Tag: alif kahani

  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”

  • چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

    چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

    تحریر:نوید احمد
    قسط نمبر7
    ”چنبیلی کے پھول”

    ”تم یہاں؟”
    بہت دیر بعد اُس کی آواز آئی۔
    برسوں بعد دھوکہ دے کر چلے جانے والے لوگ واپس آجائیں تو انسان اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
    ”ہاں کیسے ہو؟”
    وہ دلربائی سے مسکرائی۔ وہی حسین مسکراہٹ؟ وہی بھورے بال، سنہری آنکھیں۔۔۔۔ مگر آج اُس کے حسن میں وہ کشش نہیں تھی جو اُسے دیوانہ کردیا کرتی تھی۔ ماہم نے رشک بھرے انداز میں اُسے دیکھا۔ گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ ایک بے حد شاندار اور ہینڈسم مرد کے روپ میں اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ پہلے وہ دبلا پتلا لڑکا ہوتا تھا۔ مونچھیں بھی نہیں رکھی تھیں اُس نے اور اُس کے چہرے پر دانے بھی ہوا کرتے تھے مگر اب تو اُس پر نظر ہی نہیں ٹھہرتی تھی۔ اُس کی وجاہت میں اک سحر تھا۔ وہ اُسے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے پلکی نہیں جھپک سکی۔
    ”ٹھیک ہوں۔۔۔۔ کیسے آنا ہوا؟”
    اس نے اجنبیت بھرے خشک انداز میں کہا۔ وہ ذرا قریب آیا، جوس کا گلاس میز پر رکھا مگر بیٹھا نہیں ، اسی طرح کھڑا رہا۔
    ماہم نے اس کی بے اعتنائی کو اُس کی ناراضگی سمجھا۔ ہاں ناراض ہونے کا حق تو اُسے تھا ہی۔
    ”سنا ہے کہ تم نے منگنی کرلی ہے؟ میں امریکہ سے پاکستان آئی ہوئی تھی تو سوچا کہ تمہیں مبارک باد ہی دے دوں۔ بالآخر تم نے بھی اپنی فیملی لائف شروع کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔”
    اُس نے اسے بغور دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ انداز ایسا تھا جیسے اُن کے مابین کبھی فاصلے آئے ہی نہ ہوں۔
    ”تھینک یو۔”
    وہ روکھے پھیکے انداز میں بولا۔
    ”سنا ہے کہ ستارہ آنٹی آئی ہوئی ہیں؟ اتنے سالوں بعد کیسے لوٹ آئیں وہ؟” اُس نے کریدنے والے انداز میں پوچھا۔ اُن کے چلے جانے کی وجہ سے تو وہ اور زوار الگ ہوئے تھے۔ اب اتنے سالوں بعد وہ اتنے دھڑلے سے بھلا کیسے واپس آگئیں۔ یہ سوال کافی دنوں سے اُسے بے چین کررہا تھا۔
    ”اُن کا گھر ہے یہ۔۔۔۔ وہ یہاں کبھی بھی آسکتی ہیں۔۔۔ اور ویسے بھی وہ میری شادی کے لئے آئی ہیں۔”
    اُس نے خشک انداز میں کہا۔
    لہجہ اجنبی سا تھا۔ اُسے ماہم کی یہ باتیں عجیب لگنے کے ساتھ ساتھ غصہ دلا رہی تھیں۔
    ”مگر وہ تو تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ پھر اب تمہاری شادی پر آنے کا خیال کیسے آگیا انہیں؟”
    ماہم نے اپنا طنزیہ انداز آج بھی ترک نہیں کیا تھا۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کو وقت کے ساتھ بھی بہتر نہیں بنا پاتے۔
    زوار نے اس کی بات پر خفگی سے ابرو اچکا کر اُسے دیکھا بھلا وہ ایسے سوال جواب کرنے والی کون ہوتی تھی۔
    ”وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی تھیں، میں خود ہی اُن کے ساتھ نہیں گیا تھا۔”
    اُس نے سرد انداز میں کہا۔
    ”جانتی ہوں میں۔”
    وہ طنزیہ انداز میں ہنسی۔
    وہ اُسے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ اُس کی منگنی کی خبر سن کر دراصل اُس پر اپنا غصہ نکالنے ہی یہاں آئی تھی۔ خود تو وہ شادی کرکے امریکہ چلی گئی تھی اور تین بچوں کی ماں بھی بن بیٹھی مگر اُس کی خواہش تھی کہ زوار ساری زندگی اُس سے محبت کرتا رہے اور اُس کا جوگ لئے بیٹھا رہے۔
    زوار نے سوچا کہ اک وہ لڑکی تھی جو برستی بارش میں اُس کی ممی کی سفارش کرنے اُس کے پاس آئی تھی اور ایک یہ لڑکی تھی جو اتنے سالوں بعد بھی اُسے طعنے دینے کے لئے آئی تھی ۔ ایک لمحے کا موازنہ تھا۔
    اور ایک لمحے کے موازنے نے اُسے مطمئن کردیا۔
    ”کیا سوچ رہے ہو؟”
    پھر اُس نے ماہم کو کہتے ہوئے سنا۔
    وہ اپنے خیالوں سے چونکا۔
    ”اپنی منگیتر کے بارے میں سو چ رہا ہوں۔”
    اُس کے چہرے کے تاثرات میں نرمی آئی تھی۔
    ماہم کو یہ جواب اچھا نہیں لگا۔
    ”مجھے ممی سے قریب کرنے میں اُس کا بھی ایک کردار ہے۔ رانیہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ رشتے نبھانے والی، محبتیں بانٹنے والی، سب کا خیال رکھنے والی، میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی اچھی لڑکی کا ساتھ نصیب ہوا ہے۔”
    اس نے سنجیدہ انداز میں کہا۔
    ماہم یہ سن کر چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔ وہ اپنی منگیتر کی تعریف کررہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں رانیہ کے لئے محبت تھی۔ وہ زوار کا یہ انداز دیکھنے کے لئے تو یہاں نہیں آئی تھی۔۔۔۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور مسکرا کر بڑی لگاوٹ سے بولی۔
    ”اتنے سالوں بعد ہماری ملاقات ہورہی ہے۔ ساری باتیں کیا یونہی کھڑے کھڑے ہی کرلوگے؟ بیٹھو گے نہیں؟ کیا تمہیں یاد نہیں رہا کہ ہم دونوں کبھی بیسٹ فرینڈز ہوا کرتے تھے؟”
    زوار پر اس اپنائیت کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
    ”نہیں۔۔۔۔ مجھے بالکل یاد نہیں ہے۔”
    اُس نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔
    ماہم کو اُس کے اِس انداز پر صدمہ ہوا۔ اُس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے اُسے احساس ہوا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ وہ واقعی اُسے بھول چکا تھا۔
    ”وہ لڑکی کون ہے؟جس سے منگنی کرکے تم اپنے پرانے دوستوں کو بھلا بیٹھے ہو۔”
    اُس نے حاسدانہ انداز میں پوچھا۔
    وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
    "She is a Queen.”
    اُس نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جیسے رانیہ کا تعارف کروایا۔
    جملہ خوبصورت تھا۔ اِس جملے سے زیادہ اُس کی آواز سے چھلکتی محبت نے ماہم کو چونکا یا تھا۔ اب وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا۔ وہ بھی اتنی شدت سے ، کہ وہ اپنے ماضی کے سب اندھیرے بھول گیا تھا۔
    اُس کے جملے نے اُسے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
    زوار نے دیوار پر لگے وال کلاک پر ٹائم دیکھا۔
    ”ممی سے ملنا چاہتی ہو تو انتظار کرلو میں آفس کے لئے لیٹ ہورہا ہوں۔” اُس نے نارمل سے اجنبی لہجے میں کہا۔ اُس کی آواز میں کسی قسم کی وارفتگی یا جذباتی لگائو نہیں تھا۔ ایسا انداز جو کسی بن بلائے مہمان کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ میز پر سے اپنا جوس کا گلاس اٹھا کر باہر چلا گیا۔
    وہ بے عزتی کے احساس کے ساتھ وہیں بیٹھی رہی۔ اُس کے سارے سنگھار پھیکے پڑ گئے۔ یہ وہ زوار نہیں تھا جسے وہ برسوں پہلے جانتی تھی۔ جو اُس کے بچپن کا دوست تھا، اُس کا عاشق تھا اور اُس کی شادی پر بُری طرح رویا تھا جس کے بارے میں اُسے خوش فہمی تھی کہ وہ اُسے کبھی نہیں بھول سکتا۔
    یہ تو کوئی اجنبی آدمی تھا۔
    وہ اپنا پرس اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    رانیہ کی امی کی باتوں کا اثر تھا یا عقیل میاں کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوگیا تھا کہ جیسے ہی انہیں روشنی کے میکے آجانے اور ثاقب کی دوسری شادی کی اطلاع ملی، انہوں نے فون پر ثاقب اور اس کے گھر والوں کو خوب کھری کھری سنائیں۔ ثاقب سمیت اس کے سارے گھر والوں کو باری باری فون کیا اور سب کی خوب خبرلی۔ بات گالم گلوچ تک جا پہنچی ۔ عطیہ عقیل کو منع کرتی رہیں مگر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہوگئے تھے۔ پھر رانیہ کی امی ، جیمو ماموں اور فردوسی خالہ بھی ثاقب کے گھر گئے، اُس کے گھر والوں سے بات کی وہاں تو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔
    ثاقب جیسے ضدی، جھگڑالو اور غصے کے تیز آدمی سے لوگوں کی لعن طعن اور لعنت ملامت سننا دوبھر ہوگیا اور اس نے طیش میں آکر روشنی کو طلاق بھجوا دی۔ طلاق بھیجتے وقت اُسے برسوں کی رفاقت اور روشنی کی وفا بھی یاد نہ رہی حالانکہ وفا اِتنی آسانی سے بھولنے والی چیز نہیں ہوتی۔ وہ اپنی دوسری امیر کبیر بیوی کے ساتھ خوش تھا۔ اب اُس کی زندگی میں روشنی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
    کسی عورت کو طلاق دینا کون سا مشکل کام ہوتا ہے۔ وکیل کی فیس ہی تو بھرنی ہوتی ہے۔ کاغذ ہی تو تیار کرنے ہوتے ہیں۔
    فردوسی خالہ کے لئے اس عمر میں یہ ایک بڑ ا صدمہ تھا روشنی گم صم ہوکر رہ گئیں۔ ثاقب کی دوسری شادی پر روتی تھیں کہ شوہر کی بے وفائی کا غم تھا۔ اب روتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس کرتیں کہ ایک نامحرم اور غیر آدمی کیلئے کیسے آنسو بہائیں۔ آنسو بھی تو ہر ایک کیلئے نہیں بہائے جاسکتے۔ لوگ طعنے دیتے کہ ایسے دھوکے باز اور بے وفا آدمی کیلئے کیوں آنسو بہاتی ہو۔ رونا بھی دوبھر ہوجاتا۔
    محلے والے، خاندان والے، رشتہ دار سب ہی ان کے دُکھ میں شریک تھے۔ فردوسی خالہ ایک مقبول شخصیت تھیں۔ لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔ ان کا دُکھ بانٹنا اپنا فرض سمجھتے۔
    لوگ آتے جاتے ، ثاقب کو برا بھلا کہتے۔
    کہ شاید اس طرح روشنی کا غم ہلکا ہوجائے۔ وہ چپ چاپ سنتی رہتیں۔ وہ آج بھی نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ ثاقب کی برائیاں کریں۔
    جب دو لوگوں میں طلاق ہوجاتی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر اور ایک دوسرے کی برائیاں سن کر خوش ہوں گے ۔ مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ برسوں کی رفاقت کا لحاظ اور انسان کا ضمیر اُسے اِس حد تک گرنے سے روک دیتا ہے۔
    رانیہ کی امی نے زوار کی ممی سے کہہ دیا کہ رانیہ اور زوار کی شادی روشنی کی عدت مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگی۔ روشنی اُن کی خالہ زاد بہن اور ہر دلعزیز سہیلی تھی۔ اُن کا دل نہ مانا کہ اُن کی بہن عدت میں بیٹھی ہو اور وہ دھو م دھام سے ڈھول تاشوں کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کردیں۔ زوار کی ممی نے خندہ پیشانی سے اِس بات کو قبول کیا اور روشنی کے ساتھ گزرے اس حادثے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
    روشنی صدمے کی کیفیت میں تھیں۔
    ٫
    دن گزرتے جارہے تھے۔
    وہ سارا دن ایک کمرے میں بیٹھی رہتیں۔
    وہ پہروں خاموش رہتیں۔فردوسی خالہ اپنے آنسو چھپا کر لقمے بنا بنا کر اپنے ہاتھوں سے کھلاتیں۔
    زندگی میں دو موقعے ایسے آئے تھے جب انہیں دنیا والوں سے اپنے آنسو چھپانے پڑتے تھے۔
    ایک موقع تب تھا جب وہ ریٹائرہوئی تھیں اور دوسرا جب انہوں نے روشنی کے طلاق کے کاغذ دیکھے تھے۔ روشنی صدمے سے سوچتیں…
    برسوں کی رفاقت ، خدمت اور ریاضت کا یہ صلہ ملا! یہ انسان کا دیا ہوا صلہ تھا۔
    پھر انہیں خیال آتا کہ طلاق نامے پر ثاقب نے اپنی مرضی سے دستخط نہیں کئے ہوں گے ضرور اُس عورت نے انہیں مجبور کیا ہوگا۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے۔ بُرے تھے مگر اتنے بھی نہیں غم حیران رہ جاتا پھر یہ حیرت صدمے میں بدل جاتی…وہ کیسا گھر تھا ! جہاں کھڑکی سے جھانکنا بھی جرم تھا۔ جہاں اُن کی رائے اور خواہشات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ جہاں ان کے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ آنسو سمندر بن جاتے پھر بھی کسی کو نظر نہ آتے۔ وہ برقع اوڑھے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں شوہر کے ساتھ کبھی بحث نہ کی۔ اس نے جو بھی کہا چپ کرکے سن لیا۔ شوہر گھر آتا تو کھانے کے تھال سجا کر سامنے رکھتیں، تازہ روٹی، گرم سالن، ٹھنڈا پانی، لسی کا گلاس، دستر خوان روزانہ ہی اہتمام سے سجا ہوتا، مگر اہتمام کرنے والی کی پھر بھی کوئی قدر کوئی عزت نہ تھی۔ روز رات کو سونے سے پہلے میاں کے پائوں دباتیں کہ یہ بھی ثواب کا کام تھا۔ شوہر کو خوش رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
    ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ… احسان فراموش اور بے ضمیر… دوسروں کو روگ لگا کر خود خوشیوں کے شادیانے بجاتے ہیں۔
    بعض مردوں کی یاداشت اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے کہ کسی نے پوری جوانی دان دی اور انہیں یاد ہی نہ رہا۔
    ٭…٭…٭
    ”ہیلو کوئین!”
    وہ اپنے مخصوص انداز میں خوش دلی سے بولا۔
    اُس کی آواز میں وہی جوش وولولہ تھا جو ہمیشہ سے ہوتا۔
    رانیہ رات کے اِ س وقت ابھی بیڈ بنا کر بیٹھی ہی تھی کہ زوار کا فون آگیا۔
    ”روز رات کو فون کرنا ضروری ہے کیا؟”
    اُس نے بظاہر مسکرا کر کہا۔
    وہ اس کی روزانہ کی فون کالز کی عادی ہوتی جارہی تھی۔
    ”مجھے لگتا ہے کہ تم روز میرے فون کا انتظار کرتی ہو”
    اس نے مسکراتی آواز میں جواب دیا۔
    وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    اُس کی ہنسی میں سحر تھا جس نے زوار کے دل کو اسیر کرلیا۔
    ”یہ خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے۔”
    ”خوش فہمیاں خوش رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ Anywaysتمہاری خالہ کی ڈائیوورس کے بارے میں سن کر ہم سب کو ہی افسوس ہوا۔ میں نے منگنی پردیکھا تھا انہیں… وہ تو خاصی پردہ دار خاتون ہیں۔”
    زوار نے کہا۔
    ”ہاں پردہ دار، فرمانبردار، تابعدار، سلیقہ مند… وہ رشتے میں میری خالہ لگتی ہیں ۔ ہم تو انہیں بچپن سے ایسے ہی دیکھتے آرہے ہیں۔”
    اس نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”اوہ! پھر تو بڑی ٹریجڈی ہوئی اُن کے ساتھ۔ اُن کا ایشو کیا تھا؟”
    اس نے سنجیدہ آواز میں کہا۔
    ”اُن کے شوہر نے دوسری شادی کرلی۔ خاندان والوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے غصے میں آکر طلاق بھجوادی۔ میں نے بی اے میں Tolerance کے نام سے ایک مضمون پڑھا تھا ۔ رٹے لگانے کے باوجود مجھے وہ اُس وقت سمجھ نہیں آیا تھا کہ بھلا صرف برداشت کرنے کے وصف کی وجہ سے قوموں کی تقدیر اور معاشرے کا نظام کیسے سنور سکتا ہے! صرف برداشت کی کمی کی وجہ سے قومیں کیسے تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ مگر اب میں نے جانا کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ نہ ہو تو گھر اُجڑ جایا کرتے ہیں ۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔”
    اس نے گہرا سانس لے کر کہا۔
    ایک لمحہ میں اُسے بہت کچھ یاد آگیا۔
    فارس میں بھی تو صبر اور برداشت کی کمی تھی اور اسی وجہ سے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اُن دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔
    یک دم ہی زوار کو کوئی خیال آیا۔
    ”تمہاری خالہ نے اپنے بارے میں اب کیا سوچا ہے؟”
    اُس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
    ‘انہوں نے کیا سوچنا ہے۔ ابھی تو وہ عدت میں ہیں۔ فردوسی خالہ کی پنشن آتی ہے، پھر عقیل ماموں بھی کینیڈا سے کبھی کبھار رقم بھیجتے رہتے ہیں… گھر بھی اپنا ہے، وہیں رہیں گی۔”
    اُس نے کہا۔
    ”اُن کی شادی بھی تو ہوسکتی ہے۔”
    زوار کی بات سن کر وہ اُچھل پڑی۔
    ”اس عمر میں اب وہ کیا شادی کریں گی!”
    اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
    ”وہ اتنی بوڑھی بھی نہیں ہیں اور شادی تو کسی بھی عمر میں کی جاسکتی ہے۔”
    وہ اطمینان سے بولا۔
    رانیہ حیران ہوئی کہ بھلا زور کو روشنی کی شادی میں اتنی دلچسپی کیوں تھی۔
    ”اس بات کا فیصلہ تو فردوسی خالہ ہی کرسکتی ہیں۔ اُن کا بہت سے لوگوں کے ساتھ ملنا ملانا ہے۔ شاید روشنی باجی کے لئے کوئی اچھا اور Suitableرشتہ مل جائے۔”
    اُس نے بھی اس بات پر سوچا ۔ اچھی بات تھی کہ روشنی کو سہارا مل جاتا اور فردوسی خالہ کا غم بھی کچھ ہلکا ہوتا۔
    زوار کی اگلی بات سن کر تو وہ لمحہ بھر کے لئے ساکت رہ گئی۔
    ”اُن کی شادی جیموماموں کے ساتھ بھی تو ہو سکتی ہے۔”
    یہ تو بس زوار کے ذہن کا ہی کمال تھا جو ۔ اُس نے اِس اعتماد کے ساتھ اِ س امکان کے بارے میں سوچا ورنہ اُن سب لوگوں کے لئے تو یہ انہونی سی بات تھی۔
    ”جیمو ماموں اور روشنی باجی کی شادی؟”
    کچھ دیر بعد وہ بے یقینی بھرے انداز میں بولی۔
    ہنسی مذاق میں جیموماموں سے متعلق بہت باتیں ہوتی تھیں مگر کبھی کسی نے اِس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب لوگ جانتے تھے کہ جیموماموں اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن تھے اور انہیں دوسری شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
    ”اگر روشنی باجی یا جیمو ماموں نے انکار کردیا؟”
    اُس نے اس امکان کو بھی مدنظر رکھا۔
    وہ مسکرایا۔
    ”نہیں کریں گے… بس اُن دونوں کو ذرا طریقے سے منانا پڑے گا۔”
    اُس کے یقین بھرے انداز نے اُسے چونکانے کے ساتھ ساتھ حیران بھی کیا۔ وہ کسی ماہر نفسیات کی طرح اُسے مشورے دے رہا تھا۔
    ”ہمیں تو کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ انہیں بھی ہمسفر کی خواہش ہوگی… وہ تو بہت سالوں سے اکیلے ہیں۔ ہم نے انہیں ہمیشہ ہنستے ہنساتے ، بانسری اور ستار بجاتے، شطرنج کھیلتے اور غزلیں پڑھتے ہی دیکھا ہے… اور ہم سب بھی اُنہیں اسی طرح دیکھتے رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اُن کی زندگی میں کوئی کمی ہے۔”
    ”بعض دفعہ گھر کے بزرگ بچوں کے سامنے اپنی خواہشات کا اظہار نہیں کرپاتے… روایات، اقدار کی اجازت نہیں دیتا، تو بہت سی باتیں بچوں کو خود ہی سمجھ لینی چاہیے۔”
    وہ رسانیت سے بولا۔
    اُس کی بات بھی ٹھیک تھی۔ ایسا ہوبھی سکتا تھا۔
    ”امی نے بہت بار کوشش کی مگر جیمو ماموں دوسری شادی کے لئے نہیں مانے۔ پھر امی نے بھی انہیں کہنا چھوڑ دیا۔”
    رانیہ نے کہا۔
    ”پہلے ان کے بچے چھوٹے تھے وہ اپنے بچوں پر سوتیلی ماں کا رعب پسند نہیں کرتے ہوں گے۔ اب اُ ن کے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ سمجھدار ہیں۔ انہیں بھی اس بات کا احساس ہے کہ اُن کے والد نے اُن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ اس سوسائٹی میں سوتیلی ماں اور سوتیلے باپ کا تصور لوگوں کو terrifiedکردیتاہے۔پھر ارد گرد رہنے والے لوگ بھی اپنی باتوں سے اِس خوف کو بڑھا دیتے ہیں اور یوں یہ خوف لوگوں کے لاشعور پر حاوی ہوجاتا ہے۔ مگر اب جیمو ماموں اپنے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔”
    اُس نے رسانیت سے کہا۔
    اُس کی باتوں میں لاجک تھی۔
    رانیہ سوچ میں پڑگئی۔
    ”میں اس بارے میں امی سے بات کروں گی، اگر ایسا ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ امی جیمو ماموں کو بھی منا ہی لیں گی۔”
    اُ س نے سوچتے ہوئے کہا۔
    جیمو ماموں زندہ دل شخصیت کے مالک تھے اور روشنی خاموش طبع خاتون تھیں۔ اُن دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ مگر اس کے باوجود ، رانیہ کویقین تھا کہ وہ دونوں اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    ”اپنے گھر والوں سے بات کرکے مجھے بتانا۔”
    زوار نے نرمی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے۔”
    اس نے بے ساختہ کہا۔
    پھر جب وہ فون بند کرکے سونے کے لئے لیٹے تو اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا۔
    روشنی اور جیمو ماموں کی شادی…
    ٭…٭…٭

  • چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    6:قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول
    مدیحہ شاہد

    سارہ نے عشنا کو فون پر جو خبر سنائی تھی وہ اس کے لیے بڑی حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین تھی۔ اس نے فوراً کوٹ پہنا، لانگ شوز پہنے، مفلر لپیٹا اور تیزی سے گھر سے باہر نکلی۔ عطیہ اسے روکتی ہی رہ گئیں مگر وہ برف میں راستہ بناتی ہوئی بھاگتی ہوئی سارہ کے گھر پہنچی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔
    وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور لائونج کے دروازے کے پاس آکر جیسے اس کے قدم وہیں رک گئے وہ حیرت سے اپنی پلکیں جھپکنے لگی۔
    زوار راکنگ چیئر پر بیٹھا اطمینان سے کافی پیتے ہوئے کھڑکی کے پار گرتی برف کو دیکھ رہا تھا پھر اس نے گردن موڑ کر حیران کھڑی عشنا کو دیکھا اور دلکشی سے مسکرایا۔
    ”کیسی ہو عشنا!”
    وہ مسکراتی آواز میں بولا۔ اسے لوگوں کو حیران کر دینے کی عادت تھی۔ وہ اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اسے اندرون لاہور کے ایک پررونق گھر میں دیکھا تھا اور اب کینیڈا کے اس اپارٹمنٹ میں دیکھ رہی تھی۔ وہ واقعی عجیب و غریب شخصیت کا حامل تھا۔ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
    ”آپ یہاں کیسے آگئے؟”
    خوشگوار حیرت کے ساتھ کہتے ہوئے وہ اپنے بالوں اور کوٹ پر سے برف جھاڑتے ہوئے قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
    ”جہاز میں بیٹھ کر۔”
    اس نے برجستہ جواب دیا۔ وہ اپنی اس ہی حاضر جوابی کی وجہ سے مشہور تھا۔ سارہ کچن سے نکل کر لائونج میں آئی۔ اس کے چہرے پر اطمینان بھری خوشی کا عکس تھا۔
    ”عشنا! سرپرائز کیسا رہا؟”
    وہ خوش دلی سے بولی۔
    ”میں تو ابھی تک اتنی حیران ہوں کہ بتا نہیں سکتی۔ زوار بھائی! اگر آپ نے یہاں آنا ہی تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا!”
    عشنا ابھی تک اپنی حیرت پر قابو نہیں پا سکی تھی۔
    ”کیا تمہیں بتانا ضروری تھا؟”
    وہ اطمینان سے کافی پیتے ہوئے بولا۔ وہ لاجواب ہو گئی۔
    ”کیا آپ کو یہاں جیمو ماموں نے بھیجا ہے؟”
    اسے اچانک خیال آیا کہ یہ ضرور جیمو ماموںکا ہی کارنامہ ہو گا ورنہ لاہور سے کینیڈا کا سفر اتنا بھی آسان نہیں تھا۔
    ”نہیں۔ میں یہاں خود اپنی مرضی سے آیا ہوں۔”
    اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
    ”عشنا! Thank you so much۔ تمہارا ایڈونچر کامیاب ہو گیا۔ دیکھو بھائی ہمارے پاس آگئے۔ ”
    سارہ کی آواز میں ممنونیت تھی۔
    عشنا نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔
    ”نہیں۔ یہ میرے کہنے سے نہیں آئے۔ مجھے تو یہ کوئی اور ہی چکر لگتا ہے۔”
    وہ زوار کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی پھر اس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے سارہ کو دیکھا۔
    ”سارہ! اپنی دوست کو کافی نہیں پلائو گی؟”
    ”ہاں ضرور میں ابھی کافی بنا کر لاتی ہوں۔”
    وہ دوبارہ کچن میں چلی گئی۔
    ”میں بھی حیران تھی کہ آپ نے رانیہ باجی کو انکار کیسے کر دیا تھا۔”
    عشنا نے معنی خیز انداز میں کہا۔
    ”انکار نہیں کیا تھا۔”
    زوار کی آنکھیں یکدم چمکنے لگیں۔
    ” مگر انہوں نے مجھے خود بتایا تھا آپ نے صرف انہیں انکار ہی نہیں کیا تھا بلکہ ان کی insult بھی کی تھی۔”
    عشنا نے کہا وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ الجھ بھی گئی تھی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے۔ دراصل وہ میری بات سمجھ نہیں پائی تھی۔ کافی بے وقوف لڑکی ہے تمہاری کزن۔”
    اس کے چہرے کی مسکراہٹ کا عکس اس کی آنکھوں میں بھی چمک رہا تھا۔
    ”مگر میں نے بھی آپ سے بات کی تھی تو آپ نے مجھے کہا تھا کہ سارہ کو کوئی جواب نہ دینا۔”
    وہ اسے اس کی باتیں یاد دلا رہی تھی۔
    ”ہاں۔ کیوں کہ یہ جواب میں اسے خود دینا چاہتا تھا”
    اس نے نرمی سے جواب دیا۔
    ”آپ نے کینیڈا آنے کا پہلے سے ہی ارادہ کر لیا تھا تو پھر اتنی دیر کیوں کر دی؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”شاید یہی مناسب وقت تھا۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔ اس کی باتیں عشنا کے سر پر سے گزر گئیں۔
    ”مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ یہاں کس کے کہنے پر آئے ہیں!”
    وہ کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
    ”اپنے دل کے کہنے پر۔”
    وہ اسی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ وہ اس سے باتوں میں جیت نہیں سکتی تھی۔
    ”کیا پاکستان میں کسی کو معلوم ہے کہ آپ یہاں آئے ہیں؟”
    عشنا نے پوچھا۔
    ”اب معلوم ہو جائے گا سب کو۔”
    وہ معنی خیز انداز میں مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولا۔
    وہ لوگوں کو لاجواب کرنے میں ماہر تھا۔
    عشنا نے مسکراتے ہوئے سرجھٹکا۔
    ”زوار بھائی! آپ سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ آپ کی personality بے حدcomplicated ہے ۔ رانیہ باجی آپ کے بارے میں ٹھیک کہتی ہیں۔”
    عشنا نے بالآخر اعتراف کیا۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
    ”ہاں۔ وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ اسی لیے تو مجھے پسند نہیں کرتی۔”
    عشنا کو ہنسی آگئی۔
    ”مگر اب تو آپ بدل گئے ہیں۔ شاید وہ اب آپ کو پسند کر لیں۔”
    عشنا نے شوخی سے کہا۔ زوار کی آنکھوں میں خوشی کا عکس چمکنے لگا۔
    ”امید تو ہے۔”
    اس کی آواز دھیمی مگر خوشی سے معمور تھی۔
    ”سارہ عشنا کے لیے کافی لے کر آگئی۔ کافی کے مگ کے ساتھ ٹرے میں آلمنڈ کیک اور پیزا بھی تھا۔ یقینا یہ سارا اہتمام زوار کے آنے کی خوشی میں کیا گیا تھا۔
    ”میں اور ممی بھائی کیساتھ پاکستان جا رہے ہیں۔”
    سارہ نے میز پر ٹرے رکھتے ہوئے اسے کافی کا مگ تھماتے ہوئے کہا۔
    ”اور تمہاری ایجوکیشن؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”پاکستان جا کر ہی پڑھوں گی اب۔”
    سارہ نے اطمینان سے جواب دیا اور عشنا کے قریب بیٹھ گئی گویا وہ لوگ سب کچھ پلان کر چکے تھے۔
    ”ناصرہ آنٹی تو بہت خوش ہوں گی!”
    عشنا نے کہا پھر اس نے کیک کا پیس اٹھا لیا۔
    ”ہاں میں نے بہت سالوں بعد ممی کو اتنا خوش دیکھا ہے۔ وہ کچھ شاپنگ کرنے قریبی سٹور تک گئی ہیں۔ کل بھائی ٹکٹ بھی لے آئیں گے۔ بہت سال رہ لیا ہم نے یہاں پر۔ اب پاکستان واپس جا رہے ہیں۔ اپنے گھر میں رہیں گے۔ وہیں میرا بچپن گزرا تھا اور ہاں! بھائی کی شادی بھی ہو رہی ہے۔”
    سارہ نے مسکرا کر کہا۔
    ”اچھا؟ کس سے؟”
    عشنا بے ساختہ بولی۔
    وہ حیران ہوئی۔ اسے تو ابھی تک اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی تھی حالاں کہ ثمن سے تو اس کی روزانہ ہی بات ہوتی تھی مگر اسے ثمن نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی تھی۔
    ”ایک لڑکی سے۔”
    وہ مبہم سے انداز میں بولا۔
    ”کون ہے وہ لڑکی؟”
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔ سارہ نے معنی خیزی سے زوار کی طرف دیکھا۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا۔
    ”تمہاری کزن رانیہ!”
    سارہ بے ساختہ ہنسی اس کی ہنسی میں خوشیوں کی بھنک تھی۔ عشنا کو اس کی بات سمجھنے میں چند سیکنڈز لگے کہانی اتنی آگے تک بڑھ گئی تھی اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
    زوار کی ذہانت کے سامنے تو اسے اپنے سارے ایڈونچرز فضول ہی لگنے لگ گئے تھے۔
    پھر اس نے مسکراتے ہوئے اطمینان سے ٹیک لگا لی۔ اب اسے زوار سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔
    بہت عرصے بعد اس اپارٹمنٹ میں خوشی نے قدم رکھا تھا۔
    سارہ ہنس رہی تھی اور زوار کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ ٹھہر گئی۔
    آج برف پر سورج چمکا تھا۔
    ٭…٭…٭

