آئیں مل کر سارے بچے
کام کریں اب اچھے اچھے
مل جل کر تم رہنا سیکھو
بن جاؤ تم سچے بچے
لڑنا اچھی بات نہیں ہے
لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے
کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
بن جاؤ گے اچھے بچے
اس بڑے سے شہری اور دیہاتی امتزاج سے بنے گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ سفیدے کے لمبے لمبے درخت ایک قطار سے کھڑے تھے۔ایک درخت کے تنے میں فاختہ کا گھونسلہ تھا۔ فاختہ کے بچے گھونسلے سے سر نکال نکال کر باہر دیکھ رہے تھے ۔سفیدے کے درختوں کے پتے ہلکی ہوا کے سنگ جھوم رہے تھے۔ آسمان کے شمالی کناروں پر اودے اور ہلکے سرمئی رنگ کے بادل اُڑتے پھر رہے تھے ۔ ڈوبتے سورج کی پیشانی سے پھوٹتی کرنیں ان درختوں میں سے چھن چھن کر عجیب دل کش منظر پیدا کر رہی تھیں۔ لان میں کھلے پھولوں کی رنگین ادائیں اپنی جلوہ طرازیاں دکھا رہی تھیں ۔ ایسا دلکش منظر کے دیکھنے والا کھو سا جائے مگر یہ منظر اسی گھر کے ٹیرس پر بیٹھے مقدم چوہدری کی ذرہ برابر توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکا تھا۔ وہ اُ داس سا خود میں گم سا بیٹھا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ اس پر یہ اُداسی ذرا سوٹ نہیں کر رہی تھی ۔
مقدم چوہدری ۔۔مراد چوہدری کا اکلوتا سپوت۔۔۔۔دو مائوں(ایک پیدا کرنے۔۔۔ دوسری پالنے والی) کا لاڈلا بیٹا ۔۔۔ایک بہن کا پیارا بھائی ۔۔ ۔ دادا، دادی کی جان ،اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بے چارا اُداس اور پریشان بیٹھا تھا ۔وجہ تھی اس کی شادی خانہ آبادی ۔شادی جس کا ذکر خوشی لاتا ہے مگر مقدم چوہدری کے لیے اس کی شادی ایسا درد ِ سر بنی ہوئی تھی جس کا علاج کسی ڈسپرین سے بھی ممکن نہیں تھا۔بیٹے کی شادی کرنی ہو تو ہمارے ہاں ایک ماں کے نخرے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ، اس کی تو پھر دو دو مائیں تھیں۔یہیں سے اس کی شامت شروع ہوئی تھی کہ اس کی شادی کے لیے اس کی مائوں کے نخرے آپس میں ٹکرا کر اس کی راہ کی رکائوٹ بن گئے تھے حالاں کہ ساری زندگی اس کی مائیں سوتنیں ہونے کے باوجود شیر و شکر رہی تھیں۔مشکل یہ تھی کہ مقدم چوہدری چاہ کر بھی اپنی کسی ایک ماں کا دل بھی نہیں توڑ سکتا تھا کہ دونوں اس سے برابر کی محبت کرتی تھیں، واری صدقے جاتی تھیں ۔مقدم چوہدری کی پریشانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو تھوڑا پیچھے ماضی میں جھانکنا پڑے گا ۔تو آئیے چلیے پھر ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مراد چوہدری وسیع زمینوں کے مالک تھے۔ انہیں چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ پڑھے لکھے تھے مگر رہن سہن اور مزاج خالص چوہدرانہ تھے۔ ان کی پہلی شادی ان کی پھوپھوزاد نگین سے ہوئی تھی۔وہ دل میں اپنی ایک کالج فیلو کے لیے پسندیدگی، نہیں ۔۔نہیں۔۔ قدرے محبت کے جذبات رکھتے تھے اور اس کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں یہ شعر پڑھتے تھے۔
کتھے جے میرا وس ہووئے
تیری ماں میری سس ہو وئے
اب دل کی ہر خواہش پوری تو نہیں ہو تی ۔ یہی مراد چوہدری کے ساتھ بھی ہوا کہ اپنے ابا کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اوران کے دل کی دل میں ہی دب کر رہ گئی ۔
”جب تک ”پھوپھیوں ” کی ”بیٹیاں” سلامت رہیں گی ”ماموئوں ” کے ”بیٹوں ” کو یونہی اپنے جذبات پر فاتحہ پڑھنا پڑے گی۔” چوہدری مراد یہی سوچ کر راضی بہ رضا ہو گئے۔ نافرمانی کا انجام جو جانتے تھے۔ گھر بدری اور جائیداد سے عاق ہونا۔۔اب وہ اتنے بھی مریض ِ عشق نہ تھے کہ دل کی خواہش پوری کر کے اپنی” دنیا ”خراب کر لیتے اور ان کی اس کلاس فیلو کو ان کے ارادوں کی بھنک تک نہیں تھی تو پھر وہ کس بل بوتے پر آگ میں کود جاتے ۔ویسے بھی آگ کے دریا میں ڈوب کر جانا ہر عاشق کے بس کی بات نہیںہے۔
مراد چوہدری کی والدہ اپنی بھانجی کو بہو بنانا چاہتی تھیں مگر شوہر کے آگے ان کی بھی ایک نہ چلی اور نگین عرف نگو ان کے گھر کی بہو قرار دے دی گئی۔نگو اکلوتی تھی۔ باپ اس کے بچپن میں چل بسا تھا۔ اماں نے ساری عمر محنتیں کر کے اسے پالا پوسا تھا۔ ساری شادی کے دوران مراد چوہدری کے ابا خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے رہے ، اماں منہ پھلائے رہیں اور بہنوں نے بھائی کی شادی کے خوب خوب ارمان نکالے۔مہندی کی رات بھنگڑے اور لُڈیاں ڈالتی رہیں۔ناچ ناچ کر تھک گئیں تو ڈھولک سنبھال لی ۔ساری رات ڈھولک بجا کر گانے گا تی رہیں۔
”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
یہ گانا مراد چوہدری کی سب سے بڑی بہن شہناز بی بی گا رہی تھی جو صحت مندی کے آخری مقام پر تھی۔ پورے چھے من کی ۔۔۔نہ رتی اِدھر نہ رتی اُدھر۔ اُوپر سے اتنے کام والا جوڑا کہ جس کا دوپٹہ ہی سیروں کے حساب سے وزنی تھا ۔ اس کے بعد جو زیورات اُس نے پہن بلکہ لاد رکھے تھے ، ان کاوزن بھی کلو دو کلو تو ضرور ہی تھا۔ ایسے میں اول تو اُڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بالفرض محال ایسا ہو بھی گیا تو ہوا بے چاری پریشانی سے سر پٹختی رہے گی کہ اس پر یہ کیا افتاد آن پڑی ہے۔
اماں جل جل کر سنتی رہیں اور سُن سُن کر جلتی رہیں۔
”نی چُپ کر جاو ، اب اور جا کر سو جائو۔ تمہاری بے سری آوازوں نے سر میں درد کر دیا ہے۔” آخر بھنی ہوئی آواز میں بولیں۔
”ہن میں بتائوں گی نگو کو ۔۔۔۔ساس کس چیز کا نام ہوتاہے۔” شادی کے روز ہی ان کی والدہ نے اپنی بیٹیوں کے سامنے اپنے ارادوں کا ذکر کر دیا۔ کیا کرتیں برداشت جو نہیں ہو رہا تھا۔
” بس کر دے اماں! نگو بہت اچھی لڑکی ہے ،تیری بڑی خدمت کرے گی۔ تو ایسے اس سے بیر نہ باندھ۔۔۔حمیرا کا بھی تجھے پتا ہی ہے کتنی لڑاکا اور کٹنی قسم کی لڑکی ہے ۔۔۔چاہے تیری بھانجی ہے مگر ایک بات لکھ لو وہ بیاہ کر آجاتی تو سب سے پہلے تجھے ہی دیوار سے لگاتی۔” ان کی بڑی بیٹی نے بڑے عادلانہ انداز میں صورتِ حال کا تجزیہ کیا ۔
نگو بہت ہنسوڑ اور قدرے لاپروا سی لڑکی تھی۔ بڑی سے بڑی بات کو چٹکیوں میں اُڑا دینے والی۔ گھر میں یوں گُھل مل گئی جیسے سالوں سے یہاں رہ رہی ہو۔ گھر میں ہر وقت اس کے ہنسنے بولنے کی آواز آتی رہتی ۔وہ جانتی تھی کہ وہ ساس کو پسند نہیں ہے لہٰذا اس نے ساس کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ وہ موقع ڈھونڈتی رہ جاتیں اور نگومکھن میں سے بال کی طرح نکل جاتی ۔
” ہے ای میسنی ۔۔۔چلاک(چالاک)ماں کی چلاک دھی۔” ایسے ہر موقع پر مراد کی اماں ہر دفعہ کلس کر رہ جاتیں۔
اگر کبھی وہ خوا مخواہ اس کے سر ہو جاتیں تو وہ ہنس کر ٹال دیتی۔ کھُل کر وہ نگین کی مخالفت نہیں کر سکتی تھیں کہ مراد کے ابا کا خوف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نگو کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ مراد اور نگین کی شادی کو دو سال گزر گئے مگر ان کا آنگن سونا رہا تو مراد کی اماں کو جیسے ایک موقع ہاتھ لگ گیا۔ پہلے ڈیرھ سال تک تو وہ دبی دبی زبان میں مراد کو احساس دلاتی رہیں مگر جب دو سال گزر گئے تو وہ علی الاعلان بچہ نہ ہونے کا واویلا کرنے لگیں۔اب بھی نگو اماں ابا کوچائے دینے آئی تھی جب اماں نے طنز کیا۔
” تیری یہ خدمتیں ہمارے کسی کام کی نہیں ہیں اگر ہمارا آنگن یونہی سونا رہا تو کیا فائدہ تیرا ۔” نگوکے چہرے کا رنگ پل میں اُڑا تھا مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
” فکر نہ کرمامی! اللہ کرم کرے گا۔” وہ مُسکر ا کر بس اتنا کہہ سکی ۔ ان کی بات جو دل میں تیر بن کرگھس گئی تھی۔
”جا پتر تو جا کے مراد کو دیکھ ۔” ابا نے اماں کو گھور کر دیکھا اور نگو کو جانے کا اشارہ کیا۔
” تو کیا اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے؟ کچھ خدا کا خوف کیا کر ۔جب اللہ کی مرضی ہو گی اولاد بھی ہو جائے گی۔” ابا نے اماں کو سمجھایا، جو ناک سکوڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی تھیں۔
” میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔بس آپ مراد سے کہیں اسے شہر لے جا کر ڈاکٹر کو دکھائے۔” اماں نے چائے کا گھونٹ حلق میں اُتار کر کہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
چند روز بعد چوہدری مراد شہر گیا تو نگو کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ دونوں کے ٹیسٹ ہوئے اور جو رپورٹ آئی اس نے نگوکے پیروں کے نیچے سے حقیقتاً زمین کھینچ لی۔ رپورٹس کے مطابق وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم تھی۔
گھر واپس آکر نگوکمرے میں بند ہو گئی۔مراد چوہدری ڈھیلے سے انداز میں اماں ابا کے پاس ٹک گیا۔
” کیا بنا پتر! تم لوگ گئے تھے ڈاکٹر کے پاس۔” ابا نے اس کی اُتری شکل دیکھ کر کہا۔
مراد چوہدری نے ٹھنڈی آہ بھر کر ساری بات بیان کرنا شروع کی۔ جسے سُن کر ابا کا دل ڈوبنے لگا اور اماں کے دل میں سکون کی ٹھنڈی لہریں اُٹھنے لگیں اور کیوں نا اُٹھتیں ”نقص” کون سا ان کے بیٹے میں تھا۔
” ہوں! اب میں اس نگو کی ایسی کی تیسی کروں گی۔ اپنے بیٹے کو دوسری شادی کروائوں گی اور وہ بھی اپنی بھانجی حمیرا سے۔” ابا مراد چوہدری کی دل جوئی کرنے لگے اور اماں دل ہی دل میں منصوبہ بندی کرنے لگیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پورا ایک ہفتہ نگو نے کمرے میں بندہو کر اپنے بانجھ پن کا سوگ منایا ۔جو کمی اللہ کی طرف سے ہو اُسے پورا نہیں کیا جاسکتا ، اُس پر بس صبر کیا جا سکتا ہے اور نگو نے اس کمی کو قبول کر کے صبر کر لیا ۔ایک ہفتے بعد دوپہر کو کمرے سے نکلی تو سب قیلولہ کررہے تھے۔ وہ بر آمدے میں سے گزر کر صحن میں لگے نلکے کی طرف جانے لگی توابا کے کمرے سے اماںکی آواز آئی جو اپنی بہن (حمیرا کی ماں)کے ساتھ محو گفتگوتھیں۔ دونوں کو شاید اس کے کمرے سے نکلنے کی ذرا اُمید نہیں تھی جو آواز کا والیوم کم کرنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔
” بس بشیراں! اب تو تیاری رکھ دو مہینے کے اندر میں نے مراد کا ویاہ اپنی حمیرا سے کروا دینا ہے۔ بڑی اُڈی اُڈی پھرتی تھی نا یہ نگو کی بچّی ۔ اب منہ کے بل گری ہے تو اب مت ٹھکانے آئی ہے اور کچھ ابھی آئے گی جب میں اپنی حمیرا کو اپنی (بہو) نو بنا کر لائوں گی۔” اماں کی زبان سے اُگلتا زہر نگو کے کانوں کے رستے دل میں جا اُترا۔
