Tag: alif kahani

  • کرتا — دلشاد نسیم

    چھوٹے سے لال اینٹوں کے بنے صحن کے ایک طرف کمرہ تھا اور اْس کے بالکل سامنے چولہا رکھا تھا۔ جسے باورچی خانہ کا نام دے دیا گیا تھااور اسی کے ساتھ دیوارپر لگی پیتل کی ٹوٹی ۔۔جس سے سرکاری پانی قطرہ قطرہ یوں بہتا رہتا جیسے کوئی بِرہن ہجر کی ماری بن بات رو پڑے۔۔ زمین میں عین اس جگہ سوراخ ہو چکا تھا معلوم ہوتازمین کی سختی بھی اِس مسلسل عذاب سے گھبرا چکی ہے ، تو پھر کچے دھویں میں روٹیاں پکاتی تاجی کا جی کیوں نہ گھبراتا۔۔
    تاجی کا آٹھ سالہ بیٹا معین جس کو غربت نے پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہ دیا بہ مشکل پانچ ایک سال کا نظر آتا۔ صحن کی پیلی ،کمزور یرقان زدہ روشنی میں سکول کا کام کر رہاتھا، نذیر اپنے اطراف روز کی طرح بہت سے میلے، پرانے، گوٹے کناری والے مَسلے کپڑے لیے بیٹھا ،خوش ہو رہا تھا۔۔ تاجی کو ہمیشہ حیرت ہوتی نذیر اتنا خوش کیسے رہتا ہے اور وہ کیوں نہیں رہ سکتی یکدم روٹیاں سینکتی تاجی کے کان میں نذیر کی آواز آئی، کھردری بلغمی آواز جس کو سن کے ایک بار تاجی غیر ارادی طور پے اپنا گلا ضرور صاف کرتی مگر اس نے نذیر سے کبھی نہ کہاکہ اْس کی آواز تاجی کی ملائم سماعت پر خراشیں ڈالتی ہے اْسے نذیر سے محبت ہوتی تو اْسے کوئی صلاح دیتی ۔۔ نذیر بہت خوش تھا۔ ’’لے بھئی دیکھ ہم غریب مہنگائی کو روتے ہیں اور بابو لوگ نئے نکور کپڑے کچے پکے برتنوں کے لئے آرام سے بیچ دیتے ہیں ۔۔یہ دیکھ کیسا پیس ہے۔۔؟‘‘
    تاجی کو بات ہضم نہیں ہوئی اپنے دھیان میں روٹیاں دسترخوان میں لپیٹتے لپیٹتے بولی: ’’امیروں کو کیا پڑی ہے کچے برتن خریدنے کی وہ بھی پھیری والے سے وہ تو اپنی کام والیوں کو دے دیتے ہوں گے پرانے دھرانے کپڑے۔۔ وہی بیچ باچ دیتی ہوں۔۔۔۔۔‘‘
    بات کرتے کرتے تاجی نے سر اْٹھایا اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا تھا وہ معین کے لئے پرانے کپڑوں میں سے کچھ رکھ لیتا کئی تاجی کو بھی دان مل جاتا مگر تاجی دیکھ کے بات کرنا بھول گئی وہ جسے پیس کہہ رہا تھا،۔۔ نذیر ہاتھ اْونچا کیے جو دِکھا رہا تھا ایک کُرتا تھا۔ پیلی روشنی کرتے کی سفیدی نگل چکی تھی۔۔۔ یا پھر کُرتا ہجر کے دکھ سے زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
    نذیر نے بلغمی قہقہہ لگایا اور کرتا تاجی کی طرف بڑھا دیا۔۔ کہنے لگا ’’ مجھے پہلے ہی پتا تھا تُو دیکھے گی تو دیکھتی رہ جائے گی ہاتھ میں پکڑ کے دیکھ بزاری کڑائی (کڑھائی) نیئں لگتی۔۔ لگتا ہے کسی نے بڑی جان ماری ہے ۔۔ ‘‘ پھر بے پروا سی ہنسی ہنس کے بولا: ’’ہمیں اس سے کیا۔‘‘
    اُسے نذیر زندگی میں پہلی بار خوش قسمت لگا جس کو اس سے کچھ نہیں تھا کہ کس نے اس کُرتے کے لئے جان ماری ہے۔۔ اُس نے کُرتا گول مول کر کے اپنی لکڑی کی ٹانگ کے نیچے دبایا۔۔ ’’تُو کھانا لگا بڑی سخت بھوک لگی ہے چل معین بند کر اپنا بستہ تْو شام کو اپنا کام کیوں نئیں کر لیتااب کھانے کے ٹیم پہ تجھے سکول کا کام یاد آجاتا ہے۔۔ تاجی!‘‘ اْس نے تاجی کو دیکھا مگر محسوس کئے بغیر بولا: ’’کھانا لگا جلدی سے۔۔ معین میرے ہاتھ دُھلا دے۔۔‘‘
    تاجی کا سکتہ ٹوٹا وہ ایک پلیٹ میں سالن اور چنگیر میں روٹیاں لے کر خود کو گھسیٹتی ہوئی اْٹھی باپ بیٹے کے سامنے کھانا رکھ کے پلٹنے لگی کہ نذیرنے اْس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔اْسے جب تاجی پہ بہت پیار آتا وہ یہی کہتا: ’’جب تک تُو نیئں آئے گی میں کھانا نیئں کھاؤں گا۔ ‘‘
    ’’میں پانی لے آؤں۔۔‘‘ تاجی نے مری مری آواز میں کہا۔۔
    نذیر نے ہاتھ چھوڑ دیا اور ہنس کر بولا: ’’کل اسے بیچ کر جتنے پیسے ملیں گے سب تیرے ہاتھ پہ رکھ دوں گا کل تو نے مرغا پکانا ہے۔۔‘‘ پھر ہنستے ہوئے کہتا ہے۔۔ ’’اتنی دال کھلائی ہے تو نے اُس کو چُگنے کے لیے مرغا بہت ضروری ہے۔۔‘‘ وہ تاجی کا جواب لئے بغیر ہی ہنستا چلا گیا تاجی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اْس کے مْنہ پہ ہاتھ رکھ دے۔۔ نذیر سے آنے والے دن میں ملنے والی دھاڑی کی خوشی چُھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔۔
    کُھلے آنگن میں گرمیوں کا چاند بادلوں سے کھیل رہا تھا کبھی روشنی بہت تیز اور کبھی مدہم ہو جاتی پیتل کی ٹوٹی کی ٹپ ٹپ سکوت کو توڑدیتی تو کبھی اُس کی اپنی لا متناہی سوچیں۔۔۔ نذیر جاگ رہا تھا ورنہ اْس کے خراٹے اْس کی چھوٹی سی دنیامیں زلزلہ لانے کو کافی تھے۔۔ نذیر نے دیکھا تاجی کی چمک دار آنکھوں کی نمی چاند کی روشنی میں ستارے بنا رہی تھی نذیر کو ہمیشہ گُمان رہا کہ خاموشی تاجی کی عادت ہے وہ ہے ہی روکھی پھیکی اُس نے کبھی یہ نہ سوچا۔۔ دو وقت کی روٹی، ایک بچہ اور کچا پکا مکان زندگی نہیں ہوتا۔۔ زندگی جینے کے لئے کچھ اور بھی چاہیے لیکن نذیر ایسے لطیف احساس سے بہت دور تھا۔ ’’تاجی۔۔‘‘ نذیر نے بلایا تاجی نے کچھ کہے بغیر اس کی طرف کروٹ لی دونوں کی چارپائیوں کے بیچ بہ مشکل تین بالشت کا فاصلہ ہو گا لیکن یہ تین بالشت کا فاصلہ تاجی کو تین جنموں کا لگتا۔۔
    ’’کیا تو بھی وہی سوچ رہی ہے جو میں سوچ رہا ہوں؟‘‘
    ’’تم کیا سوچ رہے ہو ؟ ‘‘اْس نے اْلٹا سوال کیا ۔۔





    ’’میں سوچ رہا ہوں آج کل پہلے جیسے حالات نیئں رہے بڑی شو شا آگئی ہے لوگوں میں، کوئی پرانی چیزوں کو خریدتا ہی نہیں ۔۔ پھر بھی تیرا کیا خیال ہے کتنے میں بک جائے گا کُرتا۔۔۔ ؟‘‘
    ’’تمہیں کتنے میں ملا؟۔۔‘‘ سوال کرتے کرتے اْس نے اپنی دل کی دھڑکن کو اپنے کانوں میں سنا۔۔
    ’’شیدا بتا رہا تھا چار کچی مٹی کی پیالیاں دی تھیں اس نے ۔۔۔‘‘
    تاجی نے مارے دکھ کے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں لے کر برُی طرح کچلا۔۔۔ ’’بس ۔۔ چار کچی مٹی کی پیالیاں؟ یہ قیمت لگی اُس کُر۔۔۔۔ تے کی۔۔‘‘ اْس نے اپنی آہوںکو خود محسوس کیا تاجی کی آنکھ سے پھر ایک تارہ ٹوٹا اور کان کی کٹوری میں غائب ہو گیا ۔۔۔
    میں بھی یہی سوچ رہا تھا جانے اْس کا اچھا مول لگتا ہے کہ نہیں سو روپے معین کی فیس جاتی ہے تم بتا رہی تھی سکول سے خط آیا ہے کہ فیس نہ دی تو وہ معین کو سکول سے نکال دیں گے اگر مرغا آگیا تو فیس۔۔۔ فیس کہیں رہ نہ جائے۔۔۔ سو ڈیڑھ سو سے زیادہ کا تو نہیں بک سکے گا۔۔۔‘‘
    تاجی نے دل کی دیواروں کو توڑتے طوفان کو بڑی مشکل سے روکا ۔۔’’اور اگر کل نہ بک سکا تو۔۔؟‘‘
    نذیر پھیکی ہنسی ہنس کے بولا ۔۔۔۔’’ مجھے پہلے ہی شک تھاتیری نیت ضرور خراب ہو جائے گی۔۔۔‘‘ تاجی نے اَن سنی کر کے پوچھا۔۔ ’’شیدے نے کہاں سے لیا۔۔۔ کُرتا‘‘ ۔۔ کرتا اُس نے زیرِلب ہی کہا۔۔ جیسے آہ بھری ہو۔
    نذیر نے خود کو گھسیٹا اور کروٹ بدلی: ’’مجھے کیا پتا کہاں سے لیا تھا۔۔۔ مجھے سونے دے۔۔۔‘‘
    اْسے نذیر کے سونے کا ہی تو انتظار تھا فضا میں ٹوٹی کے ٹپکتے قطروں کی جگہ اب نذیر کے خرّاٹوں نے لے لی تھی اُس نے سر اُٹھا کے اپنے ادھورے شوہر کو دیکھا اْسے خود پرترس آگیا ۔۔ معین کا ہاتھ پرے کیا اس کی شرٹ اوپر تک آئی ہوئی تھی اْسے معین کے کمر سے لگے پیٹ سے خوف محسو س ہوتا تھا۔۔ یہ وہ سکون تو نہیں تھا جس کا خواب ماں نے تاجی کی آنکھ میں رکھا تھا وہ تو خواب سے پہلے تعبیر کا غم ڈھو رہی تھی۔۔ تاجی نے معین کی شرٹ نیچے کی اور خود بے آواز اْٹھ کر کمرے میں چلی گئی کپکپاتے ہاتھوں سے کھٹکا دبا یا اندھیرے کمرے میں مردہ سی روشنی پھیل گئی تاجی نے بے تابی ے کپڑوں کی گٹھڑی کو کھولا اور کپڑوں میں ہاتھ ڈال کر کُرتے کی اپنائیت کو محسوس کیا۔۔ بے تابی مگر احتیاط کے ساتھ اُس نے ہاتھ کھینچا۔۔۔ کُرتا اُس کے ہاتھ میں تھا اْس نے پلکیں جھپکیں جانے کرْتا میلا تھا یا اْس کی آنکھوں میں بسی آنسوؤں کی دھند نے اسے ملگجا کر دیا تھا ۔۔ تاجی نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔ مگرآنسو اب کہاں رُکنے والے تھے۔۔ اُس نے کرتے پر یوں ہاتھ پھیرا جیسے کرتا اُس کے ہاتھ میں نہ ہومنوں نے پہن رکھا ہو اور تاجی اس سے شکوہ کر رہی ہو۔۔ ’’رے منوں تُو نے میرا پیار کچی مٹی کی چار پیالیوں کے عوض بیچ دیا ۔۔ تُو تو کہتا ہے تھا تُو مر جائے گاپر ساری عمر اِسے سینے سے لگا کے رکھے گا۔۔‘‘
    تاجی نے گٹھڑی دوبارہ باندھ دی اور کرتا تہ کر تے کرتے کئی بار اس کا ضبط ٹوٹا اْس نے کئی بار اْسے وارفتگی سے چوما، آنکھوں سے لگایا اور کمرے کی کھڑکی کے پیچھے پردے میں رکھتے رکھتے بھول گئی کہ نذیر جب صُبح اُسے گٹھڑی میں نہیں پائے گا تو ۔۔۔ تو کیا ہو گا۔
    اُس رات بھی چاند ایسے ہی چمک رہا تھا جب منوں نے اس سے کہا تھا۔۔ ’’تیرا پیار۔۔پیار تھوڑی ہے میرے لئے احسان ہے ۔جو احسان بھولے، کافر ہو کے مرتاہے۔‘‘
    تاجی کے سارے منظر ہی دھندلے ہو گئے۔ ہائے منوںمیرا پیا ربھول جاتا احسان تو نہ بھولتا۔
    اس رات نے تو جیسے پیروں میں لوہے کی زنجیریں پہن لی ہوں۔سرک ہی نہ رہی تھی۔ جیسے میّت کا گھر۔ساری رات بین کرتے گزر گئی۔اذانوں کے وقت ذرا سی جھپکی لگی کہ نذیر نے آواز دی ۔
    ’’چل اْٹھ اذانیں ہو رہی ہیں،نماز نہیں پڑھنی کیا ؟‘‘
    اسے یوں لگا جیسے نذیر نے کہا ہو، میّت نہیں دفنانی کیا۔ وہ رات کی جاگی وحشت سے نذیر کو دیکھے گئی۔
    ’ایسے کیا دیکھ رہی ہے ؟‘۔نذیر نے اِسے محبت جانا۔
    تاجی نے پلاسٹک کی چپل پیروں میں اــڑسی اور بنا کچھ کہے اٹھ کر چلی گئی۔
    معین نے سکو ل جانا تھا اور نذیر نے کام پہ ۔۔ آندھی ہو یا طوفان شیدا اپنے وقت پہ آجاتا تھا مگر پتا نہیں کیوں اُس دن وقت گذر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ شیدا آیا معین اور نذیر دونوں کو لے کے چلا گیا۔ تاجی نے دروازہ بند کر کے بھاگ کے کرتا نکا لا اور جلدی جلدی دھونے لگی۔ اسے اتنی محبت سے ایک بار پہلے بھی وہ دھو چکی تھی جب اس نے کاڑھ لیا تھا، سلائی سے پہلے۔ منوں سے چُھپ کر گرمیوں کی کتنی تپتی دوپہر یں اس نے کمرے میں بند ہو کے گزاریں۔۔ تب کہیں جاکر مکمل ہوا تھا۔ کُرتا تار پر ڈال کر اس نے جلدی جلدی ہانڈی چڑھائی۔ بار بار اس کی نظر ہوا کی شہہ پہ ہلتے کُرتے پہ جاتی اسے یوں لگتا منوں سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک بار تو اس نے منو کا ہاتھ بھی جھٹکا۔ ’مجھے کھانا پکانے دے شیداروٹی لینے آتا ہی ہوگا۔ کہہ کر جب اس نے سر اُٹھایا، وہاں کوئی نہیں تھا تار پر بے وفائی کھڑی تھی۔
    تاجی کو یاد آرہا تھا چھت پر سیمنٹ کی دیوار سے ٹیک لگائے لگائے اس نے کتنے نخرے سے پوچھا تھا۔’یہ تو بتاکتنا پیار کرتا ہے مجھ سے؟‘۔منوں سوچ میں پڑ گیا۔
    تاجی کا دل بُجھ سا گیا۔اس نے کتنے دنوں کی گرمی کھا کر اس کے لئے سفید لون کا کرتا کاڑھا تھا اور اس کو دینے آئی تھی۔
    منو کو یوں سوچ میں گُم دیکھا تو کرْتا دوپٹے کی آڑ میں چُھپا لیا اور اٹھنے لگی۔’’۔رہن دے پیارہوگا تو بتائے گا نا۔‘‘ وہ اُٹھ گئی۔۔ اٹھتے اٹھتے تاجی کی چوٹی منوں کے ہاتھ میں آگئی اس نے ہاتھوں پہ دو بل دے کہ اسے اور قریب کر لیا۔ ’میں تو یہ سوچ رہا تھا کاش میں اگلے چار سو سال تک تجھے اس طرح بیٹھ کر دیکھتا رہوں۔۔‘‘ اس کالہجہ مخمور ہونے لگا۔ تاجی کا دل زور سے دھڑکا۔ بے ساختہ اس کا سر منوں کے کاندھے پہ ٹک گیا۔ شور مچاتی دھڑکنوں کے سازپر سرگوشی میں بولی: ’چار سو ایک سال کیوں نہیں؟‘ منوں نے اس کے کان میں کہا ’’ہو سکتا ہے میں اتنا نہ جی سکوں۔‘‘
    تاجی ایک جھٹکے سے منو ںسے علیحدہ ہوئی ۔۔ ’’ شکل اچھی نہ ہو تو بات ڈھنگ کی کر لیا کرو۔۔‘‘ پھر اترا کے بولی: ’’اچھا خیر۔۔ چار سو سال ہی ٹھیک ہے‘۔یہ دیکھ۔۔‘‘، اس نے خوش ہو کر دوپٹے کی آڑ سے کر تا نکالا۔ ’تیرے لئے کاڑھاہے۔ سیا بھی خود ہے میں نے ۔‘‘
    منو ںنے کرتا آنکھوں سے لگا لیا۔ ’’میرے لئے؟‘‘۔ ناقابلِ یقین حیرت سے پوچھنے لگا تو تاجی مغرور سی ہو گئی۔ ’’ہاں تیرے لئے ۔۔بتایا تو ہے میں نے خود بنایا ہے۔‘‘
    منو ںنے کرتے پر ہاتھ پھیرا ’’اتنا خوب صورت، ایک ایک ٹانکے میں اپنا پیار پرو کے دے دیا تْونے تو ‘‘ اس نے کُرتا چوم لیا۔تاجی نے سخاوت سے کہا ’’تجھے اچھا لگا تو ایک اور بنا دوںگی‘‘۔ منوں گھبرا کر بولا ’’نہیں نہیں۔‘‘ اس نے تاجی کے ہاتھ سید ھے کئے جہاں سوئیوں نے چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیئے تھے ۔’’میں تجھے اور تکلیف نہیںدے سکتا‘‘۔ تاجی ہنس دی۔’’بہت پاگل ہے تو اس میں تکلیف کی کیا بات ہے۔ سو روپے کا کپڑا آیا بتیس روپے کا دھاگا اور دس روپے کی چھپائی، کل ملا کر کتنے ہوئے۔؟‘‘ ہنس دیتی ہے۔ ’’تو اسے تکلیف سمجھتا ہے۔‘‘ اس نے تکلیف پر زور دے کر کہا۔ ’’اتنا تو سستا بنا ہے۔‘‘
    منوں نے تاجی کی آنکھوں کو چوم لیا: ’’تیری آنکھوں کا نور ہے یہ سوچتا ہوں کیسے چکا پاؤں گا اس کی قیمت۔ اتنی محبت۔ اتنی چاہت۔‘‘تاجی منو ںکے ماتھے کی لٹ پیچھے کر کے وارفتگی سے بولی: ’’جب تو اسے پہنے گا تواس کی قیمت آپ ہی چکتا ہو جائے گی۔‘‘ پھر مِنت سے کہا: ’’پہن کر دکھا ناں۔‘‘
    منوں مُسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’میں اسے تیرے بیاہ والے دن پہنوں گا۔‘‘ اْس نے تاجی کو چھیڑا۔۔
    تاجی یاد کرتے کرتے کیسے دنیا سے بے خبر لگ رہی تھی۔۔ کئی سالوں بعد وہ آپ ہی آپ ہنس رہی تھی دروازہ بج رہا تھا۔ تاجی ہوش کی دنیا میں واپس آگئی ہنڈیا کے جلنے کی بو سارے گھر میں پھیل چکی تھی۔تاجی نے جلدی سے ہنڈیا اُتاری اور دروازہ کھولا۔
    شیدا کھانا لینے کے لئے کھڑا تھا۔شیدے نے بھی جلنے کی بو محسوس کی۔’’پرجائی سالن لگ گیا لگتا ہے۔‘‘
    ’’ہاں‘‘ اس نے مختصراََ کہااورہمت کر کے کرتے کے مالکوں کا پتا پوچھا۔
    شیدا ہنس دیا۔ ’’استاد کہہ رہا تھا عورتوں کو تو کوئی اچھی شے دکھانی ہی نہیں چاہئے۔‘‘
    ’’خفا تو نہیں تھا۔‘‘ تاجی کا دل پھر زور سے دھڑکا۔شیدے نے بد رنگ مگر صاف دستر خوان کی گرہ لگائی اوراسے دیکھ کر روانی سے بولا: ’’پرجائی تجھ پہ خفا ہوتے کبھی دیکھا نہیں استاد کو۔‘‘ شیدا جاتے جاتے مڑا۔ ’’ویسے تم نے کیا کرنا ہے؟ گھر بہت دور ہے سواری کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا وہاں۔‘‘ تاجی نے سر ہلایا۔ ’’تیری مرضی ہے میرا کام تھا صلاح دینا۔‘‘
    تاجی نے دروازہ بند کیا او ر رو پڑی۔ اس منحوس صلاح ہی نے تو مارا تھا مجھے۔
    تاجی نے اپنا صاف ستھرا دوپٹہ جستی ٹرنک سے نکالااور کرتا تہ کر کے اس میں یوں لپیٹا جیسے اس کا دوپٹہ دوپٹہ نہ ہو جزدان ہو اور کرتاکرتا نہ ہو کوئی صحیفہ ہو۔یکدم اْس پہ بے بسی کی کیفیت چھا گئی جیسے کوئی مرض الموت میں مبتلا اْس کے سامنے ہو اور اُس کی سارے دعائیں کہیں زمین آسمانوں کے درمیان رہ گئی ہوں۔۔ منوں تو نے کیوں بیچا میرا پیار۔اتنا سستا۔ اس کا سانس بند ہو رہا تھا۔ ایسی بھاری سل سینے پہ دھری تھی کہ جیسے اب جان نکلی کہ تب۔
    بے بسی نے ایڑھیاں رگڑنے کی سی حا لت کر دی تھی۔تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا منوں جب تم نے مجھے اماں کی آرزو سنائی تھی۔میں تو اماں کو منع کر چکی تھی کہ مجھے کسی کے ساتھ بیاہ نہیں کرنا پر تیرے سامنے۔۔




