Tag: alif kahani

  • پھوہڑ — ثمینہ طاہر بٹ

    پھوہڑ — ثمینہ طاہر بٹ

    ’’اُف! تو بہ ہے۔ یہ سالن ہے یا زہر؟ بھابی، تمہیں اتنا عرصہ ہو گیا ہمارے گھر آئے، مگر مجال ہے جو اس گھر کا ایک بھی اصول اپنانے کی کوشش کی ہو۔ آج بھی پہلے دن والی غلطیاں کرتی ہو اور پھر منہ بسور کر سب کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہو۔ کمال ہے بھئی۔ والدہ صاحبہ نے تو بیٹی کے سگھڑاپے کے جھنڈے زمانے بھر میں گاڑ رکھے ہیں اور بیٹی صاحبہ ہیں کہ ڈھنگ سے دال کو بھگار بھی نہیںلگا سکتیں۔ اونہہ، اماں ۔تم نے تو بھائی کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ بس بہو کی ’’چٹی چمڑی‘‘ دیکھی اور کسی گن کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی کوشش کی۔ ‘‘ گڑیا کی پاٹ دار آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ ہوتا بھی کیسے، گڑیا گھر بھی لاڈلی اور ماں کی سر چڑھی تھی۔دو بہنوں اور تین بھائیوں سے چھوٹی ، مگر رتبے کے لحاظ سے سب کی اماں لگتی تھی۔ نین تارہ کو اس گھر میں بیاہ کر آئے چھے ماہ ہونے کو آئے تھے اور اس سارے عرصے میں اس کے سارے گن ایک ایک کر کے گہنائے جا چکے تھے۔ گڑیا کی زبان کے آگے واقعی کوئی گہری خندق ہی تھی کہ وہ بولنے سے پہلے نہ تو کچھ سوچتی اور نہ ہی بولنے کے بعد اگلے کے تاثرات دیکھنے کی عادی تھی۔اس کے دل میں جو آتا کر ڈالتی اور منہ میں جو آتا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتی چاہے اس کے نتیجے میں سامنے والے کی عزت دو کوڑی کی ہی کیوں نہ ہو جاتی۔
    نین تارہ بے حد سگھڑ اور سلیقہ شعار لڑکی تھی۔اس سے بڑی ایک بہن اور دو بھائی تھے۔ سب شادی شدہ اور اپنی اپنی فیملیز میں مگن تھے۔ جب تک نین تارہ کے ابا جی حیات تھے، اسے اور اس کی امی کو کوئی پریشانی لاحق نہیں تھی، مگر کچھ عرصہ پہلے والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کی سبک رفتار ناؤ جیسے ہچکولے کھانے لگی تھی۔یوں تو دونوں بھائی بھی اچھے تھے اور بھابھیوں کو بھی ان دونوں سے کوئی مسئلہ نہ تھا، مگر اصل مسئلہ تو یہی بنا تھا کہ نین تارہ کا وجود اس کے بھائیوں اور بہن کے مابین دراڑ بنتا جا رہا تھا۔ اس کی خاموش اور سلجھی ہوئی طبیعت ، سلیقہ اور سگھڑاپا دیکھتے ہوئے بہنوئی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی کے لیئے دست سوال دراز کیا تو بڑی بھابی نے یہ کہتے ہوئے دو ٹوک انکار کر دیا کہ مرحوم ابا جی نین تارہ کو اپنی زندگی ہی میں اس کے بھائی کے ساتھ منسوب کر چکے تھے۔ بس اعلان کرنا باقی تھا۔ ورنہ باقی کی کارروائی تو سمجھو ہو ہی چکی تھی۔بڑی بھابھی کی باتوں نے جہاں آپا کو حواس باختہ کیا تھا، وہیں چھوٹی بھابی کے ہوش بھی اُڑا دیے تھے کیوں کہ چھوٹی بھابی بھی اسے اپنی بھاوج بنانے کا دل ہی دل میں پکا منصوبہ بنا چکی تھیں، مگر اب انہیں اپنے سارے ارمان مٹی میں ملتے دکھائی دے رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    ’’امی! یہ سب لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ابا کی زندگی میں تو کسی کو ایسا خیال بھی نہیں آیا تھا۔ بے چارے میرے اباجی، میری شادی کا ارمان دل ہی میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اب ایسا کیا ہوگیا کہ بھابھیوں اور بھائی صاحب کی محبت نے جوش مارنا شروع کر دیا ہے۔؟ ‘‘ حالات جب حد سے زیادہ خراب ہونے لگے، تو نین تارہ کی ہمت بھی جواب دے گئی۔وہ ماں سے لپٹ کر رودی اور ماں بے چاری کیا کہتیں۔ انہیں سمجھ تو سب آرہا تھا، مگر یقین کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا کہ قریبی رشتوں کا یہ فریب ان سے برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا۔
    ’’تارہ! بیٹی یہ سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ہمارے سر پر احسان کا بوجھ رکھنے کے لیے کر رہے ہیں۔ تمہاری آپا نے تو اکیلے میں مجھے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اس کے نکھٹو دیور سے بیاہنے کی بہ جائے میں تمہارا گلا دبا دوں تو زیادہ بہتر ہے۔ اور رہ گئیں تمہاری بھابھیاں تو وہ بھی اسی کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے میکے کی چاکری کے لیے بھابی بنا نے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس طرح دوہرے رشتے کی وجہ سے ان کا کھونٹا بھی مضبوط ہو جائے گا اور میرے سر ہمیشہ کا احسان بھی آ جائے گا۔‘‘ امی نے اپنے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، تو وہ شاک کی کیفیت میں انہیں دیکھتی چلی گئی۔
    ’’ اور پھر انہیں شاید یہ بھی پتا چل چکا ہے بیٹی کہ تمہارے ابا نے تمہارے نام کچھ جائیداد بھی کر دی تھی۔ وہ اس جائیداد کے لالچ میں بھی ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔‘‘ نین تارہ حیران کھلی آنکھوں سے ماں کو دیکھتی ان کے انکشافات سن رہی تھی۔ اس کے دل پر چھریاں چل رہی تھیں، مگر وہ بے بس تھی۔ کچھ کر نہیں سکتی تھی سوائے رونے کے۔ سو، رو کر ہی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔
    ’’نین تارہ! میں نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔ صغریٰ کے جاننے والے ہیں وہ لوگ۔ کبیر کی اپنی کپڑے کی دکان ہے۔ کبیر سے بڑے دو بھائی ہیں اور دو بہنیں۔ وہ سب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھر بار والے ہیں۔ کبیر اپنی ماں اور چھوٹی بہن کے ساتھ رہتا ہے۔صغریٰ نے ان کے آگے تمہاری بہت تعریفیں کی تھیں۔ بس، انہوں نے رشتہ مانگا، تو میں نے ہاں کر دی۔‘‘ امی نے ایک دن اسے سامنے بٹھاتے ہوئے پیار سے کہا، تو وہ سر جھکا کر رہ گئی۔ کیا عجیب وقت آ گیا تھا کہ سر چھپانے کو اپنے باپ بھائی کا گھر ہی کم پڑنے لگا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھرتے جارہے تھے، مگر وہ ماں کی آزردگی کے خیال سے انہیں بہنے سے روکے ہوئے تھی۔
    ٭…٭…٭
    جلد ہی نین تارہ ماں کی دعائیں اور بھابھیوں کی آہیں سمیٹے ہوئے پیا دیس سدھارگئی۔ شادی کے شروع دن تو جیسے پنکھ لگا کر رخصت ہوئے اور پھر اس کے سامنے آئیں زندگی کی تلخ حقیقتیں۔
    ’’بہو! تمہاری شادی کو دس روز ہو گئے۔ اب تم میٹھے میں ہاتھ ڈالو اور اپنی گھرداری سنبھالو۔ مجھ سے اس بڑھاپے میں تم لوگوں کی خدمتیں نہیں کی جاتیں۔ ‘‘ شادی کے دسویں روز ہی ساس صاحبہ نے صبح ہی صبح آرڈر جاری کیا اور خود اپنے کمرے کی راہ لی۔ کبیر اس وقت کام پر جانے کی تیاریوں میں تھا۔ ماں کے کمرے سے نکلتے ہی وہ محبت بھرے انداز سے اسے دیکھنے لگا۔
    ’’اچھا، تو آج سے کھانا تم بناؤ گی۔ چلو اچھا ہے ۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ تمہارے ہاتھ کا ذائقہ کیسا ہے۔ بھئی، تعریف تو بہت سنی ہے ۔اب ٹرائی کرکے دیکھیں گے، تو پتا چلے گا نا۔‘‘ کبیر نے ہنستے ہوئے شرارت سے کہا، تو وہ بھی خوش دلی سے مُسکرانے لگی۔
    ’’امی! کھانے میں کیا بنانا ہے۔ بتا دیں مجھے ، میں بنا لوں گی۔‘‘ میٹھے میں فرنی بنانے کے بعد اس نے ساس سے اگلے کام کی بابت پوچھا، تو وہ گڑیا کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔
    ’’بھابی!آج کچھ اسپیشل بناؤ۔ سمجھو، آج تمہارا امتحان ہے اور ہاں یہ دھیان میں رکھنا کہ تمہارے دونوں جیٹھ اور دونوں بڑی نندیں بھی کھانے پر آ رہی ہیں۔ ‘‘ گڑیا نے مزے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کچھ اس طرح کہا کہ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔اس نے اپنی ساس کی طرف دیکھا ،وہ بھی اسے عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ ایک لمحے کو تو نین تارہ کی نگاہوں کے سامنے رنگ بہ رنگے تارے ہی ناچ گئے۔ وہ سلیقہ شعار اور سمجھ دار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت حساس بھی تھی۔ فوراً سمجھ گئی کہ اب اس کے سختی کے دن شروع ہوا چاہتے ہیں۔
    ’’ ٹھیک ہے ۔ آپ مجھے بتا دیں کہ کیا کیا بنانا ہے۔ میں سب بنا لوں گی۔‘‘ اس نے بے دلی سے مُسکراتے ہوئے کہا ۔
    ’’بھئی، دعوتی کھانا بنانا ہے اور وہ بھی ساری فیملی کے لیے۔ تو ایسا کرو بھابی کہ تم بریانی کے ساتھ قورمہ بھی بنا لینا۔ شامی کباب بنا کے میں نے فریز کیے ہوئے ہیں اور نان بھائی بازار سے لے آئیں گے۔ کیوں امی، یہ مینیو ٹھیک رہے گا نا؟ ‘‘ گڑیا نے خود ہی ساری لسٹ ترتیب دی اور پھر خود ہی اسے فائنل کرتے ہوئے ماں سے تائید چاہی، تو انہوں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ’’ٹھیک ہے امی، میں بنا لوں گی سب کچھ۔آپ فکر مت کریں۔‘‘ نین تارہ نے فرماں برداری سے کہا، تو گڑیا بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ’’دیکھتے ہیں، تم کیا کمال کرتی ہو بھابی۔ دھوم تو بہت سنی ہے تمہارے سگھڑاپے کی۔‘‘ گڑیا نے طنزیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے چبھتے ہوئے انداز سے کہا، تو نین تارہ کا دم جیسے گھٹنے لگا۔ اُس کی ساس بیٹی کی بات کا مزہ لیتے ہوئے ہنس رہی تھیں۔وہ گڑیا کی معیت میں کچن میں داخل ہوئی اور پھر شام سے پہلے اسے کچن سے نکلنا نصیب نہیں ہوا۔ اس دوران اس کے دونوں جیٹھ اور نندیں بھی اپنے اپنے بال بچوں سمیت پہنچ چکے تھے۔ کھانے کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی مہمان نوازی بھی اسے ہی کرنی پڑی تھی کہ گڑیا تو بہنوں کو دیکھتے ہی اُن کے ساتھ جڑ کر جا بیٹھی تھی اور پھر وہ چاروں ماں بیٹیاں تھیں اور ان کی نہ ختم ہونے والی باتیں۔ البتہ اس کی جیٹھانیوں نے رسماً ہی سہی اس کی تھوڑی بہت مدد ضرور کروائی تھی بلکہ بڑی بھابی نے تو اسے اتنے بڑے بڑے پتیلوں کے سامنے جھلستے دیکھ کر سخت افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور کبیر کو ڈانٹا بھی تھا کہ وہ نئی نویلی دلہن پر اتنا بوجھ ڈالنے کی بہ جائے کھانا باہر سے آرڈر کروا سکتا تھا۔اب کبیر بے چارہ کیا کہتا۔ اسے تو خود گھر آنے کے بعد ساری صورت حال کا پتا چلا تھا۔ وہ خود بھی بہت پریشان تھا، مگر ماں کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا اور نہ ہی گھر آئے مہمانوں کو کچھ بتا سکتا تھا۔
    ’’کبیر! میری مانو تو تم بازار سے کچھ اور بھی کھانے پینے کا سامان لے آؤ۔‘‘ بڑی بھابی نے تشویش سے بریانی اور قورمے کے دیگچوں میں جھانکتے ہوئے کہا، تو نین تارہ کے ساتھ ساتھ کبیر بھی حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
    ’’کیوں بھابی۔ کھانا اچھا نہیں بنا کیا؟‘‘ نین تارہ نے ڈوبتے دل کو بہ مشکل سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
    ’’نہیں ۔نہیں تارہ! تم نے کھانا تو ماشااللہ بہت اچھا بنایا ہے، مگر یہ سب پورا نہیں ہوگا بہنا اور پھر اگر گڑیا کو ایک چیز میں بھی کوئی نقص نظر آگیا، تو سمجھو سب ہی دسترخوان سے بھوکے اُٹھیں گے۔ تمہاری محنت بھی اکارت جائے گی اوربد مزگی علیحدہ سے ہو جائے گی۔ اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ کچھ اور ورائٹی بھی ہونی چاہیے کھانے میں۔ ‘‘ بھابی نے مفصل جواب دیا، تو بات کبیر کی سمجھ میں بھی آ گئی۔ اس پر چھوٹی بھابی نے بھی پُر زور تائید کی تو کبیر چھوٹے بھیا کو ساتھ لیے بازار روانہ ہوا۔ خیریت رہی کہ امی اور بہنوں کو اس کارروائی کا پتا ہی نہیں چل سکا ، ورنہ جانے وہ کبیر اور تارہ کا کیا حال کرتیں۔




  • ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

    ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

    وہ کافی دیر سے آنکھیں بند کیے بانسری بجا رہاتھا جس کی مدھر تان ہولے ہولے میرے دل پر دستک دینے لگی تھی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نے اپنی رس بھری سرگوشی سے مجھے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ دل تھا کہ اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا اور دماغ ’’یہ غلط ہے‘‘ کی گردان الاپے جا رہا تھا۔ کچھ پل کی نادیدہ سلاسل میں قید سکون کے علاوہ مجھے اس سے کچھ نہ ملا تھا۔
    عجیب کشمکش میں آن پڑی تھی میں۔ اس نے تو مجھے ہمیشہ مشکل ہی میں ڈالا تھا لیکن میں تھی کہ ریشم کے دھاگے کی طرح اس کی طرف کھنچی چلی جا رہی تھی۔
    جب سے ہوش سنبھالا، میں نے اسے اپنا ہم رکاب پایا۔ عجیب رشتہ تھا ہم دونوں کا بھی۔ وہ میرے لیے زہرِ قاتل تھا اور میں اسے تریاق کی طرح سنبھالے رکھتی تھی۔ ہر دم اس کی جی حضوری کرتی، اس کی ہاں میں ہاں ملاتی اور اس کی اس طرف داری کا صلہ مجھے ہمیشہ دکھ ہی دیتا۔
    مجھے یاد ہے ایک بار جب ندی کنارے چلتے ہوئے عینی بھی میرے برابر آن پہنچی تو اس نے میرے دماغ کی ڈوری کھینچی اور دھیان کا دامن پکڑے اس طرف لے گیا۔ یہ صحیح ہے کہ میری عینی کے ساتھ کبھی نہ بنی تھی اور عینی ہمیشہ ہی مجھے چڑاتی رہتی تھی۔ میرے گھنگھریالے بالوں کی وجہ سے ہمیشہ وہ میرا مذاق اڑایا کرتی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بدلے میں اسے نقصان پہنچاوؑں۔ اسے جسمانی تکلیف کا مزہ چکھاوؑں۔ لیکن اس روز، اس کے پرزور اصرار پر میں نے عینی کو دھکا دے کر ندی میں گرا دیا۔ ندی میں بپا ہونے والے ہیجان نے میرے اندر کے احساس کو جگانا شروع کیا تو میں نے چلاچلا کر آس پاس کے لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ عینی کی جان تو بچ گئی لیکن میری شامت آگئی۔ چاچا چاچی کی لعنت ملامت کے بعد اماں ابا اور اوراستانی جی کی ڈانٹ اور بِے عزتی کے بعد مجھے احساس ہواکہ مجھے اس کی بات نہیں ماننا چاہیے تھی۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی اس کی بات نہیں سنوں گی۔