نگو واپس کمرے میں گئی ۔بہت کچھ سوچا، حقیقت کی عینک لگا کر حالات کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچی کہ خوشیاں حاصل کرنے کے لیے زندگی کی تلخیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑتاہے ۔سو اس نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ایک ایسا فیصلہ کر گئی، جس نے اس کے دل کو خاردار جھاڑیوں پر گھسیٹ دیا مگر وہ تکلیف سہ گئی۔ اب اُسے اپنے اس فیصلے کو منو ا کر اس پر عمل کروانا تھا۔ اماں نے اس کے ساتھ بیر رکھا تھا تو اب وہ بھی اماں کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔حمیرا کے آنے کا مطلب تھا نگو کا گھر بدر ہونا اور ایسا نگو مر کر بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اُسے اسی گھر میں مراد چوہدری کے ساتھ رہنا تھا اور حمیرا آجاتی تو ایسا ہونا ناممکن ہو جاتا۔ وہ بے چینی سے ابا کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
رات کو کھانے سے فارغ ہو کر وہ ابا، اماں کے پاس جاپہنچی۔ مراد چوہدری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ ابا اتنے دنوں بعد اس کو سب کے درمیان دیکھ کر قدرے مطمئن ہوئے۔وہ مراد چوہدری کواس کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کیوں کہ وہ بے چاری اتنے بڑے صدمے سے گزر رہی تھی۔ مراد چوہدری نے اس کی مقدور بھر دل جوئی کی تھی۔ وہ صرف اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش ہی کر سکتا تھا، اس کو ختم کو نہیں کر سکتا تھا سو اس نے یہی کیا اپنی محبت اور خلوص سے پوری کوشش کی تھی کہ نگو کی یہ تکلیف کم ہو جائے ۔سوائے اماں کے سب نے اس کی ہمت بندھائی تھی ، اس سے ہمدردی کی تھی مگراماںنے ان سات دنوں میں جب بھی اس کے کمرے میں جھانکا، اس کی طرف طنز کا نوکیلا بھالا ہی پھینکا تھا۔ابانے کئی دفعہ خوفِ خدا یاد دلایا کہ ہم بھی بیٹیوں والے ہیں ایسے نہ کر تسلی نہیں دے سکتی تو دل بھی نہ دکھا ۔ مگر نا جی مامی باز نہ آئی۔ ویسے بھی جس تن لاگے، وہی جانے اور فی الحال اُن کے تن پر نہیں لگی تھی تو وہ کیوں پروا کرتیں۔
”آپتر، اِدھربیٹھ میرے پاس ”ابانے اپنی ٹانگیں سمیٹ کر اپنی چارپائی پر اس کے لیے جگہ بنائی۔”نگو آرام سے ٹک گئی۔اس کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی اوردل ڈوب ڈوب کر اُبھر رہا تھا ۔
” ماموں ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔” نگو اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔
” اگر تو یہ سوچ رہی ہے کہ تو کوئی بچہ گود لے لے گی تو ایک بات یاد رکھنا ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ہمیں کسی ایرے غیرے کی اولاد کو نہیں پالنا۔۔۔ اپنے پتر کی اولاد گودیوں میں کھلانی ہے۔” اماںنے اس کی بات مکمل بھی نہ ہونے دی۔ اُن کے خیال میں نگو اس سے زیادہ اور کیا فیصلہ کر سکتی تھی۔ابا نے اماں کو جھڑک کر خاموش کروایا۔
”ہاں تو بول پتر کیا کہنا چاہتی ہے۔”ابا نے دلار سے کہا۔
”ماموں ! میں چاہتی ہوں ۔ ہم مراد کی دوسری شادی کروا دیں۔” نگو کی بات نے ابا، اماں اور مراد چوہدری کو ایک لمحے کے لیے گنگ کر دیا۔سب سے پہلے اماں ہوش میں آئیں۔
” وہ تو نہ بھی کہتی تو میں نے کر ہی دینی تھی حمیرا سے۔”اماں کی بات پر ابا نے گھور کر انہیں دیکھا اور نگو ہلکا سا مسکرا دی جیسے کہہ رہی ہو، ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ، پہلے سن تو لیں۔
”ماموں! میں چاہتی ہوں کہ مراد چوہدری کی شادی ہم کسی مطلقہ یا بیوہ سے کروا دیں۔ اس کی کون سی یہ پہلی شادی ہے، جو ہم کسی کنواری لڑکی کے ارمانوں کا خون کریں۔ حمیرا جیسی ”اچھی” لڑکی کو اس کے جوڑ کا کوئی اچھا اور کنوارا لڑکا مل جائے گا تو پھر ہم اپنی غرض کے لیے اس کے جذبات کو کیوں قربان کریں۔” نگو نے بڑی صفائی سے اماںکے ارمانوں کا خون کر دیا ۔
” تجھ سے کسی نے پوچھا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔”اماں بلبلا اُٹھیں۔
” تو چپ کر مراد کی ماں، نگو بالکل صحیح کہہ رہی ہے۔” ابا، اماں اور نگو سنجیدہ مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے اور مراد چوہدری خیالوں میں دوسری شادی کی تیاریاں کرنے لگے ۔اس کے باوجود کہ و ہ نگو کو صدق ِ دل سے اپنا چکے تھے اور اس کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے، دوسری شادی کی بات نے ان کے دل میں پھول کھلانے شروع کر دیے تھے۔ہوش تو تب آیا جب ابا جی نے اُسے مخاطب کیا۔
” تو بتا مراد ، تو کیا چاہتا ہے۔” ابا نے مراد چوہدری سے پوچھا تو وہ شرما کر رہ گیا۔
” جیسے آپ کی اور نگو کی مرضی۔”مراد چوہدری کی بات سن کر نگو کے ہونٹوں پر زخمی سے مسکراہٹ آئی ۔ ابھی تو وہ یہ سب کہہ رہا ہے لیکن کچھ عرصہ گزر جاتا تو بھلے دوسروں کے پریشر میں آکر مراد چودھری کو دوسری شادی کرنا ہی تھی تو پھر نگو یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ انجام دے دیتی۔کیوں رو دھو کر ، واویلا کر کے لوگوں کو تماشا دیکھنے کا موقع دیتی۔
”رشتے بنانا آسان لیکن انہیں نبھانا بہت مشکل ہوتاہے میری دھی۔ رشتے نبھانے واسطے ایثار، صبر، قربانی اور وفا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت کم لوگ خود کو رشتے نبھانے کی مشقت میں ڈالتے ہیں۔ تم بھی خود کو مٹا کر رشتوں کو بچانے کی کوشش کرنے لگی ہو ۔ پر میں نہیں چاہتا کہ تم رشتوں کو نبھانے کے لیے اپنی جان کو کسی مصیبت یا مشقت میں میں ڈالو ۔ اس لیے اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔ شوہر کو بانٹنا کوئی سوکھا کم نہیں ہوندا۔”ابا نے نگو کے سر پر ہاتھ رکھا تو نگو نے ان کا ہاتھ تھام کر چوم لیا۔
” ماموں، پورا کھو دینے سے بہتر ہے کہ بندہ آدھا کسی کے ساتھ بانٹ لے، بدلے میںاپنی جھولی بھی خالی نہیں رہتی اور کسی اور کا بھلا بھی ہو جاتا ہے۔” نگو نے آنسو ئوں بھری آنکھوں سے ابا کو دیکھا۔
” ٹھیک ہے پھر کچھ کرتے ہیں۔ابھی تم لوگ جائو۔” ابانے نگو اور مراد چوہدری کو جانے کا اشارہ کیا۔نگو نے یہ فیصلہ بھلے اماں کی ضد میںکیا تھا مگر نیت اس کی نیک ہی تھی ۔ نگو چاہتی تھی کہ کوئی ایسی لڑکی مل جائے جس کے ساتھ وہ اپنا شوہر بانٹ لے اور وہ لڑکی اس کے ساتھ اپنی اولاد ۔ وہ رب بادشاہ جو اُوپر بیٹھا ہے وہ نیتوں کا پھل ہی دیتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

”محبت کی کہانی دنیا میں سب جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔”
یہ پہلا جملہ جو میں نے اُس سے سُن کر اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین مخلوق سمجھا تھا۔
کچی بستی کے باسی کو کلاس میں یوں لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے کئی مرتبہ سنا تھا۔ ہر بار وہ ایک لمبی تقریر کے بعد جب سیٹ پر آکر بیٹھتا تھا تو یہی کہتا کہ تاریخ ہمیشہ ایک جیسی ہے اور یہ لوگ سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔
”دیکھو زمانہ حال، مستقبل اور ماضی کچھ نہیں ہے۔”
”سب کچھ وقت ہوتا ہے۔”
”جو ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔”
اس نے اپنے گروپ کے چند لڑکے لڑکیوں کو قائل کرنا چاہا تھا۔
”دنیا کے سارے مسائل ایک جیسے ہوتے ہیں۔تم تاریخ کی کتاب کھول کر دیکھ لو۔حالات، مزاج اور مسائل سب اپنے آپ کو دُہراتے ہیں..یہاں تک کہ انسان بھی…”
وہ آرٹ کا شاگرد تھا مگر تاریخ، فلسفہ اور سائنس سب میں برابر دلچسپی رکھتا تھا۔
میری دلچسپی اس میں بڑھتی جارہی تھی ۔
وہ ہر مرتبہ کوئی گھمبیرسا موضوع اُٹھالیتا تھا۔
”ایک بے چارہ انسان دنیا کے سارے مسائل کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر نہیں اٹھاسکتا۔”
میرا اس سے ملاقات کے بعد یہ پہلا جملہ تھا جو میں نے ہمدردی میں آکر بولا تھا۔
وہ مسکرایا۔مجھے پتا تھا وہ چپ نہیں رہے گا۔ ایک لمبی تقریر مجھے سمجھانے کے لیے شروع کردے گا اور پھر ناختم ہونے والا سلسلہ۔ مگر ہوا یوں کہ وہ چپ رہا اور مسکراکر گزرگیا۔
مجھے اندازہ تھا وہ کسی اچھے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوگا۔مگر اگلے ہفتے اپنے گروپ کے ساتھ دریائے سندھ کی سیر کو نکلے تو وہ ہمیں ایک قریبی کچی آبادی میں لے گیا جہاں مین روڈ کے نزدیک جھگیوں کا ایک لمبا اور بے ترتیب سلسلہ تھا۔
معلوم ہوا کہ یہ اس کا گاؤں ہے۔
ایک آدمی جھگیوں کے پیچھے کچے مکان کے صحن میں کھٹارا سا ریڈیو سن رہا تھا۔
ہمیں آتا دیکھ کر وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ فریاد حسین کا باپ میرل تھا۔
اس کی ماں میلے ڈوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آگے بڑھی پھر ہمیں خوش آمدید کہنے لگی۔
تازہ روٹی اور مکھن اور دریا کی مچھلی سے ظہرانہ خاص ہوگیا۔
مجھے اس کچی بستی میں رہنے والے غریب لوگوں کے اخلاق، میزبانی اور محبت نے بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔
اس کا وہی ایک جملہ یاد آگیاکہ دنیا میں سب جگہ محبت کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔
دو لوگ آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے احساس کی کمزوریاں دے بیٹھتے ہیں۔
اور پھر ایک ساتھ چلنے کے کئی خواب ایک ساتھ دیکھتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب فیصلہ بدلنا ہوتا ہے۔ جب سمت متعین ہوتی ہے،تب ایک جگہ سماج اپنی آہنی دیوار بنائے کھڑا ہوجاتا ہے اور دوسری سمت سے بس دھواں نکلتا ہے۔
”میں نے تو ہمیشہ تمہاری محبت میں جلنا چاہا ہے فریاد…سماج کی بندشیں میرے ارادے کی سمت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔”
”میں تمہاری محبت میں سب کرگزرنے کو تیار ہوں۔” پہلی بار دریا کے کنارے میں نے اس سے وعدہ کیا تھا۔
پھر بیاہ سے لے کر وفا تک نبھایا۔ زندگی بہت حسین تھی۔ سارے دکھ اور مسائل ایک طرف رکھ کر جب ہم دریا کے کنارے آ بیٹھتے تو لگتا کہ پانی سارے دُکھ پی گیا ہے۔ سب کچھ صاف اُجلا ،دو انسانوں کی محبت کی طرح…!!
