Author: misbah116@hotmail.com

  • قرنطینہ ڈائری . گیارہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    گیارہواں دن: جمعتہ المبارک 3اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج پھر جمعہ گھر پر پڑھا۔ مصطفی نے اقامت کہی، عماد نے امامت کی اور لیجئے جمعہ ہو گیا۔ عام طور پر میں جمعہ اہتمام سے مناتی ہوں۔ آج بھی میں نے گھر چمکایا، خوشبو میں بسایا، نہا د ھو کر نیا جوڑا پہنا۔ سنت منانے کو سرمہ بھی لگایا۔ لیکن اس جمعے میں جمعے والی بات ہی نہ تھی۔ وہ صبح بچوں کے شلوار کرتے استری کیا جانا، وہ بچوں کو ”اٹھو جمعہ نکل جائے گا“ کہہ کر جلدی جلدی جگانا، وہ بچوں کا لپک جھپک تیار ہونا اور بھاگم بھاگ جانا، وہ عماد کا ہمیشہ سب سے پہلے اکیلے ہی چلے جانا تاکہ پہلی صف میں جگہ ملے، وہ عین وقت پر عمر کے جوتوں کا کھو جانا، وہ ابا کا گیٹ پر کھڑے ہو کر آوازیں لگانا، وہ عمر کا جوتوں کی تلاش میں ایک ایک پلنگ کے نیچے گھسنا اور آخر میں جلدی میں میری چپل اڑس کر دوڑ جانا آج ان میں سے کوئی بھی رونق نہ تھی۔ بچے چپ چاپ لاﺅنج میں جمع ہوئے۔ کسی نے جینز پہن رکھی تھی، کوئی نائٹ سوٹ کا پاجامہ پہنے ہوئے تھا۔ عمر صاحب نیکر ہی میں چلے آئے۔ میرے گھورنے پر نیکر گھسیٹ کر گھٹنوں سے نیچے کی اور اشارے سے تسلی دی کہ فکر نہ کریں ستر ڈھکا ہوا ہے۔ تو یوں بس چپ چاپ ہم نے نماز پڑھی اور نماز کے بعد بچے منہ لٹکائے اپنے اپنے کمروں کو سدھارے۔

    سید علی ہجویری کشف المحجوب میں فرماتے ہیں: ”صوفی کا امتیازی وصف یہ ہے کہ ماضی کا غم نہ کرے اور مستقبل کی فکر نہ کرے۔“ آج جمعے کی نماز کی نیت باندھتے ہوئے مجھے جب گزرے جمعوں کا خیال آیا تو ساتھ یہ بھی خیال آیا کہ نہ وہ وقت رہا تھا، نہ یہ رہے گا۔ یہ وبا ختم ہو جائے گی، مسجدیں پھر سے آباد ہو جائیں گی، جمعے کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔

    تو ڈیئر ڈائری آج میں شکر گزار ہوں زندگی کے اس سبق کی جو وقت کی گردش ہمیں سکھاتی ہے۔ اس اطمینان کے لیے میں بے حد مشکور ہوں جو اللہ کی پلاننگ میں راضی ہو جانے سے ملتا ہے۔ میں گزرے ہر جمعے کو محبت او رتشکر سے یاد کرتی ہوں اور آنے والے ہر جمعے کے لیے پرامید ہوں ۔ تو آﺅ ہراس اور وسواس کی اس گھڑی کو اس امید پر گزاریں کہ یہ وقت گزر جائے گا اور آﺅ کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی سے یہ سوچ کر مسرت کا رس کشید کریں کہ یہ گھڑیاں سدا نہ رہیں گی۔

    سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں

    سدا نہ ماپے، حسن، جوانی، سدا نہ صحبت یاراں

    (باغوں میں بلبل ہمیشہ نہیں بولے گی نہ ہی بہار سدا ٹھہرنے رہنے والی ہے۔ نہ ماں باپ سدا رہیں گے، نہ حسن، نہ جوانی اور نہ ہی عزیز دوستوں کی محفلیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔)

    آج کے اخبار میں بہت سی اچھی خبریں ہیں۔ ایک خبر تو یہ ہے کہ زمین کے اوپر اور زون کی تہہ کے سوراخ بھرنا شروع ہو گئے ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے۔ انسان نے دھوئیں اور کاربن کی برچھی ہاتھ سے رکھی ہے تو فطرت اپنے زخموں پر ٹانکے لگانے لگی ہے اور اس کے گھاﺅ بھرنے لگے ہیں۔ آسمان شفاف ہو گیا ہے اور تارے مزید چمکیلے اور روشن۔ شاید قدرت کو اس وبا سے یہی کام لینا مقصود تھا۔

     دوسری خبر یہ ہے کہ چین میں حکام نے کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔ ویسے تو یہ اچھا ہوا لیکن اب ہم سمبا کے دشمنوں کو کیسے ڈرائیں گے؟ پہلے تو ہم انہیں دھمکاتے تھے کہ بھئی دیکھو آدمیت کے جامے میں نہ آئے اور ہمارے سمبا کو یونہی مارتے پیٹتے رہے تو ہم تمہیں اٹھا کر چین بھیج دیں گے۔ وہاں لوگ بلیوں کے کباب کھاتے ہیں۔ یہ سن کر دشمنوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے اور وہ دم دبا کر بھاگ جاتے تھے۔ کچھ یہ بھی کہ زبانی دھمکیوں کے ساتھ ہم انہیں ہاتھ میں پکڑے کنکروں سے بھی سمجھاتے تھے۔

    آج دو دن ہو گئے ہیں سمبا مجھ سے ناراض ہے۔ نہ میری طرف دیکھتا ہے نہ بات کا جواب دیتا ہے۔ بلاتی ہوں تو بے اعتنائی سے منہ موڑ کر آگے چل پڑتا ہے۔ پرسوں میں نے اسے ایک بلی پر حملہ کرنے کے جرم میں ڈانٹا تھا اور جب ابا آئے تھے تو ان کو بھی شکایت لگائی تھی۔ انہوں نے بھی اس کی گوشمالی کی تھی۔ لہٰذا اب سمبا صاحب مجھ سے منہ پھلائے پھر رہے ہیں۔ دیکھتی ہوں کتنے عرصے تک ان کی یادداشت ساتھ رہتی ہے اور کب تک روٹھے رہتے ہیں۔

    بلیاں ویسے بھی بہت مغرور اور خودپسند ہوتی ہیں۔ بات بات پر روٹھ جاتی ہیں۔ ویسے روٹھتے تو میں نے کئی اور جانوروں کو بھی دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ چڑیا گھر میں بندروں کے پنجرے میں ایک ننھے منے بندر کو اپنی ماں سے روٹھ کر کونے میں بیٹھا دیکھا۔ ماں منانے جاتی تھی تو صاحبزادے مزید روٹھ کر دوسرے کونے میں جا بیٹھتے تھے اور رونکھے ہو کر ماں کو مٹر مٹر کر دیکھتے تھے ۔ اور ماں کا یہ حال تھا کہ

    ان کو آتا ہے پیار پر غصہ

    ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے

    کئی مرتبہ چڑیوں کو روٹھتے دیکھا۔ میرے کمرے میں لکھنے کی میز اور کرسی کھڑکی کے ساتھ رکھی ہے۔اس میز پر میرا آدھا وقت لکھنے میں گزرتا ہے اور باقی آدھا کھڑکی سے چڑیوں کو دیکھنے میں۔ چڑے معصوم ہوتے ہیں اور چڑیاں تیز طرار۔ ناراض ہو جائیں تو خوب لڑتی ہیں اور پھر ناراض ہو کر منہ پھیر کر چل پڑتی ہیں۔ چڑا منانے جائے تو اس بے چارے کو ٹھونگیں مارتی ہیں۔ انہیں دیکھتے ہوئے مجھے اکثر بچپن میں پڑھی وہ کہانی یاد آتی ہے جس میں چڑے نے ساری کھچڑی کھا جانے پر چڑیا کو ڈنڈی سے مارا تھا اور چڑیا اٹو اٹی کھٹو اٹی لیے کونے میں پڑ گئی تھی۔ چڑا بازار جا کر گندم لایا تھا اور چڑیا سے فرمائش کی تھی کہ پیس دے۔ گندم پیسنے سے لے کر روٹی بنانے تک ہر فرمائش کا جواب چڑیا نے یوں دیا تھا۔ ”ماری ٹونی کونے ڈالی، اب کہتے ہو گندم پیس دوں۔ دور موئے میں کیوں پیسوں؟“ اور آخر کار جب سب مرحلوں سے گزر کر چڑے نے روٹی پکا کر چڑیا کو کھانے کی دعوت دی تھی تو وہ پھرُر سے اڑی تھی اور چہک کر بولی تھی۔ ”واری سیاں پھیری سیاں میں کب تم سے روٹھی تھی؟“

    انہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ زندگی کا اس سے بہتر کیا مصرف ہو سکتا ہے کہ روٹھنے منانے میں گزاردی جائے۔ ایک گھونسلہ ہو، اس میں زندگی کا ساتھی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہوں۔ اس چھوٹی سی دنیا کا ہر محبوب اپنے چاہنے والے سے روٹھ جائے اور پھر بہت مان اور ادا اور نخرے سے مڑ مڑ کر اسے دیکھے اور ہر محبت کرنے والا بڑے لاڈ سے اپنے روٹھے محبوب کو منائے اور اس سرشاری کا لطف اٹھائے جو مان رکھنے اور منا لینے میں ہوتی ہے۔