    پھر ایک روز جب میں اماں کے ساتھ بازار گئی تو خواہشوں کی ننھی تتلی لہک لہک کر کبھی سرخ لہنگے پر جا بیٹھتی تو کبھی سنہری جوتی پر۔
    ’’شش… چپ! اگر اماں کو تیری خبر ہو گئی تو اگلی بار ساتھ بازار نہیں لائیں گی۔‘‘ میں نے خواہشوں کی تتلی کو آہستہ سے تنبیہ کی۔
    لیکن وہ بھی اپنی فطرت سے مجبور، ضبط کے آگے سر پٹختے پٹختے تھک گئی تھی شاید۔ پھر سے ایک ست رنگی دوپٹے پر جا بیٹھی تو میں اسے گھور کر ہی رہ گئی۔ ہم دونوں کی اڑان بلند ہوتی اور پھر سمجھوتے کی گہری پاتال کا رخ کرتی۔
    اماں جب کتابوں کی دکان پر میری کاپیاں خریدنے کے لیے رکیں تو میری نگاہ سامنے ہی کھلے جیومیٹری باکس پر جم گئی۔ گلابی رنگ کی وہ جیومیٹری،نازک سی پرکار، ڈی،پنسل اور سکیل پر مشتمل تھی۔ اس کی سب سے زیادہ خاص بات یہ تھی کہ اس میں باربی گڑیا کی شکل کی پنسل موجودتھی اور باہر کی طرف بنی گلابی رنگ کی باربی کی آنکھیں ستاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔
    ’’یہ جیومیٹری بھی لینی ہے خالہ جی؟‘‘ دکان والے نے میری نظروں کا ارتکاز دیکھتے ہوئے اماں سے سوال کیا۔
    ’’ارے نہیں بیٹا، یہ فضول خرچیاں ہم جیسے لوگ نہیں کر سکتے۔‘‘ اماں نے آہستگی سے کہا تو میں نے حسرت سے اسے دیکھتے ہوئے نگاہ چرا لی لیکن خواہش کی ننھی تتلی کافی دنوں تک اس کے گرد منڈلاتی رہی۔
    ’’مینا مینا! دیکھو تو ذرا شیزا کے پاس بالکل ویسی ہی جیومیٹری ہے جو اس روز دکان میں دیکھی تھی تم نے۔‘‘ سکول میں تفریح کا وقت گزرنے کے بعد وہ میرے دھیان کا ہاتھ پکڑے زور سے بولنے لگا۔
    ’’اوہو! تو کیا ہوا۔وہ یہ فضول خرچی کر سکتی ہے۔ اس کا باپ ہزاروں کماتا ہے۔ ‘‘میں نے شیزا کے ہاتھ میں تھامی جیومیٹری پر نگاہ ڈالتے ہوئے قدرے اُداسی سے کہا۔
    ’’اداس مت ہو میری جان! ہمیں اپنی خواہش پوری کر لینی چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ طریقہ کیا ہے۔ چھین لو اس سے یہ جیومیٹری۔ یہ صرف تمہارے لیے بنی ہے۔‘‘ اس نے مجھے راہ سجھائی تھی۔
    ’’نہیں! وہ کیا کہے گی کہ مینا چیزیں چھینتی ہے۔ نہیں!‘‘ میں نے اس کے مشورے کو پسِ پشت ڈال دیا لیکن جب شیزا پانی پینے اٹھی تو اس نے پھر میرے دھیان کا پلو تھاما اور سامنے ڈیسک پر رکھی جیومیٹری کی طرف لے گیا۔ اتنے میں چھٹی کی گھنٹی بجی اور میرے ہاتھ خود بہ خود اس جومیٹری کی طرف بڑھ گئے۔ سکول سے گھرواپسی کا سفر میرے لیے بے حد حسین تھا۔ خواہش کی ننھی پری یہاں سے وہاں اٹکھیلیاں کرنے لگی تھی۔ کبھی میرے دل کے تار چھیڑتی تو کبھی آنکھوں میں ڈھیر سارے رنگ بکھیر دیتی۔
    ہاں میری اس خوشی کا سارا کریڈٹ اسے ہی جاتا تھا۔ اگر وہ میری ہمت نہ بندھاتا تو میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوتی۔ اسی طرح میری ہر خواہش پوری کرنے کے لیے وہ ہر جتن کرتا تھا۔ کبھی کبھار تو بنا خواہش کے ہی مجھے مشکلات سے بچانے میدان میں کود پڑتا۔
    ٭…٭…٭
    رمضان المبارک کے آخری روز تھے۔ سکول میں ہر روز ہی سہیلیاں ایک دوسرے کو تحفے اور عید کارڈ دیتی نظر آتیں اور میں ہمیشہ کی طرح حسرت کو گلے لگائے یہ تماشا دیکھتی۔
    ’’پیشگی عید مبارک!‘‘ شیزا نے کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور سرخ کاغذ میں لپٹا تحفہ میری جھولی میں ڈالتے ہوئے کہا۔ حیرت اور خوشی کے مارے میں کچھ دیر تو بول ہی نہ پائی تھی۔ بنا خواہش کے ملنے والی خوشی کا تجربہ پہلی بار ہوا تھا۔ گھر آ کر اماں کو کارڈ اور گفٹ دکھایا تو وہ ڈانٹنے لگیں۔
    ’’ارے کیوں لیا یہ تحفہ؟اب بدلے میں کیا دو گی اسے؟ یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں، ہم جیسوں کو راس نہیں آتے۔‘‘ خوشی ایک دم سے اڑن چھو ہو گئی تھی۔ نم آنکھوں سے تحفے کا لبادہ اتارا تو اندر سے ست رنگی کانچ کی جھلمل کرتی چوڑیاں بر آمد ہوئیں جنہیں دیکھ کر مسکراہٹ خود بہ خود میرے چہرے پر در آئی۔
    ’’ہو جائے گا سب۔ فکر نہ کرو۔ کتنا پیارا تحفہ دیا ہے شیزا نے،اسے بھی تو ملنا چاہیے ایسا ہی تحفہ۔‘‘ اس نے ایک بار پھر آنکھوں میں امید کے جگنوسجائے تو میں بے فکر ہو گئی۔
    شام کو جب اماں نے حلوے کی پلیٹ ڈھانپ کر ہاتھ میں تھمائی اور مولوی صاحب کے گھر بھیجا تو وہ بھی میرے ساتھ ہو لیا۔
    ’’شیزا کو کیا تحفہ دینا ہے؟‘‘ گہری خاموشی میں اچانک اس کی آواز ابھری ۔
    ’’سوچوں گی۔‘‘
    ’’ارے! سوچنے کا وقت کہاں ہے؟ کل جانا ہے اسکول اور پھر عید کی چھٹیاں ہو جائیں گی۔‘‘ اس نے مجھے وقت کی کمی کا احساس دلایا تو میں حقیقتاً پریشان ہو گئی۔ انہی سوچوں میں گھرے وقت کا پتا ہی نہ چلا اور میں استانی جی کے سامنے کھڑی تھی۔
    ’’استانی جی! اماں نے یہ حلوہ بھیجا ہے اورکہا ہے کہ پلیٹ ابھی خالی کردیں۔‘‘ استانی جی تو باورچی خانے میں چلی گئیں اور میں باہر ہی تخت کے پاس کھڑی رہ گئی۔ دفعتاًمیری نگاہ تکیے کے نیچے سے جھلکتی سنہری مندریوں پر پڑی۔
    ’’دیکھ تو اللہ پاک نے شیزا کو دینے کے لیے کیساانتظام کیا۔ کتنی پیاری مندری ہے نا۔ جلدی سے اٹھا لو۔‘‘ وہ مجھ سے پہلے ہی ان سنہری مندریوں کودیکھ چکا تھا، سو مجھے کہنے لگا۔
    ’’نن نہیں! یہ چوری ہے، انہوں نے اماں کو بتایا تو میری چمڑی اتار دیں گی وہ۔‘‘ شعور نے اس کی بات نظر انداز کر دی۔
    ’’استانی جی کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ اور اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے چلا گیا توکل شیزاکوکیا دو گی تحفے میں؟ اس نے تیزی سے کہا تو شعور نے اس کے آگے سر جھکا دیا۔
    اگلے دن استانی جی اماں کے سامنے موجود تھیں۔
    ’’باجی آپ اس سے لاڈ پیار سے پوچھو،بڑی قیمتی مندری تھی میری۔‘‘
    ’’استانی جی! سنہری مندری کی بات کر رہی ہیں نا آپ؟‘ وہ تومیں نے عینی کے پاس دیکھی تھی۔ کل جب حلوہ دے کر واپس گھر جا رہی تھی،تومیرے ساتھ ہی توتھی عینی بھی۔ ‘‘ان کی پریشانی اور اماں کے ہاتھوں بننے والی درگت کا خیال آتے ہی میں نے خودہی بولنا شروع کر دیااور پھر میرے نصیب کی سزا عینی کو ملی۔ اس کے جسم پر پڑے نیل مجھے پشیمان کرنے لگے تومیرے اندر اور باہر خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے۔
    پیسہ ہو تو زندگی میں رنگ بھر جاتے ہیں ورنہ تو زندگی بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی جیسی ہے۔ کچھ روز بعد وہ پھر میرے سامنے چلا آیا۔




  • فیصلہ — محمد ظہیر شیخ

    فیصلہ — محمد ظہیر شیخ

    پولیس والوں کی بھی عجیب قسمت ہوتی ہے۔ ہر شخص امن و امان اور سلامتی کی دعا مانگتا ہے، مگر پولیس کے محکمے سے تعلق رکھنے والا ہر کارندہ یہی کہتا ہو گا کہ پروردگار آج کوئی کسی کا سر پھاڑ دے، آج کوئی قتل ہو، آج کوئی ڈکیتی کرے یا ہمسائیوں کی ہی آپس میں لڑائی ہو جائے۔
    اگر ہر طرف امن و امان اور سلامتی رہے تو کون پوچھے تھانیدار کو اور کون گھاس ڈالے اس محکمے کو… گو کہ ہر جگہ ایسی وارداتوں کا سب سے زیادہ فائدہ پولیس ہی کو ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود راج نگر میں کسی بھی بدامنی کی اطلاع پر پولیس ناک بھوں چڑھا لیتی تھی۔ اس علاقے کے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاؤٔں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭…٭…٭





    راج نگر یوں تو گاؤں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاؤں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاؤں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاؤں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاؤں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ’’دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔‘‘
    ’’ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ’’اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘
    ’’ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آؤ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ’’دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔‘‘وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭…٭…٭
    نیلم، راج نگر کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ جب وہ یونیفارم میں ملبوس گاؤں کے راستوں سے اسکول پہنچتی تھی تو راہ میں گزرنے والا ہر جوان اسے دیکھ کر سانس لینا بھول جاتا تھا۔ راجپوت گھرانے کی لڑکی ہوتی تو ہر کوئی دیکھ کر نظر جھکا لیتا، مگر اس کی بدقسمتی کہ وہ ایک غریب کسان غلامو کی بیٹی تھی جو راجہ اکرام کی زمینوں پر کام کرتا تھا۔ غلامو خود تو مریل سا کالی رنگت کا تھا، مگر اس کی بیٹی لاکھوں میں ایک تھی ۔ غریب کی بیٹی تھی اس لیے ہر کوئی دیدارِ عام کا حق رکھتا تھا۔ نیلم کی ماں نے جب ایسی صورتحال کے بارے میں محسوس کیا تو اپنی بیٹی کو گاون، میں اسکول بھیجنے لگی مگر لوگوں کی نظریں پھر بھی نہ رکیں۔ غلامو کو اپنی محنت مزدوری سے فرصت نہیں ملتی تھی گھر کا خیال خاک رکھتا۔ ہاں البتہ وہ اور اس کی بیوی، نیلم کے بچپن ہی سے اس کے جہیز کے لیے پائی پائی جمع کررہے تھے۔ نیلم کی میٹرک کے بعد اس کی شادی کا ارادہ تھا۔ ابھی نیلم نویں جماعت میں ہی تھی کہ گاؤں کا بچہ بچہ اس کے خواب دیکھنے لگ گیا۔ ایک دو بار لڑکوں نے اس سے بات کرنی چاہی مگر اس نے کسی کو لفٹ نہ دی۔ گھر آکر اس نے ماں کو بتایا تو اس کی وساطت سے غلامو تک یہ خبر پہنچی۔ غریب آدمی تھا اس لیے عزت ہی سب کچھ سمجھتا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے مالک سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو راجہ اکرام نے اس کی بات سن کر اسے مشورہ دیا کہ جلد از جلد بیٹی کی شادی کردے ، مگر وہ جانتا تھا کہ فی الحال وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بیٹی کو عزت سے رخصت کرسکے۔ اس کے پاس جمع پونجی ابھی مطلوبہ ہدف سے بہت کم تھی۔ دوسرا وہ کم از کم دسویں کا امتحان پاس کروانے تک اپنی بیٹی کی شادی کا خواہش مند بھی نہیں تھا۔ اس نے راجہ صاحب کی بات سن کر سر جھکا لیا۔ گھر آکر اس نے بیوی سے مشورہ کیا اور اس بات پر دونوں راضی ہو گئے کہ اگر اچھا لڑکا مل گیا تو وہ لوگ شادی میں دیر نہیں لگائیں۔ فی الحال اللہ کے بھروسے وہ نیلم کو اسکول بھیجتے رہے۔ نیلم کے چاہنے والوں میں راجپوت خاندان کے بھی کئی لڑکے تھے مگر وہ لوگ برادری سے باہر رشتہ داری باعثِ ندامت سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر بہت سے لڑکے دل تھام کے رہ گئے مگر عابد اس کے تیرِ نگاہ کا ایسا شکار ہوا کہ اس نے سارے بندھن، ذات پات، برادری اور رسوم و رواج کے فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا۔
    وہ راجہ اکرام کا بھتیجا تھا اور سوائے بدمعاشی کے اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ تین بڑے بھائی تھے جو برسرِ روزگار تھے۔ اس لیے سوائے بدمعاشی اور آوارہ گردی کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔
    اس نے کئی دنوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث آخر کار گھر والوں کو راضی کر لیا کہ اس کا رشتہ نیلم کے لیے مانگا جائے۔ یہ الگ بات تھی کہ مانگنے کا جھنجھٹ پالا گیا تھا ورنہ سب ہی اس بات سے آگاہ تھے کہ غلامو کی یہ مجال کیسے کہ وہ انکار کر دیتا، چنانچہ اس سے بات کی گئی اور اس نے بخوشی اس بات پر رضامندی ظاہر کردی۔ یوں ایک مشکل مرحلہ عابد کے لیے طے ہوا، مگر وہ حالات کا ایک رخ تھا دوسرے رخ سے اس پر کون سے طوفان نازل ہونے والے تھے وہ اس سے بے خبر تھا۔
    ٭…٭…٭




  • آسیب — دلشاد نسیم

    آسیب — دلشاد نسیم

    میں آپا سے پورے دس سال چھوٹی ہوں۔ اماں بتاتی ہیں ان دس سالوں میں ہمارے دو بھائی ہوئے مگر بدقسمتی سے دونوں ہی کی زندگی نے وفا نہ کی۔ اماں اب بھی کبھی کبھی ہاتھ مل کے ان کی یاد کو آنکھوں کے پانی سے تازہ کرتی رہتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں یہ نمکین پانی ان دونوں کی یاد کو ہرا کر دیتا ہے اور کبھی کبھی تو یہ ہرا رنگ زہر بن کر اُنہیں بے جان بھی کر دیتا ہے۔
    ہائے اماں مجھے ان پر ترس آنے لگتا، لیکن میرے ننھے ذہن میں ایک اور بات کلبلاتی۔ اگر وہ زندہ رہتے، تو اماں مجھے اور آپا کو ٹکے بھاؤ نہ پوچھتیں۔ اب بھی کون سا پوچھتی ہیں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور جب سے ابا نے چھوڑا ہم دونوں بہنیں اماں کو کانٹے کی طرح چبھنے لگیں تھیں جیسے انہوں نے اماں کو ہماری وجہ سے چھوڑا ہو۔ بات کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی۔ گفتگوبڑوں میں ہو رہی تھی، لیکن میں نے ساری سنی۔
    ابا نے کہا میرا کوئی وارث ہونا چاہیے۔
    اماں نے کہا۔ اللہ نے دو دیے تو تھے۔ اس کی منظوری ہوتی تو رہتے۔
    ابا کو اللہ کی یہ منظوری نامنظور تھی۔ کہنے لگے شرع میں اجازت ہے، میں دوسری شادی کر سکتا ہوں اور دونوں بیویوں کو ان کے حق ادا کر سکتا ہوں، تو اماں نے ایک نہ سنی۔ چٹخ کر بولیں۔ میری خدمت کا حق کیسے ادا کرو گے اور وہ ساری راتیں جو میں تمہارے بغیر گزاروں گی اور تم اس کے ساتھ۔ شدت غم سے ان کی سانس پھول رہی تھی، لیکن وہ بولے گئیں۔
    سلیم احمد یہ میرا حق ہے۔ کاغذ کے پرزے پر لکھا حق مہر نہیں جسے تم نے پہلی رات ادا کر کے مجھے خریدا تھا۔
    ابا نے تلملا کر کہا۔ نکاح تو میں کر چکا ہوں، تم قبول کر لو اور ساتھ رہ لو۔ نہ رہنا چاہو، تو تمہاری مرضی۔ میں نے اماں کو اس دن سے زیادہ بے کل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ساری رات انہوں نے کروٹیں بدل بدل کے اور آنسو پونچھ پونچھ کر گزاری۔ ایک بار میں نے اماں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا بھی۔ اماں بھائی یاد آرہا ہے؟
    اماں نے مجھے غصے سے گھورا۔ وہ بہت ڈراؤنی لگ رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں سرخ اور چہرہ سخت ہو رہا تھا۔ میں نے ڈر کے آپا کو دیکھا۔ اُنہیں تو خیر بالکل نیند نہیں آتی تھی۔ سنا تھا اُنہیں اثر ہو گیا ہے۔ جوان ہیں خوبصورت بھی تو بہت ہیں۔ یہ لمبے بال اور آنکھیں ہائے اللہ ان کی آنکھیں جو ایک بار دیکھ لو تو پتا نہیں شہاب بھائی کیسے ان کی آنکھوں میں جھانک لیتے اور بالکل نہیں گھبراتے۔ آپا ہی کو شرم آجاتی ہے۔ ابھی ایک ہفتے کی بات ہے۔ آپا نے چھت پر رکھے لکڑی کے جھولنے پر جھولتے جھولتے غالب کا کوئی شعر پڑھا۔ اس وقت شہاب بھائی مجھے انگریزی کے ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ سمجھا رہے تھے۔ شہاب پر نظر جمائے جمائے بولے۔




