پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

”بیٹا! صبیحہ تو پشاور گئی ہے، اپنی امی کے ساتھ۔” صبیحہ کے والد نے امامہ کو بتایا۔
”پشاور؟” امامہ کے دل کی دھڑکن رک گئی۔
”اس کے کزن کی شادی ہے، وہ لوگ ذرا پہلے چلے گئے ہیں۔ میں بھی کل چلا جاؤں گا۔” اس کے والد نے بتایا۔ ”کوئی پیغام ہو تو آپ مجھے دے دیں میں صبیحہ کو پہنچادوں گا۔”
”نہیں شکریہ انکل!” وہ ان کے ساتھ اس سارے معاملے کے بارے میں کیا بات کرسکتی تھی۔ اس نے فون رکھ دیا۔ اس کے ڈپریشن میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ اگر میرا جلال سے کانٹیکٹ نہ ہوا تو اس کا دل ایک بار پھر ڈوبنے لگا۔
ایک بار پھر اس نے جلال کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا اور تب ہی کسی نے اس کے ہاتھ سے ریسیور لے لیا۔ وہ سن ہوگئی ہاشم مبین اس کے پیچھے کھڑے تھے۔
”کس کو فون کر رہی ہو؟” ان کے لہجے میں بے حد ٹھہراؤ تھا۔
”دوست کو کر رہی تھی۔” امامہ نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ وہ ان سے نظریں ملا کر جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔
”میں ملا دیتا ہوں۔” انہوں نے سرد آواز میں کہتے ہوئے ری ڈائل کا بٹن دبا دیا اور ریسیور کان سے لگا لیا۔ امامہ زرد چہرے کے ساتھ انہیں دیکھنے لگی۔ وہ کچھ دیر تک اسی طرح ریسیور کان سے لگائے کھڑے رہے پھر انہوں نے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔ یقینا دوسری طرف سے کال ریسیو نہیں کی گئی تھی۔
”کون سی دوست ہے یہ تمہاری جس کو تم اس وقت فون کر رہی ہو۔” انہوں نے درشت لہجے میں امامہ سے پوچھا۔
”زینب…” فون کی اسکرین پر زینب کا نمبر تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہاشم مبین کو زینب پر کسی قسم کا شک ہو اور وہ جلال تک جا پہنچیں، اس لیے اس نے ان کے استفسار پر جلدی سے اس کا نام بتا دیا۔
”کس لیے کر رہی ہو؟”
”میں اس کے ذریعے جویریہ تک ایک پیغام پہنچانا چاہتی ہوں۔” اس نے تحمل سے کہا۔
”تم مجھے وہ پیغام دے دو، میں جویریہ تک پہنچادوں گا، بلکہ ذاتی طور پر خود لاہور دے کر آؤں گا۔
امامہ! مجھے صاف صاف بتاؤ کسی اور لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو تم؟” انہوں نے کسی تمہید کے بغیر اچانک اس سے پوچھا۔ وہ انہیں کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اس نے کہا۔
”ہاں !”
