Author: misbah116@hotmail.com

  • گھر سے مکان تک ۔ افسانہ

     

    گھر سے مکان تک
    افسانہ
    زارا باجوہ

    کبھی کبھی خود سے کیے گئے عہد یوں چکنا چور ہوتے ہیں کہ انسان خود سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ وہ یہ سمجھی تھی کہ اپنی قسمت کا فیصلہ وہ خود کرے گی۔ اپنی ضد سے وہ اپنی کھوئی ہوئی عزتِ نفس  حاصل کر لے گی۔ مگر زندگی……آہ! زندگی بڑی استاد ہے۔ ایسے ایسے سبق سکھا جاتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ہم وہی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہوں۔ آج یہی منال اکبر کے ساتھ ہوا تھا اور اس ناکامی کو ہضم کرنے میں شاید اس کی ساری عمر کٹ جانی تھی۔
    ٭……٭……٭
    ”امی! مجھے نہیں جانا بس۔“ منال عجیب سے لہجے میں کہتی ہوئی بیڈ پر لیٹے ہلکی سپیڈ پر چلتے پنکھے کی جانب یک ٹک دیکھے جارہی تھی۔
    ”بیٹا! کیسی باتیں کررہی ہو؟“ امی نے فکرمندی سے کہا۔
    ”میرا دل پِھر گیا ہے اُس سے۔ میں اس کے گھر میں کبھی واپس نہیں جاؤں گی۔“ اس نے آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے کہا۔ جیسے مزید بات کرنانہ  چاہ رہی ہو۔
    ”کیا مطلب ہے تمہارا دل پِھر گیا ہے؟ ہر میاں بیوی میں اَن بن ہو جایا کرتی ہے۔ مگر اس طرح دل اچاٹ کر لینے سے گھر تھوڑی بستے ہیں؟ بات ختم کرو اور اپنے گھر جاؤ۔“ اب کی بار امی نے قدرے سختی سے کہا تھا۔
    ”میں تھک گئی ہوں امی! مجھے لگتا ہے میری روح تک فنا ہوگئی ہے۔“
    وہ جانتی تھیں کہ وہ اس وقت اذیت میں ہے۔ مگر ماں ہونے کے ناطے اسے غلط فیصلہ بھی کرنے نہیں دے سکتی تھیں۔ انہوں نے پیار سے اس کا ہاتھ پکڑا اور نرمی سے سمجھانے لگیں۔
    ”منال! غلطی کسی کی بھی ہو۔ جھکنا ہر حال میں عورت کو ہی پڑتا ہے۔ اٹھو میرا بیٹا، منہ ہاتھ دھو، کپڑے بدلو، میں کسی رکشے کا پتا کرتی ہوں۔“ وہ اٹھنے لگیں تو منال نے سختی سے ان کا بازو پکڑا۔
    ”امی! آپ کو میری بات کیوں سمجھ میں نہیں آرہی۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔“ ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا گیا۔ اب کی بار آنکھوں میں رضیہ بیگم کوضد اور ہٹ دھرمی نظر آئی تھی۔
    ”تو کیا ساری زندگی یہیں رہو گی؟ عورت جتنی جلدی واپسی کا سفر کر لے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ دیر ہو جائے تو انا کو مارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ باتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی عورت احساسِ ندامت اور شرمندگی کی چکی میں پسنے لگتی ہے اور بیٹا! یہ نہ ہو کہ ایک وقت آئے کہ تمہارا دل آمادہ ہو جائے واپسی کے لیے اور وہاں کے دروازے تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے ہوں۔“ انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
    ”امی! وہ دروازے میرے لیے کبھی نہیں کھلے۔ میں دستک دیتی رہی۔ میرے ہاتھ زخمی ہوگئے مگر اس شخص کے دل پر ایسا قفل لگا تھا کہ میں اپنا سب کچھ ہار کر بھی اُسے جیت نہ پائی۔ اس کے مکان کو گھر بناتے بناتے میں نے خود کی ذات کو ختم کردیا۔ اس کے نزدیک میں غلط ہی رہی۔ بیوقوف ہی رہی۔“ اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
    ”سائبان سر پر نہ رہے تو اس کے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔“ وہ اس کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے کہنے لگیں۔
    ”دل بغاوت پر اُتر آیا ہے امی۔“ وہ انہیں تکلیف سے کراہتی ہوئی محسوس ہوئی۔
    ”عورت ذات ہو اور دل کی سن رہی ہو؟ یہ معاشرہ عورت کو دل سے سوچنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں زندگیاں گزر جاتی ہیں اور عورت کی زندگی سے بے قدری کی دھند نہیں چھٹ پاتی۔ یہاں تو دماغ کی سننی پڑتی ہے تب کہیں جا کر زمانے کی سہنے کے قابل ہو پاتی ہے ایک عورت دل کے راستے چلنے والے اکثر پچھتاتے ہیں منال۔“ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے پیار سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”تو؟ اب تک دماغ کی ہی تو سنتی آئی ہوں میں۔ کون سے میڈل مل گئے مجھے؟“ اب لہجے میں مایوسی نہیں غصہ تھا۔
    ”ایک بات کہوں؟ سننے کی ہمت ہے؟“ امی نے کہا۔
    ”سب سہہ سکتی ہوں میں!“ وہ تلخی سے مسکرائی۔
    ”گھر کی چار دیواری میں کسی ایک مرد سے ذلیل ہونا بہتر ہے۔ یہاں گھر سے قدم نکلا اور اَن گنت مردوں کے ذلالت بھرے تیر عورت کی آبرو پر اس طرح لگتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اُسی گھر میں بھلی تھی۔ وہاں ایک تھا اور باہر ہزاروں۔“
    آج منال کو محسوس ہورہا تھا کہ اس کی ماں بھی نہ جانے کیا کیا سہتی آئی تھی۔ ابا کا انتقال جب وہ میٹرک میں تھی، ہوگیا تھا۔ ہاشم، اس کا چھوٹا بھائی اس وقت چوتھی کلاس میں تھا مگر اماں آج جس طرح اسے سمجھا رہی تھیں۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے ابا بھی بالکل کوئی عام مرد ہی تھے۔
    ”امی! یہ پرانے دور کی باتیں ہیں۔ آج کے دور کی عورت اتنی کمزور نہیں کہ مرد کی محتاج ہو۔ پڑھی لکھی ہوں، نوکری کروں گی، اتنی بھی کیا بے بسی۔“ وہ شاید اب خود کو سمجھا رہی تھی۔ امی تلخی سے مسکرائیں۔ بیڈ سے اُٹھتے ہوئے کہنے لگیں۔
    ”زمانہ عورت کے لیے ایک سا ہے۔ کل بھی یہی کِل کِل تھی اور آج بھی۔“
    امی کمرے سے جا چکی تھیں اور منال ہاتھوں کی انگلیوں سے بیڈ شیٹ پر بنے ڈیزائن پر کوئی محل بنا رہی تھی اور پھر ہتھیلی سے مٹا رہی تھی۔
    ٭……٭……٭