    ’’تم تو خود شاعر کا خواب ہو۔ تم شعر نہ پڑھا کرو۔‘‘
    آپا اسی طرح آنکھیں موندے موندے بولیں۔
    ’’توبہ۔ میں کیوں ہوتی کسی شاعر کا خواب۔‘‘
    ’’نہیں یقین آتا، تو آئینہ دیکھ لو۔ زلف گھٹا، آنکھیں پیمانہ، ہونٹ گلاب، گردن صراحی۔‘‘
    آپا کھلکھلا کے ہنسیں، میں نے معصومیت سے کہا۔
    ’’اور دانت؟‘‘
    آپا نے ہونٹ سکیڑ لیے۔ ’’یہ چھوٹی ساری باتیں سمجھتی ہے۔‘‘
    سمجھتی تو نہیں تھی خیر لیکن سمجھنا چاہ رہی تھی۔
    ’’اور دانت… ناریل کی کچی گری جیسے، چمکتے، پکیاں اجلے گلابوں کی قید سے آزاد ہوں، تو اندھیرے میں روشنی ہو جائے۔‘‘
    ’’شہاب رضا شاعر جھوٹے ہوتے ہیں۔ تم ایسا نہ کرنا۔
    آپا کے آخری جملے میں کچھ تھا شہاب بھائی کو چپ لگ گئی۔ آپا کی آنکھوں کے پیمانے چھلک گئے۔
    اب سے پہلے تو کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ شہاب بھائی اور آپا گھنٹوں ساتھ ساتھ ہنسے، کبھی چپ نہ ہوئے۔ نہ آپا کی آنکھوں میں آنسو آتے۔
    گھر کا ماحول ویسے ہی کچھ کھچا کھچا سا تھا۔ اس پر شام کو گڑکے ساتھ بھنے چنے کھاتے کھاتے میں نے اماں سے کہہ دیا۔ ’’اماں آپا خود سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔‘‘
    اماں نے ’’آئے ہائے‘‘ کہہ کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
    ’’ہاں۔ روز کرتی ہے، تو کہاں ہوتی ہے اس وقت۔‘‘
    ’’میں۔ میں وہیں جہاں شہاب بھائی مجھے پڑھا رہے ہوتے ہیں اور آپا جھولے پہ جھولتی ہے آنکھیں بند کر کے کبھی شعر پڑھتی ہیں اور کبھی باتیں کرتی ہیں۔‘‘
    ’’اماں کی بے قراری میں دو سو فیصد اضافہ ہو گیا۔‘‘
    ’’شہاب باتیں نہیں کرتا اس کے ساتھ؟‘‘ سوال میں گہرا سوال تھا۔
    ’’نہیں۔ وہ تو پڑھا رہے ہوتے ہیں۔‘‘ اماں پریشان ہو گئیں۔
    ’’ہو نہ ہو اس پر سایہ ہو گیا ہے۔‘‘
    ’’سایہ تو زمین پر ہوتا ہے۔ وہاں کسی کے اوپر کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
    ’’تم نہیں سمجھو گی۔‘‘
    ’’پتا نہیں سب لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ میں نہیں سمجھوں گی۔ آج نہیں، تو کل میں ان ساری باتوں کو سمجھنے لگوں گی۔‘‘
    جس دن ماموں یہاں آئے۔ اس شام ابا کے ساتھ جو عورت آئی اسے، تو ہم سب جانتے تھے۔ پتا نہیں اماں نے اتنا شور کیوں مچایا۔ اس سے پہلے جب بھی شہاب بھائی کی بہن شاہانہ ان کے ساتھ آتیں ہاتھوں ہاتھ لی جاتیں۔
    اماں نے رات ہی بیگ تیار کرکے رکھ دیے تھے۔ آپا نے پوچھا، تو کہنے لگیں کل تمہارے ماموں آرہے ہیں ہمیں لینے۔
    ’’مگر کیوں؟‘‘
    میں نے پوچھا۔ ’’میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے ان کا گھر اچھا نہیں لگتا۔‘‘
    اماں نے زناٹے دار تھپڑ میرے گال پہ مارا۔ آپا نے مجھے اپنی گرم آغوش میں بھر لیا۔
    ’’اماں شادی آپا نے کی ہے، اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ ہمیں کیوں بے گھر کر رہی ہیں۔‘‘
    ’’تم دونوں کا تو قصور ہے۔ آج اگر تم دونوں کی جگہ میرے بیٹے ہوتے تو سلیم کیوں دوسری شادی کرتا۔‘‘
    اماں دوسری شادی کے لیے ’’جواز‘‘ جھوٹے ہوتے ہیں۔ اگر ہماری جگہ بیٹے ہوتے، تو ابا کسی اور بہانے شاہانہ خالہ کو گھر لے آتے۔
    اماں نے سخت لہجے میں فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    ’’دیکھو ہم نے جانا تو ہے۔ مجھ سے سوت کا دکھ سہا نہیں جائے گا۔‘‘
    ’’طلاق کے ساتھ رہنے سے تو بہتر ہے عورت سوت کے ساتھ رہ لے۔‘‘
    ’’بہت زبان چلتی ہے تیری۔‘‘ اماں نے آپا کی محبت بھری آغوش سے نکال کے مجھے ایک طرف کیا اور آپا کی نشیلی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
    ’’شہاب کے ساتھ کیا معاملہ ہے تیرا؟‘‘
    ’’میرا؟‘‘ وہ گھبرا گئی۔
    ’’تیرا…!‘‘ اماں توبہ توبہ۔ اتنا ڈراؤنا انداز ہے ان کے بولنے کا۔ مجھے چھوٹی نے سب بتا دیا ہے۔
    ’’نہیں آپا۔ میں نے اماں کو کچھ نہیں بتایا۔ مجھے آپا کی گود چھن جانے کا خوف لاحق ہو گیا۔‘‘
    ’’میں نے کہا تھا آپا خود سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔‘‘ اماں قسم سے یہی کہا تھا۔
    ’’یہی کہا تھا۔‘‘ اماں نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ میں نے شکر ادا کیا کہ آپا کے دل میں کوئی بات نہیں آئی اور ایسا ہی ہوا۔ آپا جب کمرے سے نکلی، تو چپ تھی اور شام جب ہم ابا کا بڑا سارا سرکاری گھر اور بڑی سی کار چھوڑ کر ماموں میاں کی چھوٹی گاڑی میں بیٹھ کر ان کے گھر دوسرے شہر جا رہے تھے، تو آپا نے مجھے گھر میں بٹھا رکھا تھا۔ وہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھیں۔ میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھیں، مگر ان کی انگلیوں کی حرکت میں بے چینی تھی۔ میرا چھوٹا سا ذہن پریشان تھا۔ سوچ رہا تھا آج آپا کے بال سہلانے سے مجھے مزہ کیوں نہیں آرہا۔ نیند کیوں نہیں آرہی اور الجھن سی کیوں ہو رہی ہے۔
    وہ رات بہت بھیانک تھی۔ کالی سیاہ رات جب ہم ماموں میاں کے گھر پہنچے۔ اسلام آباد کا خاموش شہر جہاں بڑے بڑے درخت رات کی تاریکی میں پہاڑوں جیسے ڈراؤنے لگ رہے تھے۔ کمرے میں موت جیسی خاموشی تھی۔ ہم جس کمرے میں تھے وہاں کھڑکیوں پر پردے نہیں تھے۔ورنہ میں کب کا ان پہاڑوں کو پردوں کے پیچھے گم کر چکی ہوتی۔ آپا جاگ رہی تھیں۔
    ’’آپا۔‘‘ میں نے سرگوشی کی۔
    ’’ہوں۔‘‘ وہ بولیں۔
    ’’آپا ہم اپنے گھر کب جائیں گے؟‘‘
    ’’پتا نہیں۔‘‘
    ’’کیوں پتا نہیں؟‘‘
    ’’بس پتا نہیں۔‘‘
    ’’اماں کو پتا ہے؟‘‘
    ’’پتا نہیں۔‘‘ انہوں نے کروٹ بد لی۔
    ’’آپا‘‘ میں پھر بولی۔
    ’’سو جاؤ اب۔ دیکھو کتنی رات ہو چکی ہے۔‘‘
    ’’آپا۔‘‘ میں نے ان کی طرف رخ کیا۔
    آپا نے مجھے دیکھا۔ مجھے اتنے اندھیرے میں بھی آپا کی آنکھوں کے جگنو دکھائی دے گئے۔
    ’’آپا طلاق کیا ہوتی ہے؟‘‘
    ’’ضروری نہیں ہے سارے سوالوں کو جواب مل جائے۔‘‘
    ’’سوت۔ اماں کہہ رہی تھیں کہ…
    ’’چھوٹی میں دوسرے کمرے میں چلی جاؤں گا اگر تنگ کیا تو۔‘‘
    میں نے ان کے گرد بازو ڈال دیے۔
    ’’مجھے لگا وہ رو رہی ہیں۔ میرے اندر کتنے سوال ہلچل مچا رہے تھے، مگر کیسے پوچھتی۔ وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی جاتیں تو…‘‘
    ہمیں آئے تین ماہ اور بیس دن ہو گئے تھے۔ اماں کہہ رہی تھیں ابھی وہ کہیں نہیں جا سکتیں اور ساتھ رو پڑیں۔ بھلا اس میں رونے والی کیا بات تھی۔ بعد میں چلی جائیں گی۔ اس رات اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی ہو کر جب میں چاند کو دیکھ رہی تھی، تو مجھے لگا اس کے اندر کوئی رہتا ہے، کون رہتا ہو گا اور ایک دو نہیں کئی لوگ چلتے پھرتے نظر آرہے تھے۔ شاید بڑھیا ہی رہتی ہو تو۔
    آپا سے ڈرتے ڈرتے میں نے پوچھا، تو کہنے لگیں۔
    ’’چاند میں وہ لوگ رہتے ہیں جو محبت میں جان دے دیتے ہیں۔‘‘
    آپا کی باتیں آج کل مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہی تھیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہاب بھائی اچانک ہمارے گھر آگئے۔ اماں نے اُنہیں دیکھ کر وہ واویلا مچایا کہ توبہ ہی بھلی۔ آپا کو لے کر کمرے میں بند ہو گئیں۔
    ’’یہ کیا لینے آیا ہے یہاں؟‘‘
    جانے آپا نے کیا کہا اماں پھر چیخیں۔
    ’’اسے کہو یہاں سے چلا جائے نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔‘‘
    ’’صبح چلا جائے گا۔‘‘ آپا منمنائی۔
    اور ایسا ہی ہوا۔ وہ صبح سویرے ہی چلے گئے لیکن مجھے آج تک یاد ہے رات جانے کس پہر اماں سوئیں ہوں گی وہ دبے قدموں اندر آئے۔ آپا جاگ رہی تھیں۔ میری تو جیسے ان کے ساتھ تار جڑی ہوئی تھی۔ وہ اٹھیں، تو میں بھی اٹھ گئی۔ شہاب بھائی کو کمرے میں دیکھا، تو مجھے حیرت ہوئی۔ ابھی میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ میری موندی آنکھوں نے دیکھا شہاب بھائی باہر لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے پٹ سے ٹیک لگائے کھڑے ہیں اور آپا ان کے کندھے سے لگی رو رہی ہیں۔
    ’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘
    ’’مجبور ہو گیا تھا۔ تمہاری یاد میرے سینے میں پھانس کی طرح چبھ رہی تھی۔ تمہیں بھلا نہیں پا رہا تھا۔ لگتا تھا نہ دیکھا، تو دم گھٹ جائے گا۔‘‘
    شاید آپا رو رہی تھیں۔
    ’’تم نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے۔ تمہیں دیکھ کر میں ڈر گیا ہوں۔ نہ ہنستی ہو نہ بولتی ہو۔‘‘
    ’’محبت کا آسیب جان نہیں چھوڑتا۔‘‘
    آپا نے آہ بھری اور کہا۔
    ’’سنو اب جاؤ چھوٹی جاگ جائے گی۔ بچی ہے جانے کیا سوچے۔‘‘
    ’’کیا تم میرے ساتھ چل سکتی ہو؟‘‘
    ’’چل سکتی ہوں، مگر اماں کا رشتوں پر سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ پہلے ابو اور اب میں۔ وہ تو بن موت مر جائیں گی۔‘‘
    ’’مجھے بتا دو۔ میں اتنا بہادر کیسے ہو جاؤں۔ کیسے تمہیں بھولوں؟‘‘
    ’’زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے کو بھولنا ضروری ہے؟ شاید کبھی اماں کا غصہ ختم ہو جائے۔ اُنہیں ترس آجائے پھر شاید ہم مل سکیں۔‘‘
    رات آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔ میں جاگ کر بھی سوتی رہی۔ کروٹ بھی نہیں لی۔ شہاب بھائی چلے گئے۔ آپا نے وہ رات کھڑکی سے لگے لگے گزار دی۔
    صبح اُنہیں بہت تیز بخار چڑھ چکا تھا۔ ممانی کہنے لگیں ٹھنڈ لگ گئی ہے۔ ماموں میاں نے ڈاکٹر بدل بدل کر دیکھا بخار توچلا گیا، مگر آپا کو کھنڈر کر گیا۔




  • ٹرانسفر لیٹر — افتخار چوہدری

    ٹرانسفر لیٹر — افتخار چوہدری

    دھیمی رفتار سے چلتی ٹھنڈی ہوا کے دوش پر پیپل کی لچک دار شاخیں سُرور کی سی کیفیت میں جھوم رہیں تھیں جس کی وجہ سے پتے ترنم بھری سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے ۔ اس دوران شاخوں سے جھڑتے زرد پتے خزاں رُت کی آمد کا پتا د ے رہے تھے ۔ اپنی میعاد پوری کرنے والے یہ زرد پتے ہوا کا ہلکا سا دباؤبھی برداشت نہیں کر پارہے تھے۔ وہ ٹہنیوں سے ٹوٹ کر چند سیکنڈفضا میں لڑھکنے کے بعد زمین پر گر رہے تھے ۔ یہ وہی پتے تھے جو پچھلی بہار کی آمد پر زندگی کی نوید بن کر کھلے تھے اور آج ناکارہ شے کی طرح بکھرتے چلے جارہے تھے۔ اب ان کے مقدر میں کسی کے پاؤں تلے آکر محض ایک لمحے کے لیے چرمرانا باقی رہ گیا تھا۔
    ’’سر! چودھری بشارت کچھ لوگوں کے ہمراہ تھانے میں آیابیٹھا ہے ،وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔‘‘ سپاہی نذیر نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ،تو میں اپنے خیالوں سے چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ میں اس وقت تھانے سے ملحق اپنے سرکاری کوارٹر کے باغیچے میں بیٹھا درختوں سے گرتے پتوں کو دیکھنے میں اس قدر محو تھا کہ نذیر کے آنے کا علم ہی نہیں ہوا۔ کوارٹر کا ایک دروازہ تھانے کے اندر کھلتا تھا۔ وہ اسی دروازے سے میرے پاس آیا تھا ۔ مجھے اس تھانے میں تعینات ہوئے کئی ہفتے گزر چکے تھے، مگر ابھی تک یہاں کسی کیس کا اندراج نہیں ہوا تھا۔ مجھے لاہور کے ایک معروف ترین اسٹیشن سے بطور سزا ٹرانسفر کر کے یہاں بھیجا گیا تھا۔ وہاں میرے آفیسر اور ماتحت عملہ میری ضرورت سے زیادہ ایمانداری کی وجہ سے حد درجہ تنگ آئے ہوئے تھے۔ آخر کب تک وہ اپنی اوپر کی آمدن میں رکاوٹ برداشت کر سکتے تھے۔ انہوں نے میرا تبادلہ سرگودھا کی ایک سرسبز تحصیل سلانوالی کے اس غیر معروف علاقے میں کروا کر ہی سکون کا سانس لیا تھا۔ مجھے نیک نیتی کے اس (نا قابلِ معافی جُرم) کی پاداش میں یہاں آنا پڑا۔ ویسے میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ مجھے تقریباً ہر چھے ماہ بعد ٹرانسفر لیٹر کی شکل دیکھنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ اب یہاں میرے پاس درختوں سے گرتے پتوں ،اٹکھیلیاں کرتے پرندوں اور شکلیں بدلتے بادلوں کو دیکھنے کے سوا کوئی کام نہیں تھا ۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کے اس علاقے میں جرائم نہیں ہوتے۔ میرے تھانے کی حدود میں تین درجن سے زائد گاؤں تھے۔ ان میں مرغی چوری سے لے کر ڈکیتی اور قتل جیسی خونریزوارداتیں بھی ہوتی رہتی تھیں، مگر متاثرہ لوگ تھانے کے بجائے، چودھری بشارت کے ڈیرے جانا پسند کرتے تھے ۔ اس نے غیراعلامیہ طور پر حکومت کے متوازی اپنے قانون وضع کیے ہوئے تھے جن کی بنا پر وہ فریقین کے مابین فیصلے کرتا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ کوئی شخص اس کے کیے ہوئے فیصلے کو ماننے سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ پورے علاقے میں چودھری کو بے تاج بادشاہ کی سی حیثیت حاصل تھی۔ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کا مالک ہونے کی وجہ سے اس کا دماغ ہر وقت ساتویں آسمان پر رہتا تھا ۔