وقت دھیمی رفتار سے گزرا جارہا تھا۔ حالات پھر سے اپنا چلن چلنے کو تیار کھڑے تھے، جب ایک دن دریا کنارے وہی شام تھی وہی پانی جو سوکھتا جارہا تھا۔ اس کے مزاج کی طرح دور دور رہنے لگا تھا۔
جیسے وہ کسی سوچ میں کھو جاتا تو گھنٹوں اس کی دریافت کی کوشش میں ہارنے لگتی تو پوچھ بیٹھتی کہ ”آخر تم کیا چاہتے ہو؟”
اسے بات شروع کرنے کا موقع مل گیا تھا۔
”سپی۔”وہ نام ایسے لیتا جیسے اس نام کے احساس کا پورا ذائقہ اس نے چکھ رکھا ہو۔
”میں تم سے دور رہوں گا مگر تم سے محبت برقرار رہے گی۔ یہ احساس مجھے اندر تک زندہ رکھے گا۔”
”تم ہمیشہ بات کو تگنی کا ناچ نچاتے ہو۔ تمہیں یہ نہیں احساس کہ ایک عورت کو گھر چاہیے، اسے آسرا چاہیے، خالی باتوں اور لفظی محبت سے وہ اپنا دل تو بھرسکتی ہے مگر پیٹ تو خوراک سے ہی بھراجاتا ہے۔
”پگلی! یہاں بیٹھ کر میں تمہیں کیا دے سکوں گا…؟ دو وقت کی روٹی..گھر کا کرایہ..بجلی کا بل اور صاف پانی۔”
اس کی سوئی پھر پانی پر آکر اٹک گئی تھی۔
”پانی…ہاں پانی…تمہیں پتا ہے نا سپی! پانی انسانی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے
وہ بھی صاف نکھرا اُجلا، صاف ستھرا زندگی سے بھرپور…
”تمہیں کیا پتا کہ پانی کیا ہوتا ہے، پانی نہ ہوتو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔”
”اور اگر پانی زیادہ ہو تو؟” میں نے تیکھے لہجے میں اس سے پوچھا۔
”زیادہ ہو تو ڈبودیتا ہے۔”
”دیکھو! محبت بھی پانی کی طرح ہوتی ہے۔ جب ہوتی ہے تو سیراب رکھتی ہے نہیں ہوتی تو دل کی دھرتی سوکھ کر بنجر ہوجاتی ہے۔”
محبت پانی ہے…ہاں…پانی…اب محبت کو پانی سے تشبیہہ دی جائے گی۔
مجھے یاد تھا شادی سے پہلے جب ہم فیصلہ لینے کے لیے ملے تھے تب بھی وہ محبت سے آگے بڑھ کر پانی میں کھوگیا تھا۔
غلطی میری ہی تھی کہ میں نے ہمیشہ اسے دریا کے کنارے ملنے کی فرمائش کی تھی۔
مگر ہوا یوں کہ محبت کو اب پانی نگلتا جارہا تھا۔
محبت اس کے سامنے تھی مگر وہ پانی کی گہرائیوں کو کھوجتے ہوئے سوچتا ہی رہا۔
وہ ایک لمحے سوچتا اور دوسرے لمحے بول اٹھتا تھا۔
میں نے سمجھا تھا آج وہ مجھے دیکھ کر میری تعریف کرے گا، کہے گا کہ بہت اچھی لگ رہی ہو۔ شادی کے بعد پانی کے پاس ہماری یہ پہلی ملاقات نہ تھی، کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔
خوشیاں ہمارا مقدر بننے لگتیں تو وہ منہ میں بڑبڑانے لگتا تھا۔
”تمہیں پتا ہے نا، سندھ کو ہمیشہ پانی کا مسئلہ رہا ہے۔”
”پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مرجاتے ہیں۔”
”تمہیں معلوم ہے نا کہ پھر سے ہمارا پانی بند کیا جارہا ہے۔”
اس کا اشارہ دریائے سندھ کی آدھی سوکھی ریت اڑاتی ہوئی زمین کی طرف تھا۔
”تمہیں کیسا لگے گا فریاد! اگر میں اس بہتے پانی میں چھلانگ لگادوں ؟”
وہ مجھے ایک لمحے کے لیے ایسے دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔
پھرکہنے لگا:” وہ پانی جو لوگوں کے پیٹ کی پیاس بجھاتا ہے تم موت کی گھاٹ اتر کر اس کا ذائقہ کیوں بدلنا چاہتی ہو؟”
”تمہیں پتا بھی ہے موت کڑوی ہوتی ہے۔ سمندروں کا پانی جیسے کھارا ہوتا ہے۔ اب دریاؤں کے اندر موت کا ذائقہ آگیا تو کڑوا نہ ہونے لگ جائے۔” وہ کہے جارہا تھا۔
”تمہیں میرے مرنے کا دکھ نہیں ہوگا کیا؟”
مجھے اس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔
”میں نے یہ کب کہا…؟” وہ حیران ہوا۔
”چلو چلتے ہیں۔”
میں یادوں کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی پھر سر جھٹک کر خیالات کو چلتا کیا اور اسے خط لکھنے بیٹھ گئی۔
”فریاد!میں تمہیں بتاؤں دریا پورا بھرگیا ہے۔پانی تر آیا ہے۔سیلاب کے خوف نے لوگوں کی نیندیں اُڑادی ہیں۔لوگ جو کچے میں بیٹھے تھے ان کی جُھگیاں ڈوب گئی ہیں۔ بانس کے لکڑ اور کانے تیررہے ہیں دریا کی سطح پر میل ہی میل ہے۔یہاں کے سارے چھوٹے موٹے سکھ تمہارا دریا بہاکر لے جارہا ہے۔” میں لکھتی رہی۔
”کل میں نے مہرو کی پازیب بھی کنارے سے اندر لڑھکتے دیکھی تھی۔
تمہیں یاد ہے ایک دن تم نے میری پاؤں کی پازیب اتار کر دریا میں پھینک دی تھی۔
اور پھر میں ہنسی تھی۔
تب مجھے تمہاری یہ حرکتیں بے ضرر سی لگتی تھیں۔ اب تم باہر ہو … گھر سے دور ہو… نہ جانے کب لوٹو گے۔ میرے دن لمبے ہوگئے تھے جس دن سے تم یہاں سے گئے تھے فریاد سب کچھ ویسا ہے۔ جھگیوں میں رہنے والوں کی حسرتیں…کچے مکان کی چھت بہ جانے کا ڈر…صندوق میں سینت سینت کر بنائے گئے بیٹیوں کے جہیز کے چار جوڑوں کو ماؤں نے دھوپ سنکوانے کے لیے نکالا ہے۔
لڑکیوں کے چہروں پر وہی حسرت ہے جو کبھی میرے چہرے پر آجاتی تھی۔
وہ ان جوڑوں کو اسی انتظار کی نظر سے دیکھتے ہوئے انتظار کرتی ہیں اور اب اس انتظار کے ساتھ جوڑے خراب ہوجانے کا ڈر بھی ان کے ساتھ چپکے سے بیٹھ گیا ہے۔ میرا قلم چل رہا تھا۔
”فریاد!سب ویسا ہے…گلی میں کھیلتے ہوئے بچے اور ان کی شرارتیں۔
کل بھی میں نے دیکھا سکینہ کے چار سالہ بیٹے نے گھٹنوں تک آتی قمیص کا دامن اٹھاکر ناک پوچھنا چاہی تو اس کی نیکر پھٹی ہوئی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
بچیوں کی اوڑھنیاں اور لڑکوں کی دھوتیاں کم پڑنے لگی ہیں۔
سندھ میں غربت کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
غربت کبھی کسی عزت دار کو بھی عزت والا رہنے نہیں دیتی۔ مگر تمہارا پانی…؟
بس اسی کا مسئلہ سر فہرست ہے جس کے خوف نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگ بستی میں مرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ گھر بدری کا ساز و سامان کہاں سے لائیں گے جن کو نکلنا تھا نکل لیے۔ اب گوٹھ کے وڈیرے نے اپنے بچے شہر بھیج دیئے۔ خود بیٹھا ہے آج نہیں تو کل نکلا۔ دن دیکھ رہا ہے اس کے پاس نکلنے کے لیے بڑی سی موٹرکار ہے۔
مگر فریاد تمہاری تو دریا کے ساتھ بہت بنتی تھی تم اسے ایک خط لکھو!
ایک خط لکھو کہ انسانوں کو اپنے اندر مار کر تمہارے اندر جو موت کا زہر بھرجائے گا وہ صدیوں تک رہے گا۔لوگ تم سے خوف کھایا کریں گے۔
کوئی تمہارے لیے قوت سے بہنے کی دعا نہیں کرے گا تم سوکہوگے تو پھر سے تمہارے پیٹ میں ونجاروں کی جھگیاں آباد ہوں گی۔
مچھروں کی جالیاں تمہارے چھوٹے سے پیٹ کو چیرتے ہوئے مچھلی کا شکار کریں گی۔
تم درد سے کرلاؤگے…تو بھی کچھ نہ ہوگا…
جیسے جیسے انسانیت جھگیوں کچے مکانوں اور بہتی ٹین کی چھتوں تلے تڑپ رہی ہے۔
اس لیے تم ان پہ رحم کرو اور لپٹنے کا ارادہ چھوڑکر پلٹ جاؤ۔ موج مارکہ ڈراؤ نا۔
تمہیں تمہارے جیالوں کی قسم جنہوں نے تمہاری خاطر قسمیں کھائیں۔ تم.پر بھروسے کیے۔ تمہاری گہرائی کو چاہا۔اور محبت کو تیرے نام سے تشبیہہ دی ان کی خاطر…بس ایک خط دریا کو لکھو…تم فریاد بس ایک خط…
٭…٭…٭
تمہارا خط ملا جس میں فقط اتنا لکھا ہوا ہے کہ ”پڑوسی ملک اپنا پانی ہم پر چھوڑ رہا ہے۔ یہ سب اسی کا قصور ہے سپی وہ جب چاہیں پانی بند کردیں اور جب چاہیں چڑھادیں یہ کاہے کا انصاف ہوا فریاد…یہ کس قسم کی آزادی ہوئی کہ وہ جب چاہیں ہمیں پانی کی ماردیں۔”
”کبھی پانی کبھی جنگ… کبھی ہتھیاروں کی جنگ میں وہ ہم سے نہیں جیت سکتے پانی کی جنگ میں تو جیت جاتے…”
”خیر میں دریا میں ایک خط تمہارے نام کا ڈال آئی ہوں اور اسے کہہ آئی ہوں تمہیں فریاد کی محبت کا واسطہ یہیں سے مڑجاؤ۔”
”میں نے تمہارے لیے بہت کیا گھروالوں سے لڑی جھگڑی ابا کی نظر سے گری… ماں کی نظر میں بری بنی۔
بیاہ کرآئی تو مشکل وقت میں دو وقت کو ایک روٹی میں بانٹا…نوالوں کی تعداد گھٹادی…کچی بستی میں رہنے کی عادی بنی..سب پڑوسیوں سے ہنس ہنس کر باتیں کیں..بنائے رکھی۔
تمہاری چاکری کی۔تم نے کہا باہر جاؤں گا اپنی جان انتظار کی سولی پہ چڑھاکر تمہیں بھیج دیا۔
”اب کیا…اب دیکھتی ہوں تمہارا دریا تمہارے لیے کیا کرتا ہے۔”
پگلی دریا سے امید لگاکر بیٹھی سوچتی رہی، انتظار کرتی رہی۔
ادھر فریاد کسی اور سے پیار اور محبت کے پیچ لڑاتے ہوئے سرحد پار کرگیا۔
جہاں لوگوں کی باتوں کا خوف تھا نہ ہی پانی کا۔
بس تنہائی کو سجانے کی چاہ تھی۔
سپی کا خط مہرو کی پازیب کی طرح لڑھکتا ہوا کنارے پر تیرتا ہوا کسی لہر میں گھل گیا۔
کسی نے کھولا، نہ پڑھا۔
پھر وہ پانی میں ڈوبنے لگا گویا وفا ڈوب رہی تھی۔
٭…٭…٭

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
کپاڈوکیہ کی پراسرار وادی
باب6
صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم قونیہ سے کپاڈوکیہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ طویل تھا۔ راستے میں ہم کچھ دیر کے لئے ایک جگہ رکے، وہاں کچھ دکانیں تھیں جہاں مختلف چیزوں کے ساتھ ہوا میں اڑنے والے غبارے کے ماڈلز اور کھلونے رکھے تھے ۔ hot air Balloon کپاڈوکیہ کا souvenir سمجھا جاتا تھا۔ میں نے اپنے بچوں اور بھانجے بھانجیوں کے لئے ہوا میں اڑنے والے رنگین غبارے خریدے اور کچھ دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے تحائف ہے۔ کائونٹر پر بِل پے کرنے آئے تو دکاندار نے ہمیں پرنسس (شہزادی) کہہ کر مخاطب کیا۔ہم اس طرزِ تخاطب پر حیران ہوکر چونکے۔
شاید یہاں لوگ میڈیم ، مادام کہنے کے بجائے خواتین کو پرنسس کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ فیری ٹیل جیسی وادی میں فیری ٹیلز جیسے انداز تھے۔
ہم نے خشک پھلوں کی چائے اور چائے کا خوبصورت مگ بھی خریدا جس پر ترکی کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔
وہاں اک دکان پر افغانی لڑکا بھی تھا جو اردو بولنا جانتا تھا وہ پاکستانیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اس خوشی میں اس نے اردو میں ہی بات کی۔ اسے فخریہ انداز میں پاکستانیوں کے ساتھ اردو میں بات کرتے ہوئے دیکھ کر ہم نے سوچا کہ غیر ملکیوں کے لئے اردو بولنا باعث فخر ہوتا ہے۔ نہ جانے وہ کون سی جگہ تھی جو قونیہ اور کپاڈوکیہ کے راستے میں آتی تھی، وہ ایک خوبصورت مقام تھا۔ پُرسکون پر فضا اور دلکش ، کپاڈوکیہ چائے والے سیاح کچھ دیر کے لئے اس خوبصورت مقام پر رکتے تھے ۔ ہم نے وہاں سے شاپنگ کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزیں بھی لیں۔
کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے، راستہ طویل تھا۔ ہم نے راستے میں چپس اور چاکلیٹ کھاتے ہوئے سفر طے کیا۔