    روشنی اداس اور ملول تھیں۔ برقع کے کونے سے اپنی نم آنکھیں پونچھ رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے اتنے برسوں کی ریاضت اور قربانیاں بے کار چلی گئیں اور آج وہ خالی ہاتھ اور خالی دل تھیں۔
    رانیہ کی امی اور جیمو ماموں انہیں تسلی دے رہے تھے۔
    ”تو آپ کے میاں نے بالآخر دوسری شادی کر ہی لی۔”
    جیمو ماموں نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدہ اور متفکر انداز میں کہا۔ یہ خبر ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی انہیں بے حد افسوس ہوا تھا۔
    ”کون عورت ہے وہ؟ جس نے ایک عورت کے بسے بسائے گھر پر ڈاکا ڈالا۔ ارے اسے تو کوئی بھی مل جاتا، کسی کے شوہر سے شادی کرنا

  • ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    قسط نمبر5
    چنبیلی کے پھول”

    سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا کہ رانیہ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ اچانک کیا ہوگیا ۔
    برسوں پرانی منگنی ختم ہوگئی۔ اُسے اپنے گھر والوں سے اس انتہائی قدم کی امید نہیں تھی۔ سب لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اور فارس ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود امی اور جیمو ماموں نے اُس منگنی کو توڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگایا اور منگنی توڑنے کے بعد وہ بے حد مطمئن بھی تھے جو کہ بڑی حیر ت انگیز بات تھی۔ پتا نہیں انہوں نے یہ فیصلہ کب اور کیسے کرلیا کہ اسے خبر بھی نہ ہوسکی۔ حالانکہ انہو ں نے تو ہمیشہ فارس اور بی جان کا لحاظ کیا تھا ان کی تلخ و ترش باتیں خاموشی سے برداشت کیں تھیں۔ مگر نہ جانے اب کیا ہوا تھا کہ امی اور ماموں کا مزاج بالکل ہی بدل گیا۔
    فارس اور بی جان تو واویلا مچا کر اور خوب لڑائی جھگڑا کرکے جاچکے تھے۔
    رانیہ رو رہی تھی مگر اُسے نہ تو کسی نے چپ کروایا اور نہ ہی کسی نے اُسے تسلی دی۔ بلکہ کسی نے بھی اس کے رونے دھونے کو اہمیت ہی نہیں دی۔ اُس کے گھر والے اپنے فیصلے پر قائم تھے۔ ان کے خیال میں یہی فیصلہ رانیہ کے مستقبل کے لئے بہتر تھا۔ وہ دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھی کہ اس کی تو کوئی بات ہی نہیں سن رہا تھا۔
    وہ روئے جارہی تھی۔
    ”کیوں کیا آپ لوگوں نے ایسا؟ جبکہ میں آپ لوگوں کو منع بھی کررہی تھی۔ میری مرضی کے بغیر…”
    اس کا جملہ ادھورا رہ گیا ۔ امی نے خفگی بھرے انداز میں اس کی بات کاٹ دی۔
    ”تمہاری مرضی کو اہمیت دینے کا نتیجہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ اتنا عرصہ ہم فارس کی بدتمیزیاں برداشت کرتے رہے۔ اس کی دھمکیاں سنتے رہے۔ اس کا لحاظ کرتے رہے مگر تمہیں اپنے غلط فیصلے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ نہ تمہیں اپنی بیوہ ماں کا احساس ہے نہ اپنی یتیم بہن کا اور نہ اپنے ریٹائر ماموں کا… کیسی لڑکی ہو تم؟”
    امی نے درشت لہجے میں اُسے ڈانٹا۔
    وہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”آپ لوگوں نے فارس کو کبھی دل سے قبول ہی نہیں کیا۔ کبھی اُسے اہمیت نہیں دی۔ کبھی کسی دعوت پر کسی فنکشن پر اُسے نہیں بلایا۔ آپ لوگ شروع سے ہی اُسے پسند نہیں کرتے تھے۔”
    رانیہ نے دکھے دل کے ساتھ شکوہ کیا۔
    امی نے ماتھے پر بل ڈال کر اُسے دیکھا۔
    ”کیونکہ وہ ایک لالچی اور خودغرض لڑکا ہے۔ اس کی نظر اس حویلی پر ہے۔”
    امی نے سخت لہجے میں کہا۔
    ”وہ حویلی میری خوشیوں سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے۔ اور جائیدادیں تو بک ہی جاتی ہیں۔ رشتے اہم ہوتے ہیں۔ مجھے نفرت ہے اُس حویلی سے… میرا بس چلتا تو وہ حویلی میں فارس کے نام کردیتی۔”
    امی اور ماموں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا۔ ماموں نے شکر کیا کہ حویلی کے کاغذات ان کے پاس رکھے تھے۔
    امی نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا۔
    ”اگر حویلی تم اس کے نام کردیتی تو وہ اُسے بیچ کر کھا جاتا۔ اور بعد میں دوسری شادی کرلیتا۔”
    امی نے اُسے حقیقت کا ایک بھیانک رخ دکھاتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں… وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتا میں اُسے جانتی ہوں۔”
    رانیہ نے یقین سے کہا۔
    ”تم اُسے بالکل نہیں جانتی… اور اگر اُسے موقع ملتا تو وہ ایسا ہی کرتا۔”
    ماموں نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ رانیہ کو اس بات پر بالکل یقین نہیں تھا۔
    ”بند کرو یہ رونا دھونا۔ تم بھی فارس کی طرح خود غرض ہو۔”
    امی نے اُسے بری طرح جھڑکا۔ رانیہ دم بخود رہ گئی۔ اس کے آنسو خشک ہوگئے۔ اسے اپنے لئے خودغرض لفظ سننے کی امید نہیں تھی۔ اس کی آنکھ میں حیرانی اور غم ایک ساتھ ٹھہر گئے۔
    ”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی۔”
    وہ صدمے سے بولی۔
    ”ٹھیک کہہ رہی ہوں فارس کو تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔ اُس نے صرف محبت کا ڈرامہ کیا تھا۔ اس نے تم سے یہ منگنی صرف حویلی کی وجہ سے کی تھی۔ اس نے سوچا کہ تم ایک صاحب جائیداد لڑکی ہو۔ اس وجہ سے اُس نے محبت کا جھانسہ دے کر تمہیں بے وقوف بنایا۔ ارے اس جیسے نکمے نالائق کو بھلا کون رشتہ دیتا۔ یہ تو ہماری ہی عقل پر پتھر پڑگئے تھے ورنہ یہ فیصلہ ہمیں بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔”
    امی نے ناراض آواز میں کہا۔
    وہ آنکھوں میں صدمے کی کیفیت کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔ جیمو ماموں بھی امی کا ساتھ دینے کے لئے بول پڑے۔
    ”رانیہ! تمہیں فارس سے اچھا رشتہ مل جائے گا۔ وہ کوئی دنیا کا آخری لڑکا تو ہے نہیں کہ اگر تمہاری زندگی سے چلا گیا تو تمہاری شادی ہی نہیں ہوگی۔”
    سب اُسے ہی سمجھا رہے تھے۔
    وہ بھی اپنی ضد پر قائم رہی۔ بات محبت کی تھی اور محبت کے معاملے میں لڑکیاں بڑی بے وقوف ہوتی ہیں۔
    ”میں فارس کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔”
    اس نے جذباتی انداز میں کہا۔
    امی نے پیشانی پر بل ڈالے اس کی بات سنی۔
    ”ہم فیصلہ کرچکے ہیں۔ اب ہم نے تمہاری ایک نہیں سننی۔ اب ہم وہی کریں گے جو ہمیں مناسب لگے گا۔ تم میں اتنی عقل ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔”
    امی نے قطعی اور فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    رانیہ کو دکھ تھا کہ اس کے گھر والوں کو اپنی زیادتی کا احساس ہی نہیں ہے اور سب اسی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔
    وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کسی نے اُس کا دکھ نہیں بانٹا تھا۔
    فارس اور اس کی محبت برسوں پرانی تھی۔ خاندان کا ہر شخص حیران تھا کہ آخر اُسے فارس جیسے لڑکے سے کیسے محبت ہوگئی۔ وہ بدتمیز، بداخلاق، بدمزاج تھا اور پھر نکما اور نالائق بھی۔ پڑھنے لکھنے میں اُسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہر وقت بس اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا۔
    جبکہ رانیہ پڑھی لکھی سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ آخر فارس میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ رانیہ نے اُسے اپنا دل دے دیاتھا۔
    کم عمری کی محبت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اس میں ایسی شدت، دیوانگی اور جنون ہوتا ہے کہ عقل کے فیصلے اہم نہیں رہتے۔
    فارس وہ پہلا لڑکا تھا جس نے رانیہ سے اظہار محبت کیا تھا۔ اس نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی امی کو رشتے کے لئے اس کے گھر بھیجے گا۔ اس جملے میں بڑی تاثیر تھی۔ ایک جادو تھا جس نے رانیہ کے دل کو اسیر کرلیا تھا۔ ا س جملے کی چابی سے ہر لڑکی کے دل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ محبت کے اظہار کا ہر انداز انوکھا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ ہر لڑکی کے لئے خوش رنگ تجربہ ہوتا ہے۔
    محبت کے دعوے دار اور میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے تو بڑے مل جاتے ہیں، مگر شادی کی بات کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ رانیہ کے دل میں فارس کی عزت بڑھ گئی۔ اس نے اپنی ماں کو رانیہ کا رشتہ مانگنے بھیجا، جو کہا وہ کردکھایا۔ اور یوں اس نے رانیہ کے دل کی بلندی کو چھولیا۔ عورت اس مرد کی عزت کرتی ہے جو اس سے کیا وعدہ نبھانا جانتا ہے۔
    فارس کوئی شہزادہ گلفام نہیں تھا۔ ایک عام سا لڑکا تھا مگر ہر لڑکی کے لئے اس کا محبوب ہی شہزادہ گلفام ہوتا ہے۔
    اُسے فارس کی محبت پر یقین تھا اور محبت تو ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے۔ عشق میں لوگ نفع و نقصان کا حساب نہیں رکھتے۔
    رانیہ کو برسوں پرانی منگنی ٹوٹنے کا غم تھا۔ وہ شاک کے زیر اثر تھی۔
    فارس بھی بہت غصے میں تھا۔

