Tag: کہانیاں

  • قرنطینہ ڈائری – چوتھا دن

    قرنطینہ ڈائری

    سارہ قیوم

    چوتھا دن: جمعہ 27 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    کل کھوئے جانے (اور پھر پائے جانے) کے تجربے نے ہمیں کچھ نڈر سا کر دیا اور آج واک کے لئے نکلتے ہوئے دل کو یہ تسلی تھی کہ اس سوسائٹی میں ہم مثل خورشید رہتے ہیں، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ،ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ یعنی جب تک سوسائٹی کے اندر ہیں کھوئے جانے کا ڈر نہیں۔ جہاں بھی چلے جائیں گے ،آخر کو پہنچیں گے اپنی گلی میں ہم ۔ چنانچہ آج بھی ماسک چڑھایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ باہر نکلتے ہی ایسی خنک ہوا نے استقبال کیا کہ جھرجھری آگئی۔ آج صبح سے بارش ہوتی رہی تھی اور سردی جاتے جاتے ایک بار پھر لوٹ آئی تھی۔ ارادہ کیا کہ واپس آتے ہی کمبل ،جو پیک کر دیا گیا تھا، واپس نکالوں گی کیوں کہ مجھے سردی زیادہ لگتی ہے اور اس ٹھنڈ میں کمبل کے بغیر نیند نہ آئے گی۔ خنک موسم میں نرم گرم کمبل میں دبک کر سونے کے خیال سے دل کو بڑی مسرت ہوئی۔

    کل چوں کہ پارک کی طرف گئی تھی اور گم گئی تھی لہٰذا آج دوسری طرف کا راستہ اختیار کیا۔ فریدہ آنٹی کے گھر کے سامنے سے گزری جنہوں نے اپنے گھر کے ساتھ والے خالی پلاٹ میں کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور جہاں سے مونگرے اور میتھی جیسی نعمتیں وہ وقتاً فوقتاً ہمیں بھیجتی رہتی ہیں۔ کچھ دیر کھڑے ہو کر میں ان کے باغ کو دیکھتی رہی۔ مونگرے کے پودوں پر سفید پھول آنے لگے تھے۔ سلاد کے پتوں کے گٹھے بارش میں نکھرے یوں لگ رہے تھے جیسے ہرے طوطے اپنے پَرپھیلائے بیٹھے ہوں۔ ان کے ساتھ دھنیے کی کیاری تھی اور اس سے ذرا آگے ایک پودے پر ننھی منی بھنڈیاں لگی تھیں۔ بھنڈیاں ارے واہ! بھنڈیوں کو دیکھنے ہی یوں لگا جیسے کسی نے گرمی کے موسم کی آمد کا نقارہ بجا دیا ہو۔ پلک جھپکتے میں گرما کی نعمتیں میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ وہ آموں کے ٹوکرے، وہ فالسے کا شربت، وہ میٹھے تربوز، آڑو، آلو بخارے، چٹپٹی بھنڈیاں، میٹھی لسی، وہ گرم دوپہر میں لمبی تان کے سونا، وہ فجر کا سہانا سماں۔ فبای الا ربکما تکذبانِ ۔ میں نے پیچھے مڑ کے اپنے گھر کو دیکھا جس کی ایک الماری میں میرا وہ نرم گرم کمبل پڑا تھا جسے میں گھر واپس آکر نکالنے والی تھی اور میں نے اپنے سامنے اس باغ کو دیکھا جس میں گرمی کی سبزیاں پھل پھول رہی تھیں۔ مجھے یونانی دیو مالا کا دیوتا جونوس یاد آیا جس کے دوسر تھے۔ ایک ماضی کو دیکھتا تھا، دوسرا مستقبل کو ۔ اسی وجہ سے سال کے پہلے مہینے جنوری کا نام اس کے نام پر رکھا گیا۔ یعنی اسے وہ مہینہ اور وقت قرار دیا گیا جو گزرے سال اور آنے والے سال کو جوڑتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک رابطہ ہے۔ فریدہ آنٹی کے باغ کے سامنے کھڑے میں بھی وقت کے اسی پل میں کھڑی تھی جس میں بیک وقت ماضی سے لوٹ آنے والی مسرت کا ایک لمحہ تھا اور مستقبل کی نعمتوں کی نوید تھی۔ تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں وقت کے اس میزان کی جو گزری اور آنے والی نعمتیں اپنے پلڑوں میں سجائے ساکت اور برابر قائم ہے اور میں شکرگزار ہوں اس موقع کی کہ میں ہاتھ بڑھا کر دونوں پلڑوں کی نعمتیں اٹھا سکتی ہوں۔

    کِن مِن بوندیں پڑنے لگی تھیں۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے اور تیز قدموں سے چل پڑی۔ بوندیں اتنی ہلکی تھیں کہ چند قدم چلنے کے بعد کہیں ایک پھوار سی چہرے پر محسوس ہوتی تھی۔ اگر میں تیز چلوں تو دو کلومیٹر تو کر ہی سکتی ہوں۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ نہ آدم نہ آدم ذاد۔ میں گرین بیلٹ کے ساتھ چلتی گئی۔ سوسائٹی کی عقبی دیوار تک پہنچتے پہنچتے گرین بیلٹ اتنی چوڑی ہو جاتی ہے کہ باقاعدہ ایک میدان بن جاتا ہے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ابراہیم یہاں فٹ بال کھیلنے آیا کرتا تھا۔ تب یہاں بے حد رونق ہوتی تھی۔ لوگ چہل قدمی کر رہے ہوتے تھے، مائیں چھوٹے بچوں کو پرام میں لے کر گھوم رہی ہوتی تھیں۔ ایک جگہ کرسیوں پر چند معمر حضرات کی محفل جمی ہوتی تھی جو وقفے وقفے سے فٹ بال کھیلنے والے پرجوش، پسینے میں بھیگے بچوں کو بلا کر پانی پلایا کرتے تھے۔ آج یہاں سناٹا تھا۔ اگر تھی تو بس فطرت کی آواز۔ وہ آواز جسے سننے کے لیے دل کو کان ہونا پڑتا ہے۔

           فطرت کا ساز بھی کیا ساز ہے

           بج رہا ہے اوربے آواز ہے

    راستے میں ایک گھر کے باہر اتنے بڑے گلاب لگے نظر آئے کہ میں ٹھٹک کر رک گئی۔ خون کے رنگ کے سرخ گلاب سائز میں چھوٹی پلیٹ کے برابر تھے۔ کمال ہے فطرت کی صناعی بھی۔ چلتے چلتے ایک گلی میں پھولوں سے لدی بیل نظر آئی اور میں غڑاپ سے اس گلی میں گھس گئی۔ ارے آج ہم نڈر ہیں، کل کی طرح تھوڑی کہ ”پھرتے ہیں میرخوار کوئی پوچھتا نہیں۔“ بس ناک کی سیدھ میں چلتے جائیں گے اور کسی نہ کسی ایسے جانے پہچانے رستے پر جا نکلیں گے جو ہمارے گھر کو جاتا ہو گا۔

    گھر آئی تو اندر کمرے میں سے ابراہیم کی آواز آرہی تھی۔ وہ سمبا سے باتیں کر رہا تھا۔ میں باہر لاﺅنج میں کھڑے ہو کر سننے لگی۔

    ”عقل کیا کرو سمبا۔“ ابراہیم نے تلقین کی۔

    ”میاﺅں۔“ سمبا نے جواب دیا۔

    ”نہ نہ باہر نہیں جانا۔“ ابراہیم نے سمجھایا۔ ”باہر کرونا پھر رہا ہے۔ چھوٹے بچوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اگر تمہیں کرونا ہو گیا تو تمہیں پولیس والے پکڑ کر لے جائیں گے اور کوارنٹین میں بند کر دیں گے۔ پھرہم کیا کریں گے؟“

    ”میاﺅں میاﺅں۔“ سمبا نے کہا۔

    ”میاﺅں میاﺅں کیا؟“ ابراہیم نے پوچھا۔ ”دیکھو سمبا اگر وہ تمہیں لے گئے تو ہم تو کوئی نئی بلی ڈھونڈ لیں گے اور اسے پال لیں گے۔ لیکن تم کیا کرو گے؟ تمہیں اور کون اتنا پیار کرے گا؟“

    اے میرے رب! ہم بھی تیرے سامنے سمبا کی طرح ہیں۔ عاجز، بے پرواہ اور نالائق۔ اپنے اچھے برے سے اور اپنے انجام سے بے خبر۔ ہمیں اپنی پناہ میں رکھ، ہمیں ہمارے نفس کے اور شیطان کے حوالے نہ کر۔ تجھے تو پالنے کے لئے اور شفقت کرنے کے لئے بہت سی مخلوق مل جائے گی مگر ہمارا تو تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں۔ تو ہم سے بے نیاز ہو گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ اے روزی دینے والے، گناہگاروں کی پردہ پوشی کرنے والے، عذاب سے ڈرنے والوں کو امن دینے والے اور اے بیماروں کو شفا دینے والے، اس بیمار انسانیت سے اس وبا کو ٹال دے۔ اے ستر ماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، ہمیں اپنی آغوش محبت میںلے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    ٭….٭….٭

  • قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    تیسرا دن: جمعرات 26 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    رات خواب میں مرزا غالب کو دیکھا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک مشاعرہ ہے۔ قافیہ ہے رات، بات اور ردیف ہے ”یاخدا“۔ مرزا غالب میرے بائیں جانب بیٹھے ہیں، ہاتھ میں پرچہ ہے جس پر غزل لکھی ہے۔ میں اشتیاق سے ان کے پرچے کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس پر غالب کے شایانِ شان کوئی شعر لکھا ہے۔ مرزا مجھے اپنی غزل پڑھتا پا کر ابرو اچکاتے ہیں اور گردن بڑھا کر میرے ہاتھ میں پکڑا پرچہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری نظر اپنے کاغذ پر پڑتی ہے اور وہاں اس قسم کا ایک شعر لکھا ہے۔

              ہو گئی ہے ان سے ملاقات یا خدا

             کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا

    یا خدا! میں گھبرا کر اپنا کاغذ غالب سے چھپانے کی کوشش کرتی ہوں اور اس گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ خدا کا شکر کہ یہ خواب تھا اور میں اس شعر کے غالب کی نظروں میں آنے کی بے عزتی سے بچ گئی۔ ویسے دیکھا جائے تو نکما ہی سہی لیکن یہ شعر میرے خواب کی صورتحال پر بڑا فِٹ بیٹھتا ہے۔ خواب میں ہو رہی ہے غالب سے ملاقات ےاخدا، کبھی خواب میں بھی نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔

    اخبار اٹھانے باہر نکلی تو دیکھا کہ لان میں مالی چہرے پر ماسک چڑھائے مشین سے گھاس کاٹ رہا ہے اور ہمارا پالتو بلا سمبا دروازے کے آگے بیٹھا بڑی بے نیازی سے اسے دیکھ رہا ہے۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب سمبا نیا نیا ہمارے گھر آیا تھا۔ میں اپنی ایک دوست سے اسے جب لے کر آئی تھی تو وہ دو مہینے کا تھا اور ایک ہتھیلی میں سما جاتا تھا۔ گھر لاتے ہی سمبا لان کی ایک جھاڑی میں جا چھپا اور ہمارے لاکھ پچکارنے بلانے پر بھی باہر نہ نکلا۔ جب ہم اسے باہر نکالنے کی کوشش میں ناکام ہو کر تھک ہار کر اندر آنے لگے تو عین اس وقت مالی اپنی مشین لے کر آگیا اور گھاس کاٹنا شروع کر دی۔ سمبا نے جو یہ ہیبت ناک آواز سنی تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ اچھل کر نکلا اور تیر کی سی تیزی سے بھاگتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ میں اور بچے گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگے۔ آخر آدھے گھنٹے کی کوششوں کے بعد کہیں سمبا صاحب ہاتھ لگے اور انہیں پکڑ کر گھر لایا گیا جہاں آتے ہی وہ دوبارہ جھاڑی میں جا چھپے۔ یہ معمول تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا تاوقتیکہ سمبا ہم سے مانوس نہ ہو گیا اور گھر کے اندر آنے جانے لگا اور ہمارے ہاتھ سے کھانا کھانے لگا۔ یوں ہم نے اور سمبا نے ایک دوسرے کو دل سے اپنا لیا۔

     کبھی کبھی میں سوچتی ہوں دنیا کی ہر کہانی محبت کی کہانی ہے۔ ہر جذبہ، ہر الفت، ہر دوستی، ہر احسان حتیٰ کہ ہر نفرت کے ڈانڈے بھی کہیں نہ کہیں کسی محبت سے جا ملتے ہیں۔ اور محبت کی دو قسمیں ہوتی ہیں، اول کسی رشتے یا غرض کی محبت اور دوم بے غرض محبت۔ سمبا ہم سے اس لیے مانوس ہے کہ ہم اس کے قیام و طعام کا بندوبست کرتے ہیں۔ لیکن ہم سمبا سے کیوں محبت کرتے ہیں، یہ آج تک سمجھ نہ آیا۔ جب میں ننھے سمبا کو گھر لے کر آئی تھی تو میرے میاں صاحب بہت ناخوش ہوئے تھے۔ انہیں بلی کے بالوں سے بچوں کو الرجی ہو جانے کا ڈر تھا اور سمبا کو لانے کی اجازت انہوں نے اس شرط پر دی تھی کہ وہ گھر کے اندر نہیں لایا جائے گا۔ یوں ہم نے سمبا کو پورچ میں ایک ٹوکری میں رکھ لیا۔ شروع شروع میں مجھے سمبا سے لاڈ پیار کرتے دیکھ کر وہ بہت جز بز ہوتے اور چوں کہ خود کبھی کوئی جانور نہ پالا تھا اس لیے میری محبت کو سمجھ نہ پاتے۔ پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ سمبا نے ان کے دل میں جگہ بنانا شروع کی۔ پہلے اس کے لیے خوبصورت سا گھر آیا، پھر اس کے لیے چن کر بہترین کیٹ فوڈ بھی وہ خود لانے لگے۔ پھر سمبا ان کے ساتھ واک پر جانے لگا جہاں وہ اس کو دوسرے بڑے بلوں سے یوں بچاتے جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو بڑے لڑکوں سے بچاتا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ سمبا ڈرائنگ روم میں صوفے پر سوتا ہے اور ہمارے فونز میں گھر والوں سے زیادہ سمبا کی تصویریں ہیں۔ ہم سمبا پر یوں جان کیوں چھڑکتے ہیں ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ نہ وہ گھر کی رکھوالی کرتا ہے، نہ اسے کوئی کرتب آتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے ساتھ کسی قسم کا کوئی کھیل کھیلتا ہے۔ اس کا واحد کام کھانا اور سونا ہے، لیکن ہمارے دل اس کی محبت سے لبریز ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ انسان کے دل کی سب سے بڑی ضرورت، خواہش اور غذا محبت ہے اور جب کوئی معصوم، بے غرض اور بے اختیار محبت دل میں گھر کر لیتی ہے تو انسان پر اپنے دل کی وسعت کے نئے راز افشا ہوتے ہیں اور اسے ادراک ہوتا ہے کہ اس وسیع دل کے لیے معاف کرنا، درگزر کرنا، رحم کرنا اور بلاتفریق محبت کرنا کتنا آسان ہو گیا ہے۔ تو ڈیئر ڈائری آج میں اس بے غرض محبت کے لیے شکرگزار ہوں جو اللہ نے میرے دل کو بخشی ہے اور اس دراک کے لیے شکر گزار ہوں جو میں نے اپنے دل کے بارے میں پایا ہے اور میں ان تمام راستوں کے لیے ممنون ہوں جو اس محبت نے میری روح کے لیے کھولے ہیں۔

    آج پھر موسم بہت سہانا تھا۔ سنا ہے ملتان میں خوب اولے پڑے ہیں۔ اتنے حسین موسم میں مجھ سے رہا نہ گیا اور تقریباً ایک ہفتے بعد میں واک کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ جاگرز پہنے، دستانے پہنے، ماسک لگایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ ہماری کالونی gated communityہے اور یہاں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو یہاں رہتے ہیں یا یہاں رہنے والوں کے مہمان ہیں۔ لہٰذا عام حالات میں بھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن آج تو یوں لگتا تھا جیسے میں سلیپنگ بیوٹی کے شہر میں آنکلی ہوں۔ اکادکا چند بزرگ حضرات ماسک لگائے چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں تیز قدموں سے چلتی پارک تک گئی تو اس کے چھوٹے سے گیٹ کو تالا لگا پایا۔ حسرت سے پارک میں لگے پھولوں کو دیکھا اور سڑک پرواک کے ارادے سے چل پڑی۔ سڑک صاف اور خالی تھی۔ ہوا خوشگوار تھی اور خاموشی میں فطرت کا ساز بجتا تھا۔ یہ وہ ساز ہے جو انسانوں کی آوازوں کے ہوتے سننے میں نہیں آتا۔ ہوا کے چلنے کی موہوم سی آواز، ہوا سے پتوں کا یوں ہلنا گویا اپنی خوشی میں سرمست تالیاں بجاتے ہوں اور چڑیوں کا چہچہانا۔ ایسی ایسی رنگ برنگی اور خوبصورت چڑیاں نظر آئیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ایسی ایسی چہکاریں سننے کو ملیں جن سے کان ناآشنا تھے۔ دیواروں پر چڑھی بیلیں پھولوں سے لدی تھیں۔ ایک مکان کے باہر دیوار کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی جھاڑیاں تھیں۔ ہر جھاڑی کے پھولوں کا رنگ جدا تھا۔ میں رک کر ان پھولوں کو دیکھتی رہی۔ سات رنگوں کے پھول میں نے گنے اور ان پر اڑتی تتلیوں کو نہ گن سکی۔ ایک دوسرے گھر کے باہر اس قدر خوبصورت اور انوکھے پھول نظر آئے جو پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ دل چاہا ماسک اتار کر ان کی خوشبو سونگھوں لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ ذرا یہ کرونا کا ڈبہ گول ہو جائے پھر ہم ہوں گے اور پھول ہوں گے۔ جی بھر کر سونگھنے کا شوق پورا کریں گے۔ ایک گھر کے باہر سے گزری جہاں پورچ میں ڈھیر سارے بچے فٹ بال کھیل رہے تھے ۔بند گیٹ کے پیچھے سے بچوں کی چہکار اور ہنسی کی آوازیں سن کر دل خوش ہو گیا۔ ایک اور گھر میں ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا۔ ننھی بٹیا رو رو کر فرما رہی تھیں کہ بھائی کو باﺅلنگ نہیں کرائیں گی کیوں کہ وہ بیٹ سے بال کو مارے گا اور بال روئے گی۔ ان کے ابا انہیں سمجھا رہے تھے لیکن وہ ضد پر اڑی تھیں۔ تھوڑا آگے گئی تو ایک گھر کے بند گیٹ پر ایک بلبل بیٹھی تھی اور خوشی کے گیت الاپتی تھی۔ اس سے ذرا دور ایک لمبی سی سبز دم والی چڑیا بلبل کے گیتوں کا جواب اپنی میٹھی بولی میں دیتی تھی۔

