پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

”مجھے اندازہ ہے۔”
”اس عمر میں جذبات میں آکر انسان بہت سے غلط فیصلے کرلیتا ہے۔۔۔”
”اِمامہ نے ترشی سے اس کی بات کاٹ دی۔ ”جذبات میں آکر…؟ کوئی جذبات میں آکر مذہب تبدیل کرتا ہے؟ کبھی نہیں… میں چار سال سے اسلام کے بارے میں پڑھ رہی ہوں، چار سال کم نہیں ہوتے۔”
”تم لوگوں کی باتوں میں آگئی ہو۔ تم ۔۔۔”
”نہیں، میں کسی کی باتوں میں نہیں آئی۔ میں نے جس چیز کو غلط سمجھا اسے چھوڑ دیا اور بس۔”
وہ کچھ دیر بے چارگی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹکتے ہوئے اس نے کہا۔
”ٹھیک ہے ان سب باتوں کو چھوڑو، شادی پر کیوں اعتراض ہے تمہیں… تمہارے عقائد میں جو تبدیلی آئی ہے وہ ایک طرف۔ کم از کم شادی تو ہونے دو۔”
”میری اور تمہاری شادی جائز نہیں۔”
”وہ اس کی بات پر ہکا بکا رہ گیا۔ ”کیا میں غیر مسلم ہوں؟”
”ہاں، تم ہو۔۔۔”
”انکل ٹھیک کہہ رہے تھے کسی نے واقعی تمہارا برین واش کر دیا ہے۔” اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔
”پھر تم ایک ایسی لڑکی سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو۔ بہتر ہے تم کسی اور سے شادی کرو۔” اس نے ترکی بہ ترکی کہا۔
”میں نہیں چاہتا کہ تم اپنی زندگی برباد کرلو۔” وہ اس کی بات پر عجیب سے انداز میں ہنسی۔
”زندگی برباد… کون سی زندگی… یہ زندگی جو میں تم جیسے لوگوں کے ساتھ گزار رہی ہوں۔ جنہوں نے پیسے کے لیے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا۔۔۔”
Behave yourself”۔۔۔ تم بات کرنے کے تمام میزز بھول گئی ہو۔ کس کے بارے میں کیا کہنا چاہئے اور کیا نہیں، تم نے سرے سے ہی فراموش کر دیا ہے۔” اسجد اسے ڈانٹنے لگا۔
”میں ایسے کسی شخص کا احترام نہیں کرسکتی جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہو۔” اِمامہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
”جس عمر میں تم ہو… اس عمر میں ہر کوئی اس طرح کنفیوز ہو جاتا ہے جس طرح تم کنفیوز ہو رہی ہو۔ جب تم اس عمر سے نکلوگی تو تمہیں احساس ہوگا کہ ہم لوگ صحیح تھے یا غلط۔” اسجد نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”اگر تم لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ میں غلط ہوں، تب بھی تم لوگ مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ اس طرح مجھے گھر میں قید کر کے کیوں رکھا ہوا ہے اگر تم لوگوں کو اپنے مذہب کی صداقت پر اتنا یقین ہے تو مجھے اس گھر سے چلے جانے دو… حقیقت کو جانچنے دو۔۔۔”
”اگر کوئی اپنا، اپنے آپ کو نقصان پہنچانے پر تل جائے تو اسے اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا اور وہ بھی ایک لڑکی کو… امامہ! تم اس مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھو، اپنی فیملی کا خیال کرو، تمہاری وجہ سے سب کچھ داؤ پر لگ گیا ہے۔”
”میری وجہ سے کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا… کچھ بھی نہیں… اور اگر کچھ داؤ پر لگا بھی ہے تو میں اس کی پرواہ کیوں کروں۔ میں تم لوگوں کے لیے دوزخ میں کیوں جاؤں، صرف خاندان کے نام کی خاطر اپنا ایمان کیوں گنواؤں۔ نہیں اسجد! میں تم لوگوں کے ساتھ گمراہی کے اس راستے پر نہیں چل سکتی۔ مجھے وہ کرنے دو جو میں کرنا چاہتی ہوں۔” اس نے قطعی لہجے میں کہا۔
