Tag: کہانیاں

  • قرنطینہ ڈائری ۔ پندرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ پندرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری 

    (سارہ قیوم)

    پندرہواں دن:منگل 7 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج صبح فجر کے وقت بارش ہوئی۔ موسم مزید نکھر گیا۔ یوں تو جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے، فضا صاف ہو گئی ہے، آسمان زیادہ نیلا لگتا ہے اور تارے زیادہ چمکدار نہ ہوا میں آلودگی نہ ٹریفک کا شور۔ لگتا ہے قدرت بھی تنگ آگئی تھی۔ اب انسان جو زندگی کی ریس میں دوڑتے دوڑتے ہانپنے لگا تھا، اسے گھر بٹھا دیا ہے کہ میاں سانس لو اور زندگی پر غور کرو کہ ہے کیا شے۔ ہو سکے تو ایک نظر اپنے دل پر بھی ڈال لینا۔ پھر معلوم ہو گا کہ،

     تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

    موسم نشیلا ہو اور ہم ٹہلنے نہ نکلیں، ایسے بھی اب حالات نہیں۔ فریدہ آنٹی کے باغ کی سبزیوں کو محبت بھری (اسے لالچ بھری نہ سمجھا جائے، محبت اور ہوس میں فرق ہوتا ہے جی) نظروں سے دیکھا اور آگے چلی۔ گرین بیلٹ کے پاس ایک چھوٹا سا بھورے رنگ کا بہت پیارا کتا نظر آیا۔ اس کے پیچھے اس سے بھی پیارا ایک بچہ جو کُتے سے بمشکل دو انگل ہی اونچا ہو گا۔ آگے آگے کتا، پیچھے پیچھے بچہ اور سب سے پیچھے بچے کے ابا جو اپنے بچے اور کتے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ کتا یقینا پالتو تھا کیوں کہ بچہ اس سے مانوس تھا۔ بچے نے نیا نیا چلنا سیکھا تھا۔ اس کے لڑکھڑانے میں اس قدر پیارا پن تھا کہ بے اختیار دل چاہا گود میں اٹھا کر پیار کروں۔ پھر خیال آیا کہ کرونا کے دن ہیں، ایسی حرکت کو پیار نہیں اقدامِ قتل تصور کیا جائے گا۔ سو اس ارادے سے باز رہی۔

    آگے چلی تو ایک شہتوت کے درخت کے نیچے سے گزری۔ گہرے جامنی رنگ کے شہتوت سڑک پر بکھرے پڑے تھے اور ان کے رنگ سے سڑک کا وہ حصہ جامنی ہو چکا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ درخت کی اوپری شاخیں شہتوتوں سے لدی ہوئی تھیں۔ اس وقت وہاں کھڑے، شہتوت کے رنگ میں رنگی سڑک کو دیکھتے میرے ذہن میں ایک انوکھا خیال ابھرا۔ وہ یہ کہ جب میں بوڑھی ہو جاﺅں گی تو بال ڈائی نہیں کروں گی۔سفید رہنے دوں گی اور ان سفید بالوں پر پھلوں اور سبزیوں کے رنگوں سے لہر یئے یعنی Streaks ڈالوں گی۔ یہ خیال آتے ہی میرے ذہن نے تیزی سے ان چیزوں کی فہرست بنانی شروع کی جن کے رنگ خوبصورت اور یونیک ہوتے ہیں اور جو اپنا رنگ کپڑے اور بالوں پر چھوڑ جاتی ہیں۔ شہتوت کا رنگ، چقندر کا رنگ، جامن کا رنگ، آتشی گلابی گلاب کا رنگ، توری کے چھلکے کا رنگ، فالسے کا رنگ، سٹرابری کا رنگ اُف کس قدر خوبصورت لگیں گی ان رنگوں کی Streaks سفید بالوں پر۔ بہت سوچنے پر بھی مجھے کوئی ایسی چیز یاد نہ آئی جس کا رنگ فیروزی نکلتا ہو۔ خیر ایک مرتبہ میں ان رنگوں پر عبور حاصل کر لوں تو دو تین رنگ ملا کر فیروزی بھی بنا ہی لوں گی۔ پھر میں ان سفید بالوں کا اچھا سا ہیئرکٹ کرواﺅں گی، کیراٹن ٹریٹمنٹ کراﺅں گی اور ایک ماڈرن سی بڑھیابن کر پھروں گی۔ نیچرل ڈائی سے فائدہ یہ ہو گا کہ بالوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا اور جب ایک رنگ سے دل بھر جائے گا تو لیموں ملے پانی سے بال دھو کر رنگ کاٹ کروں گی اور کسی دوسرے رنگ کی Streaks کر لوں گی۔ کیسا؟

    ویسے یہ آئیڈیا پوری طرح نیا نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے نیچرل ڈائی والا آئیڈیا تو بے شک نیا ہے لیکن سفید بالوں پر فیروزی اور آتشی گلابی Streaks والا آئیڈیا مجھے پچھلے سال آیا تھا۔ جب یہ آئیڈیا میں نے ایک دوست، جو دوست ہونے کے ساتھ گائیڈ، مینٹور اور انسپائریشن بھی ہیں، کے ساتھ شیئر کیا تو وہ لمحے بھر کے لیے چپ کی چپ رہ گئیں، پھر انہوں نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا۔ ”سارہ! یہ اتنا چھچھورا آئیڈیا آپ کو کس نے دیا؟“

    ”کسی نے نہیں۔“ میں نے فخر سے کہا۔ ”یہ میرے اپنے ذاتی دماغ کی اختراع ہے۔“

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں متنوع خیالات کے لیے۔ ان انوکھے خیالات کے لیے جو زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں، کبھی جامنی، کبھی گلابی، کبھی فیروزی کبھی سبز۔ وہ خیالات جو کبھی فلسفے کی شکل میں آتے ہیں اور دماغ کا چمن ہرا رکھتے ہیں، کبھی محبت کی پھوار کی صورت دل اور تن من کو بھگو دیتے ہیں، کبھی دعا کے روپ میں جلوہ دکھاتے ہیں اور روح کو چھو لیتے ہیں اور کبھی کبھی چھچھورے بن کر آدھمکتے ہیں اور ایسی گدگدی کرتے ہیں کہ ہنسی روکے نہیں رکتی۔

    ویسے دیکھا جائے تو زندگی خود بھی تو کتنی ٹیکنی کلر چیز ہے۔ صرف خیالات ہی نہیں زندگی میں تجربات بھی تو کتنے انوکھے ہوتے ہیں۔ نت نئے ذائقے، اجنبی جگہوں کے سفر، انوکھے لوگوں سے ملاقات، احمقانہ غلطیاں، بے وقوفیاں، بے اختیار قہقہے اور کتنے ہی ایسے تجربات ہوتے ہیں کہ جو نہ ہوں توزندگی روکھی پھیکی بے رنگ اور سپاٹ ہو جائے۔

    نت نئے ذائقوں کا خیال آیا تو گھر میں رکھی شترمرغ کے گوشت کی وہ کڑاہی یاد آئی جو آج دوپہر میں پکائی تھی۔ میں اونٹ، ہرن، خرگوش، آکٹوپس، کیکڑا ہر وہ چیز چکھ چکی تھی جو حلال گوشت میں نایاب گنی جاتی ہے۔ ایک شترمرغ کے گوشت کی کسر رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ کچھ عرصہ پہلے مصطفی کے دوستوں نے شتر مرغ کا باربی کیو کیا اور کچھ گوشت میرے لیے بھیجا۔ ویسے شترمرغ کا انڈا تو میں کھا چکی ہوں۔ میری ایک دوست کا شترمرغ فارم ہے۔ ایک دن ہم پندرہ سولہ فرینڈز پکنک منانے اس فارم پر گئیں۔ لم ڈھینگ قسم کے شترمرغ قریب سے دیکھنے کے شوق میں پنجرے کے قریب گئے تو فارم کی مالکہ دوست نے وارننگ دی کہ قریب مت جانا یہ انتہائی بدمزاج جانور ہے۔ غصے میں آجائے تو منہ نوچ لے گا۔ اس کی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک شتر مرغ آنکھیں نکالتاہماری طرف جھپٹا۔شکر ہے کہ پنجرے میںبند تھا ورنہ شائد واقعی منہ ہی نوچ لیتا۔ سب سے بری اس کی چنگھاڑ ہے۔ یوں لگتا ہے کوئی زکام زدہ شیر دھاڑ رہا ہو۔ وہاں ہم نے شترمرغ کے انڈے کی بھجیا بنا کر کھائی۔ انڈا تو خیر کچھ خاص مزے کا نہ تھا ہاں گوشت البتہ مزے دار ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ گلتا دیر میں ہے۔ پینتالیس منٹ پریشر لگانا پڑتا ہے۔

    میری ایک اور دوست کو نت نئے ذائقوں کی کافی اور قہوے پینے کا شوق ہے۔ جن دنوں مصطفی ایف سی کالج میں پڑھتا تھا، میں روز صبح اسے کالج چھوڑ کر اس دوست کے گھر چلی جاتی تھی۔ وہاں پہلے ہم قرآن کے ایک رکوع کی تفسیر پڑھتے تھے ،پھر واک پر چلے جاتے تھے ۔ہر روز اس کے گھر میں کسی نئے ذائقے کی کافی یا قہوہ پینے کو ملتا بادام کی کافی، برازیلین کافی،Macedemia Nutکافی۔ کبھی ایلوویرا اور نیاز بوکے پتوں کا جوس اور کبھی عرق گلاب اور لیموں کا قہوہ۔ ایک مرتبہ اس نے ایک قہوہ پلوایا جس میں کچھ مانوس سی خوشبو تھی ۔معلوم ہوا موتیے کے پھولوں کا قہوہ ہے۔