ہاشم مبین دم بخود رہ گئے۔ ”کسی اور لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو؟” انہوں نے بے یقینی سے اپنا جملہ دہرایا۔ امامہ نے پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔ ہاشم مبین نے بے اختیار اس کے چہرے پر تھپڑ کھینچ مارا۔
”مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا تم سے، مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا۔” وہ غصے میں تنتنا سے گئے۔ امامہ گم صم اپنے گال پر ہاتھ رکھے انہیں دیکھ رہی تھی۔ یہ پہلا تھپڑ تھا جو ہاشم مبین نے اس کی زندگی میں اسے مارا تھا اور امامہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ تھپڑ اسے مارا گیا تھا۔ وہ ہاشم مبین کی سب سے لاڈلی بیٹی تھی پھر بھی انہوں نے … اس کے گالوں پر آنسو بہہ نکلے تھے۔
”اسجد کے علاوہ میں تمہاری شادی کہیں اور نہیں ہونے دوں گا۔ تم اگر کسی اور لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو بھی تو اسے ابھی اور اسی وقت بھول جاؤ۔ میں کبھی … کبھی … کبھی تمہاری کہیں اور شادی نہیں ہونے دوں گا… اپنے کمرے میں چلی جاؤ… اور دوبارہ اگر میں نے تمہیں فون کے پاس بھی دیکھا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑدوں گا۔”
وہ اسی طرح گال پر ہاتھ رکھے میکانکی انداز میں چلتے ہوئے اپنے کمرے میں آگئی۔ اپنے کمرے میں آکر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ”کیا بابا مجھے … مجھے اس طرح مار سکتے ہیں؟’ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ بہت دیر تک اسی طرح روتے رہنے کے بعد اس کے آنسو خود بخود خشک ہونے لگے۔ وہ اٹھ کر اضطراب کے عالم میں اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف آگئی اور خالی الذہنی کے عالم میں بند کھڑکیوں کے شیشوں سے باہر دیکھنے لگی۔
نیچے اس کے گھر کا لان نظر آرہا تھا جو نیم تاریک تھا اور پھر لاشعوری طور پر اس کی نظر دوسرے گھر پر پڑی۔ وہ سالار کا گھر تھا۔ اس کا کمرہ نچلی منزل پر تھا۔ دور سے کچھ بھی واضح نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس گھر میں ایک دفعہ جانے کے بعد اس کی لوکیشن اور کمرے میں پھرنے والے کے حلیے اور جسامت سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ سالار کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا۔
اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔
”ہاں! یہ شخص میری مدد کرسکتا ہے۔ اگر میں اسے ساری صورت حال بتادوں اور اس سے کہوں کہ لاہور جاکر جلال سے رابطہ کرے تو … تو میرا مسئلہ حل ہوسکتا ہے مگر اس سے رابطہ کیسے…؟”
اس کے ذہن میں یک دم اس کی گاڑی کے پیچھے شیشے پر لکھا ہوا اس کا موبائل نمبر اور نام یاد آیا۔ اس نے ذہن میں موبائل نمبر کو دہرایا، اسے کوئی دقت نہیں ہوئی۔ کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کر اس نے احتیاط کے طور پر اس نمبر کو لکھ لیا۔ تین بجے کے قریب وہ آہستہ آہستہ ایک بار پھر لاؤنج میں آگئی اور اس نے وہ نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔
٭…٭…٭





سالار نے نیند میں اپنے موبائل کی بیپ سنی تھی۔ جب لگاتار موبائل بجتا رہا تو اس نے آنکھیں کھول دیں اور قدرے ناگواری کے عالم میں بیڈ سائیڈ ٹیبل کو ٹٹولتے ہوئے موبائل اٹھایا۔
”ہیلو!” اِمامہ نے سالار کی آواز پہچان لی تھی، وہ فوری طور پر کچھ نہیں بول سکی۔
”ہیلو!” اس کی خوابیدہ آواز دوبارہ سنائی دی۔ ”سالار!” اس نے اس کا نام لیا۔
”بول رہا ہوں۔” اس نے اسی خوابیدہ آواز میں کہا۔
”میں امامہ بول رہی ہوں۔” وہ کہنے والا تھا۔ ”کون امامہ … میں کسی امامہ کو نہیں جانتا۔” مگر اس کے دماغ نے کرنٹ کی طرح اسے سگنل دیا تھا اس نے بے اختیار آنکھیں کھول دیں۔ وہ نام کے ساتھ اس آواز کو بھی پہچان چکا تھا۔
”میں وسیم کی بہن بول رہی ہوں۔” اس کی خاموشی پر امامہ نے اپنا تعارف کرایا۔
