Tag: کہانیاں

  • سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے

    سکرپٹ جو ناول سے مختلف انداز میں لکھا جاتا ہے

    -1 ساخت یا ڈھانچہ

    میں ابھی بچہ ہی تھا جب میرے انکل نے مجھے کاسابلانکا کا سکرپٹ دکھایا ۔ حتی کہ کچھ بڑا ہونے کے بعد میں مطالعہ کا شوقین ہو چکا تھا، تب میرا خیال ہے کہ میں نے کچھ غیر ملکی دستاویزات دیکھیں جو ان سب تحریروں سے مختلف تھیںجو اب تک میری نظر سے گزر چکی تھیں۔ وہ دستاویزات بھی میری سمجھ سے باہر تھیں۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا میں نے کئی سکرین پلے پڑھے۔ تب وہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگے تھے یوں کہیں کہ یا اب مجھے تحریر کی اونچ نیچ سمجھ آنے لگی تھی۔

    میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہمیں سکھایا گیا کہ سکرپٹ رائٹنگ کے دوران بہت سے کردار کھڑکی سے باہر چلے جاتے ہیں یعنی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ کرو، وہ نہ کرو اس چکر میں تقریباً سارے کردار گڈمڈ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان سب مشکلات سے بچنے کے کچھ گُر ہیں، جو آج آپ کی رہنمائی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

    ایکشن لائنز سے متعلق تفصیلات زیادہ سے زیادہ تین سطروں پر مشتمل ہونی چاہئیں، تین سے کم ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ پورے سکرپٹ میں غیر ضروری تفصیلات سے قطعی اجتناب برتیں۔ بالکل اس طرح جیسے نظموں میں الفاظ محدود اور مطلب وسیع ہوتا ہے اسی اصول کے تحت کم سے کم الفاظ میں جامع تحریر لکھیں۔ تحریر کی وضاحت کے لیے ایکشن یا اس سین کی سیٹنگ میں وقت ضائع نہ کریں۔ کہانی کے کرداروں کو غیر واضح اور مبہم نہ چھوڑیں لیکن غیر ضروری تفصیلات سے پرہیز کریں۔ بیک سٹوری کے کردار اور فلم بینوں کو متوجہ کرنے کے لیے اضافی کوشش سود مند ثابت نہ ہو گی۔ کرداروں کے ایکشن اور مکالمے یہ کام بہتر طور پر کر سکیں گے۔

    تحریر کا ہر جملہ فعل حال میں لکھیں، اس سے کہانی متحرک اور جان دار ہونے کا تاثر دیتی ہے۔ یہی گُر تحریر کی حقیقی رُوح ہے۔ بہترین سکرین رائٹر، ایکشن کی تفصیلات ایک پیرا گراف میں دو لائنوں سے زیادہ نہیں لکھتا۔ اسی مختصر نویسی میں بہت سی تفصیلات بصری انداز میں لکھئے مثلاً جنگ زوروں پر تھی۔ اس جملے میں جنگ کی پوری شدت خود بہ خود آپ کے تصور میں آجاتی ہے۔

    یاد رکھئے کہ آپ صرف اُن اہم چیزوں کے بارے میں تفصیل سے لکھیں کہ جنہیں ہم اصل میں سکرین پر دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی غیر اہم چیزوں کو چھوڑ دیں اور انہیں کم سے کم الفاظ اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں ہی واضح کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی چیزوں کے لیے آپ تمثیلی الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں مختصر انداز میں ہی واضح کر سکتے ہیں۔

    سکرین پلے کے ابتدائیہ کے حوالے سے کچھ مثالیں درج ذیل ہیں جن کی مدد سے آپ سیکھ سکیں گے کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ تاثر کس طرح اُبھارا جا سکتا ہے:

    ”نیوی کے مضبوط اور پختہ بیراج سے زبردست گھن گرج کی آوازیں سنائی دیں۔ اتنی خوف ناک آوازیں تھیں کہ پورا جسم لرز کر رہ گیا اور کانوں کے پردے جیسے پھٹ گئے ہوں۔“

    ”جرمن تو پ خانہ کی طرف سے دھواں دھار بم باری تباہی مچا رہی ہے، سینکڑوں جرمن مشین گنیں شعلے اُگل رہی ہیں۔“

    ”درد اور بھوک کا مارا مفلوک الحال شخص، بھری پُری سڑک پر جا رہا تھا۔“

    ان سب مثالوں میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح تمثیلی انداز میں پورا منظر واضح کیا گیا ہے۔

    ان میں سے بہت سے فقرے گرائمر کے لحاظ سے اگرچہ نامکمل اور ادھورے محسوس ہوں گے مگر سکرین پلے کے لحاظ سے یہ مکمل ہوتے ہیں کیوں کہ ان جملوں کے بعد جو تصویر ہمارے ذہن میں بنتی ہے، وہی اصل نکتہ ہے۔

    -2 مکالمہ

    مکالمہ نگاری کے کچھ بنیادی اصول ہیں۔

    طویل مکالمے

    آپ کا سکرپٹ آپ کی تحریر ہے مکالمہ بازی کا مقابلہ نہیں۔ اس میں آپ بہت بڑے اور طویل مکالمے نہیں لکھ سکتے۔

    طویل مکالمے گفت گو سے زیادہ خود کلامی کا تاثر دیتے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ آپ کے سکرپٹ کے 95 فی صد مکالمے تین سطروں سے کم ہی ہوں۔

    ثانوی تحریر

    ثانوی تحریر سے مراد وہ سب دکھانا یا بتانا مقصود ہے، جو مکالمے سے ہٹ کر ہو، مثلاً ہیرو جو ہیروئن کی بے وفائی پر دُکھی ہے اور سڑک پر بے اختیار اُس کے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ 

    کرداروں کے مختلف لہجے یاد رکھئے کہ کیوں کہ آپ کی تحریر کا ہر کردار ایک جیتا جاگتا بولتا ہوا انسان ہے۔ اس کا ایک اپنا مزاج اور پسند و نا پسند ہے۔ اپنی الگ شخصیت ہے۔ کرداروں کی اس رنگا رنگی کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان کا اندازِ گفت گو ۔ ہر کردار اپنے بات کرنے کے انداز اور لہجے سے پہچانا جائے گا۔

    تاثرات سے اظہار

    بعض اوقات کردار کے مکالمے اتنے اہم نہیں جتنا اُن کے تاثرات یا باڈی لینگوئج، جو اس کردار کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

    -3 White Space

    اس سے مراد چھوٹے چھوٹے مکالمات میں اپنا مطلب بہتر انداز میں واضح کرنا۔ بھاری بھر کم تحریر نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھنے میں بھی بوجھل لگتی ہے۔ سکرین رائٹنگ کی یہ نئی تکنیک مقبول عام ہے جس میں مختصر انداز میں لکھا گیا سکرپٹ نہ صرف دیکھنے والوں پر اچھا تاثر ڈالتا ہے بلکہ پڑھنے والوں کے لیے بھی دل کشی کا حامل ہوتا ہے۔

    -4 داخلے میں دیر، نکلنے میں جلدی (Enter late leave early)

    ناول نگاری میں آپ تمہید باندھتے ہوئے قاری کو ماحول کی جزئیات سے روشناس کراتے کسی منظر میں داخل کرتے ہیں اور دیر تک اسی منظر میں رہتے ہیں لیکن فلم اور ٹی وی میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں آپ سین میں داخل ہونے میں دیر تو لگا سکتے ہیں لیکن سین سے جلد نکلنا بہت ضروری ہے کیوں کہ اس طرح آپ بہت سی غیر ضروری تفصیلات سے بچ جاتے ہیں اور فلم بین بھی لمبے مناظر سے اُکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ سین کا مختصر اور پاور فل ہونا بے حد ضروری ہے۔

    -5 کہانی کو سادہ سے سادہ رکھئے

    ناول نگاری میں آپ کے پاس خاصاوقت ہوتا ہے کہ پہلے آپ کہانی کو کرداروں سمیت خوب پھیلائیں اور پھر آخر میں الجھی ہوئی کہانی کو سمیٹ دیں۔ یہاں قاری اس بات کو خوش دلی سے قبول کرتا ہے جب کہ فلم یا ڈرامہ اس کے برعکس ہو گا۔

    سکرپٹ میں بہت سارے کردار اور واقعات تخلیق نہیں کئے جا سکتے کیوں کہ سب سے انصاف کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے لہٰذا گنے چنے، چند بہت ضروری کردار ہی کہانی میں اس طرح رکھیں کہ آپ انہیں خوش اسلوبی سے ایک اچھا سا انجام دے سکیں۔ یوں جب آپ کی کہانی کلائمکس تک پہنچے تو دیکھنے والے اس میں پوری طرح شامل ہوں۔

    -6 30,000 فٹ ویو (30,000 Footview)

    ایک بات جو کسی بھی لکھاری کو قلم پکڑنے سے یا کی بورڈ پر انگلی رکھنے سے پہلے یاد رکھنی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے کس طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں؟

    مثال کے طور پرآپ ایک گھریلو فلم بنا رہے ہیں تو اسے خواتین زیادہ پسند کریں گی۔ رومانی فلم نوجوان کی پسندیدہ، کھیل سے متعلق، کھیلوں کے دلدادہ لوگ دیکھنا پسند کریں گے۔

    لیکن اگر یہ بھی بورنگ کا ٹائٹل پائیں گی تو ان موضوعات پر پسندیدگی کی نظر رکھنے والا مخصوص طبقہ بھی انہیں دیکھنے نہیں آئے گا۔ کسی بھی کہانی میں اس کے موضوع کے حوالے سے بھرپور اور دل چسپ مواد ہی اسے کامیاب بنا سکتا ہے۔

    آپ جس طبقے کے لیے بھی لکھ رہے ہیں کہانی کو تھرلنگ اور جان دار ہونا چاہیے۔ دل چسپ کہانی دیکھنے والوں کو اپنی طرف خود متوجہ کرے گی۔

    -7 مقصد (Aim Big)

    اگرچہ ہم مووی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں لیکن سٹوڈیو موویز میں ایک اوربات اہم ہوتی ہے اور وہ ہے set pieces۔ اس سے مراد ہے مناظر کا تسلسل اور ربط۔ واقعاتی تسلسل فلم کی خوب صورتی اور کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے۔کچھ لوگ اس اصطلاح کی جگہ ایک اور اصطلاح trailer moments بھی استعمال کرتے ہیں۔

    سکرین پلے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ سیٹ پیس خوب صورت اور جکڑ لینے والا ہو مگر اس میں جنگ و جدل، خونی مناظر کم سے کم ہوں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ سوشل موضوعات پر، مار دھاڑ کے بغیر بنی فلموں نے زیادہ بزنس کیا ہے۔

    جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی اور CGi سے سیٹ پیسز زیادہ خوب صورت، واضح اور دل چسپ انداز میں آرہے ہیں۔ا س میں حقیقی اور ماورائی، دونوں طرح کے افی©کٹس استعمال ہو رہے ہیں۔

  • نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول ۔ کمرشل رائٹنگ

    نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول ۔ کمرشل رائٹنگ

    نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول

     