    لیجئے موتیے کے پھولوں کا خیال آیا اور سامنے موتیے کی جھاڑی آگئی۔ میرے قد سے بڑی جھاڑی تھی اور اس پر بے حد خوبصورت پھول لگے تھے۔ دل چاہا ایک پھول توڑ لوں۔ پھر خیال آیا کہ کسی چیز کو ہاتھ لگا لیا تو پھر گھر جا کر ہاتھ دھونے تک چہرے کو نہ لگا سکوں گی۔ پتا نہیں یہ صرف میرے ساتھ ہوتا ہے یا سب کے ساتھ کہ جونہی کسی کام کے بارے میں کہا جائے کہ نہیں کرنا تو پوری کائنات وہ کروانے کے لیے ہاتھ دھو کرپیچھے پڑ جاتی ہے۔ چہرے کو ہاتھ لگانے کی مثال لیجئے۔ گھر میں صرف اخبار واحد چیز ہے جو باہر سے آتا ہے اور بغیر دھوئے استعمال ہوتا ہے۔ جونہی میں اخبار ہاتھ میں پکڑتی ہوں خیال آتا ہے کہ اب چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا اور یہ سوچتے ساتھ ہی چہرے پر کھجلی ہونے لگتی ہے۔ اُف سکون سے اخبار پڑھنا محال ہو جاتا ہے۔ کبھی آنکھوں میں جلن، کبھی ناک پر کھجلی، کبھی گال پر چبھن۔ یااللہ! کروں تو کیا کروں! اٹھ کر بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوتی ہوں۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہوں، چہرا اچھی طرح دوپٹے سے رگڑتی ہوں۔ پورا ایک منٹ انتظار کرتی ہوں کہ اب چہرے پر کچھ ہو تو صاف ہاتھوں سے کھجا لوں، کچھ نہیں ہوتا۔ جونہی اخبار دوبارہ اٹھاتی ہوں، کھجلی شروع۔ جانے کیا اسرار ہے۔ ہو نہ ہو ماموں اللہ بخش کی شرارت ہے۔

    ایک گھر کے سامنے سے گزری۔ اندر ایک ماں کو بچے تنگ کر رہے تھے۔ کسی بات پر ضد جاری تھی۔ ”پیدا ہوئے تھے تو انسان تھے۔“ ماں حیرت سے کہہ رہی تھی۔ ”بڑے ہو کر گدھے کیسے بن گئے؟“

  • قرنطینہ ڈائری ۔ تیرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ تیرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    تیرہواں دن، پیر6 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    یوں تو آج کل ہر روز چھٹی کا روز ہے، لیکن پھر بھی اتوار کو خاص طور پر منانے کا دل چاہتا ہے۔ کل میں نے بھی اتوار کو خاص طور پر منایا اور اپنے گھر والوں کو حلوہ پوری کا ناشتہ کروایا۔ چونکہ میرے میاں ڈاکٹر ہیں۔ اس لیے ہمارے گھر میں کھانے پینے اور خوراک کے کچھ اصول سختی سے لاگو ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ کھانا یا تو دیسی گھی میں بنے گا ےاکچی گھانی کے سرسوں کے تیل میں۔ سلاد اور بگھار کے لیے زیتون کا تیل استعمال ہو گا۔ میٹھے میں سفید چینی کا داخلہ گھر میں سختی سے بند ہے البتہ گُڑ، شکر اور شہد کے لیے ہمارے دروازے کیا کھڑکیاں بھی کھلی ہیں۔ یہی حال میدے کا ہے۔ میدہ آﺅٹ، چکی کا آٹا اِن۔ تو دوستو میں نے چنے آلو کی بھاجی بنائی، شکر ڈال کر سوجی کا حلوہ بنایا اور دیسی گھی میں آٹا گوندھ کر پوریاں بنائیں اور سرسوں کے تیل میں تلیں۔ بہت مزے کی بنیں۔ بچے بھی خوش ہوئے۔ میں بھی خوش ہوئی اور میاں صاحب تو بہت ہی خوش ہوئے۔

    ایک عام سے دن کو، جو آج کل باقی کے عام دنوں سے بالکل مختلف نہیں، اس تام جھام سے منانے کی غرض و غایت کیا ہے؟ نادر شاہ کے متعلق مشہور ہے کہ ہندوستان آیا تو ہاتھی کی سواری کا شوق ہو۔ ہاتھی پر سوار ہوا تو مہاوت سے کہنے لگا: ”عنانش بدستم بدہ“ (اس کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو۔)

    مہاوت نے جواب دیا: ”فیلِ عنان ندارد“ (ہاتھی کے لگام نہیں ہوتی)

    نادر شاہ یہ کہہ کر ہاتھی سے اتر آیا کہ: ”مر کے عنانش بدست غیر باشد سواری رانشاید۔“ یعنی جس مرکب کی باگ ڈور دوسرے کے ہاتھ میں ہو، وہ سواری کے لائق نہیں۔ 

    زندگی کا معاملہ بھی ہاتھی کی سواری کا سا ہے۔ نے ہاتھ باگ پر ہے نے پا ہے رکاب میں۔ کسی بات پر بس نہیں، سکی چیز پر زور نہیں اور آج کل تو ویسے بھی اس بے بسی کا عالم سوا ہے۔ کرونا نے گھروں میں بند کر رکھا ہے اور جس طرزِ زندگی کو ہم زندگی جانتے تھے، اب بالکل بدل چکا ہے۔ وقت کی لگام ہاتھ سے نکل چکی ہے اور ہم اس کی مرضی سے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ہم اور آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے وقت اور زندگی کو ہاتھ میں تھامیں اور اسے ایسے جئیں جیسے جینا چاہتے ہیں۔ جس چیز پر اختیار نہیں اس پر کڑھنا چھوڑیں اور جس پر اختیار ہے اسے اپنی مرضی سے برتیں۔ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں نا

    se of the situation. u Lets make the best ،کیوں کہ جو ہونا ہے، اس پر آپ ہنسیں یا روئیں، وہ تو ہونا ہی ہے۔

             جو خشکی سے دو کوس کا ہے سفر

             تو خشکی سے دو کوس کا ہے سفر

    ہاں جی! کر لو جو کرنا ہے۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں مزاحمت کی جبلت کے لیے۔ وہ جبلت جو مشکل کے بیل کو سینگوں سے پکڑنا سکھاتی ہے، جو جبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہونے کی ہمت دلاتی ہے اور جو مایوسی اور بے بسی کے اندھیرے میں اس امید کی شمع جلاتی ہے کہ ابھی سب کچھ کھویا نہیں گیا، اپنی زندگی کا کچھ اختیار اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

    جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے ہمارے بچوں کے ابا نے بچوں کو ایکسرسائز کروانے کا ایک نیا طریقہ نکالا ہے۔ عام دنوں میں تو بڑے بچے جِم چلے جاتے ہیں اور چھوٹے اپنے دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے۔ لیکن لاک ڈاﺅن کے دنوں میں سب بند ہے۔ اس عمر کے لڑکوں میں بہت انرجی بھری ہوتی ہے، نہ نکلے تو چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا انہیں مصروف رکھنے اور جسمانی طور پر چاق و چوبند رکھنے کے لیے ان کے ابا رات کو گھر کے سامنے انہیں فٹبال کی پریکٹس کرواتے ہیں۔ یہ پریکٹس یوں ہوتی ہے کہ بچے فاصلے سے ایک دائرے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو فٹ بال پاس کرتے ہیں۔ ابا کوچ، انسٹرکٹر اور ریفری بن کر دائرے کے بیچ میں کھڑے ہوتے ہیں۔ پریکٹس کے قواعد یہ ہیں کہ جو کھلاڑی بال کو کک لگانے میں ایک سے دوسرے قدم کا استعمال کرے، بال اسے چھو کر باہر نکل جائے یا وہ بال کو کک لگا کر اگلے کھلاڑی سے اتنی دور پھینکے جہاں تین قدم میں نہ جایا جا سکتا ہو تو اسے بطور سزا تین ڈنڈ نکالنے پڑتے ہیں ۔ایک ریگولر پریکٹس سیشن میں ایک بچے کے اٹھارہ بیس ڈنڈ ضرور ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر میں یہ پریکٹس ایک طرف بیٹھ کر دیکھتی ہوں اور اپنی لکھی جانے والی کہانیوں کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں ۔لیکن کل جب یہ بچے اپنے اپنے ڈنڈ کی تعریفوں میں رطب اللسان تھے، مجھے بھی جوش آگیا۔

    ”یہ کیا مشکل ہے؟ میں بھی کر سکتی ہوں۔“ میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

    جب سے مجھے شیاٹیکا کا مسئلہ ہوا ہے، میں اور میرے گھر والے میری کمر کے معاملے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔ مجھے وزن نہیں اٹھانے دیا جاتا، کوئی چیز گھسیٹنے نہیں دی جاتی، زیادہ دیر کھڑے رہ کر کام کرنے پر بھی میرے بچوں اور میاں کو اعتراض ہوتا ہے۔ اب جو میں نے ڈنڈ پیلنے کا ارادہ ظاہر کیا تو سب میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پہلے تو میرے بچوں نے مجھے اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن جب میں نے Core Strength ڈویلپ کرنے کے فوائد پر تقریر شروع کی تو وہ راضی ہو گئے اور سب میرے اردگرد یوں اکٹھے ہو گئے جیسے مجھے ہاتھوں میں تھام کر تین چار مرتبہ اوپر نیچے کریں گے اور بس ڈنڈ ہو جائیں گے۔

    ”ہٹ جاﺅ پیچھے۔“ میں نے حکم دیا۔ ”یوں لگ رہا ہے میں محاذِ جنگ پر جا رہی ہوں اور سب لوگ مجھے ہتھیار پہنانے لگے ہیں۔“

    میں نے اپنا دوپٹہ اتار کر مصطفی کو پکڑایا اور وہیں سڑک کے کنارے پانچ ڈنڈ نکالے۔ بچوں نے تالیاں بجائیں۔ میاں نے شاباش دی اور مجھے یوں لگنے لگا میں رستمِ زمان ہوں۔ اپنے اس کارنامے پر بہت فخر ہوا اور رات سونے تک پہلوان پہلوان سی فیلنگ آتی رہی۔