”میں پہچان چکاہوں۔” سالار نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ سائیڈ لیمپ کو آن کر دیا۔ اس کی نیند غائب ہوچکی تھی۔ ٹیبل پر پڑی ہوئی اپنی رسٹ واچ اٹھا کر وقت دیکھا۔ گھڑی تین بج کر دس منٹ بجا رہی تھی۔ اس نے قدرے بے یقینی سے ہونٹ سکوڑتے ہوئے گھڑی کو دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ دوسری طرف اب خاموشی تھی۔
”ہیلو!” سالار نے اسے مخاطب کیا۔
”سالار! مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” سالار کے ماتھے پر کچھ بل آئے۔ ”میں نے ایک بار تمہاری زندگی بچائی تھی، اب میں چاہتی ہوں تم میری زندگی بچاؤ۔” وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اس کی بات سنتا رہا۔ ”میں لاہور میں کسی سے رابطہ کرنا چاہتی ہوں مگر کر نہیں پا رہی۔”
”کیوں؟”
”وہاں سے کوئی فون نہیں اٹھا رہا۔”
”تم رات کے اس وقت۔۔۔۔”
امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔” پلیز! اس وقت صرف میری بات سنو، میں دن کے وقت فون نہیں کرسکتی اور شاید کل رات کو بھی نہ کرسکوں۔ میرے گھر والے مجھے فون نہیں کرنے دیں گے، میں چاہتی ہوں کہ تم ایک ایڈریس اور فون نمبر نوٹ کرلو اور اس پر ایک آدمی سے کانٹیکٹ کرو، اس کا نام جلال انصر ہے، تم اس سے صرف یہ پوچھ کر بتا دو کہ کیا اس نے اپنے پیرنٹس سے بات کی ہے اور اگر کی ہے تو ان کا کیا رسپانس ہے، اسے یہ بھی بتا دو کہ میرے پیرنٹس نے یہاں میری شادی طے کر دی ہے اور وہ مجھے اب شادی کے بغیر لاہور آنے نہیں دیں گے۔”
سالار کو اچانک اس سارے معاملے میں دلچسپی پیدا ہونے لگی۔ کمبل کو اپنے گھٹنوں سے اوپر تک کھینچتے ہوئے وہ امامہ کی بات سنتا رہا۔ وہ ایک ایڈریس اور فون نمبر دہرا رہی تھی۔ سالار نے اس نمبر اور ایڈریس کو نوٹ نہیں کیا۔ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس نے پوچھا۔
”اور اگر میرے فون کرنے پر بھی کسی نے فون نہیں اٹھایا تو؟” جب وہ خاموش ہوگئی تو اس نے پوچھا۔
دوسری طرف لمبی خاموشی رہی پھر امامہ نے کہا۔ ”تم لاہور جاکر اس آدمی سے مل سکتے ہو پلیز… یہ میرے لیے بہت ضروری ہے… ” اس بار امامہ کی آواز ملتجیانہ تھی۔
”اور اگر اس نے پوچھا کہ میں کون ہوں تو؟”
”تم جو چاہے اسے بتا دینا … مجھے اس سے دلچسپی نہیں ہے… میں صرف اس مصیبت سے چھٹکارا چاہتی ہوں۔”
”کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم اس آدمی سے خود بات کرو۔” سالار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ شاید مجھے دوبارہ فون کا موقع نہ ملے اور فی الحال تو وہ آدمی فون ریسیو نہیں کر رہا۔”
سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا اور اس نے مایوسی کے عالم میں مزید کچھ کہے بغیر فون رکھ دیا۔
”سالار موبائل بند کرنے کے بعد کچھ دیر اسے ہاتھ میں لے کر بیٹھا رہا۔ جلال انصر … امامہ ہاشم… رابطہ … پیرنٹس سے بات… زبردستی کی شادی…” اس نے وہاں بیٹھے بیٹھے اس جگسا پزل کے ٹکڑوں کو جوڑنا شروع کر دیا۔ اس نے امامہ سے جلال کے بارے میں پوچھا نہیں تھا مگر وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ اس سے امامہ کا تعلق کس طرح کا ہوسکتا تھا۔ وہ اپنی داہنی ٹانگ ہلاتے ہوئے ان دونوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے یہ صورت حال خاصی دلچسپ محسوس ہو رہی تھی کہ امامہ جیسی لڑکی اس طرح کے کسی افیئر میں انوالو ہوسکتی تھی… وہ اپنے لیے اس کی ناپسندیدگی سے بھی واقف تھا اور اسے یہ بات بھی حیران کر رہی تھی کہ اس کے باوجود وہ اس سے مدد مانگ رہی تھی۔
”یہ کیا کر رہی ہیں خاتون …؟ مجھے استعمال کرنے کی کوشش … یا پھنسانے کا اہتمام …؟” اس نے دلچسپی سے سوچا۔