    کسی زمانے میں انگریزی شاعری میں sensous poetry کی اصطلاح بہت مقبول تھی۔ یعنی وہ شاعری جو پڑھنے والے کی senses یعنی حسیات پر اثرانداز ہو۔ اسے لگے کہ وہ جو پڑھ رہا ہے، اسے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، چھو رہا ہے۔ واک کرتے ہوئے مجھے یوں لگتا تھا کہ میں فطرت کی sensousشاعری پڑھ رہی ہوں۔ لذت کام و دہن کا لفظ تو سنا تھا، آج لذتِ حسیات کا احساس ہوا۔ میری آنکھوں نے شوخ رنگوں کے حسین پھولے دیکھے ، میری سماعت نے بچوں کی ہنسی اور چڑیوں کی چہکار سنی اورمیرے چہرے نے لطیف ہوا کے جھونکے محسوس کیے۔ میں فطرت کی اس شاعری میں یوں کھوئی کہ سچ مچ کھو گئی۔ جی ہاں کھو گئی، گم ہو گئی، راستہ بھٹک گئی اور نہ جانے کہاں کی کہاں جا نکلی۔ چلتی جاتی تھی اور اجنبی مکان اور گردوپیش دیکھتی جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ ”یہ کہاں آگئے ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے؟“ ویسے گم جانے میں مجھے یدطولیٰ حاصل ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بغیر گمے میں کسی نئے ایڈریس پر جا پہنچوں۔ بقول میری دوستوں کے ”سارہ تو ٹہلتے ٹہلتے ہی مینارِ پاکستان جا پہنچتی ہے۔“ لیکن یہ تو اپنی ہی سوسائٹی ہے، یہاں گم جانا چہ معنی دارد؟ چھوٹی سی سوسائٹی ہے اور اسکے تقریب©ا© تمام رستے میرے دیکھے بھالے ہیں۔ بےشک میں نئے رستوں پر گم جاتی ہوں لیکن اپنے گھر کے رستوں پر گم جاو¾ں گی ےہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔ سوسائٹی کا ایک ہی گیٹ ہے جس پر ناکہ لگا ہے۔ اس لیے یہ تسلی تو تھی کہ وہ گیٹ پار نہیں کیا۔ یعنی ہوں میں سوسائٹی کے اندر ہی۔ لیکن کہاں؟ کس جگہ؟ چلتے چلتے ٹانگیں شل ہو گئیں اور پاﺅں دکھنے لگے۔ میں اندازے سے بڑی سڑک پر نکلی۔ دور سے ایک سڑک نظر آرہی تھی جو بالکل پہچان میں نہ آتی تھی۔ میں اس سڑک کی طرف چلی اور اچانک مین بلیوارڈ پر جا نکلی۔ دیکھا تو وہ دور سے نظر آتی سڑک میرے ہی گھر کی سڑک تھی۔ کونے پر ڈولی آنٹی کا گھر اپنے سولر پینلز کے ساتھ کھڑا تھا اور اس سے ذرا آگے میرا گھر اپنی مہربانی چھت لیے ایستادہ تھا۔ جیسے مسکرا کر مجھے دیکھ رہا ہو اور کہتا ہو۔ ”میں تو یہیں تھا، تم کہاں رہ گئی تھیں؟“

    اے میرے رب! ہم دنیا کی لذتوں میں کھو جاتے ہیں، رستہ بھٹک جاتے ہیں، تیری طرف آنے والی راہ گم کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن کہیں بھی جا نکلیں، رہتے تیری بادشاہت ہی میں ہیں۔ تیری عملداری سے نکلنے کی قدرت ہم میں کہاں؟ اور یونہی بھٹکتے بھٹکتے اچانک تیری عظمت، تیرے جلال اور تیری کبریائی کا احساس مجسم ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تیرے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔ ہم نالائق ہیں، گناہگار ہیں، بے وقوف ہیں لیکن تیرے پاس لوٹتے ہیں۔

              چنگی ہاں یا مندی ہاں

              صاحب تیری بندی ہاں

    اپنے شرمسار بندوں کو اپنی رحمت کے سائے سے محروم نہ کر، اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے۔ اے رحم کرنے والے، اے لطف و کرم کرنے والے، اے معاف کرنے والے ، ہمیں اپنی مہربان پناہ میں لے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    سارہ قیوم

  • اصحابِ کہف ۔ قرآن کہانی

    اصحابِ کہف ۔ قرآن کہانی


    اصحابِ کہف

    علی منیر فاروقی

    الحمدللہ رب العالمین و نصلی علی رسولہ الکریم ۔۔ قرآن کریم میں جہاں ایک طرف مختلف انبیا کرام کے قصص بہ طور دلیل درج ہیں وہیں چند ایسے گمنام کرداروں کے ایمان افروز واقعات کا ذکر بھی موجود ہے۔ جونہ صرف ہمیں فتنوں کے دور میں اپنا ایمان محفوظ رکھنے کا درس دیتے ہیں بلکہ اس کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ یہ قصہ اُن چند سربہ کف نوجوانوں کا ہے، جن کے نام ، علاقہ، محلِ وقوع اور تعداد بھی تاریخ کی کتابوں میں حتمی طور پر درج نہیں ، مگر ان کی عظمت و ہمت اور ان کے ساتھ پیش آنے والے ماورا الطبعیاتی واقعے کی گواہی تا ابد محفوظ رہے گی ۔
    یہ قصہ قرآن کریم میں سورئہ کہف میں درج ہے اور حجم میں اتنا طویل نہیں مگر اپنے اندر حکمت و نصیحت کا ایک سمندر پنہاں رکھتا ہے تو آئیے پہلے اس قصے کا ایک رواں مطالعہ کر لیں پھر اس پر تدبر کی ایک چھوٹی سی کوشش کرتے ہیں۔
    مستند روایات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بعد کا ہے۔ ابھی عیسائیت شرک کی ملاوٹ سے پاک تھی اور توحید کی دولت سے مالامال دین حنیف پر مبنی تھی۔ ایسے میں چند نوجوانوں نے مشرکانہ ظلمات کے پردوں کو چاک کرتے ہوئے حق کی آواز پر لبیک کہا اور دینِ حق کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس دینِ حق کا پرچار شروع کیا۔ دنیا کا اصول ہے کہ جب بھی حق کی آواز بلند ہوتی ہے اسے دبانے کے لئے باطل کی قوتیں اپنا پورا زور لگاتی ہیں، چناںچہ ان نوجوانوں کو بھی انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بات ہوتے ہوتے حاکمِ وقت کے کانوں تک پہنچی۔ (جو چند روایات کے مطابق رومی قیصر ڈیشیس تھا اور باقی روایات کے مطابق ابراہیمی دین کی بگڑی ہوئی شکل کا پیروکار تھا)چناںچہ حاکمِ وقت نے ان لڑکوں کو حکم دیا کہ واپس لوٹ آؤ اور اپنے اس نئے دین کی ترویج فوری بند کرو ورنہ تمہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
    نورِ حق کے ان پروانوں نے اپنا دین چھوڑنے کے بہ جائے یہ فیصلہ کیا کہ آبادی سے دور کسی جگہ جا کر پناہ لی جائے، چناںچہ یہ نوجوان اور ان کا کتا ایک غار میں جا کر چھپ گئے تاکہ اپنا اگلا لائحۂ عمل تیار کریں ، ایسے میں اللہ نے ان تمام پر ایک نیند طاری کر دی اور نیند بھی گھنٹوں کی نہیں بلکہ صدیوں کی! اس دوران اللہ انہیں کروٹ دلاتا رہا (تاکہ خون گردش کرتا رہے اور زخم نہ بن جائیں)اور ان کو دھوپ سے بچاتا رہا ، تین صدیوں کے بعد یہ اصحاب اپنی نیند سے بے دار ہوئے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کتنی دیر سوئے ہیں ایک بولا شاید پورا دن سو لیے دوسرے نے کہا کہ نہیں اس کا بھی کچھ حصہ سوئے ہیں، اب مشورہ ہوا کہ طعام کا بندوبست کیا جائے چناںچہ ان میں سے ایک چند چاندی کے سکّے لے کر بازار جانے لگا ، جاتے وقت اس کے ساتھیوں نے اسے تلقین کی کہ پاک طعام لے کر آنا اور ہاں دیکھنا کوئی تمہیں پکڑ نہ لے ورنہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔
    یہ نوجوان جب بستی پہنچا تو دیکھا کہ دنیا ہی بدلی ہوئی ہے بستی و بازار در و دیوار سب الگ روپ لیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ رہن سہن بھی بدل چکا ہے اس نئے اجنبی منظر کے خوف کو دباتے ہوئے اس نوجوان نے ڈرتے ڈرتے کھانے کا سامان لیا تو لوگ صدیوں پرانے سکّے دیکھ کر بھونچکا رہ گئے ، انہوں نے ان نوجوانوں کا قصّہ سنا ہوا تھا کہ جو اپنا ایمان بچانے کے لئے شہر چھوڑ گئے تھے ۔ اس نوجوان کو بتایا گیا کہ شرک کے بادل چھٹ چکے ہیں اور اب یہاں حق کا بول بالا ہے ۔
    اتفاق سے ان دنوں اس بستی میں ایک علمی بحث چھڑی ہوئی تھی کہ مرنے کے بعد کیا ہم دوبارہ جی اُٹھیں گے؟ اور آیا خدا ہمیں قیامت کے دن اسی بدن کے ساتھ زندہ کرے گا یا ہمارا کوئی اور روپ ہوگا یوں اللہ نے اس نوجوان کے صورت میں ان کے تمام سوالوں کا جواب دے دیا ۔ اب یہ تمام لوگ اس نوجوان کے ساتھ اس غار میں پہنچے جہاں اس کے باقی ساتھی موجود تھے اور وہاں ان سب کو دیکھ کر ان کا ایمان تازہ ہو گیا ۔ یہ تھے اصحابِ کہف اب اس کے بعد کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے (گمان یہ ہے کہ فوری وفات پا گئے تھے )۔