کپاڈوکیہ کی وادی میں ڈرائیونگ کرنا مہارت کا کام تھا، ڈھلوانی سڑکیں اور پر پیچ راستے تھے دشوار گزار موڑ تھے۔ کپاڈوکیہ ترکی کے بے نیو شہر میں واقع ہے۔ کپاڈوکیہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ گیارہویں صدی میں اس شہر پر ترکوں نے قبضہ کیا تھا۔ کپاڈوکیہ عجیب و غریب ہیت والے پراسرار پہاڑوں کی انوکھی وادی ہے جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ کیا جاتا ہے کہ یہاں صدیوں پہلے ایک آتش فشاں پھٹا تھا، جس کے نتیجے میں یہاں سے نکلنے والے لاوے اور راکھ نے جگہ جگہ مختلف چٹانوں کی شکل اختیار کرلی، پھر اس میں ملنے والے بارش کے پانی اور گارلے سے ان چٹانوں نے منفرد شکل اپنالی۔ کچھ چٹانوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے ٹوپی پہنی ہوتی ہو، کچھ تکونی چٹانیں ہیں اور کچھ کسی اور انداز کی۔ یہ جگہ عام نظروں سے بے حد دور واقع تھی۔ اس لئے لوگ دشمنوں سے چھپنے کے لئے اس وادی میں روپوش ہوجایا کرتے تھے۔ ان چٹانوں کو تراش کر ایک شہر بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ ان پہاڑوں میں غار بھی بنے ہیں۔ ان پراسرار پہاڑوں اور انوکھی وادی کو دیکھنے والے لوگ کچھ دیر کے لئے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ 1985ء میں کپاڈوکیہ کو UNESCO کی عالمی ثقافت ورثے کی فہرست میں بھی شامل کرلیا گیا۔
یہاں چٹانوں کو fairy chimneys بھی کہا جاتاہے۔
کہا جاتا ہے کہ عیسائیت کے ابتدائی دور میں لوگ یہاں آئے تھے۔
کپاڈوکیہ میں وسیع وادیاں ہیں اس لئے یہاں لوگوں کو بہت چلنا پڑتا ہے۔
کپاڈوکیہ میں بھی لوگ ہوا میں اڑنے والے غبارے کی سیر کرتے ہیں۔ اور اس انوکھی اور پراسرار وادی کی دلکشی میں عجیب طرح کی کشش ہے۔
ہم دوپہر کو کپاڈوکیہ پہنچے۔
بس انوکھی وادی میں رُکی۔ ہم بس سے اترے، وہ عجیب و غریب ہیت کے حامل پہاڑوں کی پراسرار وادی تھی۔ دور تلک پراسرار پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ قدرت کے ایسے انوکھے نظارے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔ پراسرار پہاڑوںکی وادی میں جابجا سبزہ اور درخت بھی نظر آرہے تھے۔ ہم کچھ دیر سڑک کے کنارے کھڑے حیرت کے عالم میں اس وادی کے انوکھے نظارے دیکھتے رہے۔ پہاڑوں پر دھوپ کی سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔
”یہ ہے کپاڈوکیہ………عجیب و غریب پہاڑوں کی پراسرار بستی، بس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ صدیوں پہلے یہاں اک آتش فشاں پھٹا تھا۔ جس کے بعد یہاں اس وادی کی formation ہوئی۔ ”
سرخان نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا۔
یہاں آکر انسان کو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی انوکھے دیس میں چلا آیا ہو۔ یہ الف لیلیٰ کی کہانیوں جیسی پراسرار بستی معلوم ہوتی تھی۔
ہم حیرت سے اردگر د کے نظارے دیکھتے ہوئے وہاں سے پیدل چلتے ہوئے آگے آئے۔ ایک جگہ مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے تھے۔ یہ جگہ شایدکوئی Mounment تھی۔ ہم کچھ دیر وہاں بیٹھ گئے اور یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔ یہاں موسم خنک تھا۔ ہم نے موٹے کپڑے پہنے تھے اور سوئیٹر بھی ساتھ رکھا تھا۔ ترکی کے مختلف شہروں کا موسم بھی مختلف ہے۔ یہاں بہت سے سیاح آئے ہوئے تھے اور اس وادی کو دیکھتے ہوئے حیرت زدہ تھے۔
آپ جب بھی کپاڈوکیہ آئیں تو بہت اچھا سا ناشتہ کرکے آئیں کیونکہ اس وادی میں لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ پہاڑ، چٹانیں، سیڑھیاں ، میدان، یہاں لوگوں کو بہت واک کرنی پڑتی ہے۔
اکثر لوگ راستے میں ہی کسی جگہ بیٹھ جاتے ہیں۔ یہاں جگہ جگہ ہوٹل، ریسٹورنٹ ، دکانیں اور کیفے بھی موجود ہیں۔
ہم وادی میں چلتے ہوئے نظارے دیکھتے رہے، پھر ہم دوپہر کے کھانے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں چلے آئے جو ڈھلوان کی طرف واقع تھا۔ ہم گلی نما ڈھلوانی سڑک پر چلتے ہوئے جارہے تھے کہ راستے میں کیمرہ تھامے اک نوجوان نظر آیا۔ اس نے ہم سے کہا کہ ہم اس سے تصویریں بنوالیں۔ کچھ دیر بعد وہ تصویریں ہمیں نئے اور منفرد انداز میں ایک پلیٹ پر پرنٹ کرکے دے گا اور یہ کپاڈوکیہ کی اک یادگار ہوگی۔ ہمیں یہ انوکھا انداز اچھا لگا اور ہم نے خوشی خوشی تصویریں بنوالیں پھر اک غار نما عمارت میں چلے آئے جس کا نام بندالی ریسٹورنٹ تھا۔
کپاڈوکیہ کے غار ہوٹل دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جنہیں cave hotel بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں کا منفرد آرکیٹیکچراور انٹریئر سیاحوں کی کشش کا باعث ہے۔ لوگوں کو انفرادیت میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ اور وہ منفرد چیزوں کی طرف اٹریکٹ ہوتے ہیں۔ خوبصورتی کو سب ہی لوگ پسند کرتے ہیں۔ مگر انفرادیت میں اک خاص طرح کی دلکشی ہوتی ہے۔
ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے تو وہاں اک وسیع ہال تھا۔ جہاں میز کرسیاں ترتیب سے لگی تھیں اور ویٹر متحرک تھے۔ اندرونی دیواریں بھی غار جیسی تھیں۔ کونے میں موجود میزوں پر انواع و اقسام کے کھانوں کا بوفے لگا ہو اتھا۔ رش کی وجہ سے ہم لوگ قطار میں کھڑے رہے اور باری باری پلیٹ میں کھانا ڈال کر اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے۔ نئے ذائقے اور نئے پکوان تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم کسی غار میں بیٹھ کر کھانا کھارہے ہیں اور اس کا اپنا ہی لطف تھا۔
کھانے کے بعد ہم ریسٹورنٹ سے باہر آئے تو سامنے چائے والا نظر آیا جو پھرتی سے شیشے کے چھوٹے گلاسوں میں چائے ڈال رہا تھا۔ یہاں چائے مگ کے بجائے چھوٹے گلاس میں پینے کا رواج تھا۔
موسم خنک تھا ، ہم نے سوچا کہ چائے پی لی جائے۔ ہم چائے والے کے قریب چلے آئے۔
”دوکپ چائے بنادیں۔ یہ چائے ہے یا قہوہ ہے؟”
ہم نے خوشدلی سے انگریزی زبان میں کہا۔
”چائے ہے میں جانتا ہوں کہ پاکستانی چائے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ آپ لوگ پاکستان جاکر کپاڈوکیہ کی چائے کو بہت یاد کریں گے۔”
وہ اپنے کام میں مصروف مسکراتے ہوئے بولا۔
”لگتا ہے کہ آپ نے یہ دکان پاکستانیوں کے لئے ہی کھولی ہے؟”
ہم نے بے ساختہ کہا۔
وہ اس بات پر ہنسا۔
”یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں مگر پاکستانیوں کی بات اور ہے۔ وہ زندہ دل ہوتے ہیں کھانے پینے اور شاپنگ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ بہت پیسے خرچ کرتے ہیں اور بے حد خوش اخلاق ہوتے ہیں ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے ہمیں بھی تھوڑی بہت اردو آگئی ہے ۔ ان کے رویے میں محبت اپنائیت اور گرم جوشی ہوتی ہے۔ ان کی حِس مزاح کمال کی ہوتی ہے۔ ہنستے اور ہنساتے رہتے ہیں۔ کسی بات کا برا نہیں مانتے۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
دور تک پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ انوکھی وادی کی سیر میں اک انوکھا پن تھا۔ ہمیں اس کی بات سن کر خوشی ہوئی۔
”پاکستانی لوگون کی عادتوں سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ آپ کے پاس تو مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ آتے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی لوگوں کو پہچاننا، پرکھنا اور ان کی خوبیوں کو دریافت کرنا حیرت انگیز ہے۔”
یسریٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
”آپ مجھے یہ بتائیں آخر پاکستانی چائے پینے کے اتنے شوقین کیوں ہوتے ہیں۔ یہ سوال میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہوں۔میں چونکہ چائے بنانے کے بزنس سے منسلک ہوں اس لئے اس حوالے سے اکثر و بیشتر ریسرچ اور سروے کرتا رہتا ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”چائے کے حوالے سے ہر شخص کی ایک کہانی ہے ۔ مجھے کبھی چائے پینے کی عادت نہیں تھی۔ ہمارے گھر میں ایک ہی بندہ چائے پیتا تھا اور وہ میری امی تھیں۔ کبھی کبھار ہم اس وقت چائے پیتے جب ہمیں امتحان کی تیاری کے لئے رات کو جاگناپڑتا۔ جب میری شادی ہوئی تو میں بالکل چائے نہیں پیتی تھی مگر پھر گھر میں اکثر مہمان آتے تھے۔ چائے بنتی تھی۔ میں کسی کے گھر جاتی توچائے سے سجی ٹرالی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا اور میزبانوں کو انکار کرنا اچھا نا لگتا۔ پھر میرے میاں ہر چار گھنٹے بعد گرما گرم چائے پینے کے عادی تھے اور ہر وقت ہاتھ میں دھواں اڑاتا بڑا سامگ تھامے رکھتے۔ چائے سے محبت کرنے والوں کے درمیان رہتے ہوئے وقت کے ساتھ مجھے بھی چائے پینے کی عادت ہوگئی۔ جس چیز میں محبت شامل ہوجائے تو اسے چھوڑنا مشکل ہوتاہے۔ ”
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے چائے والے کا سوال دلچسپ لگا تھا۔
”واقعی ، ہر شخص کی زندگی میں اک چائے کہانی ضرور ہوتی ہے۔ میں بھی چائے نہیں پیتی تھی مگر گھر میں ہر وقت چائے بنتی تھی۔ تو یونیورسٹی میں میری سہیلیوں کو چائے پینے کی عادت تھی۔ دوستوں کی محبت کااثر ہوتا ہے اور انسان دوستوں کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
رفتہ رفتہ مجھے بھی چائے سے محبت ہوگئی اور محبت عادت میں بدل گئی۔ اب اس ٹرکش چائے کو بھی ہم بہت یاد کریں گے۔ یہاں خشک پھلوں کی چائے کا رواج عام ہے ۔ جو صحت کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ سیب اور انار کی چائے عالم استعمال ہوتی ہے۔”
یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
چائے والا چائے تیار کرچکا تھا۔
”یہ لیجئے مادام، ترکی کی روایتی چائے، کپاڈوکیہ، غار اور چائے……. انوکھی وادی کا انوکھا لطف۔”
اس نے چائے سے بھرے شیشے کے گلاس ہماری طرف بڑھاتے ہوئے خوشدلی سے کہا۔
”شکریہ۔”
ہم نے رقم ادا کرکے چائے کے گلاس تھامے اور باہر آگئے۔ سنہری دھوپ نے پوری وادی کو جگمگارکھا تھا۔ سنہری دھوپ اور چائے، خانہ بدوشوں کو بھلا اور کیا چاہیے۔
”چائے کہاں سے لی؟”
طاہرہ مظہر نے فوراً پوچھا۔
”وہاں سے۔”
ہم نے اشارہ کرکے بتایا۔
یہ سنتے ہی پاکستانی چائے کے دیوانے ہوگئے۔ کچھ موسم کا تقاضا تھا کچھ پاکستانیوں کی چائے سے محبت تھی کہ لوگ جوق در جوق چائے بنوانے لگے۔ چائے والا اتنی رونق دیکھ کر اور اپنی چائے کی اتنی اہمیت دیکھ کر خوش ہوگیا۔
چائے پینے کے بعد ہم واپس جانے لگے تو فوٹوگرافر نوجوان نے ہمیں ہماری تصویریں ایک شیلڈ نما پلیٹ پر چسپاں کرکے دیں۔ یہ بے حد منفرد انداز تھا۔ یہ تصویریں کسی sovenierکی طرح تھیں اور کپاڈوکیہ کی خصوصیت تھیں۔
ہم حیرت اور خوشی سے وہ خوبصورت پلیٹ ہاتھ میں لئے دیکھتے رہے جس پر ہماری تصویر کے ساتھ کپاڈوکیہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اسٹینڈ بھی تھا۔ چاہیں تو اس تصویر کو کسی ایک میز یا شیلف پر سجاد یں، چاہیں تو دیوار پر لگادیں۔
