Tag: alif kahani

  • ورثہ — ارم سرفراز

    مریم نے آفس کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ صبح کی تیز بارش، اب ہلکی سی پھوار کی شکل دھار چکی تھی۔ امریکا کے شہر سیاٹل میں سارا سال بارش کا نہ ہونا عجیب بات ہوتی تھی ، اس کا ہونا نہیں ۔ مریم کا گھر آفس سے تھوڑی ہی دور تھا اور وہ اکثر پیدل ہی آ جاتی تھی ۔ اس نے پرس اٹھایا، چھتری کھولی اور باہر نکل آئی ۔ بہار کی آمد تھی اور درختوں کی ویران شاخیں، نئے پتوں سے بھرنے لگی تھیں ۔ مستقل بارش نے پتوں اور پھولوں کی رنگینی کو مزید تازہ کر دیا تھا اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
    مریم کے گھر کا راستہ چھوٹے سے شاپنگ ایریا سے گزرتا تھا جس میں موجود دکان دار اب اسے پہچانتے تھے اور اکثر سامنا ہونے پر خوش دلی سے ’’ہیلو‘‘ بھی کرتے تھے۔ اپنے اونچے قد، چمکیلے گہرے بھورے بال اور کالی آنکھوں کے ساتھ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی خاصی دلکش تھی ۔ امریکا میں ہی پلنے بڑھنے کی بہ دولت اس کے طور طریقے بھی وہاں کے گورے باشندوں کی طرح ہی تھے ۔ان لوگوں کو بھی اس میں الگ صرف اس کا نام اور اس کی مشرقی نین نقش نظر آتے تھے یا پھر اس کا مسلمان ہونا جس کا ذکر ایک انتہائی نازک موضوع ہونے کی بنا پر وہ اپنی گفت گو میں شاذ و نادر ہی لاتے تھے۔ مذہب کے معاملے میں مریم نے امریکیوں کو دو طرح کا پایا تھا ۔ یا تو انتہائی منہ پھٹ اور بد لحاظ یا پھر انتہائی تمیزدار اور ، شعوری یا لاشعوری طور پر دامن بچاتے ہوئے ۔ اس کا پالا دونوں سے ہی پڑتا تھا اور دونوں میں دوسری قسم ہی ہر لحاظ سے غنیمت تھی ۔
    مریم کا شوہر علی بھی وہیں کا پیدائشی مسلمان تھا۔ ان کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ ایک ہی کلچر میں پلنے بڑھنے کی بدولت ان میں کافی ذہنی مطابقت تھی۔ بحث اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اتنی ہی تھیں جتنی کسی بھی شادی شدہ گھر میں ہوتی تھیں ۔ لیکن ہر بحث اور لڑائی خوش اسلوبی سے نمٹ جاتی تھی ۔ شاید اس کی وجہ مریم کا اس بات پر یقین تھا کہ شادی کی کام یابی کا انحصار کم توقعات اور زیادہ ہم آہنگی کے اصول پر ہوتا ہے۔ وہ فطرتاً ہی صلح جو تھی اور یہ وہ خاصیت تھی جو وہاں پلی بڑھی پاکستانی عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان کے دو بچے رائنا اور عمر ان کی فیملی کو مکمل کرتے تھے۔
    ادھر ادھر کی سوچوں میں بھٹکتا ہوا اس کا ذہن اپنے اور علی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث پر جا کر اٹک گیا جس کا حل اس کی صلح جوئی بھی نہیں نکال پا رہی تھی ۔ مسئلہ علی کا اس کی اس adoption agency میں نوکری کا تھا جس میں وہ پچھلے چار سال سے کام کر رہی تھی ۔ اول تو وہ یہ پارٹ ٹائم نوکری اور وہ بھی ہفتے میں تین دن پیسے کے لیے نہیں بلکہ وقت کے ایک مثبت مصرف کی خاطر کر رہی تھی ۔ اس کے باوجود بھی علی کی ناپسندیدگی اسے کچھ بھا نہیں رہی تھی ۔ علی کو اس کے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، صرف اس جگہ پر تھا جہاں وہ نوکری کر رہی تھی ۔ مریم بار بار اس نوکری کی سہولتیں گنواتی کہ وہ گھر سے قریب ہے، پارٹ ٹائم ہے اور اسے ایک حقیقی خدمت ِخلق کا موقع دیتی ہے۔ گو کہ علی کی اس خاص نوکری سے ناگواری کے پس ِپہلو سے وہ آگاہ تھی لیکن اس کے نزدیک اس وجہ سے علی کی اس نوکری کے لیے حمایت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ناگواری میں ۔
    اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی سی پھوار بھی مکمل طور پر رک چکی تھی ۔ لال اینٹوں ، چوڑی فرنچ کھڑکیوں، اور وسیع فرنٹ لان والا اس کا گھر سٹریٹ پر دوسرے گھروں سے ملتا جلتا تھا ۔ اینٹوں کی سرخی پر چڑھتی ہری بیلوں اور جگہ جگہ موجود سفید اور پیلے پھولوں نے گھر کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔ ڈرائیو وے میں علی کی گاڑی کھڑی تھی۔ ایک انجینئرنگ فرم میں پارٹنر ہونے کی وجہ سے اسے اکثر جلدی گھر آ جانے اور گھر سے کام کرنے کی آسائش تھی ۔
    مریم کچن کی دروازے سے اندر آئی تو وہ کچن کے اندر کھڑا فون پر کسی دوست سے بات کر رہا تھا ۔
    ’’ہاں ہاں! صنم کو بھی ضرور ساتھ لانا ۔ویسے بھی بیویوں کے بغیر کہیں جاؤ تو انہیں شک کی شدید تکلیف ہو جاتی ہے۔” علی نے مریم کو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اپنے دوست کو یہ آخری ہدایت غالباً اسے ہی چھیڑنے کے لیے دی گئی تھی۔ علی کے جوابی قہقہہ سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف سے اس بات کا جواب بھی کچھ اُلٹا ہی آیا تھا۔
    ’’ہاں! مریم بھی ابھی ابھی آئی ہے ۔ ٹھیک ہے، پھر ایک گھنٹے میں ملتے ہیں۔‘‘علی نے فون بند کیا اور اس کی طرف مڑا ۔ لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی مریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔




    ’’ٹھہرو! مجھے بوجھنے دو یہ کون ہے۔‘‘ اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
    ’’رضوان تھا اور ایک گھنٹے میں صنم کے ساتھ آ رہا ہے؟‘‘علی زور سے ہنس پڑا ۔
    ’’یہ تو تم سب سن ہی چکی تھی۔تمہارا کیا کمال ہو؟اتم لوگ تو ویسے ہی ہم لوگوں کے ہر فون پر کان لگا کر بیٹھی ہوتی ہو۔‘‘ اس نے اسے چھیڑا ۔
    ’’جیسے تم لوگ نہیں بیٹھے ہوتے۔‘‘مریم نے بھی فٹ سے جملہ داغا۔
    ’’ہاں بھئی ! میں ہر وقت بھول جاتا ہوں کہ کچھ عورتیں خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہوتی ہیں۔ ان سے آپ کوئی بحث نہیں جیت سکتے ۔‘‘مریم اس کی چاپلوسی پر مسکرا دی ۔
    ’’کم خوب صورت تو آپ بھی نہیں لیکن چھوڑو یہ سب باتیں ۔ یہ بتاؤ کہ یہ لوگ اچانک کیوں آرہے ہیں؟‘‘ وہ اور علی باتیں کرتے کرتے اپنے کشادہ فیملی روم میں آ چکے تھے۔
    ’’رضوان نے جو نئی جاب کی آفر قبول کی ہے، اسی کے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہا ہے وہ۔‘‘ علی نے اپنی پسندیدہ آرام کرسی پر جگہ سنبھال لی تھی اور اب ٹی وی ریموٹ کے لیے نظریں دوڑا رہا تھا ۔
    ’’تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو؟‘‘
    ’’نہیں تھکی! ہوئی تو نہیں ہوں۔‘‘ وہ بھی اسی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔‘‘
    ’’تم نے آج امی جی کو کال کی تھی؟‘‘ اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔
    ’’میں نے تو کال نہیں کی۔میرے خیال سے امی جی اور ابو دونوں اس وقت اتنا مزا کر رہے ہوں گے اور وہ تو میرا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔‘‘ وہ اپنی ہی بات پر ہنسا ، مریم بھی مُسکرا دی۔
    ان دنوں ان کے دونوں بچے، بارہ سالہ عمر اور چودہ سالہ رائنا اپنی سپرنگ بریک کی ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے نانا نانی، شازیہ اور نذیر عبید کے پاس لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ یہ ان دونوں کی چھٹیوں کا معمول تھا اور دونوں پارٹیاں نہ صرف ان ملاقاتوں کی شدت سے منتظر رہتیں۔ بلکہ ان کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کے نت نئے طریقے بھی سوچ کر رکھتی تھیں۔ دو دن پہلے ہونے والی گفت گو میں بھی مریم کو اپنے اندازوں کے مطابق ہی معلومات ملی تھیں ۔ نانا اور نواسہ گھر کے پاس والی جھیل میں جی بھر کر مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے جب کہ رائنا اپنی نانی کے ساتھ مال میں شاپنگ اور نئی موویز دیکھنے میں مشغول تھی ۔
    ’’ان لوگوں کے لیے کوئی خاص چیز بنانی ہے کیا؟‘‘ مریم کا اشارہ رضوان اور صنم کی طرف تھا ۔
    ’’نہیں! وہ لوگ کھانے پر کہیں انوائٹڈ ہیں اس لیے کھانا نہیں کھائیں گے ۔‘‘
    ’’ٹھیک ہے! میں چائے اور سموسے بنا دوں گی۔‘‘ علی نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ اس نے اپنا من پسند سپورٹس چینل لگا لیا تھا ۔
    ’’تمہاری آفس کی پارٹی کیسی رہی؟‘‘ علی کو اچانک خیال آیا ۔ البتہ آنکھیں اس کی ابھی بھی ٹی وی پر ہی لگی ہوئی تھیں۔
    مریم کے آفس میں اس کی ایک کولیگ جاب چھوڑ جا رہی تھی اور اس کے لیے آفس والوں نے فیئرویل پارٹی کا انتظام کیا تھا۔
    ’’اچھی تھی پارٹی! الیسن کو اچھی فل ٹائم جاب مل گئی ہے ۔ خوش ہے وہ۔‘‘ لیکن مریم کا عام سا تبصرہ اس کے اپنے ہی گلے پڑ گیا۔ علی کو اچانک ان دونوں کی آپس کی وہ بحث یاد آ گئی جس کے حل کا کوئی سرا ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ مریم اس بار اپنے مؤقف پر خاموشی سے ہی سہی، لیکن ڈٹی ہوئی تھی۔
    ’’تمہیں بھی اتنی ہی اچھی فل ٹائم جاب مل سکتی ہے،۔‘‘ علی نے اسے پھر سے یاد دلایا۔
    ’’بلکہ جاب آفر بھی آئی پڑی ہے لیکن تم ہو کہ ضد کیے جا رہی ہو۔‘‘ علی کے لہجے میں ہلکی سی ناگواری جھلک رہی تھی۔
    ’’اپنی سائیکولوجی کی اتنی اچھی ڈگری کو ضائع کر رہی ہوتم۔‘‘
    علی کی دوست کی بیوی قریبی اسکول ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن میں اچھی پوزیشن پر تھی اور اسے وہیں پر اسکول سائیکولوجسٹ کے طور پر پچھلے ایک ماہ سے مستقل بلا رہی تھی ۔ مریم کو اکثر شک ہوتا تھا کہ جاب کی یہ آفر بھی کہیں علی کے دباؤ کی وجہ سے ہی نہ ہو ۔مریم کا اس وقت بحث کا موڈ تو نہیں تھا لیکن علی کو جواب دینا بھی ضروری تھا ۔
    ’’علی میری جاب سے متعلق تمہارے احساسات کا مجھے اندازہ ہے لیکن مجھے وہاں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے سبھا سے بات شروع کی۔
    ’’تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ میں یہ جاب پیسوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے تحت کرتی ہوں۔‘‘
    ’’اسکول سائیالوجسٹ کی جاب بھی ایک انسانی ہم دردی ہو گی۔‘‘ علی نے اس کی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی ۔
    ’’لیکن یہ پارٹ ٹائم ہے اور گھر سے نزدیک بھی۔‘‘
    ’’اسکول بھی یہاں سے صرف تین میل دور ہے۔‘‘ اس نے اس کے اس نقطے کو بھی چیلنج کیا۔ مریم نے اس بار بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
    ’’کیا ہم اس ٹاپک پر پھر کبھی بات کر سکتے ہیں؟ ابھی ہمارے پاس مہمان بھی آنے والے ہیں۔‘‘
    ’’میں اس ٹاپک پر بار بار بات کرنا ہی نہیں چاہتا مریم۔ میں تو اسے ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اب علی کی آواز میں ایک برہمی نمایاں تھی ۔ ٹی وی کا والیوم بھی اس نے بند کر دیا تھا۔
    ’’لیکن تم ہو کہ بات کو ختم ہونے ہی نہیں دے رہیں۔‘‘
    علی کے اچانک بجنے والے فون نے مریم کو جواب دینے سے بچا لیا تھا ۔ ویسے بھی مریم کے پاس اسے دینے کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ مریم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔
    ’’وعلیکم السلام امی جی، کیسی ہیں آپ؟‘‘ علی نے خوش دلی سے اپنی ساس کو سلام کیا تھا ۔ یہ علی کی قابلِ تعریف صفت تھی کہ وہ ایک آدمی کا غصہ کسی دوسرے پر نہیں نکالتا تھا۔ اس وقت بھی اس کے لہجے میں چند ہی لمحوں پہلے مریم سے ہونے والی گفت گو کے تناؤ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔
    ’’بچے آپ کو بہت زیادہ تنگ تو نہیں کر رہے ؟ اور عمر اپنی کتابوں کی ریڈنگ کر رہا ہے؟‘‘ وہ اب انہیں بچوں کے متعلق ہدایت دے رہا تھا۔
    ’’رائنا کو انٹرنیٹ پر زیادہ ٹائم مت بیٹھے رہنے دیا کریں۔‘‘
    ’’جی جی!ہم بھی خیریت سے ہیں۔ بچے آئیں تو ان کی بھی ہم سے بات کروا دیں۔‘‘ بچے غالباً گھر پر نہیں تھے۔ کچھ منٹ اور بات کرنے کے بعد علی نے فون اسے تھما دیا ۔ مریم فون لے کر کچن میں آ گئی ۔ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مہمانوں کے لیے سنیکس کی تیاری بھی کر رہی تھی ۔
    "مریم تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟” شازیہ عبید نے اچانک ہی پوچھا۔ ان کی آواز میں تشویش تھی۔
    ’’علی بھی کچھ ٹینس لگ رہا تھا۔‘‘ مریم نے گہرا سانس لیا۔ مائیں اولاد کے مزاج کی سفاکی کی حد تک رسائی رکھتی ہیں اور شازیہ سے تو باتیں چھپانا نا ممکن تھا ۔ علی کے لہجے کی خوش گواریت کے باوجود انہیں کچھ غلط لگ رہا تھا۔
    ’’نہیں امی جی! ہم دونوں ٹھیک ہیں۔‘‘ مریم نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی۔ ایک بحث سے جان بچا کر وہ اب دوسری میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    ’’جاب سے آیا ہے تو اسی لیے تھکا ہوا ہے ۔ شاید اسی لیے آپ کو لگ رہا ہوگا۔‘‘
    ’’تم دونوں کی پھر کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی؟ اب کس بات پر ہوئی ہے؟‘‘ شازیہ نے جیسے اس کی کوئی بات سنی ہی نہیں اور فوراً ہی وجہ کی جڑ تک پہنچنے کی مہم شروع کر دی ۔ مریم نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔ اس کی اپنی ماں کیچھٹی حس اور اندازوں پر فولادی اعتماد تھا ۔ ان سے مزید چوہے بلی کا کھیل کھیلنا فضول ہی ہوتا ۔
    ’’وہی جاب والی بات اور کیا۔‘ ‘مریم نے بتایا۔
    ’’کہہ رہا ہے ریزائن کر دو ۔ اپنی ہی ضد پر اڑا ہوا ہے۔‘‘ مریم کی آواز میں بے زارگی تھی ۔ شازیہ نے گہرا سانس لیا ۔
    ’’تم بھی تو اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہو۔‘‘ انہوں نے کسی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اسے گھرکا۔
    ’’اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
    ’’امی جی میں لمبی بات نہیں کر سکتی ۔ علی کا دوست آنے والا ہے۔‘‘ مریم نے انہیں فی الحال ٹالا۔
    ’’مریم تم یہ جاب چھوڑ دو ۔‘‘ شازیہ نے اسے سمجھایا۔
    ’’صرف ایک نوکری ہی تو ہے ۔ اس کے پیچھے اپنے گھر کا سکون کیوں برباد کرتی ہو؟‘‘ ہر عقل مند ماں کی طرح انہوں نے بھی اسے عقل دینے کی کوشش کی ۔
    ’’میں آپ سے پھر بات کروں گی امی جی۔‘‘ مریم نے بات ٹالنے کی غرض سے کہا۔
    ’’مریم اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ شازیہ نے اچانک کہا، مریم ایک لمحے کو منجمد ہو گئی۔ خدا حافظ کہتے کہتے شازیہ انتہائی خار دار رستے پر جا نکلی تھیں۔
    ’’تم اب اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔‘‘ مریم جواب دینے کے قابل نہیں رہی تھی ۔ اس کے جاب نہ چھوڑنے کا سرا انھوں نے پہلی بار اس سالوں پرانی بات سے جوڑا تھا جسے بھولنے کی لاکھ کوشش اسے مزید اس کی یاد دلائے جاتی تھی ۔ شاید انہیں ہمیشہ سے ہی علم تھا لیکن لاعلمی کا ڈھونگ رچا کر وہ صرف اس کا بھرم رکھ رہی تھیں ۔ لیکن جو بھی تھا ، اس بات کی تردید بہرحال بے معنی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے امی جی۔‘‘ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
    ’’لیکن ان لاوارث بچوں کو اچھے گھروں اور خاندانوں میں بھیجتے ہوئے میرے دل کو ایک عجیب سا اطمینان ہوتا ہے۔‘‘
    ’’وہ بھی ایک اچھے ، مضبوط گھر اور ذمہ دار لوگوں کے ہاتھوں میں گئی ہے۔‘‘ مریم گویا گونگی ہی ہو گئی ۔ شازیہ کو بات کی نبض پکڑنا خوب آتا تھا لیکن یہ ان کی آواز کا وثوق تھا جس نے اسے ششدر کر دیا تھا ۔
    ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘ مریم کی آواز محض ایک سرگوشی تھی ۔
    ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ مریم سمجھ نہیں پائی کہ وہ ان کا یقین تھا کہ محض ان کا وجدان جو ان کے لہجے کو اس قدر اعتماد بخش رہا تھا ۔ ان کی بات ابھی جاری تھی۔
    ’’اپنی اس نوکری کو ایک مرہم کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دو کیوں کہ تمہاری یہ بے کار سی تدبیر علی کے لیے تکلیف بن رہی ہے۔” مریم نے خاموشی سے فون بند کر دیا ۔اس کی زبان مزید اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔
    وہ کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ لان کی تازہ ہریالی پر شام کے سائے اتر رہے تھے لیکن اس وقت رات کا گہرا ہوتا اندھیرا اسے سکون دے رہا تھا ۔ اسے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ماں کی یہ دو ٹوک گفت گو اس کے گھٹنے ٹیکنے کا سبب بن جائے گی ۔
    ٭…٭…٭
    امریکا کے شہر نیو آرلینز سے وہ ایک بے حد ضروری فون کال کا منتظر تھا ۔ یہ کچھ دنوں کا نہیں بلکہ کئی مہینوں کا بے چین انتظار تھا جو اب اختتام پر تھا ۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل میں موجود بے نام اندیشوں اور اضطراب میں اضافہ کر رہا تھا ۔ اس کا ذہن مستقل اپنے فیصلے کے ممکنہ نفع اور نقصانات کو ہر زاویے سے جانچنے میں مصروف تھا لیکن اپنے دل کی گہرایوں میں اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ کسی بھی تجزیے اور سوچ و بچار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کا سوال تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک چیز کے علاوہ کسی دوسری چیز کے انتخاب کا اختیار بھی پاس ہو ۔ یہاں تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق کچھ بھی اور کرنے کا اختیار تھا ہی نہیں ۔
    متوقع فون کال اگلی صبح بلاخر آ ہی گئی ۔ اس کال کے فوراً بعد اس نے امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں مقیم اپنے دوست کو فون کیا ۔ دونوں نے نیو آرلینز کی فلائٹس بک کروا لیں ۔ ان دونوں نے اسی دن چار بجے کے قریب آگے پیچھے ہی نیو آرلینز انٹرنشنل ائیرپورٹ پر پہنچنا تھا ۔انہیں امید تھی کہ اس ٹائم تک بچہ اس ایڈاپشن ایجنسی تک پہنچ چکا ہوتا جہاں انھیں جانا تھا ۔ صبح صبح اپنے پاس آنے والے فون پر وہ یہ پوچھنا ہی بھول گیا تھا کہ بچہ لڑکی تھی یا لڑکا لیکن اس بات سے اسے کوئی فرق پڑتا بھی نہیں ا تھا۔
    دونوں دوست دوپہر ڈھلنے پر مقررہ وقت پر نیو آرلینز ائیرپورٹ، پھر ائیرپورٹ سے گاڑی رینٹ کر کے پانچ میل دور اس ایڈاپشن ایجنسی پہنچے جو اس ہسپتال سے منسلک تھی جہاں بچے کی پیدائش کچھ گھنٹے پہلے ہی ہوئی تھی ۔ ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہے اسے ٹیکسٹ آ گیا تھا کہ وہ ایک بچی ہے ۔ اس کا دل ایک لمحے کو لرزا اور ساتھ ہی اس کے حوصلے کو بے پناہ تقویت پہنچی کہ اس نے بلا شبہ ایک بہترین فیصلہ کیا تھا ۔ اس کا دوست ایسے کسی اندیشوں کا شکار نہیں تھا ۔ وہ صرف خوش تھا ، بے حد مسرور ۔
    ’’تم مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتے ہو۔‘‘ اس نے اسے پچھلی کئی بار دی جانے والے تسلی ایک بار پھر دہرائی ۔
    ’’میں اس بچی کی پرورش بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح کروں گا۔‘‘ اس کے دوست کو بچے کا لڑکا یا لڑکی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔ جواب میں اس نے کچھ نہیں کہا، صرف خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ۔
    ’’لیکن ایک بات مجھے بتاؤ۔‘‘ اس کے دوست کے ذہن میں اچانک خیال آیا۔
    ’’وہاں اور بھی نوزائیدہ بچے ہوں گے ۔ تم اسی بچی کو کیسے پہچان پاؤ گے؟ میرا مطلب ہے کم از کم مجھے تو تمام نوزائدہ بچے ایک ہی جیسے دکھتے ہیں۔‘‘
    وہ اپنے دوست کی سادہ لوحی پر محض مُسکرا کر رہ گیا ۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ کوئی اپنے خون کو بھلا کس طرح نہ پہنچانتا؟
    ایڈاپشن ایجنسی والوں کے پاس اس وقت پانچ نوزائیدہ بچے، نامعلوم اور بے نام طریقے سے گود لیے جانے کے لیے موجود تھے۔نرسری کے شفاف شیشے کی دیوار سے اندر دیکھتے ہوئے اس نے فقط ایک نظر میں ہی اسے پہچان لیا تھا۔ اس نے سنا تو تھا لیکن اب اسے یقین ہو گیا کہ خون واقعی خون کو کھینچتا ہے ۔ یہ تو محبت کی لازوال اور انمول ترین مثال ہوتی ہے ۔
    اس کی نشان دہی پر اندر موجود نرس نے بچی کو نرم سفید دلائی میں لپیٹا اور باہر لا کر اس کے ہاتھوں میں تھما دیا ۔ اس کے دل کو ایک جھٹکا سا لگا اور آنکھوں کے سامنے نمی کی دھند آ گئی ۔ سو بچوں میں بھی وہ اپنے خون کو پہچان لیتا، یہ تو صرف پانچ تھے ۔ اس نے ہلکے سے بچی کے پھولے ہوئے گلابی گال کو چھوا ۔ بچی نے اپنی خوب صورت ، گہری بھوری آنکھیں کھول دیں اور انتہائی خاموشی اور سنجیدگی سے اپنے اوپر جھکے دونوں لوگوں کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔ ایک چہرے پر دکھ کی گہری پرچھائی تھی اور ایک پر خوشی کی۔
    بچی کو گود میں لیے اس کو پھر اپنے فیصلے کے درست ہونے کا یقین ہوا ۔ اگر وہ اس وقت یہ قدم نہیں اٹھاتا تو وہ بلا شبہ اپنی باقی زندگی ایک ایسی سولی پر ٹنگے ہوئے کاٹتا، جہاں ملال کا خنجر اسے جیتے جی دن میں کئی دفعہ مارتا اور بے غیرتی کا شدید احساس اس کی سانسیں روکے رکھتا۔ اب وہ بے شک اس کے اپنے گھر میں نہیں جا رہی تھی لیکن کم از کم اسے اتنی تسلی تو تھی کہ وہ قابل اعتبار ، ذمہ دار اور مشفق ہاتھوں میں تھی ۔ اس کا دوست بچی کے لیے ضرورت کی سب چیزیں لے کر آیا تھا ۔ نئے کپڑوں اور موزوں سے لے کر کار سیٹ تک ۔ ساری کاغذی کارروائیاں مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگ گئے ۔ چوں کہ اس نے پورا process پہلے سے شروع کر رکھا تھا اسی لیے ساری معلومات خفیہ تھیں جس کے مطابق بچی کے اصل لواحقین اور گود لینے والے ایک دوسرے کے لیے نامعلوم رہتے۔
    وہ اسی طرح کا کام چاہتا تھا ۔ نامعلوم افراد کی بچی گود لینے کا مقصد ہی یہی تھا ۔ جب تک اس کا دوست ساری کاغذی مکمل کرتا رہا، بچی اس کی گود میں ہی سوئی رہی ۔ اسے لگا جیسے وہ اس کا لمس پہچان گئی تھی ۔ وہ اس کے خوب صورت اور معصوم چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔ وہ بے شک ایک سنگین غلطی کا نتیجہ تھی لیکن وہ بلا شبہ بے قصور بھی تھی ۔ وہ دونوں بچی کے ساتھ وہاں سے نکلے اور سیدھا ائیرپورٹ گیے جہاں سے اس کے دوست نے فورا ہی بچی کے ساتھ واپسی کی فلائٹ لے لی تھی ۔ وہ اس وقت تک وہیں کھڑا رہا جب تک اس کے دوست کا جہاز ٹیک آف نہیں کر گیا ۔ پھر اس نے بکنگ کاؤنٹر پر جا کر اپنی بھی واپسی کی بکنگ کروا لی ۔ اس کے دل اور دماغ میں اس وقت احساسات کی طغیانی سی تھی جن میں سب سے زور آور احساس، ایک عظیم جدوجہد میں سر خروئی کا تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • ہم — کوثر ناز