  • اوپرا ونفرے

    اوپرا ونفرے


    اوپرا ونفرے


    صوفیہ کاشف

    ننھی اوپرا کیلے کی چھال سے بنی بوری کے کپڑے پہنے اپنی غریب نانی کو گندے کپڑے پانی میں ابالتے ہوئے دیکھتی اس لیے کہ غربت کی مہربانی سے ان کے ہاں کپڑے دھونے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ چناں چہ کپڑے پانی میں ابال کر صاف کیے جاتے۔ اس تکلیف سے ناخوش اس کا دل کہیں لاشعور کی تہوں سے گواہی دیتا "میرا مقدر ایسا نہیں ہو گا!”
    ساٹھ کی دہائی میں افریقی کےا! مریکی علاقوں میں بھی تقریباً ہر سیاہ فام بچہ غربت اور تنگ دستی کا شکار ، ناجائز اور جنسی زیادتی سے متاثرتھا۔ ان بچوں کے کالے والدین اکثر غربت کے ہاتھوں تنگ "عظیم ہجرت” کے دور میں ملازمت کے لئے مختلف علاقوں کا سفر کر گئے اور اپنی جائز اور ناجائز اولادیں پلنے کے لیے نانیوں اور دادیوں کے پاس چھوڑ گئے۔
    اوپرا کی کہانی بھی کچھ اس سے مختلف نہ تھی۔ سماجی اور معاشی حالات کے مطابق یہ کوئی ایسی حیرت ناک صورت حال نہ تھی۔ حیرت کی بات تو یہ ٹھہری کہ غلامانہ دور میں تنگ دستی اور جنسی زیادتیوں کی شکار ہر لڑکی ”اوپرا“ نہیں بنتی۔ ذلت اور پستیوں کی گہرائیوں سے اتنی اُنچائیوں تک کہ اس کی آنکھ کا اشارہ بڑے فنکاروں، برانڈز اور کتابوں کے عروج اور زوال کا سبب بن جائے، اس کے الفاظ سے لوگوں کی تقدیر بدلنے لگے اور نام اے ٹی ایم کی طرح استعمال ہونے لگے جس سے جب چاہے کوئی ذرا سی معلومات دے کر جتنے چاہے پیسے نکلوا لے۔ اوپرا جو بیسویں صدی کی سب سے زیادہ مال دار افریقی امریکی امریکا کی تاریخ کی عظیم ترین سیاہ فام انسان دوست اور شمالی امریکا کی پہلی اور واحد ملٹی ملینیر سیاہ فام عورت ہے۔ تاریخ کا اپنی قسم کا سب سے مشہور شو اوپرا ونفرے شو کرنے والی اوپرا 2006ئ۔ میں امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والی ٹی وی سے منسلک ہستی تھی۔ تمام تر میڈیا کی اس ملکہ کی سالانہ آمدنی پچھتر ملین یو ایس ڈالر کے قریب ہے۔
    اوپرا کی زندگی کا آغاز امریکا کے ایک غریب افریقی علاقے .Mississippi کے پس ماندہ گھر میں دوسرے بہت سے سیاہ فام بچوں کی طرح نانا نانی کی سرپرستی میں ہوا۔ گہرے کالے رنگ کی بدصورت اور موٹے جھاڑ جیسے بالوں والی اوپرا کی زندگی کے دامن میں آنکھوں کے چمکتے ستاروں اور دل میں امید نامی تسلّی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ماں باپ کی شفقت اور توجہ، خوب صورتی کے جادو اور پیسے کی کرامات سے اس کی جھولی کسی بے چارے فقیر کے کشکول کی طرح خالی تھی۔ بازار سے خریدا کوئی جوڑا ، جوتا یا کھیلنے کے لئے کوئی کھلونا اوپرا کے بچپن کی یاد کا حصہ نہ بن سکا۔ پالتو جانور کا شوق ایک شیشے کی بند بوتل میں قید دو کاکروچ پورا کرتے۔ سخت گیر نانی امریکا کے پسماندہ غلام طبقے کی طرح اوپرا کو بات بات پر پیٹنے پر تیار نظر آتی۔ گورے بچوں کو تعلیم یافتہ ،مہذب والدین کے ہاتھوں محبت اور شفقت سے پلتا دیکھتی تو اوپرا خود بھی گوری بن جانے کی خواہش میں مبتلا رہتی تاکہ نانی کے تھپڑوں اور جوتوں اور نانا کے گریز سے بچ کرو ہ بھی پیار کی حق دار بن سکے۔ ایک ناجائز اولاد اوپرا جس کے حقیقی باپ کا نام بھی ایک عرصے تک گم شدہ اور نامعلوم رہا اور جب باپ اپنے نام اور سب حوالوں کے ساتھ منظر عام پر آیا تو مقدر کی سختیوں سے تن تنہا نبرد آزما ہو کر اوپرا کامیابی اور شہرت کے اس زینہ پر کھڑی تھی جہاں اس کے باپ کو اوپرا نامی اے ٹی ایم سے پیسہ تو مل سکتا تھا قبولیت نہیں۔
    تمام تر غربت اور سختی کے باوجود پہلے چھے سالوں میں نانی کی کی گئی تربیت اور تعلیم کی بدولت اوپرا مضبوط آواز اور پر اعتماد لہجے کے ساتھ بہت کم عمری میں ہی چرچ میں بائبل کی حمدیں پڑھنے اور تبلیغ کرنے لگی تھی۔ چھے سال کی عمر میں اوپرا کو اس کی پچیس سالہ ماں ورنیٹا کے پاس منتقل کر دیا گیا جس کی غربت اور مصروفیت نانی سے کئی گنا زیادہ تھی۔ گھر گھر نوکریاں کرنے والی ورنیٹا دوسری بیٹی پیٹریشیا کو جنم دے کر ایک رشتہ دار کے گھر میں کرایے کے ایک کمرے میں مقیم تھی۔ معاشی مسائل ، دُہری نوکری اور چھوٹے بچوں کے ساتھ نے اس کی کمر توڑ رکھی تھی۔ نانی کے گھر مکمل توجہ سے پلی اکلوتی اوپرا کو دینے کے لئے ماں کے پاس توجہ کے نام پر کچھ نہیں تھا۔ کم سن اوپرا ماں کی مجبوریوں معاشی مشکلات اور ذمہ داریوں کو سمجھنے سے قاصر تھی اور ماں کی ساری نظر اندازی اور عدم توجہی کا سبب اپنا گہرا سیاہ رنگ اور بدصورت ہونا تصور کرتی۔ ماں کی نظر انداز ی نے اوپرا میں شدید احساس کمتری کو جنم دیا جس نے آنے والے دنوں میں اس کے لیے بدترین مشکلات کو جنم دیا۔ چھوٹی بیٹی کو ماں کے ساتھ سلانے کی مجبوری میں چھے سالہ اوپرا کا بستر پورچ میں ایک بڑے انیس سالہ رشتے کے بھائی کے ساتھ لگا دیا گیا۔ رشتے کا یہی بھائی کمسن اوپرا کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوا اور نو سال کی عمر میں اوپرا کو چڑیا گھر اور آئسکریم کا لالی پاپ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے لگا۔ ماحول اور زندگی کی غربت اور پس ماندگی، ماں کی عدم توجہ اور اوپرا کا بڑھتا ہوا احساس کمتری رشتے کے بھائی کے لئے سازگار ثابت ہوا اور ذرا سے استحصال اور معمولی سی رقم کے بدلے نو سالہ اوپرا بکنے اور استعمال ہونے لگی یہاں تک کہ اسے لگا زندگی تو شاید صرف ایسی ہی ہوتی ہے….