  • ۱۳ ڈی — نفیسہ سعید

    ۱۳ ڈی — نفیسہ سعید

    ’’آپ کو پتا ہے جی‘‘… ڈسٹنگ کرتی فاطمہ کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔
    ’’کیا‘‘…
    کچن میں مصروف کبریٰ نے چولہے کی آگ کم کرتے ہوئے اپنی بھرپور توجہ فاطمہ کی جانب مبذول کر دی کیوںکہ وہ جانتی تھی کہ فاطمہ کسی بھی اہم خبر کی ابتداء اسی ایک جملے سے کرتی ہے۔
    ’’وہ جو کونے والی باجی ہیں نا۔‘‘ ڈسٹنگ والا کپڑا ہاتھ میں لئے وہ تجسس پھیلاتی کچن کے دروازے پر ہی آن کھڑی ہوئی۔
    ’’کونے والی باجی…‘‘ کبریٰ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کس کی بات کر رہی ہے۔
    ’’ارے وہی جی جن کا بڑا نخرہ ہے منیزہ باجی۔‘‘
    چوںکہ اسی گلی میں منیزہ سے تو کبریٰ واقف تھی اس لئے اُس نے تصدیق کی خاطر اس کی نوکری کا حوالہ دے دیا۔
    ’’وہی جو بنک میں ملازمت کرتی ہیں؟‘‘
    ’’ہاں وہی با جی…‘‘
    ’’کیا ہوا انہیں۔‘‘منیزہ کے نام کے ساتھ بھی کبریٰ کی دل چسپی تھوڑی بڑھ گئی۔
    ’’ان کو کیا ہونا ہے۔ ہوا تو ان کے میاں کو ہے، آپ کو نہیں پتا آج کل کسی لڑکی سے چکر چلایا ہوا ہے، بڑا فساد ڈالتا ہے اس کے پیچھے۔ دنوں میاں بیوی کل شام میرے سامنے ہی جھگڑ پڑے تھے۔
    ’’اچھا…‘‘
    یہ اطلاع کم از کم کبریٰ کے لئے خاصی حیران کن تھی کیوںکہ منیزہ اور معیز کی ابھی چھے سال قبل ہی شادی ہوئی تھی اور دونوں ایک ہی بینک میں جاب کرتے تھے اور اپنی محبت کی کہانیاں منیزہ پورے محلے کو ہی سُنا چکی تھی اور یہ محبت ان دنوں میں باقاعدہ دکھائی بھی دیتی تھی۔ پھر یہ جو کچھ فاطمہ انہیں بتا رہی تھی نا صرف حیران کُن بلکہ کافی حد پریشان کُن بھی تھا۔
    ہاں جی منیزہ باجی تو خوب رو رہی تھیں کیوںکہ سمیر بھائی سے شادی کے لئے انہوں نے اپنے پورے خاندان سے مخالفت مول لی، اپنی پہلی منگنی توڑی اور پھر دیکھیں انہیں صلہ کیا ملا وہ بھی ایک مرد کی بے وفائی۔
    ’’ہو سکتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو کیوںکہ ابھی دو دن قبل تو وہ مجھے عنبرین کے گھر میلاد میں ملی تھی بالکل خوش باش اپنی ٹپ ٹاپ کے ساتھ۔‘‘
    ’’آپ سے وہ گھر کے باہر ملی تو ظاہر ہے کہ گھر کا دُکھ اندر ہی چھوڑ کر آئی ہوں گی نا۔ ویسے بھی جی جو لڑکی ساری دنیا کو ناراض کر کے ایک بندے کو اپنا بنائے، بتائیں وہ بھلا کیسے اس بندے کی بے وفائی کا ذکر دنیا کے سامنے کرے گی؟‘‘
    مختلف گھروں میں کام کرنے سے فاطمہ کا انداز گفت گو خاصا سمجھ دارانہ ہو گیا تھا جس کا اندازہ پہلے ہی کئی بار کبریٰ کو ہو چکا تھا۔
    ’’پر میں تو ان کے گھر جاتی ہوں مجھ سے بھلا کیسے کچھ چھپا سکتی ہیں وہ؟
    بڑا رو رہی تھیں جی میرے سامنے سمیر بھائی کی بے وفائی پر۔‘‘





    ’’اچھا… چلو اب تم جلدی جلدی کام ختم کرو بچے گھر آنے والے ہیں اور میں کھانا لگاؤں۔‘‘
    باتوں کے دوران کبریٰ کو ٹائم کا پتا ہی نہ چلا۔ اب جو گھڑی پر نظر پڑی تو جلدی سے فاطمہ کو ٹوک دیا۔
    ’’میرا کام تو ختم ہو ہی چکا ہے۔ بس ذرا ڈسٹنگ رہ گئی ہے، وہ اب کل آکر کروں گی کیوںکہ مجھے روحی باجی کے گھر آج ذرا جلدی جانا ہے پھر وہ ناراض ہو جائیں گی۔‘‘
    ’’’اچھا ٹھیک ہے مگر کل آکر سارا کام ٹائم سے ختم کر لینا۔‘‘
    ٹھیک ہے باجی سالن پک گیا ہے تو کسی تھیلی میں ڈال دیں۔ روٹی میں باجی روحی کی باورچن سے لے لوں گی وہ سالن بڑی دیر سے پکاتی ہے جب کہ مجھے زوروں کی بھوک لگی ہے۔
    ’’تم روٹی بھی مجھ سے لے جاؤ۔‘‘
    یہ کہہ کر کبریٰ نے جلدی سے اُسے ایک تھیلی میں سالن اور دو روٹیاں لپیٹ کر دے دیں۔
    ویسے ایک بات ہے باجی جو ذائقہ آپ کے ہاتھوں سے بنے سالن کا ہے وہ تو مجھے باجی روحی کی باورچن کے ہاتھوں میں بھی نہیں ملتا بڑا سواد ہے جی آپ کے کھانے میں۔
    اچھا…
    اُس کی ذرا سی تعریف سے کبریٰ نے خوش ہو کر اسے تھیلا پکڑایا اور اُس نے جلدی سے فریج کھول کر دو آم بھی اسی تھیلی میں ڈال کر اُس کے حوالے کر دیئے۔
    ’’اللہ بہت دے آپ کو، بڑا خیال رکھتی ہیں میرا۔‘‘
    اسی طرح دعائیں دیتی وہ باہر نکل گئی تو کبریٰ کو یاد آیا کہ آج تو اُس نے فاطمہ سے پنکھے صاف کرنے کو بھی کہا تھا جو باتوں ہی باتوں میں دونوں ہی بھول گئیں جب کہ شام میں گھر کچھ مہمان آنے والے تھے اس لئے لازم تھا کہ پنکھے صاف ہوتے۔ اب چوںکہ فاطمہ جا چکی تھی اس لئے کبریٰ نے خود ہی جلدی سے سارے گھر کے پنکھے جھاڑ دیئے، مبادا انہیں دیکھ کر عزیز کو غصہ نہ آجائے۔
    ٭٭٭٭
    فاطمہ گلی نمبر ۱۳۔ڈی کے تقریباً تمام ہی گھروں میں کام کرتی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ ہر گھر میں موجود کوئی نہ کوئی ایسی کہانی ضرور جانتی تھی۔
    جس سے عام طور پر محلے کے دوسرے لوگ بے خبر ہوں۔ بہ قول فاطمہ کہ کبریٰ پوری گلی میں اُس کی سب سے اچھی باجی تھی جسے وہ سب کی باتیں بتایا کرتی۔
    ’’ویسے تو باجی جی اللہ معاف کرے میں کبھی کسی کی بات یہاں وہاں نہیں کرتی بڑا سخت گناہ ہے جی یہ، کبھی کبھی کسی کی کوئی بات بتا دیتی ہوں جس پر اللہ مجھے معاف کرے۔‘‘
    اور چاہ کر بھی کبریٰ نے کبھی اُس سے یہ نہ کہا کہ ’’کبھی کبھی‘‘ نہیں بلکہ تم تو روز ہی مجھیایک نئی داستان سناتی ہو وجہ شاید یہ تھی کہ اُسے بھی اس طرح محلے کی خبروں سیباخبر رہنا اُسے اچھا لگنے لگا تھا اور وہ خود فاطمہ کی سنائی ہوئی ہر بات بڑی دل چسپی سے سنتی اور ایسے میں اکثر ہی اُسے فاطمہ کے جانے کے بعد کئی ایسے کام کرنے پڑتے، جنہیں وہ اپنی باتوں میں ادھورا چھوڑ جاتی۔
    ٭٭٭٭
    ’’آمنہ باجی کے بیٹے نے پھوپھی کے گھر اپنی منگنی توڑ دی ہے۔‘‘
    یہ فاطمہ کی طرف سے آج کی تازہ خبر تھی۔
    ’’ارے وہ کیوں؟‘‘
    کبریٰ کو فاطمہ کا جملہ سنتے ہی حیرت کا جھٹکا لگا کیوںکہ وہ جانتی تھی کہ ولید نے یہ منگنی خود اپنی مرضی سے کی ہے جب کہ آمنہ کی تو اپنی نند سے پہلے بھی نہ بنتی تھی۔
    کہتا ہے کہ لڑکی اچھی نہیں ہے۔
    حیرت ہے آج سے دو سال قبل تو وہ لڑکی اتنی اچھی تھی کہ اس کی خاطر روز ماں سے جھگڑتا تھا اب ایک دم ہی اتنی بُری ہو گئی کہ منگنی بھی ختم کر دی۔
    ’’بس جی جو لڑکیاں، اس طرح لڑکوں سے یاریاں لگا کر منگنی کرتی ہیں۔ بھلا وہ کہاں کامیاب ہوتی ہوتی ہیں مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جی جب تک باؤ ولید کا مطلب پورا نہیں ہوا تب تک وہ اچھی تھی جیسے ہی اپنا مطلب نکلا لڑکی میں کیڑے نظر آنے لگے۔‘‘
    ’’بری بات ہے فاطمہ بنا جانے کسی کے لئے اتنی بڑی بات نہیں کرتے۔‘‘
    کبریٰ نے اُسے ہلکی سی سرزش کے ساتھ اسے سمجھانا چاہا۔
    ’’ میں کہاں کر رہی ہوں جی کوئی بات۔ مجھے تو خود آمنہ باجی نے بتایا ہے ۔‘‘
    ’’اچھا…‘‘ظاہر ہے جب آمنہ نے خود بتایا تھا تو وہ بھلا کیسے فاطمہ کو غلط قرار دیتی۔
    ’’اور جی آپ کو ایک اور بات تو میں بتانا بھول ہی گئی۔‘‘
    ’’اچھا ذرا جلدی سے بتا دو جو بتانا ہے کیوںکہ آج عزیز نے بھی لنچ کرنے گھر آنا ہے دراصل ہانیہ یونی ورسٹی ٹرپ پر ترکی جا رہی ہے اُسے چھوڑنے ہم دونوں کو ایئرپورٹ جانا ہے۔‘‘
    ’’واہ جی ہانیہ باجی کے تو مزے ہی مزے۔‘‘
    ’’مفت میں مزے نہیں ہوئے۔ ہم نے پورے دو لاکھ یونی ورسٹی کو دیئے ہیں اس ٹرپ کے لئے۔‘‘
    سالن میں چمچ چلاتی کبریٰ بڑے فخر سے بولی۔
    ’’اب بتاؤ تم کیا کہہ رہی تھیں۔‘‘
    ’’وہ جی آنٹی قریشی کا بیٹا لڑکی بھگا کر گھر لے آیا ہے۔‘‘ اس نے اپنی گول گول آنکھیں نچائیں۔
    ’’ہیں یہ کب ہوا؟‘‘ آج تو شاید حیرتوں کا دن تھا۔
    ’’وہ تو بڑا سیدھا سادا اور بھلا مانس سا بچہ ہے، پانچ وقت کا نمازی اور پرہیزگار پھر بھلا کیسے وہ کسی کی بیٹی اس طرح بھگا لایا۔‘‘
    یہ پہلی ایسی خبر تھی جس پر یقین کرنے کو کبریٰ کا دل قطعی آمادہ نہ ہوا۔
    ’’یہ تو مجھے نہیں پتا جی بس آج میں نے دیکھا گھر میں ایک نئی لڑکی تھی خوب تیار شیار، میں نے آنٹی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حماد کی گھر والی ہے۔‘‘
    ’’ہاں تو اس کا مطلب یہ تو نہ ہوا نا کہ وہ لڑکی بھگا کر لے آیا ہے۔‘‘
    ’’وہ لڑکی ڈری سہمی بیٹھی تھی اور آنٹی سارے گھر میں رولا ڈالتی پھر رہی تھیں کہ جانے کس کا گند گھر لا کر ڈال دیا۔‘‘ وہ مسز قریشی کے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے بولی۔
    ’’چلو آج شام میں دیکھ کر آؤں گی۔‘‘