    یہ پہلوانی کی ڈینگ جو دماغ کو چڑھ گئی، اسے نکالنے کے لیے رات میں میرا ازلی و ابدی دشمن آموجود ہوا ۔یعنی مچھر۔ میں نے مچھر بھگاﺅ لوشن لگایا لیکن یا تو میرے گھر کے مچھر ڈھیٹ ہو گئے ہیں یا وہ لوشن جعلی تھا۔ جب جب میں میٹھی نیند کی وادی کے کنارے جھوم رہی ہوتی، کوئی منحوس مچھر راگ بھیرویں الاپتا میرے کان میں آموجود ہوتا اور میں جھٹکے سے اس وادی کے کنارے سے کھینچ لی جاتی۔ بہت مرتبہ لوشن لگایا، بدل بدل کر لگایا۔ تالیوں سے انہیں مار ڈالنے کی کوشش کی لیکن ان پر مطلق اثر نہ ہوا۔ آدھی رات کو مجھے کوئی اپنے منہ پر طمانچے مارتے دیکھ لیتا تو نہ جانے کیا سمجھتا۔ مچھروں کی راگ بھیرویں کے ساتھ میری تالیوں کا طبلہ جاری تھا کہ ابراہیم صاحب بھنگڑا ڈالنے آن پہنچے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ابراہیم کو بچپن سے نیند میں چلنے کی بیماری ہے۔ وہ نیند میں اٹھ کر باتیں کرتا ہے، لڑتا جھگڑتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچ جاتا ہے اور کسی بھی بھائی کے کمرے میں جا کر اس کے ساتھ بستر میں گھس کر سو جاتا ہے۔ اس عالم میں آپ اسے لاکھ روکیے، جگانے کی کوشش کیجئے، اسے کچھ پتا نہیں چلتا۔ نہ ہی صبح اٹھ کر کچھ یاد رہتا ہے۔ آج یہ حضرت جو ساتھ والے کمرے میں شب باش تھے اٹھ بیٹھے اور لگے چلانے۔ ”عمر سے دور رہوں گا۔ عمر سے دور۔ دور۔ دور۔“ یقینا خواب میں عمر سے لڑائی ہو رہی تھی۔ یہ ارشاد فرما کر میرے کمرے میں وارد ہوئے۔ پہلے تو سیدھے باتھ روم کی طرف گئے، وہاں سے یوٹرن لے کر داخلی دروازے کی طرف لپکے ، عین اس کے قریب پہنچ کر ارادہ بدل دیا اور میرے بستر میں آن گھسے۔ میری گردن میں بازو ڈال کر ایک ٹانگ میرے اوپر رکھی اور مجھے چمٹ کر سو گئے۔ میرے کان میں ننھی منی خراٹیاں گونجنے لگیں۔ ایک مچھروں کی بلا، اوپر سے یہ جکڑ کہ کروٹ لینا تو دور کی بات میں ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس بے بسی کے عالم میں بہت دیر لیٹی رہی اور آنکھیں جھپکتی رہی۔ بڑی دیر بعد آخر کچن میں کچھ کھٹر پٹر کی آواز آئی۔ یہ عمر تھے۔ ان صاحب کو آدھی رات کو بھوک ستاتی ہے اور یہ اٹھ کر پکانے ریندھنے کی فکر میں کچن میں جا دھمکتے ہیں۔

    کچن میں آوازیں سن کر میں نے سوچا کہ عمر کو بلا کر کہوں کہ لاﺅنج میں لگا مچھر مار لیمپ میرے کمرے میں لاکر لگا دے۔ میں نے عمر کو آواز دی۔ تھوڑی دیر بعد عمر اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتا میرے کمرے میںآ موجود ہوا۔ عمر کی عادت ہے کہ جب میرے کمرے میں آتا ہے (اور اگر میں اسے لیٹی ہوئی ملتی ہوں) تو میری ٹانگیں یا پاﺅں ضرور دباتا ہے۔ اب بھی اس نے آکر یہی کیا۔ ٹٹول کر اندازے سے میری ٹانگ پر ہاتھ رکھا اور جو زور سے دبایا تو ٹانگ ہلی اور اٹھ کر چل پڑی۔

    ”یہ کیا ہے؟ یہ کون ہے؟“ عمر اندھیرے میں گھبرا کر چلایا۔

    ”عمر سے دوردوردور۔“ ٹانگ جواباً چلائی۔

    ابراہیم کی آواز پہچان کر عمر نے اسے بازو سے پکڑا اور مارچ کراتا اپنے کمرے تک لے گیا۔ گھر میں سب کو معلوم ہے کہ اس عالم میں سختی یا کھینچا تانی یا جگانے کی کوشش نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ہر کوئی SOP (Standard Operating Procedure) پر عمل کرتا ہے۔

    بارے کہیں جا کر کمرے میں لیمپ لاکر لگایا گیا، ابراہیم بحفاظت اپنے کمرے میں پہنچائے گئے اور مجھے نیند کی وادی میں قدم رکھنا نصیب ہوا۔ اب خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک ویران بیابان میں ایک بہت بڑے پنجرے کے سامنے کھڑی ہوں اور عین میرے سامنے پنجرے کے اندر ایک دیوہیکل شیر چنگھاڑ رہا ہے۔ اس ہیبت ناک شیر کے دو سر ہیں اور ان دو سروں کی چنگھاڑوں سے کل عالم لرز رہا ہے۔ میں اس عفریت کو خاموش کرانے کے لاکھ جتن کرتی ہوں لیکن وہ سر پٹک پٹک کر دھاڑے جاتا ہے۔ یکایک ایک چنگھاڑ اس نے ایسی ماری کہ دہل کر میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ اندھیرا ہے، میرا کمرا ہے، میں اپنے بستر پر ہوں اور شیر ہے کہ دھاڑے جا رہا ہے۔ اب جو نظر پھیر کر اس چنگھاڑ کے منبع کی طرف دیکھا تو اپنا ہی میاں نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ جس چنگھاڑ کو میں خواب میں دو مونہوں والے شیر کی دھاڑ دیکھ رہی تھی وہ میرے میاں صاحب کے خراٹے تھے۔ عام طور پر وہ خراٹے نہیں لیتے لیکن آج لے رہے تھے اور اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ رہے تھے۔ شاید یہ صبح میں کھائی حلوہ پوریوں کا اثر تھا یا شاید آج قدرت کو مچھروں، نیند میں چلتے بچوں اور خراٹوں سے میرا امتحان لینا مقصود تھا۔ واللہ اعلم۔

    ساری رات اس غل غپاڑے سے جھوجھنے کے بعد کہیں تیسرے پہر میری آنکھ لگی اور صبح اپنے وقت پر کھل گئی۔ اٹھ کر آئینے میں اپنا چہرا دیکھا تو آنکھوں کے نیچے حلقے پڑے تھے۔

            اک میری اکھ کاشنی

           دوجا رات دے اُنیندرے نے ماریا

            وے اک میری اکھ کاشنی

    لیکن چہرے پر کاشنی آنکھ کے علاوہ بھی کچھ تھا۔ مچھروں کے کاٹے کے نشانات ، اور وہ بھی ایک دو نہیں پورے دس۔

    میرے میاں صاحب نے یہ نشان دیکھے تو گھبرا کر پوچھا۔ ”تمہیں اتنے مچھر کیسے کاٹ گئے؟“

    ”اصل میں میں بہت سوئیٹ ہوں۔“ میں نے انکسار سے کہا۔ ”میرا خون میٹھا ہے، مچھر resist نہیں کرسکتے۔“

    لیکن یہ خوشخبری سن کر بھی ان کی تسلی نہ ہوئی اور وہ دوپہر تک مجھے وٹامن سی کی گولیاں کھلاتے رہے۔

    شام کو میری ایک نند کا فون آیا۔ کہنے لگیں: ”بیٹا پالک بنائی ہے۔ رائیڈر کے ہاتھ بچوں کے لیے بھیج رہی ہوں۔“ جی میں آئی کہ منع کر دوں کہ یہ تکلیف نہ کریں۔ کیوں کہ معلوم تھا کہ گھر میں میرے علاوہ کوئی نہ کھائے گا۔ لیکن کہہ نہ سکی اور شکریہ ادا کر کے فون بند کر دیا۔ ویسے بھی ان کا پالک پنیر مجھے پسند ہے۔ واک پر نکلنے سے پہلے بچوں کو بتایا کہ پھپھو پالک بھیج رہی ہیں، ریسیو کر لینا۔ بچوں نے پالک کا نام سن کر ناک بھوں چڑھائی اور بے دلی سے ریسیو کرنے کا وعدہ کیا۔ میں واک سے واپس آئی تو مصطفی کو سامنے کھڑا پایا۔ اس نے خوشی سے مجھے بتایا: ”پالک پنیر نہیں ہے پالک گوشت ہے۔ ساتھ میں کباب، رول اور سموسے بھی ہیں۔“

    رات کو ان نعمتوں کو اپنے دستر خوان پر سجے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اچھا ہوا منع نہیں کیا۔ میں نے خود ہی سے اخذ کر لیا تھا کہ یہ پالک پنیر ہو گا جب کہ وہ مجھے دعوتِ شیراز بھیج رہی تھیں۔

    اے میرے مہربان رب! ہم تیری نعمتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔ انہیں حقیر جانتے ہیں، نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے ساتھ کس قدر خیر اور کتنا انعام لائی ہیں۔ ہم وہ مانگتے ہیں جسے ہم اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں، اس پر راضی نہیں ہوتے جو تو دینا چاہتا ہے۔ 

    ہم اپنے لیے ایک پھول مانگتے ہیں اور اسی کی ضد پر اڑے رہتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ تُو تو ہمیں پھولوں کا پورا ٹوکرا دینا چاہتا ہے۔ اے رزق دینے والے، اے نعمت دینے والے ہم نہیں جانتے اور تو جانتا ہے، ہم نہیں سمجھتے اور تو سمجھتا ہے۔ لے ہم تیری رضا میں راضی ہیں، تجھ سے ملنے والی چھوٹی سی چھوٹی نعمت کو بھی آنکھوں سے لگاتے ہیں اور سر پر بٹھاتے ہیں۔ ہمیں ہر وہ نعمت دے جو تیرے خزانوں میں اعلیٰ و ارفع ہے اور اسے ہمارے دلوں کی خوشی اور تسکین کا باعث بنا۔ آمین یا رب العالمین۔

    ٭….٭….٭

     

  • قرنطینہ ڈ ائری . بارہواں دن

    قرنطینہ ڈ ائری . بارہواں دن

    قرنطینہ ڈ ائری

    (سارہ قیوم)

    بارہواں دن، ہفتہ 4 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج دادو کی پہلی برسی ہے۔ دادو کون تھیں؟ ہماری کیا لگتی تھیں؟ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ رام پور کے نواب کے خاندان سے تھیں۔ ان کے میاں انڈین سول سروس میں تھے اور تقسیم کے بعد لاہور آبسے تھے جہاں نوجوانی میں ان کا انتقال ہوا اور وہ تین چھوٹے چھوٹے بچے اپنی کم عمر بیوی کو سونپ کر راہی ملکِ عدم ہوئے۔ اب رہا دوسرا سوال کہ وہ ہماری کیا لگتی تھیں تو اس کا جواب ذرا پیچیدہ ہے۔ دادو سے ہمارا خون کا کوئی رشتہ نہ تھا۔ وہ میری چھوٹی بہن کی ساس تھیں۔ سنتے تھے جوانی میں بہت حسین اور خوش لباس تھیں لیکن جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو بوڑھی اور نحیف ہو چکی تھیں۔ وہ دنیا کی ان معدودے چند ساسوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے اپنی بہو کے خاندان کو دل سے اپنا لیا تھا۔ بہو کی ماں، بہن بھائی، خالہ، ماموں، چچا غرض ہرایک سے اس قدر محبت سے ملتیں اور اتنی عزت سے پیش آتیں کہ گرویدہ کر لیتیں۔ اس عزت و محبت میں تصنع کا شائبہ تک نہ تھا اور بناوٹ نام کو نہ تھی۔