  • گل موہر اور یوکلپٹس

    گل موہر اور یوکلپٹس


    گل موہر اور یوکلپٹس
    ظفر محمود اقبال ہاشمی

    ”یہ جو چودھویں کا چاند ہے نا ہنی، مجھے یہ تب تک آدھا اورا دھورالگتا ہے جب تک اس پر تمہاری ستارہ آنکھوں کی پوری چمک نہیں پڑتی۔ اس کے اردگرد پھیلا ستاروں کا جنگل غور سے دیکھو، یہ ستارے نہیں بلکہ تمہاری خوبصورت آنکھوں سے آزاد ہونے والی نظریں ہیںجنہوں نے آسمان اور چاند دونوں کو سجا ڈالا ہے۔“
    حنین اُمرا کی اس پر شور محفل سے اُکتا کر سب سے نظریں بچا ئے باہر نکل توآئی، مگرشومئی قسمت باہر چودھویں کی رات اس کی منتظرتھی۔ پچھلے دو برسوں کے دوران اس کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد خاص طور پر اسے چاند کی کھلکھلاتی راتوں اور اس کی نقرئی روشنی سے چِڑ سی ہو گئی تھی۔چودھویں کی رات کو توجیسے حنین سے کوئی خاص پرخاش تھی۔ اسے دیکھتے ہی وہ گویااس کاتمسخر اڑانے لگتی، اس کے بھرے ہوئے زخموں کو اپنے تیز ناخنوں سے کھرچنے لگتی،پرانی آوازیں پھر سے جاگنے لگتی تھیں۔
    آج پھر وہی ہوا۔
    وہ تقریباً چھے ماہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس زیر علاج رہنے کے بعدخرد مندوں، روشن خیالوں،سیانوں، دنیا داروں اور جنہیں دنیا intellectuals کہہ کر پکارتی ہے، ان کے جنگل میں واپس لَوٹی تھی اور آج اس پارٹی میں پھر وہی شناساسی بھنبھناہٹ تھی۔
    ہونٹ کم ہلتے تھے اور کندھے اچکا اچکا کرمعمولی سے سچ پر جھوٹ کی عمیق تہیں کمال مہارت کے ساتھ بچھانے کا فن زیادہ بولتا تھا۔
    لوگ ہر جملے کے بعد ایک کے بعد ایک چہرہ اتار کر ڈسٹ بِن میں پھینک رہے تھے!
    اخلاقیات ٹشو پیپرز سے پونچھ پونچھ کر ڈنر کی پلیٹوں میںبچے ہوئے کھانے کے ساتھ دھری جارہی تھیں۔
    اپنے پھنسے ہوئے سب کام اور مطلب معنی خیز اشاروں اور مخصوص ساخت کی مسکراہٹوں کی مدد سے نکالے جا رہے تھے۔
    اُمرا کی ایک اور پارٹی میںخوشامد، جھوٹ اورملمع کاری ہمیشہ کی طرح نقطہ ¿ عروج پر تھی۔
    والدین کی اکلوتی اولادحنین ملکوتی حسن کی مالک تھی۔ لڑکپن میں جب ماں بریسٹ کینسر سے چل بسی، تو وہ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوگئی۔ کبھی اس چھت پر تو کبھی اس چھت پر ۔باپ کو اس سے محبت تو بہت تھی لیکن بزنس کے جھنجھٹ اور بکھیڑے اس محبت کے بھرپور اظہار کے آڑے آتے تھے۔پیسے کی اسے کمی نہ تھی اور نہ باپ کی طرف سے کوئی روک ٹوک، سو لڑکپن ہی سے اس نے اپنے آپ کو زندگی کی بھٹی میں بلا جھجک اور بے دریغ جھونکنا شروع کر دیا۔کچھ نیا کرنے کا جنون ہر بار اسے نئے راستے پر لے جاتا اور سفر بند راستے پر ہی موقوف ہوتا۔ ہر بارکچھ دن ڈپریشن کا شکار رہنے کے بعد باپ کی ہلا شیری پر وہ نئے عزم کے ساتھ کسی نئے سفر پر نکل جایا کرتی۔اٹھارہ سالہ قیامت خیز حسن کی مالک حنین کو جب ایک پارٹی میں ملک کے فیشن ٹائیکون نے یہ کہا کہ فیشن کی دنیا میں جواس وقت موجود ہیں وہ صرف چھوٹے یا بڑے ستارے ہیں اور فیشن کی دنیا اس جیسے چندے ماہتاب کی منتظر ہے ، تو وہ اس پٹڑی پر ایسی چڑھی کہ پھراترنے کا نام ہی نہیں لیا۔چندہی برسوں میں واقعی وہ فیشن کی دنیا کاچندے ماہتاب قرار پائی۔ منہ مانگے معاوضے پر ٹی وی ڈرامے، ٹی وی کمرشلز اور بیرونِ ملک شوز کیے اور پھرجب ایک بڑے بجٹ کی فلم کا پراجیکٹ ہاتھ آیا، تو یہاں اس کی ملاقات ملک میں اسکرپٹ رائٹنگ کے آفتاب سمجھے جانے والے دانیال ملک سے ہوئی۔اس آفتاب کی چکا چوند اتنی زیادہ تھی کہ اس کے سامنے حنین جیسا روشن چاندچار روز بھی نہ ٹھہر سکا اوربہت جلد وہ آنکھیں موند کر، اس آفتاب کواپنا مدار سمجھ کر اس کے گرد چکر لگانے لگی۔تقریباًپینتالیس سالہ گھاگ دانیال کی شخصیت اور باتیں تھیں ہی ایسی کہ جو اس کے ساتھ ایک نشست کر لیتا گویا مسحور ہوکر حالت ِتنویم یا پھرمراقبے میں چلا جاتا تھا۔حنین جو اس سے تقریباً سترہ برس چھوٹی تھی ویسے ہی لوگوں پر بہت جلد بھروسا کرلینے اورچکاچوند کے پیچھے بھاگنے کی پیدائشی بیماری کا شکار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دانیال کی صیادانہ فطرت کو نہ سمجھ سکی اور اس کے دام اُلفت کا شکار ہوگئی ۔ کچھ عرصہ دونوں کے افیئرکا دھواں شو بزنس کی فضاو ¿ں پر چھایا رہا جو بالآخر دونوں کے بہت طمطراق سے رچائے گئے بیاہ پر ختم ہوا۔ ویسے تو دونوں کی شادی بہ مشکل دو برس ہی چلی لیکن شادی کے تین چار ماہ بعد ہی حنین کو اندازہ ہو گیا کہ دانیال کے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔وہ سب باتیں جو وہ سر دُھننے پر مجبور کر دینے والے ا سکرپٹ میں لکھا کرتا تھا اور شادی سے پہلے اس کے ساتھ بہت مخمور اور رومانٹک اندازمیں کیا کرتا تھا، وہ ایک ایک کر کے حرفِ باطل ثابت ہونے لگیں۔ شادی کے بعدپارٹیوں میں جب اس نے خود سے زیادہ حنین کو سب کی توجہ کا مرکز محسوس کرنا شروع کیا، تو اس موضوع پر بننے والی ان گنت فلموںکی طرح احساسِ کمتری کی رِیل اس کی آنکھوں اور دماغ کی سِلو اسکرین پر دھڑا دھڑ چلنے لگی۔پہلے ردّ عمل کے طور پر حنین کی پارٹیوں میںشرکت پر پابندی لگی۔پھر باری باری ٹی وی کمرشلز، فیشن شوز،ٹی وی، سوشل میڈیا اورپھر فلم میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ حنین اس کی محبت میں اپنی ذات کے سب خوبصورت پرندے ایک ایک کر کے اپنے ہاتھوں سے آزاد کرتی رہی لیکن دانیال کے اندر احساسِ کمتری کا درخت اتنی جڑیں پکڑ چکا تھا کہ اس سے بھی اس کی تشفی نہ ہوئی اور بات بات پر طنزکے زہر سے بُجھے تِیر نہتی حنین پربرسانے لگا۔معاملہ تب نقطہ ¿ عروج پر پہنچ گیا جب اس نے ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑتے ہوئے اس کے کردار پر رکیک حملے کرنے شروع کر دیے۔ جس کی محبت میںحنین نے سب کچھ تیاگ دیا تھا جب اس نے دانیال کا یہ روپ دیکھا، تو وہ شدید ذہنی اضطراب اور دباو ¿ کا شکار رہنے لگی۔ دانیال کی ذات سے جڑے تمام کھلے در اس نے ایک ایک کر کے اپنے آنسوو ¿ں اور خونِ جگر سے بند کیے۔ جب اس رات دانیال نے اس پر پہلی بار ہاتھ اٹھایا، تو بہت نازوں میں پلی حنین تذلیل کی اس آخری حدکو برداشت نہ کر سکی اور نروس بریک ڈاو ¿ن کا شکار ہو گئی۔ پہلی بار حنین کے والد ذکا اللہ بیگ کواصل صورتِ حال کا علم ہوا جس سے کاروباری مصروفیات کے باعث وہ اب تک بے خبر تھے۔مہینوں وہ پہلے ہسپتال اور پھرماہرِ نفسیات کے پاس زیرِ علاج رہی ۔ دانیال سے علیحدگی کے تکلیف دہ مراحل نے اس دوران اسے پوری طرح نارمل اور صحت مند نہیں ہونے دیا اور آخر کار یہ تلخ تجربہ اس کے ذہن، شخصیت، اعتماد اور حسن پر بدنما اوربھدے نشانات چھوڑتا ہوا رخصت ہو گیا۔ اس کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ ربانی نے آٹھ ماہ اس پر بہت محنت کی، لیکن اس کے باوجود اس پورے عرصے میںوہ حنین کے اندراعتماد، محبت، انسانیت، زندگی اور امید کی شمعیں نئے سرے سے جلانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔اس کی کامیابی صرف اتنی سی تھی کہ آج وہ بہت عرصے بعد عائشہ ربانی اور والد ذکا اللہ بیگ کے کہنے پر کسی پارٹی میں شرکت کے لیے آمادہ ہوئی تھی۔
    ٭….٭….٭