    ہم — کوثر ناز

    محبت کسی تتلی کے مانند اس کے دل سے اڑ گئی تھی یا شایدکسی غبارے سے ہوا کی طرح نکل گئی تھی۔ وہ شخص جو کبھی میرے لیے تپتی دوپہر میں سڑک پر کھڑا میرے کالج سے واپسی کا منتظر ہوا کرتا تھا، جو میرے وصل کی خواہش میں مرا جاتا تھا اس کے لیے میں اس قدر ارزاں ہوگئی ہوں کہ اس سے کسی شے کو طلب کرتے ہوئے یا اپنی ضرورت اسے بتاتے ہوئے بھی مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اسے اب میری جدائی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ مجھ سے دور رہ کر خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔
    مجھے اپنے بھائی کے گھر آئے آج پندرہ دن گزر چکے ہیں، لیکن اس نے پلٹ کر ایک بار خبر تک نہیں لی۔ نہ جانے کیوں اس کی محبت پانی کا بلبلا ثابت ہوئی۔ یہاں آتے ہوئے جہاں مجھے یہ امید بھی تھی کہ لاکھ بے زاریاں سہی، لیکن وہ مجھے روک لے گا۔ میری دھمکیوں کا اس پر اثر ہوگا، تو وہیں یہ خوف بھی من میں سر اٹھا رہا تھا کہ کہیں وہ نہ لوٹا تو؟ عمر کے اس حصے میں آکر جدائی میرا نصیب بن گئی تو؟ اور کہیں وہ اسی جدائی میں سکون پانے لگا تو؟ میں اپنی ذات کو لے کر کہاں جاؤں گی؟ بھائی کو کیا کہوں گی کہ محبت کی شادی کا انجام اس عمر میں آکر کیوں ظاہر ہوا جب میری ہستی آدھی بکھر گئی ہے۔ جب عمر کی منازل میرے چہرے کی جھریوں پر لکھی جاچکی ہیں لیکن میں پھر بھی آگئی ۔اس ڈر کو ساتھ لیے کہ کہیں مجھے خود ہی نہ لوٹنا پڑے کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو وہ میری ذات اور نسوانی انا کوپیروں تلے روند دے گا جیسے وہ شادی کے دو سال بعد سے میری محبت کو روندتا آیا ہے۔
    ہاں! اس کی محبت، رانجھا کی سی محبت، شادی کے دو سال بعدہی اس سمیت چاہ یوسف میں گر کر گم ہوگئی تھی۔ وہ سب بھول گیا اس کی محبت بھی، میری ذات بھی اور اتنا عاجز آگیا کہ اگر میں کوئی بات شادی سے پہلے کی یاد دلواتی تو وہ کروٹ بدل کر سو جاتا یا سونے دو کہہ کر کر بازو آنکھوں پر رکھ لیتا اور میں، شرمندگی میں تو کبھی پچھتاوا لیے اس کی پیٹھ کو تکے جاتی۔ اگر کوئی مرد محسوس کرنے والا ہو، تو اس کے ڈوب مرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کی ہم سفر، اسے اپنے لیے چننے پر پچھتاوا محسوس کرنے لگی ہے۔ لازمی نہیں محسوس صرف تب ہو جب اقرار زبانی ہو جو خاموشی وآنکھوں کی بیانی محسوس کرتے اور سنتے ہیں، انہیں ہی محبوب کہتے ہیں اور میں تو چپ اس لیے بھی تھی کہیں میرے زبان کھولنے پر وہ مجھے میکے کا راستہ نہ دکھا دیں کیوں کہ ان سے کوئی بعید نہیں جو مجھے کسی زمانے میںاپسرا کا خطاب دیا کرتے تھے۔ وہ اب مجھے بدہیئت کہنے پر اتر آئے تھے۔ شادی، وہ رشتہ جہاں جوڑے کے درمیان کئی بار نفرت تو کئی بار محبت ہوتی ہے، لیکن وہ اب مجھے مسلسل بے زاری دکھا رہا تھا۔ میرے ذوق و شوق وہی ہیں، میں شاعری کا ذوق اب بھی رکھتی ہوں کہ اس کے لیے میری محبت کہیں نہ کہیں اب بھی دفن ہے۔میں نے اپنی ذات اس کے لیے گنوا دی، مگروہ سب دفنا چکا ہے۔ اسے اب نہ تو شاعری سے شغف ہے، نہ اسے مجھ سے پہلے سی محبت ہے۔ اتنا ہی نہیں، وہ میری محبت بھری باتوں سے، جنہیں سنتے سنتے وہ کبھی نیند کے آغوش میں چلے جانا چاہتا تھا، اب اسے میری وہی باتیں سننا بالکل ایسا لگتا ہے جیسے کسی پرانے ریڈیو کو سن کر سماعت کو اذیت دینا۔ اس کے لیے میں ایک ایسا علاقہ تھی جسے فتح کرنے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد آگے بڑھنا ضروری ہوگیا تھا، مگر میں وہی تھی، دل و جان سے مشرقی لڑکی جو اس کے لیے اب بدہیئت ہوچکی تھی۔ میں جان نثار کرنے والی ہی رہی اور وہ راہ بدل گیا۔ وہ بھول گیا محبت اور یہ بھی کہ محبوبہ گر بیوی بھی بن جائے یا عمر کی کتنی بھی منازل طے کرلے وہ توجہ اور محبت اوّل روز والی ہی چاہتی ہے کہ اگر اس کی ذات اجڑی ہے، تو تمہیں اور تمہارے گھرانے کو آباد کرنے کو۔




    وہ کہتا ہے مجھے اس کی توجہ پانے کی ایک مہلک بیماری لگ چکی ہے۔ جس کے لیے میں کبھی غصہ کرتی ہوں تو کبھی شادی سے پہلے کی باتیں یاد دلواتی ہوں تو کبھی طنز کرتی ہوں، لیکن وہ دونوں ہاتھ اٹھائے ہر الزام سے بری الذمہ نظر انداز کرتا پایا جاتا کہ وہ میری بیماری پر دستِ شفا مزاجی خدا کی حیثیت سے بھی نہیں رکھ سکتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں میں اس کا ہاتھ تھام نہ لوں اور وہ اس گستاخی کے نتیجے میں کہیں سزا کا حق دار نہ ٹھہرا دیا جائے۔
    میں نے اس کی نسل بڑھانے کی سعی میں اسے تین ہونہار اولادیں دیں جو اپنے اپنے کیرئیر بنانے میں مصروفِ عمل ہیں، مگر وہ میری قدر بھول گیا۔ اسے اس بات سے چڑ تھی کہ میں اس کی محبوبہ کیوں تھی؟ وہ اس عمر میں مجھ سے رویہ بدلنے کی امید کررہا تھا۔ میں اپنا رویہ کیسے بدل لیتی؟ مجھے تو اوّل روز کے مانند اس سے ویسی ہی محبت تھی، شدید اور خواہش تھی کہ کہیں نہ کہیں وہ مجھے وہی خصوصی توجہ دے جو میرا حق ہے ۔ وہ ہمیشہ مجھے یہ باور کروادیا کرتا کہ ہر شے کا اپنا اپنا ایک وقت ہوتا ہے اور وقت گزر جائے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے اور ماضی میں رہنے والوں کا حال ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اسے شاید اس بات سے بھی چڑ تھی کہ میں نے عمر کی منازل کیوںطے کیں، لیکن میرے پاس ایسا کوئی کلیہ نہیں تھا کہ میں اپنی بڑھتی عمر کو روک لیتی۔ اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ میں نے کبھی اس کی بڑھتی عمر کی جانب اس کی توجہ نہیں دلوائی۔ اس بات کا کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ بھی اب نوجوان نہیں ہیں، چالیس کے ہندسے کو کب سے عبور کرچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھیں اند ر اور بال آدھے رہ گئے ہیں، لیکن انہیں یہ احساس نہیں ہواکہ مجھے بچوں کی تعلیم وتربیت اور گھر کو جوڑنے نے ایسا کردیا ہے ۔وہ بچے بھی ہم دونوں ہی کے ہیں، وہ گھر بھی ہمارا ہی ہے۔ وہ شوخ مزاج شاید نظروں کے پہلی بار کے تصادم کا سا لطف ، پہلی بارش میں بھیگنے کی سی سرشاری، ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر سرمئی کہر میں پہلی بار اترنے کا سا تجربہ اور شادی کے پہلے چند ماہ کے دوران وصل و سرور سے لبریز دن اور راتیں چاہتا تھا اور تبھی جواباً میں اس کی توجہ پا سکتی تھی، مگر وقت بدلتا ہے تو رشتوں کے درمیان محبتوں کے طریقے ضرور بدل جاتے ہیں، مگر محبتیں ہوا نہیں ہوجاتیں۔
    وہ کہتا تھا کہ ایک مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر جس کے سر پر ٹارگٹ سوار ہوں، وہ مجھ سے محبت میں نبھا اس عمر تک آتے آتے کیسے کرے، لیکن وہ سمجھتا ہی نہ تھا کہ کبھی کبھی محبتیں جان بوجھ کر بھی بانٹنی پڑتی ہیں کہ اگر جواباً گرم جوشی ملے تو انسان میں محبت کی کاشت پھر سے شروع ہوجاتی ہے۔ رشتوں کی ٹوٹتی سانسیں ایسے بھی بحال کی جاسکتی ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ سب پیچھے رہ گیا۔ سارا محبت کا نشہ ہرن ہوگیا اور ہاتھ میں ذلت و رسوائی کے سوا میں اور کچھ نہیں دیکھ رہی۔ اے خدا تعالیٰ! میری ذات کو بکھرنے سے بچا لے۔ میرا مان میرے اپنوں کے سامنے سلامت رکھناـ۔ بستر پر پڑی چھت کو ایک ٹک گھورتی وہ ماضی سے حال کا سفر طے کرآئی تھی اور اب آنکھوں سے بہتا گرم سیال صاف کرتی وہ خدا کے حضور دعا گوتھی۔ تب ہی بھائی نے آکر دروازے پر دستک دی، تو اس کی محویت ٹوٹی اور اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ بھائی نے جو خبر دی،اسے سن کر شدید مسرت و حیرانی سے دوچار ہوئی اور واپس مڑکر جلدی سے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ حلیہ درست کرتے ہوئے اس نے جلدی سے سامنے پڑی سرخی سے لبوںکو ذرا سا سرخ کیا اور دھڑکتے دل کی آواز سنی جو محبت کے گیت گارہا تھا مگر وہ ڈر گئی کہ اسے یہ سب پسند نہیں۔ لیکن دل تو آخر بچہ تھا، خوشی سے شاد تھا۔ وہ آخری نظر آئینے میں نظر آتے اپنے سراپے پر ڈالتے ہوئے ہتھیلی پر آیا پسینا صاف کرتے ہوئے اسی جانب چل دی جہاں سے بھائی آئے تھے۔
    ٭…٭…٭
    ٹھنڈی چلتی تیز ہوائیں اور پرفسوں شام، اس پر ریل گاڑی کے ماحول کی مخصوص مگر مدھم سی خاموشی جو کم مسافر ہونے کے باعث تھی۔ کچھ باہر برستی ہلکی بوندوںکا اثر تھا کہ ہر شخص قدرت کے عنایت کیے گئے اس حسین موسم سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ ایسے میںسحر عالم اپنے ہم سفردبیر عالم مارکیٹنگ اینڈ سیلز منیجر ، بلا کے کرخت اور خود سے بے زار انسان کو اپنا ہاتھ تھامے بیٹھے دیکھے تو حیرت توہوتی ہے۔ ایسے میں سحر عالم کو اس کی خاموشی بھلی نہیں لگ رہی تھی۔ آج ایک عرصے بعد اس کی آنکھوں میں وہ دیپ روشن تھے جو شادی کے اوئل دنوں میں ہوا کرتے تھے۔ وہ جب اس کے سامنے گئی تو اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ:
    سحر چلو، جلدی سے جاکر اپنا سامان پیک کرو، اگلی ریل سے گھر کے لیے نکلنا ہے ۔‘‘ سحر عالم بے خودی میں ہونقوں کی طرح اسے دیکھے گئی تھی۔ اس کے دوبارہ کہنے پر سحر عالم شاک سے باہر نکلی اور جاکراپنا سامان اٹھا لائی اور اب ریل میں اس کے سامنے نشست پر بیٹھی اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر سحر کو کل کی وہ نظم یاد آئی گئی تھی جو اس کی بھتیجی نے اسے سنائی تھی اور اس نے لفظ بہ لفظ باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے اسے کہہ سنائی۔
    کچھ کہنا چاہتی ہے
    مگر کہہ نہیں سکتی
    کھل کر نہیں برستی
    تمہاری طرح
    بارش کسی الجھن میں ہے
    دبیر عالم نے اسے بہ غور دیکھا اور عقیدت سے بھرپور نگاہ سحر عالم کے چہرے پر ڈالی کہ، سحر عالم وہ عورت تھی جس کے ساتھ میں نے خواب دیکھے تھے جس کے وصل کی چاہ لیے میں کئی مہینوں تک ہر رات اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا تھا۔
    میں اس سے بے زار کیسے ہوگیا؟ یہ تو آج بھی مجھے اسی شدت سے چاہتی ہے۔
    ’’تم نے سچ میں میری آنکھیں کھول دیں میرے اجنبی محسن! تم نے مجھے سوچنے کا نیا زاویہ دیا ہے، بہت شکریہ ‘ آسودگی سے مسکراتے ہوئے دبیر عالم نے اس اجنبی کو سوچا جو لاہور جاتے ہوئے اس کا ہم سفر تھا اور اپنی بیوی کم محبوبہ کے لیے شاعری کررہا تھا۔ اس کی یاد سے اس اجنبی کی آنکھوں میں نمی تھی اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کی عمر بھی مجھ سے قطعی کم نہ تھی، مگر محبت تاحال قائم تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ محبت کی اصل جگہ دل ہے، اس کے سوا اس کا کوئی اور ٹھکانہ ہوہی نہیں سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ محبت صنوبر کے کسی بلند پیڑ کے مخروطی پتے پر لرزاں ، برستی ہوئی بارش کا کوئی قطرہ نہیں ہے کہ ایک ہوا کے جھونکے سے بے نام اتھاہ گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجائے، نہ ہی کیلنڈر کا صفحہ ہے جو مہینہ ختم ہوتے ہی پلٹ دیا جائے۔ یہ تو خدا کا پرتو ہے۔ محبت آگے ، اطراف ، نیچے، اوپر اور پیچھے ایک ہی ہیئت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسے ہمیشہ اور ہرجگہ رہنا ہے۔ اس نے اپنی کہانی بتائی۔ اس کے لفظوں میں اتنی تاثیر تھی کہ میں خود کو تمہارے معاملے میں بے اختیار سا پانے لگا۔ اس اجنبی کے دل میں اپنی بیوی کے لیے اتنی تعظیم تھی کہ وہ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا گیا۔ میں محبت کو پراڈکٹ اور وہ منافع سمجھتا تھا جو ہمیشہ حاصل کرنا چاہتا تھا اور بدقسمتی سے میں کھوتا جارہا تھا ۔
    محبت پالینے سے پہلے
    کبھی نہاں ، کبھی فغاں ہے
    پالینے کے بعد
    مسلسل امتحان ہے
    ’’پڑھنے کے بعد میں سمجھ گیا بلکہ اس کی محبت کے انداز و اطوار، اس کے پرخلوص لفظوں نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ محبت میں جو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتا، وہ زندگی میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مجھے اندازہ ہوگیا سحر عالم کہ میں ہی غلط تھا۔ پرانی باتیں یاد کرنے سے تو رشتے جوان ہوتے ہیں، انہی کے ذکر سے تو ہم اپنی بے رنگ زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کی پھر سے کوشش کرسکتے ہیں کہ ہم کیا تھے۔ سحر عالم میرا تم سے وعدہ ہے۔ اب سے ہر دم تم میری محبت کی گھنی چھاؤں میں رہو گی۔ اسی لیے میں اسٹیشن پر اترا کہ تمہیں ابھی ساتھ لے چلوں کیوں کہ تمہارے ہونے سے میرا گھر مکمل ہوتا ہے۔‘‘ وہ سوچتے سوچتے جانے کب بولنے لگے تھے۔ سحر عالم دم بہ خود سکتے کی سی کیفیت میں انہیں سنے جارہی تھی اورا ب ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، تشکر لیے۔ وہ دل ہی دل میں اپنے اجنبی محسن کا شکریہ ادا کرنے لگی اور ساتھ ہی خدا کے حضور گویا ہوئی :
    ’’اے خدا! تیرے احسانات کا بدلہ اگر میں تاحیات سجدے میں رہ کر بھی گزار دوں تو ممکن نہیں۔ تونے مجھے رسوائی سے بچا کر میرے دامن میں خوشیاں بھر دیں۔ شکر ہے میرے مالک، کرم ہے تیرا۔‘ سحر عالم نے مسکرا کر دبیر عالم کو دیکھا جو اب ان کی پلکوں سے آنسو چن رہے تھے۔

