Tag: alif kahani

  • دیوانی — عطیہ خالد

    دیوانی — عطیہ خالد

    ”معطر دیوانی ہو گئی۔” بات صرف گھر سے نہیں نکلی تھی بلکہ کوٹھے چڑھ گئی تھی۔بہ ظاہر افسوس اور ہمدردی کے رنگ میں دُہرا یا جانے والا جملہ ‘معطر دیوانی ہو گئی، کسی قدر لذید اور چٹخارے دار تھا۔یہ تو کوئی ان ہمسایوں اور رشتہ داروں سے پوچھتا جن کا اٹھتے بیٹھتے آج کل یہ ‘جملہ’دہرانا کام تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”معطر صادق ولد صادق احمد آپ کو اپنا نکاح ہمراہ حزیم شاہد ولد شاہد احمد ایک لاکھ روپیہ مہر معجل سکہ رائج الوقت قبول ہے۔”
    ”قبول ہے، قبول ہے،قبول ہے۔”
    دن رات کی بے شمار ساعتوں میں لاتعداد مرتبہ اس خوبصورت قبولیت کا اقرار ہوتا ہے۔بس ایک دھن ،ایک سمت،صرف ایک خیال،ایک لگن… یہ عشق ہے۔سربستہ راز عشق۔
    کہنیوں تک سرخ و سبز چوڑیاں پہنے،بیلے اور موتیے کے گجرے سجائے، مہندی رچائے،سرخ لہنگا،سنہری اوڑھنی،زیورات اور حیاکے بار سے جھکی ہوئی معطر۔
    ٭…٭…٭
    ”ہمارا رب ایک ہے،ہماراخالق،ہمارا رازق ،ہمارا مالک،ہمارا حقیقی رشتہ اسی سے ہے۔ ہماری روحوں کا پیوند اسی سے ہے۔”
    ”باقی سب فانی۔دوام بس اس کی ذات کو ہے۔”قاعدے کا پہلا نقطہ پڑھاتے ہوئے دادی نے پہلا سبق دیا تھا معطر کو۔گھور سیاہ آنکھوں کوپھیلائے حیرانی سے معطر نے یہ سبق سنا اور دل و دماغ میں بٹھا لیا۔ دادی اٹھتے بیٹھتے یہ بات معطر کے کانوں میں ڈالتی تھیں۔وہ جانتی تھیں کہ کچی عمر کا نقش بڑا پائیدار ہوتا ہے۔حرف بہ حرف کندہ ہو جاتا ہے اس عمر میں۔ معطر دو بھائیوں سے بڑ ی تھی۔ دادی کی لاڈلی۔ صادق حسین کپڑوں کی مل میں سپر وائزر تھے۔بیوی اور ماں دونوں جی بھر کے سگھڑ تھیں۔ گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی۔
    معطر اسکول جانے لگی تھی۔ نیلی قمیص سفید شلوار میں بالوں کی کس کس کر دو چوٹیاں بنائے اپنی بڑی بڑی حیران آنکھوں سے دنیا کو دیکھتی،اپنے ہم عمر بچوں سے با لکل مختلف نظر آتی تھی۔ یوں جیسے اس کے ننھے سے وجود میں کوئی بوڑھا وجود قید ہو۔اسے دوسری بچیوں کی طرح کھلونوں،گڑیوں سے کھیلنے سے بالکل رغبت نہ تھی۔اس کو تو بس اپنی دادی کی صحبت میں مزہ آتا تھا۔دادی کی کہی ہوئی باتوں کو دل ہی دل میں دہراتی معطر نے ان کے پیچھے پیچھے گھومتے ہوئے بہت جلد وہ سارے کام سیکھ لیے تھے جو وہ کرتی تھیں۔
    ٭…٭…٭




    حنا و عطر کی خوشبوؤں میں بس رہا ہے اس کا صندلیں وجود،سیاہ آنکھوں پر گھنی پلکوں کی باڑھ لرز رہی ہے،سرخ یاقوت سے لب کپکپا رہے ہیں۔کسی نے گھونگٹ آگے تک کھینچ دیا۔
    ”معطر صادق بنت صادق احمد آپ کو اپنا نکاح حزیم شاہد ولد شاہد احمد سے قبول ہے؟”
    خوب صورت سعید ساعت ہے۔ نہ جانے کیوں یہ لوگ دیر کر رہے ہیں ۔ہلکی ہلکی آوازیں ماحول سے مختلف کیوں ہیں؟ سب کچھ طے ہے۔ایجاب و قبول بھی ہو چکا۔ کب ابا اس کا ہاتھ حزیم کے ہاتھ میںتھمائیں گے۔ وہ بھی کتنا بے قرار ہو گا دل ہی دل میں۔ مسکراہٹ جدا نہیں ہوتی معطر کے لبوں سے۔
    ”اے دیوانی!کب سے آوازیں دے رہی ہوں ۔چھت پر سے اتارکر لے آکپڑے۔تیرے ابا آنے والے ہیں۔”
    ”معطر ہے میرا نا م دادی دیوانی نہیں ۔لا رہی ہوں کپڑے۔”
    ”اے ہاں مجھے کیوں بھولے گا تیرا نام۔میں نے ہی تو رکھا تھا۔” ان کی آواز لرز گئی۔ گہری سانس بھر کر آنگن میں چلی آئیں۔جہاں صادق احمد آکر بیٹھ چکے تھے۔
    ٭…٭…٭
    آنگن میں بچھی چارپائیوں پر پنکھے کے آگے پہلی چارپائی پر معطر سورہی تھی۔ وہ سوتے میں بھی مسکرا رہی تھی۔
    سب کے سو جانے کی تسلی کر کے دادی بولیں۔ ”صادق احمد معطر کی بے چینی دیکھی نہیں جاتی۔”
    ”جی اماں!” وہ ٹھنڈی سانس کھینچ کر چپ ہو رہے تھے۔
    ”تم کچھ کرو اس کے لیے۔ کیا ساری عمر اس ناہنجار کے نام پر بٹھائے رکھو گے۔ ایک بار شادی ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ابھی بھی خرابی کہاں ہے۔بس!”ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
    ”اماں آپ معطر کی فکر چھوڑ کیوں نہیں دیتیں۔آپ ہی کی فکروں نے یہ دن دکھایا ہے۔” فاطمہ سوئی نہیں تھی۔
    ”تم خاموش رہو فاطمہ۔” صادق احمد نے انہیں ٹوک دیا۔
    ”کیوں خاموش رہوں۔غلط کہتی ہوں؟”نہ اماں پوتے کی محبت میں اندھی ہو کر میری بچی کے کانوں میں بچپن سے یہ بات ڈالتیں نہ یوں میری بچی دیوانی ہوتی۔”غم و غصے سے فاطمہ کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
    دادی کا قصور اتنا تھا کہ دادی نے ”ایک اللہ ہمارا حقیقی دوست” کا سبق پڑھانے کے ساتھ ساتھ معطر کو سمجھا دیا تھا کہ اس دنیا میں اس کا نا خدا حزیم شاہد ہے جو کہ معطر کے تایا کا بیٹا تھا۔دو ہی بھائی تھے صادق احمد اور شاہد احمد۔صادق احمد چھوٹے تھے ان کے تین بچے تھے۔فراز،ارسلان اور معطر۔ بڑے شاہد احمد کا ایک ہی بیٹا تھا ”حزیم احمد” معطر کی پیدائش پر تایا اور دادی دونوں نے کہہ دیا تھا کہ معطر ‘حزیم’ کی دولہن بنے گی۔ معطر نے جہاں دادی کی دیگر باتوں کو دل و دماغ میں بٹھایا وہاں حزیم کی دولہن بننے کی بات بھی اپنے دل کے نہاں خانوں میں گاڑلی تھی۔
    حزیم نے ایم بی اے مکمل کر نے کے بعد آسڑیلیا جانے کا فیصلہ کیا تو دونوں گھروں نے معطر اور اس کے نکاح کا پرو گرام بنالیا۔سب سے بڑھ کر دادی کی خواہش تھی کہ حزیم نکاح کے بعد آسٹریلیا جائے۔چند دنوں میں نکاح کی تیاری کر لی گئی اور وہ سعید اور روپہلی سی ساعت سات اکتوبر کی شام معطر کے آنگن میں اتر آئی۔
    ایجاب و قبول کے بعد حزیم نے دادی کو بلا کر کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ نکاح کے ساتھ رخصتی بھی کر دی جائے۔ بات کوئی ایسی نا جائز نہ تھی مگر پریشان کن ضرور تھی۔ معطر کے والدین نے اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی ہوئی تھی۔ لیکن حزیم نے رخصتی پر بے حد اصرار کیا تو صادق احمد کو غصہ آگیا۔ انہوں نے انکا ر کر دیا۔ بات دونوں کے والدین سے نکل کر دیگر مدعو رشتہ داروں میں پھیل گئی۔ بیشتر نے یہی مشورہ دیا کہ ساتھ ہی رخصتی کر دی جائے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر صادق احمد تیار نہ ہوئے۔ بات نے سنگین صورت اختیار کرلی۔ صادق احمد نے اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور جہاں انا ڈیرے ڈال لے وہاں سے خوشی اور امید اٹھ جاتی ہے۔معطر کی امی فاطمہ نے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے صادق احمد کو بہت سمجھایا کہ نکاح ہو چکا ہے اب رخصتی کر دینی چاہیے۔ اب معطر حزیم کی بیوی ہے وہ اس کو ساتھ لے جانے کا اختیار رکھتا ہے۔ رخصتی کی الگ تقریب ایک معاشرتی تقریب ضرور ہے لیکن شرعی لحاظ سے اصل چیز نکاح ہی ہے۔لیکن صادق احمد کی ‘نہ’ ‘ہاں’ میں نہیں بدلی۔ مدعو مہمانوں نے بھی سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن صادق احمدنے اپنی ضد نہ چھوڑی تو دوسری طرف حزیم بھی اڑا رہا کہ وہ رخصتی آج کروائے گا یا کبھی نہیں۔
    روپہلی شام نے تاریک اوڑھنی اوڑھ لی۔ رنگ،خوشبو،گیت سب خاموش ہو گئے۔دو مردوں کی ناعاقبت اندیش ضد سے ایک معصوم لڑکی کی زندگی کے سارے رنگ اڑ گئے۔ حزیم اور اس کے گھر والے بد دل ہو کر لوٹ گئے۔ حیران حیران معطر نے دادی کے کہنے پر زیور اتار دیے، کپڑ ے بدل لیے مگر اس کا ذہن اس حادثے کو قبول نہ کر سکا۔نہ وہ روئی ،نہ چلائی ،نہ کوئی شکوہ کیا نہ شکایت کی۔بس اس کی روح اس ساعت میں قید ہو گئی۔ وہ اپنی دنیا میں مگن ہو گئی جس میں اس کا دولہا،اس کا حزیم اس کے ساتھ تھا۔
    دادی کہتیں، معطر آٹا گوندھ دو۔وہ آٹا گوندھتی مسکرائے جاتی۔دادی پراٹھے بنانے کو کہتیں وہ گرم خستہ پراٹھے اتارتی چلی جاتی،یہاں تک کہ ان کو کہنا پڑتا۔ ”بس کردو معطر سب نے ناشتا کر لیااب یہ پراٹھا تم لے لو۔”
    وہ اپنا پراٹھا لے کر بیٹھتی تو جیسے سامنے موجود وجود سے زیر لب باتیں کیے جاتی۔ اماں کی آواز واپس کھینچ لاتی تو دوسرے کام میں منہمک ہو جاتی۔
    معطر کی سب سنگی،ساتھی بیاہی گئیں۔بچوں والیاں ہو گئیں۔ دونوں چھوٹے بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں۔ دولہنیں گھر آگئیں لیکن معطر کو کوئی فرق نہ پڑا۔ بڑے فراز کے گھر پلوٹھی کا بیٹا ہوا، تو جیسے معطر کے ہاتھ کھلونا آگیا۔ دن رات اسے اٹھائے، زیر لب باتیں کیے جاتی۔ بچے کی ماں کو دھڑ کا لگا رہتا دیوانی کہیں گرانہ دے،کہیں کچھ کر نہ بیٹھے مگر وہ بڑی سمجھ داری سے اسے سنبھالتی۔دھیرے دھیرے خود کلامی بڑھ رہی تھی۔گلی محلے والے، گھر والے ،رشتہ دار اور دور دراز رہنے والے سبھی رشتہ داروں کو خبر ہو گئی کہ معطر دیوانی ہو گئی ہے۔اپنے آپ سے باتیں کرتی ہے۔ہمارے معاشرے میں تو ایسی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے ۔لوگوں کے ہاتھ بات کا نیا موضوع تھا۔
    ٭…٭…٭




  • آخری کیس — اعتزاز سلیم وصلی

    آخری کیس — اعتزاز سلیم وصلی

    ایف آئی اے کی سائبر کرائم برانچ کے انچارج اس وقت میری ”عزت افزائی” کرنے میں مصروف تھے۔ میں خاموش کھڑا سر جھکائے سنتا رہا ا ور وہ بدستور اس نیک کام میں لگے ہوئے تھے۔
    ”شاہ زیب تم اس برانچ میں غلطی سے آ گئے ہو اور کس گدھے نے تمہیں مشورہ دیا تھا کہ سائبر کرائم سیل میں آ جاؤ۔”مجھے یاد تھا، جب میں ایف آئی اے میں تھاتب جناب نے ہی مجھے سائبر کرائم سیل کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ خاص طور پر میری سفارش کرکے مجھے اس سیل میں لے آئے تھے مگر اب انہیں یاد کروا کے اپنی اس بے عزتی میں ممکنہ طور پر اضافہ ہی کروا سکتا تھا اس لیے خاموش رہا۔
    ”پچھلے ایک ماہ میں تمہیں تین کیس سونپے گئے۔ پہلے کیس میں جناب نے مجرم کو پکڑا مگر ثبوت اکٹھے نہیں کر سکے ۔ دوسرے کیس میں پتا ہی نہیں چلا کہ ہیکر کس ملک کا تھا اور تیسرے کیس میں جو آپ نے کمال دکھایا ،وہ یقینا یاد ہو گا؟”سعید صاحب کے حافظے پر مجھے رشک آتا تھا۔ انہیں میری بے عزتی والے کیس مجھ سے زیادہ یاد تھے کیوں کہ انہوں نے ہی میری بے عزتی کی ہوتی تھی۔
    ”نہیں سر ،مجھے بھول گیا۔” میں نے بے بسی سے ان کی طرف دیکھا۔
    ”اس کیس میں جناب نے لڑکی کو ہی گناہ گار قرار دے دیا تھااور الزام یہ لگایا کہ لڑکی نے بلیک میلر کو و یڈیو دی ہی کیوں جس سے بلیک میلر اسے بلیک میل کر سکا۔”ان کی نیلی آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں اور میں آنکھوں میں بھرے غصے کو محسوس کرنے کے بہ جائے یہ سوچ رہا تھا کہ سر کی آنکھیں کچھ کچھ ایشوریہ رائے سے ملتی ہیں۔
    ”شاہ زیب صاحب!”انہوں نے ہاتھ میرے آگے لہرایا۔
    ”کہاں کھو گئے؟”
    ”کہیں نہیں سر۔”میں نے چونک کر ان کی آنکھوں سے نظریں ہٹائیں۔
    ”تو جواب دیں میری بات کا۔”