    میرے بچے خالہ کے گھر اپنے کزنز سے کھیلنے جایا کرتے تھے۔ وہاں ایک ملازمہ تھیں جنہیں سب گھر والے اماں کہتے تھے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ اماں جو خود بھی عمر رسیدہ تھیں دادو کو دادو کہہ کر پکارتی تھیں اور جواب میں دادو انہیں اماں کہتی تھیں۔ اس باہمی عزت افزائی کے ماحول میں میرے بچے بھی انہیں دادو کہنے لگے۔ حالاں کہ ان کے اپنے پوتے انہیں دادی امی کہہ کر بلاتے تھے لیکن ہمارے بچوں پر اور ان کی دیکھا دیکھی ہم میاں بیوی پر لفظ دادو کا رنگ ایسا چڑھا کہ آخر دم تک قائم رہا۔

    انہیں بلیوں سے بہت محبت تھی۔ جوانی سے بلیاں پالتی آئی تھیں۔ ایک مرتبہ لاﺅنج میں اپنی بلی سے یوں گفتگو کرتی پائی گئیں۔

    ”شش! ارے کہاں سے دوں؟ دودھ ختم ہو گیا ہے۔ ہاں ہاں میں دیکھ آئی ہوں فریج میں۔ نہیں پڑا کچھ بھی وہاں۔ اچھا دیکھو ابھی بھیا دفتر سے آئیں گے تو ان سے کہوں گی وہ لا دیں گے دودھ۔“

    ”میاﺅں۔“

    ”اری چپ! دیکھ زیادہ شور کیا تو بھابھی خفا ہوں گی۔“

    بلی کی مذکورہ بھابھی یعنی میری بہن نے کہا۔ ”امی دودھ تو پڑا ہے فریج میں۔“

    سرگوشی میں بولیں: ”ہاں ہاں! میں تو ویسے ہی اسے کہہ رہی ہوں۔ ضد کرتی ہے نا پھر۔“

    ایک مرتبہ بہت شدید آندھی آئی۔ درخت اکھڑ گئے، دیواریں گر گئیں۔ اس آندھی کے ساتھ اڑ کر کہیں سے بلی کے تین نومولود بچے بھی آگئے ۔ یوں لگتا تھا انہیں دنیا میں آئے ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کیوں کہ ان کی آنکھیں ہنوز بند تھیں، منہ سے میاﺅں میاﺅں کے بجائے چوں چوں کی آواز نکلتی تھی اور ان میں ابھی ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی سکت نہ آئی تھی۔ وہ پیٹ کے بل ہمارے پورچ میں رینگ رہے تھے۔ بہت دیر میں اور میرے بچے ان بلی کے بچوں کے گرد کھڑے انہیں دیکھتے رہے کچھ سمجھ نہ آتا تھا ان کے ساتھ کیا کریں۔ اتنے میں گیٹ کھلا اور چھوٹی بہن کی گاڑی اندر آئی۔ اس نے جو آکر بلی کے بچے دیکھے تو بولی۔ ”اگر ان کی ماں نہ آئی تو یہ تو مر جائیں گے۔ اچھا! انہیں اپنی ساس کے پاس لے جاتی ہوں۔ وہ بلیوں پر ایکسپرٹ ہیں۔ شاید کچھ بتا سکیں کہ ان کا کیا کریں۔“

    یہ وہ زمانہ تھا جب دادو اپنے بڑے بیٹے کے عین جوانی میں انتقال کے بعد ڈپریشن میں جا چکی تھیں۔ Demantia ان کے دماغ میں اپنے پنجے گاڑنا شروع ہو چکا تھا۔ وہ بے حد بیمار اور صاحبِ فراش تھیں۔ کھانا پینا برائے نام رہ گیا تھا اور بستر سے اٹھ نہ سکتی تھیں۔ میری بہن بلی کے بچوں کو ایک جوتوں کے ڈبے میں ڈال کر گھر لے گئی۔ جب دادو نے ان ستم رسیدہ بن ماں کے بچوں کو دیکھا تو گویا کسی نے ان میں نئی زندگی پھونک دی۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھیں جب ان پر کسی ذمہ داری کا بوجھ نہ تھا۔ لیکن ذمہ داری صرف بوجھ نہیں ہوتی ۔ خود کو کسی کی ضرورت بنتے دیکھنا بڑا خوش کن احساس ہوتا ہے۔ اس احساس نے دادو کو بستر سے اٹھا بٹھایا۔ فوراً دودھ منگایا، روئی منگوائی اور روئی کو دودھ میں بھگو کر بلی کے بچوں کے منہ میں دودھ ٹپکایا۔ بچے اتنے چھوٹے تھے کہ یہ عمل ہر آدھے گھنٹے بعد کرنا پڑتا تھا۔ دو دن کے اندر نہ صرف بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئیں بلکہ دادو کی بجھتی آنکھوں میں بھی زندگی کی جوت لوٹ آئی۔ بلی کے یہ بچے خوب پھلے پھولے اور جوان ہونے تک دادو کے پاس رہے۔

  • قرنطینہ ڈائری . گیارہواں دن

    قرنطینہ ڈائری . گیارہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    گیارہواں دن: جمعتہ المبارک 3اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج پھر جمعہ گھر پر پڑھا۔ مصطفی نے اقامت کہی، عماد نے امامت کی اور لیجئے جمعہ ہو گیا۔ عام طور پر میں جمعہ اہتمام سے مناتی ہوں۔ آج بھی میں نے گھر چمکایا، خوشبو میں بسایا، نہا د ھو کر نیا جوڑا پہنا۔ سنت منانے کو سرمہ بھی لگایا۔ لیکن اس جمعے میں جمعے والی بات ہی نہ تھی۔ وہ صبح بچوں کے شلوار کرتے استری کیا جانا، وہ بچوں کو ”اٹھو جمعہ نکل جائے گا“ کہہ کر جلدی جلدی جگانا، وہ بچوں کا لپک جھپک تیار ہونا اور بھاگم بھاگ جانا، وہ عماد کا ہمیشہ سب سے پہلے اکیلے ہی چلے جانا تاکہ پہلی صف میں جگہ ملے، وہ عین وقت پر عمر کے جوتوں کا کھو جانا، وہ ابا کا گیٹ پر کھڑے ہو کر آوازیں لگانا، وہ عمر کا جوتوں کی تلاش میں ایک ایک پلنگ کے نیچے گھسنا اور آخر میں جلدی میں میری چپل اڑس کر دوڑ جانا آج ان میں سے کوئی بھی رونق نہ تھی۔ بچے چپ چاپ لاﺅنج میں جمع ہوئے۔ کسی نے جینز پہن رکھی تھی، کوئی نائٹ سوٹ کا پاجامہ پہنے ہوئے تھا۔ عمر صاحب نیکر ہی میں چلے آئے۔ میرے گھورنے پر نیکر گھسیٹ کر گھٹنوں سے نیچے کی اور اشارے سے تسلی دی کہ فکر نہ کریں ستر ڈھکا ہوا ہے۔ تو یوں بس چپ چاپ ہم نے نماز پڑھی اور نماز کے بعد بچے منہ لٹکائے اپنے اپنے کمروں کو سدھارے۔

    سید علی ہجویری کشف المحجوب میں فرماتے ہیں: ”صوفی کا امتیازی وصف یہ ہے کہ ماضی کا غم نہ کرے اور مستقبل کی فکر نہ کرے۔“ آج جمعے کی نماز کی نیت باندھتے ہوئے مجھے جب گزرے جمعوں کا خیال آیا تو ساتھ یہ بھی خیال آیا کہ نہ وہ وقت رہا تھا، نہ یہ رہے گا۔ یہ وبا ختم ہو جائے گی، مسجدیں پھر سے آباد ہو جائیں گی، جمعے کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔

    تو ڈیئر ڈائری آج میں شکر گزار ہوں زندگی کے اس سبق کی جو وقت کی گردش ہمیں سکھاتی ہے۔ اس اطمینان کے لیے میں بے حد مشکور ہوں جو اللہ کی پلاننگ میں راضی ہو جانے سے ملتا ہے۔ میں گزرے ہر جمعے کو محبت او رتشکر سے یاد کرتی ہوں اور آنے والے ہر جمعے کے لیے پرامید ہوں ۔ تو آﺅ ہراس اور وسواس کی اس گھڑی کو اس امید پر گزاریں کہ یہ وقت گزر جائے گا اور آﺅ کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی سے یہ سوچ کر مسرت کا رس کشید کریں کہ یہ گھڑیاں سدا نہ رہیں گی۔

    سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں

    سدا نہ ماپے، حسن، جوانی، سدا نہ صحبت یاراں

    (باغوں میں بلبل ہمیشہ نہیں بولے گی نہ ہی بہار سدا ٹھہرنے رہنے والی ہے۔ نہ ماں باپ سدا رہیں گے، نہ حسن، نہ جوانی اور نہ ہی عزیز دوستوں کی محفلیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔)

    آج کے اخبار میں بہت سی اچھی خبریں ہیں۔ ایک خبر تو یہ ہے کہ زمین کے اوپر اور زون کی تہہ کے سوراخ بھرنا شروع ہو گئے ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے۔ انسان نے دھوئیں اور کاربن کی برچھی ہاتھ سے رکھی ہے تو فطرت اپنے زخموں پر ٹانکے لگانے لگی ہے اور اس کے گھاﺅ بھرنے لگے ہیں۔ آسمان شفاف ہو گیا ہے اور تارے مزید چمکیلے اور روشن۔ شاید قدرت کو اس وبا سے یہی کام لینا مقصود تھا۔

     دوسری خبر یہ ہے کہ چین میں حکام نے کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔ ویسے تو یہ اچھا ہوا لیکن اب ہم سمبا کے دشمنوں کو کیسے ڈرائیں گے؟ پہلے تو ہم انہیں دھمکاتے تھے کہ بھئی دیکھو آدمیت کے جامے میں نہ آئے اور ہمارے سمبا کو یونہی مارتے پیٹتے رہے تو ہم تمہیں اٹھا کر چین بھیج دیں گے۔ وہاں لوگ بلیوں کے کباب کھاتے ہیں۔ یہ سن کر دشمنوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے اور وہ دم دبا کر بھاگ جاتے تھے۔ کچھ یہ بھی کہ زبانی دھمکیوں کے ساتھ ہم انہیں ہاتھ میں پکڑے کنکروں سے بھی سمجھاتے تھے۔