    اس نے رانیہ کو فون کیا تو وہ اپنے کمرے میں صدمے سے نڈھال بیٹھی تھی۔
    ”رانیہ! تمہارے گھر والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ ارے وہ تو یہ منگنی توڑنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ یہ فیصلہ تو انہوں نے پہلے ہی کرلیا تھا۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ وہ لوگ تمہاری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے۔ تمہاری شادی کی صورت میں وہ حویلی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مجھے لالچی اور خودغرض کہتے ہیں، لالچی اور خودغرض تو وہ لوگ خود ہیں۔”
    فارس کی آواز میں غصہ تھا۔ خلاف توقع وہ جیتی ہوئی بازی ہار گیا تھا۔ اُسے شکست کا احساس بھی تھا اور ذلت کا بھی۔
    رانیہ اپنی جگہ مجبور تھی۔
    ”فارس ! تم نے اتنی جلد بازی سے کیوں کام لیا؟ تم اچھی طرح جانتے تھے کہ میری فیملی حویلی کے موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ پھر بی جان کو ایسی بات کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ باتیں شادی کے بعد میں بھی تو کی جاسکتی تھیں۔”
    رانیہ نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
    فارس نے درشت انداز میں اُسے ٹوک دیا۔
    ”وہ حویلی تمہاری ہے۔ اس کی مالک تم ہو… تم وہ حویلی اپنی تحویل میں لے سکتی ہو۔ اُسے بیچ سکتی ہو، اُسے نیلام کرسکتی ہو۔ جو چاہے کرسکتی ہو۔ تمہیں اپنے اختیارات اور اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ آج تمہاری بزدلی نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ تمہارے گھر والوں نے سب کے سامنے ہمیں ذلیل کیا اور تم چپ چاپ دیکھتی رہی۔”
    وہ خفا سے انداز میں بولا۔ فارس کو رانیہ کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ رانیہ پر بھی غصہ تھا۔
    ”فارس میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تھی مگر کسی نے میری بات ہی نہیں سنی۔”
    اس نے اپنی صفائی پیش کی۔ وہ ملول اور اداس ہوگئی۔ کسی کو اس کے دکھ کا احساس ہی نہیں تھا۔ ہر بندہ اسے ہی ڈانٹ رہا تھا۔ اسی کو باتیں سنا رہا تھا۔
    ”رہنے دو یہ بے کار کی وضاحتیں۔ اب تمہیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہر حال میں میرا ساتھ دوگی۔ جو میں کہوں گا وہی کروگی۔”
    وہ ذرا سنجیدہ ہوا اور رعب سے بولا۔
    ”اب کیا کرنا ہوگا مجھے۔”
    وہ اس کی بات سمجھ نہیں سکی۔
    ”اس مسئلے کا ایک حل ہے میرے پاس۔”
    اب کی بار اُس کا لہجہ اتنا درشت نہیں تھا۔
    ”کیا؟”
    اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”ہم کورٹ میرج کرلیتے ہیں۔”
    اس نے گویا دھماکہ کیا۔
    کورٹ میرج کا نام سنتے ہی رانیہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس کے ہاتھ پائوں کانپنے لگے۔
    ”نہیں فارس، میں ایسا نہیں کرسکتی۔ اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی ہوں۔”
    وہ خوفزدہ انداز میں بولی۔
    ”تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں نہیں، صرف اپنے اور میرے بارے میں سوچنا ہے۔ ایک بار ہمارا نکاح ہوجائے پھر کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ پھر تمہارے گھر والوں کو ہماری شادی کے لئے ماننا ہی پڑے گا۔”
    وہ اسے بہکا رہا تھا۔
    وہ اس بات کے لئے کبھی راضی نہیں ہوسکتی تھی۔
    ”عجلت سے کام نہ لو فارس، مجھے تھوڑا وقت دو۔ میں امی اور جیمو ماموں سے دوبارہ بات کروں گی۔”
    اس نے خوفزدہ انداز میں کہا۔فارس نہیں مانا۔
    ”وہ نہیں مانیںگے۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی؟ کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ جب تم ساری دنیا کے سامنے تھیٹر ڈرامے کرسکتی ہو تو کورٹ میرج کرنا تمہارے لئے کون سا مشکل کام ہے!”
    اُسے فارس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔ اس نے تو کبھی رانیہ کے تھیٹر میں کام کرنے کی مخالفت نہیں کی تھی پھر آج اس نے اسے اس بات کا طعنہ کیوں دے دیا تھا۔رانیہ کو لگا جیسے وہ کسی اجنبی سے بات کررہی ہے۔
    ”فارس! تھیٹر میرا شو ق ہے۔ کورٹ میرج کرنا کسی بھی لڑکی کا شو ق نہیں ہوسکتا۔ تھیٹر میں پرفارم کرنا ایک آرٹ ہے… ایک فن ہے۔ کیا آرٹ کی فیلڈ سے وابستہ لوگ گھر سے بھاگ کر شادیاں کرتے ہیں؟”
    اس کے لہجے میں افسوس تھا۔ اسے فارس کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔ فارس کے لئے تو جیسے اس کا دکھ اور صدمہ کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا۔
    ”جب تم اپنی مرضی سے تھیٹر میں کام کرسکتی ہو تو اپنی مرضی سے جاکر شادی بھی کرسکتی ہو۔ تم کون سا گھر میں رہنے والی، ہانڈی چولہا کرنے والی چھوٹی موٹی لڑکی ہو جسے زمانے کی کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ اب تمہیں کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ کل صبح نو بجے میں تمہارے گھر کے باہر آجائوں گا۔ وہیں سے ہم کورٹ چلے جائیں گے۔ وکیل، گواہ، سب انتظامات میں کرلوں گا۔”
    وہ اسی انداز میں بولا۔
    اس کی باتیں تکلیف دہ تھیں۔
    ”نہیں، میںنہیں آسکتی فارس۔”
    اس نے انکار کردیا ۔فارس نے اس کے انکار کو اہمیت نہیں دی۔
    ”کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ لوگ کورٹ میرج کرتے ہی ہیں۔یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ مجبور ہوتی ہے لوگوں کی۔ تمہیں تھوڑی سی ہمت کرنی پڑے گی۔ ایک بار میرا اور تمہارا نکاح ہوجائے پھر میں دیکھوں گا کہ تمہارے گھر والے کیسے حویلی پر قبضہ جمائے رکھتے ہیں۔”
    وہ تلخ انداز میں بولا۔ اس کے لہجے میں رانیہ کے گھر والوں کے لئے بڑی نفرت اور حقارت تھی۔
    ”فارس… میری بات تو سنو۔”
    رانیہ کے اوسان خطا ہونے لگے۔
    اس نے تو کورٹ میرج کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
    ”کل صبح نو بجے۔”
    حکیمہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔ اس کے انداز میں کوئی لچک، کوئی گنجائش نہیں تھی۔ رانیہ کی آنکھوں سے چند آنسو بڑی خاموشی کے ساتھ نکلے۔ وہ شدید ذہنی دبائو اور ڈپریشن کا شکار ہورہی تھی۔ فارس نے غصے کے عالم میں اُسے جو طعنے دیئے تھے۔ ان کی تکلیف اتنی جلدی کم ہونے والی نہیں تھی۔ وہ تو فارس کو بہت روشن خیال شخص سمجھتی تھی اور اس کی روشن خیالی کی مثالیں دیا کرتی تھی۔ مگر آج فارس کے دیئے گئے طعنوں نے اُسے بہت دکھ دیا تھا۔
    اوپر سے وہ اس سے کورٹ میرج کرنے کا مطالبہ بھی کررہا تھا۔ وہ کسی صورت اس کی یہ بات نہیں مان سکتی تھی۔
    وہ کتنی ہی دیر اپنے کمرے میں بیٹھی روتی رہی۔ رات کو ماموں اس کے کمرے میں آئے۔
    وہ اُنہیں آتا دیکھ کر اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
    عنایا خاموشی سے میز پر چائے کے کپ اور سینڈوچ رکھ کر چلی گئی۔ ماموں کرسی پر بیٹھ گئے۔
    ”میں نے سوچا کہ آج رانیہ کے ساتھ چائے پی جائے۔”
    وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے پھر چائے کے کپ کی طرف اشارہ کیا۔
    اس نے ناچاہتے ہوئے بھی چائے کا کپ اٹھالیا۔
    بھوک، پیاس سے اس کا برا حال تھا۔
    ماموں نے اصرار کرکے اسے سینڈوچ بھی کھلایا۔
    اسے ڈھارس ملی کہ گھر والوں کے لئے وہ اتنی بھی غیر اہم نہیں تھی۔ ماموں خود چل کر اس کے کمرے میں آئے تھے۔ احترام کا تقاضا تھا کہ وہ ان کی بات سنتی اور بحث و مباحثہ نہ کرتی۔ اس گھر میں بزرگوں کی عزت و احترام کے کچھ اصول تھے۔
    ”سینڈوچ تو بہت ہی مزے دار ہیں۔ عنایا کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔”
    وہ مسکرا کر بولے۔

    وہ خاموشی سے سینڈوچ کھانے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ یہ باتیں کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ یہ تو صرف تمہید ہے۔
    پھر کچھ دیر بعد انہوں نے سنجیدگی سے اس بات کا آغاز کیا جس کے لئے وہ اس وقت یہاں آئے تھے۔
    ”رانیہ بیٹا! زندگی میں بہت سی چیزیں غیر متوقع ہوتی ہیں۔ انسان جن سے محبت کرتا ہے ان سے بچھڑ جاتا ہے۔ جو چاہتا ہے وہ حاصل نہیں کرپاتا۔مقد رکے فیصلوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپاتا۔ مگر آسمان والے کے فیصلے زمین والوں کے فیصلوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ اور اس کا احساس انسان کو وقت گزرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔”
    وہ اسے سمجھا رہے تھے۔ وہ رو رو کر تھک چکی تھی اور اب خاموشی سے چائے پی رہی تھی۔
    ”مجھے اپنی منگنی کے ٹوٹنے کا بہت دکھ ہے ماموں۔ آپ لوگوں نے میری مرضی، میری رائے کو اہمیت نہیں دی۔”
    کچھ دیر بعد اس نے اُداس آواز میں کہا۔
    ”ہم تمہارے بزرگ ہیں۔ تمہارے لئے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کریں گے۔ ہم پر اعتبار رکھو۔ فارس جیسا لالچی آدمی تمہیں کبھی خوشیاں نہیں دے سکتا۔ آج اس نے حویلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کل کوئی اور مطالبہ کرکے دوبارہ تمہیں بلیک میل کرے گا۔ جن لوگوں کو دوسروں کی چیزوں پر قبضہ کرنے کی عادت پڑجائے وہ آہستہ آہستہ دوسروں کی سب چیزیں چھین لیتے ہیں۔”
    ماموں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ رانیہ کے چہرے پر اداسی تھی۔
    ”مگر میں فارس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔”
    اس نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم مگر سنجیدہ آواز میں کہا۔ ماموں کچھ دیر سوچتے رہے۔ آج انہیں رانیہ کی بے وقوفی پر دکھ ہوا تھا۔ فارس نے اسے ہپناٹائز کرلیا تھا اور وہ اس کے اثر سے باہر نہیں آنا چاہتی تھی۔
    پھر انہوں نے چائے کا کپ آہستگی سے میز پر رکھا اور تفکر بھری سنجیدگی سے کہنے لگے۔
    ”رانیہ! کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں ضرور سوچنا جو پہلے ہی بلڈ پریشر کی مریض ہیں۔ ابھی تمہاری دونوں بہنوں عنایا اور ثمن کی شادی بھی ہونی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی غلط فیصلہ ان دونوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوجائے۔ جب تمہاری مامی کا انتقال ہوا تو ثمن اور ٹیپو بہت چھوٹے تھے۔میں نے بہت محنت سے ان کی پرورش کی۔ زندگی کے ساتھی کے بغیر اتنے سال گزار دیے۔ اپنے بچوں کے لئے قربانی دی کہ نجانے سوتیلی ماں آکر ان کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ جب تک وہ سمجھدار نہیں ہوجاتے، میرا پورا وقت اور توجہ صرف میرے بچوں کے لئے ہی ہے۔ اپنے دکھ، غم اور تنہائی کے روگ کو زندہ دلی کی آڑ میں چھپا لیا۔ پھر میں نے اپنی بہن کو بیوگی کا دکھ جھیلتے دیکھا۔ وہ دن رات تمہاری اور عنایا کی فکر میں پریشان رہتیں۔ یہی سوچتی رہتیں کہ تم دونوں کی ذمہ داری تنہا کیسے اٹھائیں گی۔ پھر ہم دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے دکھ بانٹ لئے۔ ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ لیا۔ جانے والوں کا دکھ تو ہمیشہ دل میں موجود رہتا ہے مگر تم لوگوں کے لئے ہم نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ ہم اپنے دکھ بھول چکے ہیں۔ اصل بات ہی قربانی دینے کی ہوتی ہے ۔ بیٹا جو لوگ قربانی دینا نہیں جانتے وہ کبھی محبت نہیں کرسکتے تم ایسا کوئی قدم نہ اٹھانا جس سے اس گھر کی عزت پر آنچ آئے۔”

  • چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر3)”

    چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر3)”