    سکرین رائٹنگ کے گُرہرحجم اور شکل میں ملتے ہیں مگر ان سے سب لوگ یکساں طور پر متفق نہیں ہوتے۔ اکثر نئے لکھاری، ان بڑی تعداد میں دستیاب ٹپس میں سے درست کا چناﺅ کرنے میں غلطی کر جاتے ہیں اور درست سمت نہیں جا پاتے۔

    ایک بنیادی اصول تو لکھے گئے سکرپٹ کو بار بار (کم از کم 20 بار) لکھنا ہے، جو بڑی برداشت اور حوصلے کا کام ہے مگر بے حد ضروری ہے کہ اس سے تحریرمیں پختگی اور نکھار آتاہے۔

    یہاں آپ کی رہنمائی کے لیے 12 ایسے بنیادی اصول یا ٹپس دیئے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے آپ بآسانی سکرین رائٹنگ جیسے عمل کو انجام دے سکیں گے۔

     

    -12 فلم پسند آئی؟تو اس کاسکرین پلے پڑھیے

    بعض نئے لکھاری فلمیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ انہیں سکرین رائٹنگ آگئی ہے۔ ہر فلم میں تقریباً یکساں سین اور ایکشن دیکھ کر لگتا ہے کہ فلم کے لیے کہانی لکھنا کون سا مشکل کام ہے مگر یہ خیال بالکل غلط ہے۔

    سکرین رائٹنگ سے آپ تب تک واقف نہیں ہو پاتے جب تک آپ کسی فلم کااصلی بلیو پرنٹ یا نیلی طباعت سکرین پلے نہیں دیکھ پاتے۔ اس میں وہ اصل طریقہ درج ہوتا ہے جو کسی بھی سکرین رائٹنگ اور سکرین پلے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آپ اپنی کسی پسندیدہ فلم کا سکرپٹ پڑھئے اور دیکھئے کہ چیزیں اورواقعات سکرپٹ میں کس تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ان میں بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں اپنی کہانی کے کرداروںکا جائزہ لیجیے اور انہیں اُس معیار تک لایئے۔

    ایک اورضروری بات کہانی کے ربط یا تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ کام صفحات پر آسان جب کہ سکرین پر اس کے لیے بڑی مہارت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی عمدہ سکرین پلے پڑھنے پر آپ تحریری طور پر ایسی غلطیوں پر قابو پانے میں مدد لے سکتے ہیں۔

     

    -11 ایک نشست میں لکھئے

    لکھنا ایک تھکا دینے والا کام ہے۔ جو فرد بیٹھ کر لکھنے کا عادی نہ ہو، اس کے لیے کافی دیر تک بیٹھنا اور ایک ہی نشست میں کہانی مکمل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں تو بلاناغہ لکھاکریں چاہے اپنے سکرین پلے کا ایک صفحہ ہی لکھ پائیں۔

    ذہن میں آئے خیالات سے یہ کہنا کہ بعد میں لکھ لوں گا، اچھے لکھنے والوں کے لیے یہبہتر رویہ نہیں ہے، اس طرح خیالات ناراض ہو کر بھاگ جاتے ہیں۔اکثر لکھنے والے اچھی اچھی باتیں سوچتے لیکن انہیں لکھنے میں سستی کر دیتے ہیں جس سے وہ کبھی لکھ نہیں پاتے۔

    کامیاب لکھاریوںکی کامیابی کا ایک راز ان کا نظم و ضبط کا پابند ہونا ہے۔ وہ اپنے روزمرہ کے لکھنے کے اوقات میںکبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتے۔

    اگر آپ کا خواب بھی سکرین رائٹر بننے کا ہے تو لکھنے کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لیجیے۔ روز لکھنے کی عادت سے نہ صرف آپ کی تحریر میں نکھاراور پختگی آئے گی بلکہ یہ دل جمعی آپ کو کامیابی کی راہ بھی دکھائے گی۔

    جب آپ روزانہ لکھنا اپنی عادت بنا لیں گے تو ایک مہینے بعد آپ، اپنی پہلے دن اور اُس دن کی تحریروں کا تقابل کیجیے۔ یقینامثبت فرق آپ کا دل خوش کر دے گا۔ بے شک آزما لیجیے۔ مکمل توجہ اور نظم و ضبط، لکھاری بننے کی بنیادی شرائط ہیں۔ اگر آپ کے لیے ان عادات کا اپنانا ایک مشکل امر ہے تو خود کو سمجھایئے۔ ایک استاد کی طرح خود کو ان کی افادیت سے آگاہ کیجیے۔ مہینوں کی مشق آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ آپ اپنی تحریر کو دوسروں کے سامنے فخر سے پیش کر سکیں۔

     

    -10 اپنے اندر کو نکالیے

    کسی ایسے شخص سے مل کر کتنا عجیب لگتا ہے کہ جو طبعاً سنجیدہ ہو مگر حرکتیں مسخروں سی کر رہا ہو۔ یہ رویہ من و عن سکرین رائٹنگ پر پورا اترتا ہے۔

    اگر مزاجاً آپ مزاح نگار نہیں تو زبردستی مزاح مت لکھئے۔ ہر فرد کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، اپنے اسی مزاج کی مطابقت سے تحریریں لکھیے، زیادہ بہتر لکھ سکیں گے۔

    اگرآپ جان دارمکالمے تو لکھ سکتے ہیں مگر کہانی کابیانیہ درست نہیں تو مکالمہ نگاری کو ہی بطورِ پیشہ اپنایئے۔ اگر آپ تاریخ کو کھنگالنے کا مزاج نہیں رکھتے تو کبھی کسی تاریخی موضوع پر طبع آزمائی نہ کریں۔

    آپ نے وہ کہاوت تو ضرورسنی ہو گی کہ وہی لکھیے جو آپ جانتے ہیں۔ لکھنے کے حوالے سے یہ زبردست محاورہ ہے۔ کیوں کہ جو بندہ اپنے مزاج کے الٹ لکھے گا توتحریر سے قطعاً انصاف نہیں کر پائے گا۔ تحریر کمزور ہو گی، اس میں جگہ جگہ جھول رہ جائیں جو اس کی ناکامی کا باعث بنیں گے۔

     

    -9 اپنی کہانی کو جانئے

    بہت سے سکرین رائٹرز لکھنے کے دوران یہ بات مدِّنظر نہیں رکھتے کہ وہ کیا کہانی بیان کرنے جارہے ہیں۔ اچھا آئیڈیا رکھنے کے باوجود وہ اسے بہتر طور پر نہیں لکھ پاتے یعنی تحریری طور پر اس سے انصاف نہیں کر پاتے۔ کہانی کو دائیں بائیں موڑتے اور غیر ضروری واقعات شامل کرتے چلے جاتے ہیں۔

    اپنے سکرین یا سکرین رائٹنگ کے صفحہ نمبر 90 تک پہنچنے پر آپ کی کہانی کو منطقی انجام مل جانا چاہیے۔ اسی لیے سکرین پلے کے لیے خاص فارمیٹ پر زور دیا جاتا ہے تا کہ انہیں احساس رہے کہ انہیں کہاں تک لکھنا ہے۔ بعض لکھاری مخصوص فارمیٹ کے بغیر بھی جان دار کہانی لکھتے اور پسندیدگی کی سند پاتے ہیں لیکن ایسا کم کم ہے۔ نئے لکھاری اگر ان امور کا خیال رکھے بغیر لکھیں گے تو بغیر ربط کے واقعات ہی واقعات ہوں گے۔

    آپ چوں کہ فلم کے نقطہ¿ نظر سے لکھ رہے ہیں اور آپ کے کرداروں نے پردئہ سکرین پر آنا ہے تو یہ مقصد سامنے رکھتے ہوئے اپنی تحریر کو جامع اور باربط بنایئے۔

    صرف اسی موضوع پر لکھئے جس پر آپ کے پاس سیر حاصل معلومات ہوں، موضوع سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات سے آپ واقفیت رکھتے ہوں۔ ان سب چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے ہی تحریر میں پختگی آئے گی۔

     

    -8 ہر سین اہم ہے

    کسی بھی فلم کے لیے استعمال ہونے والا سب سے بُرا لفظ کیا ہے؟ جس کی وجہ سے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے کردارکچھ زیادہ ہی ذمے داراور بہترین ہوتے ہیں؟ عریانی؟ یا پھر اس کے غیر دل چسپ مناظر؟ نہیں۔ اس میں سے کچھ بھی نہیں۔ سب سے برا لفظ جو کسی بھی فلم کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ ہے ”بور“۔ یہ فلم بڑی بور ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ کچھ فلمیں بور ہوتی ہیں جب کہ کچھ نہیں ہوتیں۔

    اس کی وجہ ہے کہانی سے تحریری طور پر انصاف نہ کرنا۔ اپنے کرداروں سے انصاف نہ کر پانا۔ کہانی میں ہر کردار کا ایک مقصد ہونا ہے۔ چاہیے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اس کا صحیح استعمال ہی کہانی یا فلم کو مضبوط بناتا ہے۔

    اگلی بار آپ کوئی فلم دیکھنے جائیں تو کرداروں پر نظر رکھیں کہ کیا وہ اپنی اپنی جگہ فٹ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ فلم بورنگ لگنا شروع ہو جائے گی۔

    اس سب سے مراد یہ ہے کہ آپ کے سکرین پلے میں ہر کردار کو نگینے کی طرح فٹ ہونا چاہیے۔ جہاں کرداروں پر آپ کی گرفت ڈھیلی پڑی تو فلم کی کہانی آپ کے ہاتھ سے نکلی اور بعد میں فلم بھی۔

     

    -7 اپنا ہیرو چنئے

    کسی بھی لکھاری کے لیے لکھنا ایک پرجوش عمل ہے کیوں کہ اس عمل کے دوران وہ تخلیقی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے، نئے کرداروں کی تخلیق۔ وہ کس کس درجے کے کون کون سے اور کتنے کردار بنائے سب اُس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور پھر اُن سے جو کروانا چاہتا ہے کروائے۔ ہے نا مزے کی بات۔

    لکھنے بیٹھئے تو سفید کاغذ آپ کے ان سارے محسوسات اور جوش کا منتظر ہے، چاہے صرف ایک شخصیت تاریخ کے جھروکوں سے نکال کر سامنے لے آئیے۔ اُس کے محسوسات، ناکامیاں اور کامیابیاں سامنے لایئے۔ اس ایک کردار کے ساتھ کئی اور کردار خودبہ بخود ہی سامنے آتے جائیں گے۔ اپنے آس پاس کے ماحول سے جو کردار چاہیں، اسے ماحول سے نکال کر صفحے پر بکھیر دیں۔

    لیکن ایک بات دھیان میں رہے کہ سکرپٹ لکھتے ہوئے یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ کس کردار سے کیاسلوک کرتے ہیں، کس کردار کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ کہیں غیر ضروری کردار کو زیادہ اہمیت اور ضروری کردار کو نظر انداز تو نہیں کر رہے۔ 

    اس سے کہانی بے وزن ہونے لگتی ہے۔ اصطلاحی زبان میں یہ کہ ”کہانی کے مضبوط کردار یا دوسرے لفظوں میں ہیرو ٹائپ ہی وہ کردار ہیں جنہیں سب سے زیادہ خوب صورتی سے لکھنا چاہیے۔“

    اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی کہانی انہی کرداروں کے ارد گرد گھوم رہی ہوتی ہے اگر یہ کمزور رہ جائیں گے تو کہانی بورنگ ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس کہانی پر بنی فلم بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پائے گی۔ کہانی کے ہیرو ہی دراصل وہ مضبوط کردار ہیں جنہیں لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہیرو جتنا دبنگ، مضبوط اور بہادر ہو گا، اتنا ہی پسند کیا جائے گا۔

    کہانی کے دیگر کرداروں کے لیے یہ خوبیاں ضروری نہیں کہ وہ ہیرو کی طرح کہانی کو لے کر نہیں چل رہے ہوتے۔ انہیں آپ قدرے ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں لکھیں تو وہ زیادہ بہتر دکھائی دیں گے۔ لیڈنگ کیریکٹر کے لیے بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ہیرو کو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک دکھائیں، جیسا کہ عموماً ہر فلم میں ہوتا ہے۔ ہیرو کا تصور ہی ماورائی تخیل اور طاقت سے جڑا ہے لہٰذا ایک عام سیدھا سادا کردار ہیرو نہیں ہو سکتا۔ ہیرو کی اسی مضبوطی کے کھونٹے سے ہر کردار بندھا ہوتا ہے اور اپنی اپنی جگہ رہ کر اپنا کام کرتا ہے۔

    کہانی میں دل چسپ اور مزاحیہ واقعات سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہیں۔ یوں آپ ایک متوازن اور مضبوط کہانی تخلیق کر سکتے ہیں۔

     

    -6 مزاج کو مدِّنظر رکھئے

    سب سے ضروری اور اہم بات جو مدِّنظر رکھنے کی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے جس طبقے، جس درجے کے بارے میں لکھ رہے ہیں اُن کے مزاج کو مدنظر ضرور رکھئے۔ اُن کے مزاج کے مطابق اس کہانی میں پورا مواد ڈالیے۔

    فلم کی کہانی کے بارے میں یہ کہنا کہ میں اس جگہ یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں، اگر دیکھنے والے اسے سمجھ نہیں پا رہے تو یہ میرا مسئلہ نہیں یہ بہت ہی غلط بات ہے۔

    یہ آپ کا مسئلہ ہے اور بالکل ہے کیوںکہ آپ کی تحریر کا مقصد ہی لوگوں کو بات سمجھانا ہے، انہیں پیغام دینا ہے۔ اگر آپ اس میں ناکام رہتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایسے لکھنا چھوڑ دیں۔ بس اپنے خیالات ڈائری میں ہی نوٹ کر لیاکریں۔

    فلم کے لیے لکھی آپ کی تحریر نے لامحالہ لوگوںکے سامنے آنا ہے اور لوگ پیسے خرچ کر کے تفریح کے لیے آتے ہیں ۔اگر انہیں مبہم اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز دیکھنی پڑے، جس سے نہ صرف ان کے تفریحی موڈ کا بیٹرہ غرق ہوگا بلکہ الٹا وہ الجھی طبیعت سے واپس جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے کہ بتائیں کیا دیکھا تو جواب ہوگا کہ کچھ سمجھ نہیں آیا۔ آپ اپنی ذہانت کا سکہ بٹھانے کے لیے تو بھاری بھر کم تحریر لکھ سکتے ہیں مگر وہ دوسرے کے لیے کسی کام کی نہیںہو سکتی۔

    آپ کو ایسی تحریر لکھنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تازہ دم ہونے میں مدد دے۔اس کے لیے دیکھنے والوں کے مزاج کو مدِّنظر رکھنا بے حد اہم ہے۔ آپ ناخواندہ طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں یا خواندہ۔ آپ کے فلم بینوں کو کیا چاہیے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ 

    اہم بات یہ کہ جو موضوع بھی لکھیں، اس کے بارے آپ کو مکمل آگاہی،معلومات اور جزئیات کا پورا علم ہونا لازمی ہے۔ اس سب تیاری کے ساتھ آپ جو لکھیں گے وہ یقینا اچھی تحریر ہو گی۔

     

    -5 حقیقی مناظر لکھیے

    تحریر میں مناظراس طریقے سے لکھئے کہ یوں لگے کہ یہ تو ایک حقیقی منظر ہے۔ انہیں ایک دم تازہ اور اصلی لگنا چاہیے۔ ذہن میں رکھیں کہ یہ مناظر صرف آپ ہی پہلی بار لکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایک انگریزی فلم "A Clockwork Orange” دیکھئے۔ جس کا ہر منظر ایک دم نیا اور حقیقی دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس فلم کے کرداروں کی مکالمہ ادائی بھی اتنی رواں اور برجستہ ہے کہ جیسے حقیقی زندگی کا منظر ہو۔

    مطلب یہ کہ فلمی سین ایسے ہوں کہ اگر ایکشن ہو تو فلم بینوں میں جوش وولولہ بھر دیں، المیہ ہوں تو ہر آنکھ میں آنسو اور چہرے پر اُداسی ہو، طربیہ ہوں توسب کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے ہوں۔

    دراصل موضوعات تو روزمرہ زندگی سے ہی لیے جاتے ہیں جو روزِ اوّل سے چلے آرہے ہیں۔ اصل فن انہی موضوعات میں سے کسی ایک کو تازہ، زبردست اور دیکھنے لائق بناتا ہے، جو ایک سٹوری رائٹر کاکمال ہوسکتاہے۔

     

    -4 اپنی پسند کی نفی کیجیے

    الفریڈ ہچکاک کا کہنا ہے: ”ڈرامہ زندگی کا وہ رخ ہے جو آپ کی اُداسیوں کو خوش گواریت میں بدل سکتا ہے۔“

    یہ پڑھنے کے بعد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اُداس اورپریشان کرنے والے مناظر کیوں لکھوں؟

    یقینا کوئی بھی لکھاری بور یا دُکھی مناظر جان بوجھ کر نہیں لکھتا۔ وہ اپنی طرف سے اچھی اور بہترین تحریر سے ہی مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ آپ کی کہانی کے کوئی ایک دو سین جو آپ کے خیال میںکہانی کی جان ہو سکتے ہیں لیکن پروڈیوسر یا ڈائریکٹر انہی سین پر رائے زنی کرتے ہوئے انہیں مسترد قرار دیتا اور نئے سرے سے اپنی مرضی کے مطابق لکھنے کو کہتا ہے تو اس میں برائی کوئی نہیں۔

    کیوں کہ پروڈیوسر ڈائریکٹر دیکھنے والوں کے نقطہ¿ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے یا دوسرے لفظوں میں ”مارکیٹ کی ڈیمانڈ“ کے مطابق سین مانگتے ہیں۔ بعض اوقات جب آپ خود بھی کسی سین کو دوبارہ لکھنے کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب زیادہ بہتر ہو گیا ہے۔ یہ سین پہلے اتنا ضروری نہ تھا جتنا آپ سمجھ رہے تھے۔ نیا سین زیادہ اچھا ہے۔

    ایک مثال شاید آپ نے سنی ہو، جو لکھاریوں کے لیے ہی ہے کہ "Kill your darlings”۔ یہ تمام قسم کے لکھاریوں کے لیے یکساں طور پر ہے۔ اس سے مراد یہ کہانی میں اپنی پسند کے مناظر نہ ڈالیے بلکہ دیکھنے والوں کی پسند کو مدنظر رکھئے۔ لہٰذا اپنی کہانی کا وہ موڑ یا واقعہ جو آپ کے نزدیک کہانی کا سب ضروری حصہ ہے، لیکن اگر اُسی پر اعتراض اٹھ جائے تو اسے بدلنے میں نہ ہچکچائیں۔ اسے دوبارہ سے لکھتے ہوئے آپ کا دل دکھی تو ضروری ہو گا مگر مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق وہ مناسب ہو گا اور یقینا بہترین بھی۔

     

    -3 کوئی پیغام دیجیے

    ویسے تو سینکڑوں وجوہات ایسی ہیں جو لکھنے پر اُکساتی ہیں لیکن سب سے بڑی اورضروری وجہ ہے کہ جو آپ لکھ رہے ہوں اُس میں کوئی نہ کوئی پیغام ہو۔ بہت سے لکھاری سمجھتے ہیں کہ صرف سنجیدہ فلموں کے ذریعہ ہی کوئی پیغام دیا جا سکتا ہے، یہ ایک فاش غلطی ہے۔ فلم کسی بھی موڈ کی ہو، پیغام تو بہرحال کوئی نہ کوئی رکھتی ہی ہے، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوتا ہے۔

    چاہے وہ Schindler کی فلم Lists of Transformers ہی کیوں نہ ہو۔ دیکھیں کہ اس فلم کی کہانی کیوں کر لکھی گئی اور اس کا مقصد کیا ہے؟

    اچھی اور بامقصد فلم دیکھنے کے بعد اب اس پر غوروفکر کرتے، اُس سے لطف اندوز ہوتے اور دوبارہ دیکھنے کے خواہش مند بھی ہوتے ہیں۔تو اسی تناظر میں یہ سیکھئے کہ ایسا لکھنا ہے جس کا کوئی مقصد ہو، جس تحریر میں گہرائی ہو، اور اس طرح لکھنا ہے کہ جیسے اس سے پہلے کبھی لکھی نہ گئی ہو۔ اگر آپ کسی فلم کا چربہ لکھ رہے ہیں تو بھی اُس کہانی سے عمدہ اور اچھی باتیںضرور چنیں۔ وہ کہتے ہیں ناکہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہانی کو اس طرح اپنائیں کہ وہ بالکل تازہ اور نئی لگے۔

     

    -2 اپنی تحریر نکھاریئے

    تحریر یا سکرین رائٹنگ کو بہترین شکل میں لانے کا سب سے بڑا گر ہے، دوبارہ لکھنا اور بار بار لکھنا۔جب آپ ایک تحریر مکمل کرلیتے ہیں تو پھر لازمی طور پر اُسے آگے بھیجنا ضروری ہے۔ کیوںکہ آپ تو لکھ چکے، آپ کا کام ختم، اب اگلے مرحلے کی باری ہے۔

    ناول نگاری کی طرح پہلی دفعہ لکھی تحریر کی حقیقت ایک خاکے سے زیادہ نہیں۔ مشق سے آپ مزید بہتر تحریر عمل میں لا سکتے ہیں۔ اپنی تحریر 90 صفحات پر پھیلانے کے بعد اسے سمیٹنے یا اس کا انجام لکھنے کا مرحلہ در پیش ہوتا ہے۔ جس کے لیے آگے چند صفحات ہی بچتے ہیں۔ ہر لکھاری اپنی طرف سے عمدہ لکھتا اور اسے عمدہ ترین سکرپٹ کا درجہ دیتا ہے۔ 

    مسودہ مکمل ہونے کے بعد کا مرحلہ بھی آسان نہیں۔ یوں سمجھئے کہ چیز تیار ہے اسے بیچنے کے لیے آپ نے اب مارکیٹ لے جانا ہے اور مارکیٹ میں بیچی جانے والی چیز کانک سک سے درست ہونا لازم ہے۔ آپ بھی اپنے مسودے کو عمدہ ڈھنگ سے اس طرح ترتیب دیں کہ پڑھنے والا اسے اک نظر دیکھنے کے بعد پڑھنے پر مجبور ہو جائے گا۔