    ”سر پہلے دو کیسز کی وضاحت میں دے چکا ہوں۔مجرم کے خلاف ثبوت نامکمل تھے اس لیے تین سال قید کی بجائے صرف کچھ جرمانہ ہی ہوا اور دوسرے کیس کی انویسٹی گیشن آپ نے خود کی تھی۔ بینکوں سے پیسے چرانے والا ہیکر پاکستانی ہی تھا، مگر ہمارے گرفتار کرنے سے پہلے بھاگ گیا۔تیسرے کیس کی وضاحت اب دیتا ہوں بلکہ کچھ دکھاتا ہوں۔” یہ کہتے ہوئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا سیل فون نکال کر فیس بک آن کی۔یہاں ایک پیج پر آکر میری انگلیاں رک گئیں۔
    ”یہ دیکھیں سر! وہ لڑکی جو اس دن بلیک میلر کی وجہ سے یہاں آئی تھی اس کا اپنا پیج ہے اور اب تک اس پیج کی بیس سے زائد رپورٹس آ چکی ہیں جن میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ لڑکی اپنی اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو اپ لوڈ کررہی ہے۔آئی ٹی سیل والے اس پیج کو بلاک کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔سر میں نے تب بھی آپ کو بتایا تھا کہ یہ لڑکی صرف شہرت کے لیے ہمارے پاس آئی ہے کیوں کہ سائبر کیسز پر میڈیا کی نظر جمی ہوتی ہے اور پانچ منٹ کے اندر اس لڑکی کو بیس نیوز چینل نے اپنے شوز میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی۔” میں نے انہیں مزید تفصیل بتائی۔ان کے چہرے کے تاثرات میں نرمی دکھائی دی۔
    ”بہرحال آپ ابھی تک ناکام ہی ہوئے ہیں ہمارے سیل میں۔اب میں مزید ناکامی برداشت نہیں کروں گا۔ آپ کے پاس جتنے کیس ہیں جلد از جلد حل کریں۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔” دوسرے الفاظ میں انہوں نے مجھے نظروں کے سامنے سے دفع ہو جانے کا کہہ دیا تھا۔میں نے واپس اپنے روم میں آکر ٹھنڈا پانی پیا اور بے عزتی ہضم کی۔اس وقت میرے دماغ میں سوچیں یوسین بولٹ بنی ہوئی تھیں۔
    ٭…٭…٭
    ایف آئی اے جوائن کرنا میرا خواب نہیں تھا۔ ماں باپ کی ایک ایکسیڈنٹ میں موت کے بعد چچی اور چچانے مجھے پالا ۔ ان کاایک ہی بیٹا تھا۔ شہریار جس سے میری کبھی نہیں بنی۔ مجھ سے دو سال بڑا تھا اور جب بھی موقع ملتا اپنا باکسنگ کا شوق مجھ پر پورا کرتا۔ زندگی کے پہلے پندرہ سال شہریار کے اس شوق کی وجہ سے میرا ناک اکثر پھولا رہتا تھا اور چہرے پر بھی چند نشان لازمی ہوتے۔پندرہ سال بعد مجھے پتا چلا کہ شہریار کو بھی مارا جا سکتا ہے۔ وہ اس طرح کے انگلش فلم دیکھنے کے بعد اچانک شہریار نے مجھ پر حملہ کردیا اور دو تین سخت ہاتھ مارے، مگر اچانک مجھے بھی ہیرو والا جوش چڑھا اور میں نے بھی اچھل کر اسے فلائنگ کک ماری جس کے نتیجے میں اس کے منہ سے خون جاری ہو گیا۔ چچی نے اس رات پانی والے پائپ سے مجھے اس طرح مارا کہ میں ساری رات سو نہ سکا۔ اس رات مجھے یقین ہو گیا کہ چچا چچی کے گھر میری اہمیت تب ہی ہے جب میں کچھ کروں گا اس گھر کے لیے۔ شہریار ان کا بیٹا تھا اور اس کو مارنا میرا جرم۔ اس رات امی ابو کی بھی یاد آتی رہی۔ وقت نے اُر ڑان بھری۔ ہم بڑے ہوگئے مگر ہماری کبھی دوستی نہ ہو سکی۔ ایک عجیب طرح کی نفرت ہمیں ایک دوسرے سے تھی۔ چچی اور چچا اپنی سگی اولاد کے حق میں ہوتے اور میں ہر بار مجرم ٹھہرایا جاتا۔میں اور شہریار نے کمپیوٹر میں ماسٹرز کیا تھا۔ وہ ملک سے باہر چلا گیا۔ چچا اور چچی صرف تین ماہ کے وقفے سے مجھ سے بچھڑ گئے۔چچا کو پھیپھڑوں کا کینسرہوگیا اور چچی دل کی مریضہ تھیں۔ اس دوران شہریار صرف چند دن کے لیے آیا اور دوبارہ جرمنی چلاگیا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ نہیں رکا۔ میں ملازمت کی تلاش میں تھا کہ اچانک ایف آئی اے میں جابز آئیں اور میں نے اپلائی کردیا۔خوش قسمتی سے مجھے سلیکٹ کر لیا گیا۔ ابھی ایف آئی اے میں ایک سال ہوا تھا کہ سائبر کرائم سیل میں انچارج صاحب کی سفارش پر مجھے بھیج دیا گیا۔ ان دنوں سائبر کرائم سیل نیا نیا بنا تھا اور بہت کم کیس آتے تھے۔ہم سارا دن فارغ بیٹھ کر فیس بک، واٹس ایپ، سنیپ چیٹ اور ٹوئٹر پر مذہبی فرقہ واریت پھیلانے والے پیجز بلاک کیا کرتے تھے۔صرف دوسال میں پاکستان میں سوشل میڈیا کے یوزرز نے طوفان مچا دیا۔ چند لاکھ لوگوں سے اچانک ہی یہ تعداد چوالیس ملین ہوگئی۔ تعداد کے ساتھ حسب توقع جرائم میں اضافہ ہو گیا۔ اس سال تقریباً سات ہزار کیس ہمارے سیل کو حل کرنا پڑے۔ میرا کام بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والی لڑکیاں اور ہیکرز کا سراغ لگانا تھا۔شروع میں مجھے کامیابی ملی مگر مسئلہ تب بنا جب مجھے اپنی نیچر کے خلاف کام کرنا پڑا۔یہ کام لڑکیوں سے مل کر ان کے بلیک میلنگ کے قصے سننا تھا۔یہاں ہر روز ایک نئی کہانی میری منتظر ہوتی۔ پتا نہیں ہمارے ملک میں کیا مسئلہ ہے کہ نوجوان نسل عجیب راستے پر چل پڑی ہے۔ تسکین اور لذت کے حصول کے لیے، گھر سے آزاد یہ لوگ سارا دن فیس بک اور ٹوئٹر پر مخالف جنس کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو کالز، پکس اور وڈیوز… اور بریک اپ ہونے کے بعد یہ چیزیں مختلف ویب سائٹس کو بیچ دی جاتیں جس سے لڑکی کی بدنامی ہوتی۔ مجھے غصہ تب چڑھتا جب کوئی ایسی لڑکی جو پہلے ایسے الٹے سیدھے کام کر چکی ہو ،میرے پاس آکرروتی کہ:
    ”ہائے جی میں تو ‘مشوم’تھی اس شکاری نے مجھے جال میں پھنسا لیا۔” ایسی ‘مشوم’کو شرم دلانے کیلئے بار بار کہتا۔
    ”تمہیں شرم نہیں آئی؟ تمہارے ساتھ تمہارے ماں باپ، تمہارے بھائیوں کی عزت ہے اور تم ایسے کام کرتی ہو۔” اسی وجہ سے میں ناکام ہو گیا۔ لڑکیاں میرے غصے کی وجہ سے اعتبار کم کرتیں اور پوری تفصیل نہ بتاتیں جس کی وجہ سے کیس حل نہ ہو پاتا۔میں مجبور تھا مجھے لڑکا لڑکی برابرکے قصوروار لگتے تھے مگر لڑکے کو سزادی جاتی اور لڑکی کو میڈیا والے سر پر بٹھا لیتے اور ساتھ میں یہ ہیڈ لائنز ہوتیں۔
    ”بہادر لڑکی کا کارنامہ،فیس بک پرلڑکیوں کو بلیک میل کرنے والا پکڑا گیا۔”اور ہر طرف اس بہادر کی ”واہ واہ” ہو جاتی۔ شاید میں جلد سائبر کرائم سے نکالا جاتا اگروہ کیس نہ آتا تو۔
    ٭…٭…٭
    چچا اور چچی کی وفات کے بعد میں نے وہ گھر چھوڑ دیا تھا اور ایف آئی اے کے دفتر کے قریب ہی ایک نئی تعمیر شدہ بلڈنگ میں فلیٹ خرید کر اُس میں رہنے لگا۔ شہریار سے میرا رابطہ نہیں تھا، مگر گھر چھوڑتے وقت میں نے اسے کال کی کہ یہ گھربیچ کر رقم اسے بھیج دیتا ہوں مگر اس نے انکار کردیا اور کہا۔
    ”گھر امی ابو کی نشانی ہے مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ رہنے دو۔ ”میرا شادی کا کوئی پروگرام نہیں تھا بلکہ میں خود کو ذمہ داری سے دور ایک آزاد شخص سمجھتا تھا۔ عمر کی دوڑ اٹھائیس کے ہندسہ عبور کرکے انتیس کے قریب تھی۔ اس دن میں شام کے وقت آفس سے واپس آیا اور کپڑے بدل کر اپنے لیے چائے بنا رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے نقاب پوش ایک لڑکی کھڑی تھی۔ تھوڑی سی حیرت ہوئی کیوں کہ یہ شہر کا پوش ایریا تھا یہاں نقاب جیسی چیزیں کم ہی نظر آتی تھیں۔
    ”جی فرمائیں؟”چہرہ تو میں دیکھ نہیں سکتا تھا البتہ آنکھیں میرے لیے اجنبی تھیں۔
    ”شاہ زیب صاحب آپ ہیں؟سائبر کرائم سیل والے؟”اس نے پوچھا۔
    ”بدقسمتی سے۔”میری آہ نکلی۔
    ”سر مجھے آپ سے کام ہے بہت ضروری۔”
    ”جی اندر آجائیں۔” میں نے اسے راستہ دیا۔وہ اندر آگئی۔ چال ڈھال سے وہ کسی مڈل کلاس کی لگتی تھی۔ وہ بیٹھی تو میں نے اس سے چائے پوچھی مگر اس نے انکار کردیا۔میں نے کچن میں جاکر اپنا کپ اٹھایا اورواپس آکر اسے بولنے کا اشارہ کیا۔
    ”میرا نام صائمہ ہے اور میں یہاں سے اٹھارہ کلومیٹر دور ایک محلے میں رہتی ہوں۔میں تین دن سے ایک ایسے شخص کو ڈھونڈ رہی تھی جو میرا مسئلہ سمجھے اور اسے حل کرے۔”
    ”تو آپ کی یہ نظرِکرم مجھ پر کیوں پڑی؟”میں نے اس کی بات کاٹی۔ اس نے گھورتی نظروں سے مجھے دیکھا۔
    ”میں سائبر کرائم سیل میں شکایت درج کروا کر اپنا تماشا نہیں بنوانا چاہتی۔ وہاں میڈیا والے میرے جیسے کیس ڈھونڈ تے پھر رہے ہیں۔” اس کی بات تقریباًسچ تھی۔
    ”لیکن میں کوئی پرائیویٹ جاسوس نہیں ،اسی سیل کا ملازم ہوں۔ اگر آپ وہاں رپورٹ نہیں کریں گی تو میں کیس کیسے حل کر پاؤں گا؟”
    ”پلیز آپ میری پوری بات سن لیں۔” اس نے منت آمیز لہجے میں مجھے کہا اور میرے چپ ہونے پر دوبارہ شروع ہوں گئی۔
    ”میرا نکاح میرے کزن اسد سے ہو چکا ہے۔ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ۔میرے ابو امام مسجد ہیں اور بہت سخت ہیں۔ یہ سیل فون مجھے میرے اسی کزن اسد نے لے دیا تھا ورنہ ابو ایسی چیزیں استعمال نہیں کر نے دیتے۔ اسی نے میرا فیس بک اکاؤنٹ بنایا۔ تقریباًایک ماہ پہلے ایک لڑکی کی فرینڈ ریکویسٹ آئی۔ میں نے قبول کی تواس کے میسج شروع ہو گئے۔مجھے شک ہوا کہ وہ لڑکا ہے مگر اس نے ایک دو وائس کلپ بھیج کر میرا شک دور کردیا۔ اس دوران اس نے مجھے اپنی تصویریں بھیجیں اور مجھے بھی کہا کہ میں بھی بھیجوں۔میں اس پر اعتبار کرتی تھی اور ویسے بھی میری حقیقی زندگی کچھ بورنگ تھی۔ جب سے بی اے کیا ہے میرا گھر سے نکلنا بند ہو چکا ہے۔ ایسے میں فیس بک ہی میرے لیے تفریح کا ذریعہ ہے جہاں طرح طرح کے لوگ اور طرح طرح کی باتیں۔ میں اسے دوست سمجھتی تھی اور میں نے اپنی تصویریں بھیج دیں۔ دو ہفتے پہلے اس نے وہی تصویریں مجھے دکھائیں تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پھر اُس نے مجھ سے پیسے مانگے۔ ساتھ میں دھمکی دی کہ اگر میں نے کسی کو بتایا یا پیسے نہ دیے تو وہ میری تصویریں سب کو دکھا دے گی۔”بات کرتے کرتے اس کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں نمی آگئی۔اس نے نقاب اتار دیا۔وہ صاف رنگت کی مالک ایک قبول صورت لڑکی تھی۔
    ”اب تک وہ مجھ سے دس ہزار روپے لے چکی ہے۔ یہ وہ پیسے تھے جو میں کئی سال سے اکٹھے کررہی ہوں۔ میں فضول خرچ نہیں اس لیے جو پیسے بھی جیب خرچ ملیں، سنبھال کر رکھ لیتی ہوں۔ میں اپنے خاندان میں کسی کو نہیں بتا سکتی۔ اگر اس نے تصویریں ابو یا اسد کو دکھا دیں تو مجھے جان سے مار ڈالیں گے ۔وہ سب کچھ جانتی ہے میرے بارے میں۔ میں آپ کے پاس چھپ کر یہاں آئی ہوں۔”اس کی بات ختم ہوئی۔
    ”آپ کو میرا پتا کیسے چلا؟”
    ”میں سیل میں شکایت درج کروانا چاہتی تھی مگر میڈیا کے ڈر سے خاموش رہی۔دو دن پہلے میں پکاارادہ کرکے وہاں آئی توآپ کو باہر نکلتے دیکھا۔ میں نے چوکیدار سے آپ کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ آپ سیل میں ہیں۔ نہ جانے کیوں آپ پر اعتبار کرنے کا دل کیا اس لیے یہاں چلی آئی۔”اس کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔میں سیل کا ناکام ترین انویسٹی گیٹر تھا اور وہ مجھ پر اعتبار کرکے چلی آئی۔مجھے ہنستے دیکھ کر وہ سٹپٹا گئی۔
    ”چلیں مجھے اپنی وہ تصویریں دکھائیں اور ساری چیٹ جو اس کے ساتھ کی ہے وہ بھی۔”
    ”تصویریں میں نہیں دکھا سکتی۔ چیٹ آپ پڑھ لیں۔”اس نے نظریں جھکا لیں۔
    ”دیکھیں مس اگر آپ پوری بات نہیں بتائیں گی، تو میں کیس حل نہیں کر سکوں گا۔ ویسے بھی مجھے اس کام کو خفیہ رکھنا ہے، تو آئی ٹی والوں کو ملوث نہیں کر سکوں گا۔”
    ”میں نے تو تصویریں سادہ سی دی تھیں اس نے پتا نہیں انہیں کیسے برہنہ کردیا۔” وہ شرمندہ لہجے میں بولی اور اپنے سیل فون نکال کرمجھے دیا۔ سب سے پہلے میں نے وہ تصویریں دیکھیں جو اس نے دی تھیں۔ یہ واقعی عام سی تصویریں تھیں مگر جب اس نے وہ تصویریں دکھائیں جس سے بلیک میلر اسے بلیک میل کررہی تھی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ کسی ماہر کاکام تھا اور تصویریں اس طرح کامیاب ایڈٹ کی جاچکی تھیں کہ چند لمحوں کے لیے مجھے بھی شک پڑ گیا۔ یہاں یہ تصویریں فحش تھیں۔لڑکی واقعی مشکل میں تھی۔میں نے ایڈٹ کی ہوئی تصویریں اپنے موبائل میں بھیج کر کچھ ویب سائٹس سے انہیں چیک کیا تو فوٹو ایڈیٹر کے کمال کھل کر سامنے آگئے۔میں یہ کر سکتا تھا کیوں کہ میں نے کمپیوٹر میں ماسٹرز کیا تھا، لیکن لڑکی کا خاندان کبھی یقین نہ کرتا۔اس کے بعد میں نے ساری چیٹ پڑھی۔دوسری لڑکی کی تصویریں جعلی اور گوگل سے حاصل کی گئی تھیں جب کہ وائس کلپ بھی وائس چینجر کا کمال تھا۔چند منٹ میں ہی مجھے پتا چل گیا کہ سامنے والی بلیک میلر لڑکی نہیں بلکہ لڑکا ہے۔یہی بات جب میں نے اس لڑکی کو بتائی تو اس کا رنگ زردپڑ گیا۔اس نے لبوں پر زبان پھیری اور ہکلائی۔
    ”وہ…کک کچھ کرے گا تو نہیں؟”
    ”جو کچھ کرنا تھا وہ تو کر لیا اب کیا کہتا ہے؟”
    ”بیس ہزار اور مانگ رہا ہے اور میرے پاس نہیں ہیں اب۔” اس کی آواز میں لرزش تھی۔
    ”میں اسے ٹریس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔تمہارے پاس کتنا وقت ہے ؟کب تک گھر سے باہر رہ سکتی ہو؟”
    ”میں خالہ کے گھر آئی ہوں یہاں پاس ہی۔ دو تین گھنٹے مزید رک سکتی ہوں۔” اس نے جواب دیا۔میں نے”اوکے”کہہ کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اس اکاؤنٹ کو ٹریس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔”سدرہ خان”کے نام سے بنا یہ اکاؤنٹ صاف جعلی معلوم ہوتا تھا۔ یہ صائمہ کی معصومیت تھی جو دھوکا کھا گئی۔ اس اکاؤنٹ پر مکمل پرائیویسی لگی تھی مگر یہ پرائیویسی توڑنا میرے لیے مشکل نہ تھا۔ میں نے چند سیکنڈ میں ہی اس کا ای میل نکال لیا مگر ای میل ایڈریس دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی۔ یہ بھی ایک عارضی ای میل تھا جو پندرہ منٹ بعد ہی ختم ہو جاتا ہے۔یعنی پندرہ منٹ کے لیے اسے آن لائن استعمال کیا جاسکتا ہے مگر جیسے ہی لاگ آؤٹ کریں یہ خودبہ خود ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی قسم کے نمبر یا ای میل کی رجسٹریشن ضروری نہیں ہوتی۔ محفوظ فیک آئی ڈی بنانے کے لیے یہ آسان راستہ تھا جس میں فیس بک سے اکاؤنٹ بناتے وقت ویری فائی کے لیے استعمال کرکے ختم کیا جا سکتا تھا۔اس کی لوکیشن نکالنا ناممکن کام تھا۔ اس کے بعد میں موبائل کی آئی پی ایڈریس کی کوشش میں لگ گیا، مگر یہاں بھی ناکامی ہوئی۔ بلیک میلر میری توقع سے زیادہ چالاک تھا۔ صائمہ میرے چہرے پر مایوسی دیکھ رہی تھی۔
    ”اس نے پیسے کس طریقے سے حاصل کیے ہیں؟”
    ”دو موبائل نمبر دیے ہیں۔ان کے اکاؤنٹ میں بھیج دیے میں نے۔”اس نے دونوں موبائل نمبر مجھے لکھوائے۔میں نے سائبر کرائم برانچ کے ایک دوست کو کال کی اور اسے دونوں نمبر لکھوا کر ان کی لوکیشن ٹریس کروانے کا کہا۔اس دوران صائمہ اجازت لے کر گھر چلی گئی۔اس کا نمبر اورایڈریس میں نے لے لیا تھا۔اس رات میں بارہ بجے تک اس بلیک میلر کو ٹریس کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ناکامی ہوئی۔ نہ جانے کیوں میرا دل کررہا تھا اس لڑکی کو اکیلا نہ چھوڑوں اس کے لیے کچھ کروں کیوں کہ وہ گناہ گار نہیں تھی بلکہ بے وقوف بنی تھی۔ انسان تنہائی سے گھبرا کر جو راہ فرار اختیار کرتا ہے اگر وہاں بھی پناہ نہ ملے تو جینا یقینامشکل ہو جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ صائمہ کے ساتھ ہوا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • اسرار — عمارہ جہاں

    اسرار — عمارہ جہاں

    خوشبو کبھی ٹھہر نہیں سکتی۔ وہ لمحہ بہ لمحہ بے چینی سے گھومتی پھیلتی رہتی ہے کیوں کہ اس کی کوکھ میں ایک اسرار ہوتا ہے اور وہ اس اسرار کا پردہ رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جاتی ہے، پھیلتی جاتی ہے اور آواز کی طرح ہوا کے شانہ بہ شانہ چلتی رہتی ہے۔ کیا خوشبو چھپائی جا سکتی ہے؟ کیا آواز دبائی جا سکتی ہے؟ بے شک ہر کردار اپنا اختتام اپنے اعمال کے قلم سے خود لکھتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    دہلیز پھلانگنے کی پہلی بنیاد ثما نے رکھی۔ پانچ پھولوں کے درمیان وہ بھی ایک پھول تھی، لیکن کیکر کاپھول۔ بے تحاشا کانٹوں کے ساتھ۔ابا تو گڑ کے بنے تھے تھوڑے سخت لیکن میٹھے، میٹھے۔
    دنیا اپنے خیالات کی لیپا پوتی کرنے میںمصروف ہوتی۔ وہ ہنس کر کہتے۔ میری بیٹیاں ہی بیٹوں جیسی ہیں۔ فرط انبساط سے اُن کا چہرہ سرخ ہو جاتا۔ چند ایک نے تو دوسری شادی کی ترغیب بھی دی۔ ابا اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے رہے۔
    ثما سب سے چھوٹی تھی اور نین نقش جس طرح سب سے الگ تھے ،اسی طرح مزاجاً بھی مختلف تھی۔ بھوری آنکھیں، لمبی مڑی ہوئی پلکوں سے سجی ،سرخ و سپید رنگت،پتلے ہونٹ، گھنگریالے بال، خاموش بیٹھی رہتی تو اس پر گڑیا کا گمان ہوتا۔
    گڑیا جو چابی لگانے سے گھوم گھوم کر بولنے لگ جاتی ہے۔ تو ابا کی گڑیا میں بھی ایک خرابی تھی۔ بنا چابی کے بولے نہ بولے ،بنا اجازت کوئی کچھ کہے تو بے داغ پیشانی شکنوں سے بھر جاتی۔ کچھ خودسر تھی، کچھ ابا کے لاڈ نے بگاڑ دیا تھا ۔چھوٹی عمر میں جب باہر نکلتی تو لوگ اسے پری کہہ کر بلاتے ۔آہستہ آہستہ ارد گرد کے جاننے والے اس کا اصلی نام بھی بھول گئے ۔ اب وہ پری تھی تو پر کیوں نہ نکلتے !
    جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی، پر نکلتے گئے۔ اسے اپنے پورے گھر میں واحد چیز جو پسند تھی وہ صنوبر کا درخت تھا، جو داخلی دروازے کے ساتھ ایک شان سے کھڑا تھا۔ ثما بچپن سے اسے ایسے ہی دیکھتی آئی تھی۔ وہی شان اور وہی استقامت، اپنی مخصوص خوشبو کے ساتھ یوں اپنے شاخیں پھیلائے رکھتا جیسے ثما کو اپنے پروں میں چھپانا چاہتاہو ۔ثما کو بھی وہ بے حد پسند تھا۔وہ اکثر رات کو اس کے نیچے بیٹھ جایا کرتی۔ اس کی خوشبو سے اسے عشق تھا۔ ثماکے ساتھ خوشبو گھر بھر میں گھومتی رہتی ،وہ اس کے گرد طواف میں رہتی تھی۔ پر صنوبر کے پہلو میں زنگ آلود دروازے سے اسے سخت نفرت تھی۔کیونکہ وہ ہر آنے جانے والے پر پورا منہ پھاڑ کے شور مچاتا تھا، جیسے سب کو بتانا چاہتا ہے کہ کون آیا اورکون گیا۔
    وہ راز رکھنے کا قائل نہ تھا۔ آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھتا ،ذرا جو کوئی دھیرے سے گھر میں داخل ہونا چاہتا، وہ چھنگاڑ ،چھنگاڑ کر اپنے کواڑ کو غصے سے پٹخ، پٹخ کر پورے محلے کو بتا دیتا۔ یوں ثما کو داخلی دروازے کی آواز سے نفرت تھی۔ وہ ان نفرت اور محبت کے دوسانچوں کے درمیان بڑی ہو گئی ،اتنی بڑی کہ اڑنے ہی لگی۔
    بات بات پر اسے اپنے گھر، ماحول اور حالات پر اعتراضات ہونے لگتے۔ اماں سمجھاتے سمجھاتے چڑ گئی۔ ابا ہمیشہ اسے بہلاتے رہتے۔
    ٭…٭…٭