    اے میرے پیارے اللہ! اے میرے مالک، میرے ہمدم، میرے محبوب! تیری کرسی عرش سے اوپر، کائنات سے اونچی ہے لیکن تیرا تصور میرے دل کی گہرائیوں میں رہتا ہے۔ تیری محبت میرے خیال کے دامن میں موتیوں کی طرح دمکتی ہے۔ وہ محبت جو تجھ سے بھی زیادہ تابناک ہے، کیوں کہ اس کو میں اپنی سرخوشی سے اور اپنے آنسوﺅں سے سجاتی ہوں۔ اے میرے محبوب تو محیط ہے تو مقیت ہے، تو ازل ہے تو ابد ہے لیکن اپنی رات کی تنہائیوں کے کسی پل میں میں تجھے پا لیتی ہوں۔ اس پل پر ازل سے لے کر ابد تک کے تمام زمانے قربان۔ اے میرے محبوب تو معبود ہے، تو مسجود ہے، تو مقصود ہے، تو موجود ہے ۔اور اگر میں کہیں دنیا میں تجھے اپنے سامنے موجود پاتی تو کبھی روٹھا نہ رہنے دیتی ۔تیری طرف آنکھوں کے بل آتی، تیرے پیروں سے لپٹ جاتی، اپنے آنسوﺅں سے تیرا دامن تر کر دیتی، اپنا دل نکال کر تیرے قدموں میں رکھ دیتی ۔اور پھر اس سرشاری اور وارفتگی سے آشنا ہوتی جو روٹھے محبوب کو منانے سے ملتی ہے۔ اے میرے محبوب تو ظاہر ہے تو باطن ہے، تو حیی ہے تو قیوم ہے۔ تجھے باہر ڈھونڈنے کی مجھے کیا ضرورت؟ شکر ہے کہ تو میری شہ رگ میں رہتا ہے ورنہ تجھے منانے کے لیے مجھے کتنے کشٹ اٹھانے پڑتے۔

    ٭….٭….٭

     

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دسواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ دسواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    دسواں دن: جمعرات 2 اپریل 2020ئ

    ڈیئر ڈائری!

    جب سے پارک کو تالا لگا ہے۔ میں ہر روز واک کے لیے ایک نیا رستہ اختیار کرتی ہوں۔ کل بی بلاک کی سیر کی تھی۔ آج ایف بلاک کا چکر کاٹ کر ای بلاک کی طرف نکل گئی۔ ای بلاک نری بھول بھلیاں ہے۔ چھوٹی چھوٹی گلیاں بڑی سڑک کی طرف نکلتی ہیں اور ہر گلی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ہے۔ نشانی کے لیے میں نے ابراہیم کے دوست عبداللہ کا گھر رکھ چھوڑا ہے جس کے ماتھے پر ماشا اللہ لکھا ہے۔ عبدللہ کے نہیں، اسکے گھر پر۔ تو کبھی میں اس گھر سے دو گلیاں پہلے مڑ جاتی ہوں، کبھی ایک گلی آگے کا راستہ لیتی ہوں۔ آج میں جس گلی سے گزری وہاں میں نے بہت خوبصورت گھر دیکھے۔ ایک گھر مکمل طور پر پھولدار بیلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں اپنا فون کیوں نہ لائی ، ورنہ تصویر کھینچتی اور مالی کو دکھاتی کہ دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا۔ ایک تم ہو کہ ٹھیک سے لان میں جھاڑو بھی نہیں دیتے۔ ایک دوسرا گھر دیکھا جو دو کنال پر بنا ہوا تھا اور بالکل گاﺅں کے کچے گھر جیسا تھا۔ کچی مٹی کے لیپ جیسا پینٹ، شہتیروں کی منڈیریں اور کھڑکیوں پر پڑی چکیں۔ اس گھر کو دیکھ کر مجھے بہت لطف آیا۔ مٹی اور وطن کی محبت انسان کے خمیر میں ہے۔ وطن کو چھوڑ کر کہیں چلا جائے تو اپنے وطن اور پرانے گھر کی یاد میں ہڑکتا رہتا ہے ۔دنیا کے بہت سے شہروں کے نام نقل مکانی کر کے آئے ہوئے لوگوں نے اپنے پرانے شہروں کے نام پر رکھے ہیں۔ جیسے نیویارک، نیوزی لینڈ، لٹل انڈیا ۔سنا ہے امریکا میں ایک قصبہ لاہور نام کا بھی ہے۔ ضرور ہو گا، لیکن اس میں لاہور کی خوشبو، لاہور کی تاریخ اور لاہور کی سی زندہ دلی کہاں ہو گی؟ وہ بات کہاں مولوی مون کی سی۔

    مٹی کے گھر سے آگے چلی تو ایک گھر کے باہر گلاب کے پھولوں کا درخت دیکھا۔ جی ہاں درخت۔ تھی تو وہ جھاڑی ہی مگر اس قدر قد آور ہو چکی تھی اور اتنا پھیل چکی تھی کہ دس بارہ فٹ کا درخت بن چکی تھی۔ اس کی شاخیں گلابی پھولوں کے بوجھ سے جھکی پڑتی تھیں۔ اس وقت اس انجان گلی میں کھڑے گلاب کے اس درخت کو دیکھتے مجھے وہ دن یاد آیا جب میں ہمیشہ کی طرح واک کے ارادے سے پارک کی طرف گئی تھی اور اسے بند پایا تھا۔ کس قدر افسوس ہوا تھا مجھے اور کیسی حسرت سے میں نے ان چند پھولوں کو دیکھا تھا جن کے اردگرد میں پارک کے چکر کاٹتی رہتی تھی اور جو روزانہ دیکھ دیکھ کر مجھے ازبر ہو چکے تھے۔ بڑے بجھے دل سے میں نے سڑکوں پر چہل قدمی شروع کی تھی۔ لیکن یہ بجھا دل زیادہ دیر بجھا نہیں رہا تھا۔ میں نے خوبصورتی اور حسن اور تعجب کے کئی نئے جہان دریافت کیے تھے۔ وہ جہان جن کے گرد برسوں رہنے کے باوجود میں ان سے بے خبر تھی۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ان تمام راستوں کے لیے جو بند ہو گئے۔ وہ بند نہ ہوتے تو میں نئے راستوں کی تلاش میں کبھی نہ نکلتی۔ دریافت کی سر خوشی سے کبھی آشنا نہ ہوتی، اور قدرت کے اس گرینڈ ڈیزائن کو کبھی نہ سمجھ پاتی جو کائنات کے بڑے سیاروں سے لے کر ریت کے معمولی ذرے کو بحسن و بخوبی چلا رہا ہے۔

    ویسے جب سے یہ ڈائری شائع ہونا شروع ہوئی ہے، لوگ گھبرا گھبرا کر مجھے فون کرتے ہیں کہ واک پر کیوں نکلتی ہو؟ گھر بیٹھو ورنہ کرونا ہو جائے گا۔ تو میرے دوستو! ایک بات میں واضح کرنا چاہتی ہوں۔ جس سوسائٹی میں میںرہتی ہوں وہ بہت چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ گیٹ پر ناکہ لگا ہے جس سے آج کل کسی مہمان، کسی ملازم کو اندر آنے نہیں دیا جارہا۔ آج ہماری وہ چوری کی شوقین ماسی، جسے دو ہفتے قبل فارغ کر دیا گیا تھا، راشن لینے آئی تو ناکے پر گارڈز نے اندر نہ آنے دیا اور ہمیں فون کر دیا کہ یہاں سے پرندہ پر نہیں مار سکتا، جسے جو کچھ دینا ہے یہاں آکر خود دے جائے۔ دوسرے یہاں کی ہر سڑک اور گلی میں گارڈز ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ میں کسی بھی سڑک یا گلی میں نکل جاﺅں ،ایک یا دو گارڈز منہ پر ماسک چڑھائے سائیکل پر سوار اپنے معمولی کے راﺅنڈ پر نکلے نظر آتے ہیں میں اپنے پڑھنے والوں، خاص طور پر خواتین سے گزارش کروں گی کہ اس خاکسار کی دیکھا دیکھی بغیر سوچے سمجھے واک پر نکلنے کی غلطی نہ کیجئے۔ نہ ہی نت نئی سڑکیں اور گلیاں دریافت کر کے واسکوڈے گاما بننے کی کوشش کیجئے۔ امن و امان کی حالت مخدوش ہے۔ اگر کسی بدنیت مشٹنڈے کے ہاتھوں اغوا نہ بھی ہوئیں تو کرونا تو ہے ہی ۔خدانخواستہ کاٹ گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور کوئی بزدار نہ ملے گا دادرسی کو۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ نواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    نواں دن: یکم اپریل 2020ء

    ڈیئر ڈائری!

    کل ہم نے سالگرہ کے لیے دو کیک بنائے تھے۔ ان میں سے بڑا والا تو کاٹ لیا گیا اور کھا لیا گیا جب کہ چھوٹے والا فرج میں رکھ دیا گیا۔ رات سونے سے پہلے ابراہیم نے سب بھائیوں سے وعدہ لیاکہ رات میں کوئی اس کیک کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا اور صبح اٹھ کر اماں کاٹیں گی اور سب میں بانٹیں گی۔ صبح اٹھے تو آدھے سے زیادہ کیک غائب تھا۔ رات ہی رات میں کوئی کیک پر ہاتھ صاف کر گیا تھا۔ اب چور کی ڈھنڈیا پڑی۔ سب بھائیوں سے پوچھا گیا۔ وہ سب نیکی اور شرافت کے پتلے، معصومیت کے پیکر آنکھیں پٹپٹا کر صاف انکاری ہوئے کہ بھلا ہم اور یہ کارِ عبرت خیز؟ تو پھر کیک کس نے کھایا؟ ماموں اللہ بخش نے، اور کس نے! 