    رہی سہی کسر موجودہ حکومت میں وزیر کے عہدے پر براجمان اس کے بھائی نے پوری کر رکھی تھی ۔ میری اطلاع کے مطابق اس نے نجی جیل تک بنا رکھی تھی ۔ اگر وہ کسی سے ناراض ہو جاتا، تو پھر زمین اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود اس پر تنگ کر دی جاتی تھی اور پھراس غریب کا مقدرتنگ و تاریک کوٹھڑی میں سڑنا ہی ہوتا تھا۔ طاقت کا کل توازن اس کے پلڑے میں ہونے کی وجہ سے وہ سارے علاقے کے سیاہ و سفید کا مالک تھا ۔ حد تو یہ تھی کہ میرے تھانے کے اکژ ملازم اسی کے زر خرید تھے یا یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ تھانے کی کالی بھیڑیں تنخواہ تو سرکاری خزانے سے وصول کر تی تھیں اور چاکری چودھری بشارت کی کرتیں۔ تھانے کے بکاؤ لوگ چودھری کا نام اتنے احترام اور عقیدت سے لیتے تھے کہ شاید انہوں نے اپنے والدِمحترم کو بھی کبھی اتنے احترام سے مخاطب نہیں کیا ہو گا ۔ یہاں تعیناتی کے کافی دن بعد تک میں کسی کیس کا انتظار کرتا رہا، مگر جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، تو ایک دن میں اپنے ماتحتوں کے منع کرنے کے باوجود چودھری بشارت کے ڈیرے جا پہنچا ۔ اس وقت چودھری اپنے حواریوں میں گھرا بیٹھا تھا۔ وہاں موجود لوگوں کی اکثریت نیچے فرش پر بیٹھی تھی ۔ صرف چند لوگ ہی کرسیوں پر براجمان تھے اور وہ بھی شاید اس لیے کے سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے وہ کارآمد مہرے تھے۔ ایک ملازم چودھری کے کندھے دبا رہا تھا ۔ چھوٹی اسٹائلش ڈاڑھی کے ساتھ بڑی بڑی کنڈل مارکہ مونچھیں بلڈاگ جیسے چہرے پر عجیب سے جنگلی پن کا تاثر دے رہیں تھیں۔ پینتالیس پچاس کے پیٹے میں چودھری کے چہرے پر خباثت تو جیسے ثبت ہو کر رہ گئی تھی۔ تنگ ماتھا اور آنکھوں میں موجود تیز چمک اس کے شقی القلب ہونے کا واضح ثبوت تھی۔ وہ اس وقت رنگ دار پایوں والے انواری پلنگ پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز تھا اور منہ میں حقے کی نَے لیے سفید دھویں کے بادل اُڑا رہاتھا۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کی باچھیں کھل گئیں، جب کہ آنکھوں کی چمک یک دم کئی گُنا بڑھ گئی۔ زہے نصیب تھانیدار خاور صاحب آج آپ کو ہماری یاد کیسے آگئی یا راستہ بھول کر ادھر آنکلے ہو۔
    اس نے اپنی جگہ سے ہلے بغیر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔ مجھے اس کے تکبرانہ انداز سے کافی سبکی محسوس ہوئی ،مگر میں کڑوا گھونٹ پی کر رہ گیا۔ اس نے مجھے نام لے کر مخاطب کیا تھا ، حالاں کہ یہ ہماری پہلی ملاقا ت تھی۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ وہ گردوپیش سے باخبر رہنے والا انسان ہے۔ جناب میں یہ کہنے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ اگر آپ کے کارِ سرکار میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہو، تو کچھ کیس ہماری طرف بھی بھجوا دیا کریں تا کہ ہم بھی اپنی روزی روٹی حلال کر سکیں۔ میں نے اپنے لہجے کو حتی الوسع نارمل رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میری بات سن کر چودھری کا بھدا قہقہہ کان پھاڑ دینے والا تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی اس کے حواری بھی اپنے دانتوں کی نمائش کرنے لگے۔ یہ بھی خوب کہی تھانیدار صاحب پہلی بار کسی کو بھیک میں کیس مانگتے دیکھا ہے۔
    چلو اب تم ہمارے دروازے پر آہی گئے ہو، تو ہم خیال رکھیں گے کہ سرکار کا کام بھی چلتا رہے اور تمہاری روٹی بھی حلال ہوتی رہے ۔ اس نے انتہائی نخوت بھرے لہجے میں جواب دیا۔ اس کی بات سن کر میرا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا جس کا ثبوت میری دھڑکن کی رفتار میں اضافہ اور کانوں سے نکلتی ہوئی تپش تھی ،مگر میں بات کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے شکریہ کہتے ہوئے واپس پلٹ آیا۔ آج چار دن بعد سپاہی نذیر اسی چودھری بشارت کی آمد کا پتا دے رہا تھا۔ میں سپاہی کے ساتھ ہی تھانے آگیا ۔ دفتر داخل ہوا، تو چودھری بشارت کلف لگی اونچے شملے والی پگ پہنے گردن اکڑائے کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر موجود تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اسے میرا انتظار کرتے ہوئے کافی کوفت محسوس ہو رہی ہے۔ اس کے پیچھے دو گارڈز ہاتھوں میں کلاشنکوفیں لیے مستعد کھڑے تھے۔ ان سے کچھ فاصلے پر ایک ادھیڑ عمر جوڑا کھڑا تھا جو دیکھنے میں میاں بیوی لگ رہے تھے۔ عورت شاید روتی رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔ مرد کا چہرہ بھی حزن و ملال کی تصویر بنا ہوا تھا۔
    دفتر میں اور کئی خالی کرسیاں بھی موجود تھیں، مگر وہ دونوں میاں بیوی ان پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے رہنے پر مجبور تھے۔ یقینا چودھری ان کم حیثیت لوگوں کو اپنے برابر بٹھانا اپنی توہین گردانتا ہو گا۔ زہے نصیب چودھری صاحب آج کیسے راستہ بھول گئے۔ میں نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ کا خول چڑھاتے ہوئے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے کہا ۔ میری بات کا جواب دینے کے بجائے وہ چند لمحے میری طرف غور سے دیکھتا رہا اور پھر گویا ہوا۔ تم نے چند دن قبل ڈیرے پر آکر مجھ سے گلہ کیا تھاکہ اس علاقے کے لوگ کوئی جرم ہونے کے بعد تھانے سے رجوع نہیں کرتے، میں نے سوچا تمہاری صلاحیتوں کو بھی جانچ لیا جائے۔ میں تمہارے لیے ایک کیس لے کر آیا ہوں۔ اگر تم اسے حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میرے ساتھ ساتھ گاؤں کے لوگ بھی تھانے پر اعتبار کرنے لگیں گے۔
    یہ ہمارے گاؤں کے ماسٹر الطاف صاحب ہیں۔ میں انہیں بچپن سے جانتا ہوں ،بلکہ جب میں چھوٹا تھا، توا ﷲجنت نصیب کرے میرے والد مرحوم نے انہیں میری تعلیم وتربیت کے لیے ملازم رکھا تھا۔ اس لیے میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ انتہائی شریف انسان ہیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی ہے جو کل سے لا پتا ہے۔ ہر ممکنہ جگہ تلاش کر لیا گیا ہے ،مگر کہیں سے خیر کی کوئی خبر نہیں ملی ۔ اب میں انہیں یہاں لے آیا ہوں ،تم اگر ان کی بیٹی رفعت کو ڈھونڈ نکالو، تو میرا وعدہ ہے کہ ناصرف تمہاری ترقی کروادوں گا، بلکہ اگر تم چاہو گے، تو تمہاری پسند کی جگہ ٹرانسفر بھی کروا دوں گا۔ چودھری نے اپنی بارعب آواز میں لمبی تمہید باندھنے کے بعد تھانے میں قدم رنجہ فرمانے کا مقصد بیان کر دیا اور آخر میں مجھے ترقی اور پسند کی جگہ پر ٹرانسفر کر وانے کا سبز باغ بھی دکھا دیا ۔ میں نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے فوراً چوٹ کی۔
    ’’جناب میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا، ویسے اب تک جو تگ ودو کی گئی ہے کیا اس کے بارے مجھے بتا سکتے ہیں تاکہ میں ابتدائی تفتیش پر وقت ضائع کرنے کے بجائے لڑکی کو بازیاب کروانے کے لیے کوئی لائن آف ایکشن ترتیب دے سکوں۔‘‘ میں نے گلا کھنکھارنے کے بعد نرم لہجے میں پوچھا۔ چودھری نے بڑے رسان سے خود ساختہ تفصیل بتائی۔
    ’’اب تک کی بھاگ دوڑ سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ کیس اگرناقابل حل نہیں بھی تو مشکل ضرور ہے تمہیں تو معلوم ہے کہ نہر کی پٹڑی سے اتر کر جو راستہ گاؤں کی طرف آتا ہے اسی پر لڑکیوں کا اسکول ہے اور اسکول کی عمارت سے ملحق قبرستان اور متروک ہو چکا شمشان گھاٹ بھی ہے۔ اسکول میں ٹائلٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں قضائے حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرتی ہیں، مگر جب کبھی ایمرجنسی میں کوئی بد نصیب لڑکی کھیتوں کے بجائے ملحق قبرستان یا شمشان گھاٹ چلی جاتی ہے، تو پھر سمجھ لو کہ اسے جلد یا بدیر اس جرم کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ اس کیس میں متاثرہ لڑکیوں کی اکثریت ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے اور پھر چند دن بعد خودکشی کر نا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔‘‘
    ’’کیا کسی نے رفعت کو قبرستان یا شمشان گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ میں نے چودھری کی بات اچکتے ہوئے پوچھا۔
    ’’اس کی کئی کلاس فیلو یہ گواہی دے چکی ہیں کہ انہوں نے رفعت کو شمشان گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ ‘‘چودھری نے بنا کسی توقف کے ترنت جواب دیا۔
    ’’اور جو لڑکیاں اس مسئلے سے دوچار ہوتیں ہیں ،وہ کس طریقہ کار سے خودکشی کرتی ہیں۔‘‘ میں نے ایک سوال اور پوچھا۔
    ’’اب تک جتنی لڑکیوں نے بھی خودکشی کی ہے ان سب کاطریقہ کار ایک جیسا ہی رہا ہے ،ذہنی طور پر ماؤف ہونے کے بعد نہر میں کود کر اپنی جان سے گزر جاتی ہیں۔ اسی نہر پر چند کلو میٹر آگے ایک جھال ہے،جہاں پر گورنمنٹ نے جال لگوایا ہوا ہے جو لاشیں تیرتی ہوئی وہاں تک پہنچتی ہیں۔ وہ اس جال میں پھنس جاتی ہیں۔ کل سے گاؤں کے کئی نوجوان وہاں بھی پہرہ دے رہے ہیں، مگر لاش ابھی تک وہاں نہیں پہنچی، شاید رستے میں کہیں جھاڑیوں سے اٹک کر رک گئی ہو۔‘‘ چودھری نے ایک بار پھر پوری تفصیل سے اب تک کی بھاگ دوڑ کا رزلٹ مجھے سنا دیا۔
    ’’اﷲنہ کرے اس بچی کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہو۔‘‘چودھری کی بات سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔
    ’’تھانیدار صاحب انسان چاہے جتنی بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لے، مگر حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ہمیں کسی بھی ناگہانی صورت حال کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ اگر رفعت نے جانے انجانے میں شمشان گھاٹ میں موجود آتماوؑں کو تنگ کیا ہے، تو پھر اﷲہی اس کے حال پر رحم کرے، کیوں کہ اس سے پہلے جتنی بھی لڑکیوں نے یہ غلطی کی ان سب کو اس کی سزا بھگتنی پڑی۔‘‘ چودھری بشارت نے اپنی بات کو اصرار کے ساتھ دہرایا۔
    ’’چودھری صاحب اگر سارا کیس ایسے ہی ہے جیسے آپ بتارہے ہیں، تو اس میں سلجھانے والی تو کوئی بات ہی نہیں رہ گئی۔ اب جیسے ہی نہر سے رفعت کی لاش ملے گی، تو اس کے پوسٹ مارٹم کے بعد یہ کیس کلوز سمجھیں۔ لیکن مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کس حوالے سے کہہ رہے تھے کہ یہ کیس اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔‘‘ میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔ چودھری میری بات سن کر ایک لمحے لے لیے چونک سا گیا اور پھر چند ثانیے غور سے میری طرف دیکھتا رہا۔
    ’’ظاہر ہے، لاش نہیں مل رہی پہلے کیسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ یہی اس کیس کا مشکل پہلو ہے جس کی وجہ سے میں نے ایسا کہا۔‘‘ چودھری نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے بے زاری سے جواب دیا ۔ اس کے انداز سے ایسے لگ رہا۔ جیسے اسے میرا سوال پر سوال پوچھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔




  • کلپٹومینیا — میمونہ صدف

    کلپٹومینیا — میمونہ صدف

    رات کے پچھلے پہر وہ اوپری منزل کی جانب بڑھتا ہو ا ہر چیز کو آگے پیچھے اوپر نیچے سے یوں ٹٹول رہا تھا جیسے وہ لڑکی نہیں کوئی تتلی ہو جواُڑ کر کہیں چھپ گئی ہو۔ اگر وہ نیچے کہیں نہیں تھی تو اسے اوپر ہی ہونا چاہیے تھا بلکہ لازمی ہونا چاہیے تھا اور اگر وہ اوپر بھی نہ ہوتی تو؟ اس’ تو‘ کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ باہر جانے کے دو ہی راستے تھے، اپارٹمنٹ کا فرنٹ ڈور اور کچن میں موجود بیک ڈور جو آس پاس کے ایک ہی طرز کے بنے سبھی اپارٹمنٹس میں موجو د تھے۔ دونوںہی دروازے اندر سے اچھی طرح مقفل تھے ۔ کھڑکیاں شدید سردی کی وجہ سے اس نے سردیوں کے آغاز پر ہی بند کر دی تھیں ورنہ وہ کھڑکی کے ذریعے باہر نہ چلی گئی ہو یہ سوچ بھی اس کے ذہن میں آتی اگر کوئی کھڑکی اسے کھلی ملتی تو، لیکن اس جما دینے والی ٹھنڈ میں وہ کمرے کی گرمائش ، میٹھی نیند، انگیٹھی میں جلتی بجھتی لکڑیوں اور نرم گرم لحاف چھوڑ کر اوپر کیا کر رہی تھی؟ جہاں ٹیرس پر شمال کی جانب سے آنے والی یخ بستہ ہوا ئیں استقبال کرنے کو تیار رہتی تھیں۔ ٹیرس کے ایک جانب اسٹور نما کمرا تھا جہاں گھر کا پرانا اور فالتو سامان رکھا ہوا تھا۔ پہلی بار اپنے نئے پروجیکٹ کے سبب وہ اتنا مصروف رہا تھا کہ اس نے کبھی اوپر جھانکنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ یہ اپارٹمنٹ اسے حال ہی میں کمپنی کی جانب سے اس ترقی پر ملا تھا جو شادی کے دو ماہ بعد ہی ہوئی تھی اور جسے اس نے اپنے بجائے اپنی بیوی کی اچھی قسمت گردانا تھا ۔
    زینہ عبور کرتے ہی اس کی نظر سامنے اسٹور کے ادھ کھلے دروازے سے چھن کر آتی ملگجی پیلی روشنی پر پڑی تو ایک گہری سانس اس کے سینے سے آزاد ہوئی۔ اسٹور سے آتی روشنی اس بات کی غماز تھی کہ وہ اندر ہی موجود ہے ۔ وہ اسی طرح دبے قدموں چلتا ہوا دروازے تک آیا ۔ نیم وا دروازے سے اندر کا منظر واضح تھا ۔ وہ ٹھنڈے فرش پر اپنے شب خوابی کے لمبے موٹے گاؤن میں ملبوس، بال کھولے، بکھرائے، اردگرد ڈھیروں متفرق اشیا پھیلائے بیٹھی نہ جانے کہاں گم تھی کہ اسے اس کے آنے کی خبر تک نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مخاطب کرتا، اس سے پوچھتا کہ وہ رات کے اس پہربنا اسے بتائے، یہاں کیا کر رہی ہے، اس کی نظر سامنے پڑی چیزوں پہ پڑی اور اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہونے کے ساتھ ہی قدم وہیں جم گئے ۔
    ٭…٭…٭