    پری سنتے سنتے اس نے آخر ایک دن سچ مچ اڑنے کی ٹھان لی۔ پتا نہیں کون دیو اُسے اڑا کے لے گیا بلکہ اڑا کے کیا لے گیا۔ پری خود چلی گئی۔ اس رات پورے اہتمام کے ساتھ، اس نے ایک دن پہلے دروازے کی چٹخنی کو تیل میں بھگویا تاکہ رات کو شور نہ کرسکے ۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا۔
    رات کوجب ساری دنیا چپ تھی ۔دروازہ بھی چپ تھا تب وہ دھیرے سے نکل گئی اور کیا پتا اس وقت لمحات نے دن سے منتیں بھی کی ہوں گی۔ دن سے کہا ہوگا:
    ”رک جا۔ رک جا ورنہ… ہمیشہ کے لیے رات آئے گی۔” سب بے کار رہا۔ صحن میں گھومتی صنوبر کی خوشبو اس کے پیروں پر لوٹنے لگی، لیکن اسے پروا کہاں تھی۔
    زنگ آلود کواڑ شرم سے کٹ کر رہ گئے، جب منہ اندھیرے ایک قدم لرزتا ہوا باہر نکلا اور اندر کے مکینوں کو کالی بجھنگ دنیا میں چھوڑ گیا۔ہو سکتا ہے اس سے پہلے سروں پر پگڑیاں ایک شان سے ہوں، سر اٹھانے والے زیادہ ہوں ،سر جھکانے والے کم۔
    وہ دہلیز ….وہ ہمیشہ کھٹ کھٹ کرتی اس رات خاموش چٹخنی…وہ روشنی کو نگلتی اندھیری رات… اماں کے لیے بعد میں یہ سب ایک خواب بن گیا، ایک بھیانک خواب۔ کون تھا وہ جو ان کے گھر میں نقب لگا گیا؟
    اب یہ سوال بے معنی تھا۔ جب بیٹیاں ہوں تو ماں کو سوتے میں آنکھیں اور کان کھلے رکھنے چاہئیں اور اماں ایک دن سر درد کی گولی کھا کے سو گئی ۔بس ثما نکل لی اسی رات!
    ثما جاتے جاتے بہنوں کی خوشیوں پر تالا لگا گئی۔ پیچھے رہ جانے والی چار بہنیں ایک ایک کر کے ایک سال کے اندر گھر سے نکلتی گئیں۔ چند لوگوں کی موجودگی میں منتشر ہو گئیں۔ اماں کو ان کا خوف پلک جھپکنے نہ دیتا ۔رات کو اٹھ اٹھ کر دروازے کی چٹخنی دیکھتی۔ اب بیٹیوں کا کمرا بند تھا ،چٹخنی سے نہیں تالے سے۔ صبح سات بجے اماں پہلے مرغیوں کا ڈربا کھولتی پھر ان کا کمرا۔ ایک دن اس کمرے سے تالا اٹھایا گیا، جب آخری بیٹی روبا بھی بیاہ کر چلی گئی ۔
    بہت دور ……کیسے لوگ!
    کہاں کے !!
    کون!!!
    کوئی سوال نہیں،اماں نے دہلیز کی عزت رکھی ،قرآن کے سائے میں رکھا ،دروازے کے باہر تک ساتھ گئے واپس آکر چٹخنی چڑھا دی۔
    اور اماں کہتی:”ثما تو بچپن سے بہنوں کے ہاتھ سے چھین کر کھاتی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا ان کی خوشیاں بھی چھین کر کھائے گی۔”
    ٭…٭…٭
    مٹی کے سیلن زدہ کمرے میں اماں روز دروازے کو دیکھ کر ساکت رہ جاتی ۔ سیلن زدہ گھر روز بہ روز ڈھنے والا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ اماں ابا بھی۔ بالوں میں وقت نے چاندی کی تاریں بچھا دیں۔بوڑھے ہو گئے دونوں، لیکن معمول ایک رہا۔ سورج جب جاتے جاتے وقت کے ماتھے پر رات کا ٹیکا لگا جاتا ہے تب…تب وہ دونوں دروازے کی چٹخنی بند کر دیتے ۔ صنوبر کی خوشبو سے معطر اس گھر میں غم کا، دکھ کا دھواں تھا۔ ثما جاتے جاتے عزت کے مزار پر جلتا آخری دیا بھی بجھا گئی تھی۔ اسے پتا تک نہ تھا بلکہ اسے کیا کسی بھی بیٹی کو پتا نہیں ہوتا کہ جب وہ لرزتے قدموں سے ہمیشہ کے لیے چوری چھپے دہلیز پھلانگتی ہے تو اس کے پیچھے دبے پاؤں ”عزت” بھی چلی جا رہی ہوتی ہے اور پھر ایک رات اور ایک دن کے اندر اماں ابا دونوں چلے گئے ۔
    صبح اماں اور شام کو ابا۔ ویران کواڑ ایک دوسرے سے لپٹ کر روئے۔ کیاری میں موتیے کے پھول خوشبو سے ناراض ہو گئے۔ بیٹیوں میں صرف روبا پہنچ گئی اور سپردخاک کر دیا ۔ اماں کو باغی پری کا غم لے گیا اور ابا کو اماں کا غم۔ ابا تو دنیاداری میں کبھی بھولے سے بھی ثما کا نام نہ لیتے،لیکن وقت گواہ ہے اماں کی زبان پر وقت نزع ایک ہی لفظ ”ثما” تھا اورجس کے پاؤں تلے جنت ہو اس کے وجود کا کیا عالم ہوگا !یہ اولاد تب تک نہیں جان سکتی جب تک اُن کی اولاد نہ ہو۔
    ٭…٭…٭
    تیسرے دین ویران گھر میں دیوار کے ساتھ لگی چارپائی کی گانٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روبا نے سوچا۔ ثما! اس گھر کی ہوا بھی تمہیں بد دعا دیتی ہے جا خوش رہ۔ ٹھہری ہوا نے وقت سے پوچھا۔ تم نے سنا ہے؟ وقت دور اندیش تھا ،چپ چاپ آگے بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے آنکھوں پر کھیرے کے قتلے رکھے ہوئے تھے ۔ بیل کی آواز پر ملازمہ کو آواز دی۔
    ”نوراں!شہیر آگئے ہیں دیکھ لو۔ ”
    شہیر کو اندر آتے دیکھ کر وہ طمانیت سے مسکرا دی۔ بے شک گھر چھوڑ کر آنا مشکل تھا، لیکن اس کے حق میں وہ فیصلہ سب سے بہتر رہا تھا۔ کہیں دور ماضی کے کواڑ کھلے ۔ اماں ابا کا سونا، رات کا پچھلا پہر۔ اس کا زنگ آلود کواڑ کھولنا، باہر کھڑا شہیر مرزا۔ پھر شہیر کے ساتھ یہ گھر۔ وقت کسی کا غلام نہیں ہوتا۔وہ آگے بڑھتا گیا۔
    پھر دو بچے،روحا اورحسن کے قد ان کے قد سے اوپر تھے۔ اب تو وہ دونوں بال ڈائی کرنے لگے تھے ۔ اس نے سر جھٹک کر سوچا۔ ہونہہ میں کیا سوچنے لگی ہوں ۔
    ٭…٭…٭
    کئی دنوں سے اسے ایئر فریشنر کی خوشگوارخوشبو میں ایک دھیمی خوشبو آتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ۔ ۔ وہ بلیو لیڈی ،شیلیز ،شی ہر طرح کے پرفیومز چھڑک کر دیکھتی ،خوشبو بڑھتی جاتی۔ ہاں وہ صنوبر کی خوشبو!اماں کے گھر میں دالان والے صنوبر کی خوشبو زندہ وجود دھار چکی تھی اور اب اس کے کلیجے پر لپٹ جاتی، گلے کا ہار بن جاتی ۔ وہ لاکھ سر جھٹکتی، ناک سکیڑ لیتی لیکن وہ مستقل مزاج تھی اور بے حد تھی۔ تبھی تو اسے ڈھونڈتے گھومتے اس کے گھردوسرے فلور میں اس کے بیڈ روم تک پہنچ جاتی۔ پہلے پہل یہ خواب لمحوں کا تھا، جھونکاآتا گزر جاتا، پھر وہ خوشبو اس سے لپٹنے لگی۔ اوّلین ساعتوں میں خوشبو کا طواف اس نے اپنا وہم سمجھا، لیکن بعد میں وہ خوشبو ہر خوشبو پر حاوی ہو گئی۔ البتہ بچوں اور شہیر کے لیے یہ وہم ہی رہا، انہیں کبھی کوئی خوشبو نہیں آئی۔
    ٭…٭…٭
    اور خوشبو کو آئے ایک ہفتہ ہی ہو گیا تھا کہ اس کے گھر کا گیٹ چرخ چرخ کرنے لگا۔
    ”شہیر! یہ مین گیٹ شور کرتا ہے۔ تیسرے دن اس نے کہہ دیا۔ اوہ کم آن ثما !ایسا کچھ نہیں،یہ کوئی پرانی کٹیا نہیں۔”
    ویسے تم بوڑھی ہوتی جا رہی ہو ۔ وہ مسکرایا۔ وہ خاموش رہ گئی۔ روزبہ روز آواز بڑھتی گئی۔ اب تو مین گیٹ دہاڑنے لگا تھا۔ گیٹ سے طرح طرح کی آوازیں نکلتیں۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ دونوں کواڑ کھولے ماتم کرتا ہے اور کرتا رہتا ہے جب تک وہ جھنجھلا کر کانوں پر ہاتھ نہ رکھ لیتی۔ رات کو اس کا بیٹا حسن دو بجے واپس آتا۔ چوکیدار گیٹ کھولتا ،دروازہ چیخ اٹھتا۔ وہ نیند سے اٹھ جاتی۔
    گیٹ اب اونچی آواز میں دہاڑنے لگا تھا،پھر اس کی آواز بھی صنوبر کے خوشبو کی طرح ہر آواز پر حاوی ہو گئی۔ میں پاگل ہونے لگی ہو ں۔ کبھی کبھی تنہائی میں وہ گھبرانے لگتی۔ پارٹیز، فرینڈ سرکل بڑھانا۔ فنکشنز…اس نے زیادہ وقت باہر گزارنا شروع کیا۔
    ٭…٭…٭
    صبح وہ اٹھی تو خوشبو غائب تھی ۔ اس نے ایک دومنٹ ٹھہر کر کچھ محسوس کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہی۔ شہیر آفس چلے گئے اورگیٹ کی آواز بھی نہیں آئی۔ چند لمحے الجھن سے سوچنے کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک عرصے سے ذہن پر بوجھ بنی آواز اور خوشبو سے آج چھٹکارا مل گیا تھا۔ واش بیسن پر جھک کر پانی کے دو تین چھینٹے اپنے منہ پر مارے۔ خوشگورایت کے احساس کے ساتھ ساتھ ہوش حواس بیدار ہوتے ہی اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔وہ آگہی کا لمحہ تھا۔اسرار سے پردہ اٹھایا گیا اور کس نے اٹھایا بھلا؟
    برسوں اس کے اندر کہیں ماضی کے کیاری میں دبی صنوبر کی خوشبو اب پھنکارنے لگی تھی ۔ آواز نے پہلے ناگ کا روپ دھار لیا اور اب پھن اٹھائے کھڑا چرخ چرخ کر رہا تھا۔ وہ دوڑتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی، لاؤنج میں ملازمہ ڈسٹنگ کر رہی تھی۔ اسے یوں بھاگتے دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔
    ”کیا ہوا باجی؟ ”وہ ان سنی کرتی آگے بڑھی اور دھڑام سے دروازہ کھول دیا ،کمرا بکھرا پڑا تھا۔ ملازمہ آگے بڑھی۔
    ”یہ چھوٹی باجی نے کیا حال کر دیا ہے کمرے کا؟”
    ”باجی جی! یہ کیا ہے ؟” ملازمہ نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا پیڈ کا صفحہ اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔ وہ یوں پیچھے ہٹی جیسے موت کا پروانہ ہو ۔
    پیچھے ہٹتے ہٹتے اسے آج آواز اور خوشبو کا اسرار سمجھ آگیا تھا۔
    ”روحا بھاگ گئی گھر سے … ”
    اس کے اندر سے آواز آئی۔
    ”کیا میں اب دنیا کے سامنے جا سکوں گی؟”
    اندر گہرا سکوت تھا۔
    ہوا خاموش وقت کی طرف دیکھ رہی تھی۔وقت ہمیشہ کی طرح دور اندیش تھا آگے تو بڑھ رہا تھا لیکن بہت سستی سے۔
    ٭…٭…٭




  • سوءِ بار — میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاؤں کے رشک خان کی پوتی گاؤں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟” اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔”
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭…٭…٭





    ٹھنڈی وڈاں گاؤں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاؤں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاؤں کیا آس پاس کے گاؤں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔” اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔”
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاؤں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوں سے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولۖ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ ” زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟”
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟” زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔” وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟” شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مؤدب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔”
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔”
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔”
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟” زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔” وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مؤدب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟”
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔”
    ”سب غلط ہیں کیا؟” اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔”
    ”ایک تو سچا ہے؟” نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔” ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔” زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟” سب گاؤں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ۖ کہتے ہیں ۔”
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟” بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔” وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔
    ”ہم نے بھی پڑھ رکھا ہے سب ۔ جانتے ہیں سب ۔”
    ”مگر مانتے نہیں ہیں۔” اس نے سر اٹھا کر سب کی جانب دیکھا ۔
    ”تو ہوش میں ہے ؟” زمان خان نے سر پیٹ لیا ۔
    ”میں ہی تو ہوش میں ہوں۔”
    پھر اسے واپس بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا گیا کہ وہ باغی ہوتا وہاں کی نسل کو برباد کر رہا تھا، لیکن ایسے نہیں سنگسار کر کے اور پہلا پتھر اسے زمان خان نے مارا تھا اس کا پہلا قدم اٹھانے میں مدد دینے والا ، اس کا باپ ۔ پھر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے اور شیر گل دیوانہ وار بھاگتا چلا گیا ۔کون سا پتھر کہاں لگا یہ یاد نہ رہا سوائے اس پہلے پتھر کے ۔
    ”شیر گل حق بات کہتا ہے۔” وہ تو سنگسار کر کے نکال دیا گیا تھا، لیکن یہ سوچ دوسرے ذہنوں میں پنپنے لگی تھی ۔
    ”آباء ہمیشہ درست ہوں گے یہ کہاں لکھا ہے ؟ کہاں ہوتا آیا ہے؟ تاریخ گواہ ہے ۔” وہ شیر گل کا تایا زاد رشک خان تھا ْ۔
    ” گزری قوموں جیسا کریں گے تو انہی کی طرح بندر خنزیر بنا دیے جائیں گے ۔” وہ ٹھنڈی وڈاں کے بڑے زمیندار کا پتر امیر حمزہ تھا ۔
    ”ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
    ” ہم ہی تو کر سکتے ہیں ، ہم جمے رہیں یہ ہم پہ لازم ہے ۔ اصحاب ِ کہف بھول گئے ۔چند جوان لڑکے ، نو عمر لیکن ایمان پر ڈٹ جانے والے ۔ اتنا نہ سہی ، کچھ تو ایمان دکھائیں ۔”
    چودہ لڑکوں کا وہ ٹولا شیر گل کا ہم خیال تھا ۔ چودہ گاؤں کے لیے چودہ جوان کافی تھے ۔انہیں سمجھایا گیا ، ڈرایا گیا ، لالچ دی گئی ، وعیدیں سنائی گئیں مگر وہ ڈٹے رہے، جمے رہے ۔ انھیں سنگسار نہ کیا جا سکا کہ اس میں بڑے لوگوں کے پتر شامل تھے۔ پھر کس کس کو سمجھاتے بجھاتے اور کس کس کو سنگسار کرتے ۔ ایک چنگاری تھی جو لگا دی گئی تھی۔
    بہت ماہ بعد شیر گل کسی امید کے سنگ لوٹا تھا ۔ ایک آخری بار ۔ بڑے ٹیلے پر کھڑا ہوا چلا رہا تھا ۔
    ” مان جاؤ ۔ حد سے بڑھنے والوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔” آہستہ آہستہ پورا ٹھنڈی وڈاں ٹیلے کے گرد جمع ہونے لگا ۔ شیر گل یہی دہراتا جاتا ۔
    ” تو ولی ہے یا نبی جو وعیدیں سنا تا ہے ۔ ہم اب تک بچے ہیں ، آگے بھی بچے رہیں گے ۔” بڑا زعم تھا انھیں اپنی عبادات پہ ۔ غرور اور تکبر تھا جو ٹپک رہا تھا ۔
    ”بنی اسرائیل مت بنو۔”
    ”بن بھی گئے تو کیا؟ بڑا کرم تھا اس قوم پہ ۔” اور وہ سارا عذاب بھول گئے، صرف انعام یاد رکھا۔ آزمائشیں ، پابندیاں کچھ یاد نہ رہا ۔ شیر گل پھر رکا نہیں ۔ ہمیشہ کے لئے نکل گیااور جس روز سرحد پار سے ان کا متبرک مال آنا تھا اور وہ نجانے کون کون سے منصوبے بنا رہے تھے۔ دھرتی پہ بوجھ کو بڑھا رہے تھے تو زمین سرکنے ، خون اگلنے لگی ۔ گھر کے گھر اجڑ گئے۔ گاؤں کے گاؤں الٹ گئے اور چودہ لڑکوں کا وہی ٹولا بچ گیا جو شیر گل کا ہم خیال تھا ۔
    رشک خان نے آنکھوں کو پونچھتے ہوئے پوتی کی جانب دیکھا جواس کی انگلی تھامے زمین کے اونچے نیچے رستوں پر چلتی دراڑوں کو دیکھتی دہراتی جاتی تھی ۔ زمین پہ بوجھ بڑھنے سے بھونچال آتا ہے ۔ اگلی بارنجانے بوجھ کب بڑھے گا۔
    ٭…٭…٭