    جب میرے بچے چھوٹے تھے تو، جیسا کہ ہر چھوٹے بچوں والے گھر میں ہوتا ہے، ان کی بہت سی چیزیں گم ہو جایا کرتی تھیں۔ ابھی چیز سامنے پڑی ہے، ابھی غائب۔ اور جب ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر بال نوچنے والے ہو جاتے تھے تو وہی چیز اچانک سامنے پڑی نظر آجاتی تھی۔ بہت سے ربر، شاپنر، پنسلیں اور گیندیں یوں کھوئی اور پائی جاتی تھیں۔ بہت سی چیزیں ٹوٹ جاتی تھیں جن کے بارے میں شرارتی آنکھیں چمک چمک کر اور توتلی زبانیں اللہ کے وعدے کر کر کے اعلان کرتی تھیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہوا اور کس نے کیا۔ ایسا ہر کام ماموں اللہ بخش کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ ماموں اللہ بخش ایک جن تھے جو ہمارے گھر میں رہتے تھے اور ہر شرارت کی ذمہ داری چپ چاپ اٹھاتے تھے۔ یہی نہیں، وہ معصوم ٹوٹے دلوں کے جوڑنے میں بھی کام آتے تھے۔ کوئی کھلونا ٹوٹ گیا، ماموں اللہ بخش نے چھپا دیا اگلے دن چپکے سے نیا رکھ گئے۔ یہی نہیں ہمارے گھر میں بہت سی پریاں بھی رہتی تھیں۔ چند وہ تھیں جو رات کو سوتے ہوئے بچوں کو اتنا چومتی تھیں کہ ان کے منہ گندے ہو جاتے تھے اور صبح اٹھ کر دھونے پڑتے تھے۔ ایک پری سوتے بچوں کے تکیوں کے نیچے ٹافیاں رکھ جاتی تھی۔ ایک ٹوتھ فیری بھی تھی جو ہر ٹوٹے دانت کے بدلے تکیے کے نیچے پیسے رکھ جاتی تھی۔ بچے بڑے ہوئے، پریاں گھر سے چلی گئیں، کیوں کہ پریاں تو صرف چھوٹے بچوں والے گھروں میں رہتی ہیں۔ نہ گئے تو ماموں اللہ بخش نہ گئے۔ وہ یہیں ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ماموں اللہ بخش کے لیے، اور سوتے بچوں کے منہ چومنے والی پریوں کے لیے اور ان پریوں کے لئے جو بچوں کے تکیوں کے نیچے تحفے رکھ جا تی تھیں، اور ہر اس معصوم کردار کے لیے جو کبھی میری زندگی کا حصہ رہا ہے اور جس کی پیاری یاد آج بھی میرے دل کو منور رکھتی ہے۔

    بچوں کے سکول کالجز نے آن لائن کلاسز شروع کر دی ہیں۔ عمر صبح نو بجے کا الارم لگا کر سوتے ہیں۔ جونہی الارم بجتا ہے اٹھ کر کلاس میں لاگ ان کرتے ہیں، حاضری لگاتے ہیں اور دوبارہ سو جاتے ہیں۔ ادھر بے چارے ٹیچرز کلاس لیے جاتے ہیں اور ادھر عمر صاحب خراٹے ۔بے چارے ابراہیم کو اتنا کام ملتا ہے جتنا سکول کے پانچ گھنٹوں اور گھر کے ایک گھنٹے میں ہوا کرتا تھا۔ گھر میں رہ کر سکول کی طرح پڑھنا کتنا مشکل ہے یہ کوئی گھر بیٹھے بچوں سے پوچھے۔ سب سے زیادہ مشکل میں جان منجھلے صاحبزادے مصطفی کی ہے۔ یہ حضرت بے انتہا سوشل ہیں۔ آپ ملک کے کسی شہر کا نام لے لیجئے۔ وہاں ان کے دوست موجود ہوں گے۔ چنانچہ ہمہ وقت یہ زمین کا گز بنے پاکستان کاطول و عرض ناپ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی چڑے کھانے گوجرانوالہ جا رہے ہیں تو کبھی دوست کو باڈی بلڈنگ چمپئن شپ جتانے شیخوپورہ۔ ایک مرتبہ تو دوستوں کے ساتھ فجر کے وقت لاہور سے نکلے، پشاور جا کر شنواری کڑاہی دنبے کے گوشت کی کھائی اور عشا تک واپس بھی آگئے۔ اب انہیں گھر بیٹھنا پڑا ہے تو بے چارے سخت غمگین ہیں۔ سارا دن یا کتابیں پڑھتے ہیں یا ابراہیم کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہیں۔ ابراہیم اپنا ہوم ورک بھی مصطفی ہی کے پاس بیٹھ کرکرتا ہے۔ 

     تو آج مصطفی میرے پاس آیا اور آزردگی سے بولا۔ ”میری بس ہو گئی ہے۔ I need to go out.“

    ”کدھر go out.؟“ میں نے پریشان ہو کر پوچھا۔ ”باہر لاک ڈاﺅن ہے بیٹا۔“

    ”چند دوست مل کر راشن بانٹ رہے ہیں۔ سوچ رہا ہوں ہاتھ بٹانے چلا جاﺅں۔“

    میں تذبذب کے عالم میں کھڑی سوچتی رہی۔ روکوں؟ نہ روکوں؟ مدد کے کاموں سے تو کبھی نہیں روکا، پھر اب کیا کروں؟

    آخر اللہ پر بھروسا کیا او راس شرط پر جانے دیا کہ ماسک لگا کر جاﺅ گے اور جلد از جلد واپس آﺅ گے۔ مصطفی گیا اور میرا دل اپنے ساتھ لے گیا۔ میں بے قراری سے ایک کمرے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے میں پھرنے لگی۔ پھر دل کو بہلانے کے لیے اپنے کمرے میں آکر کتاب لے کر بیٹھ گئی۔ ابھی بیٹھی ہی تھی کہ باہر سے بلیوں کے لڑنے اور غرانے کی خوفناک آواز آئی۔ یہ آوازیں ہم سب گھر والوں کے لیے گویا نقارئہ جنگ ہیں۔ جب سے سمبا ہمارے گھر آیا تھا۔ اردگرد کے بدمعاش بلے موقع پا کر اس پر حملہ آور ہو جاتے تھے۔ بلیوں کے غرانے کی آواز آتے ہی ہم باہر بھاگتے اور سمبا کو دشمن بلوں کے پنجوں سے چھڑا کر اندر لے آتے۔ آج جب یہ ہولناک آوازیں آئیں تو نیچے کے پورشن میں میں اکیلی تھی۔ گھبرا کر اتنی تیزی سے اٹھی کہ کتاب میرے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری۔ جلدی اور گھبراہٹ میں میں ننگے پاﺅں باہر بھاگی۔ باہر گئی تو وہ نظارہ دیکھنے کو ملا کہ میں ہکا بکا جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔ سمبا پورچ میں تن کے کھڑا تھا۔ اس کے تمام بال تیروں کی طرح اوپر کھڑے تھے۔ آنکھیں چیتے کی طرح چمک رہی تھیں اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا سفید بلا اپنے آپ میں دبکا سہما کھڑا تھا۔

    ”سمبا؟“ میں نے بے یقینی سے پکارا۔ ”یہ کیا کر رہے ہو؟“

    سمبا نے یوں میری طرف دیکھا جیسے وارننگ دے رہا ہو کہ اس معاملے سے دور رہو۔ کیا یہ میرا چھوٹا سا، معصوم، نیک فطرت سمبا تھا؟ اس وقت مجھے خیال آیا کہ بلیوں کی اوسط عمر آٹھ سے دس سال کے درمیان ہوتی ہے اور سمبا اس وقت دو سال کا ہے۔ اگر اس عمر کو انسانی عمر پر منطبق کیا جائے تو اس کلیے کے مطابق سمبا اس وقت بیس سال کا کڑیلا جوان ہے۔ ٹھیک ہے جوانی سب پر آتی ہے اور جوانی میں خون بھی سبھی کا گرم ہوتا ہے لیکن اس جنگ و جدل کے کیا معنی؟

    میرے دیکھتے ہی دیکھتے سمبا نے دانت نکال کر غراتے ہوئے حملہ کیا اور ننھے بلے کو رگیدتا ہوا دور تک لے گیا میں ہش ہش کرتی پیچھے دوڑی۔ سمبا نے میرے آنے کی مطلق پرواہ نہ کی اور یکبارگی اس شدت سے بلے پر جھپٹا کہ مجھے لگا مار ہی ڈالے گا۔ میں نے تیزی سے ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔ لان میں مجھے ایک ٹوٹی شاخ نظر آئی۔ میں بھاگ کر گئی اور اسے اٹھا لائی ۔اتنی دیر میں سمبا اپنے شکار کے بالوں کے گچھے کے گچھے نوچ چکا تھا۔ میں نے سوکھی ہوئی شاخ سے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ سمبا پیچھے ہٹا تو ننھے بلے کو بھاگنے کا موقع مل گیا۔ سمبا غراتا ہوا اس کے پیچھے لپکا اور دونوں تیر کی سی تیزی سے بھاگتے ہوئے ایک طرف کو غائب ہو گئے۔ میں سمبا کو آوازیں دیتی رہ گئی۔

    حیران پریشان میں اندر گئی۔ ابراہیم نیچے آیا تو میں نے اسے سمبا کی کارگزاری سنائی۔ وہ بھی حیران ہوا، باہر جا کر سمبا کو تلاش کیا، وہ کہیں نہ ملا۔ اندر آکر ابراہیم نے ٹی وی لگایا اور مزے سے نیم دراز ہو کر دیکھنے لگا۔ میں کچھ مصطفی کے جانے سے بے قرار تھی، کچھ سمبا کی حرکتوں نے مجھے حیران پریشان کیا تھا، میں ابراہیم پر خفا ہونے لگی۔

    ”جب دیکھو ٹی وی کے آگے جمے ہوتے ہو۔“ میں ناراضی سے کہنے لگی۔ ”پڑھ کیوں نہیں رہے؟“

    ”اماں میں صبح سے پڑھ رہا ہوں اور نہیں پڑھ سکتا۔“ ابراہیم نے بسور کر کہا۔

    ”صبح سے کہاں پڑھ رہے ہو؟“ میں نے خفا ہو کر کہا۔ ”بارہ بجے تو سو کر اٹھے تھے۔ اتنا کام ختم کیسے ہو گا۔ پڑھائی پر دھیان دینا شروع کرو، یہ نہ ہو مجھے بابا سے شکایت کرنی پڑے۔“

    میں بولتے بولتے اپنے کمرے میں آگئی۔ چند لمحوں بعد مجھے ٹی وی بند ہونے کی آواز آئی۔ پھر ابراہیم کے خاموشی سے اٹھنے اور اوپر چلے جانے کی آواز۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ آٹھواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ آٹھواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    آٹھواں دن: 31 مارچ 2020ء

    ڈیئر ڈائری!