    اسے آئے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا اور وہ اپنی ضد پر ویسے ہی قائم تھی۔ رضیہ بیگم کو اب فکر ستانے لگی تھی۔ ہاشم ابھی چھوٹا تھا کہ وہ اس سے کوئی مشورہ کرتیں اور منال سے کوئی بات کرنا فضول تھا۔ اسی لیے آج ہمت کرکے انہوں نے اسجد کو فون کیا۔
    ”السلام علیکم بیٹے!“ انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
    ”جی!“ اس نے سلام کا جواب بھی نہ دیا تھا۔
    ”اسجد بیٹا! میں جانتی ہوں منال ناسمجھ ہے۔ جانے انجانے میں اس سے غلطی ہوگئی۔ بیٹے مگر تم میچور ہو۔ اسے معاف کردو اور آج آفس سے واپسی پر اسے لیتے ہوئے جاؤ۔“
    ”آنٹی! اس کا دماغ سدا کا خراب ہے۔ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے۔ میں نے اسے نہیں نکالا۔ آنا ہوگا تو خود آجائے گی۔ میں نہیں آؤں گا۔“ وہ بے اعتنائی  سے کہہ رہا تھا۔
    ”چلیں بیٹا میں معافی مانگتی ہوں اس کی جگہ۔“ ان کے لہجے میں التجا تھی اور چہرے سے ایک مجبور ماں کی طرح بے بسی جھلک رہی تھی۔ منال کچن میں چائے بنانے جارہی تھی جب اس نے یہ گفتگو سنی۔ وہ غصے سے چلتی ہوئی آئی اور فون ان کے ہاتھ سے پکڑ کر کاٹ دیا۔
    ”دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟ میں بات کررہی تھی اس سے۔ منا رہی تھی اسے۔“ انہیں غصہ آگیا۔
    ”امی! اب ہی تو دماغ ٹھیک ہوا ہے میرا۔ آپ نے خواہ مخواہ اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔“ وہ اپنی ضد پرقائم تھی۔
    ”کوسو گی اس وقت کو تم۔ کون سے خزانے دھرے ہیں یہاں جن کی آڑ میں اتنا اکڑ رہی ہو۔ ساری جمع پونجی لگا کر تمہیں بیاہا تھا۔ سوچا تھا اب سکون ہی سکون ہوگا، مگر نہیں۔ یہاں تو مزاج ہیں کہ سیدھے ہی نہیں ہورہے تمہارے۔“
    ”امی میں بوجھ ہوں آپ پر؟ کیا بیاہ دینے کے بعد بیٹی کا اپنے گھر سے ہر حق ختم ہو جاتا ہے؟“ اب وہ رونے لگی تھی۔
    ”ہاں یہی سمجھ لو۔ بوجھ ہو تم اور تمہارا کوئی حق نہیں یہاں پر۔ اپنی کمزور اور بے بس ماں کی مجبوری نہیں سمجھ رہیں تم۔ آج میں ہوں۔ کل کلاں کو جب میں مر گئی تو دیکھو گی ہاشم کی بیوی تمہیں کتنے دن ٹکنے دیتی ہے۔ مجھے ظالم سمجھنا ہے سمجھو۔ دشمن سمجھنا ہے سمجھو، مگر خدا کے لیے اپنا گھر بچا لو۔“ وہ روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگیں۔
    ”امی! میری کوئی عزت نفس نہیں؟ میرا کوئی گھر بھی نہیں؟ کون ہوں میں؟ نہ کسی کی بیٹی، نہ بہن، نہ بیوی، آخر کون ہوں میں؟ اوقات کیا ہے میری؟ دو سال۔ دو سال میں نے کبھی کوئی شکایت کی؟ کبھی آپ کو اپنے دل پر بیتنے والی تکلیف بتائی۔ نہیں ناں؟“
    ”دو سال؟ منال دو سال میں تو مرد کا صرف مزاج ہی سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے بعد عورت خود کو اس کے مطابق بدلنے لگتی ہے۔ ایک بار ڈھے کر پھر سے بننا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر مرد کے دل میں جگہ بنتی ہے۔“
    ”بس کردیں امی! آپ جتنا مجھے سمجھاتی ہیں میں اتنی ہی باغی ہوجاتی ہوں۔“ وہ غصے میں وہاں سے چلی گئی۔
    ٭……٭……٭

  • صبح سویرے آئے چڑیا

    صبح سویرے آئے چڑیا

    محمد اکرام انجم میواتی

    صبح سویرے آئے چڑیا

    آکے شور مچائے چڑیا

    چُو چُو چوں، چُو چُو چوں

    سوتے بچے جگائے چڑیا

    منہ جو کھولے اللہ بولے

    گُن خدا کے گائے چڑیا

    جلدی اُٹھ کے باہر جاکے

    دن میں راحت پائے چڑیا

    دانہ دانہ ڈھونڈے کھانا

    دانہ دُنکا کھائے چڑیا

    تنکے جوڑے اُلٹے موڑے

    اپنا گھر بنائے چڑیا

    محنت کرتی دامن بھرتی

    سب کے من کو بھائے چڑیا

    صبح سویرے آئے چڑیا

    آکے شور مچائے چڑیا

    ٭…٭…٭

  • موسم ۔ نظیر فاطمہ

    موسم 

    نظیر فاطمہ

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی، خزاں، بہار

    سردی آئے، مالٹے لائے

    ہر طرف سردی پھیلائے

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی ، خزاں، بہار

    گرمی آئے، آم لائے

    ہر طرف گرمی پھیلائے

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی، خزاں، بہار

    خزاں آئے،درخت سُلائے

    اور ان کے پتّے گرائے

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی، خزاں، بہار

    بہار آئے، درخت جگائے

    ہر طرف سبزا بچھائے

    ٭…٭…٭

     
  • جنگل میں دعوت

    جنگل میں دعوت

    ارسلان اللہ خان

     

    مسٹر بھالو نے کی یہ وِش

    رکھّیں جنگل میں ہم وَن ڈِش

     

    جوں ہی آیا طوطا قاضی

    ہوگیا سارا جنگل راضی

     

    دال کا دانہ چڑیا لائی

    بلّی حلوا لے کر آئی

     

    بندر آیا ناچتا گاتا

    لیکن گینڈا ہے شرماتا

     

    سارس کو یوں ہوئی ہے دیر

    لایا ہے وہ ڈھیروں بیر

     

    اچھی طرح سے کرکے بیک 

    ہرنی لائی ہے اک کیک

     

    شیر بھی آیا ، لومڑ بھی

    ساتھ ہیں بِلّا ، گیدڑ بھی

     

    لو جی بی بطّخ بھی آئیں

    چونچ میں اپنی بسکٹ لائیں

     

    کود کہ آیا ہے لنگور

    ہاتھ میں اُس کے ہے انگور

     

    میگی لایا ہے خرگوش

    کچھوا دیکھ کے ہے مدہوش

     

    آکر بولے مسٹر بھالو 

    دیکھو ہم لائے ہیں آلو

     

    آلو کے تُم چپس بنائو 

    سب کو فنگر چپس کھلائو

     

    مزے مزے کے کھانے آئے

    جو سب نے مِل جُل کر کھائے

     

    خود پر قابو نہ رکھ پائے

    مسٹر بھالو ناچے گائے

     

    سب نے دی پھر اُن کو داد 

    یہ تھی وَن ڈِش کی رُوداد

    ٭…٭…٭

     
  • روزے دار کو افطار کروانا – نیکی سیریز

    روزے دار کو افطار کروانا – نیکی سیریز

    نیکی سیریز

    روزے دار کو افطار کروانا

    عائشہ طاہر

    آج فاتح کا پہلا روزہ تھا اور امی نے افطار میں اسکی پسند کی ڈھیر ساری ڈشز بنائی تھیں،وہ بے صبری سے روزہ کھلنے کا منتظر تھا کہ اچانک اس کو درس حدیث میں سنی گئی روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت والی حدیث یادآگئی۔ وہ دسترخوان چھوڑ کر بھاگتا ہوا گھر سے نکل کر اپنے پڑوسی دوست خرم کے گھر پہنچا جو چھوٹے سے دسترخوان پر پانی کا گلاس سامنے رکھے پہلا روزہ کھولنے والا تھا، اس کا ہاتھ پکڑ کر فاتح حیران پریشان خرم کو اپنے گھر لے آیا اور برابر میں دسترخوان پر بٹھادیا تھا۔

    ٭…٭…٭

  • بن مانگے ۔ گل رانا

    بن مانگے ۔ گل رانا

    بن مانگے

    گل رانا

    "نی ماں اٹھ آج فیر جانا نی” رانی نے چڑھتے سورج کی دھوپ سے خود کو بچاتی اپنی ماں کو آواز دی۔ "جا تو چلی جا.. آج تاپ چڑھ گیا نی مینوں۔”

    اپنے الجھتے بالوں کو اس نے گچھا بناتے رانی سے کہا اور جھگی نما "کمرے” کا کپڑا گرا دیا۔

    رانو نے اپنا پیالا اٹھایاور چل پڑی۔ اسے مانگنا برُا لگتا تھا۔ ماں تو پھر بھی منتیں ترلوں سے دو چار جمع کر لیتی تھی وہ ایسے ہی بیٹھی رہتی۔ پیالا رکھ کے وہ آج بھی بیٹھی تھی۔ مانگے بنا کون دیتا ہے۔ اس نے خالی پیالے کو دیکھتے ہوئے سوچا..