  • نیل گری — افتخار چوہدری

    گہرے سرمئی بادلوں سے گرتی سفید برف نے فضا میں سحر انگیز منظر تخلیق کیا ہوا تھا اور یہ منظر پچھلے کئی دنوں سے یکسانیت کا شکار تھا جس کی وجہ سے حد نگا ہ تک پھیلی برف کی سفید چادر کئی فٹ موٹی تہ کی صورت اختیار کر چکی تھی ، مگر ابھی تک گالوں کی شکل میں گرتی برف رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ درختوں کی شاخیں تک برف کے بوجھ سے دُہری ہو چکی تھیں ، جب کہ اطراف میں موجود ہر منظر دودھ میں نہایا ہوا لگ رہا تھا ،پہاڑوں پر موجود پگڈنڈیوں سے مشابہ رستے جو گرمیوں میں حقیقی وجود رکھتے تھے ، اس وقت کسی بے نشان منزل کی طرح گم ہوچکے تھے۔ ایسے میں صفدر اُنہی گمشدہ رستوں پر محض اندازے اور احتیاط سے قدم اٹھا رہا تھا۔ اس کا ہر اٹھنے والا قدم گھٹنوں تک برف میں دھنس رہا تھا جس کی وجہ سے چلنے کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی۔ سردی سے بچنے کے لیے اس کے جسم پر آدھے درجن سے زائد گرم ترین ملبوسات کی تہیں تھیں اور سر کو گرم ٹوپی سے ڈھانپنے کے بعد ایک اونی مفلر سے پورے چہرے کو چھپایا ہوا تھا۔ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ اتنے حفاظتی اقدامات کے باوجود اسے سردی سے اپنی ہڈیوں میں گودا جمتا محسوس ہورہا تھا۔ گیارہ ہزار فٹ سے زائد بلندی پر ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی مقدار انتہائی کم تھی جس کی وجہ سے وہ گہرے سانس لینے پر مجبور تھا۔ وہ اس وقت سائبیریا کے بعد دنیا کے دوسرے سر د ترین مقام دراس کی حدود میں موجود تھا۔ وہاں اس وقت درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے تھا۔ وہاں سے کارگل کی مشہور پہاڑیاں اور خاص طور پر ٹائیگر ہل نامی پہاڑ بالکل متصل علاقہ تھا۔ اسی پہاڑ پر پاکستان اور اس کے ازلی دشمن انڈیا کے درمیان 1999ء میں گھمسان کا رن پڑا تھا۔ صفدر اس وقت پہاڑکے ٹاپ کی طرف جانے والے ایک تنگ سے راستے پر پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا۔ اس تنگ راستے کے دوسری طرف ہولناک کھائیاں صدیوں سے منہ پھاڑے کسی شکار کے انتظار میں تھیں۔ پوری احتیاط سے چلنے کے باوجود اچانک اس کے پاؤں کے نیچے سے برف کسی شیشے کی طرح تڑخی اور پھر اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھالتا اس کا توازن بگڑگیا اور وہ راستے کے دوسری طرف گہری کھائی میں گرتا چلا گیا۔ رستے کے کنارے پر شیڈ کی صورت آگے کو بڑھی ہوئی برف پر پاؤں رکھتے ہوئے اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ برف کے نیچے ٹھوس سطح کے بجائے خلا ہے۔ اندازے کی اس ایک غلطی نے اسے آزمائش میں مبتلا کر دیا تھا۔ برفیلی ڈھلانی سطح پر لڑھکنیاں کھاتا ہوا جب وہ رکا، تو اس کی آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے ستارے گردش کر رہے تھے۔ اسے اپنے حواس مجتمع کرنے میں چند منٹ لگ گئے۔ حواس پوری طرح بحال ہونے پر اس نے اطراف کا جائزہ لیا، تو خود کو ایک پیالہ نما کھائی میں پایا جس کی گہرائی بیس فٹ سے زائد ہوگی۔ اس نے واپس اوپر چڑھنے کی کوشش کی، تو اسے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ برف گرنے سے ڈھلانی نظر آنے والی کھائی کی دیوار اصل میں عمودی ہے۔ اس خوفناک حقیقت کے آشکار ہونے پر اس کادل لرزنے لگا۔ وہ بار بار اوپر چڑھنے کی کوشش میں پھسل کر واپس گر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس کا سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگا، تو نڈھال سا ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا جس جگہ وہ بیٹھا تھا اسے لگا جیسے اس کا پاؤں کسی نرم اور پلپلی چیز کے اوپر رکھا گیا ہو۔ اس نے کریدنے کے انداز میں وہاںسے برف ہٹائی تو اسے لگا جیسے وہاں کوئی انسانی جسم دباہوا ہے۔اس خیال سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے جب کہ برف ہٹانے کی رفتار دُگنی ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں اس نے ایک پندرہ ،سولہ سالہ لڑکی کی لاش دریافت کر لی۔ وہ پری چہرہ لڑکی سوئی ہوئی لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر موت کی تلخی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ لباس اور حلیے سے اس کا تعلق وہیں کے کسی قبیلے سے لگ رہا تھا ۔ نہ جانے کس بد نصیب کی بچی ہے۔ اس نے دکھی دل سے سوچا اور بے بسی سے اطراف کا جائزہ لینے لگا۔ اسے خود پر اس چوہے کا گمان ہو رہا تھا جسے پنجرے سے باہر نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی ہو۔ ابھی دن میں ہی بادلوں نے اندھیرا پھیلا رکھا ہے ،کچھ دیر بعد جب رات کے اندھیرے نے اپنے سیاہ پَر پھیلا کر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے تب، تو یہاں سے نکلنا نا ممکن ہو جائے گا اور پھر صبح تک تو اس بے رحم موسم نے میری قلفی جما کر مجھے بھی اس لڑکی کے ساتھ ہی میں دفن کر دینا ہے۔ صفدر کے ذہن میں اس بار منفی سوچ ابھری۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے دل نے ذہن میں ابھرنے والی سوچ کی پُر زور تردید کی اور وہ ایک بار پھر ہمت کر کے نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑ ا ہوا۔ اس بار اس نے رُخ بدل کر جنونی انداز میں ہاتھ چلائے تو اچانک برف میں دبی ہوئی جھاڑی کی لمبی شاخ اس کے ہاتھ آگئی جس کے سہارے وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ تشکر بھرے جذبات کے ساتھ ساتھ یقینی موت کو پچھاڑنے کا جوش بھی اس کے چہرے سے عیاں ہورہا تھا۔اس نے مڑ کر کھائی میںجھانکا، تو حسرت ویاسیت کی تصویر بنی لڑکی کی لاش پر برف روئی کے گالوں کی طرح گر رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر سفر شروع کیا ، گو کے اس کا اٹھنے والا ہر قدم گھٹنوںتک برف میں دھنس رہا تھا، مگر اسے یقین تھا کے دن ڈھلنے سے پہلے وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے گا۔
    ٭…٭…٭
    گہرے سرمئی رنگ کے چوہے نے ایک بار پھر آٹے والی ڈرمی کے پیچھے سے سر نکال کر اپنی گول مٹول آنکھوں سے اطراف کا جائزہ لیا۔ وہ کافی دیر سے وہاں چھپا ہوا تھا اور اب واپس اپنے بِل کی طرف جانے سے ہچکچا رہا تھا۔ وہ کئی بار ہمت کر کے باہر نکلا بھی تھا، مگر ہر بار چند قدم آگے بڑھنے کے بعد ہی اس کی ہمت جواب دے جاتی اوروہ کسی شکست خوردہ فوجی کی طرح پسپا ہوتا ہوا واپس ڈرمی کے پیچھے جا چُھپتا تھا۔ اب بھی وہ اسی کشمکش میں تھا کہ واپس اپنے بِل کی طرف چلا جائے یا مزید کچھ دیر یہیں چھپ کر اپنی جان کی حفاظت کرے، اس کی چھٹی حِس اسے قر ب وجوار میں موجود کسی بڑے خطرے سے آگاہ کررہی تھی۔ بالاخر اس بار اطراف کا جائزہ لینے کے بعد اس نے اپنی ہمت مجتمع کی اور ڈرمی کے پیچھے سے نکل آیا اور پوری رفتار سے دوسری دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی پیٹی کی طرف دوڑا۔ پیٹی کے نیچے اس کا بِل تھا جس تک پہنچنے کے لیے وہ اتاولا ہوا جا رہا تھا۔ ابھی وہ اپنی منزل سے چند فٹ دورتھا جب دروازے کے پیچھے گھات لگا کر بیٹھی ہوئی مانو ایک ہی جست میں اس کے اوپر آن گری۔ گھر کی پلی ہوئی مانو کے ایک ہی جاندار پنجے نے اس کی روح کو اس فانی دنیا سے عالمِ پائیدار میں منتقل کر دیا۔ اب مانو کے منہ میں محض گوشت کا ایک لوتھڑا باقی رہ گیا تھا جسے لیے وہ پیٹی کے نیچے گھس گئی اور پھر اس کے مضبوط جبڑوں کے نیچے آکر چوہے کی ہڈیا ں ٹوٹنے کی کریہہ آوازیں ابھرنے لگیں۔
    ”بھائی! امی کہہ رہی ہیں کہ اٹھ جائیں ورنہ کالج سے دیر ہو جائے گی۔” نوشی نے صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ کسلمندی سے چار پائی پر لیٹا ہوا بلی اور چوہے کے درمیان ہونے والی کشمکش میں حالات کو طاقتور کے حق میں پلٹا کھاتے ہوئے دیکھ کراس قدر گہری سوچ میں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اسے نوشی کے کمرے میں داخل ہونے کا علم ہی نہیں ہوا تھا۔
    ”کیا امی کے نام کی دھمکی دینا ضروری ہے؟ یہ بات تم خود بھی تو مجھے کہہ سکتی ہو۔ میں تمہیں منہ میں نہیں ڈال لوں گا۔ صفدر نے بیزاری سے جواب دیا۔ تو ہمیشہ سے ڈری سہمی رہنے والی نوشی کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا، جیسے بھائی نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا ہو۔ وہ جس طرح آئی تھی ویسے ہی بے آواز قدموں سے لوٹ گئی۔ صفدر ایک بھر پور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہو ا اور کچھ دیر آئینے میں خود کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد باتھ روم میں گھس گیا۔ جب وہ باتھ روم سے باہر نکلا، تب تک نوشی اس کے لیے ناشتا لا کر چارپائی پر رکھ چکی تھی۔ ”یہ کیا ابھی تو پراٹھے اور آملیٹ بننے کی خوشبو آرہی تھی، میرے لیے بھی وہی لاؤ۔” اس نے چنگیر میں موجود روکھی روٹی اور کٹوری میں رات کی بچی ہوئی دال دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہا۔ ”دیور جی! پراٹھے کھانے کا شوق ہے تو کسی کام دھندے سے لگو۔ پہلے ہی مفت کی توڑتے ہوئے نہ آنکھ شرماتی ہے اور نہ ہاتھ رکتا ہے اور رہی سہی کسر یہ فرمائشی پروگرام شروع کر کے نکالنا چاہتے ہو۔” اس سے پہلے کہ نوشی کوئی جواب دیتی، ان کی بھابی عظمیٰ نے دروازے میں نمودار ہو کر کینہ توز نظروں سے دونوں کو گھورتے ہو ئے کہا شاید وہ کہیں قریب ہی موجود تھی اور یقینا ان کی باتیں بھی سن رہی تھی۔
    ”بھابی! گھر چلانے کے لیے آپ کے والد ِمحترم خرچہ دے کر نہیں جاتے جو آپ ہمیں مفت کی توڑنے کا طعنہ دے رہی ہیں۔ بھائی اکرم اس گھر کا بڑا بیٹا ہے،ماں باپ کا بھی اس پر کوئی حق ہے کہ نہیں اور آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ابو کی ریٹائرمنٹ اور گریجوایٹی کی تمام رقم بھائی کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بطور رشوت دی گئی تھی۔ کیا آپ میںاتنا سا بھی ظرف نہیں ہے کہ میری گریجوایشن مکمل ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں اوریہ چند ماہ صبر کرلیں۔ اس کے بعد میں خود امی ابو اور بہن کی ذمہ داری سنبھال لوں گا۔” صفدر بھی کہاں چپ رہنے والا تھا۔ اس نے بھی ترنت زہر خندہ لہجے میں جواب دیا۔ جھگڑے کی فضا دیکھ کر نوشی تھر تھر کانپنے لگی۔ اسے بھائی اور بھابی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ بات لڑائی کی طرف جارہی ہے اور وہ ہمیشہ کی ڈرپوک ایسی صورت حال سے کوسوں دور بھاگتی تھی۔
    ”میرے والد کا اس بات سے کیا تعلق ہے؟ کیا یہی تعلیم حاصل کر رہے ہو کہ بزرگوں کی عزتیں اچھالو۔ اب اگر تم نے اپنے گندے منہ سے میرے ابو کا نام لیا تو میں تمہارا منہ نوچ لوں گی، گھٹیا۔” عظمیٰ نے آگے بڑھ کر صفدر کا گریبان پکڑ لیا اور ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔ اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ آس پاس کے پڑوسی بھی متوجہ ہوگئے۔ بشیراں بی بی بیٹے اور بہو کے درمیان آگئی تاکہ جھگڑے کو بڑھنے سے روک سکے۔ اس دوران ریٹائر کلرک رحمت علی کھانستا ہوا جب کہ اکرم بھی آنکھیں ملتا ہواوہاں پہنچ گئے۔
    ”صبح سویرے کیا تماشا لگا رکھا ہے؟” اکرم نے پھنکارتے ہوئے پوچھا۔ اس کا رخ صفدر کی طرف ہی تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ،رو رو کر آسمان سر پر اٹھاتی ہوئی عظمیٰ نے بات اچک لی۔
    ”اس بھوکے ننگے گھر میں، میں نے اپنی تمام خواہشات کا گلا گھونٹ دیا۔ تمہاری کم آمدن کے باوجود صبر و شکر سے اس گھر کی تمام ذمہ داریاں نبھا رہی ہوں۔ کئی دنوں سے میرا دل پراٹھا کھانے کو چاہ رہا تھا۔ آج ہمت کر کے ایک بنا ہی لیا تو وہ بھی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہو رہا۔ یہ سرکاری سانڈ کہتا ہے کہ تمہارے ابا خرچہ دے کر نہیں جاتا جو پراٹھے کھاتی ہو۔” اس نے ہچکیوں کے درمیان بات کو اپنے انداز سے آگے بڑھایا۔
    ”بھائی! یہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے تو…”
    ”بس اب تمہیں تاویلیں گھڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کے بعد اگر تم نے بلا وجہ میری بیگم سے الجھنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا اور ویسے بھی چند دنوں کی بات ہے جیسے ہی مجھے سرکاری کوارٹر ملے گا ہم شفٹ ہو جائیں گے۔” اکرم نے عظمیٰ کے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے وارننگ دی، تو اس کی بات سن کر صفدر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے ایک بار پھر کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اپنے پیچھے کسی کے گرنے کی آواز سن کر مڑا، تو نوشی فرش پر گری کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وہ اس کی طرف دوڑا جب کہ عظمیٰ طنزیہ انداز میں سب پر نظر ڈالتے ہوئے اکرم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پانی کے چھینٹوں اور آیت کریمہ کے ورد سے نوشی کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آرہا تھا۔ اس کی گلابی رنگت تیزی سے پیلاہٹ میں بدلتی چلی جا رہی تھی۔
    ”بیٹا خدا کے لیے جلدی کچھ کرو میری بیٹی ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے اسے کسی اسپتال پہنچاؤ۔” بشیراں بیگم نے بے بسی سے صفدر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو صفدر جو بہن کو ہوش میں لانے کے لیے جتن کر رہا تھا چونک کر ہاتھ جوڑتی ہوئی ماں کو دیکھنے لگا۔
    ”ہاں ماں اسے اسپتال لے چلتے ہیں۔” اس نے ماں کی تائید کی اور رکشا لینے گھر سے باہر کی طرف بھا گا۔
    بزرگی کی سرحد میں داخل ہوچکے سفید باریش ڈاکٹر کے چہرے پر سوچوں سے زیادہ تفکر نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ اس کے سامنے موجود ٹیبل پر نوشی کی مختلف رپورٹیں پڑی ہوئی تھیں جب کہ صفدر اپنے امی ابو سمیت ٹیبل کے دوسری طرف موجود کرسیوں پر براجمان تھا۔ ان سب کی نظریں ڈاکٹر پر جمی ہوئی تھیں۔
    ”پلیز ڈاکٹر صاحب کچھ ہمیں بھی بتائیں کے نوشی کو ہوا کیا ہے جو اسے اچانک دورہ پڑ جاتا ہے۔” صفدر نے گلوگیر لہجے میں التجا کی۔
    ”دیکھو بیٹا! آپ کی بہن کو ان میڈیکل رپورٹوں کے مطابق کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے مگر اس کی حا لت بتا رہی ہے کہ وہ شدید تکلیف میں ہے۔” ڈاکٹر نے ایک گہرا سانس لے کر انکشاف کیا۔
    ”اگر کوئی بیماری نہیںہے تو یہ ہر تھوڑی دیر کے بعد دورہ کیوں پڑ رہا ہے؟” صفدر نے حیرت سے پوچھا۔
    ”اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے،البتہ میرے علم میں ایک ایسا درویش صفت انسان ہے جو شایدآپ کے اس سوال کا جواب دے سکے، میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ ایک نظر مریضہ کو دیکھ لیں۔” ڈاکٹر نے ٹیبل پر موجود ٹیلی فون کا رسیور اٹھاتے ہوئے کہا اور پھر ایک نمبر ڈائل کر دیا۔
    دوسری طرف سے کال اٹنڈ ہونے پر وہ کسی چراغ شاہ سے بات کرنے میں مشغو ل ہوگیا۔
    ”شاہ صاحب آدھے گھنٹے تک آرہے ہیں۔” ڈاکٹر نے رسیور واپس کریڈل پر رکھتے ہوئے امید افزا خبر سنائی۔ پھر واقعی آدھے گھنٹے میں نورانی صورت والے چراغ شاہ صاحب آ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ سب کی معیت میں مریضہ کے کمرے میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی چراغ شاہ کی نظر بیڈ پر لیٹی مریضہ پر پڑی، تو ان کے قدم وہیں رک گئے۔ نوشی اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ نیلے کانچ کی طرح نظر آرہا تھا۔ شاہ صاحب چند ثانیے اسے غور سے دیکھتے رہے اور پھر پلٹ کر کمرے سے باہر آگئے۔
    ”شاہ جی کیا ہوا؟ آپ نے بچی کو نزدیک سے کیوں نہیں دیکھا؟” ڈاکٹر نے تجسس سے پوچھا۔
    ”کیا آپ لوگوں نے اس بچی کے لیے آنے والے کسی رشتے سے انکا رکیا ہے؟” شاہ صاحب نے ڈاکٹرکی بات کا جواب دینے کی بجائے رحمت علی سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
    ”جی! ہماری بہو عظمیٰ اپنے بھائی کے لیے اس کا رشتہ مانگ رہی تھی مگر ہم نے انکار کر دیا۔” رحمت علی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”میرے خیال میں اس بچی کو دواؤں کے بجائے دُعاوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی فرمائے، اب سوائے صبر کے کچھ نہیں ہو سکتا۔” شاہ صاحب نے دھیرے سے کہا۔
    ”پلیز سر! آپ کھل کر بتائیں تاکہ ہمارے پلے بھی کچھ پڑ سکے۔” صفدر نے بے چینی سے کہا۔
    ”بیٹا! اس بچی پر نیل گری کا عمل کیا گیا ہے۔ دراس کے پہاڑی سلسلے کے سب سے اونچے پہاڑ پر بسنے والے آریائی قبیلے کے لوگ نیل گری دیوی کی پوجا کرتے ہیں اوراس علم کا عامل صرف ان کا مذہبی پروہت ہی ہوتا ہے۔ ہاں! اگر وہ اپنے کسی خاص شاگر د کو اجازت دے تو پھر وہ بھی کچھ حد تک اس علم سے لوگوں کو پریشان کر سکتا ہے۔ البتہ شاگر د اگر کسی پر یہ عمل کر دے، تو پھر اس کا تو ڑ وہ خود بھی نہیں کر سکتا۔ میں ایک شخص کو جانتا، تو ہوں جو اس عمل کو سیکھنے کے لیے دراس جاتا رہا ہے، مگر مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اس کو سیکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اب یہ کیس سامنے آیا ہے تو مجھے اندازہ ہوا ہے کہ اس خبیث کے پاس خواتین کا جمگھٹا کیوں لگا رہتاہے۔” انہوں نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا۔
    ”شاہ صاحب! مجھ بدنصیب باپ پر رحم کریں اور کسی طرح میری بیٹی کو ٹھیک کر دیں۔” رحمت علی نے باقاعدہ ہاتھ جوڑتے ہوئے منت کی، تو شاہ صاحب نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔




  • میزانِ بریّہ — راؤ سمیرا ایاز

    زمین کی کوکھ میں سب جب دکھ پنپ جائیں تو ہر فصل کے بیچ میں سیاہی مائل رنگوں کا بسیرا ہوتا ہے جو پھر نسل در نسل زمین کی کوکھ سے فصلوں کی کوکھ تک میں جا اترتا ہے۔
    وہ بھی ایسے ہی اک فصل کا بیچ تھی…
    حاکمیت کے عنصر کی مٹی کے غو سے بیچ پاتا وہ سانس لیتا وجود یوں زندہ تھا کہ چلتے ہوئے زمین پہ رکھتے جوتوں کی آواز تو کیا سانس کی ”آہ” تک بھی ہوا میں جذب ہوجاتی تھی۔
    سرخ پٹوں والی اس کھڑکی کے سامنے بیٹھے وجود پر کسی مٹی کے پتلے کا ساگمان ہوتا ہے…
    جس میں ”اذن” کا تصور اک خیال ہی ثابت ہوتا اگر جو روشنی کی نگاہ حیرت کا منبع بن کر نہ تکتی اسے…جو جھکے سر کے ساتھ سفید کورے کاغذ پر اپنی پوری ہمت و طاقت کے ساتھ نبرد آزما تھا… ہمت و طاقت … جو اک خواب و خیال سے بھی کہیں بڑھ کر تھی … کوئی سیات…
    کورے کاغذ پر بکھرتے وہ الفاظ …اک انجانی دنیا کو بیان کرتے تھے… ایسی دنیا، جس کی زمین بھی سرخ تھی اور آسمان بھی احمریں… اور یہ احمری رنگ بھی بوجھ تھا جیسے … مگر ہر بوجھ کا سہار بھی ہوتا ہے دنیا میں… اس کا بھی تھا… ایک رازداں… ایک نگہباں…
    جہاں کسی کی نظر نہ جاسکی تھی۔
    ترچھی ہوئی روشنی نے رُک بدلا تو پتلے نے جنبش کی تھی۔
    وہ اٹھا اور کمرے کی دہلیز کو پار کر گیا ۔ مگر سیڑھیاں اترنے سے بھی پہلے اک آواز اس کے قدموں کو روکنے کا جواز بن گئی۔
    ”میں نے سنا ہے کہ کل تم باغ کے عقبی حصے کی طرف گئیں تھیں۔”
    خالی گھر کے اندر گونجتا وہ اک آسیب زدہ آواز تھی۔
    تھرتھرائی پلکوں نے اس بے حد لمبے بیک والے صوفے کی نشست پر بیٹھے وجود کو دیکھا۔
    ”میں نے وہاں مانو کو جاتے دیکھا تھا اسی لئے …” نرم آواز میں خشکی کی تہہ تھی براؤن لب بھینچے تھے۔
    ”مانو۔” لمحے بھر جھکی سرد آنکھیں دوبارہ اٹھیں۔
    ”وہ ایک جانور ہے… اور جانوروں کی پیروی انسانوں کے لائق نہیں ہے نادان لڑکی، دوبارہ ایسا عذر اور ایسا بے وقوف قدم میں برداشت نہیں کرسکتی۔”
    سرد آنکھیں …لکڑی کا سا سخت وجود… اور پتھرکے قدم…
    وہ وہیں کھڑی رہ گئی… اس نے وہاں بے انت پھیلی خاموشی اور کہر ماحول کی یاسیت کو دیکھا… جسے بیان کرنے کی سعی لاحاصل تھی۔
    مگر اس نے اس لاحاصل کا ایک ”معبد” دریافت کررکھا تھا۔
    ہاں… وہی … اک رازداں… ایک نگہباں…!
    ایک ایسا ”روزن” جسے دریافت کرنے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب ہم اپنوں کو ہی اپنا یقین دلانے میں بے حد دوجہ ناکام ہوجاتے ہیں۔
    قدم بہ قدم چلتے وہ اس بے انت پھیلے سخت دیواروں کے ہجوم سے باہر نکلی تو سر پہ ٹھہری ان نیلی گہری آنکھوں نے اسے دیکھ کر ایک دفعہ جھپکی لی اور پانی کا دھارا نکل گیا۔ وہ بے بسی سے ۔ رستی اُن آنکھوں کا قہر دیکھتی رہی جو پانی کی صورت زمین پہ بہہ رہا تھا۔
    اور وہ … اس کا ”روزن” … پانی اس کا رستہ روکے ہوئے تھا۔
    تبھی ایک نرم سی چمک میں ڈوبی ان گہری سرمئی آنکھوں نے اسے دیکھا تو بے ساختہ ہی اس کی مٹھی سے کاغذ پھسلا… اور اس نے وہ کاغذ اپنے اس روزون کی طرف بڑھتے دیکھا۔
    کسی کی ذات کا آخری سہارا … آخری پناہ گاہ…
    ٭…٭…٭