    آج ہمارے میاں صاحب کی سالگرہ تھی۔ یوں تو جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے ہم نے نت نئے کھانے بنانا بند کر دیا ہے اور اس بچت سے ہم وہی کر رہے ہیں جو اس صورتحال میں ہمیں کرنا چاہیے۔ لیکن آج ذرا خاص دن تھا اور خاص دن کا تقاضا تھا کہ کچھ اچھا سا پکایا جائے اور ان ٹینشن کے دنوں میں سیلبریشن کا ماحول پیدا کر کے خوشی کا کچھ سامان کیا جائے۔ لہٰذا چکن روسٹ کیا، دو طرح کا سلاد بنایا اور ساتھ ڈھیروں فرنچ فرائز بنائے۔ حمس ابراہیم نے بنا لیا۔ آخر میں میں نے اپنا مشہور زمانہ چیز کیک پیش کیا اور یوں ہم نے گھر میں ایک چھوٹی سی دعوت منائی۔ 

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ان چھوٹی چھوٹی (اور بڑی بھی) خوشیوں کی جو پریشانی اور خوف کے دنوں میں زندگی ہمیں پیش کرتی ہے۔ یوں جیسے حبس زدہ کمرے میں ایک چھوٹی سی کھڑکی کھول دی جائے اور ہوا کے ٹھنڈے خوشبو دار جھونکے سانس لینا آسان کر دیں۔ کبھی کبھی یہ کھڑکیاں ہمیں خود کھولنی پڑتی ہیں۔ بڑی محنت سے، بڑے صبر سے اور بڑے جان جوکھم سے۔ لیکن خوشیوں کی ان کھڑکیوں سے زندگی کا نظارہ اس قدر دلفریب ہے کہ مچل جاتا ہے رگِ زندگی میں خونِ بہار

    اس لیے دوستو! زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو لپک کر پکڑو، ان سے پیار کرو، سیلبریٹ کرو، زندگی کو یوں جیو جیسے اسے جینے کا حق ہے۔

    ٹینشن دینے کا کام ٹی وی تو بخوبی کر ہی رہا تھا، اب اخبار بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ ٹی وی تو میں دیکھتی نہیں۔ ہاں اخبار پڑھنے کی لت بچپن سے ہے۔ جب تک ساری خبریں اور کالم نہ پڑھ لوں چین نہیں آتا۔ آج کا اخبار کھولا تو یہ کالم نظر پڑے۔

    ”ایک دن موت آنی ہی آنی ہے،“ ”کرونا اور ٹائیگر فورس“، ”کرونا وبا کے معیشت پر اثرات“، ”ہندوستان کرونا کے لیے تیار نہیں تھا،“ ”وبائیں اور توہم پرستی“، ”کرونا سے کشمیر کی حالت مخدوش“ اور اسی طرح کے چند اور ایڈیٹورل بھی تھے۔ گھبرا کر میں نے اخبار رکھ دیا اور ٹی وی سے رجوع کیا۔ وہاں ایک صاحب نہایت افسوس سے اطلاع دے رہے تھے کہ امریکا میں بہت حالات خراب ہیں لیکن پاکستان میں لوگ مر ہی نہیں رہے۔ ڈھیٹ کہیں کے۔

    ٹی وی سے اکتا کر انٹرنیٹ کھولا۔ وہاں نت نئی سازشی تھیوریاں، کرونا کے علاج کے تیر بہدف نسخے اور عذاب کی وعیدیں بھری پڑی تھیں۔ فیس بک پر ایک صاحب ڈانٹ رہے تھے کہ یہ سارا عذاب ان عورتوں کی وجہ سے آیا ہے جو بنا دوپٹے کے گھر سے نکلتی ہیں۔ وہ گھر نہیں بیٹھیں اس لیے آج مردوں کو گھر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔ اس سے اگلی پوسٹ ایک نوجوان لڑکے کی ویڈیو تھی جو زنانہ لباس پہنے سر پر دوپٹہ اوڑھے کسی شرمائی لجائی دوشیزہ کی طرح موٹرسائیکل پر بیٹھا کہیں جا رہا تھا۔ پولیس والوں نے اس نیک بی بی کو روکا تو رخِ روشن پر داڑھی نظر آئی ، اور تمیز فاطمہ کے بھیس میں سے تمیزالدین برآمد ہوئے۔ اکبر الٰہ آبادی بے پردہ بی بیوں کو دیکھ کر غیرتِ قومی سے زمین میں گڑ گئے تھے۔ نہ جانے آج قوم کے مردوں کو باپردہ دیکھ لیتے تو کیا کرتے۔

     فیس بک پر بہت سے لوگ قیامت کی بشارت دیتے نہیں تھکتے۔ کچھ کا انداز ڈرانے والا ہوتا ہے کچھ کا بغلیں بجانے والا۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ خود ہی اٹھا کر صور پھونک دیں اور سب گناہگاروں کا خود ہی حساب شروع کر دیں۔ ویسے قیامت آنے کی جتنی نشانیاں یہ اصحاب ہمیں بتاتے ہیں وہ نہ صرف پوری ہو چکی ہیں بلکہ اب تو نشانیوں کا پیالہ لبریز ہو گیا ہے اور نشانیاں چھلک چھلک کر باہر گر رہی ہیں۔ جھوٹ بولنا، پورا نہ تولنا، قتل و غارت گری جیسی وجہیں پرانی ہو چکی ہیں۔ آج کل قیامت دوپٹے کے سرکنے اور آستینوں کے چھوٹے ہونے سے آتی ہے۔

    لیکن فیس بک پر صرف حکیمی ٹوٹکے اور قیامت کی پیشین گویاں ہی نہیں ہیں، کچھ فسانہ¿ ہائے عجائب بھی ہیں۔ ان کے قصہ گو وہ لوگ ہیں جو خود کو فیس بکی رائٹر کہتے ہیں۔ ان میں ننانوے فیصد خواتین ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج کی عورت آواز بلند کر رہی ہے۔ لیکن جب ان کا لکھا پڑھتے ہیں تو جی چاہتا ہے ہاتھ جوڑ کر عرض کہ بی بی آواز اٹھاﺅ ضرور اٹھاﺅ لیکن خدارا قلم نہ اٹھاﺅ۔ کیوں کہ قلم کا یہ عالم ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نے پا ہے رکاب میں۔

    ایک کہانی کی ہیروئن چائے کے بھرے مگ میں کلیاں کر رہی ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے گرم گرم چائے کا بڑا سا گھونٹ بھر لیا تھا۔ جب منہ جلا تو وہی چائے واپس مگ میں اگل دی۔ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ چائے کا مگ ان کا اپنا نہیں ہیرو صاحب کا تھا جو انہوں نے اس امید پر ہیروئن کو پینے کے لیے دیا تھا کہ شاید جھوٹی چائے پینے سے دونوں میں محبت ہو جائے۔ محبت کا تو پتا نہیں البتہ کرونا ضرور ہو جائے گا۔ کچھ اور بھیانک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔

    ایک اور محترمہ رومانس لکھ رہی ہیں اور ایسا دھانسو لکھ رہی ہیں کہ ہم یہاں نقل کر دیں تو فحاشی کے الزام میں دھر لیے جائیں۔ ان کے خر دماغ اور تشدد پسند ہیرو کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ہو نہ ہو ان کی ہیروئن جلد ہی عورت مارچ میں نعرے لگاتی ملے گی۔ لیکن وہ محترمہ بھی اپنے نام کی ایک ہیں۔ مار کھاتی ہیں، جوتے کھاتی ہیں، گالیاں کھاتی ہیں اور بھی جو کچھ ہیرو بقدر استطاعت انہیں کھلاتا ہے کھاتی ہیں، لیکن محبت کیے جاتی ہیں۔ آخر میں ہیرو کا دل موم ہو جاتا ہے اور دونوں ظالم و مظلوم ایک ہو جاتے ہیں۔ واہ ، کیا ہی کنڈل مار کر بیٹھا ہے جوڑا سانپ کا۔

    یوں لگتا ہے کہ جونہی کوئی خاتون فیس بک پر کچھ تحریر کرنے کے لیے قلم اٹھاتی ہے، فیس بک مچل جاتی ہے اور شرط رکھتی ہے کہ 

     پہلے تو روغنِ گل بھینس کے انڈے سے نکال

    کسی زمانے میں شاعری، آرٹ اور ادب کو بادشاہوں اور نوابوں کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ ہمارے زمانے میں یہ بیڑا فیس بک نے اٹھا لیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ فیس بک کا ہر رائٹر بھینس کے انڈے سے روغنِ گل نہیں نکال رہا۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو

     رگِ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

  • قرنطینہ ڈائری ۔ ساتواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    سارہ قیوم

     

    ساتواں دن: 30 مارچ 2020ء

    ڈیئر ڈائری:

    آج میں بہت خوش ہوں۔پوچھو کیوں؟ کیوں کہ اتوار کو میں نے چھٹی منائی۔ اور اس طرح نہیں منائی جیسے گھر کی عورت مناتی ہے بلکہ اس طرح منائی جیسے گھر کے مرد اور بچے مناتے ہیں۔ نہ صفائی کی، نہ کھانا پکایا، نہ کچھ لکھا۔ بس صرف لاؤنج اور کچن کی اوپری سی صفائی کر لی۔ نہ دروازے کھڑکیاں چمکائیں، نہ ڈسٹنگ کی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بستر نہیں بنایا۔ بستر نہ بنانے میں بڑی حکمت ہے دوستو۔ جب جب کھلے کمبل پر نظر پڑتی ہے، خیال آتا ہے کہ چھٹی کا دن ہے، ہڈحرامی کا ارادہ ہے، جب دل چاہے گا بستر میں گھس کر اینڈ لیں گے۔ اخبار بستر میں پڑھیں گے، چائے بستر میں پئیں گے، فون پر دوستوں سے گپیں بستر میں لگائیں گے اور جب اتنے کاموں سے تھک جائیں گے تو وہیں بستر میں لیٹے لیٹے سو جائیں گے۔ بچپن میں پڑھی کہانی کا وہ کوا یاد آتا ہے جو چڑیا کا بچہ کھانے کا ارادہ کر کے کنوئیں پر جا پہنچا تھا اور رہ رہ کر آواز لگاتا تھا کہ گھڑا بنائیں، پانی بھرائیں، چونچل دھلائیں، کھائیں چڑی کا چونگڑا پھر پھڑکائیں کلہ۔ تو اتوار کا سارا دن ہم نے بستر میں گھسے کلے پھڑکاتے گزارا۔ ہاں بھئی ہماری زندگی ہماری مرضی۔

    تو ڈیئر ڈائری آج میں شکرگزار ہوں اس خوشی کے لیے جو کبھی کبھی اپنی مرضی کرنے سے ملتی ہے۔ والٹئیرنے کہا تھا، انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہے۔ یہ زنجیریں فرائض کی ہیں، رشتوں کی ہیں، فائدے نقصان کی ہیں، ’لوگ کیا کہیں گے‘ کی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی، وہ جسے انگریز ی میں کہتے ہیں نا ”Once in a blue moon.“ ان سب زنجیروں کو توڑ کر کوئی ایک دن اپنی مرضی کا جینے میں بڑا مزا آتا ہے۔ ایک بغاوت کا سا مزا۔بچہ بن جانے کا مزا۔ یہ اور بات کہ میرے بچے تشویش سے میری طبیعت پوچھنے آتے رہے۔کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے اور سرگوشیوں میں آپس میں باتیں کرتے رہے۔ اور آج صبح جب میں نے اٹھ کر صفائی کا شور مچایا اور سب کو اپنے بستر تہہ کرنے اور لاؤنج سمیٹنے کا حکم دیا اور ایک کے ہاتھ میں جھاڑو اور دوسرے کے ہاتھ میں ڈسٹر تھمایا تو سب یوں خوش ہوئے جیسے انہیں ان کی کھوئی ہوئی ماں دوبارہ مل گئی ہو۔ مجھے OCD کے طعنے دینے کے بجائے سب فرمانبرداری سے صفائی میں میرا ہاتھ بٹانے لگے۔ تو ڈیئر ڈائری آج میں اس خوشی کے لیے بھی شکر گزار ہوں جو تازہ دم ہو کر فرائض کی طرف لوٹنے پر ہوتی ہے اور اس سکون اور طمانیت کے لیے ممنون ہوں جو ایک لگی بندھی روٹین میں ہوتا ہے۔

    شام کو واک پر نکلی تو ایک گھر کے باہر ایک سوٹڈ بوٹڈ صاحب نظر آئے۔ ٹائی لگائے، جوتے چمکائے، شیو بنائے، بالوں کو جیل سے بٹھائے اپنے گیٹ کے باہر کھڑے تھے اور فون پر باتیں کرتے تھے۔ مجھے آتے دیکھا تو کن اکھیوں سے یوں دیکھنے لگے گویا ڈرتے ہوں کہ کہیں پاس سے نہ گزر جاؤں۔ میں بچہ موڈ میں تو تھی ہی، دل میں شرارت سوجھی کہ ان کے پاس جا کر چھینکوں اور بھاگ لوں۔ اگر یہ پکڑنے آئے تو فوراً کھانسنے لگوں گی۔ پھر ان کی گھبرائی ہوئی شکل دیکھ کر ترس آگیا۔ بڑی مشکل سے اپنے تئیں اس ارادے سے باز رکھا۔ گارشیا مار کینزنے ناول، ”وبا کے دنوں میں محبت“ لکھا تھا، ہم لکھیں گے۔ ”وبا کے دنوں میں شرارت۔“

    ارے! ناول سے مجھے یاد آیا آج فیس بک پر ایک محترمہ نے کوئی اچھا سا ناول بتانے کی فرمائش کی ہے جس کی کہانی ان کے مطابق کچھ یوں ہو (میں ان کے الفاظ یہاں من و عن نقل کر رہی ہوں) ”کوئی ایسا ناول نیم بتا دیں جس میں ہیرو ہیروئن ہسبینڈ وائف ہوں، بٹ ہیرو ہیروئن کو اگنور کرے، انسلٹ بھی کرے اور اس میں ایک سائیڈ ہیرو بھی ہو جو ان دونوں کی لائف میں آئے پھر ہیروئن ہیرو پر کم فوکس کرے اور اگنور کرے اور سائیڈ ہیرو میں انٹرسٹڈ ہو جائے اور ہیرو کے بجائے سائیڈ ہیرو سے ہنس ہنس کر باتیں کرے شاپنگ وغیرہ کی فرمائش کرے ہیرو ان دونوں کو دیکھ کر جیلس ہو پھر بعد میں احساس ہو کہ وہ ہیروئن سے لَو کرتا ہے اور اسے کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا پھر وہ ہیروئن کو سائیڈ ہیرو سے دور رہنے کو کہے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جائے سائیڈ ہیرو سے دور اور کہے تم صرف میری ہو اور زبردستی اس کو اپنے ساتھ رکھے پھر ہیروئن کو بھی بعد میں ہیرو سے لَو ہو جائے، ناول شارٹ ہو تو زیادہ بہتر ہے ورنہ لانگ بھی چلے گا۔ سیم سٹوری کا، پلیز نیم بتا دیں۔“

  • بجلی کا میٹر ۔ افسانچہ

    بجلی کا میٹر ۔ افسانچہ

    بجلی کا میٹر

    بلال شیخ

    شاہد دکان پر اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور کچھ فائلز اس کے ہاتھ میں تھیں۔ شاہد نے اسے دیکھا تو بیٹھنے کے لئے کہا۔

    ”جی السلام علیکم! میں بجلی کے محکمے سے آیا ہوں۔ آپ کا میٹر خراب ہے، ہمیں یہ میٹر بدلنا ہو گا اور آپ کو کچھ چارجز ادا کرنے ہوں گے۔“ اس شخص نے فائلز سیدھی کرتے ہوئے کہا تو شاہد حیران رہ گیا۔

    "جی میں نے دو ہفتے پہلے تو میٹر بدلوایا ہے اور تیس ہزار روپے بھی ادا کیے ہیں۔” شاہد نے بڑی سادگی لیکن حیرانی سے کہا۔ اس افسر نے یہ سنا تو پریشان ہو گیا اور سر کھجانے لگا۔

    "اچھا تو ایسا کریں کہ آپ پانچ ہزار روپے دے دیں، میں آپ کی فائل کلیئر کر دیتا ہوں” افسر نے فائل پر کچھ لکھتے ہوئے کہا۔

    "جی؟” شاہد نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں پاس والی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی۔

    "شاہد صاحب ذرا جلدی کریں مجھے نماز بھی پڑھنی ہے، میری نماز نکلی جا رہی ہے۔” افسر نے جلدی کرتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا اور شاہد اس کا منہ تکتا رہ گیا۔

    ٭….٭….٭

  • احساس ۔ افسانچہ

    احساس ۔ افسانچہ

    احساس

    ماہ وش طالب

    وہ ہمیشہ ہی اپنی قسمت سے نالاں رہی۔ بچپن میں باپ کا انتقال اور پولیو کے وائرس نے اسے بالکل مایوس کردیا۔ اس ظالم معاشرے میں اپنی بقا کے لیے اس نے کمر کس لی مگر، اس پلِ صراط کے سفر نے اس کے اندر تلخی بھر دی۔

    ”اس ملک میں سکون سے جینے کے لیے قرض ادا کرنا ہی پڑتا ہے، ہنستے مسکراتے چہرے اس معاشرے کو اچھے ہی نہیں لگتے۔“ ذرا ذرا سی غیر معمولی بات پر وہ برملا خیال آرائی کرتی۔

    آج آفس میں ویرانی تھی۔ حیران ہوتے ہوئے اس نے ایل سی ڈی آن کی تو معلوم ہوا کہ یومِ کشمیر منایا جارہا ہے۔

    ”بھارتی فوج کی بربریت سے ایک خاندان کے چار افراد زندہ جل گئے۔ اس نے ”استغفار“ کہہ کر چینل بدلا۔

    ”مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے نہتی خواتین کو درندگی کا نشانہ بنایا، عوام بے بس، حکومت خاموش“ اس بار وہ چینل نہیں بدل سکی، یہ احساس کہ آزادی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے، بہت بھاری تھا۔