کچھ عرصہ قبل ہم مری گئے تھے وہاں چیئر لفٹ پر بیٹھے تھے تو سینچے دیکھا اک شخص جنگل میں کھڑا پھرتی سے لوگوں کی تصویریں بنارہا تھا اور اشارے کرکے کہہ رہا تھا کہ ان تصویروں کا پرنٹ کچھ دیر بعد ملے گا۔ ہم رائونڈ پورا کرکے چیئر لفٹ سے اُترے تو اس نے ہمیں تصویریں دیں مگر وہ عام اور سادہ تصاویر تھیں۔ ہمارے ہاں بھی سیاحتی مقامات پر کپاڈوکیہ جیسی تصاویر بنائی جاسکتی ہیں۔ یہاں آرٹ میں جدت اور انفرادیت تھی۔ فن اور ہنر کی انفرادیت کے کمال میں تخیل اور شعور کا عمل دخل ہوتا ہے۔ آرٹ کی دنیا وسیع ہے۔ ترکوں کے پاس بے مثال آرٹ ہے اور آرٹ کو کاروبار میں ضم کرنے کی سمجھ بوجھ بھی ہے۔ یہاں کے لوگ کاروبار کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اگر ہمارے ہاں بھی سیاحتی مقامات پر فوٹوگرافی کے ایسے کاروبار ہوں تو Small Industries کو فروغ ملے گا۔
ہم تصویر والی خوبصورت پلیٹ

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
قونیہ ، تصوف کا شہر
باب5
صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم پاموکلے سے قونیہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں سب لوگوں نے عائشہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور اس خوشی میں یاسمین مشتاق نے بس میں ہی عائشہ کو چھوٹا سا پیسٹری نما کیک بھی کھلایا۔ ہم بس میں یہ خوشیاں مناتے ہوئے قونیہ کی جانب سفر کرتے رہے۔
قونیہ ایک تاریخی شہر ہے۔ 1420ء میں قونیہ کو عثمانیوں نے فتح کیا تھا اور بعد میں اسے صوبہ قرہ سان کا دارالحکومت بنادیا گیا تھا۔ قونیہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ یہ صوبہ قونیہ کا دارالحکومت ہے۔ جو رقبے کے لحاظ سے ترکی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ بے حد خوبصورت شہر ہے۔
مولانا رومی اس شہر کو iconium کہا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ قونیہ شہر میں ولی پیدا ہوتے رہیں گے اور اس شہر کو مدینة الاولیاء کا لقب دے دیا تھا۔
بس راستے میں ایک جگہ رکی اور ہم لوگ بس سے اترے دور پہاڑ نظر آرہے تھے، ذرا فاصلے پر سرسبز درخت بھی تھے۔ وہاں چند دکانیں تھیں اور باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں، وہاں لوگوں کی آمدورفت تھی۔ یہاں بھی چینی سیاح نظر آئے۔ لگتا ہے کہ چینی لوگوں کو سیاحت کا بے حد شوق ہے۔ ہمارے پاکستان میں بھی اکثر و بیشتر چینی نظر آتے رہتے ہیں۔
ہم لوگوں نے دکانوں سے کچھ چیزیں خریدیں۔ وہاں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ شیشے کی کھڑکیوں کے ساتھ مختلف رنگوں کے اسکارف لٹکے ہوئے تھے۔ دکان کے باہر ایک اسٹینڈ پر باریک اور نازک جیولری سجی ہوئی تھی۔
ایک دکان میں پرانے زمانے کی روایتی ٹوپیاں رکھی تھیں جن کے دونوں اطراف دوپٹے کی طرح کپڑا کندھوں پر گرتا تھا۔ پرانے زمانے میں ترک خواتین ایسی ٹوپیاں پہنتی تھیں۔
سب لوگوں نے دکان سے وہ ٹوپیاں اٹھا کر پہنیں اور تصاویر بنوائیں۔
ترک دکاندار بھی پاکستانی خواتین کی زندہ دلی پر حیران ہوئے۔
ہم نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں اور آئس کریم خریدی۔
قونیہ پاموکلے سے قونیہ کافی فاصلے پر تھا۔ ہم نے باتیں کرتے ہوتے خوبصورت نظارے دیکھتے ہوئے اور آئس کریم کھاتے ہوئے یہ سفر طے کیا۔
ہم دوپہر کو قونیہ پہنچے ۔ بس سے اتر کر ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آگئے۔ کھانے میں پیزا نما نان تھے۔ یہ بھی ترکی کی مشہور ڈش تھی۔ ساتھ سلاد اور لسی تھی۔ ایک طشتری سے کھانا کھایا ۔ کھانا بچا تو ہم نے ویٹر سے کہہ کر کھانا پیک کروالیا۔
حسنہ عباسی نے تجویز دی۔
”یہاں بہت سے شامی مہاجر بچے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا ہم ان کو دے دیں گے۔ وہ خوش ہوجائیں گے اور یوں ان کی مدد بھی ہوجائے گی۔”
اس تجویز سے سب نے اتفاق کیا۔
کھانے کے بعد ہم باہر آئے تو وہاں قریب ہی ایک وسیع مگر خوبصورت احاطہ تھا۔ پکے فرش پر مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے سبزہ زار بنے ہوئے تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ وہ ایک پرسکون جگہ تھی مگر وہاں رونق بھی تھی۔ کچھ لوگ بنچ پر بیٹھے تھے اور کچھ لوگ چل پھر رہے تھے۔ وہاں ہمیں کچھ شامی مہاجر بچے بھی مل گئے۔ ہم نے پیک کیا ہوا کھانا انہیں دے دیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔
ایک بھورے بالوں اور سیاہ لباس والی بچی ہمارے قریب چلی آئی۔ اس نے اپنا تعارف Syrian(شامی) کہہ کر کروایا۔ اس کی آنکھوں میں اداسی اور چہرے پر حزن اور تھکن تھی۔ پہلے تو ہمیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے پھر غور سے سننے پر سمجھ آئی کہ وہ لفظ Syrian (شام سے تعلق رکھنے والے) بول رہی ہے۔ اس کے بولنے کا تلفظ اور انداز مختلف تھا۔ اس ایک لفظ Syrian میں اک داستان پنہاں تھی۔ یہ لفظ اک اداس تعارف تھا، اس بچی کا سنبھال کررکھا ہوا فخر تھا۔ اس کی پہچان اور شناخت تھا۔ اس کا اثاثہ تھا۔ وہ ترکی میں تھی مگر آج بھی Syrian تھی۔ غریب الوطنی کا دکھ اس کے چہرے پر لکھا تھا اور اس کی آواز سے عیاں تھا۔ وہاں ایک اور بچہ بھی تھا۔ پرانی سی جینز اور جامنی شرٹ پہنے ہوئے سیاحوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان بچوں نے بچپن ہی میں غریب الوطنی کے دکھ دیکھ لئے تھے۔ یہ ترکوں کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے شامی مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ مہاجر بچے مہاجر کیمپ میں رہتے تھے اور ان کو سیاحوں کی رونق دیکھنے اس احاطے میں آجایا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ خوشی خوشی ان مہاجرین کی مدد کردیا کرتے ہیں۔
احاطے میں ایک جگہ Konya لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے یہ عبارت تحریر تھی (City of hearts) (دلوں کا شہر) وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ ہم نے وہاں گروپ فوٹو بنوایا اور وہاں سے آگے کی طرف چلے۔
پھر ہم مولانا رومی کے مزار کی طرف چلے آئے۔ مولانا رومی بہت بڑے عالم ، بزرگ، صوفی ، شاعر، مفکر ، استاد اور بے حد اہم شخصیت کے حامل تھے۔
مولانا جلال الدین رومی کا نام محمد، لقب جلال الدین اور عرنیت مولانا رومی ہے۔ ان کے اسلاف کا تعلق بلخ سے تھا جو اب افغانستان میں واقع ہے۔ مولانا رومی 1207 ء میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حسین بن احمد خطیبی عالم فاضل شخص تھے، ان کے والد مولانا بہائو الدین بھی عالم تھے۔
یہ وہ دور تھا جب اسلام کی سرحدیں شمالی افریقہ تک تھیں اور مسلمان یورپ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔برصغیرپاک و ہند میں شہاب الدین غوری کی اسلامی حکومت تھی۔ اسلام کے ثقافتی اثرات دنیا میں پھیل رہے تھے مگر اس دور میں اسلام دشمن لوگوں نے فتنے فساد فوجیں یلغار کررہی تھیں اور مشرق کی طرف سے تاتاری سیلاب امڈ رہا تھا مگر امت مسلمہ پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ اللہ نے مسلمانوں کو مولانا جلال الدین رومی جیسے صاحب علم اور صاحب کشف شخص عطاء کئے جنہوں نے اصلاح و تربیت کا کٹھن کام اس خوبی سے سرانجام دیا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس صدی کے آخری حصے میں اسلام کے دشمن اسلام کے نام ہوا بن گئے۔
تاتاری حکمران برکا خان نے اسلام قبول کرلیا اور انہی منگولوں نے اسلام کی گراں قدر خدمات سرانجام دی جو کبھی اسلام کے دشمن ہوا کرتے تھے۔
مولانا جلال الدین رومی کے والد مولانا بہائو الدین محمد امام غزالی سے بہت متاثر تھے۔ مولانا رومی نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے گھر میں امام غزالی کی تعلیمات کا بہت چرچا تھا۔ یہ ایک علم دوست گھرانہ تھا جس پر صوفیانہ رنگ کے اثرات تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بچوں کو قرآن کریم اور حدیث کا مطالعہ کروایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حساب ، منطق، سیاسیات اور فلسفے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ مولانا رومی کے والد نے ان کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی اور اسی لئے انہوں نے سید برہان الدین کومولانا رومی کا اطالیق مقرر کیا جو کہ بے حد قابل استاد تھے۔
کچھ عرصہ بعد مولانا بہائو الدین اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلخ سے روانہ ہوگئے اور راستے میں آئے جس بھی شہر سے گزرتے تو ان لوگوں کا پرجوش خیر مقدم ہوتا نیشا پور پہنچے تو ان کی ملاقات مشہور بزرگ شاعر خواجہ فرید الدین عطار سے ہوئی۔
خواجہ صاحب نے ننھے جلال الدین کو دیکھا تو ان کے والد سے کہا کہ اس جوہر قابل سے غافل نہ ہونا، یہ کہہ کر انہوں نے اپنی کتاب اسرار نامہ ننھے رومی کو دی جسے مولانا رومی نے ساری عمر عزیز رکھا۔
پھر مولانا رومی کے والد اپنے اہل خانہ کو لے کر بغداد پہنچے اور وہاں سے مکہ مکرمہ حج کرنے کے لئے چلے آئے۔ اس کے بعد یہ خاندان دمشق اور پھر زنجان چلا آیا، پھر انہوں نے ملاکیہ کا رخ کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ لارندہ چلے گئے اور کچھ سال وہیں رہے۔مولانا رومی کی شادی شرف الدین کی بیٹی گوہر خاتون سے کردی گئی۔ اس وقت مولانا کی عمر سترہ یا اٹھارہ برس تھی۔ مولانا کے دو بیٹے رشید سلطان اور علائوالدین لارندہ ہی پیدا ہوئے ۔ اس دور میں چنگیز خان نے ثرقند غارا نیشاپور بلخ اور دیگر علاقوں میں تباہی مچادی تھی۔ اس لئے لوگ ان متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرکے قونیہ کا رخ کررہے تھے۔
مولانا بہا ئو الدین بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ قونیہ چلے آئے مگر کچھ عرصے بعد مولانا بہائو الدین کا انتقال ہوگیا، یہ خبر سن کر سید برہان الدین ترمز سے توشیہ چلے آئے۔ انہوں نے اپنے شاگرد مولانا رومی کو گلے لگایا اور انہیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان کے شاگرد نے تمام علوم میں کمال مہارت حاصل کرلی ہے مگر مولانا رومی اب بھی علم کے حصول کے متلاشی تھے اسی مقصد کے تحت وہ شام چلے آئے، اس زمانے میں دمشق بہت اہم تعلیمی مرکز تھا، مزید علم حاصل کرنے کے بعد آپ واپس قونیہ چلے آئے اور پھر وہیں رہے۔