    اس کی سانس پھولی ہوئی تھی… دونوں ہاتھ سر پر رکھے۔
    ”زندیگ بھی عذات ہوگئی ہے میرے لئے۔” غم غم و غصہ زیادہ تھا چہرے پر یا غصہ و خفگی فیصلہ کرنا ذرا مشکل تھا۔
    ”میں چاہوں بھی تو خود کو ”ان” پر ثابت نہیں کرسکتا… کہ یہ ایک ناکام راہ ثابت ہوگی ہر لحاظ سے۔”
    ”ہوں بڑے آئے… بڑے بڑے فیصلے کرنے والے، ہوگیا ناں نقصان ، آگیا ناں سات دکانوں سے مال واپس…یہ مانگ بڑھے گی ہماری،یہ کوالٹی دنیا پر ثابت ہوگی…ہاں…”
    بڑے چچا کا آخری کا ہنکارا ذلت آمیز تھا۔
    اس کے ماتھے کی رگ پھڑکی۔
    ”میں گھاٹے کا سودا ہر گز برداشت نہیں کروں گا… کل ہی محترم جناب کے اکاؤنٹ سے رقم آجانی چاہیے… میرے نقصان کی بھرپائی مجھے ہر صورت چاہیے۔”
    اس نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔
    اصل فساد کی جڑ… زمینوں سے آتا وہ پیسہ تھا جو بہت ایماندار سے اس کے اکاؤنٹ میں آتا… جسے وہ سوچ سوچ کر اور بہت مناسب طریقے سے خرچ کرتا تھا …مگر بڑ ے چچا…وہاب انصاری۔
    ”ایک اکلوتے وارث کی حیثیت ہم سے زیادہ نہیں ہوسکتی، خون و جگر سے سینچا زمینوں کو ہمارے باپ دادا نے اور باقی کسر پوری کی ہم نے… مگر نکال باہر کیا۔
    ہمیں ہر چیزسے کہ ہم دوستوں کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں زندگی میں… مگر حق، حق ہوتا ہے کبھی سیاہ نہیں پڑتا…ہم پائی پائی کا حساب بھی رکھ سکتے ہیں اور منہ میں رکھے نوالے بھی گن سکتے تھے، نہیں چھوڑا ہم نے سب کچھ اس دو ٹکے لڑکے پر… زندہ ہیںہم چاہے کوئی کچھ بھی بولے۔”
    چھوٹے چچا کی طنزیہ دبنگ آواز نے اسے اٹھنے پر مجبور کردیا…کہ وہ بات کو کہاں سے کہاں لے جارہے تھے۔
    ”اس دو ٹکے کے لڑکے نے آپ کی اسپیئر پارٹس کی دکان کو دکانوں میں بدل ڈالا چچا جی…” سنجیدہ سی نرم مگر دو ٹوک آواز نے اس کو مضبوط کیا تھا…
    ہاں… زندگی میں اب بھی اس کے لئے جگہ تھی کوئی تھا جو اس کے لئے کھڑ اہوسکتا تھا۔
    ضبط کی بکھری طنا بیں سمٹی تھیں۔
    ”تم خامو ش رہو نیہا ، یہ بڑوں کی باتیں ہیں۔” بڑی چچی کی خفگی پر وہ آگے بڑھ آئی۔
    ”نہیں امی… بات اصول کی بھی ہے اور بہت صاف بھی… تایا ابا و تائی امی کے جانے کے بعد وہ اس گھر کا فرد نہیں ہے کیا…!” اس نے جمعہ حاضرین کو دیکھا۔
    ”آپ مانیں، نہ مانیں مگر داداجان نے اپنے لاڈلے اکلوتے پوتے کو سرپرست رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آگے کے حالات کیا ہوتے، وہ حق کا کام کرتا ہے۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں پیسہ آتا ہے تو وہ آ پ کو بھی ملتا ہے، اگر زمینوں پر سے پرانٹ آتا ہے تو وہ بھی آ پ کو ملتا ہے… اب اگر زمین پہ فصل کم ہونے لگی ہے تو نقصان بھی تو سب کو پورا کرنا ہے۔ اس میں کوئی دوغلی بات نہیں ہے۔”
    کندھے اچکاتے ، اس نے سب کو ٹھنڈا کیا تھا۔ اور برف کا کرنے کے لئے…
    ”اور ابو رہی بات مارکیٹ میں نام خراب ہونے کی تو یہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوا ہے کہ آپ نے زیادہ پرافٹ کے لئے ناقص میٹریل استعمال کرنے کی خود ہدایت دی تھی اپنے اسسٹنٹ سلمان کو…”
    نیہا کا ایک ایک لفظ مضبو ط بھی تھا اور سچا بھی…
    اور جو اسے ہلکا کر گیا تھا۔
    بے شک زمین پر گری ریت کو ہوا بکھیر سکتی ہے۔
    مگر مٹھی میں بھری جانے والی ریت بھی وزن بھی رکھتی ہے۔
    بے انمو ل تو کچھ بھی نہیں…
    ٭…٭…٭
    چاند نکلتے وقت ہو یا سورج کے غروب ہونے کا… ان دونوں میں فطرت سے زیادہ قدرت کے حکم کا اثر ہے… لیکن انسان کے اعمال میں تو خداوند کریم کے حکم کی بدولت خود اس کا ہاتھ ہے… پھر اسے کیوں محروم رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ”فطرت” کے برخلاف جملے…
    زمین کے لب خشک تھے کہیں اک قطرہ بے رنگ پانی کا نہ تھا ۔ لگتا نہیں تھا کہ ا س نے کبھی پانی پیابھی تھا… یاوہ سیراب بھی ہوئی تھی۔
    فقط ایک دن میں ہی وہ اپنی ظاہری حالت میں آگئی تھی جو قدرت کی طرف سے اس کی فطرت میں ودیعت کردی گئی تھی…یہ تھا اس کا رنگ …
    سوکھے کتھے جیسا…
    اور خود اس کی فطرت میں جو سرخ خون اس کے اندر دوڑتا تھا ابھرتا لاوہ تھا۔ شدت سے بھرا ہوا… چھلکنے کو بے تاب… اس سرخ خون سے بنا وہ چہرہ یوں تھا جیسے سفید گنبد کسی پر شکوہ عمارت کا ”خاموش، چپ چاپ… آنکھیں، ناک، کان، ہونٹ، زبان ، دل و دماغ ہر چیز بس اک ابروئے جنبش کی منظر۔
    لبوں سے نکلتے لفظوں کی محتاج…
    ”خود کو اس موسم میں کمرے تک ہی محدود رکھنا، خاص ٹھنڈبرھ جاتی ہے۔ سرما کی بارش میں، میں نہیں دیکھوں، سنوں تمہیں کہیں کھڑکی سے لٹکتے یا یا باہر برآمدے و لان میں گھومتے۔” سرجھک گیا۔
    حکم عدولی کی گنجائش ناپید تھی… اس میں کہ اس بڑے سے گھر میں فقط وہ دو ہی سانس لیتے وجود تھے… باقی جو تھے وہ شاید دیکھے، سنے، بولنے کی حس سے محروم تھے فقط کام کے پجاری… کام ختم … بات ختم۔
    سادہ پلین سے آسمانی رنگ میں ملبوس وہ دھیرے دھیرے خاموشی سے گردن ہلاتیرہی…ادب کا تقاضہ خاصا اہم تھا اس وقت ”باقی میں ذرا قاسم خان کے ساتھ جارہی ہوں… واپسی میں تمہاری لسٹ، جسے میں نے دوبارہ ترتیب دیا ہے… لیتی آؤں گی…”
    ”اب”… خاموشی کا تقاضہ ادب سے بھی زیادہ مقدم تھا۔ وہ گردن ہلانا بھی چھوڑدیا۔
    جاتے قدموں کی آواز پر دروازے کے مودب کھلنے کی آوازپر، پھر گاڑی کے باہر نکل جانے کی آواز پر…
    سراٹھا…نگاہ اٹھی۔
    اف … سنہری سکوں کا پانی… جو گالوں پر پھیلتا تھوڑی تک جاتا تھا… کچھ کہنا تھا شاید…
    ساکن درو دیوار نے سمجھنا چاہامگر وہ پلٹ گئی… وہی سیڑھیوں کو جاتا اوپر کا راستہ وہی کمرہ… وہی کھڑکی اور وہی کورا کاغذ۔
    مگر اب وہاں وہ روشنی کی لکیرنہیں جھانکتی تھی… نہ جانے آج اسے اتنی جلدی کیوں تھی جانے کی…!!
    ”تم جانتے ہو کہ مجھے کی کے بھی بارے میں سخٹ و غلط سننا پسند نہیں ہے۔” سرخ اسٹابری کو منہ میں رکھتی وہ اسے دیکھنے لگی جس کی نگاہ کی مسکراتی روشنی اس کے وجود کو تابناک کررہی تھی۔
    ”اور تم تمہیں تو میں نے ایک خاص جگہ دی ہے اپنی زندگی میں تو پھر کیسے سنتی تمہارے بارے میں کچھ۔” اک گہری سانس لیتے روید نے مسکراتی نگاہ کو لبوں تک لاتے سرجھٹکا۔
    ”جانتا ہوں سب کچھ نیہا مگر پھر بھی وہ ہمارے بڑے ہیں اور خاص کر تمہارے ماں ، باپ… چھوٹے چچا ، چچی کی خیر ہے مگر تمہیں بڑے چچا سے نہیں الجھنا چاہیے، چاہے وہ تمہیں اکلوتی ہونے کا بہت زیادہ مارجن کیوں نہ دیں۔”
    ”ہر رشتہ بعد میں رویہ،پہلے انسانیت ، سچائی اور سیدھی بات … پھر کچھ اور روید… یہ مت سمجھو کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں تو ہی ایسا کررہی ہوں۔”
    ”اچھا میں سمجھا کہ شاید۔” اس کی سنجیدہ پر شوخ بات پر نیہا نے اسے گھورا ۔
    ”تم۔”
    ”مذاق تھا یار… کیا میں تمہیں جانتا نہیں۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اس شفاف لڑکی کو خود اپنا دل دکھانا چاہ رہا تھا اپنی آنکھوں کے ذریعے، جو اس کی محبت میں بھی ویسا ہی صاف و شفاف تھا۔
    ”اور محبت مسکرا دے تو مار ہی دیتی ہے۔” روید نے نیہا انصاری کی مسکراہٹ پر محسوس کیا تو کہا۔
    ”نیہا یونہی مسکراتی شفاف پانی کے باؤل سے اسٹابری نکال نکال کر کھاتی رہی ۔
    ”اور تمہارے بزنس کرنے کے خواب کی تکمیل نے تو روید انصاری کی نیندیں اڑا دی ہیں محترمہ… رکھ تو خیال کرلو، پہلے ہی تھرڈ پرسن سمجھا جاتا ہوں…”
    ”کیا ہوا۔” کوئی جواب، رد ِ عمل پاکر روید نے اسے دیکھا۔
    ”نہیں کچھ خاص نہیں۔”
    ”تو پھر خاموش کیوں ہوگئی ہو۔”
    ”تمہیں یونہی محسوس ہوا۔ میں اب چلتی ہوں ماما۔
    وہ اٹھی اور ساتھ ہی بچی ہوئی چند اسٹرابریز اس کے ہاتھ پر رکھتی خالی باؤ ل اٹھانے لگی تھی کہ روید نے اسے روک دیا…
    مضبوط ہاتھ کے دباؤ پر وہ نظر نہ چراسکی۔
    ”کیا بات ہے نیہا۔ مجھے نہیں بتاؤگی جو تمہارا سب سے ”قریبی” رشتہ ہے…” اسے بالکل ساتھ بٹھاتے ہوئے دوستانہ انداز میں کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بے جان سی لگی اسے ۔
    ”مجھے میرا لون ”پاس” نہیں ہوا روید۔”
    ”اوہ لیکن کیوں… لون کے پاس ہونے کی ایک ریکوائرمنٹ پراپرٹی کسی جائیداد وغیرہ کامالک ہونا بھی ہوتا … یا پھر کیش وغیرہ… میرے پاس اس حد تک ریکوائرمنٹ نہیں ہے۔”
    ”تو اس میں کیا مسئلہ ہے۔” وہ خاموش ہوئی تو اس کے اعصاب بھی ڈھیلے پڑے اور وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
    ”مسئلہ نہیں ہے یہ…”
    ”بالکل نہیں۔” مطمئن ہونے کے انداز میں کہتے اس کے منہ کی طرف اسٹرابری بڑھائی لیکن وہ یونہی اسے دیکھتی رہی… سب کچھ تو جانتا تھا وہ… ماما، پاپا کی مخالفت… چچا، چچی کا استہزائیہ انداز…تو پھر … وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی… جہاں ایک وہ تھی اور خود اس کی اپنی ذات کے ہونے کا غرور… ”اوہ…”
    اس کی آنکھوں میں خفگی اُتری۔
    ”ایسا نہیں ہوسکتا روید… جو تم چاہ رہے ہو۔” قطعی انداز میں کہتے وہ وہاں سے اٹھی… اور اس کا جالینے والا محبوب انداز…
    روید انصاری کو اجازت نہیں تھی کہ وہ فدا ہوتا مگر سرشارہونا بنتا تھا۔
    ”چاہنے کو تو سب ہوسکتا ہے کہ بات تو صرف ”چاہنے” کی ہے۔
    اس کے برابر سے اٹھتا وہ پرسکون تھا اور وہ بے چین…
    ”یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔”
    ”یہ ٹھیک ہی ہوگا، اس سے کہیں زیادہ جب میں اور تم یوں ساتھ نہ ہوں گے۔”
    اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اپنی بات کہہ کر اسے چپ کرا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    تپتی دھوپ میں شیخ حسام الدین گھر میں داخل ہوئے تو بُری طرح پسینے میں شرابور تھے ۔ ذرا دم لینے کے لیے پنکھے کے نیچے بیٹھے ہی تھے کے ان کی بیگم زبیدہ خالہ نے اُن کے آگے بجلی کا بل کردیا۔
    ”ہائیں اتنا بل۔” وہ بل دیکھ کر اچھل پڑے۔
    ”ارے میں کتنا کہتا ہوں کے احتیاط سے بجلی استعمال کیا کرو ، لیکن تم لوگ…”
    ”ارے موئی بجلی ہوتی ہی کب ہے جو احتیاط کریں، ہر دوگھنٹے بعد ایک گھڑی بھر کے لیے آتی ہے کیا احتیاط کریں اور کون سے تم نے گھر میں اے سی لگوا رکھے ہیں، اب کیا بچے پنکھے کے نیچے بھی نہ بیٹھیں۔” جواب میں خالہ نے بھی جب شیخ صاحب پر چڑھائی کردی تو وہ کچھ پیچھے ہٹے۔
    ”تم تو ہر بات کا اُلٹا ہی جواب دینا ، میرا یہ مطلب تھوڑی تھا، میں کہہ رہا تھا کے…”
    ”کیا مطلب نہیں تھا، دیکھ لو ہم اتنی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے ہیں اور یہ بل آتا ہے اور دوسروں کو دیکھو سب کے گھروں میں اے سی چل رہے ہیں لیکن بس تمہیں ہی ایمانداری کا بھوت سوار ہے۔ ” خالہ نے شیخ صاحب کی بات کاٹ کر کہا۔
    ”تم پھر شروع ہوگئیں، ہزاربار کہہ چکا ہوں کے اگر دوسرے غلط کا م کررہے ہیں تو لازمی نہیں میں بھی اپنی آخرت خراب کروں ، ارے کیا ان ایئر کنڈیشنوں سے پہلے لوگ سکون سے نہیں سوتے تھے؟”
    ”لو موئی پھر چلی گئی لائٹ ، منحوس ابھی تو تین گھنٹے بعد آئی تھی۔ ارے کیڑے پڑیں ان بجلی والوں کو…”
    قبل اس کے ، کہ ان کی بحث ایک جنگ کا روپ اختیار کرتی اچانک لائٹ چلی گئی اور خالہ کی مغلظات کا رخ شیخ صاحب سے مڑکر بجلی والوں کی جانب ہوگیا۔
    وہ بل تو جسے تیسے شیخ صاحب نے جمع کروادیا گو کے اس کی بدولت اس ماہ ان کا ہاتھ خاصا تنگ رہا لیکن پھر انہوں نے حتی الامکان کوشش کی کے گھرمیں کہیں بھی کوئی فالتو بجلی استعمال نہ ہو جس پر ان کی کئی بار خالہ سے تو تومیں میں بھی ہوئی مگر معاملہ کچھ عجیب اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ہر دو تین ماہ بعدتوقع سے کئی گنا زیادہ بل آنے لگاجسے دیکھ کر شیخ صاحب کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا۔ اس دن نماز سے واپس آتے ہوئے شیخ صاحب نے اپنے پڑوسی عرفان صاحب سے دریافت کیا کے ان کا بل کتنا آتا ہے تو وہ اطمینان سے بولے:
    ” بس ہزار بارہ سو ۔”
    ”ہائیں عرفان صاحب آپ کے گھر میں تو دو دو اے سی چلا رہے ہیں پھر بھی؟” شیخ صاحب نے آنکھیں پھاڑ کے سوال کیا۔
    ”ارے بھائی اب آپ سے کیا پردہ ۔ ایک لائن مین ہے اصغر اس سے سیٹنگ کی ہوئی ہے پھر ساری لائن کی سیٹنگ اس نے خود ہی کی ہے مگر ١یک ہزار روپے لیتا ہے مہینے کے پھر جتنا مرضی اے سی چلاؤ۔ پڑوسیوں کے حقوق تو ویسے بھی ہم پر فرض ہیں، میں ایسا کرتا ہوں کے آپ کی بھی بات کروادیتا ہوں۔”
    ”لاحول وللہ عرفان صاحب ، یہ تو آپ ہمیں حرام کام کا مشورہ دے رہے ہیں یاد رکھیے حرام کی بجلی میں کیا ہوا ہر کام بھی حرام ہوتا ہے ۔” شیخ صاحب نے غصے سے کہا۔
    ”ارئے آپ کس صدی میں جی رہے ہیں شیخ صاحب ، یہ تو آج کل ضروری ہوگیاہے، نہیں کروگے تو ویسے بھی زیادہ بل کی چٹنی لگادیں گے یہ لوگ اور جو ایک بار ان کے جال میں پھنس گیا سمجھو گیا۔”
    عرفان صاحب نے کسی جہاندیدہ کے مانند شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”بہت بہت شکریہ آپ کے مشورے کا، میں خودہی نمٹ لوں گااس مسئلے سے۔”
    شیخ صاحب نے ساری عمر اپنی سرکاری نوکری اتنی ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ کی تھی کے آج بھی سب لوگ سوائے خالہ کے، ان کی راست گوئی کی مثال دیا کرتے تھے وہ بھلا اپنے نئے پڑوسی عرفان صاحب کی بات کیوںکر برداشت کرتے اسی لیے بھڑک گئے۔
    ”کمال ہے میں تو آپ کی مدد کررہا تھا، خیر شوق سے خود ہی بھگتیے، نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ ” عرفان صاحب نے ناگواری سے جواب دیا اور شیخ صاحب نے بڑبڑاتے ہوئے گھر کی راہ لی۔
    آئے روز کے زائد بلوں کے خلاف شیخ صاحب تلملاتے ہوئے اگلے روز ہی واپڈا کے مقامی دفتر جاپہنچے اور دفتر کے ایک کمرے میں گھس کر وہاں بیٹھے ملازمین سے احتجاجی لہجے میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سبب دریافت کرنے لگے لیکن ان پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا بلکہ ساری روداد سننے کے بعدایک کلرک نے اپنی پرانی سی ٹیبل کے سائیڈ میں پڑے گندے سے ڈسٹ بن میں میم پوری تھوکی اور ہتھیلی سے منہ صاف کرکے شیخ صاحب کو بولا:
    ”ارے ا نکل یہاں نئے میٹر کی درخواستیں جمع ہوتی ہیں آپ برابروالے کمرے میں جائیں۔”
    دوسرے کمرے میں صرف شیخ صاحب ہی نہیں بلکہ ہردوسرا بندہ اپنے زائد بل کے جھوٹے سچے دکھڑے رو رہا تھااور وہاں موجود عملہ روزانہ کے اس عمل سے اکتا کر نہایت بے حسی سے ان کی دکھ بھری داستانیں ایک کان سے سن کردوسرے سے اڑا کر انہیں ہی مورود الزام ٹھہرا رہاتھا کہ حضرات بجلی بھی تو آپ نے ہی استعمال کی ہے ، نا کے ہم نے۔ اگر سننے والامخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ثابت قدمی سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر نوحہ کناں رہتا تو وہ اسے حکام بالا کے نام پر درخواست دائر کرنے کا مشورہ دیتا تاکہ کارروائی کی جاسکے۔