    ’’پر میرا نام نہ لیجیے گا آپ کو پتا ہے وہ بڑے غصے والی آنٹی ہیں۔ مجھے تو اس لڑکی پر ترس آ رہا تھا جو نومی بھائی کے عشق میں میں مبتلا ہو کر یہان آن پھنسی۔ اُسے کیا پتا کہ اُس کی ساس کیسی پٹاخا عورت ہے گھر میں کسی کی کیا مجال جو ان کے آگے بول جائے۔‘‘
    ’’ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو اور منیزہ کی سناؤ کیسی ہے؟ کافی دنوں سے نظر نہیں آرہی۔‘‘
    ’’پتا نہیں جی پر مجھے تو لگتا ہے کہ بھائی سمیر نے اب جلدی ہی دوسری شادی کر لینی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کر بھی لی ہو۔‘‘
    ’’اچھا تمہیں ایسا کیسے لگا؟‘‘
    ’’آج کل گھر ہی نہیں ہوتے جب کہ میں صبح آٹھ بجے سب سے پہلے ان کے گھر جاتی ہوں۔ اب بتاؤ بھلا اتنا سویرے سویرے وہ کہاں چلے جاتے ہیں؟ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ رات ہی گھر نہیں آئے۔‘‘
    ’’اوہ…‘‘ کبریٰ کو خاصا افسوس ہوا۔
    ’’اب منیزہ باجی بھلا کس کو اپنا دکھ سنائے؟ ایک مرد کے لئے تو سب کچھ چھوڑا، اب وہ ہی اپنا نہ رہا تو بچاری کیا کریں جی ۔‘‘
    ہاں کہہ تو تم ٹھیک ہی رہی ہو، بریانی پکائی ہے کھاؤ گی؟
    ’’جی آپ کے ہاتھ کی تو دال اتنی سواد کی ہوتی ہے کہ بندہ انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔ میں بھلا بریانی سے کیسے منع کروں؟‘‘
    اور اسی خوشی میں مدہوش کبریٰ نے ڈبہ بھر کر بریانی کے ساتھ دو کباب اور رائتہ بھی فاطمہ کے حوالے کر دیا۔
    ’’اللہ آپ کو بہت دے جی۔‘‘ جاتے جاتے وہ دعا دینا نہ بھولتی۔
    ٭٭٭٭




  • الفاظ کا احتجاج — ہما شہزاد

    الفاظ کا احتجاج — ہما شہزاد

    رات کا آخری پہر تھا حرف اپنے بستر پہ لیٹا اونگھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ والے بیڈ پہ لیٹا حرف کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ان کے باقی ساتھی بھی ڈرائنگ روم میں بیٹھے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔
    ’’میں نے منع بھی کیا تھا تم لوگوں کو کہ اب کوئی ایسا کام نہیں کرنا مگر تم لوگوں نے پھر حامی بھر لی۔ ابھی پچھلا غم نہیں بھولا اور چل پڑے نئے کام پہ۔‘‘ بڑے صوفے پہ بیٹھا حرف غصے سے بول رہا تھا۔
    ’’سارا دن فارغ بھی تو نہیں بیٹھا جاتا۔ میری تو ٹانگیں بھی اکڑ جاتی ہیں بیٹھ بیٹھ کے بے کار بیٹھنے سے بہتر ہے رسک لے لیا جائے۔‘‘ اس کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھے حرف نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
    ’’لیکن کہہ تو وہ بھی ٹھیک ہی رہا ہے یاد ہے پچھلی بار کا تجربہ کچھ حاصل نہیں تھا ہوا۔‘‘ سنگل صوفے پہ بیٹھے حرف نے پہلے والے کی حمایت کی۔
    ڈرائنگ روم میں عجیب ٹینس سا ماحول تھا۔ ہر حرف فکر مند دکھائی دیتا تھا۔
    ’’چلو ابھی کام کون سا شروع ہوگیا ہے آپس میں مت اُلجھو کل وہ لوگ آئیں گے تو پہلے ان سے بات کرلیں گے۔‘‘ ٹوسیٹر صوفے پہ بیٹھے حرف نے کافی کاسپ لیتے ہوئے متانت سے کہا۔ ’’مجھے تو پریشانی سے نیند بھی نہیں آئے گی۔‘‘ بڑے صوفے پہ بیٹھا حرف کچھ زیادہ ہی پریشان تھا۔
    ’’کچھ نہیں ہوتا جو ہوگا سب مل کے دیکھ لیں گے زیادہ مت سوچو۔ اب اُٹھ جاؤ رات بہت ہوگئی ہے۔‘‘ سنگل صوفے پہ بیٹھا حرف اسے تسلی دیتا ہوا اُٹھ گیا۔
    باقی سب حروف بھی اُٹھ کر اپنے اپنے بیڈ رومز کی طرف چل پڑے لیکن گہری نیند آج کسی کا مقدر نہیں تھی سب کو آنے والے کل کا انتظار تھا۔ ان کے دلوں میں نیا کام کرنے کا شوق بھی تھا اور اس کے مسترد ہونے کا خوف بھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’مجھے سمجھ نہیں آتی تم لوگ میری بات مان کیوں نہیں لیتے؟‘‘ قلم نے چائے کاسپ لیتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے حروف کی طرف دیکھا۔
    تم نئے ہو قلم اور میرا تجربہ کہتا ہے کے نئے قلم کا کام مشکل سے ہی اپنی جگہ بنا پاتا ہے۔ پہلے بھی ہمیں ایک نیا قلم لے گیا تھا پھر کیا ہوا ہم سب بکھر گئے کسی رسالے کسی اخبار نے ہمیں ذرا سی بھی جگہ نہیں تھی‘‘ دانت سے بسکٹ کا کونا کتر کتر کرکھاتے حرف نے استہزائیہ انداز میں اپنی بات مکمل کی۔
    ’’ماں اور میں تو ابھی تک اسی صدمے سے سنبھل نہیں پائے۔ اب مجھ میں کوئی نیا غم سہنے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘‘ چھوٹے دل کا حرف سٹرا سے تھوڑا تھوڑا فریش جوس پیتے ہوئے بولا۔
    ’’مانا کہ یہ قلم نیا ہے لیکن اس کے پاس بہت اچھے آئیڈیاز ہیں تم لوگ آزما کے تو دیکھو امید ہے اس مرتبہ ہمیں کامیابی مل ہی جائے۔‘‘ قلم کے ساتھ بیٹھے کاغذ نے اس کی حمایت کی اگر اس مرتبہ بھی کامیابی نہ ملی تو آئندہ میں کسی قلم پہ بھروسہ نہیں کروں گا۔‘‘ آنکھوں پہ عینک لگائے ہوئے حرف نے اپنی عینک اتار کے اس کے شیشے صاف کرتے ہوئے کہا اس کے انداز میں مایوسی تھی۔
    ’’تو پھر تم لوگ یہ آخری موقع مجھے ہی دے دو۔‘‘ قلم نے بڑی امید سے ان سب کی طرف دیکھا۔
    ’’ٹھیک ہے ایک آخری کوشش کرلیتے ہیں۔‘‘ ڈرائنگ روم کے کونے میں کرسی رکھ کے بیٹھے حرف نے بلآخر فیصلہ سنایا۔
    قلم کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک ایک حرف کو اٹھا کے کاغذ پہ ڈالنے لگا۔ قلم لکھتا گیا حرف لفظوں میں ڈھلتے گئے۔ کاغذ کی سطح پہ جملے ابھرنے لگے۔ اس کام میں کئی دن لگے اور آخرکار نئے قلم کی لکھی کہانی مکمل ہوئی مگر اب مرحلہ تھا اس کہانی کو شائع کرانے کا اور اسی مرحلے کی وجہ سے حروف الفاظ میں ڈھلنے سے ڈرتے تھے کہ جانے کوئی ان الفاظ کو اہمیت دے یا نہ دے۔ لیکن قلم نے ہمت کی اور اپنی کہانی ایک رسالے کو پوسٹ کردی۔ کاغذ پہ لکھے الفاظ کے دل بے ترتیب انداز سے دھڑکنے لگے…
    ٭…٭…٭
    میگزین انچارج نے ایک نظر کہانی پہ ڈالی اور اسے سائیڈ پہ رکھ دیا۔ نئے قلم کے کام کے لیے ابھی رسالے میں جگہ نہیں تھی۔
    قلم نے کہانی ایک اور جگہ بھیجی لیکن اس ڈائجسٹ نے بھی چھاپنے سے معذرت کرلی۔ وجہ وہی پرانی… نئے قلم کا کام ہے…
    پھر ایک اور جگہ قسمت آزمائی…، اس نے تو کہانی اٹھا کے ردی کی ٹوکری میں ہی پھینک دی…
    اور یہ بس حد تھی کاغذ پہ لکھے الفاظ کے صبر کی… بیش تر الفاظ اپنی تحقیر پر رونے لگے۔ ایک کی تو روتے روتے ہچکی سی بندھ گئی۔
    ’’روتے کیوں ہو؟ رونے سے کچھ نہیں بنے گا اٹھو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرو۔‘‘ بلآخر ایک ہمت والے لفظ نے اپنے ساتھیوں کے آنسو دیکھتے ہوئے انہیں جینے کی نئی آس دلائی۔
    کون سا حق؟ ہماری غلطی تھی ہم نئے قلم کے کہنے پہ متحد ہو کے الفاظ میں ڈھل گئے۔ اب دیکھو ہمارا ٹھکانا یہ ردی کی ٹوکری ٹھہرا۔ نئے قلم کا کہیں کوئی حق نہیں۔‘‘ الفاظ کے اندر موجود ہر حرف آب دیدہ تھا۔
    ’’متحد ہونا تمہاری غلطی نہیں تمہاری قوت ہے اٹھو ہمت نا ہارو۔ آؤ مل کر احتجاج کریں۔ جگہ نہ بھی ملی تو اس بار ہماری آواز دور دور تک جائے گی۔‘‘ پہلا لفظ بول رہا تھا اور کاغذ پہ لکھے باقی الفاظ اپنے اندر ایک جوش اُٹھتا محسوس کررہے تھے۔
    ہمت والے لفظ کی بات مکمل ہوئی اور الفاظ نے نئے جذبے کے ساتھ احتجاج کا علم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اب انہیں انتظار تھا قلم انہیں کسی نئی جگہ بھیجے اور وہ اپنے پلان پر عمل درآمد کریں۔
    ٭…٭…٭
    قلم نے کہانی ایک آخری امید پر ایک اور میگزین والوں کو بھیجنے کا سوچا۔ ادھر اس نے کہانی پوسٹ کی ادھر کاغذ پہ لکھے الفاظ تیزی سے اپنی جگہ بدلنے لگے۔ کہانی لگتا ہے کچھ اور بن گئی ہے… کیا؟…
    میگزین ایڈیٹر نے بے دلی سے نئے قلم کا کام کھولا۔ لیکن یہ کیا؟؟
    سامنے پہلے صفحے پر ہی الفاظ بازوؤں پہ کالی پٹیاں باندھے دھرنا دیے بیٹھے تھے۔
    ’’پرانے لکھاریوں کے ساتھ اپنے ڈائجسٹ میں تھوڑی سی جگہ ہمیں بھی دو‘‘… پہلی سطر میں بیٹھے الفاظ کا نعرہ تھا۔ ’’ہمارا قصور ہم نئے قلم کے ساتھی‘‘ الفاظ کے ہاتھوں میں موجود بینر پہ درج تھا۔
    ’’نئے قلم کی آواز بھی لوگوں تک پہنچاؤ۔‘‘ ’’ہمیں جگہ نہ ملی تو ہمارے احتجاج کے بعد ہماری ہڑتال ہوگئی۔‘‘
    مختلف پلے کارڈز اٹھائے الفاظ کاغذ پہ جگہ جگہ کہیں کھڑے تھے کہیں بیٹھے تھے۔
    ایڈیٹر نے ایک نظر پھر سے الفاظ کے احتجاج پر ڈالی اور سوچ میں پڑگیا۔ اگر الفاظ کی ہڑتال ہوگئی اور وہ حرف حرف بکھر کے گھر چلے گئے تو پھر وہ کبھی متحد ہوکے الفاظ کا روپ نہیں دھاریں گے۔
    تو پھر کیا سوچا آپ نے؟ آپ کا میگزین جگہ دے رہا ہے الفاظ کے احتجاج کو؟ یا پھر الفاظ کی ہڑتال کا انتظار ہے؟ کاغذ کے آخری کونے میں کھڑے چند الفاظ آخری سطر سے لٹکے ایڈیٹر سے سوال کر رہے تھے۔ سطر پہ ان کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی تھی۔ کیوں کہ وہ ہڑتال پہ جانے کے لیے تیار تھے۔ ادھر ایڈیٹر انکار کرتا۔ ادھر ان کے ہاتھ چھوٹتے اور وہ حرف حرف بکھر جاتے۔
    ٭…٭…٭




