Author: misbah116@hotmail.com

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۳

    (سارہ قیوم)

    چوبیسویں رات:

    چوبیسویں روز جب رات کی سواری مثلِ باد بہاری آئی توبادشاہ شہریار نے محل میں قدم رنجہ فرمایا اور شہرزاد کو بلایا۔ کہا ، اے خاتونِ شیریں بیاں وفصاحت زباں، ہمیں کل سے بہت بے قراری ہے، عقل عاری ہے، انگشتِ حیرت بہ دنداں،سخت پریشاں ہیں کہ حسن کی معشوقہ ء حسینہ لاجواب کیونکر عاصم کے عقدِ نکاح میں آئی، یہ وارداتِ حیرت انگیز کیسے پیش آئی؟ اور جب حسن سوداگر بچے کے دوستوں نے یہ راز اس پر فاش کیا، اس کے دل کو پاش پاش کیا تو اس غریب پر کیاگزری؟ یہ سب باتیں وضاحت سے بیان فرماؤ، رازِ نہانی ذرانہ چھپاؤ۔
    بادشاہ کی فہمائش و فرمائش سے وہ خاتونِ بلقیس مرتبت والانژاد ملکہ شہرزادیوں عرض پیراہوئی، مثلِ بلبل نغمہ سرا ہوئی کہ جہاں پناہ میں ضرور حسن سوداگر بچے کی بدنصیبی کا حال سناؤں گی لیکن اس سے پہلے اس کی محبوبہ کا حال معرضِ بیان میں لاؤں گی۔
    تو گوش ِ ہوش سے سنیئے کہ وہ پری پیکر، گل روُ ، قوس ابروُ حسن و جمال میں لاجواب تھی لیکن ویسے بہت چست و چالاک تھی۔ ایک طرف حسن بدر الدین کے حسن و جمال پر فداتھی، دوسری طرف مال و دولت کی خواہش سوا تھی۔ حسن کے ساتھ پینگیں اس نے خوب دو جمع دو چار کرکے بڑھائی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ ایک دن یہ بہت مقبول و مشہور ہوگا، مالدار ضرورہوگا۔ دولت تو حسن نے نہ پائی، ہاں شامت البتہ ضرور آئی۔ ڈرامہ فلاپ ہوگیا، دکان چلنے سے پہلے نقصان میں جاتی رہی۔ ممانی نے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا اور بندہ درگاہ دربدر ہوگئے، عاصم کے گھر پناہ لینی پڑی۔
    عاصم سے کرن کی پہلی ملاقات گلی میں ہوئی تھی جب وہ اپنی عظیم الشان گاڑی سے اترا تھا اور چار قوی ہیکل گارڈ اس کی حفاظت میں تن کر کھڑے تھے۔ تب کر ن کو یہ گمان ہوا تھا کہ ‘‘یہ بھی اداکار ہے، بڑا فسوں کار ہے۔ حسن کے ساتھ ڈرامے میں کام کرے گا، شہرت میں نام کرے گا’’۔
    یہی سوچ کر اس نے کاغذ قلم نکالا تھا اور بصد اصرار عاصم سے دستخط لئے تھے۔ بعد میں اسے نانی کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ اداکار نہیں بس حسن کا دوست ہے تو اسے ازبس غصہ آیا کہ خوامخواہ میں آٹوگراف لیا، کتنی ہیٹی ہوئی۔
    اس وقت تو اس نے غور نہ کیا لیکن نانی نے چلتے چلتے اسے یہ بھی بتایا کہ یہ لڑکا بہت بڑے زمیندار گھرانے کا اکلوتا چشم و چراغ ہے،ماں باپ کا دل اس سے باغ باغ ہے۔ باپ شاہی دربار میں امیر ہے، بادشاہ کا وزیر ہے۔ دولت مانندِ انبار گھر میں پڑی ہے، جاہ وحشمت ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔
    عاصم سے تیسری ملاقات لبرٹی مارکیٹ میں سنار کی دکان میں ہوئی جہاں وہ اور حسن ہیرے بیچنے گئے تھے اور کرن نے گزرتے گزرتے انہیں دیکھ لیاتھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ حسن نے تو اسے محض ایک گلے کی زنجیر خرید کر دی جبکہ عاصم نے کھڑے کھڑے تیرہ لاکھ کا ہیرا اپنی ماں کے لئے خرید لیا۔ وہاں سے گھر واپسی پر عاصم کی عظیم الشان، خوبصورت گاڑی میں بیٹھے ہوئے اسے باہر کی دنیا حقیر نظر آتی تھی، گاڑی کی خنکی جنت کی یاد دلاتی تھی۔ وہ سوچتی تھی اگر گاڑی ایسی ہے تو گھر کیسا ہوگا؟ سہولیات کا کیا عالم ہوگا؟ ان سوالات کا جواب اسے کیونکر ملا؟ عاصم سے تعلق کیسے بڑھا؟ یہ حال میں آگے بیان کروں گی اور اب جہاں پناہ اس زنکہ ٔ زاہد فریب کو تو یہیں چھوڑیئے اور ذرا حسن بدر الدین کی خبر لیجیے۔
    حسن کو جب بندو نے کرن اور عاصم کے نکاح کی خبر سنائی تو پہلے تو حسن کو باور نہ آئی۔ مگر جب بندو نے یقین دلایا تو حسن پر بجلی گرپڑی، آنکھوں تلے اندھیرا چھایا۔ بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش، دین و دنیا فراموش۔ یہ حال دیکھ کر یاروں نے کسی طرح اٹھایا، تتو تھمبو بائیک پر بٹھایا اور گھر کو لائے۔ گو اس وقت حسن ہوش میں تھا لیکن بعد میں سوچتا تو کچھ یاد نہ آتاتھا کہ راستے میں کیا ہوا تھا اور گھر پہنچنے پر کیا بات پیش آئی تھی۔ بس اتنا یاد تھا کہ وہ اپنے کمرے میں بستر پر پڑا تھا اور رات کا وقت تھا اور زلیخا پاس بیٹھی تشویش سے اسے دیکھتی تھی۔
    صبح حسن کی آنکھ کھلی تو کچھ دیر تو کچھ سمجھ ہی میں نہ آیا کہ کہاں ہے اور کیونکر ہے اور دل پر یہ ناقابلِ برداشت سا بوجھ کیوں ہے۔ پھر رات کی بات یاد آئی، گویا اجل نے صورت دکھائی۔ اپنی محبوبہ گلعذار کا خیال آیا، تیر ِفرقت کا زخم کاری کھایا۔ جوش ِجنوں میں جھپٹ کر اٹھا اور تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
    دیکھا تو نانی برآمدے میں تخت پر بیٹھی نظر آئی۔ نانی نے حسن کو دیکھا تو ایک آہِ سرد بھری اور سرجھکالیا۔ حسن بھاگ کر نانی کے پاس پہنچا اور بے قراری سے بولا: ‘‘نانی جان، میں نے بڑی بُری خبر سنی ہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ…… کہ……’’ اس سے آگے حسن سے کچھ کہا نہ گیا، تذکرۂ رقیب سہا نہ گیا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۲

    (سارہ قیوم)

    تیئسویں رات:


    جب شاہِ گیتی پناہ نے تئیسویں رات کو محل میں قدم رنجہ فرمایا تو شہر زاد کو بلوایا اور کہا کہ اے خاتونِ جمیلہ، توُ وہ قصہ سناتی ہے کہ پھڑک پھڑک جاؤں، وہ فسانہ معرضِ بیان میں لاتی ہے کہ ہر بات پر گلے لگاؤں۔ یہ تو بتاؤ کہ مرنجاں مرنج و مسکین ماموں میں اتنی ہمت کہاں سے آئی اور اتنی جرأت کیوں کر پائی کہ گھر سے بھاگ کر نکاح کیا؟ سچ مچ کہا بھی یا صرف مزاح کیا؟
    شہرزاد کھلکھلا کر ہنسی اور یوں چہچہہ زن ہوئی کہ اے شہنشاہِ والا تبار، ماموں کے نکاح کی خبر سن کر سب کی وہی کیفیت ہوئی جو آپ کی ہوئی۔ ہکا بکا، ازخود رفتہ، ہوش و ہواس غائب ہوئے، پھر منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ نانی کے ہاتھ سے تسبیح گر گئی اور ممانی پر گویا بجلی گر گئی۔
    سب سے پہلے زلیخا کو ہوش آیا اور اس نے جھپٹ کر حسن کے ہاتھ سے وہ چٹھی چھین لی جو وہ اب تک تھامے کھڑا تھا۔ اس کاغذ پر نظر پڑتے ہی زلیخا کا رنگ سفید پڑ گیا اور اس نے خاموشی سے کچھ کہے بغیر وہ کاغذ نانی کی طرف بڑھا دیا۔ نانی نے کاغذ تھاما، عینک ناک پر جمائی اور جونہی کاغذ پر نظر پڑی، بے ساختہ پکار اٹھی۔ ‘‘یہ تو…… یہ تو نکاح نامہ ہے۔’’
    یہ کہہ کر نکاح نامہ ممانی کی طرف بڑھا دیا۔ ممانی نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے شوہر کا نکاح نامہ پکڑا اور اسے یوں گھورنے لگی جیسے میدانِ حشر میں جہنم کے فرشتوں نے اعمال نامہ تھما دیا ہو اور بے یقینی اور رنج سے قعنا کی صورت نظر آتی ہو۔ حیرانی و پریشانی سے حال ناگفتہ بہ۔ اجل کی مہمان نظر آئی تھی، گو زندہ تھی مگر نیم جان نظر آئی تھی۔ ممانی کو سکتے کے عالم میں دیکھ کر زلیخا نے مدھم آواز میں پکارا۔ ‘‘ماما……’’
    اس آواز کا سننا تھا کہ ممانی ہوش میں آئی، وحشت کا شکار ہوئی، جوش میں آئی۔ اس زور سے چیخ ماری کہ حاملانِ عرشِ بریں کے کلیجے دہل گئے۔ اپنے بال نوچ ڈالے۔ اپنے چہرے پر اس زور سے دو تھپڑ رسید کیے کہ منہ مثلِ خون لال ہوا، اس مار پیٹ سے برا حال ہوا۔ خوب زور سے چیخی اور مصروفِ ماتم و گریہ ہوئی۔ کپڑے چاک کیے، نالہ ہائے درد ناک کیے۔
    نانی اور زلیخا نے بھاگ کر ممانی کو پکڑا کہ اپنا برا حال کرنے سے روکیں لیکن ممانی کسی کے قابو نہ آتی تھی، تلملا تلملا جاتی تھی۔ سینہ کوبی کرتی تھی، اشکوں سے دامن بھرتی تھی۔
    حسن ممانی کی یہ حالت دیکھتا تھا اور حیرت سے سوچتا تھا کہ عورتوں کی عقل پر آفرین ہے کہ یہ خاتون کہاں تو شوہر کو پیٹتی تھی اور ہر دم برا بھلا کہتی تھی اور اب شوہر کے نکاح کی خبر سنی تو تاب نہ لاتی ہے۔ آٹھ آٹھ آنسو روتی ہے، رو رو کر جان کھوتی ہے۔
    ہوتے ہوتے ممانی کو مرضِ کہرام سے راحت ہوئی۔ جنون کی حالت سے فراغت ہوئی۔ زلیخا نے پانی لا کر پلایا، نانی نے تسلی دی، گلے لگایا۔ زلیخا نے بصد دقت ِ تمام ممانی کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور ان کے کمرے کو لے چلی۔ ممانی کے قدم ڈگمگائے تھے۔ نہایت کمزور و ناتواں تھی، نقیہ و نیم جاں تھی۔
    ممانی کمرے کو گئی تو نانی اور حسن چپ چاپ بیٹھ گئے۔ حسن اس ماجرائے حیرت انگیز سے پریشان تھا، بے حد حیران تھا۔ دل میں سوچتا تھا ،یاالٰہی یہ کیا ماجرا ہے کہ ماموں اس قدر شریر نکلے کہ بڑھاپے میں شادی کی دھن سمائی۔ سوتیلے بیٹے کی جوروُ پر آنکھ لگائی اور بھلا نسیمہ باجی کو کیا ہوا کہ مالی مفاد نہ فکرِ معاش کی، مگر اپنے لیے شوہر کی تلاش کی؟ عجب بو العجبی ہے۔
    اپنی سوچوں میں غرق تھا، خاموش تھا، پنبہ دوگوش تھا کہ یکایک دبی دبی ہنسی کی آواز آئی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو نانی کو چپکے چپکے ہنستے پایا، گو کہ ہاتھ منہ پر رکھ کر ہنسی کو چھپاتی تھی لیکن ہنسی تھی کہ پھوٹ پھوٹ جاتی تھی، ذرا قابو میں نہ آتی تھی۔
    حسن کو استعجاب ہوا۔ بولا: ‘‘نانی جان، اس ہنسی کا کیا مطلب ہے؟ یہاں ممانی کی جان جاتی ہے اور آپ کو ہنسی آتی ہے؟’’
    نانی بہ مشکل تمام ہنسی روکتے ہوئے بولی: ‘‘چھکا مارا ہے آج تو زاہد نے۔ سوسنار کی ایک لوہار کی!’’
    حسن نے سر ہلا کر کہا:‘‘یوں تو ماموں نے شریعاً کچھ غلط کام نہیں کیا لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ نئی بیوی کو رکھیں گے کہاں؟ علیحدہ رکھنے کے لیے پیسہ نہیں اور اگر یہاں لے آئے تو ممانی ضرور دونوں کو قتل کرے گی، خونِ ناحق سے ہاتھ بھرے گی اور جب اس نکاح کی خبر بنّے بھائی کو ملے گی تو نہ جانے کیا غضب ڈھائیں اور کیا آفت اٹھائیں۔’’
    نانی نے ہاتھ ہلا کر گویا مکھی اڑائی اور کہا: ‘‘جو ہوگی دیکھی جائے گی۔ چھوڑ توُ ان باتوں کو، ذرا جا کے دیکھ فریج میں کوئی مٹھائی پڑی ہے؟ اگر نہیں تو چینی دان ہی لے آ، میں منہ تو میٹھا کروں۔ آخر میرے بیٹے کی شادی ہوئی ہے۔’’
    حسن تابعداری سے اٹھا اور چینی دان لایا اور نانی کو تھمایا۔ نانی نے چمچہ بھر چینی منہ میں ڈالی اور نکاح نامہ حسن کے آگے کرکے خوشی سے بے حال ہوتے ہوئے بولی: ‘‘ایک لاکھ حق مہر طے کیا ہے میرے بیٹے نے، دیکھ تو سہی۔ ہائے دیکھ حسن، کتنا اچھا لگ رہا ہے زاہد کے نام کے ساتھ دولہا لکھا ہوا ۔’’ اتنے میں زلیخا باہر نکلی اور نانی نے جلدی سے چینی دان چھپا دیا۔ زلیخا خاموشی سے آکر ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
    نانی نے ہمدردی سے پوچھا: ‘‘کیا حال ہے پروین کا؟’’
    زلیخا نے گہرا سانس لیا اور بولی:‘‘کیا حال ہوسکتا ہے؟’’
    نانی نے دزدیدہ نظروں سے حسن کو دیکھا اور چینی دان کھسکا کر اور بھی چھپا دیا۔
    حسن نے کہا:‘‘سوتیاڈہ چیز ہی ایسی ہے کہ عورت تاب نہیں لاتی ہے، جلن سے جان جاتی ہے۔ نہ جانے ماموں کو کیا سوجھی؟ لگتا ہے سٹھیا گئے ہیں، عقل کا استعفیٰ پا گئے ہیں۔’’
    زلیخا نے غصے سے ترچھی نظر سے حسن کو دیکھا اور بولی:‘‘ اور تم مجھے کہتے تھے ماں باپ کی قدر کروں، اب خود دیکھ لو ابا نے یہ کیا حرکت کی۔ ساری عمر مردانگی نہیں جاگی، منمناتے رہے تمام عمر اور اب اس عمر میں آکر یہ گل کھلایا۔ شرم بھی نہیں آئی۔’’ یہ سن کر نانی نے پہلو بدلا، بے حد جز بز ہوئی۔
    زلیخا غصے میں کہتی رہی:‘‘اور ماما کو دیکھو، ساری عمر ابا کے ساتھ اینٹ کتے کا بیر رکھا اور آج ایسے رو رہی ہیں جیسے کوئی بڑا پیار کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے……’’
    زلیخا کا دل کیا چاہتا تھا، یہ کوئی نہ جان سکا کیوں کہ اسی وقت نانی کے فون کی گھنٹی بجی۔ دیکھا تو اس پر ماموں کا نام جگمگا رہا تھا۔ نانی کی خوشی سے چیخ نکل گئی۔ لپک کر فون اٹھایا اور خوشی سے بولی: ‘‘زاہد…… توُ کہاں ہے بیٹے؟’’
    زلیخا نانی کے یوں خوش ہونے پر خفا ہوئی اور ہاتھ بڑھا کر نانی کے فون پر انگلی لگائی۔ زلیخا کا چھونا تھا کہ ماموں کی آواز سب کو سنائی دینے لگی۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۱

    (سارہ قیوم)

    بائیسویں رات

    رات آئی تو شہرزاد شیریں بیان نے کہانی یوں سنائی کہ جب سفاک ، بے رحم بنے بھائی نے کھڑے کھڑے نسیمہ کو طلاق دی اور اپنی راہ لی تو گھر بھر پر برق گر پڑی اور سب کو سانپ سونگھ گیا۔ سب لوگ حیران و ششدر تھے، بے قرار ومضطر تھے۔ آخر اس سناٹے کو ماموں کی آواز نے توڑا۔ وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولے۔ ‘‘انا للہ وانا علیہ راجعون۔’’
    اس درد بھری آواز کا سننا تھا کہ سامعین کی چھاتی بھر آئی، اس ظلم درد انگیز کی تاب نہ آئی۔ نانی کے منہ سے چیخ نکل گئی اور وہ دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ ممانی بھی حیران پریشان مثل ِپیکرِ تصویر خاموش تھی، ہمہ تن گوش تھی۔ زلیخا کے چہرے پر خاموش آنسو بہتے تھے۔
    اسی خاموشی سے اٹھ کر اس نے تھر تھر کانپتی نسیمہ کے ہاتھ سے بچے کو لیا اور نسیمہ کا بازو پکڑ کر تخت پر بٹھایا۔ نسیمہ کا چہرہ کورے لٹھے کے مانند سفید تھا، جانے اس کے دل میں کیا بھید تھا؟
    حسن کے دل میں شعلہء آتشیں بل کھاتا تھا، نائرہ ٔ غضب سینے میں مشتعل ہوا جاتا تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت جائے اور بنے بھائی کو واصلِ جہنم کرے ،لیکن جانتا تھا کہ اس وقت سوال و جواب میں بات ضرور بڑھے گی، یہ بیل منڈھے نہ چڑھے گی۔
    وہ آگے بڑھ کر نسیمہ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا۔ ‘‘باجی، مجھے حیرتِ کمال ہے کہ یہ کیا حال ہے۔ لیکن سچ پوچھو تو ایسے شوہر سے تم بے شوہر کی بھلی۔ روز روز کے مرنے سے ایک مرتبہ مرنا اچھا۔ خس کم جہاں پاک۔’’
    یہ سن کر نسیمہ نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے حسن کو دیکھااور ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولی۔ ‘‘میرا دنیا میں کوئی نہیں۔ نہ آگا نہ پیچھا۔۔۔ میں کہاں جاؤں گی ؟ کیا کروں گی؟’’
    یہ کلامِ رقت التیام سن کر حاضرین ِجلسہ میں ہر ایک مصروفِ گریہ وزاری تھا، آنسوؤں کا دریا آنکھوں سے جاری تھا۔ خود نسیمہ کے دل و دماغ بھی بھر آئے۔ اشک خونیں دامن کی خبر لائے۔ روئی چلائی، کپڑے چاک کئے، نالہ ء ہائے درد ناک کئے۔
    آخر ماموں اپنی جگہ سے اٹھے ۔بہ صد شفقت و ہمدردی نسیمہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
    ‘‘بیٹی ،تم فکر نہ کرو۔ جہاں تک میر اعلم ہے، ایک نشست میں طلاق نہیں ہوتی۔ میں کل بنے کے پاس جاؤں گا۔ مسجد سے چند بزرگوں کو بھی ساتھ لے جاؤں گا۔ ہم سمجھائیں گے تمہارے میاں کو۔ کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آئے گا انشاء اللہ ۔ تب تک تم ہمارے پاس رہو ۔ اس کو اپنے ماں باپ کا گھر سمجھو۔ ’’
    یہ ہمدردانہ کلام سن کر نسیمہ اور بھی پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ نانی نے محبت سے اس کے آنسو پونچھے اور کہا۔ ‘‘ٹھیک کہتا ہے زاہد، اسے اپنے ماں باپ کا گھر سمجھو۔’’
    ممانی جزبز ہوئی اور کہا۔ ‘‘لیکن یہ رہے گی کہاں؟ اتنے کمرے ہی نہیں گھر میں ۔’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۰

    (سارہ قیوم)

    اکیسویں رات

    اکیسویں رات کو شہنشاہ شہریار نے ملکہ شہرزاد کو حکم دیا کہ اس قصے کا باقی حصہ سناؤ اور ہمارا حکم بجا لاؤ کہ ہم مشتاق ہیں کہ حسن سوداگر بچے نے زلیخا کو کیا روایت سنائی اور اس کے دوست تاج الملوک کے ساتھ کیا واردات پیش آئی؟
    شہرزاد نے جواب دیا کہ شہریار تاجدار کا حکم بہ جان و دل منظور ہے، نافرمانی سے بندی منزلوں دور ہے۔ حسن بدرالدین کہ بلاکی فصیح و بلیغ زبان بولتا تھا، لفظوں کو پھولوں سے تولتا تھا، یوں زمزمہ سنج بیاں ہوا کہ: ‘‘اے زلیخا، راوی کا بیان ہے، طرب افزا داستان ہے کہ عراق کے بادشاہ کی بیٹی چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھی، بے مثال و لاجواب تھی۔ سیمیں بدن، پستہ دہن، زیبا اندام، خوش خرام، درۃ التاج اس کا نام تھا، زمانے بھر میں اس کا ساکوئی نہ گلفام تھا۔ آنکھیں سیاہ، جادو نگاہ، نازُک کمر ہزاروں بل کھاتی تھی، شوخی بلائیں لینے کو آتی تھی۔ خرام ناز کو دیکھ کر غزال چوکڑیاں بھول جاتے تھے اور رخسارِ تاباں چودھویں کے چاند کو شرماتے تھے۔’’
    زلیخا نے جو یہ تعریف سنی تو بے اختیار ستائشی انداز میں پکار اٹھی۔ ‘‘واہ! کیا تصویر کھینچی ہے تم نے۔ اب تو مجھے بھی اسے دیکھنے کا شوق ہو گیا ہے۔’’
    حسن نے کہا: ‘‘تمہاری طرح کل مملکت شہزادی کے دیدار کی مشتاق تھی، شہزادی درۃ التاج کے نور عالم افروز اور حسن ِگلو سوز کی کہانی شہرہ آفاق تھی۔ لیکن شہزادی پردے میں رہتی تھی، کبھی کسی کے سامنے نہ آتی تھی۔ ایک دن خدا کا کرناکیا ہوا کہ ایک نامی گرامی چور نے بادشاہ کے محل میں کمند لگائی اور سیدھا اس کمرے میں جا پہنچا جہاں شہزادی محوِ آرام تھی اور دنیا و مافیہا سے بے خبر کروٹ لیے سوتی تھی۔ چور نے شہزادی کی اشرفیاں، جواہرات، دُرّو گوہرو زیورات سمیٹ کر پوٹلی میں ڈالے اور سب کچھ لوٹ کر خوشی خوشی روانہ ہونے ہی کو تھا کہ شہزادی نے کروٹ بدلی اور گویا بدلی سے چاند نکل آیا۔ چور نے جو اس فتنہ محشر کو دیکھا تو زیورات کی پوٹلی ہاتھ سے گر گئی اور ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم محوِ نظارۂ دلفریب ہو گیا۔ بارے کچھ دیر بعد ہوش آیا تو فوراً جیب سے کاغذ قلم نکالا اور شہزادی کے سرہانے بیٹھ کر اس کی تصویر بنانے لگا۔’’
    زلیخا نے حیران ہو کر کہا۔ ‘‘بڑا کوئی آرٹسٹ چور تھا ۔چوری کرنے گیا اور وہاں لڑکی کی تصویر بنانے بیٹھ گیا۔’’
    حسن نے کہا: ہاں، بھلا ایسا حسن کہاں دیکھنے کو ملتا تھا؟ چور تصویر بنانے میں مگن رہا اور جب فجر کی اذان ہونے لگی تو اسے ہوش آیا، بصد حسرت ایک نگاہ شہزادی کے حسین چہرے پر ڈالی اور کمند لگا کر نیچے اتر گیا۔
    اب سنیے کہ اس چور کا ایک بھائی ہندوستان میں رہتا تھا اور جب شہزادی کے زیور چوری ہونے کی منادی ہوئی اور چور کی ڈھنڈیا پڑی تواس چور نے ڈر کر ہندوستان کا رخ کیا اور پانی کے جہاز پر تین ماہ کا سفر طے کر کے ہندوستان پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر شہزادی کے زیور بیچنے بازار کو گیا اور ایک جوہری کی دکان میں جا بیٹھا اتفاق سے وہ جوہری تاج الملوک کا دوست تھا اور اس وقت تاج الملوک اسی دکان میں اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ چور نے زیورات دکھائے تو جوہری کو بے حد پسند آئے ان میں سے ایک مرغ کے انڈے کے برابر ہیرا تاج الملوک نے بھی پسند کیا۔ جب تمام زیورات کا سودا ہو گیا تو تاج الملوک نے کہا کہ اگر کوئی اور لاجواب چیز ہے تو دکھاؤ ۔ اس کے جواب میں چور نے وہ کاغذ نکالا جس پر شہزادی کی تصویر بنائی تھی اور تاج الملوک کو پیش کیا۔ تصویر پر ایک نظر کا ڈالنا تھا کہ عشق کا تیر جگر کے پار ہوا، مرضِ عشق میں گرفتار ہوا۔
    ہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھ
    چین رخصت ہوا اک آہ کے ساتھ
    عشق کی کٹار ایسی سینے میں لگی کہ غش آیا۔ بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش، دین و دنیا فراموش ۔’’
    زلیخا حیران ہو کر بولی: ‘‘کیا مطلب؟ بے ہوش ہو گیا؟’’
    حسن نے کہا: ‘‘ہاں۔’’
    زلیخا نے استعجاب سے کہا: ‘‘وہ کیوں؟’’
    حسن نے کہا: ‘‘بتایا تو ہے کہ عشق کی آگ ایسی سینے میں بھڑکی کہ غش آگیا۔’’
    زلیخا نے بے یقینی سے کہا: ‘‘عشق کے مارے کسی کو کیسے غش آسکتا ہے؟’’
    حسن نے آہ بھر کر کہا: ‘‘عشق بڑی بُری بلا ہے ،زلیخا۔ یہ وہ وبال ہے کہ مصیبت میں گرفتار کرتا ہے، جنون سے دوچار کرتا ہے۔ بے چارے وزیر زادے تاج الملوک کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ شہزادی کا عشقِ بلاخیزیوں جان کو چمٹا کہ دل سرد ہو گیا، چہرے کا رنگ زرد ہو گیا۔ دن رات شہزادی کو یاد کر کے آہیں بھرتا تھا۔ کھانا پینا حرام تھا، صرف رونے سے کام تھا ۔چند ہی دنوں میں کمزوری اس حد تک بڑھ گئی کہ بہ سبب نقاہت اٹھنا بیٹھنا محال ہو گیا، جینا وبال ہو گیا اور دن میں کئی دفعہ غش آنے لگے۔’’
    زلیخا نے کہا: ‘‘یہ سارے symptoms عشق کی وجہ سے ہو رہے تھے؟’’
    حسن نے کہا: ‘‘ہاں۔’’
    وہ بھنویں اچکا کر بولی: ‘‘Very strange، پھر آگے کیا ہوا؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۹

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۹

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۹

    (سارہ قیوم)

    بیسویں رات:

    رات آئی تو شہرزاد بہ حضورِ شاہ یوں عرض پرداز ہوئی کہ جب بنے بھائی دکان کو آئے اور وہاں رنگ و روغن ہوتے پایا تو دل بداندیش اس بغاوتِ تازہ کی تاب نہ لایا۔ ازبس غضب ناک ہوئے، تیور خطرناک ہوئے۔
    بددماغ ہو کر حسن سے کہا: ‘‘کیوں بے، یہ کیا ہو رہا ہے؟’’
    حسن بدرالدین خوفزدہ، سہما ہوا، ابھی کوئی جواب نہ دینے پایا تھا کہ پیچھے سے دھم کی آواز آئی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ماموں کرسی میں ڈھے گئے تھے۔ بنے بھائی کو دیکھ کر مارے خوف کے رنگ زرد ہوا تھا، دل سرد ہوا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماموں نے نڈھال ہو کر سر ایک طرف کو پھینک دیا اور آنکھیں موند لیں۔
    جب حسن نے دیکھا کہ ماموں کی حالت عبرت خیز و حیرت انگیز ہے اور ان سے کسی مدد کی توقع نہیں تو بے حد گھبرایا، فرار کا کوئی راستہ نہ پایا۔ دل میں سوچا، اے حسن بدرالدین، یہ تجھے کیا سوجھی کہ ہاتھیوں سے گنے کھاتا ہے؟ مفت میں جان گنواتا ہے۔
    بنے بھائی نے ڈپٹ کر کہا: ‘‘بولتا کیوں نہیں؟ کیا پوچھ رہا ہوں میں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟’’
    حسن نے تھوک نگلا اور مری مری آواز میں کہا: ‘‘رنگ و روغن ہو رہا ہے بنے بھائی۔’’
    بنے بھائی طیش میں آکر چلائے: ‘‘کس سے پوچھ کر؟’’
    حسن کا دل چاہا ماموں کی طرف اشارہ کر دے مگر وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر پڑے تھے اور آہِ سردِو پر درد بھرتے تھے۔ چنانچہ لاحول پڑھ کر دل کو ڈھارس بندھائی، نامِ خدا سے تقویت پائی اور یوں گویا ہوا۔ ‘‘اجازت کی کیا ضرورت ہے؟ تو کل کی صورت ہے۔’’
    یہ سنا تو بنے بھائی مارے غصے کے کانپنے لگے۔ آنکھیں فرطِ غیظ سے شعلہ فشاں اور شرربار، بشرے سے غضب آشکار۔
    جھپٹ کر حسن کا گلا دبوچ لیا اور چلا کر کہا: ‘‘اچھا! تو اب تجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں؟ اتنے پر نکل آئے ہیں تیرے؟’’
    حسن نے بصد مشکل اپنا گلا چھڑایا، ڈر کر زور سے چلایا: ‘‘لوگو، مسلمانو! دوڑو بچاؤ !بنے بھائی مارے ڈالتے ہیں۔’’
    ادھر اُدھر سے لوگ بھاگے آئے اور حسن کو بنے بھائی کے پنجہ استبداد سے بچایا، نشیب و فرازِ زمانہ دکھایا۔ کہا: ‘‘یہ کیا کر رہے ہو بھائی، زاہد صاحب کی دکان ہے، انہوں نے رنگ کروا لیا تو کیا برا کیا؟ اس بچے کو کیوں مارتے ہو؟’’
    بنے بھائی نے حاضرین کی جانب بڑے قہر سے نظر ڈالی اور کہا: ‘‘یہ بچہ نہیں ہے، گدھے کا بچہ ہے، دکان خسارے میں جا رہی ہے اور یہ دکان میں پینٹ کرا رہا ہے؟ ابا تو بھولے ہیں۔ انہیں کیا پتا۔ دکان کا سارا خرچ، حساب کتاب میں کرتا ہوں۔ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے اس نے یہ حرکت کی؟ اور میں تو ایک آنہ نہیں دوں گا اس کام کے لیے۔ اس کی ایسی کی تیسی۔”

    حسن نے جو اپنے لیے گدھے کا بچہ کی اصطلاح سنی تو خون میں ابال آیا، بڑا جلال آیا۔ رہ نہ پایا، باپ کی گالی سہہ نہ پایا۔ سینہ تان کر کہا: "اب اس دکان سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں۔ آج سے ماموں کی دکان میں سنبھالوں گا، بطریقِ تدبیر خسارے کو ٹالوں گا۔ آئندہ سے آپ دکان پر آنے کی تکلیف نہ کیجیے گا، مطلق زحمت نہ کیجیے گا۔”

    بنے بھائی نے یہ سنا تو پہلے تو یقین نہ آیا۔ پھر وہاں موجود دکانداروں میں سے ایک نے کہا: "ہاں ٹھیک ہے۔ ہم نے سنا ہے تم دکان میں بہت ہیرا پھیری کر رہے تھے؟”

    دوسرے نے کہا: "زاہد صاحب کو چاہیے تھا تمیں بہت پہلے بے دخل کر دیتے۔ اب بھی اچھا کیا کہ وقت پر فیصلہ کر لیا۔ کتابوں کی دکان ختم کی اور کپڑے کی شروع کی۔ اللہ نے چاہا تو بہت چلے گی۔”

    بنے بھائی کے چہرے پر ایک رنگ آتا تھا ایک جاتا تھا۔ یقین نہ آتا تھا کہ جو سن رہے ہیں وہ سچ ہے۔ بھلا انہیں کب توقع تھی کہ ماموں جیسا ڈرپوک آدمی ان کے سامنے یہ جرات کر سکتا ہے۔ یہ کب سوچا تھا کہ جس یتیم و یسیر حسن کا چہرہ وہ ساری زندگی طمانچوں سے لال کرتے آئے ہیں، آج یوں سر اٹھا کر سامنے آ کھڑا ہو گا۔ بنے بھائی نے دانت پیس کر حسن کی جانب قدم بڑھایا کہ اس بدتمیزی کا مزہ چکھائیں اور ایسی سزا دیں کہ تا زندگی یاد رکھے، مگر آس پاس کھڑے لوگوں نے راستہ روک دیا۔ کسی نے بازو سے پکڑا، کسی نے گریبان سے۔ بنے بھائی سمجھ گئے کہ یہاں ان دال نہ گلے گی، کچھ پیش نہ چلے گی۔ ایک قہر بھری نظر حسن پر ڈالی اور دانت پیس کر کہا: "تو گھر آ۔ پھر بتاتا ہوں۔” یہ کہہ کر غصے سے بے دم پڑے ماموں کی طرف دیکھا اور کہا: "آج آپ کی خیر نہیں۔”

    اتنا کہہ کر غیض و غضب کے عالم میں پاوْں پٹختے وہاں سے چل دیے۔ حسن کی جان میں جان آئی، گویا جانِ تازہ پائی۔ جا کر ماموں کا حال احوال دریافت کیا۔ پانی پلایا، پنکھا جھلایا۔ دیکھا تو ماموں تھر تھر کانپتے تھے۔ 

    حسن نے پوچھا: "ماموں جان کیا حال ہے؟”

    ماموں نے روہانسے ہو کر کہا: "بنا دھمکی دے کر گیا ہے۔ اب گھر جا کر تمہاری ممانی کو ایک کی سو لگائے گا۔ ہائے یہ کیا ہو گیا۔  یہ میں کیا کر بیٹھا۔’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۸


    (سارہ قیوم)

    انیوسویں رات:

    انیسویں رات کو ملک شہر یار نے محل میں قدم رنجہ فرمایا اور شہرزاد کو طلب کر کے کہا کہ اے طوطئ خوش بیاں تمہارا افسانہ ساری خدائی کی داستانوں سے جدا ہے، عجیب و غریب اور بہت ہی انوکھا ہے۔ حسن بدرالدین کی ماں کی سنگھار میز عجائب گھر میں کہاں سے آئی اور حسن نے کیونکر پائی؟ معلوم ہوتا ہے حسن نے کوئی خواب دیکھا ہو گا اور یہ سب خواب کی باتیں ہیں۔
    یہ سن کر شہرزاد کھلکھلائی اور یوں چہچہائی کہ اے خلیفہء گیتی پناہ، حسن نے جو دیکھا عین بیداری کی حالت میں دیکھا۔ اس کی ماں کی سنگھار میز عرصہ دراز سے عجائب گھر میں پڑی تھی اور نادر و قیمتی اور تاریخی چیز سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اس کے خفیہ خانوں میں موجود اشرفیاں اور ہیرے جواہرات جو اس کی ماں نے سینکڑوں سال پہلے وہاں چھپا چھوڑے تھے، اب بھی وہیں موجود تھے کہ کسی کو اس میز کے خفیہ درازوں کے بارے میں مطلق علم نہ تھا۔ حسن بدرالدین پر فضل ِ خدائے غفورالرحیم ہوا کہ عجائب گھر کی سیر کو آیا، یہاں اپنی ماں کا خزانہ پایا۔ جو کہیں یہ میز کسی ایسے ویسے کے ہتھے چڑھتی کہ بے دردی سے استعمال میں لاتا یا کاٹ کر لکڑی جلاتا تو حسن کاہے کو اپنی ماں کے جواہر پاتا۔ اللہ نے بہت بچایا کہ میز کو سینکڑوں سال بعد بھی بحفاظت حسن سے ملایا، حسن نے اپنے صبروشکر کا یہ پھل پایا۔

    اب سنیے کہ جب حسن بدرالدین نے سرخ مخمل کی پوٹلی کو اٹھایا اور اس میں اپنی ماں کے نادرونایاب جواہرات کو محفوظ و سالم پایا تو خدا کا شکر بجا لایا۔ بے حد محظوظ و مسرور ، سپاس گزارِ جناب باری و غفور ہوا۔ جلدی سے پوٹلی کو کُرتے کی جیب میں ڈالا اور عجلت سے کھلے ہوئے دراز بند کیے۔ اب جو مڑا اور زلیخا پر نظر پڑی تو دیکھا کہ سناٹے میں کھڑی ہے ،گویا بس بے ہوش ہوا چاہتی ہے، زبان گویائی نہ پائی ہے۔ بندۂ درگاہ نے جو اس کی یہ حالت دیکھی تو ہاتھ پاؤں پھولے، چوکڑی بھولے۔ زلیخا کو بعجلت ِتمام بازو سے پکڑا اور باہر کو لے چلا۔
    باہر نکل کر اسے سایہء دیوار میں بٹھایا اور پانی پلایا۔ زلیخا سکتے کے عالم میں ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم، خود فراموش، خاموش پنبہ درگوش۔ چہرے پر ایک رنگ آتا تھا، ایک جاتا تھا۔ حسن بھاگ کر گیا اور ایک اخبار اٹھا لایا، زلیخا کو پنکھا جھلنے لگا۔ بصد دردمندی کہا: ‘‘اے خاتون ِمہربان یہ تمہارا کیا حال ہوا ہے؟ عجائب گھر جی کا جنجال ہوا ہے۔’’
    پنکھا جھلنے اور پانی بہنے سے کہیں جا کر زلیخا کے حواس بحال ہوئے اور اضطراری انداز میں اس کے منہ سے نکلا۔ ‘‘او مائی گاڈ۔۔۔ او مائی گاڈ۔۔۔’’
    حسن نے کہا: ‘‘خیر تو ہے زلیخا؟ یہ کیا کہتی ہو اور کسے پکارتی ہو؟’’
    زلیخا اس کی بات نہیں سن رہی تھی، وہ سامنے ہوا میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھے جاتی تھی اور کہے جاتی تھی۔ ‘‘او مائی گاڈ۔۔۔ او مائی گاڈ۔۔۔’’
    آخر اس نے پھٹی پھٹی نظروں کو حسن کی طرف متوجہ کیا اور دہشت زدہ لہجے میں بولی: ‘‘تم۔۔۔ تم۔۔۔ واقعی پرانے زمانے سے آئے ہو؟’’
    پھر خودکلامی کے انداز میں بولی: ‘‘نہیں، نہیں۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟’’
    حسن خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ زلیخانے ایک بار پھر نگاہیں حسن کے چہرے پر کیں اور اسی انداز میں بولی: ‘‘لیکن پھر تمہیں خفیہ خانوں کا کیسے پتا چلا؟ وہ دراز تم نے کیسے کھولے؟۔۔۔ تُکا لگا؟ ۔۔۔نہیں ،یہ میز تو سینکڑوں سال پرانی ہے، پھراب تک کسی اورکو پتا کیوں نہیں چلا؟’’
    حسن نے خاموش لہجے میں کہا: ‘‘ یہ میری ماں کی سنگھار میز تھی۔ میں تمہیں بتاتا تھا نا کہ میری ماں نواب خاندان سے تھی اور جواہرات کی مالک تھی، اور فن ِ تجارت میں ید ِ طولیٰ رکھتی تھی۔ تین چوتھائی مال تجارت میں لگاتی تھی ، باقی گھر میں چھپا کر رکھتی تھی۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ وقت ِ انتقال جو وہ ‘‘دراز، دراز’’ کرتی تھی تو اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ میز کی دراز کھولو۔ جواہرات و اشرفیاں نکالو اور کام میں لاؤ۔اور میں یہ سمجھا کہ باہر جا کر قسمت آزمانے کو کہتی ہے اور سمجھاتی ہے کہ خدا کی زمیں دراز ہے، جاؤ اور جا کر رزق تلاش کرو۔ افسوس۔۔۔میں ماں کا کہا سمجھ جاتا تو اِس زمانے میں کیونکر آتا، اِس مصیبت میں کاہے کو پڑتا۔’’
    یہ کہہ کر آبدیدہ ہوا، رنج و الم رسیدہ ہوا۔
    زلیخا کے منہ سے سرگوشی میں نکلا: ‘‘تم واقعی پرانے زمانے سے آئے ہو۔۔۔ ’’
    حسن نے حیران ہو کر کہا: ‘‘تمہیں اب بھی شک ہے؟’’
    زلیخا کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ سرگوشی میں بولی: ‘‘آئی ایم سو سوری، حسن۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔” 
    حسن اداسی سے مسکرایا۔ پوچھا: ‘‘کس بات کی معافی مانگتی ہو ، زلیخا؟’’
    زلیخا نے نظریں نیچی کر کے کہا: ‘‘تم کہتے رہے، قسمیں کھاتے رہے، اور میں نے تمہاری بات نہ سنی۔’’
    یہ کہہ کر کچھ خیال آیا، نظریں اٹھائیں،اور صفائی دیتے ہوئے بولی:‘‘لیکن میرا کیا قصور؟یہ بات ہی امپوسبل ہے۔’’
    اتنی بات کہی تھی کہ پھر سے کوئی دورا پڑا، چلا اٹھی:‘‘!But this is impossible۔۔۔یہ ۔۔یہ ہو کیسے سکتا ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے حسن؟’’
    حسن نے سادگی سے کہا: ‘‘سحر کے زور سے۔ اور کیسے؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۷

    ( سارہ قیوم)

    اٹھارویں شب

    اٹھارویں رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ سوداگر بچہ بدر الدین یوں تو ہر کام میں جلد باز تھا، بہت فسوں ساز تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ کام اس کثرت سے آن پڑے تھے کہ سمجھ نہ آتا تھاکہ کسے چھوڑے کسے پکڑے، اور ان جھنجھٹوں سے کیونکر نبٹے۔ ایک طرف تو ڈرامے کی شوٹنگ شروع ہوا چاہتی تھی تو دوسری طرف ماموں کی دکان کا دلدر وادبار تھا۔ تیسری طرف عشقِ نامراد تھا جس کا بیڑا پار نہ ہوچکتا تھا اور چوتھی طرف نسیمہ آپا تھیں جن کا سوائے حسن کے دنیا میں کوئی اور نہ تھا اور جن کے افلاس و الم کی حالت دیکھ کر حسن بے حد ملول و افسردہ ہوتا تھا۔
    دل میں سوچتا تھا کہ اس ہمشیرۂ دردمند کے لئے کیا کر پاؤں گا اور کیونکر کام آؤں گا۔ کوڑی پاس نہیں، کوئی سہارا غیر پاس نہیں۔ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ دوسری طرف ماموں کی دکان کے معاملے میں بھی بعینہ یہی حال تھا کہ کچھ کرتے دھرتے بن نہیں آتی تھی، عقل بے کار ہوتی جاتی تھی۔ جب زلیخا کو مغموم ویژمردہ دیکھتا تھا تو دل چاہتا تھا ابھی اسی وقت جائے اور بنے بھائی کو ایسی سخت سزا دے کہ اوروں کے لیے عبرت کا باعث ہو، لیکن پھر خود کو سمجھاتا کہ شیخ سعدی کہہ گئے ہیں کہ تعجیل ِ کارِشبا طین بود۔ کارِ شیطانی چھوڑو، اس جلد بازی سے منہ موڑو، ٹھنڈی کرکے کھانا چاہیے، ذرا عقل کو کام میں لانا چاہیے۔ کچھ یہ بھی کہ ٹانگ ابھی پوری طرح ٹھیک نہ ہوئی تھی اور بنے بھائی کے ساتھ ہاتھا پائی کی صورت میں اگر بھاگنے کی ضرورت پڑتی تو بندہ درگاہ مصیبت میں پڑتے۔ مفت میں لینے کے دینے پڑتے۔ چنانچہ یہ سب سوچ کر خاموش ہورہتا تھا اور محبوبہ نازنین کرن کو فون کرکے دن مسرور کرتا تھا، فکر دور کرتا تھا۔
    یوں تو حسن اپنی زندگی سے خوش تھا کہ ہمیشہ صابر و شاکر رہتا تھا اور زندگی میں خوشی و مسرت پانے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ بھی نہیں، لیکن کبھی کبھی ماں باپ کی یاد آتی تھی، دل پہ برچھی سی چل جاتی تھی۔ دل میں سوچتا تھا جس طرح سحر کے زور سے اس زمانے میں آگرا ہوں۔ شاید کبھی تقدیر یاوری کرے اور کوئی ایسا ساحر بے بدل ملے جو مجھے دوبارہ وقت کی گردش کا پردہ چاک کرکے اپنے زمانے میں پہنچائے اور خدا سے اس احسان کا اجر پائے۔ اگر یوں ہو تو ماں باپ کی خوب خدمت کروں گا۔ ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کروں گا۔ لیکن اگرچہ سحر کے کرشمے جا بجا پاتا تھا، ایسا کوئی ساحر دیکھنے میں نہ آتا تھا۔

    ٭……٭……٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۶

    سارہ قیوم

    سترہویں رات

    شہریار فریدوں کمر، سنجر فر کو بڑا شوق اور انتہا کا ذوق تھا کہ حسن بدر الدین، صاحب ِ جمال اور اس کی محبوبہ ٔ زہرہ تمثال کا کیا حال ہوا۔ عیش و عشرت نصیب ہوئی یا خدانخواستہ مرغِ دل صیدِ تیر اندوہ و ملال ہوا۔ شہر زاد کو حکم دیا کہ اس قصے کا باقی حصہ جلد سناؤ، دیر نہ لگاؤ ۔
    شہر زاد عندلیب گفتار یوں نغمہ طراز ہوئی، بہ صد دلربائی عرض پرداز ہوئی کہ جب حسن بدر الدین نے کرن کے دریچے میں پہنچ کر کھڑکی پر دستک دی تو کرن نے لپک کر کھڑکی کھولی اور حسن نے خود کو اندر پہنچایا، اور جب خود کو محبوبہء رشکِ قمر کے خلوت کدے میں پایا تو جامے میں پھولا نہ سمایا۔ جنابِ باری کا شکربجالایا۔ اب جو کرن قریب آئی تو خدا کی خدائی مجسم نظر آئی۔ پہلے تو چودھویں کے چاند کا دھوکہ ہوا۔ پھر اور قریب آئی اور پاس سے چہرہ ء زیبا کی جھلک دکھائی تو یقین ہوگیا کہ پرستان کی پری ہے یا مہرِ خوبروئی کی جلوہ گستری ہے۔
    ؂وہ مکھڑا جسے دیکھ ماہ داغ کھائے
    وہ نقشہ کہ تصویر کو حیرت آئے

    ادھر حسن تو اس زنکہ خوش جمال کو دیکھ کر عش عش کرتا تھا اور ادھر کرن کا یہ حال کہ،
    ؂یہ شوق، یہ ارمان، یہ حسرت، یہ تمنا
    کیا ہو مرے قابو میں تم آجاؤ اگر آج

    حسن نے بہ صد شوق و اشتیاق کہا ۔ ‘‘اے جانِ جہاں، رشکِ سرو گلزار جناں تم نے آج مجھے نئی زندگی دی ورنہ جینے سے بیزار تھا، مصیبت سے دورچار تھا۔ سمجھا تھا کہ زندگی بیکار گئی۔ مگر تمہیں پایا تو جان میں جان آئی، منہ مانگی مراد پائی، تمنائے دلی ہزاروں حسرتوں اور ناامیدی کے بعد برآئی۔’’
    حسن کی زبانی اس کی بے تابی کا یہ حال سن کر کرن کھلکھلائی ، بہ صد ناز و انداز اٹھلائی اور دلربائی سے بولی۔ ‘‘میں تو خود بڑی اپ سیٹ تھی، سوچتی تھی ہائے حسن بھائی تو اب سٹار بن گئے ہیں، بڑے آدمی ہوگئے ہیں، اب ہمیں کہاں لفٹ کرائیں گے؟’’
    حسن سمجھ گیا کہ کیا کہتی ہے، پیار سے بولا۔ ‘‘جانی ! ہمت کیوں ہاری ہو؟ ہم تمہارے تم ہماری ہو۔’’
    یہ کہہ کر ہاتھ تھام لیا اور جھک کر ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا۔
    کرن نے ٹھنک کر ناز سے کہا۔ ‘‘اتنے رشتے آرہے ہیں میرے۔ مجھے تو فکر ہے ڈیڈی کہیں میری بات نہ طے کردیں۔’’ یہ کہہ منہ بسورا اور معصومیت سے بولی: ‘‘لیکن میں آپ کے سوا کسی اور سے شادی نہیں کروں گی، بتارہی ہوں، ہاں۔’’
    یہ معصومیت اور یہ اظہارِ رضا مندی دیکھ کر حسن کے دل پر اس قدر اثر ہوا کہ عنانِ صبر ہاتھ سے جاتی رہی۔ فرط ِانبساط و بہجت اور وفورِ نشاط و مسرت سے کہا۔ ‘‘اے یارِ جانی، الفت کی نشانی، میرے دل کا عجب حال ہے جینا محال ہے۔ جو محبت میرے دل میں پیدا ہوئی ہے۔ اس کا مٹنا میرے دل کی فنا پر موقوف ہے۔ اب صرف عقدِ نکاح سے سروکار ہے، تم نہ ملیں تو جینا بے کار ہے۔’’
    یہ کہہ کر فرطِ طرب سے آبدیدہ ہوا۔
    کرن نے جو جذبات کا سیلاب امنڈتے دیکھا تو گرم لوہے پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کیا۔ قریب آئی۔ اپنی نازک انگلیوں سے حسن کے آنسو پونچھے اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
    اب سنئے کہ ِادھر حسن اور کرن تو باہم راز و نیاز کی باتیں کرتے تھے، عاشقی معشوقی کی گھاتیں کرتے تھے، اُدھر کرن کے والد بزرگوار سیڑھیاں چڑھتے تھے۔
    ہوا یوں کہ کرن نے نیند کی دوا دودھ میں ملا کر باپ کو پلائی تھی۔ خیال تھا کہ پی کر انٹاغفیل ہوگا اور صبح سے پہلے نہ اٹھے گا۔ لیکن باپ پہلوانوں کا پہلوان تھا، اور روزگارکا یہی سامان تھا کہ لڑکوں کو کسرت کرایا کرتا تھا۔ چنانچہ صبح سے لے کر شام تک وزن اٹھاتا تھا، کسرت کرتا تھا، ڈنڈ پیلتا تھا اور بیٹھکیں نکالتا تھا۔ دن رات یہی کام تھا، مشٹنڈوں میں نام تھا۔ نتیجہ اس ساری ورزش کا یہ نکلا تھا کہ خوب تنومند، مضبوط جسم، قوی اور صحت مند ہوگیا تھا اور حواس اور اعصاب فولادی ہو چکے تھے۔ اب کرن نے جو نیند کی دوا دودھ میں ملا کر پلائی تو اس کا بجزاس کے کوئی اثر نہ ہوا کہ ابخرے سے دماغ کی طرف متصاعہ ہوئے، چکر آنے لگے اور سر میں درد ہوگیا۔ پہلے تو لیٹا کروٹ پہ کروٹ بدلتا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ سر درد ٹھیک ہوجائے تو سوجائے، مگر جب افاقہ نہ ہو اتو اٹھ کر سر درد کی دو ا ڈھونڈ نا شروع کی۔ گھر میں رکھی چیزوں کا اسے کچھ خاص علم نہ تھا۔ بیوی مرچکی تھی، اب سب کچھ بیٹی کے ہاتھ میں تھا۔ سمجھتا تھا کہ بیٹی سوچکی ہوگی۔ اس لئے خود ہی ڈھونڈ ھتا رہا۔
    دوا تو نہ ملی البتہ اوپرکی منزل سے ایسی آواز آئی جیسے کوئی چیز گری ہو یا جیسے کسی نے زور سے شیشہ کھٹکھٹایا ہو۔ بہت کوفت ہوئی، پھر دل میں سوچا اس آواز کا مطلب ہے کرن جاگ رہی ہے۔ جاکر اس سے حال کہتا ہوں ۔یقینا وہ سر درد کا کوئی علاج کرے گی، سعادت مند بیٹیوں میں نام کرے گی۔
    یہ سوچ کر یہ پدر ِناشاد و نامراد اپنا چکراتا سر لئے اوپر کرن کے کمرے کو چلا۔ ادھر کرن نے حسن بدر الدین کی گردن میں بازو ڈالے تھے اور حسن نے بھی نازک کمر کو بانہوں میں لیا تھا اور قریب تھا کہ فرطِ عشق سے پھول سے رخسار کا بوسہ لے کہ دروازے کے باہر قدموں کی آوا ز آئی۔ کرن اچھل کر حسن سے علیحدہ ہوئی، آنکھیں پھاڑ کر سرگوشی میں بولی ۔‘‘ڈیڈی۔’’
    یہ کہہ کر چھلانگ مار کر کمرے کے وسط میں بچھے قالین پر جا کھڑی ہوئی، بجلی کی سی تیزی سے دوپٹہ گلے سے نکال کر سرپر لپیٹا اور چشم زدن میں نماز کی نیت باندھ لی۔ ابھی حسن ہکا بکا کھڑا یہ کارروائی ملاحظہ کرہی رہا تھا کہ دروازے کی چرخی گھومی اور ایک تنومند آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ ادھر وہ کمرے میں داخل ہوا، ادھر کرن جو ابھی لمحہ بھر پہلے نیت باندھ رہی تھی، رکوع میں چلی گئی۔
    اب وہ پدر ِبزرگوار تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ بیٹی سے سردرد کی دوا لے کر کھاؤں گا، پھر مزے سے آرام فرماؤں گا۔ یہاں پہنچا تو اور ہی ماجرا دیکھا۔ کیا دیکھتا ہے کہ بیٹی سر پر دوپٹا لپیٹے بی بی حاجن بنی تہجد پڑھتی ہے، رکوع و سجود کرتی ہے اور کھڑکی کے پاس ایک نوجوان حواس باختہ، حیران پریشان کھڑا ہے۔ چند لمحے تو کچھ سمجھ نہ پایا کہ یہ کیا ماجرا دیکھنے میں آیا۔ پھر حواس ٹھکانے آئے اور گرج کر چلایا۔ ‘‘اوئے کون ہے تو؟’’
    کرن نے باپ کی یہ گرجدار للکار سنی تو رکوع سے سراٹھا کر اوپر دیکھا ، دل پر ہاتھ رکھ کر چلائی :
    ‘‘چور……’’ اور پھر لہرا کر نزاکت سے قالین پر گر کربے ہوش ہوگئی۔
    اب باپ یہ سمجھا کہ حسن چور ہے اور حسن یہ سمجھا کہ باپ چور ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چشم خشم آلودہ دکھائی اور للکار لگائی۔
    حسن نے للکار کرکہا۔ ‘‘او نابکار تو کون ہے؟ جن ہے یا کسی رئیس کا غلام ہے؟ چور ہے یا ڈکیتِ بے نام ہے۔’’
    باپ نے چلا کر کہا۔ ‘‘اوئے سُورا کنجرا توں میری بیٹی دے کمرے اچ کی کرنا پیاں ایں؟ ’’
    دونوں ہی کو سمجھ نہ آیا کہ دوسرا کیا کہتا ہے۔ لیکن جب اس نے میری بیٹی کہا تو حسن سمجھ گیا کہ کرن کا والدِ بزرگوار ہے، پدرِ باوقار ہے۔ قریب تھا کہ جھک کر سلام

  • موت کا جزیرہ

    1. کیا موت کا جزیرہ، واقعی موت کا جزیرہ ہی تھا؟
    2. کیوں اس خطرناک مجرم کا نام سننے والوں پر لرزہ طاری کر دیتا تھا؟
    3. بیگم جمشید کیوں اتنے آرام سے اتنے خطرناک مجرم کو ناشتا کروا رہی تھیں؟
    4. پروفیسر داﺅد دیوار پر لکھا نام دیکھ کر کیوں چونک گئے؟
    5. انسپکٹر جمشید اتنے خطرناک مجرم کی عزت کیوں کرتے تھے؟
    6. رگوں میں خون منجمد اور رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات سے بھرپور کہانی ”موت کا جزیرہ“

    ٭….٭….٭

    موت کا جزیرہ

    بیگم جمشید، انسپکٹر جمشید اور بچوں کو ناشتا کرا چکی تھیں۔ اب وہ دفتر اور اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ جب کہ بیگم جمشید برتن دھونے میں مصروف تھیں۔ بچوں سے پہلے انسپکٹر جمشید تیار ہو گئے۔

    ”اچھا بھئی! میں چلا۔ جاتے وقت اپنی امی کو بتا دینا تاکہ وہ دروازہ بند کر لیں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”جی اچھا۔“ محمود بولا۔

    ان کے جانے کے پندرہ منٹ بعد وہ بھی تیار ہو گئے۔

    ”امی کو بتا دو فرزانہ ہم جا رہے ہیں۔ آکر دروازہ بند کر لیں۔“

    ”اچھا۔“ فرزانہ نے کہا اور دوڑتی ہوئی باورچی خانے کی طرف گئی۔

    ”امی جان! ہم جا رہے ہیں، دروازہ بند کر لیں۔“

    ”اچھا بیٹی! تم لوگ جاﺅ۔ میں ابھی بند کر لیتی ہوں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    اور وہ تینوں بھی چلے گئے۔ صرف ایک منٹ بعد وہ اٹھیں اور دروازے کی طرف بڑھیں۔ دروازے کی چٹخنی لگا کر وہ واپس مڑیں تو فرش پر کیچڑ میں بھرے ایک جوتے کا نشان نظر آیا۔ وہ دھک سے رہ گئیں۔ بھلا کیچڑ بھرے جوتے کے نشان کا ان کے صحن میں کیا کام۔ چند قدم آگے بڑھیں تو میز پر انہیں ایک پستول رکھا نظر آیا۔ ان کے اٹھتے قدم رک گئے۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ آنکھوں میں خوف سمٹ آیا۔ پھر جونہی انہوں نے نظریں اوپر اٹھائیں ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہاں پر کوئی موجود تھا۔

    وہ بہت لمبا چوڑا اور خوف ناک شکل صورت کا آدمی تھا۔ اس کی آنکھیں اگرچہ چھوٹی تھیں مگر ان میں بَلا کی چمک تھی، ہونٹ بھدے، سیاہ اور موٹے تھے۔ سر کے بال گہرے سیاہ اور بہت گھنے تھے۔ ہاتھوں کی پشت اور بازوﺅں پر بھی بال ہی بال تھے۔ غرض پہلی نظر میں تو وہ خوف ناک لگتا ہی تھا۔ اسے دیکھ کر بدن میں سنسنی سی پیدا ہونا لازمی بات تھی۔ خوف کی ایک لہر بیگم جمشید نے اپنے جسم کے روئیں روئیں میں دوڑتی محسوس کی۔ ان کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ پھر ان کے کانوں سے اس کی کرخت آواز ٹکرائی۔ بالکل ایسی جیسی پھٹے ہوئے بانس میں سے نکلتی ہے۔

    ”میں جانتا ہوں، گھر میں تمہارے سوا کوئی اور نہیں ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ مسکرایا بھی تھا۔ اس کی مسکراہٹ کس قدر خوف ناک تھی۔ وہ کانپ کر رہ گئیں۔

    حلق خشک ہونے لگا۔ بدن میں تھرتھراہٹ دوڑنے لگی۔ آخر بڑی مشکل سے انہوں نے اپنے لب کھولے:

    ”تم…. تم کیا چاہتے ہو؟“

    ”سب سے پہلے ناشتا۔“ وہ ہنسا۔

    ”اگر تم بھوکے ہو تو تمہیں کھانا ضرور ملے گا۔ اس گھر سے کوئی بھوکا خالی نہیں جاتا۔“

    ”میں بھوکا ضرور ہوں، لیکن بھیک نہیں مانگتا۔ اس وقت چوں کہ اس گھر پر میری حکومت ہے، اس لیے جو حکم بھی دوں، تمہیں بجا لانا ہو گا۔ میں انکار سننے کا عادی نہیں ہوں۔ جاﺅ، پہلے میرے لیے ناشتا لے کر آﺅ۔“ اس نے گرج دار آواز میں کہا۔

    ”اس گھر میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والا محفوظ نہیں رہ سکتا، تم نے اپنی شامت کو آواز دی ہے۔“

    اس کے الفاظ سُن کر بیگم جمشید کو غصہ آگیا۔ ان کا خوف اُڑن چھو ہو گیا۔ وہ ایک دم دلیر ہو گئیں اور خون خوار نظروں سے اُسے گھورنے لگیں، لیکن اس تبدیلی سے بھی اس خوف ناک آدمی نے کوئی اثر نہیں لیا۔

    ”میں جانتا ہوں، یہ انسپکٹر جمشید کا گھر ہے، یہاں اس کے تین بچے محمود، فاروق اور فرزانہ بھی رہتے ہیں۔ ان کی بیوی بھی رہتی ہے، لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انسپکٹر جمشید دفتر اور بچے اسکول جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ بچے دو بجے سے پہلے اور انسپکٹر جمشید پانچ بجے سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ گھر کا دروازہ بند ہے اور اس گھر کا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ نہ ہی گھر میں ٹیلی فون ہے۔ پھر تم کس بنا پر اس قدر اکڑ کر بات کر رہی ہو؟ یاد رکھو، میں بہت بُرا آدمی ہوں۔“ اُس نے منہ بنا کر کہا۔

    ”وہ تو تم شکل سے نظر آہی رہے ہو۔“ بیگم جمشید جل کر بولیں۔

    ”چلو اچھا ہے، تمہیں اندازہ ہو گیا ہے۔ اب جلدی سے ناشتا لے آﺅ۔“

    وہ پھر مسکرایا۔

    ”ناشتا ختم ہو چکا ہے۔“ انہوں نے منہ بنا کر کہا۔

    ”تو اور تیار کر لاﺅ۔“ اس نے ایسے انداز میں کہا جیسے اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔

    ”پہلے یہ بتاﺅ، تم کون ہو اور یہاں کیا لینے آئے؟“

    ”ناشتے سے پہلے ایک لفظ نہیں بتاﺅں گا۔“ اس نے کندھے اُچکائے۔

    ”اچھی بات ہے، میں تمہارے لیے ناشتا لاتی ہوں۔“ تنگ آکر انہوں نے کہا اور باورچی خانے میں چلی آئیں۔ ان کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھیں۔ یوں وہ اس کے مقابلے میں ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ وہ ان کے ساتھ باورچی خانے میں نہیں آیا تھا، بدستور صحن میں بیٹھارہا تھا۔ باورچی خانے سے نکل کر اس کی نظروں سے بچ کر کسی دوسرے کمرے تک جانا ناممکن تھا، وہ ضرور دیکھ لیتا۔“ ورنہ وہ سیدھی اپنے کمرے میں جاتیں اور انسپکٹر جمشید کا پستول اٹھا لاتیں۔ فائر کرنا تو انہیں آتا ہی تھا، لیکن اس صورت میں کہ وہ صحن میں بیٹھا تھا کسی اور کمرے میں جانا ناممکن تھا۔ وہ ہوشیار بیٹھا تھا اور برابر باورچی خانے کی طرف دیکھ رہا تھا۔

    انہوں نے باورچی خانے کا جائزہ لیا، جہاں لوہے کے چمچ تھے جنہیں وہ ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتی تھیں لیکن ایک پستول کے مقابلے میں وہ کیا کام دیتے۔ آخر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ عقل سے کام لے کر اس کا مقابلہ کریں گی۔

    انہوں نے ناشتا تیار کر لیااور ٹرے میں رکھ کر وہ باہر نکلیں۔ نہ جانے کیوں اب انہیں خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا اور وہ دل ہی دل میں مسکرا رہی تھیں۔ ٹرے میز پر رکھتے ہوئے انہوں نے زندہ دلی سے کہا:

    ”ناشتا تیار ہے، کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دو۔“

    ”بہت خوب، اب آئی ہو تم سیدھے راستے پر۔ میرا خیال ہے تم نے پہلے ہی کافی کچھ تیار کر دیا ہے، بہرحال اگر ان چیزوں سے میرا پیٹ نہ بھرا تو ضرور بتا دوں گا۔“

    ”ضرور بتا دینا۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا۔ خوف ناک آدمی نے انہیں چند لمحوں کے لیے حیران ہو کر دیکھا اور پھر ناشتے پر اس طرح ٹوٹ پڑا، جیسے کئی دنوں سے ہو، لیکن پہلے ہی لقمے پر اسے ابکائی آگئی۔ ڈبل روٹی کے توسوں میں نمک اور مرچ کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا تھا اور وہ بہت بد ذائقہ تھے۔ اس کی آنکھوں اور ناک سے بھی پانی بہنے لگا۔

    ”یہ ناشتا ہے؟“ وہ حلق پھاڑ کر چلایا۔

    ”تو کیا نہیں؟“ بیگم جمشید نے حیرت کا اظہار کیا۔

    ”ان ڈبل روٹی کے ٹکڑوں میں سوائے نمک اور مرچ کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔“

    ”اوہ۔ شاید مجھ سے غلطی ہو گئی۔“ انہوں نے چونک کر کہا۔

    ”تم یہ انڈوں کا آملیٹ کھا لو۔ اگر یہ اچھا لگا تو اور بنا دوں گی۔“

    ”یہ بھی دیکھ لیتا ہوں، لیکن تم میرے غصے کو آواز دے رہی ہو۔“ اس نے غرا کر کہا۔

    ”نہیں تو، میں نے تو کسی کو بھی آواز نہیں دی۔ جب سے تم آئے ہو، تم سے ہی باتیں کر رہی ہوں۔“ انہوں نے معصومانہ لہجے میں کہا اور انہیں فاروق کا خیال آگیا۔ اس قسم کے جواب وہی دیا کرتا تھا۔ انہوں نے سوچا، وہ تو مزے سے اسکول میں بیٹھے پڑھ رہے ہوں گے اور میں یہاں ایک نئی مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔ ایک ایسی مصیبت میں کہ کچھ پلّے نہیں پڑ رہا ہے، کیا کروں، کیا نہ کروں۔ دوسری طرف اجنبی نے آملیٹ چمچ میں لے کر منہ میں ڈالا اور پھر منہ نیچے کر کے آخ تھو آخ تھو کرنے لگا۔ منہ صاف کرنے کے بعد اس نے نگاہیں اوپر اٹھائیں اور گرج کر بولا:

    ”تو یہ آملیٹ ہے؟“

    ”اور یہ کسٹرڈ بھی ہے۔“ بیگم جمشید مسکرائیں۔ وہ انڈوں میں بہت ساری پھٹکری ملا لائی تھیں جس کی وجہ سے آملیٹ کڑوا زہر ہو گیا تھا۔

    ”میں سمجھ گیا، اس میں بھی کچھ ملا ہو گا۔ کیا تم مہمانوں کو ایسا ہی ناشتا دیا کرتی ہو؟“ اس نے جھنجھلا کر کہا۔

    ”جو مہمان تمہاری طرح میرے گھر میں داخل ہوں، انہیں اس سے بہتر ناشتا نہیں دے سکتی۔“ بیگم جمشید نے بھی بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”لیکن تمہیں یہ نہیں معلوم کہ جو مجھے اس قسم کا ناشتا دے، میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں۔“ اس نے بھی مسکرا کر کہا۔ اب اس نے اپنے غصے پر قابو پا لیا تھا۔

    ”معلوم ہو ہی جائے گا۔ اب آگئے ہو تو خود کو ظاہر کیے بغیر تو جاﺅ گے نہیں۔ ویسے تمہارا نام کیا ہے؟“

    یہ سوال انہوں نے اس لیے کیا تھا کہ انہیں بھی تھوڑی بہت جاسوسی کرنی چاہیے۔ کیوں کہ محمود، فاروق اور فرزانہ تو گھر میں تھے نہیں کہ سارا معاملہ ان پر ڈال کر آپ باورچی خانے میں چلی جاتیں۔

    ”کیوں، تم نے میرا نام کیوں پوچھا؟“ اس نے چونک کر کہا۔

    ”بس یونہی۔ گھر میں آئے مہمان کا نام پوچھنا کوئی اخلاق سے گری ہوئی بات تو نہیں ہے۔“ انہوں نے تنک کر کہا۔

    ”بداخلاقی کی ابتدا بھی تو تمہاری طرف سے شروع ہوئی ہے۔“

    ”اچھا جاﺅ۔ دوسرا ناشتا تیار کر کے لاﺅ، لیکن اس مرتبہ ناشتا خوش ذائقہ ہونا چاہیے۔ ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہ ہو گا۔“

    ”پہلے ہی کب ہے؟“ بیگم جمشید نے تلملا کر کہا۔

    ”تم ناشتا تیار کر نے کے لیے جاتی ہو یا نہیں؟“ اس نے پھر کہا۔

    ”تم نے ابھی تک بتایا نہیں کہ یہاں کس لیے آئے ہو، کیا چاہتے ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟“

    ”میں کوئی تمہارا ملازم تو ہوں نہیں کہ تمہاری ہر بات کا جواب دینے پر مجبور ہوں۔ جاﺅ، ناشتا لاﺅ۔“

    ”افسوس! تمہیں اسی ناشتے سے پیٹ بھرنا ہو گا۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”باورچی خانے میں اب کچھ نہیں بچا۔“

    ”تم جھوٹ کہتی ہو۔“ اس نے غرا کر کہا۔

    ”چل کر دیکھ لو۔“ یہ کہتے وقت وہ مسکرائیں۔

    ”چلو۔“ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

    دونوں آگے پیچھے چلتے باورچی خانے میں آئے اور پھر وہ خوف ناک آدمی چونک اُٹھا۔ انڈے فرش پر گرا کر توڑ دیے گئے تھے۔ ڈبل روٹی پانی میں بھگو دی گئی تھی۔ مربے اور چٹنی کے خالی جار بھی منہ چڑا رہے تھے۔ آٹے کے ڈرم کا ڈھکنا الگ پڑا تھا۔ اجنبی نے اس میں جھانک کر دیکھا۔ آٹے میں بھی کچھ ڈال دیا گیا تھا۔ چینی کے ڈبے میں نمک اور مرچ بھی شامل کیے جا چکے تھے۔ غرض ایک چیز بھی ایسی نہیں تھی جس سے وہ ناشتا یا ناشتے کی قسم کی کوئی چیز تیار کی جا سکتی۔

    ٭….٭….٭

    بیگم جمشید کی چیخ

    ”یہ تم نے کیا کیا؟“ خوف ناک آدمی حلق پھاڑ کر بولا۔ وہ انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

    ”ناشتے کا سارا سامان برباد کر دیا۔ اب مجھے سو دو سو روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔“ بیگم جمشید نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔ نہ جانے کیا بات تھی۔ اب انہیں اس سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ حالاں کہ وہ پہلے سے زیادہ غصے میں تھا۔

    ”اب میں کیا کھاﺅں گا، میں بہت بھوکا ہوں۔“ وہ گلا پھاڑ کر بولا۔

    ”تمہیں اپنے گھر سے ناشتا کر کے آنا چاہیے تھا۔ کسی کے گھر بن بلائے جائیں تو کھا پی کر جانا چاہیے۔“

    ”خاموش، تمہاری آواز مجھے زہر لگ رہی ہے۔“ وہ چلا اُٹھا۔

    ”میرا بھی یہی حال ہے۔ کانوں میں درد ہونے لگا ہے۔ تمہاری بھدّی آواز سُن سُن کر۔“ بیگم جمشید نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

    ”میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گا۔ خون پی جاﺅں گا۔“ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔

    ”کیا آدم خور ہو؟“ بیگم جمشید نے گھبراہٹ کا مظاہرہ کیا۔

    ”اچھا، تم یوں نہیں مانو گی۔“ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور بیگم جمشید کے بال مٹھی میں پکڑ کر ایک جھٹکا مارا۔ ان کے منہ سے تکلیف کی وجہ سے چیخ نکل گئی۔

    ”بولو، میرے لیے ناشتا تیار کرو گی یا نہیں؟“

    ”اگر تم کہو تو میں باورچی خانے میں موجود چیزوں سے ناشتا بنا دوں۔ انہوں نے اب ڈرے بغیر کہا۔“ ویسے اگر تم اندر آنے کے بعد شرافت کا ثبوت دیتے تو میں کبھی کا تمہیں ناشتا کرا چکی ہوتی، لیکن تم نے تو اتنا تک نہیں بتایا کہ کون ہو، کہاں سے آئے ہو، کیوں آئے ہو، چاہتے کیا ہو؟ مزے کی بات یہ کہ میرے گھر کا فرش برباد کر دیا۔ کیا تم دیکھ کر نہیں چلتے؟“

    ”کیا مطلب؟“اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔

    ”تمہارا ایک جوتا کیچڑ میں بھرا ہوا ہے۔ اس سے میرے گھر کا فرش گندا ہو گیا ہے۔ بھلا میں ایسے آدمی کو ناشتا دے سکتی ہوں؟“ بیگم جمشید کا منہ بن گیا۔

    ”اگر ناشتا نہیں دو گی تو پچھتاﺅ گی۔“ اس نے سرد آواز میں کہا۔

    ”اچھا، پچھتا لوں گی۔“ بیگم جمشید نے مایوسانہ لہجے میں کہا اور چیخ اٹھیں۔ اُس نے ان کے بالوں کو ایک اور جھٹکا دیا۔ ان کے منہ سے پھر چیخ نکلی۔

    ”میں کرتا ہوں تمہارا بندوبست۔ اس کمرے میں چلو جس میں تم سوتے ہو۔“

    ”کیوں، وہاں کیا کام ہے۔ کیا چارپائیاں چرا کر لے جانا چاہتے ہو؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”بے وقوف عورت، میں چور نہیں ہوں۔“

    ”تو پھر کیا ہو؟“ وہ ایک دم بولیں۔

    ”جانے سے پہلے تمہیں ضرور بتا کر جاﺅں گا۔“

    ”کب جا رہے ہو تم؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”فکر نہ کرو۔ دو چار دن یہاں نہیں ٹھہروں گا۔“

    ”مجھے تو تم کوئی مفرور مجرم معلوم ہوتے ہو۔ سچ کہو۔ تم جیل سے فرار ہو کر آئے ہو نا۔“

    ”جیل؟ میں نے آج تک جیل کا منہ نہیں دیکھا۔ نہ جانے جیل کیسی ہوتی ہے۔“ اس نے پُرغرور لہجے میں کہا۔

    ”اگر کچھ دیر ٹھہرے رہے تو شاید ہم تمہیں دکھا دیں، جیل کیسی ہوتی ہے۔“

    ”میں کہہ چکا ہوں کہ اس گھر اور گھر کے رہنے والوں کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔ اسی لیے تو تمہارے دروازہ بند کرنے سے پہلے میں گھر کے اندر موجود تھا۔“

    ”وہ تو میں سمجھ چکی ہوں، محمود فاروق اور فرزانہ کے جاتے ہی تم اندر آگئے ہو گے۔ جب میں باورچی خانے سے نکلی تو تم میز کے نیچے دب گئے ہو گے تاکہ میں دروازہ بند کر دوں۔“

    ”ہوں، یہی بات ہے، لیکن تمہیں اس سے کوئی فائدہ تو پہنچنے سے رہا۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ چارپائیوں والے کمرے میں چلو۔“

    ”چلو۔“ بیگم جمشید نے بے بسی کے عالم میں کہا۔

    وہ انہیں لے کر سونے والے کمرے میں آئیں۔ ان کے بال ابھی اس کی مٹھی میں تھے۔ بال اسی طرح پکڑے پکڑے اس نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور ایک چارپائی کی رسی کاٹ کر اسے چارپائی سے الگ کیا۔

    ”کیا مجھے باندھنے کا ارادہ ہے؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”ہاں، تمہیں باندھ کر اطمینان سے اپنا کام کروں گا۔“

    ”یعنی ناشتا تیار کرو گے؟“ بیگم جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”اگر کچھ ملا تو ناشتا بھی تیار کروں گا، ورنہ باہر سے کچھ لے آﺅں میں بھوکا ننگا نہیں ہوں۔“

    ”تو شکل سے ہی نظر آتے ہو۔“

    یہ کہتے ہوئے انہوں نے اچانک اپنے بالوں کو جھٹکا۔ خوف ناک آدمی بے دھیان تھا۔ بال اس کے ہاتھ سے پھسل گئے۔ جھٹکے کے ساتھ ہی بیگم جمشید سرہانے والی میز تک پہنچ گئیں۔ دوسرے ہی لمحے وہ ایک دراز کھینچ کر اس میں سے پستول نکال چکی تھیں۔

    ”تم جانتے ہو کہ یہ گھر کس کا ہے، اس لیے یہ بھی جانتے ہو گے کہ اس گھر کا ہر فرد پستول چلانا خوب جانتا ہے۔ اس لیے اپنی جگہ سے حرکت نہ کرنا۔ پہلا کام یہ کرو کہ چارپائی کی رسی دوبارہ کس دو تاکہ تمہارے جیل جانے کے بعد مجھے تکلیف نہ ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔

    ٭….٭….٭

    ”آج نہ جانے کیا بات ہے، اسکول میں دل نہیں لگ رہا۔“ فاروق نے ایک خالی پیریڈ میں کہا۔

    ”میرا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے۔“ محمود بولا۔

    ”خدا جانے، ہو سکتا ہے کوئی بات بھی نہ ہو اور ہمیں یونہی محسوس ہو رہا ہو، جیسے کوئی بات ہے۔“

    ”یہ بھی تو ہو سکتا ہے کوئی بات ہی ہو اور ہمارے محسوسات ٹھیک ہوں۔“

    ”تو پھر، کیا گھر چلیں؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”میرا تو یہی جی چاہتا ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”تو پھر لکھو درخواست۔“

    اور ان دونوں نے چھٹی کی درخواست لکھ ماری۔ درخواست مانیٹر کے حوالے کی اور اسکول سے باہر نکل آئے۔ وہ کبھی مشکل سے ہی اسکول سے چھٹی کرتے تھے۔ یوں بھی تمام بچوں میں پڑھائی میں آگے تھے۔ اس لیے مانیٹر جانتا تھا، کلاس کے انچارج کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔

    ”کیا خیال ہے، فرزانہ کو بھی ساتھ لے لیں۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”وہ اسکول سے گھر جانا پسند نہیں کرے گی۔“ فاروق نے انکار میں سرہلایا۔

    ”ہو سکتا ہے، اس کا دل بھی نہ لگ رہا ہو۔“ محمود مسکرایا۔

    ”آج ہم پر ”ہو سکتا ہے“ کا دورہ تو نہیں پڑ گیا۔“ فاروق نے بھی ہنس کر کہا، لیکن اس کی ہنسی میں وہ جانینہیں تھی۔

    ”ایسا ہی لگتا ہے۔ میرا خیال ہے، ہم فرزانہ سے پوچھ لیتے ہیں۔ اگر اس نے ساتھ چلنا پسند کیا تو اسے بھی ساتھ لے لیں گے، ورنہ ہم دونوں ہی چلیں گے۔“

    ”ٹھیک ہے، لیکن شام کو جب ابا جان چھٹی کرنے کی وجہ پوچھیں گے تو کیا جواب دیں گے؟“

    ”جو بات ہے، وہی بتائیں گے۔ صاف صاف کہہ دیں گے کہ اسکول میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ دھیان اِدھر اُدھر جا رہا تھا۔“

    ”تو پھر چلو، پہلے فرزانہ سے پوچھیں۔“

    فرزانہ کا اسکول زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ وہ جلد ہی وہاں پہنچ گئے۔ لڑکیوں کے اسکول میں لڑکوں کا داخلہ بند تھا، اس لیے انہوں نے چوکیدار کے ذریعے فرزانہ کو دروازے پر بلوایا۔ فرزانہ دروازے پر آئی تو دونوں اسے دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں بے چینی تھی۔ بس یوں لگتا تھا۔ جیسے اب روئی کہ اب روئی۔

    ”خیر تو ہے فرزانہ، کیا سہیلی سے لڑائی ہو گئی ہے؟“ فاروق نے گھبرا کر کہا۔

    ”نہیں تو۔“ اس کے منہ سے نکلا۔

    ”پھر کیا بات ہے، تم بہت پریشان دکھائی دے رہی ہو؟“

    ”ہاں! نہ جانے کیا بات ہے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔“

    ”یا اللہ رحم۔“ محمود بولا۔

    ”تم کیسے آئے؟“

    ”ہمارے بھی دل بیٹھے جا رہے تھے۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”اوہ۔ تو ہم تینوں کی ایک ہی حالت ہے۔“ فرزانہ نے چونک کر کہا۔

    ”ہاں! ہم تو اسکول سے چھٹی لے آئے ہیں اور گھر جا رہے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے، پڑھنا پسند کرو گی یا ہمارے ساتھ چلنا؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔ اسکول تو آج مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔“

    ”تو پھر جلدی سے چھٹی لے آﺅ۔ نہ جانے آج کیا بات ہے۔“

    ”میں ابھی آئی۔“

    چند منٹ بعد تینوں گھر کی طرف تیز تیز قدم اٹھا رہے تھے۔ پھر جونہی وہ گھر کے دروازے پر پہنچے، ان کے کانوں سے ایک گھٹی چیخ کی آواز ٹکرائی۔ وہ دھک سے رہ گئے۔ یہ چیخ ان کی ماں کے حلق سے نکلی تھی۔

    ٭….٭….٭


    اُن کی آمد

    ”بہت خوب، تم تو بہت دلیر عورت ہو۔ میں سمجھا تھا، بزدل ہو گی۔“ خوف ناک آدمی نے حیران ہو کر کہا۔ اس کی نظریں بیگم جمشید کے ہاتھ میں پکڑے پستول پر جمی ہوئی تھیں۔

    ”تم نے میرے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ میں نے کہا ہے، چارپائی کی رسی دوبارہ کس دو۔“

    ”اچھا، ابھی کستا ہوں۔“

    اس نے کہا اور رسی ہاتھ میں پکڑ کر چارپائی پر جھک گیا، لیکن پھر نہ جانے اچانک اس نے کیا کیا کہ رسی سیدھی بیگم جمشید کے دائیں ہاتھ کی طرف آئی اور پستول کے گرد لپٹتی چلی گئی۔ ساتھ ہی رسی کو جھٹکا دیا گیا اور پستول بیگم جمشید کے ہاتھ سے نکلتا ہوا خوف ناک آدمی کے ہاتھ میں آگیا۔ بیگم جمشید بھونچکی رہ گئیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ شخص اس قدر تیزطرار اور پکا نشانے باز بھی ہو سکتا ہے۔ ورنہ ہوشیار ہو جاتیں۔

    ”میں یہاں یونہی نہیں چلا آیا، کچھ سوچ سمجھ کر ہی مجھے بھیجا گیا ہے۔“

    ”بھیجا گیا ہے۔ کیا مطلب؟“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”مطلب بتانے کا میں قائل نہیں۔ تم بتاﺅ، اب کیا کہتی ہو؟“

    ”کچھ بھی ہو، تمہیں ناشتا نہیں ملے گا۔“

    ”ٹھیک ہے۔ دیوار کی طرف منہ کر کے اپنے ہاتھ کمر پر لے آﺅ۔ میں تمہیں باندھ کر بازارسے کچھ کھانے کے لیے لے آﺅں گا۔“ اس نے کہا۔

    ”آخر تم چاہتے کیا ہو، کیا تمہارا یہیں رہنے کا ارادہ ہے؟“

    ”کم از کم اس وقت تک جب تک تمہارے تینوں بچے گھر نہیں آجاتے۔“

    ”کیا مطلب، تم ان سے کیا چاہتے ہو؟“ بیگم جمشید نے بوکھلا کر پوچھا۔

    ”اصل کام تو انہی سے ہے۔“ وہ خوف ناک انداز میں مسکرایا اور وہ کانپ اٹھیں۔ انہوں نے دل ہی دل میں دُعا کی کہ یا خدا، آج محمود، فاروق اور فرزانہ لیٹ ہو جائیں، بہت دیر سے گھر آئیں۔

    ”کیا کام ہے ان سے؟“ انہوں نے ہمت ہارنا کب سیکھا تھا۔

    ”یہ میں انہی کو بتاﺅں گا۔“

    یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور چارپائی کی رسی سے بیگم جمشید کے ہاتھ باندھنے لگا۔ اس نے ہاتھ باندھنے پر ہی بس نہیں کی، ہاتھوں کے بعد پیر باندھے، پھر ان کے منہ میں ایک رومال ٹھونسا اور اوپر ایک اور رومال باندھ دیا۔ اب بیگم جمشید کمرے کے فرش پر بندھی پڑی تھیں۔ اس طرح کہ منہ سے ہلکی سی آواز بھی نہیں نکال سکتی تھیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ کمرے سے باہر نکلا اور دروازہ بند کر کے باہر سے چٹخنی لگا دی۔ مطمئن انداز میں مسکرایا اور باہر کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ اچانک اسے یاد آیا، میں نے اپنا پستول تو میز پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ میز سے پستول اٹھا کر اس نے دوسری جیب میں رکھا کیوں کہ ایک جیب میں تو پہلے ہی انسپکٹر جمشید والا پستول موجود تھا۔ ایک بار پھر وہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ٹھٹک کر رُک گیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی، کیوں کہ عین اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی تھی جب کہ اسے معلوم تھا کہ دو بجے سے پہلے کسی کے آنے کا امکان نہیں ہے۔ چند لمحے تک وہ کھڑا سوچتا رہا۔ پھر دبے پاﺅں دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔

    ٭….٭….٭

    ”یا اللہ رحم۔“ محمود نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔

    ”اندر تو کوئی گڑبڑ ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”کہیں امی ریڈیو پر کوئی ڈراما تو نہیں سُن رہی ہیں۔“ فرزانہ نے سوچتے ہوئے کہا۔“ اور یہ گھٹی گھٹی چیخ اس ڈرامے میں شامل ہو۔“

    ”لیکن آواز امی جان کی تھی۔“ محمود نے اعتراض کیا۔

    ”ہاں! اس میں کوئی شک نہیں کہ چیخ امی جان کی تھی۔“ فاروق نے کہا۔

    ”پھر اب کیا کریں، دروازہ تو اندر سے بند ہے۔“

    ”ہم گھنٹی بجانے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں؟“

    ”کیوں نہ پہلے پائیں باغ والی کھڑکی کا جائزہ لے لیں۔ اگر وہ کھلی ہوئی ملی تو ہم گھنٹی بجائے بغیر بھی اندر داخل ہو سکیں گے۔“ فرزانہ نے تجویز پیش کی۔

    ”لیکن ہم صبح کھڑکی اندر سے بند کر کے اسکول گئے تھے۔“ فاروق بولا۔

    ”اس وقت گھر کے حالات بدلے ہوئے ہیں، اندر نہ جانے کون ہے۔ ہو سکتا ہے، بدلے ہوئے حالات کے تحت کھڑکی کھلی ہوئی ہو۔“ محمود نے خیال پیش کیا۔

    ”تو پھر آﺅ، وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔“ فاروق گھبرا کر بولا۔

    اور وہ تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھے۔ اُسے دھکیلا، تو پتا چلا کہ وہ تو اندر سے بند تھی۔

    ”اب ہمیں گھنٹی ہی بجانا ہو گی۔“ محمود بولا۔

    ”میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”جلدی بتاﺅ۔“

    ”تم دونوں گھنٹی بجا کر اندر جاﺅ، میں ابا جان کو فون کر کے اندر آنے کی کوشش کروں گی۔ اس طرح انہیں بھی اطلاع مل جائے گی۔“

    ”بہت اچھے۔ یہ بالکل ٹھیک رہے گا۔“ محمود نے خوش ہو کر کہا۔

    تینوں پائیں باغ سے باہر نکلے۔ محمود اور فاروق دروازے پر رُک گئے اور فرزانہ آگے بڑھتی چلی گئی۔

    محمود نے گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھی اور دباﺅ ڈال دیا۔ اندر گھنٹی زور سے بجی اور بجتی چلی گئی۔ پھر دونوں انتظار کرنے لگے۔ یہ لمحے ان کے لیے بہت مشکل سے گزر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے، دروازہ فوراً کھل جائے، پھر چاہے انہیں آگ میں کودنا پڑے۔ وہ اپنی امی کو بچانے کے لیے کود جائیں گے۔ ابھی تک انہیں قدموں کی آہٹ بھی سنائی نہیں دی تھی۔

    ”کوئی دروازہ کھولنے کے لیے نہیں آیا۔ اب ہم کیا کریں؟ “ محمود نے پریشان ہو کر کہا۔

    ”اندر کوئی لمبا چکر چل رہا ہے۔ یا اللہ، یہ ہمارے جاتے ہی کیا شروع ہو گیا؟“ فاروق بولا۔

    ”کیوں نہ ہم دروازہ توڑنے کی کوشش کریں۔ اس طرح محلے کے لوگ بھی تو ہماری مدد کے لیے آجائیں گے۔“ محمود نے مشورہ دیا۔

    ”جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ اندر کیا چکر ہے اور کیا حالات ہیں، اس وقت تک ہم کسی سے مدد نہیں مانگ سکتے۔ ہو سکتا ہے، مدد الٹی نقصان دہ ثابت ہو۔“ فاروق نے کہا۔

    ”ہوں، یہ بھی ٹھیک ہے۔ اوہ خاموش میرا خیال ہے، کوئی دروازے کی طرف دبے پاﺅں آرہا ہے۔“ محمود نے چونک کر دبی آواز میں کہا۔

    ”یہی بات ہے، لیکن ہم کوئی حرکت نہیں کریں گے۔ دروازے پر آرام سے کھڑے رہیں گے۔ ہمارا پہلا مقصد اندر جا کر حالات کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ معلوم ہو سکے امی کس حال میں ہیں؟“

    ”ٹھیک کہتے ہو۔“ محمود نے فکرمند ہو کر کہا۔

    اسی وقت چٹخنی گرنے کی آواز آئی۔ دونوں نے چہروں پر مسکراہٹ طاری کر لی۔ جونہی دروازہ کھلا دونوں ایک ساتھ بولے۔

    ”السلام علیکم امی جان!“ وہ جان بوجھ کر رُک گئے۔ جانتے تھے کہ دروازہ کھولنے والی ان کی والدہ نہیں ہو سکتیں۔

    پھر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ان کے سامنے ایک خوف ناک آدمی کھڑا تھا جو انہیں بری طرح گھور رہا تھا۔

    ”کون ہو تم؟“ اس نے پوچھا۔

    ”ارے، یہ ہمارا گھر ہے۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟“ فاروق نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”اوہ، تو یہ تم ہو، مگر تم اسکول سے اتنی جلدی کیوں آگئے؟“ اس نے حیران ہو کر کہا۔

    ”ہماری مرضی، تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے۔“

    ”ٹھیک ہے، اندر آجاﺅ۔“

    ”لیکن تم کون ہو اور ہمارے گھر میں کیا کر رہے ہو؟“

    ”میں تمہارے سوالات کے جوابات دینے کا پابند نہیں، چلو اندر۔“

    یہ کہتے ہوئے، اس نے جیب سے پستول نکال لیا۔ انہوں نے دیکھا، پستول ان کے والد کا تھا۔

    ”اب تو اندر چلنا ہی پڑے گا، کیوں محمود۔“ فاروق نے شریر لہجے میں کہا۔

    ”ہاں! مجبوری ہے۔“ محمود نے کندھے اچکائے۔

    دونوں اس کے آگے چلتے ہوئے صحن کی طرف بڑھے۔ خوف ناک آدمی دروازہ اندر سے بند کرنا نہیں بھولا تھا۔ کھانے کی میز کے پاس فرش پر انہیں تھوکا ہوا کچھ کھانا نظر آیا۔ وہ حیران رہ گئے۔ خوف ناک آدمی انہیں بھی سونے والے کمرے میں لے آیا۔

    انہوں نے دیکھا، ان کی والدہ رسیوں سے جکڑی فرش پر پڑی ہیں۔ ان کے منہ پر بھی رومال بندھا تھا۔ وہ دنگ رہ گئے۔ ساتھ ہی ان کا رواں رواں سُلگ اٹھا، خون جوش مارنے لگا اور آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔

    ”بدتمیز، پاگل، ہم تمہیں اس حرکت کا مزہ چکھائیں گے۔“ محمود نے پاگلوں کی طرح گلا پھاڑ کر کہا۔

    ”لیکن یہ نہ بھولنا کہ میرے ہاتھ میں تمہارے باپ کا پستول ہے اور میرا نشانہ تمہارے والد سے بھی زیادہ پختہ ہے۔“ اس نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”کچھ بھی ہو، ہم تمہیں تگنی کا ناچ نچا کر رہیں گے۔“

    ”تم دونوں بے وقوف ہو، مجھے یہاں کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھیجا گیا ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”تم کون ہو اور یہاں کس لیے آئے ہو؟“ فاروق نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

    ”یہ سوال تمہاری والدہ نے بھی کیا تھا۔“ اس نے جواب دیا۔

    ”تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ پہلی فرصت میں ہماری والدہ کو کھول دو ورنہ تمہارا انجام اتنا بھیانک ہو گا کہ زندگی بھر پچھتاﺅ گے۔“

    عین اسی وقت گھنٹی ایک بار پھر بجی۔ وہ چونک اٹھے۔ محمود اور فاروق نے سوچا، یہ ضرور فرزانہ ہو گی، جو فون کر آئی ہو گی۔

    ٭….٭….٭

    جیرال

    ”اور یہ تمہاری بہن ہو گی۔ کیوں ٹھیک ہے نا۔“ خوف ناک آدمی نے مسکرا کر کہا۔

    ”ہو سکتا ہے۔“ فاروق بولا۔

    ”تم دونوں میرے ساتھ دروازے تک چلو گے، سمجھے۔“

    ”جی بہت بہتر۔“ محمود نے سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔

    ”سنو، اگر دروازے پر تمہاری بہن موجود ہوئی تو چپ چاپ اس کے لیے دروازہ کھول کر پیچھے ہٹ آنا۔“

    ”اچھا۔“ دونوں کے منہ سے نکلا۔ ان کے ذہن تیزی سے گردش کر رہے تھے۔

    وہ انہیں ساتھ لے کر دروازے پر آیا اور محمود کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔ خود دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔ محمود نے دروازہ کھول دیا۔ فرزانہ کی آواز سنائی دی۔

    ”کیا اندر سب خیریت ہے، میں نے پھر یونہی فون کیا۔“

    محمود اور فاروق دھک سے رہ گئے، انہیں یہ امید نہیں تھی کہ فرزانہ یہ جملہ بول دے گی۔ دوسری طرف خوف ناک آدمی بھی بڑے زور سے چونکا۔ پھر اس نے غرا کر کہا۔

    ”اب اندر جانے کی ضرورت نہیں، یہیں ٹھہرو۔“

    اُن کے اٹھتے قدم رُک گئے۔ فرزانہ بھی بوکھلا گئی۔ پھر خوف ناک آدمی کو دیکھ کر تو اس کی سٹی ہی گم ہو گئی۔ اسے احساس ہو گیا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ دوسری طرف خوف ناک آدمی جیب سے چاک نکال کر دیوار پر کچھ لکھنے لگا تھا، لیکن ایسے میں بھی اس کی نظر ان تینوں پر جمی تھی۔ وہ اسے حیرت سے دیوار پر لکھتے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا، اس نے دیوار پر صرف ایک نام لکھا تھا۔

    ”جیرال۔“

    اچانک وہ بڑی زور سے اچھلے اور پھر سکتے کی حالت میں کھڑے رہ گئے۔

    ”تو۔ کیا۔ تم جیرال ہو؟“ محمود ہکلایا۔

    ”ہاں! معلوم ہوتا ہے تم میرے نام سے واقف ہو۔“

    ”بہت اچھی طرح۔ ہم نے اخبارات میں تو پڑھا ہی ہے۔ ہمارے والد نے بھی تمہارے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔“ فاروق نے جواب دیا۔

    ”پھر تو مجھ سے اچھی طرح واقف ہوگے۔ چلو یہ اور بھی اچھا ہے۔ اچھا، اب سنو۔ اپنے منہ دروازے کی طرف کر لو۔“ اس نے حکم دیا۔ تینوں مُڑ گئے۔

    ”اب پھر میری طرف پلٹو۔“ اس نے کہا، وہ پلٹے تو انہیں پستول نظر نہیں آیا۔

    ”پستول اب میرے کوٹ کی جیب میں ہے اس کی نالی کا رُخ تمہاری طرف ہے۔ میں ایک ہی فائر میں تم تینوں کو ڈھیر کر سکتا ہوں۔ یہ بات شاید تمہیں معلوم ہی ہو گی۔“

    ”ہاں! ہم جانتے ہیں۔“

    ”ہوں ٹھیک ہے۔ تمہیں اتنا کرنا ہے کہ میرے آگے آگے چلتے رہنا، جونہی تم نے کوئی حرکت کی اور میں نے تمہیں گولی ماری، لیکن جب تک تم کوئی حرکت نہیں کرو گے، میں گولی نہیں چلاﺅں گا۔ اب چلو، کہیں تمہارے والد سے بھی یہیں مقابلہ نہ کرنا پڑ جائے۔ ویسے ان سے مقابلہ تو ہو گا ہی۔ وہ تمہارے پیچھے ضرور آئیں گے۔“ اس نے ہنس کر کہا۔

    ”تم ہمیں کہاں لے جانا چاہتے ہو؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”یہ میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔“ جیرال نے کہا۔

    ”بس اب چلو۔“

    وہ دروازے سے باہر نکل کر سڑک کی طرف چلنے لگے۔ جیرال اور اس کے کارناموں سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے والد نے اس کے بارے میں انہیں بہت کچھ بتایا اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ اگر کبھی جیرال سے سامنا ہو جائے تو اس کی ہدایت پر عمل کرنا اور بالکل چوں چرا نہ کرنا۔ وہ جانتے تھے، جیرال ایک ایسا جاسوس ہے جس سے بڑے بڑے ملک معاوضہ دے کر کام لیتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے راز معلوم کرتے ہیں، فائلیں وغیرہ اس کے ذریعے غائب کراتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ تینوں حیران تھے اور سوچ رہے تھے، آخر جیرال ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔ ایک اتنے بڑے جاسوس کو ہمارے گھر آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ پھر انہیں جیرال کا وہ جملہ یاد آیا، اس نے کہا تھا، مجھے یہاں کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھیجا گیا ہے۔

    یہ سب باتیں سوچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، پھر وہ آگے آگے چلتے ہوئے سڑک تک آگئے۔ سڑک کنارے ایک نیلے رنگ کی کار کھڑی تھی۔ پیچھے سے جیرال کی آواز آئی:

    ”تمہیں اس کار میں بیٹھنا ہے۔ کوئی غلط حرکت نہ کر بیٹھنا۔ اگر میرے ہاتھ سے مارے گئے تو مجھے بہت افسوس ہوگا جس طرح تم مجھ سے اچھی طرح واقف ہو، اسی طرح میں بھی تمہیں بہ خوبی جانتا ہوں۔“

    ”بہت خوب۔“ فاروق نے کہا۔

    تینوں اپنے ذہنوں کو تیزی سے گھما رہے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے نہ جانے یہ ہمیں کہاں لے جانا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کے والد انہیں کس طرح تلاش کریں گے۔ کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ اگر وہ تلاش نہ کر سکے تو کیا ہو گا؟ انہوں نے کچھ نہ کچھ کر ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتے تھے، تینوں مل کر بھی جیرال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیوں کہ اس کا مقابلہ تو دس آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے، ان کی تو حیثیت ہی کیا تھی، لیکن وہ دوسری قسم کی کوشش تو کر سکتے تھے۔ دل ہی دل میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ کار کی طرف قدم اٹھانے لگے۔ اچانک فاروق کو ایک زوردار چھینک آئی۔ اس نے منہ ہی منہ میں کہا۔

    ”شاید میں نزلے کا شکار ہونے والا ہوں۔“ پھر جیب سے اپنا رومال نکال کر ناک صاف کرنے لگا۔

    ”تم رومال سڑک پر نہیں گراﺅ گے، میں تمہاری ان کرتبوں سے واقف ہوں۔“ پیچھے سے جیرال کی مسکراتی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی اور فاروق نے مایوس ہو کر رومال جیب میں رکھ لیا۔ عین اسی وقت محمود نے ٹھوکر کھائی۔

    ”ارے ارے، سنبھل کر۔“ فرزانہ نے گھبرا کر کہا اور اسے تھامنے کی کوشش میں آگے بڑھی۔

    ”کیا تم لوگ کوئی چال چلنے کی فکر میں ہو؟“ جیرال نے چونک کر کہا۔

    ”نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ چھینک کا آنا کوئی عجیب بات نہیں، نہ ہی محمود کے پاﺅں کو ٹھوکر لگنا۔“

    اتنی دیر میں وہ کار تک پہنچ چکے تھے۔

    ”اچھا خیر، اس میں بیٹھ جاﺅ۔ تمہاری جیبوں میں کوئی ہتھیار تو نہیں۔“

    ”جی نہیں۔“ فاروق بولا۔

    ”کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں نے تمہاری تلاشی کیوں نہیں لی جب کہ میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ تم تینوں پروفیسر داﺅد کے بنائے ہوئے کھلونے نما ہتھیار اپنی جیبوں میں رکھتے ہو۔“

    ”اس لیے کہ ہم اسکول سے آئے تھے۔ ہتھیار ہم کسی مہم پر جاتے وقت ساتھ لیتے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    ”بہت خوب، تم واقعی بہت عقل مند ہو۔ میں نے بھی یہی سوچ کر تمہاری تلاشی نہیں لی تھی۔“ جیرال نے مسکرا کر کہا۔

    پھر اس نے دونوں طرف کے دروازے بند کرتے ہوئے انہیں لاک کر دیا۔

    ” میں ایک ہاتھ سے کار چلانے میں ماہر خیال کیا جاتا ہوں اور صرف ایک ہاتھ سے تم تینوں سے نمٹ سکتا ہوں۔ اس لیے ایک بار پھر بتاتا چلوں، کوئی حرکت نہ کر بیٹھنا، پھر میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا۔“

    ”اچھی بات ہے، ہم کوئی غلط حرکت نہیں کریں گے۔“ فاروق نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

    ”میں نے تمہاری بہت تعریفیں سنی ہیں۔ یہ بھی سُن رکھا ہے کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، تم چہکتے رہتے ہو۔“

    ”ہم پرندے نہیں، انسان ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔

    ”بہت خوب۔“ اس نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔

    ”میں تم تینوں کی نوک جھونک اپنے کانوں سے سُن کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ تم پر میرا رعب اس حد تک طاری ہو چکا ہے کہ شاید ہی تم کار میں کوئی بات کر سکو۔“

    ”نہیں خیر، ایسی تو کوئی بات نہیں۔“ محمود بولا۔

    ”ویسے فرزانہ، کیا تم نے اپنے والد کو خطرے کی اطلاع دے دی تھی؟“ جیرال نے اس طرح پوچھا جیسے وہ مدتوں ان کے ساتھ رہا ہو۔“

    ”ہاں! میں فون کر کے ہی اپنے دروازے پر آئی تھی۔“

    ”انہوں نے کیا کہا تھا؟“

    ”انہوں نے کہا تھا وہ فوراً پہنچ رہے ہیں، فکر نہ کرنا۔“

    ”ویسے میں تمہیں ایک خاص بات بتانا چاہتا ہوں۔“ جیرال عجیب سے انداز میں مسکرایا۔

    ”وہ کیا؟“ انہوں نے ایک ساتھ پوچھا۔

    ”وہ یہ کہ میں ذاتی طور پر انسپکٹر جمشید کی بہت عزت کرتا ہوں۔ اس لحاظ سے تم تینوں کو بھی پسند کرتا ہوں۔“

    ”بہت بہت شکریہ جناب! آپ پہلے مجرم ہیں جن کی زبان سے ہم اس قسم کے الفاظ سن رہے ہیں۔“ محمود نے خوش ہو کر کہا۔

    ”میں اور قسم کا مجرم ہوں۔“ وہ مسکرایا۔

    ”ویسے آپ نے اب تک یہ نہیں بتایا، ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟“ فاروق نے سوال کیا۔

    ”ابھی نہیں، کچھ دیر بعد بتاﺅں گا۔“ اس نے کہا۔

    ”اب تو ہم کار میں بیٹھ بھی چکے ہیں۔ اب ہم کسی کو خبردار تو کر نہیں سکیں گے۔“ محمود نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔

    سامنے سے آنے والی کاروں میں اچانک اُسے اپنے ایک دوست کے والد بیٹھے نظر آئے تھے۔ اس نے سوچا کاش! دوست کے والد انہیں کار میں بیٹھا دیکھ لیں۔

    ”دشمن کو کبھی کم زور نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ میرا بہت پرانا اصول ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”اچھا نہ بتائیں لیکن ایک بات میں بھی آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں۔“ فاروق نے پُراسرار لہجے میں کہا۔

    ”وہ کیا؟“

    ”ہمارے والد ہمارے پیچھے آئیں گے ضرور۔“

    ”کیا تم کوئی سراغ چھوڑ آئے ہو۔ میں نے پوری طرح دھیان دیا تھا کہ تم ایسا نہ کرو۔ اسی لیے جب تم چھینکے تھے اور محمود لڑکھڑایا تو میں ہوشیار ہو گیا تھا، لیکن مجھے سڑک کنارے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس سے تمہارے والد یہ اندازہ لگا سکیں کہ تم اس جگہ سے کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے ہو۔“

    ”کچھ بھی ہو، وہ آئیں گے ضرور۔“ اس نے پختہ یقین سے کہا۔ جیرال نے اس کے الفاظ پر پچھلا منظر دکھانے والے آئینے میں اس کی طرف گھور کر دیکھا اور بولا۔

    ”کوئی بات نہیں، ایک عرصے سے میری خواہش بھی تھی، کہ ان سے میرا مقابلہ ہو۔“

    ”کار پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ آبادی اب بہت پیچھے رہ گئی تھی اور سڑک کے دونوں طرف درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

    ٭….٭….٭


    موٹر بوٹ میں

    انسپکٹر جمشید ریسیور ہاتھ سے رکھتے ہی اچھل کر کھڑے ہو گئے اور اکرام سے بولے:

    ”اکرام، میرے ساتھ چلو۔“

    یہ کہہ کر وہ دفتر سے باہر نکل آئے اور اپنی موٹرسائیکل کی طرف لپکے۔ اکرام بدحواسی کے عالم میں دوڑتا ہوا ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ دوسرے ہی لمحے موٹرسائیکل پوری رفتار سے اڑی جا رہی تھی۔

    ”خیریت تو ہے جناب؟“

    ”نہیں۔ فرزانہ نے خبر سنائی ہے کہ گھر کے اندر کوئی گڑبڑ ہے۔ محمود اور فاروق اندر جا چکے ہیں۔ وہ فون کرنے بیگم شیرازی کے ہاں چلی آئی ہے۔ اب وہ بھی گھر میں جا چکی ہو گی۔“

    ”کیسی گڑبڑ، کیا اس نے بتایا نہیں؟“

    ”نہیں کچھ بتانے کا وقت ہی کہاں ہو گا۔“

    ”بچے آج اسکول نہیں گئے؟“ اکرام نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”جب میں گھر سے چلا تھا تو اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ اب خدا جانے وہ اسکول گئے تھے یا نہیں۔“ انہوں نے سوچ میں ڈوبتے ہوئے کہا۔

    ”خدا خیر ہی کرے۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔

    آندھی اور طوفان کی طرح موٹرسائیکل چلاتے وہ گھر کے دروازے تک پہنچ گئے۔ ساتھ ہی ان پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

    ”ارے! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دروازہ تو کھلا پڑا ہے۔“ انہوں نے موٹرسائیکل سے اترتے ہوئے کہا۔

    ”اس کا مطلب ہے، اندر کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔“ اکرام بولا۔

    ”غلط سمجھے، اندر زبردست گڑبڑ ہوئی ہے۔“ انہوں نے گھبرا کر کہا اور پھر دوڑتے ہوئے اندر گھس گئے۔ اکرام ان کے پیچھے دوڑا۔ صحن میں انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔ سارا مکان بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ وہ باورچی خانے کی طرف لپکے۔ یہ بھی خالی تھا، البتہ اندر بے ترتیبی کا عالم تھا۔ لمحہ بہ لمحہ ان کی حیرت اور خوف بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ آخر وہ سونے والے کمرے میں داخل ہوئے اور پھر دھک سے رہ گئے۔ اُن کی بیگم رسیوں سے بندھی فرش پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ جلدی جلدی انہوں نے ان کی رسیاں کھولیں۔ انہیں اٹھا کر چارپائی پر ڈالا۔ منہ میں سے رومال نکالا۔ اتنے میں اکرام ایک گلاس میں پانی لے آیا۔ انہوں نے بیگم کے منہ پر پانی کے چھینٹے دیے، تب کہیں جا کر ان کی آنکھوں کے پپوٹے حرکت میں آئے۔ انہوں نے نیم بے ہوشی کے عالم میں آنکھیں جھپک جھپک کر انہیں دیکھا، پھر چونک اٹھیں اور چلائیں۔“

    ”وہ۔ وہ۔ میرے بچوں کو لے گیا۔“

    ”کیا کہا؟ کون بچوں کو لے گیا؟“ انسپکٹر جمشید نے بوکھلا کر پوچھا۔

    ”میں نہیں جانتی، وہ کون تھا۔ ہاں وہ بہت خوف ناک شکل صورت کا آدمی تھا، لمبا تڑنگا۔“

    ”گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل سے بتاﺅ۔ وہ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکے گا۔“

    اور بیگم جمشید نے تفصیل سے انہیں ساری بات بتا دی۔ چند لمحے تک وہ کھڑے سوچتے رہے، پھر بولے:

    ”لیکن اس سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں کو لے گیا ہے۔“

    ”محمود اور فاروق اندر آچکے تھے۔ اس وقت میں ہوش میں تھی، پھر گھنٹی ایک بار پھر بجی تھی۔ اس نے کہا تھا، یہ ضرور تمہاری بہن ہو گی۔ اس پر محمود نے یا فاروق نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے۔ اس سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ فرزانہ ہی ہو گی۔ پھر وہ تینوں دروازے پر چلے گئے اور واپس نہیں آئے۔“

    ”ہوں۔ خیر، تم آرام کرو۔ اگر اٹھ سکو تو بیگم شیرازی کے ہاں جا کر ڈاکٹر کو بلا لو۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے۔ نہ جانے وہ کون تھا اور تینوں کو کہاں لے گیا ہے۔ آﺅ اکرام ہم چلیں۔“ انہوں نے صحن کی طرف مُڑتے ہوئے کہا۔

    ”جلدی جائیے، میری فکر نہ کریں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

    وہ گھر سے باہر نکلنے کے لیے دروازے تک آئے اور پھر ٹھٹک کر رُک گئے۔ انسپکٹر جمشید کی نظریں دیوار پر چاک سے لکھے ایک نام پر جم کر رہ گئیں۔

    ٭….٭….٭

    ان کا سفر دو گھنٹے تک جاری رہا۔ پھر کار ایک طرف مُڑتی نظر آئی۔ انہوں نے دیکھا، وہ ساحل سمندر پر پہنچ چکے تھے۔ دُور دُور تک انہیں کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ البتہ ایک طرف سمندر میں ایک موٹربوٹ کھڑی ہلکورے لے رہی تھی۔ یہ ایک غیرآباد ساحل تھا۔

    ”نیچے اُتر آﺅ۔“ جیرال نے سرد آواز میں کہا۔ اس سے پہلے وہ اس کی آواز میں جو دوستانہ گرمی محسوس کرتے رہے تھے، ایک دم غائب ہو گئی تھی۔ انہوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اب اس کے چہرے پر وحشت اور درندگی کا راج تھا۔

    ”گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ، یہ تم یکا یک بدل کیوں گئے؟“ فاروق نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”تم سے نرم گرم گفتگو اس لیے کرتا رہا کہ کہیں تم کار میں کوئی حرکت نہ کر بیٹھو۔ جب کہ تمہیں بخیروعافیت یہاں تک پہنچانے کا معاہدہ ہوا تھا۔“ اس نے کہا۔

    ”یہ معاہدہ کس کے ساتھ ہوا؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”یہ ایسے راز ہیں جو بچوں کو بتائے نہیں جاتے۔“ اس نے طنزیہ انداز میں مسکرا کر کہا۔

    ”چلو خیر۔ ہمارے والد کو بتا دینا۔“ فاروق مسکرایا۔

    ”اُن کے تو فرشتے بھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔“ اس نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”کچھ دیر پہلے تو تم کہہ رہے تھے کہ اُن سے مقابلہ کرنے کے خواہش مند ہو۔“ فرزانہ نے جل بھن کر کہا۔

    ”بالکل ہوں، لیکن مجھے ایک فیصد بھی امید نہیں کہ وہ یہاں پہنچ سکیں گے۔“

    ”دیکھا جائے گا۔“

    وہ کار سے اُتر ے اور اب موٹربوٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جیرال نے اب پھر پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔ اچانک پانی کی ایک تیز لہر آئی اور ان کی پنڈلیوں کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔

    ”ارے میری چپل نکل گئی۔“ فاروق چلایا۔

    ”پروا نہ کرو۔ موٹربوٹ میں ننگے پاﺅں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔“ جیرال ہنسا۔

    ”لیکن میرے والد کو تو دوسری چپل خریدنی پڑے گی۔“

    ”بھول جاﺅ انہیں۔“

    ”کیا کہا؟ اپنے والد کو بھول جاﺅ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی اس طرح بھی اپنے ماں باپ کو بھولا کرتا ہے۔ یا تمہاری طرف ایسا ہی ہوتا ہے۔“

    فاروق نے جل بھن کر کہا۔

    ”اچھا بھائی نہ بھولو۔ ذرا تیز تیز چلو۔“ اس نے دوستانہ لہجے میں کہا۔

    ”تم میری سمجھ میں نہیں آئے۔ کبھی دوست نظر آتے ہو، کبھی دشمن۔“ محمود بولا۔

    ”میں تو بڑے بڑوں کی سمجھ میں نہیں آیا، تم کیا سمجھو گے؟“

    پانی کی لہر جب واپس گئی تو انہوں نے دیکھا، فاروق کے صرف ایک پیر میں چپل تھی۔

    ”اسے بھی اتار پھینکو۔ یوں اچھے نہیںلگ رہے۔“ فرزانہ نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”اچھا، یہ لو۔“ فاروق نے کہا اور دوسری چپل بھی اچھال دی۔ وہ ریت میں گری۔

    چاروں آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ موٹربوٹ تک پہنچ گئے۔ اب انہوں نے دیکھا، یہ ایک بہت بڑی اور جدید قسم کی موٹربوٹ تھی۔ اس میں باقاعدہ کمرے بنے تھے۔

    جیرال نے کہا:

    ”کیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہو۔ یہ صرف موٹربوٹ ہی نہیں۔ ضرورت پڑنے پر آبدوز میں بھی تبدیل کی جا سکتی ہے اور گھنٹوں پانی کے نیچے سفر کر سکتی ہے۔“

    ”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”ہیلو جارج۔ ہم آگئے ہیں۔“ جیرال نے چلا کر کہا۔

    فوراً ہی موٹربوٹ میں ایک کھڑکی سی نمودار ہوئی اور پھر غائب ہو گئی۔ اس کے بعد موٹر بوٹ چل پڑی ہے۔ نامعلوم منزل کی طرف۔

    ”ہماری آواز اس کمرے سے باہر نہیں جا سکے گی کیوں یہ موٹربوٹ آبدوز بھی ہے۔ اس لیے تم بے خطربات چیت کر سکتے ہو۔“ محمود نے انہیں بتایا۔

    ”خطر کیا اور بے خطر کیا۔ یہاں بات چیت کرنے کے لیے رکھا ہی کیا ہے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”کیا تم مایوس ہو گئی ہو؟“ محمود نے کہا۔

    ”نہیں، مایوسی گناہ ہے۔“ فرزانہ بولی۔

    ”تو پھر خدا کی ذات پر یقین رکھو۔ ابا جان ضرور آئیں گے۔“ فاروق بولا۔

    ”آخر تمہیں اس قدر یقین کیوں ہے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔

    ”اس لیے کہ ابا جان جیرال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اس کے کام کرنے کے طریقوں سے بھی واقف ہیں۔ پھر بھلا وہ کیوں نہ آئیں گے؟“

    ”لیکن اب تو ہم سمندر میں ہیں اور پھر یہ شہر کا وہ ساحل بھی تو نہیں، جہاں سے موٹربوٹیں اور آبدوزیں چلتی ہیں۔“ فرزانہ بولی۔

    تو پھر کیوں نہ ہم خود ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کریں۔ اس وقت تو ہم تنہا ہیں۔“ محمود نے کہا۔

    ”لیکن ہم اس بند کمرے میں دشمنوں کے خلاف کیا کر سکتے ہیں۔ پہلے ایک جیرال ہی کیا کم تھا کہ یہ جارج بھی شامل ہو گیا۔“ فاروق کے لہجے میں ناامیدی تھی۔

    ”ہمت نہ ہارو۔ حوصلہ رکھو اور دماغ پر زور دو۔“ محمود نے انہیں دلاسا دیا۔

    ”کیوں نہ ہم یہ دروازہ کھولنے کی کوشش کریں۔“ اچانک فرزانہ نے کہا اور دونوں چونک اُٹھے۔

    ”بالکل ٹھیک۔ “ محمود بولا۔

    تینوں ایک ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔

    ٭….٭….٭

    انسپکٹر جمشید میدانِ عمل میں

    ”اُف خدا، تو یہاں جیرال آیا تھا۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”دیوار پر نام لکھ کر جانے کا تو یہی مطلب ہو سکتا ہے۔“ اکرام نے بوکھلا کر کہا۔

    ”تو وہ تینوں بچوں کو اغوا کر کے لے گیا ہے، لیکن کیوں؟ اس نے ایسا کیوں کیا۔“ انسپکٹر جمشید نے پیشانی پکڑ کر کہا۔

    ”جیرال ہمیشہ بڑے بڑے ملکوں کے لیے معاوضے پر کام کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے، کسی نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو۔“

    ”آﺅ اکرام! جلدی کرو۔ کہیں وہ دُور نہ نکل جائے۔“ انسپکٹر جمشید بوکھلا کر بولے۔

    دونوں تیزی سے باہر نکلے اور موٹرسائیکل پر بیٹھ کر سڑک کنارے پر آئے، یہاں آکر انہوں نے موٹرسائیکل روک لی۔

    ”ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ وہ کوئی نشانی تو نہیں چھوڑ گئے۔“ وہ بولے۔

    ”جیرال نے انہیں اس کا کب موقع دیا ہو گا۔“ اکرام نے کہا۔

    ”ہاں! وہ بہت چالاک ہے، مگر بچے بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی سی کوشش ضرور کی ہو گی۔“

    یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ غور سے جائزہ لینے لگے۔ اکرام محسوس کر رہا تھا کہ وہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ دفعتاً انسپکٹر جمشید چونکے۔

    ”دیکھو اکرام، اگرچہ لوگ سڑک پر آجا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ آثار چھوڑ گئے ہیں۔“ انہوں نے فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔“

    ”اوہ! تم میں غور سے دیکھنے کی عادت نہ جانے کب پیدا ہو گی۔“ پاﺅڈر کے ان ذروں کو غور سے دیکھو۔ کیوں کیا نظر آئے؟“

    ”لیکن پاﺅڈر۔ بھلا اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے۔“ اکرام نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”تم نہیں جانتے۔“ انسپکٹر جمشید پہلی مرتبہ مسکرائے۔ فاروق کی ایک عادت ہے۔ اپنے رومال میں تھوڑا سا پاﺅڈر ضرور چھڑک کر رکھتا ہے۔ اس نے ضرور کسی بہانے سے رومال جیب سے نکالا ہو گا اور رومال یہاں جھٹک دیا ہو گا۔ اس سے کم از کم یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں سے وہ کسی کار یا جیپ میں سوار ہو کر لے جائے گئے ہیں۔“

    ”لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کار کس طرف گئی ہے۔“ اکرام نے کہا۔

    ”فاروق اپنے حصے کا کام کر چکا تھا۔ محمود اور فرزانہ اس کی چال سمجھ گئے تھے۔ اگلا قدم ان دونوں نے اٹھایا۔“ انسپکٹر جمشید سڑک کو بہ غور دیکھتے ہوئے بولے۔

    ”کیا مطلب؟“ اکرام بڑے زور سے چونکا۔

    ”مطلب یہ کہ اس کے بعد محمود نے چلتے چلتے اچانک ٹھوکر کھائی ا ور فرزانہ اسے سنبھالنے کے لیے آگے بڑھی اور اب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ اس طرف گئے ہیں۔“ انہوں نے ایک سمت میں کرتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن یہ کس بات سے ثابت ہو رہا ہے۔“ اکرام نے حیران ہو کر کہا۔

    ”لڑکھڑانے کے نشانات جو پاﺅڈر کے ذرّات کی وجہ سے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ آﺅ اب دیر نہ کرو، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔“

    یہ کہہ کر وہ موٹرسائیکل پر سوار ہو گئے۔ اکرام پھر ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ ایک بار پھر موٹرسائیکل طوفانی رفتار سے جا رہی تھی۔ اس کا رُخ اب جس سڑک کی طرف تھا، وہ آگے جا کر دو طرف مُڑ جاتی تھی، لیکن انسپکٹر جمشید رُکے بغیر ایک سڑک پر مُڑ گئے۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ساحل سمندر پر پہنچ چکے تھے۔

    ساحل پر بہت سی موٹربوٹیں اور آبدوزیں کھڑی تھیں۔ لوگ انہیں کرائے پر لے کر سیر کرتے تھے۔ دونوں اترے اور ایک موٹربوٹ کی طرف بڑھے اس کا مالک لپک کر ان کی طرف آیا۔ یہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔

    ”موٹربوٹ چاہیے جناب؟“ اس نے کہا۔

    ”ہاں! چاہیے تو، لیکن پہلے یہ بتاﺅ، ابھی ابھی چند منٹ پہلے ایک کار میں تین بچے اور خوفناک سی صورت والا آدمی یہاں آئے تھے۔ وہ موٹربوٹ میں بیٹھ کر کس طرف گئے ہیں؟“

    ”ایک خوف ناک آدمی اور تین بچے….“ اس نے پیشانی پر انگلی رکھ کر کہا۔

    ”ہاں! بچوں میں ایک لڑکی اور دو لڑکے تھے۔“

    ”جی نہیں! میں بہت دیر سے یہاں موجود ہوں۔ ایسی کوئی کار یہاں نہیں آئی۔“ اس نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا۔

    ”اچھا، تمہارے خیال میں کوئی اور ایسا ساحل ہے، جہاں سے موٹربوٹیں چلتی ہوں۔“

    ”صرف یہیں سے چلتی ہیں۔“ اس نے جواب دیا۔

    ”اگر کوئی جرائم پیشہ آدمی کسی کو سمندر کے راستے اغوا کرنا چاہے تو وہ کہاں سے لے کر جائے گا۔ بڑے میاں اس سوال کا جواب خوب سوچ کر دو۔ میں تمہاری موٹربوٹ کرائے پر بھی لوں گا اور کرایہ بھی منہ مانگا دوں گا۔“

    ”اس کی ضرورت نہیں، دوسروں کی مدد کرنا میری عادت ہے۔ اگر آپ بوٹ کرائے پر لیں گے تو میں وہی کرایہ لوں گا جو بنے گا۔ نہ لیں گے تب بھی وہ باتیںآپ کو ضرور بتاﺅں گا جو مجھے معلوم ہیں۔ یہاں سے چند میل دُور ایک چھوٹاسا غیرآباد ساحل ہے۔ دو ایک بار میں نے وہاں ایک بڑی سی نئی قسم کی موٹربوٹ کھڑی دیکھی ہے۔“

    ”اوہ۔“ انسپکٹر جمشید پر جوش انداز میں بولے:

    ”تو پھر بڑے میاں، اس طرف لے چلو، لیکن ٹھہرو پہلے میں موٹرسائیکل ایک طرف کھڑی کر دوں۔“

    موٹرسائیکل سٹینڈ پر رکھ کر وہ موٹربوٹ میں سوار ہو گئے۔

    ”اب جس قدر تیز چل سکتے ہو چلو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اس ساحل کی طرف؟“ اس نے پوچھا۔

    ”ہاں ۔“

    بوڑھے نے موٹربوٹ گھمائی اور پوری رفتار پر چھوڑ دی۔ وہ کافی ماہر معلوم ہوتا تھا۔ پانی کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس لیے انہیں اونچی آواز میں بات کرنا پڑ رہی تھی۔

    ”چکر کیا ہے؟“ بوڑھے نے کچھ دیر بعد پوچھا۔

    کچھ غیر ملکی تین بچوں کو اغوا کر لے گئے ہیں۔“

    ”اوہ! یہ تو بہت بھیانک جرم ہے۔“ اس نے کانپ کر کہا۔

    ”ہاں۔ اور تم اس معاملے میں ہماری مدد کر رہے ہو۔ یہ بہت بڑی نیکی اور ملک اور قوم کی خدمت ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کی تعریف کی۔

    ”شکریہ جناب، یہ تو میرا فرض ہے۔“

    تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اس ساحل پر پہنچ گئے لیکن یہاں دُور دُور تک کوئی نہ تھا۔

    ”کنارے پر روک لو۔ ہم ذرا اُتر کر جائز ہ لیں گے۔“

    ”اچھا!“

    انسپکٹر جمشید اور اکرام موٹربوٹ سے کود کر اُترے اور ریت پر چلتے ہوئے خشکی کی طرف بڑھنے لگے۔ کچھ دُور چل کر انہیں ایک نیلی کار نظر آئی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔

    ”وہ اسی کار پر لائے گئے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے پُرجوش انداز میں کہا۔

    ”کار میں سے مخصوص خوشبو آرہی ہے۔ یہ محمود استعمال کرتا ہے۔“ وہ مسکرائے۔ پھر واپس مڑ کر ریت پر نظریں دوڑانے لگے۔ اچانک وہ چلائے۔

    ”ارے، وہ چپل اٹھانا۔

    چپل انہیں بوڑھے کے قریب نظر آیا تھا جو ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس نے چپل اٹھا لیا اور ان کی طرف بڑھا۔ چپل کو نزدیک سے دیکھتے ہی انسپکٹر جمشید کانپتی ہوئی آواز میں بولے:

    ”یہ چپل فاروق کا ہے۔“

    ”کیا آپ کو یقین ہے۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔

    ”بالکل مجھے سو فیصد یقین ہے۔“ انہوں نے کہا اور بوڑھے کی طرف مُڑے۔

    ”کیا یہاں آس پاس کوئی جزیرہ موجود ہے؟“

    ”جزیرہ۔ جزیرے تو کئی ہیں۔“

    ”تو پھر چلو۔ وہ لوگ ضرور بچوں کو کسی جزیرے پر لے گئے ہیں۔“

    ”آئیے میں آپ کو نزدیک ترین جزیرے پر لے چلوں۔“ بوڑھا بولا۔

    وہ ایک بار پھر موٹربوٹ میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔

    ٭….٭….٭

    دروازہ کھولنے کی انہوں نے لاکھ کوشش کی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ ان کے پاس چابیوں کا گچھا تو تھا نہیں کہ اس کو آزماتے، نہ ہی کوئی کیل وغیرہ تھی۔ آخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے۔

    ”جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“ محمود نے ہانپتے ہوئے کہا۔

    ”اور کیا۔ دروازہ کھول کر بھی ہم کیا کر لیں گے؟ کیا سمندر میں تیر کر کنارے تک پہنچیں گے۔“ فاروق نے جھلا کر کہا۔

    ”چلو ٹھیک ہے۔ آرام کرو۔“

    تینوں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ جلد ہی ان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور جیرال کی شکل دکھائی دی۔

    ”باہر آجاﺅ۔ اندر بیٹھے بیٹھے اُکتا گئے ہو گے۔“

    ”بہت خیال ہے تمہیں ہمارا؟“ فاروق نے جل کر کہا۔

    ”اگر خیال نہ ہوتا، تو صحیح سلامت یہاں تک نہ آسکتے۔“

    ”اب کیا ارادہ ہے؟“ محمود نے پوچھا۔

    ”یہاں ایک بہت پُرفضا جزیرہ ہے، ذرا تمہیں اس کی سیر کرائیں گے، پھر آگے چلیں گے۔“ جیرال نے وحشیوں کی طرح ہنس کر کہا۔

    ”اچھی بات ہے۔“ انہوں نے کہا اور باہر نکل آئے۔ یہاں جارج تنہا کھڑا تھا۔

    ”چلو! نیچے اترو۔“ اس نے غرا کر کہا۔

    جزیرہ واقعی پرفضا تھا۔ درخت بہت لمبے لمبے، گھنے اور سرسبز تھے۔ کئی درختوں پر انہوں نے پھل لدے دیکھے۔ ان میں بعض پھل ایسے بھی تھے جو انہوں نے آج تک نہیں دیکھے تھے۔

    ”اس جزیرے پر اس وقت ہماری حکومت ہے۔“ جیرال نے ہنس کر کہا۔

    ”اچھا۔ پھر کیا ارادہ ہے؟“

    ”وقت آگیا ہے کہ تمہیں سب کچھ بتا دیا جائے۔ بس چند منٹ ٹھہرو۔“

    جزیرے کی زمین ریتلی تھی۔ کہیں کہیں گھاس بھی اُگی ہوئی تھی۔ جزیرے کے بیچوں بیچ پہنچ کر وہ ٹھٹک کر رُک گئے۔ یہاں تین غیرملکی آرام کرسیوں پر بیٹھے سگار پی رہے تھے۔ ان کے سامنے میز پر گلاس اور مشروب کی بوتل رکھی تھی۔ وہ بھی انہیں دیکھ کر سیدھے ہو گئے۔

    ”بہت خوب جیرال۔ تو تم انہیں لے ہی آئے۔“ ان میں سے ایک نے خوش ہو کر کہا۔

    ”انہیں لانا بھی کوئی مشکل کام تھا ماسٹر۔“ جیرال نے مسکرا کر جواب دیا۔

    ”مزہ تو تب ہے، جب ان کا باپ بھی ان کے پیچھے بھاگا چلا آئے۔“ اسی آدمی نے کہا جسے جیرال نے ماسٹر کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

    ”وہ بھی آئے گا ماسٹر۔ وہ بہت چالاک ہے، لیکن ہمارے جال سے بچ نہیں سکتا۔ اپنے تین بچوں کے لیے اسے آنا ہی پڑے گا اور اگر نہیں آئے گا تب بھی جیت ہماری ہی ہو گی۔ کیا بچوں کا گم ہو جانا اُسے زندہ درگور نہیں کر دے گا۔ پھر کس کام کا رہ جائے گا۔ ان بچوں کو بھی خوب چکر دے کر یہاں تک لایا ہوں۔ میں نے انہیں احساس دلا دیا تھا کہ یہ ایک دوست کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔“

    ”بہت خوب جیرال! تمہارا جواب نہیں۔ بڑی بڑی حکومتیں تم سے یونہی تو کام نہیں لیتیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر انسپکٹر جمشید کس طرح یہاں پہنچے گا۔ ظاہر ہے کہ تم نے انہیں راستے میں کوئی آثار چھوڑنے نہیں دیے ہوں گے۔“

    ”میں نے دہری چال چلی ہے۔ ایک طرف تو انہیں کوئی نشانی کسی جگہ پر گرانے کی اجازت نہیں دی، دوسری طرف میں ان کے گھر کی دیوار پر چاک سے جیرال لکھ آیا ہوں۔“

    محمود، فاروق اور فرزانہ یہ گفتگو سن سن کر حیران ہو رہے تھے۔ اب ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ دراصل ان لوگوں نے ان کے والد پر قابو پانے کا ایک خوف ناک منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کو بنانے والا جیرال تھا۔ سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہو رہا تھا۔ اگرچہ اغوا کرانے والے اور تھے۔ نہ جانے ماسٹر اور اس کے ساتھی کس ملک سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں انسپکٹر جمشید سے کیا دشمنی تھی؟ انہوں نے چاروں طرف دیکھا، ان پانچ دشمنوں کے سوا انہیں دُور دُور کوئی نظر نہ آیا۔ یہ جزیرہ غیرآباد تھا۔ یوں بھی شہر سے بہت دُور تھا۔ کوئی سیروتفریح کرنے والا گروپ بھی اِدھر مشکل سے ہی آتا ہو گا۔

    اس سے پہلے وہ یہ دعا کرتے رہے تھے کہ ان کے والد انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اب وہ یہ دُعا کر رہے تھے، یا اللہ ہمارے والد ہم تک نہ پہنچیں۔

    ٭….٭….٭


    جزیرے میں

    نزدیک ترین جزیرے میں انہیں لوگوں کے چند گروہ پکنک مناتے نظر آئے۔ وہ جان گئے کہ کم از کم محمود فاروق اور فرزانہ کو اس جزیرے پر نہیں لایا گیا۔ بوڑھا بھی ان کے ساتھ تھا۔ اس نے کہا۔

    ”کوئی بات نہیں۔ یہاں اور بھی بہت سے جزیرے ہیں۔ آئیے ہم ان پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔“

    جزیروں کی تلاش میں انہیں ایک گھنٹہ لگ گیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”بڑے میاں! کیا تم کسی ایسے جزیرے سے واقف نہیں جو یہاں سے بہت فاصلے پر ہو اور غیرآباد بھی ہو۔“

    یہ سن کر بوڑھا سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر بولا۔

    ”جی ہاں! ایک جزیرہ ایسا ہے تو سہی، لیکن وہ بہت دُور ہے۔

    ”کیا وہاں تک لوگ سیر کرنے جاتے ہیں۔“

    ”جی نہیں۔“ اس نے کہا۔

    ”تو پھر وہیں چلو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”اچھا صاحب۔“

    ایک بار پھر وہ موٹربوٹ میں روانہ ہوئے۔ انسپکٹر جمشید کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر اس غیرآباد جزیرے پر بھی بچے نہ ملے، تو وہ کیا کریں گے، کہاں جائیں گے۔ اکرام بھی خاموش تھا۔ بھاگ دوڑنے یوں بھی انہیں بُری طرح تھکا دیا تھا۔ آخر آدھ گھنٹے تک تیز رفتاری سے سفر کرنے کے بعد وہ جزیرہ انہیں دکھائی دینے لگا۔ انسپکٹر جمشید نے دُور سے دیکھا، ایک بڑی سی موٹربوٹ اس کے کنارے کھڑی تھی۔

    ”کیا یہ وہی موٹربوٹ ہے جو تم نے اس غیرآباد ساحل پر کئی بار کھڑی دیکھی ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پُرجوش لہجے میں کہا۔

    ”جی ہاں! وہی لگتی ہے۔“

    ”ٹھیک ہے، ہم اس جزیرے پر اتریں گے۔“ وہ بولے۔

    بوڑھے نے موٹربوٹ کنارے کے ساتھ لگاتے ہوئے روک لی۔

    ”کیا میں بھی آپ کے ساتھ آﺅں؟“ اس نے پوچھا۔

    ”نہیں بڑے میاں، ہماری وجہ سے تم پر کوئی مصیبت کیوں آئے، تم یہیں ٹھہر کر ہمارا انتظار کرو۔ اگر ہم دو گھنٹے تک واپس نہ آئیں تو تم پولیس کو اطلاع دے دینا اور یہ اپنا کرایہ بھی رکھ لو۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید نے جیب سے سو سو روپے کے دو نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔

    ”ابھی رہنے دیں، ابھی تو آپ کو واپس بھی چلنا ہے۔ بعد میں لے لیں گے۔ آپ فکر نہ کریں، میں یہاں پورے دو گھنٹے تک انتظار کروں گا۔ اگر آپ کی واپسی نہ ہوئی تو پولیس کو خبر کر دوں گا۔“

    ”تمہارا بہت بہت شکریہ بڑے میاں، تم بہت اچھے آدمی ہو۔“

    انہوں نے بیٹھی ہوئی آواز میں کہا اور موٹربوٹ سے جزیرے پر اُتر گئے۔ اکرام ان کے پیچھے تھا۔

    وہ جزیرے کے درمیانی حصے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ پھر انسپکٹر جمشید دبی آواز میں بولے:

    ”اکرام! وہ بچوں کو اسی جزیرے پر لائے ہیں۔ اگرچہ زمین ریتلی ہے، لیکن کہیں کہیں ان کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ محمود اور فرزانہ کے پیروں میں چپل موجود ہیں جب کہ فاروق ننگے پاﺅں ہے۔ اس نے تو اپنے چپل ہمیں راستہ دکھانے کے لیے ساحل کی ریت پر ہی چھوڑ دیے تھے۔“

    ”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ پیروں کے نشانات کہیں کہیں مجھے بھی دکھائی دیے ہیں۔“

    ”اور یہ بھی بتا دوں۔ انہیں یہاں تک صرف دو آدمی لے کر آئے ہیں۔“

    ان میں سے ایک یقینا جیرال ہے، دوسرا کوئی اور ہو گا۔“ انہوں نے آگے بڑھتے اور زمین کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”اب ہم کیا کریں۔ کیا اپنے پستول نکال لیں؟“ اکرام نے پوچھا۔

    ”اس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پورا انتظام کر رکھا ہو گا۔ تم جیرال کو کیا سمجھتے ہو۔ وہ بہترین منصوبے بنانے کا بہت بڑا ماہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی حکومتیں اس سے کام لیتی ہیں اور….“

    انسپکٹر جمشید کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ وہ عجیب سے انداز میں مسکرائے تھے۔

    ”اور کیا؟“ اکرام نے پوچھا۔

    ”اور یہ کہ میرا خیال ہے، ہم جال میں پھنس گئے ہیں۔“

    انہوں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”جی کیا مطلب؟“ اکرام بُری طرح چونکا۔

    ”ہاں اکرام! دشمن کی چال میری سمجھ میں چند لمحے پہلے آئی ہے۔ انہوں نے بچوں کو جیرال کے ذریعے اغوا کرنے کا پروگرام صرف اس لیے بنایا ہے کہ میں ان کو تلاش کرتا ہوا ان تک پہنچ جاﺅں گا۔ جیرال کے نام کے ساتھ ہی سمندر ذہن میں آتا ہے کیوں کہ عام طور پر یہ سمندروں میں سفر کرتا ہے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ میں سمندر کی طرف بھاگا آﺅں گا اور پھر کوئی موٹربوٹ والا مجھے اس جزیرے تک پہنچا دے گا۔“

    ”اوہ۔“ اکرام کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔

    ”یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ساری سکیم جیرال کی ہو اور اس سے کام لینے والے صرف تماشائی کی حیثیت سے موجود ہوں۔“

    ”کیا یہ جزیرہ ہماری حکومت میں شامل نہیں۔“ اکرام نے پوچھا۔

    ”ضرور شامل ہے، لیکن غیرآباد ہے۔ ہم یہاں مدد کے لیے کسی کو کیسے بلا سکتے ہیں؟“ انہوں نے بتایا۔

    ”تو کیا ہم پھنس چکے ہیں۔“

    ”شاید۔ یہ تو آگے چل کر ہی معلوم ہو گا۔“

    پھر وہ جزیرے کے بیچوں بیچ پہنچ گئے۔ یہاں کچھ درختوں کے نیچے ایک کرسی کے گرد پانچ کرسیاں پڑی تھیں، لیکن ان کے پاس کوئی نہ تھا۔ انہوں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز میں چلائے۔

    ”محمود! تم کہاں ہو؟“

    انہیں اپنی آواز کی گونج سنائی دی، مگر بچوں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ دوبارہ انہوں نے اپنے حلق سے پھر آواز نکالی، لیکن کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔

    ”ہو سکتا ہے، وہ یہاں نہ لائے گئے ہوں۔“ اکرام نے مایوس ہو کر کہا۔

    ”نہیں میرا دل کہہ رہا ہے کہ وہ یہیں کہیں موجود ہیں۔ دشمنوں نے انہیں حلق سے آواز نہ نکالنے کی ہدایت کر رکھی ہو گی۔“ انہوں نے کہا۔ پھر اچانک وہ چونک اُٹھے۔ ایک آواز ان سے مخاطب تھی۔

    ”خوش آمدید انسپکٹر، ہمیں تمہارا ہی انتظار تھا۔“

    ٭….٭….٭

    بیگم جمشید کے اوسان بحال ہوئے تو وہ اٹھ کر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بیگم شیرازی کے گھر پہنچیں۔ انہیں سارے واقعات تفصیل سے بتائے تو وہ دھک سے رہ گئیں۔ پھر بیگم جمشید نے خان عبدالرحمن اور پروفیسر داﺅد کو فون کیے۔

    تھوڑی دیر بعد ان کے گھر میں بیگم شیرازی کے علاوہ پروفیسر داﺅد شائستہ سمیت اور خان رحمان اپنے تینوں بچوں حامد، سرور، ناز اور بیگم شہناز کے ساتھ موجود تھے۔

    ”میں ڈی آئی جی صاحب کو فون پر حالات بتا آیا ہوں۔ انہوں نے تالش کا سلسلہ شروع کروا دیا ہو گا۔“ خان رحمان نے انہیں بتایا۔

    ”اور میں نے تمام بڑے بڑے افسروں کو اطلاع دی ہے۔ امید ہے کہ بڑے پیمانے پر انہیں تلاش کیا جا رہا ہو گا۔“ پروفیسر بولے۔

    ”آپ کا بہت بہت شکریہ۔“ بیگم جمشید بجھی بجھی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولیں۔

    ”بھابھی فکر نہ کریں۔ کوئی ان تک پہنچے نہ پہنچے، جمشید ضرور پہنچے گا۔ اور انشا اللہ وہ انہیں لے کر آتا ہی ہو گا۔“ خان رحمان نے کہا۔

    ”بالکل، مجرم تو اس کے سائے سے بھی بھاگتے ہیں۔ نہ جانے انہیں یہ جرا¿ت کس طرح ہوئی۔“ پروفیسر بولے۔

    ”مجھے وہ آدمی بہت خطرناک دکھائی دے رہا تھا۔“ بیگم جمشید نے بتایا۔

    ”کوئی بات نہیں اللہ سے دعا کریں۔“

    پھر وہ سب ان کا دھیان بٹانے کے لیے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔

    وقت بہت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا اور جوں جوں گزر رہا تھا، ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔

    ”یا اللہ خیر۔“ خان رحمان کے منہ سے نکلا۔ ساتھ ہی وہ دروازہ کھولنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ دروازے پر انہیں ایک سب انسپکٹر نظر آیا۔

    ”مجھے خان صاحب نے بھیجا ہے۔“ اس نے بتایا۔

    ”ڈی آئی جی صاحب نے؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”جی ہاں! سارے شہر میں بچوں کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ تمام جرائم پیشہ لوگوں کو چیک کیا جا رہا ہے۔ مجرموں کے اڈوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن ابھی تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔ تلاش بدستور جاری ہے۔“

    ”انسپکٹر جمشید اور اکرام بھی کہیں نہیں ملے؟“

    ”جی نہیں۔“

    ”تب پھر وہ ضرور اغوا کرنے والوں کے پیچھے لگے ہوں گے۔“ خان عبدالرحمن نے خیال ظاہر کیا۔

    ”ہو سکتا ہے۔“ اس نے کہا۔ پھر وہ اجازت لے کر چلا گیا۔ خان عبدالرحمن نے اندر آکر ساری بات بتائی اور ایک بار پھر وہ سوچ میں ڈوب گئے۔

    ٭….٭….٭

    جیرال سے سامنا

    انسپکٹر جمشید درختوں کے جھنڈ میں سے آتی ہوئی اس آواز کو سن کر نہ چونکے نہ گھبرائے بلکہ دبے لفظوں میں اکرام سے بولے۔

    ”میرا خیال ہے، یہ جیرال ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے تیار ہو جاﺅ۔“

    جیرال جھنڈ میں سے نکل کر ان کے سامنے آگیا اور قدم اٹھاتا ہوا ان کے بالکل نزدیک پہنچ گیا۔ ایک بین الاقوامی مجرم کو وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے اور وہ بھی اس قدر نزدیک سے۔ چند لمحوں تک انسپکٹر جمشید اور جیرال ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے۔ دونوں طرف سے کسی نے بھی پلک تک نہ جھپکی۔ آخر جیرال ہی بولا:

    ”ہیلو انسپکٹر، مجھے تم سے ملنے کی بہت آرزو تھی۔“

    ”تو کیا۔ تم نے یہ سب مجھ سے ملاقات کرنے کی خاطر کیا ہے؟“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”یہ تو نہیں کہا جا سکتا۔ ایک حکومت نے میری خدمات حاصل کیں اور میں تیار ہو گیا۔ منصوبہ تمہارے متعلق تھا، اس لیے میں بہت خوش ہوا کہ چلو اسی بہانے تم سے ¾ملاقات بھی ہو جائے گی۔“

    ”بہت خوب، تمہیں زندہ جیرال کہا جاتا ہے اور آج میں بھی کہتا ہوں کہ تمہیں یہ نام غلط نہیں دیا گیا۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کی دلیری کی تعریف کی۔

    ”شکریہ انسپکٹر، میں تمہارے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں، اس لیے ایک عرصے سے میری یہ خواہش بھی تھی کہ کبھی ہم دونوں میں مقابلہ ہو۔ قدرت نے آج ایک ہی وقت میں میری دو خواہشیں پوری کر دیں۔ تم سے ملاقات بھی ہو گئی اور آج مقابلہ بھی ہو گا۔“

    ”ضرور، لیکن میرے بچوں کا کیا قصور ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

    ”انہیں چارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ میں جانتا تھا تم کسی نہ کسی طرح انہیں تلاش کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ جاﺅ گے۔“

    ”تو منصوبہ تمہارا ہی بنایا ہوا تھا؟“

    ”ہاں۔“ اس کے منہ سے نکلا۔

    ”بچے ہیں کہاں؟“ انہوں نے پوچھا۔

    ”فکر نہ کرو۔ وہ خیریت سے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے انسپکٹر جمشید، کہ تمہارے بچوں سے مل کر بھی بہت خوش ہوا ہوں۔ انہوں نے میری ہدایات پر بھی پوری طرح عمل کیا ہے۔ بس ایک بار فاروق نے چھینک مار کر رومال گرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میرے مقابلے میں اس کی یہ چال ناکام ہو گئی۔“

    ”یہاں تم غلطی پر ہو۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”ان تینوں نے ہی مجھے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی تھی کہ ہمیں اس طرف لے جایا جا رہا ہے اور تم یہ سن کر ضرور حیران ہو گے کہ وہ سو فی صد کامیاب ہو گئے تھے۔“

    ”یہ غلط ہے۔ میں نے پوری طرح خیال رکھا تھا، کیوں کہ میں اپنا نام تمہارے مکان کی دیوار پر لکھ آیا تھا۔ اس کے بعد اگر تمہیں محمود وغیرہ کی طرف سے چھوڑی ہوئی کوئی نشانی نظر آجاتی تو تم فوراً سمجھ جاتے کہ جال بچھایا گیا ہے، اس صورت میں تم پوری طاقت ساتھ لے کر آتے۔“

    ”تم غلط فہمی میں مبتلا ہو۔ دراصل فاروق نے رومال گرانے کے متعلق تو سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ رومال پر پاﺅڈر چھڑک کر رکھتا ہے۔ اس نے رومال جھٹک کر پاﺅڈر کے ذرات سڑک پر گرائے تھے۔ پھر محمود نے ٹھوکر کھائی تھی، فرزانہ نے اسے سنبھالا تھا اور اس طرح انہوں نے اپنے قدموں کے نشانات سے سمت کا اشارہ مجھے دیا تھا۔

    ”اوہ۔“ جیرال کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

    ”پھر غیرآباد ساحل پر فاروق نے اپنی چپل بھی تو چھوڑی تھی۔“

    اس کے بارے میں تو مجھے معلوم ہو گیا تھا، لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں دی کیوں کہ میں جانتا تھا، تم آباد ساحل کی طرف سے جزیروں کی تلاش میں نکلو گے۔“

    ”خیر یہ تو ہوا۔ اب تم بتاﺅ بچے کہاں ہیں؟“

    اکرام یہ سوچ سوچ کر حیران ہو رہا تھا کہ آخر انسپکٹر جمشید جیرال سے دوستانہ فضا میں کیوں گفتگو کر رہے ہیں۔ آگے بڑھ کر اسے گرفتار کیوں نہیں کر لیتے۔ اس وقت جیرال کی نظر اکرام پر پڑ گئی۔

    ”انسپکٹر، یہ شاید تمہارا اسسٹنٹ ہے۔“

    ”ہاں! یہ اکرام ہے۔“

    ”میں بتاﺅں۔ یہ سوچ رہا ہے کہ تم مجھے گرفتار کیوں نہیں کر لیتے۔“ اس نے مسکرا کر کہا اور اکرام حیرت زدہ رہ گیا۔

    ”میں بھی یہ بات جانتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے جواب دیا۔

    ”تم نے اب تک بتایا نہیں کہ بچے کہاں ہیں؟“

    ”مسٹر جارج، بچوں کو لے آئیں۔ انسپکٹر صاحب کو انہیں دیکھے بغیر چین نہیں آئے گا۔“

    درختوں کے جھنڈ میں سے نہ صرف بچے اور مسٹر جارج نکل کر باہر آگئے بلکہ ماسٹر اور اس کے دونوں ساتھی بھی ان کی طرف بڑھنے لگے۔ انسپکٹر جمشید کی نظر جونہی ماسٹر پر پڑی۔ وہ بڑے زور سے چونکے۔ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”تم….“

    ”ہاں میں۔“ اس نے پراسرار انداز میں کہا۔

    ”اکرام، ہمارے دشمن ملک کے سب سے بڑا سراغ رساں سے ملو۔ یہ اپنے ملک میں ماسٹر کے نام سے مشہور ہیں۔“

    ”اوہ۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔ اس نے ماسٹر کے بہت چرچے سنے تھے۔

    ”مجھے حیرت ہے، تم نے بندوق جیرال کے کندھے پر رکھ کر کیوں چلائی۔ کیا تم خود یہ کام نہیں کر سکتے تھے؟“

    ”جیرال آج کل مستقل طور پر ہمارے ملک کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم دونوں دوست بن چکے ہیں۔ میں نے اس کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تھا کہ انسپکٹر جمشید کی وجہ سے ہمارے بہت سے جاسوس پکڑے جا چکے ہیں۔ کوئی ایسا منصوبہ بناﺅ کہ تم ہمارے قبضے میں آجاﺅ۔ سو اس نے صرف تین منٹ میں منصوبہ بنا ڈالا۔

    ”بہت خوب، تو یہ بات ہے۔ اچھا، اب تم لوگوں کا کیا پروگرام ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے ایسے لہجے میں پوچھا جیسے وہ سب یہاں پکنک منانے آئے ہوں۔

    ”یہ تمہیں جیرال بتائے گا، کیوں کہ منصوبہ اس نے بنایا ہے۔ میں تو صرف بطورِ نگران آیا ہوں۔“

    ”چلو جیرال تم بتاﺅ؟“

    ”پہلے اپنے بچوں کی خیریت تو دریافت کر لو۔ دیکھ لو ہم نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“

    ”تم جیسے بڑے مجرم ایسی گری ہوئی حرکت کر بھی نہیں سکتے۔ میں جانتا ہوں۔ تم پروگرام بتاﺅ؟“

    ”پروگرام یہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے، تم یہاں سے واپس جاﺅ۔ البتہ تمہارے بچے اور تمہارا اسسٹنٹ جا سکتے ہیں۔“

    ”تفصیل سے بتاﺅ۔“ انسپکٹر جمشید نے بے خوف ہو کر کہا۔

    ”تم پوری طرح گھر چکے ہو۔ اپنے چاروں طرف کے درختوں پر نظر ڈال لو۔ تمہیں چار درختوں پر ایک ایک آدمی بیٹھا نظر آئے گا۔ ان کے ہاتھوں میں مشین گنیں ہیں جو آن کی آن میں تمہیں بھون سکتی ہیں، لیکن ہم نے آج تک بزدلوں جیسے کام نہیں کیے۔ اس لیے تمہیں پورا پورا موقع دیا جائے گا۔“

    یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کی باتیں محمود، فاروق اور فرزانہ کے جسموں میں سنسنی دوڑائے جا رہی تھیں۔

    ”تم نے بات پھر درمیان میں چھوڑ دی۔“ انسپکٹر جمشید چاروں طرف ایک نظر ڈال کر بولے۔

    ”تمہیں مجھ سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ اگر تم نے مجھے شکست دے دی تو تمہیں یہاں سے زندہ جانے دیا جائے گا، ورنہ یہ لوگ تمہاری لاش کو لے جا سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔“

    ”بہت خوب، لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”ہاں ہاں! ضرور۔“ جیرال نے کہا۔

    ”میرے اسسٹنٹ اور بچوں کو میرے سامنے یہاں سے جانے دیا جائے۔“

    ”لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ جا کر مدد لے آئیں گے۔“ جیرال نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا۔

    ”ہرگز نہیں، یہ یہاں آج شام سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ میں انہیں سختی سے اس کی ہدایت کر دیتا ہوں۔“

    ”لیکن تم انہیں پہلے ہی کیوں رخصت کر دینا چاہتے ہو؟“

    ”تاکہ کم از کم یہ تو محفوظ رہیں۔“

    ”بے فکر رہو، انہیں خراش تک نہیں آئے گی۔“ جیرال نے وعدہ کیا۔

    ”لیکن میرا اطمینان اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔“ انہوں نے کہا۔

    ”اچھی بات ہے میں انہیں جانے کی اجازت دیتا ہوں۔ میں جانتا ہوں یہ تمہاری ہدایت پر عمل کریں گے۔ تم وعدے کے پکے ہو۔“

    ”ٹھیک ہے، اکرام! تم بچوں کو لے کر چلے جاﺅ اور دیکھو شام سے پہلے واپس نہ آنا۔“

    اکرام اور بچوں نے اپنی جگہ سے حرکت تک نہ کی۔

    ”ہم نہیں جائیں گے ابا جان۔“

    ”میں بھی نہیں جاﺅں گا۔“ اکرام نے مضبوط لہجے میں کہا۔

    ”انسپکٹر جمشید نے انہیں بہت سمجھایا، لیکن وہ نہ مانے۔ اگر وہ انہیں حکم دیتے تو شاید انہیں جانا ہی پڑتا، لیکن انہوں نے حکم نہیں دیا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ وہ لڑائی کے انجام تک یہیں ٹھہریں گے۔“

    ”اب مقابلہ شروع ہو جانا چاہیے۔“ جیرال بولا۔

    ”ٹھیک ہے۔“ انہوں نے کہا۔

    ”آپ سب لوگ دور ہٹ جائیں بلکہ درختوں کی اوٹ لے لیں۔“ جیرال نے باقی لوگوں سے کہا۔

    ان کے ہٹنے کے بعد جیرال اور انسپکٹر جمشید ایک دوسرے کے مقابل آگئے۔ باقی سب لوگوں کے دل دھک دھک کر رہے تھے۔ خاص طور پر محمود، فاروق، فرزانہ اور اکرام کا تو بہت ہی بُرا حال تھا۔ انہیں پرانے زمانے کی وہ لڑائیاں یاد آگئیں جب فوجوں کے جنگ شروع کرنے سے پہلے ایک اور ایک کا مقابلہ ہوتا تھا۔

    وہ سب پلکیں جھپکائے بغیر میدان میں کھڑے دو جنگجو انسانوں کو دیکھ رہے تھے۔ دُور بہت دُور خیالوں میں انہیں ڈھول بجتا محسوس ہوا۔

    ٭….٭….٭


    خوف ناک جنگ

    ”کس چیز سے مقابلہ کرنا پسند کرو گے انسپکٹر؟“ جیرال نے کہا۔

    ”تم ایک بہادر دشمن ہو، میں تمہاری قدر کرتا ہوں اور تم پر چھوڑتا ہوں جس ہتھیار سے بھی مقابلہ کرنا پسند کرو۔“

    ”تو پھر پستول ہی ٹھیک رہیں گے۔“ جیرال نے کہا۔

    ”مجھے منظور ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    جیرال نے اپنی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور دو پستول نکالے۔ پھر ایک انسپکٹر جمشید کی طرف اچھالتے ہوئے بولا۔

    ”سنبھالو انسپکٹر، یہ تمہارا ہی ہے۔ گولیاں چیک کر لو۔ پھر نہ کہنا میں نے تمہیں دھوکا دیا۔“ جیرال نے کہا اور اپنے پستول کی گولیاں چیک کرنے لگا۔ انسپکٹر جمشید نے بھی گولیاں دیکھیں اور بولے:

    ”ٹھیک ہے۔“

    پھر وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے اور کمر سے کمر ملا کر مخالف سمتوں میں قدم اٹھانے لگے۔ لڑائی کے اس طریقے کو ڈوئل کہا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب دو آدمی جھگڑ پڑتے تھے تو اس طرح فیصلہ کرتے تھے کہ کسے زندہ رہنا ہے اور کسے مرنا ہے۔ کمر سے کمر ملا کر دونوں دس قدم مخالف سمتوں میں بڑھتے اور پھر تیزی سے گھومتے ہوئے اپنے مدمقابل پر فائر جھونک دیتے۔ وہ ایک ایک قدم گن رہے تھے۔ ایک ایک قدم پر دوسروں کے دل دھڑک رہے تھے۔ موت اور زندگی کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ صرف چند سیکنڈ میں پھر جونہی دس قدم پورے ہوئے، دونوں ایک ساتھ بجلی کی تیزی سے مڑے اور ایک دوسرے پر فائر کھول دیے۔

    تماشائیوں نے دیکھا، دونوں اپنی پھرتی کی وجہ سے بچ گئے تھے اور بالکل ٹھیک ٹھاک کھڑے تھے۔ انہوں نے حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ شاید انہیں اپنے اپنے نشانے پر یقین تھا۔

    ”یہ کیا ہوا انسپکٹر؟“ جیرال نے کہا۔

    ”ایک ہتھیار بے کار ثابت ہو گیا تو کیا ہوا، کوئی اور ہتھیار سنبھال لو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”بہت خوب! یہ ہوئی نا بات۔ خنجروں کے متعلق کیا خیال ہے؟“

    ”اگر مل سکیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”ہم ہر طرح تیار ہو کر آئے ہیں۔“ جیرال ہنسا، پھر درختوں کی طرف منہ کر کے بولا۔

    ”مسٹر جارج، ہمیں خنجر دے دیں۔“

    جارج اوٹ سے باہر نکل آیا۔ اس کے ہاتھ میں دو خنجر تھے جو دھوپ کی وجہ سے چمک رہے تھے۔ خنجروں کو دیکھ کر ان کے دلوں کی دھڑکن اور بھی تیز ہو گئی۔ جارج نے دونوں خنجر جیرال کو دے دیے۔ جیرال خنجر لے کر آگے بڑھا اور بولا:

    ”لو انسپکٹر، ان میں سے ایک پسند کر لو۔“

    انسپکٹر جمشید نے ایک خنجر اس سے لے لیا۔ دونوں ایک دوسرے سے دو فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔ پہلا وار جیرال نے کیا۔ اس کا ہاتھ ایک دم سر سے اونچا اٹھا تھا۔ پھر انسپکٹر جمشید کے چہرے کی طرف بڑھا۔ انہوں نے پھرتی سے اپنے دائیں ہاتھ پر وار روکا اور خمیدہ ہوکر الگ ہو گئے۔

    ”میں ایک وار کر چکا۔ اب تمہاری باری ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”پہلے تم ہی وار کر لو۔“انسپکٹر جمشید نے اسے دعوت دی۔

    ”نہیں، یہ اصول کے خلاف ہے۔“

    ”اچھا تو وار سنبھالو۔“ انہوں نے ترچھا ہاتھ مارا۔ نشانہ جیرال کے پیٹ کا لیا تھا۔ جیرال اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ ساتھ ہی اس نے ان کے شانے پر وار کیا۔ وہ تیزی سے مڑے اور بائیں ہاتھ سے اس کا خنجر والا ہاتھ کلائی پر سے پکڑ لیا۔ پھر خود اس کے سینے پر وار کیا۔ جیرال نے بھی ان کی کلائی تھام لی۔ اب دونوں خنجروں والے ہاتھوں پر زور صرف کرنے لگے۔ دونوں کی کوشش یہی تھی کہ ان کا خنجر دشمن کی شہ رگ میں اتر جائے لیکن خنجر تھے کہ گردنوں تک پہنچ ہی نہیں رہے تھے۔ کئی سیکنڈ تک زور آزمائی ہوتی رہی۔ آخر جیرال بولا۔

    ”میرا خیال ہے، ہم اس طرح کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔“

    ”پھر کیا کیا جائے؟“

    ”کیوں نہ دست بدست لڑائی لڑ کر فیصلہ کر لیں۔“

    ”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“

    دونوں نے خنجر دور پھینک دیے اور ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ اب وہ اپنے مکّوں اور لاتوں کو استعمال کر رہے تھے۔ انسپکٹر جمشید نے ایک زبردست مکا تان کر اس کی ناک پر مارا۔ وہ نیچے جھک گیا اور مکا اس کے سر پر لگا۔ ساتھ ہی اُس نے انسپکٹر جمشید کی کمر پر ایک زبردست ہاتھ جما دیا۔ وہ بھی تیزی سے مڑے اور اس کے پیٹ میں ٹکر ماری۔ جیرال لڑکھڑا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس کے قدم لڑکھڑائے تھے لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ فوراً ہی وہ سنبھل گیا۔ اب پھر دونوں چٹانوں کی طرح ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔

    ”ویسے میرے دوست، کیا یہ مقابلہ انصاف سے خالی نہیں۔“ اچانک انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا مطلب؟“ جیرال چونکا۔

    ”مطلب یہ کہ میرے اور میرے ساتھیوں کے سروں پر سٹین گنیں چمک رہی ہیں، جب کہ تم اس لحاظ سے آزاد ہو۔“

    ”میں نے بھی اس پر اعتراض کیا تھا، مگر میرا دوست ماسٹر نہیں مانا۔ اس نے کہا تھا کہ اس طرح تم مقابلے پر مجبور ہو جاﺅ گے۔“

    ”خیر کوئی بات نہیں آﺅ۔ ہو جائیں دو دو ہاتھ۔“ انسپکٹر جمشید نے بےپروائی سے کہا۔

    وہ پھر ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ اس مرتبہ دونوں ایک دوسرے پر تابڑتوڑ حملے کر رہے تھے۔ لڑائی لمبی ہوتی جا رہی تھی اور دیکھنے والوں کی بے چینی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ لڑائی کبھی ختم نہیں ہو گی، یہ یونہی جاری رہے گی اور وہ کھڑے کھڑے ختم ہو جائیں گے۔ اچانک جیرال کا ایک مکا انسپکٹر جمشید کے سر پر لگا۔ ان کا سر بری طرح چکرایا، وہ لڑکھڑائے۔ جیرال نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ان پر چھلانگ لگا دی۔ دوسرے ہی لمحے انسپکٹر جمشید اس کے نیچے دبے پڑے تھے۔ فوراً ہی جیرال نے دونوں ہاتھ ان کے گلے پر جمادیے۔ محمود، فاروق ، فرزانہ اور اکرام کو اپنے سانس سینوں میں اٹکتے محسوس ہوئے ان کے حلق خشک ہو گئے۔

    ”انسپکٹر جمشید، آخر تم پھنس ہی گئے، تمہاری موت میرے ہی ہاتھوں لکھی تھی، پھر بھی مجھے اقرار ہے کہ تم بہادر شخص ہو۔ تم نے ان حالات میں بھی جس دلیری سے مقابلہ کیا، اس کی داد دینی پڑتی ہے۔“

    انسپکٹر جمشید کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ انہیں اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔ پیشانی کی رگیں تن گئی تھیں۔ وہ کچھ اس طرح اچانک گرے تھے کہ سنبھل نہیں سکے تھے۔ ورنہ جیرال انہیں اتنی آسانی سے نہیں دبوچ سکتا تھا۔

    ”مجھے حیرت ہے انسپکٹر، آخر تم اپنے ہاتھ پیر کیوں استعمال نہیں کر رہے ہو۔ آرام سے لیٹے ہوئے اپنا گلا کیوں گھٹوا رہے ہو؟“ جیرال نے ہنس کر کہا۔

    اس کے ان الفاظ کے ساتھ ہی انسپکٹر جمشید عجیب سے انداز میں مسکرائے اور بولے:

    ”میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم اس طرح گلا گھونٹ کر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔“

    ”کیا مطلب؟“ جیرال نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا۔

    ”مطلب یہ کہ میں بہت دیر تک اپنا سانس روک سکتا ہوں۔ تم کچھ دیر اور زور لگا لو۔ جب دیکھوں گا کہ تم ناکام ہو چکے ہو اور تمہارا بس نہیں چل رہا ہے تو پھر اپنے ہاتھ اور پیر استعمال کروں گا۔“

    یہ سن کر جیرال ہکا بکا رہ گیا۔ شاید یہ اس کی زندگی کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ تھا۔ ابھی وہ حیران ہی تھا کہ اچانک اس کی گردن پر انسپکٹر جمشید کے ہاتھ کی ہڈی اس زور سے لگی کہ وہ دوسری طرف الٹ گیا۔ ان کی گردن سے اس کے ہاتھ خود بہ خود الگ ہو گئے تھے۔

    فوراً ہی انسپکٹر جمشید اٹھ کھڑے ہوئے مگر جیرال نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی اور ایک بار پھر وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔

    ”جیرال، تم لڑائی کو طول کیوں دے رہے ہو؟ اسے جلدی سے ختم کیوں نہیں کر دیتے۔“ ماسٹر نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”تمہارا کیا خیال ہے ماسٹر، کیا میں انسپکٹر جمشید سے کھیل کھیل رہا ہوں؟ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں۔ اگر میں بین الاقوامی جاسوس ہوں تو ان کی شہرت بھی نہ جانے کتنے ملکوں میں ہے۔ ان سے مقابلہ کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ لوہے کے چنے چبانا ہے۔ میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو کب کا شکست کھا چکا ہوتا۔“

    ”کیا تم انسپکٹر جمشید کے مقابلے میں ہمت ہار بیٹھے ہو؟“ ماسٹر نے پوچھا۔ اس کی آواز میں ناگواری کی جھلک تھی۔

    ”نہیں خیر! یہ بات تو نہیں۔ میں ان سے مقابلہ کروں گا اور انہیں شکست دوں گا۔ یہ مجھے شکست نہیں دے سکتے۔“ البتہ میں اتنا جان چکا ہوں کہ گلا گھونٹ کر میں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

    ”اچھا خدا کے لیے اب اس مصیبت کو ختم کر دو، انسپکٹر جمشید کا جلد از جلد صفایا کرو۔ ہمیں ابھی واپس بھی جانا ہے۔“ ماسٹر نے کہا۔

    ”بہت بہتر۔ ابھی لو۔“ اس نے کہا اور انسپکٹر جمشید سے بولا:

    ”تم نے سن لیا انسپکٹر جمشید میرے ساتھی کس قدر بے چین ہیں۔ انہوں نے مجھے اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے پچیس لاکھ روپے دیے ہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ سچے ہیں۔ پچیس لاکھ انہوں نے کھیل دیکھنے کے تو دیے نہیں۔ اس لیے آﺅ ہم سنجیدگی سے فیصلہ کر لیں۔“

    ”تو کیا تم ابھی تک غیرسنجیدگی سے لڑتے رہے ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔

    ”اور نہیں تو کیا میں تم سے لڑ رہا تھا۔ لڑائی تو دراصل اب شروع ہو گی۔“ جیرال نے ہنس کر کہا۔

    ”بہت خوب، اگر یہ بات ہے تو آﺅ۔ میں تمہاری اصل لڑائی بھی دیکھ لوں۔“

    انہوں نے ایک دوسرے پر چھلانگ لگائی۔ اس مرتبہ ان کے جسم بجلی کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ دیکھنے والے دم بہ خود ہو کر یہ خوف ناک دنگل دیکھ رہے تھے۔ انسپکٹر جمشید نے پوری قوت سے ایک مکا جیرال کی ناک پر مارا۔ جیرال نیچے جھک گیا اور جواب میں انسپکٹر کے پیٹ میں مکا مارا، لیکن دونوں کے وار خالی گئے۔ انسپکٹر جمشید نے اپنی جگہ سے چھلانگ لگائی اور جیرال کے سر کے بالوں کو مٹھی میں پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا مارنا چاہا، لیکن یہ کیا۔ اس کے بال تو ان کے ہاتھ میں آگئے تھے۔ جیرال تو بالکل گنجا تھا۔ اس نے سر پر مصنوعی بالوں کی وِگ لگا رکھی تھی۔

    ”دھت تیرے کی۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا اور وِگ کو زمین پر پٹخ دیا۔ ساتھ ہی جیرال کا ایک ہاتھ ان کے کندھے سے ٹکرایا۔ انہیں یوں محسوس ہوا، جیسے ان کا کندھا جسم سے الگ ہو گیا ہو۔ وہ جھلا گئے اور سر کی ایک ٹکر جیرال کی ٹھوڑی پر دے ماری۔ جیرال کئی قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے ٹھوڑی پکڑ لی۔ چند لمحوں تک دونوں کھڑے ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔ پھر ایک دم ایک دوسرے کی طرف دوڑے اور دونوں کے جسم اس زور سے ٹکرائے کہ جزیرہ گونج اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں دوسری طرف اُلٹ گئے۔ لیٹے لیٹے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے سوچ رہے ہوں، اب کیا کریں۔ کس رُخ سے حملہ کریں۔ آخر انسپکٹر جمشید تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جیرال کو دبوچنے کے لیے آگے جھپٹے۔ جیرال نے لڑھکنیاں کھا کر خود کو ان سے بچایا اور پھر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

    لڑائی طول پکڑ گئی تھی۔ کسی طرح فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ دیکھنے والے انہیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے او رسوچ رہے تھے، نہ جانے اس لڑائی کا کیا انجام ہو گا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں شاید اس قدر خوف ناک لڑائی نہیں دیکھی تھی۔

    وہ پھر ایک دوسرے پر جھپٹ جھپٹ کر حملہ کرنے لگے۔ ابھی تک دونوں میں سے کسی کے چہرے پر غصے کے آثار دکھائی نہیں دیے تھے۔ دونوں مزاج کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے لڑ رہے تھے۔ دیکھنے والوں کی بے چینی کا اب عالم ہی اور تھا۔ وہ پلکیں تک نہیں جھپکا رہے تھے۔ انہیں یوں لگ رہا تھا۔ جیسے یہ لڑائی کبھی ختم نہیں ہو گی، وہ اس لڑائی کو دیکھتے دیکھتے بوڑھے ہو جائیں گے۔ کھڑے کھڑے ختم ہو جائیں گے اور لڑائی پھر بھی جاری رہے گی۔ اچانک نہ جانے کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ انہوں نے صرف اتنا دیکھا کہ انسپکٹر جمشید بلاکی پھرتی سے نیچے جھکے تھے اور پھر ان سب کو جیرال ان کے دونوں ہاتھوں پر نظر آیا۔ ان کے دونوں ہاتھ سر سے اوپر اٹھے ہوئے تھے اور وہ تیزی سے گھوم رہے تھے۔ پھر انہوں نے جیرال کو چھوڑ دیا۔ وہ چکر کھاتا ہوا ایک درخت سے جا ٹکرایا۔ جیرال کی چیخ بہت بھیانک تھی۔ جزیرے کی پرسکون فضا میں ہلچل سی مچ گئی۔

    انہوں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انسپکٹر جمشید کو دیکھا۔ وہ اب بھی ایک چٹان کی مانند کھڑے تھے اور جیرال کو دیکھے جا رہے تھے۔ شاید اس خیال سے کہ ابھی پھر اٹھے گا اور ایک بار پھر ان کے مقابل آکھڑا ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نے اپنی جگہ سے حرکت تک نہ کی۔ آخر انسپکٹر جمشید بولے:

    ”لو ماسٹر! سنبھالو اپنے جیرال کو۔ ہم چلتے ہیں۔“

    ”بہت خوب!“ انسپکٹر جمشید تم نے کمال کر دیا۔“ ماسٹر کے منہ سے نکلا۔

    اچانک وہ سب چونک اٹھے۔ جیرال کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی تھی۔ وہ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آخر وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے گھسٹ کر اس درخت سے ٹیک لگا لی جس سے ٹکرایا تھا۔ اس کے چہرے پر اس عالم میں بھی ایک مسکراہٹ تھی، لیکن یہ مسکراہٹ شکست خوردہ سی تھی۔ اس نے تھکی تھکی سی آواز میں کہا۔

    ”تمہیں مبارک ہو انسپکٹر، تم جیت گئے اور میں ہار گیا۔ یہ میری زندگی کی پہلی شکست ہے۔ میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے شکست نہیں کھائی تھی، لیکن مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں ہے کیوں کہ دو بہادر جب لڑتے ہیں تو ان میں سے ایک ہارا ہی کرتا ہے۔ ویسے میں تمہارے اس کمال کی داد دیتا ہوں۔ تم نے مجھے بالکل ایک کھلونے کے مانند اٹھا لیا تھا۔ شاید میری ریڑھ کی ہڈی پر ضرب آئی ہے۔“

    ”مجھے افسوس ہے جیرال۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”اس میں افسوس کی کیا بات ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔“

    ”بہادر دشمن جب شکست کھاتا ہے تو جیتنے والے کو خوشی کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا کرتا ہے۔“

    ”اب تم آزاد ہو انسپکٹر۔ تمہارے بچے بھی آزاد ہیں۔ تم لوگ جا سکتے ہو۔ ہمارا یہ منصوبہ ناکام رہا۔ میرے پچیس لاکھ بھی گئے۔“

    ”اچھا دوست! اگر زندگی رہی تو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی مقام پر تم سے پھر ملاقات ہو گی۔“ انہوں نے کہا اور اکرام، محمود، فاروق اور فرزانہ کی طرف مڑے۔

    ”آﺅ بھئی چلیں۔ اچھا ماسٹر خداحافظ۔“

    ”ٹھہرو انسپکٹر جمشید۔“ ماسٹر کے منہ سے نکلا۔ اس کے لہجے میں نہ جانے کیا تھا کہ انسپکٹر جمشید چونک اٹھے۔

    جونہی وہ ماسٹر کی طرف مڑے، دھک سے رہ گئے۔ اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا پستول چمک رہا تھا۔

    ”تم اتنی آسانی سے نہیں جا سکتے۔“ اس نے سانپ کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔

    ”کیا مطلب؟“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”مطلب یہ کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تم جیرال کو شکست دے دو گے۔ ہم نے تو یہی سوچا تھا کہ تم اس کے ہاتھوں مارے جاﺅ گے۔ یہی ہمارا مقصد بھی تھا۔ اب جب کہ جیرال شکست کھا چکا ہے۔ ہم تمہیں کیسے جانے دیں۔ اس منصوبے پر ہم نے نہ جانے کتنا روپیہ خرچ کیا ہے۔ آبدوز کرائے پر لی۔ یہاں تک آنے پر اخراجات کیے۔ معلومات حاصل کیں۔ کار کرائے پر لی۔ ان حالات میں بھلا ہم تمہیں کیسے جانے دے سکتے ہیں۔ ہمیں تو تمہاری لاش کی ضرورت ہے۔ ماسٹر کہتا چلا گیا۔

    ”ماسٹر، یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ جیرال نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔

    ”یہ اصول کے خلاف ہے۔“

    ”تم خاموش رہو جیرال۔ تمہاری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے، اب تم بے کار ہو چکے ہو۔“ ماسٹر نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

    ”کچھ بھی ہو۔ میں یہ بے قاعدگی برداشت نہیں کر سکتا۔ انسپکٹر جمشید نے مجھ پر فتح پائی ہے، اسے جانے دیا جائے۔“ اس نے گرج کر کہا۔

    ”یہ نہیں ہو سکتا۔“ ماسٹر نے بھی چلا کر کہا۔ 

    ”جارج اس کی جیب میں سے پستول نکال لو۔“

    جارج نے آگے بڑھ کر جیرال کی جیب سے پستول نکال لیا۔ ماسٹر نے یہ دیکھ کر کہا۔

    ”بس ، اب منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکالنا، ورنہ گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جائے گی۔“

    ”تم پچھتاﺅ گے ماسٹر، جمشید اگر میرے ہاتھ نہیں آیا تو تم بھی اس پر قابو نہیں پا سکو گے۔“

    ”یہ ہمارا اور انسپکٹر کا معاملہ ہے، تم چپ رہو۔ جارج اگر اب یہ بولنے کی کوشش کرے تو اس کے سر پر پستول کا دستہ دے مارنا۔“ ماسٹر نے جارج کو حکم دیا۔

    ”بہت اچھا جناب۔“ اس نے کہا اور جا کر جیرال کے سر پر کھڑا ہو گیا۔

    جیرال نے انہیں گھور کر دیکھا اور پھر نفرت سے منہ دوسری طرف کر لیا۔

    ”ہاں تو انسپکٹر جمشید، اب تم اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو۔ اور تم بھی۔“ اس نے اکرام اور بچوں سے کہا۔ ان کے ہاتھ اوپر اٹھ گئے۔

    ٭….٭….٭

    بوڑھے کی آمد

    ماسٹر، اگر میں زندہ رہا اور تندرست ہو گیا، تو تم سے اس بدعہدی کا انتقام ضرور لوں گا۔“ جیرال بولے بغیر نہ رہ سکا۔

    جارج نے جب یہ دیکھا کہ وہ بولے بغیر نہیں رہ سکتا تو پستول کا دستہ اس کے سر پر دے مارا۔ انہوں نے دیکھا جیرال بے ہوش ہو گیا اور زمین پر گر گیا تھا۔

    ”تم نے بہت اچھا کیا جارج، یہ یوں خاموش رہنے والا نہیں تھا۔ ماسٹر نے کہا، پھر اپنے دونوں ساتھیوں سے بولا۔

    ”اب ان لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے؟“

    ”ہم ساحل سے بہت دور ہیں۔ فائر کی آوازیں شاید ہی ساحل تک جا سکیں گی۔ اس لیے انہیں ختم کرنا ہی مناسب رہے گا۔“ ایک غیرملکی نے مشورہ دیا۔

    ”ہارڈی ٹھیک کہتا ہے۔“ تیسرا بولا۔

    ”جارج! تم کیا کہتے ہو؟“ اس نے جارج سے پوچھا۔

    ”اب یہ لوگ ہمارے ہتھے چڑھ ہی گئے ہیں تو پھر انہیں چھوڑا کیوں جائے۔ زندہ لے جانے کی صورت میں اور بھی خطرات ہیں۔ اس لیے ختم کرنا ہی مناسب رہے گا۔“ جارج بولا۔

    ”میرا ووٹ بھی تمہاری طرف ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چاروں کی ایک ہی رائے ہے اور وہ یہ کہ دشمنوں کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ ویسے بھی ان کی وجہ سے ہمارے ملک کے بہت سے جاسوس گرفتار ہوئے ہیں اور ہمیں زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیرال کا کیا کیا جائے؟“ ماسٹر نے یہ کہہ کر اپنے تینوں ساتھیوں کو دیکھا۔

    ”گریگری سے پوچھو، یہ زیادہ صحیح مشورہ دے گا۔“ جارج نے چوتھے آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

    ”میرا تو خیال ہے، جیرال کو ہم زندہ چھوڑ جائیں اور جاتے ہوئے ایک سٹین گن بھی اس کے ہاتھوں میں چھوڑ جائیں تاکہ جب انسپکٹر جمشید اور اس کے ساتھیوں کو تلاش کرتے ہوئے پولیس یا محکمہ سراغرسانی کے لوگ یہاں پہنچیں تو یہی خیال کیا جائے کہ جیرال نے ان سب کو مار ڈالا۔“

    ”بہت خوب، بہت اچھی ترکیب ہے۔ جواب نہیں۔“ ماسٹر نے خوشی کا اظہار کیا۔

    ”ٹھیک ہے۔ اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے۔“

    ماسٹر! مجھے افسوس ہے، تم اپنے اس پلان پر عمل نہیں کر سکو گے۔“ اچانک انہیں انسپکٹر جمشید کی آواز سنائی دی۔

    وہ چونک اٹھے۔ انہوں نے دیکھا، ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر انسپکٹر جمشید نے اپنا پستول جیب سے نکال لیا تھا۔ شاید درختوں پر موجود سٹین گنوں والے بھی ان کی طرف سے بے فکر تھے۔ ان کا خیال ہو گا کہ چار سٹین گنوں اور ایک پستول کی موجودگی میں انسپکٹر جمشید پستول نکالنے کی جرا¿ت نہیں کریں گے۔ لیکن وہ تو میدان کے بیچوں بیچ پستول تانے کھڑے تھے اور ان کے پستول کا رخ ماسٹر کی طرف تھا۔

    ”یہ کیا بات ہوئی؟“ ماسٹر نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔

    ”بھلا تم ایک پستول سے کیا کر سکو گے۔“

    ”تم مجھے نہیں جانتے ماسٹر، لیکن جیرال مجھ سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس نے بہادری کا ثبوت دیا اور میں نے بھی اس سے کوئی دھوکا یا چالاکی کرنے کی کوشش نہیں کی، اب تم نے دھوکا دیا ہے تو میں نے بھی دھوکے سے یہ پستول نکال لیا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ میں ایک پستول سے کیا کر سکتا ہوں، اس کا نمونہ میں تمہیں دکھاتا ہوں۔

    ان الفاظ کے ساتھ ہی وہ ایک پیر پر تیزی سے گھوم گئے۔ ساتھ ہی ان کے پستول سے چار گولیاں نکلیں۔ چکر پورا کرتے ہی پانچویں گولی ماسٹر کے ہاتھ پر لگی۔ اس کے ہاتھ سے پستول چھوٹ کر دور جا گرا۔ فوراً ہی فضا چیخوں سے لرز اٹھی۔ درختوں پر سے سٹین گنوں والے دھم دھم کر کے گرنے لگے۔ وہ چاروں اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور یہ سب کچھ صرف چند سیکنڈوں کے اندر اندر ہو گیا۔

    ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے ایسا منظر شاید اپنی ساری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ ماسٹر کے ہاتھ سے خون ٹپ ٹپ گرنے لگا، لیکن کسی نے اپنی جگہ سے جنبش نہ کی۔ بتوں کے مانند کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

    ”اکرام!“ ان کی سٹین گنیں اور پستول سمیٹ کر ایک طرف ڈھیر کر دو اور انہیں باندھ لو۔“

    ”بہت بہتر جناب۔“ اکرام نے خوش ہو کر کہا۔ اس کے چہرے پر زندگی دوڑ گئی تھی۔

    اس نے جلدی جلدی سٹین گنیں اور اکٹھے کیے اور انسپکٹر جمشید کے نزدیک ایک درخت کے نیچے رکھے پھر جیب سے ریشم کی ڈوری نکال کر انہیں باندھنے لگا۔

    ”اگر کسی نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو گولی اس کے سر کے پار ہو گی۔“

    انسپکٹر جمشید نے انہیں دھمکی دی۔ لیکن شاید ان میں سے کسی میں حرکت کرنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔ صرف چند منٹ میں اکرام نے انہیں باندھ ڈالا۔ اس نے نہ صرف ان کے ہاتھ پشت کی طرف باندھے تھے بلکہ ان کے پیر بھی باندھ دیے تھے۔ انسپکٹر جمشید نے پستول جیب میں رکھ لیا۔

    ”اب تم جا کر موٹربوٹ والے بوڑھے آدمی کو بلا لاﺅ تاکہ ہم اس کی مدد سے یہ سارا سامان موٹربوٹ پر لاد سکیں۔ “ انہوں نے ماسٹر، اس کے ساتھیوں اور اسلحے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

    ”بہت بہتر جناب۔“ اکرام نے کہا اور ساحل کی طرف چلنے کے لیے قدم اٹھائے ہی تھے کہ آواز آئی:

    ”میں آگیا ہوں۔ اور کافی دیر سے یہ سارا کھیل دیکھ رہا ہوں۔“

    انہوں نے مڑ کر دیکھا، بوڑھا ایک درخت کے پیچھے سے نکل کر ان کی طرف آرہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے کہ اس کے ہاتھ میں بھی ایک پستول تھا۔

    ٭….٭….٭

    وہ اس کے ہاتھ میں پکڑے پستول کا مطلب نہ سمجھ سکے۔ نہ صرف انسپکٹر جمشید اور ان کے ساتھی بلکہ ماسٹر اور اس کے ساتھی بھی بوڑھے کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اتنی دیر میں وہ نزدیک آچکا تھا۔ اس نے کہا:

    ”میں پہلے ہی جانتا تھا، نالائق گدھو۔ کہ تم اسے گرفتار نہیں کر سکو گے۔“

    ”کیا مطلب؟ کون ہو تم؟“ ماسٹر نے پھنکار کر کہا۔

    ”الّو کے پٹھے، میں ہوں تمہارا باپ۔“ ان الفاظ کے ساتھ ہی بوڑھے نے اپنی ڈاڑھی اتار پھینکی۔ اب ان کے سامنے ایک نوجوان آدمی کھڑا تھا۔ جس کی نیلی آنکھیں انہیں گھور رہی تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی ماسٹر اور اس کے ساتھی تھر تھر کانپنے لگے۔ انسپکٹر جمشید کی آنکھوں میں بھی حیرت تھی۔

    ”آ۔ آپ۔ آپ۔“ماسٹر ہکلایا۔

    ”ہاں! گدھے یہ میں ہوں۔ اس منصوبے کی منظوری دیتے وقت بھی میں نے تم سے کہا تھا، تم کامیاب نہیں ہو سکے گے، مگر تم نہ مانے۔ تم نے کہا۔ جیرال کا بنایا ہوا منصوبہ ناکام نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھ لو، وہ پڑا ہے جیرال اور تم اپنے چار ساتھی بھی گنوا بیٹھے۔ میں نہ آجاتا، تو تمہارا حشر بھی بُرا ہوتا۔“

    وہ سب غیرملکی تھے مگر انہیں صاف اُردو بولتے دیکھ کر انہیں حیرت ہو رہی تھی۔ اچانک انسپکٹر جمشید چونک اٹھے۔ فرزانہ جس درخت کے پاس کھڑی تھی، اسی پر چڑھ رہی تھی۔ اس طرح کہ وہ درخت کے دوسری طرف ہو گئی تھی۔ انہوں نے ایک دم نظریں اِدھر سے ہٹا لیں کہ کہیں نئے آنے والے کی نظر نہ پڑ جائے۔

    ”میرے آقا، ہمیں معاف کر دیں۔“ ماسٹر نے روتی صورت بناتے ہوئے کہا۔

    ”یہ تو بعد میں دیکھا جائے گا۔ پہلے تمہیں کھول تو دوں، لیکن نہیں یہ کام تو میں انسپکٹر جمشید سے بھی لے سکتا ہوں۔ انسپکٹر مجھ سے ملو۔ میں ہوں اپنے ملک کے محکمہ سراغرسانی کا سربراہ۔ مجھے ڈاکٹر فاران کہتے ہیں۔ اب مہربانی فرما کر میرے ساتھیوں کو کھول دو۔“

    ”لیکن تمہیں موٹربوٹ کہاں سے مل گئی؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”میں نے پورے دن کے لیے کرائے پر لے رکھی ہے۔ ضمانت کے طور پر غیرملکی نوٹوں کا ایک سوٹ کیس رکھوایا ہے۔ فکر نہ کرو، ایسے کام ہم کرتے رہتے ہیں۔ جیرال نے بھی تو کار حاصل کر لی تھی۔ وہ بھی کرائے کی تھی۔“

    ”بہت خوب، تو ان کے ساتھ تم بھی آئے تھے۔“

    ”ہاں! میں جانتا تھا، تم ان پر چھا جاﺅ گے۔ میں تمہارے کام کرنے کے طریقوں سے واقف ہوں۔ چلو، اب میرے ساتھیوں کو کھول دو۔“

    مجبور ہو کر انسپکٹر جمشید اور اکرام نے اس کے ساتھیوں کو کھول دیا۔ اچانک ڈاکٹر فاران چونکا:

    ”ارے! وہ لڑکی کہاں گئی؟“

    سب نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن فرزانہ انہیں کہیں بھی دکھائی نہ دی۔ صرف انسپکٹر جمشید، محمود اور فاروق کو معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے۔

    ”کون سی لڑکی؟“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”تمہاری بیٹی، ابھی ابھی تو یہیں تھی۔ اوہ، ماسٹر جزیرے کا چپہ چپہ چھان مارو۔ وہ جہاں بھی نظر آئے اسے پکڑ لاﺅ، کہیں کوئی گڑبڑنہ کر بیٹھے۔ دیکھو، ان لوگوں کو میں اپنے ملک میں زندہ لے جانا چاہتا ہوں۔“

    ”جی۔ جی بہت اچھا۔“ ماسٹر نے کہا اور اپنے تینوں ساتھیوں کے ساتھ دوڑتا چلا گیا۔

    ”کیا وہ لڑکی تیرنا جانتی ہے؟“ ڈاکٹر فاران نے پوچھا۔

    ”ہاں! بہترین تیراک ہے۔“

    ”تب تو شاید وہ سمندر میں کود بھی گئی ہو۔ افسوس میں اپنے آدمیوں پر برسنے کے شوق میں مار کھا گیا۔“

    ”تم اپنے آدمیوں کو فضول ہی گدھا اور الّو کا پٹھا کہہ رہے تھے۔“ انسپکٹر جمشید نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

    ”ابا جان! کیا ہم بھی فرزانہ کو ڈھونڈیں جا کر۔“ فاروق نے اچانک سوال کیا۔

    ”بیٹا! ڈاکٹر صاحب سے اجازت لے لو۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ اس وقت تو حالات کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے۔“

    ”خبردار! تم اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کرو گے۔“ ڈاکٹر غرایا۔

    ”لیکن فرزانہ کو تو آپ نے منع نہیں کیا۔“ محمود نے کہا۔

    ”مجھے پتا ہی نہ چلا کہ وہ کب کھسک گئی۔ ویسے تم نے اسے کھسکتے دیکھا ہو گا۔“ ڈاکٹر فاران نے کہا۔

    ”ہاں! دیکھا ہے۔ دیکھا کیوں نہیں۔“ فاروق مسکرایا۔

    ”جلدی بتاﺅ! وہ کس طرف گئی ہے؟“

    ”افسوس! میں نہیں بتا سکتا۔“ فاروق بولا۔

    ”کیوں! بتا کیوں نہیں سکتے؟“

    ”اس کے لیے مجھے ابا جان سے اجازت لینا ہو گی۔ آپ اجازت دلوا دیں۔“

    ”یہ کیا بکواس ہے۔“ اس نے جھلا کر کہا۔

    ”اگر یہ بکواس ہے تو نہ سنیں۔ اپنے کان بند کر لیں۔ کیا خیال ہے محمود۔ تم میری بکواس سننا پسند کرو گے۔“

    ”بکواس کیوں ہوتی۔ تمہاری باتیں تو بہت ہی پیاری ہوتی ہیں۔ ارے، وہ رہی فرزانہ۔“

    جملہ کہتے کہتے وہ اچانک چلا اٹھا۔ ہاتھ سے ایک طرف اشارہ بھی کیا تھا۔ ڈاکٹر فاران چونک کر اس طرف مڑا۔ یہی موقع تھا کام کرنے کا۔ انسپکٹر جمشید نے اس پر چھلانگ لگا دی۔ دونوں دھڑام سے زمین پر آرہے۔ ڈاکٹر کے ہاتھ سے پستول چھوٹ گیا۔ گرتے گرتے ڈاکٹر فاران اکرام سے ٹکرایا، اکرام کا سر ایک درخت سے لگا اور وہ ہائے کر کے بیٹھ گیا۔ اسے چکر آگیا تھا۔

    ”محمود، پستول اٹھا لو۔“انسپکٹر جمشید چلائے۔ اسی وقت ڈاکٹر فاران زمین سے اٹھ کر پستول کی طرف لپکا۔ محمود نے بھی اپنی جگہ سے دوڑ لگائی، مگر ڈاکٹر فاران اس سے پہلے پستول تک پہنچ چکا تھا۔ وہ تیزی سے اسے اٹھانے کے لیے جھکا، مگر دوسرے ہی لمحے محمود کی ٹھوکر پستول پر پڑی۔ وہ گھسٹتا ہوا فاروق کی طرف گیا۔ اس نے جھک کر اٹھانا چاہا، لیکن ڈاکٹر فاران کی لات اس کی کمر پر لگی اور وہ اوندھے منہ گرا۔ اتنے میں انسپکٹر جمشید سنبھل چکے تھے، وہ ڈاکٹر فاران کے راستے میں آگئے۔ چاروں بُری طرح ہانپ رہے تھے۔ اچانک فاران نے جھکائی دی اور ایک طرف بھاگ نکلا۔ وہ بوکھلا اٹھے۔ اس کا رخ اس درخت کی طرف تھا جس کے نیچے اکرام نے اسلحہ رکھا تھا۔ ڈاکٹر فاران کے راستے میں اکرام سر پکڑے ابھی تک بیٹھا تھا۔

    ”اکرام ہوشیار۔“ انسپکٹر جمشید چلائے۔

    اکرام نے چونک کر اوپر دیکھا۔ ڈاکٹر فاران طوفان کی طرح دوڑتا ہوا اس کے پاس سے گزرا۔ اکرام نے فوراً ٹانگ اڑا دی۔ وہ منہ کے بل زمین پر گرا۔ اکرام نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، اس کی کمر پر سوار ہو گیا، لیکن یہی اس کی غلطی تھی۔ دوسرے ہی لمحے وہ کئی فٹ اونچا اچھل گیا اور ایک بار پھر ایک درخت سے ٹکرایا۔ اس مرتبہ وہ مکمل طور پر بے ہوش ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر فاران پھر اٹھا اور درخت کی طرف لپکا۔ اتنی دیر میں انسپکٹر جمشید پستول اٹھا چکے تھے۔ مجبور ہو کر انہوں نے فائر ڈاکٹر فاران کی ٹانگوں میں جھونک مارا۔ اس کے حلق سے ایک ہولناک چیخ نکلی اور اسلحے سے چند گز دور وہ زمین پرتڑپنے لگا۔ اس عالم میں بھی اس نے اسلحہ اٹھا لینا چاہا، مگر وہ ابھی چند گز کے فاصلے پر تھا۔ اس کی ٹانگ سے خون بہ رہا تھا اور اس کے لیے گھسٹنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ فائر کی آواز پورے جزیرے میں گونجی تھی۔ فوراً ہی انہوں نے دوڑتے قدموں کی آواز سنی۔ ڈاکٹر فاران کے ساتھی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے واپس آرہے تھے۔

    ٭….٭….٭


    جزیرے سے واپسی

    ماسٹر اور اس کے ساتھی دوڑتے ہوئے وہاں آئے اور پھر ڈاکٹر فاران کو تڑپتے دیکھ کر بھونچکے رہ گئے۔ ڈاکٹر فاران ابھی تک اسلحے کو پکڑنے کے لیے تگ و دو کر رہا تھا۔

    ”یہ کیا ہوا؟“ ماسٹر کے منہ سے نکلا۔

    ”کیوں کیا تمہاری نظر کمزور ہے۔ دیکھ نہیں رہے، تمہارا آقا پڑا تڑپ رہا ہے۔“ فاروق نے کہا۔

    ”اوہ، کیا تم نے انہیں گولی مار دی؟“ اس نے بوکھلا کر کہا۔

    ”صرف ٹانگوں پر۔ میرا خیال ہے، اس کی دائیں پنڈلی اڑ گئی ہے۔“

    ”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”اب کیا ہو گا؟“ ہارڈی نے پوچھا۔

    ”وہی ہو گا جو تم ہمارے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔ پہلے تم ہمیں اپنے ملک کی سیر کرانا چاہتے تھے، اب ہم تمہیں سیر کرانا چاہتے ہیں، اب ہم تمہیں اپنے ملک میں گھمائیں گے اور نئی نئی چیزیں کھلائیں گے۔ فکر نہ کرو۔ ہمارے ملک میں قابل دید مقامات بہت ہیں۔“ فاروق کہہ رہا تھا۔

    ”آخر یہ سب ہوا کیسے؟“ ماسٹر اب تک حیرت زدہ تھا۔“ پستول تو آقا کے ہاتھ میں تھا۔

    ”بس کیا بتائیں، کبھی کبھی میری عقل خراب ہو جاتی ہے۔ الٹا سیدھا بول پڑتا ہوں۔ اچانک کہہ بیٹھا، ارے وہ رہی فرزانہ۔ بس یہ حضرت بھی ایک ہی الّو نکلے۔ فوراً پلٹ کر دیکھ لیا۔ اب ہم اتنے بے وقوف بھی نہیں تھے کہ یہ پلٹ کر دیکھتے اور ہم کھڑے ان کا منہ دیکھتے رہتے۔ بس چھلانگ لگا دی ان پر۔ انہوں نے چالاکی دکھانے کی کوشش کی اور گرا ہوا پستول اٹھانا چاہا، ہم نے پستول کو فٹ بال کی گیند سمجھ لیا۔ جب وہ ان کے ہاتھ نہ لگا، تو یہ حضرت اس درخت کی طرف بڑھے۔ وہ دیکھ رہے ہیں نا آپ جہاں اب اکرام صاحب بیٹھے ہیں۔ ”سٹین گنوں پر۔“ اس طرح جیسے یہ گوریلے ہوں۔ ہاں تو آپ کے آقا اس طرف بڑھے۔ اب اگر یہ وہاں سے سٹین گن اٹھا لیتے تو شاید ان کی جگہ ہم پڑے تڑپ رہے ہوتے، اس لیے مجبوراً ایک عدد گولی چلانا پڑی جس کے لیے ہم معافی چاہتے ہیں۔“ فاروق نے اچھی بھلی تقریر جھاڑ دی

    ”اُف خدا، اب کیا ہو گا؟“

    ”ڈرتے کیوں ہو بھائی، وہی ہو گا جو منظورِ خدا ہو گا۔“

    ”حیرت تو یہ ہے کہ تمہاری بہن کہاں چلی گئی۔“

    ”وہ اگر غائب نہ ہوتی یہ سب کچھ کیسے ہوتا۔ اس کے غائب ہونے میں بھی بڑی برکت ہے۔ جب بھی غائب ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی کارنامہ ضرور انجام پا جاتا ہے۔ یوں وہ بہت بڑی جادوگرنی بھی ہے۔ اگر تم آنکھیں بند کر لو تو ابھی حاضر ہو جائے گی۔“ فاروق مذاق اڑانے والے لہجے میں بولے جا رہا تھا۔

    ”میرا خیال ہے فاروق، تم وقت ضائع کر رہے ہو۔ اب ہمیں ان لوگوں کو بالکل مہلت نہیں دینی چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”جی بہت بہتر۔ فرمائیے، اب ہم کیا کریں؟“

    اکرام اور تم دونوں مل کر ان کے ہاتھ پشت کی طرف باندھ دو۔ پیر نہ باندھنا۔ تاکہ یہ اپنے پیروں پر چل کر موٹربوٹ تک جا سکیں۔“

    ”لیکن ابا جان! اب موٹربوٹ کون چلائے گا۔ بڑے میاں تو آقا میں تبدیل ہو چکے ہیں۔“ فاروق نے سوال کیا اور سب ہنس پڑے۔

    ”وقتی طور پر میں بڑے میاں بن جاﺅں گا۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”ارے، تو کیا آپ کو موٹربوٹ چلانا آتا ہے؟“ محمود نے حیران ہو کر کہا۔

    ”بہت اچھی طرح۔ ابھی تم اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لو گے۔“

    ”پھر تو مزہ آگیا۔“

    انہوں نے ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ پشت کی طرف باندھ دیے۔ ڈاکٹر فاران کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اگرچہ وہ زخمی ہو چکا تھا، لیکن اس کے ہاتھ بھی باندھ دیے گئے۔ انسپکٹر جمشید کی ہدایت پر اکرام نے اس کی ٹانگ پر دو تین رومال لپیٹ دیے۔

    ”پہلے ان سب کو لے کر موٹربوٹ میں لٹا دو اور ان کے پیر بھی باندھ دو۔ اس کے بعد ہم ان لاشوں کو اٹھا لیں گے۔ “ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کو موٹربوٹ پر لایا گیا۔ پھر انہیں لٹا کر ان کے پیر جکڑ دیے گئے۔ محمود نے اسی پر ہی بس نہیں کیا، ان سب کے گرد بھی رسی لپیٹ دی۔

    ”بنڈل تیار ہے۔“ اس نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔

    وہ واپس جزیرے کے درمیان پہنچے۔ محمود نے اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”فرزانہ! اب تم بھی نیچے آجاﺅ۔ بس ہم یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔“

    فرزانہ کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا، تو انہوں نے چونک کر اس درخت کی طرف غور سے دیکھا اور پھر وہ دھک سے رہ گئے۔ وہاں فرزانہ نہیں تھی۔

    ”فرزانہ! تم کہاں ہو؟“ انسپکٹر جمشید پوری قوت سے چلائے۔ پھر ان کی نظر اس درخت پر پڑی جس کے پاس جیرال پہلے بے ہوش پڑا تھا۔ یہ دیکھ کران کی سٹی گم ہو گئی کہ جیرال اب وہاں نہیں تھا۔

    ”اوہ۔ وہ فرزانہ کو لے گیا۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا پھر وہ ساحل کی اس سمت میں دوڑ پڑے جس طرف دشمنوں کی موٹر بوٹ کھڑی نظر آئی تھی۔

    وہ سب بے تحاشا بھاگ رہے تھے۔ ان کے دل دھک دھک کر رہے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر جیرال فرزانہ کو لے جانے میں کامیاب ہو گیا، تو اس وقت تک کے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ وہ بیگم جمشید کو کیا منہ دکھائیں گے۔ کس منہ سے انہیں بتائیں گے کہ وہ فرزانہ کو ساتھ نہیں لا سکے۔

    دوڑتے دوڑتے ان کے سانس پھول گئے، لیکن ان کی رفتار میں کوئی کمی نہ آئی۔ آخر وہ ساحل پر پہنچ گئے۔ اچانک وہ سب پرسکون ہو گئے۔ فرزانہ ساحل پر کھڑی تھی اور ساحل پر جو موٹربوٹ کھڑی تھی، اب تیزی سے سمندر میں چلی جا رہی تھی، لیکن ابھی موٹربوٹ زیادہ دور نہیں گئی تھی۔ اسے جیرال چلا رہا تھا۔

    جیرال، رک جاﺅ! ورنہ میں تمہیں گولی مار دوں گا۔“ انسپکٹر جمشید پوری قوت سے چلائے۔

    جیرال نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ انسپکٹر جمشید پستول تانے کھڑے تھے اور وہ ان کے نشانے کی زد میں تھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا، پھر مسکرا کر بولا:

    ”انسپکٹر جمشید، تم بھی بہادر ہو اور میں بھی۔ میرا اور تمہارا مقابلہ کسی اور میدان میں بہت جلد ہو گا۔ ویسے اگر تم بزدلوں کی طرح مجھ پر وار کرنا ہی چاہتے ہو تو میں بھی رکوں گا نہیں، تم گولی چلانا چاہتے ہو، ضرور چلاﺅ۔ بہادری کی روایات کو توڑنا چاہتے ہو، بڑی خوشی سے توڑو۔ میں رکنے والا نہیں۔“

    انسپکٹر جمشید کی انگلی کا دباﺅ پستول کے ٹریگر پر دبتا چلا گیا، لیکن پھر اچانک انہوں نے انگلی ہٹا لی۔ ان کا پستول والا ہاتھ نیچے جھکتا چلا گیا۔

    ”میں جانتا تھا انسپکٹر جمشید، تم بہادر ہو۔ تم گولی نہیں چلا سکتے۔“

    ”لیکن یہ بھی سن لو! تمہاری ذات سے اس وقت میرے ملک اور قوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہی وجہ ہے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ اگر ملک کی آن پر حرف بھی آیا ہوتا تو تم بچ کر نہیں جا سکتے تھے۔ آئندہ بھی اگر تم یہاں آئے اور میرے وطن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں تم پر فائر کرتے وقت یہ ہرگز نہیں سوچوں گا کہ میرا اقدام بہادری کی تعریف میں آتا ہے یا نہیں۔“ انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔

    ”شکریہ دوست، میں ایک بار پھر آﺅں گا۔ اس وقت میرے سامنے کیا مقصد ہو گا۔ یہ میں اس وقت خود بھی نہیں جانتا۔ ہاں، اتنا ضرور کہوں گا، آج کے بعد میں ماسٹر کے ملک سے کوئی سروکار نہیں رکھوں گا۔ ان کا کوئی کام نہیں کروں گا۔ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اچھا خداحافظ۔“

    اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ ان میں سے کسی کا ہاتھ اسے الوداع کہنے کے لیے نہ اٹھ سکا۔ کچھ بھی ہو، وہ ایک دشمن تھا۔ دشمن ملک کے اشارے پر ان کے مقابلے میں آسکتا تھا۔ وہ کس طرح ہاتھ ہلا کر اسے رخصت کر سکتے تھے۔ موٹربوٹ لمحہ بہ لمحہ ان سے دور ہوتی جا رہی تھی۔ وہ جیرال کا ہاتھ ابھی تک ہلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اسی وقت اکرام نے کہا:

    ”کیا ہم اس کا تعاقب نہیں کر سکتے؟“

    ”نہیں، میں اسے گرفتار نہیں کرنا چاہتا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”یوں بھی اس کے پاس جو موٹربوٹ ہے وہ آبدوز بھی ہے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”یہ تمہیں کس نے بتایا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”جیرال نے۔ جب وہ ہمیں اغوا کر کے لا رہا تھا۔“

    ”ارے ہاں!“ فرزانہ تم بتاﺅ۔ تمہارے ساتھ کیا ماجرا پیش آیا۔

    ہم تو یہ سمجھے تھے کہ جیرال تمہیں اغوا کر کے لے جا رہا ہے۔ اسی لیے تو ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس طرف بھاگے تھے۔“ محمود بولا۔

    ”مجھے افسوس ہے ابا جان۔“

    ”کیا مطلب، تمہیں کس بات پر افسوس ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے چونک کر کہا۔

    ”جب آپ لوگ ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کو ساتھ لے کر جا رہے تھے تو میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ آپ نظروں سے اوجھل ہوئے تو میں مڑی اور اس وقت میں نے دیکھا، جیرال اٹھ کر بھاگا جا رہا تھا میں نے فوراً درخت پر سے چھلانگ لگا دی اور اس کے پیچھے بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا اور پھر اور بھی تیز دوڑنے لگا۔ بھاگتے بھاگتے ہم ساحل پر پہنچ گئے۔ جب میں یہاں پہنچی تو وہ موٹربوٹ پر بیٹھ چکا تھا اور اسے سٹارٹ کر چکا تھا۔ میرے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔ اس نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور ابا جان آپ جانتے ہیں، اس نے کیا کہا تھا؟“

    فرزانہ کہتے رُک گئی۔ اس وقت اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے۔

    ”کیا کہا تھا؟“ انسپکٹر جمشید نے پرسکون آواز میں کہا۔

    ”اس نے کہا تھا، میں تم لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں، جب تمہارے والد نے مجھے اٹھا کر پھینک مارا تھا تو میں سمجھا تھا کہ میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، لیکن بعد میں جب مجھے ہوش آیا تو میں نے محسوس کیا، ریڑھ کی ہڈی محفوظ ہے۔ اپنے والد سے میرا سلام کہنا۔ زندگی رہی تو تم سے پھر ملاقات ہو گی اور اس مرتبہ میں بھی کسی کو ہاتھوں پر اٹھا کر پھینک مارنے کا گُر سیکھ کر آﺅں گا۔“

    یہ کہہ کر فرزانہ خاموش ہو گئی۔ محمود نے اس کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔

    ”لیکن تمہیں افسوس کس بات پر ہے؟“

    ”اس پر کہ میں جیرال کو پکڑ نہ سکی۔“

    ”شکر کرو۔ تم اس سے بھڑ نہیں گئیں۔ بھلا وہ تمہارے قابو میں آنے والا تھا۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

    ”شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔“ فرزانہ نے بھی مسکرا کر کہا۔

    سمندر میں موٹربوٹ اب ایک دھبے کے مانند دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے سوچا، جیرال اب تک ان کی طرف دیکھ دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا ہو گا اور آخر وہ دھبا بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

    ”آﺅ چلیں۔“

    انسپکٹر جمشید نے کہا اور وہ سب چونک کر مڑے۔ لاشیں اُٹھانے، اسلحہ اور دوسرا سامان موٹربوٹ تک پہنچانے میں انہیں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ جب وہ گھر کے لیے روانہ ہوئے تو دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ ہنگامہ خیز یہ دن ڈھل رہا تھا اور وہ واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ جب سب لوگ موٹربوٹ میں بیٹھ گئے تو انسپکٹر جمشید ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھے۔

    اس وقت انہوں نے دیکھا، انسپکٹر جمشید بڑی چابک دستی سے موٹربوٹ چلا رہے تھے۔

    ”امی جان گھر میں بہت پریشان ہوں گی۔“ فرزانہ بولی۔

    ”وہاں صرف تمہاری امی جان ہی نہیں اور بھی نہ جانے کتنے لوگ پریشان ہوں گے۔“

    ”جی! اور کون لوگ؟“ فاروق نے حیران ہو کر کہا۔

    ”تمہاری امی نے ہوش و حواس میں آنے کے بعد سب سے پہلے بیگم شیرازی کو حالات سنائے ہوں گے، پھر خان عبدالرحمن او رپروفیسر داﺅد کو فون کیا ہو گا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی ہو گی۔ محکمہ سراغرسانی کے آفیسروں کو خبردار کیا گیا ہو گا۔ سارے شہر میں ہمیں تلاش کیا جا رہا ہو گا۔“ یہ بتاتے ہوئے انسپکٹر جمشید مسکراتے رہے۔

    ”اس کا مطلب ہے، ہمارے گھر میں تو اچھا خاصا میلا لگا ہو گا۔“

    فرزانہ نے کہا۔

    ”لیکن یہ میلا بہت غمگین ہو گا۔“ فاروق بولا۔

    ”کوئی بات نہیں، جب ہم وہاں پہنچیں گے تو خوشی کا سیلاب آجائے گا میلے میں۔“ محمود نے ہنس کر کہا۔

    ”دیکھنا بھائی، کہیں ڈوب نہ جانا سیلاب میں۔“ فاروق بول اٹھا۔

    ٭….٭….٭

    گھر آگئے

    اڑھائی بج چکے تھے۔ ابھی تک بچوں یا انسپکٹر جمشید کی کوئی خبر نہیں ملی تھی۔ وہ سب کے سب گھر کے صحن میں اداس اور چپ چاپ بیٹھے تھے، جیسے کبھی اس گھر میں کوئی قہقہہ گونجا ہی نہیں تھا۔ ہنسی مذاق کی کوئی بات کی ہی نہیں تھی۔ بیگم جمشید کی آنکھوں سے کبھی ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے، کبھی صرف پلکوں میں ہی اٹک کر رہ جاتے۔ شہناز بیگم اور بیگم شیرازی انہیں بار بار تسلی دے رہی تھیں۔ خان عبدالرحمن اور پروفیسر داﺅد بھی دلاسا دے رہے تھے۔

    پولیس کا سب انسپکٹر تین مرتبہ آچکا تھا۔ ہر مرتبہ اس نے یہ خبر سنائی تھی کہ پورے شہر میں شدومد سے تلاش کی جا رہی ہے، لیکن ابھی ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ وہ ابھی ابھی تیسری بار اطلاع دے کر گیا تھا کہ ایک بار پھر گھنٹی بجی۔

    خان عبدالرحمن نے دروازہ کھولا۔ آنے والے ڈی آئی جی صاحب تھے۔

    ”آپ نے کیوں تکلیف کی؟“ خان عبدالرحمن بولے۔

    ”میں بہت فکرمند ہوں۔ صبح سے میں نے کچھ کھایا نہ پیا۔ نہ جانے بیگم جمشید کا کیا حال ہو گا، بس ان کے خیال سے آگیا۔“

    خان صاحب کہہ رہے تھے۔ ان کی آواز سن کر پروفیسر داﺅد بھی آگئے۔ انہوں نے خان صاحب سے ہاتھ ملایا۔ اچانک خان صاحب کی نظر دیوار کی طرف اٹھ گئی، ایک لمحے کو انہوں نے دیوار پر لکھے ہوئے نام کو بے خیالی میں پڑھااور پھر زور سے اچھل پڑے۔

    ”کیا ہوا، خیریت تو ہے جناب۔“

    ”یہ۔ یہ۔ یہ نام۔ دیکھ رہے ہیں، دیوار پر لکھا ہوا؟“

    ”ہاں، کیوں کیا بات ہے، اس نام میں؟“ خان عبدالرحمن بولے۔

    ”یہ جیرال ہی لکھا ہے نا۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”اُف میرے خدا، تو کیا یہاں جیرال آیا تھا۔“ ان کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔

    ”یہ جیرال کون ہے؟“پروفیسر داﺅد نے حیران ہو کر کہا۔

    ”ایک بین الاقوامی مجرم، جو بڑی بڑی حکمتوں کے لیے معاوضے پر کام کرتا ہے۔ اگر وہ بچوں کو اغوا کر کے لے گیا ہے تو پھر تینوں بچے شہر میں ہرگز نہیں ہو سکتے، جب کہ ہم اس وقت تک انہیں شہر میں تلاش کراتے رہے ہیں اور اگر انسپکٹر جمشید کی نظر اس نام پر پڑ چکی ہے تو پھر وہ بھی شہر میں موجود نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں، جیرال ہمیشہ سمندروں کے ذریعے سفر کرتا ہے۔“

    ”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

    ”افسوس، اگر صبح میں یہاں آگیا ہوتا، تو ہم سمندر میں جال ڈلوا دیتے، مگر جیرال تو اب نہ جانے کہاں کا کہاں پہنچ چکا ہو گا۔“

    ”اس سے تو پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمشید بھی اس کے پیچھے ہے۔“

    ”ہاں! خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ خان صاحب بولے۔

    ”آمین۔“ یہ نئی بات بیگم جمشید کو نہ بتائیے گا۔ وہ اور فکرمند ہوں گی۔“

    ”آئیے، اندر چلتے ہیں۔“

    وہ اندر آئے ہی تھے کہ ایک بار پھر گھنٹی بجی۔

    ٭….٭….٭

    ساحل پر پہنچ کر انہوں نے لاشیں اور قیدی پولیس کے حوالے کیے اور خود گھر کا رُخ کیا۔ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ باقی کام تو بعد میں بھی کر لیں گے۔ پہلے تو گھر پہنچ کر وہاں موجود پریشان لوگوں کو تسلی دینا چاہیے۔ ویسے انسپکٹر جمشید نے پولیس والوں کو ہدایت کر دی تھی کہ لاشوں اور قیدیوں کو فوراً محکمہ سراغرسانی کی عمارت میں پہنچا دیا جائے۔

    گھر کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے گھنٹی بجائی۔ دروازہ فوراً ہی کھلا ۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دروازہ کھولنے والے خان عبدالرحمن، پروفیسر داﺅد اور ڈی آئی جی صاحب تھے۔

    ”ارے۔“ تینوں کے منہ سے انہیں دیکھتے ہی نکلا۔

    ”ہم خواب دیکھ رہے ہیں یا یہ واقعی تم ہو۔“ خان صاحب بولے۔

    ”خدا کا شکر ہے کہ ہم ہی ہیں۔ ویسے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ہم واپس نہ آتے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”تم نہیں جانتے کہ ہم نے یہ وقت کس طرح گزارا ہے۔ بس ایک ایک منٹ ہم پر بھاری گزرا ہے۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”اچھا، انہیں اندر تو آنے دو۔ پھر سارے حالات سنیں گے اطمینان سے بیٹھ کر۔“ خان عبدالرحمن مسکرائے۔

    جونہی وہ اندر آئے، سب اچھل کر کھڑے ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کے دریا اُمڈ پڑے۔

    ”ارے، یہاں تو واقعی میلا لگا ہوا ہے۔“ فاروق نے ہنس کر کہا۔

    ”لیکن میلے کی رونق تو اب آئی ہے۔“ ڈی آئی جی صاحب بولے۔

    ”یا اللہ، تیرا شکر ہے۔“ بیگم شیرازی بولیں۔

    بیگم جمشید کے منہ سے تو خوشی کی وجہ سے کوئی لفظ نکل ہی نہ سکا۔ بس وہ اٹھیں اور بے اختیار محمود، فاروق اور فرزانہ سے لپٹ گئیں۔ پھر تجویز ٹھہری، اطمینان سے بیٹھ کر حالات سننے کی۔ صحن میں جگہ کم تھی۔ اس لیے سب لوگ ڈرائنگ روم میں آگئے۔

    ابھی وہ اطمینان سے بیٹھنے بھی نہیں پائے تھے کہ دروازے کی گھنٹی ایک بار پھر بجی۔

    ”خدا خیر کرے۔ اب کون آگیا۔“ خان عبدالرحمن بولے اور دروازے کی طرف جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

    ”بھئی ذرا احتیاط سے۔ کہیں کوئی نئی مصیبت نہ مول لے آنا۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”ہاں! یہ بھی ٹھیک ہے، ویسے مفت ملے تو لیتا آﺅں گا۔“ خان عبدالرحمن نے مسکرا کر کہا۔

    ”وہ دروازے پر پہنچ کر رک گئے اور چٹخنی گرانے سے پہلے بولے:

    ”ہاں بھئی! کون ہے دروازے پر؟“

    ”جی، اخباری رپورٹر۔“ باہر سے آواز آئی۔

    ”تو آپ اخباری نمائندے ہیں، لیکن آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ آپ اخباری نمائندے ہیں۔“

    ”ثبوت کے طور پر ہمارے پاس اپنے کارڈ موجود ہیں۔“

    ”دیکھو بھائی، یہ گھر ابھی ابھی ایک بڑے حادثے سے بال بال بچا ہے، اس لیے اگر تم میرے دروازہ کھولنے سے پہلے کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے؟ ورنہ میں دروازہ نہیں کھولوں گا۔“

    ”لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟“ باہر سے حیرت زدہ لہجے میں کہا گیا۔

    ”ممکن ہے یا نہیں ہے۔ یہ میں نہیں جانتا۔ ارے ہاں، تم یوں کیوں نہیں کرتے کہ اپنے کارڈ دروازے کے نیچے سے اندر کھسکا دو۔“

    ”ہاں واقعی۔“

    اور پھر کارڈ اندر آگئے۔ دوسری طرف خان عبدالرحمن کو واپس پہنچنے میں دیر ہوئی تو سب پریشان ہو گئے۔ آخر انسپکٹر جمشید ہی دروازے پر آئے۔

    ”کیا بات ہے عبدالرحمن؟“ انہوں نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ”کارڈ دیکھ رہا ہوں۔“

    ”کیا مطلب؟ کس کے کارڈ دیکھ رہے ہو؟“

    ”جو اندر آنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ اپنے اپنے کارڈ دروازے کے نیچے سے اندر کھسکا دیں۔

    اور انسپکٹر جمشید ہنس پڑے۔ انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ انسپکٹر جمشید نے ان سے معافی چاہی کہ دروازہ کھلنے میں دیر ہوئی۔

    ”کوئی بات نہیں جناب! ہم کچھ کچھ حالات جان چکے ہیں، اس لیے یہ احتیاط بے معنی نہیں ہے۔“

    ”شکریہ! آئیے آپ بھی اندر ہی آجائیے۔“ انہوں نے کہا۔

    اور وہ سب ڈرائنگ روم میں آگئے۔

    ”اب سنائیے سارے حالات۔“ بیگم شیرازی بولیں۔

    ”شروع تو بیگم صاحبہ کریں گی۔ کیوں کہ کہانی ان سے شروع ہوئی تھی۔“

    انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    بیگم جمشید نے کہانی سنانا شروع کی۔ جب انہوں نے جیرال کو ناشتا دینے کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو ڈرائنگ روم قہقہوں سے گونج اٹھا۔ اس کے بعد کا حصہ محمود، فاروق اور فرزانہ نے سنایا، کیوں کہ پھر وہ آگئے تھے۔ کہانی کا آخری حصہ سب سے زیادہ دلچسپ تھا اور یہ تھا انسپکٹر جمشید کا جیرال سے مقابلہ کرنا۔ سنتے وقت ان کے سانس رک رک گئے۔ پھر جب انہوں نے بتایا کہ کس طرح جیرال کی شکست کے بعد ماسٹر نے پستول نکال لیا، تو سب لوگ دنگ رہ گئے۔ آخر میں موٹر بوٹ والے بوڑھے کے بارے میں جان کر تو ان کی حیرت کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔

    ”اور یہ سب میری وجہ سے ہوا۔“ بیگم جمشید ان کے خاموش ہونے پر بولیں۔

    ”کیوں۔“ کئی آوازیں ابھریں۔

    ”اگر میں ایک منٹ کی سستی نہ کرتی اور اسی وقت دروازہ بند کر لیتی تو جیرال اندر آہی نہ سکتا۔“

    ”نہیں، یہ بات نہیں ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اندر ضرور آتا۔

    ”لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیرال نے ہمیں اس وقت کیوں نہ پکڑ لیا، جب ہم اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔“ فرزانہ نے کہا۔

    ”اپنے پیچھے کوئی کہانی بھی تو چھوڑ کر جانا تھا نا۔ دیوار پر جیرال لکھ کر تو گیا ہی تھا وہ۔ بیگم کو بھی پریشان کر ڈالا تاکہ یہ بعد میں مجھے بتائیں تو میں اس کے پیچھے دوڑا جاﺅں۔ یہ وہ جانتا تھا کہ مجھے اس بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ یہ بھی کہ وہ ہمیشہ سمندر کے ذریعے سفر کرتا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”کیا آپ کو جیرال کے فرار ہونے کا افسوس ہے؟“ ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا۔

    ”جی نہیں! وہ ایک بہادر دشمن ہے، میں اس کی عزت کرتا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔

    اور اس طرح یہ مجلس برخاست ہوئی۔ دوسرے دن کے اخبارات ان کی کہانی سے بھرے پڑے تھے۔

    ٭….٭….٭

    اس سلسلے کی مزید تحاریر


    موت کا جزیرہ

    موت کا جزیرہ

    • مئی 25, 2020


    پانچ قدم پہ موت

    پانچ قدم پہ موت

    • مئی 25, 2020


    سازشی چہرہ

    سازشی چہرہ

    • مئی 25, 2020


    بھوت بنگلہ

    بھوت بنگلہ

    • مئی 25, 2020


    خونی جال

    خونی جال

    • مئی 25, 2020


    آخری امید

    آخری امید

    • مئی 25, 2020


    چوہے دان

    چوہے دان

    • مئی 25, 2020


    ڈریکولا کا بھوت

    ڈریکولا کا بھوت

    • مئی 25, 2020


    خونی سائنسدان

    خونی سائنسدان

    • مئی 25, 2020
  • سازشی چہرہ


    پہلا حصّہ

    ”حاجو خان! تم سے ایک کام ہے۔ اس کام کے بدلے میں تمہیں دس ہزار روپے دوں گا۔ کام اتنا مشکل نہیں ہے۔ بس تم وہ چیز لاکر مجھے دے دوگے اور تمہارا کام ختم۔ پھر تم سے اس چیز کے بارے میں کوئی نہیں پوچھے گا۔ نہ کوئی تم پر شک کرے گا۔ کیا خیال ہے ، یہ کام کروگے؟“

    ”ہاں! کیوں نہیں۔ مجھے آج کل پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ آپ بس کام بتائیں۔“ حاجو خان نے کر کہا۔

    وہ پراسرار آدمی اس سے جب بھی کوئی کام لیتا تھا، پہلے اسے ایک خط لکھتا تھا۔ اس خط میں ایک چابی ہوتی تھی۔ وہ چابی لے کر اس کی بتائی ہوئی عمارت تک پہنچ جاتا۔ عمارت کے دروازے پر لگا تالا اس چابی سے کھل جاتا تھا۔ عمارت کے ایک کمرے میں اسے اس پراسرار آدمی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اُ سے جو کام لینا ہوتا ، وہ اس کی تفصیل بتاتا تھا۔ معاوضے کی رقم بھی اس کمرے میں میز کی دراز سے مل جاتی تھی۔

    وہ پراسرار آدمی آج تک ا س کے سامنے نہیں آیا تھا۔ پہلی مرتبہ بھی اس نے اس طرح اس کے نام ایک خط لکھا تھا۔ اس میں چابی تھی اور اس عمارت کا پتا جس میں اسے جانا تھا اور یہ ہدایات لکھی تھیں کہ وہ کسی کو کچھ بتائے بغیر اگر وہاں آجائے تو اس سے ایک بہت آسان سا کام لیا جائے گا اور معاوضہ دس ہزارو روپے بیٹھے بٹھائے مل جائے گا۔

    اور واقعی وہ کام بہت آسان تھا۔ بس دفتر کے ایک آدمی کا قلم چرانا تھا۔ اس نے قلم چرا کر اس عمارت تک پہنچا دیا اور اپنے دس ہزار کھرے کرلیے۔ اس بات کو جب ایک ماہ گزر گیا اور پھر اس پراسرار آدمی کا فون نہ آیا تو اسے بے چینی محسوس ہونے لگی۔ وہ چاہنے لگا کہ اس کا فون آجائے اور وہ اس سے کوئی کام لے اور اسے دس ہزار اور مل جائیں۔ آخر ڈیڑھ ماہ بعد اس کا خط آ گیا۔ اس نے ایک اور چھوٹا سا کام اس سے لیا اور اسے دس ہزار مل گئے۔

    اس وقت تک وہ اس سے ایسے کتنے ہی کام لے چکا تھا۔ وہ ایک سرکاری دفتر میں چپراسی تھا چوں کہ سب سے اعلیٰ افسر کا چپراسی تھا، اس لیے دوسرے آفیسرز کے کمروں میں اس کا روز کا آناجانا تھا۔

    ان حالات میں قلم جیسی چیزیں پارکردینا اس کے لیے ذرا بھی مشکل کام نہیں تھا۔

    ”ہاں تو حاجو! اس مرتبہ تم اپنے آفیسر کی گھڑی چراکے لاﺅگے۔ یہ کام تمہارے لیے مشکل تو نہیں ہوگا۔“ آواز آئی۔

    ”جی…. جی نہیں ۔ مشکل تو نہیں ہوگا، لیکن ان کی گھڑی بہت قیمتی ہے، لہٰذا وہ سب سے باری باری پوچھیں گے اور جب نہیں ملے گی تو پولیس کو بلالیں گے۔ پولیس ہم جیسوں سے سوالات ضرور کرے گی۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پولیس کے سامنے اپنے چہرے کے تاثرات کو معمول پر رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ میرا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر انہیں مجھ پر شک ہوجائے گا اور آخر کار وہ مجھ سے اگلوالیں گے۔ پھر یہ ہوگا کہ میں انہیں یہاں تک لاﺅں گا۔ آگے کیا ہوگا؟ مجھے پتا نہیں، لیکن میرے حق میں بہرحال اچھا نہیں ہوگا۔“ یہاں تک کہہ کر حاجو خاموش ہوگیا۔

    ”تم اپنی بات پوری کرچکے۔“ ناخوش گوار آواز سنائی دی۔

    ”جی ہاں بالکل۔“

    ”میز کی دراز کھولو۔“

    اس نے میز کی دراز کھولی تو چونک اٹھا۔ دراز میں ایک گھڑی رکھی تھی۔

    ”یہ…. یہ کیا جناب اس میں تو گھڑی موجود ہے۔“

    ”ہاں! یہ گھڑی جیب میں ڈال لو…. اپنے آفیسر کی گھڑی اٹھا کر اس کی جگہ یہ والی رکھ دینا۔ اس طرح نہ تو انہیں کوئی شک ہوگا نہ پولیس آئے گی اور نہ تم سے کوئی پوچھ گچھ ہوگی۔ اس سے اندازہ لگا لو مجھے تمہارا کتنا خیال ہے۔“

    ”وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے؟“ حاجو خان نے حیران ہوکر کہا۔

    ”کیا کیسے ہوسکتا ہے؟“

    ”بھلا گھڑی تبدیل ہونے کا انہیں کیوں پتا نہیں چلے گا۔“

    ”اس لیے کہ یہ گھڑی انہوں نے ابھی کل ہی خریدی ہے۔ لہٰذا اس دکان سے بالکل اسی جیسی گھڑی خریدنا کیا مشکل بات تھی۔“

    ”اب میرے لیے اور زیادہ حیرت کی بات ہوگئی۔ آخر آپ اس گھڑی کا کیا کریں گے۔“

    ”حاجو خان! تم سوالات بہت کرنے لگے ہو۔ اب میں اس قسم کے آسان سے کام کسی اور سے لیا کروں گا۔“

    ”نن…. نہیں سر…. نہیں۔“ وہ کانپ گیا کیوں کہ وہ ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے دس دس ہزار روپے کئی بار وصول کرچکا تھا اور کمائی کے اس ذریعے سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا تھا۔

    ”اچھا تو پھر جاﺅ وہ گھڑی لاکر یہیں رکھ دینا۔ تمہارا معاوضہ اسی دراز سے تمہیں مل جائے گا۔“

    ”جی اچھا۔“

    گھڑی جیب میں ڈال کر وہ باہر نکل آیا، لیکن آج وہ حد درجے الجھن محسوس کررہا تھا کیوں کہ یہ چکر اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ سمجھ میں تو اس شخص کی کوئی بات پہلے بھی نہیں آئی تھی، لیکن گھڑی والے معاملے نے اسے کچھ زیادہ ہی الجھن میں ڈال دیا تھا۔ اس سے پہلے جب ایک آفیسر کا قلم اس نے چوری کرایا تھا تو اس نے بہت الجھن محسوس کی تھی۔ بھلا کوئی کسی کا قلم دس ہزار روپے خرچ کرکے کیوں چوری کرانے لگا؟ وہ اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتا تھا؟ اسی طرح کی چند اور چیزیں اس نے دفتر کے لوگوں کی چوری کروائی تھیں۔ اب معاملہ ذرا مختلف تھا۔ اسے گھڑی اٹھا کر بدلے میں دوسری گھڑی رکھنا تھی۔ اس کے آفیسر کی عادت تھی کہ میز پر بیٹھتے ہی گھڑی اتار کر رکھ دیتے تھے اور پھر جانے کے وقت ہی پہنتے تھے۔ ان حالات میں اس کے لیے یہ کام بہت آسان تھا کیوں کہ آفیسر کئی بار اٹھ کر ادھر اُدھر جاتے تھے، لیکن وہ سوچ رہا تھا کہ بدلے میں رکھی جانے والی گھڑی میں نہ جانے کیا بات ہوگی اور وہ نامعلوم آدمی اس طرح کیا کرنا چاہتا ہے۔ ان باتوں نے اس کی الجھن میں اضافہ کردیا تھا۔

    ٭….٭….٭

    دوسرے دن پروگرام کے مطابق وہ اس کمرے کا تالا کھول کر اندر داخل ہوا تو گھڑی اس کی جیب میں موجود تھی۔ اس نے دراز کھولی تو وہاں دس ہزار روپے موجود تھے۔ اس نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ گھڑی وہاں رکھ دی اور نوٹ جیب میں رکھ لیے۔

    ”میں نے گھڑی رکھ دی ہے۔“ اس نے منہ اوپر اٹھا کر کہا، لیکن اس شخص کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس کا مطلب تھا، وہ اس وقت اس مکان میں نہیں تھا، چنانچہ وہ باہر نکل آیا اور دروازے کو تالا لگا کر اپنے گھر چلا آیا۔

    دوسرے دن صبح سویرے ناشتے سے پہلے وہ اخبار دیکھ رہا تھا کہ بہت زور سے اچھلا، اس کی آنکھیں مارے خوف کے پھیل گئیں۔

    عین اس وقت اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے اسی پراسرار آدمی کی آواز سنائی دی۔

    ”حاجو خان۔“

    ”جج…. جی جناب۔“

    ”یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔“

    ”کیا…. کیا مطلب؟“

    ”ایسا کرکے تم نے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی ماری ہے۔“

    ”وہ کیسے؟“

    ”تم نے میری ہدایات پر عمل نہیں کیا جو گھڑی میں نے تمہیں دی تھی۔ وہ تم نے اپنے آفیسر کی میز پر نہیں رکھی اور اس کی گھڑی اٹھا کر اس مکان میں نہیں رکھی بلکہ تم نے مکان میں وہی گھڑی رکھ دی جو میں نے تمہیں دی تھی۔ تم نے ایسا ہی کیا ہے نا۔“

    ”ہاں! اس لیے کہ مجھے خوف محسوس ہوا تھا۔میں ڈر رہا تھا کہ نہ جانے اس گھڑی کی وجہ سے آفیسر صاحب کے ساتھ کیا معاملہ ہوجائے لہٰذا میں نے ایسا کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ آفیسر بچ گئے اور وہ مکان تباہ ہوگیا۔“

    ”لیکن…. اب تم کس مشکل میں پھنس گئے ہو یہ ابھی تمہیں معلوم نہیں۔ آج ہی کسی وقت تم جان لوگے۔“

    ان الفاظ کے ساتھ ہی فون بند ہوگیا۔ اس کا رنگ اڑ گیا اور جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔ اس نے سوچا وہ آج دفتر نہیں جاسکے گا، چنانچہ اس نے دفتر فون کردیا اور طبیعت خراب ہونے کا بتا کر چھٹی کرلی۔ اب بھی اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ اس کی بیوی اور بیٹی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔

    ”کیا بات ہے؟ آپ کو کیا ہوگیا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے۔ مزے سے ناشتا کررہے تھے۔ پھر اخبار دیکھ کر آپ گھبراگئے اور اس کے بعد یہ فون سن کر آپ کی حالت اور خراب ہوگئی…. بات کیا ہے؟“

    اس نے ان دونوں کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھا اور کتنی ہی دیر دیکھتا رہا…. پھر بولا:

    ”مجھ سے ایک بہت خوفناک غلطی ہونے لگی تھی۔ اللہ نے مجھے اس سے بچالیا، لیکن اب پریشانی آکر رہے گی۔“

    ”بات کیا ہے؟ آپ پوری بات بتائیں۔“ بیوی گھبرا گئی۔

    وہ انہیں تفصیل سے سنانے لگا کیوں کہ اس نے سوچا تھا کہ بات تواب ویسے بھی نکل کر رہے گی کیوں نہ انہیں بتا کر دل ہلکا کرے۔ جونہی اس نے بات پوری کی۔ اس کا بیٹا بہت زور سے چونکا اور چلایا©:

    ”جلدی کریں آئیں میرے ساتھ۔“

    ”لیکن کہاں؟“ وہ گھبرا گیا۔

    ”ان باتوں کا وقت نہیں ہے جلدی کریں۔“

    دوسرے ہی لمحے وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھے اڑے جارہے تھے اور یہ ٹیکسی ایک صاف ستھرے گھر کے سامنے رکی۔ لڑکا اچھل کر ٹیکسی سے باہر نکلا اور اس نے دروازے کی گھنٹی بجادی۔ دروازہ کھلا اور ایک خوبصورت سا، شوخ سا لڑکا نظر آیا۔ یہ فاروق تھا۔ اسے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔

    ”ارے اجمل تم!“ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

    ”السلام علیکم۔“

    ”وعلیکم السلام کہو خیریت تو ہے؟“

    ”خیریت نہیں ہے۔ ہم…. ہمیں …. انسپکٹر صاحب سے ملنا ہے….۱ ابھی اسی وقت۔“

    ”آپ اندر آجائیں۔“

    ”بہت بہت شکریہ۔“

    اجمل اندر داخل ہوا۔ ادھر محمود نے اسے دیکھا، تو اس کے منہ سے بھی نکلا۔”ارے اجمل تم!!“

    ”ہاں محمود …. میں۔“ اجمل نے اٹک اٹک کر کہا۔

    ”خیر تو ہے اجمل…. بہت پریشان ہو۔“ محمود نے پوچھا۔

    ”جج…. جی ہاں۔“

    ”محمود تمہارے دوست ضرورت سے کچھ زیادہ پریشان ہیں۔ میرا خیال ہے مجھے بھی ٹھہرجانا چاہیے، کہیں انہیں میری ضرورت نہ ہو۔ آیئے تشریف رکھیے۔“ انسپکٹر جمشید نے اجمل کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”وہ…. آپ…. آپ بہت اچھے ہیں۔“

    ”شکریہ۔“ انسپکٹر جمشیدمسکرائے۔

    ”ڈرائنگ روم میں میرے والد صاحب موجود ہیں۔“ اجمل بولا۔

    ”پہلے آپ بات بتائیں پھر ان سے ملاقات کروں گا۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”یہ آپ نے کس لیے کہا؟“ محمود کے لہجے میں حیرت در آئی۔

    ”بس یونہی…. آپ بات بتادیں۔“

    اب اجمل نے پوری بات تفصیل سے بتادی۔ انسپکٹر جمشید چند لمحے تک سوچ میں غرق رہے پھر اس سے بولے:

    ”اچھی بات ہے آپ یہیں ٹھہریں۔ میں اکیلا ان سے بات کروں گا۔“

    ”جی اچھا۔“ اجمل نے قدرے پریشان ہوکر کہا۔

    انسپکٹر جمشید ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے بولے:

    ”السلام علیکم حاجو خان صاحب۔“

    ”جج…. جی …. وعلیکم السلام۔“ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔ چہرے پر گھبراہٹ ہی گھبراہٹ تھی۔

    ”بچے سے میں نے تفصیل سنی ہے۔ آپ محکمہ اطلاعات میں ہیں۔“

    ”جی ہاں۔“

    ”اس نامعلوم شخص سے تو ہم لوگ آپ کو بچانے کی کوشش کریں گے اور ان شاءاللہ آپ کو اس کی طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن جو جرم آپ کرچکے ہیں، میں آپ کو اس کی معافی نہیں دلاسکوں گا۔ اب یہ عدالت کا معاملہ ہے کہ وہ آپ کو کیا سزا دے گی۔“

    یہ بھی بہت ہے کہ آپ مجھے اس شخص سے بچانے کی کوشش کریں گے۔“ اس نے مریل آواز میں کہا۔

    ”خوب ! اب ذرا آپ شروع سے بتائیں۔ اس نے آپ سے کس طرح رابطہ کیا۔“

    ”جی میں عرض کرتا ہوں پہلی بار ا س نے مجھے ایک خط لکھا تھا۔ خط میں ایک چابی تھی۔ اس نے لکھا تھا، میں تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔ مالی مشکلات میں مبتلا ہو، کوئی مدد کرنے والا نہیں، لیکن میں تمہاری بہت اچھے طریقے سے مدد کرسکتا ہوں۔ پتا لکھ رہا ہوں، اس پتے پر آجاﺅ۔ چابی سے تالا کھول کر میرا نتظار کرنا، میں جلد ہی آجاﺅں گا۔“ یہ خط پڑھ کر اور چابی دیکھ کر میں بہت حیران ہوا اور پھر یہ الجھن مجھے وہاں لے گئی کہ آخر یہ شخص چاہتا کیا ہے۔ وہاں یہ شخص میرے سامنے نہیں آیا بلکہ میں نے اس کی آوا ز سنی۔ اس نے مجھ سے کہا:” ایک چھوٹا سا کام ہے۔ تم اپنے دفتر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض حامد کا پین مجھے لاکر دے دو، میں تمہیں اتنے سے کام کے دس ہزار روپے دوں گا، کیوں کیا خیال ہے؟“ اب آپ خود سوچیں میں ٹھہرا محکمہ کے ڈائریکٹر نصیر الدین شاہ صاحب کا چپراسی۔ مجھے تو ہر کمرے میں جانا آنا پڑتا ہے اور اس قسم کی چیز اٹھا کر جیب میں رکھ لینا میرے لیے بھلا کیا مشکل کام ہوسکتا ہے۔ میں حیران تو بہت ہوا، لیکن دس ہزار کا لالچ میری حیرت پر چھا گیا اور میں نے یہ کام کرنے کی حامی بھرلی۔ میرا جواب سن کر اس نے کہا۔”بس تو پھر تم وہ قلم کل لے کر یہیں آجانا۔ تمہیں دس ہزار روپے مل جائیں گے۔ سو میں وہاں قلم لے گیا۔ اس کی آواز سنائی دی کہ میز کی دراز کھول کر قلم اس میں رکھ دو اور اس میں سے دس ہزار روپے لے لو۔ بس میں نے ایسا ہی کیا۔ دو ماہ بعد اس کا خط پھر مجھے ملا۔ اس میں پھر چابی تھی۔ میں حیران ہوا، اس بار اس نے ہیڈ کلرک سلیم راشد صاحب کا لائٹر منگوایا تھا۔ میں نے ان کا لائٹر بھی وہاں پہنچادیا۔ اس طرح مجھے دس ہزار اور مل گئے۔ پھر ڈیڑھ ماہ بعد اس کا خط ملا۔ اس بار اس نے نصیرالدین شاہ صاحب کی ردی کی ٹوکری کے کاغذات منگوائے تھے۔ میں نے وہ بھی وہاں پہنچادیے۔ اب یہ چوتھا موقع تھا۔ اس بار اس نے کہا تھا کہ اپنے آفیسر کی گھڑی چرا کر وہاں پہنچادوں۔ اس پر میں نے کہا کہ ان کی گھڑی تو بہت مہنگی ہے۔ دفتر میں شور مچ جائے گا۔ پھر پولیس آئے گی اور وہ اگلوالے گی۔ اس طرح میں پھنس جاﺅں گا۔ تب اس نے کہا کہ میز کی دراز میں سے ایک گھڑی اٹھالو۔ یہ اس کی جگہ رکھ دینا کیونکہ یہ بالکل ویسی ہے۔ یہ اور زیادہ الجھن میں مبتلا کردینے والی بات تھی۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا۔ میں نے صاحب کی گھڑی تو چرائی نہ اور اسی کی گھڑی دراز میں رکھ دی اور پیسے اٹھا کر لے آیا۔ دوسرے دن وہ مکان دھماکے سے اڑ گیا۔ تب میرے ہوش جاتے رہے۔ یہ گویا نصیر الدین شاہ صاحب کو اڑانے کا پروگرام تھا۔ ادھر ساتھ ہی اس کا فون ملا۔ اس نے مجھے جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی۔ مجھے پریشان دیکھ کر میرا بیٹے مجھے یہاں لے آیا۔ اب میں حاضر ہوں جو جرم مجھ سے سرزد ہوا ہے، میں نے بیان کردیا ہے اور میں اللہ کا شکر ادا کررہا ہوں کہ میں نے وہ گھڑی شاہ صاحب کی میز پر نہیں رکھ دی۔ ورنہ شاید اس وقت….“ یہ کہتے ہوئے وہ کانپ گیا۔

    اس کے خاموش ہونے پر انسپکٹر جمشید چند سیکنڈ تک سوچ میں گم رہے۔ پھر انہوں نے کہا۔

    ”آپ کی حفاظت کی جائے گی۔ آپ پر مقدمہ اس پراسرار شخص کی گرفتاری کے بعد قائم کیا جائے گا۔ فی الحال آپ کو حوالات نہیں بھیجا جاسکتا کیوں کہ ہوسکتا ہے، وہ شخص آپ کو حوالات میں ختم کرانے کی کوشش کرے، لہٰذا میں آپ کو خفیہ جگہ رکھوں گا۔ آپ کے بچے اور گھر والے بھی آپ کے ساتھ رہیں گے۔ آپ مجھے یہ بتائیں کیا آپ کو ہر مرتبہ اسی مکان میں بلایا جاتا تھا یا وہ مکان ہر بار بدل دیتا تھا؟“

    ”جی نہیں میں ہر بار وہیں جاتا رہا ہوں۔“

    ”ہوں! اس مکان کا پتا مجھے لکھوادیں۔ ویسے تو وہاں بہت لوگ جمع ہوں گے۔ دور سے ہی پتا چل جائے گا کہ وہ مکان ہے۔“

    ”جی ہاں! وہ مکان رام گلی نمبر 19میں ہے۔“ اس نے کہا۔

    انہوں نے پتا نوٹ کرلیا۔پھر اکرام کے نمبر ملائے۔ وہ آیا تو حاجو خان کو اس کے حوالے کردیاگیا اور ہدایات بھی دیں۔ اکرام اسے لے کر اسی وقت چلا گیا۔ اجمل کو وہیں روک لیا گیا تھا۔ پھر اکرام اس کے والد کو خفیہ ٹھکانہ نمبر ایک میں لے گیا۔ جلد ہی ا س کی واپسی ہوئی۔ اب اس نے اجمل کو ساتھ لیا اور اس کے گھر پہنچا۔ گھر کے افراد کو ساتھ لیا اور خفیہ ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ جیپ میں لگے آلات نے اسے اس قابل بنادیا تھا کہ کوئی جیپ کا تعاقب نہیں کرسکتا تھا اور اگر کرتا تو پتا چل جاتا۔

    ان کی طرف سے اطمینان ہوجانے کے بعد انسپکٹر جمشید ان سے بولے۔

    ”میں ذرا اس تباہ شدہ مکان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ محمود، فاروق کیا تم میرے ساتھ چل رہے ہو؟“

    ”جی ہاں! کیوں نہیں۔“

    وہ اسی وقت گھر سے روانہ ہوئے اور مکان کے سامنے پہنچ گئے۔ پولیس نے اس کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا۔ مکان اس بری طرح تباہ ہوا تھا کہ بس اب صرف ملبے کا ڈھیر نظر آرہا تھا۔ انہوں نے وہاں موجود ایک حوالدار کی طرف قدم اٹھادیے۔ وہ معمول کے مطابق سادہ لباس میں تھے اور آئے بھی تھے اپنی ذاتی کار میں۔ اس لیے حوالدار نے ان کی طرف لپکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

    ”کیا معلوم ہوا؟“

    ”کس بارے میں۔“ اس کا لہجہ کافی اکھڑا تھا۔

    ”اس دھماکے کے بارے میں۔“ وہ مسکرائے۔

    ”صا ف ظاہر ہے کسی دہشت گرد کی کارروائی ہے۔“

    ”مکان تھا کس کا؟“

    ”آپ ہیں کون؟ سوالات تو ایسے کررہے ہیں جیسے مجھ پر افسر لگے ہوئے ہیں۔“

    ”نہیں ! میں آپ پر افسرنہیں ہوں۔ ویسے میرا نام انسپکٹر جمشید ہے۔“

    ”جی!!!“اس کا رنگ اڑ گیا۔

    ”مکان کے مالک کے بارے میں معلوم ہوا؟“

    ”جی ہاں! مکان کا مالک اسی محلے میں رہتا ہے۔“

    ”میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔“

    ”ابھی یہیں کھڑا حسرت بھری نظروں سے ملبے کے ڈھیر کو دیکھ رہا تھا۔ پھر چلا گیا، اس نے یہ مکان کرائے پر دیا ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے کرائے دار اس وقت گھر میں نہیں تھا۔“

    ”ہوں! مجھے اس کے گھر تک لے چلیں۔“

    ”آیئے۔“ اس نے کہا اور چل پڑا۔

    جلد ہی وہ ایک شان دار مکان کے سامنے پہنچے۔ حوالدار نے گھنٹی کا بٹن دبایا تو فوراً ایک شخص باہر نکل آیا۔

    ”یہ ہمارے آفیسر ہیں۔ آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔“

    مالک مکان نے جونہی ان کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر زلزلے کے آثار طاری ہوگئے۔ ادھر انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔

    ”باقر شاہ…. تم؟“

    دوسرے ہی لمحے انسپکٹر جمشید کے ہاتھ میں پستول نظر آیا۔ وہ سرد آوا ز میں بولے۔

    ”خبردار! ہاتھ اوپر اٹھا دو۔“

    ”لیکن کیوں؟ مدت ہوئی میں جرائم کی زندگی چھوڑ چکا ہوں۔ جرائم سے اب میرا دور کا بھی واسطہ نہیں۔“

    ”میںنے کہا ہے ہاتھ اوپر اٹھاﺅ۔“

    اس نے بھنائے ہوئے انداز میں دونوں ہاتھ بلند کرلیے۔

    ”اب ساکت کھڑے رہنا۔ محمود! اس کی تلاشی لو۔“

    ”جی اچھا۔“ ا س نے کہا اور جلدی جلدی تلاشی لینے لگا، لیکن اس کے پاس سے کوئی ایسی ویسی چیز برآمد نہ ہوئی۔

    ”کچھ نہیں ہے ابا جان۔“ محمود بولا۔

    ”ٹھیک ہے۔ ہاتھ نیچے کرلو اور یہ بتاﺅ تم یہ حرکتیں کیوں کررہے ہو؟“

    ”جی…. کون سی حرکتیں؟“

    ”بھئی یہ حاجو خان والی۔“

    ”میں کسی حاجو خان کو نہیں جانتا۔“

    ”یہ مکان جو تباہ ہوا…. کیا تمہارا نہیں ہے۔“

    ”جی بالکل میرا ہے۔ کچھ مدت پہلے میں نے خریدا تھا۔“

    ”اور یہ مکان جس میں تم رہ رہے ہو۔“ انہوں نے پوچھا۔

    ”یہ بھی میرا ہے۔ اس میں، میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ وہ میں نے اس لیے خریدا تھا کہ کرائے پر چڑھایا کروں گا۔ اس طرح روزی کی ایک صورت بنی رہے گی۔“

    ”خوب خوب! آج کل کس نے کرائے پر لے رکھا تھا۔“

    ”ایک صاحب ہیں۔ نصیر جان کچھ ہی دن پہلے انہو ں نے کرائے پر لیا تھا۔ چھے ماہ کا پیشگی کرایہ دیا تھا انہوں نے۔“

    ”کیا وہ یہاں رہتے بھی رہے ہیں۔“

    ”وہ تمام دن باہر رہتے ہیں۔ اپنے کام کا ج کے سلسلے میں۔ رات گئے آتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے مجھے پہلے ہی بتادی تھی۔ اس لیے ظاہر ہے انہیں کم ہی لوگوں نے دیکھا ہوگا۔“

    ”ہوں! ان کا حلیہ تو آپ بتا ہی سکتے ہیں۔“انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”جی ہاں! کیوں نہیں۔ وہ لمبے قد کے، دبلے پتلے سے آدمی ہیں۔ رنگ سرخ اور سفید ہے۔ آنکھیں نیلے رنگ کی، ناک بہت باریک سی اور سر کے بال سرخی مائل اور ہونٹ بھی بہت پتلے پتلے سے۔ بس یوں لگتا ہے جیسے دو لکیریں سی ہوں۔“

    ”کیا؟“ انسپکٹر جمشید مارے خوف کے چلائے۔

    انہیں اس حد تک خوف زدہ دیکھ کر محمود، فاروق، خان عبدالرحمن اور پروفیسر داﺅد بھی ساکت رہ گئے۔

    ”کیا تم نے بالکل درست حلیہ بتایا ہے۔“

    ”جج…. جی ہاں…. لیکن بات کیا ہے؟ آپ جیسا شخص اور خوف زدہ۔“

    دوسرا حصّہ

    ”باقر شاہ! تم نے حلیہ اگر درست بتایا ہے اور میرا خیال ہے کہ درست ہی بتایا ہے فرضی نہیں بتایا۔ تب وہ آدمی دنیا کے خطرناک ترین چند لوگوں میں سے ایک ہے اور اس کا ہمارے ملک میں ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔ ظاہر ہے، وہ کسی نیک ارادے سے نہیں آیا۔ اس کا پہلا نشانہ نصیر الدین شاہ تھے، لیکن حاجو خان کی عقل مندی سے وہ بال بال بچ گئے۔ ورنہ اس وقت ہم ان کی لاش کے گرد جمع ہوتے۔ اب جناب باقر شاہ آپ کو ہمارے ساتھ دفتر چلنا ہوگا۔“

    ”لیکن کیوں؟ میرا اس معاملے سے کیا تعلقہے۔ میں تو بس ایک مالک مکان ہوں اور اس نے مجھ سے میرا مکان کرائے پر لیا تھا۔“

    ”ہاں! میں مانتا ہوں، لیکن اگر آپ کوئی عام آدمی ہوتے تو یہ بات کہی جاسکتی تھی اور کوئی شک کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی،مگر چونکہ آپ جرائم پیشہ رہے ہیں اس لیے گمان گزرتا ہے کہ اس نے آپ سے باقاعدہ رابطہ کیا ہوگا اور تعاون کرنے کے سلسلے میں کوئی رقم پیش کی ہوگی۔ اب اگر آپ نے اس سے کوئی رقم کرائے کے علاوہ وصول کی ہے….تب تو آپ پھنس گئے ہیں۔ ورنہ ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔ کیا خیال ہے؟“ یہاں تک کہہ کر انسپکٹر جمشید خاموش ہوگئے۔

    ”ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میرے بارے میں اپنا اطمینان کرلیں۔“

    وہ اسے دفتر لے آئے۔ انہوں نے اس کے بارے میں جہاں سے بھی ہوسکا، معلومات حاصل کیں، لیکن اس کی کسی مجرمانہ سرگرمی کاپتا نہ چل سکا۔ آخر انہوں نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔ تاہم انہوں نے اکرام کو ہدایات دیں کہ ایک آدمی اس کی نگرانی پر مقرر کردیا جائے۔ ابھی انہوں نے اسے رخصت کیا ہی تھا کہ ایک خفیہ کارکن کا فون موصول ہوا۔ وہ خوف زدہ انداز میں کہہ رہا تھا:

    ”سر! عمارت نمبر 1کے آس پاس کچھ پراسرار لوگ نظر آرہے ہیں۔

    ”کیا…. نہیں۔“

    ”یس سر! حاجو خان اور اس کے بیوی بچوں کو اسی عمارت میں رکھا گیا ہے۔“

    ”نن نہیں…. میں آرہا ہوں۔ سب لوگ ہوشیار ہوجائیں حاجو خان اور اس کے بیوی بچوں کو کچھ ہوا تو مجھے بہت افسوس ہوگا۔ میں نے اس سے کہا تھا تمہاری حفاظت کی جائے گی۔“

    ”ہم پوری طرح ہوشیار ہیں جناب!“

    ”ٹھیک ہے ہم پہنچ رہے ہیں۔“

    وہ اسی وقت روانہ ہوگئے۔

    ”لگتا ہے یہ شخص ہمیں سکون کا سانس نہیں لینے دے گا۔ باریک ہونٹوں والے کا نام کیا ہے جمشید…. تم نے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔“ خان عبدالرحمن بولے۔

    ”اس کا نام بلتان ہے۔ وہ ایک بین الاقوامی مجرم ہے۔ اس کا ہمارے ملک میں ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ باقر شاہ نے جو حلیہ بتایا ہے وہ اس پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ پھر بھی میری دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک میں نہ ہو۔“

    ”گویا آپ بھی اس سے خوف محسوس کررہے ہیں۔“

    ”اس سے تو بڑی بڑی حکومتیں خوف کھاتی ہیں۔“

    ”لیکن وہ خود کس ملک کے لیے کام کرتا ہے؟“

    ”کسی ملک کے لیے نہیں جو ملک اس سے معاملہ طے کرتا ہے، اس کا منہ مانگا معاوضہ ادا کرتا ہے۔ اسی کے واسطے کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، البتہ….“ یہاں تک کہہ کر وہ رک گئے۔

    ”البتہ کیا؟“

    ”البتہ! اس نے آج تک کسی اسلامی ملک کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ جب بھی کیا اسلام دشمن ملکوں کے لیے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام غیر اسلامی ممالک میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ا س کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ ان حکومتوں کے سربراہ اس بات کو مانتے ہیں۔ ایک طرح سے اس کی حالت یہ ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے کسی بھی محکمے میں دخل اندازی کرڈالتا ہے اور کوئی اس سے جواب طلب نہیں کرتا۔“

    ”اس کامطلب ہے وہ خالص اسلام دشمن ہے۔“محمود نے پریشانی کے عالم میں کہا۔

    ”بالکل…. اس میں کوئی شک نہیں۔“

    اسی وقت وہ خفیہ عمارت نمبر 1کے سامنے پہنچ گئے۔ انہوں نے گاڑی سے اتر کر چاروں طرف کا جائزہ لیا اور پھر ان کا رنگ اڑ گیا۔ ان کے منہ سے نکلا:

    ”حیرت ہے…. کمال ہے۔“

    ”کک…. کیا مطلب؟ جمشید کیا ہوا۔“پروفیسر داﺅدفوراً بولے۔

    ”عمارت چاروں طرف سے گھیرے میں ہے۔ پہلی حیرت یہ کہ انہوں نے اس کا سراغ کس طرح لگا لیا،دوسری حیرت یہ کہ ان لوگوں نے عمارت کو اس طرح گھیرے میں لیا ہے کہ وہ تو عمارت پر ہر طرف سے حملہ کرسکتے ہیں اور ہم ان پر وار نہیں کرسکتے۔“

    ”اوہ…. اوہ….“ ان کے منہ سے مارے خوف کے نکلا۔

    ”اور ایک تیسری بات۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”اور وہ کیا؟“

    ”عمارت کے پاس آتے ہی اب ہم بھی پوری طرح ان کی زد میں ہیں۔“

    ”اوہ۔“ وہ بولے۔

    ”بالکل ٹھیک کہا انسپکٹر جمشید نے تم بہت ذہین ہو۔ تم سے پہلی ملاقات پر خوشی ہوئی۔“

    عمارت کے پاس آواز گونجی۔ انہوں نے ایک بار پھر چاروں طرف کا جائزہ لیا۔

    ”کیا چاہتے ہو دوست۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”صرف اور صرف ایک ہی مطالبہ ہے میرا تو حاجو خان کو میرے حوالے کردےں اور بس۔“

    ”پہلے ہم عمارت کے اندر جائیں گے۔ پھر آپ سے بات کریں گے۔“

    ”ضرور…. ضرور کوئی اعتراض نہیں۔“ ہنس کر کہا گیا۔ اس کی آواز بھی بہت باریک تھی۔

    اور پھر وہ عمارت میں داخل ہوگئے۔ اندر خفیہ کارکنوں کے رنگ اڑے ہوئے تھے۔

    ”حاجو خان اور اس کے بیوی بچے کہاں ہیں؟“

    ”جی …. آخری کمرے میں۔“

    ”اوکے…. پروفیسر صاحب آپ کیا چاہتے ہیں؟“

    ”میں چھت پر جارہا ہوں جمشید تم تیاری مکمل کرلو۔ جونہی تم اشارہ دوگے۔ میں حرکت میں آجاﺅں گا۔“

    ”بہت خوب! بس ہم چند منٹ لگائیں گے۔“

    ”اوکے۔“ پروفیسر صاحب نے کہا اور فوراً اوپر کی طرف دوڑے۔

    ایسے میں باہر سے آواز آئی۔

    ”ہاں تو انسپکٹر جمشیدکیا پروگرام ہے؟“

    ”دو منٹ ٹھہریں۔“

    ”ٹھہرنے کو تو میں تین منٹ ٹھہر جاﺅں۔“ باہر سے ہنس کر کہا گیا۔

    پھر دو منٹ بعد انسپکٹر جمشید نے پروفیسر داﺅد کو اشارہ کیا۔

    پروفیسر داﺅد نے پہلے سامنے کی طرف پھر دائیں، پھر بائیں اور آخر میں پچھلی طرف چار ننھی منی سی گیندیں اچھال دیں۔ فوراً ہی چار دھماکے ہوئے اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ گیندیں پھینکنے کے فوراً بعد وہ نیچے اتر آئے اور وہاں پہنچ گئے جہاں باقی لو گ موجود تھے۔

    خفیہ عمارت کے نیچے ایک تہ خانہ تھا۔ اس تہ خانے سے ایک راستہ نکلتا تھا۔ وہ عمارت سے کافی دور تھا۔ اس راستے سے ہوتے ہوئے وہ جنگل میں نکل گئے اور درختوں کی اوٹ لے کر اب وہ بلتان کے آدمیوں کے گھیرے سے باہر آچکے تھے۔ ادھر خفیہ ٹھکانہ ابھی تک دھوئیں میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے سنا کوئی کہہ رہا تھا:

    ”خبردار ! دائرہ بڑا کرلو۔ اس دھوئیں کا سہارا لے کر وہ باہر نکلنے کی کوشش کریں گے۔ ان میں سے ایک بھی بچ کر نہ جائے۔“

    یہ الفاظ سن کر وہ مسکرا دیے۔ انسپکٹر جمشید نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا کہ کچھ اور پیچھے ہٹ کے درختوں کی اوٹ میں پوزیشن لے لیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جونہی دشمن پیچھے ہٹنے کے چکر میں ان کی نظروں میں آیا۔ انہوں نے تاک تاک کر گولیاں برسادیں۔ وہ اچھلا چھل کر گرے۔ ان میں سے کوئی بھی بچ کرنہ نکل سکا۔ اس کے باوجود وہ احتیاطاً کافی دیر تک اپنی جگہوں پر کھڑے رہے۔ جب پوری طرح اطمینان ہوگیا، تب وہاں سے آگے بڑھے۔ انہوں نے گرنے والوں کا جائزہ لیا۔ وہ سب کے سب بری طرح زخمی تھے، گولیاں ان کی ٹانگوں پر ماری گئی تھیں۔ پھر اکرام کو فون کیا گیا۔ وہ بڑی گاڑی کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ زخمی بارہ عددتھے۔ انہیں ہسپتال بھیجنے اور اکرام کو ان کے بارے میں ہدایات دینے کے بعد انہوںنے اطمینان کا سانس لیا۔

    ”اب رہ گئے حاجو خان اور ان کے گھر والے ان کا کیا کریں؟“

    ”شاید ہمارا کوئی خفیہ ٹھکانہ بلتان کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے اب ہم انہیں اپنے گھر میں رکھیں گے۔ اب جو ہوگا وہاں ہوگا۔“

    ”اس کامطلب ہے آپ بلتان کو اپنے گھر پر حملے کی دعوت دے رہے ہیں؟“

    ”کیا کیا جائے مجبوری ہے۔“ وہ مسکرائے۔

    ”لیکن بلتان خود کہاں ہے؟ ہم نے جس کی آواز سنی تھی۔ کیا وہ بلتان تھا۔“ خان عبدالرحمن بولے۔

    ”ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا، لیکن ہم یہ بات معلوم کرسکتے ہیں۔“

    ”وہ کیسے جمشید؟“

    ”زخمیوں کے ہوش میں آنے پر آخر ان سے بات چیت کی جائے گی۔ ان کی آوازیں سنی جائیں گی۔ اس سے معلوم ہوجائے گا۔ ا س کے علاوہ ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس کے لیے کام کررہے ہیں…. وغیرہ۔“ انہوں نے جواب دیا۔

    ”لیکن سب سے پہلے حاجو خان کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔“

    ”آپ…. آپ میرے لیے کس قدر کوشش کررہے ہیں اور ایک میں ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے حاجو خان رو پڑا۔

    ”فکر نہ کرو غلطی انسان سے ہوتی ہے، لیکن تم نے دھماکے والی گھڑی خود اس کی جگہ پر رکھ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس بنیا د پر صرف میں ہی نہیں، نصیر الدین صاحب بھی تمہاری سفار ش کریں گے۔ امید ہے عدالت بھی تمہیں رہا کردے گی۔“

    ”اللہ آپ کا بھلا کرے۔“

    پھر وہ وہاں سے گھر پہنچ گئے۔ حاجو خان اور اس کے بیوی بچوں کو بیگم جمشید کے حوالے کردیا گیا۔ صورت حال سمجھا دی گئی۔ ہسپتال فون کیا گیا تو اکرام نے بتایا۔ وہ سب ہوش میں آچکے ہیں۔ وہ اسی وقت روانہ ہوگئے۔

    انہیں جس ہال میں رکھا گیا تھا۔ اس کے گرد پولیس کا پہرہ تھا۔ وہ اس ہال میں داخل ہوئے۔ اندر اکرام موجود تھا۔

    ”کچھ بتایا انہوں نے۔“

    ”جی ابھی نہیں۔“

    وہ آگے بڑھے۔ انہوں نے باری باری سب سے بات کی، لیکن ان میں وہ آواز سنائی نہ دی جو وہ خفیہ عمارت کے باہر سن چکے تھے۔

    ”اس کا مطلب ہے تمہارا باس وہاں تھا ضرور، لیکن کسی الگ جگہ پر تھا۔“

    ”جی…. جی ہاں وہ ایک درخت پر تھا۔“

    ”اوہ!“وہ حیرت زدہ رہ گئے۔

    ”جب تم لوگ پیچھے ہٹے تھے۔ کیاوہ اس وقت درخت پر ہی تھا۔“

    ”جی ہاں بالکل۔“

    ”اس کا نام اور حلیہ….“

    ”ہم اس کا نام نہیں جانتے۔ نہ حلیہ بیان کرسکتے ہیں کیونکہ وہ نقاب میں تھا۔“

    ”تم اس کے لیے کب سے کام کررہے ہو؟ وہ تمہارا نیا نیا باس ہے یا کوئی پرانا آدمی ہے۔

    ”بہت پرانا، اس کا ہمارا ساتھ تو برسوں پرانا ہے۔“

    ”حیرت ہے۔ پھر بھی تم اس کا نام نہیں جانتے۔“

    ”بس…. ہم اسے باس کہتے ہیں۔“

    ”وہ تمہیں احکامات کس طرح دیتا ہے اور کہاں بلاتا ہے؟ کچھ تو بتاﺅ۔“

    ”ہمارا گرو ہ بہت پرانا ہے۔ وہ ہر ماہ ہمیں ہار ڈی بلڈنگ کے سامنے بلاتا ہے۔ وہیں ہمیں تنخواہ دیتا ہے۔ نئے احکامات دیتا ہے یا پھر فون پر رابطہ کرتا ہے۔“

    ”اس کا فون نمبر؟“

    ”فون اسی بلڈنگ کا ہے۔ ایکس ٹینشن نمبر دباناپڑتا ہے 8نمبرہے۔“

    ”فون نمبر بتاﺅ۔“

    انہوں نے نمبر بتادیا۔ نمبر ڈائل کیا گیا، لیکن 8نمبر سے کسی نے فون نہ اٹھایا۔ اب وہ سمجھ گئے کہ ان لوگوں کا باس کوئی مقامی آدمی ہے۔ اس مقامی آدمی سے بلتان کام لے رہا ہے۔ وہ خود سامنے نہیں آیا گویا بلتان تک پہنچنا اتنا آسان کام نہیں تھا۔ آخر وہ ہارڈی بلڈنگ پہنچے۔ اس بلڈنگ میں بے شمار کمرے تھے۔ کمرے کرائے پر دیے جاتے تھے۔ عمارت کے مالک کا نام بھی ہارڈی تھا۔ انہوں نے اس سے ملاقات کی۔ وہ پریشان ہوگیا اور گھبرا سا گیا۔

    ”میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟“

    ”کمرا نمبر 302میں کون رہتا ہے۔“

    ”جج…. جی…. کمرا نمبر 302میں۔“ وہ بری طرح ہکلانے لگا۔

    ”ہاں۔“ انسپکٹر جمشید نے اسے گھورا۔

    ”وہ ایک پراسرار آدمی ہے۔ شاید اپنا حلیہ تبدیل کیے رہتا ہے اور جناب! ہمارا کام تو عمارت کے کمرے کرائے پر دینا ہے…. میں نے یہ عمارت اسی لیے بنوائی ہے۔“ اس نے جلدی جلدی کہا۔

    ”ہوں! ٹھیک ہے۔ کیا وہ اس کمرے میں آتا جاتا ہے؟“

    ”ہاں جی! بالکل آتا جاتا ہے۔“

    ”ہم اس کمر ے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔“

    ”میرے پاس ہر کمرے کی چابی ہوتی ہے۔ کمرا کھول کر دکھا سکتا ہوں۔“

    ”چلیے پھر۔“

    وہ اس کے ساتھ کمرے میں آئے۔ پھر انہوں نے اکرام کے ذریعے کمرے سے انگلیوں کے نشانات اٹھوائے۔

    ”اکرام اب تم ان نشانات کو چیک کرلو۔ شاید ہمارے ریکارڈ میں یہ نشانات مل جائیں۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا۔

    ”جی اچھا۔“

    ”اور ہاں !مسٹر ہارڈی کی انگلیوں کے نشانات بھی لے لو۔“

    ”جی….کیا مطلب؟ یہ ….یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میرا بھلا کسی معاملے سے کیوں تعلق ہونے لگا۔ میں تو ایک سیدھا سادہ عام سا آدمی ہوں۔“

    ”تب پھر انگلیوں کے نشانات دینے میں کیا ڈر؟“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”اوہ ہاں…. واقعی یہ بھی ٹھیک ہے۔“

    پھر اس نے نشانات دے دیے۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہی اکرام کے چہرے پر حیرت کے آثار ابھر آئے۔ اس نے جلدی سے کمرے میں پائے جانے والے نشانات کو ان نشانات سے ملایا تو اچھل پڑا۔

    ”یہ ا س کمرے میں پائے جانے والے نشانات مسٹر ہارڈی کے ہیں۔“

    ”اس …. اس سے کیا ہوتا ہے؟ مجھے تو آخر ہر کمرے میں جانا آنا پڑتا ہے۔ صفائی کرانا پڑتی ہے اور کرائے داروں کے آرام کا خیال کرنا پڑتا ہے۔“

    ”اکرام! چند اور کمروں سے انگلیوں کے نشانات اٹھواﺅ۔“

    ”جی …. کیا مطلب؟ اکرام اور ہارڈی نے ایک ساتھ کہا۔

    ”مطلب یہ کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں دوسرے کمروں میں بھی اسی طرح آپ کی انگلیوں کے نشانات ملتے ہیں یا نہیں۔“

    ”اوہ….اوہ۔“ ا س کے منہ سے نکلا۔

    اکرام نے جلد ہی اپنا یہ کام بھی مکمل کر لیا۔ پھر وہ ان کی طرف آیا۔

    ”نہیں سر! کسی کمرے سے مسٹر ہارڈ ی کی انگلیوں کے نشانات نہیں ملے…. دوسرے ملازموں کے ضرور ملے ہیں جو صفائی کرتے ہیں۔“

    ہارڈی کا چہرہ زرد پڑگیا۔ عین اس لمحے انسپکٹر جمشید کے موبائل کی گھنٹی بجی۔

    جونہی انہوں نے فون آن کیا۔ دوسری طرف سے بیگم جمشید کی خوف زدہ آواز ابھری:

    ”میں خطرہ محسوس کررہی ہوں۔“

    فون سنتے ہی انسپکٹر جمشید پریشان ہوگئے۔ انہوں نے فوراً اکرام کی طر ف رخ کیا۔

    ”اسے لے جاکر حوالات میں بند کردو۔ اس سے بلتان کے بارے میں ضرور کچھ معلوم ہوسکتا ہے۔ ادھر گھر میں کسی گڑبڑ کا امکان ہے۔ غالباً بلتان حاجو کو سزا دینے کے لیے بری طرح بے چین ہے اور جلد از جلد اس کام سے فارغ ہوجانا چاہتا ہے۔“

    وہ اندھا دھند انداز میں گاڑی چلاتے گھر پہنچے۔ گھر کا دروازہ بند تھا۔ محمود نے دوڑ کی گھنٹی کا بٹن دبادیا۔ دس پندرہ سیکنڈ گزرنے پر اس نے پھر بٹن دبادیا۔ اندر گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دی، لیکن بیگم جمشید نے پھر بھی دروازہ نہ کھولا۔ اب تو ان کی پریشانی بڑھ گئی کہ دروازہ اندر سے بند تھا۔

    ”محمود دوڑ کر جاﺅ بیگم شیرازی کی چھت سے اپنی چھت پر آجاﺅ۔ دیکھو زینہ کھلا ہے یا نہیں۔“

    ”جی اچھا۔“ یہ کہتے ہی اس نے دوڑ لگادی۔ پھر بیگم شیرازی کے دروازے سے اس کی خوف زدہ آواز آئی: 

    ”ابا جان ! دروازہ اندر سے بند نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے گڑبڑ دونوں گھروں میں پھیلی ہوئی ہے۔“

    وہ دوڑ پڑے۔ بیگم شیرازی کے گھر میں داخل ہوئے۔ پورا گھر سنسان پڑا تھا۔ اب وہ چھت پر آئے وہاں سے اپنی چھت پر اترے۔ زینہ کھلا تھا بے تحاشا انداز میں سیڑھیاں اترتے نیچے پہنچے۔ بیگم جمشید غائب تھیں۔ صحن کی میز پر ایک کاغذ موجود تھا۔ کاغذ میں ایک خنجر گڑا تھا اور خنجر کی نوک خون آلود تھی۔ انہوں نے جھک کر کاغذ پر لکھے الفاظ پڑھے۔

    ”میں حاجو خان ، اس کے بیوی بچوں ، بیگم جمشید اور بیگم شیرازی کو لے جارہا ہوں…. انہیں چھڑانے کا شوق ہو تو جزیرہ نانگا پر آجانا…. ملاقات ہوجائے گی۔“

    الفاظ پڑھ کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

    ”ہم سے غلطی ہوئی حاجو خان اور اس کے بیوی بچوں کو صرف بیگم کی حفاظت میں دینا کافی نہیں تھا جب کہ مقابلہ بلتان سے ہے، لیکن اب تو غلطی ہوچکی تھی۔“

    ”اور یہ جزیرہ نانگا کہاں ہے؟“ پروفیسر داﺅد ہکلائے۔

    ”میںنے بھی اس جزیرے کا نام پہلی بار سنا ہے۔ دنیا کے نقشے میں دیکھنا ہوگا یا پھر جغرافیے کے کسی ماہر سے پوچھ لیتے ہیں۔ ہاں یاد آیا ہمارے شہر میں ایک غیر ملکی جغرافیہ دان ہے تو سہی ایک بار کسی سلسلے میں اخبار میں اس کا ذکر آیا تھا۔ اب یاد کرنا ہوگا کہ وہ کون سا اخبار تھا، لیکن…. نہیں اخبارات کے مدیروں کو فون کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔“

    اب انہوں نے ایک اخبار کے مدیر کو فون کیا۔ اپنا تعارف کرانے کے بعد وہ بولے:

    ”ہمارے شہر میں ایک غیر ملکی جغرافیہ دان رہتے ہیں۔ ہمیں ان سے کچھ کام ہے۔ کیا آپ کو ان کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟“

    ”جی ہاں! کیوں نہیں ان کانام پروفیسر جیفر سام ہے اور وہ نیومون ٹاﺅن میں رہتے ہیں۔ کوٹھی کا نمبر ہے G.108۔“

    ”بہت بہت شکریہ ! آپ نے تو ہمارا بہت سا وقت بچا دیا۔“

    وہ فوراً پروفیسر سام کی طرف روانہ ہوگئے۔ ان کی کوٹھی تلاش کرنے میں انہیں کوئی دقت نہ ہوئی۔ وہ اس علاقے کے مشہور آدمی تھے۔ ان سے بے خوف ہوکر ملے۔

    ”ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جزیرہ نانگا کہاں ہے؟“

    ”اوہ نہیں۔“ پروفیسر سام نے خوف کے عالم میں کہا۔

    ”کیاہوا؟‘ پروفیسر داﺅد حیران ہوکر بولے۔

    ”آپ…. آپ لوگ اس جزیرے کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟“

    ”ہمیں وہاں جاناہے۔“

    ”میں اس کا مشورہ ہرگز نہیں دوں گا۔“ اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔

    ”جی…. کیامطلب…. کیا ہے وہاں؟“

    ”سوائے موت کے اور کچھ نہیں۔ اس جزیرے پر جب بھی کوئی گیا، لوٹ کر نہیں آیا۔ کوئی اس جزیرے کی کہانی نہیں سنا سکا آج تک…. وہاں کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ پروفیسر نے جلدی جلدی کہا۔

    ”آپ نے ہمارا شوق اور بڑھادیا۔ بات یہ ہے پروفیسر صاحب کہ ایک بین الاقوامی شخص ہے۔ بلتان، کیا آپ نے اس کا نام سنا ہے؟“

    ”بالکل سنا ہے۔ بہت خطرناک آدمی ہے۔ حکومتیں اس سے ڈرتی ہےں۔“

    ”بالکل ٹھیک وہ شخص ہمارے ساتھیوں کو اغوا کرکے جزیرہ نانگا لے گیا ہے۔“

    ”ارے باپ رے۔“ پروفیسر سام بوکھلا اٹھے۔

    ”لہٰذا آپ ہمیں صرف یہ بتادیں کہ یہ جزیرہ کہاں ہے؟“

     ”مجھے افسوس ہے۔“ پروفیسر بولے۔

    ”آپ کو افسوس ہے، لیکن کس بات پر جلدی بتایئے تاکہ ہم بھی اس افسوس میں شریک ہوجائیں۔“

    پروفیسر سام نے فاروق کو تیز نظروں سے دیکھا ، پھر بولے:

    ”یہ صاحب کچھ پاگل تونہیں ہیں۔“

    ”جی نہیں ان کی باتوں کا برا نہ مانیں اور مہربانی فرما کر ہمیں اس جزیرے کے بارے میں بتادیں۔“

    ”گویا آ پ رک نہیں سکتے۔“

    ”پروفیسر صاحب شاید آپ نے توجہ نہیں فرمائی۔ بلتان ہمارے ساتھیوں کو اٹھا لے گیا ہے اور ہم کیسے رک سکتے ہیں؟“

    ”آپ کی مرضی…. بلتان نے اگر آپ کو جزیرہ نانگا بلایا ہے تو اس نے وہاں آپ لوگوں کے خلاف جال بچھارکھا ہوگا۔ وہ ایسے ہی تو آپ کو چیلنج نہیں کرسکتا۔“

    ”یہ بات ہم سمجھتے ہیں، لیکن ہم مجبور ہیں۔ یہ تو ہمارے اپنے گھر کے دو افراد اور چند دوسرے افراد کی بات ہے۔ اگر وہ ہمارے گھر کے افراد کو نہ لے جاتا تو بھی ہم ضرور جاتے، لہٰذا آپ ہمیں روکنے کی بالکل کوشش نہ کریں۔“

    ”اچھی بات ہے۔ میں آپ لوگوں کو سمندر ی راستے کا نقشہ بنادیتا ہوں۔ اگر آپ نے اس نقشے کے مطابق سفر کیا تو سمندر میں بھٹکنے سے بچ جائیں گے یاپھر میں خود آپ لوگوں کے ساتھ چلوں اور جزیرے تک پہنچا کر لوٹ آﺅں کیا خیال ہے؟“

    ”یہ اور بھی اچھی بات ہوگی۔“ فاروق بول اٹھا۔

    ایک بار پھر پروفیسر نے فاروق کو گھورا۔

    ”کیا آپ خاموش نہیں رہ سکتے۔“

    ”لیکن جناب! آپ کو میرے بولنے پر ہی کیوں اعتراض ہے۔“ فاروق کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”ہاں واقعی! یہ عجیب بات ہے۔“ پروفیسر بولے

    ”کیا فرمایا آپ نے۔“ محمود کو ان کی بات سن کر حیرت ہوئی۔

    ”ان صاحب کی آواز میرے کانوں میں تیر کی طرح لگتی ہے جب کہ باقی لوگوں کی آواز سن کر میں نے ایسی کوئی بات محسوس نہیں کی۔“

    ”اگر یہ بات ہے ، تو میں اب آپ سے کوئی بات نہیں کروں گا۔ آپ بے فکر رہیں۔“ فاروق نے برا سا منہ بنایا۔

    ”بہت بہت شکریہ! اس صورت میں میں آپ لوگوں کے ساتھ جاسکوں گا۔ لیکن آپ کو میرے وقت کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔“

    ”اوہ ضرور ضرور…. کیوں نہیں۔“خان عبدالرحمن نے فوراً کہا۔

    ”چلیے ٹھیک ہے۔ پھر ہم کب چل رہے ہیں؟“ 

    ”آپ تیاری کرلیں اور ایک بڑی لانچ کا انتظام کرلیں۔ اس کو مشرقی ساحل پر بھجوادیں۔ آپ کل صبح ٹھیک آٹھ بجے یہاں آجائیں ، میں تیا رملوں گا۔“

    ”اور آپ کا معاوضہ کیا ہوگا“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔

    ”اوہو جمشید ! اس کو رہنے دو جو یہ مانگیں گے دے دیں گے۔“ خان عبدالرحمن جلدی سے بولے۔

    ”نہیں بھئی پہلے طے کرنا اچھا ہوتا ہے۔“

    ”ٹھیک ہے میں دس ہزار روپے لوں گا۔ آپ لانچ کے ذریعے مجھے واپس بھجوائیں گے۔“

    ”لیکن اگر ہمیں وہاں دیر لگنے کا امکان نہ ہوا تو آپ ہمارے ساتھ بھی تو آسکتے ہیں۔“

    ”میں ذرا بزد ل سا آدمی واقع ہوا ہوں۔ لڑائی بھڑائی کا تجربہ نہیںہے۔ آپ کو تو وہاں جاکر کرنا ہوگی جنگ…. بلتان سے جنگ کرنا اتنا بھی آسان نہیں کہ میں وہاں رک کر آپ لوگوں کی فتح کا انتظار کروں گا۔ اس سے یہ بہتر ہوگا کہ جونہی آپ لوگ جزیرے پر پہنچیں پہلے آپ مجھے واپس بھجوادیں اور اپنے لیے لانچ واپس منگوالیں۔“

    ”اس کا مطلب ہے جزیرہ ساحل سے زیادہ دورنہیں ہے۔“

    ”ایک دن اور ایک رات کا فاصلہ ہے۔“ اس نے کہا۔

    ”خیر یونہی سہی…. پروگرام طے ہوگیا۔ ہم کل آٹھ بجے پہنچ جائیں گے۔“

    ”اور انکل۔“ فاروق نے کچھ کہنا چاہا، لیکن پھر یاد آنے پر اس نے فوراً اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، سب لوگ مسکرادیے جب کہ پروفیسر سام کا چہرہ تن گیا تھا، لیکن جونہی فاروق کا …. چہرہ معمول پرآگیا۔ 

    ”شکریہ…. آپ نے جملہ درمیان میں روک دیا۔“

    ”کیا واقعی میری آواز آپ کے لیے اس حد تک تکلیف دہ ہے؟“

    ”ہاں ! مجھے اپنے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے دماغ میں کوئی چیز ٹوٹ رہی ہے۔“

    ”کیا پہلے بھی کسی کی آواز سن کر آپ کو ایسا ہوا ہے؟“

    ”نہیں…. زندگی میں پہلی بار ایسا محسوس کررہا ہوں اور دعاکرتا ہوں کہ ان صاحب کی آواز مجھے پھر سنائی نہ دے۔“

    ”ہم کوشش کریں گے کہ فاروق کو آپ سے فاصلے پر رکھیں اور اس کی آواز آ پ کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔“

    ”میں ان کے سامنے سرگوشی کرتا رہوں گا۔“ فاروق بول پڑا۔

    ”اُف اُف۔“ پروفیسراچھل پڑا۔ اس کا رنگ زرد پڑگیا ۔ پھر اس نے کہا۔

    ”نہیں …. نہیں۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ اس مہم پر نہیں جاﺅں گا۔“

    ”حد ہوگئی فاروق…. پروفیسر صاحب! آپ پریشان نہ ہوں۔ اس بات کی ذمے داری میں لیتا ہوں کہ اب آپ کو فاروق کی آواز سنائی نہیں دے گی۔“

    ”یہ …. یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ فاروق نے جلدی سے اشاروں میں کہا۔ اس بار اس کے صرف ہونٹ ہلے تھے۔ آواز سنائی نہیں دی تھی۔

    ”ہاں فاروق ! یہ ٹھیک رہے گا۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کیاٹھیک رہے گا۔“پروفیسر سام جھلائے ہوئے اندا ز میں بولے۔

    ”اس بار فاروق نے اشاروں میں بات کی ہے اور ہم نے اس کی بات کو سمجھ لیا ہے۔“

    ”چلیے پھر یونہی سہی، لیکن آپ خیال رکھیے گا۔ اس وقت بھی میرے دماغ میں دھماکے ہورہے ہیں۔ پتا نہیں کتنی دیر تک جاری رہیں گے۔ کہیں یہ دس ہزار مجھے مہنگے نہ پڑیں۔“

    ”آپ فکر نہ کریں۔ ہم آپ کو 20ہزار ادا کریں گے۔“ خان عبدالرحمن جلدی سے بولے۔

    انسپکٹر جمشید نے انہیں گھورا۔ پھر وہ اٹھ کر چلے آئے۔ دوسرے دن ٹھیک آٹھ بجے وہ پروفیسر سام کے دروازے کی گھنٹی بجا رہے تھے۔ وہ فوراً ہی باہر آگئے۔ اب خان عبدالرحمن کی بڑی گاڑی میں ساحل کی طرف اشاروں میں کہا:

    ”ابا جان! اس گاڑی میں کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔ مہربانی فرما کر گاڑی کو چیک کرالیجیے۔“

    انسپکٹر جمشید نے چونک کر فاروق کی طرف دیکھا۔

    ”کیا تم نے کوئی بات محسوس کی ہے؟“

    ”جی نہیں! بات تو کوئی محسوس نہیں کی، لیکن نہ جانے کیوں یہ خیال بار بار آرہا ہے کہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہے۔“

    ”محمود ! تم کیا کہتے ہو؟“

    ”وہی جو فارو ق نے کہا ہے۔“ محمود نے بھی پریشانی کے عالم میں کہا۔

    ”خوب خوب …. خان عبدالرحمن …. تم؟“

    ”میں نے ایسی ویسی کوئی بات محسوس نہیں کی۔ “ انہوں نے منہ بنایا۔

    ”پروفیسر صاحب! آپ کیا کہتے ہیں۔“

    ”میں نے تو بالکل کوئی بات محسوس ہی نہیں کی۔“

    ”لیکن مشکل ایک اور ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”اور وہ کیا جمشید۔“ پروفیسر داﺅد جلدی سے بولے۔

    ”یہ کہ میں بھی یہی بات محسوس کررہا ہوں اور ان دونوں کی نسبت پہلے سے محسوس کررہا ہوں ۔‘ ‘ انہوں نے پریشانی کے عالم میں کہا۔

    ”تب پھر آگے چلنے سے پہلے گاڑی کو چیک کرنا بہتر ہوگا۔ آپ لوگوں کے ساتھ کہیں میں بھی نہ مارا جاﺅں اور یہ دس ہزار روپے مجھے مہنگے نہ پڑیں۔“ پروفیسر جیفر سام نے گھبرا کر کہا۔

    ”ٹھیک ہے….گاڑی روک دو۔“

    گاڑی رک گئی۔ وہ نیچے اتر آئے اب گاڑی کی اچھی طرح تلاشی لی گئی۔ یہاں تک کہ بعد میں پروفیسر داﺅد نے آلات کے ذریعے بھی تلاش لی، لیکن کوئی ایسی ویسی چیز نہ ملی۔

    ”میرا خیال ہے ہمیں وہم ہوا ہے آﺅ چلیں۔“

    وہ ایک بار پھر روانہ ہوئے۔ فاروق نے بے چینی کے عالم میں پہلو بدلا۔ انسپکٹر جمشید اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ یہی حالت محمود کی نظر آئی گویا ان کا احساس ابھی تک باقی تھا۔

    پھر وہ ساحل پر پہنچ گئے۔ لانچ بالکل تیاری کھڑی تھی۔ اکرام انہیں ساحل پر کھڑا نظر آیا۔ لانچ کا ڈرائیور اپنی سیٹ پر چوکس بیٹھا تھا۔

    ”ہاں اکرام ! کہیں کوئی گڑبڑ تو محسوس نہیں ہوئی؟“

    ”جی…. جی نہیں۔ ہر طرح خیریت ہے۔“

    ”ٹھیک ہے تم اپنے چند ماتحت یہاں مقرر کردو۔ پروفیسر سام ہمیں جزیرے تک پہنچا کر واپس آئیں گے۔ انہیں گھر پہنچانا ہوگا۔“

    ”ٹھیک ہے جناب! انہیں یہاں گاڑی تیار ملے گی۔“

    اب وہ لانچ میں سوار ہوکر روانہ ہوئے۔ اکرام نے ہاتھ ہلا کر انہیں الوداع کہا۔ جلد ہی لانچ اکرام کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ وہ اپنی گاڑی پر آیا ماتحت ساتھ تھے۔ اس نے ماتحتوں کو ہدایات دیں اور خود خان عبدالرحمن کی گاڑی کی طرف بڑھا۔ عین اس لمحے ایک زبردست دھماکا ہوا اور گاڑی کے پرخچے اُڑ گئے۔ اکرام اچھل کر دور جا گرا، وہ چند لمحے تک پھٹی پھٹی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھتا رہا۔ اس کے ماتحت بھی اپنی گاڑی سے باہر نکل آئے تھے۔ ان کے چہروںپر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔

    آخر اکرام نے انسپکٹر جمشید کے نمبرملائے اور سلسلہ ملنے پر وہ بولا©:

    ”سر! گاڑی کے پرخچے اڑگئے۔“

    ”کیا مطلب ؟“ ان کے منہ سے مارے حیرت کے نکلا۔

    اکرام نے وضاحت کی، تو وہ سکتے میں آگئے۔ آخر انہوں نے کہا۔

    ”ٹھیک ہے۔ اپنے مزید ماتحتوں کو بلا لو۔ جائے واردات پر اپنی کارروائی مکمل کرلو۔“

    ”بہت بہتر جناب۔“

    فون بند کرکے انسپکٹر جمشید ان کی طرف مڑے۔

    ”ہم تینوں کا احساس درست تھا۔ گاڑی میں بم تھا۔ خان عبدالرحمن کی گاڑی ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔“

    ”کیا….نہیں۔“ وہ چلائے ۔

    چند لمحے تک وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ 

    ایسے میں پروفیسر داﺅد کھوئے کھوئے انداز میں بولے۔

    ”لیکن ہم نے تو گاڑی کو بہت اچھی طرح دیکھا تھا۔“

    ”ہمارا خیال درست تھا گاڑی میں گڑ بڑ تھی۔ حیرت اس پر ہے کہ ہم اس کے بارے میںجان کیوں نہ سکے۔“


    تیسرا حصہ

    ”اور میں اب اور زیادہ خوف محسوس کررہا ہوں۔ میرا خیال ہے ہمیں واپس ساحل پر چلنا چاہیے۔ ہم اپنا یہ سفر پھر سے شروع کریں گے کیونکہ روانہ ہونے سے پہلے ہم نے لانچ کو بھی چیک نہیں کیا۔“ فاروق نے جلدی جلدی کہا۔

    ”اب اس کا کوئی فائدہ نہیں جو ہونا ہے ، ہوکر رہے گا۔ پھر ہمیں جزیرہ نانگا پر تو جانا ہی ہے ہم کیسے رک سکتے ہیں؟“

    ”مم…. میر ا مشورہ بھی یہی ہے کہ واپس چلتے ہیں۔“ پروفیسر سام نے کانپتی آواز میں کہا۔

    ”اگر اس لانچ پر بم موجود ہے تو یہ ہمارے واپس پہنچنے سے پہلے پھٹ جائے گا، لہٰذا واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہاں لانچ کی رفتار بڑھا کر جلد از جلد جزیرے پر پہنچنے کی کوشش کرلی جائے اوراس دوران لانچ کی تلاشی جاری رکھی جائے۔“

    ”یہ ٹھیک رہے گا جمشید۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”تب پھر آپ اپنے آلات کے ذریعے تلاشی لے لیں۔“

    ”وہ تو میں نے پہلے بھی لی تھی، لیکن گاڑی سے کوئی بم نہیں ملا تھا حالاں کہ بم گاڑی میں موجود تھا۔“

    ”اس پرہم سب کو حیرت ہے، لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔“

    انہوں نے لانچ کی اچھی طرح تلاشی لی، لیکن کوئی بم دم نہ ملا۔ ان کا سفر جاری رہا۔ آخر کار پروفیسر سام کی آواز ابھری:

    ”وہ رہا جزیرہ نانگا۔“

    وہ سب جزیرے کو دیکھنے میں محو ہوگئے اور لانچ ساحل سے جالگی۔ وہ اتر پڑے ان کے ساتھ پروفیسر سام بھی اتر آئے اور بولے: 

    ”یہ چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ دو کلو میٹر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں بہت گھنے درخت ہیں اور بہت زیادہ بڑ ے اور تن آور ہیں۔ میں حیران ہوں آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں یہاں تو کوئی بھی نظر نہیں آرہا۔“

    ”ہمارے ساتھی اور انہیں اغوا کرنے والے آگے کہیں ہوں گے۔ ہمیں پورا جزیرہ تو نظر نہیں آرہا۔“ انسپکٹر جمشید نے منہ بنایا۔

    ”ہاں! یہی بات ہے جمشید۔ پروفیسر صاحب اب آپ واپس جاسکتے ہیں۔ کپتان صاحب آپ انہیں لے جائیں۔ ساحل پر ان کے لیے گاڑی تیار ملے گی۔“

    ”اوکے سر۔“ اس نے کہا۔ وہ بھی ان کے ساتھ لانچ سے اتر کر ساحل پر آگیا تھا۔

    ”نن…. نہیں۔ “ پروفیسر سام ہکلائے۔

    ”جی…. کیا کہا آپ نے؟“

    ”مجھے …. خوف محسوس ہورہا ہے۔ کہیں گاڑی کی طرح یہ لانچ بھی نہ اڑ جائے۔“

    ”ارے ! باپ رے۔“ ڈرائیور بھی کانپ گیا۔

    ”لیکن ہمارے ساتھ آپ کیسے رہ سکیں گے؟ ہم تو یہاں موت اور زندگی کی جنگ لڑنے آئے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں۔“ انسپکٹر جمشید یہاں تک کہہ کر خاموش ہوگئے۔

    ”کیا معلوم نہیں۔“

    ”مجرم نے ہمیں یہاں کس لیے بلایا ہے۔“

    ”کس لیے بلایا ہے؟“

    ”وہ ہمیں مو ت کے گھاٹ اتار دینا چاہتا ہے۔“

    ”لیکن کیوں؟“

    ”اس وقت وہ جس ملک کے لیے کام کررہا ہے۔ اس ملک کی یہی خواہش ہے۔ حاجو خان اور میری بیگم وغیرہ کو اغوا کرکے یہاں لانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ ہم سب کو آسانی سے ٹھکانے لگا سکے۔“

    ”اور آپ یہاں آگئے۔“ پروفیسر سام نے حیران ہوکر کہا۔

    ”اور ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔ بلتان کی منصوبہ بندی اس قسم کی ہوتی ہے۔ وہ ہر طرف سے اپنے دشمن کو بالکل بے بس کردیتا ہے اور ہمارے ساتھ بھی وہ ایسا ہی کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔“

    عین اس لمحے کان پھاڑ دینے والا ایک دھماکا ہوا۔ وہ بری طرح اچھل کر دور جا گرے۔ انہوں نے خود کو سنبھال کر ساحل کی طرف دیکھا تو لانچ کے پرخچے پانی پر تیرتے نظر آئے۔ بہت سے ٹکڑوں کو آگ لگ چکی تھی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتے رہے۔

    ”اللہ اپنا رحم فرمائے۔ یہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے جمشید۔“ پروفیسر داﺅد نے لرزتی آواز میں کہا۔

    ”اور…. اب …. اب میرا کیا ہوگا؟ میں کیسے واپس جاﺅں گا۔“پروفیسر سام نے تھرتھرائی آواز میں کہا۔

    ”اور میں…. میں ۔“کپتان ہکلایا۔

    ”مجھے افسوس ہے کہہمارے ساتھ آپ لوگ بھی مصیبت میں پھنس گئے۔ لیکن آپ دونوں فکر نہ کریں ۔ میں ابھی آپ کے لیے لانچ منگواتا ہوں۔“

    ”لیکن کیسے؟“ پروفیسر سام بولے۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”لانچ یہاں تک آئے گی کیسے؟ نانگا جزیرے کا راستہ کپتان کیسے معلوم کرے گا۔ یہ تو میں تھا جو آپ لوگوں کو یہاں تک لایا ہوں۔“

    ”اوہ…. اوہ۔“

    ان کے منہ سے نکلاہ پھر اچانک انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کوئی مسئلہ نہیں۔“

    ”جی ؟ کیا کہا آپ نے؟ کوئی مسئلہ نہیں؟“ پروفیسر سام بولے۔

    ”ہاں ! میں نے یہی کہا ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں میں آپ دونوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس بھجوائے دیتا ہوں۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے میں برابر موبائل پر رابطہ رکھوں گا اور یہاں ہم کپڑے اور خشک شاخوں کو آگ لگا کر دھواں بلند کرتے جائیں گے۔ پائلٹ دھواں دیکھ کر آخر یہاں پہنچ جائے گا۔“

    ”بس تو پھر پہلے آپ یہی کام کریں۔ “ پروفیسر سام نے جلدی سے کہا۔

    ”ہاں! کیوں نہیں ہم اپنے ساتھ آپ دونوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔“

    انہوں نے موبائل نکالا نمبر ڈائل کرنا چاہا، لیکن ان کا فون بند تھا۔

    ”میرا فون بند ہے، محمو داپنا فون مجھے دو۔“

    اس نے گھبرا کر اپنا فون نکالا۔ وہ بھی بند تھا، اب تو سب نے اپنے اپنے فون دیکھے…. سب بند تھے۔

    ان کے رنگ اڑ گئے۔ چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ ایسے میں جزیرہ ایک آواز سے گونج اٹھا۔

    ”خوش آمدید انسپکٹر جمشید! مجھے تمہارا ہی انتظار تھا اور مجھ سے زیادہ تمہاری بیوی، بیگم شیرازی ، حاجو خان اور اس کے بیوی بچوں کو تمہارا انتظار تھا۔ ان لوگوں کا خیال تو یہ تھا کہ تم ان کے نجات دہندہ بن کر آﺅگے اور میرا خیال یہ تھا کہ تم بھی اپنی موت کی تلاش میں یہاں آﺅگے۔“

    ”شکریہ! موت کا کیا ہے وہ تو ایک دن آکر رہے گی۔“

    ”تب پھر آگے چلے آﺅ موت تیار ہے۔“

    ”کیا کہا موت تیار ہے؟“ پروفیسر سام چلا اٹھے۔

    ”بھائی صاحب! آپ مو ت تیار ہے تو ا س طرح کہہ رہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں، کھانا تیار ہے۔“ محمود نے جھلا کر کہا، لیکن اس نے یہ الفاظ بلند آواز میں نہیں کہے تھے۔

    ”فکر نہ کرو پہلے تمہیں کھانا کھلایا جائے گا۔ پھر موت کی نیند سلایا جائے گا۔“

    ”ارے باپ رے! بھائی صاحب نے تو میری آہستہ آواز بھی سن لی۔“

    ”ا س جزیرے پر سوئی گرنے کی آواز بھی میں سن لوں گا۔“

    ”آپ کی تعریف۔“ محمود نے بلند آواز میں پوچھا۔

    ”پروفیسر صاحب! میراتعارف اس سے کرادو۔“ آواز آئی۔

    ”کک…. کون سے پروفیسر صاحب یہاں تو دو عدد پروفیسر موجود ہیں۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”آپ تو کیا تعارف کرائیں گے، ہاں پروفیسر جیفر شاید کر ادیں۔“

    ”نن…. ہاں۔“ وہ ہکلائے۔

    ”آپ نے ہاں کہا یا نہیں۔“

    ”اپنے ساتھ آپ لوگ مجھے بھی لے بیٹھے۔ اب مجھے بھی آپ کے ساتھ مرنا پڑے گا۔“

    ”مرنا تو آپ کو ویسے بھی پڑے گا اور موت تو سب کو آئے گی۔“

    ”اور میں …. میں تو بالکل مفت میں مرگیا۔“ لانچ کے کپتان نے لرزتی آوازمیں کہا۔

    ”میں آپ دونوں کو واپس بھجوادیتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کیا کہا آپ نے؟ آپ ہمیں واپس بھجواسکتے ہیں، وہ کیسے؟“ کپتان کے لہجے میں بلا کی حیرت در آئی۔

    ”ہاں ! بھجواسکتا ہوں کیوں پروفیسر سام؟ آپ واپس جانا پسند کریں گے یا ہمارے ساتھ ٹھہرنا۔“

    ”حد ہوگئی بھلا میں کیوں آپ لوگوں کے ساتھ ٹھہروں گا؟ ویسے لگتا ہے جزیرے پر آتے ہی آپ کا دماغ الٹ گیا ہے۔“

    ”اللہ کی مہربانی سے ایسا نہیں ہے۔“

    ”تب پھر آپ ہمیں کس طرح بھجواسکتے ہیں۔ پہلے ذرا اس کی وضاحت کردیں۔“

    ”ابھی میرے پاس اپنے ماتحتوں سے رابطہ کرنے کا ایک ذریعہ موجود ہے۔“

    ”اور…. اور وہ کیا ؟“ وہ سب ایک ساتھ بولے۔

    ”میری گھڑی۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”حد ہوگئی…. گھڑی نہ ہوئی ٹیلی فون ہوگیا۔“

    ”ابھی دکھاتا ہوں۔“

    یہ کہہ کر انہوں نے گھڑی کی طرف ہاتھ اٹھایا۔ ایسے میں پروفیسر سام مارے خوف کے چلائے۔

    ”اُف …. وہ دیکھیے۔“

    ساتھ ہی انہوں نے ایک جانب اشارہ کیا۔ سب نے بوکھلا کر اس طرف دیکھا اور پھر انہیں اپنی رگوں میں خون جمتا محسوس ہوا۔

    انسپکٹر جمشید بھی گھڑی کا بٹن دبانے سے رہ گئے۔ ان گنت رائفلیں درختوں کے پیچھے سے ان کی طرف تنی ہوئی تھیں۔

    ”حرکت نہ کرنا ، انسپکٹر جمشید ورنہ پرخچے اڑجائیں گے۔“

    وہ ساکت رہ گئے ۔

    ”تم لوگوں کے پاس جو کچھ بھی ہے نیچے گرا دو اور پندرہ قدم گن کر آگے آجاﺅ۔ انسپکٹر جمشید تم اپنی گھڑی کو ہاتھ نہیں لگاﺅگے۔ ہاتھ سر سے بلند کرکے کھڑے رہو۔ تمہارے ہاتھ سے گھڑی پروفیسر اتاریں گے۔ باقی لوگ اپنی سب چیزیں اتار کر نیچے گرادیں ۔ جسموں پر صرف کپڑے رہ جائیں ۔“

    انہوں نے اپنی چیزیں گرادیں۔

    ”پروفیسر سام! آپ انسپکٹر جمشید کی گھڑی اتار کر سمندر میں پھینک دیں…. تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔“

    ”جج…. جی ….جی اچھا…. حضور…. لل…. لیکن ۔“

    ”لیکن کیا؟“ پوچھا گیا۔

    ”اگر انہوں نے مجھ پر حملہ کردیا تو؟“

    ”ا ن کے پیچھے سے آکر گھڑی اتارلیں، یہ پوری طرح ہماری زد پر ہیں۔“

    ”اچھی بات ہے۔“ پروفیسر سام نے کہا۔

    اور پھر اس نے ان کی کمر کی طرف آکر گھڑی اتارلی۔ انہوں نے کوئی حرکت نہ کی۔ وہ واقعی پوری طرح زد پر تھے اور جو رائفلیں ان پر تنی ہوئی تھیں ، وہ بہت خوفناک تھیں۔

    ”پروفیسر سام! آپ نے گھڑی سمندر میں گرادی؟“

    ”جی ….جی ہاں۔“ وہ بولے۔

    ”اب سب لوگ پندرہ قدم آگے آجائیں۔“

    ان سب نے انسپکٹر جمشید کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہے ہوں اب کیا کریں؟

    ”جو کہا گیا ہے ، کرو۔ ہمارے پیچھے سمندر ہے اور آگے بلتان اور ابھی ہماری اپنے ساتھیوں سے ملاقات بھی نہیں ہوئی لہٰذا پندرہ قدم گن ڈالو۔“ انہوں نے خوش گوار لہجے میں کہا۔

    ”لیکن جناب! اس سارے معاملے میں میرا کیا قصور ہے؟“ کپتان نے روتی آواز میں کہا۔

    ”آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہمارا بھی کوئی قصور نہیں، یہ سب تو لکھا ہوا ہے، انسان کے مقدر میں جو لکھ دیا گیا ہے وہ پیش آکر رہے گا، لہٰذا صبر کرو۔ ایک بات میں تم سے کہے دیتا ہوں اور وہ یہ کہ پہلے ہم مریں گے بعد میں تمہاری باری آئے گی۔ یہ نہیں ہوگا کہ کسی موقعے پر ہم اپنی جانیں بچانے کے لیے آپ کو آگے کردیں۔“

    ”لیکن اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا۔“ اس نے برا سا منہ بنایا۔

    ”اگر یہ بات ہے تو پھر سن لیں۔ مرنا تو آپ کو ویسے بھی پڑے گا۔ موت اس جزیرے پر آئے یا کسی اور جگہ آئے۔“

    ”تم لوگ بلاوجہ دیر لگارہے ہو۔ ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قدم اٹھانے کی کرو۔“

    انہوں نے قدم اٹھانے شروع کردیے۔ جلدہی آواز پھر ابھری:

    ”یہ کیا؟ کچھ لوگ پیچھے کیوں رہ گئے ہیں۔“

    انسپکٹر جمشید، خان عبدالرحمن اور پروفیسر داﺅد نے چونک کر دیکھا۔ محمود اور فاروق باقی سب سے کئی قدم پیچھے نظر آئے:

    ”کیا ہوا تمہیں؟“

    ”جی…. ہوا تو کچھ بھی نہیں۔“ محمود مسکرایا۔

    ”تو پھر پیچھے کیوں رہ گئے؟“

    ”آپ کے قدم لمبے ہیں اور ہمارے چھوٹے، لہٰذا ہم پندرہ قدم اٹھا کر وہاں نہیں پہنچ سکیں گے جہاں آپ لوگ پہنچ جائیں گے۔“ محمود نے جلدی جلدی کہا۔

    وہ مسکرادیے۔ ادھر جھنجھلاتی ہوئی آواز میں کہا گیا:

    ”تم بھی بڑوں کے پاس پہنچ جاﺅ۔ پندرہ قدم کا مطلب یہ نہیں کہ تم اپنے ساتھیوں تک پہنچنے کے لیے کوئی اور قدم اٹھا ہی نہیں سکتے۔“ 

    ”اب آپ نے کہا ہے تو اٹھا لیتے ہیں۔ ہمارا کیا جاتا ہے۔ ہم اپنے ساتھیوں سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔“

    ”نہیں! اس کی ضرورت نہیں۔ اِدھر اُدھر کی باتیں نہ کرو۔ میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔“

    ”اچھی طرح جانتے ہیں…. کیا مطلب؟“

    ”مطلب یہ کہ تم لوگ اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگا کر اپنا کام نکالنے کے ماہر ہو، لیکن میں تمہیں کوئی موقع نہیں دوں گا۔“

    ”چلیے خیر…. نہ دیجیے گا موقع۔ ہم آپ سے مانگیں گے بھی نہیں۔“ محمود نے برا سا منہ بنایا۔

    ”کیا نہیں مانگیں گے ۔ “ بلتان نے اسے گھورا۔

    ”بھئی موقع اور کیا۔“

    ”آپ لوگوں کے ساتھ میں بھی پھنس گیا۔ وہ دس ہزار میرے کس کام آئے؟“

    ”بعد میں کام آجائیں گے فکر نہ کریں۔“ محمود نے جلدی سے کہا۔

    ”میں، میں آگے نہیں جاﺅں گا۔ میں تو بس جزیرے کے کنارے پر رہوں گا۔ کیا خبر کوئی جہاز یا لانچ اس طرف آجائے۔ اس صورت میں اس پر سوار تو ہو سکوں گا، لیکن اگر میں آپ لوگوں کے ساتھ آگے چلا گیا، تو ایسا کوئی موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔“

    ”اگر مسٹر بلتان آپ کو اجازت دیتے ہیں، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے خوش گوار لہجے میں کہا۔

    ”اگر یہ دونوں حضرات کنارے پر جا کر کسی گزرتے جہاز کا انتظار کرنا چاہیں، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں شوق سے چلے جائیں۔ اگر ان دونوں نے آپ لوگوں کی کسی بھی طرح سے مدد کرنے کی کوشش کی، تو پھر ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔“

    ”ٹھیک ہے ہم کیوں کریں گے ان کی مدد؟ ان کی وجہ سے تو ہم اس مصیبت میں پھنسے ہیں۔ ہماری طرف سے یہ لوگ جائیں جہنم میں۔“

    ”ایسا تو نہ کہو۔ کیا تم نے اپنے بارے میں ہمارے والد کے الفاظ نہیں سنے، یعنی ان کے جذبات کیا ہیں اور آپ کیا سوچ رہے ہیں۔“

    ”آپ لوگ اگر ہم سے پہلے اپنی جانیں دے دیتے ہیں، تو اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوجائے گا؟ ہم دونوں بھی اپنی جان سے تو ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔“

    ”اب بات سمجھ میں آئی۔ آپ دونوں جزیرے کے کنارے اس لیے ٹھہرنا چاہتے ہیں کہ جان سے ہاتھ دھونے کے بجائے پانی سے ہاتھ دھوسکیں۔“ محمود نے جل بھن کر کہا اور وہ سب مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔

    ”ہم کچھ بھی کریں آپ کو کیا اور میرا خیال ہے ان کے دشمن کو ہمارے الگ ہوجانے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“

    ”بالکل نہیں آپ دونوں خوشی سے کنارے پر چلے جائیں، لیکن اگر کوئی چال چلنے کی کوشش کی تو نقصان میں رہیں گے۔“

    ”ہم کوئی چال نہیں چلیں گے۔ ہمیں ضرورت بھی کیا ہے کچھ کرنے کی؟ یہ لوگ ہمارے کس کام آئیں گے۔ رہ گئے آپ…. آپ سے نہ ہماری دوستی ہے نہ دشمنی اس لیے آپ سے کوئی امید ہوسکتی ہے کیونکہ وقت کی باگ ڈور اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے۔“

    ”آپ دونوں عقل مند ہیں۔ کنارے پر چلے جائیں اور ہمیں ان لوگوں سے فارغ ہولینے دیں۔ پھر آپ کو ساحل کی طرف بھجوادیا جائے گا۔“

    ”بہت خوب…. آپ کا شکریہ ! آپ بہت اچھے ہیں۔“ پروفیسر سام نے خوش ہوکر کہا۔

    ”تب پھر ایک کام کرتے جائیں۔“ آواز آئی۔

    ”جی …. وہ کیا؟“ 

    ”ان لوگوں نے جو چیزیں گرائی ہیں، وہ اٹھا کر لے جائیں اور سمندر میں گرادیں۔“

    ”اچھی بات ہے۔“

    ”اور میرے تین ساتھی ان لوگوں کی اچھی طرح تلاشی لیں۔ کوئی چیز ان کے پاس رہ گئی ہو تو وہ بھی نکال کر سمندر میں گرادی جائے۔“

    اس پر عمل کیا گیا۔ ایسے میں اچانک انسپکٹر جمشید کی آنکھیں مارے حیرت کے پھیل گئیں۔

    انسپکٹر جمشید اتنے زور سے چونکے تو ان کے ساتھی بھی حیران رہ گئے۔

    ”کک…. کیا ہوا ابا جان؟“ محمود گھبرا کر بولا۔

    ”ایک خیال آیا ہے۔ کیا پروفیسر جیفر سام اور کپتان ساحل کی طرف جا چکے ہیں؟“ وہ بولے۔

    ”جی ہاں وہ تو ان لوگوں کے تلاشی شروع کرنے سے پہلے چلے گئے تھے۔“

    ”خفیہ عمارت نمبر ایک کو جب بلتان کے آدمیوں نے گھیرا تھا، تو ہم وہاں ایک آواز سنتے رہے تھے….“ انہوں نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔

    ”جی…. جی ہاںبالکل سنتے رہے ہیں۔“

    ”بعد میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ آواز بلتان کی نہیں تھی۔“

    ”جی…. جی ہاں! یہی بات ہے۔“

    ”اب جو ہم نے آواز سنی ہے۔ کیا یہ وہی نہیں ہے؟“

    ”اوہ جی ہاں! یہ وہی آواز ہے، تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ بلتان کی آواز ہے۔“ 

    ”میں ابھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ آواز بلتان کی ہے یا کسی اور کی، لیکن یہ آواز ہے وہی جو ہم خفیہ عمارت نمبر ایک کے باہر سنتے رہے ہیں۔“

    ”مطلب یہ کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ یہی بلتان ہے۔“

    ”ہاں! یہ کہا جاسکتا ہے۔“

    ”لیکن انسپکٹر جمشید۱ اس سے کیا فرق پڑتا ہے بھلا۔“ آواز لہرائی۔

    ”یہ میں بعد میں بتاﺅں گا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ان کی یہ مسکراہٹ بہت عجیب تھی۔ اس مسکراہٹ نے ان کے ساتھیوں کو شدید الجھن میں ڈال دیا۔

    ”کیا مطلب ؟“ وہ بول اٹھے۔

    ”ابھی اس کامطلب رہنے دیں۔“ وہ ہنسے۔

    ”لیکن ابا جان! ہم شدید الجھن محسوس کررہے ہیں۔“

    ”کوئی بات نہیںکرتے رہیں الجھن محسوس۔“ انہوں نے پھر عجیب اندا ز میں کہا۔

    ”مطلب یہ کہ آپ کو کوئی خاص بات معلوم ہوگئی ہے۔“ فاروق نے ان کی طرف غور سے دیکھا۔

    ”ہاں ! تم یہ کہہ سکتے ہو۔“

    ”اب یہ اپنی اِدھر اُدھر کی باتیں ختم کرو اور قدم اٹھاﺅ۔ میرے ماتحتو! تم یہ ہدایت سن لو کہ اگر اب ان کے قدم رکیں تو فائر کردینا۔“

    ”اوکے سر!“

    ”پیچھے سے چند ہوائی فائر کرکے انہیں جتادو کہ تم لو گ ان کے پیچھے موجود ہو اور بہت آسانی سے تم انہیں نشانہ بناسکتے ہو۔ سب لوگ ایک ہی وقت میں فائر کریں۔“

    ”اوکے سر!“

    اس کے ساتھ ہی جزیدہ ان گنت گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ جزیرے کے پرندے خوف زدہ انداز میں درختوں سے اڑے اور ان کا بے تحاشا شور مچ گیا، اب تو گویا کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی…. ان کے قدم اٹھتے رہے۔ تین چار منٹ بعد کہیں جاکر پرندے پرسکون ہوئے۔

    ”کیا ضرورت تھی ان پرندوں کو خوف زدہ کرنے کی؟“

    انسپکٹر جمشید نے برا سا منہ بنایا۔

    ”تم لوگ پوری طرح ہماری زد پر ہو صرف یہ بتایا ہے۔“

    ”یہ بات تو ہم اس جزیدے پر قدم رکھنے سے پہلے سے جانتے تھے۔“ انسپکٹر جمشید جھلا اٹھے۔

    ”آگیا غصہ…. میں نے تو سنا تھا انسپکٹر جمشید کو غصہ نہیں آتا اور دشمنوں سے مقابلے میں یہی ان کی کامیابیوں کا رازہے۔“

    ”میں بھی آخر انسان ہوں کبھی آبھی جاتا ہے۔“ وہ ہنس دیے۔

    وہ چلتے رہے،پندرہ منٹ بعد ایک کھلے میدان میں داخل ہوئے۔ اس کے چاروں طرف درخت ایک دائرے کی صورت میں تھے۔ گویا اس وقت وہ ان درختوں کے گھیرے میں تھے۔

    ”ان کے ساتھی نیچے لٹکادو۔“

    ”کیا کہا نیچے لٹکا دو۔“ مارے حیرت کے ان کے منہ سے نکلا۔ ساتھ ہی انہوں نے اوپر دیکھا درختوں سے چند رسیاں لٹکتی نظر آئیں۔ ان کے سروں پر ان کے ساتھی بری طرح بندھے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیچے آرہے۔

    ”اُف اتنا ظلم سربلتان! میں آپ کو ایسا نہیں سمجھتا تھا۔ خیر …. میں آپ کو اس ظلم کا مزہ چکھاﺅں گا۔“

    ”خوب بہت خوب پہلے اپنے ساتھیوں کی خبر لے لو۔“

    ”محمود جلدی کرو چاقونکالو۔“

    محمود نے جوتے کی ایڑھی سرکائی اور پھر دھک سے رہ گیا۔ ایڑی میں چاقو نہیں تھا۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔

    ”چاقو غائب ہے ابا جان۔“

    ”اوہو اچھا! خیر کوئی بات نہیں۔“

    ”انہیں کوئی چاقو دے دو بھئی۔ بے چارے آخری بار اپنے ساتھیوں سے مل لیں گے۔“

    اوپر سے ایک چاقو نیچے آگرا۔ وہ عام سا چاقو تھا۔ انہوں نے ا س کے ذریعے رسیاں کاٹنی شروع کردیں اور جلد ہی وہ آزاد ہوگئے۔ ان کے ہونٹوں پر بھی ٹیپ چپکائی گئی تھی۔ اسے اتارتے وقت انہیں شدید تکلیف محسوس ہوئی۔منہ کھلتے ہی ان سب نے کہا:

    ”اللہ کا شکر ہے اس مصیبت سے نجات ملی اور آپ لوگوں کی شکل نظر آئی۔“

    ”اچھی طرح اللہ کا شکر ادا کرلو۔ آج تم لوگوں کی زندگیوں کا آخری دن ہے۔“

    ”تب پھر پہلے ہمیں یہ بتادیں کہ حاجو خان سے آپ کیا کام لے رہے تھے۔ دفتر کے لوگوں کی چیزیں کیوں اس کے ذریعے اڑا رہے تھے۔“

    ”پہلے چند آدمیوں کی چھوٹی چھوٹی چیزیں اڑ ا کر حاجو خان کو یہ احساس دلایا تھا کہ یہ کام بے ضررہے۔ پھر اس کے ذریعے نصیر الدین شاہ کی دراز میں گھڑی رکھوانے کا پروگرام تھا، لیکن حاجو خان کم بخت دھوکا دے گیا۔

    امید نہیں تھی کہ وہ ایسا ثابت ہوگا۔ میرا تو خیال تھا وہ پوری طرح شیشے میں اتر چکا ہے، لیکن ہو ااِس کا اُلٹ۔ خیر …. کوئی بات نہیں۔ تم لوگوں کے ساتھ اس کا بھی کانٹا نکال دیاجائے گا۔ جب تم ایک دوسرے کو خوب جی بھر کر دیکھ چکو تو بتا دینا۔ اُس وقت میرے ساتھی درختوں پر سے فائرنگ کرکے تم لوگوں کو اگلے جہاں پہنچادیں گے۔“

    ”اچھی بات ہے، لیکن یہ تو کوئی مزے داری نہ ہوئی۔“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہوکر کہا۔

    ”کیا مطلب؟“

    ”مسٹر بلتان! کم ا ز کم ہماری اور آپ کی ملاقات تو ہونی چاہیے تھی۔“

    ”اچھی بات ہے۔ تم سے ملاقات بھی کر لیتا ہوں۔ کہیں مرتے وقت تم یہ خوش فہمی لے کر نہ مرو کہ میں تم سے ڈر رہا تھا ، اس لیے سامنے نہیں آیا۔“

    ”چلیے ٹھیک ہے۔ ہم یہ خوش فہمی لے کر نہیں مریں گے وعدہ کرتے ہیں۔“ فاروق نے خوش ہوکر کہا۔

    ”حد ہوگئی یہ خوش ہونے کا کون سا موقع ہے؟“

    ”اچھا جب خوش ہونے کا موقع آئے تو بتادینا۔“ اس نے برا سا منہ بنایا۔

    اب انہوں نے اپنے ساتھیوں کی طرف توجہ دی۔

    ”ہمیں افسوس ہے کہ یہ لوگ آپ لوگوں کو اغوا کرکے لے آئے۔ غلطی ہماری تھی۔“

    ”اب تو جوہونا تھا ہوچکا۔“ حاجو خان نے پریشانی کے عالم میں کہا۔

    ”موت کا وقت مقررہے اور اپنے وقت پر آکر رہتی ہے۔ بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معاف کردے، ہمارے گناہوں سے درگزر کرے۔“

    ”آمین ۔“ ان سب کے منہ سے نکلا۔ ساتھ ہی آنکھو ں میں آنسو آگئے۔

    ”انسپکٹر جمشید! تم لوگوں کی آنکھوں میں آنسو؟ میں نے تو سنا تھا تم لوگ وہ ہو جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہو، لیکن میں تو تم لوگوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ رہا ہوں۔“

    ”یہ آنسو حاجو خان اور اس کے بیوی بچوں کے لیے ہیں۔ ہم ان کی حفاظت نہ کرسکے۔ وہ ہماری پناہ میں تھے۔“

    ”اس میں آپ کا کیا قصور؟“ حاجو خان کے منہ سے نکلا۔

    ”کیا تم لوگ ایک دوسرے سے مل چکے؟“

    ”ہاں! لیکن ا ب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔“

    ”میں آرہا ہوں۔ بالکل آرہا ہوں….فکر نہ کریں۔“

    اور پھر خاموشی چھا گئی۔ وہ چارو ں طرف دیکھنے لگے …. درختوں کے حلقے کے اندران کے سوا کوئی نہیں تھا۔

    اچانک انہیں درختوں کے درمیان سے نکل کر کوئی آتا نظر آیا۔

    پھر وہ درختوں کے دائرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر نقاب تھا۔ وہ درمیانے قد کا دبلا پتلا سا آدمی تھا۔ پرسکون انداز میں چلتے ہوئے وہ ان کے سامنے آکھڑا ہوا:

    ”اس نقاب کی ضرورت سمجھ میں نہیں آئی جب کہ ہمیں معلوم ہے آپ بلتان ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے الجھن کے عالم میں کہا۔

    ”میں نے سوچا کہیں تم لوگ مجھے دیکھ کر ڈر نہ جاﺅ۔“

    ”جہاں تک بلتان کے حلیے کا تعلق ہے مجھے معلوم ہے، لہٰذا اس کے حلیے سے تو ہم خوف زدہ ہوں گے نہیں کوئی اور بات ہو تو وہ آپ بتادیں۔“

    ”میرا خیال تھا تم حلیے کے چکر میں پڑنے کی بجائے یہ پوچھو گے کہ میں کیا چاہتا ہوں؟ یہ سارا چکر کیا ہے۔“

    ”اس میں شک نہیں ۔ ضروری یہی ہے، چلیے خیر اگر آپ اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتے تو پھر یہ باتیں بتادیں جن کی طرف خود آپ نے اشارہ کیا ہے؟“

    ”ضرور کیوں نہیں حاجو خان کے محکمے کے ڈائریکٹر پر ہماری ایک مدت سے نظریں تھیں۔ محکمہ اطلاعات بہت اہم ہوتا ہے۔ اس کا ڈائریکٹر اگر ہماری مرضی کا ہو تو بہت سے کام چٹکیوں میں نکل آتے ہیں۔ سو اوپر سے حکم ملا، نصیر الدین شاہ کو ختم کردیاجائے ، لیکن اس طرح کہ تفتیش کرنے والے چکر ہی کھاتے رہ جائیں۔ سو حاجو خان کو چھوٹے چھوٹے معاملات میں دس دس ہزار روپے دے کر قابو کیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ اصل واردات کی باری میں وہ ہاتھ سے پھسل گیا اور اس نے ہدایات کے مطابق عمل نہ کیا۔ اب ظاہر ہے ہمیں نصیر الدین کو تو ٹھکانے لگانا تھا۔ سوچا اس کے ساتھ ہی ، حاجو خان کو بھی مزہ چکھا دیا جائے لیکن یہ حضرت پہنچ گئے آپ کے پاس۔ جب انہیں آپ کے گھر سے اغوا کیا گیا تو پروگرام طے پایا کہ ساتھ میں آپ کے گھر کو بھی لپیٹ میں لیا جائے تاکہ ایک تیر سے تین شکار ہوجائیں چنانچہ دیکھ لیں سب یہاں موجود ہیں۔ نصیر الدین شاہ بھی ہیں۔ ایک ہی بار آپ سب کو لپیٹ دیا جائے گا۔ پھر یہاں لاشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اٹھا کر سمندر میںپھینک دیں گے اور فارغ…. پھر ہم ہوں گے اور آپ کا ملک ہوگا۔ بات ایک ڈائریکٹر پر تو ختم نہیں ہوجائے گی۔ تمام اسلام پسندوں کو ایک ایک کرکے ختم کریں گے اور ان کی جگہ اپنی مرضی کے آدمی لائے جائیں گے…. اس طرح یہ ملک بغیر کسی جنگ کے فتح ہوجائے گا۔ جب انسپکٹر جمشید جیسے لوگ نہیں ہوں گے تو ہمارے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی اور تم لوگوں کے ہوتے ہوئے رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں۔“

    ”یہاں آپ خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔“ انسپکٹر اس کے خاموش ہوتے ہی بولے۔

    ”وہ کیسے؟“

    ”ایسے کہ اس ملک میں ایک ہم ہی نہیں ہیں۔ ہم جیسے نہ جانے کتنے سرپھرے موجود ہیں۔“ 

    ”کوئی پروا نہیں…. باری باری سبھی کو اس جزیرے پر لایا جائے گا اور یہ جزیرہ موت کا جزیرہ بن جائے گا۔“

    ”چلیے ٹھیک ہے۔ اب ذرا آخر میں اپنا چہرہ دکھا دیں تاکہ ہم بھی دیکھ لیں بلتان کیسا ہوتا ہے۔“ انہوں نے شوخ انداز میں کہا۔

    ”اچھی بات ہے۔ تم لوگ بھی کیا یاد کروگے۔“

    اس نے کہا اور چہرے سے نقاب اتار دیا۔ انہوں نے بالکل اس حلیے کے آدمی کو اپنے سامنے دیکھا…. جو حلیہ انہوںنے بلتان کا سن رکھا تھا۔

    ”چلو اس بہانے زندگی میں بلتان کو دیکھ لیا، بہت شہرت سنی تھی آپ کی۔ اب ایک بات اور بتادیں۔“

    ”جو پوچھنا ہے پوچھ لو۔ پھر تمہیں کہاں موقع ملے گا۔“ وہ ہنسا۔

    ”اس مرتبہ آپ کس ملک کے لیے کام کررہے ہیں۔“

    ”انشارجہ کے لیے…. ویسے میں زیادہ تر انشارجہ کے لیے ہی کام کرتا ہوں۔“

    ”خوب بہت خوب میرا بھی یہی اندازہ تھا۔ یہ انشارجہ ہی تو ہے جو ہر ملک کو غلام بنانے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہ بھی بلتان جیسے لوگوں کے ذریعے۔“

    ”بس ہوگئیں تم لوگوں کی باتیں ختم۔ اب ہم اپنا کام کریں گے۔“

    ”میری ایک خواہش تھی۔“ انسپکٹر جمشید کی آواز ابھری۔

    ”کیا مطلب؟کیسی خواہش؟‘ ‘ وہ چونکا۔

    ”دو بے چارے ساحل پر رہ گئے۔ اس معاملے میں واقعی ان کا کوئی قصور نہیں وہ بلاوجہ پھنس گئے۔ میں چاہتا تھا آپ انہیں بھی یہاں بلالیں جو کچھ ہوان کے سامنے ہوجائے۔ اس طرح اس واقعے کے گواہ بھی ہوں گے۔“

    ”ان گواہوں کا تم لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا بھلا؟“

    ”بات فائدے اور نقصان کی نہیں۔ میں تو بس ان کا خیال کرتے ہوئے کہہ رہا ہوں۔ وہ بھی دیکھ لیتے اپنے دین اور ملک کے لیے کس طرح زندگیاں قربان کی جاتی ہیں۔“

    ”اگرچہ اس کی ضرورت نہیں پھر بھی میں اس کو آپ کی آخری خواہش سمجھ کر پوری کیے دیتا ہوں۔ پروفیسر سام اور کپتان صاحب! آپ دونوں تک میری آوز پہنچ رہی ہے نا۔“

    ”جج….جی ہاں پہنچ رہی ہے۔“

    ”بس تو پھر آپ بھی آگے چلے آیئے۔ آپ دونوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔ بس آپ ان لوگوں کی موت کا منظر دیکھیں گے۔“

    ”نن نہیں…. ہم یہ خوفناک منظر نہیں دیکھ سکتے ۔“ پروفیسر سام کی لرزتی آواز سنائی دی۔

    ”میں نے کہا نا آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں …. بس چلے آیئے۔ ورنہ پھر ہم آپ لوگوں کو جزیرے پر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔“

    ”ن…. نہیں…. ایسا نہ کیجیے۔“ ڈرائیور خوف زدہ آواز میں چلا اٹھا۔

    ”تو پھر چلیں آئیں ناک کی سیدھ میں آکر ان کی موت کا منظر دیکھ لیں۔ پھر ہم یہاں سے چلیں گے۔“

    ”چلیے پروفیسر صاحب! اب تو چلنا پڑے گا۔“ 

    ”ہاں …. بالکل۔“

    اور پھر وہ انتظار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دونوں درختوں کے دائرے میں داخل ہوتے نظر آئے۔ ان کے چہروں پر خوف طاری تھا۔

    چوتھا حصّہ؎

    ”آیئے پروفیسر صاحب! آیئے۔“ بلتان چہکا۔

    ”پروفیسر صاحب! میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں۔ یہ ہمارا آخری وقت ہے۔ کیا آپ میری بات سننا پسند کریں گے۔“

    ”آ پ لوگوں ہی نے تو ہمیں اس مصیبت میں پھنسایا ہے۔ ہم آپ کی بات کیوں سنیں۔“

    ”شاید وہ بات آپ کے حق میں ہو۔“

    ”اچھی بات ہے سن لیتا ہوں۔“ پروفیسر سام نے برا سا منہ بنایا اور ان کی طرف دیکھنے لگا۔

    پروفیسر سام کے قدم ان کی طرف اٹھنے لگے۔ ان کی نظریں پروفیسر پر جم کر رہ گئی تھیں۔ ایسے میں محمود نے دبی آوا ز میں کہا۔

    ”ابا جان! آپ پروفیسر صاحب سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟“

    ”بس دیکھتے جاﺅ۔“ وہ بولے۔

    ”جی…. کیا دیکھتے جائیں؟“

    ”یہ کہ میں ان سے کیا کہنا چاہتا ہوں۔“

    ”آپ کہتے ہیں تو دیکھ لیتے ہیں، ہمارا کیا جاتا ہے۔“ فاروق نے منہ بنایا۔

    اور وہ مسکرانے لگے۔ اگرچہ موت کے دہانے پر مسکرانا آسان کام نہیں تھا، لیکن ان کی زندگیوں میں ایسے لمحات آتے ہی رہتے تھے، لہٰذا مسکراسکتے تھے۔ آخر پروفیسر سام ان کے بالکل نزدیک پہنچ گئے۔

    ”ہاں انسپکٹر جمشید آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟“

    ”میں آپ کے کان میں کہنا چاہتا ہوں۔ مہربانی فرما کر اور نزدیک آجائیں۔“

    ”اوہو…. وہ ایسی کیا بات ہے آخر۔“

    ”آپ سن کر حیرت زدہ رہ جائیں گے۔“

    ”چلیے مان لیامیں سن کر دھک سے رہ جاﺅں گا، لیکن بات ہے کیا۔“ 

    ”وہ تو میں کان میں بتاسکتا ہوں۔“

    ”اچھی بات ہے، میں نزدیک آجاتا ہوں۔“

    اس کے قدم اٹھنے لگے یہاں تک کہ وہ ان کے بالکل نزدیک پہنچ گیا۔

    ”لیجیے آگیا نزدیک کہیے کیا کہنا چاہتے ہیں؟“

    ”کان قریب کیجیے نا۔“ انہو ں نے منہ بنایا۔

    پروفیسر سام نے بھی منہ بنایا تاہم وہ ان سے اور نزدیک ہوگیا اور اپنا کا ن ان کے منہ کی طرف کردیا۔

    عین اس وقت انسپکٹر جمشید نے ایک عجیب حرکت کی۔

    وہ عجیب حرکت یہ تھی کہ انسپکٹر جمشید نے پروفیسر سام کی گردن کے گرد اپنا دایاں بازو کس دیا تھا اور بایاں ہاتھ اس کے سر پر اس طرح رکھا کہ جونہی ذرا سا جھٹکا دیں تو اس کی گردن ٹوٹ جائے اور یہ انسپکٹر جمشید کا ایک خاص انداز تھا۔ ایک عجیب داﺅ تھا۔ اس داﺅ سے وہ بڑے سے بڑے ماہر لڑاکے کو قابو میں کرچکے تھے۔ ان کے اس داﺅد کے جواب میں ان کا شکار اگر ذرا بھی حرکت کرنے کی کوشش کرتا تو اس کی گردن ٹوٹ جاتی تھی۔ شکار فوراً محسوس کرلیتا تھا کہ وہ بہت بری طرح پھنس گیا ہے۔

    ”یہ…. یہ کیا انسپکٹر جمشید ؟ تم نے اپنے ساتھی کو اس طرح کیوں پکڑلیا۔“ بلتان کی حیرت زدہ آواز گونجی۔

    ”یہ ہمارا ساتھی نہیں، البتہ ہمارے ساتھ یہاں تک آیا ضرور ہے۔ اب یہ اس حالت میں ہے کہ اس کے جسم کو ذرا بھی حرکت ہوئی تو اس کی گردن ٹوٹ جائے گی۔ یہ خود حرکت کرے یا میں حرکت کروں ، ایک ہی بات ہوگی بلکہ تم میں سے کوئی کسی طرح بھی ہم پر وار کرے، اس کی گردن پہلے ٹوٹے گی۔ اگر یقین نہیں تومسٹر ساکا خود اس سے پوچھ لو۔“

    ”کیا …. کیا کہا مسٹر ساکا؟“ وہ بری طرح اچھلا۔

    ”ہاں! تم بلتان نہیں ہو ساکا ہو۔ ہمارے ملک کا ایک بڑا جرائم پیشہ تم سے میری ملاقات ایک کیس کے سلسلے میں ہوچکی ہے، لیکن تم میرے ہاتھ سے بچ کر نکل گئے تھے۔ میں چونکہ اس وقت تمہاری آوا ز سنتا رہا ہوں، اس لیے اب جب میں نے تمہاری آواز سنی تو میرے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا۔ میرے دماغ نے مجھے فوراً بتایا کہ یہ شخص بلتان نہیں ساکا ہے۔ ایک مقامی جرائم پیشہ کیوں میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟“

    ”نہیں! تم بالکل ٹھیک سمجھے۔“ اس نے ہنس کر کہا۔

    ”خوب! تم نے اتنی بات تو مانی۔ اب اپنے ساتھیوں کو حکم دو، وہ درختوں سے نیچے آجائیں لیکن نیچے آنے سے پہلے اپنے پستول اور رائفلیں گرادیں۔“

    ”کیا آپ پاگل ہوگئے ہیں انسپکٹر جمشید۔“ ساکا غرایا۔

    ”نہیں البتہ تم لوگوں کو پاگل کردینے کا ارادہ ہے اور وہ تم آج ضرور ہوگے۔“

    ”کیا اِدھر اُدھر کی ہانک رہے ہو؟ پروفیسر سام کو چھوڑ دو۔ تم لوگ پوری طرح ہماری زد پر ہو۔ ایک پل میں سب کے سب تڑپتے نظر آﺅگے۔“

    ”اس میں شک نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے ساتھ پروفیسر سام بھی تڑپتے نظر آئیں گے۔“

    ”تو کیا ہوا ہماری بلا سے۔ آجائیں تڑپتے نظر۔“ساکا بولا۔

    ”تب پھر اپنے ساتھیوں کو حکم دوکہ وہ ہم پر فائرنگ شروع کریں۔ ہم پوری طرح ان کی زد پر ہیں نا؟فائرنگ شروع کرنا ان کے لیے کیا مشکل ہے شروع کریں۔“

    ”لگتا ہے آپ واقعی پاگل ہوگئے ہیں۔ بھلا ہمیں پروفیسر سام کی کیا پروا؟ تم لوگو ںکے ساتھ یہ بھی مرتے ہیں تو ہمیں کیا۔“

    ”اسی لیے تو کہہ رہا ہوں اپنے ساتھیوں سے کہو ہم پر فائرنگ کریں۔“

    ”یہ حکم تو خیر مجھے دینا ہی ہے، لیکن….“ ساکا کہتے کہتے رک گیا۔

    ”لیکن کیا…. یہ لیکن اٹک کیوں گیا؟“ فاروق کی شوخ آواز سنائی دی۔ اب صورت حال ان کی سمجھ میں بہت تیزی سے آرہی تھی۔

    ”لیکن…. میں سوچتا ہوں بلاوجہ پروفیسر سام کیوں مارے جائیں؟ آپ انہیں چھوڑ دیں تاکہ ہم فائرنگ شرو ع کرسکیں۔ انہیں ساحل کی طرف جانے دیں۔“

    ”اب میں اتنا بھی پاگل نہیں۔“ انسپکٹر جمشید ہنسے۔

    ”کتنے بھی جمشید؟“ خان عبدالرحمن نے حیران ہوکر کہا۔

    ”یار سمجھا کرو۔“ وہ جھلا کر بولے۔

    ”اچھی بات ہے، اب سمجھا کروں گا۔“ خان عبدالرحمن نے فوراً کہا۔

    ”کیا سمجھا کروگے؟“ انسپکٹر جمشید بولے۔ جب کہ ان کی پوری توجہ پروفیسر سام کی طرف تھی۔ وہ ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں دیکھ رہے تھے۔

    ”جج…. جو تم کہوگے بس وہی سمجھا کروں گا۔“

    ”انسپکٹر جمشید تم بھی اپنے بچوں کی طرح اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگ گئے۔ ہے کوئی تک…. تم پروفیسر سام کو چھوڑتے ہو یا میں فائرنگ کا حکم دوں۔“

    ”یہی تو میں کہہ رہا ہوں تم فائرنگ کا حکم دے دو۔“

    ”ضرور تم پاگل ہوگئے ہو۔“ ساکا گرجا۔

    ”تو پھر تمہیں اس سے کیا؟ میں پاگل ہوگیا ہوں، تمہاری بلا سے۔ میں تو تمہارا دشمن ہوں، تمہارے قابو میں ہوں اور پروفیسر سام کوئی تمہارے سگے رشتے دار بھی نہیں ہیں کہ تمہیں ان کی زندگی کی کوئی پروا ہوگی، تو پھر حکم دو اپنے ساتھیوں کو وہ ہم پر فائرنگ کریں۔“

    ”اب یہی کرنا ہوگا۔ میں تو بس اس لیے رک گیا تھا کہ بے چارے پروفیسر سام بلاوجہ مارے جائیں گے جب کہ ان کا کوئی قصور نہیں ہے اور ہمیں ان سے کوئی دشمنی نہیں، لہٰذا میں آخر ی بار کہہ رہاہوں پروفیسر سام کو چھوڑ دیں۔“

    ”اور میں بھی تمہیںآخری بار کہہ رہاہوں کہ فائرنگ کا حکم دو۔“ انسپکٹر جمشید گرجے۔

    ان کی گرج نے ان سب کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن خود انسپکٹر جمشید نہیں ہلے تھے، اس لیے کہ اگر وہ ہلتے تو پروفیسر سام کی گردن ٹوٹ جاتی۔

    ”اچھی بات ہے انسپکٹر جمشید! آپ جیت گئے۔ آپ پروفیسر کو چھوڑدیں، ہم آپ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔“ ساکا نے ڈھیلی ڈھالی آواز میں کہا۔

    ”انسپکٹر جمشید نے اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔“انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    ”کیا کہہ رہے ہیں ابا جان؟ آپ کے بال تو ابھی سفید ہوئے ہی نہیں۔“ فاروق نے حیران ہوکر کہا۔

    ”اوہ…. معاف کرنا محاورہ درمیان میں ٹپک پڑا۔“

    ”کیا کہنا چاہتے ہیں انسپکٹر جمشید؟“ ساکا نے جھلائے ہوئے اندا ز میں کہا۔

    ”با ت تو جتنی بھی ہوگی اسی حالت میں ہوگی یعنی پروفیسر سام کو چھوڑے بغیر۔“

    ”اوکے…. آپ کیا چاہتے ہیں؟“ساکا کی آواز اور ڈھیلی ہوگئی۔

    ”ہاں! اب آپ آئے سیدھے راستے پر…. درختوں پر جتنے لوگ موجود ہیں ان سب سے کہو اپنی رائفلیں اور پستول نیچے گرادیں۔ اگر کسی کے پاس بھی پستول یا رائفل نظر آئی تو ہم اسے نہیں چھوڑ یں گے۔“

    ”گرادو بھئی….نیچے۔“ ساکا بولا۔

    ”یہ کیا؟ یہ صاحب توپروفیسر سام کو بچانے کے لیے آپ کی ہر بات ماننے کے لیے تیار ہوگئے کمال ہے۔“ محمود نے حیران ہوکر کہا۔

    ”اسی کو کہتے ہیں انقلاب زمانہ۔“ انسپکٹر جمشید ہنسے۔

    ”یہ تو کمال ہوگیا جمشید…. لیکن یہ ہو کیسے گیا؟“ پروفیسر داﺅد کے لہجے میں حیرت تھی۔

    ”ساکا کے چہرے کی طرف دیکھ لیں۔“ 

    ”ساکا کے چہرے کی طرف دیکھ لوں کیا وہاں پر لکھا ہے کہ یہ کیسے ہوگیا۔“

    ”کچھ نہ کچھ تو لکھا نظر آ ہی جائے گا۔“

    ”اچھی بات ہے جمشید تم کہتے ہو تو دیکھ لیتا ہوں۔ ورنہ اس کی طرف دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ ارے یہ کیا؟ اس کے چہرے پر تو سیاہی ہی سیاہی نظر آرہی ہے۔“

    ”بلکہ یوں کہیں کہ کالک ملی نظر آرہی ہے۔“ خان عبدالرحمن بولے۔

    ”اوہو! سوال تو یہ ہے کہ کیوں؟ پروفیسر سام کی ان لوگوں کے نزدیک کیا اہمیت ہے؟“ فاروق نے جھلائے ہوئے اندا ز میں کہا۔

    ”ابھی تک رائفلیں نہیں گرائی گئیں۔“ انسپکٹر جمشید کی سرد آواز لہرائی۔

    ”گراتے کیوں نہیں۔“ ساکا چلایا۔

    رائفلیں اور پستول نیچے گرنے لگے۔

    ”تم لوگ حرکت میں آجاﺅ۔ تمام رائفلوں اورپستولوں کو خالی کرکے دور پھینک دو۔ اس قدر دور کہ اس سے زیادہ دور نہ پھینک سکو۔“ 

    ”جی اچھا۔“ وہ بولے۔

    اور انہوں نے اپنا کام شروع کردیا۔ جلد ہی میدان رائفلوں اور پستولوں سے پاک ہوگیا۔

    ”اب ان لوگوں سے کہو کہ نیچے آجائیں۔“

    ”نیچے آجاﺅ۔“ ساکا بولا۔

    ان لوگوں نے درختوں سے رسیوں کی سیڑھیاں لگائی ہوئی تھیں۔ فوراً ہی وہ ان کے ذریعے نیچے اترتے نظر آئے۔

    ”فاروق ان رسیوں کو کاٹ کر نیچے گرادو۔“

    ”جی اچھا۔“

    فاروق نے وہ چاقو اٹھالیاجو میدان میں پڑا تھا اور اس کو لے کر درخت پر چڑھ گیا۔ اس طرح اس نے رسیاں کاٹ ڈالیں۔

    ”اب ان رسیوں سے ان لوگوں کو باندھنا شروع کردو۔“

    وہ اس کام میں لگ گئے۔ جب سب کو باندھ لیا گیا تو انسپکٹر جمشید نے کہا:

    ”مسٹر ساکا! اب تم خود کو بندھوالو۔“

    ”اچھی بات ہے۔“

    انہوں نے اسے بھی باندھ دیا۔

    ”میں اس کی گردن پکڑے رہوں گا۔تم لوگ اسے بھی رسیوں سے باندھ دو۔“

    ”آپ کا مطلب ہے پروفیسر سام کو ۔“ مارے حیرت کے محمود کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں! پروفیسر سام کو۔“

    ”تت…. تو یہ بھی ان کا ساتھی ہے۔“ فاروق چلا اٹھا۔

    ”بہت دیر بعد سمجھے…. جب میں نے خان عبدالرحمن کی گاڑی اڑنے کی خبر سنی تھی، تو میں اس وقت چونکا تھا۔ پھر جب لانچ اڑی تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ سب پروفیسر سام کررہا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ یہ بھی ان کا ساتھی ہے۔ اسی لیے تو ایک ایسے جزیرے کو منتخب کیا گیا جس کے بارے میں ہمیں اس سے رابطہ کرنا پڑا۔ اب کیوں نہ میں تمہیں اس کا اصل نام بھی بتادوں؟“

    ”جج…. جی …. اصل نام…. آپ…. آپ کامطلب ہے …. جیفر سام اس کا اصل نام نہیں ہے۔“

    ”نہیں…. جیفر نام کا آدمی تو اس وقت بھی اپنے گھرمیں موجود ہے۔ یہ تو اس کے میک اپ میں ہے۔“

    ”کیا؟“ مارے حیرت کے ان کے منہ سے نکلا۔

    ”ہاں ! بالکل یہی بات ہے۔ یہ جیفر سام نہیں ہے۔ اس کے میک اپ میں ہمارا اصل مجرم ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

    ”آپ….آپ کا مطلب ہے یہ بلتان ہے۔“ وہ چلا اٹھے۔

    ”ہاں بالکل…. دراصل ہمارا سب سے بڑا دشمن انشارجہ ہمارے ملک کی اہم ترین جگہوں پر اسلامی ذہن کے لوگ پسند نہیں کرتا۔ اس بار اس نے بلتان کے ذمے کچھ لوگوں کو ٹھکانے لگانے کا کام لگایا تھا۔ ان میں پہلا نمبر نصیر الدین شاہ کا تھا۔ بلتان جیسے لوگ دور بیٹھ کر اپنا کام کرنا پسند کرتے ہیں، لہٰذا اس نے یہ کام دوسروں سے لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ آٹھ دس خاص خاص آدمیوں کو یہ اسی قسم کی سازشوں کے ذریعے ٹھکانے لگاتا اور فتح کے شادیانے بجاتا انشارجہ چلا جاتا۔ منصوبہ تو بس اتنا سا تھا۔ اب اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اس کا پہلا ہی شکار ا س کے ہاتھوں سے پھسل جائے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ حاجو خان اس کا سارا منصوبہ چوپٹ کردے گا جہاں تک میرا خیال ہے اس نے اس شہر میں پروفیسر جیفر سام کے گھر کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایاتھا…. جیفر سام انہی کا کارندہ ہوگا، لہٰذا اسی کے مشورے سے اس جزیرے کا نام ہمیں دیا گیا تاکہ ہم اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے اس کے پاس جائیں اور وہاں سے جیفر سام کے روپ میں بلتان ہمارے ساتھ ہولے۔ جب ہماری گاڑی ساحل سمندر پر بھک سے اڑ گئی تو مجھے بہت حیرت ہوئی کیونکہ پروفیسر داﺅد پہلے ہی گاڑی کو چیک کرچکے تھے اور اس وقت کوئی چیز اس میں نہیں ملی تھی۔ پھر گاڑی میں دھماکا کرنے کا سامان کب رکھا گیا؟ یہ بات مجھے اس وقت سوجھی جب لانچ بھی اسی طرح اُڑ گئی۔ اس وقت مجھے قطعاً کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ بلتان خود ہمارے ساتھ ہے۔ نتیجہ یہ کہ اس وقت بلتان کا پورا منصوبہ خاک میں مل چکا ہے۔ اس کے تمام ساتھی ہماری قید میں ہیں اور خود یہ موت کے دہانے پر کھڑا ہے۔ لو میں اس کا بھی کانٹانکالے دے رہا ہوں۔“

    ”واہ! کیا انصاف ہے۔“ایسے میں بلتان نے اپنے جسم کو حرکت دیے بغیر کہا۔

    ”انصاف…. گو یا تم مجھے ناانصافی کا طعنہ دے رہے ہوبھلا وہ کیسے؟“

    ”دھوکے سے مجھے قابو میں کرلیا۔یہ کیا بہادری ہے؟ مزہ تو تب تھا جب مجھے مقابلے کے لیے للکارتے۔ میری تمہاری جنگ ہوتی پھر میں تمہیں بتاتا، تم کتنے پانی میں ہو۔“

    ”یہ بات وہ شخص کہہ رہا ہے جس نے اس وقت تک صرف اور صرف دھوکے سے کام لیاہے۔ ہماری گاڑی اڑا دی، لانچ اڑادی اور اس سے پہلے حاجوخان کو دھوکا دیا۔ اب یہ صاحب مجھ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ میں انہیں باقاعدہ مقابلہ کرکے شکست دوں۔ واﺅ کیا خوب۔“

    ”گویا تم مجھے اسی طرح ہلاک کردینا چاہتے ہو۔“

    ”ہاں بالکل! میں دشمن کو بلاوجہ موقع دینے کے حق میں نہیں۔ تم میرے ذاتی دشمن نہیں ہو میر ے ملک کے دشمن ہو ، میری قوم کے دشمن ہو۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اسلام کے دشمن ہو۔ اب دیکھو نا میں بہادری کے گھمنڈ میں تمہاری گردن چھوڑ دوں اور تم سے کہوں آﺅ کرو مجھ سے مقابلہ اور مقابلے میں جیت جاﺅ تم، تو یہ نقصان کس کا ہوگا؟ مجھے تو یہ نقصان پہنچے گا کہ میں تمہارے ہاتھوں مارا جاﺅں گا یا شدید زخمی ہوجاﺅں گا اور میرے بچے تمہارے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ میرے ساتھی بھی مارے جائیں گے۔ غرض ہم سب ختم ہوجائیں گے۔ بات صرف یہاں تک ہوتی، تو بھی میں تمہاری خواہش پوری کرتااور تم سے دو دو ہاتھ کرتا، لیکن خطرہ بس یہ نہیں اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہے کہ تم اسلام کے دشمن ہو۔ ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہو، لہٰذایہ تم جاری رکھوگے اور اگر ایسا ہوا تو یہ میری اس بہادری کے گھمنڈ کا نتیجہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ میں دشمن کو مہلت دینے کا قائل نہیں۔ ہاں اس کی ایک صورت ہے۔“

    ”ایک صورت…. اور وہ کیا؟“ بلتان کی آواز میں تجسس تھا۔

    ”وہ یہ کہ تم میرے ایک سوال کا جواب دے دو۔“ 

    ”کک…. کیسا سوال؟“

    ”بالکل آسان سا سوال ہے۔ یہ بتادو کہ ہم سب کو ختم کرنے کی صورت میں تم لوگ یہاں سے کس طرف جاتے؟ ظاہر ہے اس جزیرے پر تو رہنے کے لیے انتظام نہیں ہے۔“

    بلتان کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا، وہ کچھ نہ بول سکا۔

    ”مسٹر بلتان ! تم نے جواب نہیں دیا۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

    وہ اب بھی خاموش رہا۔

    ”واہ جمشید …. تم نے تو کمال کردیا اِسے گنگ کردیا۔

    ”میں اب اس کی گردن توڑ رہا ہوں کیونکہ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔“

    ”ٹھیک ہے جمشید…. یہی بہتر ہے۔ سانپ کو چھوڑ دینا عقل مندی نہیں۔“

    ”ٹھہرو انسپکٹر جمشید ! میں تمہارے سوال کا جواب دے رہا ہوں۔ یہاں پاس ہی ایک اور جزیرہ ہے وہاں میرے بہت سے ماتحت موجود ہیں۔ ان کے پاس ایسی کئی لانچیں ہیں۔“

    ”خوب بہت خوب! آپ نے دیکھا پروفیسر صاحب۔“ انسپکٹر جمشید چہکے۔

    ”کک…. کیادیکھا۔“ پروفیسر ہکلائے۔

    ”یہ کہ ادھر میرا اور اس کا مقابلہ شروع ہوتا، ادھر اس کے ساتھی ہمیں پکڑلیتے اور رائفلیں ہم پہلے ہی یہاں سے بہت دور پھینک چکے ہیں اور وہ سب ان کے ہاتھ لگ جاتیں اور ہم بہت آسانی سے ان کے ہاتھوں مارے جاتے۔ بازی پھر بلتان کے ہاتھ میں رہتی۔“

    ”ارے باپ رے۔“ پروفیسر داﺅد اور خان عبدالرحمن بوکھلا اٹھے۔ وہ مسکرادیے۔

    ”پھر اب کیا کرنا ہے جمشید؟“

    ”بس دیکھتے جاﺅ۔“

    ”اچھا دیکھتے جائیں گے،ہمارا کیا جاتا ہے۔“پروفیسر داﺅد نے منہ بنایا۔

    ”چلو بھئی بلتان اپنے ساتھیوں سے کہو وہ ادھر ہی آجائیں۔ وہ بھی یہ مقابلہ دیکھیں گے۔“

    ”ٹھیک ہے۔“ بلتان نے فوراً کہا۔

    ”تو دو نا پیغام۔“

    ”میری جیب سے موبائل نکال کر مجھے دیں۔“ وہ بولا۔

    ”نمبر بتاﺅ میں دائل کرتا ہوں۔ کیا نام ہے؟ اس ماتحت کا جسے تم ہدایات دوگے۔“

    ”راجر بوم۔“ وہ بولا۔

    ”محمود بہت احتیاط سے اس کی جیب سے موبائل نکال لو۔ خود کو اس کی زد سے بچائے رکھنا۔“

    ”کیا اِس حالت میں یہ صاحب مجھ پر حملہ کرسکتے ہیں؟“

    ”نہیں…. لیکن ہوشیار رہنا اچھا ہے۔“

    ”جی اچھا۔“

    محمود نے موبائل اس کی جیب سے نکال لیا۔ پھر اس سے نمبر پوچھا۔ اس نے جونہی نمبربتایا۔ انسپکٹر جمشید نے اس کے جسم کو زو ر دار جھٹکا دیا…. اس کے منہ سے ایک دل دوز چیخ نکل گئی۔

    ”یہ …. یہ آپ نے کیا کیا؟ اسے ختم کردیا۔“ فاروق بول اٹھا۔

    ”نہیں ! بے ہوش کیا ہے۔“

    اب وہ خان عبدالرحمن کی طرف مڑے اور بولے۔

    ”خان عبدالرحمن حرکت میں آجاﺅ۔“

    ”کیا کہا…. حرکت میں آجاﺅں…. کیسے؟“

    ”سب لوگ ان رائفلوں کو تلاش کرلیں۔ ان میں میگزین بھرلیں اور درختوں کی بہترین انداز میں اوٹ لے لیں۔ دشمن کے ساتھی سیدھے ادھر آئیں گے۔ ان کا نشانہ لینا بھلا کیا مشکل ہوگا۔“

    ”بہت خوب جمشید!“

    اور پھر اس ہدایت پر کام شروع ہوگیا۔ جلد ہی وہ درختوں کے پیچھے پوزیشن لے چکے تھے۔ اب انسپکٹر جمشید نے پروفیسر داﺅ دسے کہا۔

    ”جن لوگوں کو ہم نے رسیوں سے باندھا ہے، انہیں آپ کوئی چیز سونگھا کر بے ہوش کردیں تاکہ یہ شور وغیرہ کرکے آنے والوں کو خبردار کرنے کی کوشش نہ کریں۔“

    ”اچھی بات ہے جمشید۔“ وہ مسکرا دیے ۔

    جب سب لوگ بے ہوش ہوگئے تو انسپکٹر جمشید نے راجر بوم کے نمبرملائے جونہی اس کی آواز ابھری۔ انہوں نے حلق سے بلتان کی آواز نکالی۔

    ”راجر بوم۔“

    ”یس سر!“ دوسری طرف سے فوراً کہا گیا۔

    ”ہم نے ان سب کو قابو کرلیا ہے۔ اب تم بے فکر ہوکر آجاﺅ۔“

    ”اوکے سر۔“ 

    انہوں نے فون بند کیا ہی تھا کہ فاروق نے پریشانی کے عالم میں کہا۔©

    ”ہم ایک بات نظر انداز کرگئے ابا جان۔“

    ”اور وہ کیا؟“

    ان سب کے منہ سے نکلا۔

    ”ہم یہ بات نظر انداز کرگئے ہیں کہ ہمارا مقابلہ بلتان سے ہے۔“ محمو د مسکرایا۔

    ”حد ہوگئی بھلا یہ بات بھی کوئی بھولنے والی ہے؟ بلتان ہمارے سامنے پڑ اہے۔“ فاروق نے منہ بنایا۔

    ”کیا کہنا چاہتے ہو محمود؟“ انسپکٹر جمشید الجھن کے عالم میں بولے۔

    ”بلتان نے بھی آخر اپنے منصوبے کا ہر طرح جائزہ لیا ہوگا۔ اس نے یہ اندازہ لگایا ہوگا کہ آپ نے اس کے بارے میں بھانپ لیا تو اس صورت میں وہ کیا قدم اٹھائے گا۔ ایک قدم تو آپ سمجھ گئے لیکن میرا خیال ہے اس نے کوئی اور قدم بھی سوچا ہے یعنی یہ راجر بوم اور اس کے آدمیوں کو ختم کردیتے ہیں۔ بلتان پر بھی قابو پالیتے ہیں تو اس صورت میں آخری داﺅ کے طور پر وہ کیا قدم اٹھائے گا۔“

    ”ہوں…. تمہارا خیال ٹھیک ہے محمود۔ بلتان نے اس مقام پر شکست کے بعد ضرو رکوئی اور پہلو بچا رکھا ہے۔“

    ”اور ابا جان ! وہ پہلو یہ ہے کہ جب ہم بلتان اور اس کے ساتھیوں کو لے کر لانچ پر سوار ہوجائیں گے تو اس وقت وہ آخر ی وار ہوگا۔“

    ”ہوں…. ضرور یہی بات ہے۔“

    ”بس تو پھر بلتان کو آپ اسی طرح پھر سے قابو میں کرلیں۔“ محمود نے تجویز پیش کی۔

    ”لیکن جمشید اسے ختم ہی کیوں نہ کردیا جائے۔“پروفیسر داﺅد بولے۔

    ”ہوں ٹھیک ہے اس کا کانٹانکال ہی دیتے ہیں۔ پھر ہم راجر بوم اور اس کے ساتھیوں کا انتظار کریں گے۔ وہ زد میں آگئے تو ان کا کام بھی تمام کردےں گے۔ اس کے بعد ہم یہیں اسی طرح انتظار کریں گے۔ ان کی لائی ہوئی لانچوں میں ہر گز سفر نہیں کریں گے۔“

    ”یہ ٹھیک رہے گا۔ بلتان والا موبائل اب ہمارے پاس ہے۔ ہم اس کے ذریعے آئی جی صاحب کو فون کرکے یہاں لانچیں منگوا سکتے ہیں۔“

    ”ٹھیک ہے جمشید بسم اللہ کرو اور بلتان کاکام تمام کردو۔“

    انسپکٹر جمشید اس کی طرف بڑھے ہی تھے کہ بلتان کے جسم میں بجلی کی سی حرکت پیدا ہوئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ بری طرح چونکے اب ان کے چہروں پر حیرت ہی حیرت تھی۔

    ”تم سے چوک ہوگئی جمشید۔ میں پوری طرح تمہارے قابو میں تھا۔ مجھے بے ہوش کرنے کے بجائے ختم کردینا چاہیے تھا۔“ وہ ہنسا۔

    ”اللہ مالک ہے جس نے مجھے تم پر پہلے قابو دیا تھا۔ وہ اب پھر دے دے گا۔“

    ”اس وقت اور بات تھی میں تمہارے دھوکے میں آگیا تھا۔“

    ”کوئی بات نہیں آﺅ دو دو ہاتھ بھی ہو ہی جائیں کہ یہی تمہاری خواہش ہے۔ خان عبدالرحمن …. تم اپنا کام کرو۔ راجر بوم اور اس کے ساتھی کم از کم بلتان کی مدد کو نہ پہنچیں۔“ 

    ”ٹھیک ہے جمشید ! تم فکر نہ کرو۔“ خان عبدالرحمن کی پرسکون آواز سنائی دی۔

    ”تم لوگ بھی اپنے انکل کے ساتھ جاﺅ۔“

    ”یہ…. یہ کیسے ممکن ہے ابا جان!یہاں آپ کے اور بلتان کے دود و ہاتھ ہونے والے ہیں۔“ محمود نے پریشان ہوکر کہا۔

    ”اور ادھر دشمن آنے والا ہے۔ اگر آنے والوں کو نہ روکا گیا تو بلتان کی طاقت کئی گناہ بڑھ جائے گی، لہٰذا تم دشمن کی طرف توجہ دو۔ پروفیسر صاحب آپ بھی خان صاحب کی مدد کریں۔“

    ”ٹھیک ہے جمشید ہم چاروں پوزیشن لے لیتے ہیں، لیکن جب تک لانچیں نظر نہیں آجاتیں، اس وقت تک تو ہم رخ پھیر کر لڑائی دیکھ سکتے ہیں۔“ فاروق نے مارے بے چینی کے کہا۔

    ”ہاں ! اتنی اجازت ہے، لیکن تم خود لڑائی میں دخل اندازی نہیں کروگے۔ یہ مقابلہ صرف میرے اور بلتان کے درمیان ہوگاسمجھ گئے۔“

    ”جی ہاں ! وہ ایک ساتھ بولے۔

    ”چاہے میری پوزیشن کچھ بھی کیوں نہ ہوجائے۔ تم اپنی جگہ سے نہیں ہلوگے….تم نے سنا …. میں نے کیا کہا ہے۔“

    ”جی ….جی ہاں ۔“ وہ بولے۔

    ایسے میں انہوں نے بلتان کو ہوا میں اڑ کر ان کی طرف آتے دیکھا۔

    ”سنبھل کر۔“ وہ چلا اٹھے۔

    لیکن ان کے چیخنے سے بھی پہلے انسپکٹر جمشید ایک طرف گرکر لڑھک چکے تھے۔ گویا وہ پوری طرح ہوشیار تھے۔ ادھر بلتان اپنی جھونک میں سیدھا ایک درخت کی طرف آیا اور اگر وہ دونوں ہاتھ آگے نہ کردیتا تو بری طرح درخت سے ٹکرا گیا تھا۔ ساتھ ہی وہ ان کی طرف مڑا۔ اس کے چہرے پر حیرت نظر آئی اوریہ حیرت ضرور وار خالی جانے پر تھی۔ 

    ”ابا جان ! لانچیں نظر آرہی ہیں۔“

    ”بس ٹھیک ہے۔ اب تم لوگوں کی پوری توجہ حملہ آوروں کی طرف ہونی چاہیے۔ ادھر کوئی نہ دیکھے بلکہ خان عبدالرحمن تم ان لوگوں کے ساتھ کافی آگے چلے جاﺅ۔“

    ”لیکن جمشید….“

    ”خان عبدالرحمن ! یہاں کسی لیکن کی گنجائش نہیں ہے۔ سنا تم نے۔“ وہ تیز آواز میں بولے۔ 

    ”اچھی بات ہے جیسا تم کہوگے ، ہم کریں گے۔“

    اور پھر وہ لڑائی کے اس مقام سے آگے بڑھتے چلے گئے۔ اگر چہ ان میں سے ایک کا جی بھی آگے جانے کو نہیں چاہ رہاتھا، لیکن مجبوری تھی۔ حملہ آوروں کو نہ روکا جاتا، تو پھر وہ سب کے سب مارے جاتے۔

    ”آﺅ بھئی رک کیوں گئے ۔“ انسپکٹر جمشید دونوں بازو پھیلاتے ہوئے بولے۔

    ”آرہا ہوں لوسنبھالو میرا وار۔“ یہ کہتے ہوئے بلتان پرسکون انداز میں ان کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ انسپکٹر جمشید اس پر نظر جمائے اپنی جگہ کھڑے رہے۔پھر جونہی وہ نزدیک پہنچا تو یک دم اونچا اُچھلا۔ اس کے دونوں پاﺅں ان کے سینے کی طر ف آتے نظر آئے۔ وہ فوراً ترچھے ہوگئے اور ساتھ ہی دو ہتڑ چلادیا ۔ ان کے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر لگے اور وہ اوندھے منہ گرا۔

    ”دو وار خالی ہوچکے ہیں۔ بس ایک کی اور مہلت دوں گا۔ تاکہ تم یہ نہ کہومیں نے مقابلہ نہیں کیا۔“

    ”ٹھیک ہے میرا بھی تیسرا وار فیصلہ کن ہوگا۔ اگر میں اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکا، تو اپنی ہار مان لوں گا۔“

    یہ کہتے ہی وہ زمین پر گرگیا اور بلا کی رفتار سے ان کی طرف آیا۔ نزدیک آتے ہی اس نے ایک ہاتھ زمین پر رکھا اور پورا جسم گھمادیا۔ انسپکٹر جمشید اس کے اس وار سے بچنے کے لیے اوپر اُچھل گئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح اس کا جسم نیچے سے نکل جائے گا، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ اس کے دونوں پیرا ِن کی پنڈلیو ں سے ٹکراگئے۔ انہیں یوں جیسے ان کے جسم سے جان نکل گئی ہو۔ وہ بے دم سے ہوکر زمین پر اوندھے منہ گرے۔

    ”انسپکٹر جمشید آپ تو گئے کام سے۔ اب آپ کے باقی ساتھیوں کو ٹھکانے لگانا میرے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہوگا۔“بلتان ہنسا۔

    ”گویا…. گویا تم مجھے موقع نہیں دوگے جب کہ میں نے تمہیں تین مواقع دیے ہیں۔ جب تم درخت سے ٹکرائے تھے اس وقت میں چاہتا تو ایک ہی وار میں تمہارا کام تمام کرسکتا تھا۔ پھر دوسرے وار کے بعد بھی میرے پا س حملہ کرنے کا وقت تھا اور تیسرا وار تمہارا کارگر رہا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ تم بھی مجھے تین مواقع دو۔“

    ”نہیں ! میں ایسا نہیں کروں گا۔ اس حالت میں آپ کی گردن مروڑ دینا میرے لیے آسان ہے۔“

    یہ کہتے ہوئے وہ ان کی طرف بڑھا۔ اس کے دونوں ہاتھ ان کی گردن کی طرف آئے۔ انہوںنے اپنی قوت کو جمع کیا اور دائیں ہاتھ کو گھمادیا۔ وہ اس وقت تک پوری طرح ان پر جھک چکا تھا۔ دائیں ہاتھ کا مکا اس کے چہرے پر پوری قوت سے لگا۔ اس کے منہ سے ایک دل دو زچیخ نکل گئی۔وہ بری طرح لڑکھڑایا اور دھڑام سے گرا۔ ساتھ ہی انسپکٹر جمشید اس پر جا پڑے اور اس کی گردن بازو کی گرفت میں لے لی۔ بالکل ایسی طرح جیسے وہ پہلی با رقابو میں آیا تھا۔

    ”بلتان! اب کیا کہتے ہو؟“

    اس کے منہ سے کچھ نہ نکل سکا۔ دوسرے ہی لمحے انہوں نے اس کی گردن کو جھٹکا دیا۔ اس کے منہ سے آخری چیخ نکلی اور وہ ساکت ہوگیا۔ وہ اسے اسی طرح پکڑے بیٹھے رہے کہ کہیں مکر نہ کررہا ہو اور زندہ نہ ہو، لیکن اس کی گردن ٹوٹ چکی تھی۔ آخر اس کی موت کا یقین ہوجانے پر وہ اسے چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ایک نظر اس کے بے جان جسم پر ڈالی۔ اس کی کھلی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔

    وہ مڑے اور اپنے ساتھیوں کی طرف چل پڑے۔ دور سے انہیں لانچیں صاف نظر آئیں۔ اپنے ساتھیوں کے نزدیک پہنچ کر انہوں نے ایک درخت کی اوٹ لے لی کہ کہیں ان کے ساتھی انہیں دشمن خیال کرتے ہوئے فائر نہ کردیں۔ پھر وہ پرسکون آواز میں بولے۔

    ” میں بھی اب تمہارے ساتھ موجود ہوں۔“

    ”بلتان کا کیا بنا؟“ وہ ایک ساتھ بولے۔

    ”اللہ کی مہربانی سے مارا گیا۔“

    ”یا اللہ تیرا شکر ہے۔“

    آخر لانچیں ساحل سے آلگیں ۔ بلتان کے ماتحت ساحل پر اترنے لگے۔ پھر بے فکری سے آگے بڑھنے لگے کیونکہ انہیں تو یہی معلوم تھا کہ ان کا راستہ صاف ہے جونہی وہ زد میں آئے۔ انہوں نے فائر کھول دیا۔

    دیکھتے ہی دیکھتے وہ خاک اور خون میں تڑپتے نظر آئے۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکا۔

    دو گھنٹے بعد پولیس کی لانچیں جزیرے کو گھیر چکی تھیں او ر وہ ایک لانچ پر ساحل کا رخ کررہے تھے۔

    ”اللہ کا شکر ہے ایک سازشی سے تو نجات ملی۔“ محمود کی آواز سنائی دی۔

    ”لیکن ہمارے ملک میں ایسے سازشیوں اور غداروں کی کیا کمی ہے۔ جلد ہی کسی اور سے ملاقات ہوجائے گی۔“ فاروق نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

    اور وہ مسکرانے لگے۔

    ٭….٭….٭

    اس سلسلے کی مزید تحاریر


    موت کا جزیرہ

    موت کا جزیرہ

    • مئی 25, 2020


    پانچ قدم پہ موت

    پانچ قدم پہ موت

    • مئی 25, 2020


    سازشی چہرہ

    سازشی چہرہ

    • مئی 25, 2020


    بھوت بنگلہ

    بھوت بنگلہ

    • مئی 25, 2020


    خونی جال

    خونی جال

    • مئی 25, 2020


    آخری امید

    آخری امید

    • مئی 25, 2020


    چوہے دان

    چوہے دان

    • مئی 25, 2020


    ڈریکولا کا بھوت

    ڈریکولا کا بھوت

    • مئی 25, 2020


    خونی سائنسدان

    خونی سائنسدان

    • مئی 25, 2020