    شیخ صاحب نے بھی جب اپنا مؤقف پیش کیا تو ایک خداترس بندے نے ان کی درویش صورت دیکھتے ہوئے ان پر یہ حقیقت آشکار کی کے جناب آپ کے بل پر تو ڈیڈکشن لگی ہوئی ہیں۔
    ”لیکن بھائی کس بات کی ڈیڈکشن ؟”
    ”ممکن ہے عملے نے آپ کے میٹر میں کوئی گڑبڑ دیکھی ہو یا کوئی اور ناجائز چیز ، اب تو آپ کو یہ جرمانہ بھرنا پڑئے گا ۔”
    ”کیا بات کررہے ہو میاں، ہم نے ساری عمر ایمانداری سے بجلی کا بل ادا کیا ہے ہم یہ حرام کام کیوں کرنے لگے۔” شیخ صاحب سے غصے سے جواب دیا۔
    ” چاچا یا تو آپ یہ اماؤنٹ جمع کرادیں یا آپ صاحب کے نام درخواست جمع کرادیں تاکہ کارروائی ہو۔ ٹیم خود ہی آپ کے گھر آکر چیک کرلے گی کے کوئی بات تو نہیں ہے ۔ ” اس نے شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا اور دوسرے صارفین بلکہ متاثرین کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    حیران و پریشان شیخ صاحب وہاں سے سیدھے اپنے پرانے دوست عزیز صاحب کے پاس پہنچے اور ڈیڈکشن کی اصطلاح کے متعلق اپنی الجھن کا ماجرا بیان کیا۔
    ”کیا بتاؤں حسام بھائی برا حال ہے ہر طرف لوٹ مچی ہے۔ لوگ بھی ڈھڑلے کے ساتھ بجلی چوری کر رہے ہیں۔ بہت سی جگہوں پر یوں ہورہا ہے جو لوگ ہر ماہ لائن مینوں کو پیسے دیتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں اور جو نہیں دیتے اُن کے بلوں میں اسی طرح ڈیڈکشن لگاکرخسارہ پورا کیا جاتا ہے۔”
    ان کے دوست نے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”توکیا یہ بات اعلیٰ افسران کو معلوم نہیں۔” شیخ صاحب نے تعجب سے پوچھا۔
    ” ارے بھائی تم تو ہمیشہ کے بدھو ہی رہوگے سب ملی بھگت ہوتی ہے بھائی میرے ، جب اوپر سے بہت سختی ہوتی ہے چھاپے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں چوریاں بھی پکڑی جاتی ہیں ، لیکن چند دنوں بعدمعاملہ ٹھنڈا ہونے پر پھروہی دھندے شروع ہوجاتے ہیں۔ ”
    ان کے دوست شیخ صاحب کے بھولے پن پر مسکرا کر بولے۔
    ”ارے پھر بھی کوئی اس ظلم کے خلاف آواز تو اٹھانے والا ہونا چاہیے نا، تم تو مجھے جانتے ہی ہو۔ دیکھومیں کیسے ان لوگوں کے خلاف شکایات درج کرواتا ہوں۔” شیخ صاحب نے ایک عزم سے کہا اورعزیز صاحب دل میں ہمدردی کے جذبات لیے اپنے سادہ لوح دوست کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوئے ۔
    اس کے بعد شیخ صاحب کے واپڈا آفس کے چکر لگنے شروع ہوگئے۔ چوں کہ نوکری سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے اس لیے اب گھرمیں فارغ بیٹھنے پر طبیعت بھی مائل نہیں تھی تو پوری توانائی سے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف مستقل مزاجی سے ڈٹ گئے۔ کبھی کسی افسر کے انتظار میں بیٹھے ہوتے کبھی کسی کے سامنے اپنا کیس پیش کررہے ہوتے لیکن زیادہ تر افسروں کے پاس ٹائم نہیں ہوتااور جو ٹائم دیتا وہ کسی ماتحت کے حوالے کردیتا ۔ سب درخواست منگواتے اور رکھ لیتے ہاں چند لوگ اتنی مہربانی ضرور کرتے کے بل کی قسط کرواکر شیخ صاحب کو تھما دیتے کہ جناب پہلے اسے جمع کروادیجیے پھر کام ہوتا رہے گا۔ یہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں تھا اور شیخ صاحب کا بل ان کے بس سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ اکثر تو یوں بھی ہوا کے شیخ صاحب جب دفتر پہنچے تو عوام کی ایک بڑی تعداد کو وہاں لوڈ شیڈنگ کے باعث احتجاج کرتے پایا۔ ایک بار تو گھر واپسی پر بھی راستے میں، ان کے ساتھ والے محلے کے لوگوں کی جانب سے ٹرانسفارمر میں خرابی کے سبب دو دن سے لائٹ نہ ہونے کے باعث ہنگامہ آرائی کی جارہی تھی اور مشتعل مظاہرین نے حکام کی عدم دلچسپی اور مطلوبہ فنی سہولت نہ ہونے کے باعث سڑک پر جلاؤ گھیراؤ کرکے راستہ بند کیا ہوا تھا۔ شیخ صاحب کافی دیر بے بسی کے عالم میں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد ایک لمبے متبادل راستے کو طے کرکے گھر پہنچے۔
    کافی عرصہ محکمہ پانی وبجلی کے دفاتر کے چکر لگانے کے بعد شیخ صاحب کے علم میں کئی چیزوںکا گراں قدر اضافہ ہوا کے ایک تو متعلقہ عملہ اپنے مقررہ وقت پر کبھی نہیں پہنچتا سوائے چند ایک کے جو واقعی اپنے فرائض منصبی نہایت ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کررہے تھے ۔ دوسرا وہاں صرف وہ ہی نہیں ان جیسے نہ جانے کتنے زائد بلوں کے ستائے مو جود تھے لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو واقعی بجلی کی چوری میں ملوث بھی تھے جیسے ان کے گھر کام کرنے والا مستری اور پلمبر بھی، مستری کے گھر بھی دو دو اے سی چل رہے تھے لیکن وہ بضد تھا کے وہ تو ڈائریکٹ چل رہے ہیں میٹر کا بل تو غلط آیا ہے نہ، اور شیخ صاحب لاحول پڑھ کر خاموش ہوجاتے۔ کچھ ایسے ہوتے کے سارا مہینہ غیر ذمہ داری سے بجلی استعمال کرتے اور بل آنے پر اپنا دکھڑا رونے پہنچ جاتے۔ کسی کے گھر پر کرائے داروں کے چلے جانے کے بعد بھی ہر ماہ بل آرہا ہوتا ، کوئی بے چارہ خالی گھر میں بل آنے کا دکھڑا رو رہا ہوتا۔ کچھ کے میٹر ہی بند پڑے تھے اور انہوں نے ڈائریکٹ کھمبوں پر سے تار جوڑے ہوئے تھے۔ شیخ صاحب کو ایسے ایسے ، اپنے شعبوں میں طاق ہر فن مولا حضرات سے بھی سلام دعا کا شرف حاصل ہوا جو بجلی کے میٹر کی ریڈنگ پیچھے کرنے کے خفیہ گر جانتے تھے اور معقول معاوضہ پر اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔
    چند ایک نے تو شیخ صاحب کو اشارہ بھی دیا کے صاحب کسی کو کچھ دے دلا کر معاملے کودرست کروادیجیے تاکے اس جھنجھٹ سے جان چھوٹے لیکن شیخ صاحب نے رشوت دینے کے خیال ہی سے انکار کردیا۔
    ایک من چلا تو ایسا بھی ملا جو شیخ صاحب کو اپنا تجربہ سنانے لگا۔ ” میرے گھر بھی جب دیکھو ڈیٹیک شن ( ڈیڈکشن ) ٹھوک جاتے تھے میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا، میں دہاڑی دار آدمی اپنا گھر چلاؤں یا ان ڈیٹیک شن کی پھٹیکوں کو بھروں، میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا۔ لے گئے میرا میٹر اتار کے میں نے کہالے جاؤ بیٹا، اگلے دن ہی ڈائریکٹ تار ڈلوالیااب کیا لے جائیں گے زیادہ سے زیادہ تار لے جائیں گے نہ، میں پھر لاکے لگالوں گا، کیسا؟”
    وہ اپنی بپتا سنانے کے بعد مسکراتے ہوئے شیخ صاحب کو تعریف طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا اور شیخ صاحب اپنے دل کی بات کو دل ہی میں دبائے اک شان بے نیازی سے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر عزیز صاحب کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے چلے گئے۔ عزیز صاحب نے شیخ صاحب کی پریشانی دیکھتے ہوئے اپنے ایک جان پہچان والے سینئر کلرک سے شیخ صا حب کا رابطہ کروایا۔ شیخ صاحب ان کے سامنے بھی حاضر ہوئے اور اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ صاحب خاصے صاف گو واقع ہوئے تھے ہنستے ہوئے بولے:
    ”جناب ٥٠ ، ٤٠ ہزار کی ڈیڈکشن لگنا اب معمول کی بات ہوگئی ہے ۔ آپ آہستہ آہستہ قسطیں جمع کرواکر بل تو ادا کرتے رہیے اور درخواست جمع کروادیجیے، آہستہ آہستہ خود ہی ختم ہوجائیں گی۔”
    لیکن درخواست جمع کرائے تو کافی عرصہ ہوگیا کچھ ہوتا ہی نہیں، سب ہمیں ہی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔” شیخ صاحب نے بے چارگی سے جواب دیا۔
    ” بات یہ ہے شیخ صاحب کے آج کل سب ہی چوربن گئے ہیں کیا حکومت کیا عوام جس کو جہاں موقع مل رہا ہے لوٹ رہا ہے۔ اب کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا نہ’ آپ کو ایک بات بتاؤں خود میرے گھر کے میٹر پر بھی ڈیڈکشن لگی ہوئی ہے، ہاہاہاہا۔ ‘ ‘ انہوں نے بے تکلفی سے شیخ صاحب کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن جناب کوئی حل تو بتائیے نا، ایسا ہوتا رہا تو میں جلد ہی لاکھوں روپے کا مقروض ہوجاؤں گا کہیںنیب میں کیس نہ چلا جائے ۔”
    ”ارے گھبرائیے نہیں ، نیب والے کوئی بدمعاش تھوڑی ہیں۔ خیر آپ چاہیں تو دوچیزیں کرسکتے ہیں یا تو کسی سے سیٹنگ کروالیجیے، کچھ دے دیاکیجیے پھر بھلے اے سی بھی لگالیں گھرمیںاور اگر واقعی آپ نے کبھی بجلی چوری نہیں کی تو وفاقی محتسب کے نام درخواست دائر کرادیجیے ۔” انہوں نے معنی خیز مسکراہٹ سے شیخ صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    اور شیخ صاحب بھی کہاں ہمت ہارنے والے تھے انہوں نے بھی وفاقی محتسب کے دفتر کیس داخل کروادیا۔ کارروائی شروع ہوئی اور کچھ عرصے میں ثابت ہوگیا کے شیخ صاحب کے گھر پر لگائی گئی تمام ڈیڈکشنز غلط ہیں۔ وفاقی محتسب کی طرف سے شیخ صاحب کے لیے واپڈا کے حکام کو احکامات جاری کردیے گئے کے صارف پر لگائے گئے تمام جرمانے فوری ختم کیے جائیں ۔
    اتنی خواری کے بعد فتح کے آثار دیکھ کر شیخ صاحب نے فخر سے اس لیٹر کی کاپی تمام جاننے والوں کو دکھائی خاص طور پر اپنے پڑوسی عرفان صاحب کو ، لیکن وہ یہ سب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔
    اپنی فتح کے نشے میں چور شیخ صاحب انتظار کرتے رہے کے اب کے مہینے اُن کے بل سے سارے جرمانے رفع ہوجائیں گے لیکن دلی دور است۔ ایک طرف لوڈ شیڈنگ تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔
    اکثر ساری ساری رات بجلی غائب ہوتی تو کبھی کوئی گرڈ اسٹیشنوں میں خرابی ہوجاتی اوروولٹیج اتنے کم ہوتے کے شیخ صاحب سارے گھر کی اہم چیزوں کوبند کروادیتے۔ حالاں کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سال کے اختتام تک لوڈ شیڈنگ مکمل ختم ہوجائے گی لیکن سال ختم ہوگیا انتظار ختم نہ ہو ا یہاں تک کے بجلی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے وعدوں پر عوام سے ووٹ بٹورنے والے خود مال بٹور کر اپنی مدت پوری کرکے چلے گئے لیکن لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی۔ گرمیوں میں منسٹر صاحب یہ توجیح پیش کرتے رہے کے خشک سالی کی وجہ سے دریاؤں میں پانی نہیں ہے اس لیے زائد لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور سردیوں میں گویا ہوتے کہ سردی کی وجہ سے دریاؤں کا پانی جم گیا ہے اس لیے پانی کی کمی بھی لوڈشیڈنگ کا سبب ہے ۔ اس پر سونے پر سہاگہ کبھی ابر رحمت برس جائے تو عوام کو اس زحمت سے دوچار کیا جاتا کے دو بوندوں کے برستے ہی عاشقانہ مزاج شاعری کرنے والے لوگ بھی بارش کے بعد توبہ کرتے نظر آتے، بادلوں کے گرجتے ہی لائٹ بند ہوجاتی حتیٰ کہ بادل برس کر بھی چلے جاتے اور آسمان پر تارے جگمگانے لگتے لیکن لائٹ عید کا چاند ہوجاتی اور پھر ان تاروں کی روشنی میں ہی رات کالی ہوتی۔ زندگی بنا بجلی کے جیسے تیسے گزر ہی جاتی ہے لیکن بنا پانی کے یہ زندگانی کتنی کٹھن ہوتی ہے اس کا اندازہ شیخ صاحب کو اس دن ہوا جب اچانک ہونے والی برسات کے سبب لائٹ غائب ہوئی سو ہوئی لیکن پانی کی موٹر نہ چلنے کے سبب ٹینکی میں پانی ختم ہوگیا۔ اس پر ستم یہ کے شیخ صاحب کا پیٹ سخت خراب اور گھر میں پانی کی ایک بوند موجود نہیں جس سے حوائج ضروریہ کا انتظام کیا جائے۔ وہ دبے لفظوں خالہ کی کفایت شعاری نہ کرنے کی عادت کو جواز بناکر تنقید کرنے لگے کے اگر باورچی خانے میں رکھے ڈرم میں آڑے وقت کے لیے کچھ پانی بچا کر رکھ لیا ہوتا تو ابھی یوں رسوا نہ ہونا پڑ رہا ہوتا۔ اس وقت شیخ صاحب کو اپنی ہی مثال سے اس بات کی اہمیت کا اور اندازہ ہوگیا کے ملک کے لیے ڈیم بننا کتنا ضروری ہے ۔ ادھر ان کے بیٹے کی پھرتی کام آئی جو محلے کے کسی سخی انسان کے گھر سے چند پانی کی بالٹیاں بھر لایا لیکن جب شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی کے انہیں پانی کی بالٹیاں عطیہ کرنے والامحسن کوئی اور نہیں ان کا پڑوسی عرفان صاحب ہی ہے تو پہلے پہل ان کا اس پانی کے استعمال کے لیے دل ہی آمادہ نہیں ہوالیکن پھر یہ سوچ کر خود کو آمادہ کرلیا کے یہ پانی باوقت مجبوری بیت الخلا میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    اصل میں جب سے شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تھی کے ان کے پڑوسی عرفان صاحب بجلی کے اتنے بڑے چور ہیں تب سے وہ ان کے دل سے ہی اتر سے گئے تھے اسی لیے ١٢ ربیع الاوّل کے موقع پر جہاں سارا محلہ عرفان صاحب کے گھر کی شاندار لائٹنگ دیکھ کر سبحان اللہ کہہ رہا تھا وہیں شیخ صاحب بار بار عرفان صاحب کے گھر کی جانب نظر کرکے لاحول ولا کی تسبیح کا ورد کرتے رہے تھے۔
    اس سب کے باوجود شیخ صاحب اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر تھے کے اگر بجلی کی پیداوار میں اتنی ہی کمی آگئی ہے تو یہ کمبخت بجلی کے بل کی افزائش میں کمی واقع کیوں نہیں ہورہی ۔ جائز بجلی کے استعمال کے نرخ بھی اس ناجائز حد تک بڑھا دیے گئے ہیں کے ایک غریب آدمی کے لیے ممکن نہ رہا ہے کے یا تو وہ بجلی کا بل ادا کردے یا اپنے بال بچوں کو پال پوس لے ۔ اسی دوران رمضان کا مقدس مہینہ بھی آگیا تو شیخ صاحب کے لیے ممکن نہ رہا کے اس عمر میں روزے کی حالت میں اپنے بل کے لیے خواری کرتے پھریں۔ انہوں نے بل کے معاملے کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کر کے گویا احترام رمضان میں دشمن کے خلاف جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن ماہ رمضان میں بھی جب روزے دار بجلی والوں کے عتاب کا شکار ہوئے تو ہر قسم کے حالات میں صبر و شکر اور قناعت کا دامن نہ چھوڑنے والے شیخ صاحب بھی بلبلااٹھے اور صرف اسی وقت شکر ادا کرتے دکھائی دیتے جب لائٹ جاکر واپس آجاتی۔ جب کے خالہ لائٹ بند ہوتے ہی بجلی والوں کو بددعائیں دینا شروع کردیتیں تو شیخ صاحب اور جھلا جاتے۔
    ”ارے نیک بخت کیوں اپنی زبان خراب کرتی ہو ، اگر ایسے بددعائیں دینے سے بجلی والوں کا کچھ ہوتا تو آج کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا۔”
    ”ارے میں تو دوں گی بد دعائیں ، موؤں نے زندگی جو اجیرن بنادی ہے اور ایک تم ہو ، زمانے بھر کے ایماندار۔ ” خالہ بھی شیخ صاحب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیتیں۔
    ”پھر شروع ہوگئی تمہاری وہی بیکار کی رٹ کیا میں لوڈ شیڈنگ کروارہا ہوں ۔ ” شیخ صاحب غصے سے کہتے۔
    ”بس تم غصے میں ہی آجانا بات کو سمجھنا نہیں۔ میرا مطلب ہے دیکھ لو بجلی ہوتی نہیں ہے اور اللہ مارے کتنا بل بھیجے جاتے ہیں جیسے یہاں خزانے دفن ہوں۔ اب تو تم بھی ریٹائر ہوگئے ہو ، خیر سے دونوں بچے بھی ابھی کمانے جوگے نہیں ہوئے ، کہاں سے پورے کریں گے اخراجات؟ ”
    آنے والے وقت کی ذمہ داری کا سن کر ایک لمحے کے لیے شیخ صاحب خاموش ہوجاتے اور خالہ شیخ صاحب پراپنی باتوں کا اثر ہوتے دیکھ آخری وار کرتیں۔
    ”اب دیکھو گھر میں اے سی لگ جائے گا تو کچھ پل سکون سے گزر جائیں گے بغیر بجلی کے روزہ رکھنا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اکثر تو سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑتی ہے۔ ”
    ”ہاں یہ تو ہے لیکن نیک بخت اچھی نیت کا اجر اللہ ضرور دیتا ہے۔ آج ہی مولوی صاحب فرما رہے تھے کے لوڈ شیڈنگ میں رکھے ہوئے روزوں کا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ ”
    یہ سننے کے بعد خالہ چند لمحوں کے لیے بنا کچھ بولے شیخ صاحب کو گھورتی رہتیں اور پھر پہلے سے کہیں قوت کے ساتھ بجلی والوں کو کوسنے دینے شروع کردیتیں۔
    ہاں عید آئی تو عوام کو کم سے کم تینوں دنوں کے لیے بناکسی بندش کے بجلی کی عیاشی دے دی گئی ۔ سب سکون میں رہے لیکن عید ختم ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا چاند یوں نظر آیا کے پچھلے تینوں دنوں کی کسر برابر ہوگئی ۔ چند دن بعد ہی بجلی کے بل بھی آگئے اور یہ دیکھ کر شیخ صاحب سجدہ شکر بجالائے کے ان کے بل سے تما م ڈیڈکشن ختم کردی گئی تھیں گویا انہیں ان کی کڑی تپسیہ کا پھل مل گیا۔
    ایک دن خالہ نے دیکھا شیخ صاحب کچھ بے چین سے دکھائی پڑتے ہیں فوراً بھانپ گئیں کہ ہو نہ ہوکوئی پریشانی ہے۔ انہوں نے پاس آکر مزاج پرسی کرتے ہوئے سبب دریافت کیا۔
    ” ہاں بیگم جانے آج کیا ہوگیا ہے صبح سے لائٹ ہی نہیں گئی خدا خیر کرے۔ ”
    یہ سننا تھا کے خالہ غصے سے لال پیلی ہوگئیں اور ان کا عرصے سے شیخ صاحب کی دماغی حالت پرہونے والا شک یقین میں بدلنے لگا۔
    ” ارے کیا سٹھیا گئے ہو ، لائٹ نہیں گئی تو شکر ادا کرو خدا کا، کیوں منہ لٹکا کر منحوس باتیں کررہے ہو ؟”
    ” ارے کم عقل عورت کتنی بھاری قیمت بھی تو دینی پڑتی ہے اس عیاشی کی ، چند گھنٹے لائٹ نہیں جاتی توپھر بعد میں پورا پورا دن فنی خرابی کے نام پر لائٹ بند کرکے اپنا اگلا پچھلا سارا حساب سود سمیت وصول کرلیتے ہیں یہ لوگ۔ ”
    ” تم اگلی بار جاؤگے نہ واپڈا کے دفتر، تو بڑے افسر سے یہ بھی شکایت کردینا کے بھیا کسی کے گھر کی لائٹ جائے یا نہ جائے ، میرے گھر کی لائٹ سب سے پہلے بند کردیا کرو ، نوازش ہوگی۔”
    خالہ نے بھی تنک کے وہ جواب دیا کہ شیخ صاحب کو خاموش ہوتے ہی بن پڑی۔
    اس کے کوئی پانچ ماہ کے بعد کے بات ہے شیخ صاحب کا بیٹا چپ چاپ گھر میں داخل ہوا اور ان کے آگے بجلی کا بل کردیا ۔ انہوں نے جب بل دیکھا تو ایک بار پھر سر پکڑ کر بیٹھ گئے کیوں کہ اس ماہ ان کے بل میں نئی ڈیڈکشن لگی ہوئی تھی۔ بیٹے نے بل دکھانے کے بعد ان کے ہاتھ سے بل واپس لیا اورگھر سے باہر کی جانب جانے لگا۔
    ”ارے کہاں جارہے ہو ، اس وقت سب جاچکے ہوں گے واپڈا آفس سے ، میں کل پھر جاؤں گا۔”
    ” ابا میں واپڈا آفس نہیں جارہا ذرا پڑوس میں عرفا ن صاحب سے مل کر آرہا ہوں ۔ ” بیٹے نے جاتے ہوئے آواز لگائی۔
    ” اچھا۔” شیخ صاحب نے تھکے لہجے میں جواب دیا پھر اچانک انہیں کچھ یاد آگیا اور وہ بیٹے کے پیچھے ڈانٹتے ہوئے لپکے ۔
    ” ارے عرفان کے پاس کیوں جارہے ہو تم ، کوئی ضرورت نہیں اس کے پاس جانے کی میں خود دیکھ لوں گا ان سب کو ، وفاقی محتسب کی عدالت میں پھر سے گھسیٹ لوں گا ان کو، اب کے باقاعدہ اپنا وکیل کرکے کیس کردوں گا ان سب پر دیکھنا جج صاحب کیا کرتے ہیں ان کا… ”