  • قرنطینہ ڈائری – چوتھا دن

    قرنطینہ ڈائری

    سارہ قیوم

    چوتھا دن: جمعہ 27 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    کل کھوئے جانے (اور پھر پائے جانے) کے تجربے نے ہمیں کچھ نڈر سا کر دیا اور آج واک کے لئے نکلتے ہوئے دل کو یہ تسلی تھی کہ اس سوسائٹی میں ہم مثل خورشید رہتے ہیں، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ،ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ یعنی جب تک سوسائٹی کے اندر ہیں کھوئے جانے کا ڈر نہیں۔ جہاں بھی چلے جائیں گے ،آخر کو پہنچیں گے اپنی گلی میں ہم ۔ چنانچہ آج بھی ماسک چڑھایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ باہر نکلتے ہی ایسی خنک ہوا نے استقبال کیا کہ جھرجھری آگئی۔ آج صبح سے بارش ہوتی رہی تھی اور سردی جاتے جاتے ایک بار پھر لوٹ آئی تھی۔ ارادہ کیا کہ واپس آتے ہی کمبل ،جو پیک کر دیا گیا تھا، واپس نکالوں گی کیوں کہ مجھے سردی زیادہ لگتی ہے اور اس ٹھنڈ میں کمبل کے بغیر نیند نہ آئے گی۔ خنک موسم میں نرم گرم کمبل میں دبک کر سونے کے خیال سے دل کو بڑی مسرت ہوئی۔

    کل چوں کہ پارک کی طرف گئی تھی اور گم گئی تھی لہٰذا آج دوسری طرف کا راستہ اختیار کیا۔ فریدہ آنٹی کے گھر کے سامنے سے گزری جنہوں نے اپنے گھر کے ساتھ والے خالی پلاٹ میں کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور جہاں سے مونگرے اور میتھی جیسی نعمتیں وہ وقتاً فوقتاً ہمیں بھیجتی رہتی ہیں۔ کچھ دیر کھڑے ہو کر میں ان کے باغ کو دیکھتی رہی۔ مونگرے کے پودوں پر سفید پھول آنے لگے تھے۔ سلاد کے پتوں کے گٹھے بارش میں نکھرے یوں لگ رہے تھے جیسے ہرے طوطے اپنے پَرپھیلائے بیٹھے ہوں۔ ان کے ساتھ دھنیے کی کیاری تھی اور اس سے ذرا آگے ایک پودے پر ننھی منی بھنڈیاں لگی تھیں۔ بھنڈیاں ارے واہ! بھنڈیوں کو دیکھنے ہی یوں لگا جیسے کسی نے گرمی کے موسم کی آمد کا نقارہ بجا دیا ہو۔ پلک جھپکتے میں گرما کی نعمتیں میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ وہ آموں کے ٹوکرے، وہ فالسے کا شربت، وہ میٹھے تربوز، آڑو، آلو بخارے، چٹپٹی بھنڈیاں، میٹھی لسی، وہ گرم دوپہر میں لمبی تان کے سونا، وہ فجر کا سہانا سماں۔ فبای الا ربکما تکذبانِ ۔ میں نے پیچھے مڑ کے اپنے گھر کو دیکھا جس کی ایک الماری میں میرا وہ نرم گرم کمبل پڑا تھا جسے میں گھر واپس آکر نکالنے والی تھی اور میں نے اپنے سامنے اس باغ کو دیکھا جس میں گرمی کی سبزیاں پھل پھول رہی تھیں۔ مجھے یونانی دیو مالا کا دیوتا جونوس یاد آیا جس کے دوسر تھے۔ ایک ماضی کو دیکھتا تھا، دوسرا مستقبل کو ۔ اسی وجہ سے سال کے پہلے مہینے جنوری کا نام اس کے نام پر رکھا گیا۔ یعنی اسے وہ مہینہ اور وقت قرار دیا گیا جو گزرے سال اور آنے والے سال کو جوڑتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک رابطہ ہے۔ فریدہ آنٹی کے باغ کے سامنے کھڑے میں بھی وقت کے اسی پل میں کھڑی تھی جس میں بیک وقت ماضی سے لوٹ آنے والی مسرت کا ایک لمحہ تھا اور مستقبل کی نعمتوں کی نوید تھی۔ تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں وقت کے اس میزان کی جو گزری اور آنے والی نعمتیں اپنے پلڑوں میں سجائے ساکت اور برابر قائم ہے اور میں شکرگزار ہوں اس موقع کی کہ میں ہاتھ بڑھا کر دونوں پلڑوں کی نعمتیں اٹھا سکتی ہوں۔

    کِن مِن بوندیں پڑنے لگی تھیں۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے اور تیز قدموں سے چل پڑی۔ بوندیں اتنی ہلکی تھیں کہ چند قدم چلنے کے بعد کہیں ایک پھوار سی چہرے پر محسوس ہوتی تھی۔ اگر میں تیز چلوں تو دو کلومیٹر تو کر ہی سکتی ہوں۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ نہ آدم نہ آدم ذاد۔ میں گرین بیلٹ کے ساتھ چلتی گئی۔ سوسائٹی کی عقبی دیوار تک پہنچتے پہنچتے گرین بیلٹ اتنی چوڑی ہو جاتی ہے کہ باقاعدہ ایک میدان بن جاتا ہے۔ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ابراہیم یہاں فٹ بال کھیلنے آیا کرتا تھا۔ تب یہاں بے حد رونق ہوتی تھی۔ لوگ چہل قدمی کر رہے ہوتے تھے، مائیں چھوٹے بچوں کو پرام میں لے کر گھوم رہی ہوتی تھیں۔ ایک جگہ کرسیوں پر چند معمر حضرات کی محفل جمی ہوتی تھی جو وقفے وقفے سے فٹ بال کھیلنے والے پرجوش، پسینے میں بھیگے بچوں کو بلا کر پانی پلایا کرتے تھے۔ آج یہاں سناٹا تھا۔ اگر تھی تو بس فطرت کی آواز۔ وہ آواز جسے سننے کے لیے دل کو کان ہونا پڑتا ہے۔

           فطرت کا ساز بھی کیا ساز ہے

           بج رہا ہے اوربے آواز ہے

    راستے میں ایک گھر کے باہر اتنے بڑے گلاب لگے نظر آئے کہ میں ٹھٹک کر رک گئی۔ خون کے رنگ کے سرخ گلاب سائز میں چھوٹی پلیٹ کے برابر تھے۔ کمال ہے فطرت کی صناعی بھی۔ چلتے چلتے ایک گلی میں پھولوں سے لدی بیل نظر آئی اور میں غڑاپ سے اس گلی میں گھس گئی۔ ارے آج ہم نڈر ہیں، کل کی طرح تھوڑی کہ ”پھرتے ہیں میرخوار کوئی پوچھتا نہیں۔“ بس ناک کی سیدھ میں چلتے جائیں گے اور کسی نہ کسی ایسے جانے پہچانے رستے پر جا نکلیں گے جو ہمارے گھر کو جاتا ہو گا۔

    گھر آئی تو اندر کمرے میں سے ابراہیم کی آواز آرہی تھی۔ وہ سمبا سے باتیں کر رہا تھا۔ میں باہر لاﺅنج میں کھڑے ہو کر سننے لگی۔

    ”عقل کیا کرو سمبا۔“ ابراہیم نے تلقین کی۔

    ”میاﺅں۔“ سمبا نے جواب دیا۔

    ”نہ نہ باہر نہیں جانا۔“ ابراہیم نے سمجھایا۔ ”باہر کرونا پھر رہا ہے۔ چھوٹے بچوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اگر تمہیں کرونا ہو گیا تو تمہیں پولیس والے پکڑ کر لے جائیں گے اور کوارنٹین میں بند کر دیں گے۔ پھرہم کیا کریں گے؟“

    ”میاﺅں میاﺅں۔“ سمبا نے کہا۔

    ”میاﺅں میاﺅں کیا؟“ ابراہیم نے پوچھا۔ ”دیکھو سمبا اگر وہ تمہیں لے گئے تو ہم تو کوئی نئی بلی ڈھونڈ لیں گے اور اسے پال لیں گے۔ لیکن تم کیا کرو گے؟ تمہیں اور کون اتنا پیار کرے گا؟“

    اے میرے رب! ہم بھی تیرے سامنے سمبا کی طرح ہیں۔ عاجز، بے پرواہ اور نالائق۔ اپنے اچھے برے سے اور اپنے انجام سے بے خبر۔ ہمیں اپنی پناہ میں رکھ، ہمیں ہمارے نفس کے اور شیطان کے حوالے نہ کر۔ تجھے تو پالنے کے لئے اور شفقت کرنے کے لئے بہت سی مخلوق مل جائے گی مگر ہمارا تو تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں۔ تو ہم سے بے نیاز ہو گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ اے روزی دینے والے، گناہگاروں کی پردہ پوشی کرنے والے، عذاب سے ڈرنے والوں کو امن دینے والے اور اے بیماروں کو شفا دینے والے، اس بیمار انسانیت سے اس وبا کو ٹال دے۔ اے ستر ماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے، ہمیں اپنی آغوش محبت میںلے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    ٭….٭….٭

  • قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    تیسرا دن: جمعرات 26 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    رات خواب میں مرزا غالب کو دیکھا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک مشاعرہ ہے۔ قافیہ ہے رات، بات اور ردیف ہے ”یاخدا“۔ مرزا غالب میرے بائیں جانب بیٹھے ہیں، ہاتھ میں پرچہ ہے جس پر غزل لکھی ہے۔ میں اشتیاق سے ان کے پرچے کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس پر غالب کے شایانِ شان کوئی شعر لکھا ہے۔ مرزا مجھے اپنی غزل پڑھتا پا کر ابرو اچکاتے ہیں اور گردن بڑھا کر میرے ہاتھ میں پکڑا پرچہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری نظر اپنے کاغذ پر پڑتی ہے اور وہاں اس قسم کا ایک شعر لکھا ہے۔