امیر بدر الدین نے قونیہ میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا تھا، مولانا رومی نے وہیں قیام کیا۔ مولانا رومی نے قونیہ میں درس و تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی اور ان کے اکثر ساتھی بھی قونیہ آگئے تھے اس طرح قونیہ علمائے کرام کا اہم مرکز بن گیا۔مولانا رومی کے مدرسے میں چار سو سے زائد طلبا ء تھے۔ مولانا رومی اپنے مدرسے کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔ پھر مولانا کی ملاقات ایک ایسی اہم شخصیت سے ہوئی۔ جس نے مولانا کے افکار پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے بلکہ اس شخصیت کے روحانی تاثر نے مولانا رومی کے دل کی کیفیت یکسر بدل دی۔ یہ شخصیت ایک بہت بڑے بزرگ اور صوفی حضرت شاہ شمس تبریز کی تھی۔ مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے۔ اس حوالے سے ایک واقعہ بے حد مشہور ہے کہ ایک دن مولانا رومی حوص کے کنارے اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے اور قریب ہی کچھ کتابیں پڑی تھیں، حضرت شاہ شمس تبریز وہاں تشریف لائے اور انہوں نے مولانا رومی سے پوچھا کہ (ای چی است؟) (یہ کیا ہے؟)مولانا رومی نے جواب دیا تو نامی دانم (تم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے) مولانا رومی کو اس وقت معلوم نہ تھا کہ سامنے کھڑا شخص کوئی جید بزرگ اور علم ہیں۔ حضرت شاہ شمس تبریز نے وہ ساری کتابیں حوض میں ڈال دیں، اس پر مولانا رومی لبرہم ہوگئے اور کہا کہ یہ تم نے کیا کردیا ہے۔ حضرت شمس تبریز نے حوص سے وہ کتابیں نکال کر مولانا رومی کو دیں تو وہ کتابیں خشک تھیں۔ مولانا رومی حیران رہ گئے، انہوں نے بے ساختہ پوچھا ای چی است؟ (یہ کیا ہے؟) تو حضرت شاہ شمس تبریز نے جواب دیا تو نامی دانم (یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے) اس کے بعد مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے اور انہوں نے حضرت شاہ شمس تبریز کو اپنا شیخ مان لیا۔
ایک بے حد خوبصورت شعرہے:
مولانا ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلامِ شمس تبریز ناشہ

تحریر:مدیحہ شاہد
”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
پاموکلے کی حیرت انگیز خوبصورتی
باب4
صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد برصا سے پاموکلے کے لئے روانہ ہوئے۔
پاموکلے ایک بے حد خوبصورت قصبہ نما گائوں ہے۔ جو ترکی کے صوبہ Denizilliمیں واقع ہے۔ یہاں cotton castleیعنی روئی کا قلعہ بھی موجود ہے جو دنیا بھر میں اپنی حیرت انگیز خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے یہاں گرم پانی کے چشمے بہتے ہیں اور کیلشیم کاربونیٹ کے معدنی ذخائر کی وجہ سے یہاں کے فرش سفید رنگ کے ہیں۔ یہ ترکی کا مشہور سیاحتی مقام ہے سفید پہاڑوں کی یہ وادی سیاحوں کے لئے بے حد کشش رکھتی ہے۔ ہم بس کی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھ رہے تھے سڑک کے اطراف سرسبز کھیت تھے۔ ترکی کے گائوں اور دیہات بھی بے حد خوبصورت ہیں ہماری اگلی سیٹ پر خالدہ آنٹی اور یاسمین مشتاق براجمان تھیں، ساتھ والی سیٹ پر رضیہ آنٹی اور طاہرہ مظہر بیٹھی تھیں۔ ہماری پچھلی سیٹ پر نیئر اور شاہینہ بیٹھی تھیں اور ان کے ساتھ والی سیٹ پر فضہ اور طلعت تھیں۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔
یسریٰ نے اپنی پھپھو رضیہ صدیق کے بارے میں بتایا۔
”یہ میری پھپھو رضیہ صدیق ہیں اور یہ بڑی ہنر مند اور سلیقہ مند خاتون ہیں۔ انہیں بہت کچھ آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں جتنی بھی تقریبات اور شادیاں ہوتی ہیں، ان سب کے لئے پھپھو ہی سب کے کپڑے ڈیزائن کرتی ہیں اور سب لوگ شاپنگ کے لئے انہیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
یہ بہت باکمال ڈیزائنر ہیں اور ہر معاملے میں پھپھو سے مشورہ لیا جاتا ہے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے میں رضیہ پھپھو کے ساتھ اسکردو اور ہنزہ گئی تھی۔ جب مجھے ترکی جانے کے بارے میں پتا چلا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا اور میں نے بھی فوراً اس ٹرپ کو جوائن کرلیا۔ اس حوالے سے اکثر عائشہ سے بات ہوتی رہتی تھی مجھے اپنے ویزے کی بہت فکر تھی۔ پھپھو کے ساتھ بیٹھی طاہرہ آنٹی میری روم میٹ ہیں اور پھپھو کی عزیز سہیلی بھی ہیں۔ پھپھو کی عادت ہے کہ وہ سب کا بے حد خیال رکھتی ہیں۔ بہت محبت کرنے والی اور شفیق خاتون ہیں۔ میں نے اس کی بات سنتے ہوئے ایک نظر اس کی پھپھو کو دیکھا۔
”کاش ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔”
میں نے بے ساختہ کہا۔ یہ ہماری دلی خواہش تھی کہ ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔ نہ ہماری کوئی پھپھو تھی اور نہ ہی میرے بچوں کی کوئی پھپھو تھی۔ یہ حیرت انگیز اتفاق تھا۔
اچانک رضیہ پھپھو نے ہماری طرف دیکھا جیسے انہیں پتا چل گیا ہو کہ ہم ان کے بارے میں ہی بات کررہے ہیں۔ ہنر مندی کے علاوہ ان کی حسیات بھی تیز تھیں اور قوتِ مشاہدہ بھی کمال کی تھی۔
”پھپھو میں انہیں آپ کے بارے میں بتارہی ہوں۔ یہ حیران ہورہی ہیں کہ تمہاری پھپھو کو اتنا کچھ آتا ہے اور وہ اتنی قابل خاتون ہیں۔”
یسریٰ نے اپنی پھپھو کو دیکھتے ہوئے جواباً کہا۔
یسریٰ کی پھپھو سنجیدہ اور سوبر خاتون تھیں، سفید دوپٹہ سر پر اوڑھا ہوا تھا۔ کبھی کبھی دھیمے انداز میں مسکراتیں۔ پھپھو کا یہ روپ انوکھا اور شفیق تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھی طاہرہ مظہر سیا ہ دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں اور آنکھوں پر سیا ہ رنگ کی سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔ پھپھو کی نسبت وہ بارعب خاتون نظر آرہی تھیں۔ پھپھو میری طرف متوجہ ہوئیں۔
”میںنے آپ کو ترکی آنے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر میں نے آپ کے ڈرامے دیکھے ہیں آپ نے لکھنے کا آغاز کیسے کیا؟”
رضیہ پھپھو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے پوچھا۔
”مجھے بچپن سے ہی لکھنے کاشوق ہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا۔ یہ کئی بار کا دہرایا ہوا جواب تھا۔
جب بھی کوئی یہ سوال پوچھتا، میرا یہی جواب ہوتا۔
دراصل ایسے سوالات کے جوابات دینا مجھے مشکل لگتا تھا۔ لکھنے کا آغاز کیسے کیا، ڈرامے کیسے لکھنا شروع کئے، ٹی وی تک کیسے چلی گئیں، یہ کیسے کیا، وہ کیسے کیا، بندہ اب ان باتوں کا کیا جواب دے۔ اکثر لوگ میسج پر مجھ سے پوچھتے کیا آپ ڈائجسٹ رائٹر والی مدیحہ شاہد ہیں، میں جواب دیتی جی ہاں، لوگ حیران ہوتے اچھا، یقین نہیں آتا، یہ حیرانی مجھے بھی حیران کردیتی ۔ میں سوچتی کہ رائٹرز بھی تو عام لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ ان کا پروفیشن باقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔
ذرا توقف کے بعد یسریٰ نے پھپھو کی داستان کا سلسلہ وہیں سے جوڑا۔
”رضیہ پھپھو اپنے عہد کی ایک نامور شخصیت ہیں ۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ ہمارے خاندان کی لیڈر ہیں۔ انہوں نے بہت سے ممالک کے سفر کئے ہیں اور رفاہِ عامہ اور سوشل ورک کے حوالے سے بے شمار کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں دونوں شادی شدہ ہیں اور ان کے پوتے پوتیاں بھی اب جوان ہوگئے ہیں مگر یہ ابھی تک ایکٹو ہیں، ہر ایونٹ اور تقریب میں شرکت کرتی ہیں، پھپھا صدیق نے بھی ہر معاملے میں پھپھو کا ساتھ دیا ہے اور لوگ انہیں آئیڈیل کپل سمجھتے ہیں پھپھو جہاں بھی جاتی ہیں پھپھا جان کے ساتھ ہی جاتی ہیں۔ ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہے ہیں۔”
اس نے مزید بتایا۔
اس سفر میں ہم رضیہ پھپھو کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ ایسے بزرگ قابل ِ رشک ہوتے ہیں جن کی نئی نسل انہیں آئیڈیلائز کرتی ہے۔ ورنہ میں نے ایسے بہت سے معمر لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی دوسروں کو دکھ دیئے اور خاندانی سیاستوں اور سازشوں میں مصروف رہے۔ خیر پاموکلے پہنچ کر ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھایا جہاں ترکی کی روایتی ڈشز تھیں۔ ہم کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے، پاموکلے کا موسم خوشگوار تھا اور سنہری دھوپ بے حد بھلی لگ رہی تھی۔ یہاں کی فضا میں تازگی تھی۔ ہر طرف رونق تھی۔
وہاں سے ہم گائیڈ کے ہمراہ اک جھیل نما تالاب کے پاس آئے جہاں لوگ تیراکی کا شوق بھی پورا کررہے تھے۔ وہاں اردگرد سبز درخت تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ تالاب دیکھنے کے بعد ہم لوگ باہر آئے اور ہم وہاں سے پیدل ہی cotton castle کی جانب چلے۔ روئی کا وہ قلعہ جسے دیکھنے کے لئے لوگ بے تاب تھے۔ یہاں آکر لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اچھی بھلی واک ہوجاتی ہے۔ یہاں کے نظارے اتنے خوبصورت تھے کہ ہمیں پیدل چلنے میں لطف آرہا تھا۔
Cotton Castleآکر ہم سب بے حد ایکسائیٹڈ تھے۔ سفید فرش پر نیلے پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ کیا خوبصورت نظارے تھے، کیا رعنائی اور دلکشی تھی، سبحا ن اللہ، اللہ کی قدرت کے ایسے خوبصورت نظارے، ایسے دلکش منظر تھے۔
دیکھنے والے خوش اور حیران رہ جاتے۔
کہاجاتا ہے کہ اس پانی میں کچھ ایسی قدرتی معدنیات ہیں کہ جن میں healing properties پائی جاتی ہیں۔ یہ قدرتی پانی کے چشمے ہیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے لوگ دور دراز سے کے علاقوں سے آتے ہیں۔ دن کے وقت یہاں بہت رش ہوتا ہے اور یہاں کا موسم بھی خوشگوار ہوتا ہے۔ دور نیلے پانی کی اک جھیل بھی نظر آرہی تھی اور اس سے آگے لوگوں کے مکانات بھی تھے، وہاں آبادی بھی تھی۔ سنہری کرنوں کا عکس پانی پر جھلملا رہا تھا۔
یہ چشمے دور تک بہتے نظر آرہے تھے۔ ان کی روانی میں ایک ردھم تھا۔ ذرا آگے لوہے کی زنجیریں بھی لگی تھیں۔ فرش پر پھسلن کی وجہ سے بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے۔
لوگ پانی میں چلتے ہوئے دور تلک چلے گئے تھے۔ ہم بھی کچھ دیر پانی میں چلتے رہے پھر کنارے پر بیٹھ گئے۔ بہت تازگی محسوس ہورہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس پانی کو چھوتے ہی انسان کو تازگی کا احساس ہوتا ہے اور لوگ تازہ دم ہوجاتے ہیں۔
دور سے یہ سفید رنگ نے پہاڑ لگتے ہے قریب جاکر پتا چلتا ہے کہ یہ برف نہیں بلکہ سخت پتھریلی چٹانیں ہیں۔ ان پہاڑوں میں جگہ جگہ پانی کے تالاب بھی بنے ہوئے تھے۔ وہاں اک شخص رنگ برنگا طوطالئے ہوئے آیا۔ لبنیٰ نے اس طوطے کے ساتھ تصویر بنوائی۔ رضوانہ ہیٹ پہنے اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ نظرآئیں۔وہ چینی سیاحوں کے ساتھ ہنی خوشی تصویریں بنارہی تھیں۔
دور ایک واٹر چینل کے پاس ڈاکٹر شمیم، عالیہ ، کرن، نیئر، طاہرہ، یاسمین، شاد، شاہین بیٹھی تھیں۔ نگہت بھی پانی میں چلتے ہوئے نظر آئیں۔ مہوش بھی اپنے شوہر دانیال کے ساتھ تھی۔ عمران صاحب بھی چشمے کے پاس کھڑے نظر آئے۔
پہاڑ میں ایک جگہ تیزی سے چشمہ بہتا جارہا تھا لوگ اس کے نیچے کھڑے ہوکر پانی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ یہاں بے فکری کے ساتھ اک آزادی بھی تھی۔ اک آزاد ماحول تھا۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی اور لوگ انجوائے کررہے تھے۔ پانی میں کھیل رہے تھے۔
میں کنارے پر بیٹھ کر یہ خوبصورت نظارے دیکھ رہی تھی۔ یہ چشمے قدرت کا تحفہ ہیں۔