    ٭…٭…٭




  • میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    ”محبت کے دل میں اترنے کا کوئی خاص موسم نہیں ہوتا کہ وہ آئے اور اپنی روپہلی کرنوں سے کسی وجود کا احاطہ کر کے اسے دل کش زنجیر میں جکڑ لے ۔محبت تو کبھی بھی، کسی بھی لمحے صحیفہ ٔ نور کے مانند دلوں میں اترتی اور دل کو اس الوہی جذبے سے آشنا کرکے، راتوں کی نیندیں اُڑا کے اور جاگتی آنکھوں میں حسیں سپنے سجا دیتی ہے۔ یہ دل کا سکون لوٹ کر بھی ایک الگ ہی قرار اور احساس سے آشنا کرتی ہے۔ عظام تم کیا جانو محبت اور اِس کے خوب صورت فلسفے کو ۔” وہ محبت کی حسین وادیوں میں ٹہلتی کسی خوب صورت خیال میں کھوئی اپنا فلسفہ جھاڑ رہی تھی۔
    ”مت بھولو وریشہ، تم جس محبت کے جذبے کے زیرِ اثر خوب صورت الفاظ میں فلسفۂ محبت جھاڑ رہی ہو، اس جذبے سے تمہیں آشنا کروانے کاسہر اما بہ دولت عظام حیدر کو جاتا ہے۔” وہ اپنا کالر درست کرتے ہوئے گویا ہوا۔
    ”ورنہ تم بھی اِس دنیا کی وہی عام سی لڑکی رہتیں، جو چاہے جانے کے خواب دیکھتی تو ہے مگر کبھی انہیں حقیقت بنتے نہیں دیکھ پاتی۔” وہ وریشہ کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”مانتی ہوں، مجھے ایک عام سی لڑکی سے خاص تمہاری محبت نے بنایا ہے اور میں ہمیشہ خاص رہنا چاہتی ہوں۔ تمہاری نظر میں بھی اور دنیا کی نظروں میں بھی۔” اس کی آنکھوں میں خوف اور لہجے میں التجا تھی۔ اسے کھونے کا خوف تو خود کو نہ کھونے کی التجا کرتی وہ نگاہیں آج بھی عظام کے ذہن پرنقش تھیں۔ وہ لہجہ آج بھی اس کی سماعتوں میں گونجتا تھا۔
    ”عظام اور وریشہ اک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ جدائی نام کی کوئی چیز کبھی بھی ہم دونوں کے درمیان نہیں آ سکتی۔”
    عظام کے پر اعتماد لہجے میں بلا کا یقین تھا اور اسی شب وریشہ کا دل اس یقین پر ایمان لے آیا تھا۔ نیچے عظام کی خالہ زاد کی مہندی کے فنکشن سے فراغت کے بعد سب رشتہ دار خوش گپیوں میں مصروف تھے اور چھت پر عظام اور وریشہ مستقبل کے سہانے خواب بُن رہے تھے۔ دور آسمان پر چمکتا چودھویں کا چاند دونوں کو محبت کے عہدو پیماں کرتا دیکھ ان کی بلائیں لے رہا تھا تو چمکتے ستارے مبارک باد اور سلامتی کی دُعائوں کے سندیسے بھیج رہے تھے۔
    ٭…٭…٭




    وہ آج بھی بے بسی کی تصویر بنی اپنے شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے وفائی کرتے دیکھ رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح مہر برلب تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارمغان کا روز روز اپنی نئی گرل فرینڈز کو گھر لے آنا اور رات گئے بے مقصد گفت گو کرتے رہنا اور پھر ان آزاد ماحول کی پروردہ لڑکیوں کو گھر تک چھوڑنے جانا محض اسے دکھ اور تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔وہ اس کے چہرے پر چھانے والی اُداسی اور آنکھوں میں اترنے والی نمی سے محظوظ ہوتا تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُداس ہو جاتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہنے لگتے۔ بعض اوقات وہ تنگ آکر علیحدگی کا فیصلہ کرتی مگر ارمغان کے چبھتے نشتر جیسے الفاظ اس کی زبان بند کروا دیتے۔
    ”احسان مانو میرا جو تم جیسی بدنامی کی پوٹلی کو میں نے قبول کر لیا۔ یا د رکھو، میں نے چھوڑ دیا تو تم کہیں کی نہیں رہو گی۔ گھر والے تو ڈیڑھ سال سے ملنے تک نہیں آئے تمہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی ٹھکانہ ہے جہاں رہ سکو تم؟ اگر بنا چکی ہو تو بتا دو، میں ابھی گھر بدر کرنے کو تیار ہوں تمہیں ۔” ا س کے پاس ارمغان کی کسی بات کا جواب نہیں ہوتا۔ وہ یہ سوچ کر چپ رہتی کہ اگر ارمغان نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کہاں جائے گی۔ وہ خاموشی سے لب سیے پلٹ آتی۔
    ٭…٭…٭
    ”زندگی کا ہر لمحہ جو تمہارے بن گزرتا ہے، اس لمحے کی روداد نہ پوچھو وریشہ، ایسا لگتا ہے جیسے موت و حیات کے بیچ لٹک رہا ہوں۔” وریشہ آج کافی دنوں بعد عظام کے گھر آئی تھی اور وہ موقع ملتے ہی دلِ بے تاب کے قصے سنانے بیٹھ گیا تھا۔
    ”اُف عظام! تم بھی نا بات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہو کہ جھوٹ زیادہ اور حقیقت کم ہی لگتی ہے۔” وریشہ اس کی بات سنتے ہی ہلکا سا ہنستے ہوئے بولی۔
    ”قسم سے اک لفظ جھوٹ نہیں کہتا وریشہ!” وہ جھٹ سے اس کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا:
    ”محسوس کرو، اس دل کی دھڑکن کی ہر لے میں تمہارا نام لیتا ہے میرا دل ۔تم میری سانسوں کے چلنے کا سبب ہو ۔اگر تم دور ہوئیں تو دل کے بند ہونے سے پہلے ہی میری سانسیں رک جائیں گی۔” وریشہ نے اس کے ہونٹوں پر تڑپ کر ہاتھ رکھا۔
    ”حالت تو وریشہ کی بھی تم سے کم نہیں، تمہاری یہ باتیں خوف زدہ کر دیتی ہیں مجھے۔ یا تو تم خود پاگل ہو جائو گے یا مجھے کر دو گے۔”
    ”محبت کبھی انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتی وریشہ مگر یہ سچ ہے کہ محبت پاگل پن کا دوسرا نام ہے۔ کسی کا دیوانہ ہو کر ہوش و خرد کہاں کچھ سمجھنے اور دیکھنے کے قابل رہتے ہیں؟”
    ”عظام! مجھے ڈر لگتا ہے تمہاری محبت سے ، تمہاری باتوں سے۔” وہ خوف زدہ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کاہاتھ تھامے عجیب و غریب باتیں کر رہا تھا۔ وریشہ، عظام کی پھوپھی زاد تھی۔ دونوں میں پسندیدگی تو لڑکپن میں قدم رکھتے ہی ہو گئی تھی، مگر اظہارِ محبت کرنے میں انہیں چھے سال لگ گئے۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ کو یہ جاب کیوں چاہیے وریشہ؟”
    ”ذہنی سکون کے لیے سر۔”اولڈ ایج ہوم کے مالک نے وریشہ سے سوال کیا، تو اس نے فوراً جواب دیا۔
    ”آپ کو واقعی لگتا ہے اِس جاب سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا؟” اس کے جواب پر بے ساختہ پوچھا گیا۔
    ”جی سر!بزرگوں کی خدمت سے، ان کا خیال رکھ کر اور ان کی دعائوں سے لگتا ہے مجھے واقعی ذہنی سکون ملے گا۔” وریشہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”جب کہ مجھے لگتا ہے اِن بزرگوں کے قریب رہ کر، ان کی زندگی کی کہانیاں سن کر آپ کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہ ملے گا۔”
    ”آپ بس مجھے یہ جاب دے دیں سر، مجھے ذہنی سکون ہی ملے گا۔ میں اُن کے دُکھ بانٹ کر اپنے غم اور دکھ بھول جائوں گی۔ ” اس کے لہجے میں التجا در آئی۔ اپنے حالات سے فرار اسے یہاں جاب کرنے میں ہی نظر آرہا تھا۔
    ”اوکے وریشہ! آپ ابھی سے جوائن کر سکتی ہیں۔” ریحان احمر نے خوش دلی سے کہا، تو وریشہ کااُداس چہرہ اک دم کھل اٹھا۔ ریحان نے آج پہلی بار گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے چاند کو نمودار ہوتے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک وفادار اور فرض شناس بیوی کی طرح اپنے تمام فرائض ادا کر رہی تھی۔ ارمغان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت تن دہی سے پورا کرتی۔ ارمغان کو کبھی بھی گھریلو کام میں اُس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔ صبح ارمغان کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اس کی ضرورت کی ہر چیز تیار رکھتی۔ اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ ناشتا ٹیبل پر لگا چکی ہوتی۔ وہ خاموشی سے ناشتا کرتا اور وہ ہر روز ہی اس کے منہ سے تعریف کے چند کلمات سننے کی منتظر رہتی لیکن وہ بنا کچھ کہے اُٹھ جاتا۔ وہ سرد آہ بھر کر اسے جاتا دیکھتی رہ جاتی۔وہ اپنی قسمت کے اِس فیصلے پر شکوہ کناں نہیں تھی بلکہ وہ صبر کے گھونٹ پیتے ہوئے شکر سے زندگی گزار رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اولڈ ایج ہوم میں وریشہ کا دل لگ گیا تھا۔ اس کی بے قرار زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا۔ بزرگوں کے سایۂ شفقت اور ان کی دعائوں نے اسے نیا حوصلہ بخشا تھا۔ وہ بہت محبت اور توجہ سے ہر ایک کی بات سنتی۔ ان کی کہانیاں اسے کبھی مغموم کر دیتیں تو کبھی جینے کے نئے گر سکھاتیں مگر پھر بھی اس کے اندر کا خالی پن گھر لوٹتے ہی اس کے دل میں براجمان ہو جاتا۔ اُداسیوں کے کُہر زدہ ماحول سے وہ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی اسے اپنے چاروں طرف گہرا ہوتے پاتی۔ وہ کسی ایسے سرے کی تلاش میں تھی جسے پکڑ کر اِس ماحول سے باہر نکل سکے، مگر فی الحال ایسا کوئی سرا اسے دستیاب نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”خود کو بہت بڑا تیس مار خان سمجھتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ہمارے گھر اور ہمارے بزنس پر بھی قبضہ کر لو گے؟” عظام کو اس سے پہلے میں نے ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ بس دست و گریباں ہونا باقی تھا، مگر اُس نے خود پر کنٹرول رکھا۔
    ”میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا اول فول بک رہے ہو۔ کہنا کیا چاہ رہے ہو تم؟” ارمغان نے سمجھ نہ آنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اتنے بھی ”چھنے کاکے” نہیں ہو تم جو سمجھ نہیں آ رہی۔ جب دیکھو اِس گھر میں موصوف کے گن گائے جارہے ہیں اور یہ بھولی صورت پوچھ رہی ہے کہ کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔” عظام کو فائنل ائیر میں سپلی آنے پر چھوٹے ماموں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی اور وہ اپنا سارا غصہ ارمغان پر اتار رہا تھا اور کیوں نہ اتارتا؟ ماموں نے ارمغان کی قابلیت اور ذہانت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے جو ملا دیے تھے ۔ یہ بات عظام کو ہمیشہ کی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
    ”قسم سے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، تم بد گمانی سے کام مت لو ۔”ارمغان نے اپنے ازلی پُرسکون اندازمیں کہا۔
    ”خوب سمجھتا ہوں میں اِس معصوم صورت کے پیچھے ایک عیار انسان چھپا بیٹھا ہے۔” عظام کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ ارمغان کو بے نقط سنائے جا رہا تھا اور وہ میرے سامنے اس کے رویے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔
    ”عظام کیا کروں ایسا کہ تمہاری بد گمانی دور ہو جائے ۔ تمہارا دل صاف ہو جائیمیری طرف سے۔” وہ روہانسا ہو گیا ۔ نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں نمی تیرتے دیکھ کر میرا دل دکھنے لگا تھا۔
    ”اِس گھر سے چلے جائو، اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا تمہارا وجود ۔” عظام نفرت سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ ارمغان کی نیلی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
    ”بہت غلط کرتا ہے عظام آپ کے ساتھ۔” میرے پاس اسے ہم دردی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
    ”عادت ہوگئی ہے مجھے یہ سب سننے کی۔ آپ دکھی نہ ہوں ۔آج کون سا پہلی بار ہوا ہے آپ کے سامنے۔”
    ”آپ بہت اچھیہیں ارمغان۔ کبھی حوصلہ نہ ہارئیے گا۔ کوئی بھی مشکل ہو، بس ثابت قدم رہیے گا۔”
    وہ اثبات میں سرہلا کر باہر نکل گیا اور میں اس مضبوط انسان کو جاتا دیکھتی رہ گئی جس کا حوصلہ چٹان جیسا تھا جسے وقت کی کوئی بھی تیز آندھی گرا نہیں سکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    مریم آپی شادی کے بعد آج پہلی مرتبہ ایک ہفتہ رہنے کے لیے آئی تھیں۔ سب کزنز ان کے پاس جمع تھے۔
    ”بس میں نے سوچ لیا ، سب کی شادی جلد کروا کے ہی دم لوں گی۔”
    ”بھئی کیوں؟ آخر ہم معصوموں کی آزادی سے کیوں خوامخواہ کا بیر ہو نے لگا آپ کو؟” عظام کے بڑے بھائی اسجد جھٹ سے بولے۔
    ”کیوں کہ اس گھر کی اکلوتی بیٹی کے بیاہ کر چلے جانے سے اِس گھر میں بیٹی کی کمی جو ہو گئی ہے۔ چچی جان سے کہہ دیا ہے میں نے، تین بیٹیاں جلد آئیں گی اِس گھر میں اور انہوں نے رشتہ ڈھونڈنے کی ذمے داری بھی مجھے سونپی ہے۔” انہوں نے اپنی طرف اشارہ کر کے اتراتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے تو منظور ہے۔آپ کی چوائس ویسے بھی بہت اچھی ہے مریم آپی۔” عظام جھٹ سے اٹھ کے مریم آپی کے پاس بیٹھ گیا۔
    ”پہلے تو اسجد بھائی کی باری ہے، مریم آپی اِن کے لیے کوئی لڑکی نظر میںرکھیے۔” میں نے عظام کی بات کے جواب میں فوراً کہا تو میری بات سن کے عظام بد مزہ ہوتے ہوئے بولا۔
    ”آپی! اسلام میں کہیں شرط نہیں کہ پہلے بڑے کی شادی ہو۔” عظام مجھے منہ چڑا کر بولا۔
    ”اسلام میں نہیں لکھا مگر زمانے کادستور یہی ہے کہ پہلے بڑے بھائی کی شادی ہو اور پھر چھوٹے کی۔”مریم آپی بھی اسے تنگ کرنے کے موڈمیں تھیں۔ مجھے دیکھ کر آنکھ دبا کے بولیں، تو عظام کھڑکی کے پاس جا کر کھڑاہوگیا۔
    ”آپی پہلے بتائیں اسجد بھائی کے ساتھ کیسی لڑکی جچے گی؟”میں نے شرارت سے اسجد بھائی کو دیکھ کر کہا جن کے کان کھڑے ہو چکے تھے۔
    ”اِس کے ساتھ کوئی فضول خرچ اور ماڈرن سی لڑکی سوٹ کرے گی ۔جیسا یہ خود ہے، ویسی ہی لڑکی ہونی چاہیے۔ بس گھومنے پھرنے اور شاپنگ کرنے کی شوقین۔”
    ”واہ واہ! آپی ایسا ہو جائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔ مجھے بھی کوئی روک ٹوک اور خرچوں کے لیے رونے والی شریکِ حیات کی خواہش نہیں۔”اسجد بھائی جھٹ سے بولے۔
    ”السلام علیکم آپی۔” ارمغان آفس سے آنے کے بعد سیدھا مریم آپی سے ملنے چلا آیا۔ آج بھی وہ تھری پیس سکائی بلیو سوٹ میں ہمیشہ کی طرح غضب ڈھا رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی عظام کا منہ بن گیا۔
    ”وعلیکم السلام میرے شہزادے بھائی۔” مریم آپی نے محبت پاش نظروں سے ارمغان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوش دلی سے جواب دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بیڈ پر بٹھا لیا۔
    ”اور میرے ساتھ کون جچے گی؟ کیسی بھابی لانا چاہیں گی آپ میری بیوی کی صورت میں؟” عظام میرے بگڑتے تیوروں سے محظو ظ ہوتے ہو ئے بولا۔
    ”اُف پھوٹ گئی اُس کی قسمت جو تمہاری بیوی بنے گی۔” آپی نے اپنا الٹا ہاتھ پیشانی پر مارتے ہوئے کہا، تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں، بہت کیئرنگ اور محبت کرنے والا شوہر ہوں گا میں۔”عظام نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
    ”بالکل! مگر اس کے ساتھ ساتھ تمہارے نخرے…” مریم آپی نے نخرے کی”ے” کو لمبا کھینچا تو عظام میرے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولا:
    ”بہ خوشی اٹھا لے گی میرے نخرے ۔”میں نے مسکرا کے سر جھکا لیا۔




  • رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

    ”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا ہوں کہ کپڑا خود بھی اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا ہے ! اس شہر میں ، مجھ سے زیادہ رنگوں کی صحیح پہچان کسی کو بھی نہیں ہے !”