              ہو گئی ہے ان سے ملاقات یا خدا

             کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا

    یا خدا! میں گھبرا کر اپنا کاغذ غالب سے چھپانے کی کوشش کرتی ہوں اور اس گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ خدا کا شکر کہ یہ خواب تھا اور میں اس شعر کے غالب کی نظروں میں آنے کی بے عزتی سے بچ گئی۔ ویسے دیکھا جائے تو نکما ہی سہی لیکن یہ شعر میرے خواب کی صورتحال پر بڑا فِٹ بیٹھتا ہے۔ خواب میں ہو رہی ہے غالب سے ملاقات ےاخدا، کبھی خواب میں بھی نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔

    اخبار اٹھانے باہر نکلی تو دیکھا کہ لان میں مالی چہرے پر ماسک چڑھائے مشین سے گھاس کاٹ رہا ہے اور ہمارا پالتو بلا سمبا دروازے کے آگے بیٹھا بڑی بے نیازی سے اسے دیکھ رہا ہے۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب سمبا نیا نیا ہمارے گھر آیا تھا۔ میں اپنی ایک دوست سے اسے جب لے کر آئی تھی تو وہ دو مہینے کا تھا اور ایک ہتھیلی میں سما جاتا تھا۔ گھر لاتے ہی سمبا لان کی ایک جھاڑی میں جا چھپا اور ہمارے لاکھ پچکارنے بلانے پر بھی باہر نہ نکلا۔ جب ہم اسے باہر نکالنے کی کوشش میں ناکام ہو کر تھک ہار کر اندر آنے لگے تو عین اس وقت مالی اپنی مشین لے کر آگیا اور گھاس کاٹنا شروع کر دی۔ سمبا نے جو یہ ہیبت ناک آواز سنی تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ اچھل کر نکلا اور تیر کی سی تیزی سے بھاگتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ میں اور بچے گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگے۔ آخر آدھے گھنٹے کی کوششوں کے بعد کہیں سمبا صاحب ہاتھ لگے اور انہیں پکڑ کر گھر لایا گیا جہاں آتے ہی وہ دوبارہ جھاڑی میں جا چھپے۔ یہ معمول تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا تاوقتیکہ سمبا ہم سے مانوس نہ ہو گیا اور گھر کے اندر آنے جانے لگا اور ہمارے ہاتھ سے کھانا کھانے لگا۔ یوں ہم نے اور سمبا نے ایک دوسرے کو دل سے اپنا لیا۔

     کبھی کبھی میں سوچتی ہوں دنیا کی ہر کہانی محبت کی کہانی ہے۔ ہر جذبہ، ہر الفت، ہر دوستی، ہر احسان حتیٰ کہ ہر نفرت کے ڈانڈے بھی کہیں نہ کہیں کسی محبت سے جا ملتے ہیں۔ اور محبت کی دو قسمیں ہوتی ہیں، اول کسی رشتے یا غرض کی محبت اور دوم بے غرض محبت۔ سمبا ہم سے اس لیے مانوس ہے کہ ہم اس کے قیام و طعام کا بندوبست کرتے ہیں۔ لیکن ہم سمبا سے کیوں محبت کرتے ہیں، یہ آج تک سمجھ نہ آیا۔ جب میں ننھے سمبا کو گھر لے کر آئی تھی تو میرے میاں صاحب بہت ناخوش ہوئے تھے۔ انہیں بلی کے بالوں سے بچوں کو الرجی ہو جانے کا ڈر تھا اور سمبا کو لانے کی اجازت انہوں نے اس شرط پر دی تھی کہ وہ گھر کے اندر نہیں لایا جائے گا۔ یوں ہم نے سمبا کو پورچ میں ایک ٹوکری میں رکھ لیا۔ شروع شروع میں مجھے سمبا سے لاڈ پیار کرتے دیکھ کر وہ بہت جز بز ہوتے اور چوں کہ خود کبھی کوئی جانور نہ پالا تھا اس لیے میری محبت کو سمجھ نہ پاتے۔ پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ سمبا نے ان کے دل میں جگہ بنانا شروع کی۔ پہلے اس کے لیے خوبصورت سا گھر آیا، پھر اس کے لیے چن کر بہترین کیٹ فوڈ بھی وہ خود لانے لگے۔ پھر سمبا ان کے ساتھ واک پر جانے لگا جہاں وہ اس کو دوسرے بڑے بلوں سے یوں بچاتے جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو بڑے لڑکوں سے بچاتا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ سمبا ڈرائنگ روم میں صوفے پر سوتا ہے اور ہمارے فونز میں گھر والوں سے زیادہ سمبا کی تصویریں ہیں۔ ہم سمبا پر یوں جان کیوں چھڑکتے ہیں ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ نہ وہ گھر کی رکھوالی کرتا ہے، نہ اسے کوئی کرتب آتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے ساتھ کسی قسم کا کوئی کھیل کھیلتا ہے۔ اس کا واحد کام کھانا اور سونا ہے، لیکن ہمارے دل اس کی محبت سے لبریز ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ انسان کے دل کی سب سے بڑی ضرورت، خواہش اور غذا محبت ہے اور جب کوئی معصوم، بے غرض اور بے اختیار محبت دل میں گھر کر لیتی ہے تو انسان پر اپنے دل کی وسعت کے نئے راز افشا ہوتے ہیں اور اسے ادراک ہوتا ہے کہ اس وسیع دل کے لیے معاف کرنا، درگزر کرنا، رحم کرنا اور بلاتفریق محبت کرنا کتنا آسان ہو گیا ہے۔ تو ڈیئر ڈائری آج میں اس بے غرض محبت کے لیے شکرگزار ہوں جو اللہ نے میرے دل کو بخشی ہے اور اس دراک کے لیے شکر گزار ہوں جو میں نے اپنے دل کے بارے میں پایا ہے اور میں ان تمام راستوں کے لیے ممنون ہوں جو اس محبت نے میری روح کے لیے کھولے ہیں۔

    آج پھر موسم بہت سہانا تھا۔ سنا ہے ملتان میں خوب اولے پڑے ہیں۔ اتنے حسین موسم میں مجھ سے رہا نہ گیا اور تقریباً ایک ہفتے بعد میں واک کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ جاگرز پہنے، دستانے پہنے، ماسک لگایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ ہماری کالونی gated communityہے اور یہاں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو یہاں رہتے ہیں یا یہاں رہنے والوں کے مہمان ہیں۔ لہٰذا عام حالات میں بھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن آج تو یوں لگتا تھا جیسے میں سلیپنگ بیوٹی کے شہر میں آنکلی ہوں۔ اکادکا چند بزرگ حضرات ماسک لگائے چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں تیز قدموں سے چلتی پارک تک گئی تو اس کے چھوٹے سے گیٹ کو تالا لگا پایا۔ حسرت سے پارک میں لگے پھولوں کو دیکھا اور سڑک پرواک کے ارادے سے چل پڑی۔ سڑک صاف اور خالی تھی۔ ہوا خوشگوار تھی اور خاموشی میں فطرت کا ساز بجتا تھا۔ یہ وہ ساز ہے جو انسانوں کی آوازوں کے ہوتے سننے میں نہیں آتا۔ ہوا کے چلنے کی موہوم سی آواز، ہوا سے پتوں کا یوں ہلنا گویا اپنی خوشی میں سرمست تالیاں بجاتے ہوں اور چڑیوں کا چہچہانا۔ ایسی ایسی رنگ برنگی اور خوبصورت چڑیاں نظر آئیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ایسی ایسی چہکاریں سننے کو ملیں جن سے کان ناآشنا تھے۔ دیواروں پر چڑھی بیلیں پھولوں سے لدی تھیں۔ ایک مکان کے باہر دیوار کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی جھاڑیاں تھیں۔ ہر جھاڑی کے پھولوں کا رنگ جدا تھا۔ میں رک کر ان پھولوں کو دیکھتی رہی۔ سات رنگوں کے پھول میں نے گنے اور ان پر اڑتی تتلیوں کو نہ گن سکی۔ ایک دوسرے گھر کے باہر اس قدر خوبصورت اور انوکھے پھول نظر آئے جو پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ دل چاہا ماسک اتار کر ان کی خوشبو سونگھوں لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ ذرا یہ کرونا کا ڈبہ گول ہو جائے پھر ہم ہوں گے اور پھول ہوں گے۔ جی بھر کر سونگھنے کا شوق پورا کریں گے۔ ایک گھر کے باہر سے گزری جہاں پورچ میں ڈھیر سارے بچے فٹ بال کھیل رہے تھے ۔بند گیٹ کے پیچھے سے بچوں کی چہکار اور ہنسی کی آوازیں سن کر دل خوش ہو گیا۔ ایک اور گھر میں ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا۔ ننھی بٹیا رو رو کر فرما رہی تھیں کہ بھائی کو باﺅلنگ نہیں کرائیں گی کیوں کہ وہ بیٹ سے بال کو مارے گا اور بال روئے گی۔ ان کے ابا انہیں سمجھا رہے تھے لیکن وہ ضد پر اڑی تھیں۔ تھوڑا آگے گئی تو ایک گھر کے بند گیٹ پر ایک بلبل بیٹھی تھی اور خوشی کے گیت الاپتی تھی۔ اس سے ذرا دور ایک لمبی سی سبز دم والی چڑیا بلبل کے گیتوں کا جواب اپنی میٹھی بولی میں دیتی تھی۔