کمبل اپنے سینے تک کھینچتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کرلیں، مگر نیند اس کی آنکھوں سے مکمل طور پر دور تھی۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے وسیم اور اس کے سارے گھر والوں کو جانتا تھا۔ وہ امامہ کو بھی سرسری طور پر دیکھ چکا تھا… مگر ان ملاقاتوں میں اس نے امامہ پر کبھی غور نہیں کیا تھا۔ وہ اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ اس کے اپنے گھر والوں کے برعکس وسیم کا گھرانہ خاصا روایت پرست تھا اور وہ کبھی بھی اس طرح کھلے عام ان کے گھر نہیں جاسکا، جس طرح وہ اپنے دوسرے دوستوں کے گھروں میں جاتا تھا… مگر اس نے اس بات پر بھی کبھی زیادہ غور و خوض نہیں کیا تھا… اس کا خیال تھا کہ ہر خاندان کا اپنا ماحول اور روایات ہوتی ہیں، اسی طرح وسیم کے خاندان کی بھی اپنی روایات تھیں۔ اسے امامہ کے موڈ اور نمپرامنٹ کا تھوڑا اندازہ تھا۔
مگر اس طرح اچانک امامہ کی کال وصول کر کے وہ اس حیرت کے جھٹکے سے سنبھل نہیں پا رہا تھا جو اسے لگا تھا۔
جب وہ کافی دیر تک سونے میں کامیاب نہیں ہوا تو وہ کچھ جھنجلا گیا۔
To hell with imama and all the rest(بھاڑ میں جائے اِمامہ اور یہ سارا قصہ) وہ بڑبڑایا اور کروٹ لے کر اس نے تکیہ اپنے چہرے کے اوپر رکھ لیا۔
٭…٭…٭
اِمامہ اپنے کمرے میں آکر بھی اسی طرح بیٹھی رہی، اسے اپنے پیٹ میں گرہیں پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ صرف چند گھنٹوں میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ وہ پوری رات سو نہیں سکی۔ صبح و ناشتہ کے لیے باہر آئی، اس کی بھوک یک دم جیسے غائب ہوگئی تھی۔
دس ساڑھے دس بجے کے قریب اس نے پورچ میں کچھ گاڑیوں کے اسٹارٹ ہونے اور جانے کی آوازیں سنیں۔ وہ جانتی تھی اس وقت ہاشم مبین اور اس کے بڑے بھائی آفس چلے جاتے تھے اور اسے ان کے آفس جانے کا انتظار تھا۔ ان کے جانے کے آدھ گھنٹے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر آئی۔ لاؤنج میں اس کی امی اور بھابھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ خاموشی سے فون کے پاس چلی گئی۔ اس نے فون کا ریسیور اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسے اپنی امی کی آواز سنائی دی۔
”تمہارے بابا کہہ کر گئے ہیں کہ تم کہیں فون نہیں کروگی۔” اس نے گردن موڑ کر اپنی امی کو دیکھا۔
”میں اسجد کو فون کر رہی ہوں۔”
”کس لیے؟”
”میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔”
”وہی فضول باتیں جو تم رات کو کر رہی تھیں۔” سلمیٰ نے تیز لہجے میں کہا۔
”میں آپ کے سامنے بات کر رہی ہوں، آپ مجھے بات کرنے دیں … اگر میں نے کوئی غلط بات کی تو آپ فون بند کرسکتی ہیں۔” اس نے پرسکون انداز میں کہا اور شاید یہ اس کا انداز ہی تھا جس نے سلمیٰ کو کچھ مطمئن کر دیا۔
اِمامہ نے نمبر ڈائل کیا مگر وہ اسجد کو فون نہیں کر رہی تھی۔ چند بار بیل بجنے کے بعد دوسری طرف فون اٹھا لیا گیا۔ فون اٹھانے والا جلال ہی تھا۔ خوشی کی ایک لہر امامہ کے اندر سے گزر گئی۔
”ہیلو، میں امامہ بول رہی ہوں۔” اسنے جلال کا نام لیے بغیر اعتماد سے کہا۔
”تم بتائے بغیر اسلام آباد کیوں چلی گئیں میں کل تم سے ملنے ہاسٹل گیا تھا۔” جلال نے کہا۔
”میں کل اسلام آباد آئی ہوں اسجد!” اِمامہ نے کہا۔
”اسجد!” دوسری طرف سے جلال کی آواز آئی۔ ”تم کس سے کہہ رہی ہو؟”
”مجھے بابا نے رات ہی بتایا کہ میری شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔”
”امامہ!” جلال کو جیسے ایک کرنٹ لگا۔ ”شادی کی تاریخ۔” اِمامہ اس کی بات سنے بغیر اسی پرسکون انداز میں بولتی رہی۔ ”میں جاننا چاہتی ہوں کہ تم نے اپنے پیرنٹس سے بات کی ہے؟”
”امامہ! میں ابھی بات نہیں کرسکا۔”
”تو پھر تم بات کرو، میں تمہارے علاوہ کسی دوسرے سے شادی نہیں کرسکتی یہ تم جانتے ہو… مگر میں اس طرح کی شادی نہیں کروں گی۔ تم اپنے پیرنٹس سے بات کرو اور پھر مجھے بتاؤ کہ وہ کیا کہتے ہیں۔”
”امامہ! کیا تمہارے پاس کوئی ہے؟” جلال کے ذہن میں اچانک ایک جھماکا ہوا۔
”ہاں۔”
”اس لیے تم مجھے اسجد کہہ رہی ہو؟”
”ہاں!”