    لکھنے سے پہلے بہترین آئیڈیئے کا انتخاب کیجیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ذہن میں آنے والے آئیڈیاکے تمام نکات نوٹ کر لیں اور اس کے بعد لکھنا شروع کریں۔ اس طرح آپ کچھ بھی بھولے بغیر جامع تحریر لکھ سکیں گے۔

    اپنی کہانی ایک بار لکھئے اور پھر اسے کم از کم 30 بار، بار بار لکھیے۔ جی ہاں کم از کم 30 بار۔ لکھتے جائیں، لکھتے جائیں۔ اس طرح جو تحریر وجود میں آئے گی وہ بہترین ہو گی اور اس میں مزید کاٹ پیٹ یا ایڈیننگ کی ضرورت بھی کم سے کم پیش آئے گی۔

     

    -1 تحریر کو پختہ کیجیے

    جب آپ اپنا مسودہ مکمل کر چکیں تو اسے ایک طرف رکھ دیں اور بھول جائیں۔ اس کے بارے میں سوچیں بھی مت۔ کم از کم ایک دو ماہ تک۔ اب اسے نکالیے اور پڑھیئے۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس تحریر کو آپ اگر دوبارہ لکھیں تو پہلے سے بہتر لکھ سکیں گے۔

    ہم جب خود اپنی پرانی تحریریں پڑھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ اس میں یہ یہ کمی ہے، جسے پورا ہونا چاہیے۔ یہی نکتہ ہم آپ کو سمجھا رہے ہیں کہ ایسا ہی اپنے سکرپٹ کے ساتھ کیجیے۔ کچھ عرصے کے وقفے سے آپ اپنے تحریر شدہ سکرپٹ کو دوبارہ پڑھیں گے تو آپ ایک ناقد کی نظر سے بھی پڑھ رہے ہوں گے۔ یقینا اس میں چھوٹی چھوٹی کئی خامیاں نظر آئیں گی۔ جنہیں آپ پہلے سے بہتر انداز میں لکھ سکیں گے۔

    سٹیفن گنگ اگرچہ ناول نگار ہیں لیکن بار بار تحریر کے حوالے سے اُن کا کہنا ہے:

    ”اگر آپ نے پہلے ایسا نہیں کیا تو تجربہ کیجئے۔ اپنے تحریر شدہ مسودہ کو چھے ہفتے بعد پڑھیئے، آپ خود اپنی بہت سی خامیوں کی نشان دہی کر سکیں گے۔ یہ آپ کی اپنی شناخت کا سفر ہے۔ جوں جوں

     آپ وقفے دے کر اپنی تحریروںکو پڑھتے رہیں گے، تو تحریر بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی۔ مسودے کو ایک سے دو ماہ کے وقفے سے پڑھنے میں خاص حکمت پوشیدہ ہے۔“

    تحریر میں نکھا ر اورپختگی کے لیے آپ کے لکھنے کی ریاضت ہی کام آئے گی۔ لہٰذا اس ہدایت پر عمل ہی آپ کو ایک اچھا لکھاری بنا سکتا ہے۔

     
  • سکرین رائٹرز ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز 

     

    ایک سکرین رائٹر، سکرین رائٹر اور بس سکرین رائٹر ہی ہوتا ہے۔ کئی سکرین رائٹرز ٹی وی، فلم، مزاج اور ڈرامہ لکھ سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر صنف کا مزاج الگ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر ٹی وی کے لیے مزاج لکھنے والے لکھاری نہ صرف عام طور پر مزاحیہ مزاج رکھتے ہیں بلکہ اپنے کام کی بدولت فلم سازوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں اور بعض اوقات انتہائی دباﺅ کے عالم میں بھی کام کرنا پڑے تو کر سکتے ہیں۔ سِٹ کام سکرین رائٹنگ یا مزاحیہ ڈرامہ یا سین بنانے میںپورا ایک گروپ متحرک ہوتاہے۔ ایک روایتی سِٹ کام کی تکمیل میں دس بارہ کل وقتی لکھاریوں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لکھاری کے بڑے سے کمرے میں اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ جہاں بھانت بھانت کے لوگ مختلف واقعات و گفتگو شیئر کرتے ہیں۔ ہر قسط کے پلاٹ کے ہرہر نقطے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ لطائف بازی ہوتی ہے جن سے کہ مزاحیہ سین کشید کیے جاتے ہیں اور سکرپٹ کے ہر ہر سین پر اُس وقت تک بحث ہوتی ہے جب تک کہ وہ شوٹنگ کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔

     

    سکرین رائٹر کیسے بنتے ہیں؟

    سکرین رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھاریئے اور اس کے ساتھ بطور لکھاری بھی اپنا ایک مضبوط تشخص ابھاریئے۔ یعنی کہ آپ کو لکھاری کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے۔

    آپ کا اوّلین ہدف سکرین رائٹر بننا یا ٹی وی سکرپٹ لکھنا نہیں بلکہ صرف ” لکھنا “ ہونا چاہیے۔ کچھ بھی، کوئی مضمون، شارٹ سٹوری، کہانی، افسانہ یا کچھ بھی لکھیں۔سب سے پہلے اپنی تحریر میں پختگی لائیں۔ جب آپ کو ”لکھنا“ آ جائے گا تو پھر آپ مزیدآگے بڑھ سکتے ہیں۔

    یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جسے صرف ثابت قدمی سے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ لکھنا، لکھنا اور بس لکھنا۔ اپنی ان اوّلین تحریروں کو ایک ناقد کی نظر سے خود پڑھیں، دوسروں کو پڑھائیں اور ان کی آرا کی روشنی میں اس مشق کو مطلوبہ معیار تک جاری رکھیں۔ مشق آخر کار آپ کو پختہ کار بنا دے گی۔

    کچھ لوگ باقاعدہ کسی ادارے سے باقاعدہ ترتیب لینا زیادہ سود مند تصور کرتے ہیں۔ ان میں کالج کورس، فلم سکول پروگرام یا آن لائن رائٹنگ ورکشاپس جیسے رہنمائی دینے والے میڈیاہیں۔ ان اداروں کو جوائن کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں آپ کو ایک مقررہ وقت پر کام کر کے دکھانا ہوتا ہے اور پھر اس کا گریڈ بھی ملتا ہے یا مقابلے بازی کا رجحان ہوتا ہے۔ کسی فلم سکول میں داخلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں آپ کا براہِ راست واسطہ فن کاروں، لکھاریوں اور فلم سازوں سے پڑتا ہے۔ جہاں آپ کام ہوتے دیکھتے اور کئی نئے نئے آئیڈیاز بھی پاتے ہیں۔ اور اگر ایک محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی ہیں تو براہِ راست یہاں ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں۔

     

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر شوقیہ اور پیشہ ورانہ دونوں اقسام کے سکرین رائٹرز کے لیے یقینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر سافٹ ویئر خریدنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈسٹری سٹینڈرڈ کے مطابق بنائے گئے فارمیٹ کے مطابق اپنا سکرپٹ تیار کر سکتے ہیں۔

    ایک بڑی اہم، عجیب اور منفرد بات یہ ہے کہ آدھے گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کا ٹی وی ڈرامہ اور فیچر فلم، ان میں سے ہر ایک کا فارمیٹ الگ ہوتا ہے۔ ان سب کے لیے ایک فارمیٹ کام نہیں دے سکتا۔ اور اس سے بھی انوکھی بات یہ کہ کچھ خاص شوز کے لیے گفتگو کے نکات تحریر کرنے کے لیے فارمیٹ بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

    جب آپ اپنا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ایجنٹ کے ہاتھ میں تھماتے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس میں کرداروں کے نام اور مقام کس طرح سے لکھے گئے ہیں، سین کی وضاحت کیسے کی گئی ہے، اور کیا سین میں تسلسل ہے۔ آپ fade out اور jump cut کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

    تواپنا پہلا سکرین پلے یا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ادارے کو بھیجنے تک پوری کوشش کریں کہ ان تمام جزئیات پر آپ کو پورا عبور حاصل ہے۔

  • نان فکشن کیا ہے؟ ۔ کمرشل رائٹنگ

    نان فکشن کیا ہے؟ ۔ کمرشل رائٹنگ

    نان فکشن کیا ہے؟

    اخبارات میں چھپی کہانیاں، اداریے، قانونی دستاویزات، ذاتی اکاﺅنٹس اور نصابی کتب وغیرہ‘ یہ تمام چیزیں نان فکشن کہلاتی ہیں۔

    متن کی مناسبت سے فکشن کی تین درجہ بندیاں ہیں۔

    کہانیاں اور ناول، وہ نثر جو عام طو رپر پیراگراف سے لے کر کئی ابواب پر مشتمل ہوتی ہے۔

    شاعری، چھوٹی بڑی سطور جو منظوم یا غیر منظوم بند کی شکل اختیار کریں۔

    ڈرامہ سٹیج ڈائرکشن، ڈائیلاگ، مناظر اور ایکٹ۔

    معلوماتی دستاویزات کے علاوہ تمام فلمیں فکشن کے زمرے میں آتی ہیں کیوںکہ وہ کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ جب کہ فلمی جائزے حقیقت پر مبنی ہونے کی وجہ سے نان فکشن کہلاتے ہیں۔ 

    یاد رہے کہ کچھ حد تک من گھڑت ہونے کے باوجود ‘ اخبارات میں چھپنے والے آرٹیکل بھی نان فکشن کے عنوان میں آتے ہیں۔ نان فکشن اکثر اپنی سچائیوں کے بے بنیاد دعوے کرتے ہیں مگر مسئلہ یہ جانچنا ہے کہ بحث کے باوجود یہ دعوے کس حد تک حقیقت کو بیان کرنے سے کامیاب رہتے ہیں۔

    پچھلے چندسالوںکے دوران فکشن اور نان فکشن کا امتیازی فرق بھی پھیکا پڑ گیاہے۔ فکشن رائٹرز اپنی کہانیوں کو حقیقی واقعات اور کرداروں کو نان فکشن کی طرز پر لکھ رہے ہیں اور تاریخ دان یا نان فکشن رائٹرز تاریخی کرداروں کے خیالات کو مزید پرتاثیر بنانے کے لیے اپنی تحریروں میں فرضی ڈائیلاگ شامل کر رہے ہیں۔

    نان فکشن کی کئی اقسام ہیں اور اُنہیں بیان کرنے کے کئی طریقے۔ ان سب چیزوں کے بارے میں تفصیلاً معلومات آپ کو آگے چل کر ملیں گی۔

  • لکھنے کے لیے وقت نکالیے ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    لکھنے کے لیے وقت نکالیے ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    لکھنے کے لیے وقت نکالیے