وہاں آنے والے سیاح خوش تھے اور بے فکری سے انجوائے کررہے تھے۔ رش تھا مگر کسی طرح کی افراتفری نہیں تھی اور یہی لطف اٹھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ کسی کو تنگ نہ کیا جائے۔
ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد ہم وہاں سے چلے ۔ وہاں ہم نے ایک خوبصورت شام دیکھی۔
وہاں اک شادی شدہ نوبیاہتا جوڑا دولہا دلہن بھی آئے ہوئے تھے اور بے حد خوش و خرم نظر آرہے تھے۔ ترکی میں دلہنیں اپنی شادی پر سفید رنگ کا لباس پہنتی ہیں، ہلکا میک اپ کرتی ہیں اور ہلکے پھلکے زیور پہنتی ہیں۔
وہاں آئی دلہن بے حد خوبصورت تھی اور اس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ مغربی انداز کے طرزِ زندگی کے باوجود یہاں بھی خواتین حجاب پہنتی تھیں یہ بے حد خوش آئند بات تھی۔ اس نے ہاتھوں میں رنگ برنگے خوش رنگ پھولوں کا گلدستہ تھاما ہوا تھا۔ چہرے پر ہلکا میک اپ تھا۔ یہاں پر لوگ برائیڈیل فوٹو شوٹ کے لئے بھی آتے ہیں۔
ایک اور کپل تھا۔ لڑکی نے سفید رنگ کا خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا۔ گلے میں ایک سنہری رنگ کا لاکٹ تھا اور بالوں میں کلپ لگے تھے ہاتھ میں سنہری کڑا تھا۔ لڑکے نے سفید رنگ اور سیاہ اور مہرون رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ ترکوں کے چہروں پر جو خوشی ہوتی ہے اس میں خود اعتمادی کی جھلک واضع نظر آتی ہے۔ پاکستانیوں نے اِ ن دولہا دلہن کو جالیا اور ذوق و شوق سے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
میرے پاس ایک چھتری تھی۔ جو میری بیٹی کی تھی جلدی میں میں نے وہی چھتری اپنے ساتھ رکھ لی تھی۔ اس چھتری کے ساتھ ایک بیٹی تھی عائشہ نے وہ سیٹی لے لی اور وہ سیٹی بجاتے ہوئے گروپ کے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں آسانی ہوتی کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ پیدل کا راستہ لمبا تھا۔ ہم نے بھاگتے دوڑتے وہ راستہ طے کیا۔ بہت عرصے بعد ہم یوں بچوں کی بھاگے تھے۔ راستہ سڑک نما ٹریک تھا۔ یہ پہاڑی علاقہ تھا۔ ایک جگہ ہم سب نے گروپ فوٹوبنوایا۔
عقب میں سفید رنگ کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ پانی پر سنہری کرنوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ دور سرسبز درخت بھی نظر آرہے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ اچانک سڑک کے کنارے چلتے ہوئے آرٹیکا کا پائوں پھسلا اور وہ نیچے گرگئی۔ آس پاس کے لوگ بھاگتے ہوئے اس کی طرف لپکے اسے سہارا دے کر اٹھایا مگر اسے کافی چوٹیں آئی تھیں۔ہم فوراً بس میں بیٹھے اور ہم ہوٹل Anemon چلے آئے جو کہ ایک شاندار ہوٹل تھا۔ ا س میں کسی فلورز تھے۔ ہم اپنا سامان اٹھائے اپنے اپنے کمروں میں چلے آئے۔ میرے پاس دو سوٹ کیس تھے۔ ان کے ساتھ لفٹ میں سوار ہونا پھر انہیں گھسیٹ کر کمرے تک لانا بھی دشوار تھا۔
یہاں لوگوں کو اپنا سامان خود اٹھانا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ اپنے جھوٹے موٹے کام بھی خود کرنے پڑتے ہیں۔ انسان کو حد سے زیادہ ذمہ دار ہونا پڑتا ہے۔
میں سامان لئے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں زاہدہ فاروق کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ان کا بیٹا ہے اور پاکستان سے آگیا ہے۔ زاہدہ اپنے بیٹے کی آمد پر بے حد خوش اور نہال تھیں۔ مامتاکی خوشی میں محبت کا عکس واضع نظر آتا ہے۔
”یہ میرا بیٹا حیدر ہے۔پاکستان سے آیا ہے، شکر ہے کہ خیریت سے یہاں پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس کی بڑی فکر تھی۔”
وہ خوشی سے معمور آواز میں بولیں۔
”مبارک ہو، آپ کا بیٹا آگیا ہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا۔
مجھے معلوم تھا کہ وہ کس شدت سے اپنے بیٹے کا انتظار کررہی تھیں۔ پاکستان فون کرتی رہتی تھیں۔ ہم لوگ ہوٹل میں چیک اِن کرتے ہی انٹرنیٹ connect کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجاتے، انٹر کام پر منیجر کو فون کرتے رہتے اور ٹوٹی پھوٹی انگلش سن کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے مغز ماری کرتے رہتے۔ انٹرنیٹ connect ہوتے ہی سب سے پہلے پاکستان فون کرتے۔ اب میں زاہدہ کا بیٹا آگیا تھا تو مجھے کمرہ تبدیل کرنا تھا، میں نے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ اب مجھے ہوٹل کے دوسرے کمرے میں جانا تھا جو اس کمرے سے دور تھا۔
حیدر کے ساتھ پاکستان سے ساجدہ بھی آئی تھیں وہ بھی کسی وجہ سے لیٹ ہوگئی تھیں۔ عائشہ کے شوہر عمران صاحب بھی آگئے تھے۔ آج خوشی کا دن تھا۔ ساجدہ اب میری روم میٹ تھیں۔
”آپ ذرا میرا سامان اٹھالیں گے؟”
میں نے اس لڑکے سے کہا۔ زاہدہ کے ساتھ اپنائیت کی وجہ سے میں نے چنداں تکلف سے کام نہ لیا اور جھٹ سے یہ فرمائش نما مطالبہ کردیا۔
”جی میں؟”

تحریر:مدیحہ شاہد
استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)
بُرصا کے رنگ
باب3
صبح سویرے ہم نے ناشتہ کرکے سامان بس میں رکھوایا اور برصا کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک لیدر فیکٹری وزٹ کے لئے رکے جہاں لیدر سے بنی اشیاء بنائی جاتی تھیں۔ اس فیکٹری کا نام Levinson fur and leatherتھا۔ ہم فیکٹری کے اندر آئے تو وہاں پورا stitching unit تھا، بہت ساری مشینیں رکھی ہوئی تھیں اور لوگ کام میں مصروف تھے۔
ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل پر آئے تو وہاں لیدر سے بنی اشیاء کوٹ، جیکٹ، پرس وغیرہ رکھے تھے اور بے حد مہنگے تھے جن کی قیمت ڈالرز میں تھی۔ کرن تحسین نے ایک جیکٹ خریدی ہم مختلف چیزیں دیکھتے رہے۔
ترکی صنعتی لحاظ سے بھی خود کفیل ملک ہے۔ ملک کی معیشت کے لئے صنعتی ترقی بہت ضروری ہے۔ ترکی میں بے شمار صنعتیں ہیں۔ کچھ دیر بعد ہم باہر آئے اور تھوڑی دیر سڑک کے کنارے بیٹھے رہے۔
موسم خوشگوار تھا اور ہلکی دھوپ تھی سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ میں اور یسریٰ سڑک کے کنارے بیٹھے کافی دیر آپس میں باتیں کرتے رہے۔ سڑک کے پار عمارتیں بھی نظر آرہی تھیں۔
ہم سے ذرا فاصلے پر فرح توقیر ، نورین مان، نیہا، صباحت اور نگہت موجود تھیں۔
کچھ لوگوں نے لیدر فیکٹری سے باہر آنے میں بہت دیر کردی۔ ہم لوگوں نے چونکہ فیکٹری اور وہاں موجود اشیاء دیکھ لی تھیں اس لئے جلد وہاں سے باہر آگئے تھے۔
لیدر کی مصنوعات بے حد مہنگی ہوتی ہیں۔ ہمارا تو اتنا بجٹ نہیں تھا۔ لیدر کی اتنی مہنگی کوئی چیز خریدتے اور پھر ہمیں لیدر کی چیزوں میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے ہم فیکٹری وزٹ کرنے کے بعد جلد ہی باہر آگئے تھے۔
بس ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔
گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے بس تک آئے پھر وہاں سے ہم روانہ ہوئے اور بس میں بیٹھ کر ساحل پر آئے جہاں سے ہم بحری جہاز یعنی فیری (ferry) میں سوار ہوئے۔
اس بحری جہاز کے نچلے حصے میں گاڑیاں اور بس وغیرہ بھی پارک کی گئی تھیں۔ ہم فیری کے اوپر والے حصے میں آگئے۔
فیری نیلے پانی کے سمندر میں لکیریں بناتے ہوئے تیرتی جارہی تھی۔ یہ بے حد خوشگوار تجربہ تھا۔ مجھے یاد آیا بچپن میں جب ابا کی پوسٹنگ کراچی ہوئی تھی تو ہم نے پورٹ قاسم میں بحری جہاز دیکھے تھے۔ یہاں مختلف بحری جہاز تھے۔ جنہیں فیری (ferry) کہا جاتا ہے اور یہ مرمرا کے سمندر میں چلتے ہیں۔
ہم جہاز کے جنگلے کے پاس کھڑے ہوئے دھوپ کی سنہری کرنوں میں چمکتے نیلے سمندر کو دیکھتے رہے۔ کیسا خوبصورت اور دلکش منظر تھا۔ آسمان کی نیلاہٹیں خوبصورت تھیں۔ سفید سمندری پرندے فضا میں اڑتے ہوئے اِدھر سے اُدھر جارہے تھے۔ ہم کتنی ہی دیر ان خوبصورت نظاروں سے نظریں نہیں ہٹا پائے۔
خوبصورتی کو دیکھنا بھی ایک نعمت ہے۔
اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں اور غور و فکر کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا یہ اللہ رب العزت نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ بے شک تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ہی ہیں۔
استنبول سے برصا سمندر کے راستے بھی جایا جاسکتا ہے اور بذریعہ سڑک بھی لوگ جاسکتے ہیں۔
برصا ترکی کا ایک اہم شہر ہے۔ جو ٹیکسٹائل سے وابستہ ہے۔ یہ سرسبز شہر ہے اور یہاں بے حد خوبصورت عمارتیں اور مساجد موجود ہیں۔
برصا شہر صوبہ ٔ برصا کا دارالخلافہ ہے۔
یہاں حضرت خضر سے منسوب مسجد اور ترکوں کا قدیم قلعہ بھی ہے۔
اور چنار کا چھ سو سال پرانا درخت بھی ہے ، کہاجاتا ہے کہ اسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر خلافت ِ عثمانیہ کی داغ بیل رکھی گئی تھی۔ عثمان (اوّل) نے 1326 ء میں برصا شہر کو فتح کرلیا تھا۔
سب لوگ فیری کے سفر کو انجوائے کررہے تھے۔
دھوپ کے باوجود وہاں تیز ہوا تھی۔ لوگوں نے کوٹ ، جیکٹ اور سوئیٹر پہنے ہوئے تھے۔
ایک کونے میں یاسمین اور رفعت فیری کے جنگلے کے پاس کھڑی ٹائٹینک والا پوز بنائے کھڑے تھیں۔
رضوانہ اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ مصروف نظر آئیں۔
لوگ تصاویر اور ویڈیوز بنارہے تھے۔
نیلے پانی کا سمندر اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ دیکھتے تو دیکھتے ہی رہ جاتے۔ ہم نے اوپر سے جھانکا تو فیری کی نچلی منزل پر گاڑیاں پارک ہوئی نظر آئیں۔ دور دور تک نیلا سمندر نظر آرہا تھا۔ نیلا سمندر ، لہریں، سمندر پرندے، نیلا آسمان، بادل ، قدرت کے نظارے بے حد دلکش تھے۔
میں فیری کے کوریڈور میں واک کرتی رہی اور خوبصورت نظارے دیکھتی رہی پھر میں فیری کے اندر آگئی۔ وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ موجود تھے۔ کونے میں کافی شاپ بھی تھی جہاں سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اور کافی لے رہے تھے۔ فیری میں بہت لوگ سوار تھے۔ نیلا سمندر، خوبصورت نظارے اور ٹرکش کافی، میں بھی وہیں چلی آئی کہ چلو ہم بھی کافی پیتے ہیں۔
کافی شاپ پر رش تھا۔ میں رش کم ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد جب رش کم ہوا تو میں کائونٹر کے پاس چلی آئی جہاں کافی بنانے والا کھڑا تھا۔
”ایک کپ کافی۔”
میں نے اسے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
وہ شخص کافی بنانے لگا۔
وہاں چینی چوکور ڈلیوں کی شکل میں ایک پیالے میں پڑی تھی۔
”تھوڑا دودھ اور ڈال دیں۔ ہم پاکستانی ہیں دودھ والی چائے اور کافی پیتے ہیں۔”
میں نے اسے انگلش میں بتایا۔
تین چار چینی کی چوکور ڈلیاں ڈالنے کے باوجود کافی کڑوی تھی۔
ہر علاقے اور ہر ملک کے لوگوں کی اپنی پسند و ناپسند ہوتی ہے۔ خیر اپنی تسلی کرکے، کافی میں میٹھا چیک کرکے میں پلٹی تو مجھے وہاں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نظر نہ آیا میں پریشان ہوگئی۔
”گروپ کے سب لوگ کہاں چلے گئے!”