    مذکر کی اس سے پہلی باضابطہ ملاقات تب ہوئی تھی جب وہ ڈنر کرنے ’ اٹالین کوزین‘ ریستوران آیا تھا۔ وہ کاؤنٹر پہ آرڈرز بک کرتے ہوئے قطار میں اس سے پچھلے شخص کا آرڈر بک کر رہی تھی۔ وہاں سیلف سروس کا رواج تھا۔ اپنا آرڈر وہ دے چکا تھا۔ اس کا ٹوکن ا س کے ہاتھ میں تھا ۔ سامنے اسکرین پہ جو نمبر چل رہا تھا اس کے مطابق ابھی اس کا نمبر آنے میں پانچ سے دس منٹ لگنا تھے۔ یہ ریستوران اس کی رہائش سے قدرے قریب اور سستا تھا۔ جب کبھی وہ آفس میں دیر تک کام کرنے کے سبب رکتا توگھر واپسی پر اس کا کبھی دل نہیں چاہتا تھا کہ وہ خاص اپنے لیے کچھ بنائے۔ ایسے میں وہ وہاں آکر کھانے کو ترجیح دیتا تھا۔ اس کے اپارٹمنٹ میں اس کے ساتھ سونال رہتا تھا جس کی رات کی شفٹ تھی ۔ اس کے ورکنگ آورز رات دس بجے سے صبح آٹھ تک تھے۔ سو یوں ان دونوں کا کم کم ہی سامنا ہوتا تھا۔ وہ دونوں مل کر اپارٹمنٹ کا کرایہ اور دیگر اخراجات اٹھاتے تھے۔ سونال اتنا کام چور تھا کہ کھانا بنانے جیسا تردد کرنے کے بجائے بھوکا رہنا پسند کرتا تھا ۔ الٹا مذکرجب کبھی اپنے لیے کچھ بناتا اس کے لیے بھی بنا کر فریج میں رکھ آتا تھا ۔
    وہ پچھلے سات ماہ سے اس ریستوران میں آ رہا تھا اور اس عرصے میں اس نے کبھی کاؤنٹر پر کھڑی اس لڑکی کو مسکراتے یا کسی سے کوئی فالتو بات کرتے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ایک پیشہ ورانہ سنجیدگی لیے تاثرات دیتی اپنا کام کرتی رہتی تھی۔ وہ اس لڑکی اور اس کے نام سے بہ خوبی واقف تھا ۔ اس کے زیادہ تر آرڈرز وہی لیا کرتی تھی۔ اس کا نام ایزا بیتھ تھا اور وہ وہیں کی مکین تھی ۔ مذکر کو حیرت اس بات پر ہوتی کہ اتنے ماہ سے وہاں آتے رہنے پر بھی کبھی اس کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر شناسائی کی کوئی رمق نہیں ابھری تھی ۔ وہ ہر بار اسے اسی انداز میں ڈیل کرتی گویاوہ وہاں پہلی بار آیا ہو اور اس کی اسی عادت نے مذکر کو اس کی جانب مائل کیا تھا۔یہ پچھلے پانچ ماہ سے ہوا تھا کہ وہ کھانے کے دوران اسے ہی دیکھتا رہتا، لیکن اس نے کبھی اسے اپنی جانب متوجہ ہوتے نہیں پایا تھا یا تو وہ انجان تھی یا پھرنظروں کی تپش محسوس کر کے بھی اسے جان بوجھ کر نظرانداز کرتی تھی۔ یہ اس کی دوسری عادت تھی جو اسے پسند آئی تھی، لیکن اِن سب سے ہٹ کر وہ بات جس نے اسے اس جگہ اور اس لڑکی سے باندھا تھا، وہ تھی اس کے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی اُداسی۔
    اس شام بھی وہ وہیں کھڑا ہو کر ارد گرد کا جائزہ لیتا اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ جب اس نے منیجر کو تیزی سے ایزا کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اطالوی زبان میں اس سے تیز تیز گفتگو کر رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے ا س کا جواب دے رہی تھی۔ چہرے کے اتار چڑھاؤ بتا رہے تھے کہ دونوں میں کسی معاملے کو لے کر تلخ کلامی ہو رہی تھی۔ وہ کاؤنٹر سے ہٹ کر ایک طرف ہو گئی اور اب کاؤنٹر ایک نئی لڑکی سنبھال کر آرڈرز نوٹ کر رہی تھی ۔ بات بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھی کہ ان دونوں کی آوازیں اس قدر اونچی ہو گئی تھیں کہ تمام گاہک کھانا چھوڑ کر اس جانب متوجہ ہو گئے۔ کچھ دیر اسی طرح بحث کرنے کے بعد ایزا بیتھ نے اپنے مخصوص یونیفارم کی کیپ اتار کر زمین پر دے ماری اور وہ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ منیجر نے اسے روکنے کی کسی قسم کی کوشش نہیں کی اور اپنے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔ تماشا ختم ہو چکا تھا اور سب پھر سے اپنے ڈنر کو انجوائے کررہے تھے۔
    مذکر کو ایک بے چینی اور تجسس نے مجبور کیا کہ وہ اس کے پیچھے جاکر اس سے بات کرے ۔ اپنا آرڈر وہیں چھوڑ کر وہ ریستوران کے فرنٹ ڈور کی جانب سے باہر نکلتا ، گھوم کر بیک ڈور تک آیا جو اسٹاف کے لیے مختص تھا۔ ایزا کو اگر باہر جانا تھا تو اسی دروازے سے گزر کر جانا تھا اسی لئے وہ وہیں کھڑا اس کا انتظار کر نے لگا۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ یونیفارم تبدیل کر کے اپنے لباس میں باہر نکلی تھی ۔ اس نے ایک لانگ کوٹ جو خاصا خستہ حال ہو گیا تھا، پر مفلر سے سر کو اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ پاؤں میں پرانے لمبے جوتے تھے جو عموماً برف پر چلنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رونے کے سبب اس کی ناک سرخ ہو رہی تھی اور آنکھیں متورم۔ اس نے ٹشو سے بہتی ناک صاف کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر کھڑے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ بس اسٹاپ کی طرف بڑھے گی، مگر وہ مخالف سمت میںچل دی۔ تبھی مذکر اس کی جانب بڑھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے اور سڑک پر ٹریفک اور لوگوں کا ہجوم معمول کے مطابق تھا۔
    ’’کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟‘‘ اس نے انگریزی زبان میں اسے پیشکش کی جسے اس نے سختی سے ردکر ڈالا تھا ۔
    ’’بہت شکریہ ۔۔۔ مگر میں انجان لوگوں سے مدد نہیں لیتی۔‘‘
    اس کی بات پر مذکر بری طرح چونکا۔ کیا وہ ان سات ماہ میں اسے اتنا بھی نہیں جان پائی تھی کہ اس کا چہرہ اسے شنا سا لگتا ۔
    ’’مگر میں آپ کے ریستوران میں آنے والا وہ گاہک ہوں جو روزانہ نہ سہی، لیکن ہفتے میں دو چکر تو لازمی لگاتا ہے ۔‘‘
    ’’تو…؟‘‘ اس نے رکتے ، ابر و اچکا کر جارحانہ تیور لیے اسے گھورا۔ جیسے وہ کہنا چاہتی ہو کہ اس کے گاہک ہونے کے اعزاز کو وہ کیا کرے؟ وہ اپنی جگہ کھسیا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑ ھ جاتی وہ گویا ہوا۔
    ’’میں نے دیکھا منیجر نے آپ کو کس بری طرح جھڑکا تھا۔ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اپنی پرانی ورکر کے ساتھ وہ بھی سب کے سامنے۔‘‘ اس نے دھیرے دھیرے بولتے اس سے ہمدردی جتائی۔ اس کے الفاظ ایزا سے ہمدردی جتائے جانے کے قابل تھے ۔
    ’’وہاں بہت سے لوگوں نے یہ منظر دیکھا۔ کسی اور کو مجھ سے ہمدردی کا بخار نہیں چڑھا، تو تمہیں ہی کیوں ؟ اور دوسری اہم بات کہ میں اس کی ورکر تھی، اب نہیں ہوں۔ وہ دو روز پہلے ہی مجھے فارغ کر چکا تھا، لیکن یہ میں تھی کہ دو دن کی مہلت پر وہاں کام کر رہی تھی کہ شاید وہ اپنا ارادہ بدل ڈالے، لیکن اس کا ارادہ تبدیل نہیں ہوا۔ سو آج اس چھت تلے میرا آخری دن تھا اور کچھ یا اب میں جا سکتی ہوں؟‘‘ اس کا انگریزی لب ولہجہ اطالوی زبان کے مقابلے میں اتنا صاف نہیں تھا پھر بھی وہ اس کی بات سمجھ سکتا تھا۔ شاید وہ اتنی تعلیم یافتہ نہیں تھی، لیکن وہ کہیں سے بھی غیر مہذب نہیںلگتی تھی۔ یہ وہ پچھلے سات ماہ میں نوٹ کر چکا تھا۔ اس کے انداز و اطوار کسی بھی سلیقہ شعار لڑکی سے زیادہ مہذب تھے۔ یہ اور بات تھی کہ اس وقت وہ اس سے رکھائی سے پیش آ رہی تھی کیوں کہ اب وہ اس کے ریستوران کا گاہک نہیں تھاکہ وہ اسے کسی قسم کی رعایت دیتی۔
    ’’اس نے آپ کو کیوں نکالا؟آپ تو اپنا کام بہت اچھے سے انجام دے رہی تھیں ۔‘‘ وہ حیران ہوا ۔
    ’’وہ میرے کام سے یقینا مطمئن نہیں تھا اور یہ اس کا حق تھا کہ وہ مجھے نکال باہر کرے ۔‘‘ وہ اب فٹ پاتھ پر چلنے لگی اور وہ اس کے ساتھ ساتھ اپناآرڈر بھاڑ میں بھیج کر چل پڑ اتھا ۔ اس کے وہاں سے نکالے جانے کاسن کر اس کی بھوک ہی مر چکی تھی ۔
    ’’تو اب آپ کہاں جائیں گی ؟‘‘
    ’’یہ دنیا اس ایک ریستوران پہ تو ختم نہیں ہو جاتی۔ میں کہیں اور کام ڈھونڈوں گی ۔‘‘
    ’’لیکن کہاں؟‘‘ وہ بے چین ہو ا ۔ اب وہ وہاں نہیں آئے گی ، اسے نہیں بتائے گی کہ وہ کہاں کام کرنے والی ہے، تو وہ اس سے ملے گا کیسے ؟ اور جو اس پر ابھی ابھی ادراک ہوا تھا کہ وہاں اس ریستوران میں آنے کا سب سے بڑا محرک وہی تھی تو اب وہ وہاں کیا کرنے آئے گا؟
    ’’کہیں بھی… اور تم میرے ساتھ چلنا بند کرو ۔ کیا اب مجھے گھر تک چھوڑنے جاؤ گے؟‘‘ اس نے قریباً ڈپٹتے ہوئے اسے گھورکر دیکھا۔وہ بجائے شرمندہ ہونے کے فوراً بولا ۔
    ’’میں آپ کو گھر تک چھوڑ سکتا ہوں اگر آپ چاہیں۔‘‘
    ’’تمہارے پاس گاڑی ہے؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلا یا ۔
    ’’بائیک یا سائیکل؟‘‘ اس نے پھر سے نفی میں سر ہلایا ۔
    ’’تو پیدل میں خود بھی جا سکتی ہوں، تمہاری اس مدد کا بہت شکریہ ۔‘‘ اب کے وہ کچھ شرمندہ سا ہوا تھا، لیکن ہمت پھر بھی نہیں ہاری تھی ۔ اگر وہ پیچھے ہٹ جاتا تو اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیتا ۔
    ’’میں پھر بھی اس وقت آپ کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتا ۔‘‘ وہ ڈھیٹ بن گیا ۔
    ’’لیکن مجھے ضرورت نہیں ہے۔‘‘
    ’’مگر مجھے تو ہے۔‘‘ ایزا نے جواباً اسے گھورا۔
    ’’دیکھو اب جب کہ تم اس ریستوران میں نہیں آ پا ؤ گی اور میں نہیں جانتا کہ تم کہاں رہتی ہواور آگے کہاں جاؤ گی تو یہ ضروری ہے کہ میں جانوں کہ تم کہاں رہتی ہو اور کہاں کام کرنے جا رہی ہو۔ کیوں کہ میں تم سے ملتے رہنا چاہتا ہوں اور اس سے پہلے کہ تم وجہ پوچھو میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرے اس ریستوران میں آنے کی ایک وجہ تم بھی تھی… تو کیا اب بھی بات تمہاری سمجھ سے باہر ہے؟‘‘ وہ اسے حیر ت سے دیکھ رہی تھی۔
    ’’بات یہ نہیں ، تم میری سمجھ سے باہر ہو۔ ‘‘ اس کی بات سن کر وہ مسکر ا دیا تھا ۔
    ایزا خاموشی سے آگے بڑ ھ گئی۔ وہ اس کے ساتھ چل رہا تھا، لیکن اب ایزا نے اسے ساتھ چلنے سے منع نہیں کیا۔ وہ اس کے پوچھنے پر اسے بتا رہی تھی کہ منیجر کو کسی ورکر نے اس کی شکایت کی تھی کہ وہ سٹوریج ہاؤس سے مال چراتی ہے۔ اس نے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس ورکر نے نجانے کیسے منیجر کی ذہن سازی کی تھی کہ وہ اس کی بات ماننے کو تو دور سننے تک کو بھی تیار نہ تھا اور اسی سبب سے اسے ریستوران سے نکالا گیا تھا۔
    ’’میرے پاس تمہارے لیے ایک جگہ نوکری ہے۔ اگر تم کہو تو میں بات کر لیتا ہوں۔‘‘
    مذکر نے اسے اپنے ایک واقف کار کے برگر کیفے کا بتایا تھا جہاں وہ کام کر سکتی تھی ۔تنخواہ ریستوران کے مقابلے میں کم تھی اور کیفے اس کی رہائش سے قدرے فاصلے پر تھا، لیکن ایز ا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ فوری طور پر اس پیشکش کو قبول کر لیتی۔مہینے کا اختتام ہو رہا تھااور اس کی جیب میں پہلے ہی چند یورو تھے۔ وہ ایک ایسے علاقے میں رہتی تھی جہاں کی زیادہ ترآبادی اسی جیسے کم آمدن لوگوں پر مشتمل تھی۔ اس کے اپارٹمنٹ میں بھی ایک کمرا اور اس کمرے میں اس سمیت پانچ لڑکیاں تھیں ۔ان پانچوں میں سے وہ اور سیما تھی جو ماہانہ کما رہی تھیں۔ ورنہ لیزا، گیتی اور جوڈی اکثر بے روزگار ہی رہتیں۔ جب ان تینوں کے پاس پیسہ ہوتا تو وہ اکٹھے بہت سا راشن لے آتیں، کئی مہینوں کا کرایہ ادا کر ڈالتیں ورنہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہتیں۔ وہ چاروں آپس میں اچھی سہیلیاں تھیں سوائے ایزا کے۔ ایزا کی ان چاروں سے کبھی نہیں بن سکی تھی جس کی وجہ اس کی خاموش طبع فطرت تھی۔ اپنی ہم عمر لڑکیوں کی نسبت وہ کم گو، سنجیدہ اور آدم بیزار واقع ہوئی تھی۔ اسے بولنے اور ہنسنے کی عادت نہیں تھی اور نہ ہی وہ ایسے لوگوں سے میل ملاپ رکھنا پسند کرتی تھی ۔ اسے دوسروں کی ذاتیات میں دخل دینا یا اپنی ذاتیات میں کسی کا دخل دینا کسی طور پسند نہیں تھا۔ اسی لیے وہ لوگوں سے ایک فاصلہ رکھ کر ملتی تھی۔ اچھی یا بری لیکن اپنی اس عادت سے وہ باہر نہیں نکلنا چاہتی تھی۔ وہ چاروں پچھلے دو سال سے اکٹھے رہ رہی تھیں جب کہ ایزا ان کے ساتھ پچھلے پانچ ماہ سے تھی ۔ اس سے پہلے وہ اسی علاقے میں نسبتاً اس سے بھی بدتر درجے کے اپارٹمنٹ میں دس لڑکیوں کے ہمراہ رہتی تھی ۔ وہ اس قدر تنہائی سے محبت میں گرفتار تھی کہ اگر اس کی آمدنی بہتر ہوتی تو وہ اپنے لیے ایک الگ اپارٹمنٹ لینے کو ترجیح دیتی جہاں اسے کبھی کسی کی شکل دیکھنے کو نہ ملتی۔
    اس کا اپارٹمنٹ آچکا تھا ۔ وہ مذکر کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ پچھلے سات ماہ کی پہلی مسکراہٹ جس نے مذکر کو حیرت میں ڈالا تھا ۔۔۔
    ’’تم نے جو میرے لیے کیا وہ بہت سے بھی زیادہ ہے ۔ تمہاری طرح میں بھی اب تم سے ملتے رہنا چاہوں گی ۔‘‘ یہ الفاظ کیسے اس جیسی لڑکی کے منہ سے ادا ہوئے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔ جو بھی تھا وہ احسان فراموش نہیں تھی اور مذکرکے اسے یوں فیور دینے پر اس کا شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہی تھا۔ اس نے جاتے سمے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔مذکر نے اسے تھام کر ایک خیر مقدمی مسکراہٹ سمیت اسے دیکھا۔ یہ ان دونوں کی دوستی کی ابتدا تھی ۔
    ٭…٭…٭
    اگلے ہی روز سے ایزا وقت ضائع کیے بغیر مذکر کے واقف کار کے کیفے میں بطور ویٹرس کام کررہی تھی۔ وہ ایک قصبے کا چھوٹا سا کیفے تھا جہاں گاہک بہت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے کام ’ اٹالین کوزین‘ ریستوران کے مقابلے میں خاصا کم تھا سو ایزا کا زیادہ تر وقت فراغت میں گزرتا۔ اُس کے علاوہ وہاں ایک اور ویٹرس بھی تھی جس سے اس کی سلام دعا ہونے کی حد تک واقفیت تھی۔ اس کی وجہ بھی ایزا کا لیے دیے رہنے کا انداز تھا۔ ایزا کو کا م نوعیت کے اعتبار سے آسان لگا تھا لیکن یہ اس کا مسئلہ نہیں تھا ۔ وہ کام سے بھاگنے والی لڑکی کبھی بھی نہیں رہی تھی ۔تنخواہ پہلے سے کم تھی اور آنے جانے کے لیے بھی مقامی بس استعمال کرنے کی وجہ سے اس کی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ کرائے کی مد میں لگ جاتاتھا۔ اصل مسئلہ اسے یہ درپیش آ رہا تھا۔اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ جلد ہی کوئی بہتر کام ڈھونڈ کر اس نوکری سے چھٹکارا پا لے گی، لیکن تب تک اسے یہی نوکری کرنا ہو گی ۔
    مذکر کو یہ کیفے اپنی رہائش سے قدرے دور اور آفس سے قریب پڑتا تھا ۔ اب وہ لنچ کرنے آفس سے سیدھا اسی کیفے میں آنے لگا تھا۔ روزانہ برگر کھانے کے بدلے روزانہ ایزا سے ملنا کوئی اتنا برا سودا بھی نہیں تھا۔ اس کی اور ایزا کی لنچ بریک کے اوقات کار ایک سے تھے۔ اسی لیے وہ بآسانی اس سے مل لیتا تھا۔
    ’’تم روز اتنے دور یہ برگر کھانے آتے ہو؟‘‘ اس روز وہ کیفے میں بیٹھنے کے بجائے اپنا اپنا لنچ لیے ایک قریبی پارک میں چلے آئے تھے۔ مذکر کاآفس اس کیفے سے قریباً پندرہ منٹ کی واک پر تھا اوراس کے آفس کے قریب ہی اس سے بہت بہتر کیفے اور ریستورانس تھے یہ بات وہ جانتی تھی۔
    ’’تم بھی تو اتنے دور سے روز اسے بیچنے آتی ہو ۔‘‘
    ’’یہ میری مجبوری ہے ، میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔‘‘
    ’’یہ میری بھی مجبوری ہے کیوں کہ میرے پاس بھی کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔‘‘ ایز انے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور پھر دوسری طرف۔ دونوں اپنا اپنا لنچ کرنے لگے۔ کیفے کا مالک ایزا کو مذکر کی دوست کی وجہ سے مختلف چھوٹی موٹی مراعات بھی دیتا تھا جس میں وہ لنچ بھی شامل تھا جو وہ وہاں بیٹھی کر رہی تھی۔
    ’’تمہیں اس جاب میں کوئی مشکل تو نہیں؟‘‘
    ’’تم نے میرے لیے خاصی آسانی کی ہے پھر مشکل کیسی؟‘‘ وہ اسے کبھی بھی یہ نہیں بتانا چا ہتی تھی کہ وہ کم تنخواہ کی وجہ سے پریشان رہتی ہے۔ وہ اتنی خودد ار تو تھی کہ اب اپنی بدحالی کے رونے اس شخص کے سامنے نہ روتی۔ یہ جان کر وہ کیفے کے مالک سے بات کر کے اس کی تنخواہ میں اضافے کی درخواست کر سکتا تھا اور ایز ا اس کا مزید احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔ اس کی بجائے اس نے اپنے بل بوتے پر اس سے بہتر نوکری اور پارٹ ٹائم جاب کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں ۔
    ’’میں ہمیشہ تمہارے لیے آسانی کیے رکھنے کو تیار ہوں ایزا ۔ہر جگہ، ہر پل اگر تم چاہو تو…‘‘ اس کا چلتا ہوا منہ رکا اور اس نے اپنی آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے کچھ ناقدانہ انداز میں مذکر کی جانب دیکھا تھا ۔وہ اس کے ایسے دیکھنے پر ہنسا تھا ۔