    کیا آپ کو کبھی ایسا محسوس ہوا ہے کہ آپ بہت اچھی کہانی لکھ سکتے ہیں مگر وقت کی کمی آپ کے راستے میں حائل ہے۔ یقینی طور پراکثر قارئین کا جواب اثبات میں ہو گا۔ ہر شخص کے اندر تخلیقی صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر زندگی کی مصروفیات سے ہاتھ کھینچ کر چند لمحات لکھنے کے کام پر صرف کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ روز عزم کرتا ہے کہ جیسے ہی اسے فراغت میسر آئی، وہ فوری طور پر اپنے خیالات کو قرطاس و قلم کے حوالے کرتا چلا جائے گا مگر اسے کبھی ایسا موقع میسر نہیں آتا۔ ہر شخص اسی پریشانی سے دو چار ہے۔ مصروفیات نے جینا دوبھر کر رکھا ہے اور زندگی ایک مشینی انداز میں گزرتی چلی جارہی ہے۔ اگر آپ نے ایک مخصوص طرز پر رواں دواں زندگی سے وقت نکالنے کا ہنر نہ سیکھا تو آپ کبھی بھی ایک اچھے رائٹر نہیں بن پائیں گے۔ اس مضمون میں آپ کو کچھ ایسے سنہری اصول ملیں گے جن پر عمل کرتے ہوئے آپ کے لئے لکھنا بے حد آسان ہو جائے گا۔

    ٭ اپنے پاس ہمہ وقت ایک ڈائری رکھیں

    جیب یا بیگ میں ہر وقت ایک ڈائری یا نوٹ بک کی موجودگی ایک رائٹر کے لئے بہت ضروری ہے۔ آپ کو جب بھی دورانِ سفر کچھ وقت میسر آئے تو وہ لمحات اپنے خیالات کو ڈائری پر منتقل کرنے میں صرف کریں۔ اس کا دوہرا فائدہ ہو گا۔ اول یہ کہ آپ کا فارغ وقت تخلیقی کام میں استعمال ہو جائے گا اور دوم یہ کہ آپ دورانِ سفر جن مشاہدات و تجربات کو فوری طور پر محفوظ کر یں گے وہ بعد میں ایک کہانی کے پلاٹ کو ترتیب دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ڈائری آپ کی ادبی زندگی میں ایک بہترین کردار ادا کرے گی۔

    ٭موبائل فون کو لکھنے کے لئے استعمال کریں

    دورِ جدید میں موبائل فون نے زندگی میں بے حد آسانی پیدا کر دی ہے، کسی بھی ان جان جگہ پر آپ کو کسی مخصوص مقام کی تلاش ہو تو موبائل میں موجود نقشہ آپ کی مدد کرتا ہے اور اگر آپ نے کسی یادگار لمحے کو محفوظ کرنا ہو تب بھی موبائل کا کیمرہ ہی آپ کے کام آتا ہے۔ اسی طرح جب کبھی آپ سفر میں ہوں، یا کسی ایسی جگہ جہاں خیالات کو محفوظ کرنے کے لئے کاغذ قلم دستیاب نہ ہو تو آپ اپنے موبائل ہی میں ان خیالات کو بہ ذریعہ ڈرافٹ میسج یا نوٹ محفوظ کر سکتے ہیں۔ جدید موبائلز میں تو ایسی ایپلی کیشنز بھی موجود ہیں جن میں کی بورڈ یا ٹچ پیڈ کی بہ جائے ڈائریکٹ ٹچ ہی کی مدد سے اپنی لکھائی میں کچھ بھی لکھا جاسکتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے بہت بڑی نعمت ہے جو اپنے پاس ہر وقت ڈائری رکھنے کے جھنجٹ میں نہیں پڑنا چاہتے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو اینڈرائیڈ یا آئی فون کی سہولت میسر نہیں، وہ اپنے خیال کو میسج کی صورت میں لکھیں اور اپنے ہی نمبر پر بھیج دیں۔ اس طرح آپ کسی بھی وقت اس خیال کو کسی اور محفوظ جگہ پر اتار سکتے ہیں۔

    ٭وائس کی بورڈ استعمال کریں

    ایسے کئی سافٹ ویئرز یا ایپس موجود ہیں جن کے ذریعے صرف بولنے پر ہی آپ کے الفاظ خود بہ خود سکرین پر ٹائپ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے بہت اہم ہیں جن کی زندگی بہت مصروف گزرتی ہے اور وہ لکھ نہیں سکتے۔ وائس کی بورڈ کے ذریعے وہ کسی بھی ساعت اپنے خیالات کو محفوظ کر دیتے ہیں اور کسی ویک اینڈ یا چھٹی کے دن ان خیالات کو کہانی کا پلاٹ بنانے میں استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کی بورڈ صرف انگریزی الفاظ ہی ٹائپ کر سکتا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ بہت جلد اردو وائس کی بورڈ بھی منظرِ عام پر آجائے گا۔

  • فکشن لکھنے کے دس اصول ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    فکشن لکھنے کے دس اصول ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    فکشن لکھنے کے دس اصول

     

    -1 دورانِ تحریر موسمی حالات کو زیرِ بحث نہ لایئے۔ اگر آپ کسی خطّے کی خاص صورتِ حال کے بارے میں لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ کسی کردار کے ساتھ موسم کو نتھی کرنا چاہتے ہیں تو نہ کیجیے۔

    خطّےکی آب و ہوا سے متعلق ایک مثال ”بیری لوپز“کی تصنیف کردہ کتاب "Arctic Dreams” ہے جس میں وہ اسکیموز کی زندگی زیرِ بحث لائے ہیں۔ اس میں انہوں نے برف کے باشندے یعنی اسکیمو سے بھی زیادہ برف کے بارے میں حقیقتیں بیان کی ہیں۔

    -2 دیباچہ لکھنے سے گریز کیجیے۔ پیش لفظ کے بعد آنے والا طویل دیباچہ۔ قاری کو بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن فکشن نگاری میں یہ عام روش ہے۔

    ناول کی ابتدا میں دیباچہ لکھنا پرانی بات ہو چکی ہے۔ اب تو آپ اسے اپنی تحریر میں کہیں بھی فٹ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طورJohn Steinbeck کے ناول کا دیباچہ حاضر ہے۔ اس میں کہانی کے ایک کردار کی زبانی وہ سب کہلا دیا گیا ہے، جو مصنف دیباچے میں کہنا چاہتا تھا۔ وہ کہتا ہے، ”مجھے کتاب میں ڈھیروں ڈھیر باتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے کسی کی طرف سے ایسے تبصرے کی پروا نہیں کہ یہ لڑکا کیسی باتیں کرتا ہے۔ مجھے اپنی باتیں ایسے ہی کرنا پسند ہے۔“

    -3 اپنے مکالمہ جات کو کردار سے نتھی کرنے کے لیے لفظ کہا (said) کے علاوہ کبھی کوئی اور فعل استعمال نہ کریں جیسا کہ ”بڑبڑایا“، ”خبردار کیا“، ”جھوٹ بولا“ یا پھر ”سانس بھری“وغیرہ۔ ہمیشہ یہ لکھیں کہ فلاں کردار نے یہ کہا۔ 

    -4 لفظ ”کہا“ (said) کی جگہ کبھی بھی کوئی متعلق فعل (adverb) استعمال نہ کیجئے…. یہ ایک سنجیدہ تاکید ہے۔ اس طرح یا کسی بھی طرح متعلق فعل کا استعمال تحریر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مصنف جو عموماً پیشگی معاوضہ لے چکا ہوتا ہے ، تحریر میں اس ایک لفظ کے استعمال سے اس کے ربط اور تسلسل میں ایسا فرق آئے گا کہ مصنف اور ناشر کے معاملات بری طرح بگڑ سکتے ہیں۔ میری تصنیف کردہ کتابوں میں ایک مو¿نث کردار ہے، جو تاریخی رومانس کی داستانوں میں بہت زیادہ متعلق فعل استعمال ہونے پر کچھ یوں تبصرہ کرنا ہے۔

    "full of rape and adverbs”

    -5 علامتِ استعجاب (exelamation) کے استعمال میں محتاط رہئے۔ آپ اس علامت کو 100,00 الفاظ پر مشتمل نثر میں 2یا 3 بار سے زیادہ استعمال نہیں کر سکتے۔ اگر آپ جگہ جگہ استعمال کرنا شروع کر دیں گے تو تحریر کا حشر ”Tom Wolfe “ جیسا ہو جائے گا۔ جسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ علامتِ استعجاب کی مٹھی بھر کر تحریر میں ڈال دیا گیا ہے۔

    -6 تحریر میں ”اچانک“ (suddenly) یا لوگوں نے بے قابو ہوتے ہوئے وحشیانہ انداز میں برتاﺅ شروع کر دیا (All hell broke loose) جیسے الفاظ کے استعمال کی سخت ممانعت ہے۔ یہ اصول وضاحت کا طلب گار نہیں ہے۔ میں نے اکثر تحریریں پڑھتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ وہ رائٹرز جو اچانک کا لفظ استعمال کرتے ہیں، ان کی تحریر میں علامتِ استعحابیہ کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    -7 تحریر میں مقامی بول چال کے الفاظ اور محاورے استعمال کرتے ہوئے جملوں کو سادہ، مختصر اور جامع بنایئے کیوں کہ جب آپ اپنے الفاظ کو مکالمے کی شکل دینا شروع کرتے ہیں تو روانی میں لکھتے ہوئے صفحے پر صفحے بھرتے چلے ہیں۔

    اس نکتے کی مزید وضاحتکے لیے آپ "Annie Proulx” کی لکھی شارٹ سٹوریز کی کتاب (Close Range) میں Wyoming Voices دیکھ سکتے ہیں۔

    -8 کرداروں کا تفصیلی تعارف نہ کروایئے، جیسا کہ مشہور امریکی ناول نگار John Steinbeck کا وطیرہ ہے۔ ارنسٹ ہیمنگ وے کی کتاب Hills Like White Elephant اور American and The Girl With Him کا تقابلی جائزہ لیجیے اور فرق نوٹ کیجئے۔

    "She had taken off her hat and put it on the table.”