  • کھوئے والی قلفی

    کھوئے والی قلفی


    کھوئے والی قلفی


    سلمان بشیر


    ”یہ اُس دور کی بات ہے جب میں آلف علی ایک خوب صورت دیہاتی نوجوان ہوا کرتا تھا۔ گلگت بلتستان کی بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں کے وسط میں قائم ایک قبیلے کا یونیورسٹی میں پڑھنے والا واحد لڑکا۔ ہمارے قبیلے سے کوئی بھی تعلیم کی غرض سے باہر نہیں گیا تھا۔ میں واحد لڑکا تھا جو اپنے ننھیال کے شہر میں واقع اکلوتی یونیورسٹی میں ایم ۔ اے انگلش کا اسٹوڈنٹ تھا۔ تعلیم کی وجہ سے میری آدھی سے زیادہ زندگی گھر سے باہر ماں باپ سے دور گزری تھی۔
    ضلع بہاولنگر ، بستی حافظ آباد موضع روجھانوالی میرے نانا نانی کا آبائی دیس تھا۔میں پچھلے کچھ سالوں سے اُن کے پاس ہی رہ رہا تھا۔ حافظ آباد ایک کچی بستی تھی۔ بجلی اور پانی کے سوا کوئی اور سہولت موجود نہیں تھی۔ پوری بستی میں صرف ایک ہی پکا مکان تھا۔ وہ بھی ضلع ناظم بختاور حسین کا۔
    بستی کی سڑکیں ہر وقت دھول سے ڈھکی رہتیں۔ سڑکیں بھی کوئی بجری سیمنٹ سے نہیں بنی تھیں، کچی تھیں لیکن آمدورفت کا واحد ذریعہ ہونے کی وجہ سے انسانوں اور جانوروں کے وزن سے سخت ہوگئی تھیں۔ سڑک کے ساتھ ہی ایک کچی نہر تھی، انسانوں اور جانوروں کا خوب صورت سوئمنگ پول۔
    کھیتوں میں ہل چلا کر یا کسی بھی دوسرے سخت کام سے جی کو جلا کر آنے والا ہر آدمی کپڑوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دیتا۔ نہر کے ٹھنڈے پانی سے نہا کر ساری گھبراہٹ اور تھکاوٹ چھومنتر ہوجاتی۔ میں بھی اکثر نہر میں نہاکر اپنے جسم سے میل اُتار لیاکرتا تھا۔ کیا حسین وقت تھا وہ، آج بھی یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکان اور دل میں حسرت کو بیدار کردیتا ہے۔ وہ بستی جنت کے کسی خوب صورت جزیرے سے کم نہیں تھی۔
    بستی کا اندرونی حصہ جہاں گردوغبار میں اَٹا ہوا تھا، وہیں بستی کے خارجی چاروں کونے ہری بھری فصلوں اور گہرے سائے والے درختوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔بستی کے وسط میں ایک بڑا سا برگد تھا جو تقریباً ایک کنال رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ وہاں ہر وقت بستی کے بزرگوں کے قہقہے گونجتے رہتے۔ حقے کی ”گُھڑ گُھڑ“ کی آواز میں ایک عجیب سا نشہ محسوس ہوتا تھا۔ شام کے بعد بھی وہاں بزرگوں، جوانوں اور نوجوانوں کی محفلیں سجتیں۔ میں بھی نانا کے ساتھ اکثر وہاں جایا کرتا تھا۔ بزرگوں کی باتیں سن کر ایسے محسوس ہوتا کہ جیسے میں نے ایم ۔اے تک پڑھ کر جھک ہی ماری ہے۔ اصل علم تو اُن بزرگوں کے پاس تھا جو چٹے اَن پڑھ ہونے کے باوجود کسی فلاسفر اور ادیب کی طرح بات کرتے تھے۔
    میں صبح مرغے کی بانگ سن کر بیدار ہوجاتا۔ نلکے پر جاکر وضو کرتا اور نماز کے لیے مسجد چلا جاتا۔ نانا جان نماز سے فراغت کے بعد بھینسوں کا دودھ دوہتے۔ نانی اماں چولہا جلاتی اور ناشتے کے لیے چپاتیاں بناتیں۔ ناشتے کے بعد میں تھوڑا پڑھتا پھر آہستہ آہستہ یونیورسٹی جانے کی تیاری کرنے لگ جاتا۔ یونیورسٹی ہمارے گھر سے پانچ میل کے فاصلے پر تھی اور میں پیدل یونیورسٹی جاتا تھا۔ یونیورسٹی شہر کے وسط میں تھی۔ 5 ایکڑ اراضی پر مشتمل یونیورسٹی کی عمارت بہت خوبصورت تھی۔بڑے بڑے کلاس روم، صاف ستھرے باتھ روم، درختوں اور پھولوں کے زیر سایہ گھاس کے لان، بیٹھنے کے لیے پتھر کے بنچ، کشادہ کینٹین کی عمارت، پانی کی بڑی سی ٹینکی اور سواری کھڑی کرنے کے لیے بڑا سا برآمدہ۔
    مجھے اُس جگہ سے بہت لگاﺅ تھا۔ وہاں آنے کے بعد میں ایک دوسری زندگی جینے لگتا تھا۔ ایک زندگی وہ تھی جو میں اپنی بستی میں گزار رہا تھا، دوسری زندگی یونیورسٹی کی تھی، بہت ہی خوب صورت۔
    یونیورسٹی میں وقت کیسے گزرا،پتا ہی نہیں چلا۔ بس آنکھیں بند کرکے کچھ لمحوں بعد پھر سے کھولیں تو یونیورسٹی کی دو سالہ زندگی اپنی آخری سانسیں لیتے ہوئے ہانپ رہی تھی۔ آخری سمیسٹر کے امتحان دینے کے بعد بھی ہم سبھی کلاس فیلوز باقاعدگی سے یونیورسٹی آتے تھے۔ رزلٹ کو بہانا بناکر ہم روز اس لیے آتے تاکہ یونیورسٹی اور دوستوں کے سنگ کچھ وقت اور گزارسکیں۔ وہ ہمارا یونیورسٹی میں آخری ہفتہ تھا۔ ہماری طرح باقی شعبوں کے طلبہ و طالبات بھی یونیورسٹی آتے تھے۔ کلرک، استاد، گیٹ کیپر اور کینٹین والا بھی یونیورسٹی حاضر ہوتے تھے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    دوسرا دن: 25 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری،

    زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا یاد ہے کل مونگروں کے ساتھ میں نے کسی سبزی کا نام لیا تھا اور جنت کی سبزی کہہ کر یاد کیا تھا؟ میتھی کا ۔ تو آج، اللہ خوش رکھے ساتھ والی آنٹی کو، ہری بھری تازہ میتھی ایک ہرے بھر ے برکت والے باغ سے ہمارے گھر وارد ہوئی۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، معصوم خواہشیں، بے ضرر دعاﺅں کی قبولیت ہی ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔ یہ نہ ہو تو بڑی بڑی خوشیوں کے انتظارمیں انسان جینا بھول جائے۔ 

    کل ماسی کی چھٹی کر دی گئی تھی۔ آج سے گھر کا کام ہے اور ہم ہیں دوستو۔ ڈیڑھ سال پہلے جب مجھ پر شیاٹکا نے حملہ کیا تو میں اپنی ٹوٹی کمر لیے پورے تین مہینے بستر سے بندھ کر رہ گئی۔ نہ کروٹ بدل سکتی تھی، نہ اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی۔ تین لوگ اٹھا کر واش روم لے جاتے تھے۔ کھانا بھی لیٹے لیٹے، نماز بھی لیٹے لیٹے اور علاج بھی لیٹے لیٹے۔ آسمان کو دیکھنا خواب ہو گیا، ہوا کے جھونکے چہرے پر کیسے لگتے تھے بھول گئی، بیٹھ کر پانی پینے کو ترس گئی۔ تب میں سوچا کرتی تھی صبح آنکھ کھلنے پر اٹھ بیٹھنا، اپنے پیروں پر چل کر دن کا آغاز کرنا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور جب یہ نعمت مجھے میسر تھی، میں نے کبھی اس پر غور ہی نہ کیا۔ کیوں نہ کیا؟ بس اسے ایک معمول کی بات سمجھتی رہی۔ پھر اللہ نے مجھ پر کرم کیا اور مجھے شفا بخشی۔ تب سے ہر نیا دن ایک نعمتِ عظیم ہے۔ صبح اٹھنا، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا اور ایک دن کا صحت کے ساتھ آغاز کرنا ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت کے لیے بھی ایک وضو ضروری ہے۔ ہر دن کے آغاز پر میری روح شکرگزاری کا وضو کرتی ہے۔ ہر صبح کے طلوع ہونے پر میں کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتی ہوں جو عام ہونے کے باوجود خاص الخاص ہے، نعمت عظیم ہے، خدا کا حسین تحفہ ہے۔ تو آج ڈیئر ڈائری میں آسائش کے بعد آنے والی مشکل کے لیے شکرگزار ہوں۔ ملازم کا ہونا آسائش تھی، نہ ہونا مشکل۔ اس مشکل میں کام کا بوجھ ہے اور تھکن بھی۔ لیکن اس کے ساتھ اس میں مصروفیت ہے اور اپنے بچوں کے کام کرنے کی طمانیت اور سکون کی نیند۔ یہ وہ مشکل ہے جو مجھے میری اوقات میں رکھتی ہے۔ کل بیٹھ کر حکم چلاتی تھی، آج کام میں جتی ہوں۔ نہ کل میری بڑائی تھی، نہ آج میری تحقیر۔ کل گزر گیا، آج بھی گزر جائے گا اور اس مشکل کے بعد جو آسائش آئے گی اس کی قدرومنزلت میرے دل میں کئی گنا بڑھ کر ہو گی۔ اور اس آسائش کے لیے اور اس ادراک کے لیے اے زندگی، میں ابھی سے شکرگزار ہوں۔