  • لبِ قفل — راحیلہ بنتِ میر علی شاہ

    لبِ قفل — راحیلہ بنتِ میر علی شاہ

    سخت سردیوں کی جھڑی پورے زور و شور سے جاری تھی۔ سرد ہوائیں ہڈیوں میں اترتی محسوس ہورہی تھیں۔ بجلی کی چمک اور بادلوں کی گڑگڑاہٹ۔ رات کو مزید ہولناک بنارہی تھی، لیکن جب بھی رات کی تاریکی کو بجلی کی چمک لمحہ بھر کو روشن کرتی تو ہر چیز عیاں ہو جاتی۔ بارش کی بوندیں شفاف موتیوں کی طرح نظریں خیرہ کرتیں اور پھر اندھیرے کی راجدھانی ہر سو چھا جاتی۔
    بھل بھل بہتے بارش کے بوندوں کی آواز کو سنتے سنتے نہ جانے کتنا سما بیت گیا تھا۔ جب اچانک اسے احساس ہوا کہ تانیر سو چکا ہے۔ سات ماہ کا تانیر آج اسے بہت تنگ کر رہا تھا۔ ورنہ عام طور پر گول مٹول پیارا سا تانیر بہت کم ہی روتا تھا، لیکن آج پتا نہیں کیا وجہ تھی کہ وہ بہت رو رہا تھا اور آمانہ کو گھن چکر بناکر رکھ دیا تھا۔ ایک ہی زاویے میں بیٹھے بیٹھے اس کا جسم شل سا ہوگیا تھا۔ تانیر کو بیڈ پر لٹاکر ایک نظر زاویار کو دیکھا جو بے حد آرام سے سو رہا تھا۔
    کتنا پیارا اور معصوم سا لگ رہا تھا سوتے ہوئے جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ…چند لمحے اس کے چہرے کو تکنے کے بعد اچانک دل میں درد کی اِک لہر اٹھی اورجسم کی رگ رگ میں پھیل گئی۔
    یہ وہ انسان تھا۔ جس کے لیے وہ اپنا گھر، اپنے خواب اور آرمان میکے کی دہلیز پر چھوڑ آئی تھی اور وہی اس کی اذیت اس کے درد کا موجب بنا ہوا تھا اور اسے اتنا بھی حق نہیں دیا تھا کہ لب کھولتی بلکہ اس نے تو لبوں پر قفل لگادیا تھا۔
    جسے وہ چاہ کر بھی نہیں کھول سکتی تھی۔ کھولتی تو کہاں جاتی؟ ایک شادی شدہ عورت کی سسرال کے علاوہ کہیں اور جگہ بھی ہوتی ہے بھلا؟
    دل میں کئی کانچ کے ٹکڑے ایک ساتھ چبھے۔
    درد حد سے سوا ہوا اور وہ بیدم سی ہوکر بیڈ پر ڈھے گئی۔ سردی کچھ اور بڑھ گئی تھی اور سرد برفیلے غلاف میں لپٹے یادوں نے اس کے جسم میں کپکپی دوڑا دی۔
    ’’یار مانو !تم کب تک ہمارے سینوں پر مونگ دلتی رہو گی؟‘‘
    شاہان شیلف پر چڑھے بہن کو دلجمعی سے بیلن چلاتے دیکھتا ہوا گویا ہوا۔
    ’’For you’re kind information‘‘جب تک دنیا میں مونگ موجود ہے تب تک۔‘‘اس نے چند لمحوں کے لیے ہاتھ چلانا بند کیا۔ سلکی کالے بالوں کی ایک لٹ جوکافی دیر سے اسے تنگ کررہی تھی اسے کانوں کے پیچھے اڑس کر شاہان کو گھورا اور دانت کچکچاکر تڑاق سے جواب دیا۔ اس نے ایک بار پھر ہاتھ چلانا موقوف کیا۔
    ’’کچھ اور بھی کہنا ہے کیا ؟‘‘ رونی صورت بنا کر شاہان گرنے کی اداکاری کرتا ہوابولا۔
    ’’بالکل کہنا ہے، سنو میرے پیارے ! اگر مونگ کی دال ختم ہوئی نا؟ تو دال چنا تو ہوگی وہی تیرے سینے پر دلوں گی سمجھ گئے؟‘‘
    مانو کی طرف سے ایک اور دھماکے دار جواب آیا اور شاہان گرتے گرتے بچا۔
    ’’لیکن مانو!مجھ غریب پر یہ ظلم کس خوشی میں کروگی بھلا؟ ‘‘
    چند لمحے سوچنے کے بعد شاہان نے حتی المقدور لہجے میں عاجزی سمو کر سوال داغ دیا۔
    ’’کیوں کہ تم مجھے قابل ہی لگتے ہو اینی وے اب زیادہ دماغ نہ خراب کرو میرا اور جلدی سے ایک کپ چائے بنادو میرے لیے تب تک میں سموسے تل لیتی ہوں۔ ‘‘کام میں مصروف مانو نے شاہان کو حکم صادر کیا اور شاہان شاہانہ انداز میں بڑبڑاتے ہوئے چائے چڑھانے لگا۔
    ’’جانے کیا پرابلم ہے سب کو مجھ سے؟ مجال ہے جو کوئی ذرا سا بھی مجھ غریب پر ترس کھالے۔فری کا بٹ مین ہاتھ لگا ہے بس! شاہان یہ کرو !شاہان وہ کرو۔ ہونہہ!‘‘ مانو اس کی بڑبڑاہٹ کو سنی ان سنی کرتی ہوئی سموسے تلنے کے لیے کڑاہی میں تیل گرم کرنے لگی۔
    شاہان نے کن انکھیوں سے مانو کی بے نیازی دیکھی اور سموسوں کی بجائے کڑاہی میں وہ تلنے لگا۔
    ’’آج کل میں اچھی طرح سے جج کرنے لگا ہوں کہ تم لوگ بلاوجہ ہی مجھ پر کام وغیرہ کا بوجھ ڈالتے رہتے ہو۔‘‘ شاہان نے ایک بار پھر خود پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔




    ’’ویری گڈ! اس کا مطلب ہے آج کل تمہارے کب کے ناکارہ ہوجانے والے دماغ نے کام اسٹارٹ کردیا ہے۔‘‘سموسے تلتی ہوئی مانو کی جانب سے متاثر کن جواب آیا۔
    ’’واٹ یو مین ؟ میرا دماغ کام نہیں کرتا؟‘‘اس نے آنکھیں نکال کر پوچھا۔
    ’’یہ کب کہا میں نے؟ اپنے کانوں کی صفائی کروا لو میں نے یہ کہا کہ آپ کے دماغ نے کام کرنا اسٹارٹ کردیا ہے۔‘‘
    کام کرتی ہوئی مانو نے ایک بار پھر شاہان کو غش کھانے پر مجبور کیا۔
    لیکن اس سے پہلے کہ شاہان مزید کچھ کہتا کچن میں ایک نفوس نے انٹری دی اور شاہان چپکا رہ گیا۔
    ’’واہ جی واہ !کیا خوشبو ہے۔ میری تو بھوک چمکا گئی یہ اعلیٰ پائے کی خوشبو۔‘‘
    ’’آفان بھائی! یہ پائے نہیں پک رہے۔ سموسے پکائے جارہے ہیں۔‘‘شاہان نے سیدھے سادھے لفظوں میں آفان کو آنکھوں کا چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا جبکہ اس نے تو جیسے شاہان کی بات سنی ہی نہیں۔‘‘
    ’’کیا کہنے تم دونوں کے اگر پاکستان کے نامور شیف کی لسٹ مجھ ناچیز سے کوئی بنوائے تو… سرفہرست میں تم دونوں کے نام لکھوں گا۔ بہرکیف۔ فی الوقت میں ناچیز یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آیا یہ شاہان کی شاہانہ چائے کی خوشبو ہے یا پھر مانو کے سموسوں کی؟ بائے دی وے! معاملہ کچھ بھی ہو، لیکن میں تم دونوں کو صدق دل سے داد دیتا ہوں اور اس حسین موسم میں اس قدر دلجمعی کے ساتھ تم دونوں نے کچن کو اپنا قیمتی وقت دے کر ہم پر بھاری احسان کا قرض چڑھا دیا ہے۔
    ’’اور میری… خداوند عالم سے التجا ہے کہ وہ آپ دونوں کو یوں ہی کچن سنبھالنے کی شکتی دے۔آمین۔‘ ‘
    آفان گاڑھی اردو بولنے کی کوشش کرتا ہوا کچن میں وارد ہوااور شاہان کو پرے کرتے ہوئے اُس کی بنائی ہوئی چائے کپ میں انڈیل دی۔ دو تین سموسے اٹھائے اور یہ جا وہ جا۔
    حیرت سے دم سادھے وہ دونوں جب تک آفان کی مداخلت اور اتنی تعریف کی کرم نوازی کو سمجھ پاتے یا کوئی جوابی کارروائی عمل میں لاتے۔ آفان تب تک روپوش ہوچکا تھا۔
    ’’اپنا منہ تو بند کرو۔ ہاتھی گھس جائے گا۔‘‘
    کسی اور کا غصہ شاہان پر اتارتے ہوئے مانو جل کر بولی، تو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں شاہان کا منہ بند اور دوبارہ کھل گیا۔
    ’’دیٹس ناٹ فیر!‘‘
    ’’میں اب مزید چائے نہیں بناؤں گا۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے بنواتی ہو مجھ سے مزید چائے۔‘‘
    شاہان نے روہانسی آواز میں دھماکا خیز اعلان کیا اور …مانو کی نظر بچا کر دو سموسے اٹھائے اور جلدی سے کچن سے نکل گیا۔
    ارمان کچن کے ساتھ اٹیچ لاؤنج میں بیٹھا ساری کارروائی دیکھ رہا تھا اور ساتھ سننے کی سعادت بھی حاصل کررہا تھا۔
    زیرِلب مسکراتے ہوئے شاہان کو سموسے گرفتار کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جاتا ہوا دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’میری شونو مونو کو کون تنگ کر رہاہے؟‘‘
    کچن میں داخل ہوکر پیار سے اس نے مانو کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔چند ثانیے مانو کے جواب کا انتظار کیا اور پھر آگے بڑھ کر پتیلی اٹھائی اور چائے چڑھانے لگا ۔ مانو جو اچھی خاصی تھک چکی تھی کی آنکھوں میں بے اختیار نمی آٹھہری اورآنکھوں کی نمی چھپانے کے لیے اس نے اپنا سر جھکا لیا۔
    ’’مانو!‘‘اس نے دھیرے سے پکارا۔ مانو کی منہ سے بہ مشکل ’’ہوں!‘‘ نکلا ۔
    تمہیں تو پتا ہے شاہان ،آفان اور حیان کی عادت ہے یوں ہی بولنے کی۔ تم ان لوگوں کی باتیں دل پر مت لیا کرو۔ پتا تو ہے نا!کتنی محبت کرتے ہیں سب تم سے ؟ ہمارا سب کچھ تو تم ہی ہو تمہارے سوا کون ہے ہمارا؟ ارمان دلگرفتہ سا بہن کو دیکھ کر بولا اور مانو تڑپ اٹھی۔
    ’’بھائی جان! پلیز ایسی باتیں نہ کریں۔ میرا بھی تو سب کچھ آپ چاروں ہو۔’’ آنکھوں میں محبت کا جہاں لیے وہ اپنے بڑے بھائی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
    تو ارمان نے آگے بڑھ کر محبت سے مانو کی آنکھوں میں ٹھہر جانے والے آنسو پونچھے اور پیار سے اس کا سر اپنے شانے سے لگا کر تھپتھپادیا۔
    ’’بھائی جان آپ کی چائے۔‘‘
    مانو نے بھائی کی توجہ اُبلنے والی چائے کی جانب مبذول کرائی تو وہ جلدی سے آگے آیا۔
    ’’لو ہماری چائے تو بن گئی۔‘‘ ارمان خوش ہوکر بھاپ اڑاتی چائے کو دیکھ کر بولا۔ دو کپ اٹھا کر ان میں چائے ڈال دی جبکہ ایک پلیٹ میں سموسے ڈال کر رکھ دیے اور سینک کے پاس جاکر ہاتھ دھوتے ہوے بولا:
    ’’میں چائے اور سموسے لے کر روم میں جارہا ہوں۔ تم جلدی سے منہ ہاتھ دھوکر آجاؤ اکٹھے پیتے ہیں اوکے؟ ‘‘منہ موڑ کر بہن کو دیکھتے ہوئے ارمان بولا۔اور مانو کھکھلا کر ہنس پڑی۔ ارمان نے حیرت اور سوالیہ نگاہوں سے بہن کو دیکھا۔




  • سرد سورج کی سرزمین — شاذیہ ستّار نایاب

    سرد سورج کی سرزمین — شاذیہ ستّار نایاب

    سرمد آفس سے باہر نکلا تو لو کے گرم تھپیڑوں نے اس کا استقبال کیا۔ اگرچہ شام ڈھل رہی تھی لیکن جون کا مہینہ تھا اور گرمی اپنے پورے جوبن پر تھی، ائیر کنڈیشنڈ دفتر سے نکل کر تو گرمی کی شدت اور زیادہ محسوس ہورہی تھی۔ پارکنگ تک پہنچتے پہنچتے وہ پسینے سے شرابور ہوگیا اس پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی۔ اس نے ٹوپی سرپر جمائی اس کا گورا چٹا چہرہ اب گرمی سے لال ٹماٹر ہورہا تھا۔ اس نے موٹر سائیکل کو کِک لگائی اور تیزی سے سڑک پر لے آیا ہوا لگنے سے پسینہ خشک ہونے لگا لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ موٹر سائیکل پنکچر ہوگیا۔
    جھنجھلاہٹ چڑچڑاہٹ میں تبدیل ہوگئی۔ بادلِ نہ خواستہ موٹر سائیکل سے نیچے اُترا اور اسے گھسیٹتا ہوا پنکچر لگانے والے کے پاس لے آیا۔ پنکچر لگانے والا لڑکا ٹین کے شیڈ کے نیچے ایک چھوٹا سا پیڈسٹل فین لگائے پنکچر لگانے میں مصروف تھا۔
    پنکچر لگوا کر نکلا تو سورج غروب ہونے کو تھا اس نے ایسے ہی سورج کی طرف نگاہ اٹھائی تو اس کی نظریں چندھیا سی گئیں۔
    ’’اف میرے خدا اس موسم میں تو ڈوبتا ہوا سورج بھی کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جاسکے‘‘ سرمد نے سوچا اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گھر کی راہ لی۔
    گھر میں داخل ہوتے ہیں حسب معمول امی سے ٹاکرا ہوا وہ سلام کرتا ہوا دھم سے صوفے پر آبیٹھا۔ امی نے تسبیح پڑھتے ہوئے اشارے سے سلام کا جواب دیا اور اپنے خوبرو اور وجیہہ بیٹے کو دیکھا جس کے چہرے پر تھکن اور بے زاری تھی۔ پھر اسے سکنجبین لاکردی۔ کولر کی ہوا میں بیٹھ کر اور دوگلاس سکنجبین پی کر ذرا اس کے ہوش ٹھکانے آئے۔
    بیٹے کو پرُسکون دیکھ کر ماں کے دل کو بھی سکون ملا تو پوچھا: ’’آج اتنی دیر کیوں کردی؟‘‘
    یہ راحت بیگم کی بہت اچھی عادت تھی خواہ شوہر لیٹ آئے یا اولاد فوراً سوالوں کی بوچھاڑ نہیں کرتی تھیں پہلے گھر آنے والے کو پرُسکون کرنے کی کوشش کرتیں پھر اپنی تشویش سے آگاہ کرتیں۔
    ’’موٹر سائیکل پنکچر ہوگیا تھا اتنی دور تک گھسیٹ کر لانا پڑا۔‘‘ سرمد نے جواب دیا۔
    "ہر روز ہی موٹر سائیکل کو کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے کبھی پلگ خراب تو کبھی پنکچر تو کبھی کچھ اور … ایک ہی بار اس کی صحیح طرح مرمت کرواؤ۔‘‘ امی نے مشورہ دیا۔
    ’’امی یہ ابو کا موٹر سائیکل ہے اتنے سال انہوں نے استعمال کیا اصولاً تو اسے بھی ابو کی ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائر ہوجانا چاہیے تھا سوچا تھا کہ نوکری ملے گی تو نیا خریدوں گا مگر اس تنخواہ میں……‘‘ سرمد نے فقرہ ادھورا چھوڑا۔
    ’’اللہ کا شکر ادا کرو بے روزگار نہیں ہو تنخواہ تھوڑی سہی مل تو رہی ہے اور بھی نئی نئی نوکری ہے آہستہ آہستہ تنخواہ بڑھ جائے گی۔‘‘ راحت بیگم نے بیٹے کو حوصلہ دیا۔
    "توبہ… یہ امی کی قناعت پسندی اور شکر گذاری… ساری عمر ابو نے سرکاری محکمے میں نوکری کرکے صرف نیک نامی کمائی۔ امی نے کبھی شکایت نہیں کی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ دادا کے چھوڑے ہوئے ترکے اور محکمے سے لون لے کر یہ گھر بنالیا ورنہ…‘ سرمد نے سوچا مگر منہ سے کچھ نہ بولا کیوں کہ پھر امی سے لمبا لیکچر سننا پڑجاتا۔
    ’’تم کیا سوچنے لگے…‘‘ راحت بیگم نے پوچھا۔
    ’’کچھ نہیں… میں ذرا کپڑے تبدیل کرلوں۔‘‘ سرمد نے کہا۔
    ’’ہاں جاؤ اور سنو تمہاری خالہ فرحت کی فیملی آرہی ہیں۔‘‘ امی نے کہا۔
    ’’خالہ فرحت… ڈنمارک سے…‘‘
    ’’وہ لوگ کیا کرنے آرہے ہیں؟‘‘ سرمد اکتا کر بولا۔
    ’’لوگ اپنے ملک کیا کرنے آتے ہیں؟‘‘ امی چڑ کر بولیں۔
    ’’ساری عمر باہر گزار کر مرنے آتے ہیں یا پھر بچوں کی شادیاں کرنے۔‘‘ توقیر صاحب نے تلخ لہجے میں اندر آتے ہوئے کہا۔
    ’’کیسی باتیں کررہے ہیں آپ اللہ میرے بہن بہنوئی کو زندگی اور تندرستی دے۔ ہاں شاید رانیہ کی شادی کے سلسلے میں آنا ہو۔‘‘ راحت بیگم نے کہا۔
    ’’کیا خالہ ہمارے گھر رہیں گی آکر؟‘‘ سرحد سے چھوٹی نزہت نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ’’ہمارا گھر اس قابل ہے۔‘‘ سرمد نے کہا۔
    ’’میری بہن گھر سے ملنے نہیں مجھ سے ملنے آرہی ہے۔ رہے گی تو اپنے دیور کے گھر لیکن یہاں ایک دو دن تو ٹھہرے گی…‘‘ امی نے کہا۔
    سرمد نے امی کو دیکھا وہ بہن کے آنے پر خوش تھیں اور اس نے مزید کچھ کہہ کہ ان کی خوشی کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی۔
    ٭٭٭٭
    فرحت خالہ نے آتے ہی رینٹ اے کار سے ایک گاڑی مع ڈرائیور لی اور سب رشتہ داروں کے ہاں آنا جانا شروع کیا۔ ان کے پاس دن بہت کم تھے وہ سب سے ملنا چاہتی تھیں اور رانیہ کی شادی کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔ سسرال میں سب سے مل کر وہ راحت بیگم کے گھر پہنچی، بے شمار تحفے ان کے ساتھ تھے۔
    سرمد اور اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال تھا کہ وہ ان کے چھوٹے سے گھر میں آکر تنگ ہوں گی مگر وہ تینوں تو نہایت آرام سے بیٹھے تھے۔
    ’’پاکستان کیسا لگا تمہیں؟‘‘ رانیہ سے نزہت نے پوچھا۔
    ’’اچھا ہے لیکن بہت گرمی ہے۔‘‘ رانیہ مسکرائی۔
    ’’آپ لوگ دسمبر جنوری میں آتے نا۔‘‘ نگہت نے کہا۔
    ’’ارادہ تو یہی تھا مگر ممی ڈیڈی کو آم کھانے تھے۔‘‘ رانیہ مسکرائی
    ’’تم اردو اچھی بول لیتی ہو‘‘۔ سرمد سے چھوٹے اظہر نے کہا۔
    ’’وہاں گھر میں ہم اردو بولتے ہیں اور باہر ڈینش اس لیے اردو آتی ہے اور تھوڑی تھوڑی پنجابی بھی‘‘۔ رانیہ بولی۔
    ’’السلام علیکم…‘‘ سرمد نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور اسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ رانیہ سب کے ساتھ بڑی بے تکلفی سے بیٹھی تھی۔
    فرحت خالہ نے بے اختیار اسے دیکھ کر گلے لگایا۔ ماتھا چوما۔ ’’ماشاء اللہ میرا بیٹا۔‘‘ خالو نے بھی گلے لگایا۔
    ’’ممی آپ ٹھیک کہتی تھیں پاکستانی مرد بے حد خوبصورت ہوتے ہیں۔‘‘ رانیہ نے خوبرو اور وجیہہ سرمد کو دیکھتے ہوئے کہا۔ سرمد کو اپنی وجاہت کا پورا احساس تھا یونیورسٹی میں سینکڑوں لڑکیاں اس پر مرتی تھیں لیکن اپنے والدین اور چھوٹے بھائی بہنوں کے سامنے اس بے باکی سے کی گئی تعریف سُن کر وہ جھینپ گیا۔
    خالہ اور خالو نے قہقہہ لگایا۔ تھوڑی دیر بعد سب گُھل مل کر باتیں کررہے تھے اس کی وجہ خالو، خالہ اور رانیہ کا بے تکلف رویہ تھا۔
    ’’میں لاہور کی سیر کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ رانیہ نے فرمائش کی۔ ’’ضرور بیٹا ضرور دیکھو۔‘‘ راحت بیگم نے کہا۔