    یہ واحد جملہ ہے جو اُس میں کسی مادی حالت کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

    -9 چیزوں اور جگہوں کے بارے میں غیر ضروری تفصیلات سے اجتناب کیجیے۔ جب تک کہ آپ Margaret at wood کا سا انداز نہیں اپنا لیتے اور لفظوں میں منظر نگاری جیسے فن میں طاق نہیں ہو جاتے۔ تحریر میں ایکشن کی بھی زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ کہانی کو اپنے قدرتی بہاﺅ میں بہنے دیں۔

    -10 لکھتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ تحریر دل چسپ ہو۔ لکھنے کے بعد اپنی تحریر کو ایک قاری کی نظر سے پڑھئے اور غیر دل چسپ حصے کاٹ دیجئے۔ آپ وہ سب کچھ لکھیں جو کسی اور کی تحریر میں پڑھنا چاہتے ہیں۔بڑے بڑے پیراگراف میں مت لکھئے ایسی نثر پڑھنے میں بوجھل ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے پیراگراف اور دل چسپ واقعات بہت اہم ہیں۔ تحریر کا سب سے اہم ترین اصول جس میں یہ تمام دس کے دس اصول سما جائیں، وہ یہ ہے کہ لکھیں، دوبارہ لکھیں، دوبارہ لکھیں اور دوبارہ لکھیں۔

     
  • فکشن کی ۳۵ اقسام اور اشکال ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    فکشن کی ۵۳ اقسام اور اشکال

    (1)مہم جو افسانے

    ایسی کہانیاں جن میں کردار پُر خطر اور جوشیلے کارناموں میں ملوث ہوتے ہیں۔

    (2) ائیر پورٹ ناول

    یہ فکشن کی ایسی قسم ہے جو بین الاقوامی ائیر پورٹس پر دستیاب ہوتا ہے تاکہ فضائی مسافر، پرواز کے دوران کچھ دل چسپ اور معلوماتی تحریریں پڑھ سکیں۔

    (3) مثالیہ

    یہ ایسی کہانی ہے جس میں علامات کا سہارا لے کر انسانی فطرت سے متعلق سچ اجاگر کیا جا تا ہے۔

    (4) بلڈنگزرومن(Bildungsroman)

    وہ کہانی جو کسی کردار کی جذباتی اور اخلاقی نشوونما بیان کرتی ہو۔

    (5) بلیک کامیڈی

    فکشن کی ایسی قسم جس میں مزاح کسی سانحے یا حادثے سے اخذ کیا گیا ہو۔

    (6) مزاحیہ

    مزاحیہ کہانی وہ ہوتی ہے جس میں لوگوں کو خوش کرنے کے لئے مختلف حالات و واقعات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے ہونٹوں پر ہنسی لے آئیں۔

    (7) مزاحیہ ڈرامہ

    ایسی کہانی جس میں مزاح اور سنجیدگی دونوں پائی جاتی ہیں۔

    (8) سوانگ بھرا مزاح

    فکشن کی اس قسم میں مزاح ،تکلیف دہ حالات اور اتفاقات سے کشید کیا جاتا ہے۔اس میں کسی کردار کو درپیش مسئلے کو مزاحیہ طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔

    (9) مزاحِ اخلاقیات 

    یہ مزاح کی وہ قسم ہے جس میں کسی مخصوص طبقے اور ان میں پائے جانے والی عادات کا مذاق بنایا جائے۔

    (10) جرم کی کہانیاں

    جرائم اور مجرمان سے متعلقہ تفتیشی کہانیاں۔

    (11) جاسوسی کہانیاں

    ایک ایسی کہانی جس میں ہیرو کسی جرم کے بارے میں تفتیش کر رہا ہو۔

    (12) رزمیہ

    بنیادی طور پر یہ ایک طویل نظم ہے جس میںکسی افسانوی ہیروکا تذکرہ پایا جاتا ہے لیکن اب نثر میں بھی اس طرز کی کہانیاں کہی جا رہی ہیں۔

    (13) مکتوبائی کہانیاں

    یہکہانیاں ان تمام خطوط پر مشتمل ہوتی ہیں جو کرداروں کے مابین متبادل ہوتے ہیں۔

    (14) تصوراتی کہانیاں

    وہ کہانیاں ہیں جن میں تصوراتی مخلوق اس دنیا کے کاموں میں ملوث ہوتی ہے یا دیومالائی اور مافوق الفطرت مخلوق کے بارے میں کہانیاں۔

    (15) افسانوی خودنوشت

    ایک ایسی کہانی جس میں کوئی کردار کسی دوسرے کے زندگی میں ہونے والے واقعات کا گواہ بن کر خود کہانی کہے۔

    (16) افسانوی سرگزشت

    کسی کی زندگی کی کہانی بیان کرنا سرگزشت کہلاتا ہے۔

    (17) افسانوی نوع کی کہانی

    ایسی فارمولا کہانیاں جو ادبی طور پر نہیں بلکہ زبان کی چاشنی کے لیے مخصوص جاسوسی یا مہم جویانہ طرز پر لکھی جائیں۔

    (18)گوتھک فکشن

    وہ کہانیاں جو عجیب و غریب اور خطرناک واقعات کا مجموعہ ہوں اور داستان گوئی کی طرز پر بیان کی جائیں۔

    (19) ڈراوﺅنی کہانیاں

    ایسی کہانیاں جن میں خوف اور ڈر کا عنصر پیدا کیا جاتا ہے اس مقصد کے لیے بعض اوقات مافوق الفطرت مخلوق کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔

    (20) میلوڈرامہ

    وہ تحریریں جن میں اثر پیدا کرنے کے لیے جذباتی انداز اختیار کیا جائے۔ فکشن کی اس قسم میں عموماً چھوٹی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

    (21) پُر اسرار فکشن

    ان میں سربستہ بھیدوں اور پُراسرار واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

    (22) فنِ لطیفہ

    ایسا اندازِ بیاں جس میں حالات و واقعات ،دوسرے فن پاروں سے لیے گئے ہوں۔ کسی مشہور فنکار کی زندگی یا کارکردگی سے لیے گئے ہوں۔

    (23) غنڈوں اور بدمعاشوں کی کہانیاں©

    ایسی کہانیاں جن میں کسی غنڈے یا بدمعاش کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا جائے۔

    (24) مضحکہ خیز نقل

    فکشن کی ایسی قسم جس میں کسی مشہور فنکار، اسٹائل یا نوع کا مذاق اڑایا جائے۔

    (25) رومانی کہانیاں

    رومانی کہانیاں محبت کی داستانیں بیان کرتی ہیں جن میں کرداروں کو محبت کی راہ میں حائل مختلف قسم کی رُکاوٹوں اور ظالم سماج کا سامنا کرتے دکھاتے ہیں۔

    (26) رومانی مزاح

    ایسی ہلکی پھلکی تحریر جس میں محبت کہانی کو مزاح میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔

    (27) ہلہ گلہ والی کہانیاں

    ایسی کہانی جس میں وقتی تفریح کے لیے ہلہ گلہ سے بھرپور مزاحیہ داستان پیش کی گئی ہو۔

     

    (28) طنزیہ کہانی

    ایسی کہانی جو انسانی فطرت اور جذبات جیسا کہ غصہ، غرور اور لالچ پر طنز کرتی نظر آئے۔

    (29) سائنس فکشن

    ایسی کہانیاں جن میں انسانی زندگیوںمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کا عمل دخل دکھایا جاتا اور یہ کہ وہ کیسے نوعِ انسانی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

    (30) سنکی کہانیاں

    ایسی کہانیاں جن میں کچھ ناممکن حالات و واقعات دکھائے جائیں اور ان سے مزاح کشید کیا جائے۔

    (31) لڑنے مرنے پر تیار(Swashbuckler)

    ایسی کہانیاں جن میں ہیرو کسی نیک مقصد کے لئے لڑنے مرنے پر تیار ہوتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر کسی کی مدد کرے۔

    (32) سنسنی خیز ناول

    تجسس، سنسنی اور جوش جیسے عناصر سے بھرپور کہانی۔

    (33) المیہ کہانی

    غمگین اور اداس کہانی جس میں مختلف المیہ اور غم ناک قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

    (34) ٹریجک کامیڈی

    ایک ایسی کہانی جس میں طربیہ اور المیہ انداز ملا کر لکھے گئے ہوں۔

    (35) سفرنامہ

    فکشن کی اس قسم میں مصنف کسی علاقے یا ملک کا سفر اختیار کرتا اور وہاں کے بارے میں سیرحاصل معلومات قارئین تک پہنچاتا ہے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ اٹھارواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ اٹھارواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    اٹھارواں دن :جمعہ  10 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج میرا ڈائری لکھنے کا آخری دن ہے۔ جب تک یہ صفحہ شائع ہو گا، شعبان کے آخری دن ہوں گے اور رمضان کی آمد آمد ہو گی۔ ڈائری لکھنے کے اس تین ہفتے کے سفر میں میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کھویا تو کچھ نہیں، پایا بہت کچھ۔ اپنے وقت کا بہترین مصرف پایا، زندگی کی کچھ یادوں کو کاغذ پر سمیٹ لینے کا موقع پایا، لکھنے کی نئی صنف کا ہنر پایا اور سب سے بڑھ کر دوستوں او رپڑھنے والوں کی توصیف و محبت پائی۔

    تو دوستو! آج میں شکر گزار ہوں آپ کے لیے۔ آپ کی اس حوصلہ افزائی کے لیے جو آپ نے کمال مہربانی و شفقت سے مجھ پر نچھاور کی۔آپ کی اس محبت کے لیے جو آپ نے مجھے بخشی اور آپ کی ان دعائوں کے لیے جن سے آپ نے مجھے اور میرے بچوں کو نوازا۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا ۔

    آج پھر جمعہ ہے۔ میں نے حسبِ معمول گھر کو چمکایا، الماری کھول کر بہترین جوڑا نکالا، آنکھوں میں سرمہ لگایا، میچنگ جوتی اور بُندے پہنے ۔خوش قسمتی سے دراز میں سے میچنگ کلپ بھی مل گیا وہ بھی لگا لیا۔ آپ پوچھیں گے اس تیاری کا کیا مقصد؟ کیا کہیں جانا تھا یا کسی کو آنا تھا؟ نہیں! بس جمعہ پڑھنا تھا اور اپنا دل خوش کرنا تھا۔ خود ہی اپنے کپڑے دیکھنے تھے اور خود ہی واہ واہ کرنی تھی۔ کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا۔ تو بس ہم شبیر بنے اپنی تیاری دیکھا کیے اور واہ واہ کیا کیے۔

    واہ واہ سے یاد آیا! بھلا بوجھو تو آج میں نے کیا دیکھا اور خوب واہ واہ کی۔ انارکلی۔ ارے نہیں بھئی! شہزادہ سلیم کی انارکلی نہیں۔ سچ مچ کی انارکلی۔ انار کے درخت پر لگنے والی، کیسری رنگ کی، نازک اندام انارکلی۔ انار کا درخت خود بھی نازک اندام ہوتا ہے لیکن اس کی کلیوں اور پھولوں کے تو کیا ہی کہنے۔ میں روز واک کرتے ہوئے اس سڑک سے گزرتی تھی، نہ جانے پہلے نظر کیوں نہ پڑی۔ آج پڑی تو بے اختیار دل چاہا چند پھول اور کلیاں توڑ کر لے جائوں ۔لیکن پھر وہی مجبوری آڑے آئی کہ ایک مرتبہ کسی چیز کو ہاتھ لگا لیا تو چہرے کو نہ لگا سکوں گی۔ پھر اس کے بعد کیا ہو گا، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔

    ویسے شہنشاہ اکبر کے ذوقِ سلیم کی بھی داد دینی پڑے گی کہ کیا نام چنا حسین کنیز کے لیے۔ انارکلی۔ ویسے تو اس بے مثل کہانی کے مصنف سید امتیاز علی تاج اپنے ڈرامے کے دیباچے میں خود لکھتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے یہ داستان بے بنیاد ہے اور میرے ڈرامے کا تعلق محض روایت سے ہے۔ ان کاکہنا بجا، لیکن اس کہانی میں، اس کردار میں اور اس نام ”انارکلی” میں اس قدر دلآویزی ہے کہ اس پر یقین کرنے اور اس سے پیار کرنے کو دل چاہتا ہے۔ سید امتیاز علی تاج کا یہ ڈرامہ کلاسیکی ادب کا شاہکار ہے اور اس کے ڈائیلاگ اس قدر خوبصورت ہیں کہ اگر اس میں سے کہانی کو نکال بھی دیا جائے تو اس کے کمال پر کوئی اثر نہ پڑے۔ چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔

    انارکلی:  ”(ملول نظروں سے ماں کو دیکھتے ہوئے) میری اماں تمہیں کیسے سمجھائوں کہ میں کیوں غمگین ہوں۔ اے کاش میں اپنا دل کسی طرح تمہارے سینے میں رکھ دیتی۔ پھر دیکھتی تم کیسے کہتی ہو، تو انارکلی ہے تو خوش کیوں نہیں ہوتی؟ میں کیسے بتائوں، میں انار کلی ہوں، میں اسی لیے خوش نہیں ہوتی۔”

     ایک اور موقع پر جب رانی اپنے بیٹے سلیم کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ ایک کنیز سے شادی کا خیال دل سے نکال دے ورنہ دنیا باتیں جائے گی، تو وہ ماں کو جواب یوں دیتا ہے۔

     سلیم: ”میں جانتا ہوں یہ دنیا کس طرح دیکھنے کی عادی ہے۔ (غصے سے مڑ کر) جائیے دنیا کی عظیم ترین سلطنت کی لختِ جگر کو میرے پہلو کی زینت بنا دیجئے اور میں پھر بھی دنیا کی یہ سرگوشیاں آپ کے کانوں تک پہنچائوں گا۔ ‘ اس احمق کو دیکھو جس نے سیاست کے پیچھے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔’ جائیے فردوس سے میرے لیے ایک حور مانگ لائیے۔ پھر بھی میں دنیا کی نظروں میں یہ طعنے لکھے ہوئے دکھا دوں گا۔ ‘یہ بدنصیب عورت کی دلفریبیوں کو کیا جانے۔’ (نفرت سے) دنیا اور اس کی نظریں! پھر اگر انارکلی کو اپنا بنا لینے پر دنیا یہ کہے کہ محبت اندھی ہے تو میں دل کھول کر ہنس سکتا ہوں۔”

    اور جب انجام کار ایک حاسدانہ سازش کے ذریعے انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے اور شہزادہ تڑپ تڑپ کر دیوانہ وار انارکلی کا نام پکارتا ہے تو:

    رانی: ”(سلیم کو لپٹا کر اور اپنا رخسار اس کے سر پر رکھ کر) میرے لال وہ زندہ رہے گی۔ وقت کی گود میں، زمانے کی آغوش میں۔ یہ لاہور اس کا نام زندہ رکھے گا۔ دنیا اس کی داستان سلامت رکھے گی۔ اور تو بھی، میں بھی اور دور دراز کی نسلیں بھی اس پر آنسو بہائیں گی۔”

    اور آج صدیوں بعد لاہور کی ایک سڑک پر کھڑے میں انارکلی کو یاد کر رہی تھی، اس کی کہانی میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہی تھی، اور میرا دل اسکی یاد میں آنسو بن چکا تھا۔اس سڑک پر چلتے چلتے بے اختیار میرا دل چاہا کہ واپس مڑوں، انار کے درخت کے نیچے جا کھڑی ہوں اور اس کی ہر انارکلی کو تب تک تکتی رہوں جب تک وہ مرجھا کر گر نہ پڑے۔

    لیکن مجھے واپس مڑنے کی ضرورت نہ پڑی۔ اچانک میری نگاہوں کے سامنے ایک کوندا سا لپکا اور ایک گھنے پیڑ کی شاخوں میں سے مجھے کیسری رنگ کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے۔ گھنے درخت کے پیچھے انار کا ایک اور درخت سڑک کنارے کھڑا تھا اور اس پر بے شمار پھول اور کلیاں کھِلی تھیں۔

    پائولو کوئیلواپنی کتاب دی ایلکمسٹ میں لکھتا ہے کہ جب انسان شدت سے کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو پوری کائنات اس خواہش کو پورا کرنے میں لگ جاتی ہے۔ (جی ہاں یہ قول شاہ رخ خان کا نہیں پائولو کوئیلو کا ہے۔ وہیں سے چرا کر شاہ رخ خان کی فلم میں ڈالا گیا ہے۔) ہم اسے قبولیت کی گھڑی کہتے ہیں۔ جیسے میں نے انارکی کلی ایک مرتبہ پھر دیکھنے کی خواہش کی اور انار کا درخت دوسری مرتبہ میرے سامنے آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ سائنس علم کی ایک شاخ ہے اور اس پر بہت ریسرچ کی گئی ہے۔ لب لباب اس ریسرچ کی فائنڈنگ کا یہ ہے کہ انسانی دماغ انتہائی طاقتور Phenomen ہے، اپنے مستقبل کی تشکیل کر سکتا ہے، جو چاہتا ہے وہ پا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس تمام سائنس کی بنیاد اس عقیدے پر کھڑی ہے کہ اس کائنات میں کچھ پازیٹو اور کچھ نیگیٹو طاقتیں ہیں۔ ان میں ایک پازیٹو طاقت ایسی ہے کہ جو سپریم ہے، سب سے بڑھ کر طاقتور ہے اور جس کے قبضے میں اس کائنات کا نظام اور تمام مخلوقات کی زندگی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اس طاقت کو گاڈ کہہ لیجئے، کائنات کہہ لیجئے یا صرف طاقت کہہ لیجئے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ موجود ہے اور قادرِ مطلق ہے۔ اور جب ایک انسان اپنے دل و دماغ کو اس Omnipotent طاقت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتا ہے تو زندگی میں جو چاہتا ہے پا لیتا ہے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ سترہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ سترہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    سترہواں دن:جمعرات 9 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج امی کی سالگرہ ہے۔ وہ پاکستان میں ہوتیں تو میں ان کے لیے کیک بنا کر لے جاتی۔ انہیں گلے لگاتی، ان کے گورے چٹے گالوں پر پیار کرتی اور انہیں تحفے میں ایک اچھا سا سوٹ دیتی۔ وہ یہ سوٹ ”تھینک یو بہت اچھا ہے۔” کہہ کر رکھ لیتیں اور دو دن بعد مجھے فون کر کے کہتیں۔ ”بیٹا سوٹ تو بہت اچھا ہے لیکن میں ایسے رنگ پہنتی نہیں۔ یہ سوٹ میری طرف سے تم رکھ لو۔” اور میں خوشی خوشی وہ سوٹ رکھ لیتی۔

    یا پھر شاید میں انہیں اپنے گھر لے آتی۔ یہاں سالگرہ مناتی۔ وہ مجھے کھانا بنانے سے یہ کہہ کر منع کر دیتیں۔ ”اصل میں تم نمک مرچ کم ڈالتی ہو نا، مجھ سے کھایا نہیں جاتا۔ میں کچھ تھوڑا بہت بنا کر لے آئوں گی۔” اور پھر اتنا کچھ اور اتنا زیادہ بنا کر لے آتیں کہ ہمسایوں کو بھیجنے کے باوجود ختم نہ ہوتا اور جب ہم انہیں گھر چھوڑنے جاتے تو اس بہانے سے کسی بیکری پر رک جاتیں کہ کچھ چیزیں خرید لوں کل مہمان آنے والے ہیں۔ اور اس بیکری میں بچے جس چیز پر ہاتھ رکھتے، انہیں لے دیتیں۔

    یہ سب کچھ ہوتا اگر وہ پاکستان میں ہوتیں۔ لیکن اب وہ آسٹریلیا میں ہیں اور دو سال ہو گئے ہیں میں نے انہیں نہیں دیکھا، ان کے گلے نہیں لگی، ان کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھایا۔ اب اگر میں کوئی جذباتی بات لکھوں گی تو وہ جو یہ ڈائری بڑے شوق سے پڑھتی ہیں، ناراض ہو جائیں گی۔ انہیں ناشکری سے، شکوے شکایتوں سے، میلو ڈرامہ سے اور ان کے اپنے الفاظ میں ”ہیروئن بننے سے” سخت نفرت ہے۔

    تو والدہ محترمہ! بعد از سلامِ نیازمندی آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم سب یہاں خیریت سے اور خوش باش ہیں اور آپ کی خیریت اور خوشی نیک مطلوب ہے۔ آپ کو سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ نیز آپ کو معلوم ہو کہ یہ جو آپ جوش میں آکر کیٹو ڈائٹ سے وزن کم کر رہی ہیں،  یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ نہ ہو کہ آپ اتنی سمارٹ ہو جائیں کہ پاکستان آنے پر میں آپ کو پہچان ہی نہ سکوں۔ ادھر میرا وزن کوارنٹین میں رہ کر ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے سے بڑھ رہا ہے اور آپ کے داماد کا خیال ہے کہ میں بالکل آپ کے جیسی لگنے لگی ہوں۔ کاش ایسا ہی ہو۔

    آپ کی نور چشمی

    سارہ    

    ڈیئر ڈائری، آج میں شکر گزار ہوں ماں کے لیے۔ میں اس ماں کے لیے شکر گزار ہوں جس کی دعائوں کا سایہ میرے سر پر ہے اور میں اس سکھ اور مسرت کے لیے شکر گزار ہوں جو خود ماں بن کر مجھے نصیب ہوئی ۔ نہ اس سے بڑا کوئی رشتہ ہے نہ اس سے بڑھ کر کوئی محبت ۔میری دعا ہے کہ دنیا کی ہر عورت کو ماں بننا نصیب ہو اور ہر اولاد پر اس کی ماں کا سایہ سلامت رہے۔

    پرسوں ہمارے  میاں صاحب ایک ٹی وی پروگرام میں مدعو کیے گئے اور مشہور ہو گئے۔ ان کا کرونا پر دیا گیا لیکچر بڑا پاپولر ہوا۔ کچھ یہ بھی کہ ماشا اللہ ہینڈسم آدمی ہیں اور ٹی وی پر آتے ہیں تو ٹی وی سکرین سج جاتی ہے۔ ہم ان کے ٹی وی سٹار بن جانے پر بہت خوش ہوئے۔ آج عمر نے انٹرنیٹ سے horoscpoe نکال کر ابا کو دکھایا اور خوش ہو کر کہا: ”دیکھیں آپ کے horoscpoe میں بھی لکھا ہے کہ اپریل میں آپ کو شہرت ملے گی۔”

     لیجئے! آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج۔ یعنی horoscpoe کی بلبل بولی ہے تو شہرت کی بہار آئی ہے ورنہ اس کی کیا مجال تھی کہ پاس بھی بھٹک جاتی۔ ادھر ایک ہم ہیں کہ جن کو کبھی ایسا horoscpoe نصیب نہ ہوا۔ میرے horoscpoe میں تو بس اس قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ آج بچے تنگ کریں گے، منگل کو کتا کاٹنے کا امکان ہے۔ دیکھو سفر پر نہ جائیو،پورا ہفتہ ہی منحوس ہے، بتائے دے رہے ہیں ہاں۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ واحد خوشخبری یہ ہوتی ہے کہ شادی کر لیجئے جمعے کا دن سعد ہے ۔ہم دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کہ ہماری شادی ہو چکی اور واحد سعد دن ضائع گیا۔

    ویسے یہ horoscpoe سب جھوٹ ہے، بکواس ہے ہم نہیں مانتے۔ اگر کبھی سال میں ایک مرتبہ یہ پیش گوئی اس نے کی بھی کہ آج محبوب کن اکھیوں سے دیکھ کر مسکرائے گا تو یا تو اس دن ہم سے محبوب کی قمیص استری کرتے ہوئے جل گئی یا ہمارا اپنا پائوں رپٹ گیا۔ وہ بھی محبوب کے سامنے۔ ان دونوں صورتوں میں محبوب کی مسکراہٹ تو کیا نصیب ہوتی، الٹا شرمندگی اٹھانی پڑی۔

