکھیں ڈھیروں خیال و خواب سجائے باہر جھانکتی تھیں مگر پھر بھی وہ آنکھیں خالی ہی ہوتی تھیں ۔ اور رات میں سارے خواب سارے خیال ایک گٹھری میں باندھ کر اپنے سرہانے رکھ لیتیں ۔ پھر وہ آنکھیں اتنی بھری ہوئی ہوتیں کہ خالی کرنے کو جگہ نہ ملتی تھی ۔آپا کاغذ قلم اُٹھائے ، دِل ہلکا کرنے لگتی۔
    ”زندگی کے پہلے دس برس چِک چِک بَک بَک میں گُزر گئے ۔ پندرہ برس کی ہوئی تو فکرِ معاش
    لاحق ہو گیا بہت موذی بیماری ہے ۔ لاحق ہو جائے تو دم کے ساتھ ہی نکلتی ہے۔ اچھوت ہے،
    کوئی آسرا دینے آتا ہے نہ بوجھ ہلکا کرنے ۔ نوکری ملی تو بھی جذبے والی ۔ بڑے ہسپتال میں
    نرس لگ گئی ۔ اٹھارہ سے بیس برس تو خوب گزرے اور پھر ۔۔۔۔ ‘ ‘
    ایک دِن چھُپ کر ، ابھی یہی تک پڑھا تھا کہ آپا آگئیں ۔ میں صفائی کرنے لگی ۔اس دِن کے بعد وہ ڈائری نظر نہ آئی ۔ رات کو اماں کو چائے دینے گئی تو سوچا آپا کے بارے میں پوچھوں ۔ ابھی کچھ پوچھنا چاہا ہی تھا کہ اماں نے تنخواہ کا حساب مانگ لیا ۔
    ”اماں اِس بار کالج کی فیس دینی پڑ گئی۔” اماں بگڑ اُٹھیں، ظاہری بات ہے گھر کا خرچ کم پڑ گیا تھا ۔ اماں نے حاجرہ سے پیسے مانگے تو حاجرہ کہنے لگی:
    ”میں یہاں کسی کے لئے نہیں کماتی۔ اپنے اور اپنے بچے کے لئے کماتی ہوں۔”
    ”ہاں ہاں مُجھے بے روزگاری کے طعنے دیا کرو۔ یہی نوید تھا جو سب کی جان ہوا کرتا تھا اور اب کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ ہیں ہی سب پیسے کے پُجاری ۔” نوید بھائی تو جیسے بگڑ پڑے۔
    ”ہاں بہن کس کی ہے آخر حسد تو کرے گی ۔ بھلا میرامیاں کیوں کسی کا بُرا چاہے گا۔” پھر بھابھی کی دھماکے دار آواز آتی۔
    بھابھی کا بھائی چہل قدمی کے بہانے باہر چلا جاتا ۔ وارث چھت پر کھڑا لڑکیاں تاکتا رہتا۔ نعمان ویسے تو گُونگا بہرا تھا مگر آنکھوں کے اشارے خوب جانتا تھا ۔ ہر گزرتی لڑکی کو دیکھ کر بالوں میں کنگھی کرتا اور مُسکراتا ۔ لڑکیاں کہتی گزرتیں:
    ”دیکھو جھلا ڈورا بھی ہے اور گونگا بھی پھر بھی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔” وہ خوش ہوتا کہ لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔




  • مارو گولی — سارہ قیوم

    اس نے برآمدے میں نکل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور سر اٹھا کر روشن آسمان کو دیکھا۔ جاتی بہار کے چمک دار دن کی چھب ایسی تھی جیسے سونے میں جڑا کندن۔ اس نے اس چمچماتے آسمان سے نظریں چرا کر رخ موڑا اور دروازہ لاک کرنے کے لئے چابی نکالی۔ دروازے کے پاس پڑے گملے پر اس کی نظر اٹک گئی۔
    گلاب کے پودے میں چند سرخ کلیاں کھل رہی تھیں۔ مالی شاید تھوڑی دیر پہلے ہی پانی لگا کر گیا تھا۔ پتے دھل کر زمرد بن چکے تھے اور کلیاں لعل۔ چابی اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ گہرا سانس لے کر اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور دروازہ لاک کیا اور پھر خود کو گیٹ پر کھڑا پایا۔ اس نے حیرت سے اس لمبے ڈرائیو وے کو مڑ کر دیکھا جسے عبور کرکے وہ گیٹ تک آپہنچی تھی اور اسے احساس بھی نہ ہوا تھا۔ سر جھٹک کر اس نے اپنے خیالوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی اور گیٹ کھولا۔ سڑک کے اس پار گل موہر کا درخت سچے موتیوں کے پھولوں سے لدا کھڑا تھا۔ گویا کسی ہرے زرتار آنچل کے کنارے سے مولسری کی نالیاں جھانک رہی ہوں۔ اس نے خالی خالی نظروں سے پر رونق سڑک کو دیکھا، چند گھر چھوڑ کر ایک عمارت بن رہی تھی اور اس کے سامنے بجری اور سیمنٹ کا ڈھیر پڑا تھا۔ چند مزدور اس ڈھیر سے اپنے تسلے بھر بھر کر اندر لے جارہے تھے۔ اس نے گردن موڑ کر دوسری طرف دیکھا۔ ساتھ والے گھر پر عید میلادالنبیۖ کے لیے بتیاں لگائی جارہی تھیں۔ چند لڑکے ننھے ننھے قمقموں کی تاریں گولائی میں گھر کی چھت سے لٹکا رہے تھے۔ گھر کا ماتھا اس طرح سج رہا تھا جیسے وہ دلہن ہو اور جھومر اس کا سر ڈھانپ رہا ہو۔
    ”دیر ہورہی ہے، امی انتظار کررہی ہوں گی۔” اس نے باآوازِ بلند خود کو یاد دلایا۔ صبح ہی تو اس نے راحت کو فون کرکے کہا تھا:
    ”امی میں گیارہ بجے تک آئوں گی۔ میرا زیور نکال کر رکھیے گا۔”
    وہ اپنے زیور لینے جارہی تھی۔ حیا، وفاداری اور محبت کا جو زیور وہ اپنے تن من پر سجائے رکھتی تھی، اس کے شوہر کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اسے وہ زیور لانے کا حکم دیا تھا جسے بیچ کر پیسے آسکتے ہیں۔ وہ اپنی پسند کا زیور سینے سے لگائے، اپنے شوہر کی پسند کا زیور لینے جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    پچھلی شام ظہیر جس وقت آیا تھا، اس وقت وہ احمد کو پڑھا رہی تھی۔ اس وقت ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں جن میں کورنگی کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات کی فوٹیج دکھائی جارہی تھی۔
    نیوز کاسٹر چلا چلا کر کہہ رہی تھی:
    ”نامعلوم افراد نے راہ گیر سے نقدی اور موبائل چھین کر گولی مار دی۔”
    اس نے جھرجھری لے کر ریموٹ اٹھایا اور آواز آہستہ کردی۔ احمد بھی کام چھوڑ کر محویت سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔
    ”ادھر دھیان دو بیٹا، کل quiz ہے آپ کا۔ یہ لفظ پڑھو کیا ہے؟ speelingکرو اس کے۔”
    ”ماما ڈاکو نے اس کو گولی مار دی؟” احمد نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔
    ”ہاں بیٹا!” اس نے والیم مزید کم کرتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” احمد نے سوال کیا۔
    ابھی وہ اس کیوں کا جواب سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ظہیر اندر داخل ہوا۔ سعدیہ نے مسکرا کر سلام کیا۔ ظہیر نے جواب دے کر بریف کیس میز پر رکھا اور ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے سعدیہ کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ”کیا ہورہا ہے پارٹنر؟” اس نے احمد کے بال بکھیرتے ہوئے پوچھا۔
    ”پڑھائی!” سعدیہ نے مسکرا کر احمد کو دیکھا۔
    اسے ظہیر کے سوالوں کے یک لفظی جواب دینے کی عادت تھی کیوں کہ وہ ساری بات میں سے بہ مشکل ایک دو الفاظ ہی سنتا تھا۔ اب بھی وہ سعدیہ کا جواب سنے بغیر ریموٹ اٹھا چکا تھا۔ والیم اونچا کرتے ہوئے وہ ٹی وی دیکھنے لگا جہاں اب بھی راہ گیر کو گولی مارنے کا واویلا جاری تھا۔ ظہیر کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں:
    ”کیا حالات ہوگئے ہیں جہاں دیکھو ڈکیتی، جب دیکھو قتل، گولی تو ایسے مارتے ہیں جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔”
    احمد پھر یک ٹک ٹی وی دیکھنیلگا تھا۔ سعدیہ نے ایک مرتبہ پھر اس کا چہرہ گھما کر کتاب کی طرف کیا اور بات بدل دی۔
    ”چائے لائوں آپ کے لیے؟” اس نے ظہیر سے پوچھا۔
    ”ہاں ذرا strongسی۔” اس نے بے دھیانی میں جواب دیا۔
    سعدیہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ ساس کی غیرموجودگی میں اسے کچن میں کام کرنے کا بہت مزہ آتا تھا۔ اب تو ویسے بھی دونوں ساس سسر عمرے پر گئے ہوئے تھے لمبی چھٹی تھی سعدیہ کی۔ ہر روز یومِ آزادی تھا۔
    وہ اپنے خیالوں میں گم مسکراتے ہوئے چائے کا پانی رکھ کر پتی کا ڈبا نکالنے لگی۔ اسی وقت ظہیر بڑی بے فکری سے آستینیں چڑھاتا ہوا اس کے برابر آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا، کچن میں تو وہ کبھی نہیں آتا تھا۔
    ”زیور کہاں پڑا ہے تمہارا؟” ظہیر نے پانی میں جھانکتے ہوئے بڑے عامیانہ انداز میں پوچھا۔سعدیہ کو ایک مرتبہ پھر حیرت ہوئی۔
    ”آپ جانتے تو ہیں امی کی طرف پڑا ہے، سیف لاکر میں۔” اس نے ظہیر کو یاد دلایا۔
    ”او ہاں! زیور لے آئو تم کل جاکر۔” اس نے بڑے آرام سے کہا۔ سعدیہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
    ”ٹھیک ہے۔ کوئی شادی ہے کیا؟” اس نے پوچھا۔
    ”نہیں شادی نہیںہے، بیچنا ہے زیور۔ مجھے ضرورت ہے پیسوں کی۔” کھولتے پانی میں پتی ڈالتے سعدیہ کے ہاتھ جہاں تھے، وہیںتھم گئے۔
    ”بیچا ہے؟ آپ میرا زیور بیچیں گے؟” اس نے بے یقینی سے کہا۔
    ”ہاں! تو؟ اتنے زیور کا کرنا کیا ہے تم نے؟اس وقت ضرورت ہے مجھے ،ایسے وقت کے لیے ہی ہوتا ہے زیور۔”ظہیر نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
    ”آپ اپنی طرف کا زیور تو پہلے ہی بیچ چکے ہیں۔” اس نے پتی ڈالتے ہوئے پھیکی سی ہنسی سے کہا۔
    ”ہاں تو میری چیز تھی میں نے بیچ دی۔” اسے ظہیر کے لہجے میں وہ جھلاہٹ نظر آئی جو برہمی کا پیش خیمہ تھی۔ وہ برہمی جو اشتعال کا ہر اول دستہ تھی، وہ اشتعال جس سے سعدیہ کی جان نکلتی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کرکے کہا:
    ”لیکن میں اپنا زیور نہیں بیچوں گی۔ میرے ماں باپ کی نشانی ہے وہ۔”
    سعدیہ کے دل نے اسے ٹھیک وارننگ دی تھی۔ ظہیر نے درشتی سے سعدیہ کا بازو پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔ سعدیہ کے ہاتھ سے پتی کا ڈبا گرتے گرتے بچا۔ اپنے آپ کو کھولتے پانی کے برتن سے بچاتے سعدیہ کی نظر احمد پر پڑی جو لائونج کے کھلے دروازے سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت، خوف، تجسس سب کچھ تھا۔ سعدیہ نے ظہیر کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں اسے شعلے بھڑکتے نظر آئے۔
    ”تو پھر تم بھی جائو گی اپنی ماں کے پاس۔” اس نے سعدیہ کے بازو کو جھٹکا دے کر کہا۔
    ”مجھے نہیں چاہیے ایسی بیوی جو آڑے وقت میرے کام ہی نہ آئے۔” غصے سے اس کے نقوش بگڑ رہے تھے۔ سعدیہ ڈر کر اپنے آپ میں سمٹ گئی۔
    ”کل صبح جا کر زیور لے کر آئو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” ظہیر نے اس کے بازو کو ایک مرتبہ پھر جھٹکا دیا اور اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر چلا گیا۔ طلاق کا لفظ سعدیہ کو گولی کی طرح لگا۔ کتنی مرتبہ سن چکی تھی وہ یہ لفظ، یہ جملہ ”طلاق دے دوں گا۔” ہر مرتبہ اسے یوں لگتا جیسے اس کے دل میں کسی نے نئے سرے سے چھری گھونپ دی ہے۔ ہر مرتبہ اس لفظ کو سننے کی ذلت اسے اذیت کی نئی کھائی میں پھینک دیتی تھی۔ وہاں کھڑے کھڑے سعدیہ کو وہ تمام مواقع یاد آنے لگے جب اسے طلاق کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس نے ان یادوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ کسی بلا کی طرح اسے چمٹ گئیں۔
    اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا ابھی صرف ایک ہفتہ ہی گزرا تھا ان کی رخصتی کو۔ اس کا دل ابھی تک ماں کے گھر میں اٹکا تھا۔ اس روز امی نے انہیں رات کے کھانے پر بلایا تھا اور دبی زبان سے اسے رات رکنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وہ بھی رکنا چاہتی تھی۔ اس نے ظہیر سے کہا، وہ خاموش ہوگیا۔ وہ تو کم عمر تھی، ظہیر کے موڈ کو نہ پہچان سکی مگر امی سمجھ گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسے رات رکنے کا نہ کہا۔ وہ بھی اپنی دھن میں مگن خوش خوش امی کے گھر سے واپس۔
    ”کتنا دل تھا میرا آج امی کے گھر رکنے کا۔” اس نے چوڑیاں اتارتے ہوئے کہا:
    ”آپ نے رکنے ہی نہیں دیا۔”
    ظہیر قدم بڑھا کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اسے دیکھا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر اس کی مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔
    ”اتنا ہی شوق ہے ماں کے گھر رہنے کا تو پھر جائو، وہیں رہو… یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
    ”میں نے یہ تو نہیں کہا۔” سعدیہ نے اٹکتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں نہیں! کہہ دو بے شک۔” ظہیر نے طنز سے کہا۔
    ”میں اور میرا گھر پسند نہیں، ماں بہن سے بہت پیار ہے تو بے شک چھوڑ دو مجھے۔ طلاق لے لو اور چلی جائو۔”