    کسی زمانے میں انگریزی شاعری میں sensous poetry کی اصطلاح بہت مقبول تھی۔ یعنی وہ شاعری جو پڑھنے والے کی senses یعنی حسیات پر اثرانداز ہو۔ اسے لگے کہ وہ جو پڑھ رہا ہے، اسے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، چھو رہا ہے۔ واک کرتے ہوئے مجھے یوں لگتا تھا کہ میں فطرت کی sensousشاعری پڑھ رہی ہوں۔ لذت کام و دہن کا لفظ تو سنا تھا، آج لذتِ حسیات کا احساس ہوا۔ میری آنکھوں نے شوخ رنگوں کے حسین پھولے دیکھے ، میری سماعت نے بچوں کی ہنسی اور چڑیوں کی چہکار سنی اورمیرے چہرے نے لطیف ہوا کے جھونکے محسوس کیے۔ میں فطرت کی اس شاعری میں یوں کھوئی کہ سچ مچ کھو گئی۔ جی ہاں کھو گئی، گم ہو گئی، راستہ بھٹک گئی اور نہ جانے کہاں کی کہاں جا نکلی۔ چلتی جاتی تھی اور اجنبی مکان اور گردوپیش دیکھتی جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ ”یہ کہاں آگئے ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے؟“ ویسے گم جانے میں مجھے یدطولیٰ حاصل ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بغیر گمے میں کسی نئے ایڈریس پر جا پہنچوں۔ بقول میری دوستوں کے ”سارہ تو ٹہلتے ٹہلتے ہی مینارِ پاکستان جا پہنچتی ہے۔“ لیکن یہ تو اپنی ہی سوسائٹی ہے، یہاں گم جانا چہ معنی دارد؟ چھوٹی سی سوسائٹی ہے اور اسکے تقریب©ا© تمام رستے میرے دیکھے بھالے ہیں۔ بےشک میں نئے رستوں پر گم جاتی ہوں لیکن اپنے گھر کے رستوں پر گم جاو¾ں گی ےہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔ سوسائٹی کا ایک ہی گیٹ ہے جس پر ناکہ لگا ہے۔ اس لیے یہ تسلی تو تھی کہ وہ گیٹ پار نہیں کیا۔ یعنی ہوں میں سوسائٹی کے اندر ہی۔ لیکن کہاں؟ کس جگہ؟ چلتے چلتے ٹانگیں شل ہو گئیں اور پاﺅں دکھنے لگے۔ میں اندازے سے بڑی سڑک پر نکلی۔ دور سے ایک سڑک نظر آرہی تھی جو بالکل پہچان میں نہ آتی تھی۔ میں اس سڑک کی طرف چلی اور اچانک مین بلیوارڈ پر جا نکلی۔ دیکھا تو وہ دور سے نظر آتی سڑک میرے ہی گھر کی سڑک تھی۔ کونے پر ڈولی آنٹی کا گھر اپنے سولر پینلز کے ساتھ کھڑا تھا اور اس سے ذرا آگے میرا گھر اپنی مہربانی چھت لیے ایستادہ تھا۔ جیسے مسکرا کر مجھے دیکھ رہا ہو اور کہتا ہو۔ ”میں تو یہیں تھا، تم کہاں رہ گئی تھیں؟“

    اے میرے رب! ہم دنیا کی لذتوں میں کھو جاتے ہیں، رستہ بھٹک جاتے ہیں، تیری طرف آنے والی راہ گم کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن کہیں بھی جا نکلیں، رہتے تیری بادشاہت ہی میں ہیں۔ تیری عملداری سے نکلنے کی قدرت ہم میں کہاں؟ اور یونہی بھٹکتے بھٹکتے اچانک تیری عظمت، تیرے جلال اور تیری کبریائی کا احساس مجسم ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تیرے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔ ہم نالائق ہیں، گناہگار ہیں، بے وقوف ہیں لیکن تیرے پاس لوٹتے ہیں۔

              چنگی ہاں یا مندی ہاں

              صاحب تیری بندی ہاں

    اپنے شرمسار بندوں کو اپنی رحمت کے سائے سے محروم نہ کر، اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے۔ اے رحم کرنے والے، اے لطف و کرم کرنے والے، اے معاف کرنے والے ، ہمیں اپنی مہربان پناہ میں لے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    سارہ قیوم

  • اصحابِ کہف ۔ قرآن کہانی

    اصحابِ کہف ۔ قرآن کہانی


    اصحابِ کہف

    علی منیر فاروقی

    الحمدللہ رب العالمین و نصلی علی رسولہ الکریم ۔۔ قرآن کریم میں جہاں ایک طرف مختلف انبیا کرام کے قصص بہ طور دلیل درج ہیں وہیں چند ایسے گمنام کرداروں کے ایمان افروز واقعات کا ذکر بھی موجود ہے۔ جونہ صرف ہمیں فتنوں کے دور میں اپنا ایمان محفوظ رکھنے کا درس دیتے ہیں بلکہ اس کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ یہ قصہ اُن چند سربہ کف نوجوانوں کا ہے، جن کے نام ، علاقہ، محلِ وقوع اور تعداد بھی تاریخ کی کتابوں میں حتمی طور پر درج نہیں ، مگر ان کی عظمت و ہمت اور ان کے ساتھ پیش آنے والے ماورا الطبعیاتی واقعے کی گواہی تا ابد محفوظ رہے گی ۔
    یہ قصہ قرآن کریم میں سورئہ کہف میں درج ہے اور حجم میں اتنا طویل نہیں مگر اپنے اندر حکمت و نصیحت کا ایک سمندر پنہاں رکھتا ہے تو آئیے پہلے اس قصے کا ایک رواں مطالعہ کر لیں پھر اس پر تدبر کی ایک چھوٹی سی کوشش کرتے ہیں۔
    مستند روایات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بعد کا ہے۔ ابھی عیسائیت شرک کی ملاوٹ سے پاک تھی اور توحید کی دولت سے مالامال دین حنیف پر مبنی تھی۔ ایسے میں چند نوجوانوں نے مشرکانہ ظلمات کے پردوں کو چاک کرتے ہوئے حق کی آواز پر لبیک کہا اور دینِ حق کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس دینِ حق کا پرچار شروع کیا۔ دنیا کا اصول ہے کہ جب بھی حق کی آواز بلند ہوتی ہے اسے دبانے کے لئے باطل کی قوتیں اپنا پورا زور لگاتی ہیں، چناںچہ ان نوجوانوں کو بھی انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بات ہوتے ہوتے حاکمِ وقت کے کانوں تک پہنچی۔ (جو چند روایات کے مطابق رومی قیصر ڈیشیس تھا اور باقی روایات کے مطابق ابراہیمی دین کی بگڑی ہوئی شکل کا پیروکار تھا)چناںچہ حاکمِ وقت نے ان لڑکوں کو حکم دیا کہ واپس لوٹ آؤ اور اپنے اس نئے دین کی ترویج فوری بند کرو ورنہ تمہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
    نورِ حق کے ان پروانوں نے اپنا دین چھوڑنے کے بہ جائے یہ فیصلہ کیا کہ آبادی سے دور کسی جگہ جا کر پناہ لی جائے، چناںچہ یہ نوجوان اور ان کا کتا ایک غار میں جا کر چھپ گئے تاکہ اپنا اگلا لائحۂ عمل تیار کریں ، ایسے میں اللہ نے ان تمام پر ایک نیند طاری کر دی اور نیند بھی گھنٹوں کی نہیں بلکہ صدیوں کی! اس دوران اللہ انہیں کروٹ دلاتا رہا (تاکہ خون گردش کرتا رہے اور زخم نہ بن جائیں)اور ان کو دھوپ سے بچاتا رہا ، تین صدیوں کے بعد یہ اصحاب اپنی نیند سے بے دار ہوئے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کتنی دیر سوئے ہیں ایک بولا شاید پورا دن سو لیے دوسرے نے کہا کہ نہیں اس کا بھی کچھ حصہ سوئے ہیں، اب مشورہ ہوا کہ طعام کا بندوبست کیا جائے چناںچہ ان میں سے ایک چند چاندی کے سکّے لے کر بازار جانے لگا ، جاتے وقت اس کے ساتھیوں نے اسے تلقین کی کہ پاک طعام لے کر آنا اور ہاں دیکھنا کوئی تمہیں پکڑ نہ لے ورنہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔
    یہ نوجوان جب بستی پہنچا تو دیکھا کہ دنیا ہی بدلی ہوئی ہے بستی و بازار در و دیوار سب الگ روپ لیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ رہن سہن بھی بدل چکا ہے اس نئے اجنبی منظر کے خوف کو دباتے ہوئے اس نوجوان نے ڈرتے ڈرتے کھانے کا سامان لیا تو لوگ صدیوں پرانے سکّے دیکھ کر بھونچکا رہ گئے ، انہوں نے ان نوجوانوں کا قصّہ سنا ہوا تھا کہ جو اپنا ایمان بچانے کے لئے شہر چھوڑ گئے تھے ۔ اس نوجوان کو بتایا گیا کہ شرک کے بادل چھٹ چکے ہیں اور اب یہاں حق کا بول بالا ہے ۔
    اتفاق سے ان دنوں اس بستی میں ایک علمی بحث چھڑی ہوئی تھی کہ مرنے کے بعد کیا ہم دوبارہ جی اُٹھیں گے؟ اور آیا خدا ہمیں قیامت کے دن اسی بدن کے ساتھ زندہ کرے گا یا ہمارا کوئی اور روپ ہوگا یوں اللہ نے اس نوجوان کے صورت میں ان کے تمام سوالوں کا جواب دے دیا ۔ اب یہ تمام لوگ اس نوجوان کے ساتھ اس غار میں پہنچے جہاں اس کے باقی ساتھی موجود تھے اور وہاں ان سب کو دیکھ کر ان کا ایمان تازہ ہو گیا ۔ یہ تھے اصحابِ کہف اب اس کے بعد کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے (گمان یہ ہے کہ فوری وفات پا گئے تھے )۔