    ویسے محبوب کا اور امی کا برج ایک ہے۔ محبوب کو تو شہرت مل گئی دیکھیے امی کو کب ملتی ہے۔ شاید میری اس ڈائری کے ذریعے مل جائے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ امی کو مشہور ہونے کے لیے میری ڈائری کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے ان کی خوش مزاجی، ان کا حسن اور ان کا سلیقہ کافی ہے۔ وہ اپنے کالج کے زمانے سے لے کر آج تک انہی چیزوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کالج کی ہیڈگرل تھیں۔ باسکٹ بال کھیلا کرتی تھیں اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیا کرتی تھیں۔ اگرچہ شکل ہیما مالنی سے ملتی تھی لیکن چوں کہ ہیروئن بننے سے تب بھی نفرت تھی اس لیے ڈراموں میں بھی ہیرو بنا کرتی تھیں ۔ میرا خیال ہے تبھی سے عادت پڑی ہے دبنگ ہو کر جینے کی۔ ورنہ جو ذمہ داری سر پر پڑی تھی، کوئی کمزور عورت ہوتی تو ٹوٹ جاتی۔ بھری جوانی میں بیوہ ہوئیں۔ چار چھوٹے چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا اور سامنے ایک لمبا سفر۔ یہ لمبا سفر انہوں نے تن تنہا اسی ہمت، شکرگزاری اور زندہ دلی سے طے کیا جس کے لیے وہ مشہور تھیں۔ اور پھر ایک ہوتی ہے عام عورت کی بیوگی اور ایک ہوتی ہے بے حد حسین عورت کی بیوگی۔ دونوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک بے سائبان حسین عورت کی طرف جتنے ہاتھ بڑھتے ہیں، اتنی ہی انگلیاں بھی اٹھتی ہیں ، اور جو عورت بے سائبانی کا یہ سفر یوں کاٹ لے کہ اس کی طرف ایک بھی انگلی نہ اٹھ سکے، وہ عورت پن کی معراج کو پہنچ جاتی ہے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ سولہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ سولہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

     

     سولہواں دن:بدھ 8 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری:

    لو ایک شعر سنو!

    ٹخنے کا دیدار کرا

    لہنگا ذرا وہابی کر

    اس شعر کی کیا غرض و غایت اور کیا محل؟ تو دوستو شانِ نزول اس شعر کی یہ ہے کہ آج شب برا¿ت ہے اور یوں لگتا ہے آج ساری دنیا وہابی ہو گئی ہے۔

    میں ایک ایسے گھرانے میں پلی بڑھی جہاں شب برا¿ت کے حلوے اور نیاز کے زردے کو بدعت سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہمارے گھر میں کبھی خاص اس موقع پر حلوہ پکا کر نہ بانٹا گیا اور یہ کہا گیا کہ بھئی سنت کے خلاف ہے۔ لیکن کہیں سے آئے حلوے کو خوشی خوشی قبولنا اور مزے لے کر کھانا نہ صرف سنت ہے بلکہ عین باعثِ ثواب بھی۔ تو ہم تو ساری زندگی بدعت کی آڑ میں حلوہ پکانے سے بچے رہے لیکن ہمسایوں کو اس عمل کے بدعت ہونے کے بارے میں کبھی بھنک بھی نہ پڑنے دی۔

     جو بھی آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

    لیکن آج تو یوں لگتا ہے ساری دنیا وہابی ہو گئی ہے۔ نہ کہیں سے حلوہ آیا، نہ زردہ۔ بس ہم سوکھے منہ اور آزردہ بیٹھے رہے۔

    تو ڈئیر ڈائری آج میں شکر گزار ہوں ان بجتی گھنٹیوں کے لئے جو کسی میتھی سوغات کی آمد کی نوید ہوتی ہیں۔ ان پلیٹوں اور پیالوں کی لئے جو رومالوں سے ڈھکے ہوتے ہیں لیکن انکی خوشبو انکے سارے بھید کھولے دیتی ہے۔ اور میں شکر گزار ہوں ان ہمسائیوں کے لئے جو حلوہ، زردہ اور حلیم پکا کر پڑوسیوں کو بھیجتے ہیں اور کسی بدعت کی وعید کو خاطر میں نہیں لاتے۔

    سہ پہر میں خیال آیا عمر سے کہوں تھوڑا حلوہ تو بنا دے۔ خود تو میں صفائی اور کچن کے کام سے تھک چکی تھی اسلئے اٹھنے کو دل نہ چاہتا تھا۔۔ میں نے عمر کو آواز دی۔ وہ اپنی ہی کسی ترنگ میں تھا۔ آیا اور آتے ہی میرے گلے میں بازو ڈال کر مجھ سے لپٹ گیا۔

    ”میرے لالے۔“ میں نے اس کا منہ چوم کر کہا۔ ”مجھے حلوہ تو بنا دو۔“

    لالے نے لاڈ سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑی شفقت سے پوچھا۔ ”حلوہ کھائے گی میری بوڑھی ماں؟“

    دھت تیرے کی! بے اختیار مجھے انکل سرگرم کی ماسی مصیبتے یاد آئی جو اس موقع پر کہا کرتی تھی۔ ”بوڑھی تیری خالہ، بوڑھی تیری ماں۔“

    لیکن میں عمر کو یہ نہیں کہہ سکتی تھی۔ارے میں ہی تو تھی اسکی ماں۔ عمر کو ویسے بھی مجھ سے ایسے لاڈ کرنے کی عادت ہے۔ آتے جاتے میرے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اور بڑی شفقت سے پوچھتا ہے۔ ”کچھ چاہیے تو نہیں میری ماں کو؟“ میری ہر بات کے جواب میں اس قسم کی کوئی شفقت اس کے پاس تیار ہوتی ہے۔ اکثر و بیشتر ہمارے درمیان اس قسم کے مکالمے ہوتے ہیں۔ (یہ مکالمے مختلف موقعوں پر ہوتے ہیں لیکن ان کا لہجہ ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔)

    میں: کوئی مجھے پانی پلا دے۔

    عمر: پیاسی ہو گئی تھی میری ماں؟

    میں: میرے سر میں درد ہے۔

    عمر: بیمار ہو گئی تھی میری ماں؟

    میں: کھانا تیار ہو گیا ہے۔

    عمر: بھوک لگ گئی تھی میری ماں کو؟

    میں: اُف پلیز کوئی بتیاں تو جلا دے، وحشت ہو رہی ہے مجھے اس اندھیرے سے۔

    عمر: وحشی ہو گئی تھی میری ماں؟

    جب میں نے حلوے کی فرمائش کی تو اس نے اپنی اولڈ فیشن ماں کو حلوہ تو نہ بنا کر دیا البتہ حلوے جیسی بورنگ چیزوں سے اجتناب برتنے کا مشورہ ضرور دیا۔ ساتھ ہی سٹیک کے فضائل پر روشنی ڈالی اور فرمائش کی کہ اسے کچھ فنانس کیا جائے تاکہ وہ بیف کا بہترین انڈکٹ منگوائے اور مجھے رِب آئی سٹیک بنا کر کھلائے۔ لیجئے نماز بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑے۔ حلوہ تو نہ ملا، الٹا پیسے دینے پڑے تاکہ صاحبزادے اپنا کوکنگ کا شوق پورا کریں۔ جاتے جاتے عمر نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور لاڈ سے پوچھا: ”ناراض تو نہیں تھی میری ماں؟“

    اور میں اسی میں خوش ہو گئی۔ بھلا ماں بھی ناراض رہ سکتی ہے؟

    جب بھی ماں کا لفظ سنتی ہوں مجھے ملائیشیا یاد آتا ہے۔ میں نے ملائیشیا میں چھٹیاں گزارنے کا پلان اپنی بہن کے ساتھ بنایا تھا۔ میں یہاں سے گئی تھی اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ آسٹریلیا سے آئی تھی۔ اس کی بیٹیوں سے میری بہت دوستی ہے۔ وہ بچیاں آسٹریلیا میں بھاشا انڈونیشیا پڑھتی آئی تھیں۔ یہی زبان ملائیشیا میں رائج ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ رہتے مجھے شاپنگ اور گھومنے پھرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن پہلے ہی دن ایک دکان پر شاپنگ کے بعد ایک جملہ انہوں نے ایسا بولا کہ میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ وہ جملہ یہ تھا۔ ”تیری ماں کیسی؟“

    ”کیا کہا؟“ میں نے بے یقینی سے پوچھا۔

    میری بھانجی ہنسنے لگی۔ بولی: ”تھینک یو کو بھاشا انڈونیشیا میں کہتے ہیں ۔ ”تیری ماں کاسی۔“آپ بھی ٹرائی کریں۔“

    ٹھیک ہے! اس میں کیا مشکل ہے؟ میں نے اگلی دکان پر کچھ لیا اور ادائیگی کے بعد کہا۔ ”تیری ماں۔ ماں….“ اور بس اس سے آگے جملہ میرے حلق میں اٹک گیا اور سرخ چہرہ لیے شرمندگی سے بے حال ہوتی میںوہاں سے بھاگ آئی۔ کسی کو منہ پر ایسا جملہ کہنا جو ”تیری ماں“ سے شروع ہوتا ہو بدتہذیبی کی انتہا تھی۔ کم از کم مجھ سے تو یہ بدتمیزی نہ ہو پائے گی۔ اپنے قیام کے باقی دنوں میں میں نے تھینک یو ہی سے کام چلایا۔

     ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے، وہ لٹل انڈیا نامی بازار سے متصل تھا۔ ہم ایک پتلی سی گلی سے گزر کر لٹل انڈیا کی شاہراہ پر نکلتے تھے اور وہاں سے بس یا کیب لے کر گھومنے پھرنے نکل جاتے تھے۔ اس گلی میں ایک ہندو کا ایک ڈھابہ نما کھوکھا تھا جس میں تمام دن بڑے بڑے دیگچے چولہوں پر چڑھے نظر آتے تھے۔ صبح صبح یہ ہوٹل کھولنے سے پہلے وہ کرشن بھگوان کی مورتی کی پوجا کیا کرتا تھا۔ بھگوان صاحب کی مورتی عین گٹر کے اوپر رکھی ہوئی تھی اور اس کے اردگرد کوڑے کرکٹ کا ڈھیر، کچھ کھلا، کچھ بڑے بڑے کالے لفافوں میں بند، پھیلا ہوتا تھا۔ گٹر اور کوڑے کے تعفن کے بیچ بھگوان کے ہاتھوں اور سر پر اگر بتیاں سلگ رہی ہوتی تھیں اور وہ بے چارے گلے میں تازہ گیندے کے ہار پہنے، بانسری ہونٹوں سے لگائے، ایک ابدی منجمد مسکراہٹ کے ساتھ ان تینوں چیزوں کی بُو سونگھ رہے ہوتے تھے۔ پتا نہیں ہندوﺅں میں بدعت کا کانسیپٹ ہوتا ہے نہیں۔ اگر ہوتا تو جانے بھگوان کو گٹر کنارے کوڑے میں گاڑ دینے پر بدعت کا کون سا درجہ لاگو ہوتا۔