    اس لفظ کو سننے کی تکلیف سعدیہ اب بھی محسوس کرسکتی تھی۔ وہ تیزی سے ظہیر کی طرف پلٹی۔
    ”آپ طلاق دے سکتے ہیں مجھے؟” اس نے کانپتی آواز میں بے یقینی سے پوچھا۔
    ”ہاں! مجھے کوئی پرابلم نہیں یہ تمہاری چوائس ہے۔” ظہیر نے سرد لہجے میں کہا۔ سعدیہ روتے ہوئے ظہیر سے لپٹ گئی۔
    ”نہیں مجھے طلاق نہیں چاہیے۔ میں پیار کرتی ہوں آپ سے۔ مجھے کبھی طلاق مت دینا۔” اس نے روتے ہوئے کہا۔
    اور اس التجا کے ساتھ اس نے اپنی دکھتی رگ ظہیر کے ہاتھ میں دے دی۔ اس کے بعد اسے کتنی مرتبہ طلاق کی دھمکی سننا پڑی، اب تو وہ گنتی بھی بھول گئی تھی۔ مگر یادیں تھیں کہ اسے وہ تکلیف بھولنے کا موقع نہیں دیتی تھیں۔
    اسے وہ دن یاد آیا جب اس کی شادی کے تین مہینے بعد ظہیر کی ماموں زاد بہن کی شادی آئی۔ سعدیہ نے اپنے جہیز کا سب سے خوب صورت سوٹ نکالا، اپنے سارے کپڑوں میں سے یہ اس کا پسندیدہ سوٹ تھا۔ اس نے بیسیوں چکر لگائے کام والے درزی کے پاس، پھر کہیں جا کر اس کی مرضی کا سوٹ بنا۔ قریبی شادی تھی اس لیے اس نے بڑے چائو سے یہ سوٹ اور میچنگ جیولری نکالی۔ اسی وقت اس کی نند فریحہ کسی کام سے اس کے کمرے میں آئی۔
    ”ہائے! کتنا خوب صورت ڈریس ہے بھابھی” اس نے فدا ہوکر کہا۔
    ”ہے نا؟ میں نے خود ڈیزائن کیا ہے۔” سعدیہ خوش ہوگئی۔
    ”میرا تو مسئلہ حل ہوگیا بھابھی۔ اتنے دنوں سے اس فکر میں تھی کہ فرسٹ کزن کی شادی میں میرے کپڑے سب سے اچھیہونے چاہئیں۔ اب یہ پہنوں گی… دے دیں گی نا آپ؟” فریحہ نے خوشی سے پوچھا۔ سعدیہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ اس نے مدد طلب نگاہوں سے بستر پر نیم دراز ظہیر کو دیکھا۔
    ”ہاں ہاںچ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟تم رکھ لو یہ ڈریس فریحہ بلکہ سعدیہ اس کے ساتھ کی جیولری بھی دے دو فریحہ کو۔” ظہیر نے فراخ دلی سے کہا۔فریحہ خوشی سے کھل اٹھی۔ اس نے سعدیہ کے ہاتھ سے ڈریس لے لیا۔
    ”تھینک یو بھائی، جیولری ابھی آکر لے لوں گی، امی کو سوٹ دکھا آئوں۔”
    فریحہ دروازہ کھول کر نکل گئی۔ سعدیہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ وہیں کھڑی رہ گئی۔
    ”تم نے منہ کیوں بنا لیا؟ اتنا چھوٹا دل ہے تمہارا؟ ایک سوٹ کے پیچھے موڈ دکھا رہی ہو؟” ظہیر نے ناگواری سے کہا۔سعدیہ نے مسکرانے کی کوشش کی:
    ”نہیں تو، کوئی بات نہیں۔”ظہیر نے سر ہلایا اور سختی سے کہا:
    ” میرے لیے ماں باپ اور بہن بھائی ہر چیز سے بڑھ کر ہیں۔ تمہیں اگر یہ معمولی چیزیں ان سے زیادہ عزیز ہیں تو اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں۔ طلاق لو اور چلی جائو واپس۔”
    یہ ان ٹھوکروں کی ابتدا تھی جو اس سفر میں قدم قدم پر سعدیہ کی منتظر تھیں۔ ان ٹھوکروں میں اس کی ساس نے بھی بہ قدر توفیق حصہ ڈالا تھا۔
    ”دو گھنٹے بیٹھی رہی رضیہ خالہ،تمہاری بیوی نے اپنے کمرے سے قدم تک نہیں نکالا۔” سعدیہ کے کانوں میں اپنی ساس کی آواز گونجی۔ ظہیر کے دفتر سے آتے ہی وہ عدالت لگا کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔
    ظہیر نے غصے میں سعدیہ کو خشمگیں نظروں سے گھورا۔ سعدیہ سہم گئی۔ بڑی بری عادت تھی اس کی ذرا سی بات پر سہم جاتی تھی۔ ذرا سی دھمکی سے ڈر جاتی تھی۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کی۔
    ”امی مجھے تو پتا نہیں تھا کہ وہ آئی ہوئی ہیں، مجھے کسی نے نہیں بتایا۔”اس نے ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔
    ”ہاں تو یہ تمہارا فرض نہیں کہ گھر میں آئے گئے کا خیال رکھو؟ تمہیں دعوت نامے بھیجے جائیں کہ مہارانی آئو، مہمانوں کو اپنی زیارت کرائو؟” اس کی ساس نے ڈپٹ کر کہا۔سعدیہ نے لجاجت سے کہا:
    ”امی آپ مجھے بتا دیتیں تو…”اس کی بات پوری نہ ہوسکی، اس کی ساس نے تیوریاں چڑھا کر کہا:
    ”لو!… اب یہ میرا قصورہے، دیکھ رہے ہو ظہیر اپنی بیوی کا رویہ؟ یہ کرتی ہے یہ ہمارے ساتھ۔”
    سعدیہ روہانسی ہوگئی
    ”میں نے تو…”
    ”معافی مانگو امی سے!”ظہیر نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی۔
    سعدیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی، پھر کم زور سے لہجے میں بولی:
    ”ظہیر میں اوپر اپنے کمرے میں تھی، مجھے مہمانوں کے آنے کا پتا نہیں چلا، مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔”
    ”معافی مانگو۔” ظہیر نے دھاڑ کر کہا،سعدیہ کی روح فنا ہوگئی۔
    ”سوری… سوری امی۔” اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا لیکن ظہیر کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا:
    ”آئندہ شکایت نہ ملے مجھے ورنہ طلاق لے کر گھر جائو گی۔”
    کتنی عجیب بات تھی، اسے حکم دیا جاتا تھا کہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر رہے اور پھر بات بات پر اسے گھر بھیجنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔
    اس کے میکے یا دوستوں کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو ایک ہی جملہ سننے کو ملتا:
    ”جائو! واپس نہ آنا۔”
    آہستہ آہستہ اس نے ہر جگہ جانا چھوڑ دیا۔ پھر طعنہ ملنے لگا تم آلسی ہو، باہر کی لڑکیاں تو بڑی طرح دار ہیں۔ تمہیں طلاق دے دوں گا، ان میں سے کوئی گھر لے آئوں گا۔” اس کا دل چاہا کہ پوچھے:
    ”گھر لا کر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو گے؟” لیکن برا ہو اس ڈر کا جو اسے قدرت نے بے حساب عطا کیا تھا۔ وہ ڈرتی تھی، وہ ڈراتا تھا۔
    ”گرم کھانا کھانے کی عادت ہے مجھے۔ بندہ سارے دن کا تھکا ہاراگھر آئے اور ٹھنڈا کھانا کھائے؟” وہ طیش میں آکر کہتا۔
    ایک دن اس کے انتظار میں اس کی آنکھ لگ گئی۔ ان دنوں ویسے بھی اس کا آٹھواں مہینہ تھا، وہ خود اپنے آپ سے بے زار تھی۔ کھانا ٹھنڈا ہوگیا، وہ بھوکی ہی سو گئی۔
    ”کھانا گرم کھانے کی عادت ہے مجھے۔” ظہیر نے آکر اسے اٹھایا اور غصے سے اسے تنبیہہ کی۔
    ”سوری! میری آنکھ لگ گئی تھی۔” وہ سوتے سے اٹھتی ہوئی مجرمانہ انداز میں بولی۔
    ”سارا دن کرتی کیا ہو تم؟کیا فائدہ ایسی بیوی کا جو مجھے تازہ روٹی تک نہ دے سکے؟ ایسی بیوی کو تو گھر بھیج دینا چاہیے۔” ظہیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
    ”پلیز ظہیر! چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا غصے میں نہ آیا کریں۔” اس نے تھکن سے چور التجائیہ انداز میں کہا۔




