Author: misbah116@hotmail.com

  • اوپرا ونفرے

    اوپرا ونفرے


    اوپرا ونفرے


    صوفیہ کاشف

    ننھی اوپرا کیلے کی چھال سے بنی بوری کے کپڑے پہنے اپنی غریب نانی کو گندے کپڑے پانی میں ابالتے ہوئے دیکھتی اس لیے کہ غربت کی مہربانی سے ان کے ہاں کپڑے دھونے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ چناں چہ کپڑے پانی میں ابال کر صاف کیے جاتے۔ اس تکلیف سے ناخوش اس کا دل کہیں لاشعور کی تہوں سے گواہی دیتا "میرا مقدر ایسا نہیں ہو گا!”
    ساٹھ کی دہائی میں افریقی کےا! مریکی علاقوں میں بھی تقریباً ہر سیاہ فام بچہ غربت اور تنگ دستی کا شکار ، ناجائز اور جنسی زیادتی سے متاثرتھا۔ ان بچوں کے کالے والدین اکثر غربت کے ہاتھوں تنگ "عظیم ہجرت” کے دور میں ملازمت کے لئے مختلف علاقوں کا سفر کر گئے اور اپنی جائز اور ناجائز اولادیں پلنے کے لیے نانیوں اور دادیوں کے پاس چھوڑ گئے۔
    اوپرا کی کہانی بھی کچھ اس سے مختلف نہ تھی۔ سماجی اور معاشی حالات کے مطابق یہ کوئی ایسی حیرت ناک صورت حال نہ تھی۔ حیرت کی بات تو یہ ٹھہری کہ غلامانہ دور میں تنگ دستی اور جنسی زیادتیوں کی شکار ہر لڑکی ”اوپرا“ نہیں بنتی۔ ذلت اور پستیوں کی گہرائیوں سے اتنی اُنچائیوں تک کہ اس کی آنکھ کا اشارہ بڑے فنکاروں، برانڈز اور کتابوں کے عروج اور زوال کا سبب بن جائے، اس کے الفاظ سے لوگوں کی تقدیر بدلنے لگے اور نام اے ٹی ایم کی طرح استعمال ہونے لگے جس سے جب چاہے کوئی ذرا سی معلومات دے کر جتنے چاہے پیسے نکلوا لے۔ اوپرا جو بیسویں صدی کی سب سے زیادہ مال دار افریقی امریکی امریکا کی تاریخ کی عظیم ترین سیاہ فام انسان دوست اور شمالی امریکا کی پہلی اور واحد ملٹی ملینیر سیاہ فام عورت ہے۔ تاریخ کا اپنی قسم کا سب سے مشہور شو اوپرا ونفرے شو کرنے والی اوپرا 2006ئ۔ میں امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والی ٹی وی سے منسلک ہستی تھی۔ تمام تر میڈیا کی اس ملکہ کی سالانہ آمدنی پچھتر ملین یو ایس ڈالر کے قریب ہے۔
    اوپرا کی زندگی کا آغاز امریکا کے ایک غریب افریقی علاقے .Mississippi کے پس ماندہ گھر میں دوسرے بہت سے سیاہ فام بچوں کی طرح نانا نانی کی سرپرستی میں ہوا۔ گہرے کالے رنگ کی بدصورت اور موٹے جھاڑ جیسے بالوں والی اوپرا کی زندگی کے دامن میں آنکھوں کے چمکتے ستاروں اور دل میں امید نامی تسلّی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ماں باپ کی شفقت اور توجہ، خوب صورتی کے جادو اور پیسے کی کرامات سے اس کی جھولی کسی بے چارے فقیر کے کشکول کی طرح خالی تھی۔ بازار سے خریدا کوئی جوڑا ، جوتا یا کھیلنے کے لئے کوئی کھلونا اوپرا کے بچپن کی یاد کا حصہ نہ بن سکا۔ پالتو جانور کا شوق ایک شیشے کی بند بوتل میں قید دو کاکروچ پورا کرتے۔ سخت گیر نانی امریکا کے پسماندہ غلام طبقے کی طرح اوپرا کو بات بات پر پیٹنے پر تیار نظر آتی۔ گورے بچوں کو تعلیم یافتہ ،مہذب والدین کے ہاتھوں محبت اور شفقت سے پلتا دیکھتی تو اوپرا خود بھی گوری بن جانے کی خواہش میں مبتلا رہتی تاکہ نانی کے تھپڑوں اور جوتوں اور نانا کے گریز سے بچ کرو ہ بھی پیار کی حق دار بن سکے۔ ایک ناجائز اولاد اوپرا جس کے حقیقی باپ کا نام بھی ایک عرصے تک گم شدہ اور نامعلوم رہا اور جب باپ اپنے نام اور سب حوالوں کے ساتھ منظر عام پر آیا تو مقدر کی سختیوں سے تن تنہا نبرد آزما ہو کر اوپرا کامیابی اور شہرت کے اس زینہ پر کھڑی تھی جہاں اس کے باپ کو اوپرا نامی اے ٹی ایم سے پیسہ تو مل سکتا تھا قبولیت نہیں۔
    تمام تر غربت اور سختی کے باوجود پہلے چھے سالوں میں نانی کی کی گئی تربیت اور تعلیم کی بدولت اوپرا مضبوط آواز اور پر اعتماد لہجے کے ساتھ بہت کم عمری میں ہی چرچ میں بائبل کی حمدیں پڑھنے اور تبلیغ کرنے لگی تھی۔ چھے سال کی عمر میں اوپرا کو اس کی پچیس سالہ ماں ورنیٹا کے پاس منتقل کر دیا گیا جس کی غربت اور مصروفیت نانی سے کئی گنا زیادہ تھی۔ گھر گھر نوکریاں کرنے والی ورنیٹا دوسری بیٹی پیٹریشیا کو جنم دے کر ایک رشتہ دار کے گھر میں کرایے کے ایک کمرے میں مقیم تھی۔ معاشی مسائل ، دُہری نوکری اور چھوٹے بچوں کے ساتھ نے اس کی کمر توڑ رکھی تھی۔ نانی کے گھر مکمل توجہ سے پلی اکلوتی اوپرا کو دینے کے لئے ماں کے پاس توجہ کے نام پر کچھ نہیں تھا۔ کم سن اوپرا ماں کی مجبوریوں معاشی مشکلات اور ذمہ داریوں کو سمجھنے سے قاصر تھی اور ماں کی ساری نظر اندازی اور عدم توجہی کا سبب اپنا گہرا سیاہ رنگ اور بدصورت ہونا تصور کرتی۔ ماں کی نظر انداز ی نے اوپرا میں شدید احساس کمتری کو جنم دیا جس نے آنے والے دنوں میں اس کے لیے بدترین مشکلات کو جنم دیا۔ چھوٹی بیٹی کو ماں کے ساتھ سلانے کی مجبوری میں چھے سالہ اوپرا کا بستر پورچ میں ایک بڑے انیس سالہ رشتے کے بھائی کے ساتھ لگا دیا گیا۔ رشتے کا یہی بھائی کمسن اوپرا کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوا اور نو سال کی عمر میں اوپرا کو چڑیا گھر اور آئسکریم کا لالی پاپ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے لگا۔ ماحول اور زندگی کی غربت اور پس ماندگی، ماں کی عدم توجہ اور اوپرا کا بڑھتا ہوا احساس کمتری رشتے کے بھائی کے لئے سازگار ثابت ہوا اور ذرا سے استحصال اور معمولی سی رقم کے بدلے نو سالہ اوپرا بکنے اور استعمال ہونے لگی یہاں تک کہ اسے لگا زندگی تو شاید صرف ایسی ہی ہوتی ہے….

  • گل موہر اور یوکلپٹس

    گل موہر اور یوکلپٹس


    گل موہر اور یوکلپٹس
    ظفر محمود اقبال ہاشمی

    ”یہ جو چودھویں کا چاند ہے نا ہنی، مجھے یہ تب تک آدھا اورا دھورالگتا ہے جب تک اس پر تمہاری ستارہ آنکھوں کی پوری چمک نہیں پڑتی۔ اس کے اردگرد پھیلا ستاروں کا جنگل غور سے دیکھو، یہ ستارے نہیں بلکہ تمہاری خوبصورت آنکھوں سے آزاد ہونے والی نظریں ہیںجنہوں نے آسمان اور چاند دونوں کو سجا ڈالا ہے۔“
    حنین اُمرا کی اس پر شور محفل سے اُکتا کر سب سے نظریں بچا ئے باہر نکل توآئی، مگرشومئی قسمت باہر چودھویں کی رات اس کی منتظرتھی۔ پچھلے دو برسوں کے دوران اس کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد خاص طور پر اسے چاند کی کھلکھلاتی راتوں اور اس کی نقرئی روشنی سے چِڑ سی ہو گئی تھی۔چودھویں کی رات کو توجیسے حنین سے کوئی خاص پرخاش تھی۔ اسے دیکھتے ہی وہ گویااس کاتمسخر اڑانے لگتی، اس کے بھرے ہوئے زخموں کو اپنے تیز ناخنوں سے کھرچنے لگتی،پرانی آوازیں پھر سے جاگنے لگتی تھیں۔
    آج پھر وہی ہوا۔
    وہ تقریباً چھے ماہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس زیر علاج رہنے کے بعدخرد مندوں، روشن خیالوں،سیانوں، دنیا داروں اور جنہیں دنیا intellectuals کہہ کر پکارتی ہے، ان کے جنگل میں واپس لَوٹی تھی اور آج اس پارٹی میں پھر وہی شناساسی بھنبھناہٹ تھی۔
    ہونٹ کم ہلتے تھے اور کندھے اچکا اچکا کرمعمولی سے سچ پر جھوٹ کی عمیق تہیں کمال مہارت کے ساتھ بچھانے کا فن زیادہ بولتا تھا۔
    لوگ ہر جملے کے بعد ایک کے بعد ایک چہرہ اتار کر ڈسٹ بِن میں پھینک رہے تھے!
    اخلاقیات ٹشو پیپرز سے پونچھ پونچھ کر ڈنر کی پلیٹوں میںبچے ہوئے کھانے کے ساتھ دھری جارہی تھیں۔
    اپنے پھنسے ہوئے سب کام اور مطلب معنی خیز اشاروں اور مخصوص ساخت کی مسکراہٹوں کی مدد سے نکالے جا رہے تھے۔
    اُمرا کی ایک اور پارٹی میںخوشامد، جھوٹ اورملمع کاری ہمیشہ کی طرح نقطہ ¿ عروج پر تھی۔
    والدین کی اکلوتی اولادحنین ملکوتی حسن کی مالک تھی۔ لڑکپن میں جب ماں بریسٹ کینسر سے چل بسی، تو وہ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوگئی۔ کبھی اس چھت پر تو کبھی اس چھت پر ۔باپ کو اس سے محبت تو بہت تھی لیکن بزنس کے جھنجھٹ اور بکھیڑے اس محبت کے بھرپور اظہار کے آڑے آتے تھے۔پیسے کی اسے کمی نہ تھی اور نہ باپ کی طرف سے کوئی روک ٹوک، سو لڑکپن ہی سے اس نے اپنے آپ کو زندگی کی بھٹی میں بلا جھجک اور بے دریغ جھونکنا شروع کر دیا۔کچھ نیا کرنے کا جنون ہر بار اسے نئے راستے پر لے جاتا اور سفر بند راستے پر ہی موقوف ہوتا۔ ہر بارکچھ دن ڈپریشن کا شکار رہنے کے بعد باپ کی ہلا شیری پر وہ نئے عزم کے ساتھ کسی نئے سفر پر نکل جایا کرتی۔اٹھارہ سالہ قیامت خیز حسن کی مالک حنین کو جب ایک پارٹی میں ملک کے فیشن ٹائیکون نے یہ کہا کہ فیشن کی دنیا میں جواس وقت موجود ہیں وہ صرف چھوٹے یا بڑے ستارے ہیں اور فیشن کی دنیا اس جیسے چندے ماہتاب کی منتظر ہے ، تو وہ اس پٹڑی پر ایسی چڑھی کہ پھراترنے کا نام ہی نہیں لیا۔چندہی برسوں میں واقعی وہ فیشن کی دنیا کاچندے ماہتاب قرار پائی۔ منہ مانگے معاوضے پر ٹی وی ڈرامے، ٹی وی کمرشلز اور بیرونِ ملک شوز کیے اور پھرجب ایک بڑے بجٹ کی فلم کا پراجیکٹ ہاتھ آیا، تو یہاں اس کی ملاقات ملک میں اسکرپٹ رائٹنگ کے آفتاب سمجھے جانے والے دانیال ملک سے ہوئی۔اس آفتاب کی چکا چوند اتنی زیادہ تھی کہ اس کے سامنے حنین جیسا روشن چاندچار روز بھی نہ ٹھہر سکا اوربہت جلد وہ آنکھیں موند کر، اس آفتاب کواپنا مدار سمجھ کر اس کے گرد چکر لگانے لگی۔تقریباًپینتالیس سالہ گھاگ دانیال کی شخصیت اور باتیں تھیں ہی ایسی کہ جو اس کے ساتھ ایک نشست کر لیتا گویا مسحور ہوکر حالت ِتنویم یا پھرمراقبے میں چلا جاتا تھا۔حنین جو اس سے تقریباً سترہ برس چھوٹی تھی ویسے ہی لوگوں پر بہت جلد بھروسا کرلینے اورچکاچوند کے پیچھے بھاگنے کی پیدائشی بیماری کا شکار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دانیال کی صیادانہ فطرت کو نہ سمجھ سکی اور اس کے دام اُلفت کا شکار ہوگئی ۔ کچھ عرصہ دونوں کے افیئرکا دھواں شو بزنس کی فضاو ¿ں پر چھایا رہا جو بالآخر دونوں کے بہت طمطراق سے رچائے گئے بیاہ پر ختم ہوا۔ ویسے تو دونوں کی شادی بہ مشکل دو برس ہی چلی لیکن شادی کے تین چار ماہ بعد ہی حنین کو اندازہ ہو گیا کہ دانیال کے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔وہ سب باتیں جو وہ سر دُھننے پر مجبور کر دینے والے ا سکرپٹ میں لکھا کرتا تھا اور شادی سے پہلے اس کے ساتھ بہت مخمور اور رومانٹک اندازمیں کیا کرتا تھا، وہ ایک ایک کر کے حرفِ باطل ثابت ہونے لگیں۔ شادی کے بعدپارٹیوں میں جب اس نے خود سے زیادہ حنین کو سب کی توجہ کا مرکز محسوس کرنا شروع کیا، تو اس موضوع پر بننے والی ان گنت فلموںکی طرح احساسِ کمتری کی رِیل اس کی آنکھوں اور دماغ کی سِلو اسکرین پر دھڑا دھڑ چلنے لگی۔پہلے ردّ عمل کے طور پر حنین کی پارٹیوں میںشرکت پر پابندی لگی۔پھر باری باری ٹی وی کمرشلز، فیشن شوز،ٹی وی، سوشل میڈیا اورپھر فلم میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ حنین اس کی محبت میں اپنی ذات کے سب خوبصورت پرندے ایک ایک کر کے اپنے ہاتھوں سے آزاد کرتی رہی لیکن دانیال کے اندر احساسِ کمتری کا درخت اتنی جڑیں پکڑ چکا تھا کہ اس سے بھی اس کی تشفی نہ ہوئی اور بات بات پر طنزکے زہر سے بُجھے تِیر نہتی حنین پربرسانے لگا۔معاملہ تب نقطہ ¿ عروج پر پہنچ گیا جب اس نے ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑتے ہوئے اس کے کردار پر رکیک حملے کرنے شروع کر دیے۔ جس کی محبت میںحنین نے سب کچھ تیاگ دیا تھا جب اس نے دانیال کا یہ روپ دیکھا، تو وہ شدید ذہنی اضطراب اور دباو ¿ کا شکار رہنے لگی۔ دانیال کی ذات سے جڑے تمام کھلے در اس نے ایک ایک کر کے اپنے آنسوو ¿ں اور خونِ جگر سے بند کیے۔ جب اس رات دانیال نے اس پر پہلی بار ہاتھ اٹھایا، تو بہت نازوں میں پلی حنین تذلیل کی اس آخری حدکو برداشت نہ کر سکی اور نروس بریک ڈاو ¿ن کا شکار ہو گئی۔ پہلی بار حنین کے والد ذکا اللہ بیگ کواصل صورتِ حال کا علم ہوا جس سے کاروباری مصروفیات کے باعث وہ اب تک بے خبر تھے۔مہینوں وہ پہلے ہسپتال اور پھرماہرِ نفسیات کے پاس زیرِ علاج رہی ۔ دانیال سے علیحدگی کے تکلیف دہ مراحل نے اس دوران اسے پوری طرح نارمل اور صحت مند نہیں ہونے دیا اور آخر کار یہ تلخ تجربہ اس کے ذہن، شخصیت، اعتماد اور حسن پر بدنما اوربھدے نشانات چھوڑتا ہوا رخصت ہو گیا۔ اس کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ ربانی نے آٹھ ماہ اس پر بہت محنت کی، لیکن اس کے باوجود اس پورے عرصے میںوہ حنین کے اندراعتماد، محبت، انسانیت، زندگی اور امید کی شمعیں نئے سرے سے جلانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔اس کی کامیابی صرف اتنی سی تھی کہ آج وہ بہت عرصے بعد عائشہ ربانی اور والد ذکا اللہ بیگ کے کہنے پر کسی پارٹی میں شرکت کے لیے آمادہ ہوئی تھی۔
    ٭….٭….٭

  • کھوئے والی قلفی

    کھوئے والی قلفی


    کھوئے والی قلفی


    سلمان بشیر


    ”یہ اُس دور کی بات ہے جب میں آلف علی ایک خوب صورت دیہاتی نوجوان ہوا کرتا تھا۔ گلگت بلتستان کی بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں کے وسط میں قائم ایک قبیلے کا یونیورسٹی میں پڑھنے والا واحد لڑکا۔ ہمارے قبیلے سے کوئی بھی تعلیم کی غرض سے باہر نہیں گیا تھا۔ میں واحد لڑکا تھا جو اپنے ننھیال کے شہر میں واقع اکلوتی یونیورسٹی میں ایم ۔ اے انگلش کا اسٹوڈنٹ تھا۔ تعلیم کی وجہ سے میری آدھی سے زیادہ زندگی گھر سے باہر ماں باپ سے دور گزری تھی۔
    ضلع بہاولنگر ، بستی حافظ آباد موضع روجھانوالی میرے نانا نانی کا آبائی دیس تھا۔میں پچھلے کچھ سالوں سے اُن کے پاس ہی رہ رہا تھا۔ حافظ آباد ایک کچی بستی تھی۔ بجلی اور پانی کے سوا کوئی اور سہولت موجود نہیں تھی۔ پوری بستی میں صرف ایک ہی پکا مکان تھا۔ وہ بھی ضلع ناظم بختاور حسین کا۔
    بستی کی سڑکیں ہر وقت دھول سے ڈھکی رہتیں۔ سڑکیں بھی کوئی بجری سیمنٹ سے نہیں بنی تھیں، کچی تھیں لیکن آمدورفت کا واحد ذریعہ ہونے کی وجہ سے انسانوں اور جانوروں کے وزن سے سخت ہوگئی تھیں۔ سڑک کے ساتھ ہی ایک کچی نہر تھی، انسانوں اور جانوروں کا خوب صورت سوئمنگ پول۔
    کھیتوں میں ہل چلا کر یا کسی بھی دوسرے سخت کام سے جی کو جلا کر آنے والا ہر آدمی کپڑوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دیتا۔ نہر کے ٹھنڈے پانی سے نہا کر ساری گھبراہٹ اور تھکاوٹ چھومنتر ہوجاتی۔ میں بھی اکثر نہر میں نہاکر اپنے جسم سے میل اُتار لیاکرتا تھا۔ کیا حسین وقت تھا وہ، آج بھی یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکان اور دل میں حسرت کو بیدار کردیتا ہے۔ وہ بستی جنت کے کسی خوب صورت جزیرے سے کم نہیں تھی۔
    بستی کا اندرونی حصہ جہاں گردوغبار میں اَٹا ہوا تھا، وہیں بستی کے خارجی چاروں کونے ہری بھری فصلوں اور گہرے سائے والے درختوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔بستی کے وسط میں ایک بڑا سا برگد تھا جو تقریباً ایک کنال رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ وہاں ہر وقت بستی کے بزرگوں کے قہقہے گونجتے رہتے۔ حقے کی ”گُھڑ گُھڑ“ کی آواز میں ایک عجیب سا نشہ محسوس ہوتا تھا۔ شام کے بعد بھی وہاں بزرگوں، جوانوں اور نوجوانوں کی محفلیں سجتیں۔ میں بھی نانا کے ساتھ اکثر وہاں جایا کرتا تھا۔ بزرگوں کی باتیں سن کر ایسے محسوس ہوتا کہ جیسے میں نے ایم ۔اے تک پڑھ کر جھک ہی ماری ہے۔ اصل علم تو اُن بزرگوں کے پاس تھا جو چٹے اَن پڑھ ہونے کے باوجود کسی فلاسفر اور ادیب کی طرح بات کرتے تھے۔
    میں صبح مرغے کی بانگ سن کر بیدار ہوجاتا۔ نلکے پر جاکر وضو کرتا اور نماز کے لیے مسجد چلا جاتا۔ نانا جان نماز سے فراغت کے بعد بھینسوں کا دودھ دوہتے۔ نانی اماں چولہا جلاتی اور ناشتے کے لیے چپاتیاں بناتیں۔ ناشتے کے بعد میں تھوڑا پڑھتا پھر آہستہ آہستہ یونیورسٹی جانے کی تیاری کرنے لگ جاتا۔ یونیورسٹی ہمارے گھر سے پانچ میل کے فاصلے پر تھی اور میں پیدل یونیورسٹی جاتا تھا۔ یونیورسٹی شہر کے وسط میں تھی۔ 5 ایکڑ اراضی پر مشتمل یونیورسٹی کی عمارت بہت خوبصورت تھی۔بڑے بڑے کلاس روم، صاف ستھرے باتھ روم، درختوں اور پھولوں کے زیر سایہ گھاس کے لان، بیٹھنے کے لیے پتھر کے بنچ، کشادہ کینٹین کی عمارت، پانی کی بڑی سی ٹینکی اور سواری کھڑی کرنے کے لیے بڑا سا برآمدہ۔
    مجھے اُس جگہ سے بہت لگاﺅ تھا۔ وہاں آنے کے بعد میں ایک دوسری زندگی جینے لگتا تھا۔ ایک زندگی وہ تھی جو میں اپنی بستی میں گزار رہا تھا، دوسری زندگی یونیورسٹی کی تھی، بہت ہی خوب صورت۔
    یونیورسٹی میں وقت کیسے گزرا،پتا ہی نہیں چلا۔ بس آنکھیں بند کرکے کچھ لمحوں بعد پھر سے کھولیں تو یونیورسٹی کی دو سالہ زندگی اپنی آخری سانسیں لیتے ہوئے ہانپ رہی تھی۔ آخری سمیسٹر کے امتحان دینے کے بعد بھی ہم سبھی کلاس فیلوز باقاعدگی سے یونیورسٹی آتے تھے۔ رزلٹ کو بہانا بناکر ہم روز اس لیے آتے تاکہ یونیورسٹی اور دوستوں کے سنگ کچھ وقت اور گزارسکیں۔ وہ ہمارا یونیورسٹی میں آخری ہفتہ تھا۔ ہماری طرح باقی شعبوں کے طلبہ و طالبات بھی یونیورسٹی آتے تھے۔ کلرک، استاد، گیٹ کیپر اور کینٹین والا بھی یونیورسٹی حاضر ہوتے تھے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    دوسرا دن: 25 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری،

    زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا یاد ہے کل مونگروں کے ساتھ میں نے کسی سبزی کا نام لیا تھا اور جنت کی سبزی کہہ کر یاد کیا تھا؟ میتھی کا ۔ تو آج، اللہ خوش رکھے ساتھ والی آنٹی کو، ہری بھری تازہ میتھی ایک ہرے بھر ے برکت والے باغ سے ہمارے گھر وارد ہوئی۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، معصوم خواہشیں، بے ضرر دعاﺅں کی قبولیت ہی ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔ یہ نہ ہو تو بڑی بڑی خوشیوں کے انتظارمیں انسان جینا بھول جائے۔ 

    کل ماسی کی چھٹی کر دی گئی تھی۔ آج سے گھر کا کام ہے اور ہم ہیں دوستو۔ ڈیڑھ سال پہلے جب مجھ پر شیاٹکا نے حملہ کیا تو میں اپنی ٹوٹی کمر لیے پورے تین مہینے بستر سے بندھ کر رہ گئی۔ نہ کروٹ بدل سکتی تھی، نہ اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی۔ تین لوگ اٹھا کر واش روم لے جاتے تھے۔ کھانا بھی لیٹے لیٹے، نماز بھی لیٹے لیٹے اور علاج بھی لیٹے لیٹے۔ آسمان کو دیکھنا خواب ہو گیا، ہوا کے جھونکے چہرے پر کیسے لگتے تھے بھول گئی، بیٹھ کر پانی پینے کو ترس گئی۔ تب میں سوچا کرتی تھی صبح آنکھ کھلنے پر اٹھ بیٹھنا، اپنے پیروں پر چل کر دن کا آغاز کرنا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور جب یہ نعمت مجھے میسر تھی، میں نے کبھی اس پر غور ہی نہ کیا۔ کیوں نہ کیا؟ بس اسے ایک معمول کی بات سمجھتی رہی۔ پھر اللہ نے مجھ پر کرم کیا اور مجھے شفا بخشی۔ تب سے ہر نیا دن ایک نعمتِ عظیم ہے۔ صبح اٹھنا، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا اور ایک دن کا صحت کے ساتھ آغاز کرنا ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت کے لیے بھی ایک وضو ضروری ہے۔ ہر دن کے آغاز پر میری روح شکرگزاری کا وضو کرتی ہے۔ ہر صبح کے طلوع ہونے پر میں کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتی ہوں جو عام ہونے کے باوجود خاص الخاص ہے، نعمت عظیم ہے، خدا کا حسین تحفہ ہے۔ تو آج ڈیئر ڈائری میں آسائش کے بعد آنے والی مشکل کے لیے شکرگزار ہوں۔ ملازم کا ہونا آسائش تھی، نہ ہونا مشکل۔ اس مشکل میں کام کا بوجھ ہے اور تھکن بھی۔ لیکن اس کے ساتھ اس میں مصروفیت ہے اور اپنے بچوں کے کام کرنے کی طمانیت اور سکون کی نیند۔ یہ وہ مشکل ہے جو مجھے میری اوقات میں رکھتی ہے۔ کل بیٹھ کر حکم چلاتی تھی، آج کام میں جتی ہوں۔ نہ کل میری بڑائی تھی، نہ آج میری تحقیر۔ کل گزر گیا، آج بھی گزر جائے گا اور اس مشکل کے بعد جو آسائش آئے گی اس کی قدرومنزلت میرے دل میں کئی گنا بڑھ کر ہو گی۔ اور اس آسائش کے لیے اور اس ادراک کے لیے اے زندگی، میں ابھی سے شکرگزار ہوں۔

    لاک ڈاﺅن میں زندگی کو جامد ہونے سے بچانے کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے کہ ہر روز ایک نئی چیز سیکھوں گی۔ اس ہفتے دو کتابیں ہاتھ لگی تھیں۔ پہلی کتاب اردو کی تھی اور کسی خاتون کی لکھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے ایک ایسے گلوکار کی کہانی بیان کی تھی جو دین کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ مذہب کی طرف مائل ہونے سے پہلے وہ اچھا بیٹا، بہترین شوہر اور شفیق باپ ہوتا ہے اور جونہی اس کی دینی غیرت جاگتی ہے وہ ایک عجیب و غریب قسم کی چیز بن جاتا ہے۔ بیوی سے لڑنے لگتا ہے، لوگوں پر حد جاری ہونے کے فتوے دینے لگتا ہے، دادا سے بدتمیزی کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ ننھی بیٹی کے سامنے ذراسے اختلاف پربیوی کو مار مارکر حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔ 

  • پتھر کے صنم

    پتھر کے صنم


    ماہوش طالب


    جب سے اس نے بارہ جماعتیں پاس کی تھیں، اماں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گئی تھیں کہ وہ جم کر گھر داری سیکھ لے اور پھر وہ اسے کسی کھونٹے سے باندھیں۔ جیسے بھلا وہ کوئی بکری ہو۔ اس کی آگے پڑھنے کی خواہش کی پرواہ کیے بغیر۔ ابا کا تو ویسے ہی ہٹی کٹی اماں کے سامنے دال دلیہ نہ گلتا تھا، لہٰذا اس کا احتجاج کرنا بے کار ٹھہرا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا، رشتہ والی کے بار بار کے پھیرے کارگر ثابت ہوئے اور اماں کو اس کے لیے مناسب کھونٹی (رشتہ) مل ہی گئی۔ عبدالواثق کھاتے پیتے خاندان کا اکلوتا تو نہیں مگر دوسرا چشم و چراغ تھا، دو بہنیں تھیںجن میں سے ایک شادی شدہ اور دوسری کی منگنی ہوئی تھی۔ ساس جنونی تھی جب کہباپ کریانہ سٹور کے رعب دار مالک…. ذات برادری کے علاوہ یوں بھی جان پہچان نکل آئی کہ اماں کے گاﺅں کے پڑوسیوں کے قریبی رشتہ دار تھے…. خیر اماں نے ابا اور ماموﺅںسے صلاح مشورہ کرکے بات پکی کی، منگنی بھی کردی کیوں کہ لڑکے والوں کو بھی تیکھے نین نقوش والی صدف ایک نظر میں پسند آگئی تھی۔ بارہ اور پندرہ سال کی مقدس اور ندا اس خوشی میں جھوم جھوم کر پاگل ہورہی تھیں کہ گھر میں پہلا فنکشن ہونے جارہا ہے اور وہ بھی ان کی بہن کا۔ نو سالہ مدثر تو ابھی تک ٹیلی ویژن پر لگنے والے کارٹونز سے ہی نہ سیر ہوا تھا، لہٰذا اسے پرواہ نہیں تھی۔ صدف جو ابھی تک شادی سے رضامندنہیںتھی۔ جب اس نے بھی اپنے ہونے والے منگیتر کی تصویر دیکھتی تو دل خود بہ خود مان گیا اور جب رات کو آنکھیں بند کرتے ہی بانکا سجیلا سا عبدالواثق گھڑی باندھے کلائی کو تھوڑی پر ٹکائے اس کے سامنے بڑے دھڑلے سے آجاتا، تو اس کے پیٹ میں چٹکیاں بھرنے لگتیں۔مگر پھر فائزہ کی کہی گئی بات اسے تشویش میں مبتلا کردیتی وہ اس کی کالج کی دوست تھی، صدف کی منگنی کی اطلاع ملنے پر وہ اگلے ہی دن اس کے گھر چلی آئی۔
    ”تصویر میں تو اچھا خاصا ہے مگر…. تم اس شکل پر مت ریجھ جانا، آج کل تصویری اور اصلی شکل و صورت میں بڑا فرق ہوتا ہے، ایسی ایسی ٹیکنالوجی آگئی ہے کہ کالا شاہ بندہ جی تصویروں میں پیدائشی گورا لگتا ہے۔“ وہ بیٹھک کے صوفے پر بیٹھی پکی عورتوں کی طرح اسے مطلع کررہی تھی۔
    ”ارے نہیں! اماں اور ابا دیکھ کر آئے ہیں لڑکے کو، پھر وہ مدثر سے بھی میں نے پوچھا تھا۔“ صدف نے اپنے تئیں اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔
     ”اچھا تو چھپ چھپ کے ساری معلومات لے لی ہوگی۔“ فائزہ نے بات پکڑ کر اُسے چھیڑا تو صدف بے اختیار جھینپ گئی۔
     ”اور اپنی اماں کی تم رہنے ہی دو جب انہوں نے رشتہ پکا کرنے کی ٹھان ہی لی تو وہ کیوں ہر بات سو فیصد سچ بتا کر تمہارا ذہن بدلنے کی کوشش کریں، ویسے بھی مائیں بیٹیوں کے لیے لڑکوں کی شکل نہیں دیکھتیں، انہیں بس کھاتا پیتا خاندان اور لڑکا چاہیے ہوتا ہے۔ بیٹیوں کے احساسات کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔“ وہ یوں کہہ رہی تھی جیسے خود نہ جانے کتنی منگنیاں بھگتا آئی ہو۔
    صدف نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں حسد کا تڑکا محسوس کیا، مگر نظر انداز کر گئی۔
    ”یہ مت سمجھنا میں تمہارا دل خراب کررہی ہوں، مائیں تو ہوتی ہی جذباتی ہیں، مگر تم ذرا اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر دیکھو، یہ سب میں تمہاری بھلائی کو ہی کہہ رہی ہوں۔“صدف کی خاموشی کو خاطر میں لاتے ہوئے اس نے وضاحت کی جو کارگر ثابت ہوئی اور صدف پھر سے اس کے ساتھ مزے سے گپیں لڑانے لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امی نے بیٹھک میں آکر اطلاع دی کہ فائزہ کا بھائی آیا ہے اسے لینے۔….
    بارش کے بعد موسم کا موڈ سنور گیا تھا۔ گھر کے نچلے پورشن میں سفیدی کا کام شروع کروایا تھا اماں نے، آج تو بارش کی وجہ سے کام رُک گیا مگر سامان اِدھر اُدھر بکھرا ہوا تھا۔ صدف دو دنوں سے بکھراوے سے بے زار چھت پر آگئی،سامنے کھجور کا درخت تھا جس کے پتوں سے پانی ٹپ ٹپ بہ رہا تھا۔ وہ منڈیر پر کہنیاں ٹکائے کھڑی ہوگئی۔ اس کے ہونے والے سسرال نے شادی کی تاریخ بڑھا دی تھی اماں کے مطابق وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ نئی بہو کے لیے اوپری منزل میں ایک پورشن بنوا رہے ہیں جس کے مکمل ہونے پر وہ بارات لے کر آئیں گے۔ اس بات پر بھی اماں نے یہ مصلحت ڈھونڈ لی۔

  • نامراد

    نامراد
    شاذیہ خان


    ”حییٰ علی الفلاح، حییٰ الفلاح“ میاں صاحب کی خوش الحان آواز مسجد کے میناروں سے گونجی تو تاجور کی آنکھ کُھل گئی۔ وہ کلمہ پڑھتی ہوئی اُٹھی اور تکیے کے برابر رکھا دوپٹہ سر پر لے لیا۔ آنکھیں موند کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں یوں پیوست کرلیں، جیسے دُعا مانگ رہی ہو۔ اذان کے ساتھ ہی اس کے دل کے جلتے دیئے لو دینے لگے تھے۔ پہلے وہ کبھی اتنی شدّو مد کے ساتھ دعا نہیں مانگتی تھی مگر اب تو دعا مانگنے کا ایک بھرپور بہانہ تھا مُراد…. جو اس کے دل کی مراد بھی تھا۔ مراد نے خود بھی کبھی اپنے لیے اتنی دعائیں نہیں مانگی ہوں گی جتنی دُعائیں تاجور نے اس کی اور اپنی راہ کے یک جا ہونے کی مانگی تھیں۔ اگر مراد کو معلوم ہو جاتا تو وہ شاید خدا بن بیٹھتا۔
    میاں جی کی اکلوتی بیٹی ہونے کا مان ہر جگہ تاجور کے ساتھ تھا۔ تین بیٹے پیدا ہوتے ہی صرف چند گھنٹوں دنیا کی مسافرت کے سزاوار رہے اور پھر واپس اپنی حقیقی منزل کی جانب لوٹ گئے۔ اُس کے بعد پیدا ہونے والی تاجور کی کیا وقعت ہوگی ایسا کوئی انعام علی اور ان کی بیگم سے پوچھتا تو وہ اولاد جیسی نعمت پر گھنٹوں بات کر سکتے تھے۔ لیکن اتنے نازو نعم سے پلی اکلوتی بیٹی کی پہلی اور آخری خواہش انعام علی کے لیے پوری کرنا زندگی اور موت کا معاملہ تھا بھلا ایک کم ذات سے رشتہ جوڑنا کیسے ممکن تھا اور وہ مراد کے لیے اپنی ساری اقدار سے ٹکرانے بلکہ پاش پاش کردینے کے عزم میں تھی۔
    ٭….٭….٭

  • ورثہ

    ورثہ

    ارم سرفراز

    مریم نے آفس کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ صبح کی تیز بارش، اب ہلکی سی پھوار کی شکل دھار چکی تھی۔ امریکا کے شہر سیاٹل میں سارا سال بارش کا نہ ہونا عجیب بات ہوتی تھی ، اس کا ہونا نہیں ۔ مریم کا گھر آفس سے تھوڑی ہی دور تھا اور وہ اکثر پیدل ہی آ جاتی تھی ۔ اس نے پرس اٹھایا، چھتری کھولی اور باہر نکل آئی ۔ بہار کی آمد تھی اور درختوں کی ویران شاخیں، نئے پتوں سے بھرنے لگی تھیں ۔ مستقل بارش نے پتوں اور پھولوں کی رنگینی کو مزید تازہ کر دیا تھا اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
    مریم کے گھر کا راستہ چھوٹے سے شاپنگ ایریا سے گزرتا تھا جس میں موجود دکان دار اب اسے پہچانتے تھے اور اکثر سامنا ہونے پر خوش دلی سے ”ہیلو“ بھی کرتے تھے۔ اپنے اونچے قد، چمکیلے گہرے بھورے بال اور کالی آنکھوں کے ساتھ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی خاصی دلکش تھی ۔ امریکا میں ہی پلنے بڑھنے کی بہ دولت اس کے طور طریقے بھی وہاں کے گورے باشندوں کی طرح ہی تھے ۔ان لوگوں کو بھی اس میں الگ صرف اس کا نام اور اس کی مشرقی نین نقش نظر آتے تھے یا پھر اس کا مسلمان ہونا جس کا ذکر ایک انتہائی نازک موضوع ہونے کی بنا پر وہ اپنی گفت گو میں شاذ و نادر ہی لاتے تھے۔ مذہب کے معاملے میں مریم نے امریکیوں کو دو طرح کا پایا تھا ۔ یا تو انتہائی منہ پھٹ اور بد لحاظ یا پھر انتہائی تمیزدار اور ، شعوری یا لاشعوری طور پر دامن بچاتے ہوئے ۔ اس کا پالا دونوں سے ہی پڑتا تھا اور دونوں میں دوسری قسم ہی ہر لحاظ سے غنیمت تھی ۔
    مریم کا شوہر علی بھی وہیں کا پیدائشی مسلمان تھا۔ ان کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ ایک ہی کلچر میں پلنے بڑھنے کی بدولت ان میں کافی ذہنی مطابقت تھی۔ بحث اور چھوٹی موٹی لڑائیاں اتنی ہی تھیں جتنی کسی بھی شادی شدہ گھر میں ہوتی تھیں ۔ لیکن ہر بحث اور لڑائی خوش اسلوبی سے نمٹ جاتی تھی ۔ شاید اس کی وجہ مریم کا اس بات پر یقین تھا کہ شادی کی کام یابی کا انحصار کم توقعات اور زیادہ ہم آہنگی کے اصول پر ہوتا ہے۔ وہ فطرتاً ہی صلح جو تھی اور یہ وہ خاصیت تھی جو وہاں پلی بڑھی پاکستانی عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان کے دو بچے رائنا اور عمر ان کی فیملی کو مکمل کرتے تھے۔
    ادھر ادھر کی سوچوں میں بھٹکتا ہوا اس کا ذہن اپنے اور علی کے درمیان ہونے والی حالیہ بحث پر جا کر اٹک گیا جس کا حل اس کی صلح جوئی بھی نہیں نکال پا رہی تھی ۔ مسئلہ علی کا اس کی اس adoption agency میں نوکری کا تھا جس میں وہ پچھلے چار سال سے کام کر رہی تھی ۔ اول تو وہ یہ پارٹ ٹائم نوکری اور وہ بھی ہفتے میں تین دن پیسے کے لیے نہیں بلکہ وقت کے ایک مثبت مصرف کی خاطر کر رہی تھی ۔ اس کے باوجود بھی علی کی ناپسندیدگی اسے کچھ بھا نہیں رہی تھی ۔ علی کو اس کے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، صرف اس جگہ پر تھا جہاں وہ نوکری کر رہی تھی ۔ مریم بار بار اس نوکری کی سہولتیں گنواتی کہ وہ گھر سے قریب ہے، پارٹ ٹائم ہے اور اسے ایک حقیقی خدمت ِخلق کا موقع دیتی ہے۔ گو کہ علی کی اس خاص نوکری سے ناگواری کے پس ِپہلو سے وہ آگاہ تھی لیکن اس کے نزدیک اس وجہ سے علی کی اس نوکری کے لیے حمایت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ناگواری میں ۔
    اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی سی پھوار بھی مکمل طور پر رک چکی تھی ۔ لال اینٹوں ، چوڑی فرنچ کھڑکیوں، اور وسیع فرنٹ لان والا اس کا گھر سٹریٹ پر دوسرے گھروں سے ملتا جلتا تھا ۔ اینٹوں کی سرخی پر چڑھتی ہری بیلوں اور جگہ جگہ موجود سفید اور پیلے پھولوں نے گھر کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔ ڈرائیو وے میں علی کی گاڑی کھڑی تھی۔ ایک انجینئرنگ فرم میں پارٹنر ہونے کی وجہ سے اسے اکثر جلدی گھر آ جانے اور گھر سے کام کرنے کی آسائش تھی ۔
    مریم کچن کی دروازے سے اندر آئی تو وہ کچن کے اندر کھڑا فون پر کسی دوست سے بات کر رہا تھا ۔
    ”ہاں ہاں! صنم کو بھی ضرور ساتھ لانا ۔ویسے بھی بیویوں کے بغیر کہیں جا ﺅتو انہیں شک کی شدید تکلیف ہو جاتی ہے۔” علی نے مریم کو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اپنے دوست کو یہ آخری ہدایت غالباً اسے ہی چھیڑنے کے لیے دی گئی تھی۔ علی کے جوابی قہقہہ سے صاف ظاہر تھا کہ دوسری طرف سے اس بات کا جواب بھی کچھ اُلٹا ہی آیا تھا۔
    ”ہاں! مریم بھی ابھی ابھی آئی ہے ۔ ٹھیک ہے، پھر ایک گھنٹے میں ملتے ہیں۔“علی نے فون بند کیا اور اس کی طرف مڑا ۔ لیکن اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی مریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔
    ”ٹھہرو! مجھے بوجھنے دو یہ کون ہے۔“ اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
    ”رضوان تھا اور ایک گھنٹے میں صنم کے ساتھ آ رہا ہے؟“علی زور سے ہنس پڑا ۔
    ”یہ تو تم سب سن ہی چکی تھی۔تمہارا کیا کمال ہو؟اتم لوگ تو ویسے ہی ہم لوگوں کے ہر فون پر کان لگا کر بیٹھی ہوتی ہو۔“ اس نے اسے چھیڑا ۔
    ”جیسے تم لوگ نہیں بیٹھے ہوتے۔“مریم نے بھی فٹ سے جملہ داغا۔
    ”ہاں بھئی ! میں ہر وقت بھول جاتا ہوں کہ کچھ عورتیں خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہوتی ہیں۔ ان سے آپ کوئی بحث نہیں جیت سکتے ۔“مریم اس کی چاپلوسی پر مسکرا دی ۔
    ”کم خوب صورت تو آپ بھی نہیں لیکن چھوڑو یہ سب باتیں ۔ یہ بتا ﺅ کہ یہ لوگ اچانک کیوں آرہے ہیں؟“ وہ اور علی باتیں کرتے کرتے اپنے کشادہ فیملی روم میں آ چکے تھے ۔
    ”رضوان نے جو نئی جاب کی آفر قبول کی ہے، اسی کے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہا ہے وہ۔“ علی نے اپنی پسندیدہ آرام کرسی پر جگہ سنبھال لی تھی اور اب ٹی وی ریموٹ کے لیے نظریں دوڑا رہا تھا ۔
    ”تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو؟“
    ”نہیں تھکی! ہوئی تو نہیں ہوں۔“ وہ بھی اسی کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔“
    ”تم نے آج امی جی کو کال کی تھی؟“ اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔
    ”میں نے تو کال نہیں کی۔میرے خیال سے امی جی اور ابو دونوں اس وقت اتنا مزا کر رہے ہوں گے اور وہ تو میرا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔“ وہ اپنی ہی بات پر ہنسا ، مریم بھی مُسکرا دی۔
    ان دنوں ان کے دونوں بچے، بارہ سالہ عمر اور چودہ سالہ رائنا اپنی سپرنگ بریک کی ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے نانا نانی، شازیہ اور نذیر عبید کے پاس لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ یہ ان دونوں کی چھٹیوں کا معمول تھا اور دونوں پارٹیاں نہ صرف ان ملاقاتوں کی شدت سے منتظر رہتیں۔ بلکہ ان کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کے نت نئے طریقے بھی سوچ کر رکھتی تھیں۔ دو دن پہلے ہونے والی گفت گو میں بھی مریم کو اپنے اندازوں کے مطابق ہی معلومات ملی تھیں ۔ نانا اور نواسہ گھر کے پاس والی جھیل میں جی بھر کر مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے جب کہ رائنا اپنی نانی کے ساتھ مال میں شاپنگ اور نئی موویز دیکھنے میں مشغول تھی ۔
    ”ان لوگوں کے لیے کوئی خاص چیز بنانی ہے کیا؟“ مریم کا اشارہ رضوان اور صنم کی طرف تھا ۔
    ”نہیں! وہ لوگ کھانے پر کہیں انوائٹڈ ہیں اس لیے کھانا نہیں کھائیں گے ۔“

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۶ ۔ آخری قسط

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۶ ۔ آخری قسط

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۶ ۔ آخری قسط

    (رات:٢٧)
    آخری رات

    ظاہر ہونا حسن پر عشق،بنّے بھائی اور حُسن کی اصلیت کا:

    ستائیسویں کی رات وہ رات ہے کہ اس کے آگے ہزار سالوں کو مات ہے۔ ستائیسویں کی ایک رات رمضان میں آتی ہے کہ اس رات کو باری تعالیٰ انسانوں کی جوق در جوق جان بخشی کرتا ہے اور ایک ستائیسویں رات آج ملکہ شہرزاد کی زندگی میں آئی تھی، جانے اپنے جلو میں کیا لائی تھی؟ جاں بخشی یا قضائ؟ صلہ رحمی یا سزا؟ ملکہ کا دل گھبراتا تھا، چین نہیں آتا تھا۔ سوچتی تھی، آج ستائیسویں رات جب کہانی ختم ہوگی تو دیکھئے کیا انجام ہو؟ جان بخشی ہو یا کام تمام ہو۔
    اسی فکر میں غلطاں و پیچاں، حیران و پریشاں تھی کہ خورشید ِتابدار نے چادرِ مشکیں میں منہ چھپایا اور چاند نے چرخِ نیلی پر مکھڑا دکھایا۔ بادشاہ شہریار سلطنت کے کام سے فراغت پاکر خوابگاہ میں آیا اور شہر زاد کو طلب فرمایا۔
    شہرزاد پہلے تو بادشاہ کی تعریف میں رطب اللسان ہوئی اور توصیف میں یوں عذب البیان ہوئی۔
    نطق نے تیس حروفوں سے ترے عہد کے بیچ
    سین و واؤ و الف و لام کو ڈالا ہے نکال
    تو وہ عادل ہے جہاں میں کہ قلمرو میں ترے
    چیونٹی بھی دستِ تعدی سے نہ ہووے پامال
    بادشاہ بے اختیار مسکرایا اور خود کو بہت محظوظ پایا۔ ملکہ شہرزاد کی تعریف میں چھپے سوال کو بخوبی سمجھ گیا لیکن کسی وعدے سے گریز کیا۔ کہا تو صرف اتنا: ”اے ملکۂ جادو جمال ۔حسن بدرالدین کی باقی کہانی کہہ ڈالو کہ پہاڑ سی رات کٹ جائے، صبح خدا جانے تقدیرکیا پلٹا کھائے۔”
    ملکہ شہرزاد، رشکِ گلر خانِ نوشاد نے دل کو سنبھالا اور جھک کر تسلیم بجالائی اور سلسلۂ سخن یوں شروع کیا کہ اے ظلِ الٰہی، حسن بدرالدین خاتونِ ضعیفہ سے مل کر خوش خوش واپس آیا اور ہوٹل کے کمرے میں پہنچتے ہی سجدئہ شکر بجا لایا۔ فوراً اپنا سامان کھولا اور اس کے خفیہ خانے سے اپنے ماں کے جواہرات نکالے۔ اپنی ماں کی انگوٹھی وہ ہمہ دم اپنے ساتھ رکھتا تھا اور پل بھر کو بھی جدا نہیں کرتا تھا۔ یہ انگوٹھی اس کے لیے خوش بختی کا سبب تھی۔ جب سے ملی تھی، حسن کی زندگی بہتری کی جانب رواں تھی۔ اس لیے وہ یہ انگوٹھی اور دو ہیرے اپنے ساتھ لیتا آیا تھا۔ ارادہ تھا کہ یہاں کسی جوہری کو دکھا کر قیمت لگوائے گا اور اگر بہتر قیمت ملی تو بیچ کر کام میں لائے گا۔
    اب جو قسمت نے یہ پلٹا کھایا کہ اپنی زندگی میں واپس جانے کا موقع میسر آیا تو حسن کی دلی مراد برآئی، سفرِ زمانہ کی دھن سمائی۔ سوچا، اس زمانے کا پھل پاچکا ہوں، انواع و اقسام کے صدمے اٹھا چکا ہوں۔ اگرچہ باری تعالیٰ نے بہت فضل کیا اور معاملات کو میرے لیے آسان کردیا لیکن اب واپس جانا ضرور ہے، یہ بات مجھے دل سے منظور ہے۔ میری اصل زندگی تو وہی تھی۔ یہاں تو میں بیگانہ ہوں، کسی کا اپنا ہوں نہ یگانہ ہوں۔ وہاں میرے والد جنت مکاں، فردوس آشیاں کا محل موجود ہے، اس میں جاکر ٹھہروں گا۔ ماں کے یہ ہیرے بیچ کر والد ہی کی دکان واپس خریدوں گا اور ان کی نصیحت کے بموجب تجارت کے جوگرُ میں نے والد سے اور اس نئے زمانے سے سیکھے ہیں، انہیں دیانتدارانہ کام میں لاؤں گا، تجارت میں نام کماؤں گا۔ میں اکیلی جان ہوں، بہت نہ بھی کما سکا تو تھوڑا بہت بھی میرے گزارے کو بخوبی کافی ہوگا۔ یہی سرمایہ وافی ہوگا اور نہ بھی ہوا تو تن بہ تقدیرر ہوں گا ،کہ جس خدا نے یہاں روزی دی ہے وہ وہاں بھی دے گا، کبھی اکیلا نہ چھوڑے گا۔ اپنے شہر میں روزی نہ ملی تو کہیں اور چلا جاؤں گا، دست و بازو سے روٹی کماؤں گا۔ ملک خدا تنگ نیست، پا ے میرا لنگ نیست۔
    بہت دیر تک حسن اپنے ماضی کو یاد کرتا رہا، کبھی ہنستا کبھی روتا رہا۔ اس ماضی میں حسن کی پوری زندگی تھی، ماں باپ کی یا دیں تھیں، ان کی قبریں تھیں۔ وہ مکان تھا جہاں حسن کا بچپن اور جوانی ماں باپ کی شفقت کے سائے تلے گزرے تھے۔ وہ گھر جس کی اس نے قدر نہ کی، ماں باپ کو کوئی خوشی نہ دی۔ اب تقدیر نے ایک موقع دیا تھا تو حسن کا بس نہ چلتا تھا کہ لمحے کی دیر کیے بغیر واپس جائے، باپ کے نام کو چار چاند لگائے۔ ایسی شرافت، خردمندی اور وضع داری سے زندگی گزارے کہ سب لوگ پکار اٹھیں کہ یہ مرحوم بدرالدین کا فرزند ہے، درِ جہالت اس پر بند ہے۔
    زندگی کے معجزے بھی عجیب ہیں کہ وہ وقت جو کبھی ماضی تھا، اب مستقبل بننے جارہا تھا۔ ماضی اور مستقبل سے نظر ہٹی تو حال پر پڑی۔ حسن کو ہر اُس فرد کا خیال آیا جسے وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ وہ دوست یار جن کی کہانیاں اس نے پہلی مرتبہ ایف سی کالج کے بوٹینیکل گارڈن میں بیٹھے سگریٹ پیتے ہوئے سنی تھیں۔ اسے وہ طوطا یاد آیا جو بندو نے اپنی محبوبہ کو تحفے میں دیا تھا، جس کا نام اس نے بندو کے نام پر بندو رکھا تھا اور جس کے ہاتھوں بندو نے جدائی و رسوائی کا مزا چکھا تھا۔ یہ سوچ کے حسن خوش و مسرور ہوا کہ اب بندو دکان میں اس کا رفیقِ سلیقہ شعار تھا، فنِ تجارت میں آزمودہ کار تھا اور چونکہ بہت اچھا کھاتا کماتا تھا تو بلا رکاوٹ اپنی معشوقہ کو عقدِ نکاح میں لایا تھا، جہیز میں طوطا بھی پایا تھا۔ اب بندو حسن کے بغیر بھی زندگی کی گاڑی خوش اسلوبی سے کھینچ سکتا تھا۔ یہی صورتحال نعیم اور محسن کی بھی تھی۔ نعیم دکان کا سارا حساب کتاب کمپیوٹر پر چڑھاتا تھا، محسن اپنی طعام گاہ چلاتا تھا۔ دونوں اپنی مرضی اور خوشی کا کام کرتے تھے، حسن کی سخاوت کا دم بھرتے تھے۔ دونوں ہی کا روزگار خود بخود چل رہا تھا، دونوں ہی کو اب حسن کے سہارے کی ضرورت نہ تھی۔ رہا عاکف تواس کااور اس کے ساتھ ساتھ کرن کا باب بند ہوچکا تھا اور حسن کو ان کی کچھ پرواہ نہ رہی تھی۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۵

    (سارہ قیوم)

    رات: ۲۶

    جانا حسن سوداگر بچے کا چِین:

    چھبیسویں رات کو شہریارِ جم اقتدار، فخرِ سلاطینِ دیار نے محل میں قدم رنجہ فرمایا اور بادشاہ کو باقی قصے کے سننے کا شوق چرایا توشہر زاد بادشاہ کے حضور میں بہ صد نیاز عرض پر داز ہوئی کہ اے سلطانِ عالم، حسن بدرالدین نے معشوقہ کی بے وفائی سے بہت دکھ اٹھایا تھا، بڑا صدمہ پایا تھا۔ لیکن آخر فلک کج رفتار نے کرم کیا اور زندگی نے ایسے ایسے رنگ دکھائے کہ حسن کو معلوم ہوگیا کہ دنیائے دوں کا یہی کارخانہ ہے، کہیں غم کی داستان، کہیں خوشی کا ترانہ ہے۔ کل کچھ اور آج کچھ اور ہے، سرائے فانی کا یہی طور ہے۔ یہ دنیا دارِ فانی ہے، موت ایک نہ ایک روز ضرور آنی ہے۔ پس رونا دھونا بے کار ہے۔ فضول یہ سب انتشار ہے۔ یوں حسن سوداگر بچے نے غمِ عشق سے چھٹکارا پایا، جنابِ باری کا شکر بجا لایا۔
    باری تعالیٰ کی ذات ہے کہ شرمیں سے خیر پیدا کرتا ہے جیسے نسیمہ آپا نے بنّے بھائی سے طلاق پائی تو بہت بلبلائی لیکن اس شرمیں سے یہ خیر نکلا کہ نسیمہ آپا اور ماموں کے نکاح کی نوبت آئی، دونوں نے راحت پائی۔
    ادھر ممانی کو سوتیاہ ڈاہ نے اس قدر ستایا اور آتشِ غضب نے وہ رنگِ اثر جمایا کہ مزاج جو پہلے ہی شعلہ جوالا تھا، بالکل ہی آتش فشاں ہوگیا۔ ماموں کے جرم کی سزا زلیخا نے پائی، بے چاری کی بہت ہی شامت آئی۔ قہرِ ممانی بر جانِ زلیخا۔ ممانی کا سارا غصہ زلیخا پر نکلنے لگا اور اس بے چاری نے بھاگ کر کتابوں میں پناہ لی۔ شام گئے تک کالج کے کتب خانے میں بیٹھی پڑھتی رہتی اور گھر آتے ہی کتابوں میں منہ دے کر بیٹھ جاتی۔ اسے ممانی کے عتاب سے بچانے کی خاطر حسن ممانی کے ساتھ باورچی خانے میں کام کرتا، برتن دھوتا، پیاز چھیلتا، جھاڑو دیتا اور ممانی کی گھرُ کی جھڑکی کان دبا کر سہتا۔
    اِس شرمیں سے یہ خیر برآمد ہوئی کہ اتنی پڑھائی رنگ لائی اور زلیخا پہلے سال کے سالانہ امتحان میں اوّل آگئی۔ زلیخا خوشی سے پھولے نہ سمائی، بے حد خوشی منائی، ممانی کے چہرے پر بھی عرصے بعد مسکراہٹ آئی۔
    زلیخا نے پوچھا:”ماما،میں اس خوشی کو اپنے پیاروں کے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتی ہوں۔ آج شام کو دادی اماں کو چائے پر بلا لوں؟“
    ممانی نے منہ پھیر کر کہا:”بلالو۔“
    حسن نے کہا:”میں جا کر لے آتا ہوں نانی کو۔“
    ممانی نے ڈانٹ کر کہا:”توُ جا کر مٹھائی لے کے آ۔ آتی رہیں گی وہ خود ہی۔“
    یہ تو حسن کو بعد میں خیال آیا کہ نانی نے بھلا خود کیسے آنا تھا؟ انہیں تو ماموں نے لانا تھا۔ شام کو ممانی نے نہا دھوکر نیا جوڑا پہنا، سرمہ لگایا اور عطر لگا کر نانی کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ نانی آئیں، ساتھ ماموں بھی آئے، ممانی کے لیے ایک گرم شال لائے۔ حسن کا خیال تھا ممانی بہت برا منائے گی۔ تحفہ ماموں کے منہ پر دے مارے گی، لیکن ممانی نے صرف برا منہ بنانے پر اکتفا کیا اور تحفہ لے کر ہونہہ کہہ کر ایک طرف ڈال دیا اور جب نانی نے کہا:”جا زاہد، ذرا پروین کو گھما لا، سارا دن گھر میں بند رہتی ہے۔“ تو حسن نے گھبرا کر ممانی کی طرف دیکھا کہ اب شامت آئی کہ آئی، لیکن ممانی نے بے حد نخرے سے برا سا منہ بنایا، ناک چڑھایا اور اٹھ کھڑی ہوئی اور ماموں کے اٹھنے سے پہلے ہی باہر کو چلی اور ان کے سکوٹر کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی۔
    حسن نے جو دلبری کا یہ انداز دیکھا تو لجہئ حیرت میں غرق ہوا کہ یا العجب یہ کیا بو العجبی ہے؟ یہ کیا ہورہا ہے؟ نانی کو دیکھا تو چپکے چپکے مسکراتی تھی، بہت حظ اٹھاتی تھی۔
    حسن کو ہکا بکا دیکھا تو نانی نے چپکے سے کہا:”اب دیکھناکیا ہوتا ہے، زاہد تو نسیمہ کے ساتھ رہ کے بالکل بدل گیا ہے۔ بڑا شرارتی ہوگیا ہے۔“
    حسن نے گھبرا کر کہا:”یا اللہ خیر، ابھی ایک شرارت سے تو ممانی سنبھلی نہیں، کوئی اور شرارت ماموں کر بیٹھے تو ہم سب کی جان جائے گی، ممانی سب کو کچا چبائے گی۔“
    نانی ہنسی اور کہا:”فکر نہ کر، اب جو شرارتیں زاہد کرتا ہے، وہ بڑی پسند آئیں گی پروین کو۔“
    گھنٹے بعد جب ماموں ممانی واپس آئے توممانی اندر آئیں اور بڑے اخلاق سے نانی کو سلام کیا۔ ممانی کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور سارا سرمہ بہہ گیا تھا، لیکن کلائیوں میں گجرے تھے اور چال میں عجب لوچ اور ادا۔ ترچھی نظر سے ماموں کو دیکھا اور اپنے کمرے کو سدھاری۔
     ماموں کچھ شرمائے، کچھ مسکرائے اور نانی کے پاس بیٹھ گئے۔ گدی پر ہاتھ پھیر کر نانی سے بولے:”میں سوچ رہا ہوں ہفتے میں ایک دن یہاں رہ جایا کروں۔ آخر منّے کو میری ضرورت ہے۔“
    نانی مسکرائیں اور یوں سر ہلایا جیسے کہتی ہوں، میں خوب جانتی ہوں کس کو تیری ضرورت ہے۔
    زلیخا نے حسن کو دیکھا اور مسکراہٹ دبا کر شرارت سے بولی:”حسن! منہ بند کرلو مکھی چلی جائے گی۔“
    نانی اور زلیخا ہنسنے لگیں۔ ماموں مزید شرما گئے اور حسن یونہی ہکا بکا اس بوالعجبی پر غور کرتا رہ گیا۔

    ٭……٭……٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲۴

    (سارہ قیوم)

    رات ۲۵

    جب سلطانِ دِن نے آرام فرمایا اور خاتونِ شب نے منظرِ فلک سے جلوہ دکھایا تو بادشاہ آرام گاہ میں آیا اور شہرزاد کو بلا کر ارشاد فرمایا کہ بقیہ داستان کہہ سناؤ۔ ہمارا دل بہلاؤ۔ شہرزاد نے فرمان کی تعمیل کی، داستان گوئی میں تعجیل کی اور کہا کہ اے شاہِ فلک بارگاہ، حسن بدرالدین کے ساتھ جو قصۂ افسوسناک پیش آیا تھا، اس نے اسے صیدِ رنج و محن سنایا تھا۔ یوں تو اس نے عاصم اور کنیزِ بے تمیز کو معاف کردیا تھا لیکن کرن کی ہر بات اب تک یاد تھی، طبیعت ناشاد تھی۔ عشقِ نارسا کے ساتھ ساتھ ذلت کا بھی بے حد صدمہ تھا۔ اس صدمۂ جاں گزا سے اس کا حال زار ہوگیا، مارے قلق کے بیمار ہوگیا۔ دن کو کھاتا نہ رات کو سوتا تھا، سوچ سوچ کے جان کھوتا تھا۔ دن بھر چپ چاپ اپنے کمرے میں پڑا رہتا اور دل جلاتا رہتا، جب زلیخا یا نانی میں سے کوئی پوچھنے آتا تو سوتا بن جاتا۔
    آخر ایک دن زلیخا اس کے کمرے میں آئی اور حسبِ معمول حسن کو سوتا پایا تو واپس جانے کے بجائے وہیں بیٹھ گئی اور تحکم سے بولی:‘‘حسن بدرالدین میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم جاگ رہے ہو۔ اس لیے اب میرے سامنے یہ ڈرامہ مت کرو اور اٹھ کر کھانا کھاؤ۔’’
    حسن نے پھر بھی آنکھیں نہ کھولیں تو زلیخا نے اطمینان سے کہا: ‘‘ٹھیک ہے، مت کھولو آنکھیں۔ میں بھی تب تک یہاں بیٹھی رہوں گی جب تک تم اٹھ نہیں جاتے، چاہے تم دو دن تک نہ اٹھو نہ کالج جاؤں گی، نہ کچھ پڑھوں گی، فیل ہوگئی تو گناہ تمہارے سر۔’’
    یہ دھمکی کام کرگئی اور حسن نے آنکھیں کھول دیں۔ دیکھا تو زلیخا کو بستر کے پاس کرسی پر بیٹھا پایا۔ سامنے ایک میز دھری تھی جس پر ایک قاب پڑی تھی۔ اس قاب میں انواع و اقسام کے اطمۂ لذیذ و حلوائے نفیس سجے تھے۔ حسن نے ایک نظر ان پر ڈالی اور بے بسی سے زلیخا کو دیکھا۔ زلیخا نے جب اس جوانِ رعنا کی آنکھوں میں دیکھا تو انہیں اس قدر ملول و افسردہ، غمگین و پژمردہ پایا کہ جگر خراش ہوا، دل پاش ہوا۔
    بصد ہمدردی و شفقت زلیخا نے کہا:‘‘میں جانتی ہوں تم بہت اپ سیٹ ہو۔ بہت دکھ ہوا ہے تمہیں کرن کی بے وفائی کا لیکن اتنے خاموش کیوں ہو؟ ہمیشہ تو مجھ سے ہر بات کہہ دیا کرتے تھے۔ اب بھی کہہ دو جو دل میں ہے، دل ہلکا ہو جائے گا۔’’
    حسن کی آنکھیں ڈبڈا آئیں۔ وہ زلیخا سے دل کا حال کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہ پاتا تھا۔ صرف محبوبہ کی بے وفائی کا دکھ ہوتا تو سہہ لیتا، حالِ دلِ زار کہہ لیتا، لیکن یہاں تو انا پر چوٹ پڑی تھی، عزت کا جنازہ نکلا تھا، شرافت پر انگلی اٹھی تھی۔ کرن کی باتیں رہ رہ کر کانوں میں گونجتی تھیں اور پھر اس کا یہ کہنا: ‘‘اس کے لیے آپ ہیں نا۔’’ یاد آتا تھا، حسن کو مار جاتا تھا۔ اپنی محبت، عزت اور شرافت کی یہ بے عزتی حسن سے سہی نہ جاتی تھی۔ ذلت کی یہ داستان منہ سے کہی نہ جاتی تھی۔ بس چپ چاپ انواع و اقسام کے صدمے سہتا تھا، سرد دھنتا تھا تنکے چنتا تھا۔ خود پر شرم آتی تھی کہ عشق میں اس قدر اندھا ہوگیا کہ آنکھوں دیکھی جھٹلاتا رہا۔ نانی، زلیخا اور کنیز نے کئی مرتبہ بتایا اور باور کرایا کہ یہ بی صاحب خاص بے باک ہیں، بڑی چربانک ہیں، لیکن میں ایسا کاٹھ کا الو بنا رہا کہ ہر دم والہ و شیفتہ رہا۔ یہی سمجھتا رہا کہ بڑی عفیفہ و پاکباز ہے، ہائے یہ نہ جان سکا کہ ساحرۂ فسوں ساز ہے۔ اس زنِ بد نے شیشۂ عفت کو سنگِ بے آبروئی سے توڑا، سپوتِ قومِ لوط تک نہ چھوڑا؟ اور جب مجھ سے سامنا ہوا تو تب بھی بے حیا کو ذرا شرم نہ آئی، مطلق نہ شرمائی، کس دیدہ دلیری سے کہا:‘‘اس کے لیے آپ ہیں نا۔’’ اور اب یہ عالم ہے کہ بندۂ درگاہ کفِ افسوس ملتا ہے، تمام جسم شعلۂ غم سے جلتا ہے۔ ادھر حسن اپنے پچھتاووں میں گم تھا، ادھر زلیخا اس کا منہ تکتی تھی۔
    آخر محبت سے بولی: ‘‘اچھا چلو کچھ نہیں کہنا چاہتے نہ سہی۔ چلو اٹھو، منہ ہاتھ دھوؤ اور کھانا کھاؤ۔ کل سے تم نے کچھ نہیں کھایا۔ بھلا کھانے سے کیا ناراضگی؟’’
    حسن نے ایک آہِ سرد، بددل پردر بھری اور کہا:‘‘کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا، زلیخا۔’’
    زلیخا نے اطمینان سے کہا:‘‘ٹھیک ہے نہ کھاؤ، تمہیں اس حال میں دیکھ کے مجھے بڑی ٹینشن ہورہی ہے اور تمہیں تو پتا ہی ہے جب مجھے ٹینشن ہوتی ہے تو مجھے کتنی بھوک لگتی ہے۔ اب اس ٹینشن میں میں یہ سارا کھانا کھا جاؤں گی اور پھر باہر جا کر اتنا ہی اور کھاؤں گی اور جب موٹی ہو جاؤں گی تو ماما مجھے جو باتیں سنائیں گی ان کا گناہ تمہارے سر۔’’
    یہ سن کر حسن گھبرا کر اٹھا، جلدی سے جا کر منہ ہاتھ دھویا اور آکر زلیخا کے ساتھ شریکِ طعام ہوا۔ کھانا کھاتے ہوئے زلیخا اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی اور چھوٹے موٹے سوال پوچھتی رہی کہ کسی طرح خاموشی کا قفل ٹوٹے اور حسن کچھ بات چیت شروع کرے، لیکن حسن نے ہوں ہاں کے سوا کسی بات کا کچھ جواب نہ دیا اور تھوڑا سا کھا پی کر پھر سے بستر پر پڑ رہا۔
    زلیخا نے جو حسن کو ازسرنو ملول و محزون دیکھا تو کہا:‘‘دیکھو حسن، میں جانتی ہوں تمہیں کرن کی اس حرکت کا بڑا افسوس ہے، لیکن میں تمہیں ایک سچی بات بتاؤں؟ جو ہوا وہ اچھا ہی ہوا۔ وہ تمہارے قابل نہیں تھی۔ تمہاری شادی اس سے ہو بھی جاتی تو تم کبھی خوش نہ رہتے۔ ساری زندگی کی ناخوشی سہنے سے بہتر ہے کہ تم نے یہ وقتی دکھ اٹھا لیا۔’’