    تحریر:نوید احمد
    قسط نمبر3
    ”چنبیلی کے پھول“

    زوار نے اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی مگر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
    یہ اتفاق نہیں تھا۔
    یہ آدمی بار بار اُس کے راستے میں کیوں آجاتا تھا؟ کل تک وہ محض اُس کا فین تھا اور آج اُس کے ڈرامے کا financer بھی بن گیا، یہ اتفاق کیسے ہوسکتا تھا بھلا!
    یہ اُس کا وہم نہیں تھا کہ وہ اُس کے آس پاس رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جہاں جاتی تھی، وہاں پہنچ جاتا۔ آخر وہ اُس سے کیا چاہتا تھا، کیوں بار بار اُس سے ٹکراتا تھا۔
    اُس کی آنکھیں بے حد گہری اور چونکا دینے والی تھیں۔ وہ محسوس کرتی کہ جب بھی وہ اس کی طرف دیکھتا ہے تو اُس کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک آجاتی ہے۔ اُس کی شخصیت میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ سامنے والا اُس کی شخصیت کے رعب میں آجاتا۔ وہ اُسے جتنا اگنور کرتی وہ اُتنا ہی اُس کے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈتا۔ اب وہ اس کے تھیٹر ڈرامے کا اسپانسر بھی بن گیا تھا تو بھلا وہ اُسے کیسے نظر انداز کرسکتی تھی اور شاید وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ اس انداز میں اُس کے قریب آئے کہ وہ اُسے نظر انداز نہ کرسکے۔
    ”چلو رانیہ……“
    شزا نے اُسے یوں ساکت کھڑے دیکھ کر اُس کا بازو تھام کر کہا۔
    اُس کے قدم من من بھر کے ہوگئے۔
    وہ اس شخص سے خوفزدہ ہوگئی تھی اور یہ خوف اس کی آنکھوں میں بھی نظر آرہا تھا۔
    ڈائریکٹر نے زوار آفندی سے سب لوگوں کا تعارف کروایا۔ وہ غائب دماغی سے سب کی باتیں سنتی رہی۔
    رانیہ کے علاوہ سب لوگ بہت خوش نظر آرہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک وہی تھی سنجیدہ، گم سُم اور قدرے خوفزدہ بھی……
    اس کے بعد لنچ تھا جو زوار کی طرف سے تھا۔ وہ اُن سے ذرا فاصلے پر کھڑا آرگنائزر کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔
    وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھی ایک کونے میں ہی بیٹھی رہی۔
    شزا نے اُس کی اس غائب دماغی کو نوٹ کیا۔
    ”تم کچھ کھا نہیں رہی!“
    شزا نے اُسے یوں کونے میں الگ تھلگ بیٹھے دیکھا تو اس کے لئے پلیٹ میں سینڈوچز لے آئی۔
    ”مجھے بھوک نہیں ہے۔“
    اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”Financerکو دیکھ کر تمہاری بھو ک کیوں اڑ گئی؟“
    پتا نہیں شزا نے اُسے کیوں چھیڑا۔
    ”یہ آدمی……“
    وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہتے کہتے رُک گئی وہ یہ باتیں کسی کے ساتھ شیئر بھی نہیں کرسکتی تھی اور وہ شزا کو مشکوک بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شزا نے اُس کی ادھوری بات پر اتنا دھیان نہیں دیا۔
    ”میں تو سمجھی تھی کہ کوئی پکی عمر کا، سفید بالوں والا کوئی موٹا بھدا سا بندہ ہوگا مگر یہ تو بڑا ہی ہینڈسم آدمی ہے۔ بالکل ہیرو لگ رہا ہے۔دیکھو! سب سے مسکرا مسکرا کر باتیں کررہا ہے۔ ذرا بھی غرور نہیں ہے اس میں۔“
    شزا ذرا فاصلے پرکھڑے زوار کو دیکھ کر کہہ رہی تھی۔رانیہ نے اُس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔
    شزا نے اُس کی خاموشی کو محسوس کیا وہ مسلسل اُس کے بالوں میں چمکتے تاج کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا پتا کہ واقعی یہ اتنا امیر آدمی ہو کہ اس کے لئے سونے اور موتیوں کا تاج منگوانا کوئی بڑی بات ہی نہ ہو…… ویسے بندہ بڑے زبردستtaste کا مالک ہے۔“
    اُس نے سینڈوچ کھاتے ہوئے کہا۔
    رانیہ نے نفی میں سرہلایا۔
    ”تمہیں تو وہم ہوگیا ہے کہ یہ تاج سونے کا ہے۔ تم خود سوچو کہ ایک تھیٹر ڈرامے کے لئے یہ آدمی سونے اور موتیوں کا تاج کیوں بنوائے گا؟“
    ”یہی تو میں سوچ رہی ہوں …… مگر خیر تھیٹر پلے والے دن میری بہن آئے گی تو وہ خود ہی اس تاج کے بارے میں بتادے گی۔“
    شزا نے پرسوچ انداز میں کہا۔
    وہ تاج اتنا ہی قیمتی اور خوبصورت تھا کہ دیکھنے والوں کو چونکا دیتا۔
    ”ٹھیک ہے۔“
    رانیہ نے کہا۔ اُسے اس تاج میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ شزا کو ڈائریکٹر نے کسی کام سے بلایا تو وہ اٹھ کر چلی گئی۔
    زوار اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔ لوگ اُس سے متاثر ہورہے تھے۔ اس کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے۔
    اگر وہ شزا کو بتاتی کہ ایک بار ا س آدمی نے اُس سے آٹوگراف لیا تھا تو شزا بالکل یقین نہ کرتی بلکہ اس کی بات پر بہت ہنستی۔ رانیہ نے زوار آفندی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ اور آنکھوں میں روشنی سی تھی۔
    اب وہ اُسے نظر انداز نہیں کرسکتی تھی۔ اب اُس سے مجبورا ً اُسے بات کرنی ہی تھی۔
    وہ اب اُس کے عین سامنے کھڑا تھا۔
    ”کیسی ہیں آپ کوئین؟“
    وہ خوشدلی سے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
    اس کی بے حد گہری نظریں جیسے اُس پر ٹھہر گئی تھیں۔
    ”آپ تو بالکل کوئین آف اسکاٹ لینڈ لگ رہی ہیں۔“
    اس نے اس کی تعریف کی تھی۔
    ”تھینک یو۔“
    وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
    آخر کچھ تو اُسے کہنا ہی تھا۔
    ”سب سے الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہیں آپ؟“
    اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
    رانیہ نے بے ساختہ نظریں جھکالیں۔ زوار کی آنکھیں بے حد گہری تھیں، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنا بہت مشکل کام تھا۔
    اسے محسوس ہوتا کہ زوار صرف اس کا فین ہی نہیں ہے بلکہ کوئی اور بات بھی ہے۔
    ”بس ویسے ہی…… مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ financer بھی ہیں۔“
    اُس نے کہا۔
    اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
    ”بن گیا ہوں۔“
    وہ بے ساختہ بولا۔
    جملہ مختصر مگر واضح تھا۔
    وہ خاموش رہی۔ اب اس سے یہ پوچھنا کہ وہ فائنانسر کیوں بن گیا تھا، احمقانہ پن کی انتہا ہی ہوتی۔
    ”میں تو آپ کے گھر والوں کی دعوت کا انتظار ہی کرتا رہا۔“
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”وہ لوگ کچھ پلان تو کررہے ہیں۔ آپ کو جلد ہی بتادیں گے۔“
    اس نے مدھم آواز میں کہا۔ بھلا وہ کیوں اس کے گھر آنے کے لئے اتنا بے تاب تھا۔
    ”خوش قسمت ہیں آپ! کہ آپ کے گھر والے اتنے اچھے اور سوئیٹ ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے بہت متاثر ہوتا ہوں۔“
    وہ اس کے گھر والوں کی تعریف کررہا تھا۔ سو اُسے مسکرانا ہی تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرپارہی۔
    ”Macbeth میرا فیورٹ پلے ہے مگر یہ ایک ٹریجک ڈرامہ ہے…… ٹریجک کہانیوں کا اپنا ہی impact ہوتا ہے…… وہ اپنا اثر رکھتی ہیں اور لوگوں کو یاد رہ جاتی ہیں۔“
    وہ اسی طرح اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔
    اس کی باتوں میں فلسفہ تھا۔
    ”جی ہاں …… یہ تو ہے۔“
    رانیہ نے بس اتنا ہی کہا۔
    وہ مسلسل اُس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
    ”Love stories are always tragicایسا کیوں ہوتا ہے؟“
    وہ ذر ا سنجیدہ ہوا۔
    اب وہ اس بات کا کیا جواب دیتی۔
    ”معلوم نہیں …… میری love story تو ٹریجک نہیں ہے۔“
    اس نے ایک جملے میں اُسے بہت کچھ جتا دیا۔ اس نے سوچا عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہے۔
    وہ اُس کے جملے پر چونکا پھر سرجھٹک کر مسکرا دیا، جیسے اس نے اس کی بات کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیا۔
    ”میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میری love story ٹریجک نہ ہو۔“
    وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
    وہ کچھ بول نہ سکی۔ ایک لمحے کے لئے اُس کا دل زور سے دھڑکا وہ اپنی کس love story کی بات کررہا تھا۔آخر اس نے اُسے کیا جتایا تھا۔
    رانیہ کی چھٹی حس اُسے بار بار الارم دیتی کہ کہیں کچھ غلط تھا اور یہ اُس کا وہم نہیں تھا۔
    وہ گہری مسکراہٹ کے ساتھ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور وہ اس کی آنکھوں کا خوف بھی پڑھ چکا تھا۔ وہ کچھ دیر اُس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر اس نے خوبصورتی سے بات بدل دی۔
    ”آپ کا تاج بہت خوبصورت ہے!“
    وہ اس کی بات پر حیران ہوئی۔ یہ سب چیزیں اسی کی تو بھیجی ہوئی تھیں۔
    ”یہ تاج آپ نے ہی تو بھیجا ہے۔“
    اس نے بے ساختہ کہا۔
    نجانے وہ کیوں ہنسا۔ وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔ وہ ایک عجیب آدمی تھا۔ اس کی باتیں بھی عجیب تھیں۔
    وہ اس سے کیا پوچھتی کہ وہ کیوں ہنس رہا ہے۔ اسے اپنا آپ احمق محسوس ہوا۔
    ”اس تھیٹر پلے کو میں نے اسی تاج کی وجہ سے اسپانسر کیا ہے۔“
    اس نے مدھم مگر خوشگوار لہجے میں کہا۔ یوں جیسے بڑے راز کی بات بتائی ہو۔
    ”ایسی کیا خاص بات ہے اس میں؟“
    وہ الجھ گئی۔
    وہ پہیلیوں میں بات کرنے کا عادی تھا۔
    ”یہ تاج ایک ملکہ کے لئے بنایا گیا ہے۔“
    ا س کی آواز گہری ہوگئی۔
    ”کون ملکہ؟“
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔زوار کی آنکھوں میں روشنی سی چمکی۔
    وہ سادہ تھی یا معصوم…… یا واقعی ایک بے وقوف لڑکی تھی۔
    وہ ذرا آگے کو جھکا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا۔
    ”وہی ملکہ جس نے اس تاج کو پہنا ہوا ہے۔“
    اس کی آواز میں جذبات کی شدت تھی اور آنکھیں لو دے رہی تھیں۔
    وہ چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔
    وہ اس پر ایک گہری اور مسکراتی نظر ڈال کر واپس پلٹ گیا۔
    وہ گم سم بیٹھی اُسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
    اُسے احساس ہوا کہ وہ صرف پراسرار آدمی ہی نہیں تھا…… بلکہ خطرناک آدمی بھی تھا۔
    ٭……٭……٭

  • چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    قسط نمبر2
    ”چنبیلی کے پھول“

     

    ”کیا؟“
    عشنا نے یقینی سے سارہ کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے جواب نے اُسے ششدرہ کردیا تھا اُسے سارہ کے منہ سے ایسی کوئی بات سننے کی توقع بھی نہیں تھی۔
    سارہ کے چہرے پر گہری شام کے سائے تھے۔
    ”ہاں …… وہ میرے اسٹیپ فادر تھے۔“
    سارہ نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم آواز میں اپنا جملہ دہرایا۔
    ”اسٹیپ فادر؟ مگر تم نے تو کہا تھا کہ وہ تمہارے پاپا ہیں۔“
    سارہ اپنے دونوں ہاتھ مسلتے ہوئے خاموش ہوگئی پھر اس نے گہرا سانس لیا۔
    ”میں انہیں پاپا ہی کہتی تھی،مگر وہ ممی کے سیکنڈ ہزبینڈ تھے۔“ اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”اچھا!“
    عشنا حیران ہوئی اور سوچنے لگ گئی کہ ناصرہ تسکین نے گھر سے بھاگ کر جس امیر کبیر آدمی سے شادی کی تھی، تو وہ کون تھا بھلا……
    ”تو تمہارے اپنے فادر کہاں ہیں؟“
    عشنا نے حیرت بھری سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”بہت سال پہلے میرے باباکیdeath ہوگئی تھی۔“
    سارہ نے اداسی سے کہا۔
    ”تو پھرتمہاری ممی نے دوسری شادی کب کی تھی؟ عشنا کے لئے انکشافات کا یہ سلسلہ بے حد حیران کن اور عجیب تھا۔
    ”ممی نے دوسری شادی کچھ سال پہلے پاکستان میں ہی کی تھی، پھر ممی کی فیملی نے ان کا بائیکاٹ کردیا اور ہم لوگ کینیڈا آگئے۔ ممی سمجھی تھیں کہ یہاں آکر ہم لوگ ایک نئی زندگی شروع کریں گے مگر یہاں آکرسب کچھ بدل گیا، جیسا ممی نے سوچا ویسا کچھ نہیں ہوا۔“
    سارہ نے افسردہ انداز میں بتایا۔
    ”اگر تمہاری ممی نے تمہارے بابا کیdeath کے بعد دوسری شادی کرلی تھی تو ان کی فیملی ان سے ناراض کیوں ہوگئی؟ کیا پاکستان میں عورتیں دوسری شادی نہیں کرسکتیں؟“
    عشنا نے سنجیدگی سے کہا۔ سارہ نے سرمزید جھکا لیا۔
    ”میرے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے۔“
    سارہ نے مدھم مگر افسردہ آواز میں کہا۔
    عشنا بھی سارہ کی بات سن کر اداس ہوگئی۔
    ”کتنے rudeاور cruelہیں تمہارے خاندان والے…… دوسر ں کو معاف کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔“
    عشنا نے افسوس سے کہا۔ وہ سارہ اور اس کی ممی کا دکھ محسوس کرسکتی تھی۔
    ”Cruelتو پاپا بھی تھے…… ممی نے انہیں بہت روکا تھا…… وہ بہت روئی تھیں مگر پاپا کو ان پر رحم نہیں آیا۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، انہوں نے ممی کو دھوکہ دیا تھا۔ممی نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں۔“
    سارہ نے افسردہ آواز میں کہا۔ بہت چھوٹی سی عمر میں وہ اپنی ماں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
    ”اوہ…… مجھے تو یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا۔“
    عشنا افسردہ ہوگئی۔
    سارہ نے اداس آنکھیں اٹھاکر عشنا کی طرف دیکھا۔
    ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں کیونکہ وہاں کوئی میرا انتظار کررہا ہے۔“
    سارہ نے پراسرار لہجے میں کہا۔ اس کے انداز میں کوئی ایسی بات تھی جس نے عشنا کو چونکا دیا تھا۔
    ”کون؟“
    عشنا بری طرح ٹھٹک گئی۔
    ”ہے کوئیrelative۔“
    سارہ نے اسی پراسرار انداز میں جواب دیا۔
    ”کونrelative؟ دادا، دادی، نانا، نانی، خالہ، پھپھو؟“
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ناصرہ تسکین کی کہانی پرت در پرت کھلتی جارہی تھی اور مزید سنسنی خیز ہوتی جارہی تھی۔ ایک راز سے جڑے کئی راز تھے۔
    ”بس ہے کوئی رشتہ دار…… میں چاہتی ہوں کہ وہ ممی کو معاف کردے…… اس کے لئے مجھے پاکستان جانا ہوگا…… مگر نہ ممی خود پاکستان جانا چاہتی ہیں اور نہ ہی مجھے جانے دیتی ہیں۔“
    سارہ نے چونکا تے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”تمہیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اور فون کے ذریعے اسrelativeسے رابطہ کرو۔“
    عشنا نے پوچھتے ہوئے اُسے مشورہ دیا۔
    ”بہت کوشش کی ہم نے…… ممی انہیں فون کرتی ہیں مگر وہ ممی سے بات ہی نہیں کرتے۔ فون نہیں اٹھاتے، میسجز کا جواب نہیں دیتے…… اتنے سال گزر گئے مگر انہوں نے ممی کو معاف نہیں کیا۔ ممی تو بہت سالوں سے کوشش کررہی ہیں مگر انہیں کوئیsuccess نہیں ہوئی۔“
    سارہ نے اداسی سے جواب دیا۔
    عشنا کے ذہن میں فوراً ایک خیال آیا۔
    ”تم اس relative کا نام مجھے بتاؤ…… فون نمبر دو…… میں اُن سے contact کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں تمہارا یا ناصرہ آنٹی کا نام نہیں لوں گی…… کیا معلوم کچھ ہوجائے۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔
    سارہ نے بنچ پر پڑے بیگ کی جیب میں سے کاغذ اور پین نکالا اور کچھ لکھنے لگی۔
    ”عشنا میں تم پرtrust کرتی ہوں …… یہ میرے رشتہ دار کا نام ہے……میں ان کے پاس پاکستان جانا چاہتی ہوں، مگر یہ ہم سے بات نہیں کرتے…… تم ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو…… مگرpromis meعشنا،یہ ہم دونوں کاsecret ہے۔“
    سارہ نے کاغذ پر لکھتے ہوئے عشنا سے کہا۔
    ”Don’t worry Sara، تمہارا کام ضرور ہوجائے گا۔“
    عشنا نے کاغذ پرلکھی تحریر پڑھتے ہوئے سارہ کو تسلی دی۔
    اور اس کے بعد سارہ نے اُسے جو کچھ بتایا اُسے سن کر عشنا کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں …… اُسے اتنا شاک سارہ کے سوتیلے پاپا کے بارے میں سن کر نہیں لگا تھا جتنا سارہ کے رشتہ دار کے بارے میں جان کر لگا۔
    ٭……٭……٭