”مجھ سے اگر تم نے زبردستی شادی کر بھی لی تو بھی تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میں تمہاری بیوی نہیں بنوں گی، میں تم سے وفا نہیں کروں گی۔ مجھے جب بھی موقع ملے گا، میں بھاگ جاؤں گی۔ تم آخر کتنے سال مجھے اس طرح قید کر کے رکھ سکوگے، کتنے سال مجھ پر پہرے بٹھاؤگے… مجھے صرف چند لمحے چاہیے ہوں گے تمہارے گھر، تمہاری قید سے بھاگ جانے کے لیے… اور میں … میں تمہارے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں گی۔ تم ساری عمر انہیں دوبارہ دیکھ نہیں سکوگے۔”
وہ اسے مستقبل کا نقشہ دکھا کر خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”اگر میں تمہاری جگہ پر ہوتی تو میں کبھی امامہ ہاشم جیسی لڑکی سے شادی نہ کروں… یہ سراسر خسارے کا سودا ہوگا… حماقت اور بے وقوفی کی انتہا ہوگی… تم اب بھی سوچ لو… اب بھی پیچھے ہٹ جاؤ… تمہارے سامنے تمہاری ساری زندگی پڑی ہے… تم کسی بھی لڑکی کے ساتھ شادی کر کے پرسکون زندگی گزار سکتے ہو… کسی پریشانی… کسی بے سکونی کے بغیر مگر میرے ساتھ نہیں۔ میں تمہارے لیے بدترین بیوی ثابت ہوں گی، تم اس سارے معاملے سے الگ ہوجاؤ، شادی سے انکار کردو،انکل اعظم سے کہہ دو کہ تم مجھ سے شادی کرنا نہیں چاہتے یا کچھ عرصے کے لیے گھر سے غائب ہو جاؤ۔ جب تمام معاملہ ختم ہوجائے تو پھر آجانا۔”
”تم مجھے اس طرح کے احمقانہ مشورے مت دو، میں کسی بھی قیمت پر تم سے دستبردار نہیں ہو سکتا… کسی بھی قیمت پر۔ نہ میں انکار کروں گا، نہ اس معاملے سے الگ ہوں گا، نہ ہی گھر سے کہیں جاؤں گا… میں تم سے ہی شادی کروں گا امامہ! اب یہ ہمارے خاندان کی عزت اور ساکھ کا معاملہ ہے۔ یہ شادی نہ ہونے اور تمہارے گھر سے چلے جانے سے ہمارے پورے خاندان کو جتنا نقصان اٹھانا پڑے گا اس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں ورنہ تم مجھے کبھی یہ مشورہ نہ دیتیں۔ جہاں تک بری بیوی ثابت ہونے یا گھر سے بھاگ جانے کا تعلق ہے… تو یہ سب بعد کا مسئلہ ہے۔ میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، تم اس طرح کے ٹمپرامنٹ کے مالک نہیں ہو کہ دوسروں کو بے جا پریشان کرتی رہو… اور وہ بھی مجھے، جس سے تمہیں محبت ہے۔” اسجد بڑے اطمینان سے کہہ رہا تھا۔
”تمہیں غلط فہمی ہے، مجھے کبھی بھی تم سے محبت نہیں رہی… کبھی بھی… میں ذہنی طور پر تمہارے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کو اس وقت سے ذہن سے نکال چکی ہوں جب میں نے اپنا مذہب چھوڑا تھا۔ تم میری زندگی میں اب کہیں نہیں ہو، کہیں بھی نہیں… اگر میں اپنے گھر والوں کے لیے مسائل کھڑے کرسکتی ہوں تو کل تمہارے لیے کتنے مسائل کھڑے کروں گی تمہیں اس کا احساس ہونا چاہیے اور اس غلط فہمی سے باہر نکل آنا چاہیے… ہم دونوں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ میں تم لوگوں کے خاندان کا حصہ کبھی نہیں بنوں گی۔
نہیں اسجد! تمہارے اور میرے درمیان بہت فاصلہ ہے، اتنا فاصلہ کہ میں تمہیں دیکھ تک نہیں سکتی اور میں اس فاصلے کو کبھی ختم نہیں ہونے دوں گی۔ میں کبھی بھی تم سے شادی کے لیے تیار نہیں ہوں گی۔”
اسجد بدلتی ہوئی رنگت کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
٭…٭…٭





”کیا تم میرا ایک کام کرسکتے ہو؟”
”تمہار اکیا خیال ہے اب تک میں اس کے علاوہ اور کیا کر رہا ہوں۔” سالار نے پوچھا۔
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی، پھر اس نے کہا۔ ”کیا تم لاہور جاکر جلال سے مل سکتے ہو۔” سالار نے ایک لمحہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کیں۔