    "پر ماں بیمار ہے۔ مجھے اس بابو سے مانگنا چاہیے وہ بھلا لگتا ہے دو چار پیسے دے گا۔”

    اس نے سامنے گاڑی کے پاس کھڑے بابو اور اس کے پیارے سے بیٹے کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

    اس کا بھائی بھی بڑا پیارا تھا۔ تین دن کھانے کو کچھ نہ ملا تو چل بسا۔ سر جھٹکا اور بابو کے پاس آئی۔

    بنا کچھ کہے پیالہ آگے کیا اور اس نے نظر اٹھا کے اس پیاری سی بچی کو دیکھا جو مانگنے والی نہ لگتی تھی۔ پھر دوسری نظر اس کے پرانے کپڑے، گھسے جوتے اور الجھتے بالوں پہ، تیسری نظر میں حقارت جھلکنے لگی۔

    ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا پر وہ ٹھہری رہی۔ بابو کو غصہ آنے لگا۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتا، رانو بھاگی اور سڑک سے اس کے پیارے سے بچے کو پکڑ کے پیچھے کی طرف دھکیلا اور پھرتی سے ہٹنے ہی لگی تھی کہ ایک اور بابو کی گاڑی نے اس کے وجود کو اٹھا کے پٹخ دیا۔

    اماں کہتی تھی اسے مانگنا نہیں آتا تھا۔ ایسے کوئی کچھ نہیں دیتا۔ وہ سوچتی تھی کہ کوئی تو ایسا ہو گا اللہ کا بندہ جو بن مانگے بھی دیتا ہوگا۔

    وہ وہی اللہ کی بندی تھی۔ جو خون میں لت پت ساکت پڑی تھی۔ گاڑی والا بابو اپنے بچے کی چوٹ کا اندازہ لگا رہا تھا اور اماں ابھی تک بخار میں پڑی سوچ رہی تھی۔

    جھلّی آج خالی ہاتھ ہی آئے گی۔

    ٭….٭….٭

  • اچھا اخلاق – نیکی سیریز

    اچھا اخلاق – نیکی سیریز

    نیکی سیریز

    اچھا اخلاق

    آئمہ بخاری (ڈیرہ غازی خان)

    "اگر تم مجھے مارو گی تو میں تمہیں زیادہ ماروں گی اس لیے آج نہ لڑنا مجھ سے”

    اریبہ اپنی دوست اقرا کو وارننگ دے رہی تھی۔

    "میں اپنی دوست سے کبھی نہیں لڑوں گی”

    اقرا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

    "تم ایک دن میں اتنی اچھی کیسے بن گئی؟”

    اریبہ نے شکی نگاہوں سے گھورتے ہوئے سوال کیا۔

    "ہمارے پیارے نبی حضرت محمدۖ نے فرمایا

    "البِر حسن الخلقِ”

    ترجمہ: "نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے”

    اقرا نے رسول اللہۖ کی حدیث سنائی تو اریبہ نے بھی اس  سے صلح کر لی۔

    ٭…٭…٭

  • سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے

    سکرپٹ جو ناول سے مختلف انداز میں لکھا جاتا ہے

    -1 ساخت یا ڈھانچہ

    میں ابھی بچہ ہی تھا جب میرے انکل نے مجھے کاسابلانکا کا سکرپٹ دکھایا ۔ حتی کہ کچھ بڑا ہونے کے بعد میں مطالعہ کا شوقین ہو چکا تھا، تب میرا خیال ہے کہ میں نے کچھ غیر ملکی دستاویزات دیکھیں جو ان سب تحریروں سے مختلف تھیںجو اب تک میری نظر سے گزر چکی تھیں۔ وہ دستاویزات بھی میری سمجھ سے باہر تھیں۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا میں نے کئی سکرین پلے پڑھے۔ تب وہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگے تھے یوں کہیں کہ یا اب مجھے تحریر کی اونچ نیچ سمجھ آنے لگی تھی۔

    میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہمیں سکھایا گیا کہ سکرپٹ رائٹنگ کے دوران بہت سے کردار کھڑکی سے باہر چلے جاتے ہیں یعنی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ کرو، وہ نہ کرو اس چکر میں تقریباً سارے کردار گڈمڈ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان سب مشکلات سے بچنے کے کچھ گُر ہیں، جو آج آپ کی رہنمائی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

    ایکشن لائنز سے متعلق تفصیلات زیادہ سے زیادہ تین سطروں پر مشتمل ہونی چاہئیں، تین سے کم ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ پورے سکرپٹ میں غیر ضروری تفصیلات سے قطعی اجتناب برتیں۔ بالکل اس طرح جیسے نظموں میں الفاظ محدود اور مطلب وسیع ہوتا ہے اسی اصول کے تحت کم سے کم الفاظ میں جامع تحریر لکھیں۔ تحریر کی وضاحت کے لیے ایکشن یا اس سین کی سیٹنگ میں وقت ضائع نہ کریں۔ کہانی کے کرداروں کو غیر واضح اور مبہم نہ چھوڑیں لیکن غیر ضروری تفصیلات سے پرہیز کریں۔ بیک سٹوری کے کردار اور فلم بینوں کو متوجہ کرنے کے لیے اضافی کوشش سود مند ثابت نہ ہو گی۔ کرداروں کے ایکشن اور مکالمے یہ کام بہتر طور پر کر سکیں گے۔

    تحریر کا ہر جملہ فعل حال میں لکھیں، اس سے کہانی متحرک اور جان دار ہونے کا تاثر دیتی ہے۔ یہی گُر تحریر کی حقیقی رُوح ہے۔ بہترین سکرین رائٹر، ایکشن کی تفصیلات ایک پیرا گراف میں دو لائنوں سے زیادہ نہیں لکھتا۔ اسی مختصر نویسی میں بہت سی تفصیلات بصری انداز میں لکھئے مثلاً جنگ زوروں پر تھی۔ اس جملے میں جنگ کی پوری شدت خود بہ خود آپ کے تصور میں آجاتی ہے۔

    یاد رکھئے کہ آپ صرف اُن اہم چیزوں کے بارے میں تفصیل سے لکھیں کہ جنہیں ہم اصل میں سکرین پر دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی غیر اہم چیزوں کو چھوڑ دیں اور انہیں کم سے کم الفاظ اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں ہی واضح کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی چیزوں کے لیے آپ تمثیلی الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں مختصر انداز میں ہی واضح کر سکتے ہیں۔

    سکرین پلے کے ابتدائیہ کے حوالے سے کچھ مثالیں درج ذیل ہیں جن کی مدد سے آپ سیکھ سکیں گے کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ تاثر کس طرح اُبھارا جا سکتا ہے:

    ”نیوی کے مضبوط اور پختہ بیراج سے زبردست گھن گرج کی آوازیں سنائی دیں۔ اتنی خوف ناک آوازیں تھیں کہ پورا جسم لرز کر رہ گیا اور کانوں کے پردے جیسے پھٹ گئے ہوں۔“

    ”جرمن تو پ خانہ کی طرف سے دھواں دھار بم باری تباہی مچا رہی ہے، سینکڑوں جرمن مشین گنیں شعلے اُگل رہی ہیں۔“

    ”درد اور بھوک کا مارا مفلوک الحال شخص، بھری پُری سڑک پر جا رہا تھا۔“

    ان سب مثالوں میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح تمثیلی انداز میں پورا منظر واضح کیا گیا ہے۔

    ان میں سے بہت سے فقرے گرائمر کے لحاظ سے اگرچہ نامکمل اور ادھورے محسوس ہوں گے مگر سکرین پلے کے لحاظ سے یہ مکمل ہوتے ہیں کیوں کہ ان جملوں کے بعد جو تصویر ہمارے ذہن میں بنتی ہے، وہی اصل نکتہ ہے۔

    -2 مکالمہ

    مکالمہ نگاری کے کچھ بنیادی اصول ہیں۔

    طویل مکالمے

    آپ کا سکرپٹ آپ کی تحریر ہے مکالمہ بازی کا مقابلہ نہیں۔ اس میں آپ بہت بڑے اور طویل مکالمے نہیں لکھ سکتے۔

    طویل مکالمے گفت گو سے زیادہ خود کلامی کا تاثر دیتے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ آپ کے سکرپٹ کے 95 فی صد مکالمے تین سطروں سے کم ہی ہوں۔

    ثانوی تحریر

    ثانوی تحریر سے مراد وہ سب دکھانا یا بتانا مقصود ہے، جو مکالمے سے ہٹ کر ہو، مثلاً ہیرو جو ہیروئن کی بے وفائی پر دُکھی ہے اور سڑک پر بے اختیار اُس کے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ 

    کرداروں کے مختلف لہجے یاد رکھئے کہ کیوں کہ آپ کی تحریر کا ہر کردار ایک جیتا جاگتا بولتا ہوا انسان ہے۔ اس کا ایک اپنا مزاج اور پسند و نا پسند ہے۔ اپنی الگ شخصیت ہے۔ کرداروں کی اس رنگا رنگی کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان کا اندازِ گفت گو ۔ ہر کردار اپنے بات کرنے کے انداز اور لہجے سے پہچانا جائے گا۔

    تاثرات سے اظہار

    بعض اوقات کردار کے مکالمے اتنے اہم نہیں جتنا اُن کے تاثرات یا باڈی لینگوئج، جو اس کردار کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

    -3 White Space

    اس سے مراد چھوٹے چھوٹے مکالمات میں اپنا مطلب بہتر انداز میں واضح کرنا۔ بھاری بھر کم تحریر نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھنے میں بھی بوجھل لگتی ہے۔ سکرین رائٹنگ کی یہ نئی تکنیک مقبول عام ہے جس میں مختصر انداز میں لکھا گیا سکرپٹ نہ صرف دیکھنے والوں پر اچھا تاثر ڈالتا ہے بلکہ پڑھنے والوں کے لیے بھی دل کشی کا حامل ہوتا ہے۔

    -4 داخلے میں دیر، نکلنے میں جلدی (Enter late leave early)

    ناول نگاری میں آپ تمہید باندھتے ہوئے قاری کو ماحول کی جزئیات سے روشناس کراتے کسی منظر میں داخل کرتے ہیں اور دیر تک اسی منظر میں رہتے ہیں لیکن فلم اور ٹی وی میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں آپ سین میں داخل ہونے میں دیر تو لگا سکتے ہیں لیکن سین سے جلد نکلنا بہت ضروری ہے کیوں کہ اس طرح آپ بہت سی غیر ضروری تفصیلات سے بچ جاتے ہیں اور فلم بین بھی لمبے مناظر سے اُکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ سین کا مختصر اور پاور فل ہونا بے حد ضروری ہے۔

    -5 کہانی کو سادہ سے سادہ رکھئے

    ناول نگاری میں آپ کے پاس خاصاوقت ہوتا ہے کہ پہلے آپ کہانی کو کرداروں سمیت خوب پھیلائیں اور پھر آخر میں الجھی ہوئی کہانی کو سمیٹ دیں۔ یہاں قاری اس بات کو خوش دلی سے قبول کرتا ہے جب کہ فلم یا ڈرامہ اس کے برعکس ہو گا۔

    سکرپٹ میں بہت سارے کردار اور واقعات تخلیق نہیں کئے جا سکتے کیوں کہ سب سے انصاف کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے لہٰذا گنے چنے، چند بہت ضروری کردار ہی کہانی میں اس طرح رکھیں کہ آپ انہیں خوش اسلوبی سے ایک اچھا سا انجام دے سکیں۔ یوں جب آپ کی کہانی کلائمکس تک پہنچے تو دیکھنے والے اس میں پوری طرح شامل ہوں۔

    -6 30,000 فٹ ویو (30,000 Footview)

    ایک بات جو کسی بھی لکھاری کو قلم پکڑنے سے یا کی بورڈ پر انگلی رکھنے سے پہلے یاد رکھنی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے کس طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں؟

    مثال کے طور پرآپ ایک گھریلو فلم بنا رہے ہیں تو اسے خواتین زیادہ پسند کریں گی۔ رومانی فلم نوجوان کی پسندیدہ، کھیل سے متعلق، کھیلوں کے دلدادہ لوگ دیکھنا پسند کریں گے۔

    لیکن اگر یہ بھی بورنگ کا ٹائٹل پائیں گی تو ان موضوعات پر پسندیدگی کی نظر رکھنے والا مخصوص طبقہ بھی انہیں دیکھنے نہیں آئے گا۔ کسی بھی کہانی میں اس کے موضوع کے حوالے سے بھرپور اور دل چسپ مواد ہی اسے کامیاب بنا سکتا ہے۔

    آپ جس طبقے کے لیے بھی لکھ رہے ہیں کہانی کو تھرلنگ اور جان دار ہونا چاہیے۔ دل چسپ کہانی دیکھنے والوں کو اپنی طرف خود متوجہ کرے گی۔

    -7 مقصد (Aim Big)

    اگرچہ ہم مووی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں لیکن سٹوڈیو موویز میں ایک اوربات اہم ہوتی ہے اور وہ ہے set pieces۔ اس سے مراد ہے مناظر کا تسلسل اور ربط۔ واقعاتی تسلسل فلم کی خوب صورتی اور کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے۔کچھ لوگ اس اصطلاح کی جگہ ایک اور اصطلاح trailer moments بھی استعمال کرتے ہیں۔

    سکرین پلے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ سیٹ پیس خوب صورت اور جکڑ لینے والا ہو مگر اس میں جنگ و جدل، خونی مناظر کم سے کم ہوں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ سوشل موضوعات پر، مار دھاڑ کے بغیر بنی فلموں نے زیادہ بزنس کیا ہے۔

    جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی اور CGi سے سیٹ پیسز زیادہ خوب صورت، واضح اور دل چسپ انداز میں آرہے ہیں۔ا س میں حقیقی اور ماورائی، دونوں طرح کے افی©کٹس استعمال ہو رہے ہیں۔

  • نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول ۔ کمرشل رائٹنگ

    نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول ۔ کمرشل رائٹنگ

    نئے لکھاریوں کے لیے سکرین رائٹنگ کے 12 بنیادی اصول

     