”میں اپنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں، تم مجھے دوبارہ رنگ کب کروگی؟”
”تم مجھے بتادو کہ میں تمہیں کب رنگ کروں؟”
”کل فون کرلو، تمہاری شادی کی تاریخ کب طے کی گئی ہے۔” جلال کی آواز میں پریشانی تھی۔
”یہ مجھے نہیں پتا۔” امامہ نے کہا۔
”ٹھیک ہے امامہ! میں آج ہی اپنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں… اور تم پریشان مت ہونا… سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔” اس نے امامہ کو تسلی دیتے ہوئے فون بند کر دیا۔
امامہ نے شکریہ ادا کیا تھا کہ اس کی بھابھی یا امی کو یہ شک نہیں ہوسکا کہ وہ اسجد سے نہیں کسی اور سے بات کر رہی تھی۔
”یہ شادی تمہارے بابا اور اعظم بھائی نے مل کر طے کی ہے۔ تمہارے یا اسجد کے کہنے پر وہ اسے ملتوی نہیں کریں گے۔” سلمیٰ نے اس بار قدرے نرم لہجے میں کہا۔
”امی! میں مارکیٹ جا رہی ہوں، مجھے کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں۔” امامہ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا۔
”فون کی بات دوسری ہے مگر میں تمہیں گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ تمہارے بابا نہ صرف مجھے بلکہ چوکیدار کو بھی ہدایت کر گئے ہیں کہ تمہیں باہر جانے نہ دے۔”
”امی! آپ لوگ میرے ساتھ آخر اس طرح کیوں کر رہے ہیں؟ امامہ نے کچھ بے بسی کے عالم میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ”میں نے آپ کو اپنی شادی سے تو منع نہیں کیا۔ میری ہاؤس جاب تک انتظار کرلیں، اس کے بعد میری شادی کردیں۔”
”میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ تم شادی سے انکار کیوں کر رہی ہو، تمہاری شادی جلدی ہو رہی ہے مگر تمہاری مرضی کے خلاف تو نہیں ہو رہی ہے۔” اس بار اس کی بھابھی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”خوامخواہ کل رات سے پورا گھر ٹینشن کا شکار ہے اور میں تو تمہیں دیکھ کر حیران ہوں تم تو کبھی بھی اس طرح ضد نہیں کرتی تھیں پھر اب کیا ہوگیا ہے تمہیں … جب سے تم لاہور گئی ہو بہت عجیب ہوگئی ہو تم۔”
”اور ہمارے چاہنے سے ویسے بھی کچھ نہیں ہوگا۔ میں نے تمہیں بتایا ہے، تمہارے بابا نے طے کیا ہے یہ سب کچھ۔”
”آپ انہیں سمجھا تو سکتی تھیں۔” امامہ نے سلمیٰ کی بات پر احتجاج کیا۔
”کس بات پر؟ سمجھاتی تو تب اگر مجھے کوئی بات قابل اعتراض لگتی اور مجھے کوئی بات قابل اعتراض نہیں لگی۔” سلمیٰ نے بڑے آرام سے کہا۔ امامہ غصے کے عالم میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

Read Next

پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!