  • داستانِ محبّت — سارہ قیوم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    داستانِ محبّت — سارہ قیوم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    ’’ میرے پا س تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ ‘‘ مریم نے کمرے میں آکر ہاتھ میں پکڑا ہوا لفافہ لہراتے ہوئے کہا ۔
    ’’کیسا سرپرائز؟‘‘ شیلف پر کتابیں ٹھیک کرتی ثنا کے ہاتھ رک گئے ۔
    ’’یہ دیکھو۔‘‘ مریم نے لفافہ اس کی طرف بڑھادیا۔ ثنا ء نے لفافہ کھول کر اندر سے کاغذ نکال لیا۔ بے ساختہ بولی:
    ’’پی ایم اے ۔۔۔۔‘‘ اس کا جملہ ادھورا رہ گیا ۔سرخ چہرے کے ساتھ وہ ہنس پڑی ۔ اس نے رخ موڑ لیا اور دوبار ہ سے شیلف پررکھی ہوئی کتابیں ٹھیک کرنے لگی ۔ مریم نے اس کے ہاتھ سے لفافہ اچک لیا ۔
    ’’ہمارے فوجی برادران نے ترک سفید کے اعزاز میں ایک تقریب پر وقار کا اہتمام کیا ہے ۔ ازراہِ کرم ہمیں بھی دعوت نامہ بھیج دیا ۔ لیکن ہم تو جا نہیں رہے ۔دعوت نامہ ضائع ہو گیا بے چاروں گا ۔‘‘ مریم دھم سے بستر پر گر پڑی ۔
    ’’کیوں کیوں نہیں جارہے ؟ ابو کی جاب کا تقاضہ ہے جانا۔‘‘ثنا ء تیزی سے اس کی طرف گھومی۔
    ’’ہاں تو وہ چلے جائیں گے ۔ امی کا کہنا ہے ہمیںجانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘ مریم نے بے نیازی سے کہا۔ ثنا کا چہرہ اتر گیا ۔ وہ خاموش ہو گئی ۔مریم کو اس پر ترس آگیا ۔
    ’’اچھا اب رونا نہ شروع کردینا ۔ چپ کر کے دیکھتی جاؤ میں کیا کرتی ہوں ۔‘‘ اس نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ۔
    شام کو اس کی لیڈیز کلب کی فرینڈ مسز اطہر کا فون آگیا ۔
    ’’میں نے سنا ہے آپ لوگ پی ایم کے فنکشن میں نہیں آرہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا ۔
    ’’آپ کو کس نے بتایا ؟‘‘امی حیران ہوئیں ۔
    ’’صبح مریم سے بات ہوئی تھی اس نے بتایا ۔ مسز قریشی تھوڑے سے تو ہم یہاں لوگ ہیں ۔ مل بیٹھنے کا بہانہ چاہیے اور میرا سکندر بھی بڑا پُرجوش ہے کہ علی سے ملے گا ۔آپ لوگ ضرور آئیے گا ۔‘‘
    اگلے دن دوپہر تک چار مزید خواتین کے فون آگئے تو امی مجبور ہو گئیں ۔ انہیں تقریب پر سب کو لے کر جانا پڑا۔ ثنا نے بہت خوب صورت گلابی لباس پہنا ، فنکشن خاصا بورنگ تھا ۔ کچھ تقریریں ہوئیں ، چند گیت گائے گئے پھر ڈنر ہوا ۔ فیصل دوردور سے ثنا کو دیکھتا رہا ۔وہ یہ دیکھ کر محظوظ ہورہا تھا کہ ثنا کی نظریں کسی کو ڈھونڈھ رہی ہیں ۔ثنا پورے ہال میں ایک ہی چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ سب ٹوپیوں والے ایک جیسے نظر آتے تھے اور جنہوں نے ٹوپیاں نہیں پہن رکھی تھیں ، ان کے پیالا کٹ بال ایک ہی مشین سے نکلے ماڈل لگتے تھے ۔ لیکن ڈنر کے بعد جب سب مہمان ٹولیوں کی صورت میں اِدھر اُدھر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے تو ثنا کو وہ نظر آگیا ۔ نظر آنا مشکل بھی نہ تھا ۔اس نے تو بس یہ کیا کہ پورے ہال میں سب سے لمبے شخص کو ڈھونڈا اور وہ وہی نکلا ۔ ثنا کی اس سے نظریں ملیں تو وہ مسکرایا اور چپکے سے ہاتھ اٹھا کر اسے سیلوٹ کیا ۔ ثنا مسکرائی، وہ خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑی تھی ۔ غیر محسوس طریقے سے وہ ان سے الگ ہوئی اور مریم کی طرف چلی ۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ وہ بھاری قدم اس کے ساتھ چلنے لگے۔
    ’’ہیلو۔‘‘ فیصل نے مسکرا کر کہا۔
    ’’ہیلو!‘‘ ثنا بھی مسکرائی۔
    ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘





    ’’بہت اچھی۔‘‘ اس نے شوخ و چنچل لہجے میں کہا۔
    ’’کوئی شک نہیں! ‘‘ وہ بھی اسے چھیڑتے ہوئے بولا تو دونوں ہنس پڑے ۔
    ’’آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔‘‘ فیصل نے کہا۔
    ’’آپ نے سلام کب کیا؟‘‘ ثنا نے حیران ہو کر پوچھا۔
    ’’وہاں کھڑے ہوئے۔ ‘‘ فیصل نے انگلی سے اشارہ کیا ۔
    ’’وہ تو سیلوٹ تھا۔‘‘ اس نے معصومیت سے کہا۔
    ’’سیلوٹ ویسا تھوڑی ہوتا ہے۔‘‘
    ’’پھر کیسا ہوتا ہے ؟‘‘
    ’’آئیے میں آپ کو دکھاتا ہوں ‘‘۔ وہ جس دیوار کے ساتھ چل رہے تھے اس میں فاصلے سے کئی دروازے برآمدے کھلتے تھے ۔ فیصل نے ایک دروازہ کھولا اور دونوں باہر برآمدے میں نکل آئے ۔ آوازوں کے شور سے نکل کر برآمدہ بہت خاموش معلوم ہوا۔ فیصل اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔
    ’’آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں۔‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا ۔
    ’’شکریہ!‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہی ۔
    آپ نے کھانا ٹھیک سے کھایا؟‘‘ فیصل نے آداب میزبانی نبھائے ۔
    ’’جی۔‘‘ ایک بار پھر طویل خاموشی ۔
    ’’ایک بات بتائیے، یہ جو آپ گردن میں اس قدر اکڑا ہو ا کالر پہنتے رہتے ہیں ، اس سے آپ کی گردن ہلنے جلنے کے قابل رہتی ہے ؟‘‘آخر ثنا نے کہا۔
    جواب میں اس نے مسکراتے ہوئے اسے دائیں سے بائیں گردن ہلا کر دکھائی ۔
    ’’ویسے گردن اس طرح ہلتی اچھی نہیں لگتی۔ ایسے ہلتی اچھی لگتی ہے۔‘‘ اس نے گردن ہاں کے انداز میں اوپر نیچے ہلائی۔
    ثنا ہنس پڑی۔ وہ دونوں برآمدے میں آہستہ قدموں سے چلنے لگے ۔
    ’’اکیڈمی کیسی لگی آپ کو ہماری؟‘‘ فیصل نے پوچھا۔
    ’’اچھی ہے مگر یہ جو اس کے درودیوار ان نعروں سے بھرے ہیں۔ ‘‘ ثنا نے دیوار پر ایک پوسٹر کی طرف اشارہ کیا جس پر بڑے بڑے الفاظ میں ’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘ لکھا تھا ۔ ثنا نے اپنی بات جاری رکھی :
    ’’انہیں دیکھ کر خواہ مخواہ شہید ہونے کو دل چاہتا ہے ۔‘‘
    ’’یہ ہماری ٹریننگ کا حصہ ہے۔ ابھی تو آپ نے رسال پور اکیڈمی نہیں دیکھی ۔ وہاں تو کوئی کونا بھی اس یادہانی سے خالی نہیں۔‘‘ فیصل مسکرایا۔
    ’’وہ تو ائیر فورس کی اکیڈمی ہے نا؟ آپ وہاں بھی رہ چکے ہیں ؟‘‘ ثنا نے پوچھا ۔
    ’’میں اصل میں Army Aviation میں ہوں۔ فلائنگ ٹریننگ کے لیے کچھ عرصہ وہاںگزار چکا ہوں۔‘‘
    ’’رئیلی؟‘‘ کیا اُڑاتے ہیں آپ ؟‘‘ اس نے حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ’’گپیں !‘‘ اس کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔
    ’’ان کے علاوہ ؟‘‘ ثنا نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔
    ’’ہیلی کاپٹر! ‘‘
    ’’wow!‘‘ اس نے سراہنے والے انداز میں کہا۔
    ’’اور آپ کیا کرتی ہیں ؟‘‘ فیصل نے پوچھا۔
    ’’پڑھتی ہوں، فائن آرٹس۔‘‘
    ’’ارے واہ یعنی آرٹسٹ ہیں ۔ کیابناتی ہیں آپ ؟‘‘
    ’’باتیں! ‘‘ثنا نے مسکرا کر کہا
    ’’ان کے علاوہ ؟‘‘ فیصل کی ہنسی میں کھنک تھی ۔
    ’’Miniature paintings ‘‘
    ’’میرا miniature بنائیں گی آپ؟‘‘
    ’’ہیلی کاپٹر میں ride دیں گے آپ؟‘‘ اس نے الٹا سوال داغا۔
    ’’افسوس! میں civilians کو ride نہیں دے سکتا۔ ‘‘ اس نے سر جھکا کرکہا ۔
    ’’افسوس! میں اتنے لمبے آدمیوں کے miniature نہیں بنا سکتی ‘‘ فوراً جواب آیا۔
    دونوں پھر سے ہنسنے لگے ۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک چکر لگا کرپھر اسی دروازے کے پاس آنکلے جہاں سے و ہ برآمدے میں نکلے تھے ۔ تا دیر وہ وہاں خاموشی سے کھڑے رہے ۔ اندر ہال سے ہنسنے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں اور ان دونوں کے بیچ بہت بولتی ہوئی خاموشی آن ٹھہری تھی ۔
    ’’مجھے چلنا چاہیے۔‘‘ آخر ثنا نے کہا۔
    ’’پھر کب ملیں گی؟‘‘ فیصل نے بے تابی سے پوچھا۔
    ’’جب قسمت میں ہوا ۔‘‘ ثنا نے گویا بے نیازی دکھائی۔
    ’’خدا حافظ!‘‘ ثنا نے کہا۔
    ’’خدا حافظ ‘‘ فیصل نے بجھے دل سے جواب دیا ۔
    ثنا مڑ کر دروازے تک گئی تب اچانک اسے خیال آیا۔
    ’’ارے ہاں ! وہ سیلوٹ تو رہ ہی گیا۔‘‘ اس نے مڑ کر کہا۔
    فیصل جو پشت پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا، مسکرایا، بازو سیدھے کیے ، سر اونچا کیا اور زور دار قدم فرش پر دھمک کر سیلوٹ کیا ۔ بڑی پیاری مسکراہٹ ثنا کے چہرے پر طلوع ہوئی ۔ وہ مڑی اور دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    عطیہ نے زنیرہ کے کمرے پر دستک دی ۔ زنیرہ نے اٹھ کر دروازہ کھولا ۔
    ’’دروازہ لاک کر کے کیوں بیٹھی تھیں بیٹا ؟‘‘ عطیہ نے پوچھا ۔ جب کہ زنیرہ نے خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھا۔
    ’’ویسے ہی لاک ہو گیا امی۔ مجھے پتا نہیں چلا۔‘‘ اس نے با ت ادھوری چھوڑ دی
    ’’آؤ کھانا کھا لو! ‘‘ عطیہ نے اس کے ماتھے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔
    ’’آپ جائیں میں آتی ہوں ‘‘ وہ مڑتے ہوئے بولی
    ’’نہیں! تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گی ۔ دادی انتظار میں بیٹھی ہیں ۔‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام لیا۔
    عطیہ اسے لیے ڈائننگ روم میں آئیں تو دادی نے عینک کے پیچھے سے اسے غور سے دیکھا۔
    ’’ادھر آؤ زنیرہ میرے پا س بیٹھو۔‘‘ انہوں نے اپنی ساتھ والی کرسی تھپتھپائی ۔زنیرہ خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گئی ۔
    ’’بڑی کم زور ہو گئی ہے، سالوں کی مریض لگتی ہے ۔‘‘وہ اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے بڑبڑانے لگیں۔
    ’’بس آپ کو پتا ہے اماں یہ آج کل کی لڑکیاں کہاں اپنے کھانے پینے کا خیال کرتی ہیں ۔‘‘ عطیہ نے سلاد کی ڈش ان کے آگے کرتے ہوئے کہا ۔
    ’’بس اب یہ جتنے دن یہاں ہے اسے خوب کھلاؤ پلاؤ ۔ ہائے ہائے مجھے تو وہ بھینس بڑی یاد آتی ہے۔ وہ ہوتی تو اس کو خوب دودھ بالائی کھلاتے۔‘‘ دادی کی گاڑی یونہی کہیں سے کہیں جا نکلتی تھی۔
    ’’لو! وہ تو جب فیصل ہاسٹل گیاتھا تب ہی بیچ دی تھی ۔ایک وہی تھا دودھ کا شوقین ۔‘‘عطیہ نے پیار سے فیصل کا نام لیا۔
    ’’اے زنیرہ کب تک ہے تو یہاں؟ کتنے دن کے لیے آئی ہو ؟‘‘ دادی نے پوچھا
    ’’رہوں گی دادی کچھ دن ۔‘‘ زنیرہ نے آہستہ سے کہا۔
    دادی کچھ دیر اسے پرسوچ نظروں سے دیکھتی رہیں پھرآگے بڑھ کر اس کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے کندھے سے لگا لیا۔
    ’’تو کیوں پریشان رہتی ہے میری بچی ؟اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔ وہ دے گا تجھے اولاد۔ اس طرح دل سے لگا بیٹھے گی تو شوہر سے بھی دور ہو جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے اس کی دل جوئی کی۔
    زنیرہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔ کیا کہے کس فاصلے پر کھڑی تھی وہ اپنے شوہر سے اور کسی وجہ سے؟‘‘
    ’’ہر طرح کا علاج کر وا کر دیکھ لیا ۔ کبھی آئی وی ایف تو کبھی ہارمونز ، اب ریلکس کرو ۔ اللہ کرم کرے گا۔‘‘ عطیہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
    زنیرہ خاموشی سے کھانا کھاتی رہی ۔ کیوں نہیں بتادیتی وہ اپنے گھر والوں کو کہ وہ عامر کو چھوڑ آئی ہے ؟ وہ اپنے آپ سے ہی پوچھتی ۔ شاید اس وجہ سے کہ وہ ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتی ؟ شاید اس لیے کہ اس کے گھر والوں نے عامر کو عزت کے بہت اونچے درجے پر بٹھا رکھا تھا ۔ ان کی بیٹی اسے اولاد نہیں دے سکی اس نے اسے عزت سے گھر میں بسائے اور ہر طرح کا عیش فراہم کیا ۔ وہ جانتی تھی کہ اپنا کیس لڑنے کے لیے شاید اسے اپنے گھر والوں سے کوئی سپورٹ نہ ملے ۔ انہیں یہ بتانا کہ اس کا شوہر اس پر کسی دوسری عورت کو فوقیت دے رہا تھا ۔ اس کے پندار کے لیے ایک بہت بڑا تازیانہ تھا جو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر نہیں برسا سکتی تھی ۔ وہ گومگو کے عالم میں سب کی باتیں سنتی رہتی اور ایک ایک کی شکل دیکھتی رہتی ۔
    حمیرا اسے روز فون کرتی تھی۔ اس کی ایک ہی رٹ تھی: ’’اپنا گھر مت چھوڑو ۔واپس چلی جاؤ ‘‘
    زنیرہ نے اس کا فون اٹھانا چھوڑ دیا ۔ کمرے میں بندرہنے لگی ۔ نہ کہیں آتی جاتی ، نہ کسی آئے گئے کا سامنا کرتی ۔ عطیہ کو تشویش ہونے لگی ۔ انہوں نے کرید کرید کر پوچھنا شروع کیا ، نتیجہ یہ ہوا کی وہ ان کے پاس بیٹھنے سے بھی کترانے لگی ۔ عطیہ کا دل اسے دیکھ دیکھ کر پگھلتا تھا ۔ وہ ان کی پہلوٹھی کی اولاد تھی ۔ وہ ان عورتوں میں سے تھیں جو اپنے تواپنے، پرائے بچوں پر بھی جان چھڑکتی تھیں ۔ انہوں نے کبھی اپنے بچوں کو پھولوں کی چھڑی بھی نہ لگائی تھی ۔ زنیرہ ان کی شادی کے تین سال بعد پیدا ہو ئی تھی اور ان کی روکھی پھیکی زندگی میں بہار کا سندیسہ لائی تھی ۔ انہوں نے اسے بے حد لاڈ سے پالا تھا ۔ اس پر ذرا سی بھی آنچ برداشت نہ تھی ان کو اور صرف اسی پر کیوں ؟ اپنے تینوں بچوں کیلئے ان کایہی عالم تھا ۔ ہر ماں کا ہوتا ہے ۔ عادل سے ان کی اتنی دوستی تھی کہ وہ اپنی گرل فرینڈز سے انہیں ملوایا کرتا تھا اور فیصل، ان کا سب سے لاڈلا بچہ تھا۔ عادل کے برعکس وہ صرف پیار لیناہی نہیں جانتاتھا ، اسے پیار کرنا بھی آتا تھا ۔ جب کالج میں زنیرہ شدید بیمار ہوئی تھی تو چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا ۔ اپنی ساری چھٹیاں اس نے اپنی آپی کی پٹی سے لگ کر گزار دی تھیں ۔وہ ہسپتال جاکر بیٹھا رہتا ۔ ڈاکٹروں سے اس کی طبیعت کے بارے میں معلومات لیتا اور اس کی رپورٹس ڈسکس کرتا ۔ زنیرہ کی بیماری کی سمجھ نہ آتی تھی ۔ اس کے سب ٹیسٹ کلیئر تھے ۔ ان دنوں سرور کی پریشانی کا یہ عالم تھا کہ اکثر پورا پورا دن ایک چائے کے کپ کے سوا ایک کھِیل بھی ان کے منہ میں نہ جاتی ۔ عطیہ نماز پڑھنے کھڑی ہو تیں تو آنسوؤں سے ان کا دوپٹہ بھیگ جاتا ۔ دادی لمبے لمبے سجدے کرتیں لیکن بیماری پکڑ میں نہ آتی تھی ۔ان کے جگر کا ٹکڑا ان کے سامنے گھل گھل کر ختم ہورہا تھا۔
    پھر اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا۔ اس کی دوست حمیرا سید خاندان سے تھی ۔ نیکوکاروں ، بزرگوں اور ، اولیاء کا خاندان اور وہ اپنی امی کے ساتھ زنیرہ کا حال پوچھنے آئی ۔ اس کا حال تھا ہی کیا جو پوچھا جاتا؟ انہوں نے عطیہ اور سرور سے التجا کی:
    ’’پتا نہیں آپ لوگ ان چیزوں کو مانتے ہیں یا نہیں لیکن ہر طرح کا علاج آپ کروا چکے ہیں۔ علاج ضرور جاری رکھیے لیکن ایک دفعہ میرے ساتھ چل کر سید صاحب سے ضرور مل لیجئے ۔ میرے سسر کے بھائی ہیں ، نیک بزرگ ہیں ۔ شاید اللہ ان کی دعا میں برکت ڈال دے ۔‘‘
    ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ،عطیہ زنیرہ کو سید صاحب کے پاس لے گئیں ۔انہوں نے زنیرہ پر دم کیا اور پنج وقتہ نماز کے ساتھ نظرکی دعا پڑھنے کی تاکید کی ۔ خوراک میں کچھ احتیاط بتائی اور صبر کے ساتھ علاج جاری رکھنے کو کہا ۔
    الگے ہی دن زنیرہ کی طبیعت سنبھلنے لگی ۔ ماں باپ کے لیے یہ معجزہ تھا ۔ انہوں نے کبھی دم درود ، جھاڑ پھونک پر یقین نہ کیا تھا۔ اب اپنی اولاد کے لیے ہر جگہ ٹکریں مارتے رہے تھے ۔سید صاحب کے لیے ان کی شکر گزاری کی کوئی انتہا نہ تھی۔ دو تین مرتبہ وہ مزید ان کے پاس گئے۔ حتیٰ کہ زنیرہ مکمل طور پر صحت مند ہو گئی اور کالج جانے لگی ۔آہستہ آہستہ وقت نے ان کرب ناک یادوں کو دھندلا دیا۔
    عطیہ زنیرہ کو یوں گھلتے دیکھتی تھیں تو ان کا کلیجہ منہ کو آتا تھا ۔ وہ اس کی اداسی اور ڈپریشن کو اولاد سے محرومی کے دکھ کے کھاتے میں ڈالتی تھیں اور یہ وہ چیز نہیں تھی جو وہ اسے کہیں سے بھی لا دیتیں ۔
    بڑے دنوں بعد زنیرہ لاؤنج میں آکر ان کے پاس بیٹھی تھی تو عطیہ کھل اٹھیں ۔ فوراً ملازم کو چائے کا آ رڈر دیا ۔ سموسے لاؤ، رول فرائی کرو، وہ کیک بھی پڑا ہے فریج میں ۔۔۔
    ’’امی ! میں نے کل سید صاحب کو خواب میں دیکھا۔‘‘ زنیرہ نے ان کی بات کاٹ دی ۔
    ’’ کیا دیکھا ؟‘‘ عطیہ جہاں تھی وہاں رک گئیں۔
    ’’ میں نے دیکھا کہ وہ صحن دھو رہے ہیں۔‘‘ زنیرہ نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا تو عطیہ اور سرور نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔
    ’’ہمیں ان سے ملنا چاہیے ۔ ‘‘ عطیہ نے کہا ۔
    ’’ چلو میں لے چلتا ہوں ۔‘‘ سرور نے اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ’’ نہیں ابو! میں ان کے پاس اکیلے جانا چاہتی ہوں۔‘‘ زنیرہ نے اپنی بجھی ہوئی آنکھیں جھکا لیں۔
    عطیہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں سرور کو اشارہ کیا ۔ یہ ان کی چھوٹی سی بیٹی نہیں تھی جسے وہ ہاتھوں پر اٹھائے پھرتے تھے ۔ وہ اب خود مختار عورت تھی۔ اب اس کے معاملات میں دخل اندازی کرنا کرنا مناسب نہیں تھا۔
    ’’ ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہارا دل چاہے ۔ آج تو گاڑی فارٖغ نہیں ہے۔دادی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے ۔کل فیصل آ رہا ہے، تم چاہو تو اس کے ساتھ چلی جانا ورنہ خود ہی ہو آنا۔‘‘عطیہ نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔
    اگلے دن فیصل آیا تو ایک نئی خبر لایا۔
    ’’آپی میں آپ کے گھر سے ہوتا ہوا آرہا ہوں ، عامر بھائی سے کام تھا مجھے۔ وہ تو بڑے سخت بیمار ہیں۔‘‘
    زنیرہ خاموش رہی ۔ اس کی خاموشی کو سب نے محسوس کیا ۔
    ‘‘کیا ہوا عامر کو؟ ‘‘ عطیہ نے پوچھا
    ’’ٹائی فائیڈ!‘‘ اس نے اطلاع دی ۔
    ’’ ہائے! زنیرہ تمہیں اس نے نہیں بتایا کہ وہ اتنا بیمار ہے؟ تم یہاں سکون سے بیٹھی ہوں ۔ تمہیں فوراً اس کے پاس جانا چاہیے۔‘‘عطیہ نے بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھا۔
    زنیرہ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ عطیہ نے آنسوٹپ ٹپ اس کی گود میں گرتے دیکھا ۔
    ’’ زنیرہ!!!‘‘
    ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ جھٹکے سے اٹھی اور بھاگ کر انپے کمرے میں چلے گئی۔
    ’’فیصل!‘‘ تم آج ہی اس کو سید صاحب کے پاس لے جاؤ ۔پتا نہیں کیا بات دل میں چھپائے بیٹھی ہے۔ نہ منہ سے کچھ کہتی ہے نہ دل کا حال بتاتی ہے ‘‘۔انہوں نے ہول کر کہا۔
    فیصل بھی تشویش سے زنیرہ کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتا رہا ۔
    ’’ میں بات کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں ۔ آپ فکر نہ کریں ‘‘۔اس نے انہیں تسلی دی۔
    ٭…٭…٭