    ٭…٭…٭




  • فیصلے — نازیہ خان

    فیصلے — نازیہ خان

    ہر انسان اس زندگی میں اپنے حصے کی خوشیاں اور غم لے کر آتا ہے۔ وہ چاہے کوئی کتنا ہی خوش نصیب کیوں نہ ہو، اُس کے حصے کا دکھ اور درد اُسے ہی سہنا پڑتا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا ظرف آزمانا ہوتا ہے۔ بے پناہ محبتوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ بتاتا ہے کہ اُس کی محبت سچی ہے اور اسی کے فیصلے اٹل ہیں۔
    دنیا والوں کا ظرف نہیں، مگر وہ بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کرنے والا ہے۔ میں نے اس دُنیا کی بے تحاشا محبتوں کے بعد آخر اپنے رب کی محبت پا ہی لی۔
    میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں کئی سالوں بعد ہزاروں منتوں اور دعاؤں کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ میرے بابا جان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ یہ ایک ایسا گھرانہ تھا جہاں عورتوں پر پردے کا بڑا سخت حکم تھا اور بات بات پر اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔
    یہ اُس دور کی بات ہے جب میرے دادا جان زندہ اور پورے گاؤں میں ایک وہی پڑھے لکھے شخص تھے۔ اس لیے سب لوگ اُن کی عزت کرتے اور اُن کی ہر بات مانی جاتی تھی۔ اُن کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرنے والے انسان تھے، مگر عورتوں کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ کوئی بھی عورت اپنی حدود سے تجاوز کرتی تو اُس کی شادی کسی لولے لنگڑے سے کروا دی جاتی، اب چاہے وہ عورت گھر کی ہو یا باہر کی۔
    عورتوں کے معاملے میں وہ کچھ زیادہ ہی سخت مزاج تھے۔ انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو پڑھایا، مگر پھوپھو کو اسکول تک نہیں بھیجا۔
    اُن کی یہ سختیاں شاید اللہ پاک کو پسند نہیں آئیں کہ اُن کی وفات کے بعد بھی اِس خاندان میں کوئی بیٹی ہی پیدا نہیں ہورہی تھی۔ دادی جان بہت چاہتی تھیں کہ اُن کے کسی ایک بیٹے کے گھر بیٹی پیدا ہو۔ میرے بابا جان اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ میرے بڑے تایا جان کے چار بیٹے اور چھوٹے دونوں تاؤں کے تین تین بیٹے تھے، مگر بیٹی کوئی نہ تھی۔ جب پھوپھو کی شادی ہوئی تو دادی جان نے بیٹی کے لیے بہت دعائیں کیں، مگر اُن کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ پھر میرے بابا جان کی شادی کے بعد سب لوگ بیٹی کے لیے منتیں مانگنے لگے۔ بہت سی منتوں اور دعاؤں سے دو بھائیوں کے بعد خاندان میں پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور وہ میں تھی۔
    سب بتاتے ہیں کہ میری پیدائش پر مٹھائیاں بانٹی گئیں اور گاؤں کے قرب وجوار کے سب درباروں میں منتیں اتاری گئیں۔




    میری وجہ سے گھر میں بابا جان اور اماں جان کو بھی زیادہ پیار اور عزت ملنے لگی۔ میں اپنے گھر میں سب سے لاڈلی تھی۔ نہ صرف اپنے گھر والوں میں بلکہ پورے خاندان میں۔ پورے گاؤں میں جہاں جہاں تک لوگ ہمارے گھر والوں کو جانتے تھے، سب مجھے بہت محبت دیتے۔ جو محبت اور پیار میں نے اس دُنیا میں دیکھا، وہ شاید ہی کسی اور لڑکی نے دیکھا ہو۔مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میں کسی بہت قدامت پرست خاندان میں پیدا ہوئی ہوں جہاں عورتوں کے معاملے میں اتنی سختی ہے۔ میں گھر کی باقی عورتوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی عورتوں کو بھی بابا جان اور تایا جان سے ڈرتے دیکھتی تو بہت حیران ہوتی۔
    میری پھوپھو کے ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اُن کا خاوند انہیں چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا اور پھر نہ پھوپھو کو اُس کی اطلاع ملی اور نہ ہی اُس کے گھر والوں کو۔ اُس کے چلے جانے کے کچھ مہینوں بعد بابا اور تایا جان پھوپھو کو گھر لے آئے۔ اب وہ بھی ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں کیوں کہ پھوپھو نے اپنا وہ دور دیکھا تھا جب اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔ اس لیے مجھے اتنی آزادی ملنے پر وہ کافی جلتی تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ مجھے پیار نہیں کرتی تھیں۔ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر اکثر مجھے گھر کے اصول اور طور طریقے سمجھانے بیٹھ جاتیں مگر مجھے کبھی اُن کی کوئی بات سمجھ نہ آتی۔ میں اُن سے دور دور رہتی تھی۔ ہمارے گھرانے میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانے پر بھی پابندی تھی مگر مجھے شہر کے سب سے بڑے اسکول میں بھیجا گیا۔ میں ڈرائیور کے ساتھ جاتی اور ڈرائیور کے ساتھ ہی آتی، پھوپھو اس بات پر بھی حیران ہوتیں۔ میری ہر بات مانی جاتی۔ اگر کسی بات سے انکار ہو جاتا، تو میں دادی جان کی طرف دوڑی چلی جاتی اور وہ ہر بات منوانے میں میرا ساتھ دیتیں۔
    میری زندگی گھر کے لڑکوں سے بھی منفرد تھی۔ وہ لوگ بھی مجھ سے جلتے تھے کیوں کہ جو چیز وہ لوگ ضد کرکے منگواتے، وہ چیز اُن سے پہلے میرے لیے خریدی جاتی۔ چوں کہ ہم سب ایک ہی حویلی میں رہتے تھے تو لڑکوں کو بھی اِن سب باتوں کی عادت ہوگئی تھی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، میری آسائشیں اور بھی زیادہ ہوتی گئیں۔ میرا کمرا سب سے خوب صورت، بڑا اور شان دار چیزوں سے مزین تھا۔ بچپن میں میرے بھائی اور کزن چھپ چھپ کر میری گیمز کھیلا کرتے اور میں بڑے غرور اور شوخی سے ان میں اپنی گیمز بانٹا کرتی۔ مجھے بچپن ہی سے ایسا لگنے لگا تھاکہ شاید میں واقعی کچھ الگ ہوں۔ میرے گھر والوں کی بے انتہا محبت پر مجھے بہت مان تھا۔ میں بھی ان سے بہت محبت کرتی تھی، مگر میں آزاد ہواؤں میں اُڑنے لگی تھی۔ میں عمر میں تو بڑی ہورہی تھی مگر سمجھ داری میں نہیں۔ بہت معصوم لیکن مغرور سی لڑکی تھی میں۔
    اتنی زیادہ محبت اور لاڈ پیار ملنے کے باوجود میری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار بابا اور تایا جان کے ہاتھ میں ہی تھا، مگر میں نے اس بات کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مجھے آگے کیا پڑھنا ہے، کس کالج میں جانا ہے، حتیٰ کہ کیا پہننا ہے، یہ فیصلے بھی وہ لوگ خود کرتے۔ اُن کا ہر فیصلہ میری خوشی میں ہوتا تھا، اس لیے مجھے لگتا شاید یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو میں چاہتی ہوں۔
    اسکول کے بعد میں ایک بہت اچھے کالج جانا چاہتی تھی اور بابا جان نے میرے نمبرز کم ہونے کے باوجود بھی مجھے اُسی کالج میں بھیجا، مگر میری رائے پوچھے بغیر۔ وہ لاہور کا سب سے اچھا گرلز کالج تھا۔
    ہر ہفتے ہاسٹل گاڑی بھیجی جاتی کہ میں گھر والوں سے ملنے جاؤں کیوں کہ وہ میرے بغیر بہت اُداس ہو جاتے۔ میں جب بھی گھر جاتی تو عید کا سا سماں ہوتا۔ کالج بھیجنے کے لیے بابا اور تایا جان نے میری خاطر بہت بڑا دل کیا تھا۔ جب کالج جانے کے لیے پہلی بار بابا جان کے ساتھ میں شہر آنے والی تھی تو اماں جان نے مجھے آواز دے کر بلایا اور ہاتھ پکڑ کر چپکے سے کچن میں لے گئیں کیوں کہ وہاں کوئی نہیں تھا ۔ کچن میں آکر انہوں نے سرگوشی کے انداز میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا:
    ’’سنو ماہا! تم اتنے بڑے کالج جارہی ہو، وہاں دھیان سے رہنا، کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ تم نے اپنے بابا اور تایا جان کی محبت دیکھتی ہے بیٹا، مگر ان کی نفرت کبھی نہ دیکھنا۔کچھ ایسا مت کرنا جو تمہارے بابا جان کی عزت میں کمی کا باعث بنے۔‘‘
    اماں جان نے آہستہ سے ڈرتے ہوئے یہ سب بولا۔ میں کچھ دیر حیرانی سے انہیں دیکھتی رہی اور پھر ہنستے ہوئے باہر آگئی۔ دراصل مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ میں بابا جان کے ساتھ ہاسٹل آگئی۔ کالج کے دو سال بہت اچھے گزرے۔ گھر سے دور رہنے کے باوجود میں نے بہت انجوائے کیا۔ نئے نئے دوست بنانا اور اُن کے ساتھ باہر جانا، گھومنا پھرنا۔ غرض یہ کہ زندگی بہت خوب صورت تھی۔ جن لڑکیوں کے ساتھ میری دوستی تھی، وہ بھی اچھے گھروں کی تھیں، مگر وہ پھربھی مجھے دیکھ کر رشک کرتیں۔
    کالج بند ہونے کے چار مہینے بعد میں واپس گھر چلی گئی۔ ہاسٹل رہتے ہوئے مجھے اپنی شاپنگ خود کرنے کی عادت ہوگئی تھی۔ گھر واپس جاکر میں نے اماں جان سے شاپنگ پر جانے کے لیے کہا تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے قدرے غصے سے کہا:
    ’’تمہیں جو بھی منگوانا ہے لکھ دو، میں منگوا دوں گی۔‘‘
    یہ سن کر میں نے غصہ کیا تو دادی جان نے مجھے ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ پر بھیج دیا۔ جب میں گھر واپس آئی تو بابا جان غصے سے برآمدے میں ہی ٹہل رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ آگے آئے اور قدرے سخت لہجے میں کہا:
    ’’ہمارے گھر کی لڑکیاں ایسے بازاروں میں نہیں جاتیں۔‘‘ ان کی اس بات پر دادی جان نے میری طرف داری کی اور میں آرام سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    مجھے کبھی گھر کے اصولوں کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ بابا اور تایا جان اب بھی دادا جان کی طرح بھاگی ہوئی عورتوں کو سزا سنایا کرتے تھے اور ان کی شادیاں لولے لنگڑے مردوں سے کروا دی جاتی تھیں، اس سے بھی مجھے کوئی سروکار نہیں تھا کیوں کہ میں خود کو سب سے الگ سمجھتی تھی۔ میرے اندر ابھی بھی بچپنا اور معصومیت تھی۔
    کچھ مہینوں بعد میری کالج کی ایک دوست کی کال آئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے رہی ہے۔ میں نے بابا جان سے یونی ورسٹی کی بات کی تو انہوں نے پیار سے ٹال دیا اور پھر تایا جان سے کہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ چوں کہ یونی ورسٹی میں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے ہیں اس لیے وہ مجھے یونی ورسٹی نہیں بھیجیں گے۔ ان کا انکار سن کر مجھے حیرانی ضرور ہوئی لیکن میں پریشان نہ ہوئی۔ مجھے پتا تھا بابا جان میری بات ضرور مانیں گے۔ کچھ دن بعد میری اُسی دوست کی کال آئی اور اُس نے داخلے کی آخری تاریخ بتائی۔ اس پر میں غصے سے دادی کے پاس گئی اور بناوٹی ناراضی سے ان سے کہا:
    ’’کوئی میری بات کیوں نہیں سُن رہا؟ میرا ایڈمیشن کروائیں، مجھے آگے پڑھنا ہے۔‘‘ دادی جان نے بابا جان سے بات کی تو انہوں نے کہا:
    ’’اماں! وہ تو بچی ہے، آپ کیوں بچی بن رہی ہیں۔ اب کیا ہم اُسے لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دیں گے؟ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا۔‘‘