  • جادو کا آئینہ

    جادو کا آئینہ

    جادو کا آئینہ
    احمد عدنان طارق

    سین نمبر ١
    ”مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم ہر وقت غصّے میں رہ کر کیوں ماتھے پر تیوریاں چڑھائے رکھتے ہو؟” معاذ کی امّی بولیں۔ معاذ نے ان کی طرف دیکھا۔ اس کی امی کا خیال تھا کہ وہ غصّے میں بہت برُا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ماتھے پر کسی بوڑھے آدمی جتنی جھریاں پڑگئیں تھیں اور منہ کے اردگرد دو لکیریں نظر آنے لگیں تھیں۔ امّی بولیں:
    تمہیں خوش مزاج اور مسکراتے ہوئے بچوں کی طرح ہونا چاہیے مگر تم اکھڑے اکھڑے رہتے ہو۔ پتہ نہیں تم بڑے ہوکر کیسے دِکھو گے۔”
    معاذ نے بگڑے ہوئے کہا ”میں بالکل ٹھیک ہوں گا” اس کی امّی بولیں ”بڑے ہونے تک تمہیں اپنا چہرہ خود تراشنا ہے، اگر ایسے ہی رہا تو تمہارا چہرہ ایک ناراض اور سفاک چہرہ شخص کے چہرے کی طرح ہوجائے گا۔ بیٹا خوش رہنا سیکھو، مسکرایا کرو اور اپنے دل میں نرمی پیدا کرو۔”
    معاذ کو یقین تھا کہ بڑے ہوکر اس کا چہرہ مختلف ہوجائے گا وہ سمجھتا تھا کہ یہ سب صرف بڑوں کی نصیحتیں ہیں۔
    سین نمبر ٢
    ایک دن سڑک پر معاذ کی ملاقات مسعود صاحب سے ہوئی۔ اُن کی آنکھیں آسمان کی طرح نیلی اور چہرہ خوشی سے تمتماتا ہوا تھا۔ وہ ہر ایک سے پیار اور مہربانی سے ملتے۔ اس دن انہوں نے بھی معاذ کو روک کر کہا ”بیٹا اپنے ماتھے کے بل اور تیوریاں ختم کرو ورنہ بڑے ہوکر تم ایک غصّے والے بدصورت انسان دکھائی دو گے” معاذ اکتا کر بولا ”میری امّی بھی میرے متعلق اسی طرح کی باتیں کرتی ہیں وہ کہتی ہیں بچے جو چہرے بچپن میں مستقل بنائے رکھتے ہیں۔ بڑے ہوکر وہی چہرے پکے ہوجاتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ صرف باتیں ہی ہیں۔” یہ سن کہ مسعود صاحب بولے میرے ساتھ آؤ میں تمہیں ایک خاص چیز دکھاتا ہوں۔
    ”میرے پاس جادو کا آئینہ ہے۔ اس میں دیکھ کر تم خود بتاسکتے ہو کہ تمہاری امّی صحیح کہتی ہیں یا نہیں۔”
    ”جادو کا آئینہ!” یہ سن کر معاذ کے جسم میں سنسناہٹ سی پھیل گئی۔
    مسعود صاحب نے اپنے گھر میں ایک اندھیری دیوار کی طرف اشارہ کیا جس پر ایک گول اور چاندی کے فریم والا دلفریب آئینہ چمک رہا تھا۔
    وہ بولے جاؤ اور آئینے میں خود کو دیکھ لو۔ گھبراؤ نہیں۔ آئینے میں تمہیں بہت کچھ دکھائی دے گا۔