  • اردو سے پرہیز کریں — نوید اکرم

    اردو سے پرہیز کریں — نوید اکرم

    اردو سے پرہیز کریں۔ انگریزی لکھیں، انگریزی پڑھیں۔ انگریزی سنیں، انگریزی بولیں، انگریز بنیں، ترقی کریں۔ یہ نعرہ ہے ہمارے انگلش میڈیم نجی تعلیمی اداروں کا اور غلامانہ ذہن کے پڑھے لکھے لوگوں کا اور دیکھا جائے تو یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے کیوں کہ انگریزی لکھنے پڑھنے کے اتنے فوائد ہیں کہ میں آپ کو کیا کیا بتاؤں اور اردو لکھنے پڑھنے کے اتنے نقصانات کہ توبہ توبہ۔ توآئیے، بچوں کو انگریزی کے فوائد سے بہرہ ور کرنے اور اردو کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لئے عام طور پر کی جانے والی کوششوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
    ہمارے ہاں اپنی زبان بولنا اچھی خاصی باعثِ شرم بات ہے اور غیروں کی زبان بولنا باعثِ فخر۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی انگریزی پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں اور اس کا آغاز ہوتا ہے اپنے آپ کو امی ابو کی بجائے ماما پاپا کہلوانے سے۔ اب اردو پر عبور رکھنے والے تو ماما ‘ملازمہ’ یا ‘ماموں’ کو بھی کہتے ہیں اور جہاں تک پاپا کا تعلق ہے تو لسّی اور چائے کے ساتھ پنجابی زبان والے پاپے یعنی رس کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے مگر یہ چوں کہ اپنی قومی اور مادری زبانیں ہیں، اور مہذب کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان سے دور رہیں اس لئے ہمیں چاہیے کہ ماما اور پاپا کے ان مطالب پر بالکل دھیان نہ دیں اور اپنے آپ کو امی ابو کی بجائے ماما پاپا ہی کہلوائیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہم بہت بڑی غلطی کرتے ہیں جو اپنے بچوں کے نام اردو اور عربی میں رکھ دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نام کا انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ابھی تک مجھے اس بات کی سچائی کے شواہد تو نہیں ملے لیکن اگر خدا نہ خواستہ یہ بات درست ہوئی تو اردو کے نام بچوں کے لئے انتہائی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بچوں کے نام بھی انگریزی میں ہی رکھنے چاہئیں مثلاً یوسف کی جگہ جوزف (Joseph)، آفتاب کی جگہ سن (Sun)، اختر کی جگہ سٹار (Star)، نوید کی جگہ گڈ نیوز (Good News)، فرحت کی جگہ ہیپی نیس (Happiness)اور صبا کی جگہ بریز (Breeze) وغیرہ وغیرہ۔
    "ماما پاپا” سکھانے کے بعد اگلی باری آتی ہے بچوں کودیگر الفاظ اور جملے سکھانے کی۔ یہ الفاظ اور جملے بچوں کی زبان کی بنیاد ہوتے ہیں اور اگر یہ بنیاد اردو میں ڈال دی جائے تو خطرہ ہے کہ بچوں کو ساری زندگی اردو بولنے کی گندی عادت پڑی رہے گی۔ جہاں تک انگریزی کا تعلق ہے تو پورے پورے جملے تو شاذ ہی کسی کو آتے ہیں لہٰذا صرف اسم اور بعض اوقات افعال بھی انگریزی کے لے لئے جاتے ہیں اور جملے کی ساخت اردو کی ہی رکھی جاتی ہے۔ چناں چہ اب بچوں کو جوتے نہیں بلکہ شوز (Shoes) پہنائے جاتے ہیں۔ ان کے کپڑے نہیں ، ڈریسز (Dresses) ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ناک اور آنکھیں نہیں بلکہ فیس (Face) پر نوز (Nose) اورآئیز (Eyes) ہوتی ہیں۔ وہ ہاتھ نہیں دھوتے بلکہ ہینڈز (Hands) واش (Wash) کرتے ہیں۔ چڑیا نہیں اڑتی بلکہ سپارو (Sparrow) فلائی (Fly) کرتی ہے اور بچے کتابیں پڑھنے کی بجائے بکس (Books) ریڈ (Read) کرتے ہیں۔الغرض بچوں کو اردو سے دور رکھنے کی ازحد کوشش کی جاتی ہے، اور کرنی بھی چاہیے کہ یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے اور اپنی زبان سکھا کر بچوں کا مستقبل خراب تھوڑی کرنا ہے۔
    آئیے اب ہم ایک نظر انتہائی اہم چیز یعنی بچوں کے سکول پر ڈالتے ہیں۔ بچوں کو اعلی معیار کی تعلیم دلوانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں انگلش میڈیم سکول میں داخل کرایا جائے۔ اردو میڈیم سکول میں چوں کہ اردو کا راج ہوتا ہے اور بچے انگریزی کی بہ جائے اردو لکھنے اور بولنے لگتے ہیں، اس لئے ایسے سکول میں داخل کرانا بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انگلش میڈیم سکول کے نام سے بہ ظاہر یوں لگتا ہے کہ اس میں پڑھنے والوں کی انگریزی اچھی ہوتی ہوگی۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے مگر یہ سکول انگریزی اچھی کرنے سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ کہیں ہمارے طالب علموں کی اردو بہتر نہ ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ سکول والے انتہائی کم تنخواہوں میں ایسی اُستانیاں رکھتے ہیں، جو خود اردو سے نابلد ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے اپنے بھتیجے کی اردو کی کاپی دیکھی تو اس کی استانی نے ایسے رسم الخط میں ا، ب لکھی ہوئی تھی کہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ کسی انسان نے نہیں بلکہ روبوٹ نے لکھی ہوئی ہے اور وہ بھی ایسے روبوٹ نے جس میں خطِ مستقیم کے علاوہ کوئی اور خط کھینچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اب جب استانیاں ہی ایسی ہوں گی تو بچوں کا کیا حال ہوگا، اس کا ادراک ہر ذی شعور انسان بآسانی کر سکتا ہے۔
    دوسرا کام ان سکولوں میں یہ کیا جاتا ہے کہ بچوں کو گنتی بھی اردو میں نہیں سکھائی جاتی کہ کہیں بچے عام دکانداروں اور ریڑھی والوں سے سودے بازی کرنے اور سودا سلف خریدنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ سکول کے زمانے کی بات ہے کہ میری ایک عزیزہ نے مجھ سے میرے نمبر پوچھے۔ میں نے جواب دیا تین سو چونتیس۔ ان کا آگے سے سوال تھا کہ چونتیس کتنے ہوتے ہیں؟ پہلے تو میں ہکا بکا رہ گیا کہ بی اے کی طالبہ مجھ سے نرسری کے بچوں والا سوال کیوں کر رہی ہیں مگر پھر سارا ماجرا سمجھ آنے پر انہیں بتایا کہ چونتیس اپنی قومی زبان میں تھرٹی فور(Thirty Four) کو کہتے ہیں۔ ان موصوفہ کی طرح بعد میں اور بھی لوگوں سے پتا چلا کہ انہیں اردو میں گنتی صرف تیس تک آتی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ یہ انگلش میڈیم سکول اردو میں گنتی صرف تیس تک ہی سکھاتے ہیں۔ اس میں چھپی حکمت تو مجھے آج تک معلوم نہیں ہوسکی، لیکن اگر تیس تک گنتی سکھانے کی تکلیف بھی نہ کی جائے تو میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ آخر یہ غیروں کی زبان تھوڑی ہے جو ہم اس میں گنتی بھی سیکھیں۔ یہ تو اپنی زبان ہے اور اپنی زبان سیکھنا خالہ جی کا گھر تو ہے نہیں۔ فضول میں بچوں کو مشقّت میں ڈالنے کا کیا فائدہ۔
    اگلی اور سب سے اہم خاصیت ان سکولوں کی یہ ہے کہ ان کی انگریزی کی کتابیں تو بالکل انگریزوں والی ہوتی ہیں مگر اردو جیسی مشکل زبان کی کتابیں انتہائی آسان رکھی جاتی ہیں تاکہ بچوں پر اجنبی زبان سیکھتے وقت بوجھ نہ پڑے۔ بچوں کو انگریزی کی کتابیں پڑھا پڑھا کر اور اردو سے بے اعتنائی برت برت کر بچوں کو ایسا بنا دیا جاتا ہے کہ انہیں اردو کے مقابلے میں انگلش لکھنا، پڑھنا، سننا اور بولنا آسان لگنے لگتا ہے۔یہ چیزروشن مستقبل کی راہ میں انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ اس سے بچوں کو مغربی تہذیب کے قریب جانے اور مشرقی تہذیب سے دور ہونے میں بہت مدد ملتی ہے۔ وہ ساری زندگی انگریزوں کو ہی سنتے ہیں، انگریزوں کو ہی پڑھتے ہیں، انہی کو درست سمجھتے ہیں اور انہی کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں۔ اس طرح انگریزوں جیسا بننے میں کافی آسانی ہو جاتی ہے۔ اگر بچوں کو انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بھی سکھا دی جائے اور انہیں اردو لکھنا پڑھنا بھی آسان لگے تو وہ علامہ اقبال، اشفاق احمد، واصف علی واصف، قدرت اللہ شہاب، بانو قدسیہ، عمیرہ احمد اور دیگر مصنفین کو پڑھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اور جب وہ ان سب لوگوں کو پڑھیں گے تو ذرا سوچیں کہ ان کے لئے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اپنانا کتنا مشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ بچوں کو اردو سے دور ہی رکھا جائے۔اس کے علاوہ ایک اور چیز جس کی وجہ سے اردو سے پرہیز رکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اردو میں دینی علم کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ مزید یہ کہ اردو جاننے والوں کے لئے عربی سیکھنا بھی نسبتا آسان ہو جاتا ہے جس سے انسان قرآن پاک بھی بآسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ چناں چہ اگر بچوں کو اردو آسان لگتی ہو تو وہ دینی علم بآسانی حاصل کرسکتے ہیں اور یوں اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ دنیا کو چھوڑ کر اپنی آخرت بنانے میں نہ لگ جائیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ انہیں اردو مشکل ہی لگتی رہے۔ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