  • خوشی بادشاہ — افراح فیاض

    خوشی بادشاہ — افراح فیاض

    مبارک پور کی جنازہ گاہ میں بچوں کا بہت رش تھا۔ ظاہرہے کوئی فوت ہوا تھا۔ مگر فوت ہونے والا کون تھا۔۔۔ ؟ جنازہ گاہ میں بچوں کی موجودگی ایک انہونی بات تھی۔ ایک راہ گیر نے بڑی بے تابی سے پاس کھڑے بچے سے پوچھا:۔۔۔ ’’کون فوت ہوا ہے ؟ ‘‘
    بچے کی آنکھوں میںآنسو آ گئے۔۔۔ ، اس نے تھوک نگلا اور بولا: ’’خوشی بادشاہ‘‘ ۔۔۔ راہ گیر بچے کے جواب سے مطمئن نہ ہوا ، اس نے پھر پوچھا: ’’خوشی بادشاہ کون تھا ؟۔۔‘‘
    ’’ پاگل تھا ‘‘۔۔۔۔ بچہ جواب دے کر بھاگ گیا۔
    جی ہاں ، خوشی بادشاہ ایک پاگل تھا ، کو ئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے پاگل ہونے کی وجہ کیا تھی۔ کوئی کہتا اس کے بڑے بھا ئی نے بجلی کے جھٹکے لگوا کر اُسے پاگل کیا۔ معلوم نہیں بجلی کے جھٹکوں سے کوئی پاگل ہوتا ہے یا نہیں مگر خوشی بادشاہ کے حوالے سے ایسی ہی باتیں مشہور تھیں۔ پتا نہیں جھوٹ تھا یا سچ مگر یہ سچ تھا کہ پاگل ہونے سے پہلے وہ بس میں کنڈ یکٹر ہوا کرتا تھا اور اس کا خاندان بہت بڑا اور پیسے والا تھا۔
    نہ جانے وہ کتنے عرصے سے ، شاید جوانی کے زمانے سے ہی مبارک پور محلے میں ایک کمرہ کے گھر میں رہ رہا تھا۔ سردی ہویا گرمی سب موسم وہ اسی کمرے میں گزارتا تھا۔ مٹی کا ایک چولہا، ٹوٹی ایک چارپائی ، اس پر میلا سا ایک گدا، اوڑھنے کے لیے ایک میلی سی چادر ، ایک ٹوٹی چپل ، ایک سٹیل کا ڈبہ ، ایک پیالہ اور کپڑوں کے دوجوڑے، یہ اس کی کل کائنات تھی۔ گھر کی دیواریں گر چکی تھیں ، کمرہ آگ کے دھویں سے کالا پڑ چکا تھا، برتنوں میں کتے بلی منہ مارتے پھرتے اور اس کے اردگرد مکھیاں بھنبھناتی رہتیں۔ مائیں بچوں کو سمجھاتیں اس پاگل کے گھر نہیں جانا بلکہ اس کے پاس سے بھی نہیں گزرنا۔۔۔ مگر بچے اس کی طرف ہی بھاگتے۔ ایک وجہ اس کے کھنڈر نما گھر کے بیچوں بیچ اونچا ، لہلہاتا کھجور کا درخت تھا، جو موسم میں کھجوروں سے لدا رہتا۔ ایسی میٹھی رسیلی کھجوریں کہ دیکھتے ہی منہ پانی سے بھر جاتا اور دوسری وجہ ٹافیاں تھیں۔





    اس کے عزیز رشتے داروں میں سے کبھی کوئی اس سے ملنے نہیںآیا تھا۔آتے بھی کیوں ، ظاہرہے پاگلوں کو ملنے یا یاد رکھنے کا وقت اس مصروف زندگی میں کس کے پاس ہے؟ اس نے تنہا ساری عمر ایک کمرے میں گزاردی۔ گرمیوں کی راتوں میں وہ بہت بے چین ہو کر چیختا ، اردگرد پنکھوں کے سامنے سوئے محلے دار اس کی آواز سے پریشان ہوتے ۔ وہ گرمی کے ساتھ ساتھ مچھروں کا مقابلہ کرتے کرتے کھلے آسمان تلے آجاتا۔ آسمان کی چھت اور باہر کی ٹھندی ہوا اسے اپنی آغوش میں لے کر تھپک تھپک کر سلا دیتے۔ سردیوں کی راتوں میں وہ ایک چادر میں کروٹیں بدلتا رہتا، کبھی اٹھ کر چولہا جلاتاکبھی گرم رہنے کے کوئی اور جتن کرتا۔ اڑوس پڑوس میں لوگ نرم گرم لحاف اوڑھے سوئے رہتے، کسی کو کسی کی کیا پروا۔۔۔ اور ایک پاگل کی پروا کرتا بھی تو کون۔۔
    خوشی بادشاہ بہت انا پرست اور سمجھ دار قسم کا پاگل تھا۔ زبان و بیاں اور عقل کی رُو سے یہ کتنی غلط سطر ہے مگر علم نفسیات اسے درست سطر تسلیم کرتا ہے۔
    اس نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا، کبھی بلا اجازت کسی کے گھر نہیں گھسا اور نہ ہی کبھی کسی کے ہا تھ سے کچھ چھینا۔
    ساجد ایک خدا ترس انسان تھا۔ موت تک بادشاہ کے لیے تین وقت کا کھانا اس کے گھر سے جاتا رہا۔ کبھی کبھار اس محلے کی ایک عورت سلامت بی بی بادشاہ کو کھانا بھجواتی ، پیسے دیتی اور کہتی بادشاہ اگر کچھ چاہیے ہو تو لے لیا کرو۔ وہ ان لوگوں سے بھی زیادہ تر ایک جگ پانی مانگنے آتا یا کبھی کبھار روٹی پر رکھ کر کھانے کو اچار۔
    ساجد اور سلامت بی بی سے ملنے والے پیسوں سے بادشاہ عیاشی کرتا۔ ایک سگریٹ کی ڈبی لیتا ایک سادہ کاغذ والا رجسٹر ، ایک بال پوائنٹ اور باقی بچنے والے سارے پیسوں کی ٹافیاں لے لیتا۔ دکان سے اس کے گھر تک کے راستے میں جتنے بچے ملتے وہ سب کو ایک ایک ٹا فی دیتا۔ باقی ٹافیاں وہ مٹھی بھر بھر کے ان گھروں کے صحنوں میں پھینک دیتا، جہاں بچے موجود ہوتے۔ یہ دنیا کا کیسا پاگل تھا۔۔۔۔۔۔ سمجھ سے باہر تھا۔ گھر پہنچ کر وہ سٹیل کے پیالے میں پانی اور پتی ڈال کر چائے بناتا، سگریٹ سلگاتا اور رجسٹر پر حساب کتاب لکھنا شروع کر دیتا۔ دیکھنے والے کہتے تھے کہ وہ ہر وقت صرف لکھتا ہے ، جب وہ گھر میں موجود نہ ہوتا تو بچے جاکر اس کا رجسٹر دیکھتے، ان میں سے جو زیادہ پڑھا لکھا ہوتا وہ کہتا: ’’او دیکھ اوئے! بادشاہ نے ریاضی کے سوال حل کیے ہیں اور سارے کے سارے ٹھیک ہیں ۔‘‘ بچوں کو یہ بات کبھی سمجھ نہ آئی کہ یہ پاگل آخر ریاضی کے سوال کیسے حل کرتا ہے؟
    اس سے متعلق اس طرح کے اور بہت سے معمے تھے، جو بچے کبھی سلجھا نہ سکے، وہ اپنی نوعیت کا ایک مختلف پاگل تھا، جس سے بچے محبت کرتے تھے۔ شاید دنیا کا پہلا اور آخری پاگل تھا جس نے کبھی کسی بچے سے کوئی پتھر نہیں کھایا، کبھی کسی سے گالی نہیں سنی۔ وہ واقعی بادشاہ تھا۔ گائوں کے نشئی اس سے پیسے مانگنے آتے۔ وہ جیب میں ہاتھ ڈالتا جو نکلتا پکڑا دیتا۔
    اور پھر وہ دن آگیا۔۔۔۔۔۔۔ وہ دن جو اس کائنات کے بنانے والے نے ہر انسان پر لازم کر دیا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ خوشی بادشاہ جو دنیا کی نظر میں پاگل تھا حقیقت میں ایک انسان تھا۔ گرمیوں کی ایک سہانی صبح ایک بچہ بھاگتا بھاگتا سلامت بی بی کے پاس آیا:
    ’’اماں، اماں! بادشاہ کو کچھ ہوگیا ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہیں اور تھوک اس کے منہ سے نکل کے باہر جمع ہوگیا ہے۔‘‘ سلامت بی بی ہاتھ پہ رکھی روٹی بڑھاتے بڑھاتے ٹھہر گئی۔ آٹا گول مول کر کے پرات میں پھینکا۔۔۔ یا اللہ خیر۔۔۔۔
    سلامت بی بی اور اس کا شوہر مشہود احمد بادشاہ کے گھر کی طرف بھاگے۔ جانے رات یا صبح کے کس پہر فرشتہ اجل نے اس کے گھر قدم رکھا تھا۔ بادشاہ کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔ کس نے کیں۔۔۔۔ کسی کو معلوم نہیں۔۔۔۔ مشہود احمد نے خود ہی اندازہ لگایا کہ رات کے کسی پہر سوتے میں جان نکل گئی ہے۔ سلامت بی بی رو دی۔ بے چارہ۔۔۔ مر گیا۔
    سلامت بی بی نے بادشاہ کے بڑے بھائی رفیق محمد کو ٹیلی فون پر اطلاع دی۔ ساجد دکھ اور بے بسی سے رو دیا کہ کیوں اطلاع دی؟۔۔ اگر میں ساری عمر اسے کھلا پلا سکتا تھا تو اس کے کفن دفن کا انتظام بھی کر سکتا ہوں۔
    ’’خبردار۔۔ رفیق محمد کو کہہ دو اسے کفن نہ دے۔ آخر اسے اطلاع دی ہی کیوں؟‘‘۔۔ لوگوں نے کہا: ’’چھوڑو یار کیوں چیختے ہو، پاگل تھا، مر گیا۔ بڑا بھائی ہے رفیق محمد۔۔ بتانا ہم محلے والوں کا فرض بنتاتھا۔‘‘
    اور پھر بادشاہ کے بہت سارے رشتے دار اچانک کہیں سے آگئے۔۔۔ بہت سارے۔۔۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں۔ محلے میں ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ بادشاہ کی میت سلامت بی بی کے گھر رکھی گئی۔ محلے کی عورتوں نے پہلی بار بادشاہ کے رشتے داروں کو دیکھا تو دانتوں تلے انگلیاں داب لیں۔ ایک عورت سے رہا نہ گیا بالآخر طنزیہ بول اُٹھی:۔۔۔ ’’بادشاہ کے رشتے دار اتنے امیر تھے۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ ہمیں تو آج پتا چلا۔‘‘ گائوں کی عورتیں آپس میں باتیں کرنے لگیں: ’’ان کے زیورات دیکھو، کپڑے دیکھو۔۔۔‘‘ لیکن بادشاہ کی رشتہ دار خاتون نے سنی ان سنی کر کے اپنے بچے کو آواز دی ـ’’ بیٹا باہر جا کر گاڑی دیکھو ٹھیک کھڑی ہے، بچے خراب تو نہیں کر رہے۔‘‘ میلے کچیلے بادشاہ کو اس دن نہلا دُھلا کر نئے کپڑے پہنائے گئے ، دیگیں چڑھیں اورگائوں کی مسجد سے بلند آواز میں اعلان نشر ہوا:
    ’’حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں۔۔۔۔رفیق محمد کا چھوٹا بھائی خوشی محمد المعروف خوشی بادشاہ جو بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتا تھا بہ قضائے الٰہی انتقال کر گیا ہے۔ اس کی نمازِ جنازہ ابھی کچھ دیر میں، بعد از نمازِ ظہر پڑھائی جائے گی۔ آپ احباب سے شرکت کی اپیل ہے ۔‘‘
    سلامت بی بی کا گھر گائو ں کے بچوں سے بھرا پڑا تھا۔ گلی میں چھوٹے چھوٹے قدموں کی کئی آوازیں تھی۔۔۔۔ ’’ او بادشاہ مر گیا، اوئے تجھے پتا ہے بادشاہ مر گیا۔ ۔۔۔ ‘‘
    محلے کے جوان جنازہ اٹھانے آئے۔۔۔۔ ننھی ننھی آنکھیں اشک بار تھیں ، ’’ادھر آئو بادشاہ کو دیکھ لو۔ وہ رہ گیا اس کو بلائو‘‘۔۔۔ یہ چھوٹے معصوم بچے بادشاہ کے وارث تھے، یہی بادشاہ کے رشتے دار تھے، انہی کا دل مغموم تھا۔ ان کا بادشاہ جو ٹافیوں کی شکل میں ان میں محبتیں بانٹتا تھا، مر چکا تھا۔
    اگلے کئی دن تک گائوں کے بچے بادشاہ کا گھر دیکھنے کے لیے آتے رہے، اس کے مرنے کے اگلے روزایک نوجوان نے بادشاہ کی یاد میں بچوں میں ٹافیاں بانٹیں۔ وہ اس گھر سے بچوں کو ملنے والی آخری ٹافیاں تھیں۔