  • کارآمد — عریشہ سہیل

    کارآمد — عریشہ سہیل

    میں بچپن ہی سے چوہوں سے شدید خوف زدہ رہتی تھی۔ کبھی کبھار گھر میں کوئی چوہا گھس آتا، تو میں اسے دیکھتے ہی کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتی اور چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اُٹھا لیتی۔ میری چیخیں سن کر چوہا بھاگ جاتا اور گھر والے مجھے اگلے آدھے گھنٹے تک نیچے اترنے کے لیے قائل کرتے رہتے۔ دراصل یہ ڈر مجھے وراثت میں اپنی اماں سے ملا تھا۔ ویسے تو میرے ددھیال کی بھی تمام خواتین اس ’’بلا‘‘ سے ڈرتی تھیں، مگر چوہے سے خوف کھانے میں میری اماں کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ انہیں خوف زدہ دیکھ کر تو اچھے اچھے دل پکڑ لیتے کہ نہ جانے کیا ناگہانی آفت آگئی ہے۔
    ایک بار یوں ہوا کہ امی باورچی خانے میں برتن دھو رہی تھیں۔ پانی کے شور میں انہیں میری چیخیں سنائی نہ دیں اور پھر جیسے ہی انہیں آواز گئی، وہ معاملے کی نزاکت جانے بغیر بلا خوف و خطر چمٹا اٹھائے لائونج میں چلی آئیں۔ میں جو پہلے ہی صوفے پر کھڑی چیخ رہی تھی، امی کو دیکھ کر مزید چیخنے لگی۔ اس سے قبل کہ وہ مجھ پر برستیں، ان کی نظربھاگتے دوڑتے ڈرائونی شکل والے موٹے سے چوہے پر پڑی۔ بس اسے دیکھتے ہی امی ایک ہی چھلانگ میں صوفے پر آدھمکیں۔ان کے ہاتھ سے چمٹا چھوٹ کر ہوا میں لہراتا ہوا اس بدشکل چوہے کے عین سر پر گرا اور خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ ہمیں حادثاتی طور پر نشانہ ٹھیک لگنے سے بھی خوشی نہ ہوئی بلکہ ہم دونوں کتنی ہی دیر اس کی لاش کو دیکھ کر سہمی اور ایک دوسرے سے لپٹی رہیں۔ یہاں تک کہ اس روز ابو جی کو دروازہ چابی سے کھول کر اندر آنا پڑا کیوں کہ میں یا امی اس زمین پر کیسے قدم رکھ سکتی تھیں جس پر چوہے کا سایہ بھی پڑ جائے۔
    میں نے گھر والوں سے سنا تھا کہ چوہے گھروں میں گھس کر راشن کھا جاتے اور ہر چیز کتر دیتے ہیں۔ یہ سُن کر مجھے ان چور نما چوہوں سے خوف کے ساتھ ساتھ نفرت بھی محسوس ہونے لگی جو انتہائی دیدہ دلیری سے کسی کے بھی گھر گھس کر نقب زنی کرتے ہیں۔اس کے بعد مجھے چوہوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر ایک عجیب سی تسکین ہونے لگی۔ میں اپنے ہاتھوں سے آٹے کی گولیوں میں زہر ملا کر گھر کے ہر کونے میں ان کے لیے رکھ دیتی۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ چوہوں کے آباء واجداد کا تعلق یقینا امریکا یا برطانیہ سے ہو گا۔ اسی لیے کسی کے بھی گھر پر بڑی مہارت سے قبضہ جما لیتے ہیں۔ کسی گھر میں کس طرح نقب لگائی جاتی ہے اس کی تربیت یقینا امریکی فوج نے ہی انہیں دی ہو گی۔
    بڑے ہوتے ہوتے میرا خوف اس وقت حیرت میں بدلنے لگا جب میں نے لوگوں کو چوہے کے ذریعے کام کرتے دیکھا۔ بچے، نوجوان، بوڑھے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی چوہوں کی مدد سے کام کرتی نظر آتی تھیں۔انہیں دیکھ کر میرے چہرے کے زاویے از خود ہی بگڑنا شروع ہو جاتے۔ گھروں میں تو پھر بھی چوہوں کا استعمال زیادہ نہیں تھا، مگر دفاتر میں چوہوں کے بغیر کام کرنا اپنی توہین سمجھی جانے لگی۔ مگر پھر جلد ہی طالب علموں کے سبب گھروں میں بھی چوہے استعمال کیے جانے لگے۔ گویا ہوم ورک کرنے کے لیے چوہے لازمی جز بن گئے۔ ہائے ری قسمت! دنیا اتنی ترقی کرنے لگی کہ چوہے دھیرے دھیرے سب کی ضرورت بن گئے۔ اب میرے لیے اس ضرورت سے آنکھیں چرانا ناگزیر ہوتا جا رہا تھا۔
    اپنی تمام تر توانائی جمع کر کے ایک روز میں نے بھی چوہا استعمال کرنے کی ٹھانی۔ خوف کے مارے میرا بدن کانپ رہا اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔ قریب کھڑے میرے بھائی مجھے چوہے کا استعمال سمجھا رہے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے لرزتا ہاتھ کالے مینڈک جیسے چوہے کی پشت پر رکھا اور اس کی ایک آنکھ کو دھیرے سے دبایا۔ احتجاجاً چوہے نے صدا بلند کی اور میں نے گِھن کھاتے ہوئے آنکھیں میچ لیں، مگر پھربھائی کے حوصلہ دینے پر میں نے آنکھیں کھولیں اور چوہے کا باقاعدہ استعمال سیکھا۔دھیرے دھیرے میرے اندر سے خوف جاتا رہا اور مجھے چوہے کو دیکھنے اور چھونے کی عادت ہو گئی بلکہ اُسے ہاتھ میں پکڑنا اچھا لگتا۔ کچھ ہی عرصے میں، میں چوہوں کی صلاحیتوں کی دل سے قائل ہو گئی۔
    رفتہ رفتہ انسان ان کارآمد چوہوں کے عادی ہوتے چلے گئے اور ان کے بغیر زندگی گزارنا مشکل لگنے لگا۔ بھلا ہو ان سائنس دانوں کا جو سوتے جاگتے نت نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں۔چند ہی سالوں میں ان کار آمد چوہوں کو قید کرنے کی منظم سازش کی گئی اور سائنس دان اپنی اس سازش میں کام یاب بھی ہو گئے۔ انسان اندھا دھند چوہوں کے رقیب خریدنے لگے، مگر میرا دل چوہے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ کچھ ہی عرصے میں یہ چوہے قصۂ پارینہ بن گئے۔ لوگ یہ بھی بھول گئے کہ کس طرح ان چوہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور رات دن کا فرق بھلا کر ہمارے کام آسان کیے تھے۔ اب ان چوہوں کی آخری آرام گاہ اسٹور روم میں قید یا کچرے کا ڈھیر تھی۔
    بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے میں بھی نئی ایجادات سے محظوظ ہونے لگی۔ میرا لاڈلا چوہا ڈبے میں قید گھر کے ایک کونے میں پڑا میری راہ تکتارہتا، مگر مجھے کبھی اس معصوم کا خیال تک نہ آیا۔ کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ نئی ایجادات اتنی سہولت فراہم نہیں کرتیں جتنا کہ چوہے کیا کرتے تھے۔ یہ احساس ہوتے ہی میں نے بھائی سے اپنے لاڈلے کی واپسی کا مطالبہ کیا، جو کافی عرصے سے اسٹور روم میں قیدتھا، تو جب بھائی نے مجھے یہ اطلاع دی کہ میرا لاڈلا چوہا اسٹور روم میں پڑے پڑے اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا ہے۔ اِک پل میں میرا دل ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا۔ ایک اور چوہے کی کارستانی کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔دوسرے چوہے نے اس کی دم کتر دی تھی اور پیٹ کی انتڑیاں بھی نظر آرہی تھیں۔ اس نے وہیں تڑپ تڑپ کر جان دے دی اور مجھے خبرتک نہ ہوئی۔ بس یہی احساس ِ ندامت مجھے جینے نہیں دے رہا تھا۔ہر وقت مجھے اپنے لاڈلے کی یاد ستاتی رہتی۔ ہر چیز سے دل اُچاٹ ہو گیا ۔بھائی نے لاکھ سمجھایا، مگر مجھ پر اثر نہ ہوا۔ اتنے سالوں کی رفاقت بھلانا میرے لیے آسان نہیں تھا۔پھر ایک دن بھائی میرے لیے ایک نیا چوہا لے آئے۔اسے دیکھ کر میرا غم غلط ہو گیا۔ وہ رنگ روپ میں میرے لاڈلے سے مشابہ تھا۔ میں نے پیار سے اسے سینے سے لگا لیا اور عہد کیا کہ اب کبھی اسے نظر انداز نہیں کروں گی۔
    میں نے اپنی پچیس سالہ زندگی میں یہی جانا ہے کہ جو آرام ’’مائوس‘‘ کے ساتھ کام کرنے میں ہے، وہ لیپ ٹاپ یا اینڈرائیڈ فون سے کام کرنے میں نہیں ہے۔ لہٰذا میں اب اپنے چوہے کو لیپ ٹاپ کے ساتھ کنیکٹ کر کے سہولت سے کام کرتی ہوں اور آج بھی اس بات کی دل سے قائل ہوں کہ چوہے واقعی کارآمد ہوتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

    نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

    روڈ پر اِکا دُکا گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ سورج نے مکینوں کو گھروں سے نکلنے سے باز رکھا ہوا تھا۔
    ’’اُف! اللہ کی پناہ یہ گرمی۔‘‘ اس نے رومال سے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا۔ ستمبر شروع ہونے والاتھا‘ مگر گرمی کے مزاج نہیں بدلے تھے۔
    دوپہر تقریباً ڈھل چکی اور سائے بڑھنے لگے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی‘ لیکن اس کے باجود فضا میں حبس اس قدر زیادہ تھا کہ وہ اسٹیشن پر کھڑے کھڑے پسینے میں نہا گئی۔ ’’یا اللہ کوئی رکشا جلدی سے بھیج دے۔‘‘ اس نے قریب سے گزرتے سواریوں سے بھرے رکشوں کو بے زاری سے دیکھتے ہوئے دل سے دعا کی تھی۔ تب ہی ہارن کی تیز آواز نے اس کا دل دھڑکا دیا۔ گاڑی والا ہارن پر ہاتھ رکھ کے اٹھانا بھول گیا تھا۔
    اس نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل کھل اٹھی۔ چادر سنبھالتی وہ تیزی سے گاڑی کی طرف آئی ۔ فرنٹ سیٹ پر موجود خوب رو نوجوان نے اس کے لیے اگلا دروازہ کھولا تھا۔
    ’’شکر ہے آپ آگئے ورنہ آج میرا حشر ہو جاتا۔‘‘ وہ بیٹھتے ہی شروع ہوگئی۔ نوجوان نے خاموشی سے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔
    ’’اگر مزید اس گرمی میں کھڑی ہوتی تو مر ہی جاتی۔‘‘ اس سے پہلے کہ اس کی بات مکمل ہوتی، وہ نوجوان درمیان میں ہی بول پڑا۔
    ’’تمہارا کب ختم ہو رہا ہے آخری سمیسٹر؟ ‘‘سادہ سے لہجے میں سمپل سا سوال۔ وہ اس کی شانِ بے نیازی پر اندر ہی اندر تلملا گئی۔ اسے دیکھ کر ابھرنے والا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ وہ خود بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ آج اسے گھر جانا تھا، تب ہی اس وقت کیمپس کے باہر کھڑی بس کا انتظار کررہی تھی۔ بس تو کیا، کوئی خالی رکشا بھی نہیں آیا تھا۔
    اسے لگا شاید وہ اس کے روڈ پر کھڑے ہونے سے خفا تھا۔ تب ہی جواب میں وضاحت بھی دے گئی، مگر شاید کبھی کبھی وضاحتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں وہ بس پر تھے ۔ سبین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اسے لگا۔ وہ اسے گاؤں تک چھوڑ کے آئے گا، مگر وہ ٹکٹ لے کر واپس آگیا۔
    ’’چلو! تمہیں سیٹ دکھا دوں اور ہاں، یاد سے کسی کو فون کر دینا کہ تمہیں لینے اسٹاپ پر ضرور آجائے۔‘‘ وہ اس کا بیگ اٹھاتے ہوئے بولا۔
    سبین جو اس کی گاڑی کو دیکھ کر پرجوش سی ہوئی تھی ۔ اب مرجھا سی گئی تھی۔
    ٭…٭…٭




    آسمان پر پھیلتی سرمئی نیلاہٹ کے ساتھ ہی باورچی خانے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔ جھنجھلاہٹ سے کروٹیں بدلتے اسے ایک گھنٹا گزر گیا، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
    برتنوں کے شور کے ساتھ ساتھ صحن میں بیٹھی دادی کی آواز بھی اس کے کانوں سے ہو کر سر پر ڈنڈے برسا رہی تھی۔ تنگ آکر اس نے منہ سے چادر ہٹائی اور جھٹکے سے پلنگ سے اٹھ گئی۔ پچھلی دو راتوں سے وہ جاگ رہی تھی ۔ آج فجر کے بعد نیند نے بھولے سے دستک دی، تو گھر کے فوجی ماحول نے اسے سونے نہ دیا ۔ دادی محترمہ کا حکم تھا کہ زمین پر صبح کی پہلی کرن پڑتے ہی چولہا جل جائے۔ دیر کرنے سے گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے اور بھلا ہو اماں کا جو اپنی فولادی قوت جہیز میں لائی تھیں۔
    اگر اماں ہلکے سے بھی تپائی پر برتن رکھ دیتیں تو یوں معلوم ہوتا گاؤں کی بڑی عمارت گر گئی ہو۔صبح جلدی جلدی میں اماں برتن پٹختیں تو گاؤں کے سب لوگ بے دار ہو جاتے ۔یہ گونج دار آواز گاوؑں والوں کے لیے الارم کا کام دیتی۔الارم بھی وہ جس کے بجنے کے بعد کسی کا سونے کو دل ہی نہ چاہے۔
    ’’السلام علیکم!‘‘ سر تھامے وہ کمرے سے نکل آئی۔ سامنے چارپائی پر دادی تشریف فرماں تھیں اور اماں کو ایسے مشوروں نواز رہی تھیں جیسے اماں نو بیاہتا ہوں اور کل رات ہی دہلیز پر قدم رکھا ہو۔
    ’’وعلیکم السلام! اُٹھ گئی پتر؟‘‘ دادی نے مشورے روک کر اپنی شہری پوتی کو پیار سے دیکھا۔
    ’’جی! ہلکی سی آواز میں کہہ کر وہ چارپائی پر ان کے برابر بیٹھ گئی۔ دادی کو وہ کیا بتاتی کہ پچھلی دو راتوں سے جاگ رہی ہے۔
    ’’گڑیا ناشتا بناؤں تمہارے لیے؟‘‘ اماں نے کچن ہی سے آواز لگائی۔
    ’’بس چائے دے دیں اماں۔‘‘ اس پر بے زاریت چھائی ہوئی تھی۔
    پتر! صبح صبح یہ کلموا پانی نہ پیا کر، تازہ دودھ پیا کر۔ کالا پانی پی پی کر دیکھ رنگ کیسا کملا گیا ہے۔‘‘ دادی نے اپنے مخصوص انداز میں محبت سے سمجھایا۔
    ’’دادی مجھ سے صبح صبح دودھ نہیں پیا جاتا ۔‘‘سبین نے منہ بنا کر کہا۔
    اس سے پہلے کہ دادی اپنی نصیحتوں کی پٹاری کھولتیں، اماں ناشتا لیے صحن میں آگئیں۔ دادی بسم اللہ پڑھ کر رغبت سے دودھ ، اصلی گھی کا پراٹھا اور بھنی مرغی نوش فرمانے لگیں۔ چائے کا کپ تھامے وہ ان کوحیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    چائے سے سر درد میں کچھ کمی آئی تو اس نے اُٹھ کے کپڑے تبدیل کیے، بال بنائے اور اماں کو بتا کر اپنی بچپن کی سہیلی نیلم کے گھر چلی گئی۔ گاؤں آئے اسے دو روز ہو گئے تھے، مگر اپنی سستی کی وجہ سے وہ گھر سے نہیں نکلی تھی۔ سب سہیلیاں خود ہی آکے مل گئی تھیں۔
    ’’السلام علیکم چچی! دروازے پر دستک دے کر وہ اندر آئی تو بینا چچی صحن میں ہی بیٹھی نظر آگئیں۔‘‘
    ’’وعلیکم السلام!‘‘ چاولوں سے بھرا تھال نیچے رکھ کے چچی خوش دلی سے ملیں۔
    ’’واہ بھئی! آج تو سبین نے یہاں کا رخ کیا ہے۔‘‘ چچی نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
    ’’نیلم کمرے میں ہے، جا بیٹا اندر چلی جا۔‘‘چچی نے اسے پیار دیتے ہوئے کہا تو وہ کمرے میں چلی گئی۔
    نیلم صاحبہ بڑے مزے سے خراٹے لے رہی تھیں۔ اس نے کمرے میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو اسٹڈی ٹیبل پر اپنی مطلوبہ چیز پا کر اس کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
    وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور پانی سے بھرا جگ نیلم پر تیزی سے انڈیل دیا۔ ایک چیخ کے ساتھ گھبرا کے اٹھی، سامنے سبین پیٹ پر ہاتھ رکھے کھڑی ہنس رہی تھی۔ نیلم نے اسے خون خوار نظروں سے دیکھا، دونوں کا قہقہہ ایک ساتھ کمرے میں گونجا تھا۔
    ’’صبح بہ خیر!‘‘ سبین نے ہنستے ہوئے کہا۔
    ’’بدلہ اُدھار رہا۔‘‘ نیلم نے ناک سکیڑ کر کہا۔
    ’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘ بینا چچی کی آواز پر دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا‘ جہاں بیناچچی حیران و پریشان کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ کچھ لمحے بعد اُن کے چہرے پر بھی مسکراہٹ اُمڈ آئی۔
    ’’تم دونوں نہیں سدھرنے والی۔‘‘ بینا چچی نے ہنس کے کہا۔
    ’’امی سبین کے لیے سینڈوچ اور بروسٹ بنا لیں ۔‘‘نیلم نے ماں کو مخاطب کیا۔
    ’’سبین کے لیے یا تمہارے لیے ؟‘‘ بینا چچی نے اسے گھورا۔
    ’’دونوں کے لیے ۔‘‘ نیلم نے مسکرا کر کہا۔
    ’’چچی بس سینڈوچ بنا دیں‘ میں نے آپ کے ہاتھ کے سینڈوچز تو ہاسٹل میں بہت مس کیے۔‘‘
    بینا چچی خود بھی پڑھی لکھی تھیں اور انہوں نے جدید کھانے بنانا‘ کراچی میں مقیم اپنی نند سے سیکھے تھے جو ہر سال چھٹیوں میں گاؤں کا ضرور چکر لگاتی تھیں۔
    باتوں باتوں میں وقت کیسے گزرا‘ پتا ہی نہیں چلا۔ تپتی دوپہر شام میں تبدیل ہو رہی تھی۔ سبین ایک خوش گوار دن گزار کر نیلم سے اس کے گھر آنے کا وعدہ لے کر لوٹ آئی۔
    دادی صحن میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں اور اماں کچھ دیر سستانے کے لیے کمرے میں پلنگ پر لیٹی تھیں۔ وہ بھی خاموشی سے اماں کے ساتھ لیٹ گئی ۔کچھ دیر بعد اسے نرم گداز ہاتھوں کا لمس اپنے سر پر محسوس ہوا۔ سبین نے موندی موندی آنکھوں سے دیکھا اماں مسکراتے ہوئے اس کا سر سہلا رہی تھیں۔
    ’’کیا بات ہے؟ آج چودھرانی جی کو ہم پر بڑا پیار آرہا ہے؟‘‘ سبین نے شریر لہجے میں کہا۔
    ’’جب کڑیاں بڑی ہو جائیں تو ان کی جدائی کی سوچ ہر وقت ماں باپ کو بے چین رکھتی ہے۔‘‘ سبین نے چونک کر دیکھا‘ اماں کی آنکھیں نم تھیں۔
    ’’میں نے آپ سے دور نہیں جانا، وہ لاڈ سے ماں کے گلے لگ گئی۔
    ’’چل پگلی! ایک دن ہر کڑی نے رخصت ہونا ہوتا ہے۔‘‘ اماں نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگائی۔
    ’’سبین! تیرے بابا بتا رہے تھے کہ بھائی فخر، بھابی اور سب بچے اسی ماہ گاؤں آرہے ہیں۔ اکتیس کو وہ لوگ تیرے اور زین کے ویاہ کا کہہ رہے ہیں۔ وقت ہی کتنا ہے؟ آج پانچ تاریخ ہے اور تیاری کے لیے ہفتہ دو ہفتہ ہے، بس پھر تو تو مایوں بیٹھ جائے گی۔‘‘ اماں نے فکر مندی سے کہا۔
    ’’اماں اتنی جلدی ؟‘‘ سبین کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ دو دن تو ہوئے تھے اسے ہوسٹل سے گاؤں آئے۔
    ’’بیٹا! بھائی فخر تیری پڑھائی ختم ہونے کا کب سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر سردیوں کی چھٹیوں میں سب رشتے دار بھی جمع ہوتے ہیں۔اچھا ہے، سب شریک ہو جائیں گے۔ نیک کام میں مزید دیر کرنا مناسب نہیں۔ اماں اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
    ’’کل خریداری کرنے نیلم کے ساتھ شہر چلی جانا۔ تمہارے بابا لے جائیں گے تم دونوں کو۔‘‘ اماں مزید پروگرام ترتیب دینے لگیں اور وہ غائب دماغی سے سر جھکائے سنتی رہی۔
    ٭…٭…٭
    رات دھیرے دھیرے اپنے پنکھ پھیلا رہی تھی۔ شام ڈھلتے ہی ٹھنڈ میں بھی اضافہ ہوگیا۔ چاروں طرف پھیلے امرود کے درخت اندھیرے میں چھپ گئے تھے۔
    چاند کی ہلکی سی روشنی کھیتوں کو روشن کیے ہوئے تھی۔ سوچوں کا جہاں آباد کیے چھت کی منڈیر پر وہ مضطرب کھڑی تھی۔ ذہنی طور پر وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہی تھی۔ یہ سب تو بہت پہلے سے طے تھا کہ ایک نہ ایک دن اسے زین کی سنگت میں نئی دنیا آباد کرنی ہی تھی ‘ مگر اتنی جلدی اس نے یہ نہیں سوچا تھا۔
    ہائے اللہ!نیلم کو اپنے عقب میں دیکھ کر سبین کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلگئی۔
    ’’کن خیالوں میں گم ہو؟‘‘وہ بھی اس کے ساتھ چھت کی منڈیر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
    ’’زین کے گھر والے عید پر شادی کا کہہ رہے ہیں۔‘‘ سبین نے اسے بتایا۔
    ’’تو اس میں دکھی ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ نیلم نے اپنی نظریں اس کے پریشان چہرے پر ٹکاتے ہوئے کہا۔
    ’’یار! مجھے زین سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘سبین آسمان کو تکتے ہوئے اپنا خدشہ زبان پر لے آئی۔
    ’’زین سے ڈر؟ کیوں؟ وہ کوئی بھوت ہے کیا؟‘‘نیلم نے ہنستے ہوئے کہا۔ اسے حیرت ہوئی۔
    ’’نہیں یار!‘‘وہ مضطرب تھی۔
    ’’کھل کے بتا سبین کیا بات ہے ؟ ‘‘نیلم نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ سبین نے گاؤں آتے وقت زین سے ہونے والی ملاقات کا قصہ من و عن نیلم کے گوش گزار کر دیا اورساتھ ہی اپنے دل میں جنم لینے والے سب خدشات بھی اسے بتا دیے۔نیلم خاموشی سے سنتی رہی۔
    ’’اُف سبین! اس بے کار سی بات کو تم دل پر لے بیٹھی ہو؟ کیا پتا زین بھائی اس وقت پریشان ہوں۔‘‘نیلم نے غصے سے کہا۔
    ’’جو بھی ہو‘ بھلا اپنی منگیتر کے ساتھ کوئی ایسے کرتا ہے ۔‘‘سبین نے منہ پھلا کے کہا۔ اس کی ستواں ناک غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔
    ’’تم دونوں اس وقت تنہا تھے‘ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ جھجک رہے ہوں۔‘‘ نیلم کو اس وقت وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔




  • تسکین — امینہ خان سعد

    میرا بھائی سامی جو مجھ سے عمر میںنوسال چھوٹا تھااس سال نیو ایئر منانے کی ضد کر رہا تھا- میری ماما اس کو سمجھانے کی کو شش کر رہی تھیں کہ نیو ایئرنائٹ پر باہر جانا محفوظ نہیںہے ۔اس کی ضد کی وجہ سے مجھے اس پر بہت غصّہ آرہا تھا بلکہ اپنے ہی بھائی سے نفرت سی ہورہی تھی۔ یہ احساس نیا نہیںتھا۔ کم ازکم سال میں دو مرتبہ میراجی اسے دل کھول کر مارنے اور نوچنے کا چاہتا تھا۔
    ’’امّی میرے سب دوست اپنے گھر والوںکے ساتھ نئے سال کاجشن مناتے ہیں ـ،گھومتے پھرتے ہیں ،پٹاخے پھوڑتے ہیں۔ ایک تو ہم کہیں جاتے نہیںاوپر سے بابا ہر سال دس گیارہ بجے تک گھر کی سب لائٹیںبند کرکے ہمیںزبردستی سلا دیتے ہیں۔‘‘ سامی نے ماما کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
    ’’ ارے بھئی! ہم مسلمان ہیں یہ کوئی ہمارا نیو ایئرتھوڑی ہے اور اسلام میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔‘‘ماما سامی کو بہلانے لگیں۔
    ’’ ما ما ذرا اس سے پوچھیںتو صحیح کہ اس نے آپ کو امّی کیوں کہا ،اگر میںنے بابا کو شکایت کردی تو نئے سال پر تو کیا یہ کسی دن بھی باہر نہیں جاسکے گا ۔‘‘ میں غصّے سے بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    بعض اوقات مجھے احساس ہوتاکہ میں سامی کے ساتھ زیادتی کر جا تی ہوں پر غصّے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ سامی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ امّی کو امّی پکارے۔ یہ پابندی بھی میں نے لگائی تھی کہ ماما کو ہم دونوں صرف ماما بولیں گے۔ یہ فیصلہ تو سامی کے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد ہی ہوگیا تھا۔ عام حالات میں ہم لوگوں کی کوئی خاص لڑائی نہیں ہوتی تھی ۔ ویسے بھی ماما بابا ہم دونوں میں سے کبھی کسی ایک کی طرف داری نہیں کرتے تھے۔ دونوں کو ہی سمجھا کر یا جس کی غلطی ہو اس کو ڈانٹ کر لڑائی فوراً ختم کروا دیتے تھے۔
    سال 2015ختم ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے۔ ہر نئے سال کی آمد مجھے چڑچڑا بنا دیتی تھی۔
    ’’اُف نیا سال۔۔۔‘‘ میںیہ سوچ ہی رہی تھی کی ماما دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
    ’’ سکینہ ـ۔‘‘
    ’’ جی ماما ۔‘‘
    ’’ بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’ ابھی؟‘‘
    ’’ ہاں بیٹا، صرف دو چار منٹ لگیں گے۔‘‘
    ’’ ماما میںسونا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے رک رک کے بولا۔
    ’’ ٹھیک ہے تو آپ لیٹ جائو، میں مختصر سی بات کرکے چلی جائوں گی۔‘‘
    میں سمجھ گئی کہ ماما کچھ خاص بات کرنے والی ہیں۔میں فوراً لیٹ گئی تاکہ ماما جلدی جلدی اپنی بات ختم کرلیں۔




    ’’بیٹاسامی بچّہ ہے ، باقی بچّوں سے قصّے کہانیاں سنتا ہے تو اس کا دل بھی تفریح کرنا چاہتا ہے۔ آپ حسّاس ہونے کے ساتھ سمجھدار بھی تو ہو۔‘‘ ماما نے جھک کر میرے ماتھے پر پیار کیا اور وہیں میرا غصّہ پانی کے بلبلے کی طرح غائب ہوگیا۔
    ’’ دوسری بات جو کہ کافی خاص ہے وہ یہ کہ ایک بہت اچھی فیملی آپ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آنا چاہتی ہے۔‘‘ ماما جملہ مکمّل کرکے چند سیکنڈ کے لیے رکیں پر جب میں چپ رہی تو انھوں نے بات جار ی رکھی ۔
    ’’ بیٹا ہم نہیں چاہیں گے کہ آپ ہر ایک کے آگے ٹرے سجا کر لائو۔ آپ کے بابا تو انجان لوگوں کے منہ اٹھا کر چلے آنے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے آپ لڑکے کی تصویر دیکھ لو اور لڑکا آپ کی۔اور شکل و صورت پسند آنے کی صورت میں ہی بات آگے بڑھائی جائے۔‘‘
    ’’پر آپ لوگوں کو اچانک شادی کی کیوں پڑگئی؟ کہیں سامی کی دلہن بھی ابھی سے لانے کا ارادہ تو نہیں ہو گیا؟‘‘ میں نے بات ٹالنا چاہی۔
    ’’ شریر لڑکی اس میں ابھی بہت وقت ہے۔ وہ تو تم ہمارے داماد کے ساتھ مل کر خود ڈھونڈنا۔ بیٹا تمہاری پڑھائی مکمّل ہو چکی ہے،ماشااللہ سے تیئس برس کی ہوگئی ہو، یہ بالکل صحیح عمر ہے شادی کی۔‘‘ماما مجھے زیادہ تر آپ کہہ کر مخاطب کرتی تھیںاور مذاق کے موڈ میں تم۔
    تو یہ تھی مختصر بات جو ابھی تک مکمّل ہی نہیں ہوئی؟
    ’’سکینہ بیٹا۔ بابا کے دوست کے بیٹے کا رشتہ تو آپ نے قبول نہیںکیا تھا، چلو اس وقت تو آپ پڑھ بھی رہی تھیںمگر اب سنجیدگی سے سوچئے گا۔‘‘ ماما کو سنجیدہ دیکھ کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
    ’’ بیٹا سعیدہ آپا جنہوں نے سارہ کا رشتہ کروایا تھا انہوں نے ایک بہت اچھا رشتہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تصویر چھوڑواوران پر اعتماد کرکے لڑکے والوں کو گھر بلالو۔‘‘
    سارہ آپی ماما کی بھانجی تھیں۔ ان کی شادی پچھلے سال ایک بہت اچھے گھرانے کے نہایت شریف اور پڑھے لکھے شخص سے ہوئی تھی۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے پوری طرح مطمئن تھیں اور اٹھتے بیٹھتے رشتے والی سعیدہ آپاکو دعائیں دیتی تھیں۔
    ’’ اچھا وہ کتنے بہن بھائی ہیں ؟ ماں باپ کیسے ہیں؟کہاں رہتے ہیںجو بابا نے پہلے تصویر دیکھنے کا کہا ہے‘‘ میں نے اپنے ذہن میں موجود سوال ایک سانس میںپوچھ ڈالے۔
    ’’سکینہ CID سانس تو لے لو ، اگر ہماری شہزادی کی اجازت ہو تو تفتیش کے لیے اس ویک اینڈ بلوا لیتے ہیں ۔ سعیدہ آپا کے مطابق وہ لوگ لڑکے کے بارے میں مل کرکچھ خاص بات بتانا چاہتے ہیںاور ویسے بھی ہمیںبھی ان کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ رشتے سچ کی بنیاد پر ہی رکھنا چاہئیں۔‘‘ماما نے گہرا سانس لیا۔’’اور ہاں جہاں تک تمھارے سوالات کا تعلّق ہے، آمنے سامنے بیٹھ کرتمام سوالات بھی کر لیں گے اور ان کوان کے سوالات کے جوابات بھی دے دیں گے۔‘‘
    میں نے ماما کوزور سے گلے لگا لیااور ماما مجھے پیار کرکے کمرے سے باہر چلی گئیں۔جاتے جاتے کمرے کی ڈم لائٹ اور دروازہ بند کر گئیں۔
    حقیقت، نیا گھر، نئے انجان لوگ اور نئے سال کی آمد،یہ سب خیالات مجھے بے چین کرنے کے لیے کافی تھے۔
    ماما اور بابا دونوں ہی بہت شفیق تھے۔ میں نے ہمیشہ ان کی آنکھوں میں پیار اور لہجے میں نرمی پائی۔ سامی اور مجھے ایک جیسا پیاردیا۔ جب بھی مجھے غصّہ آتا ،میں سامی کو چڑاتی کہ بابا مجھے زیادہ پیار کرتے ہیں پر مجھے معلوم ہوتا کہ سامی کو اس بات پر کبھی یقین نہیں آئے گاکیوں کہ مامابابا بیلنس رکھنے میں ماہر تھے۔
    میں نے دھیان بٹانے کو اپنی دراز سے کتاب نکالی، لحاف اوڑھا اور لیٹ کر کتاب پڑھنا شروع کردی۔ مجھے رومانوی کتابیں پڑھنا بہت پسند تھا مگر ابھی تو جیسے میں الفاظ رومانوی پڑھ رہی تھی اور کہانی میرے دماغ میںڈرائونی چل رہی تھی۔
    ایک دم یادیں مجھے سولہ سال پیچھے دھکیل کر لے گئیں۔سال 2000 نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ،ہاں شاید اچھے کے لیے پر اس سال رونما ہونے والے واقعات نے میرا اب تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
    اس نئے سال2000 کا سب کو بڑی بے چینی سے انتطار تھا۔
    ہر کوئی میلینیئم ) (Milleniumمیلینیئم (Millenium)کر رہا تھا۔ چونکہ میری عمر اس وقت صرف سات برس تھی اور مجھے اسکول میں کلاس ٹیچر کی باتیں سن کر یہ لگنے لگا تھا کہ سال 2000ء شروع ہوتے ہی دنیا بدل جائے گی اور پھر حقیقتاً میری دنیا ہی بدل گئی۔ ہم حیدرآباد میں رہتے تھے کیوں کہ ابّو کی وہاں نوکری تھی۔میں نے ابّو سے ضد کی کہ نیا سال منانے ماموں کے گھر کراچی چلیں۔
    ’’بھئی اس سال ایسی کیا خاص بات ہے ؟‘‘ابّو نے پوچھا۔
    ’ابّونئے سال کے ساتھ نئی صدی شروع ہو رہی ہے‘، میں نے بڑے جوش سے بتایا۔
    پہلے توابّو خرچے کا سوچ کر پریشان ہوئے مگرمیرے پیچھے پڑنے پر راضی ہو گئے۔
    ہم اکتیس دسمبر 1999کی دوپہر ایک بجے کراچی پہنچے۔ ماموں ہمیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ماموں اچھے تھے مگر ممانی سے نہ جانے کیوںمجھے ڈر لگتا تھا۔ اس وقت بھی مجھے خوف تھا کہ ممانی کہیں گھومنے پھرنے پر پابندی نہ لگادیں۔ماموں ممانی کا ایک ہی بیٹا تھا، نادر۔نادر بھائی مجھ سے چھ سال بڑے تھے۔وہ بہت ہی پڑھاکو تھے اور ہر وقت ’’جی امّی، جی امّی‘‘ کرتے رہتے تھے۔
    شام کی چائے پر ابّو نے ذکر چھیڑا۔
    ’’بھئی بچّے سمندر کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
    ’’بھائی جان آپ نے ہمیں کراچی کی نئے سال کی رونقیں دکھانی ہیں۔‘‘ امّی بولیں۔
    میں بہت پُرجوش ئٹڈ ہو گئی پر وہی ہواجس کا مجھے ڈر تھا۔ ممانی فوراً بولیں:
    ’’رونقیں کیا، بے ہودگی ہوتی ہے ، بائیک والے سائیلنسر نکال کر سڑکوں پر ہلڑ بازی کرتے پھرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں سمندر پر کل دوپہر کو چلیں گے، میں بریانی اور کباب بنالوں گی اور پکنک بھی ہو جائے گی۔ ممانی نے تجویز پیش کی۔ نادر بھائی اپنی امّی کی بات سن کر کھل اُٹھے۔
    ’’بریانی، پکنک،یاہوووو۔‘‘
    دوسری طرف میرا چہرہ اتر گیا۔میں نئے سال کی آمد پر باہر جانا چاہتی تھی۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ ملینیئم کیا تبدیلی لاتا ہے۔ کیا آسمان کا رنگ بدل جائے گا؟ ایسی کیا تبدیلی ہوگی جس کا حیدرآباد میں موجود میری دوستوں کو بھی انتظار تھا؟ایک دم میرے ننھے دماغ میں خیال آیا کہ کیا پتا چاکلیٹ کی بارش ہو ویسے بھی کراچی اتنا بڑا شہر ہے یہاں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
    ’’ماموں جان آج ہی چلیں نہ سمندر پر۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
    ماموں مسکراتے ہوئے بولے:
    ’’بیٹا آج رات تو سمندر کا راستہ بند ہوتا ہے، کنٹینر لگے ہوتے ہیں، پھر بھی کچھ من چلے کچھ نہ کچھ کرکے کر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن ہم کہیں اور چلیں گے فکر نہ کرو بڑا مزہ آئے گا۔‘‘
    ’’ہاںبھئی سنا ہے اس دفعہ تو لوگوں کا کچھ ذیادہ ہی موج مستی کا ارادہ ہے، نئی صدی میں جو داخل ہورہے ہیں۔ ہم تو نئی صدی اور نئے سال کا استقبال کرنے آپ کے پاس آگئے ہیں۔‘‘ ابّو بڑے جوش سے بولے۔
    ’’بہت اچھا کیا بھائی صاحب، ہمارا نادر ویسے بھی اکیلا ہوتا ہے۔ آپ سب کے آجانے سے اس کے بھی مزے ہوگئے ہیں۔‘‘ ممانی نے خوشی خوشی جوا ب دیا۔
    اس رات سب رات کا کھانا دس بجے تک کھا کر تیّار ہوگئے۔ اس زمانے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک نیا مال بنا تھا۔ہم چوں کہ حیدرآباد سے آئے تھے لہذا ہم نے مال نہیں دیکھا تھا۔ماموں نے ہمیں مال گھمانے کا ارادہ کیا۔ نادر بھائی نے مال کی اتنی تعریف کی تھی کہ مجھ سے تو صبر نہیں ہو رہا تھا۔
    رات گیارہ بجے کے قریب جب ہم وہاں پہنچے توپتا چلا کہ مال تو بند تھا۔ ماموں کا خیال تھا کہ نئے سال کی تقریبات رات گئے تک مال میں ہو رہی ہوں گی مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس رات تو مقامی حکومت نے مال کھلنے ہی نہیں دیا تھا۔
    ہم بچّے رونے والے ہوگئے۔ماموں نے ہماری حالت دیکھ کر کہا کہ اب یہاں تک آگئے ہیں تو کسی طرح راستے عبور کرکے سی ویو جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں نے خوشی میں امّی کو چومنا شروع کر دیا۔
    ’’سکینہ بس کرو بیٹھ جائو، گاڑی چلے گی تو گر جائوگی‘، امّی نے کہا۔
    ’’امّی دیکھ لیں یہ موقع اس سال پھر نہیں آئے گا۔ اب تو میں آپ کو اگلی صدی میں ہی پیار کروں گی۔‘‘
    میری بات سن کر سب ہنس پڑے۔
    ماموں نے دوبارہ گاڑی چلانا شروع کی۔ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کی ابّو بولے :
    ’’یہاں قریب میں بڑا مزار بھی ہے نا؟‘‘‘
    ’’’جی جی۔‘‘ ماموں نے جواب دیا۔




  • رعونت — عائشہ احمد

    "میں کہتی ہوں دو اسے طلاق۔۔۔۔!”فاخرہ بیگم کی زناٹے دار آواز ڈرائنگ روم میں گونجی تو یک دم ہر طرف سناٹا چھا گیا۔
    "لیکن امی۔۔۔۔؟” علی نے کچھ کہنا چاہا لیکن فاخرہ بیگم نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
    "یہ میرا حکم ہے۔ ابھی اور اسی وقت اسے طلاق دو۔‘‘ فاخرہ نے ایک بار پھر گرج دار آواز میں کہا۔
    علی نے بے بسی سے ایشل کی طرف دیکھا، ایشل کے چہرے پر خوف کے سائے نمایاں تھے۔اس کی آنکھوں میںایک التجا ،ایک امید تھی۔پاس کھڑا پانچ سالہ ننھا کامران حیرت کی تصویر بنے یہ سب دیکھ رہا تھا۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔اس نے ایشل کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ علی نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور دوسری نظر ایشل کو دیکھا، وہ تذبذب کا شکار تھا۔
    "تمہیں میری بات کی سمجھ نہیں آئی؟ میں نے کہا اسے ابھی اور اسی وقت طلاق دو، ورنہ میںبھول جائوں گی کہ تم میرے بیٹے ہو۔‘‘ دھمکی کام کر گئی، علی نے ایک لمحہ ایشل کی طر ف دیکھا۔
    "ایسا مت کرو علی،میرا نہیں تو اپنے بیٹے کا خیال کرو،اسے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘ ایشل نے روتے ہوئے کہا۔ اس نے علی کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے لیکن علی تو جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔
    "ایشل۔۔! میں تمہیں طلاق دیتاہوں۔۔۔میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔” اور یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور فاخرہ نے فاتحانہ انداز میں ایشل کی طرف دیکھا۔ ایشل زمین پر تقریباً گر پڑی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ فاخرہ پائوں پٹختے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لوٹ گئی۔
    ٭…٭…٭