    آج دو دن ہو گئے ہیں سمبا مجھ سے ناراض ہے۔ نہ میری طرف دیکھتا ہے نہ بات کا جواب دیتا ہے۔ بلاتی ہوں تو بے اعتنائی سے منہ موڑ کر آگے چل پڑتا ہے۔ پرسوں میں نے اسے ایک بلی پر حملہ کرنے کے جرم میں ڈانٹا تھا اور جب ابا آئے تھے تو ان کو بھی شکایت لگائی تھی۔ انہوں نے بھی اس کی گوشمالی کی تھی۔ لہٰذا اب سمبا صاحب مجھ سے منہ پھلائے پھر رہے ہیں۔ دیکھتی ہوں کتنے عرصے تک ان کی یادداشت ساتھ رہتی ہے اور کب تک روٹھے رہتے ہیں۔

    بلیاں ویسے بھی بہت مغرور اور خودپسند ہوتی ہیں۔ بات بات پر روٹھ جاتی ہیں۔ ویسے روٹھتے تو میں نے کئی اور جانوروں کو بھی دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ چڑیا گھر میں بندروں کے پنجرے میں ایک ننھے منے بندر کو اپنی ماں سے روٹھ کر کونے میں بیٹھا دیکھا۔ ماں منانے جاتی تھی تو صاحبزادے مزید روٹھ کر دوسرے کونے میں جا بیٹھتے تھے اور رونکھے ہو کر ماں کو مٹر مٹر کر دیکھتے تھے ۔ اور ماں کا یہ حال تھا کہ

    ان کو آتا ہے پیار پر غصہ

    ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے

    کئی مرتبہ چڑیوں کو روٹھتے دیکھا۔ میرے کمرے میں لکھنے کی میز اور کرسی کھڑکی کے ساتھ رکھی ہے۔اس میز پر میرا آدھا وقت لکھنے میں گزرتا ہے اور باقی آدھا کھڑکی سے چڑیوں کو دیکھنے میں۔ چڑے معصوم ہوتے ہیں اور چڑیاں تیز طرار۔ ناراض ہو جائیں تو خوب لڑتی ہیں اور پھر ناراض ہو کر منہ پھیر کر چل پڑتی ہیں۔ چڑا منانے جائے تو اس بے چارے کو ٹھونگیں مارتی ہیں۔ انہیں دیکھتے ہوئے مجھے اکثر بچپن میں پڑھی وہ کہانی یاد آتی ہے جس میں چڑے نے ساری کھچڑی کھا جانے پر چڑیا کو ڈنڈی سے مارا تھا اور چڑیا اٹو اٹی کھٹو اٹی لیے کونے میں پڑ گئی تھی۔ چڑا بازار جا کر گندم لایا تھا اور چڑیا سے فرمائش کی تھی کہ پیس دے۔ گندم پیسنے سے لے کر روٹی بنانے تک ہر فرمائش کا جواب چڑیا نے یوں دیا تھا۔ ”ماری ٹونی کونے ڈالی، اب کہتے ہو گندم پیس دوں۔ دور موئے میں کیوں پیسوں؟“ اور آخر کار جب سب مرحلوں سے گزر کر چڑے نے روٹی پکا کر چڑیا کو کھانے کی دعوت دی تھی تو وہ پھرُر سے اڑی تھی اور چہک کر بولی تھی۔ ”واری سیاں پھیری سیاں میں کب تم سے روٹھی تھی؟“

    انہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ زندگی کا اس سے بہتر کیا مصرف ہو سکتا ہے کہ روٹھنے منانے میں گزاردی جائے۔ ایک گھونسلہ ہو، اس میں زندگی کا ساتھی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہوں۔ اس چھوٹی سی دنیا کا ہر محبوب اپنے چاہنے والے سے روٹھ جائے اور پھر بہت مان اور ادا اور نخرے سے مڑ مڑ کر اسے دیکھے اور ہر محبت کرنے والا بڑے لاڈ سے اپنے روٹھے محبوب کو منائے اور اس سرشاری کا لطف اٹھائے جو مان رکھنے اور منا لینے میں ہوتی ہے۔

    اے میرے پیارے اللہ! اے میرے مالک، میرے ہمدم، میرے محبوب! تیری کرسی عرش سے اوپر، کائنات سے اونچی ہے لیکن تیرا تصور میرے دل کی گہرائیوں میں رہتا ہے۔ تیری محبت میرے خیال کے دامن میں موتیوں کی طرح دمکتی ہے۔ وہ محبت جو تجھ سے بھی زیادہ تابناک ہے، کیوں کہ اس کو میں اپنی سرخوشی سے اور اپنے آنسوﺅں سے سجاتی ہوں۔ اے میرے محبوب تو محیط ہے تو مقیت ہے، تو ازل ہے تو ابد ہے لیکن اپنی رات کی تنہائیوں کے کسی پل میں میں تجھے پا لیتی ہوں۔ اس پل پر ازل سے لے کر ابد تک کے تمام زمانے قربان۔ اے میرے محبوب تو معبود ہے، تو مسجود ہے، تو مقصود ہے، تو موجود ہے ۔اور اگر میں کہیں دنیا میں تجھے اپنے سامنے موجود پاتی تو کبھی روٹھا نہ رہنے دیتی ۔تیری طرف آنکھوں کے بل آتی، تیرے پیروں سے لپٹ جاتی، اپنے آنسوﺅں سے تیرا دامن تر کر دیتی، اپنا دل نکال کر تیرے قدموں میں رکھ دیتی ۔اور پھر اس سرشاری اور وارفتگی سے آشنا ہوتی جو روٹھے محبوب کو منانے سے ملتی ہے۔ اے میرے محبوب تو ظاہر ہے تو باطن ہے، تو حیی ہے تو قیوم ہے۔ تجھے باہر ڈھونڈنے کی مجھے کیا ضرورت؟ شکر ہے کہ تو میری شہ رگ میں رہتا ہے ورنہ تجھے منانے کے لیے مجھے کتنے کشٹ اٹھانے پڑتے۔

    ٭….٭….٭

     

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دسواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ دسواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    دسواں دن: جمعرات 2 اپریل 2020ئ

    ڈیئر ڈائری!

    جب سے پارک کو تالا لگا ہے۔ میں ہر روز واک کے لیے ایک نیا رستہ اختیار کرتی ہوں۔ کل بی بلاک کی سیر کی تھی۔ آج ایف بلاک کا چکر کاٹ کر ای بلاک کی طرف نکل گئی۔ ای بلاک نری بھول بھلیاں ہے۔ چھوٹی چھوٹی گلیاں بڑی سڑک کی طرف نکلتی ہیں اور ہر گلی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ہے۔ نشانی کے لیے میں نے ابراہیم کے دوست عبداللہ کا گھر رکھ چھوڑا ہے جس کے ماتھے پر ماشا اللہ لکھا ہے۔ عبدللہ کے نہیں، اسکے گھر پر۔ تو کبھی میں اس گھر سے دو گلیاں پہلے مڑ جاتی ہوں، کبھی ایک گلی آگے کا راستہ لیتی ہوں۔ آج میں جس گلی سے گزری وہاں میں نے بہت خوبصورت گھر دیکھے۔ ایک گھر مکمل طور پر پھولدار بیلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں اپنا فون کیوں نہ لائی ، ورنہ تصویر کھینچتی اور مالی کو دکھاتی کہ دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا۔ ایک تم ہو کہ ٹھیک سے لان میں جھاڑو بھی نہیں دیتے۔ ایک دوسرا گھر دیکھا جو دو کنال پر بنا ہوا تھا اور بالکل گاﺅں کے کچے گھر جیسا تھا۔ کچی مٹی کے لیپ جیسا پینٹ، شہتیروں کی منڈیریں اور کھڑکیوں پر پڑی چکیں۔ اس گھر کو دیکھ کر مجھے بہت لطف آیا۔ مٹی اور وطن کی محبت انسان کے خمیر میں ہے۔ وطن کو چھوڑ کر کہیں چلا جائے تو اپنے وطن اور پرانے گھر کی یاد میں ہڑکتا رہتا ہے ۔دنیا کے بہت سے شہروں کے نام نقل مکانی کر کے آئے ہوئے لوگوں نے اپنے پرانے شہروں کے نام پر رکھے ہیں۔ جیسے نیویارک، نیوزی لینڈ، لٹل انڈیا ۔سنا ہے امریکا میں ایک قصبہ لاہور نام کا بھی ہے۔ ضرور ہو گا، لیکن اس میں لاہور کی خوشبو، لاہور کی تاریخ اور لاہور کی سی زندہ دلی کہاں ہو گی؟ وہ بات کہاں مولوی مون کی سی۔

    مٹی کے گھر سے آگے چلی تو ایک گھر کے باہر گلاب کے پھولوں کا درخت دیکھا۔ جی ہاں درخت۔ تھی تو وہ جھاڑی ہی مگر اس قدر قد آور ہو چکی تھی اور اتنا پھیل چکی تھی کہ دس بارہ فٹ کا درخت بن چکی تھی۔ اس کی شاخیں گلابی پھولوں کے بوجھ سے جھکی پڑتی تھیں۔ اس وقت اس انجان گلی میں کھڑے گلاب کے اس درخت کو دیکھتے مجھے وہ دن یاد آیا جب میں ہمیشہ کی طرح واک کے ارادے سے پارک کی طرف گئی تھی اور اسے بند پایا تھا۔ کس قدر افسوس ہوا تھا مجھے اور کیسی حسرت سے میں نے ان چند پھولوں کو دیکھا تھا جن کے اردگرد میں پارک کے چکر کاٹتی رہتی تھی اور جو روزانہ دیکھ دیکھ کر مجھے ازبر ہو چکے تھے۔ بڑے بجھے دل سے میں نے سڑکوں پر چہل قدمی شروع کی تھی۔ لیکن یہ بجھا دل زیادہ دیر بجھا نہیں رہا تھا۔ میں نے خوبصورتی اور حسن اور تعجب کے کئی نئے جہان دریافت کیے تھے۔ وہ جہان جن کے گرد برسوں رہنے کے باوجود میں ان سے بے خبر تھی۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ان تمام راستوں کے لیے جو بند ہو گئے۔ وہ بند نہ ہوتے تو میں نئے راستوں کی تلاش میں کبھی نہ نکلتی۔ دریافت کی سر خوشی سے کبھی آشنا نہ ہوتی، اور قدرت کے اس گرینڈ ڈیزائن کو کبھی نہ سمجھ پاتی جو کائنات کے بڑے سیاروں سے لے کر ریت کے معمولی ذرے کو بحسن و بخوبی چلا رہا ہے۔