میں نے فیری کے ہال میں اِدھر اُدھر دیکھا، پھر باہر آئی تو کوریڈور سنسان سا محسوس ہوا میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔
فیری ، سمندر ، پردیس… میں ہاتھ میں کافی لئے وہیں کھڑی رہ گئی ۔ سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کروں ۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ پورے بحری جہاز میں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نا ملتا۔ کافی کی مصروفیت میں ایسی محو ہوگئی تھی کہ پتا ہی نہ چلا گروپ کے لوگ کہاں چلے گئے۔ پھر بھی میں نے تلاش جاری رکھی۔ میں دوبارہ باہر آئی اِدھر اُدھر دیکھا کہ اچانک سامنے سے عائشہ آتی نظر آئی۔ اُسے دیکھ کر دل کو اطمینان ہوا۔
”میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ سب لوگ بس میں بیٹھ چکے ہیں، آپ کہاں گھوم رہی ہیں… چلیں جلدی کریں میرے ساتھ آئیں۔”
اس نے فکر مندی سے کہا۔
میں لپک کر اس کے پاس آئی۔
”ہاں وہ دراصل میں کافی لینے چلی گئی تھی، پتا ہی نہ چلا سب اچانک کہاں چلے گئے۔” میں اپنی اس لاپرواہی پر کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
”سفر کرتے ہوئے لوگوں کو بہت الرٹ اور چوکس رہنا پڑتا ہے۔اِدھر اُدھر نظر رکھنی پڑتی ہے برصا آگیا ہے، سب لوگ جاکر بس میں بھی بیٹھ گئے اور آپ کو خبر ہی نہ ہوئی ایسی کون سی اسپیشل کافی ہے۔” عائشہ نے کہا۔ ہم تیزی سے چلتے ہوئے بس کے پاس آئے اور بس میں سوار ہوئے تو سب لوگ ہمارا انتظار کررہے تھے۔
”ایک خاتون گم ہوگئی تھیں شکر ہے کہ مل گئی ہیں۔”
کسی نے کہا۔
میں فوراً اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ اس سفر میں میں بھی کسی جگہ گم ہوسکتی ہوں۔
”دیکھیں آپ لوگ محتاط رہیں، گروپ کے ساتھ رہا کریں۔ کوئی شخص گم ہوجاتا ہے تو ہمیں بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پردیس ہے… یہاں ان باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میں باربار آپ لوگوں کو بتارہی ہوں۔ اس طرح ہمارا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔”
یاسین نے خفا اور ناراض انداز میں دوبارہ اعلان کیا۔
میں کان لپیٹے سنتی رہی اور کافی پیتی رہی۔
میرے ساتھ بیٹھی یسریٰ نے تلوں والا رول دیا۔ جس کا نام simit ring ہے۔ یہ ترکی کا مشہور smack ہے اور جگہ جگہ عام ملتا ہے اور ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے۔
ہم برصا پہنچ چکے تھے۔ بس ایک جگہ رکی اور ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آئے جس کا نام ”بنکار” تھا۔
برصا بے حد خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی عمارت اور گھر کلاسیکل اور روایتی انداز میں بنے ہوئے ہیں۔
ترکی کے ہر شہر کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اپنا ایک الگ کلچر ہے۔
برصا میں سبزہ ہے۔ پھول پودے، گھاس اور درختوں کی بہتات ہے۔ اس لئے اسے ”گرین برصا” (سرسبز برصا) بھی کہا جاتا ہے۔
برصا سلجھے ہوئے لوگوں کا شہر لگتا ہے ۔ یہاں صاف ستھری کشادہ سڑکیں اور باغیچوں والے کلاسیکل انداز میں بنے خوبصورت گھر نظر آتے ہیں۔ یہاں عمارات کا فن ِ تعمیر بے حد خوبصورت ہے۔
بنکار بے حد خوبصورت ریسٹورنٹ تھا۔ ہوٹل کی عمارت کے باہر ٹوکریوں میں پھول کھلے تھے۔ ہوٹل کے باہر خوبصورت سرسبز درخت تھے۔
وہاں ایک بے حد مزاحیہ سا ویٹر بھی تھا جس نے خوب شغل لگایا ۔ کھانے میں ڈونر کباب تھے۔ کسی کو بیف کے کباب ملے تو کسی کو چکن کے کباب ملے۔ گوشت کے تلے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ ٹماٹر اور ہر ی مرچیں تھیں، ساتھ دہی بھی تھا، کہاجارہا تھا کہ یہی کباب تھے۔
”یہ کیسے کباب ہیں، ہمارے ہاں تو ایسے کباب نہیں ہوتے!”
لوگ یہ کباب دیکھ کر حیران تھے۔
بیف کھانے والے کم تھے، چکن کی ڈیمانڈ زیادہ تھی۔ لوگوں نے اپنی فرمائشیں بھی کیں۔
”جو کچھ بھی ملے شکر کرکے کھالینا چاہیے۔”
یاسمین نے نخرے کرتے لوگوں کو دیکھ کر بارعب انداز میں نصیحت کی۔
پردیس آکر انسان صبر شکر بھی سیکھ لیتا ہے۔جب بھی پردیس جائیں ناز نخرے اپنے وطن میں چھوڑ کر آئیں اور اپنا سامان خود اٹھانے کی عادت ڈال بھی لیں۔ پردیس آکر ہم بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ سب لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے۔
وہ مزاحیہ ویٹر آنکھ مار کر بات کررہا تھا۔ ہم حیران رہ گئے کہ یہ ویٹر آنکھ کیوں مار رہا ہے۔ پھر کسی نے وضاحت کی کہ یہ یہاں کے لوگوں کا انداز ہے۔ winkکرتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ ہم نے اس انداز کو بھی سمجھ لیا اور جب بھی کوئی آنکھ مارتا اس سے نارمل انداز میں بات کرتے پردیس جاکر انسان کو وہاں کے ماحول اور کلچر کو سمجھنا پڑتا ہے۔
کھانے کے بعد ہم سِلک مارکیٹ چلے آئے جو برصا کا قدیم بازار تھا۔ بس سے اتر کر ہم سڑک پر پیدل چلتے رہے ایک جگہ سیڑھیاں نظر آئیں جن کے دونوں اطراف سرسبز لان تھے۔ ہم نے وہاں یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔
برصا میں بھی پیدل چلنے کارواج تھا۔ گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے تھک گئے تو رفعت سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پربیٹھگئی۔
”ارے آپ فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھ گئی ہیں؟ دیکھنے والے لوگ نہ جانے کیا سمجھ لیں گے۔”
کسی نے رفعت کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
”کچھ بھی سمجھ لیں۔ میں تھک گئی ہوں۔ کچھ دیر یہیں بیٹھ کر سُستا لیں گے۔”
رفعت کے اطمینان میں فرق نہ آیا ۔ نیہا نے شرارت سے پرس میں سے پیسے نکالے اور رفعت کو پکڑا دیئے۔
”اپنی مرضی سے دے رہی ہو، واپس نہ مانگنا اب یہ میرے ہوگئے ہیں۔”
رفعت نے شرارت سے کہتے ہوئے مٹھی بند کردی۔
”یہ تو بس مذاق تھا۔ پیسے اب واپس کردیں۔”
نیہا نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر پیسے واپس لے بھی لئے۔ ہاں بھئی روپے پیسے کی اہمیت کا احساس توپردیس میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک ایک روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے کہ جتنا بجٹ ہے اسی میں گزارہ کریں اور کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
ہم پھر پیدل چلتے رہے۔ گائیڈ نے بازار میں شاپنگ کے لئے دو گھنٹوں کا ٹائم دیا۔
ہم نے سوچا اب دو گھنٹے بازار میں کون گھومتا پھرتا رہے۔ استنبول سے ہم نے کافی شاپنگ کرلی تھی۔ اسی لئے میں بس کی طرف آگئی سوچا بس میں کچھ دیر آرام سے بیٹھیں گے۔
لبنیٰ اور رضوانہ ایک مسجد دیکھنے چلی گئیں۔ میں سعادت منیر بھی بس میں بیٹھی تھیں۔ باقی لوگ بازار چلے گئے۔ میں پارکنگ ایریا میں آگئی۔
پارکنگ کے پاس بے حد خوبصورت گھر بنے ہوئے تھے۔ جہاں جنگل نماباغ تھے۔ گھروں کے باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ میں چلتے ہوئے پارکنگ کے کنارے تک آئی۔ سامنے گرے رنگ کا تکونی چھت والا اور سفید کھڑکیوں والا خوبصورت گھر تھا۔ جس پر ترکی کا پرچم لگا تھا۔ گھر کے ساتھ چھوٹا سا باغ بھی تھا۔ گھر کے باہر گملے بھی رکھے ہوئے تھے۔
میں وہاں کھڑی اس خوبصورت گھر کو دیکھتی رہی۔
یہاں لوگ گھروں میں خود کام کرتے ، باغ کا خیال رکھتے، پودوں کو پانی دیتے اور مصروف رہتے۔
کچھ دیر بعد میں بس میں آگئی ، جہاں سعادت منیر بھی بیٹھی تھیں۔
”تم بازارنہیں گئی۔”
انہوںنے پوچھا۔
”تھک گئی تھی۔ کافی دیر پیدل چلتے رہے تھے، سوچا کون بازارمیں دو تین گھنٹے چلتا رہے۔ اسی لئے بس میں آگئی۔”
میں نے جواباً کہا۔ مرسڈیز بس بے حد آرام دہ تھی۔
یکدم ڈرائیور اوہان بس میں آیا اور اس نے بس اسٹارٹ کردی ۔ہم حواس باختہ رہ گئے۔ ڈرائیور انگریزی زبان سے نابلد تھا نا وہ ہماری زبان سمجھتا تھا اور نا ہم اس کی زبان سمجھ سکتے تھے۔
”بات سنیں ، ہم کہاں جارہے ہیں؟”
ہم نے اشارے کرکر کے اس سے پوچھنے کی کوشش کی۔
نجانے وہ ترک زبان میں کیا بول رہا تھا۔ ہماری سمجھ میں نہ آیا۔ ترکی آنے سے پہلے ہمیں ترک زبان کے عام بول چال کے کچھ الفاظ سیکھ لینے چاہیے تھے، ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ ترکی میں انگریزی بولی جاتی ہے۔
مس سعادت بھی گھبرا گئیں۔
”بھائی کہاں لے کر جارہے ہو ہمیں؟ ہمارے گروپ کے لوگ تو اُدھر بازار میں ہی ہیں۔ ارے اس سے پوچھو تو سہی اسے کس نے کہا ہے کہ بس چلادے، ہمیں کہاں لے جارہا ہے؟ میرا تو دل گھبرا رہا ہے۔”
سعادت منیر نے گھبرا کر کہا۔
بس ، دو پردیسی خواتین اور ایک اجنبی ڈرائیور… میں نے فوراً بلند آواز میں اسے ٹوکا۔
”ہمارے گائیڈ سرخان کو فون کردیں۔ سرخان … فون…”
مزید وضاحت کے لئے ہم نے اشارے بھی کئے۔
اس نے موبائل سے سرخان کو کال ملائی اس سے ترک زبان میں کچھ بات کی اور مجھے موبائل پکڑا دیا۔
اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ سرخان کو کہہ رہا ہے یہ دو وہمی خواتین ہے، خوفزدہ ہو گئی ہیں ان سے بات کرکے انہیں تفصیل بتادو۔
میں نے موبائل تھام کر سرخان سے بات کی۔
”ہیلو مسٹر سرخان! یہ ڈرائیور ہمیں کہیں لے جارہا ہے۔ گروپ کے لوگ وہیں بازار میں ہیں، ہمیں اس کی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کہہ کیا