    فاخرہ بیگم کا شمار مڈل کلاس گھرانے سے تھا اور ان کے شوہر سرکاری ملازم تھے جن کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوا تھا۔ علی فاخرہ بیگم کا اکلوتا بیٹا تھا جو ایک کالج میں لیکچرار تھا۔ فاخرہ بیگم اس سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔
    فاخرہ بیگم کا شمار ان عورتوں میں ہوتا تھا جو پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہوتی ہیں۔ بھلے وہ شوہر پر حکمرانی ہو، اولاد پر یا پھر گھر پر۔ اپنی انا میں رہنا اور غرور و تکبر کا اظہار کرنا ان کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ فاخرہ بیگم بھی ایسی ہی تھیں۔ ماں باپ کے گھر تھیں تو راج کیا، سسرال آئیں تب بھی اپنی حکمرانی قائم رکھی اور جب اولاد کی شادی کی، تب بھی اپنا رعب و دبدبہ برقرار رکھا۔ آج ان کی ہٹ دھرمی نے ایک ہنستا بستا گھراجاڑ دیا تھا۔ ایشل ان کی اپنی پسند تھی۔ بہت چائو کے ساتھ وہ بہو لائی تھیں لیکن وہ بھی روایتی ماں اور ساس ثابت ہوئیں بیٹے کو کسی اور کا ہوتا دیکھ نہیں سکیں اس لیے شادی کے اگلے دن ہی لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔اصل جھگڑا وہاں سے شروع ہوا جب علی نے ہنی مون کے لیے اجازت مانگی۔ اس بات پر انہوں نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
    "اب تم فضول خرچی بھی کرو گے؟ شادی کیا ہوئی تم تو بیوی کے ہو کر رہ گئے۔” بیگم فاخرہ غصے سے پھنکاریں۔
    "ایسی بات نہیں ہے امی! یہ تو میرا پلان ہے۔” علی گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
    "ہاں! ڈال پردے تُو اس کی باتوں پر۔ اس دن کے لیے تیری شادی کی تھی کہ ماں کو بھول کر بیوی کا ہوجائے؟” فاخرہ بیگم فوراً آنکھوں میں آنسو لے آئیں اور علی ماں کے آنسو دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ اس نے ہنی مون کا پلان کینسل کر دیا۔
    ایشل سب جانتی تھی لیکن وہ خاموش رہی۔ اسی دوران ان کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے کامران رکھا۔ ایشل کو لگا کہ شاید اس کی ساس کے رویے میں کچھ تبدیلی آجائے گی لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔ فاخرہ کا رویہ دن بہ دن برا ہوتا جا رہا تھا۔ ہر روز ایک نیا طوفان ایشل کا منتظر ہوتا تھا۔ علی بھی ماں کے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا وہ ایشل کی حمایت میں کچھ نہیں کہتا تھا جس کی وجہ سے فاخرہ بیگم کو مزید شہ ملتی اور وہ ایشل پر اور زیادہ ظلم کرتیں۔ علی بھی گھر کے ماحول کی وجہ سے ایشل سے کھنچا کھنچا رہنے لگا تھا جس کا نتیجہ ان کی طلاق کی صور ت میں نکلا تھا۔ فاخرہ بیگم یہ نہیں جانتی تھیں کہ اس نے محض ایک عورت کا گھر بلکہ حکمِ خداوندی کی صریح نافرمانی کی ہے اور جو اﷲ پاک کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے وہ ناصرف معاشرے کا مجرم ہوتا ہے، بلکہ قیامت کے دن سزاوار بھی ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ٰٓٓایشل گھر پہنچی تو ایک کہرام مچ گیا۔ اس کا بھائی عارف شدید غصے کی حالت میں مرنے مارنے پر تیار ہوگیا۔ایشل کے باپ میاں نثار نے بڑی مشکل سے اسے قابو کیا۔ ایشل مسلسل روئے جا رہی تھی، کامران بھی رو رہا تھا۔ ایشل کی امی سعدیہ اسے چپ کرانے میں مصروف تھیں۔
    "خدا غارت کرے فاخرہ کو! اسے تو خدا کا ذرا خوف نہیں آیا یہ سب کرتے ہوئے۔” سعدیہ بیگم اسے کوستے ہوئے بولیں۔
    "میں نے تو کہا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔” عارف غصے سے انگلیاں مروڑتے ہوئے بولا۔
    "کیا ہو گا اس سے؟ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ ویسے بھی بیٹی کی بربادی کے بعد میں بیٹے کو کھونا نہیں چاہتا۔ اب یہ سوچو آگے کیا کرنا ہے؟” میاںنثار نے کرب سے کہا۔
    "میں نے بہت منتیں کیں ان کی ،لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور علی۔۔ بڑا مان تھا ا س پر مجھے، وہ بھی بت بنا کھڑا رہا۔ وہ ماں کی محبت میں اتنا آگے چلا گیاکہ وہ اﷲ کے احکامات کی حکم عدولی پر مجبور ہو گیا۔‘‘ ایشل روتے ہوئے بولی۔
    "بس کر میری بچی! تو دیکھنا ان سب کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ظلم کا بدلہ ایک دن ضرور ملتا ہے۔” سعدیہ بیگم نے روتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    "یہاں پرقیامت ٹوٹ پڑی ہے اور آپ لوگ جھوٹی تسلیوں پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟” عارف نے غصے سے کہا اور پائوں پٹختا ہوا باہر چلا گیا۔ میاں نثار دکھ سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ سکتے تھے کہ عارف کے جذبات کیا ہیں؟ کوئی بھی بھائی یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی بہن کا گھر برباد کر دیا جائے۔
    ٭…٭…٭
    ایشل ایک پڑی لکھی اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ اس کے ابو ایک پرائیوٹ فرم میں جاب کرتے تھے جب کہ چھوٹا بھائی ایم بی اے کر رہا ہے۔ ایشل نے خود ایم ایس سی کی تھی۔ اس کا ارادہ جاب کرنے کا تھا لیکن ایم ایس سی مکمل کرتے ہی اس کے لیے علی کا رشتہ آگیا جسے اس کے والدین نے چھان بین کے بعد ہاں کر دی۔ ایشل والدین کی نہایت لاڈلی تھی۔ عارف اگرچہ ایشل سے چھوٹا تھا لیکن وہ ایشل سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کی چھوٹی سی تکلیف پر بے چین ہو جاتا۔ علی کے ساتھ ایشل کی شادی ایک بھیانک تجربہ تھا۔ جس کا اندازہ ایشل کو وہاں جا کر ہوا اور آج وہ طلاق لے کر واپس اپنے گھر آگئی۔
    ٭…٭…٭
    زندگی اپنے معمول پر واپس آگئی۔ ایشل کے دامن پر لگا طلاق کا داغ رفتہ رفتہ مٹنے لگا تھا۔ اس نے ایک پرائیوٹ سکول میں جاب شروع کردی اور اپنے بیٹے کامران کو بھی اسی سکول میں داخل کروا دیا۔ اسے تسلی تھی کہ اس طرح کامران اس کی نظروں کے سامنے رہے گا۔
    دوسری طرف علی کو تو جیسے چُپ سی لگ گئی تھی۔ایشل کو طلاق دینے کے بعد اس نے خود کو آفس اور اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا۔ فاخرہ بیگم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ ایشل کو بھلا سکے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ فاخرہ نے اس کا حل سوچا اور علی کی دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے علی سے بات کرنے کا سوچا۔
    صبح کا وقت تھا۔علی آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔جب فاخرہ بیگم اس کے لیے ناشتے کی ٹرے اٹھائے اندر آئی۔ انہوں نے ٹرے ایک طرف رکھی۔علی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ٹائی باندھ رہا تھا۔ انہوں نے بغیر تمہید کے بات شروع کی:
    "کب تک اس منحوس کا سوگ منائو گے؟ فاخرہ نے زہر بھرانشتر اسے مارا۔ علی نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور پھر اپنا کام کرنے لگ گیا۔ٹائی باندھی،بال برش کیے اور بیگ اٹھا کر جانے لگا۔
    "میں تم سے مخاطب ہوں ۔ کیا تم میری بات نہیں سُن رہے۔؟” انہوں نے سوالیہ لہجے میں اس سے پوچھا۔
    "مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” علی سپاٹ لہجے میں بولا۔
    "آرام سے ناشتہ کرو۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔” ان کا لہجہ تحکمانہ تھا۔
    "مجھے بھوک نہیں ہے اور ویسے بھی مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آپ بات کریں میں سن رہا ہوں۔” علی کا چہرہ کسی بھی کسی کے تاثرات یا جذبات سے عاری تھا۔ فاخرہ بیگم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر مخاطب ہوئیں:
    "میں چاہتی ہوں تمہاری دوسری شادی کر دوں۔” فاخرہ نے کہا تو علی کو لگا کہ جیسے اس کے سر پر کسی نے بم پھاڑ دیا ہو۔ اس نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولا۔ وہ جانتا تھا کہ پہلے وہ اپنی بات مکمل کریں گی پھر اس کی سنیں گی۔
    "میں نے تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے، خوب صورت اور پڑھی لکھی ہے۔” فاخرہ بیگم اس کی خوبیاں گنواتے ہوئے بولیں۔
    "یہ سب خوبیاں تو ایشل میں بھی تھیں۔”علی نے تیز لہجے میں کہا تو فاخرہ بیگم کے چہرے کا رنگ ایک دم سے اُڑ گیا۔
    "میں اب شادی نہیں کروں گا۔” علی نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا، جب کہ فاخرہ دانت پیس کر رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    فاخرہ نے آخر کار علی کو دوسری شادی کے لیے راضی کر ہی لیا۔لڑکی کا نام صباحت تھا۔صباحت نہایت تیز طرار لڑکی تھی۔اسے علی کی پہلی شادی اور طلاق کے بارے میں معلوم تھا۔ اس لیے اس نے آتے ہی سب سے پہلے علی کو اپنے کنٹرول میں کیا۔ صباحت بہت خوب صورت تھی، اور باقی رہی سہی کثر اس کی باتوں نے پوری کر دی۔ علی اب بات بات پہ صباحت کی ہاں میں ہاں ملانے لگ گیا تھا۔ ٹھیک ایک مہینے بعد دونوں نے ہنی مون کا پلان بنایا اور مری جانے کا فیصلہ کیا۔ علی نے صرف ماں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ تو فاخرہ بیگم جل کر کوئلہ ہوگئیں۔
    "تم نے مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کر لیا۔۔۔؟ فاخرہ اس وقت شدید غصے میں تھیں۔
    "امی میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں کہ ہر کام آپ سے پوچھ کروں۔ہم لوگ ایک ہفتے کے لیے مری جا رہے ہیں۔” علی نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
    اگلے دن علی اور صباحت ہنی مون کے لیے مری روانہ ہو گئے اور فاخرہ صرف غصے سے تلملا کر رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    علی نے کبھی پلٹ کر بیٹے کی خبر بھی نہیں لی تھی، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسے کبھی بیٹے کی یاد تک نہیں آئی۔ کیا باپ ایسے بھی ہوتے ہیں؟ ایشل اکثر خود سے یہ سوال کرتی تھی، جس کا اس کے پا س کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
    "ماما اب پاپا کبھی نہیں آئیں گے؟ کامران نے معصومانہ لہجے میں ایشل سے سوال کیا تو وہ تڑپ کر رہ گئی۔
    "نہیں بیٹا! پاپا کچھ مصروف ہیں،جیسے ہی ٹائم ملا آپ سے ملنے آئیں گے۔” ایشل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ اس وقت وہ بیڈ روم میں سونے کی تیاری کر رہی تھی۔
    "مجھے پتا ہے ماما! اب وہ کبھی نہیں آئیں گے۔ انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے” کامران نے کہا تو ایشل کا دل کٹ سا گیا۔اس نے پلکوں پر آتے ستارے روک لیے تھے۔وہ بیٹے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    "سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا! ایشل نے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
    ٭…٭…٭




  • بے غیرت — دلشاد نسیم

    بے غیرت — دلشاد نسیم

    پورے گاؤں کو سانپ سونگھ گیا۔ پنچایت کا فیصلہ تھا ہی ایسا… شاید ہی کوئی گھر ہو جس کا چولہا جلا ہو۔ ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔ نہ اس شام پیپل کے درختوں کے نیچے حقہ گرم ہوا نہ کسی نے ہیر گائی۔ جمع سب ہوئے لیکن ’’ہک ہا‘‘ کہہ کر ایک دوسرے کو دیکھتے، ہاتھ ملتے رہے اور بس۔
    رخشی کا رو رو کر برا حال تھا۔ زلیخاں اس کو غصے سے گھورتی دانت پہ دانت جما کر کہہ رہی تھی:
    ’’مرن جوگے ایسا نہ ہو تیرا باپ صفیہ کے ساتھ ساتھ تجھے بھی جان سے مروا دے۔‘‘
    ’’تو مروا دے… مجھے کیوں نہیں مرواتا میں بھی تو عبداللہ سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ رخشی نے تنک کر جواب دیا۔
    ’’بکواس نہ کر۔‘‘ ماں نے زور دار تھپڑ رخشی کے گال پہ مارا۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔
    ’’کیوں؟ میں نبی بخش کی بیٹی ہوں اس لیے مجھے کاری کی سزا نہیں ملے گی؟‘‘
    ’’بے وقوفے تو عبداللہ کی بچپن کی منگ ہے، اس لیے یہ محبت و حبت کا بھوت اتار دے سرسے۔‘‘ ماں نے ماتھا پیٹتے ہوئے کہا۔
    رخشی نے ماں کے غضب کے تیور دیکھے تو نرمی سے بولی:
    ’’اماں تیرے سینے میں تو عورت کا دل ہے ناں! ذرا دل پہ ہاتھ رکھ اور بتا… یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک لڑکی کو کسی پاگل کے پلے باندھ دیا جائے اور وہ احتجاج بھی نہ کرے۔ یہ نہ سوچ وہ پاگل تیرا بیٹا ہے۔ خدا کے لیے آپا کو بچالے اماں…‘‘ اس نے ہاتھ جوڑے مگر ماں نے اس کو قہرآلود نظروں سے دیکھا۔ اس وقت وہ محض عورت نہیں تھیں، زلیخاں نہیں تھیں صرف ایک پاگل بیٹے لاڈلے کی ماں تھیں۔ نبی بخش کی بیوی تھیں۔ زمین دار نبی بخش کی بیوی، جس کی پنچایت کا فیصلہ الٰہی مہر ہوتا تھا۔ کسی نے کبھی اس فیصلے کی حکم عدولی نہیں کی تھی تو زلیخاں کی کیا مجال تھی، گائوں بھر میں پھیلے سناٹے کی چاپ کو زلیخاں اپنی حویلی کی راہ داری میں محسوس کررہی تھیں۔ نوکر اسی طرح اپنے کاموں پر معمور تھے۔ مگر خاموش اور غم زدہ برسوں پرانی ملازمہ ماسی خیراں نے آج کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔
    زلیخاں کو شبہ تھا کہ خیراں نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ اس نے پوچھا تو خیراں نے اپنی جھریوں والی آنکھیں میچیں اور دکھ سے بولیں:
    ’’برسوں حویلی کا نمک کھایاپر دل پتھر نہیں ہوا۔ پتھر ہوتا تو کچھ کھا لیتی…‘‘
    ’’خیراں تم بیمار رہتی ہو… دوا کھانی ہو گی۔‘‘ اماں نے فکرمندی سے کہا۔
    ’’خیراں کی خیر ہے زلیخا بی بی… اسے کیا ہونا ہے۔‘‘ خیراں نے سرد آہ بھر کر کہا۔