    لاک ڈاﺅن میں زندگی کو جامد ہونے سے بچانے کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے کہ ہر روز ایک نئی چیز سیکھوں گی۔ اس ہفتے دو کتابیں ہاتھ لگی تھیں۔ پہلی کتاب اردو کی تھی اور کسی خاتون کی لکھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے ایک ایسے گلوکار کی کہانی بیان کی تھی جو دین کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ مذہب کی طرف مائل ہونے سے پہلے وہ اچھا بیٹا، بہترین شوہر اور شفیق باپ ہوتا ہے اور جونہی اس کی دینی غیرت جاگتی ہے وہ ایک عجیب و غریب قسم کی چیز بن جاتا ہے۔ بیوی سے لڑنے لگتا ہے، لوگوں پر حد جاری ہونے کے فتوے دینے لگتا ہے، دادا سے بدتمیزی کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ ننھی بیٹی کے سامنے ذراسے اختلاف پربیوی کو مار مارکر حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔ 

  • پتھر کے صنم

    پتھر کے صنم


    ماہوش طالب


    جب سے اس نے بارہ جماعتیں پاس کی تھیں، اماں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گئی تھیں کہ وہ جم کر گھر داری سیکھ لے اور پھر وہ اسے کسی کھونٹے سے باندھیں۔ جیسے بھلا وہ کوئی بکری ہو۔ اس کی آگے پڑھنے کی خواہش کی پرواہ کیے بغیر۔ ابا کا تو ویسے ہی ہٹی کٹی اماں کے سامنے دال دلیہ نہ گلتا تھا، لہٰذا اس کا احتجاج کرنا بے کار ٹھہرا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا، رشتہ والی کے بار بار کے پھیرے کارگر ثابت ہوئے اور اماں کو اس کے لیے مناسب کھونٹی (رشتہ) مل ہی گئی۔ عبدالواثق کھاتے پیتے خاندان کا اکلوتا تو نہیں مگر دوسرا چشم و چراغ تھا، دو بہنیں تھیںجن میں سے ایک شادی شدہ اور دوسری کی منگنی ہوئی تھی۔ ساس جنونی تھی جب کہباپ کریانہ سٹور کے رعب دار مالک…. ذات برادری کے علاوہ یوں بھی جان پہچان نکل آئی کہ اماں کے گاﺅں کے پڑوسیوں کے قریبی رشتہ دار تھے…. خیر اماں نے ابا اور ماموﺅںسے صلاح مشورہ کرکے بات پکی کی، منگنی بھی کردی کیوں کہ لڑکے والوں کو بھی تیکھے نین نقوش والی صدف ایک نظر میں پسند آگئی تھی۔ بارہ اور پندرہ سال کی مقدس اور ندا اس خوشی میں جھوم جھوم کر پاگل ہورہی تھیں کہ گھر میں پہلا فنکشن ہونے جارہا ہے اور وہ بھی ان کی بہن کا۔ نو سالہ مدثر تو ابھی تک ٹیلی ویژن پر لگنے والے کارٹونز سے ہی نہ سیر ہوا تھا، لہٰذا اسے پرواہ نہیں تھی۔ صدف جو ابھی تک شادی سے رضامندنہیںتھی۔ جب اس نے بھی اپنے ہونے والے منگیتر کی تصویر دیکھتی تو دل خود بہ خود مان گیا اور جب رات کو آنکھیں بند کرتے ہی بانکا سجیلا سا عبدالواثق گھڑی باندھے کلائی کو تھوڑی پر ٹکائے اس کے سامنے بڑے دھڑلے سے آجاتا، تو اس کے پیٹ میں چٹکیاں بھرنے لگتیں۔مگر پھر فائزہ کی کہی گئی بات اسے تشویش میں مبتلا کردیتی وہ اس کی کالج کی دوست تھی، صدف کی منگنی کی اطلاع ملنے پر وہ اگلے ہی دن اس کے گھر چلی آئی۔
    ”تصویر میں تو اچھا خاصا ہے مگر…. تم اس شکل پر مت ریجھ جانا، آج کل تصویری اور اصلی شکل و صورت میں بڑا فرق ہوتا ہے، ایسی ایسی ٹیکنالوجی آگئی ہے کہ کالا شاہ بندہ جی تصویروں میں پیدائشی گورا لگتا ہے۔“ وہ بیٹھک کے صوفے پر بیٹھی پکی عورتوں کی طرح اسے مطلع کررہی تھی۔
    ”ارے نہیں! اماں اور ابا دیکھ کر آئے ہیں لڑکے کو، پھر وہ مدثر سے بھی میں نے پوچھا تھا۔“ صدف نے اپنے تئیں اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔
     ”اچھا تو چھپ چھپ کے ساری معلومات لے لی ہوگی۔“ فائزہ نے بات پکڑ کر اُسے چھیڑا تو صدف بے اختیار جھینپ گئی۔
     ”اور اپنی اماں کی تم رہنے ہی دو جب انہوں نے رشتہ پکا کرنے کی ٹھان ہی لی تو وہ کیوں ہر بات سو فیصد سچ بتا کر تمہارا ذہن بدلنے کی کوشش کریں، ویسے بھی مائیں بیٹیوں کے لیے لڑکوں کی شکل نہیں دیکھتیں، انہیں بس کھاتا پیتا خاندان اور لڑکا چاہیے ہوتا ہے۔ بیٹیوں کے احساسات کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔“ وہ یوں کہہ رہی تھی جیسے خود نہ جانے کتنی منگنیاں بھگتا آئی ہو۔
    صدف نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں حسد کا تڑکا محسوس کیا، مگر نظر انداز کر گئی۔
    ”یہ مت سمجھنا میں تمہارا دل خراب کررہی ہوں، مائیں تو ہوتی ہی جذباتی ہیں، مگر تم ذرا اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر دیکھو، یہ سب میں تمہاری بھلائی کو ہی کہہ رہی ہوں۔“صدف کی خاموشی کو خاطر میں لاتے ہوئے اس نے وضاحت کی جو کارگر ثابت ہوئی اور صدف پھر سے اس کے ساتھ مزے سے گپیں لڑانے لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امی نے بیٹھک میں آکر اطلاع دی کہ فائزہ کا بھائی آیا ہے اسے لینے۔….
    بارش کے بعد موسم کا موڈ سنور گیا تھا۔ گھر کے نچلے پورشن میں سفیدی کا کام شروع کروایا تھا اماں نے، آج تو بارش کی وجہ سے کام رُک گیا مگر سامان اِدھر اُدھر بکھرا ہوا تھا۔ صدف دو دنوں سے بکھراوے سے بے زار چھت پر آگئی،سامنے کھجور کا درخت تھا جس کے پتوں سے پانی ٹپ ٹپ بہ رہا تھا۔ وہ منڈیر پر کہنیاں ٹکائے کھڑی ہوگئی۔ اس کے ہونے والے سسرال نے شادی کی تاریخ بڑھا دی تھی اماں کے مطابق وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ نئی بہو کے لیے اوپری منزل میں ایک پورشن بنوا رہے ہیں جس کے مکمل ہونے پر وہ بارات لے کر آئیں گے۔ اس بات پر بھی اماں نے یہ مصلحت ڈھونڈ لی۔

  • نامراد

    نامراد
    شاذیہ خان


    ”حییٰ علی الفلاح، حییٰ الفلاح“ میاں صاحب کی خوش الحان آواز مسجد کے میناروں سے گونجی تو تاجور کی آنکھ کُھل گئی۔ وہ کلمہ پڑھتی ہوئی اُٹھی اور تکیے کے برابر رکھا دوپٹہ سر پر لے لیا۔ آنکھیں موند کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں یوں پیوست کرلیں، جیسے دُعا مانگ رہی ہو۔ اذان کے ساتھ ہی اس کے دل کے جلتے دیئے لو دینے لگے تھے۔ پہلے وہ کبھی اتنی شدّو مد کے ساتھ دعا نہیں مانگتی تھی مگر اب تو دعا مانگنے کا ایک بھرپور بہانہ تھا مُراد…. جو اس کے دل کی مراد بھی تھا۔ مراد نے خود بھی کبھی اپنے لیے اتنی دعائیں نہیں مانگی ہوں گی جتنی دُعائیں تاجور نے اس کی اور اپنی راہ کے یک جا ہونے کی مانگی تھیں۔ اگر مراد کو معلوم ہو جاتا تو وہ شاید خدا بن بیٹھتا۔
    میاں جی کی اکلوتی بیٹی ہونے کا مان ہر جگہ تاجور کے ساتھ تھا۔ تین بیٹے پیدا ہوتے ہی صرف چند گھنٹوں دنیا کی مسافرت کے سزاوار رہے اور پھر واپس اپنی حقیقی منزل کی جانب لوٹ گئے۔ اُس کے بعد پیدا ہونے والی تاجور کی کیا وقعت ہوگی ایسا کوئی انعام علی اور ان کی بیگم سے پوچھتا تو وہ اولاد جیسی نعمت پر گھنٹوں بات کر سکتے تھے۔ لیکن اتنے نازو نعم سے پلی اکلوتی بیٹی کی پہلی اور آخری خواہش انعام علی کے لیے پوری کرنا زندگی اور موت کا معاملہ تھا بھلا ایک کم ذات سے رشتہ جوڑنا کیسے ممکن تھا اور وہ مراد کے لیے اپنی ساری اقدار سے ٹکرانے بلکہ پاش پاش کردینے کے عزم میں تھی۔
    ٭….٭….٭