  • عادت — ثمینہ سیّد

    عادت — ثمینہ سیّد

    تیزی سے چلتی گاڑی سست ہونے لگی بالکل غیر ارادی طور پر ٹائر چرچرانے لگے اسٹیرئنگ پہ ہاتھ جم گئے۔ سڑک پر بائیں ہاتھ کھڑی لڑکی، اس کے ہاتھ، نقاب سے جھانکتی اُس کی آنکھیں۔ ’’یہ آنکھیں مَیں کیسے بھول سکتا ہوں بھلا‘‘ زہیر بُڑبُڑایا۔ ’’شاید میرا وہم…‘‘ ’’یہ کیسے ممکن ہے جو مَیں سمجھ رہا ہوں وہ سچ ہو۔‘‘ اس نے گاڑی آگے بڑھانے اور گزر جانے کی پوری کوشش کی مگر گاڑی رُک گئی اور اندھیرے میں کھڑی لڑکی دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ زُہیر کی رگوں میں خون منجمد ہونے لگا۔ اسے یاد آنے لگا۔ سات سال پہلے بھی اس کی گاڑی ایسے ہی رُکی تھی۔ ایک لڑکی دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ کیا کرے۔ اسے اُتر جانے کا کہے یا آگے بڑھ جائے اور پھر ایک ہی لمحے میں اس کے متجسس ذہن نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے گھر لے جائے گا۔
    گاڑی میں غیر معمولی سنّاٹا تھا۔ زُہیر اور اس نامعلوم لڑکی کا ذہن تیزی سے چل رہا تھا مگر دونون بالکل مخالف سمتوںمیں سوچ رہے تھے۔ زُہیر عباس ایک مشہور صحافی تھا۔ بہت پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان ماں کے انتقال کے بعد عباس جعفری اور زُہیر دو ہی لوگ ایک بڑے گھر میں رہتے تھے اور کبھی کبھی تو زُہیراکیلا ہی رہ جاتا جب ابا اپنے آبائی گائوں دوستوں، یاروں سے ملنے چلے جاتے تو مہینوں واپس نہ آتے۔ زُہیر نے کبھی محبت نہیں کی تھی۔ وہ بے بسی سے کہتا: ’’مجھے محبت نہیں ہوتی یار‘‘ اسے ساری لڑکیاں عام سی لگتی تھیں اور سڑک کے کنارے کھڑی لڑکی کو گھر لے جانا تو اچنبھے کی بات تھی۔ کوئی دیکھ بھی لیتا تو یقین نہ کرتا۔
    ’’کیا آپ گونگے ہیں؟‘‘ لڑکی نے شوخی سے کہا تو پہلی بار زُہیر نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ وہ بہ غور دیکھ رہا تھا لڑکی بہت خوب صورت تھی۔ اتنی کہ گاڑی میں روشنی سی بھر گئی تھی۔
    ’’مَیں زُہیر عباسی ہوں‘‘ زہیر نے تعارف کا مرحلہ طے کیا اور دانستہ اپنا پروفیشن بتانے سے گُریز کیا وہ ادا سے مُسکرائی۔
    ’’میَں نیناں، کام یہی ہے جس پر آن ڈیوٹی ہوں۔‘‘ نیناں کی آواز بھی اُس کے چہرہ کی مانند خوب صورت تھی۔ زہیر کے دل نے اعتراف کیا۔ وہ باہر سڑک پر گرتی، پھیلتی روشنیوں پر نظریں جمائے رہا۔





    ’’کب سے یہ کام کر رہی ہو؟‘‘ زہیر نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تو کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ اس کی بے انتہا دل کش ہنسی کے جل ترنگ بُجھتے رہے تو ہنسی قابو کرتی ہوئی بولی۔
    ’’جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی کام کیا ہے۔‘‘
    ’’کچھ پڑھا وڑھا نہیں؟‘‘
    ’’میٹرک کیا تھا۔‘‘ وہ بولی پھر خاموشی فضا میں رقص کرتی جا رہی تھی۔ کافی دیر خاموشی رہی۔ گاڑی چلتی رہی۔ وہ برقعہ اتار کر لپیٹنے لگی پھر پرس اور برقعہ سیٹ پر رکھ کر سیدھی ہو کر ایک ادا سے بیٹھ گئی۔ زُہیر کی طرف ایک دوبار دیکھا وہ بالکل چُپ تھا وہ بھی باہر دیکھنے لگی۔ سڑکیں بھاگ رہی تھیں۔ گاڑی تیز تیز چلتی گھر کے سامنے آ رُکی۔
    ’’کون کون ہے گھر میں؟‘‘ نیناں نے چہک کر پوچھا زہیر اسے دیکھنے لگا۔ اس کا دل و دماغ جھکڑوں کی زد میں تھا۔ ’’مَیں نے ایسا کیوں کیا۔‘‘ بس ایک ہی سوال چیخ چنگھاڑ رہا تھا۔
    ’’چلو آرام سے اندر چلو۔ بس مَیں اور تم دونوں ہی ہوں گے۔‘‘ وہ بہ مشکل کہہ سکا تو وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
    ’’تو ڈر کیوں رہے ہو؟‘‘
    ’’نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ مَیں لایا ہوں تمہیں اپنی مرضی سے۔ ‘‘زہیر اس کے ساتھ اندر کی طرف جاتا اور لاک کھولتا بولنے لگا۔ ’’ابا اور مَیں ہوتے ہیں گھر میں۔ ابا گائوں گئے ہیں۔ زمینیں وغیرہ ہیں اور ان کے دوست یار۔‘‘
    ’’زمینوں کا رعب ڈال رہے ہو؟‘‘ نیناں نے ادا سے پوچھا۔
    ’’وہ کیوں تمہیں کیا لینا دینا کسی کی زمینوں سے، تم پر رعب ڈالنے کا فائدہ؟‘‘
    ’’اس لئے کہ میں متاثر ہو جائوں اور پھر تم سے روز روز ملوں۔ لیکن پہلے ہی سن لو میں کسی شخص سے کبھی دوبارہ نہیں ملتی۔ مجھے بالکل شوق نہیں چکر وکر چلانے کا، یا محبت وحبت کرنے کا۔ مَیں تو واقفیت تک کی قائل نہیں ہوں زہیر صاحب!‘‘
    ’’نہیں میرا بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں بیوٹی فل۔‘‘ زہیر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ خود اے سی آن کیا، پردے برابر کئے سامنے صوفے پر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔
    ’’تم آرام سے بیٹھو مَیں فریش ہو کر آتا ہوں، چائے پیو گی یا کافی؟‘‘
    ’’جوس اور پھل فروٹ پوچھتے ہیں لڑکیوں سے جناب‘‘ نیناں اسے دیکھ کر کمینگی سے مسکرا کر بولی توزہیر کو اس سے گھن آنے لگی۔
    ’’پرہیز گار نا بنو بیٹا عمر بھر کی عزت تو دائو پر لگا دی اب…؟‘‘ زہیر نے خود کو لعن طعن کی۔ نیناں اس کے جانے کے بعد گھر کا جائزہ لینے لگی۔ اسے خوشی یا دکھ نہیں ہوتا تھا۔ ہر طرح کے حالات اور لوگ اسے ایک جیسے ہی لگتے تھے۔
    ’’عجیب سڑوسا ہے، شکل سے نیک بھی لگتا ہے، لیکن … لیکن نیک ہوتا تو لڑکی کو گھر کیوں لاتا۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کا بھی کوئی آلہ ہونا چاہئے تھا کہ کون نیک ہے اور کتنا؟‘‘
    نیناں چلتے پھرتے سوچ رہی تھی۔
    ’’لو جی یہ شامی کھائو، بوتل پیو، مَیں تو چائے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ زہیر نے مسکرا کر ٹیبل پر پلیٹیں اور گلاس رکھے اور اپنی چائے لے کر بالکل سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔
    ’’تم کچھ بنا لیتی ہو؟‘‘ زہیر نے چائے کا گھونٹ گلے سے اتارتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔ تو وہ ہنستے ہنستے بولی۔ ’’ہاں، الو…‘‘
    ’’خیر یہ کون جانتا ہے وہ الو بنا رہا ہے کہ بن رہا ہے۔‘‘ زہیر نے اسے گھورا تو وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی۔
    ’’تمہارے خیال میں ہمیں کیا چیز اُلٹے سیدھے کاموں پر اُکساتی ہے۔ ضرورت یا پھر عادت؟‘‘
    ’’تم اتنے سوال کیوں کرتے ہو۔ اخبار والے ہو کیا؟‘‘ نیناں نے گھور کر کہا۔ وہ چُپ رہا تو بولی۔
    ’’زیادہ وقت نہیں ہے ہمارے پاس…‘‘
    ’’کتنا وقت ہے؟‘‘
    ’’جب سے مَیں تمہارے ساتھ ہوں تب سے حساب رکھوں گی۔ چالیس منٹ گزر گئے بس ایک گھنٹہ بیس منٹ ہیں تمہارے پاس۔‘‘
    ’’کافی ہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ تمہارا معاوضہ اور وقت دونوں کا خیال رکھا جائے گا۔‘‘
    ’’لوگ ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ مرتے جاتے ہیں کہ وقت کم ہے اور تم …‘‘




  • دل تو بچہ ہے جی — کنیز نور علی

    دل تو بچہ ہے جی — کنیز نور علی

    ی شنو تیری عمر کتنی ہے”
    تارہ نے پوچھا تھا.. اب وہ اتنی قریبی سہیلیاں تو تھیں کہ ایسے ذاتی اور خوفناک سوال بھی پوچھ سکیں۔…. شنو نے تیز نظروں سے تارہ کو دیکھا…….. جیسے کہنا چاہتی ہو "ایسا اپنے فٹے منہ جیسا سوال کر کے تجھے کیا ملنا ہے تارہ”…..مگر ضبط کرتے ہوئے سے بولی: ….” اٹھائیس……..” تارہ نے اس جواب پر اس کو ایک گھوری ڈالی…… شنو سٹپٹائی "دو سالوں سے تو اٹھائیس کی ہی ہے”….. کہہ کر وہ ڈھٹائی سے ہنس پڑی ..اور دہی بھلے کی پلیٹ میں سے آلو چن چن کر کھانے لگی……
    "وہ اپنا ابرار الحق نہیں کہتا کہ سولہ توں اٹھائییاں تک پیار والی رینج اے ………بس اسی لیے اب میں نے اگلے چار پانچ سال اٹھائیس کا ہی رہنا ہے ………” اونچا قہقہہ لگا کر اب شنو نے دہی بھلے کی پلیٹ میں مزید چاٹ مصالحہ چھڑکا…..
    تارہ نے منہ بنایا….. "نا وہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ اوور ایج عاشقاں دا اپنا مقام اے ……..”تارہ نے آنکھیں نچا کر کہا تھا۔
    اسے اپنی چالیس کے پیٹے میں جاتی عمر اور پھیلے ہوئے تن وتوش پر شدید غصّہ آتا تھا….. جس کا علاج وہ مزید کھا اور ٹھونس کر کرتی تھی ……….
    "نا اور ایج ہوتی ہے میری جُتی…. میں کیوں ابھی سے ایسے بے برکتے فقرے اپنے لیے بولوں……..” شنو نے جھٹ توبہ توبہ کرتے کانوں کو ہاتھ لگائے….. اور سیون اپ کی بوتل کا بڑا سا گھونٹ بھرا….. وہ دونوں بازار آتے ہی اس دکان میں تارہ کے فیورٹ دہی بھلے کھانے بیٹھ گئی تھیں…..
    تارہ نے دہی بھلے کی دوسری پلیٹ اپنے آگے سرکاتے ہوئے اس کے دبلے وجود کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا…… لیکن پھر وہ جو کہتے ہیں نا کہ "لو گوں کی فکر نا کریں وہ سب مر جائیں گے ” ایسے ہی تارہ بھی خود کو دل میں ایک تھپکی دے رہی تھی کہ اس شنو کی عمر اور جسامت نے بھی آخر بڑھنا ہی ہے …….کیسی بے ڈھنگی لگے گی یہ ……”چھوٹا قد اور موٹی……توبہ توبہ”….. ایسا سوچ کر ہی سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی………ایسے میں اُسے اپنی پھیلتی جسامت زرا یاد نہیں رہی تھی…. دہی بھلوں اور بوتلوں سے پیٹ پوجا کرنے کے بعد اب انہیں پورا بازار گھومنا تھا………
    ٭…٭…٭