    ’’یہ دوا دارو سارے ایویں ہیں، جب مولا نے لے کے جانا ہے تو لے جانا ہے، اس نے کون سی عمر شمر دینی ہے۔ کسی کی موت کا کبھی کوئی حیلہ بن جاتا ہے اور کبھی کوئی وسیلہ بن جاتا ہے۔‘‘ زلیخاں خیراں کی بات سمجھ گئی تھی اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کہ اس کو ستانے کے لیے ایسا کہہ رہی ہے مگر خیراں عمر کے جس حصے میں تھی اس کو اب یہ فکر نہیں رہی تھی کہ اس کا کاٹ دار باتوں سے کوئی نقصان ہو گا۔ وہ بولے گئی۔
    ’’بہت مہربانی دھیے، ورنہ ہم غریبوں کا کون خیال کرتا ہے۔‘‘
    زلیخاں نے کچھ کہا نہیں، رنگین کرسی جس پر شیشے کا کام ہوا تھا، یہ کرسی ایسی جگہ پر رکھی تھی جہاں حتی الامکان حویلی کو دیکھا جاسکتا تھا۔ زلیخاں ہول ناک خاموشی سے گھبرا کر بولی:
    ’’بہت خاموشی ہے خیراں… لاڈلا سو گیا کیا؟
    ’’جی سو گیا… فرید کہہ رہا تھا آج اس نے بہت تنگ کیا تھا۔ دوائی دی تب سویا تھا۔‘‘ خیراں سپاٹ لہجے میں اسے بتا رہی تھی۔
    زلیخاں کے چہرے پہ دکھ کے نمایاں تاثرات تھے۔ اس نے افسردگی سے کہا:
    ’’سوچا تھا صفیہ آجائے گی تو میری فکر بانٹ لے گی، مگر اس نے تو ایسا چاند چڑھایا کہ بس! مرحوم اللہ بخش بھائی کی روح تڑپ گئی ہو گی…‘‘ خیراں نے سر ہلایا۔ کہا کچھ نہیں۔ زلیخاں بے چین ہوکر اٹھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی جارہی تھی… جیسے روح پھر رہی ہو۔ نبی بخش ابھی مرنے سے واپس نہیں آیا تھا۔
    لاڈلے کے کمرے کے باہر فرید پہرا دیا کرتا تھا۔ لاڈلے کا کیا بھروسہ کب اُٹھ جائے اور شور مچا دے؟ کب اس کو کچھ کھانے کو دل چاہے اور کب…؟
    فرید نے ایک طرف ہوکر ادب سے سرجھکا کر زلیخا کو راستہ دیا۔ لاڈلا معصومیت کی تصویر بنا آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔ چھبیس سال کے نوجوان کا ذہن سات آٹھ سال کے بچے سے زیادہ نہیں تھا۔ وہ کبھی کبھی سوتے میں سسکنے لگتا اور اس کا سارا جسم ہل جاتا۔ زلیخاں کی ممتاز تڑپ اٹھتی۔
    ’’کاش میں تیرے لیے خوشیاں خرید کے لا سکتی میرے لاڈلے۔ کاش اللہ نے مجھے ایسی آزمائش میں نہ ڈالا ہوتا۔ تو بھی عام لڑکوں کی طرح پڑھ لکھ کر پنچایت میں بیٹھتا۔ پھر تو خاص ہو جاتا۔ نبی بخش کا بازو، میری جان! تجھے لاڈلا کوئی نہ کہتا تو حبیب اللہ ہوتا… چودھری حبیب اللہ۔‘‘
    زلیخاں کے آنسو بسکٹی چادر کی تہوں میں ڈوب گئے۔
    صفیہ سے تیرا ہاتھ مانگتی تو چراغاں ہو جاتا، وہ تیری دلہن بن جاتی۔ پورے گائوں میں بتاشے بانٹتی تو… تو…‘‘ زلیخاں کی آواز بھرا گئی۔ اس نے لاڈلے کے بال سنوارے اور اٹھ گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات گہری ہوتی جارہی تھی۔ صفیہ نے اپنے پیروں کو دیکھا اور سوچا۔
    ’’جو زنجیر آج میرے پیروں میں بندھی ہے کوئی وقت کے پیروں میں بھی باندھ دے۔ میں اپنے راجے بھائی عبداللہ کے پاس دوچار گھڑیاں اور گذار لوں۔‘‘ صفیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے عبداللہ کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور کہا:
    ’’یہ کبھی نہ سوچنا کہ تُو نے آپا کو مار دیا ہے، بلکہ یہ سوچنا کہ غیرت نے بے غیرتی کو ماردیا۔ میں نے کوئی اچھا کام تھوڑی کیا ہے، روایت توڑی ہے… روایت! چاچے کے پاگل بیٹے سے بچپن کی منگنی توڑ کے ماسٹر جیسے سمجھ دار کے ساتھ بھاگ کر شادی کے خواب دیکھے، یہ تو گناہ ہے… سزا تو ملنی تھی۔‘‘
    عبداللہ خاموش تھا۔ صفیہ کی گود میں سر رکھے وہ کسی اور دنیا میں تھا جب کہ صفیہ کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ چوبیس سال کی صفیہ اور صرف چوبیس منٹوں کی مہمان کی تھی دنیا میں… موت کے چوبیس منٹ بہت بھاری تھے۔ اسے یہ بھی دکھ تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے بھائی کا کیا ہو گا۔
    اس لیے تو وہ عبداللہ سے کہہ رہی تھی کہ رخشی سے شادی کر لینا۔ عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو نکلا اور محبت کرنے کے جرم میں کاری ہونے والی بہن کی گود میں گر گیا۔
    صفیہ نے محبت سے بوجھل اور موت کے غم سے ٹوٹتی آواز میں کہا تھا:
    ’’رخشی تیرا بہت خیال رکھے گی، کیا ہوا جو وہ لاڈلے کی بہن ہے۔ یہ تو قسمت کی بات ہے عبداللہ کہ میں تیرے سہرے کے گیت نہیں گاسکوں گی۔ تیرا ماتھا چوم کر سدا خوش رہ نہیں کہہ سکوں گی… پر میرے بعد اگر کوئی تجھے چاہتا ہے تو… تو…‘‘ صفیہ کی آواز بھرا گئی اور وہ سانس لے کر بولی:
    ’’وہی تو ہے، وہی جانتی ہے میرے بھائی کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔‘‘ مگر عبداللہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
    ’’میں آپا کو کیسے گولی مار سکتا تھا… کیسے؟ اپنی آپا کو اپنے سامنے کیسے تڑپتا دیکھ سکتا تھا۔‘‘
    عبداللہ نے سر اٹھا کر دیکھا آپا کی آنکھیں خشک تھیں۔ اس نے بے ساختہ صفیہ کا ہاتھ چوم لیا۔
    ’’آپا… مجھے معاف کردینا، تیرے ہاتھوں کا لگا پودا ہوں۔ تیرا طفیل… مجھے تو اماں ابا کا چہرہ تک یاد نہیں… تو ہی میرے لیے ماں ہے، تو ہی باپ۔ مگر یہ پنچایت کا فیصلہ ہے، مجھے معاف کردینا۔‘‘ صفیہ کمال ضبط سے مسکرا رہی ہے۔
    ’’آپا مجھے یاد ہے جب بہت چھوٹا سا تھا تو میرے لیے ہینڈ پمپ چلاتی اور میں شرارت سے ہاتھ پر پانی کی دھار دیکھتا رہتا… پانی کا فوارہ بنتا اور میں ہنستا۔ تو نے کبھی نہیں کہا بس کر عبداللہ میرا ہاتھ تھک گیا ہے۔‘‘ وہ اب بھی روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    صفیہ بھی اس ہینڈ پمپ کے فوارے کے چکر میں گم ہوگئی۔ رات کی سیاہی میں جانے کس نقطے میں صفیہ کھو گئی۔ کہنے لگی:
    ’’وہ کبھی تھکتی تو کہتی اور وہ یاد ہے جب میں توے کو چولہے سے اتارتی اور تم چمٹے کو الٹے توے پر لگا کر کہتے دیکھو آپا ستارے بن گئے ہیں۔‘‘ صفیہ نے آنکھیں بند کرلیں اور دکھ سے بولی:
    ’’اب وہ تو سارے ستارے آنسو بن گئے ہیں اور کیسے نہ بنتے جب ہم اصولوں کے خلاف چلیں گے، قانون قدرت کو للکاریں گے تو غضب تو ڈھایا جائے گا ناں۔‘‘
    عبداللہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ’’کون سا غضب… کیسا قانون… آپا…؟‘‘
    صفیہ خاموش رہی اور مسکرا دی
    ’’ابھی تو چھوٹا ہے بڑا ہو جائے گا تو تجھے بھی یقین آجائے گا تو نے جو کیا اچھا کیا۔ میرا مرجانا ہی اچھا ہے میری جان اور باتیں کرتے کرتے مگر اس کی سوچوں میں اٹھارہ سال کی صفیہ آگئی جس کو اپنی گڑیا سے بہت پیار تھا، جو اس کے دکھ سکھ کی ساتھی تھی۔ وہ چہرے پہ عشق کا نور اور آنکھوں میں محبوب کی محبت سے جدا ہونے کا دھڑکا گنگنایا کرتی تھی۔
    دل وج شوق ملن دا
    تیرے دی چڑھی
    کنڈے اتے مہر ماں وے میں کدوں دی کھڑی… کھڑی
    وہ گڑیا کو سینے سے لگائے مسلسل ایک ہی لفظ کی گردان کیے جارہی تھی۔
    دل وچ شوق ملن دا
    ہنیری عشق دی چڑھی
    عبداللہ نے شرارت سے آکر گڑیا جھپٹی اور ہنسنے لگا۔
    صفیہ نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے گڑیا لینی چاہی تھی مگر عبداللہ کے لیے وہ بے جان سی گڑیا کے علاوہ کیا تھی بھلا؟ مگر صفیہ کی تو وہ سہیلی تھی۔
    ’’دیکھ اس کو کچھ مت کہنا یہ میری سہیلی ہے۔ میرے دکھ درد کی ساتھی…‘‘ صفیہ چیخ کر بولی۔
    چھوٹا سا عبداللہ رک گیا، پریشان ہوگیا اور آپا سے روہانسی انداز میں پوچھنے لگا۔
    ’’آپا تجھے کیا درد ہے، کبھی تو نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ صفیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
    ’’سارے درد بتانے والی تھوڑی ہوتے ہیں۔ جس کو سہے جائو۔ سہے جائو۔ ٹھیک تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘
    عبداللہ کے چہرے پر غضب ناک غصہ تھا۔
    ’’مجھے معلوم ہے…تجھے لاڈلے کی وجہ سے پریشانی رہتی ہوگی۔ دیکھنا میں اس پاگل سے تیری شادی نہیں ہونے دوں گا۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے انگلی اٹھا کر کہا۔معصوم نے اپنی دانست میں بہت عقل کی بات کی تھی۔
    صفیہ حیران رہ گئی۔ اس نے لاڈلے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو عشق کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اسے یاد ہی نہیں یہ روگ بھی تو اس کے جان کو لگا ہوا ہے۔
    ’’آپا میں تیری شادی لاڈلے سے نہیں ہونے دوں گا۔ دیکھنا تو دل چھوٹا نہ کر۔ دفع کر گڑیا کو۔ اس کو دکھ درد کہنے کا کیا فائدہ۔ لاڈلا؟ واقعی بڑی دوراندیشی کی باتیں کر رہا تھا۔ یہ کوئی صلاح تھوڑی دے سکتی ہے۔ دکھ اس سے کہہ جو بتائے… بتائے کہ درد کا علاج کیا ہے۔‘‘صفیہ کا دل بھر گیا۔
    ’’ہائے میرا بھائی اتنا سیانا ہوگیا ہے۔ ‘‘عبداللہ خوش ہوکر چوڑا ہوگیا۔
    صفیہ نے پیار سے عبداللہ کو گلے لگایا اور پاس بٹھا کر کہنے لگی:
    ’’مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے درد کہہ دیے تو یہ زیادہ نہ ہو جائیں۔




  • حاضری — کنیز نور علی

    حاضری — کنیز نور علی

    وہ آج بھی ویسا ہی کھانا بناتیں ہیں جیسے دس سال پہلے بنایا کرتیں تھیں، یا اس سے بھی پہلے بیس سال پہلے…… اس سے بھی پہلے، کتنا زمانہ بیت گیا پکاتے ،کھلاتے، دھوتے، مانجھتے…….. باتیں کرتے اور خاموش رہتے……… سوچتے ہوئے اور جھگڑتے ہوئے، کبھی اپنے اندر سے جھگڑا… کبھی باہر سے……..
    ہانڈی بھونتے ہوئے وہ غور کر رہی تھیں کہ آج بھی سب ویسا ہی بنتا ہے، لیکن کھانے والے بدلتے گئے ہیں….. آہ!
    دل سے ہوک کیوں اٹھتی ہے؟
    ماضی یاد کیوں آتا ہے؟
    آخر انسان کیوں ماضی سے ہی بھاگتا ہے
    اور…
    اسی میں پناہ بھی لیتا ہے…..
    آخر میرے اندر اتنے سوال کیوں ابھرتے ہیں؟
    یہ سب وہ سوچے چلی جاتیں اور کھانا تیار ہو جاتا تھا؟
    "آپ تو زیادہ اچھی بریانی بناتی ہیں، پھر میری بریانی کی ایسے ہی اتنی زیادہ تعریف کر رہی تھیں”….. عائشہ نے آج ان کے ہاتھ کی بریانی چکھی تھی۔
    "تم واقعی زیادہ اچھی بناتی ہو کیوں کہ وہ تم بناتی ہو۔” چائے کپ میں ڈالتے ہو ئے وہ اداسی سے مسکرائیں۔
    "یہ کیا بات ہوئی؟” اب وہ دونوں لانج میں آکر بیٹھ چکی تھیں۔ چائے پی جائے گی، چند باتیں ہوں گی….. اور پھر عائشہ کو اپنے گھر کے کام، بچوں کا ہوم ورک اور شوہر کے لیے رات کا کھانا یاد آئے گا اور وہ بھاگ جائے گی۔ نورالنسا یہ سب کچھ بھگتا کر یہاں بیٹھی تھیں۔ اب اگلی نسل کی عورتیں ذمہ داریاں سنبھال چکی تھیں….
    "بس! یہی بات ہے… دس سال بعد تم اور اچھی بریانی بنانے لگو گی، لیکن تمہیں اپنی پکائی ہوئی کوئی شے بھائے گی نہیں……. کیوں کہ تب اس سے زیادہ اہم چیزیں تمہاری منتظر ہوں گی۔” ان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
    "کیسی باتیں کرتی ہیں آپ؟” عائشہ نے سادگی سے پوچھا۔
    ” بس! ایسی ہی بات ہے عورت کے کام نہ اس کے ہاتھ کی پکی بریانی آتی ہے، نہ اپنے ہاتھوں پلی اولاد… سب ہاتھ سے نکل جاتا ہے….. وقت بھی۔” وہ اپنی سوچوں میں مگن تھیں۔
    ’’کیا وقت واقعی ظالم ہے؟‘‘ وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھ گئیں، اور اس سے پہلے کہ وہ رُکتیں، عائشہ نے ہی ان کی بات کاٹ دی:
    "بچے ٹیوشن سے آنے والے ہوں گے، میں چلتی ہوں۔ مغرب بھی ہونے والی ہے۔”
    اور وہ بس سوچتی رہ گئیں………… وقت ظالم ہے یا انسان؟ جو خود اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔
    "میرے بچے بھی ٹیوشن سے آیا کرتے تھے اور میں بھی بھاگی بھاگی پھرا کرتی تھی، لیکن یہ کہ مغرب بھی ہونے والی ہے، یہ خیال مجھے کیوں نہ آیا؟ اب ساری دھول بیٹھ چکی ہے، بچے دنیا کے راستوں پر نکل گئے ہیں۔ میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کوئی ایک لو تو ایسی لگانا چاہئے تھی۔ کوئی ایک شاخ جو ہر موسم میں ہری رہے، ایک رابطہ ایسا ہوتا جو ہر ربط اور تعلق پر حاوی ہوتا۔ پھر تنہائی یوں تو نہ کاٹتی، پچھتاوے یوں تو نہ گھیرتے، ان کے اندر اک بازگشت ہوئی…..
    "اب ہم دونوں رہ گئے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی اور تنہا بھی۔” اپنے ہم سفر کو دیکھ دیکھ کر وہ سوچتی رہتیں…..
    "ایک یہ شخص ہے اور اس گھر کا خالی پن… بس یہی میری زندگی ہے….. اور…… اور بچوں کے فون ہیں….. جو آتے رہتے ہیں۔”
    ساری عمر کا حاصل یہ خاموشی تھی جو کسی سمجھوتے کی مانند ان دونوں کے درمیان در آئی تھی۔ انہیں کبھی بہت پرُسکون لگتی، بہت بھاتی یہ خاموشی، کہ کائنات کا ساز بھی تو یہی ہے اور کوئی لمحہ ایسا آتا کہ انہیں یہی خاموشی کانٹے کی طرح چبھتی…… کھٹکتی….. اور زخمی کر ڈالتی…
    "کوئی بھی ایسی بات نہیں جو ہم آپس میں کر سکیں؟ بس میرے اندر ہی یہ جوار بھاٹا ہے….. یہ تو بہت پرُسکون…. اپنے انداز سے جی رہا ہے……… یہ کیسا انسان ہے جس کے ساتھ میں نے ساری زندگی بتا دی؟ لیکن کبھی ہمیں چین نا ملا……… ساری زندگی اک آپا دھاپی، اک رولا سا تھا۔”
    اور اب؟ اب کیا ہوا ہے؟ سارے رولے، لڑائی جھگڑے، آپس میں ہی بھڑتے ہوئے اس گھر کی دہلیز پار کر گئے تھے۔ باہر نکل گئے، گھر جھگڑوں سے خالی ہو گیا، اور رشتوں سے بھی۔ لوگوں سے بھی۔ لوگوں کی سانسوں کے دم سے ہی تو گرماگرمی ہے۔ تیری میری اور یہ وہ ہے۔ وہ سب چلے گئے۔ جو بڑے تھے وہ عمر پوری کر کے اگلے جہان سدھار گئے…. جو چھوٹے ہیں وہ پردیس کے لیے نکل گئے۔
    در اصل زندگی کے گزرنے کا ادراک ہر روح کو دکھی کر دیتا ہے۔ بیٹیاں بیاہ دی جاتی ہیں اور ماں سے دور اپنے بکھیڑوں میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
    بیٹے محنت کا پھاوڑا لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور دن رات مشقت کرتے ہیں۔
    ماں گھر بیٹھی یاد کرتی رہتی ہے…. بیٹی بیاہ دی تو پرائی ہوئی، بیٹا کمائی میں لگا تو وہ بھی پرایا ہی سمجھو۔ اب ان کاموں کے بغیر چارا بھی تو کوئی نہیں۔ بھلا بیٹیاں گھر میں رکھی جا سکتی ہیں؟ مچھلی جل کے بغیر رہی ہے کبھی؟ اور بیٹے…….. کمانے نہیں جائیں گے تو گہنے کہاں سے آئیں گے؟ بہو کیسے بیاہ کر لائی جائے گی……… عورت کے گہنے مرد کو مشقت تک لے جاتے ہیں، اور مرد کی مشقت عورت کو گھر گرہستی تک کھینچ لاتی ہے۔
    یوں زندگی گزر جاتی ہے یادیں، خسارے پچھتاوے، اداسی آخری عمر کے ساتھی ہیں……….
    نور النسا بھی اب اس عمر میں ماضی کے سفر پر نکلا کرتیں اور ان کو سمجھ ہی نہ آتی تھی کہ وہ کیا کریں؟ نمازیں پوری کرتیں وظیفے پڑہتیں….. پھر؟ پھر وہی تنہائیاں، وہی یادیں۔
    انہیں وہ وقت یاد آتا جب ان کاموں کے لیے ان کے پاس فرصت نہیں تھی۔ ہک ہا!
    خدا بھی تب یاد آیا جب بندوں نے جان چھڑا لی۔ "تنہائی سے گھبرا کر میں مصلے پر آبیٹھی
    "واہ نور النسا! کیا سودا کیا ہے تم نے بھی، تم جیسی بیبیوں کو ساری عمر گھاٹا ہی ملتا ہے۔ تم بندوں میں گھری خالق کو بھول جاتی ہو اور پھر شکوے کرتی ہو۔”
    نور النسا کا اندر اب بہت بولتا تھا۔ انھیں حیرانی ہوتی کہ اب یہ کون سا وقت ہے بولنے کا؟ ساری عمر اسے دبائے رکھا، باہر کے شور میں اس کی سنی ہی نہیں، اب اور کوئی بچا نہیں تو اسی سے یاری گانٹھ لی ہے میں نے…
    بیٹیوں کے فون آتے، بیٹے صبح شام بات کرتے۔ اب تو فاصلے ہی سمٹ گئے ہیں۔ دور بیٹھے بچوں کو وہ سامنے سکرین پر دیکھ لیتیں۔ دن رات وہ اپنی حاضری لگواتے تھے۔ ماں سے دور ہیں تو کیا ہوا، رابطہ دوری کو گھٹا دیتا ہے۔
    ابھی بھی سب سے چھوٹی بیٹی نائلہ کا فون آیا تھا، وہ امریکا ہوتی ہے۔ پہلے اپنے وقت کے حساب سے فون کیا کرتی تھی تو ماں سے خوب ڈانٹ کھاتی۔ اب ان کے حساب سے کرتی ہے۔
    "میں نے سوچا حاضری لگوا لوں، آج سب سے پہلے میں نے ہی فون کیا ہے ناں؟” وہ ہنس رہی تھی۔ یہاں صبح کے دس بجے تھے، وہاں اس وقت تو رات ہوگی…”
    نور النسا کے اندر سے ایک آہ نکلی… حاضری! ان کا دل ڈوب کر ابھرا….
    وہ دنیاوی لحاظ سے کامیاب گردانی جاتی تھیں۔ ساری اولاد ہی ٹھکانے لگ گئی۔ تسبیح پھرولتی وہ کھو جاتیں۔
    "میں کیسی کیسی پریشانیاں لیے پھرتی تھی؟ بیٹیوں کی شادیاں، بیٹوں کی نوکریاں سارا کچھ ہی تو سدھر گیا۔ ایک یہی کام ہے جو…… جو…… میرے کرنے میں نہ آیا …میری تو حاضری ہی پوری نہیں ہے” ان کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ جاتی۔
    "کیوں ایسا گھاٹے کا سودا کیا میں نے؟”
    وہ خود اپنی ندامت پر حیران ہوتیں کہ ایسا خیال کہاں سے آلپکا انہیں۔ یوں ہی اچانک….. لیکن اچانک تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جب سے عائشہ سامنے والے گھر میں آئی تھی، نئے کرائے دار…… انہیں بھی ایک سہارا مل گیا۔ آنا جانا ہونے لگا؟ عائشہ جب بھی آتی، اس کی باتوں کے اندر ہی کہیں ٹوٹے جڑے ہوتے
    "بچوں کے پیپرز ہو رہے ہیں… بہت بزی ہوں….. عصرہونے والی ہے”……. کبھی کہتی:
    "اچانک مہمان آگئے تھے ظہر پڑھ رہی تھی میں۔” میں ظہر پڑھ رہی تھی کہ اچانک مہمان آگئے۔
    کبھی اسے بیٹھے بیٹھائے یاد آجاتا:
    "عشا ادا کرنے کے بعد میں کپڑے استری کر رہی تھی کہ امی کا فون آگیا۔” اس کی ساری گفتگو کے دوران ان ٹوٹوں میں وہ الجھ جاتیں۔ عائشہ تو اپنی ساری گفتگو سمیت اپنے گھر لوٹ جاتی لیکن اس کی فجر، ظہر، عصر ان کے ارد گرد کہیں بازگشت کرنے لگتیں۔
    "عائشہ جیسی ہی میں تھی، اور مجھ جیسی ہی عائشہ ہے۔ وہی گھریلو عورت وہی روایتی ذمہ داریاں…. پھر کچھ تو فرق ہے نا….. میں ساری عمر اک بھاگم بھاگ میں ہی رہی۔ کام کام کام!
    ’’یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی باقی ہے …..
    اتنا کر لیا ہے….. یہ ہو جائے گا……….. تو وہ کرنا ہے‘‘ کام آگے آگے تھے اور میں ان کے پیچھے ……..
    عائشہ بھی ایسی ہی ہے۔ میری اپنی بیٹیاں بھی دن رات انہی بکھیڑوں میں الجھی رہتی ہوں گی، بہویں بھی۔ لیکن یہ میری روٹین میں عائشہ کی طرح فجر ظہر عصر کیوں نہ تھیں؟ کاش! کبھی زندگی کی رنگا رنگی میں میں خالق کو نہ بھولی ہوتی۔ بچے گھر، شوہر، سسرال، ذمہ داریاں، رشتہ داریاں، محلے داریاں، دوستیاں…….. یہی رونا رہا ساری عمر…… کاش! اے کاش! اس سب میں میں نے اپنی حاضری تو یقینی بنائی ہوتی۔ بس اک حاضری….. ایک سجدہ جو نہ چھوٹا ہوتا۔ تو آج مجھے یہ ایسا جان لیوا پچھتاوا نہ ہوتا…….. سارے دھندے نپٹاتی رہی، بس اک مصلی بچھانا ہی دوبھر رہا میرے لیے۔ کیسا سودا کیا میں نے؟” وہ دن رات اسی سوچ میں گھلتی جاتیں۔