”کس لیے۔” اسے امامہ کی آواز بہت بھاری لگ رہی تھی۔ یوں جیسے اسے فلو تھا پھر اچانک اس کو خیال آیا کہ وہ یقینا روتی رہی ہوگی۔ یہ اسی کا اثر تھا۔
”تم میری طرف سے اس سے ریکویسٹ کرو کہ وہ مجھ سے شادی کرلے… ہمیشہ کے لیے نہیں تو کچھ دنوں کے لیے ہی … میں اس گھر سے نکلنا چاہتی ہوں اور میں کسی کی مدد کے بغیر یہاں سے نہیں نکل سکتی… بس وہ مجھ سے نکاح کرلے۔”
”تمہارا تو فون پر اس سے رابطہ ہے پھر تم یہ سب خود اس سے فون پر کیوں نہیں کہہ دیتیں۔” سالار نے چپس کھاتے ہوئے بڑے اطمینان سے اسے مشورہ دیا۔
”میں کہہ چکی ہوں۔”اسے امامہ کی آواز پہلے سے زیادہ بھرائی ہوئی لگی۔
”پھر؟”
”اس نے انکار کر دیا ہے۔”
”ویری سیڈ” سالار نے افسوس کا اظہار کیا۔
”تو یہ ون سائیڈڈ لو افیئر تھا۔” اس نے کچھ تجسس کے عالم میں پوچھا۔
”نہیں۔”
”تو پھر اس نے انکار کیوں کر دیا؟”
”تم یہ جان کر کیا کروگے۔” وہ کچھ چڑ کر بولی۔ سالار نے ایک اور چپس اپنے منہ میں ڈالا۔ ”میرے وہاں جاکر اس سے بات کرنے سے کیا ہوگا، بہتر ہے تم ہی دوبارہ اس سے بات کرلو۔”
”وہ مجھ سے بات نہیں کر رہا، وہ فون نہیں اٹھاتا۔ ہاسپٹل میں بھی کوئی اسے فون پر نہیں بلارہا۔ وہ جان بوجھ کر کترا رہا ہے۔” امامہ نے کہا۔
”تو پھر تم اس کے پیچھے کیوں پڑی ہو، جانے دو اسے۔ وہ تم سے محبت نہیں کرتا۔”
”تم یہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتے، تم صرف میری مدد کرو، ایک بار جاکر اسے میری صورتِ حال کے بارے میں بتاؤ، وہ مجھ سے اس طرح نہیں کرسکتا۔”
”اور اگر اس نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا تو۔”
”پھر بھی تم اس سے بات کرنا، شاید… شاید کوئی صورت نکل آئے، میرا مسئلہ حل ہوجائے۔”
سالار کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی، اسے امامہ کے حال پر ہنسی آرہی تھی۔
”فون بند کرنے کے بعد چپس کھاتے ہوئے بھی وہ اس سارے معاملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ وہ اس سارے معاملے میں زیادہ سے زیادہ انوالو ہوتا جا رہا تھا۔ یہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا ایڈونچر محسوس ہو رہا تھا۔ پہلے امامہ تک فون پہنچانا اور اب جلال سے رابطہ… امامہ کا بوائے فرینڈ… اس نے چپس کھاتے ہوئے زیر لب دہرایا۔ امامہ نے اسے اس کے ہاسپٹل اور گھر کے تمام کوائف سے آگاہ کر دیا تھا اور اب وہ سوچ رہا تھا کہ اسے جلال انصر سے مل کر کیا کہنا ہے۔
سالار نے اس شخص کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور وہ خاصا مایوس ہوا۔ سامنے کھڑا لڑکا بڑی عام سی شکل و صورت کا تھا۔ سالار کے لمبے قد اور خوب صورت جسم نے اسے صنف مخالف کے لیے کسی حد تک پرکشش بنا دیا تھا، مگر سامنے کھڑا ہوا وہ شخص ان دونوں چیزوں سے محروم تھا۔ وہ نارمل قد و قامت کا مالک تھا۔ اس کے چہرے پر داڑھی نہ ہوتی تو وہ پھر بھی قدرے بہتر نظر آتا۔ سالار سکندر کو جلال انصر سے مل کر مایوسی ہوئی تھی۔ امامہ اب اسے پہلے سے زیادہ بے وقوف لگی۔
”میں جلال انصر ہوں، آپ ملنا چاہتے ہیں مجھ سے؟”
”میرا نام سالار سکندر ہے۔” سالار نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
”معاف کیجئے گا مگر میں نے آپ کو پہنچانا نہیں۔”
”ظاہر ہے آپ پہچان بھی کیسے سکتے ہیں۔ میں پہلی بار آپ سے مل رہا ہوں۔”