    ویسے جب سے یہ ڈائری شائع ہونا شروع ہوئی ہے، لوگ گھبرا گھبرا کر مجھے فون کرتے ہیں کہ واک پر کیوں نکلتی ہو؟ گھر بیٹھو ورنہ کرونا ہو جائے گا۔ تو میرے دوستو! ایک بات میں واضح کرنا چاہتی ہوں۔ جس سوسائٹی میں میںرہتی ہوں وہ بہت چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ گیٹ پر ناکہ لگا ہے جس سے آج کل کسی مہمان، کسی ملازم کو اندر آنے نہیں دیا جارہا۔ آج ہماری وہ چوری کی شوقین ماسی، جسے دو ہفتے قبل فارغ کر دیا گیا تھا، راشن لینے آئی تو ناکے پر گارڈز نے اندر نہ آنے دیا اور ہمیں فون کر دیا کہ یہاں سے پرندہ پر نہیں مار سکتا، جسے جو کچھ دینا ہے یہاں آکر خود دے جائے۔ دوسرے یہاں کی ہر سڑک اور گلی میں گارڈز ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ میں کسی بھی سڑک یا گلی میں نکل جاﺅں ،ایک یا دو گارڈز منہ پر ماسک چڑھائے سائیکل پر سوار اپنے معمولی کے راﺅنڈ پر نکلے نظر آتے ہیں میں اپنے پڑھنے والوں، خاص طور پر خواتین سے گزارش کروں گی کہ اس خاکسار کی دیکھا دیکھی بغیر سوچے سمجھے واک پر نکلنے کی غلطی نہ کیجئے۔ نہ ہی نت نئی سڑکیں اور گلیاں دریافت کر کے واسکوڈے گاما بننے کی کوشش کیجئے۔ امن و امان کی حالت مخدوش ہے۔ اگر کسی بدنیت مشٹنڈے کے ہاتھوں اغوا نہ بھی ہوئیں تو کرونا تو ہے ہی ۔خدانخواستہ کاٹ گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور کوئی بزدار نہ ملے گا دادرسی کو۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ نواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ نواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    نواں دن: یکم اپریل 2020ء

    ڈیئر ڈائری!

    کل ہم نے سالگرہ کے لیے دو کیک بنائے تھے۔ ان میں سے بڑا والا تو کاٹ لیا گیا اور کھا لیا گیا جب کہ چھوٹے والا فرج میں رکھ دیا گیا۔ رات سونے سے پہلے ابراہیم نے سب بھائیوں سے وعدہ لیاکہ رات میں کوئی اس کیک کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا اور صبح اٹھ کر اماں کاٹیں گی اور سب میں بانٹیں گی۔ صبح اٹھے تو آدھے سے زیادہ کیک غائب تھا۔ رات ہی رات میں کوئی کیک پر ہاتھ صاف کر گیا تھا۔ اب چور کی ڈھنڈیا پڑی۔ سب بھائیوں سے پوچھا گیا۔ وہ سب نیکی اور شرافت کے پتلے، معصومیت کے پیکر آنکھیں پٹپٹا کر صاف انکاری ہوئے کہ بھلا ہم اور یہ کارِ عبرت خیز؟ تو پھر کیک کس نے کھایا؟ ماموں اللہ بخش نے، اور کس نے! 

    جب میرے بچے چھوٹے تھے تو، جیسا کہ ہر چھوٹے بچوں والے گھر میں ہوتا ہے، ان کی بہت سی چیزیں گم ہو جایا کرتی تھیں۔ ابھی چیز سامنے پڑی ہے، ابھی غائب۔ اور جب ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر بال نوچنے والے ہو جاتے تھے تو وہی چیز اچانک سامنے پڑی نظر آجاتی تھی۔ بہت سے ربر، شاپنر، پنسلیں اور گیندیں یوں کھوئی اور پائی جاتی تھیں۔ بہت سی چیزیں ٹوٹ جاتی تھیں جن کے بارے میں شرارتی آنکھیں چمک چمک کر اور توتلی زبانیں اللہ کے وعدے کر کر کے اعلان کرتی تھیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہوا اور کس نے کیا۔ ایسا ہر کام ماموں اللہ بخش کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ ماموں اللہ بخش ایک جن تھے جو ہمارے گھر میں رہتے تھے اور ہر شرارت کی ذمہ داری چپ چاپ اٹھاتے تھے۔ یہی نہیں، وہ معصوم ٹوٹے دلوں کے جوڑنے میں بھی کام آتے تھے۔ کوئی کھلونا ٹوٹ گیا، ماموں اللہ بخش نے چھپا دیا اگلے دن چپکے سے نیا رکھ گئے۔ یہی نہیں ہمارے گھر میں بہت سی پریاں بھی رہتی تھیں۔ چند وہ تھیں جو رات کو سوتے ہوئے بچوں کو اتنا چومتی تھیں کہ ان کے منہ گندے ہو جاتے تھے اور صبح اٹھ کر دھونے پڑتے تھے۔ ایک پری سوتے بچوں کے تکیوں کے نیچے ٹافیاں رکھ جاتی تھی۔ ایک ٹوتھ فیری بھی تھی جو ہر ٹوٹے دانت کے بدلے تکیے کے نیچے پیسے رکھ جاتی تھی۔ بچے بڑے ہوئے، پریاں گھر سے چلی گئیں، کیوں کہ پریاں تو صرف چھوٹے بچوں والے گھروں میں رہتی ہیں۔ نہ گئے تو ماموں اللہ بخش نہ گئے۔ وہ یہیں ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ماموں اللہ بخش کے لیے، اور سوتے بچوں کے منہ چومنے والی پریوں کے لیے اور ان پریوں کے لئے جو بچوں کے تکیوں کے نیچے تحفے رکھ جا تی تھیں، اور ہر اس معصوم کردار کے لیے جو کبھی میری زندگی کا حصہ رہا ہے اور جس کی پیاری یاد آج بھی میرے دل کو منور رکھتی ہے۔

    بچوں کے سکول کالجز نے آن لائن کلاسز شروع کر دی ہیں۔ عمر صبح نو بجے کا الارم لگا کر سوتے ہیں۔ جونہی الارم بجتا ہے اٹھ کر کلاس میں لاگ ان کرتے ہیں، حاضری لگاتے ہیں اور دوبارہ سو جاتے ہیں۔ ادھر بے چارے ٹیچرز کلاس لیے جاتے ہیں اور ادھر عمر صاحب خراٹے ۔بے چارے ابراہیم کو اتنا کام ملتا ہے جتنا سکول کے پانچ گھنٹوں اور گھر کے ایک گھنٹے میں ہوا کرتا تھا۔ گھر میں رہ کر سکول کی طرح پڑھنا کتنا مشکل ہے یہ کوئی گھر بیٹھے بچوں سے پوچھے۔ سب سے زیادہ مشکل میں جان منجھلے صاحبزادے مصطفی کی ہے۔ یہ حضرت بے انتہا سوشل ہیں۔ آپ ملک کے کسی شہر کا نام لے لیجئے۔ وہاں ان کے دوست موجود ہوں گے۔ چنانچہ ہمہ وقت یہ زمین کا گز بنے پاکستان کاطول و عرض ناپ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی چڑے کھانے گوجرانوالہ جا رہے ہیں تو کبھی دوست کو باڈی بلڈنگ چمپئن شپ جتانے شیخوپورہ۔ ایک مرتبہ تو دوستوں کے ساتھ فجر کے وقت لاہور سے نکلے، پشاور جا کر شنواری کڑاہی دنبے کے گوشت کی کھائی اور عشا تک واپس بھی آگئے۔ اب انہیں گھر بیٹھنا پڑا ہے تو بے چارے سخت غمگین ہیں۔ سارا دن یا کتابیں پڑھتے ہیں یا ابراہیم کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہیں۔ ابراہیم اپنا ہوم ورک بھی مصطفی ہی کے پاس بیٹھ کرکرتا ہے۔ 

     تو آج مصطفی میرے پاس آیا اور آزردگی سے بولا۔ ”میری بس ہو گئی ہے۔ I need to go out.“

    ”کدھر go out.؟“ میں نے پریشان ہو کر پوچھا۔ ”باہر لاک ڈاﺅن ہے بیٹا۔“

    ”چند دوست مل کر راشن بانٹ رہے ہیں۔ سوچ رہا ہوں ہاتھ بٹانے چلا جاﺅں۔“

    میں تذبذب کے عالم میں کھڑی سوچتی رہی۔ روکوں؟ نہ روکوں؟ مدد کے کاموں سے تو کبھی نہیں روکا، پھر اب کیا کروں؟

    آخر اللہ پر بھروسا کیا او راس شرط پر جانے دیا کہ ماسک لگا کر جاﺅ گے اور جلد از جلد واپس آﺅ گے۔ مصطفی گیا اور میرا دل اپنے ساتھ لے گیا۔ میں بے قراری سے ایک کمرے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے میں پھرنے لگی۔ پھر دل کو بہلانے کے لیے اپنے کمرے میں آکر کتاب لے کر بیٹھ گئی۔ ابھی بیٹھی ہی تھی کہ باہر سے بلیوں کے لڑنے اور غرانے کی خوفناک آواز آئی۔ یہ آوازیں ہم سب گھر والوں کے لیے گویا نقارئہ جنگ ہیں۔ جب سے سمبا ہمارے گھر آیا تھا۔ اردگرد کے بدمعاش بلے موقع پا کر اس پر حملہ آور ہو جاتے تھے۔ بلیوں کے غرانے کی آواز آتے ہی ہم باہر بھاگتے اور سمبا کو دشمن بلوں کے پنجوں سے چھڑا کر اندر لے آتے۔ آج جب یہ ہولناک آوازیں آئیں تو نیچے کے پورشن میں میں اکیلی تھی۔ گھبرا کر اتنی تیزی سے اٹھی کہ کتاب میرے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری۔ جلدی اور گھبراہٹ میں میں ننگے پاﺅں باہر بھاگی۔ باہر گئی تو وہ نظارہ دیکھنے کو ملا کہ میں ہکا بکا جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔ سمبا پورچ میں تن کے کھڑا تھا۔ اس کے تمام بال تیروں کی طرح اوپر کھڑے تھے۔ آنکھیں چیتے کی طرح چمک رہی تھیں اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا سفید بلا اپنے آپ میں دبکا سہما کھڑا تھا۔

    ”سمبا؟“ میں نے بے یقینی سے پکارا۔ ”یہ کیا کر رہے ہو؟“

    سمبا نے یوں میری طرف دیکھا جیسے وارننگ دے رہا ہو کہ اس معاملے سے دور رہو۔ کیا یہ میرا چھوٹا سا، معصوم، نیک فطرت سمبا تھا؟ اس وقت مجھے خیال آیا کہ بلیوں کی اوسط عمر آٹھ سے دس سال کے درمیان ہوتی ہے اور سمبا اس وقت دو سال کا ہے۔ اگر اس عمر کو انسانی عمر پر منطبق کیا جائے تو اس کلیے کے مطابق سمبا اس وقت بیس سال کا کڑیلا جوان ہے۔ ٹھیک ہے جوانی سب پر آتی ہے اور جوانی میں خون بھی سبھی کا گرم ہوتا ہے لیکن اس جنگ و جدل کے کیا معنی؟