    ٭…٭…٭




  • سرہانے کا سانپ — شاذیہ خان

    صبح اُٹھ کر اس نے مُندی مُندی آنکھوں سے موبائل اُٹھایا اور Inboxمیں آئے ہوئے بہت سے میسجز کو چھوڑ کر احسن کا میسج پڑھا…
    ’’پیاری ربیعہ خوش رہو!
    آج کے بعد احسن نام کا کوئی شخص تمہاری زندگی میں نہیں رہے گا… بچپن سے اب تکبہت چاہا ہے میں نے تمہیں ۔ تمہارے سوا کبھی کسی کے بارے میں نہیں سوچا… اور تم نے ہی مجھے ٹھکرا دیا… یہ میں برداشت نہ کر پایا۔ میں جلد تمہاری دنیا سے دور چلا جائوں گا… خوش رہو… امید تو نہیں ہے کہ اللہ مجھے اس بات پر معاف کرے گا لیکن تم اللہ سیمیرے اس گناہ کی معافی ضرور طلب کرنا پلیز ربیعہ یہ میری آخری خواہش ہے۔
    احسن
    ربیعہ کی آنکھیں اس مسیج پر پوری طرح کھل گئیں۔یہ کیا کیا بے وقوف تم نے؟ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی اور فون پر کال ملائی۔ دوسری طرف سے مطلوبہ نمبر بند آنے کی نوید سنائی دے رہی تھی…اس نے کافی دیر ٹرائی کیا، پھر خالا جی کے گھر کا نمبر ملایا جو کسی نے اٹینڈ نہ کیا۔ اس پر ربیعہ ہڑبڑا کر دروازے کی سمت بھاگی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا دروازے پر اماں بوکھلائی ہوئی کھڑی تھیں۔
    ’’ربیعہ احسن نے نیند کی گولیاں کھالیں… ابھی باجی کا فون آیا تھا جلدی سے گاڑی نکالو۔‘‘ ان کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
    ’’لیکن اماں کیوں کیا احسن نے ایسا…؟‘‘اس نے بھی بوکھلا کر پوچھا۔
    ’’یہ تو پوچھ رہی ہے؟ دیکھ ربیعہ اگر میرے احسن کو کچھ ہوا تو میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘انہوں نے انگلی اُٹھا کر اُسے وارن کیا۔ اماں کی آنکھوں میں اس وقت وحشت ناچ رہی تھی… اور وہ اندر ہی اندر احسن کے لیے دعائیں کررہی تھی۔’’یا میرے مالک !احسن کو زندگی دے دے۔‘‘





    معمولی سی شکل صورت والا احسن ربیعہ کا خالہ زاد تھا۔ بچپن سے اس کے لیے بہت جذباتی اور بہت خیال رکھنے والا لیکن وہ اس کی حد سے زیادہ پروا کرنے کی وجہ سے اکثر چڑ جاتی… بے تحاشا حسین اور خوب صورت ربیعہ نے کبھی احسن کو اپنے ایک اچھے دوست سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی… لیکن وہ اچھے دوست سے ایک خاص دوست بننے کی ہرممکن کوشش کرتا رہا۔ ہر جگہ جہاں ربیعہ کو اس کی مدد کی ضرورت ہوتی وہ بنا کہے پہنچ جاتا اور وہ حیران رہ جاتی کہ اس کو کیسے خبر ہوئی؟ وہ ربیعہ کے لیے اپنے دل میں جیسے بھی جذبات رکھے لیکن ربیعہ کے دل میں اس کے لیے کسی خاص جگہ کی گنجائش نہ تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس سے محبت نہ کر پائی… اپنے آگے پیچھے پھرتے احسن سے اُسے چڑ ہونے لگی۔ خوامخوا ہر بات میں ٹانگ اڑاتا، اب اکثر وہ اسے چڑانے لگاتھا۔ اس نے اسی بات کا اظہار اپنی ماں سے بھی کردیا تو وہ ہنس پڑیں۔
    ’’پگلی ہم دونوں بہنیںتیرے اور اس کے بارے میں بہت کچھ سوچے بیٹھے ہیں۔ تیری خالہ تو تیرے لیے رشتہ بھی دے چکی ہیں۔‘‘انہوں نے انکشاف کیا۔
    ’’کیا سوچے بیٹھی ہیں اماں؟‘‘ اس نے حیرانی سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے پوچھا۔
    ’’یہی کہ ہم دونوں بہنیں تم دونوں کی وجہ سے ایک نئے رشتے میں بندھ جائیں۔‘‘
    ’’No Never اماں کبھی سوچئے گا بھی مت کہ میں آپ کی بات پر سر جھکا دوں گی۔‘‘
    ’’کیوں کیا برائی ہے احسن میں؟‘‘انہیں حیرانی ہوئی۔
    ’’برائی تو کچھ نہیں، بس وہ مجھے پسند نہیں اور آپ کو پتا ہے بچپن سے ایک چیز اگر مجھے پسند نہیں تو کوئی قوت اس کے لیے مجھے راضی نہیں کرسکتی۔‘‘
    ’’احسن کوئی چیز نہیں ہے ربیعہ، ایک جیتا جاگتا انسان ہے اور بچپن سے تم دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے ہو، ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہو۔‘‘انہوں نے سمجھایا۔
    ’’یہی تو مسئلہ ہے اماں کہ میں اُسے اچھی طرح سمجھتی ہوں، مجھے شوہر چاہیے ایک Puppyنہیں جو دم ہلائے میرے آگے پیچھے پھرتا رہے، میری ہر غلطی کو صحیح کہتا ہوا ہر بات مانتا ہوا… میں نے شوہر کے لیے بالکل الگ سا تصور بنایا ہوا ہے۔‘‘وہ چڑ گئی ان کی بات پر۔
    ’’ جب وہ شوہر بنے گا تو اس میں ساری خصوصیات شوہروں والی آجائیں گی یہ تو دیکھو کہ وہ کتنا چاہتا ہے تمہیں۔‘‘انہوں نے پیار سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ’’اماں آپ خالہ جی کو منع کردیں، میں نے نہیں کرنی احسن سے شادی…‘‘اس نے منہ بنایا۔
    ’’دیکھو ربیعہ جذباتی فیصلہ مت کرو… تھوڑا ٹائم لے لو سوچو اس سے بات کر لو پھر…‘‘
    ’’اماں میں نے کہہ دیا نا میرا فیصلہ تب بھی یہی ہوگا اور اب بھی یہی ہے، آپ صاف صاف خالہ جی کو منع کردیں کہ میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتی۔‘‘اس نے اماں کی بات کاٹ دی۔
    ’’تم بہت بڑی غلطی کررہی ہو ربیعہ اتنا چاہنے والا لڑکا قسمت والوں کو ملتا ہے۔‘‘وہ تاسف سے بولیں۔
    ’’ہاں تو ملنے دیں، کسی اور کی قسمت سنورنے دیں، جو میری قسمت میں ہوگا مجھے مل جائے گا۔‘‘اس نے تنفر سے جواب دیا اور وہ اُسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    یہ کل کی بات تھی کہ کس دل سے انہوں نے بہن کو انکار کیا اور آج یہ خبر آگئی۔
    وہ دونوں ہسپتال پہنچیں تو خالہ کوریڈور میں ہی کھڑی رو رہی تھیں۔ وہ دونوں ان کے پاس آگئیں۔
    ’’دیکھ لیا تم نے اس انکار کا انجام میرا بیٹا آج موت کی کش مکش میں ہے۔… اگر اس کو کچھ ہوگیا تو ربیعہ یاد رکھنا ساری عمر میری بددعائوں کے سائے میں رہو گی۔‘‘ ان کے لہجے کی آگ ربیعہ کو جلا گئی۔ وہ خالہ جی جو کبھی دعائیں دیتے نہیں تھکتی تھیں اب منہ بھر بھر کر کوسنے دے رہی تھیں۔
    ’’خالہ جی کیسا ہے وہ؟‘‘ اب اُسے واقعی دکھ ہورہا تھا۔
    ’’مرنے کے قریب ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ چوبیسگھنٹے اہم ہیں اس کے لیے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ بہت کرب سے رو پڑیں اور پھر اس نے چوبیسگھنٹے صرف ایک دعا مانگنے میں وقف کردیئے کہ’’ اے میرے مالک اسے بچا لے۔‘‘ نہ جانے اللہ نے کہاں سے اس کے دل میں احسن کے لیے اتنی اپنائیت بھر دی تھی۔ اگلے دن چوبیسگھنٹے پورے ہوئے تو احسن نے آنکھیں کھول دیں اور اس نے بھی سکون کی سانس لی کہ ایک بے گناہ کا خون اس کے سرپر نہیں۔ورنہ وہ ساری عمر خالہ جی اور اپنے گھر والوں سے نظریں نہیں ملا سکتی تھی۔
    ان دونوں کی منگنی اگلے مہینے ہی طے پا گئی۔ منگنی کی رات احسن بہت خوش نظر آرہا تھا اور یہ خوشی اس کے چہرے پر بھی پوری طرح نظر آرہی تھی۔ ربیعہ بھی خوش تھی لیکن کہیں اندر ایک گہری سی اُداسی بھی تھی۔ شاید اس کے ذہن میں اپنے شوہر کے لیے جو خاکہ تھا احسن اس پر پورا نہیں اترتا تھا لیکن اس کی خودکشی نے ربیعہ کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک نرم گوشہسا پیدا کردیا تھا کہ ایک شخص جو آپ کے لیے اپنی زندگی کو بھی خاطر میں نہیں لارہا اور زندگی جیسی چیز اس نے کتنی آسانی سے اس پر نثار کردی، کچھ تو ہے اس کی محبت میں… اور پھر اس نے بھی اپنی پوری زندگی اسی ایک شخص کے لیے وقف کرنے اور لُٹا نے کا فیصلہ کرلیا۔
    شادی کی ساری تیاریاں ان دونوں نے مل کر کیں۔ ساری چیزیں ربیعہ کی پسند سے خریدی گئیں اور بڑی دھوم دھام سے ربیعہ اس کی زندگی میں چلی آئی۔ اس کی خوشی چھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔ خالہ جی ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر ان کے لیے دعائیں کررہی تھیں۔
    شوہر بننے کے بعد جیسے وہ اس کے بارے میں اور زیادہ possiveہوگیا تھا۔ربیعہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا، اُسے کیا کھانا ہے؟ کیا پہننا ہے؟ کب سونا ہے؟ یہ ساری تفصیلات اُس سے زیادہ احسن کو پتا ہوتیں۔ آفس جانے سے پہلے ربیعہ کو کبھی نہیں اٹھاتا بلکہ اکثر اس کا ناشتہ بنا کر بھی رکھ جاتا۔ وہ روز بہت شرمندہ شرمندہ سی اٹھتی اور خود کو بُرا بھلا کہتی کہ یار وہ تمہارا شوہر ہے اس کو تمہاری توجہ چاہیے، ٹائم چاہیے۔ صُبح اٹھنا اور اٹھ کر ناشتہ بنانا اس کو کبھی پسند نہ تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے احسن کے لیے اُٹھنا شروع کردیا۔ اس کی پسند کا ناشتہ بناتی اور دوپہر کے کھانے کے لیے بھی پوچھتی، پہلے تو وہ دوپہر کا کھانا آفس سے ہی منگوالیتا تھا لیکن اب وہ خود لنچ بکس بنا کر اُسے بھیجتی۔ جتنی محبت وہ اس سے کرتا تھا اس کی تھوڑی بہت مقدار تو وہ بھی اس کو لوٹا سکتی تھی۔ اکثر وہ رات کو باہر ہی کھانا کھاتے۔ گھر میں ایک کام والی آتی تھی۔ جو کچن اور صفائی کے کام کرتی اور ربیعہ کو اس سے کافی سہولت تھی۔
    خالہ اس کی شادی کے بعد بڑے بھائی کے پاس شفٹ ہوگئیں تھیں تاکہ ان دونوں کے درمیان under standingپیدا ہو جائے اور ان کی سٹریٹیجی کامیاب بھی ہوگئی۔ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کی محبت اور خیال پختہ ہوتا جارہا تھا۔ محبت ’’خیال‘‘ کا نام ہی تو ہے کسی کا بے تحاشا خیال رکھنا، اس کے اُٹھنے، بیٹھنے، چلنے پھرنے، کھانے پینے یا اس کے ناراض ہونے پر دُکھی ہو جانا اور منانے کی ہرممکن کوشش کرنا اس کی چھوٹی سی بیپروائی کو بھی بہت زیادہ محسوس کرنا یہی تو محبت کی روح ہے۔
    وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئے تھے اب کبھی کبھی ربیعہ کو ہنسی آتی کہ کس طرح احسن کی جو باتیں اُسے Irretateکرتی تھیں اور آج اس رشتے نے انہی باتوں کو محبت کا روپ دے دیا۔ اب اگر ایک لمحہ بھی وہ اُس کی کسی بات کو بھول جاتا تھا تو وہ دُکھی ہو جاتی کہ اس نے خیال کیوں نہ کیا۔ جیسے آج دونوں بازار گئے اور دکان دکان پھرتے اُسے ایک انگوٹھی بہت پسند آئی۔ پسند کے رنگ ربیعہ کے آنکھوں میں اپنی پوری قوت سے جھلملائے جسے احسن نے بھی پوری طرح محسوس کرلیا لیکن مہینے کے آخری دنوں میں چالیس ہزار کی رقم نے اسے ایک لمحہ سوچنے پر مجبور کردیا۔ بہت بے دلی سے ربیعہ نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی کش مکش کو محسوس کرتے ہوئے انگوٹھی واپس رکھ دی۔ دل میں تھوڑا غبار سا آگیا۔گھر آکر بھی وہ تھوڑا اُکھڑی اُکھڑی سی تھی۔ جسے وہ شدت سے محسوس کررہا تھا… کھانا بھی ربیعہ نے بے دلی سے کھایا۔ کمرے میں آتے ہی اس نے کپڑے چینج کیے اور ڈریسنگ پر بیٹھی منہ ہاتھ دھو کر لوشن لگا رہی تھی کہ وہ پاس ہی آکر کھڑا ہوگیا۔اور بہت غور سے اس کو دیکھتا رہا۔
    ’’کیا ہوا ناراض ہو؟‘‘ربیعہ کو اپنی طرف گھماتے ہوئے اُس نے پوچھا۔
    ’’نہیں ناراضگی کیسی؟‘‘ہاتھ میں موجود لوشن کہنیوں پر ملتے ہوئے وہ اپنے لہجے کے روکھے پن پر قابو نہ پاسکی۔
    ’’کیوں کہ تمہیں تمہاری پسند کی چیز نہیں لے کر دی۔‘‘وہ نہ جانے کیا پوچھنا چاہ رہا تھا۔
    ’’اتنا سب کچھ تو لے دیا ایک چیز رہ گئی تو کوئی بات نہیں‘‘ اس نے بے پروائی ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔
    ’’بات کیسے نہیں تمہاری آنکھوں میں اس انگوٹھی کو دیکھ کر جو چمک ابھری تھی اتنا تو مجھے دیکھ کر بھی نہیں آتی۔‘‘ اس نے مزاحیہ انداز میں کہا۔
    ’’Very funny احسن زیادہ بکواس نہ کرو۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘اس نے آنکھیں نکالیں۔
    ’’ایسا تھا میں تمہیں جانتا ہوں۔‘‘وہ بہت پختہ تھا اپنی بات میں اسی لیے پُریقین انداز میں بولا۔
    ’’کیا جانتے ہو؟‘‘اُس نے اسی انداز میں پوچھا۔
    ’’یہی کہ اول تو تمہیں کوئی چیز پسند نہیں آتی اور اگر آجائے تو تمہارے دل سے مشکل سے نکلتی ہے۔‘‘
    ’’تمہاری خام خیالی ہے، مجھے تو یاد بھی نہیں۔‘‘بے پروائی سے کندھے اُچکا کر بولی۔
    ’’ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ اس نے ربیعہ کا چہرہ اپنی طرف گھمایا تو ربیعہ نے ایک نظر ڈال کر اپنی نظریں جھکا لیں۔
    ‘‘جھوٹ بول رہی ہونا، جب ہی نظریں نہیں ملا رہیں۔‘‘وہ بہت پیار سے بولا۔
    اففف! احسن تمہاری آنکھوں میں detactor لگے ہوئے ہیں، کتنی آسانی سے سکین کرلیتے ہو بندے کے اندر اُتر کر کوئی جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔‘‘وہ ہتھیار ڈالنے والے انداز میں بولی۔
    ’’اچھا! جلدی سے آنکھیں بند کرو۔‘‘وہ زور دے کر بولا۔
    ’’کیوں؟‘‘اس نے حیرانی سے پوچھا۔
    ’’یار بند کرو آنکھیں پلیز!‘‘اس نے التجا کی۔