سالار اس وقت جلال کے ہاسپٹل میں اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا۔ چند لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کرنے پر وہ اس کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اس وقت وہ ڈیوٹی روم کے باہر کھڑے تھے۔
”کہیں بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں؟” جلال اب کچھ حیران نظر آیا۔
”بیٹھ کر بات … مگر کس سلسلے میں۔”
”امامہ کے سلسلے میں۔”
جلال کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ”آپ کون ہیں؟”
”میں اس کادوست ہوں۔” جلال کے چہرے کا رنگ ایک بار پھر بدل گیا۔ وہ چپ چاپ ایک طرف چلنے لگا۔ سالار اس کے ساتھ تھا۔
”پارکنگ میں میری گاڑی کھڑی ہے، وہاں چلتے ہیں۔” سالار نے کہا۔
گاڑی تک پہنچنے اور اس کے اندر بیٹھنے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
”میں اسلام آباد سے آیا ہوں۔” سالار نے کہنا شروع کیا۔
”امامہ چاہتی تھی کہ میں آپ سے بات کروں۔”
”اِمامہ نے کبھی مجھ سے آپ کا ذکر نہیں کیا۔” جلال نے کچھ عجیب سے انداز میں کہا۔
”آپ اِمامہ کو کب سے جانتے ہیں؟”
”تقریبا بچپن سے… ہم دونوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں۔ بڑی گہری دوستی ہے ہماری۔”
سالارنہیں جانتا اس نے آخری جملہ کیوں کہا۔ شاید یہ جلال کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ تھے جن سے وہ کچھ اور محظوظ ہونا چاہتا تھا۔ وہ جلال کے چہرے پر نمودار ہونے والی ناپسندیدگی دیکھ چکا تھا۔
”امامہ سے میری بہت تفصیلی بات ہوچکی ہے، اتنی تفصیلی بات کے بعد اور کیا بات ہوسکتی ہے۔” جلال نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
”امامہ چاہتی ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔” سالار نے جیسے نیوز بلیٹن پڑھتے ہوئے کہا۔
”میں اپنا جواب اسے بتا چکا ہوں۔”
”وہ چاہتی ہے آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔”
”یہ ممکن نہیں ہے۔”
”وہ اس گھر میں اپنے والدین اور گھر والوں کی قید میں ہے۔ وہ چاہتی ہے آپ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو وقتی طور پر اس سے نکاح کریں اور پھر بیلف کی مدد سے اسے چھڑالیں۔”
”یہ ممکن ہی نہیں ہے، وہ ان کی قید میں ہے تو نکاح ہو ہی کیسے سکتا ہے۔”
”فون پر۔”
”نہیں، میں اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا۔ میں ایسے معاملات میں انوالو ہونا ہی نہیں چاہتا۔” جلال نے کہا۔ ”میرے والدین مجھے اس شادی کی اجازت نہیں دیں گے اور پھر وہ امامہ کو قبول کرنے پر تیار بھی نہیں ہیں۔”
جلال کی نظریں اب سالار کے بالوں کی پونی پر جمی ہوئی تھیں، یقینا سالار کی طرح اس نے بھی اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہوگا۔
”اس نے کہا کہ آپ وقتی طور پر اس سے صرف نکاح کرلیں تاکہ وہ اپنے گھر سے نکل سکے، بعد میں آپ چاہیں تو اسے طلاق دے دیں۔”
”میں نے کہا نا میں اس کی مدد نہیں کرسکتا اور پھر اس طرح کے معاملات… آپ خود اس سے شادی کیوں نہیں کرلیتے… اگر وقتی شادی کی بات ہے تو آپ کرلیں۔ آخر آپ اس کے دوست ہیں۔” جلال نے کچھ چبھتے ہوئے انداز میں سالار سے کہا۔ ”آپ اسلام آباد سے لاہور اس کی مدد کے لیے آسکتے ہیں تو پھر یہ کام بھی کرسکتے ہیں۔”
”اس نے مجھ سے شادی کا نہیں کہا، اس لیے میں نے اس بارے میں نہیں سوچا۔” سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے بے تاثر لہجے میں کہا۔ ”ویسے بھی وہ آپ سے محبت کرتی ہے، مجھ سے نہیں۔”
”مگر عارضی شادی یا نکاح میں تو محبت کا ہونا ضروری نہیں۔ بعد میں آپ بھی اسے طلاق دے دیں۔” جلال نے مسئلے کا حل نکال لیا تھا۔