    شنو اور تارہ کی دوستی فیس بک سے شروع ہوئی تھی…. پھر اتنی اچھی دوست بنیں کہ جب شنو کرائے پر گھر ڈھونڈ رہی تھی تو جھٹ تارہ نے بتایا کہ اس کے محلے میں بلکہ گلی بلکہ عین اس کے گھر کے سامنے والا گھر کرائے کے لیے خالی ہے….” مالکن مکان تھوڑی کپتی ہے، لیکن گھر اچھا ہے شنو آ جا….. قسم سے اکھٹے شاپنگ پر جایا کریں گی…. سموسے کھایا کریں گی…… بڑا مزہ آئے گا” تارہ نے چٹخارہ بھرا تھا……………
    شنو نے جھٹ اپنے گھر والے فرید اور اکلوتے چھے سال کے کاکے کے ساتھ آکر مکان دیکھا اور مالکن مکان خالہ خیرن نے اسے دیکھا……. خالہ کے گلی میں دو گھر تھے ایک میں خود رہتی تھیں اور دوسرا کرائے پر دے رکھا تھا…….خالہ نے بڑی فیملی کو کبھی مکان نہ دیا اور شنو کا گھرانا تو تھا ہی تین افراد کا…. کرایہ خالہ کی مرضی کا تھا اور مکان شنو کو پسند آگیا تھا.. دوسرے ہی دن اپنا سامان سوزوکی میں لدوا وہ تارہ کے سامنے والے گھر میں آگئی……..
    فیس بک پر سٹیٹس لکھا….” شفٹنگ از آمیس فیلنگ ٹائیرڈ……” (اپنی بی اے کی سپلی شدہ انگریزی کو وہ اب دھڑلے سے فیس بک پر چمکاتی تھی…..( بندہ پُچھے کم سارا فرید اور اس کے یاروں نے کیا تھا….. سامان گھسیٹ گھسیٹ کر چُک اس بے چارے کی کمر میں پڑ گئی اور یہ نری برتن ڈبے میں رکھ کر ہی فیلنگ ٹائیرڈ)………………..اس اسٹیٹس پر تارہ نے لائک کر کے ڈھیر سارے کومنٹ کیے…….. دونوں نے مل کر اتنے لطیفے اور چٹکلے چھوڑے کہ وہ پڑھ کر اگلا سارا دن دونوں کی فیس بُکی سہیلیاں جل جل کر کوئلہ ہوتی رہیں ……….
    ٭…٭…٭
    فیس بک دوستی اب ہمسائیگی میں بدلی تو دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا…….. اب ہر دوسرے تیسرے دن دونوں بازار کا رُخ کرتیں….. رج کر سموسے، پزا، شوارمے، دہی بھلے اورچاٹیں کھائی جاتیں اور سیل لوٹ کر دونوں گھر آتیں۔ سسرالیوں، رشتے داروں، سہیلیوں کی عیب جوئیاں اور اپنی تعریفیں کر کر کے خوشی کا ایک بے پایاں احساس ساتھ ساتھ رہتا۔
    شروع شروع میں تو محلے والیوں نے خاص نوٹس نہ لیا….. لیکن اب یہ کیا کہ ادھر تارہ ابھی شنو کے ٹیرس پر بیٹھی ہے دونوں باتیں بھگار رہی ہیں …..اور اب دونوں تیار شیار ہو کر کہیں سیر سپاٹے پر نکل کھڑی ہوئیں ہیں……
    تارہ کے ساتھ والی تسکین اس نظارے سے بڑی بد مزہ ہوئی ……اس کو رہ رہ کر جلن ہو رہی تھی کہ یہاں اس سے کوئی سیدھے منہ بات نہیں کرتا,سہیلیاں نری چنگاریاں ہیں جو بات بے بات بھڑک اٹھتی ہیں …کم بختیں واقف بھی سارے رازوں سے ہیں کہ ادھر کوئی دل کی بات وہ اپنی طرف سے "شئیر” کرتی اور اگلی بندی جھٹ طنز کی دال پر بِستی کا تڑکہ لگا کر سامنے رکھ دیتی ….
    فیس بک پر بھی وہ اپنے کاکے کاکیوں کی فوٹویں لگانے اور "واؤ”، "سو کیوٹ” کے کمنٹس لینے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی کیوں کہ اس بے چاری کا سارا ٹبر وہاں پایا جاتا تھا.اور کسی انجان کو ایڈ کرنے پر ساری نندیں بہنیں اور کزنیں سیاپا ڈال دیتی تھیں یا….. ساری ہی اس نئی سہیلی کو ایڈ کر لیتیں…… ایسے میں نئی دوستیں کہاں سے بناتی جن سے دل کا بوجھ ہلکا کرتی …..اپنے غم میں ڈوبی وہ اداس اور چڑچڑی سی تھی …..ایسے میں شنو کا سامنے والے گھر آنے پر اس نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا تھا …لیکن تارہ اور شنو کی دوستی ….اور پھر پتا چلا کہ جی یہ تو فیس بک فرینڈز ہیں …..تسکین بڑی غمزدہ ہوئی …پھر ان کے پھیرے سیر سپاٹے ….وہ سوچتی اور کڑھتی: …..’’ادھر تو بسنت بہار چل رہی ہے ہائے ہائے……. کالج کی کڑیوں جیسی انجوائے منٹ”……..
    تارہ اور تسکین کی پرانی محلہ داری تھی۔ زبانیں دونوں کی تلوار تھیں سو آپس میں کبھی بن نہیں پاتی تھی……. فیس بک پر بھی دونوں ایک دوسرے کو دو تین بار ایڈ کرنے کے بعد ان فرینڈ کر چکی تھیں……. ظاہر ہے ایک دوسرے سے کچھ چُھپا ہوا تو تھا نہیں سو ڈینگیں مارنے پر دوسری کے چھوٹے چھوٹے طنز کھٹکتے تھے…….
    کچھ دن تو تسکین نے اس "محبتاں سچیاں پارٹ ٹو” کو دیکھا پھر اسے خیال آیا کہ نئے محلے داروں کی تو دعوت بھی کی جا سکتی ہے……. سو اس نے بریانی اور کھیر بنائی اور لے کر چل دی شنو کے چوبارے…… لیکن وقت کا دھیان پورا رکھا کہ تارہ آکر رنگ میں بھنگ نہ ڈال دے…….
    ٭…٭…٭
    "وہ تارہ باجی نے ذکر کیا تھا تمہارا….. میں نے سوچا اب ذرا ہمسائیوں کو ملنا ملانا ہی چاہیے…..” تسکین نے آنکھیں معصومیت سے پٹپٹاکر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
    شنو نے بریانی کی ڈش اور کھیر کا ڈونگا جھٹ وصول کیا اور تارہ "باجی” سُن کر تو اس کاتراہ ہی نکل گیاتھاجیسے….اس نے سوچا ..” میں آج تک اسے…… یعنی "انہیں” تارہ کیوں کہتی آئی…… جب یہ جو میری آپا لگ رہی ہے اسے باجی کہہ رہی ہے تو میری تو ابھی بالی عمریا ہے……..”
    ایک دوسرے کامکمل مطلوبہ انٹرویو لینے کے بعد اب وہ دل کھول کر ہنس رہی تھیں……. سسرال کی غیبتیں اور فیس بک کی دوستیاں …..پھر اپنے بچوں کی تعریفوں اور اپنے اپنے "ہبی” کے ذکرِ خیر کے بعد تسکین کو یوں لگا جیسے وہ دونوں تو ایک دوسرے کو کب سے جانتی ہیں …دل کا رشتہ ہے…..
    تارہ کی محلے بھر میں کی جانے والی جاسوسی کارروائیاں بتا کر تسکین نے اسے خبردار کیا تھا….. اور شنو نے اسے فیس بک پر ایکٹو رہنے کے انوکھے گر بتائے……گھر جاتے ساتھ ہی تسکین نے پہلا کام نیا اکاؤنٹ بنانے کا کیا تھا….. اور لاگ ان کرتے ساتھ ہی اس نے اپنے سارے خاندان کی اگلی پچھلی سات پشتوں کو بلاک لسٹ میں پھینکا تھا………. اس کے بعد اسے ایسی آزادی کا احساس ہوا جو کبھی کالج میں ہوا کرتی تھی…… کوئی دیکھ نہیں رہا، جو مرضی مذاق کرو….. کوئی زبان نہیں پکڑے گا………
    ٭…٭…٭
    تارہ نے فیس بک کھولی اور یہ کیا…… شنو اینڈ تسکین آر ناؤ فرینڈز…..اس کا دل جل کر کباب ہو گیا…اور یہ کیا…شنو کا اگلا سٹیٹس …جس میں تسکین کو ٹیگ کیا گیا تھا ….
    "یمی ڈیلیشس جسٹ واؤ…….. انجوائینگ بریانی ..تھینکس تسکین ………”
    یہ پڑھ کر تو دل کے ساتھ ساتھ جگر اور پھیپھڑے بھی دھواں چھوڑنے لگے تھے …..جوں جوں وہ ان کی کمنٹس میں ہونے والی گپ شپ پڑھتی جا رہی تھی اس کا سارا پنڈا تپ کر تندور ہوتا گیا…….. تارہ نے سامنے شنو کے چوبارے کی طرف دیکھا…. جیسے وہ سامنے کھڑی ہو گی اور یہ اس کو کھری کھری سنائے گی…….
    "یہ شنو اور تسکین کیسے مل گئیں… بڑی ہی کوئی مگرمچھ ہے یہ تسکینی…… شنو کے ساتھ میری دوستی پر نظر رکھی ہوئی تھی……”
    دو پلیٹیں پلاؤ کی ڈکار کر بھی اُس کا غصّہ ٹھنڈا نہیں ہوا …….. تو پھل کی ٹوکری آگے رکھ لی…. منہ کا ذائقہ بھی تو بدلنا تھا…….
    ٭…٭…٭
    شنو نے کام کاج نپٹائے ….
    "فرید کام پر …کاکا اِن سکول ……فیلنگ الون”
    کا اسٹیٹس لگا کر اس نے سب مارننگ شوز کو ایک ساتھ دیکھا…….. ادھر ایک چینل پر بریک آتی تو دوسرا …..پھر تیسرا……پھر چوتھا..
    پھر واپس پہلا……مارننگ شوز ختم ہوئے تو دوبارہ (repeat) والے ڈرامے چلنے لگے.. اس کے بعد وہ سچ میں بور ہونے لگی تو اٹھ کر تیار ہوئی اور تارہ کی طرف آگئی……..
    ” تارہ باجی…….یہ آپ کے ساتھ والی تسکین کل ملی تھیں…. آپ کی بڑی تعریفیں کر رہی تھیں…….”
    تارہ جو کل سے جلی بھنی بیٹھی تھی اس ” باجی ” کے اچانک ایڈیشن پر سڑ کر سواہ ہوگئی ….اور کڑی نظروں سے شنو کو دیکھا ……..شنو اپنی موج میں تھی …….
    ” کیوں آئی تھی وہ …..” تارہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا
    "بس ویسے ہی ملنے ملانے …ہمسائیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں ……کہہ رہی تھیں میری طرف آنا”……شنو نے اٹھلا کر کہا ……
    تارہ ذرا رکی تھی……. "دھیان سے….یہ جادو ٹونے بھی کرتی ہے ………..آئندہ ندیدوں کی طرح کوئی چیز کھانے سے پہلے سوچ لیئں شنو…..”
    "ارے تارہ باجی …..ان توہمات پر آپ یقین کرتی ہیں؟…”
    شنو نے تو مانو تارہ کے ساتھ "باجی” کے لاحقے کو فیوی کول سے چپکا دیا تھا ……تارہ کے دل میں ایک گرہ ہی لگ گئی…….
    "یہ باجی باجی کیا لگا رکھی ہے ……..”
    ” جب آپ ٹی کے کی باجی ہیں تو میں کیوں نا کہوں …..میرا زیادہ حق بنتا ہے تارہ باجی .میری تو کوئی بہن بھی نہیں ہے …..”شنو نے بھول پن کی حد کی تھی۔
    "ٹی کے.؟” ……تارہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا …..
    "جی! ٹی کے ….یہ آپ کے ساتھ والی ٹی کے …… تسکین”…… شنو نے بڑی ادا سے اور نخرے سے مسکرائی۔
    "ٹیکے تو واقعی لگنا چاہیں اس میسنی کے ……اس کا تو کبھی گھر والوں نے نک نیم نہیں رکھا…… یہ تمہیں کہاں سے بھا گئی۔” تارہ فل گرم تھی۔
    "بس میری ماما کہتی ہیں شنو تمھاری ہنس مکھ نیچر ہے ہر ایک سے جلدی فرینڈشپ ہو جاتی ہے………” شنو کوئی ڈرتی تھی تارہ سے….. دوستی کی ہے تسکین سے تو ڈنکے کی چوٹ پر بھئی…..
    اس کے بعد تارہ کا دل یوں ٹوٹا جیسے کوفتہ ہانڈی میں ٹوٹ جائے……… شنو کچھ دیر بیٹھی…… اور پھر چل دی….. نہ تارہ نے روکا اور نہ ہی شاپنگ پر… نا شاپنگ پر جانے کے صلاح مشورے ہوئے……نہ کسی کو ڈسکس کرنے کا خیال آیا…….
    ٭…٭…٭
    "ارے ٹی کے تم پر پرپل کلر بہت سوٹ کرتا ہے سویٹی ……”شنو نے آتے ہی کہا….
    تسکین کی بڑے عرصے بعد کسی نے تعریف کی تھی… ایک اتنے وکھرے نک نیم "ٹی کے” کی ہی خوشی کم نہیں تھی۔ اس کا دل تو اُڑنے لگا تھا….. پرانی اداسی تو اب کہیں دور کھڑی تھی……..
    "اچھا شنو ڈئیر اٹھو ہم ابھی بازار جا رہے ہیں چلو …” تسکین نے بڑی ہی دل نشین مُسکراہٹ اور اپنائیت سے کہا اور ساتھ ہی اپنا پرس الماری میں سے نکالنے لگی……
    "کل چلیں گے یار…..” شنو نے صوفے پر پھیل کر بیٹھتے ہوئے سستی سے کہا……
    "زیادہ نخرے نہ دکھا…. اٹھو… تمھیں کب سے سستی ہونے لگی…..” تسکین نے لاڈ کیا تھا…..
    شنو مسکرائی…….
    "بچوں کے گھر آنے سے پہلے واپس بھی آنا ہے ….” تسکین نے یاد لایا تھا……” اٹھو بھی تھوڑا سا ہی کام ہے۔”
    "ایک تو تمہارے پروگرام بہت ہی فاسٹ ہوتے ہیں…… ’’جیو تیز‘‘ ہو پوری”…….. شنو اُٹھ کھڑی ہوئی تھی اور تسکین مسکرائی۔
    "بس میں ایسی ہی ہوں۔” اسے جیسے خود پر پیار آیا تھا ……
    "ہائے یہی تو دل چاہتا تھا میرا…… ہنسی مذاق، موج مستی…..یہ لاڈ نخرے سہیلیوں کے……. اور وہ تارہ عیاشیاں کر رہی تھی اور میں دیکھ دیکھ کُڑھا کرتی تھی…… اب کہاں تارہ…… ڈوب گیا تارہ….. ہاہاہا” بڑی ہی خوشی ہوتی تھی سوچ کر……..
    ٭…٭…٭
    "تارہ باجی…..آج تو میگزین اپ لوڈ ہونا ہے….” شنو نے نمکو کی پلیٹ سے آخری دانے اُٹھاتے ہوئے کہا…..
    آج کچھ دن بعد شنو اور تارہ پھر سے اکٹھی تھیں….. گپیں لگ رہی تھیں…….. تارہ آئی تھی شنو نے چائے بنائی اور اب دونوں نمکو اور بسکٹ کھا کر چائے پی چکی تھیں …..شنو اب تسکین کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی جو تارہ کے لیے ایک دکھ بھری داستان تھی ..
    باتوں کے دوران ہی تارہ نے مشورہ دیا….
    "بڑی پھاپھے کٹنی ہے یہ تسکین بچ کر رہنا…….میں نے تو اسی لیے ان فرینڈ کر دیا تھا ہمسائیگی کا بھی خیال نہیں کرتی یہ تو جس کے پیچھے پڑ جائے ……”
    "جی تارہ باجی بس مجھے لوگوں کی واقعی سمجھ نہیں ہے لیکن احتیاط کروں گی”….. شنو کا بھولپن افف…
    "میں نے تو مخلص دوست بن کر مشورہ دیا ہے آگے تم خود سمجھ دار ہو۔”
    "کہاں تارہ باجی…. میری ماما کہتی ہیں شنو ابھی تک تمھارا بچپنا نہیں گیا۔ تمھاری معصومیت کا لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں……….” باتیں شنو پہلے بھی ایسے ہی کرتی تھی…. لیکن تارہ کو آج احساس ہو رہا تھا کہ” یہ باندری کتنا بن بن کر بولتی ہے ڈرامے باز "…..
    "خیر شادی ہو گئی بچوں والی بن کر اب کوئی ننھی کاکی تو رہتی نہیں ہے کیا فائدہ خود کو دھوکا دینے کا……. حقیقت پسندی اچھی چیز ہے”……… تارہ نے صاف صاف لتاڑا تھا اسے۔
    "ہاں جی بڑی عمر کے ساتھ بندہ ایسی ہی سیانوں والی باتیں کرنے لگتا ہے …ٹھیک کہا آپ نے تارہ باجی…” شنو نے ریموٹ سے چینل بدلتے ہوئے کہا…. اس کا انداز ایسا تھا جیسے” اب تم دفع ہو جا تارہ باجی…….”
    تارہ نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور دل ہی دل میں گالیوں سے نوازا….” اس کمینی کی باتیں صرف اس تسکینی کی خاطر سُننا پڑ رہی ہیں ورنہ اب ملتی تھی شنو سے میری جتی …….”
    تارہ بے چاری نے تو اب شنو کے باجی والے ٹائٹل پر بھی "کمپرومائیز” کرلیا تھا۔
    مجبوری یہ تھی کہ تارہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ شنو کی دوستی سے پیچھے ہٹے اور تسکین شنو پرمکمل قبضہ جمالے……..” اور پھر یہ دونوں مل کر مجھ معصوم کو ساڑیں گی….. ناں ناں تسکینو بی بی…. میں تجھے یہ خوشی نہیں دیکھنے دوں گی۔” تارہ نے کڑھتے ہوئے سوچا۔
    سو اب پہلے جیسی بے لوث محبت بھری اپنی بلا وجہ کی تعریفوں اور دوسروں کی غیبتوں سے اٹی گپ شپ میں اک دوجے پر تاک تاک کر اٹیک ہونے لگے تھے……




  • سائبان — محمد عمر حبیب

    سائبان — محمد عمر حبیب

    ’’گردن کو سیدھا کریںـ۔‘‘
    ’’اوپر دیکھیں۔‘‘
    ’’ہاتھ ذرا گود میں رکھ لیں۔‘‘
    یہ فوٹو گرافر کے الفاظ تھے، جن پر تیزی سے عمل کرتے ہوئے وہ خود کو سیٹ کررہا تھا۔سیاہ کپڑوں میں ملبوس وہ نوجوان خوب بن سنور کے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا کے دفتر آیا تھا۔ بالوں میں تیل اور آنکھوں میں سرمہ خوب نمایاں تھا۔بہ غور جائزہ لیا جاتا تو کھلے گریبان سے نظر آتا پاؤڈر بھی بآسانی دیکھاجا سکتا تھا جو دفتر کے باہر شدید گرمی میں ایک گھنٹے تک طویل قطار میں کھڑے رہنے کے سبب جم کر پلستر کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ اس وقت وہ اپنی آنکھیں کیمرے کے لینز کی طرف مرکوز کیے ہوئے تھا۔ آنکھیں تقریباً باہر کو اُبلی ہوئی تھیں، قیاس تھا کہ شاید اس نے زبردستی آنکھیں پھاڑ رکھی ہیں تاکہ کیمرے کی فلیش سے اس کی آنکھیں بند نہ ہو جائیں اور اگر اس کی بند آنکھوں والی تصویر شناختی کارڈ پر آگئی تو اُف۔۔۔اس کے ساتھی تو اسے اندھا اندھا کہہ کر پکارا کریں گے۔اسے یاد ہے کہ یونین کونسل کے انتخابات کے موقع پر ایک لیڈر کے خلاف مخالف پارٹی نے لنگڑا کہہ کہہ کر نعرہ بازی کی تھی کیوں کہ اس نے انتخابی مہم کے دوران تصاویر کھنچواتے ہوئے ایک ٹانگ پر زیادہ زور دے رکھا تھا۔ نوجوان نہیں چاہتا تھا اس کی تصویر میں کوئی ایسا نـُقص ہو جو اس کے لئے ایک پھبتی بن جائے تب ہی تو وہ خوب احتیاط سے بیٹھا تھا۔ ریاضی کے وہ کُلیے جن کے مطابق کسی بھی جسم کا وزن یکساں رکھا جاتا تھا اسے آج اچھی طرح یاد تھے۔حساب اور طبیعیات کے وہ فارمولے خودبہ خود اس کے ذہن میں چلے آرہے تھے، جواس نے کبھی پڑھے بھی نہیں تھے اور جن کی نشان دہی کرنے کے لیے ریاضی دانوں نے مدتیں کھپا دی تھیں۔بلاشبہ اس وقت وہ کسی الخوارزمی سے بھی بڑا ریاضی دان بنا ہوا تھا۔ وہ کچھ دیر بیٹھا رہا، خلاف توقع نہ توکوئی فلیش لائٹ چمکی اور نہ ہی کلک کی آواز آئی ، پھر یکایک فوٹو گرافر نے اسے اُٹھنے کا اشارہ دے دیا۔ وہ حیرت سے کبھی فوٹو گرافر کو دیکھتا، کبھی کیمرے کو اور کبھی خود کو۔ فوٹو گرافر بھی عاجز آگیا۔