    معاذ آئینے کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا۔ پہلے پہل تو کُچھ نہ دکھا بلکہ ایک دھند سی آئینے پر چھائی رہی پھر منظر صاف ہونے لگا۔ پھر اس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔
    سین نمبر ٣
    مسعود صاحب نے، ”اب اپنا چہرہ دیکھو۔ یہ چہرہ بہت پیارا دکھائی دے سکتا ہے۔ تمہاری بھوری بڑی بڑی آنکھیں، ستواں ناک، بیضوی منہ اور خوبصورت بال ہیں۔” واقعی مسعود صاحب صحیح کہہ رہے تھے۔ معاذ واقعی دکھنے میں خوش شکل ہوسکتا تھا۔ اگر وہ منہ کو ہر وقت منہ بنائے نہ رہتا اور چہرے پر تیوریاں نہ سجائے رکھتا۔ اُس نے اپنے چہرے کو گھور کر دیکھا اِس دوران مسعود صاحب آہستگی سے اور افسردگی سے گفتگو کرتے رہے۔
    ”اب ذرا اپنے ماتھے پر پڑی ہوئی تیوڑی جُھریاں دیکھو۔ تمہاری آنکھوں کے درمیان پڑنے والی دو لکیریں کتنی برُی لگ رہی ہیں۔ اپنا منہ دیکھو۔ بسورتے بسورتے ویسا ہی ہوگیا ہے۔ اہنی بھوری آنکھوں میں پائی جانے والی ویرانی کو دیکھو۔ لیکن ذرا، اب یہ دیکھو۔”
    دھند دوبارہ آئینے پر چھاگئی۔ جب دوبارہ منظر صاف ہوا تو وہ حیران رہ گیا۔ وہ ابھی بھی خود کو ہی دیکھ رہا تھا۔ لیکن وہ اپنی عمر سے کہیں بڑا نظر آرہا تھا۔ مسعود صاحب بولے۔ ”اب یہ پھر تم ہی ہو۔ لیکن اِس عمر سے دس سال بڑے۔ ایک بڑے لڑکے۔ جلدی سے جوان ہوتے ہوئے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بہت ہی سڑیل قسم کا لڑکا۔ تمہارا کیا خیال ہے؟”
    واقعی ایسا ہی تھا۔ وہ مشکل واقعی دوستانہ نہیں تھی اور ناراضگی اُس کے چہرے پر ٹپک رہی تھی۔ معاذ کو بھی آئینے میں اپنا آپ ذرا پسند نہیں آیا۔ مسعود صاحب بولے۔ ”ذرا چہرے پر تیوریاں دیکھو اور جھریاں بھی۔ میں نے ایسا سخت چہرہ کبھی نہیں دیکھا۔ اِن تیوریوں سے یہ لڑکا عمر سے کہیں بوڑھا اور بدصورت لگ رہا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ایسے چہرے والے لڑکے کو کوئی دوست بنا سکتا ے؟” معاذ بولا ”واقعی۔ مجھے بھی اِس کا چہرہ ذرا پسند نہیں آیا۔ لیکن مسعود صاحب! کیا یہ میں ہی ہوں نا؟’ لیکن مسعود صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آئینے ہر ایک دفعہ پھر دھند چھا گئی۔
    آئینے پر ایک اور چہرہ اُبھرا۔ یہ ایک ادھیڑ عمر شخص کا چہرہ تھا۔ معاذ کو وہ چہرہ دیکھتے ہی اُس سے نفرت ہوگئی۔ یہ ایک بہت ہی سخت گیر شخص کا چہرہ تھا۔ جس کا ماتھا جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ مسعود صاحب بولے۔ ”جھریوں کو دیکھو اور آنکھوں کے اردگرد لکیروں کو دیکھو۔ یہ لکیریں تب بنتی ہیں جب ہم بھنویں اُچکا کر ماتھے پر جھریاں ڈالتے ہیں۔ اِن سے اِس شخص کا چہرہ کتنا ڈراؤنا اور بدصورت لگ رہا ہے اور اب ذرا اِس کے منہ کو دیکھو۔ یہ لکیریں جو ناک سے تھوڑی تک جاتی ہیں۔ اِس کے چہرے کو کتنا سخت گیر دکھائی دینے والا بنا رہی ہیں۔ واقعی یہ بہت خوفناک دکھائی دینے والا شخص ہے۔ کیا تم میری بات سے اتفاق کرتے ہو؟”
    ڈرا ہوا معاذ کہنے لگا۔ ”میں اور چہرے نہیں دیکھنا چاہتا۔” کیونکہ وہ شخص ہوبہو معاذ سے ملتا جلتا تھا۔ لیکن پھر دھند نے وہ چہرہ دھندلا دیا۔ لیکن جب دھند صاف ہوئی تو آئینے میں ایک اور چہرہ معاذ کا منتظر تھا۔ یہ ایک نارا ۔ ناخوش اور بدصورت بوڑھے کا چہرہ تھا۔
    مسعود صاحب کہنے لگے۔ ”لو ایک اور چہرہ دیکھو۔ کیا تنک مزاج اور ناراض بوڑھا ہے۔ کوئی اِس کا دوست نہیں ہوسکتا اور کوئی اِسے پیار نہیں کرتا ہوگا مجھے تو اِس پر ترس بھی نہیں آرہا۔ تمہارا کیا خیال ہے معاذ؟”
    معاذ آہستگی سے بولا۔ ”جی ہاں! میں کبھی اِس طرح کا نہیں بننا چاہتا اِس آئینے سے تو مجھے خوف آنے لگا ہے۔ مسعود صاحب! کیا یہ سبھی میرے ہی نہیں ہیں جب میں بڑا ہوجاؤں گا؟”
    مسعود صاحب افسردگی سے بولے۔ ”یہ تمہارے ہی چہرے ہیں۔ ہم اپنے چہرے خود بناتے ہیں۔ جیسے ہم اپنی زندگیاں خود بناتے ہیں۔ خوش بھی اور ناخوش بھی۔ کیا تم نے سب چہروں کو بسورنے سے بڑنے والی لکیریں نہیں دیکھیں اور تیوریوں سے بننے والی جھریاں۔ جیسا چہرہ تم آج کل بنائے رکھتے ہو۔ یہی لکیریں بڑی ہوتی ہیں۔ معاذ! لیکن اگر تم چاہو تو اب بھی ایک اچھے پیارے بچے بن سکتے ہو۔”
    سین نمبر ٤