    شالا رنگ والے نے ہمیشہ کی طرح بہت مان اور فخر سے دعوی کیا ۔جمیل احمد نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اسے کام سمجھانے لگا ۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی ذاتی اور چھوٹی سی بوتیک کا کام لے کر اس کے پاس آ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ شالا رنگ والے کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ اس پرانی گلی میں کوئی بھی ایسا رنگ ریز نہیں تھا جو اس کی طرح کا کپڑا رنگتا ہو ۔شالا رنگ والے کے رنگ بہت پکے اور منفرد ہوتے تھے ۔ جمیل احمد نے جب نیا نیا بوتیک کا کام شروع کیا تھا تو اس وقت اس کے پاس بہت محدود بجٹ تھا اور اسی محدود بجٹ میں اس نے گاہک کو بہتر سے بہتر کام مہیا کرنا تھا تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی اچھی ساکھ بنا سکے ۔ اسی لئے ،اس نے دریا کے پل کے پاس آباد ، شہر کے سب سے پرانے بازار کا انتخاب کیا اور بہت تلاش کے بعد بالاخر اسے شالا رنگ والا مل ہی گیا۔پرانی گلی کے سب سے آخر والے کونے میں ٹین کی چھت کے نیچے ،چائے والے کھوکھے کے سامنے وہ بیٹھتا تھا۔ آج سے چھ ، سات سال پہلے وہ تیس کے لگ بھگ تھا۔ سانولا رنگ ،دراز قد، متناسب جسم کے ساتھ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا ۔ نخرہ اس میں بہت تھا ، اپنے ہنر پہ نازاں ، اپنی مرضی کا دام لینے والا اور اپنی مرضی سے کام کرنے والا ۔۔۔۔!
    مگر یہ بھی ضرور تھا کہ اپنا کام بہت دل لگا کر اور ایمانداری سے کرتا تھا ۔خواتین کی عادت ہوتی ہے ، ہر بات میں اعتراض کرنے اور نقص نکالنے کی ، مگر شالا رنگ والا کسی کی نہیں سنتا تھا ۔اگر کوئی نئی آنے والی عورت اس کے زیادہ دام پہ اعتراض کرتے ہوئے کہتی کہ
    ” پورے بازار میں ایک ہی دام مقر ر ہے مگر تمہارے دام سب سے الگ اور زیادہ ہیں !”
    ” پھر آپ کہیں اور سے کام کروا لیں ۔۔! میں اپنے دام کم نہیں کرتا ہوں ۔۔۔!”
    وہ لاپروائی سے کہہ کر اپنے کام میں لگ جاتا ۔کچھ عورتیں تو یہ سن کر چلی جاتیں مگر زیادہ تر اس کی مستقل گاہک تھیں ۔ جو اسکے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھیں ۔اس لئے سر کھپائی کرنے کے بجائے ، اپنے کام سے کام رکھتی تھیں ۔ شالا رنگ والا ایک بار جس بات پہ بگڑ جاتا ، پھر اسے سمجھانا یا منانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ اس کے رنگوں کی طرح ، اس کی ضد بھی بہت پکی تھی !اپنے بہت پرانے گاہکوں کے ساتھ اس کا مزاج زیادہ تر خوشگوار ہی رہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے اور اس کے مزاج کو سمجھ کر بات کرتے تھے ۔ اگر شالا رنگ والا کسی سے بہت ہنس ہنس کر بات کر رہا ہو تا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آج اس کا موڈ بہت خوشگوار ہے پھر وہ بات بہ بات قہقہ لگاتا تھا ، ہنستے ہوئے اس کے سفید دانت بہت واضح نظر آنے لگتے تھے ۔ مگر اس کے بہت سے ہم عصر اس بات کو غلط رنگ دے کر بیان کرتے کیونکہ وہ اس کے کام اور تھڑے کے سامنے لگے رش سے بہت جلتے تھے اور اسی حسد میں کہتے ؛




    ” اس کے پاس زیادہ خواتین اسی لئے جاتی ہیں کہ وہ انھیں اپنی باتوں میں لگا لینے کا ماہر ہے ! پہلے پہل نخرے دکھاتا ہے اور پھر اپنے مرضی کے دام طے کرتے ہی ، اس کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اب ظاہر سی بات ہے اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کرے گا تو سب شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے گر د جمع ہی ہوں گی نا!”
    یہ باتیں وہ حریف کرتے تھے جن کے پاس دکان تو بہت بڑی تھی مگر کام بہت کم تھا ۔ جبکہ شالا رنگ والا ایک چھوٹے سے تھڑے پہ ،اپنا کاروبار چمکائے بیٹھا تھا ۔جمیل احمد کو بھی اس کا نخرہ اور غرور نہیں بھایا تھا مگر جمیل احمد کا ، شالارنگ والے کے مزاج سے زیادہ اپنے کام سے مطلب تھا ۔ وہ جس طرح کا کام چاہتا تھا ، وہ شالا رنگ والے سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا تھا ۔ شالا رنگ والے کے دام اس کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوتے تھے مگر جتنا اچھا وہ کام کرتا تھا ، جمیل احمد کو اس کے بتائے دام زیادہ نہیں لگتے تھے ۔ اسی لئے جمیل احمد بہت کچھ دیکھ کر نظرانداز کر دیتا تھا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمیل احمد او راس میں ایک انجانا سا تعلق بن گیا تھا۔ جمیل احمد کو یاد ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کس طرح تیار ہو کر کام پر آتا تھا ۔ تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی کئے ہوئے بال ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ، ہر وقت ہلکی سی گنگناہٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی جیسے ساون کے دنوں میں ہلکی سی کن من جاری رہتی ہے ۔ جمیل احمد اپنے کام کی وجہ سے زیادہ تر اس کے پاس آیا ہی رہتا تھا اور کافی وقت وہاں گزارتا تھا ۔ اس لئے اب وہ اکثر ادھر ، اُدھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے ۔
    ” تم اتنا کماتے ہو ! کسی اچھی سے جگہ کیوں نہیں چلے جاتے ! ” جمیل احمد نے ایک بار عورتوں کے بے پناہ رش میں پڑنے والے دھکوں سے گھبرا کر کہا ۔
    ”بابو جمیل سوچا تو بہت بار مگر وہ کیا ہے کہ !” شالا رنگ والا اپنے کالے اور گھنے بالوں میںہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ”مجھے یاد ہے آج بھی ۔۔۔!!!” اس نے بڑی سی کڑاہی میں گرم پانی میں گھلا رنگ نالی میں الٹایا اور برتن کوپانی سے کھنگال کر ، اس میں صاف پانی ڈالا اور اس کے گرم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
    ”جب میں نے پہلی بار اپنے ابا کے ساتھ ضد کر کے اس پرانی گلی آیا تھا ۔ تب بھی یہ اسی طرح ہی گنجان و آباد علاقہ تھا۔ میں شاید تب سات یا آٹھ سال کا تھا ۔ ابا نے مجھے اپنے پاس رکھے ٹین کے پرانے ڈبے پہ بیٹھا یا اور گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔میں دن بھر اپنے باپ کو مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رنگوں کے صحیح انتخاب اور امتزاج کے لئے الجھتے دیکھتا رہا ۔ ابا کو اپنے پیسوں سے زیادہ ، لوگوں کے کام کی فکر ہوتی تھی کہ سب کچھ بہترین اور گاہک کی مرضی کے مطابق ہو ۔ ابا نے بھی اپنا کام اسی جگہ سے شروع کیا تھا ۔ وہ اکیلے کام کرتے تھے۔ دن بھر رنگوں کی ڈبیوں کو کھولتے اور بند کرتے رہتے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ میں جو پہلے کچھ دن خاموشی سے سب دیکھتا رہا ۔ بعد میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں ابا کی مدد کر وانے لگا ۔ اماں کہتی تھیں کہ ابھی میری عمر نہیں ہے ان رنگوں میں رنگنے کی ! مگر اباکا ماننا تھا کہ ” ہنر سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ! یہ ایک رنگ ساز کا بیٹا ہے ، اسے رنگوں کو برتنے کا سلیقہ آنا چائیے ۔”
    شالا رنگ والا ، بولنے پہ آتا تو رکتا ہی نہیں تھا ۔ وہ بہت باتونی تھا اس لئے کہ اس کی باتوں میں لفظ ” میں ” بار بار آتا تھا اور اسے اس لفظ سے بہت محبت تھی ، اس لئے کہ اسے اپنی ذات کے بت کو پوجنے کی عادت تھی ۔۔۔۔ ! اپنے ماضی کا ذکر تو خاموش ہونٹوں کو بھی خودکلامی کے رس میں بھگو دیتا ہے ، وہ تو پھر رنگوں میں سانس لینے والا ، زندہ دل آدمی تھا ۔
    ” بس بابو جمیل! اباکی یہ بات دماغ میں ایسی بیٹھی کہ پھر سکول جا کر بھی دل نہیں لگا ۔ بمشکل آٹھ جماعتیں پاس کی اور ابا کے ساتھ کام سنبھال لیا پھر ابا تو گزر گیا مگر اپنی سب ذمہ داریاں اور فکریں میرے کندھے پہ ڈال گیا۔ بس شکر ہے بہت سا کڑا وقت تو گزر گیا ہے ، جو رہ گیا ہے وہ بھی گزر جائے گا !”




  • جواز — امایہ خان

    ”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو اس نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا۔ پیزیریا انٹیکا (pizzeria antica)، اٹلی کے شہر بریشیا کے شمال میں واقع تھا اور اسے وہاں ویٹر کی ملازمت کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس مختصر سی مدت میں ہی اس نے اپنی خوش اخلاقی اور زندہ دلی سے سب گاہکوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اسی لیے گرومیل ملتانی اس سے بے حد خوش تھا۔ وہ دوسری ایشیائی عورتوں کی طرح مردوں سے ہچکچاتی نہیں تھی بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود مغربی لباس پہنتی اور ان ہی کے اطوار اپنائے ہوئے تھی۔ اطالوی زبان پر اُسے مکمل عبور تھا جس کی اہم ترین وجہ شاید بیپ تیمپینی سے دیرینہ تعلقات تھے۔




    گرومیل کئی بار کام ختم ہونے کے بعد اسے تیمپینی کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا۔ وہ تیمپینی باشندہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور اس کی عمر پینتیس برس تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر ایک دوبار سمجھانا چاہا۔
    ” تم ابھی کم عمر ہو، کسی بیس اکیس سال کے لڑکے سے دوستی کیوں نہیں کرتیں؟” جس پر وہ خوش دلی سے مسکرا کر بولی:
    ”میں نے اس کی عمر دیکھ کر محبت نہیں کی۔” گرومیل اس جواب پر محض کندھے اُچکا کر رہ جاتا۔ ظاہر ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں آزادی تھی۔ جب اس کے ماں باپ نہیں روک سکے، تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے بعد ملتانی نے کبھی ایسا کوئی سوال نہیں کیا، یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ مستقل طور پر تیمپینی کے گھر منتقل ہوگئی ہے، وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
    اس شام تین دن کی رخصت لے کر وہ اس کے ریستوران سے نکلی اور پیدل چلتی ہوئی بیپ کے اپارٹمنٹ تک پہنچی تو وہ اسے دروازے پر ہی مل گیا۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جلد واپسی کا وعدہ کرتی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بیپ کو اس نے بتایا تھا کہ فرانس سے کچھ رشتہ دار ملنے کے لیے آئے ہیں اور اس کا باپ چاہتا ہے وہ خود ان کے لائے ہوئے تحائف وصول کرے ، اس لیے وہ جارہی تھی۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے مل کر اسے کل شام تک واپس آجانا تھا۔ اپنی چھٹی کا تیسرا دن وہ صرف بیپ کے ساتھ گزارتی مگر ایسا نہ ہوا۔
    دوسرا اور پھر تیسرا دن بھی یونہی گزر گیا، اس کی کوئی خیر خبر نہ آئی۔ عموماً بیپ اس سے ان دنوں میں خود سے رابطہ نہیں کرتا تھا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اب مجبوری تھی۔ وہ اس کے لیے مزید فکر مند تب ہوا جب لاکھ کوشش کے باوجود بھی موبائل پر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اس کا فون مسلسل آف تھا۔
    چوتھے دن کا سورج غروب ہوتے ساتھ ہی بیپ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے پولیزیا میں شکایت درج کی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد carbeneria کو حنا کی گمشدگی کی اطلاع کردی۔ انہیں شک تھا کہ بیپ کی لِٹل ڈول کو اس کے باپ نے کہیں غائب کردیا ہے۔
    ٭…٭…٭




    ”باجی مجھے بس دو منٹ بات کرنی ہے صفیہ سے، مجھے گوجرانوالہ کا یہ نمبرملادیں۔”
    اس کی منت بھرے انداز میں کی گئی درخواست کو رد کرنا رباب کے لیے آسان نہیں تھا، مگر پھر بھی اس نے کہا۔
    ”تمہارا شوہر پھر چلائے گا یہاں آکر، اسی لیے دلاور نے منع کیا ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کروں۔”
    ”اچھا! تو پھر یہ بیلنس ڈلوادیں فون میں۔” اس نے ڈوپٹے کے پلّو میں بندھے چند مڑے تڑے نوٹ اور سِکے نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ رباب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بشریٰ نے یہ معمولی رقم بھی کس مشکل سے جمع کی ہوگی، اس کا دل پسیج گیا۔
    ”رہنے دو، آئو بات کروادیتی ہوں۔”
    ”شکریہ جی! لیکن بتایئے گا نہیں آپ دلاور بھائی کو، سلیم کو پتا لگا، تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔”
    ”ٹھیک ہے! نہیں بتائوں گی لیکن جلدی بات ختم کرنا۔” رباب نے ریسیور کان سے لگا کر اس کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور نمبر ملانے لگی۔ کال ملا کر دینے کے بعد وہ خود وہاں سے ہٹ گئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس آئی تو منظر حسبِ توقع ہی تھا۔ بشریٰ ہمیشہ کی طرح دوپٹے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
    ”مجھے بھی لے جا اماں، یہاں نئیں رہنا… مینوں لے جا۔” اپنی بیٹی کی وہی پرانی گردان سن کر بشریٰ کے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ رباب کو بہ یک وقت دونوں ماں بیٹی پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی۔
    ”بس فون ملانے کا شوق ہے، بات تو کرتی نہیں ہے بیٹی سے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی بشریٰ کے نزدیک آئی جو آہستگی سے ریسیور واپس رکھ رہی تھی۔
    ”کیا ہوا؟ بات کیوں نہیں کی؟”
    ”کرلی جی!” بشریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”بہت مہربانی جی! اللہ آپ کو جزا دے۔” اُس نے جاتے ہوئے کہا اور رباب اُس کی دعا پر محض سرہلا کر رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”وائی ال انفرنو” (go to hell)” فلورا نے حقارت سے گھورتے ہوئے اسے جہنم میں جانے کا مشورہ دیا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتا اپنی میز کی جانب بڑھ گیا، جیسے بس یہی سننے کے لیے کھڑا ہو۔ چار سال میں اسے اب اتنی اطالوی زبان تو سمجھ آنے لگی تھی مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے پرانے ریستوران سے دھکے دے کر نکالے جانے کے بعد یہاں آنا شروع کردیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ ریستوران میں داخل ہوتے ہی فلورا کے پاس کائونٹر پر جاکر اسے چھیڑتا۔
    ”میں تمہارے ساتھ رات گزارنا پسند کروں گا…”vogho dormise con teاس فقرے کو بھی وہ کئی دنوں کی لگاتار محنت کے بعد یاد کرپایا تھا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سبق یاد کرنے میں بڑا ”ماٹھا تھا۔” تب ہی تنگ آکر چوتھی کے بعد ماسٹر صاحب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ جس کے بعد اس نے ابا کے ساتھ باڑے پر وقت دینا شروع کردیا۔ ابا کے پاس چھے بھینسیں تھیں۔ ان کا دودھ گائوں کے گھر گھر پہنچایا جاتا، وہ بھی ابا کے ساتھ لگ گیا۔ ابا تو ویسے بھی اس کی پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ یہ تو بے چارے اسکول ماسٹر صاحب کا شوق تھا جو زبردستی بچوں کو پکڑ پکڑ کر پڑھنے بٹھاتے۔ انہوں نے کتنے ہی بچوں کو پڑھا یا لیکن سلیم نے ایسا زچ کیا کہ خود ہی تنگ آکر گھر چھوڑ آئے۔
    میلان پہنچ کر کئی مواقع پر اسے اپنی تعلیم سے عدم توجہی پر پچھتاوا ہوا۔ اگر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی بول پاتا تو شاید اسے ایسی مشکل پیش نہ آتی۔ اَسّی نوے کی دہائی سے اٹلی کی حکومت کی آسان پالیسیوں کی بہ دولت سینکڑوں پاکستانی روزگار کے حصول کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر آتے رہے تھے۔ سلیم بھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود کام حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ فیکٹریوں میں زیادہ تر سِکھ سپروائزر تھے جن سے مشینوں کا کام سمجھنا مشکل نہ تھا۔ تکلیف تو رہائش، کھانے پینے اور ملنے جلنے میں تھی۔
    میلان میں کچھ عرصہ گزار کر اب وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی دیکھا دیکھی بریشیا شفٹ ہوگیا تھا۔ یہاں جنوبی ایشیا سے آئے مسلمانوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی تھی۔ زیادہ تر کا تعلق غریب اور ان پڑھ طبقے سے تھا اور غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کو بھی قدرے کم معاوضے پر کام مل جاتا تھا۔ ملازمت دینے میں بہت فیاض مگر عزت دار شہری کی حیثیت سے انہیں تسلیم کرنے میں اطالوی معاشرہ نہایت تنگ دل ثابت ہوا۔
    دن رات گدھوں کی طرح کام میں مصروف رہنے کے بعد بدبودار پسینے میں شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں کا ریستوران میں گھس آنا میلان کے نازک طبع شہریوں کو بے حد گراں گزرتا تھا۔ حال تو بریشیا میں بھی کم و بیش یہی تھا۔ مقامی لوگ ان سے کراہت محسوس کرتے لیکن زیادہ تر خوف کھاتے تھے، اسی لیے میل جو ل بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ ویسے ہی ان کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے زیادہ تر کے پاس فاضل رقم نہ ہوتی اور جن کے پاس ہوتی ان کے انداز و اطوار دیکھ کر کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔
    سلیم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ فلورا کبھی اثبات میں جواب نہیں دے گی۔ اس کے باوجود وہ محض تنگ کرنے کے لیے یہ فقرہ اسے بلاناغہ سنایا کرتا۔ پہلے پہل تو اس کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے گئے اطالوی فقرے کو فلورا سمجھ ہی نہ پائی اور اسے نظر انداز کردیا، مگر جب ہر روز ریستوران کا چکر لگانا اور خاص طور پر فلورا کے نزدیک آکر یہ جملہ کہنا اس کا معمول بن گیا تب اسے توجہ دینا پڑی اور جب اُسے سمجھ آیا کہ سلیم اُسے رات گزارنے کی پیشکش کررہا ہے تو وہ غصے میں آگ بگولا ہوگئی۔ مجبوری یہ تھی کہ ویٹرس کی حیثیت سے اسے ریستوران میں آئے گاہکوں سے بدلحاظی کی اجازت نہ تھی۔ تنگ آکر اس نے ریستوران کے مالک سے شکایت کردی جس نے اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعقوب، جو کچن میں صفائی ستھرائی پر مامور تھا، کو بلوا کر سلیم کو دھمکی دی گئی کہ اگلی بار معمولی سی شکایت پر اسے فی الفور ہراساں کرنے کے الزام میں پولیزیا کے حوالے کردیا جائے گا۔ یعقوب نے نہایت واضح الفاظ میں اسے وہاں آنے سے ہی منع کردیا جس کے بعد سلیم نے دوبارہ اس ریستوران کا رُخ نہیں کیا، وہ کہیں اور جانے لگا۔
    ٭…٭…٭