    میرے دیکھتے ہی دیکھتے سمبا نے دانت نکال کر غراتے ہوئے حملہ کیا اور ننھے بلے کو رگیدتا ہوا دور تک لے گیا میں ہش ہش کرتی پیچھے دوڑی۔ سمبا نے میرے آنے کی مطلق پرواہ نہ کی اور یکبارگی اس شدت سے بلے پر جھپٹا کہ مجھے لگا مار ہی ڈالے گا۔ میں نے تیزی سے ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔ لان میں مجھے ایک ٹوٹی شاخ نظر آئی۔ میں بھاگ کر گئی اور اسے اٹھا لائی ۔اتنی دیر میں سمبا اپنے شکار کے بالوں کے گچھے کے گچھے نوچ چکا تھا۔ میں نے سوکھی ہوئی شاخ سے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ سمبا پیچھے ہٹا تو ننھے بلے کو بھاگنے کا موقع مل گیا۔ سمبا غراتا ہوا اس کے پیچھے لپکا اور دونوں تیر کی سی تیزی سے بھاگتے ہوئے ایک طرف کو غائب ہو گئے۔ میں سمبا کو آوازیں دیتی رہ گئی۔

    حیران پریشان میں اندر گئی۔ ابراہیم نیچے آیا تو میں نے اسے سمبا کی کارگزاری سنائی۔ وہ بھی حیران ہوا، باہر جا کر سمبا کو تلاش کیا، وہ کہیں نہ ملا۔ اندر آکر ابراہیم نے ٹی وی لگایا اور مزے سے نیم دراز ہو کر دیکھنے لگا۔ میں کچھ مصطفی کے جانے سے بے قرار تھی، کچھ سمبا کی حرکتوں نے مجھے حیران پریشان کیا تھا، میں ابراہیم پر خفا ہونے لگی۔

    ”جب دیکھو ٹی وی کے آگے جمے ہوتے ہو۔“ میں ناراضی سے کہنے لگی۔ ”پڑھ کیوں نہیں رہے؟“

    ”اماں میں صبح سے پڑھ رہا ہوں اور نہیں پڑھ سکتا۔“ ابراہیم نے بسور کر کہا۔

    ”صبح سے کہاں پڑھ رہے ہو؟“ میں نے خفا ہو کر کہا۔ ”بارہ بجے تو سو کر اٹھے تھے۔ اتنا کام ختم کیسے ہو گا۔ پڑھائی پر دھیان دینا شروع کرو، یہ نہ ہو مجھے بابا سے شکایت کرنی پڑے۔“

    میں بولتے بولتے اپنے کمرے میں آگئی۔ چند لمحوں بعد مجھے ٹی وی بند ہونے کی آواز آئی۔ پھر ابراہیم کے خاموشی سے اٹھنے اور اوپر چلے جانے کی آواز۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ آٹھواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ آٹھواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    آٹھواں دن: 31 مارچ 2020ء

    ڈیئر ڈائری!

    آج ہمارے میاں صاحب کی سالگرہ تھی۔ یوں تو جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے ہم نے نت نئے کھانے بنانا بند کر دیا ہے اور اس بچت سے ہم وہی کر رہے ہیں جو اس صورتحال میں ہمیں کرنا چاہیے۔ لیکن آج ذرا خاص دن تھا اور خاص دن کا تقاضا تھا کہ کچھ اچھا سا پکایا جائے اور ان ٹینشن کے دنوں میں سیلبریشن کا ماحول پیدا کر کے خوشی کا کچھ سامان کیا جائے۔ لہٰذا چکن روسٹ کیا، دو طرح کا سلاد بنایا اور ساتھ ڈھیروں فرنچ فرائز بنائے۔ حمس ابراہیم نے بنا لیا۔ آخر میں میں نے اپنا مشہور زمانہ چیز کیک پیش کیا اور یوں ہم نے گھر میں ایک چھوٹی سی دعوت منائی۔ 

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ان چھوٹی چھوٹی (اور بڑی بھی) خوشیوں کی جو پریشانی اور خوف کے دنوں میں زندگی ہمیں پیش کرتی ہے۔ یوں جیسے حبس زدہ کمرے میں ایک چھوٹی سی کھڑکی کھول دی جائے اور ہوا کے ٹھنڈے خوشبو دار جھونکے سانس لینا آسان کر دیں۔ کبھی کبھی یہ کھڑکیاں ہمیں خود کھولنی پڑتی ہیں۔ بڑی محنت سے، بڑے صبر سے اور بڑے جان جوکھم سے۔ لیکن خوشیوں کی ان کھڑکیوں سے زندگی کا نظارہ اس قدر دلفریب ہے کہ مچل جاتا ہے رگِ زندگی میں خونِ بہار

    اس لیے دوستو! زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو لپک کر پکڑو، ان سے پیار کرو، سیلبریٹ کرو، زندگی کو یوں جیو جیسے اسے جینے کا حق ہے۔

    ٹینشن دینے کا کام ٹی وی تو بخوبی کر ہی رہا تھا، اب اخبار بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ ٹی وی تو میں دیکھتی نہیں۔ ہاں اخبار پڑھنے کی لت بچپن سے ہے۔ جب تک ساری خبریں اور کالم نہ پڑھ لوں چین نہیں آتا۔ آج کا اخبار کھولا تو یہ کالم نظر پڑے۔

    ”ایک دن موت آنی ہی آنی ہے،“ ”کرونا اور ٹائیگر فورس“، ”کرونا وبا کے معیشت پر اثرات“، ”ہندوستان کرونا کے لیے تیار نہیں تھا،“ ”وبائیں اور توہم پرستی“، ”کرونا سے کشمیر کی حالت مخدوش“ اور اسی طرح کے چند اور ایڈیٹورل بھی تھے۔ گھبرا کر میں نے اخبار رکھ دیا اور ٹی وی سے رجوع کیا۔ وہاں ایک صاحب نہایت افسوس سے اطلاع دے رہے تھے کہ امریکا میں بہت حالات خراب ہیں لیکن پاکستان میں لوگ مر ہی نہیں رہے۔ ڈھیٹ کہیں کے۔

    ٹی وی سے اکتا کر انٹرنیٹ کھولا۔ وہاں نت نئی سازشی تھیوریاں، کرونا کے علاج کے تیر بہدف نسخے اور عذاب کی وعیدیں بھری پڑی تھیں۔ فیس بک پر ایک صاحب ڈانٹ رہے تھے کہ یہ سارا عذاب ان عورتوں کی وجہ سے آیا ہے جو بنا دوپٹے کے گھر سے نکلتی ہیں۔ وہ گھر نہیں بیٹھیں اس لیے آج مردوں کو گھر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔ اس سے اگلی پوسٹ ایک نوجوان لڑکے کی ویڈیو تھی جو زنانہ لباس پہنے سر پر دوپٹہ اوڑھے کسی شرمائی لجائی دوشیزہ کی طرح موٹرسائیکل پر بیٹھا کہیں جا رہا تھا۔ پولیس والوں نے اس نیک بی بی کو روکا تو رخِ روشن پر داڑھی نظر آئی ، اور تمیز فاطمہ کے بھیس میں سے تمیزالدین برآمد ہوئے۔ اکبر الٰہ آبادی بے پردہ بی بیوں کو دیکھ کر غیرتِ قومی سے زمین میں گڑ گئے تھے۔ نہ جانے آج قوم کے مردوں کو باپردہ دیکھ لیتے تو کیا کرتے۔

     فیس بک پر بہت سے لوگ قیامت کی بشارت دیتے نہیں تھکتے۔ کچھ کا انداز ڈرانے والا ہوتا ہے کچھ کا بغلیں بجانے والا۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ خود ہی اٹھا کر صور پھونک دیں اور سب گناہگاروں کا خود ہی حساب شروع کر دیں۔ ویسے قیامت آنے کی جتنی نشانیاں یہ اصحاب ہمیں بتاتے ہیں وہ نہ صرف پوری ہو چکی ہیں بلکہ اب تو نشانیوں کا پیالہ لبریز ہو گیا ہے اور نشانیاں چھلک چھلک کر باہر گر رہی ہیں۔ جھوٹ بولنا، پورا نہ تولنا، قتل و غارت گری جیسی وجہیں پرانی ہو چکی ہیں۔ آج کل قیامت دوپٹے کے سرکنے اور آستینوں کے چھوٹے ہونے سے آتی ہے۔

    لیکن فیس بک پر صرف حکیمی ٹوٹکے اور قیامت کی پیشین گویاں ہی نہیں ہیں، کچھ فسانہ¿ ہائے عجائب بھی ہیں۔ ان کے قصہ گو وہ لوگ ہیں جو خود کو فیس بکی رائٹر کہتے ہیں۔ ان میں ننانوے فیصد خواتین ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج کی عورت آواز بلند کر رہی ہے۔ لیکن جب ان کا لکھا پڑھتے ہیں تو جی چاہتا ہے ہاتھ جوڑ کر عرض کہ بی بی آواز اٹھاﺅ ضرور اٹھاﺅ لیکن خدارا قلم نہ اٹھاﺅ۔ کیوں کہ قلم کا یہ عالم ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نے پا ہے رکاب میں۔

    ایک کہانی کی ہیروئن چائے کے بھرے مگ میں کلیاں کر رہی ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے گرم گرم چائے کا بڑا سا گھونٹ بھر لیا تھا۔ جب منہ جلا تو وہی چائے واپس مگ میں اگل دی۔ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ چائے کا مگ ان کا اپنا نہیں ہیرو صاحب کا تھا جو انہوں نے اس امید پر ہیروئن کو پینے کے لیے دیا تھا کہ شاید جھوٹی چائے پینے سے دونوں میں محبت ہو جائے۔ محبت کا تو پتا نہیں البتہ کرونا ضرور ہو جائے گا۔ کچھ اور بھیانک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔

    ایک اور محترمہ رومانس لکھ رہی ہیں اور ایسا دھانسو لکھ رہی ہیں کہ ہم یہاں نقل کر دیں تو فحاشی کے الزام میں دھر لیے جائیں۔ ان کے خر دماغ اور تشدد پسند ہیرو کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ہو نہ ہو ان کی ہیروئن جلد ہی عورت مارچ میں نعرے لگاتی ملے گی۔ لیکن وہ محترمہ بھی اپنے نام کی ایک ہیں۔ مار کھاتی ہیں، جوتے کھاتی ہیں، گالیاں کھاتی ہیں اور بھی جو کچھ ہیرو بقدر استطاعت انہیں کھلاتا ہے کھاتی ہیں، لیکن محبت کیے جاتی ہیں۔ آخر میں ہیرو کا دل موم ہو جاتا ہے اور دونوں ظالم و مظلوم ایک ہو جاتے ہیں۔ واہ ، کیا ہی کنڈل مار کر بیٹھا ہے جوڑا سانپ کا۔