    رانیہ کے گھر میں تناؤ کی سی کیفیت تھی۔ اُسے گھر والوں کے چہروں کو دیکھ کرہی محسوس ہوگیا تھا کہ وہ سب اُس سے ناراض ہیں۔ منہ سے تو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا مگر اُن کے رویوں سے ایسا ہی لگتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ گھر والوں کو حویلی میں شفٹ ہونے والی بات بہت بری لگی تھی۔ اس کے بعد اس حوالے سے گھر میں کوئی ذکر تو نہیں ہوا تھا مگر تناؤ اور کشیدگی کی فضا برقرار رہی۔ رانیہ شرمندہ بھی تھی۔ اُس کے گھر والے فارس کو ناپسند کرتے تھے اور وہ چاہنے کے باوجود کسی کے دل میں فارس کے لئے جگہ نہ بناپائی۔
    وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتی تو گھر والے اُس سے نظریں چرا لیتے، اگر بات چیت میں مصروف ہوتے تو اُسے دیکھ کر خاموش ہوجاتے۔ رانیہ کے لئے یہ رویے تکلیف دہ تھے وہ پریشان تھی کہ کیا کرے اور کیا ناکرے۔ فارس کو بھی اُس سے گلے تھے اور اس کے گھر والے بھی اس سے ناراض تھے۔
    وہ اپنے کمرے میں اکیلی، چپ بیٹھی رہتی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اکیلی ہوگئی ہے۔ نہ کوئی اس کی بات سمجھتا ہے او رنہ کوئی اس کا ساتھ دیتا ہے۔ بذات خود اُسے چاند حویلی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں اِتنے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
    چاند حویلی دراصل رانیہ اور عنایا کے دادا کی حویلی تھی اور وہ وراثت میں رانیہ کے والد کے حصے میں آئی تھی۔ رانیہ کے دادا نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی جن کے پہلے شوہر سے ایک بیٹا بھی تھا جو فارس کے ابا تھے۔
    ساری زندگی رانیہ کے دادا، دادی نے دونوں بیٹوں میں فرق نہیں رکھا۔ رانیہ کے دادا نے اپنے سوتیلے بیٹے کو بھی وہی محبت اور شفقت دی جو اپنے بیٹے کو دی تھی مگر سوتیلے بیٹے ہونے کی وجہ سے وہ وراثت میں حصہ دار نہیں تھے اور رانیہ کے دادا نے وہ حویلی اپنی پوتیوں کے نام کردی تھی۔ اس بات کا فارس کی ماں کو گلہ تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فارس کی دادا کی خدمتیں کیں، اُن کا خیال رکھا اور جائیداد انہوں نے کل کی بچیوں کے نام کردی۔
    فارس کا بچپن اس ہی حویلی میں گزرا تھا۔ اس جگہ سے اُس کی یادیں جڑی تھیں۔ اُسے ضد ہوگئی تھی کہ وہ اسی حویلی میں رہے گا اور اسی وجہ سے ہی اس نے رانیہ سے منگنی کی تھی، ورنہ رانیہ کے ساتھ کبھی کسی نے اُس کے چہرے پر خوشی تو دیکھی نہیں تھی۔
    ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر رانیہ نے دوبارہ تھیٹر جوائن کرلیا۔ اور اب وہ لوگ نئے ڈرامے macbeth کی ریہرسل کررہے تھے اور اس ڈرامے میں وہ لیڈی macbethکا کردار ادا کررہی تھی۔
    ”لیڈی میکبیتھ“ دراصل اسکاٹ لینڈ کی ملکہ تھی، یہ کردار رانیہ کے لئے بہت چیلنجنگ تھا اور وہ اس پر بہت محنت کررہی تھی۔
    وہ خوش تھی کہ وہ ایک بار پھر ملکہ بن رہی تھی اور اس طرح اُس کا کتھارسس بھی ہوجاتا تھا۔ وہ ایک حساس لڑکی تھی اور سوچتی تھی کہ کاش اُس کے پاس بھی ملکہ جیسے اختیارات ہوتے۔ یا کم از کم وہ فارس کے دل کی ملکہ تو ہوتی۔ وہ اُس کی منگیتر ضرور تھی مگر اُس کی ملکہ نہیں تھی۔
    وہ ریہرسل سے فارغ ہوئی تو واپسی پر فارس اُسے لینے آیا اور وہ دونوں ساحل سمندر پر چلے گئے۔
    فارس ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا، رانیہ کو ہمیشہ اس کی سنجیدگی سے خوف آتا تھا۔
    ”پھر تمہاری امی اور ماموں نے کیا فیصلہ کیا؟ مجھے تو ان لوگوں نے صاف جواب دے دیا تھا…… مگر تمہاری بات پر تو ضرور غور کریں گے۔ وہ لوگ آخر کب تک اپنی من مانی کرتے رہیں گے۔“
    وہ سمندر کے کنارے گیلی ریت پر رانیہ کے ہمراہ چلتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔
    ”فیصلہ!“

    وہ ساکن سمندر کو دیکھ کر چند لمحوں کیلئے چپ سی ہوگئی۔
    ”فارس! وہ حویلی صرف میری نہیں ہے۔ عنایا کی بھی ہے اور عنایا اس بات کے لئے راضی نہیں ہے کہ میں اور تم شادی کے بعد وہاں رہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بولی۔
    ”عنایا راضی نہیں ہے یا تمہاری ماں اور ماموں راضی نہیں ہیں؟“
    وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ اُس کی آواز میں دبا دبا سا غصہ تھا اور وہ اپنا غصہ بھی چھپانا نہیں جانتا تھا۔
    ”اس ضد کو چھوڑ دو فارس۔ گھر میں اس بات کی وجہ سے بہت جھگڑا ہوا ہے۔ سب لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔“
    رانیہ نے اداسی سے کہا۔ اُسے خود پر بھی افسوس ہوا کہ وہ باوجود کوشش کے کسی کو بھی خوش نہیں رکھ پائی۔
    ”تمہاری امی اور ماموں تمہاری اور میری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں …… تم بے وقوف لڑکی ہو جو ان لوگوں کی پلاننگ کو نہیں سمجھتی ہو۔ وہ لالچی لوگ ہیں اور تمہیں اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔“
    فارس رانیہ کے گھر والوں سے کچھ زیادہ ہی بدگمان تھا۔
    رانیہ نے فوراً اُسے وضاحت دی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے فارس……دراصل تمہاری جاب……“
    فارس نے اُس کی بات کاٹ دی۔
    ”جاب تو مجھے مل ہی جائے گی…… ایک دو جگہ انٹرویو ز دیئے ہیں میں نے…… مسئلہ میری جاب کا نہیں ہے رانیہ…… مسئلہ چاند حویلی کا ہے…… تمہاری حویلی کا۔“
    فارس جھنجھلا کربولا۔
    اُسے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کا فن آتا تھا۔ اُسے ہر چیز میں دوسروں پر الزام لگانے کی عادت تھی۔
    ”وہ صرف میری حویلی نہیں ہے فارس…… تم کیوں بھول جاتے ہو؟“
    رانیہ عاجز آگئی۔
    فارس کی ضد اُسے تکلیف دینے لگی تھی۔ وہ فارس کے ساتھ خوش رہنا چاہتی تھی مگر فارس ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرلیتا۔
    ”تم کیوں بھول جاتی ہو، کہ تم اُس حویلی کی مالک ہو۔ اس حویلی کے حوالے سے فیصلہ کرسکتی ہو۔“
    وہ اُسے اُکسا رہا تھا۔
    وہ چاہتا تھا رانیہ اُس کی مرضی کا فیصلہ کرے،وہی کرلے جو وہ چاہتا ہے۔ وہ رانیہ کے منہ سے کسی بھی چیز کے لئے کبھی انکار سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔
    ”میں اکیلی مالک تو نہیں ہوں …… مجھے اپنی بہن کے مشورے کا بھی احترام کرنا ہوگا۔“
    رانیہ نے سنجیدگی سے کہا
    وہ ذرا ناراض ہوا۔

  • چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی
    مور پنکھ
    محمد ندیم اختر

    بچوں کے ادیبوں پر تحقیقی میگزین ”سہ ماہی ادبِ اطفال” کے منتظم اور مدیر جناب ندیم اختر لیہ میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا، گزشتہ 22 سال سے ادب سے وابستہ ہیں، مختلف رسائل میں قلمی جوہر دکھائے، نمایاں خوبی یہ کہ بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔

    کہتے ہیں چج دو آب میں مور پنکھ نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہترین بانسری بجاتا تھا۔ اس کی بانسری سن کر لوگ سر دھنتے رہ جاتے۔ مور پنکھ اکثر اپنے ماں باپ سے چج دو آب (دریائے جہلم اور چناب کا درمیانی علاقہ) کے رہن سہن کے بارے میں پوچھتا، اس کے اماں باوا بتاتے کہ پتر تُو یہ جس سوکھے دریا کو دیکھ رہا ہے، اصل میں یہ دریائے چناب ہے، جو کبھی روانی سے بہتا تھا۔
    وہ سامنے والے درختوں کے نیچے کشتیوں کا پتن (کشتی کھڑی کرنے کی جگہ) ہوتا تھا جہاں سے ہم سب بستی والے کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کرتے تھے۔ اس دریا میں بہار کے موسم میں مور پنکھ آیا کرتے تھے، بہت خوب صورت پرندہ تھا۔ اب تو نجانے کہاں گئے وہ ”مور پنکھ” کبھی دیکھے ہی نہیں۔
    ”بابا! یہاں مور پنکھ اب کیوں نہیں آتے؟” ایک دن ننھے مور پنکھ نے اپنے باوا سے پوچھا۔
    ”پتر! مور پنکھ پانی کی سرزمین پر اترتے ہیں، وہ یہاں دریا پر آتے تھے لیکن جب دریا خشک ہو گیا تو وہ بھی آنا بند ہوگئے۔ شہر کے لوگ جو انہیں دیکھنے آتے تھے انہوں نے بھی آنا بند کر دیا۔ ملتان کے نواب یا مظفرگڑھ کے بڑے زمیندار اور ان کے بچے اپنی بگھیوں پر کشتیوں کے پتن تک آتے، ملاح انہیں کشتیوں پر اس کنارے لاتے اور اُن کی مہمان نوازی کرتے۔ وہ سارا سارا دن یہاں رہتے، اُن کے لیے مچھلی پکتی تھی۔
    جب انہوں نے دیکھا کہ دریا میں اب اتنا پانی نہیں آتا اور نہ ہی ”مور پنکھ” آتے ہیں تو شہر کے لوگوں نے ہماری اِس بستی میں آنا چھوڑ دیا۔” باوا حشمت نے اُسے مکمل تفصیل بتائی۔
    ”چلو خیر ہے ابّا! مور پنکھ نہیں آتے تو کیا ہوا؟ میں بھی مور پنکھ ہی ہوں نا!”
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”پتر !تمہارے دادا حضور بخش نے بڑی محنت سے ایک کشتی بنائی تھی، جب اُن کے بازوئوں میں طاقت تو کشتی کا چپو میرے حوالے کر دیا گیا۔ میں ان شہروالوں کو پتن سے یہاں لاتا تھا ، مجھے سب لوگ جانتے تھے اور مور پنکھ پرندے بھی مجھ سے مانوس تھے کیوں کہ میں راتوں کو پانی میں اتر کر ان کے لیے ”دیے”جلایاکرتا تھا ، وہ دریا سے مچھلی پکڑتے اور پانی میں تیرتے تھے پھر ایک دن ایک انگریز افسر آیا تھا، اُسے کہتے سنا کہ یہ پرندہ کہیں دور برف کی وادی سائبریا سے اُڑان بھرتا ہے اور سردیاں نکل جانے پر دوبارہ چلا جاتا ہے۔”
    ”ابّا! کیا دریا اب خشک ہی رہے گا؟” مور پنکھ کچھ پریشان ہوگیا تھا۔
    ”ربّ کرے یہ دوبارہ آباد ہو پھر مور پنکھ بھی لوٹ آئیں گے اور یہاں کی وہ پہلے والی رونق بھی۔” باواحشمت نے ایک آہ بھر کر کہا۔
    ”ابّا! آپ نے میرا نام مور پنکھ کیوں رکھا؟” اس کے ننھے دماغ نے سوال کیا۔
    ”پتر! جب دیکھا کہ اب مور پنکھ یہاں کبھی نہیں آئیں گے تو ہم مایوس ہوگئے اور پھر اِس دوران تم پیدا ہوئے تو اس پرندے کی یاد میں ہم نے تمہارا نام ”مور پنکھ” رکھ دیا۔” ابّا نے پیار سے بتایا۔
    مور پنکھ سر ہلاتا، بانسری بجاتا، اپنی بکریوں کو دریا کنارے چراگاہ پر لے گیا۔ ساتھ وہ اپنے باوا کی باتوں کو یاد کرتا ۔ ایک دن وہ اپنے باوا کے ساتھ ”مولتان” (ملتان کا پرانانام) گیا۔ وہ لوگ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو راستے میں اسے تصویروں والی ایک کتاب ملی جو پھٹی ہوئی تھی ۔ اس نے جھٹ سے اٹھا لی۔
    گھر آکر اس نے کتاب دیکھی تو حیران رہ گیا۔ اس میں دریا، کشتی اور کنارے پر پھول دار باغیچے تھے جہاں بہت سے لوگ گھومتے نظر آئے۔ تصویر میں لگ رہا تھا کہ لوگ کشتی میں بیٹھنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے اگلے صفحے پر لوگوں سے بھری کشتی دریا کے وسط میں تھی اور ملّاح چپو چلا رہا تھا۔
    مور پنکھ کو یہ تصویریں بہت خوب صورت لگیں۔ اس نے کتاب کا اگلا ورق دیکھا تو وہاں دریا کنارے ایک کچی دکان نظر آئی جہاں مچھلیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ کتنے دن ہو گئے اس نے مچھلی نہیں کھائی تھی۔ ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کے ہاتھ سے کسی نے کتاب پکڑ لی۔ وہ اس کی امّاں تھی۔
    ”پتر مور پنکھ! یہ کیا ہے ؟” اماں کتاب دیکھنے لگی۔
    ”اماں! کتنی خوب صورت تصویریں ہیں، کیا ہمارا دریائے چناب ایسا ہی خوب صورت ہوتا تھا؟” مور پنکھ نے اماں سے پوچھا۔
    ”ہاں پتر! جس طرح ان تصویروں میں دریا کے اندر پانی ہے، ایسے ہی ہمارے ”دریا بادشاہ” میں پانی ہوتا تھا اور اس کے کنارے سر سبز گھاس کی چادر ہوا کرتی تھی۔ تیرے باوا کی کشتی اس گھاس والے کنارے کے ساتھ آ کر کھڑی ہوتی تھی۔” امّاں نے بڑی حسرت سے تصویریں دیکھ کر اسے بتایا۔
    ”اماں! اگر میں اس کنارے پر درخت لگا لوں اور بازار سے مچھلی لا کر یہاں فروخت کروں، ساتھ ساتھ پھولوں والی کیاریاں بھی بنا لوں تو کیا لوگ دوبارہ یہاں آئیں گے؟” مور پنکھ نے معصومیت سے پوچھا۔