    سکرین رائٹنگ کے گُرہرحجم اور شکل میں ملتے ہیں مگر ان سے سب لوگ یکساں طور پر متفق نہیں ہوتے۔ اکثر نئے لکھاری، ان بڑی تعداد میں دستیاب ٹپس میں سے درست کا چناﺅ کرنے میں غلطی کر جاتے ہیں اور درست سمت نہیں جا پاتے۔

    ایک بنیادی اصول تو لکھے گئے سکرپٹ کو بار بار (کم از کم 20 بار) لکھنا ہے، جو بڑی برداشت اور حوصلے کا کام ہے مگر بے حد ضروری ہے کہ اس سے تحریرمیں پختگی اور نکھار آتاہے۔

    یہاں آپ کی رہنمائی کے لیے 12 ایسے بنیادی اصول یا ٹپس دیئے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے آپ بآسانی سکرین رائٹنگ جیسے عمل کو انجام دے سکیں گے۔

     

    -12 فلم پسند آئی؟تو اس کاسکرین پلے پڑھیے

    بعض نئے لکھاری فلمیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ انہیں سکرین رائٹنگ آگئی ہے۔ ہر فلم میں تقریباً یکساں سین اور ایکشن دیکھ کر لگتا ہے کہ فلم کے لیے کہانی لکھنا کون سا مشکل کام ہے مگر یہ خیال بالکل غلط ہے۔

    سکرین رائٹنگ سے آپ تب تک واقف نہیں ہو پاتے جب تک آپ کسی فلم کااصلی بلیو پرنٹ یا نیلی طباعت سکرین پلے نہیں دیکھ پاتے۔ اس میں وہ اصل طریقہ درج ہوتا ہے جو کسی بھی سکرین رائٹنگ اور سکرین پلے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آپ اپنی کسی پسندیدہ فلم کا سکرپٹ پڑھئے اور دیکھئے کہ چیزیں اورواقعات سکرپٹ میں کس تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ان میں بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں اپنی کہانی کے کرداروںکا جائزہ لیجیے اور انہیں اُس معیار تک لایئے۔

    ایک اورضروری بات کہانی کے ربط یا تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ کام صفحات پر آسان جب کہ سکرین پر اس کے لیے بڑی مہارت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی عمدہ سکرین پلے پڑھنے پر آپ تحریری طور پر ایسی غلطیوں پر قابو پانے میں مدد لے سکتے ہیں۔

     

    -11 ایک نشست میں لکھئے

    لکھنا ایک تھکا دینے والا کام ہے۔ جو فرد بیٹھ کر لکھنے کا عادی نہ ہو، اس کے لیے کافی دیر تک بیٹھنا اور ایک ہی نشست میں کہانی مکمل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں تو بلاناغہ لکھاکریں چاہے اپنے سکرین پلے کا ایک صفحہ ہی لکھ پائیں۔

    ذہن میں آئے خیالات سے یہ کہنا کہ بعد میں لکھ لوں گا، اچھے لکھنے والوں کے لیے یہبہتر رویہ نہیں ہے، اس طرح خیالات ناراض ہو کر بھاگ جاتے ہیں۔اکثر لکھنے والے اچھی اچھی باتیں سوچتے لیکن انہیں لکھنے میں سستی کر دیتے ہیں جس سے وہ کبھی لکھ نہیں پاتے۔

    کامیاب لکھاریوںکی کامیابی کا ایک راز ان کا نظم و ضبط کا پابند ہونا ہے۔ وہ اپنے روزمرہ کے لکھنے کے اوقات میںکبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتے۔

    اگر آپ کا خواب بھی سکرین رائٹر بننے کا ہے تو لکھنے کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لیجیے۔ روز لکھنے کی عادت سے نہ صرف آپ کی تحریر میں نکھاراور پختگی آئے گی بلکہ یہ دل جمعی آپ کو کامیابی کی راہ بھی دکھائے گی۔

    جب آپ روزانہ لکھنا اپنی عادت بنا لیں گے تو ایک مہینے بعد آپ، اپنی پہلے دن اور اُس دن کی تحریروں کا تقابل کیجیے۔ یقینامثبت فرق آپ کا دل خوش کر دے گا۔ بے شک آزما لیجیے۔ مکمل توجہ اور نظم و ضبط، لکھاری بننے کی بنیادی شرائط ہیں۔ اگر آپ کے لیے ان عادات کا اپنانا ایک مشکل امر ہے تو خود کو سمجھایئے۔ ایک استاد کی طرح خود کو ان کی افادیت سے آگاہ کیجیے۔ مہینوں کی مشق آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ آپ اپنی تحریر کو دوسروں کے سامنے فخر سے پیش کر سکیں۔

     

    -10 اپنے اندر کو نکالیے

    کسی ایسے شخص سے مل کر کتنا عجیب لگتا ہے کہ جو طبعاً سنجیدہ ہو مگر حرکتیں مسخروں سی کر رہا ہو۔ یہ رویہ من و عن سکرین رائٹنگ پر پورا اترتا ہے۔

    اگر مزاجاً آپ مزاح نگار نہیں تو زبردستی مزاح مت لکھئے۔ ہر فرد کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، اپنے اسی مزاج کی مطابقت سے تحریریں لکھیے، زیادہ بہتر لکھ سکیں گے۔

    اگرآپ جان دارمکالمے تو لکھ سکتے ہیں مگر کہانی کابیانیہ درست نہیں تو مکالمہ نگاری کو ہی بطورِ پیشہ اپنایئے۔ اگر آپ تاریخ کو کھنگالنے کا مزاج نہیں رکھتے تو کبھی کسی تاریخی موضوع پر طبع آزمائی نہ کریں۔

    آپ نے وہ کہاوت تو ضرورسنی ہو گی کہ وہی لکھیے جو آپ جانتے ہیں۔ لکھنے کے حوالے سے یہ زبردست محاورہ ہے۔ کیوں کہ جو بندہ اپنے مزاج کے الٹ لکھے گا توتحریر سے قطعاً انصاف نہیں کر پائے گا۔ تحریر کمزور ہو گی، اس میں جگہ جگہ جھول رہ جائیں جو اس کی ناکامی کا باعث بنیں گے۔

     

    -9 اپنی کہانی کو جانئے

    بہت سے سکرین رائٹرز لکھنے کے دوران یہ بات مدِّنظر نہیں رکھتے کہ وہ کیا کہانی بیان کرنے جارہے ہیں۔ اچھا آئیڈیا رکھنے کے باوجود وہ اسے بہتر طور پر نہیں لکھ پاتے یعنی تحریری طور پر اس سے انصاف نہیں کر پاتے۔ کہانی کو دائیں بائیں موڑتے اور غیر ضروری واقعات شامل کرتے چلے جاتے ہیں۔

    اپنے سکرین یا سکرین رائٹنگ کے صفحہ نمبر 90 تک پہنچنے پر آپ کی کہانی کو منطقی انجام مل جانا چاہیے۔ اسی لیے سکرین پلے کے لیے خاص فارمیٹ پر زور دیا جاتا ہے تا کہ انہیں احساس رہے کہ انہیں کہاں تک لکھنا ہے۔ بعض لکھاری مخصوص فارمیٹ کے بغیر بھی جان دار کہانی لکھتے اور پسندیدگی کی سند پاتے ہیں لیکن ایسا کم کم ہے۔ نئے لکھاری اگر ان امور کا خیال رکھے بغیر لکھیں گے تو بغیر ربط کے واقعات ہی واقعات ہوں گے۔

    آپ چوں کہ فلم کے نقطہ¿ نظر سے لکھ رہے ہیں اور آپ کے کرداروں نے پردئہ سکرین پر آنا ہے تو یہ مقصد سامنے رکھتے ہوئے اپنی تحریر کو جامع اور باربط بنایئے۔