  • ورثہ

    ورثہ

    ورثہ

    ارم سرفراز

    مریم نے آفس کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ صبح کی تیز بارش، اب ہلکی سی پھوار کی شکل دھار چکی تھی۔ امریکا کے شہر سیاٹل میں سارا سال بارش کا نہ ہونا عجیب بات ہوتی تھی ، اس کا ہونا نہیں ۔ مریم کا گھر آفس سے تھوڑی ہی دور تھا اور وہ اکثر پیدل ہی آ جاتی تھی ۔ اس نے پرس اٹھایا، چھتری کھولی اور باہر نکل آئی ۔ بہار کی آمد تھی اور درختوں کی ویران شاخیں، نئے پتوں سے بھرنے لگی تھیں ۔ مستقل بارش نے پتوں اور پھولوں کی رنگینی کو مزید تازہ کر دیا تھا اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
    مریم کے گھر کا راستہ چھوٹے سے شاپنگ ایریا سے گزرتا تھا جس میں موجود دکان دار اب اسے پہچانتے تھے اور اکثر سامنا ہونے پر خوش دلی سے ”ہیلو“ بھی کرتے تھے۔ اپنے اونچے قد، چمکیلے گہرے بھورے بال اور کالی آنکھوں کے ساتھ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی خاصی دلکش تھی ۔ امریکا میں ہی پلنے بڑھنے کی بہ دولت اس کے طور طریقے بھی وہاں کے گورے باشندوں کی طرح ہی تھے ۔ان لوگوں کو بھی اس میں الگ صرف اس کا نام اور اس کی مشرقی نین نقش نظر آتے تھے یا پھر اس کا مسلمان ہونا جس کا ذکر ایک انتہائی نازک موضوع ہونے کی بنا پر وہ اپنی گفت گو میں شاذ و نادر ہی لاتے تھے۔ مذہب کے معاملے میں مریم نے امریکیوں کو دو طرح کا پایا تھا ۔ یا تو انتہائی منہ پھٹ اور بد لحاظ یا پھر انتہائی تمیزدار اور ، شعوری یا لاشعوری طور پر دامن بچاتے ہوئے ۔ اس کا پالا دونوں سے ہی پڑتا تھا اور دونوں میں دوسری قسم ہی ہر لحاظ سے غنیمت تھی ۔
    مریم کا شوہر علی بھی وہیں کا پیدائشی مسلمان تھا۔ ان کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ ایک ہی کلچر میں پلنے بڑھنے کی بدولت ان میں کافی ذہنی مطابقت تھی۔ بحث اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اتنی ہی تھیں جتنی کسی بھی شادی شدہ گھر میں ہوتی تھیں ۔ لیکن ہر بحث اور لڑائی خوش اسلوبی سے نمٹ جاتی تھی ۔ شاید اس کی وجہ مریم کا اس بات پر یقین تھا کہ شادی کی کام یابی کا انحصار کم توقعات اور زیادہ ہم آہنگی کے اصول پر ہوتا ہے۔ وہ فطرتاً ہی صلح جو تھی اور یہ وہ خاصیت تھی جو وہاں پلی بڑھی پاکستانی عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان کے دو بچے رائنا اور عمر ان کی فیملی کو مکمل کرتے تھے۔
    ادھر ادھر کی سوچوں میں بھٹکتا ہوا اس کا ذہن اپنے اور علی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث پر جا کر اٹک گیا جس کا حل اس کی صلح جوئی بھی نہیں نکال پا رہی تھی ۔ مسئلہ علی کا اس کی اس adoption agency میں نوکری کا تھا جس میں وہ پچھلے چار سال سے کام کر رہی تھی ۔ اول تو وہ یہ پارٹ ٹائم نوکری اور وہ بھی ہفتے میں تین دن پیسے کے لیے نہیں بلکہ وقت کے ایک مثبت مصرف کی خاطر کر رہی تھی ۔ اس کے باوجود بھی علی کی ناپسندیدگی اسے کچھ بھا نہیں رہی تھی ۔ علی کو اس کے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، صرف اس جگہ پر تھا جہاں وہ نوکری کر رہی تھی ۔ مریم بار بار اس نوکری کی سہولتیں گنواتی کہ وہ گھر سے قریب ہے، پارٹ ٹائم ہے اور اسے ایک حقیقی خدمت ِخلق کا موقع دیتی ہے۔ گو کہ علی کی اس خاص نوکری سے ناگواری کے پس ِپہلو سے وہ آگاہ تھی لیکن اس کے نزدیک اس وجہ سے علی کی اس نوکری کے لیے حمایت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ناگواری میں ۔
    اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی سی پھوار بھی مکمل طور پر رک چکی تھی ۔ لال اینٹوں ، چوڑی فرنچ کھڑکیوں، اور وسیع فرنٹ لان والا اس کا گھر سٹریٹ پر دوسرے گھروں سے ملتا جلتا تھا ۔ اینٹوں کی سرخی پر چڑھتی ہری بیلوں اور جگہ جگہ موجود سفید اور پیلے پھولوں نے گھر کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔ ڈرائیو وے میں علی کی گاڑی کھڑی تھی۔ ایک انجینئرنگ فرم میں پارٹنر ہونے کی وجہ سے اسے اکثر جلدی گھر آ جانے اور گھر سے کام کرنے کی آسائش تھی ۔
    مریم کچن کی دروازے سے اندر آئی تو وہ کچن کے اندر کھڑا فون پر کسی دوست سے بات کر رہا تھا ۔
    ”ہاں ہاں! صنم کو بھی ضرور ساتھ لانا ۔ویسے بھی بیویوں کے بغیر کہیں جا ﺅتو انہیں شک کی شدید تکلیف ہو جاتی ہے۔” علی نے مریم کو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اپنے دوست کو یہ آخری ہدایت غالباً اسے ہی چھیڑنے کے لیے دی گئی تھی۔ علی کے جوابی قہقہہ سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف سے اس بات کا جواب بھی کچھ اُلٹا ہی آیا تھا۔
    ”ہاں! مریم بھی ابھی ابھی آئی ہے ۔ ٹھیک ہے، پھر ایک گھنٹے میں ملتے ہیں۔“علی نے فون بند کیا اور اس کی طرف مڑا ۔ لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی مریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔
    ”ٹھہرو! مجھے بوجھنے دو یہ کون ہے۔“ اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
    ”رضوان تھا اور ایک گھنٹے میں صنم کے ساتھ آ رہا ہے؟“علی زور سے ہنس پڑا ۔
    ”یہ تو تم سب سن ہی چکی تھی۔تمہارا کیا کمال ہو؟اتم لوگ تو ویسے ہی ہم لوگوں کے ہر فون پر کان لگا کر بیٹھی ہوتی ہو۔“ اس نے اسے چھیڑا ۔
    ”جیسے تم لوگ نہیں بیٹھے ہوتے۔“مریم نے بھی فٹ سے جملہ داغا۔
    ”ہاں بھئی ! میں ہر وقت بھول جاتا ہوں کہ کچھ عورتیں خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہوتی ہیں۔ ان سے آپ کوئی بحث نہیں جیت سکتے ۔“مریم اس کی چاپلوسی پر مسکرا دی ۔
    ”کم خوب صورت تو آپ بھی نہیں لیکن چھوڑو یہ سب باتیں ۔ یہ بتا ﺅ کہ یہ لوگ اچانک کیوں آرہے ہیں؟“ وہ اور علی باتیں کرتے کرتے اپنے کشادہ فیملی روم میں آ چکے تھے ۔
    ”رضوان نے جو نئی جاب کی آفر قبول کی ہے، اسی کے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہا ہے وہ۔“ علی نے اپنی پسندیدہ آرام کرسی پر جگہ سنبھال لی تھی اور اب ٹی وی ریموٹ کے لیے نظریں دوڑا رہا تھا ۔
    ”تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو؟“
    ”نہیں تھکی! ہوئی تو نہیں ہوں۔“ وہ بھی اسی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔“
    ”تم نے آج امی جی کو کال کی تھی؟“ اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔
    ”میں نے تو کال نہیں کی۔میرے خیال سے امی جی اور ابو دونوں اس وقت اتنا مزا کر رہے ہوں گے اور وہ تو میرا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔“ وہ اپنی ہی بات پر ہنسا ، مریم بھی مُسکرا دی۔
    ان دنوں ان کے دونوں بچے، بارہ سالہ عمر اور چودہ سالہ رائنا اپنی سپرنگ بریک کی ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے نانا نانی، شازیہ اور نذیر عبید کے پاس لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ یہ ان دونوں کی چھٹیوں کا معمول تھا اور دونوں پارٹیاں نہ صرف ان ملاقاتوں کی شدت سے منتظر رہتیں۔ بلکہ ان کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کے نت نئے طریقے بھی سوچ کر رکھتی تھیں۔ دو دن پہلے ہونے والی گفت گو میں بھی مریم کو اپنے اندازوں کے مطابق ہی معلومات ملی تھیں ۔ نانا اور نواسہ گھر کے پاس والی جھیل میں جی بھر کر مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے جب کہ رائنا اپنی نانی کے ساتھ مال میں شاپنگ اور نئی موویز دیکھنے میں مشغول تھی ۔
    ”ان لوگوں کے لیے کوئی خاص چیز بنانی ہے کیا؟“ مریم کا اشارہ رضوان اور صنم کی طرف تھا ۔
    ”نہیں! وہ لوگ کھانے پر کہیں انوائٹڈ ہیں اس لیے کھانا نہیں کھائیں گے ۔“