    ”ہاں، کیوں نہیں پتر!” امّاں مسکرا دی۔
    ”تو پھر آپ باوا سے بات کریں نا!” مور پنکھ نے اماں سے درخواست کی۔
    ”ٹھیک ہے، شام کو ہم تمہارے باوا سے بات کریں گے۔” امی نے مور پنکھ سے وعدہ کیا۔ پھر شام کے وقت وہ سب صحن میں بیٹھے تھے۔ مور پنکھ کی اماں بولی:
    ”مور پنکھ کے باوا! میں نے ایک منصوبہ سوچا ہے۔”
    ”بھلا وہ کیا منصوبہ ہے؟” باوا نے پوچھا۔
    ”گھر میں جو اتنی بکریاں ہیں، ان میں سے اگر تین بکریاں بیچ دی جائیں تو ہمیں مور پنکھ کی خواہش پوری کرنے کے لیے پیسے مل سکتے ہیں۔” اماں نے مکمل تفصیل سے منصوبہ بتایا۔
    ”ہاں یہ ہو سکتا ہے، میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ ان بکریوں سے ہم اپنے مور پنکھ کی خوشی خرید سکتے ہیں۔” باوا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! وہ اللہ وسایا کی زمین ہے نا! جو آدھی دریا برد ہو چکی ہے۔ اس سے بات کرتا ہوں، اگر وہ مان گیا تو ہم وہاں مچھلی کا کام شر وع کریں گے۔ ہم آنے والے بدھ کو قریبی قصبے میں لگنے والی مویشی منڈی میں اپنی بکریاں بیچ دیں گے۔ شہر میں ایک مچھلی فروش میرا واقف ہے۔ اس سے بات کروں گا کہ وہ فارم کی مچھلی ہمیں فراہم کر سکے۔ یوں لوگ دریا کی سیر کرنے آئیں گے البتہ انہیں پیارا پرندہ ”مو ر پنکھ ”نظر نہیں آئے گا۔” باوا کی آوا ز میں غم تھا۔
    ”میں ہوں نا مور پنکھ بابا!” مور پنکھ نے ہنس کر کہاتو سب مسکرا دیے۔
    …٭…
    اس دن مور پنکھ بہت خوش تھا کہ اب وہ دریا کنارے درخت لگائے گا۔ کنارے پر کھڑی اپنے باوا کی کشتی کو نیا رنگ کرے گا۔ کیاریاں بنا کر گھاس لگائے گا، پھر مور پنکھ اور اس کے باوا نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر دیا۔ جب انہوں نے دریا کنارے درخت لگائے، کشتی کو رنگ کیا اور کیاریوں میں گھا س لگائی تو ان کی بستی کے ساتھ ساتھ قریبی بستیوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ باوا حشمت دریا کنارے مچھلی پکانے کا کام شروع کررہا ہے پھر واقعی دو ہفتے کی مسلسل محنت کے بعد وہ شہر سے مچھلی لانے کے قابل ہو گئے۔
    …٭…
    صبح انہوں نے شہر جاناتھا مگر رات کو آسمان پر گہر ے بادل چھاگئے۔ یوں لگتا تھا کہ ساون اب کھل کے برسے گا۔ ساری رات بادل گرجتے رہے۔ صبح ہوتے ہی بادلوں نے برسنا شروع کیا۔ مسلسل کئی گھنٹے تک بارش ہوتی رہی۔ اماں اور باوا حشمت دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچے گھر کے صحن کی ایک دیوار بھی گر گئی۔ آسمان پر ابھی بھی بادل تھے۔ یہ مون سون کا آغاز تھا۔ انہیں خبر تھی کہ مون سون میں برسات تو ہوتی ہے لیکن جتنی بارش اس دن ہوئی، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کھیتوں میں گھٹنوں تک پانی کھڑا ہو گیا۔ بستی کے سارے لوگ اپنے گھر وں میں دبکے رہے۔ مور پنکھ اور اس کے باوا اسی وجہ سے بازار نہ جاسکے۔
    اگلے دن دریا چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا، علاقے میں سرکار کا نمائندہ اعلان کررہا تھا کہ اس بار خطرہ زیادہ ہے، سب لوگ محفوظ جگہوں پر منتقل ہوجائیں۔ یہ خبر سنتے ہی پوری بستی کی طرح مور پنکھ اور اس کے اماں باوا نے بھی پوٹلی میں کچھ کپڑے باندھے اور اپنی بکریاں لے کر بستی والوں کے ساتھ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
    وہ آدھی رات کا وقت تھا جب سیلابی ریلا ان کی بستی تک پہنچا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی دریا سے نکل کر بستی میں داخل ہوگیا۔ صبح تک پانی کی سطح چھے فٹ تک پہنچ چکی تھی۔ بستی سے باہر ایک اونچے ٹیلے تک پانی کی چادر تھی اور ٹیلے کے ساتھ جو گھر نشیبی سطح پر تھے، پانی ان کی چھتوں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اس طرح دریائے چناب میں سیلاب کا سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ اس دوران مور پنکھ اور اس کے گھر والے قریبی قصبے میں چلے گئے جہاں انہیں تین وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ کوئی ایک ماہ بعد جب علاقے میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے گھروں کی جانب لوٹے۔
    جب وہ اپنی بستی میں پہنچے تو ان کے گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر پڑا تھا۔ باقی بستی کی طرح ان کا گھر بھی پانی کے کسی ریلے میں بہہ گیا تھا۔ گھر کا سامان بھی اجڑ گیا تھا۔ جو بکریاں وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ دورانِ سیلاب وبا پھیلنے سے مر گئی تھیں۔ گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر دیکھ کر اماں اور باوا دونوں دہاڑیں مار کر رونے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر مور پنکھ سے بھی نہ رہا گیا۔ انہیں چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔ مور پنکھ اپنی اماں کی گو د میں چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔
    ”اماں اب کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا۔

    ”پتر! چپ کر، ہم دریا ئی لوگ ہیں، ہماری قسمت میں یہی سب کچھ ہے اگر ”دریا بادشاہ” خشک ہو جائے تو ہم برباد ہوتے ہیں اور اگر اس میں پانی آ جائے تو بھی ہم ہی مارے جاتے ہیں۔” اماں نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
    داستان سنانے والے کہتے ہیں کہ اس رات مور پنکھ اور اس کے امّاں باوا اپنے گھر کے ملبے پر چٹائی بچھا کر سوئے۔ آدھی رات کو کہیں سے بانسری کی آوا ز آئی، رات کے اس پہر بانسری کی آواز میں ایک خاص درد تھا۔
    پھر صبح لوگوں نے دیکھا کہ وہ تینوں مٹی کے ڈھیر پر مردہ پائے گئے ۔ آج تک یہ معما حل نہ ہوسکا کہ آدھی رات تک بانسری بجانے والا مور پنکھ اوراس کے گھر والے کیسے موت کے منہ میں چلے گئے؟
    کچھ لوگوں نے کہا کہ رات کوئی سانپ انہیں ڈس گیا، کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ! البتہ مور پنکھ کی بانسری اتنی سریلی تھی کہ پوری بستی کو جاتے جاتے درد دے گئی ۔ ان کی موت کی خبر دوسری بستیوں تک بھی جا پہنچی، یوں آہستہ آہستہ اس بستی کو ”مور پنکھ والی بستی ”کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
    آج بھی اگر آپ دریائے چنا ب کے اس کنارے پر بستی دوآنہ بہادر کے راستے بستی مکو جمال سے گزریں تو چاچا خیرو کا بیٹا اپنے باپ اور دادا سے سنی سنائی ”مور پنکھ” بستی کی یہ کہانی دہراتا ہے۔ اس کی آواز میں جو درد ہے ، وہ شاید وہیں جاکر سننے والا ہی محسوس کرسکے۔
    ٭…٭…٭

  • مدیر سے پوچھیں | سائرہ غلام نبی

    مدیر سے پوچھیں
    سائرہ غلام نبی

    سائرہ غلام نبی کا نام ڈائجسٹ اور ڈرامہ انڈسٹری میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈائجسٹ پڑھنے والے قارئین ان کے نام سے بہ خوبی واقف ہیں۔ سائرہ نے خواتین اور شعاع ڈائجسٹ سے اپنے ادارتی سفر کا آغاز کیا تھا، اور آج کل وہ MD Productions (ہم ٹی وی نیٹ ورک) میں بہ حیثیتہیڈ آف کانٹنٹ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اس ماہ ہمارے لیے ”مدیر سے پوچھیں“ کے سیکشن کے لیے سائرہ سے بہتر انتخاب کوئی نہ تھا۔

    ٭ آپ اس فیلڈ میں کتنے عرصے سے ہیں؟ اور اس فیلڈ میں آپ کی آمد کس طرح ہوئی؟
    سائرہ: اب تو بہت پرانی بات ہوگئی، بیس سال میں نے خواتین ڈائجسٹ میں کام کیا اور پانچ سال مجھے ایم ڈی پروڈکشن میں ہوگئے ہیں، سٹوڈنٹ لائف سے ہی میں نے کام شروع کردیا تھا،لکھنے کا سفر میرا بہت پہلے سے ہی جاری تھا، ساتویں،آٹھویں کلاس سے جب پڑھنا آیا تھوڑی سمجھ اور شعور بیدار ہونا شروع ہوا تو کتابوں سے رغبت پیدا ہوئی، اور بے تحاشہ ہوئی، کہانیوں کی دنیا بہت اچھی لگتی تھی۔ویسے بھی بچے تھے تو اتنی زیادہ سہولتیں نہیں تھیں، یہ سارا کچھ اس طرح سے نہیں تھا، بہت مختلف منظر نامہ تھا، ہماری ایک دنیا تھی چھوٹی سی بہت ہی چھوٹی سی،جس میں ایک PTV تھا اور دوسری کتابیں تھیں اور کتابیں بھی اتنی فراوانی سے نہیں ملا کرتی تھیں، کتابوں کا حصول بھی ہمارے لیے بہت مشکل تھا۔ زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں اخبار، ماہانہ ڈائجسٹ اور ہفت روزہ میگزین آیا کرتے تھے، اور ان میں سے کچھ سیاسی جرائد تھے، ہماری دوستیں،پڑوس، احباب، کزنز اور انکل سب ان رسائل اور جرائد میں دلچسپی لیا کرتے تھے،پڑھے لکھے لوگ ان جرائد میں لکھا بھی کرتے تھے، اس وقت کہانی لکھنا ایک بہت بڑی fantasy ہوا کرتی تھی۔ باہر کی دنیا سے رابطے پیدا کرنے کے کوئی ذرائع نہیں تھے، ہم اس حرفوں اور کتابوں کے ذریعہ ہی اپنا رابطہ بحال کرتے تھے۔میں ماسٹرز کررہی تھی، پیپرز چل رہے تھے اور ان دنوں ریڈیو پاکستان میں پروگرام بھی کیا کرتی تھی، آنا جانا لگا رہتا تھاتو کسی نے بتایا کہ ڈان میں اشتہار آیا ہے خواتین ڈائجسٹ والوں کی طرف سے سب ایڈیٹر کی پوسٹ کے لیے، میں سن کر گھبرا گئی، میں نے دل میں سوچا کہ وہ بہت ہی قابل اور اہل لوگوں کی پوسٹ ہوگی، میں وہاں پر جانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھی، لیکن میری دوست نے کہا کہ تم وہاں پر جاؤ، میں اس کے کہنے پر چلی گئی۔ وہاں پر محمود ریاض صاحب نے میرا انٹرویو کیا۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں،اس سے پہلے میں نے خواتین ڈائجسٹ کا کوئی شمارہ کبھی پڑھا ہی نہیں تھا(قہقہہ)۔ بس دیکھا تھا لیکن خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتی تھی، مجھے لگتا تھا کہ یہ بہت زیادہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اس طرح کی fantasy world اور رومانس کی دنیا سے تعلق نہیں تھا، مجھے ادبی کتابوں اور ناولز پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا، ادبی افسانے پڑھا کرتی تھی اور ا ن ہی کو ادب سمجھا کرتی تھی۔مجھ سے محمود ریاض صاحب نے پوچھا آپ نے کسی افسانہ نگار کو پڑھا ہے تو میں نے اپنے پسندیدہ افسا نہ نگار غلام عباس اور بیدی وغیرہ کا نام لیا۔ پھر انہوں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کبھی ہمارا ڈائجسٹ پڑھا ہے، میں نے ان سے کہا ہاں دیکھا ہے، انٹرویو دے کر میں گھر چلی گئی تھی، اور مجھے اندازہ تھا کہ مجھے نہیں رکھا جائے گا، گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد مجھے خواتین ڈائجسٹ سے فون آیا کہ آپ کل سے جوائن کرلیں۔ میرے لیے بہت ہی سرپرائزنگ تھا۔ اس کے اگلے دن میں یونیورسٹی گئی کیوں کہ اس وقت تک میری پہلی اور آخری محبت تو یونیورسٹی ہی تھی(مسکراتے ہوئے)۔وہاں پر دوستیں تھیں، ایک ادبی سرکل تھا، ہم اخبار نکالا کرتے تھے، اس وقت مجھے وہ دنیا چھوڑنا بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن ساتھ ہی مجھے پریکٹیکل لائف میں آنے کا موقع مل رہا تھا۔میرے ذہن میں ہمیشہ سے جاب کرنے کا ارادہ تھا، کیوں کہ مجھے کتابیں اور تحقیق سے بہت دلچسپی تھی تو میرا ارادہ تھا کہ میں ایم فل کروں گی لیکن پھر میں ایم فل کر ہی نہیں سکی۔ اگلے دن سے میں نے خواتین ڈائجسٹ جوائن کرلیا اور وہاں پر میری فل ٹائم جاب تھی۔ اس کے بعد میں سوچتی رہ گئی، اس وقت میرے ٹیچرز اور دوستوں کا یہی خیال تھا کہ مجھے اپنی تعلیم کو آگے جاری رکھنا چاہیے۔