    صرف اسی موضوع پر لکھئے جس پر آپ کے پاس سیر حاصل معلومات ہوں، موضوع سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات سے آپ واقفیت رکھتے ہوں۔ ان سب چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے ہی تحریر میں پختگی آئے گی۔

     

    -8 ہر سین اہم ہے

    کسی بھی فلم کے لیے استعمال ہونے والا سب سے بُرا لفظ کیا ہے؟ جس کی وجہ سے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے کردارکچھ زیادہ ہی ذمے داراور بہترین ہوتے ہیں؟ عریانی؟ یا پھر اس کے غیر دل چسپ مناظر؟ نہیں۔ اس میں سے کچھ بھی نہیں۔ سب سے برا لفظ جو کسی بھی فلم کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ ہے ”بور“۔ یہ فلم بڑی بور ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ کچھ فلمیں بور ہوتی ہیں جب کہ کچھ نہیں ہوتیں۔

    اس کی وجہ ہے کہانی سے تحریری طور پر انصاف نہ کرنا۔ اپنے کرداروں سے انصاف نہ کر پانا۔ کہانی میں ہر کردار کا ایک مقصد ہونا ہے۔ چاہیے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اس کا صحیح استعمال ہی کہانی یا فلم کو مضبوط بناتا ہے۔

    اگلی بار آپ کوئی فلم دیکھنے جائیں تو کرداروں پر نظر رکھیں کہ کیا وہ اپنی اپنی جگہ فٹ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ فلم بورنگ لگنا شروع ہو جائے گی۔

    اس سب سے مراد یہ ہے کہ آپ کے سکرین پلے میں ہر کردار کو نگینے کی طرح فٹ ہونا چاہیے۔ جہاں کرداروں پر آپ کی گرفت ڈھیلی پڑی تو فلم کی کہانی آپ کے ہاتھ سے نکلی اور بعد میں فلم بھی۔

     

    -7 اپنا ہیرو چنئے

    کسی بھی لکھاری کے لیے لکھنا ایک پرجوش عمل ہے کیوں کہ اس عمل کے دوران وہ تخلیقی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے، نئے کرداروں کی تخلیق۔ وہ کس کس درجے کے کون کون سے اور کتنے کردار بنائے سب اُس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور پھر اُن سے جو کروانا چاہتا ہے کروائے۔ ہے نا مزے کی بات۔

    لکھنے بیٹھئے تو سفید کاغذ آپ کے ان سارے محسوسات اور جوش کا منتظر ہے، چاہے صرف ایک شخصیت تاریخ کے جھروکوں سے نکال کر سامنے لے آئیے۔ اُس کے محسوسات، ناکامیاں اور کامیابیاں سامنے لایئے۔ اس ایک کردار کے ساتھ کئی اور کردار خودبہ بخود ہی سامنے آتے جائیں گے۔ اپنے آس پاس کے ماحول سے جو کردار چاہیں، اسے ماحول سے نکال کر صفحے پر بکھیر دیں۔

    لیکن ایک بات دھیان میں رہے کہ سکرپٹ لکھتے ہوئے یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ کس کردار سے کیاسلوک کرتے ہیں، کس کردار کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ کہیں غیر ضروری کردار کو زیادہ اہمیت اور ضروری کردار کو نظر انداز تو نہیں کر رہے۔ 

    اس سے کہانی بے وزن ہونے لگتی ہے۔ اصطلاحی زبان میں یہ کہ ”کہانی کے مضبوط کردار یا دوسرے لفظوں میں ہیرو ٹائپ ہی وہ کردار ہیں جنہیں سب سے زیادہ خوب صورتی سے لکھنا چاہیے۔“

    اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی کہانی انہی کرداروں کے ارد گرد گھوم رہی ہوتی ہے اگر یہ کمزور رہ جائیں گے تو کہانی بورنگ ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس کہانی پر بنی فلم بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پائے گی۔ کہانی کے ہیرو ہی دراصل وہ مضبوط کردار ہیں جنہیں لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہیرو جتنا دبنگ، مضبوط اور بہادر ہو گا، اتنا ہی پسند کیا جائے گا۔

    کہانی کے دیگر کرداروں کے لیے یہ خوبیاں ضروری نہیں کہ وہ ہیرو کی طرح کہانی کو لے کر نہیں چل رہے ہوتے۔ انہیں آپ قدرے ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں لکھیں تو وہ زیادہ بہتر دکھائی دیں گے۔ لیڈنگ کیریکٹر کے لیے بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ہیرو کو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک دکھائیں، جیسا کہ عموماً ہر فلم میں ہوتا ہے۔ ہیرو کا تصور ہی ماورائی تخیل اور طاقت سے جڑا ہے لہٰذا ایک عام سیدھا سادا کردار ہیرو نہیں ہو سکتا۔ ہیرو کی اسی مضبوطی کے کھونٹے سے ہر کردار بندھا ہوتا ہے اور اپنی اپنی جگہ رہ کر اپنا کام کرتا ہے۔

    کہانی میں دل چسپ اور مزاحیہ واقعات سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہیں۔ یوں آپ ایک متوازن اور مضبوط کہانی تخلیق کر سکتے ہیں۔

     

    -6 مزاج کو مدِّنظر رکھئے

    سب سے ضروری اور اہم بات جو مدِّنظر رکھنے کی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے جس طبقے، جس درجے کے بارے میں لکھ رہے ہیں اُن کے مزاج کو مدنظر ضرور رکھئے۔ اُن کے مزاج کے مطابق اس کہانی میں پورا مواد ڈالیے۔

    فلم کی کہانی کے بارے میں یہ کہنا کہ میں اس جگہ یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں، اگر دیکھنے والے اسے سمجھ نہیں پا رہے تو یہ میرا مسئلہ نہیں یہ بہت ہی غلط بات ہے۔

    یہ آپ کا مسئلہ ہے اور بالکل ہے کیوںکہ آپ کی تحریر کا مقصد ہی لوگوں کو بات سمجھانا ہے، انہیں پیغام دینا ہے۔ اگر آپ اس میں ناکام رہتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایسے لکھنا چھوڑ دیں۔ بس اپنے خیالات ڈائری میں ہی نوٹ کر لیاکریں۔

    فلم کے لیے لکھی آپ کی تحریر نے لامحالہ لوگوںکے سامنے آنا ہے اور لوگ پیسے خرچ کر کے تفریح کے لیے آتے ہیں ۔اگر انہیں مبہم اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز دیکھنی پڑے، جس سے نہ صرف ان کے تفریحی موڈ کا بیٹرہ غرق ہوگا بلکہ الٹا وہ الجھی طبیعت سے واپس جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے کہ بتائیں کیا دیکھا تو جواب ہوگا کہ کچھ سمجھ نہیں آیا۔ آپ اپنی ذہانت کا سکہ بٹھانے کے لیے تو بھاری بھر کم تحریر لکھ سکتے ہیں مگر وہ دوسرے کے لیے کسی کام کی نہیںہو سکتی۔

    آپ کو ایسی تحریر لکھنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تازہ دم ہونے میں مدد دے۔اس کے لیے دیکھنے والوں کے مزاج کو مدِّنظر رکھنا بے حد اہم ہے۔ آپ ناخواندہ طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں یا خواندہ۔ آپ کے فلم بینوں کو کیا چاہیے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ 

    اہم بات یہ کہ جو موضوع بھی لکھیں، اس کے بارے آپ کو مکمل آگاہی،معلومات اور جزئیات کا پورا علم ہونا لازمی ہے۔ اس سب تیاری کے ساتھ آپ جو لکھیں گے وہ یقینا اچھی تحریر ہو گی۔

     

    -5 حقیقی مناظر لکھیے

    تحریر میں مناظراس طریقے سے لکھئے کہ یوں لگے کہ یہ تو ایک حقیقی منظر ہے۔ انہیں ایک دم تازہ اور اصلی لگنا چاہیے۔ ذہن میں رکھیں کہ یہ مناظر صرف آپ ہی پہلی بار لکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایک انگریزی فلم "A Clockwork Orange” دیکھئے۔ جس کا ہر منظر ایک دم نیا اور حقیقی دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس فلم کے کرداروں کی مکالمہ ادائی بھی اتنی رواں اور برجستہ ہے کہ جیسے حقیقی زندگی کا منظر ہو۔

    مطلب یہ کہ فلمی سین ایسے ہوں کہ اگر ایکشن ہو تو فلم بینوں میں جوش وولولہ بھر دیں، المیہ ہوں تو ہر آنکھ میں آنسو اور چہرے پر اُداسی ہو، طربیہ ہوں توسب کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے ہوں۔

    دراصل موضوعات تو روزمرہ زندگی سے ہی لیے جاتے ہیں جو روزِ اوّل سے چلے آرہے ہیں۔ اصل فن انہی موضوعات میں سے کسی ایک کو تازہ، زبردست اور دیکھنے لائق بناتا ہے، جو ایک سٹوری رائٹر کاکمال ہوسکتاہے۔

     

    -4 اپنی پسند کی نفی کیجیے

    الفریڈ ہچکاک کا کہنا ہے: ”ڈرامہ زندگی کا وہ رخ ہے جو آپ کی اُداسیوں کو خوش گواریت میں بدل سکتا ہے۔“

    یہ پڑھنے کے بعد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اُداس اورپریشان کرنے والے مناظر کیوں لکھوں؟

    یقینا کوئی بھی لکھاری بور یا دُکھی مناظر جان بوجھ کر نہیں لکھتا۔ وہ اپنی طرف سے اچھی اور بہترین تحریر سے ہی مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ آپ کی کہانی کے کوئی ایک دو سین جو آپ کے خیال میںکہانی کی جان ہو سکتے ہیں لیکن پروڈیوسر یا ڈائریکٹر انہی سین پر رائے زنی کرتے ہوئے انہیں مسترد قرار دیتا اور نئے سرے سے اپنی مرضی کے مطابق لکھنے کو کہتا ہے تو اس میں برائی کوئی نہیں۔

    کیوں کہ پروڈیوسر ڈائریکٹر دیکھنے والوں کے نقطہ¿ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے یا دوسرے لفظوں میں ”مارکیٹ کی ڈیمانڈ“ کے مطابق سین مانگتے ہیں۔ بعض اوقات جب آپ خود بھی کسی سین کو دوبارہ لکھنے کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب زیادہ بہتر ہو گیا ہے۔ یہ سین پہلے اتنا ضروری نہ تھا جتنا آپ سمجھ رہے تھے۔ نیا سین زیادہ اچھا ہے۔

    ایک مثال شاید آپ نے سنی ہو، جو لکھاریوں کے لیے ہی ہے کہ "Kill your darlings”۔ یہ تمام قسم کے لکھاریوں کے لیے یکساں طور پر ہے۔ اس سے مراد یہ کہانی میں اپنی پسند کے مناظر نہ ڈالیے بلکہ دیکھنے والوں کی پسند کو مدنظر رکھئے۔ لہٰذا اپنی کہانی کا وہ موڑ یا واقعہ جو آپ کے نزدیک کہانی کا سب ضروری حصہ ہے، لیکن اگر اُسی پر اعتراض اٹھ جائے تو اسے بدلنے میں نہ ہچکچائیں۔ اسے دوبارہ سے لکھتے ہوئے آپ کا دل دکھی تو ضروری ہو گا مگر مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق وہ مناسب ہو گا اور یقینا بہترین بھی۔

     

    -3 کوئی پیغام دیجیے

    ویسے تو سینکڑوں وجوہات ایسی ہیں جو لکھنے پر اُکساتی ہیں لیکن سب سے بڑی اورضروری وجہ ہے کہ جو آپ لکھ رہے ہوں اُس میں کوئی نہ کوئی پیغام ہو۔ بہت سے لکھاری سمجھتے ہیں کہ صرف سنجیدہ فلموں کے ذریعہ ہی کوئی پیغام دیا جا سکتا ہے، یہ ایک فاش غلطی ہے۔ فلم کسی بھی موڈ کی ہو، پیغام تو بہرحال کوئی نہ کوئی رکھتی ہی ہے، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوتا ہے۔

    چاہے وہ Schindler کی فلم Lists of Transformers ہی کیوں نہ ہو۔ دیکھیں کہ اس فلم کی کہانی کیوں کر لکھی گئی اور اس کا مقصد کیا ہے؟

    اچھی اور بامقصد فلم دیکھنے کے بعد اب اس پر غوروفکر کرتے، اُس سے لطف اندوز ہوتے اور دوبارہ دیکھنے کے خواہش مند بھی ہوتے ہیں۔تو اسی تناظر میں یہ سیکھئے کہ ایسا لکھنا ہے جس کا کوئی مقصد ہو، جس تحریر میں گہرائی ہو، اور اس طرح لکھنا ہے کہ جیسے اس سے پہلے کبھی لکھی نہ گئی ہو۔ اگر آپ کسی فلم کا چربہ لکھ رہے ہیں تو بھی اُس کہانی سے عمدہ اور اچھی باتیںضرور چنیں۔ وہ کہتے ہیں ناکہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہانی کو اس طرح اپنائیں کہ وہ بالکل تازہ اور نئی لگے۔

     

    -2 اپنی تحریر نکھاریئے

    تحریر یا سکرین رائٹنگ کو بہترین شکل میں لانے کا سب سے بڑا گر ہے، دوبارہ لکھنا اور بار بار لکھنا۔جب آپ ایک تحریر مکمل کرلیتے ہیں تو پھر لازمی طور پر اُسے آگے بھیجنا ضروری ہے۔ کیوںکہ آپ تو لکھ چکے، آپ کا کام ختم، اب اگلے مرحلے کی باری ہے۔

    ناول نگاری کی طرح پہلی دفعہ لکھی تحریر کی حقیقت ایک خاکے سے زیادہ نہیں۔ مشق سے آپ مزید بہتر تحریر عمل میں لا سکتے ہیں۔ اپنی تحریر 90 صفحات پر پھیلانے کے بعد اسے سمیٹنے یا اس کا انجام لکھنے کا مرحلہ در پیش ہوتا ہے۔ جس کے لیے آگے چند صفحات ہی بچتے ہیں۔ ہر لکھاری اپنی طرف سے عمدہ لکھتا اور اسے عمدہ ترین سکرپٹ کا درجہ دیتا ہے۔ 

    مسودہ مکمل ہونے کے بعد کا مرحلہ بھی آسان نہیں۔ یوں سمجھئے کہ چیز تیار ہے اسے بیچنے کے لیے آپ نے اب مارکیٹ لے جانا ہے اور مارکیٹ میں بیچی جانے والی چیز کانک سک سے درست ہونا لازم ہے۔ آپ بھی اپنے مسودے کو عمدہ ڈھنگ سے اس طرح ترتیب دیں کہ پڑھنے والا اسے اک نظر دیکھنے کے بعد پڑھنے پر مجبور ہو جائے گا۔

    لکھنے سے پہلے بہترین آئیڈیئے کا انتخاب کیجیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ذہن میں آنے والے آئیڈیاکے تمام نکات نوٹ کر لیں اور اس کے بعد لکھنا شروع کریں۔ اس طرح آپ کچھ بھی بھولے بغیر جامع تحریر لکھ سکیں گے۔

    اپنی کہانی ایک بار لکھئے اور پھر اسے کم از کم 30 بار، بار بار لکھیے۔ جی ہاں کم از کم 30 بار۔ لکھتے جائیں، لکھتے جائیں۔ اس طرح جو تحریر وجود میں آئے گی وہ بہترین ہو گی اور اس میں مزید کاٹ پیٹ یا ایڈیننگ کی ضرورت بھی کم سے کم پیش آئے گی۔

     

    -1 تحریر کو پختہ کیجیے

    جب آپ اپنا مسودہ مکمل کر چکیں تو اسے ایک طرف رکھ دیں اور بھول جائیں۔ اس کے بارے میں سوچیں بھی مت۔ کم از کم ایک دو ماہ تک۔ اب اسے نکالیے اور پڑھیئے۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس تحریر کو آپ اگر دوبارہ لکھیں تو پہلے سے بہتر لکھ سکیں گے۔

    ہم جب خود اپنی پرانی تحریریں پڑھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ اس میں یہ یہ کمی ہے، جسے پورا ہونا چاہیے۔ یہی نکتہ ہم آپ کو سمجھا رہے ہیں کہ ایسا ہی اپنے سکرپٹ کے ساتھ کیجیے۔ کچھ عرصے کے وقفے سے آپ اپنے تحریر شدہ سکرپٹ کو دوبارہ پڑھیں گے تو آپ ایک ناقد کی نظر سے بھی پڑھ رہے ہوں گے۔ یقینا اس میں چھوٹی چھوٹی کئی خامیاں نظر آئیں گی۔ جنہیں آپ پہلے سے بہتر انداز میں لکھ سکیں گے۔

    سٹیفن گنگ اگرچہ ناول نگار ہیں لیکن بار بار تحریر کے حوالے سے اُن کا کہنا ہے:

    ”اگر آپ نے پہلے ایسا نہیں کیا تو تجربہ کیجئے۔ اپنے تحریر شدہ مسودہ کو چھے ہفتے بعد پڑھیئے، آپ خود اپنی بہت سی خامیوں کی نشان دہی کر سکیں گے۔ یہ آپ کی اپنی شناخت کا سفر ہے۔ جوں جوں

     آپ وقفے دے کر اپنی تحریروںکو پڑھتے رہیں گے، تو تحریر بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی۔ مسودے کو ایک سے دو ماہ کے وقفے سے پڑھنے میں خاص حکمت پوشیدہ ہے۔“

    تحریر میں نکھا ر اورپختگی کے لیے آپ کے لکھنے کی ریاضت ہی کام آئے گی۔ لہٰذا اس ہدایت پر عمل ہی آپ کو ایک اچھا لکھاری بنا سکتا ہے۔

     
  • سکرین رائٹرز ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز 

     

    ایک سکرین رائٹر، سکرین رائٹر اور بس سکرین رائٹر ہی ہوتا ہے۔ کئی سکرین رائٹرز ٹی وی، فلم، مزاج اور ڈرامہ لکھ سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر صنف کا مزاج الگ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر ٹی وی کے لیے مزاج لکھنے والے لکھاری نہ صرف عام طور پر مزاحیہ مزاج رکھتے ہیں بلکہ اپنے کام کی بدولت فلم سازوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں اور بعض اوقات انتہائی دباﺅ کے عالم میں بھی کام کرنا پڑے تو کر سکتے ہیں۔ سِٹ کام سکرین رائٹنگ یا مزاحیہ ڈرامہ یا سین بنانے میںپورا ایک گروپ متحرک ہوتاہے۔ ایک روایتی سِٹ کام کی تکمیل میں دس بارہ کل وقتی لکھاریوں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لکھاری کے بڑے سے کمرے میں اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ جہاں بھانت بھانت کے لوگ مختلف واقعات و گفتگو شیئر کرتے ہیں۔ ہر قسط کے پلاٹ کے ہرہر نقطے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ لطائف بازی ہوتی ہے جن سے کہ مزاحیہ سین کشید کیے جاتے ہیں اور سکرپٹ کے ہر ہر سین پر اُس وقت تک بحث ہوتی ہے جب تک کہ وہ شوٹنگ کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔

     

    سکرین رائٹر کیسے بنتے ہیں؟

    سکرین رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھاریئے اور اس کے ساتھ بطور لکھاری بھی اپنا ایک مضبوط تشخص ابھاریئے۔ یعنی کہ آپ کو لکھاری کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے۔

    آپ کا اوّلین ہدف سکرین رائٹر بننا یا ٹی وی سکرپٹ لکھنا نہیں بلکہ صرف ” لکھنا “ ہونا چاہیے۔ کچھ بھی، کوئی مضمون، شارٹ سٹوری، کہانی، افسانہ یا کچھ بھی لکھیں۔سب سے پہلے اپنی تحریر میں پختگی لائیں۔ جب آپ کو ”لکھنا“ آ جائے گا تو پھر آپ مزیدآگے بڑھ سکتے ہیں۔

    یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جسے صرف ثابت قدمی سے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ لکھنا، لکھنا اور بس لکھنا۔ اپنی ان اوّلین تحریروں کو ایک ناقد کی نظر سے خود پڑھیں، دوسروں کو پڑھائیں اور ان کی آرا کی روشنی میں اس مشق کو مطلوبہ معیار تک جاری رکھیں۔ مشق آخر کار آپ کو پختہ کار بنا دے گی۔

    کچھ لوگ باقاعدہ کسی ادارے سے باقاعدہ ترتیب لینا زیادہ سود مند تصور کرتے ہیں۔ ان میں کالج کورس، فلم سکول پروگرام یا آن لائن رائٹنگ ورکشاپس جیسے رہنمائی دینے والے میڈیاہیں۔ ان اداروں کو جوائن کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں آپ کو ایک مقررہ وقت پر کام کر کے دکھانا ہوتا ہے اور پھر اس کا گریڈ بھی ملتا ہے یا مقابلے بازی کا رجحان ہوتا ہے۔ کسی فلم سکول میں داخلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں آپ کا براہِ راست واسطہ فن کاروں، لکھاریوں اور فلم سازوں سے پڑتا ہے۔ جہاں آپ کام ہوتے دیکھتے اور کئی نئے نئے آئیڈیاز بھی پاتے ہیں۔ اور اگر ایک محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی ہیں تو براہِ راست یہاں ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں۔

     

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر شوقیہ اور پیشہ ورانہ دونوں اقسام کے سکرین رائٹرز کے لیے یقینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر سافٹ ویئر خریدنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈسٹری سٹینڈرڈ کے مطابق بنائے گئے فارمیٹ کے مطابق اپنا سکرپٹ تیار کر سکتے ہیں۔

    ایک بڑی اہم، عجیب اور منفرد بات یہ ہے کہ آدھے گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کا ٹی وی ڈرامہ اور فیچر فلم، ان میں سے ہر ایک کا فارمیٹ الگ ہوتا ہے۔ ان سب کے لیے ایک فارمیٹ کام نہیں دے سکتا۔ اور اس سے بھی انوکھی بات یہ کہ کچھ خاص شوز کے لیے گفتگو کے نکات تحریر کرنے کے لیے فارمیٹ بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

    جب آپ اپنا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ایجنٹ کے ہاتھ میں تھماتے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس میں کرداروں کے نام اور مقام کس طرح سے لکھے گئے ہیں، سین کی وضاحت کیسے کی گئی ہے، اور کیا سین میں تسلسل ہے۔ آپ fade out اور jump cut کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

    تواپنا پہلا سکرین پلے یا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ادارے کو بھیجنے تک پوری کوشش کریں کہ ان تمام جزئیات پر آپ کو پورا عبور حاصل ہے۔