    یوں لگتا ہے کہ جونہی کوئی خاتون فیس بک پر کچھ تحریر کرنے کے لیے قلم اٹھاتی ہے، فیس بک مچل جاتی ہے اور شرط رکھتی ہے کہ 

     پہلے تو روغنِ گل بھینس کے انڈے سے نکال

    کسی زمانے میں شاعری، آرٹ اور ادب کو بادشاہوں اور نوابوں کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ ہمارے زمانے میں یہ بیڑا فیس بک نے اٹھا لیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ فیس بک کا ہر رائٹر بھینس کے انڈے سے روغنِ گل نہیں نکال رہا۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو

     رگِ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

  • قرنطینہ ڈائری ۔ ساتواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ ساتواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    سارہ قیوم

     

    ساتواں دن: 30 مارچ 2020ء

    ڈیئر ڈائری:

    آج میں بہت خوش ہوں۔پوچھو کیوں؟ کیوں کہ اتوار کو میں نے چھٹی منائی۔ اور اس طرح نہیں منائی جیسے گھر کی عورت مناتی ہے بلکہ اس طرح منائی جیسے گھر کے مرد اور بچے مناتے ہیں۔ نہ صفائی کی، نہ کھانا پکایا، نہ کچھ لکھا۔ بس صرف لاؤنج اور کچن کی اوپری سی صفائی کر لی۔ نہ دروازے کھڑکیاں چمکائیں، نہ ڈسٹنگ کی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بستر نہیں بنایا۔ بستر نہ بنانے میں بڑی حکمت ہے دوستو۔ جب جب کھلے کمبل پر نظر پڑتی ہے، خیال آتا ہے کہ چھٹی کا دن ہے، ہڈحرامی کا ارادہ ہے، جب دل چاہے گا بستر میں گھس کر اینڈ لیں گے۔ اخبار بستر میں پڑھیں گے، چائے بستر میں پئیں گے، فون پر دوستوں سے گپیں بستر میں لگائیں گے اور جب اتنے کاموں سے تھک جائیں گے تو وہیں بستر میں لیٹے لیٹے سو جائیں گے۔ بچپن میں پڑھی کہانی کا وہ کوا یاد آتا ہے جو چڑیا کا بچہ کھانے کا ارادہ کر کے کنوئیں پر جا پہنچا تھا اور رہ رہ کر آواز لگاتا تھا کہ گھڑا بنائیں، پانی بھرائیں، چونچل دھلائیں، کھائیں چڑی کا چونگڑا پھر پھڑکائیں کلہ۔ تو اتوار کا سارا دن ہم نے بستر میں گھسے کلے پھڑکاتے گزارا۔ ہاں بھئی ہماری زندگی ہماری مرضی۔

    تو ڈیئر ڈائری آج میں شکرگزار ہوں اس خوشی کے لیے جو کبھی کبھی اپنی مرضی کرنے سے ملتی ہے۔ والٹئیرنے کہا تھا، انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہے۔ یہ زنجیریں فرائض کی ہیں، رشتوں کی ہیں، فائدے نقصان کی ہیں، ’لوگ کیا کہیں گے‘ کی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی، وہ جسے انگریز ی میں کہتے ہیں نا ”Once in a blue moon.“ ان سب زنجیروں کو توڑ کر کوئی ایک دن اپنی مرضی کا جینے میں بڑا مزا آتا ہے۔ ایک بغاوت کا سا مزا۔بچہ بن جانے کا مزا۔ یہ اور بات کہ میرے بچے تشویش سے میری طبیعت پوچھنے آتے رہے۔کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے اور سرگوشیوں میں آپس میں باتیں کرتے رہے۔ اور آج صبح جب میں نے اٹھ کر صفائی کا شور مچایا اور سب کو اپنے بستر تہہ کرنے اور لاؤنج سمیٹنے کا حکم دیا اور ایک کے ہاتھ میں جھاڑو اور دوسرے کے ہاتھ میں ڈسٹر تھمایا تو سب یوں خوش ہوئے جیسے انہیں ان کی کھوئی ہوئی ماں دوبارہ مل گئی ہو۔ مجھے OCD کے طعنے دینے کے بجائے سب فرمانبرداری سے صفائی میں میرا ہاتھ بٹانے لگے۔ تو ڈیئر ڈائری آج میں اس خوشی کے لیے بھی شکر گزار ہوں جو تازہ دم ہو کر فرائض کی طرف لوٹنے پر ہوتی ہے اور اس سکون اور طمانیت کے لیے ممنون ہوں جو ایک لگی بندھی روٹین میں ہوتا ہے۔

    شام کو واک پر نکلی تو ایک گھر کے باہر ایک سوٹڈ بوٹڈ صاحب نظر آئے۔ ٹائی لگائے، جوتے چمکائے، شیو بنائے، بالوں کو جیل سے بٹھائے اپنے گیٹ کے باہر کھڑے تھے اور فون پر باتیں کرتے تھے۔ مجھے آتے دیکھا تو کن اکھیوں سے یوں دیکھنے لگے گویا ڈرتے ہوں کہ کہیں پاس سے نہ گزر جاؤں۔ میں بچہ موڈ میں تو تھی ہی، دل میں شرارت سوجھی کہ ان کے پاس جا کر چھینکوں اور بھاگ لوں۔ اگر یہ پکڑنے آئے تو فوراً کھانسنے لگوں گی۔ پھر ان کی گھبرائی ہوئی شکل دیکھ کر ترس آگیا۔ بڑی مشکل سے اپنے تئیں اس ارادے سے باز رکھا۔ گارشیا مار کینزنے ناول، ”وبا کے دنوں میں محبت“ لکھا تھا، ہم لکھیں گے۔ ”وبا کے دنوں میں شرارت۔“

    ارے! ناول سے مجھے یاد آیا آج فیس بک پر ایک محترمہ نے کوئی اچھا سا ناول بتانے کی فرمائش کی ہے جس کی کہانی ان کے مطابق کچھ یوں ہو (میں ان کے الفاظ یہاں من و عن نقل کر رہی ہوں) ”کوئی ایسا ناول نیم بتا دیں جس میں ہیرو ہیروئن ہسبینڈ وائف ہوں، بٹ ہیرو ہیروئن کو اگنور کرے، انسلٹ بھی کرے اور اس میں ایک سائیڈ ہیرو بھی ہو جو ان دونوں کی لائف میں آئے پھر ہیروئن ہیرو پر کم فوکس کرے اور اگنور کرے اور سائیڈ ہیرو میں انٹرسٹڈ ہو جائے اور ہیرو کے بجائے سائیڈ ہیرو سے ہنس ہنس کر باتیں کرے شاپنگ وغیرہ کی فرمائش کرے ہیرو ان دونوں کو دیکھ کر جیلس ہو پھر بعد میں احساس ہو کہ وہ ہیروئن سے لَو کرتا ہے اور اسے کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا پھر وہ ہیروئن کو سائیڈ ہیرو سے دور رہنے کو کہے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جائے سائیڈ ہیرو سے دور اور کہے تم صرف میری ہو اور زبردستی اس کو اپنے ساتھ رکھے پھر ہیروئن کو بھی بعد میں ہیرو سے لَو ہو جائے، ناول شارٹ ہو تو زیادہ بہتر ہے ورنہ لانگ بھی چلے گا۔ سیم سٹوری کا، پلیز نیم بتا دیں۔“

  • بجلی کا میٹر ۔ افسانچہ

    بجلی کا میٹر ۔ افسانچہ

    بجلی کا میٹر

    بلال شیخ

    شاہد دکان پر اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور کچھ فائلز اس کے ہاتھ میں تھیں۔ شاہد نے اسے دیکھا تو بیٹھنے کے لئے کہا۔

    ”جی السلام علیکم! میں بجلی کے محکمے سے آیا ہوں۔ آپ کا میٹر خراب ہے، ہمیں یہ میٹر بدلنا ہو گا اور آپ کو کچھ چارجز ادا کرنے ہوں گے۔“ اس شخص نے فائلز سیدھی کرتے ہوئے کہا تو شاہد حیران رہ گیا۔

    "جی میں نے دو ہفتے پہلے تو میٹر بدلوایا ہے اور تیس ہزار روپے بھی ادا کیے ہیں۔” شاہد نے بڑی سادگی لیکن حیرانی سے کہا۔ اس افسر نے یہ سنا تو پریشان ہو گیا اور سر کھجانے لگا۔

    "اچھا تو ایسا کریں کہ آپ پانچ ہزار روپے دے دیں، میں آپ کی فائل کلیئر کر دیتا ہوں” افسر نے فائل پر کچھ لکھتے ہوئے کہا۔

    "جی؟” شاہد نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں پاس والی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی۔

    "شاہد صاحب ذرا جلدی کریں مجھے نماز بھی پڑھنی ہے، میری نماز نکلی جا رہی ہے۔” افسر نے جلدی کرتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا اور شاہد اس کا منہ تکتا رہ گیا۔

    ٭….٭….٭

  • احساس ۔ افسانچہ

    احساس ۔ افسانچہ

    احساس

    ماہ وش طالب

    وہ ہمیشہ ہی اپنی قسمت سے نالاں رہی۔ بچپن میں باپ کا انتقال اور پولیو کے وائرس نے اسے بالکل مایوس کردیا۔ اس ظالم معاشرے میں اپنی بقا کے لیے اس نے کمر کس لی مگر، اس پلِ صراط کے سفر نے اس کے اندر تلخی بھر دی۔

    ”اس ملک میں سکون سے جینے کے لیے قرض ادا کرنا ہی پڑتا ہے، ہنستے مسکراتے چہرے اس معاشرے کو اچھے ہی نہیں لگتے۔“ ذرا ذرا سی غیر معمولی بات پر وہ برملا خیال آرائی کرتی۔

    آج آفس میں ویرانی تھی۔ حیران ہوتے ہوئے اس نے ایل سی ڈی آن کی تو معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر منایا جارہا ہے۔

    ”بھارتی فوج کی بربریت سے ایک خاندان کے چار افراد زندہ جل گئے۔ اس نے ”استغفار“ کہہ کر چینل بدلا۔

    ”مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے نہتی خواتین کو درندگی کا نشانہ بنایا، عوام بے بس، حکومت خاموش“ اس بار وہ چینل نہیں بدل سکی، یہ احساس کہ آزادی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے، بہت بھاری تھا۔