    ’’باہر تشریف لے جائیے سرکار۔ لائن میں موجود اگلا شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ــ‘‘
    ’’مگر تم نے تو میری تصویر کھینچی ہی نہیں ۔ کیا تم مجھے الو سمجھتے ہو کہ بغیر تصویر کھینچے ٹرخا دو گے؟ـــ نہ کوئی فلیش، آواز اور نہ تصویر خدا جانے خود بہ خود کیسے کھنچ گئی۔ کیمرہ نہ ہوا کوئی منتر ہو گیا‘‘ نوجوان بپھر ا تو معاملہ مزید بڑھ گیا۔شور و غل بڑھا تو سیکیورٹی گارڈ بھی اندر آگیا۔ اس نے نوجوان کوسمجھا بُجھا کے باہر نکالا اور معاملہ رفع دفع ہوا۔پھر اس نے نوجوان کی رہنمائی ایک اور میز تک کی۔ساتھ ساتھ وہ بتا رہا تھا:
    ’’ارے میاں جدید ٹیکنالوجی آگئی ہے اب تم گھوڑوں اور خچروں والے دور میں نہیں ر ہ رہے ۔ دیکھتے نہیں کہ یہ انگوٹھے کے نشانات لینے کا کیسا جدید بائیو میٹرک سسٹم آگیا ہے۔ نہ روشنائی سے انگوٹھے گندے ہوتے ہیں اور نہ ہی کاغذ پر سیاہی پھیلتی ہے۔ اِدھر تم انگوٹھا سکینر پر رکھتے ہو اور اُدھر اُس کا نشان آناً فاناً کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ــ‘‘
    نوجوان بھی سر ہلاتا رہا۔مختلف میزوں سے گزرتا ہوا وہ آخر میں ایک ایسے کاؤنٹر کے سامنے جا پہنچا جہاں حتمی معلومات کا اندراج کیا جانا تھا۔ کاؤنٹر کے پیچھے ایک قدرے پست قد کا مالک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ جیسے ہی نوجوان کاؤنٹر کے قریب پہنچا تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔
    ’’شکریہ شکریہ بیٹھ جایئے۔ـــ‘‘ نوجوان سمجھا کہ شاید وہ اس کو عزت دینے کے لئے کھڑا ہوا ہے، اس لیے بلاساختہ بول پڑا۔ وہ شخص بھی سمجھ گیاکہ نوجوان نے یہ الفاظ کیوں ادا کیے ہیں، آخر اس کا روز کا کام تھا۔لہٰذا فوراً بولا:
    ’’میں آپ کے استقبال کے لئے نہیں بلکہ اس تصدیق کے لئے کھڑا ہوا تھا کہ آیا آپ ہی وہی آدمی ہیں، جن صاحب کی تصویر مجھ تک پہنچی ہے۔ــ ‘‘ یہ کہتا ہوا وہ شخص اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اورنوجوان کھسیانا ہو گیا۔ کوائف کا اندراج ہونے لگا۔
    ’’نام بتائیے۔ــ‘‘اس نے پوچھا۔
    ’’نوید عارف۔ــ‘‘نوجوان نے جواب دیا۔کاؤنٹر کے پیچھے موجود شخص اس کے نام کے ایک ایک حرف کو چبا چبا کر دہرا تے ہوئے ٹائپ کرتا جا رہا تھا۔
    ’’والد کا نام؟ــ‘‘ پوچھا گیا۔ نوید کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس نے چند لمحوں کا وقفہ لیااوربڑی مشکل سے نام لکھوایا۔ اس کے باپ کے نام سُن کر کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھا شخص چونکا۔
    ’’کہیں یہ وہی تو نہیں یا …پھر …ہو سکتا ہے کہ کوئی… ہم نام ہے؟‘‘ وہ شخص بُڑبُڑایا اور پھر نوید سے پوچھ ہی بیٹھا:
    ’’کیا یہ پورا نام ہے؟‘‘
    ’’ہاں۔‘‘
    ’’اس سے پہلے عبدالستارتو نہیں آتا؟‘‘ اس شخص کے لہجے میں ہلکے سے تجسس کی لہر نمایاں تھی۔
    نوید نے جواب نہ دیا اور پھر اس کے بیان کردہ نام کا اندراج کر لیا گیا۔
    ’’موجودہ پتا لکھوائیے۔ــ‘‘ اس نے فوراً اس کمرے کا پتا بتایا جو اس نے چار مزدوروں کے ہمراہ کرائے پر لے رکھا تھا۔ یہاں تک تو نوید کسی حد تک مطمئن سا کھڑا تھا مگر کاؤنٹر کے دوسری جانب سے برآمد ہونے والے نئے سوال نے اسے بے چین کر دیا، وہ سوال اس کے لئے کسی دھماکے سے کم ثابت نہ ہوا۔
    ’’مستقل پتا لکھوایئے!‘‘ اسے کہا گیا۔
    ’’مگر میرا تو کوئی مستقل پتا ہے ہی نہیں۔‘‘ اس نے کورا جواب دیا۔
    ’’اپنا نہیں تو والد کا لکھوا دیجیے۔‘‘ ٹھگنے قد کے آدمی نے جواب دیا۔
    ’’والد کا۔۔۔‘‘ یہ الفاظ اس کے دماغ میں ہتھوڑا بن کر برسنے لگے۔ باکل ویسے ہی جس طرح چودہ اگست کی شام کوآپ اپنی گلی سے گزریں اور شرارتی بچے آپ پر کوئی پٹاخہ اچھال پھینکیں جو آپ کے پاؤں تلے آ کر پھٹے اور پھر زمین ہل جائے، کان پھٹ جائیں ۔ اسے زمین گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ زمین شاید مدار سے نکل چکی تھی اور اب لٹو کی طرح بے ہنگم گھومے چلی جارہی تھی۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا تھا، اسے لگا سب کچھ سیاہ ہو گیا ہے، اور زمین بلیک ہول کی طرف کھنچی چلی جارہی ہے۔ سہارا لینے کے لئے اس نے قریب پڑی کرسی کو مضبوطی سے تھام لیا جب کہ کاؤنٹر کے دوسری طرف سے آواز آرہی تھی:
    ’’ جلدی بتائیے، وقت کم ہے۔ـ‘‘ اسے یہ آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔
    ٭٭٭




  • خسارہ — تشمیم قریشی

    خسارہ — تشمیم قریشی

    کاروبار بُری طرح خسارے میں جارہا تھا اور بینک سے لئے جانے والا قرضہ ادا کرنے کی مدت ختم ہونے والی تھی جب کہ دوسری طرف سرمایہ لگانے والوں کی ایک بڑی تعداد اس کی اپنی برادری کی تھی، جو اپنے اپنے سرمائے پر منافع نہ ملنے پر رقم کی واپسی کا تقاضا کر رہے تھے۔ ان کے دن رات کا سکون برباد ہوچکا تھا اور اس سکون کی بربادی کے ذمہ دار وہ خود تھے۔ پیسہ والے گھر میں شادی ان کی بربادی بنی تھی۔مجتبیٰ زیدی کی بیوی کا انتقال ابھی حال ہی میں بلڈ کینسر کے سبب ہوا تھا۔ ان کے دو بیٹے تھے، جو امریکا میں اپنے ماموں کے پاس زیرِتعلیم تھے۔ وہ حالات سے بالکل مایوس ہوچکے تھے، مایوسی کفر ہوتی ہے اور کفر کا انجام موت ۔
    ’’ڈیفنس میں رہنے والے شخص مجتبیٰ زیدی نے مالی پریشانی سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔‘‘
    اگلے دن شہر کے سب سے بڑے نیوز پیپر کی ہیڈلائن میں لگی خبر پڑھتے ہوئے لوگوں کے ذہن میں اُٹھنے والا پہلا سوال یہ تھا کہ جس کی ڈیفنس میں اتنی بڑی کوٹھی ہو اس کو بھلا کیا مالی پریشانی ہوسکتی ہے؟ وہ اتنے لوگوں کا قرضہ اپنے سر پر لے کر مرے تھے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے چاہتے تو ڈیفنس والی کوٹھی بیچ کر باپ کا قرضہ اتار سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔
    ان کے مرنے کے بعد فیکٹری بینک نے نیلام کی تھی۔ نیلامی میں فیکٹری خریدنے والے بدنصیب آج بھی کورٹ میں پیشیاں بھگتتے پھر رہے ہیں کیوںکہ انہیں فیکٹری کے متنازع ہونے کا علم نہیں تھا۔ اس میں ان سب لوگوں کی ہائے لگی تھی، جن سے سرمایہ کے لئے رقم لی گئی تھی اور یہ فیکٹری کسی کو راس آنے والی نہیں تھی کیوں کہ اس کے باہر سے کچرا اُٹھانے والے جمعدار سے بھی مجتبیٰ زیدی نے منافع کا لالچ دے کر قرضہ کی مد میں ساٹھ ہزار روپے لیے تھے۔





  • موبائل یاریاں — عرشیہ ہاشمی

    موبائل یاریاں — عرشیہ ہاشمی

    ’’ابرار… اٹھ جائو نا اب … کبھی تو وقت پر بات سُن لیا کرو۔‘‘
    امی کوئی پانچ بار اسے آواز دے چکی تھیں وہ موبائل فون پر مسلسل کچھ ٹائپ کرتا رہا اور امی کے کام کو ٹالتا رہا تو وہ سر پر آن پہنچی تھیں۔
    ’’اچھا امی… بتائیں کیا کیا لانا ہے…؟؟ ’’ابرار نے موبائل فون اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے امی سے پوچھا۔
    ’’صبح سے ہزار بار بتا چکی ہوں۔ دھیان کدھر رہتا ہے تمہارا… اور اس فون میں ایسا کیا ہے، جو اس کی جان نہیں چھوڑتے تم؟ امی نے پہلے اُسے ڈانٹا اور پھر اپنی توپوں کا رُخ موبائل فون کی طرف کرلیا۔
    ’’چلیں بتا دیں ناں اب پہلے ہی کافی دیر ہو گئی ہے۔‘‘ موبائل فون کی شامت آنے سے پہلے ہی اس نے بات بدل دی۔
    ٭٭٭٭
    اریبہ کچن میں مصروف تھی۔ پرات میں آٹا نکالنے کے بعد ڈونگے میں پانی ڈالا ہی تھا کہ سیل فون پر وائبریشن ہوئی۔ اس نے پہلے اِردگرد نظر دوڑائی پھر اپنے دوپٹے میں بندھے چھوٹے سے فون کو نکال کر میسج چیک کرنے لگ گئی۔
    ’’گڑیا! کیا کر رہی ہو؟‘‘ میسج پڑھتی اریبہ کے چہرے پر مُسکراہٹ در آئی۔
    ’’بریانی پکا رہی ہوں۔‘‘ اس نے تیزی سے بٹن پریس کرتے ہوئے جواب ٹائپ کیا۔
    ’’اپنا ہاتھ نہ جلا دینا۔ دھیان سے پکانا گڑیا۔‘‘ جھٹ سے جواب آن پہنچا جسے پڑھ کر اریبہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
    ’’اتنا خیال ہے اسے میرا… ایک ہماری اماں ہیں، جن کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں۔ اتنی گرمی میں کچن میں لاکھڑا کیا اماں نے۔‘‘ موبائل فون کو واپس اپنے دوپٹے سے باندھتے ہوئے وہ سوچنے لگی۔
    ٭٭٭٭





    ’’تمہیںڈر نہیں لگتا اریبہ… تم نے گھر والوں سے چھپ کر موبائل فون رکھا ہوا ہے تو…؟؟‘‘
    ’’ڈر کیسا میری جان… یہ مائیں ناں بڑی سادہ ہوتی ہیں اور اولاد… بڑی چالاک… اماں کی نظروں میں کبھی میرا موبائل فون نہیں آئے گا۔‘‘ اس نے آنکھیں چلائی۔
    ’’کبھی پردہ اُٹھ بھی تو سکتا ہے اریبہ… تمہاری اماں کو کتنا دکھ ہو گا جب انہیں یہ سب پتا چلے گا۔‘‘ اس کی کلاس فیلو اور پڑوسی نائلہ نے اُسے آنے والے وقت سے ڈرانا چاہا۔
    ’’ایسا کبھی نہیں ہو گا نائلہ… اور میں کون سا ہمیشہ موبائل رکھوں گی۔ یہ تو کچھ وقت گزاری کے لیے رکھا ہے۔‘‘
    ’’کچھ بھی ہویہ غلط ہے۔‘‘
    ’’بس بس… اب تم اماں بننے کی کوشش مت کرو۔‘‘ نائلہ ابھی مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اریبہ نے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اُسے وہیں روک دیا۔
    ٭٭٭٭
    مسز احمد مہینے بھر کی دالیں صاف کر کے پلاسٹک کے بڑے بڑے جارز میں ڈالتی جا رہی تھیں۔ ابھی تقریباً آدھا کام باقی تھا۔ ابھی انہوں نے خشک دھنیا اور گرم مصالحے ٹرے میں نکال کر اُسے صاف کرنا چاہا کہ ڈیجیٹل فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر فون کی طرف چلی گئیں۔
    ’’ہیلو‘‘ انہوں نے تقریباً پانچویں گھنٹی پر فون اُٹھایا تھا۔
    ’’جی‘‘
    ’’بات کیا ہے آپ صاف صاف بتائیں۔‘‘ فون کے دوسری جانب شاید کوئی غیر معمولی بات تھی۔ ان کے تاثرات میں پریشانی اور پھر غصہ واضح نظر آنے لگا تھا۔
    ’’میر ابیٹا ایسا نہیں ہے۔ میں اپنے بیٹے کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں… خبردار جو آپ نے اب ابرار پر کوئی الزام لگایا۔‘‘ وہ غصے سے مخاطب پر برس پڑیں تھیں۔
    ’’ارے… آپ اپنی بیٹی کو سنبھال کر رکھیں۔ غیر مردوں کو ورغلانے کے لیے بیٹی نے ٹھیکا لے رکھا ہے اور ماں باپ ہیں کہ دوسروں کے شریف لڑکوں پر الزام دھرنے پہنچ جاتے ہیں۔‘‘ غصے میں انہوں نے جواب دیا اور فون کا ریسیو کریڈل پر رکھ دیا۔
    ’’حد ہوتی ہے بے حیائی کی… اپنی بیٹیاں تو سنبھالی نہیں جاتیں الزام لڑکوں پر دھر دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے باقی ماندہ کام نمٹاتے ہوتے خود کلامی کی۔ اب وہ دل ہی دل میں اس لڑکی کو کوسے جا رہی تھیں، جس کے موبائل سے ابرار کے میسجز پکڑے گئے تھے۔ پھر کچھ خیال آیا تو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اس کے کمرے میں جا پہنچیں۔
    ’’ابرار‘‘دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی انہوں نے ابرار کو مخاطب کیا تو موبائل فون پر میسج کرتا ہوا ابرار اماں کی اچانک آمد پر بوکھلا اُٹھا۔ لیکن جلد ہی اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پالیا۔
    ’’جی امی… آئیں ناں‘‘ موبائل فون کو دھیرے سے سرہانے کے نیچے سرکاتے فرماںبرداری سے اُس نے امی کی بات کاجواب دیا۔
    ’’یہ عاصمہ کون ہے…؟؟‘‘ ماتھے پر شکنیں ڈالتے ہوئے مسز احمد نے ابرار سے ڈائریکٹ اُس لڑکی کے بارے میں پوچھ لیا۔
    ’’عاصمہ کون عاصمہ…؟؟ مجھے کیا پتا کون ہے یہ عاصمہ میں تو نام ہی پہلی بار سن رہا ہوں‘‘ وہ اَن جان بن کر حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔
    اُس کی اس لاتعلقی اور لا علمی پر مسز احمد کے دل کو سکون سا ملا تھا۔
    ’’خوامخوا میرے بیٹے پر الزام دھر دیا۔ یہ تو اس کو جانتا بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے دل ہی دل میں الزام لگانے والے کو بُرا بھلا کہا۔
    ’’کچھ نہیں بیٹا… پتا نہیں کون ہے یہ عاصمہ تم اپنا کام کرو۔‘‘ مسز احمد بات کو ٹالتی ہوئی واپس نیچے چلی گئیں۔
    ٭٭٭٭