    ٭ آپ کے پاس ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے آجاتے ہیں؟ اور آپ لوگوں کا selection process کیا ہے؟
    سائرہ: ہمارے پاس اس طرح کا کوئی حساب تو نہیں جس سے ہم یہ بات نکال سکیں کہ ہمارے پاس ایک ماہ میں اوسطاً کتنی تحریریں آتی ہیں، لیکن ہمارے پاس روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ آتا رہتا ہے، روز ہی لوگ اپنے ideas لے کر خود بھی آرہے ہوتے ہیں، اور فون پر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ مطلب صبح آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند ہونے تک ہم بس کہانیاں ہی سنتے رہتے ہیں (قہقہہ)اور ایک ایک شخص تین تین، چار چار کہانیاں سنا رہا ہوتا ہے۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں سکرپٹ لکھنا بہت آسان کام ہے، یہاں پر چوکیدار، مالی اور کچن میں کام کرنے والا، سب کا یہی خیال ہے کہ وہ ڈرامہ لکھ سکتا ہے اور سب اپنی اپنی کہانیاں لے کر ہمارے پاس آجاتے ہیں (قہقہہ)۔ کوئی فریش آئیڈیا لے کر آتا ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ صرف آئیڈیئے پر کہانی نہیں چلتی، جب تک اس آئیڈیا کو صفحات پر منتقل نہ کیا جائے، وہ آئیڈیا کسی کام کا نہیں ہوتا، لیکن ہم رائٹرز کے ساتھ ہوتے ہیں، ان کو لے کر چلتے ہیں۔
    ٭ وہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا مسودہ آپ کے پاس بھیجتے وقت رکھنا چاہیے؟
    سائرہ: سب سے پہلے تو جو ڈرامہ لکھنا چاہتا ہے، وہ اگر آج فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے رائٹر بننا ہے، تو وہ فیصلے کا وقت غلط ہوتا ہے۔ جو رائٹر ہوتا ہے اس کو یہ فیصلہ بیس سال پہلے کرنا چاہیے کیوں کہ یہ صرف لکھنے کا عمل نہیں ہے، لکھنا ایک مسلسل پریکٹس کا نام ہے، اور جب تک آپ کو اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کو صفحہئ قرطاس پر منتقل کرنے کا ہنر نہیں آئے گا تو بات نہیں بنے گی۔ آپ کو بہت زیادہ پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے،الفاظ آپ کے لیے مانوس ہو، الفاظ کو برتنے کا سلیقہ آنا چاہیے، اور ہر طرح کی صورت حال میں آپ کے اند ر judgement کا ایک element ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو، چیزوں کو اور ان کے معاملات کو judge کرسکیں۔آپ کا مشاہدہ ایک عام آدمی سے بے پناہ زیادہ ہونا چاہیے، اور پھر اس کے ساتھ خدا نے اگر آپ کے اندر کہانی بننے کی صلاحیت رکھی ہے توصرف اس صلاحیت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، اس ہیرے کو تراشنا ہوگا۔گائیک اگر صرف اچھی آواز لے کر پیدا ہوجائے تو وہ گائیک نہیں بن سکتا، جب تک وہ روزانہ کی بنیاد پر ریاض نہ کرے، لکھنے کا عمل بھی ایسا ہے کہ اس میں جتنی بھی محنت کی جائے، آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا اور تاثر پیدا ہو گا۔
    ٭ آپ کے خیال میں جو لوگ اچانک اُٹھ کر کہتے ہیں کہ میں اچھا لکھ سکتا ہوں / لکھ سکتی ہوں آپ کے نزدیک یہ خام خیالی نہیں ہے؟ کیوں کہ میرے نزدیک پڑھنا ایک الگ چیز ہوتی ہے اور لکھنا الگ چیز ہوتی ہے۔اگر کسی بندے کے اندر یہ capability نہیں ہے پھر بھی وہ چاہے تو کیا اس کے اندر یہ چیز پیدا ہوسکتی ہے؟
    سائرہ: یہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ لکھنے کی صلاحیت خدا کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اس صلاحیت کو نکھارنا بہت ضروری ہے، صرف محض پڑھ کر یا یہ سوچ کر کہ میں نے اردو ادب میں ماسٹرز کیا ہوا ہے، لکھنا شروع کردیں تو کوئی ڈگری آپ کو رائٹر نہیں بنا سکتی۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتی ہیں؟
    سائرہ: کوشش تو کرتے ہیں لیکن چوں کہ یہ عوامی میڈیم ہے تو ہم مختلف بات کو بھی سہل انداز میں سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم چینل نے کئی issue basedڈرامے کیے ہیں،آج کل آپ اُڈاری دیکھ رہے ہیں لیکن اس میں ہم نے دلچسپی کا عنصر ایسا رکھا ہے کہ لوگ کڑوی حقیقتوں کو دیکھنے پر آمادہ ہو۔ بس بات کا ڈھنگ آنا چاہیے۔

    ٭ نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے آپ کے خیال میں بہتر طریقے سے کون سے رائٹرز کام کررہے ہیں؟ سینئر رائٹرز یا جونیئر رائٹرز؟
    سائرہ: سب سے پہلے تو میں ایک بات کہوں کہ آئیڈیا کوئی نیا نہیں ہوتا، کہانی کوئی نئی نہیں ہوتی، کہانی ان ہی کرداروں کے درمیان گھوم رہی ہے جو روزِ ازل سے ہے، ایک مرکزی کردار ایک عورت ایک مرد۔ ان کے درمیان ایک تیسرا کردار جو اُن کی دنیا کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے جیسے آدم اور حوا کی جس مین ان کے پیچھے شیطان، پھر ہابیل اور قابیل کی کہانی، ایک قتل کی کہانی۔ لیکن اس کہانی کو میں کس طرح بیان کروں گی، آپ کس طرح بیان کریں گے، یہ اسلوب ہوتا ہے جو کہانی کو مختلف بناتا ہے اور جس کی زندگی پر جتنی نظر ہوتی ہے، وہ اس طرح سے زندگی کی layers سے کچھ نہ کچھ نکالتا ہے۔آپ ایک طرف سے دیکھ رہے ہیں، میں ایک طرف سے دیکھ رہی ہوں۔ زندگی تو ایک ہی ہے، سیب کی طرح، ایک قاش آپ نکال رہے ہو، ایک میں نکال رہی ہوں۔ ہوسکتا ہے جو قاش آپ نکالیں وہ سڑا ہوا ہو، ہوسکتا ہے جو میں نکال رہی ہوں، وہ بہتر ہو۔ زاویہئ نظر مختلف ہوسکتا ہے، اسلوب مختلف ہوسکتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہیں، وہ قسمت کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہیں، اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر کامیاب ہیں۔جن کو پڑھنے والے قارئین ملے ہوئے ہیں تو وہ بھی قسمت کی وجہ سے نہیں ملے، ایک دفعہ قسمت یاوری کرے گی لیکن بار بار نہیں کرے گی۔ ان کو خدا نے صلاحیت دی، انہوں نے اپنی صلاحیت کو پالش کیا، اس کو نکھارا، اور وہ مسلسل اپنے آپ کو آگے لے کر آرہے ہیں اور اپنی کہانیاں لکھ رہے ہیں چاہے وہ ڈائجسٹ میں ہو یا ڈرامہ انڈسٹری میں، اور کام ان ہی کا اوپر آرہا ہے، جو محنت کرتے ہیں۔

  • یاد کا بوڑھا شجر

    یاد کا بوڑھا شجر
    قرۃ العین خرم ہاشمی

     

    ”ابا میاں کہاں ہیں؟“صبا نے آہستگی سے پوچھا تھاکیوں کہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔
    ”آگیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئی دنوں سے شدید بیمار ہیں۔ڈاکٹر نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سنتے ہی نہیں!۔تھوڑی طبیعت بہتر ہوتی ہے چھڑی کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے،پرانے سٹور روم میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ بخشے تمہاری مرحومہ اماں جان نے ضرور وہاں کوئی خزانہ یا راز چھپایا ہو گا۔ جس کی خبر صرف ان کو ہی ہے تب ہی وہ گھنٹوں وہاں کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں اور سمجھ دار اتنے ہیں کہ کچھ پوچھو تو خاموشی کی چادر اوڑھے ٹکر ٹکر چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔“
    صبا نے گہری سانس لے کر اس کے چہرے سے نظر ہٹائی تھی۔لوگوں کو اکثر احساس نہیں ہوتا ہے کہ غصہ اور نفرت اچھے بھلے چہرے کے نقوش بگاڑ کر انہیں خوف ناک بنا دیتے ہیں۔
    ”میں ابا میاں کو دیکھتی ہوں!“صبا وہاں سے خاموشی سے اُٹھ کر اس بڑے سے گھر کے کونے میں بنے پرانے سٹور روم میں چلی آئی جہاں اماں کے زمانے کا پرانا سامان اور فرنیچر پڑا اپنی مدت پوری کر رہا تھا۔پیلے بلب کی روشنی میں صبا نے،سفید کپڑوں میں ملبوس،اپنے کمزور اور نحیف ہاتھوں سے اِدھر اُدھر پڑی چیزیں ہٹاتے کچھ ڈھونڈتے،ابا میاں کو اداسی سے دیکھا تھا۔صبا نہ جانے پچھلے کتنے برسوں سے اپنے باپ کو کسی ان دیکھی چیز کی تلاش میں برف کی سل کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھ رہی تھی۔تلاش کا سفر ظاہری مسافت رکھتا ہو یا باطن کی تہ در تہ پرتیں کھولتا ہو۔اس میں وجود اورجسم ایسے ہی گھلتے ہیں جیسے تیز دھوپ میں پگھلتی برف!تلاش اپنا خراج فنا کی صورت میں لیتی ہے۔اب یہ فنا کس پیمانے پر اور کتنی تیزی سے ہوتی ہے یہ اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے!اپنی اپنی چاہ پر منحصر ہوتا ہے۔جس کی جتنی چاہت ہو گی اس کا حاصل بھی اتنا ہی ہوگا۔

    ”ابامیاں!کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟“صبا نے نرمی سے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ابامیاں نے چونک کر خالی خالی نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔اس وقت اُن کے چہرے پر اتنی بے بسی تھی کہ صبا کا دل تڑپ کر رہ گیا۔
    ”ابامیاں!کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اذیت دے رہے ہیں؟سب کہتے ہیں کہ آخری عمر میں پروفیسر صاحب کسی ذہنی مرض کا شکار ہو گئے ہیں مگر ابامیاں!دنیا چاہے کچھ بھی کہے مگر ایک بیٹی کا دل جانتا ہے کہ اس کا باپ پاگل نہیں ہے! جو شخص آج بھی ماضی اورحال کی سب سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔آج بھی اپنے طالب علموں میں علم کے خزانے بانٹتا ہو،ایسا شخص بھلا ذہنی طور پر ناکارہ کیسے ہوسکتا ہے؟میں نہیں جانتی کہ آپ کی تلاش کیا ہے، آخر آپ کی زبان تک یہ سچ کیوں نہیں آتا؟ مگر ابامیاں میں آپ کو اتنا بے بس اور لاچار بھی نہیں دیکھ سکتی!زندگی میں وہ مقام بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم اپنے پیاروں کو بے بسی کی دلدل میں لمحہ بہ لمحہ اترتے دیکھتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔“صبا نے روتے ہوئے باپ کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھوں کو تھاما تھا۔ابامیاں نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کا سر تھپکتے ہوئے کمزور لہجے میں بولے:
    ”میں نے تمہاری اماں کو لیدر کا ایک چھوٹا بیگ دیا تھا جس میں۔۔۔!“اسی وقت آہٹ ہوئی تو دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا،جہاں متجسس نظروں سے دیکھتی،بڑی بھابھی کھڑی تھی۔ان دونوں کے دیکھنے پر گڑبڑا کر غصے سے بولیں:
    ”اچھا تو بڑے میاں نے گاؤں والی زمین کے کاغذ کسی لیدر کے بیگ میں چھپائے ہیں۔ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ زمین کے کاغذ گم ہونے والی بات سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔دیکھو! ذرا خدمت ہم لوگ کریں اور سارا اثاثہ بیٹی لے جائے۔واہ جی کیسا انصاف کیا بڑے میاں نے۔“
    بڑی بھابھی تیز تیز بولتی وہاں سے چلی گئی مگر صبا جانتی تھی کہ یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوگی۔ایسا ہی ہوا شام تک عدالت لگ چکی تھی اور فردِ جرم اس پر عائد کرتے ہوئے اسے سب کچھ سچ سچ بتانے کو کہا گیا تو وہ افسردگی سے مسکرا کر اپنے بڑے بھائی سے بولی:
    ”بھائی!ابامیاں نے بہت پہلے ہی اپنے سب اثاثے،اپنا سب کچھ ہم تینوں بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا ہے۔احمد بھائی اپنا حصہ لے کر دبئی جا چکے ہیں، رہ گئے آپ اور میں تو ہمارے پاس بھی اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔جہاں تک گاؤں والی زمین کی ملکیت کی بات ہے تو ابامیاں بہت سال پہلے ہی اس زمین کو گاؤں کے بچوں کے سکول کے لئے وقف کر چکے ہیں۔پھر ایسی بات کرنے یا سوچنے کا کیا فائدہ؟“
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر وہ تمہاری بھابھی کہہ رہی تھی کہ۔۔“بڑے بھائی نے شرمندہ لہجے میں کچھ کہنا چاہا تھا۔
    ”بھائی ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ پر سچ اور جھوٹ کے تناسب سے مل کر ہی بنتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کس رشتے میں کتنا سچ ہے اور کس رشتے میں کتنا جھوٹ، اس کا فیصلہ ہر خردمند انسان خود کرتا ہے۔“

    اس رات صبا کو ابامیاں کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر وہاں رکنا پڑا۔ابامیاں تین دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور پھر ایک صبح خاموشی سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔موت کی آہٹ سے پھیلا سناٹا، اپنے پنجے بہت اندر تک گاڑ دیتا ہے کہ ایک بار ہی سہی مگر موت کی اذیت سارے جسم میں جمود ضرور طاری کر دیتی ہے۔مگر اس دل چیرتے سناٹے کو زندگی کی ایک چہکار ہی درہم برہم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے، شاید زندگی کی رونقیں اسی لئے ہیں کہ اپنے پیاروں کی موت کے غم کو کسی حد تک بھلایا جاسکے، موت کی سرد چاپ سے، زندگی کی آہٹ کشید کی جا سکے۔ابامیاں سے محبت کرنے والے، انہیں یاد کرنے والے بہت سے لوگ اور بھی تھے جن کی تربیت اور کامیابی میں ابامیاں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔وہ لوگ بھی اپنے پیارے اور شفیق استاد کی موت کا افسوس کرنے جوق در جوق آ رہے تھے۔
    ”پروفیسر صاحب جیسے نیک لوگ بہت کم ہوتے ہیں، میں ایسے بہت سے غریب اورمستحق طالب علموں کو جانتی ہوں،جن کے تعلیمی اخراجات پروفیسر صاحب نے بہ خوشی پورے کیے تھے۔“وہ خاتون کافی دیر سے وہاں بیٹھی رو رہی تھی۔ابامیاں کو آج اس دنیا سے گئے دس دن گزر چکے تھے۔
    ”ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔!سنا ہے کہ پروفیسر صاحب آخری دنوں میں عجیب بہکی بہکی سی باتیں کرتے تھے؟کیا یہ سچ ہے کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوگئے تھے؟“اس عورت کے پوچھنے پر بڑے بھائی افسوس بھرے انداز میں بولے: