ہائے یہ عورتیں — کبیر عبّاسی

جوں جوں وقت گزر رہا تھا میرے وجود میں اضافہ ہورہا تھا۔ وزن اور خاص طور پر پیٹ بڑھ رہا تھا۔ مجھے اپنے سارے کپڑے تنگ لگنے لگے۔میں حمزہ کے ساتھ مارکیٹ گئی اور’’نشاط‘‘ سے لان کے کچھ نئے جوڑے لئے۔حمزہ نے یہاں بھی اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش کی کہ چند ماہ کی تو بات ہے کیا ضرورت ہے اتنے مہنگے کپڑے لینے کی مگر میں نے اپنی مرضی ہی کی۔ مردوں کو کیا پتا ہوتا ہے کپڑوں کا ان کی تو خواہش ہوتی ہے کہ کسی ’’کلاتھ ڈپو‘‘ سے تھان خرید کے لپیٹ لیں۔
میں ہر ماہ ایک پرائیویٹ کلینک میں اپنا چیک اپ کرایا کرتی تھی۔ حمزہ کی خواہش تھی کہ ڈیلیوری کے لئے میں کسی سرکاری ہسپتال سے کارڈ بنوا لوں مگر سرکاری ہسپتال کا تو نام سن کے میری جان جاتی تھی۔میں نے ایک نامی گرامی پرائیویٹ پاسپٹل سے ڈیلیوری کروائی۔ میرا چھوٹا آپریشن ہوا تھا۔ چالیس ہزار کا بل بنا ،جو حمزہ نے ہی ادا کیا۔
ان کے پاس اتنے پیسے دیکھ کے مجھے حیرت تو ہوئی مگر میں نے یہی سوچا کہ وہ اضافی اخراجات کے لئے اپنے ابو سے پیسے لے رہے ہیں۔
بچے کی پیدائش پر میرے سسرالی بھی مجھے سے ملنے آئے۔ انہوں نے مجھ سے واپس گھر شفٹ ہونے پر اصرار کیا چوں کہ روڈ کا کام ابھی چل رہا تھا، اس لئے میں نے بہانہ کر دیا۔
میں جب بھی بازار جاتی ارحم کے لئے بہت سے کپڑے اور کھلونے لے آتی۔ حمزہ اس پر چیں بہ چیں ہوتے مگر میں نے کبھی ان کی پرواہ نہیں کی۔ ارحم تین ماہ کا تھا کہ حمزہ کے والد ایک روڈ ایکسیڈ نٹ میں فوت ہو گئے۔ کچھ دن مجھے اپنے سسرال رہنا پڑا۔ واپس آنے کے چند دن بعد میں نے حمزہ سے کہا:
’’آخر کب تک میں اپنے ماں باپ کے گھر پڑی رہوں گی؟ آپ جنرل سٹور اور گھر سے اپنا حصہ لے کے کہیں پاس ہی گھر خرید لیں۔‘‘
’’کچھ کرتے ہیں۔‘‘ میری بات سُن کر وہ بس اتنا ہی کہہ پائے تھے۔
ادھر پاس ہی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی بن رہی تھی جس میں پانچ لاکھ کی بکنگ پر پانچ مرلے پر بنے گھر مل رہے تھے۔ باقی پیسے قسطوں میں ادا کرنے تھے۔ میں نے موقع اچھا جانا اور حمزہ کی توجہ اس طرف دلائی۔
چند دن بعد ہی وہ دفتر سے واپس آئے تو بہت خوش لگ رہے تھے۔





’’خیریت تو ہے؟ آج جناب کے چہرے پر بڑی رونق نظر آرہی ہیں۔‘‘ میں پیار سے بولی۔
’’شمع مجھے پیسے مل گئے ہیں۔ کل ہم گھر پسند کرنے جائیں گے۔‘‘ وہ پرجوش انداز میں بولے۔
میرا چہرہ بھی خوشی سے کھل اٹھا۔ اگلے دن جا کر ہم گھر پسند کر آئے۔ دو بیڈروم،ڈرائنگ روم، لاؤنج اور پورچ کے ساتھ جدید ڈیزائن پر بنا گھر مجھے بہت پسند آیا تھا۔حمزہ نے ایڈوانس پیسے جمع کرادئیے۔ کچھ دن بعد ہی ہمیں قبضہ بھی مل گیا تو ہم ادھر ہی شفٹ ہوگئے۔
حمزہ کی ماں کو پتا چلا تو انہوں نے خوب واویلا کیا مگر میں نے پروا نہیں کی۔ گھر کے بعد میرا اگلا ٹارگٹ گاڑی تھا۔ میں نے اس کے لئے حمزہ پر زور ڈالنا شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد ہی انہوں نے ایک سیکنڈ ہینڈ کار لے لی۔ ارحم تین سال کا ہوا تو میں نے اسے ایک مہنگے پرائیویٹ سکول میں داخلہ دلوا دیا۔ شام کو ایکسٹرا کوچنگ کے لیے اسے پاس ہی ایک اکیڈمی میں بھیجنے لگی۔ حمزہ اب میرے کسی کام میں روڑے نہیں اٹکاتے تھے۔وہ مکمل طور پر میرے رنگ میں رنگ چکے تھے۔
اگلے سال حمنیٰ کی پیدائش ہوئی توہماری فیملی مکمل ہو گئی۔میں بہت خوش تھی کہ میں نے جو چاہا پالیا۔ میری دوستوں اور رشتہ داروں کو مجھ پر رشک آتا تھا۔میں وقتاً فوقتاً سب کو کسی نہ کسی بہانے سے اپنے گھر مدعو کرتی اور ان کی خوب خاطر مدارت کرتی۔اس عرصے میں ہمارے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے۔ حمزہ نے جتنی اپنی تنخواہ بتائی تھی ،اتنی تو صرف مکان کی ماہانہ قسط تھی،مگر اتنے عرصے میں مجھے ایک بار بھی خیال نہیں آیا کہ یہ اخراجات کیسے پورے ہو رہے ہیں۔ آج مجھے اندازہ ہوا تھا کہ حمزہ یہ اخراجات پورے کرنے کے لئے کیا کرتے رہے ہیں۔
٭…٭…٭
میں اسی دن اپنے بھائی کے ساتھ امی کے گھر آگئی۔ گھر آکر میں نے روتے ہوئے امی کو ساری بات بتا دی کہ حمزہ کو رشوت کے الزام میں پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ وہ بھی یہ سن کے پریشان ہو گئیں۔ میرے بھائی نے مجھ سے عاشر کا نمبر لیا اوراسے کال کرنے لگا۔ اس سے کچھ تفصیل پوچھ کے وہ تھانے چلا گیا۔ رات گئے اس کی واپسی ہوئی۔ وہ مطمئن لگ رہا تھا۔
’’کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔تھانے دار رشوت خور ہے۔ اسے کچھ دے دلا کر جان چھوٹ جائے گی حمزہ کی، تم فکر نہ کرو۔‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔
’’جو بھی ہو۔ میرا اب اس شخص سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ میں چلائی۔
’’شمع تم ہوش میں تو ہو۔وہ باپ ہے تمہارے بچوں کا۔‘‘ وہ مجھے حیرانی سے دیکھتے ہوا بولا۔
’’نہیں لگتا اب وہ کچھ بھی ہمارا۔ اگر اسے ہمارے پرواہ ہوتی تو وہ ایسی حرکت کرتا؟‘‘ میں زارو زار رونے لگی۔
’’وہ ایسانہ کرتا تو کیا کرتا؟ ایسے ہی کر رہے ہیں۔ تم یہ جو عیاشیاں کر رہی ہو وہ صرف تنخواہ میں ممکن ہیں؟‘‘ وہ سخت لہجے میں بولا میرے تن بدن میں آ گ لگ گئی۔
’’کیا عیاشیاں کرتی ہوں ،کون سے ملازم رکھ کے دئیے ہوئے ہیں اس نے مجھے؟ گھر کا سار ا کام اپنے ہاتھوں سے کرتی ہوں۔ اب اگر وہ اپنے بیوی بچوں کی صرف ضروریات تک پوری نہیں کر سکتا تو شادی کیوں کی تھی اس نے؟‘‘ میں چلائی۔
’’تمہاری ضروریات تو قارون کے خزانے سے بھی پوری نہیں ہو سکتیں۔‘‘ وہ تلخ لہجے میں بولا۔
’’کیوں؟ کیا آپ لوگ میری ضروریات پوری نہیں کر رہے تھے؟‘‘ میرا لہجہ اب چٹخ رہا تھا۔
’’کر رہے ہیں، مگر آپ لوگوں کو کیا پتا کہ اس کے لئے ہمیں کتنی دو نمبریاں کرنا پڑتی ہیں۔ آپ لوگوںکو تو بس اپنے اللے تللو ں سے فرصت نہیں ملتی۔‘‘ وہ تلخ لہجے میں کہتے ہوئے باہر چلا گیا۔ امی مجھے سنبھالنے لگ گئیں۔
اگلے دن حمزہ واپس آگئے۔ میں اس وقت امی ہی کے گھر تھی۔ وہ میرے بھائی کے ساتھ سیدھا ادھر ہی آئے، مگر میں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ وہ میرا انکار دیکھ کے ششدر رہ گئے۔
’’شمع،یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں رہنا مجھے آ پ کے ساتھ۔ آپ نے مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔‘‘ میں روتے ہوئے بولی۔
’’میں نے جو کچھ بھی کیا ہے تمہارے لئے ہی توکیا ہے۔ شادی سے پہلے کبھی میں نے ایک پیسہ رشوت نہیں لی۔ تمہاری فرمائشوں نے ہی مجھے اس کام پر مجبور کیا۔‘‘ وہ غصے سے بولے۔
’’مجھ پر الزام مت لگائیں۔ کیا میں نے آپ کو کہا تھا کہ آپ رشوت لیں۔‘‘ میں چلائی۔
’’تمھیں تو پتا تھی میری تنخواہ۔ پھر بھی تمہاری ضد تھی کے سوٹ لوں گی تو برانڈڈ، جوتا لوں گی تو برانڈڈ۔ روز گھر میں کسی نہ کسی کو بلاؤں گی اور چار پانچ ڈشز سے کم تمہارے مہمانوں کی خاطر مدارت ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ میں تمہاری یہ ضروریات پوری کرنے کے لئے رشوت نہ لیتا تو کیا کرتا۔‘‘ وہ غصے سے بول رہے تھے اور میں چپ چاپ سن رہی تھی۔
’’ہسپتال جانا ہے تو پرائیویٹ، چاہے بل ہزاروں میں بنے۔ مکان اپنا ہونا لازمی ہے۔ گاڑی کے بغیر زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔ یہ سارے کس کے فرمان تھے؟‘‘ وہ غصے میں بولتے چلے جا رہے تھے۔
’’تو کیا جو یہ سب کر رہے ہیں وہ رشوت کے پیسوں سے کر رہے ہیں؟‘‘ میں حیرت سے بولی۔
’’ایسی عیاشیوں کے لئے زیادہ تر لوگ ناجائز ذرائع ہی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کوئی رشوت لے رہا ہے تو کوئی جھوٹ فراڈ کا سہارا لے رہا ہے۔ کوئی ڈاکے ڈال رہا ہے، کوئی چوریاں کر رہا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری،ملاوٹ،ناپ تول میں کمی،ناقص اشیا کی تیاری، جعل سازی۔۔۔ میں کون کون سی برائی گنواؤں؟ یہ ساری برائیاں کیوں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں؟کبھی سوچا تم نے؟ یہ سب لوگ اپنے ’’لائف سٹینڈرڈ‘‘ کو بڑھانے کے لئے ہی تو کر رہے ہیں۔ ورنہ سادگی سے زندگی گزاریں تو ان بہت سی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔‘‘ آہستہ آہستہ ان کی آواز دھیمی ہوتی چلی گئی۔ کچھ لمحات کے توقف کے بعد وہ پھر بولے:
’’یہ جو کرپشن ہے نا، اس کی ذمہ دار تم جیسی عورتیں ہی ہیں۔ جو کمپرومائز کرنا جانتی ہی نہیں۔ جو پاؤں پھیلاتے ہوئے اپنی چادر نہیں دیکھتیں، بلکہ دوسرے لوگوں کا گھر دیکھتی ہیں۔ وہ دوسروں سے مقابلہ کرتے ہوئے یہ بھول جاتی ہیں کہ وہ سب لینے کے لئے کوئی نہ کوئی چور راستہ اختیار کرنا ہی پڑتا ہے۔ شادی سے پہلے میرے ساتھ کام کرنے والے جب مجھ سے کہتے کہ ابھی رشوت نہیں لے رہے دیکھتے ہیں شادی کے بعد بھی اپنی روش پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ اس وقت میں دعا کرتا تھا کہ یا اللہ! مجھے صابر شاکر بیوی عنایت کرنا، مگر میری یہ دعا قبول نہیں ہوئی، یہ تو پھر ہونا ہی تھا۔‘‘ ان کے لہجے میں صدیوں کی تھکن بول رہی تھی۔
میں اندر ہی اندر نادم ہو رہی تھی۔ واقعی اگر ہم عورتیں اپنی خواہشات پر قابو رکھیں، تو اپنی چادر کے مطابق اپنے پاؤں پھیلائیں تو ہمارے باپ، بھائی یا شوہروں کو کسی بھی غلط طریقے سے کمائی کی ضرورت نہ پڑے۔ میرے لئے تواب پچھتاوے ہی باقی رہ گئے تھے، مگر ہو سکتا ہے آپ کے پاس ابھی وقت ہو۔ آپ اپنی زندگی پر نظر دوڑائیں کہ کہیں آپ بھی میری طرح تو نہیں کر رہیں؟

٭…٭…٭




Loading

Read Previous

جزا — نایاب علی

Read Next

آبِ حیات — قسط نمبر ۷ (حاصل و محصول)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!