”آپ کا مشورہ میں اسے پہنچادوں گا۔” سالار نے سنجیدگی سے کہا۔
”اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر امامہ سے کہیں کہ وہ کوئی اور طریقہ اپنائے … بلکہ آپ کسی نیوز پیپر کے آفس میں چلے جائیں اور انہیں امامہ کے بارے میں بتائیں کہ کس طرح اس کے خاندان نے اسے زبردستی قید کر رکھا ہے۔ جب میڈیا اس معاملے کو ہائی لائٹ کرے گا تو خود ہی وہ امامہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے یا پھر آپ پولیس کو اس معاملے کی اطلاع دیں۔”
سالار کو حیرانی ہوئی۔ جلال کی تجویز بری نہیں تھی، واقعی امامہ اس بارے میں کیوں نہیں سوچ رہی تھی۔ یہ راستہ زیادہ محفوظ تھا۔
”میں آپ کا یہ مشورہ بھی اسے پہنچادوں گا۔”
”آپ دوبارہ میرے پاس نہ آئیں بلکہ امامہ سے بھی یہ کہہ دیں کہ وہ مجھ سے کسی بھی طریقے یا ذریعے سے دوبارہ رابطہ نہ کرے۔ میرے والدین ویسے بھی میری منگنی کرنے والے ہیں۔” جلال نے جیسے انکشاف کیا۔
”ٹھیک ہے، میں یہ ساری باتیں اس تک پہنچادوں گا۔” سالار نے لاپروائی سے کہا۔ جلال مزید کچھ کہے بغیر گاڑی سے اتر گیا۔
اگر امامہ کو یہ توقع تھی کہ سالار جلال کو اس سے شادی کرنے کے لیے قائل کرے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی۔ وہ امامہ سے کوئی ہمدردی رکھتا تھا نہ ہی کسی خوفِ خدا کے تحت اس سارے معاملے میں کودا تھا… اس کے لیے یہ سب کچھ ایک ایڈونچر تھا اور ایڈونچر میں یقینا جلال سے امامہ کی شادی شامل نہیں تھی۔ اگر جلال سے اس کی شادی کے لیے دلائل دینے بھی پڑتے تو وہ کیا دیتا۔ اس کے پاس صرف ایک دلیل کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں تھی کہ جلال اور امامہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور یہ وہ دلیل تھی جسے جلال پہلے ہی رد کرچکا تھا۔ وہ مذہبی یا اخلاقی حوالوں سے جلال کو قائل نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ وہ خود ان دونوں چیزوں سے نابلد تھا۔مذہب اور اخلاقیات سے اس کا دور دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ آخر وہ امامہ کے لیے ایک دوسرے آدمی سے اتنی لمبی بحث کرتا کیوں۔ وہ بھی ایسا آدمی جسے دیکھتے ہی اس نے ناپسند کر دیا تھا۔
اور یہ تمام وہ باتیں تھیں جو وہ اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے سوچ رہاتھا۔ وہ آیا اس لیے تھا کیوں کہ وہ جلال سے ملنا چاہتا تھا اور دیکھنا چاہتا تھا کہ امامہ کے پیغام پر اس کا ردعمل کیا رہتا ہے۔ اس نے امامہ کو پیغام اسی کے لفظوں میں کسی اضافے یا ترمیم کے بغیر پہنچا دیا تھا اور اب وہ جلال کا جواب لے کر واپس جا رہا تھا اور خاصا محظوظ ہو رہا تھا۔ آخر اس پیغام کے جواب میں وہ کیا کرے گی، کیا کہے گی۔ اسجد سے شادی تو وہ نہیں کرے گی، جلال اس سے شادی کرنے پر تیار نہیں،گھر سے وہ نکل نہیںسکتی، کوئی اور ایسا آدمی نہیں جو اس کی مدد کے لیے آسکے پھر آخر وہ اب آگے کیا کرے گی۔ عام طور پر لڑکیاں ان حالات میں خود کشی کرتی ہیں۔ اوہ یس … وہ یقینا اب مجھ سے زہر یا ریوالور پہنچانے کی خواہش کرے گی۔
سالار متوقع صورتِ حال کے بارے میں سوچ کر پر جوش ہو رہا تھا۔ ”خود کشی … ویری ایکسائٹنگ۔ آخر اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی ہے۔”
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

Read Next

پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!