    معاذ کچھ کہے بغیر وہاں سے کھسک لیا۔ وہ بہت پریشان تھا۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ایسا بن جائے۔ لیکن وہ کیا کرسکتا تھا؟ وہ سیدھا گھر گیا اور جاکر گھر والے آئینے میں خود کو غور سے دیکھنے لگا۔ اُس نے سوچا۔ ”میں مسکرا کر دیکھتا ہوں کہ اِس سے میرے چہرے پر کیا فرق پڑتا ہے؟” وہ مسکرایا۔ تو اُس نے آئینے میں دیکھا۔ وہ آئینے میں مسکراتے ہوئے بڑا پیارا بچہ دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں۔ اُس کا منہ سیدھا ہوگیا تھا اور اُس کی جھریاں غائب ہوچکی تھیں۔
    معاذ حیران ہوکر خود سے کہنے لگا۔ ”یہ وہ بچہ ہے جِسے ہر کوئی دوست بنانا پساند کرے گا۔ اب میں کبھی منہ نہیں بسوروں گا اور ماتھے پر تیوری نہیں چڑھاؤں گا۔ اب میں کبھی ناراض نہیں رہوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ بڑے ہوکر میں ایک بدصورت اور سخت گیر بوڑھے میں تبدیل ہوجاؤں۔ جیسا میں نے جادو کے آئینے میں دیکھا تھا۔”
    اُس کے بعد معاذ نے تیوریاں چڑھانا بند کردیا اور مسکرانا شروع کردیا اُس نے بڑبڑانے کی بجائے قہقے لگانے کی عادت ڈالی۔ اُس کا مزاج دوستانہ اور ملنسار ہوگیا اور جلد ہی اُس نے کتنے سارے دوست بنائے۔
    اب آپ کو بھی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہم خود اپنے چہرے بناتے ہیں۔ ہم ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا بننا چاہتے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو آپ بھی ایک دفعہ آئینے کے سامنے جائیں اور فیصلہ کریں کہ آپ اپنا چہرہ کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہنستا ہوا مہربان چہرہ یا پھر بسورتا ہوا تیوریوں والا ناراض چہرہ۔ فیصلہ آپ نے خود کرنا ے۔
    فیصل آباد

  • ہوا اور بادل

    ہوا اور بادل

    ہوا اور بادل
    سارہ قیوم

    ایک تھا بادل! نرم نرم، جیسے کہ روئی کا کوئی گالا، اس میں بہت سا پانی بھرا ہواتھا، اتنا کہ بادل بے چارے سے چلا نہ جاتا تھا۔ وہ چپ چاپ آنکھیں موندے آسمان میں کھڑا تھا۔ ہوا لہرا تے ہوئے بادل کے پاس سے گزری تو بادل کی چیخ نکل گئی۔
    ”اُف،ہائے…” بادل نے کراہ کر کہا ”مجھے نہ چھیڑو مجھ میں اتنی بارش بھری ہے کہ میرے پیٹ، بازو، سر، غرض ہر جگہ درد ہے۔” ہوا کو بادل پر بڑا ترس آیا۔
    ”تم اپنی بارش برسا دو۔” اس نے بادل کو مشورہ دیا۔
    ”کیسے برسائوں؟” ”دیکھو تو ذرا نیچے سمندر ہے۔ میں یہاں بارش برسائوں گا تو سمندر غصے میں آکے دوبارہ میرے اندر ڈھیر سارا پانی بھر دے گا۔” بادل اداس ہو کر بولا۔
    ہوا سوچ میں پڑ گئی، آخر اسے ایک ترکیب سوجھی۔
    ”میں تمہیں سہارا دے کر لیے چلتی ہوں۔” اس نے بادل سے کہاپھر چہکتے ہوئے بولی:
    ”ہمت ِ بادل، مددِ ہوا۔ ”
    ”ارے نہیں یوں کہو ”ہمت مرداں، مددِ خدا۔” بادل نے کہا تو ہوا مسکرا دی ۔
    آخربادل نے ہوا کی بات مان لی، تب دونوں آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوئے۔ چلتے چلتے وہ ایک ہرے بھر ے میدان کے اوپر جاپہنچے۔
    ”یہاں برس جائوں؟” بادل نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔
    ”یہاں نہیں ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا بولی۔
    بادل نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ میدان میں میلا لگاہوا ہے۔ لوگ رنگے برنگ کپڑے پہنے خوشی خوشی سیر سپاٹا کررہے ہیں۔ کھانے پینے کے اسٹال لگے ہیں۔ کہیں کھیل تماشے ہو رہے ہیں، کہیں کرتب دکھائے جا رہے ہیں۔ بچے جھولا جھول رہے ہیں۔
    ہوا نے کہا: ”اگر تم نے یہاں بارش برسا دی، تو سارا میلا برباد ہو جائے گا۔ لوگوں کی خوشیوں پر پانی پھر جائے گا۔”
    ”اچھا تو پھر چلو آگے چلیں۔” بادل نے ٹھنڈی سانس بھری۔
    کچھ دیر بعد دونوں دوسرے شہر کے اوپر پہنچے۔
    ”بس بھئی اب اور نہیں چلا جاتا۔ ”میرا خیال ہے مجھے یہیں برس جانا چاہیے۔” بادل نے تھک کر کہا۔
    ”ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا نے کہا۔
    بادل نے دیکھا ایک شہر ہے جہاں بہت سڑکیں اور عمارتیں بن رہی ہیں اور جگہ جگہ زمین کھدی ہوئی ہے۔ بادل سوچ میں پڑ گیا۔
    ”میں یہاں نہیں برسوں گا۔” آخر اس نے فیصلہ کیا ”میری بارش سے گڑھوں میں پانی بھر جائے گا اور کیچڑ سے لوگ پھسل کر گریں گے۔”
    ہوا یہ سُن کر بہت خوش ہوئی اور دوبارہ بادل کو سہارا دے کر آگے لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک گائوں کے اوپر پہنچے۔ بادل نے دیکھا کہ کھیت سوکھے پڑے ہیں۔ ندی میں پانی ختم ہے لوگ اور جانور پیاسے ہیں۔ جب بادل کا سایہ گائوں پر پڑا تو بچے، مرد اور عورتیں سب گھروںسے نکل آئے، سر اُٹھا کر بادل کی طرف دیکھنے اور بارش کی دعائیں کرنے لگے۔
    ”آہا” بادل خوش ہو کر بولا۔ ”یہاں میری ضرورت ہے۔” پھر اس نے خوش ہوتے ہوئے ہوا کی طرف دیکھا، تو وہ بھی مُسکرا کر بولی : ” چل میرے بادل …بسم اللہ…”
    ہوا کا اشارہ پاکر بادل سے پانی کا پہلا قطرہ ٹپکایا، پھر دوسرا، تیسرا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی۔
    لوگ خوشی سے ناچنے لگے۔ پودے ہرے بھرے ہو گئے۔ ندی پانی سے بھر گئی۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگے۔ درخت جھوم اُٹھے اور پتے تالیاں بجانے لگے۔ ہر طرف خوشیاں بکھر گئیں۔
    بادل ہلکا پھلکا ہو کر اِدھر اُدھر اُڑنے لگا اور ہوا کے ساتھ کھیلنے لگا۔
    ”اب تم سمجھے میرے پیارے بادل! دنیا کی سب سے بڑی خوشی دوسروں کے کام آنے میں ہے۔” ہوا نے اسے اچھالتے ہوئے کہا۔
    ٭…٭…٭

  • اللہ کی مرضی — احسان راجہ

    یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ ساون کے بعد ہی نظر آتا ہے۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں، میں اکیلا ہی تھا۔ اس وقت ہمارا گھر گائوں کے شروع میں ہی تھا۔
    ”السلام و علیکم۔” دروازے پر اچانک نمودار ہونے والے پردیسی نوجوان نے سلام کیا۔
    میں نے اسے اندر آنے کو کہا مگر اس نے ”جلدی” کی معذرت کرلی اور گائوں کے چوکی دار کا پتا پوچھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ آج تحصیل آفس گیا ہوا ہے۔ نووارد کو جب میں نے یہ بتایا تو وہ اندر آگیا اور بولا: ”میں نے دراصل سپاہی شیر محمد ولد بہادر خان کے گھر جانا ہے۔”
    میرا ماتھا ٹھنکا۔ گائوں کے بیش تر نوجوان فوج میں ملازم تھے۔ یہ آنے والا جوان بھی بہ ظاہر ڈیل ڈول، خاص کر اپنے بالوں کے سٹائل سے فوجی ہی لگ رہا تھا۔
    ”خیریت تو ہے؟ اس کے بیٹھتے ہی میں نے پوچھ لیا۔





    ”وہ جی دراصل شیر محمد سیاچن میں ایک چھوٹی سی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ میرا نام شادی خان ہے۔ میں سٹیشن ہیڈکوارٹر سے یہی اطلاع دینے آیا ہوں۔” اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ تفصیلاً بیان کردی۔
    یہ وہ دور تھا جب موبائل تو کیا لینڈ لائنبھی اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور ٹیلی گرام کی بروقت ترسیل دور دراز دیہاتوں کے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن عمل تھا۔ شیر محمد کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں بجھے دل کے ساتھ اسے لے کر اُدھر چل پڑا۔
    شیر محمد گائوں کا ہردل عزیز نوجوان تھا۔ خوب صورت، لمبا تڑنگا، شوخ طبیعت، مگر حد درجہ ہم درد اور ملنسار۔ مڈل پاس کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد علاقائی روایت کے مطابق فوج میں چلا گیا تھا۔ اس دوران وہ گائوں کی طرف سے کبڈی بھی کھیلتا رہا تھا اور ارد گرد کے قصبوں میں شیرو کے نام سے کافی مشہور بھی ہوگیا تھا۔ میں نے جب کبڈی کا ذکر کیا تو شادی خان چونکا۔
    ”پھر تو میں نے اسے کبڈی کھیلتے دیکھا ہوا ہے۔ میں خود اسی علاقے کے فلاں گائوں کا رہنے والا ہوں۔ آرمی والوں نے اسی تعلق کی وجہ سے یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگائی ہے۔” شیر محمد کی شادی دو سال قبل اپنی پھوپھی کی بیٹی نسیم سے ہوئی تھی اور اس کا شیر خوار بیٹا بھی تھا۔
    ہم شیر محمد کے گھر پہنچ چکے تھے۔ وہی دیہاتی طرز کا گھر، پیچھے ایک لائن میں تین چار کمرے، سب کمروں کے سامنے ایک لمبا سا برآمدہ اور آگے بڑا کھلا صحن، چار دیواری زیادہ اونچی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا پورا منظر ہمارے سامنے تھا۔ کمرے مشرق کی طرف ہونے کی بنا پر سایہ برآمدہ سے باہر بھی کافی پھیل چکا تھا۔ شیرو کی بھابھی تندوری میں لکڑیاں جلا رہی تھی، اس کی ماں تخت پوش پر بیٹھی شاید نماز یا تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اس کا بھائی اور والد مویشیوں کو باندھتے پھر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ابھی ابھی انہیں چرا کر لائے ہیں۔ نسیم ایک چارپائی پر سمٹ کر بیٹھی تھی۔ جیسے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہو۔ شیرو کی دونوں چھوٹی بہنیں، جوکہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھیں،۔ دوسری چارپائی پر بیٹھی شیرو کی بھتیجی کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور قہقہے لگا رہی تھیں۔ ہمیں دیوار کے پاس کھڑا دیکھ کر گھر کا کتا بھونکتا ہوا ہم پر لپکا۔ شاید وہ شادی کو بری خبر سنانے سے منع کررہا تھا۔ ہماری ہمت بھی نہیں بن رہی تھی کہ کون کس طرح اس ہنستے کھیلتے اور پرسکون ماحول میں ایسی اندوہ ناک خبر سنائے۔ کتے کے اچانک بھونکنے پر شیر محمد کا معصوم بیٹا نیند سے جاگ کر زور زور سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے پریوں نے چپکے سے اس کے کانوں میں کوئی منحوس سرگوشی کردی ہو۔ سارا گھر ہماری طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ میں نے ہمت کرکے شیرو کے بڑے بھائی احمد کو آواز دے ہی دی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
    ”بھائی اندر آجائو۔”





    اس دوران ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اوٹ میں چلے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ایک بوڑھے باپ کو یہ الم ناک خبر نہ سنائی جائے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر چہ جائے کہ وہ ایک عظیم موت تھی، شہادت کی موت۔ مگر پھر بھی ایک بیٹے کی موت تھی۔ لمحہ بھر وقفہ کے بعد ہم نے احمد کے بہ جائے اس کے والد کو دروازے سے نکلتے دیکھا۔
    ”اُف خدایا یہ کیا ہوگیا۔ اب کیا ہوگا۔” ہم ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ہمارے قریب آگئے۔
    ”کی گل اے پتر اندر کیوں نئیں آئے؟”
    ہم خاموشی سے زمین کو گھور رہے تھے۔ ہماری خاموشی ہمیں مشکوک بنا رہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ نے تھوڑا سا توقف کیا اور ہمیں غور سے دیکھتا رہا۔ پھر شادی خاں کو کندھوں سے پکڑ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرُاعتماد آواز میں بولا:
    ”اوئے تو میرے پتر شیرے دی کوئی خبر لے کے تے نئیں آیا؟”
    ان کی اس بات پر ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    شادی خان بولا:
    ”ہاں جی چاچا جی تہاڈا شیر محمد شہید ہوگیا اے۔”آخر کار شادی خان نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بوڑھے باپ کو اس کے جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سنا ہی دی۔
    میں نے دیکھا کہ خاموش بند کس طرح ٹوٹتا ہے اور پھر بے کراں پانی کس طرح بہ نکلتا ہے۔ ان کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ہاتھ اوپر اُٹھے ہوئے تھے اوروہ زمین پر اکڑوں بیٹھتے جارہے تھے۔ جو الفاظ میں سن پا رہا تھا وہ شاید یہی تھے۔
    ”اچھا میرے پُتر! اچھا میرے اللہ! اللہ دی مرضی۔”
    ابھی تک گلی میں ہم تینوں ہی تھے۔ مگر چچا کی یہ حالت دیکھ کر دو نوجوان پڑوسی بھی آگئے تھے۔
    ”کی ہویا چاچا… کیا ہوا چاچا” پاس آکر وہ دونوں نوجوان بولے۔
    میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل سکا۔
    ‘شیرا شہید ہوگیا ہے۔”





    ہم شیرے کے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف لانے لگے تو محسوس ہوا کہ وہ باہمت بزرگ اپنے زور پر خود چل رہا ہے۔ پڑوسی لڑکے بھاگ کر اندر احمد کے پاس گئے اور اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ مگر کیا شان تھی جبر اور حوصلہ کی بھاگ کر آیا اور اپنے والد سے لپٹ گیا۔
    ”اباجی صبر… ابا جی صبر۔” اور آگے سے بوڑھا والد کہہ رہا تھا: ”اوئے شیر محمدا۔ اے تے میری واری سی، تو کیویں لے لئی۔”
    یہ الفاظ جب صحن میں گونجے تو پھر کیا باقی تھا جو کسی سے پوشیدہ رہتا؟۔ سب کچھ آشکار ہوگیا۔ نسیم اوڑھنی لپیٹ کر روتے بچے کو لیے کمرے کے اندر چلی گئی تھی۔ احمد کی بیوی تندوری میں پانی انڈیل کر وہاں ساکت بت بنی کھڑی تھی۔ کتا بھی کچھ محسوس کر چکا تھا کیوں کہ دور کونے میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ شیرے کی ماں شیرنی کی طرح لپک کر شادی خان کو اُچک کر چارپائی پر لے جاچکی تھی۔ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتی تھی۔ شیرے کی بہنیں سہمی سہمی اُسی چارپائی کے پائیوں پر جھکی گفت گو کی طرف متوجہ تھیں۔ مگر شادی خان کے پاس نہ کچھ تھا نہ ہی بتا سکا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ راجا بہادر خان کا بیٹا سپاہی شیر محمد سیاچین میں شہید ہوگیا ہے۔ جنازے کا اعلان کل میت آنے کے بعد کیا جائے گا۔
    بس پھر کیا تھا، آناً فاناً پورا گائوں ان کے گھر موجود تھا۔ رونے کی چیخ و پکار میں عورتوں کے بین مزید اضافہ کررہی تھی۔ لوگوں کے گھروں سے چارپائیاں آرہی تھیں۔ پڑوسیوں نے سارے ڈھور ڈنگر اپنے یہاں منگوا لیے تھے اور جگہ کو چار پائیوں کے لیے صاف کردیا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے کھانا بھی آگیا تھا۔ مگر دکھی دلوں میں کہاں کچھ کھانے کی تمنا تھی۔
    رات ہوچکی تھی۔ گھر والوں کا دماغ تو تقریباً مائوف تھا۔ رشتہ داروں اور دوست احباب کو اطلاع بھجوائی جارہی تھی۔ نوجوان گھوڑوں، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں پر بے لوث یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ کسی نے خود سے سوزوکی پک اپ نسیم کے میکے والوں کو لانے کے لیے ان کے گائوں بھجوا دی تھی۔ نسیم خود گُم صُم بچے کو بانہوں میں بھینچے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔
    رات کافی بیت چکی تھی۔ رش بھی تھم گیا تھا۔ مگر پھر بھی کافی مرد و زن اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ذہن کے مطابق شہادت کے بارے قیاس آرائیاں کررہا تھا۔ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ گولی سینے پر کھائی ہوگی اور کئی دشمنوں کو مار کر شہید ہوا ہوگا۔ کوئی زندگی کے قصے سنا رہا تھا، تو کوئی کبڈی کے کارنامے۔ ماں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی تو بھائی اپنے اکیلے رہ جانے کے احساس سے پر آنسو بہا رہا تھا۔ والد بہادر خان بتا رہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد تو اُن کی یونٹ نے سیاچین سے واپس آجانا تھا۔ تب اس کو ایک مہینہ کی چھٹی مل جانی تھی۔ ابھی یہ یادگار یادیں بانٹی ہی جارہی تھیں کہ باہر سے خواتیں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید نسیم کے گھر والے آ گئے تھے پھر سے کہرام مچ گیا۔ ہر عورت شیر محمد کی والدہ اور بیوی سے گلے لگ کر رو رہی تھی اور اپنے جذبات سے مغلوب ایسے دل خراش بین کررہی تھی کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی سسکیوں کے ساتھ رونے پر مجبور تھے۔ مگر کیا مجال کہ نسیم کی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی ٹپکا ہو۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح بے حس و بے جان بیٹھی رہی۔ کون سویا تھا رات کو مگر، جس نے بھی صبح دیکھا نسیم اسی جگہ بیٹھی پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھور رہی تھی۔
    شیر محمد کے گھر والوں کے لیے تو زندگی تھم چکی تھی مگر قدرت کے شب و روز رواں دواں تھے۔ جوں جوں سورج بلند ہورہا تھا۔ لوگوں کا رش پھر سے بڑھتا جارہا تھا۔
    ”بھائی بہادر اللہ دی مرضی” یہ وہ ڈائیلاگ تھا جو مردوں میں بہ کثرت استعمال ہورہا تھا اور عورتوں میں بھی شیر محمد کی والدہ ہر کسی کو جواب میں کہہ رہی تھیں۔ ”بس جی اللہ دی مرضی”۔ ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ نسیم کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اتنی دیر سے بھوکی پیاسی تھی، یہ حالت تو ہونی ہی تھی۔
    ”نسیم بیٹے کچھ کھا پی لو۔ اپنے لیے نہ سہی اس ننھی سی جان کے لیے ہی سہی۔”