  • لاپتا — سندس جبین

    لاپتا — سندس جبین

    جب سے ہادیہ سات سال کی ہوئی وہ اُس کے بارے میں بہت زیادہ محتاط ہو گئی تھی۔ ہر وقت دھیان رکھتی کہ وہ کہاں آجا رہی ہے۔ وہ کوئی چیز یا سودا سلف وغیرہ لینے قریبی دُکان پر بھی چلی جاتی تو صبیحہ کی تو جان حلق میں اٹک جاتی وہ دروازے کے ساتھ لگی رہتی جب تک کہ وہ واپس نہ آتی۔ ساس نے ٹوکا: ’’اتنا پریشان مت ہوا کرو اور بھی تو بچے باہر نکلتے ہیں۔ ابھی سے اپنا یہ حال کر لوگی تو آگے کیا ہو گا؟بچی ہے کل کلاں کو سکول کالج بھی تو جائے گی۔‘‘ وہ ساس کی بات سُن کر دل میں کہتی۔
    اماں! آپ تو پرانے زمانے میں رہ رہی ہیں۔ آپ کو کیا پتا آج کل کیسے کیسے غلیظ اور روح فرسا واقعات پیش آتے ہیں۔ ایسے ایسے بے رو ح اور بے ضمیر انسان جو بھیڑیئے کی مانند گھات لگا کر بیٹھے ہوں اُن کا کیا پتا؟ کسی کی شکل پہ تھوڑی لکھا ہوتا ہے کہ وہ کس مزاج اور فطرت کا ہے۔‘‘ وہ بُڑ بُڑاتی ہوئی اندر چلی آتی۔
    دور کیسا جا رہا ہے؟ آئے دن ٹی وی پہ نیوز الرٹ کے نام پر چلنے والی خبریں اُس کا خون خشک کیے دیتیں۔ محلے میں بھی وہ ہادیہ کو صرف اُنہی دکان داروں کے پاس بھیجتی تھی، جن کے بارے میں اُسے مکمل اعتماد تھا اور دوسرے وہ کافی پرانی جان پہچان والے تھے۔ برسوں کا ساتھ ہونے کی بنا پر ہی ارشد بھی اُسے یقین دلاتے تھے۔
    ’’صبیحہ! گلی میں جو دُکانیں ہیں وہاں بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ سب تقریباً ہمارے خاندان کی ہیں۔ سالوں سے یہاں ہیں، بال بچے دار ہیں۔ بھروسہ رکھو اللہ پہ اور دوسری بات میں خود بھی کوشش کروں گا کہ تمہیں ہفتہ وار سودا سلف لا دیا کروں تاکہ تمہیں کسی اور کو دکان پر نہ بھیجنا پڑے۔‘‘ ارشد کے کہنے پہ اُس نے سُکھ کا سانس لیا تھا۔
    ہادیہ اُس کی اکلوتی بیٹی تھی جو اُس نے بڑی دعائوں، منتوں مرادوں کے بعد پائی تھی۔ شاید اسی بنا پر وہ اس کے بارے میں اس قدرے حساس تھی۔ بہرحال اب اُسے سودے کا تو سکون مل گیا مگر ہادیہ ایک بچی تھی اُسے بھی دوسرے بچوں کی طرح ماں سے دس بیس روپے لے کر بسکٹس اور چپس کھانے کی عادت تھی۔ اس کے ایک دوبار کے پھیرے پہ صبیحہ کو بھی اعتراض نہ تھا۔





    وہ شاپر بھر کے سلانٹی، ٹافیاں، چپس اور چیونگم لے آتی اور بچوں کے ساتھ کھیلتی ہوئی کھاتی رہتی۔ یوں صبیحہ کے دن پُرسکون کٹنے لگے مگر زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ پُرسکون ندی میں ’’نئے دکان دار‘‘ کا کنکر آگرا۔
    اُن کے گھر سے تین گھر چھوڑ کر قاضی صاحب رہتے تھے اُن کے دونوں بیٹوں کے بیرونِ ملک چلے جانے کے بعد جب اُن کے ہاں ڈالرز کی بارش شروع ہوئی تو اُن کو ایک چھوٹے سے محلے میں موجود اپنا گھر گھٹن زدہمحسوس ہونے لگا۔ انہوں نے بہتر سمجھا کہ کسی نئی شروع ہونے والی ہائوسنگ سکیم میں شفٹ ہوا جائے۔ یوں اُن کے جانے کے بعد اُن کا مکان ایک میاں بیوی نے خرید لیا تھا۔ اُس آدمی نے بیٹھک میں چھوٹی سی پرچون کی دکان کھول لی۔
    اور یوں ہادیہ اب گلی کے کونے پہ جانے کی بہ جائے اُسی کریانے والے سے چیز لے آتی۔ اُس کے پاس بڑی مضبوط وجہ تھی۔ اُسے دور نہیں جانا پڑتا تھا۔ صبیحہ کو پتا چلا تو اوّل اوّل تو وہ فکر مند ہوئی مگر بعد میں اُس نے ارشد کو بتایا جنہوں نے حسبِ عادت اُسے تسلی دی کہ یہ قریب کی تو دُکان ہے اور وہ شریف آدمی ہے، ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے، نماز پنج گانہ کا عادی ہے اور سب سے بڑھ کر وہ بھروسے کے آدمی کے توسط سے یہاں شفٹ ہوئے ہیں اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ غلط لوگ ہوں۔ اُن کی جانب سے ان دلاسوں کو سننے کے بعد وہ جواباً خاموش رہ گئی مگر درِ پردہ دل ہی دل میں اُس نے سوچا کہ ارشد کو کیا پتا؟ وہ تو سیدھے سادھے انسان تھے۔ جو اپنے اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ٹی وی پر ایسی نیوز کتنی عام تھیں جن میں ایسے بہ ظاہر مظلوم نظر آنے والے اشخاص نہایت گھنائونے جرائم میں ملوث پائے گئے تھے۔
    اس بات کے لیے اُس نے یہ ترکیب نکالی کہ ہادیہ کو نزدیکی دُکان پر بھی تنہا نہ بھیجتی بلکہ ہمیشہ محلے کی کسی بچی کے ساتھ بھیجتی جس کی وجہ سے وہ کافی مطمئن بھی رہتی تھی۔
    اور یہ کافی دن بعد کی بات تھی جب ہادیہ دادی سے پیسے لے کر باہر نکل گئی، کپڑے دھوتے ہوئے صبیحہ کو ایک دم سے گھر میں غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا۔ اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو ہلکی دھوپ میں اماں اونگھتی نظر آئیں، اُس نے ہاتھ روک کر ہادیہ کو آواز دی مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ دو تین بار آواز دینے کے بعد اُس نے ہاتھ دھوئے اور تیزی سے صحن کی طرف آئی جو کہ خالی تھا۔ اُسے کچھ پریشانی سی ہوئی۔
    گھبرا کر واپس پلٹی اور تار پر لٹکا دوپٹہ اوڑھا اور گلی کے دروازے تک آگئی۔ ایک پٹ کھول کر جھانکا تو گلی خالی دیکھ کر اُس کا دل دَھک سے رہ گیا۔
    ’’اماں! ہادیہ کدھر ہے؟‘‘ اُس نے دروازے سے پلٹ کر تخت پوش پر لیٹی اماں کو جھنجھوڑا۔ وہ ہڑ بڑا کر جاگ اٹھیں۔
    ’’کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟‘‘ اُن کی آواز میں تشویش تھی۔
    صبیحہ نے حواس باختگی کی حالت میں انہیں ہادیہ کی گم شدگی کا بتایا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں۔
    ’’تم نے ساتھ والوں کے گھر دیکھا؟ انہوں نے فوراً پوچھا کیوں کہ ہادیہ عام طور پر اُنہی کے گھر کھیلنے کے لیے جایا کرتی تھی۔ صبیحہ نے انکار میں سر ہلایا تو وہ اُٹھ کر چپل پہننے لگیں پھر جیسے ہی وہ دروازے کے پار پہنچ کر باہر نکلیں۔ صبیحہ بھی دروازے سے لگ کر انہیں دیکھنے لگی۔ کچھ دیر بعد اماں وہاں سے نکلیں تو چہرہ اُترا ہوا اور مزید پریشان تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ ناکام لوٹیں ۔ اُس کی بیٹی وہاں نہیں تھی۔
    صبیحہ کا رنگ اُڑ گیا۔
    ’’تم پریشان مت ہو بہو! میں باقی گھروں میں بھی دیکھتی ہوں۔ کہیں نہیںجاتی وہ اِدھر ہی کہیں ہو گی۔ ‘‘ وہ اُسے تسلی دیتی آگے بڑھ کر دوسرے ہمسائے کا دروازہ بجانے لگیں۔
    اور پھر ایک کے بعد ایک گھر دیکھنے کے باوجود جب ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو صبیحہ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ وہ دیوانہ وار فون کی طرف لپکی اور ارشد کو فون ملایا۔ رو رو کر اُنہیں ساری بات بتاتے ہوئے وہ نڈھال ہو رہی تھی۔ ارشد کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے۔ اُس نے آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ بے چاری ساس بہو پریشان بیٹھی تھیں، جس لمحے ارشد نے دروازے سے اندر قدم رکھا، تب تک صبیحہ تقریباً بے ہوش ہونے والی تھی۔
    ’’ارشد!‘‘ وہ روتے ہوئے اُس کی جانب لپکی… ’’میری بچی‘‘۔ وہ سسکیاں بھرنے لگی۔
    ’’صبیحہ! مت پریشان ہو۔ میں دیکھتا ہوں۔‘‘ اُس نے اپنی پریشانی اور اضطراب چھپا کر کہا اور باہر نکل گیا۔
    ارشد پریشان سا گلی میں کھڑا تھا۔ کہاں جائے؟ کہاں سے شروع کرے؟ پوری گلی تو اماں دیکھ چکی تھیں… اب کدھر دیکھے؟؟؟
    وہ اُلجھن میں چند قدم آگے آیا جب اُس نے دیکھا کہ قاضی صاحب والے مکان میں بنی دُکان کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا۔ اُسے کچھ عجیب سا لگا۔ ابھی ظہر کا وقت نہیں تھا پھر شٹر گرانے کا مقصد ؟؟ وہ ایک نامعلوم تجسّس سے بندھا اس کی جانب بڑھا اور اُن کے دروازے پر دستک دی۔ کوئی جواب نہ تھا… دوسری دستک ذرا تیز تھی۔
    اور پھر یک لخت اُسے ہلچل سی محسوس ہوئی۔ اندر سے دو افراد کی تیزتیز آوازیں آنے لگیں۔ ارشد کی بے چینی بڑھ گئی۔ اُس نے اس بار بُری طرح سے دروازہ دھڑ دھڑایا ۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور ایک باریش آدمی باہر نکلا… جو بہت حواس باختہ نظر آتا تھا اور ارشد کو دیکھتے ہی ایک لمحے اُس کا رنگ فق ہوا ۔ اب تو ارشد کو یقین ہو گیا کہ لازماً کوئی گڑبڑ تھی۔
    ’’میری بیٹی… ہادیہ… اِدھر تو نہیں آئی؟‘‘ اُس نے اتنی بلند آواز میں پوچھا کہ اگر ہادیہ اندر ہو بھی تو اُس کی آواز سن لے اور شائد یہ اُس کی خوش قسمتی تھی کہ واقعتا ہادیہ نے اُس کی آواز سن لی تھی۔ وہ کہیں اندر سے بولی : ’’ابو! میں اِدھر ہوں۔‘‘ ہادیہ کی معصوم آواز نے اُس کے اندر بجلی سی بھر دی وہ بے ساختہ اندر بڑھا اور اُس آدمی کو دھکا دے گھر میں گھس گیا۔
    مگر ایک لمحے اُسے رُک جانا پڑا… منظر ہی ایسا تھا۔
    سامنے بچھی چار پائی پر ایک بجھی آنکھوں والی عورت ہادیہ کے ننھے ننھے ہاتھوں میں چوڑیا ں پہنا رہی تھی اور اُس کے گرد کھانے پینے والی چیزوں کا انبار لگا تھا۔
    ارشد کا ذہن جھنجھنا کر رہ گیا۔
    اُسے جیسے اس سارے منظر کی سمجھ ہی نہ آئی تھی۔
    وہ باریش آدمی اُس کے قریب آیا اور التجائیہ انداز میں اُس کا بازو تھام کر گویا ہوا تھا۔
    ’’بھائی صاحب! میری بات سُنیے، غلط مت سمجھیے گا۔ جیسا آپ سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے میں آپ کو سب سچ بتاتا ہوں‘‘ اور ارشد نے اُس کے چہرے کو دیکھا تو وہاں انتہا ئی بے چارگی اور لجاجت تھی۔
    اور جو بات ارشد کو پتا چلی وہ کچھ اس طرح تھی۔
    ’’فرحان اور سکینہ کی شادی کے تین سال بعد اُن کے ہاں اقراء پیدا ہوئی تو اُس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اپنی پہلی اولاد کو انہوں نے بہت نازوں سے پالا… جب وہ چار سال کی ہوئی تو اسے سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُس کے بعد اُن کے ہاں مزید اولاد نہ ہوئی تو اُن کی نگاہ کا مرکز صرف اور صرف اقراء ہی بن کر رہ گئی۔
    مگر پھر ایک دن ساتھ والی گلی میں موجود اسکول سے اقراء واپس گھر نہ لوٹی ۔
    ہر جگہ اعلانات کروائے، ٹی وی پر اشتہار ات دیئے گیے، اعلانات کروائے، پولیس میں رپورٹ کی مگر اُسے لاپتا ہوئے آج تین سال ہونے کو آئے تھے۔
    فرحان کی بیوی سکینہ کو ہر بچی اپنی اقراء لگتی وہ اُسے پیار کرنے کو لپکتی… ایسے میں ہادیہ دُکان پہ کوئی چیز لینے آئی تو اُس سے رہا نہ گیا… وہ اُسے اندر لے آئی… جب کہ فرحان اُسے سمجھا رہا تھا کہ بچی کو جانے دو اُس کی ماں پریشان ہو رہی ہو گی، اسی اثناء میں ارشد خود وہاں آگیا۔
    ارشد مائوف ذہن کے ساتھ یہ کہانی سنتا رہا اور مظلوم فرحان اپنے آنسو چھپا رہا تھا۔
    چار پائی پر موجود فرحان کی بیوی سکینہ ہادیہ کی دونوں کلائیوں میں چوڑیاں پہنا چکی تھی۔

    ٭٭٭٭